بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الفرقان — Surah Furqan
آیت نمبر 50
کل آیات: 77
قرآن کریم الفرقان آیت 50
آیت نمبر: 50 — سورۃ الفرقان islamicurdubooks.com ↗
وَ لَقَدۡ صَرَّفۡنٰہُ بَیۡنَہُمۡ لِیَذَّکَّرُوۡا ۫ۖ فَاَبٰۤی اَکۡثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوۡرًا ﴿۵۰﴾
اس کرشمے کو ہم بار بار ان کے سامنے لاتے ہیں تاکہ وہ کچھ سبق لیں، مگر اکثر لوگ کفر اور ناشکری کے سوا کوئی دوسرا رویہ اختیار کرنے سے انکار کر دیتے ہیں
اور بے شک ہم نے اسےان کے درمیان طرح طرح سے بیان کیا تاکہ وه نصیحت حاصل کریں، مگر پھر بھی اکثر لوگوں نے سوائے ناشکری کے مانا نہیں
اور بیشک ہم نے ان میں پانی کے پھیرے رکھے کہ وہ دھیان کریں تو بہت لوگوں نے نہ مانا مگر ناشکری کرنا،
اور اگر ہم چاہتے تو ایک ایک بستی میں ایک ایک ڈرانے والا بھیجتے۔
اور بلا شبہ یقینا ہم نے اسے ان کے درمیان پھیر پھیر کر بھیجا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں، مگر اکثر لوگوں نے سخت ناشکری کرنے کے سوا کچھ نہیں مانا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی ایک اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ وہ بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے۔ ان ہواؤں میں رب نے بہت سے خواص رکھے ہیں۔ بعض بادلوں کو پراگندہ کر دیتی ہیں، بعض انہیں اٹھاتی ہیں، بعض انہیں لے چلتی ہیں، بعض خنک اور بھیگی ہوئی چل کر لوگوں کو باران رحمت کی طرف متوجہ کر دیتی ہیں، بعض اس سے پہلے زمین کو تیار کر دیتی ہیں، بعض بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں اور انہیں بوجھل کر دیتی ہیں۔ آسمان سے ہم پاک صاف پانی برساتے ہیں کہ وہ پاکیزگی کا آلہ بنے۔ یہاں طہور ایسا ہی ہے جیسا سحور اور وجور وغیرہ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ فعول معنی فاعل کے ہے یا یہ مبالغہ کے لیے مبنی ہے یا متعدی کے لیے۔ یہ سب اقوال لغت اور حکم کے اعتبار سے مشکل ہیں۔ پوری تفصیل کے لائق یہ مقام نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ثابت بنانی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں ابوالعالیہ رحمہ اللہ کے ساتھ بارش کے زمانہ میں نکلا۔ بصرے کے راستے اس وقت بڑے گندے ہو رہے تھے۔ آپ نے ایسے راستہ پر نماز ادا کی۔ میں نے آپ کو توجہ دلائی تو آپ نے فرمایا: اسے آسمان کے پاک پانی نے پاک کر دیا۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے اسے پاک اتارا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ بئر بضاعہ سے وضو کر لیں؟ یہ ایک کنواں ہے جس میں لوگ گندگی اور کتوں کا گوشت پھینکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:66،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ نے اسے وارد کیا ہے۔ امام ابوداؤد اور امام ترمذی رحمہما اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ نسائی میں بھی یہ روایت ہے۔ عبدالملک بن مروان کے دربار میں ایک مرتبہ پانی کا ذکر چھڑا تو خالد بن یزید رحمہ اللہ نے کہا: بعض پانی آسمان کے ہوتے ہیں، بعض پانی وہ ہوتے ہیں جسے بادل سمندر سے پیتا ہے اور اسے گرج، کڑک اور بجلی میٹھا کر دیتی ہے لیکن اس سے زمین میں پیداوار نہیں ہوتی۔ ہاں آسمانی پانی سے پیداوار اگتی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آسمان کے پانی کے ہر قطرہ سے چارہ، گھاس وغیرہ پیدا ہوتا ہے۔ سمندر میں لؤلؤ اور موتی پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی «فِیْ الْبَرِّ بَرٌّ وَّ فِیْ الْبَحْرِ دَرٌّ» زمین میں گیہوں اور سمندر میں موتی۔ پھر فرمایا کہ اسی سے ہم غیر آباد بنجر خشک زمین کو زندہ کر دیتے ہیں، وہ لہلہانے لگتی ہے اور تروتازہ ہو جاتی ہے۔ جیسے فرمان ہے «فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِي الْمَوْتَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ۱؎ [22-الحج:5] ‏‏‏‏ علاوہ مردہ زمین کے زندہ ہو جانے کے، یہ پانی حیوانوں اور انسانوں کے پینے میں آتا ہے، ان کے کھیتوں اور باغات کو پلایا جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ وہ اللہ وہی ہے، جو لوگوں کی کامل ناامیدی کے بعد ان پر بارشیں برساتا ہے۔ ‘ ۱؎ [42-الشورى:28] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے کہ ’ اللہ کے آثار رحمت کو دیکھو کہ کس طرح مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے۔ ‘ ۱؎ [30-الروم:5] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے: ساتھ ہی میری قدرت کا ایک نظارہ یہ بھی دیکھو کہ ابر اٹھتا ہے، گرجتا ہے لیکن جہاں میں چاہتا ہوں برستا ہے، اس میں بھی حکمت و حجت ہے۔

