بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الفرقان — Surah Furqan
آیت نمبر 42
کل آیات: 77
قرآن کریم الفرقان آیت 42
آیت نمبر: 42 — سورۃ الفرقان islamicurdubooks.com ↗
اِنۡ کَادَ لَیُضِلُّنَا عَنۡ اٰلِہَتِنَا لَوۡ لَاۤ اَنۡ صَبَرۡنَا عَلَیۡہَا ؕ وَ سَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ حِیۡنَ یَرَوۡنَ الۡعَذَابَ مَنۡ اَضَلُّ سَبِیۡلًا ﴿۴۲﴾
اِس نے تو ہمیں گمراہ کر کے اپنے معبودوں سے برگشتہ ہی کر دیا ہوتا اگر ہم اُن کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے" اچھا، وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر اِنہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا تھا
(وه تو کہیئے) کہ ہم اس پر جمے رہے ورنہ انہوں نے تو ہمیں ہمارے معبودوں سے بہکادینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ اور یہ جب عذابوں کو دیکھیں گے تو انہیں صاف معلوم ہوجائے گا کہ پوری طرح راه سے بھٹکا ہوا کون تھا؟
قریب تھا کہ یہ ہمیں ہمارے خداؤں سے بہکادیں اگر ہم ان پر صبر نہ کرتے اور اب جانا چاہتے ہیں جس دن عذاب دیکھیں گے کہ کون گمراہ تھا
وہ تو قریب تھا کہ یہ شخص ہمارے معبودوں سے ہمیں بہکا دے۔ اگر ہم ان (کی پرستش) پر ثابت قدم نہ رہتے تو عنقریب جب وہ عذاب (الٰہی) کو دیکھیں گے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ راہِ راست سے کون زیادہ بھٹکا ہوا ہے؟
بے شک یہ تو قریب تھا کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے گمراہ ہی کر دیتا، اگر یہ نہ ہوتا کہ ہم ان پر جمے رہے۔ اور عنقریب وہ جان لیں گے جب عذاب دیکھیں گے، کون راستے کے اعتبار سے زیادہ گمراہ ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

انبیاء کا مذاق ٭٭

کافر لوگ اللہ کے برتر و بہتر پیغمبر احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ہنسی مذاق اڑاتے تھے، عیب جوئی کرتے تھے اور آپ میں نقصان بتاتے تھے۔ یہی حالت ہر زمانے کے کفار کی اپنے نبیوں کے ساتھ رہی۔ جیسے فرمان ہے «وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاق بالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ» ۱؎ [13-الرعد:32] ‏‏‏‏ ’ تجھ سے پہلے کے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ ‘ کہنے لگے: وہ تو کہئے کہ ہم جمے رہے ورنہ اس رسول نے ہمیں بہکانے میں کوئی کمی نہ رکھی تھی۔ اچھا عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ہدایت پر یہ کہاں تک تھے؟ عذابوں کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے۔ نفس و شیطان جس چیز کو اچھا ظاہر کرتا ہے، یہ بھی اسے اچھی سمجھنے لگتے ہیں۔ بھلا ان کا ذمہ دار تو کیسے ٹھہر سکتا ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ جاہلیت میں عرب کی یہ حالت تھی کہ جہاں کسی سفید گول مول پتھر کو دیکھا، اس کے سامنے جھکنے اور سجدے کرنے لگے۔ اس سے اچھا کوئی نظر پڑ گیا تو اس کے سامنے جھک گئے۔ اور اول کو چھوڑ دیا۔ پھر فرماتا ہے: یہ تو چوپایوں سے بھی بدتر ہیں۔ نہ ان کے کان ہیں، نہ دل ہیں۔ چوپائے تو خیر قدرتاً آزاد ہیں لیکن یہ جو عبادت کے لیے پیدا کیے گئے تھے، یہ ان سے بھی زیادہ بہک گئے بلکہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے۔ اور قیام حجت کے بعد، رسولوں کے پہنچ چکنے کے بعد بھی اللہ کی طرف نہیں جھکتے۔ اس کی توحید اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو نہیں مانتے۔

📖 احسن البیان

42-1یعنی ہم ہی اپنے آباؤ اجداد کی تقلید اور روایتی مذہب سے وابستگی کی وجہ سے غیر اللہ کی عبادت سے باز نہیں آئے ورنہ اس پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہمیں گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کا یہ قول نقل فرمایا کہ کس طرح وہ شرک پر جمے ہوئے ہیں کہ اس میں فخر کر رہے ہیں 42-2یعنی اس دنیا میں تو ان مشرکین اور غیر اللہ کے پجاریوں کو اہل توحید گمراہ نظر آتے ہیں لیکن جب یہ اللہ کی بارگاہ میں پہنچیں گے اور وہاں انھیں شرک کی وجہ سے عذاب الہی سے دوچار ہونا پڑے گا تو پتہ لگے گا کہ گمراہ کون تھا؟ ایک اللہ کی عبادت کرنے والے یا در در پر اپنی جبینیں جھکانے والے؟

📖 القرآن الکریم

(آیت 42) ➊ { اِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا …: ” اِنْ كَادَ “} اصل میں {”إِنَّهُ كَادَ“} تھا، یعنی بے شک وہ قریب تھا۔ یعنی یہ تو یقینا قریب تھا کہ ہمیں ہمارے معبودوں کی عبادت ہی سے نہیں خود ان معبودوں ہی سے گمراہ کر دیتا، یہ ہماری بہادری ہے کہ ہم ان کی عبادت پر ڈٹے رہے ہیں۔ ➋ اس سے کفار کا اپنے شرک پر شدت کے ساتھ ڈٹے رہنا ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ اسے چھوڑنے کو گمراہ ہونا قرار دے رہے ہیں اور یہ بھی کہ ان کا یہ کام کسی دلیل کی بنا پر نہ تھا، بلکہ محض آبا و اجداد کی تقلید اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے تھا۔ ➌ اس آیت سے ان کا اعتراف ثابت ہو رہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کی دعوت پیش کرنے، اس کے لیے دلائل و معجزات پیش کرنے اور ہر اعتراض کا جواب دینے میں اتنی محنت سے کام لیا کہ کفار کو حق تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا، پھر انھوں نے حق قبول نہیں کیا تو اس کی وجہ صرف اور صرف ان کی ہٹ دھرمی تھی۔ ➍ پچھلی آیت کے ساتھ ملا کر اس آیت کو دیکھیں تو کفار کی عجیب تضاد بیانی سامنے آتی ہے کہ ابھی جس شخص کے متعلق انھوں نے نہایت حقارت سے کہا کہ کیا یہی ہے وہ جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟ تو ابھی اس کی شخصیت کی تاثیر اور اس کے دلائل کی قوت کے بے پناہ ہونے کا اپنے منہ سے اعتراف کر رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ اسلام کی دعوت سے کس قدر مرعوب اور بوکھلائے ہوئے تھے کہ مذاق بھی اڑاتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور برتری کا احساس ان پر اس قدر حاوی بھی تھا کہ بلا ارادہ ان کے منہ سے وہ باتیں نکلوا دیتا تھا جو وہ ہر گز کہنا نہیں چاہتے تھے۔ ➎ { وَ سَوْفَ يَعْلَمُوْنَ حِيْنَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ …:} یہ ان کے لیے حق کو گمراہی کہنے پر اللہ تعالیٰ کی طر ف سے سخت وعید ہے۔
← پچھلی آیت (41) پوری سورۃ اگلی آیت (43) →