بارش اللہ کے حکم سے ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ کوئی سال کسی سال کے کم و بیش بارش کا نہیں لیکن اللہ جہاں چاہے، برسائے۔ جہاں سے چاہے، پھیرے۔ پس چاہئے تھا کہ ان نشانات کو دیکھ کر اللہ کی ان زبردست حکمتوں کو اور قدرتوں کو سامنے رکھ کر اس بات کو بھی مان لیتے کہ بیشک ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اور یہ بھی جان لیتے کہ بارشیں ہمارے گناہوں کی شامت سے بند کر دی جاتی ہیں تو ہم گناہ چھوڑ دیں لیکن ان لوگوں نے ایسا نہ کیا بلکہ ہماری نعمتوں پر اور ناشکری کی۔ ایک مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا کہ میں بادل کی نسبت کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: بادلوں پر جو فرشتہ مقرر ہے، وہ یہ ہے۔ آپ ان سے جو چاہیں، دریافت فرما لیں۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس تو اللہ کا حکم آتا ہے کہ فلاں فلاں شہر اتنے اتنے قطرے برساؤ، ہم تعمیل ارشاد کر دیتے ہیں۔ بارشیں جیسی نعمت کے وقت اکثر لوگوں کے کفر کا طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے یہ بارش برسائے گئے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { ایک مرتبہ بارش برس چکنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جاننے والا ہے۔ آپ نے فرمایا: سنو! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے بہت سے میرے ساتھ مومن ہو گئے اور بہت سے کافر ہو گئے۔ جنہوں نے کہا کہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بارش ہم پر برسی ہے، وہ تو میرے ساتھ ایمان رکھنے والے اور ستاروں سے کفر کرنے والے ہوئے اور جنہوں نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں تارے کے اثر سے پانی برسایا گیا، انہوں نے میرے ساتھ کفر کیا اور تاروں پر ایمان لائے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:810] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

50-1یعنی قرآن کریم کو اور بعض نے صٓرفناہ میں ھا کا مرجع بارش قرار دیا ہے جس کا مطب یہ ہوگا کہ بارش کو ہم پھیر پھیر کر برساتے ہیں یعنی کبھی ایک علاقے میں کبھی دوسرے علاقے میں حتی کہ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کبھی ایک ہی شہر کے ایک حصے میں بارش ہوتی ہے دوسروں میں نہیں ہوتی اور کبھی دوسرے حصوں میں ہوتی ہے پہلے حصے میں نہیں ہوتی یہ اللہ کی حکمت ومشیت ہے وہ جس طرح چاہتا ہے کہیں بارش برساتا ہے اور کہیں نہیں اور کبھی کسی علاقے میں کبھی کسی اور علاقے میں۔ 50-2اور ایک کفر ناشکری یہ بھی ہے کہ بارش کو مشیت الٰہی کی بجائے ستاروں کی گردش کا نتیجہ قرار دیا جائے، جیسا کہ اہل جاہلیت کہا کرتے تھے۔ کما فی الحدیث۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 50) ➊ {وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ …:} اس آیت کی دو تفسیریں ہیں اور دونوں درست ہیں۔ اگر{” صَرَّفْنٰهُ “} میں {”هٗ “} کی ضمیر اوپر بیان کردہ دلائل کی طرف ہو، جیسا کہ اکثر مفسرین کا رجحان ہے، تو معنی یہ ہو گا کہ ہم نے توحید کے دلائل کو قرآن مجید میں مختلف طریقوں سے پھیر پھیر کر بیان کیا ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں، مگر اکثر لوگوں نے توحید قبول نہیں کی اور انھوں نے ناشکری اور کفر کے سوا کچھ مانا ہی نہیں۔ اور اگر {” صَرَّفْنٰهُ “ } کی ضمیر {” مَآءً “} کی طرف ہو تو معنی یہ ہو گا کہ ہم نے اس پانی کو ان کے درمیان طرح طرح سے پھیرا ہے، چنانچہ وہ کہیں زیادہ برستا ہے کہیں کم۔ سب جگہ ایک جیسا اور ایک وقت میں نہیں برستا، کسی جگہ بارش سے سیلاب آ جاتا ہے تو دوسری جگہ بارش کا ایک قطرہ نہیں گرتا اور قحط پڑ جاتا ہے، کہیں وہ مائع صورت میں ہے، کہیں پتھر کی طرح برف کی صورت میں اور کہیں بخارات کی صورت میں۔ غرض یہ سب اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی قدرت کے کرشمے ہیں۔ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ابن عباس اور ابن مسعود رضی اللہ عنھم نے فرمایا: [ مَا مِنْ عَامٍ أَمْطَرَ مِنْ عَامٍ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَصْرِفُهُ حَيْثُ يَشَاءُ ثُمَّ قَرَأَ: «{ وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوْا }» ‏‏‏‏ ] [ مستدرک حاکم: 403/2، ح: ۳۵۲۰۔ طبري: ۲۱۲۱۶۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 460/5، ح: ۲۴۶۱ ] ”یعنی کوئی سال ایسا نہیں جس میں دوسرے کسی سال سے زیادہ بارش ہوتی ہو، لیکن اللہ تعالیٰ جیسے چاہتا ہے اسے پھیرتا ہے۔“ پھر یہ آیت پڑھی: «{ وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوْا }» [ الفرقان: ۵۰ ] ”اور بلاشبہ یقینا ہم نے اسے ان کے درمیان پھیر پھیر کر بھیجا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔“ دکتور حکمت بن بشیر نے اس حدیث کی تخریج کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول ابن ابی حاتم نے صحیح سند کے ساتھ سعید بن جبیر کے واسطے سے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسی سند کے ساتھ روایت کرکے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے اس کی موافقت کی ہے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول طبری اور بیہقی نے دو سندوں سے روایت کیا ہے اور امام بیہقی نے اسے صحیح کہا ہے۔ [ السنن الکبریٰ للبیہقي: 363/3 ] ان دو جلیل القدر صحابہ کے قول کی رو سے یہ تفسیر زیادہ صحیح ہے، کیونکہ ظاہر ہے کہ یہ بات وہ اپنے پاس سے نہیں کہہ سکتے، اس لیے یہ حکماً مرفوع ہے۔ ابن عاشور لکھتے ہیں: ”جدید تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ بارش زمین پر ہر سال مجموعی طور پر ایک جیسی ہوتی ہے اور یہی بات سیکڑوں برس پہلے وحی کے ذریعے سے بتا دی گئی تھی۔“ ➋ { لِيَذَّكَّرُوْا:} یعنی بارش کو اس طرح پھیر پھیر کر مختلف جگہوں پر کم یا زیادہ نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں، بارش کو محض اللہ تعالیٰ کی رحمت و فضل کا نتیجہ مانیں، اس کے برسنے پر اللہ کا شکر ادا کریں اور نہ برسنے پر توبہ و استغفار کریں۔ ➌ {فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا:كُفُوْرًا “} اور {” كُفْرٌ“ } دونوں مصدر ہیں، {” كُفُوْرًا “} میں حرف زیادہ ہونے کی وجہ سے مبالغہ ہے، یعنی سخت ناشکری۔ ناشکری یہ کہ اس بارش کو ستاروں کا کرشمہ قرار دیا جائے۔ زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیبیہ میں ایک بارش کے بعد، جو رات کے وقت ہوئی تھی، صبح کی نماز پڑھائی، جب فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: [ هَلْ تَدْرُوْنَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: قَالَ أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِيْ مُؤْمِنٌ بِيْ وَ كَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ رَحْمَتِهِ، فَذٰلِكَ مُؤْمِنٌ بِيْ وَكَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَ أَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَ كَذَا، فَذٰلِكَ كَافِرٌ بِيْ وَ مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ ] [ مسلم، الإیمان، باب بیان کفر من قال مطرنا بالنوء: ۷۱۔ بخاري: ۸۴۶ ] ”جانتے ہو آج رات تمھارے رب نے کیا فرمایا ہے؟“ انھوں نے کہا: ”اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔“ کہا، اس نے فرمایا ہے: ”آج میرے بندوں نے صبح کی ہے کہ کچھ مجھ پر ایمان رکھنے والے ہیں اور کچھ کفر کرنے والے ہیں۔ جس نے کہا، ہم پر اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی ہے، تو یہ مجھ پر ایمان رکھنے والا اور ستارے کے ساتھ کفر کرنے والا ہے اور جس نے کہا، ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی تو یہ ستارے پر ایمان رکھنے والا اور میرے ساتھ کفر کرنے والا ہے۔“
← پچھلی آیت (49) پوری سورۃ اگلی آیت (51) →