بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الفرقان — Surah Furqan
آیت نمبر 28
کل آیات: 77
قرآن کریم الفرقان آیت 28
آیت نمبر: 28 — سورۃ الفرقان islamicurdubooks.com ↗
یٰوَیۡلَتٰی لَیۡتَنِیۡ لَمۡ اَتَّخِذۡ فُلَانًا خَلِیۡلًا ﴿۲۸﴾
ہائے میری کم بختی، کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا
ہائے افسوس کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا
وائے خرابی میری ہائے کسی طرح میں نے فلانے کو دوست نہ بنایا ہوتا،
ہائے میری بدبختی! کاش میں نے فلاں شخص کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔
ہائے میری بربادی! کاش کہ میں فلاں کو دلی دوست نہ بناتا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فیصلوں کا دن ٭٭

قیامت کے دن جو ہولناک امور ہوں گے، ان میں سے ایک آسمان کا پھٹ جانا اور نورانی ابر کا نمودار ہونا بھی شامل ہے جس کی روشنی سے آنکھیں چکا چوند ہو جائیں گی، پھر فرشتے اتریں گے اور میدان محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کے لیے تشریف لائے گا۔ جیسے فرمان ہے: «هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن يَأْتِيَهُمُ اللَّـهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ» ۱؎ [2-البقرة:210] ‏‏‏‏ یعنی کہ ’ انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بادلوں میں آئیں۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو سب انسانوں اور کل جنات کو ایک میدان میں جمع کرے گا۔ تمام جانور، چوپائے، درندے، پرندے اور کل مخلوق وہاں ہو گی پھر آسمان اول پھٹے گا اور اس کے فرشتے اتریں گے جو تمام مخلوق کو دو طرف سے گھیرلیں گے اور وہ گنتی میں بہت زیادہ ہوں گے۔ پھر دوسرا آسمان پھٹے گا اس کے فرشتے بھی آئیں گے جو زمین کی اور آسمان اول کی تمام مخلوق کی گنتی سے بھی زیادہ ہوں گے۔ پھر تیسرا آسمان شق ہو گا اس کے فرشتے بھی، دونوں آسمانوں کے فرشتے مل کر زمین کی مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، سب کو گھیر کر کھڑے ہو جائیں گے۔ پھر اسی طرح چوتھا پانچواں پھر چھٹا پھر ساتواں۔ پھر ہمارا رب عز و جل ابر کے سائے میں تشریف لائے گا، اس کے اردگرد بزرگ تر پاک فرشتے ہوں گے جو ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کی کل مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، ان پر سینگوں جیسے نشان ہونگے، وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اللہ کی تسبیح و تہلیل و تقدس بیان کریں گے، ان کے تلوے سے لے کر ٹخنے تک کا فاصلہ پانچ سو سال کا راستہ ہو گا اور ٹخنے سے گھٹنے تک کا بھی اتنا ہی۔ اور گھٹنے سے ناف تک کا بھی اتنا فاصلہ ہو گا۔ اور ناف سے گردن کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور گردن سے کان کی لو تک بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور اس کے اوپر سے سر تک کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ قیامت کا نام «یَوْمَ التَّلاَقِ» اسی لیے ہے کہ اس میں زمین و آسمان والے ملیں گے، انہیں دیکھ کر پہلے تو محشر والے سمجھ لیں گے کہ ہمارا اللہ آیا۔

لیکن فرشتے سمجھا دیں گے کہ وہ آنے والا ہے، ابھی تک نازل نہیں ہوا۔ پھر جب ساتوں آسمانوں کے فرشتے آ جائیں گے، اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر تشریف لائے گا جسے آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے جن کے ٹخنے سے گھٹنے تک ستر سال کا راستہ ہے اور ران اور مونڈھے کے درمیان بھی ستر سال کا راستہ ہے۔ ہر فرشتہ دوسرے سے علیحدہ اور جداگانہ ہے۔ ہر ایک کی ٹھوڑی سینے سے لگی ہوئی ہے اور زبان پر «سبُْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ» کا وظیفہ ہے۔ ان کے سروں پر ایک پھیلی ہوئی چیز ہے جیسے سرخ شفق، اس کے اوپر عرش ہو گا۔ اس میں راوی علی بن زید بن جدعان ہیں جو ضعیف ہیں اور بھی اس حدیث میں بہت سی خامیاں ہیں۔ صور کی مشہور حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اور آیت میں ہے کہ ’ اس دن ہو پڑنے والی ہو پڑے گی اور آسمان پھٹ کر روئی کی طرح ہو جائے گا۔ اور اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے اور اس دن تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے لیے ہوں گے۔ ‘ ۱؎ [69-الحاقة:15-17] ‏‏‏‏ شہر بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکّ الْحَمْدُ عَلیٰ حِلْمِکَ بَعْدَ عِلْمِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے، تو قابل ستائش و تعریف ہے۔ باوجود علم کے پھر بھی بردباری برتنا تیرا وصف ہے جس پر ہم تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اور چار کی تسبیح یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکَ الْحَمْدُ عَلیٰ عَفْوِکَ بَعْدَ قُدْرَتِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے اور اپنی تعریفوں کے ساتھ ہے تیرے ہی لیے سب تعریف ہے کہ تو باوجود قدرت کے معاف فرماتا رہتا ہے۔ ابوبکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرش کو اترتا دیکھ کر اہل محشر کی آنکھیں پھٹ جائیں گی، جسم کانپ اٹھیں گے، دل لرز جائیں گے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس وقت اللہ عز و جل مخلوق کی طرف اترے گا تو درمیان میں ستر ہزار پردے ہوں گے۔ بعض نور کے، بعض ظلمت کے۔ اس ظلمت میں سے ایک ایسی آواز نکلے گی جس سے دل پاش پاش ہو جائیں گے۔ شاید ان کی یہ روایت انہی دو تھیلوں میں سے لی ہوئی ہو گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہت ہو گی۔ جیسے فرمان ہے «لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» ۱؎ [40-غافر:16] ‏‏‏‏ ’ آج ملک کس کے لیے ہے؟ صرف اللہ غالب و قہار کے لیے۔ ‘ صحیح حدیث میں ہے: { اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور زمینوں کو اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر فرمائے گا: میں مالک ہوں، میں فیصلہ کرنے والا ہوں۔ زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:7413] ‏‏‏‏ وہ دن کفار پر بڑا بھاری پڑا ہو گا۔ اسی کا بیان اور جگہ بھی ہے کہ { کافروں پر وہ دن گراں گزرے گا۔ } ۱؎ [74-المدثر:9-10] ‏‏‏‏ ہاں مومنوں کو اس دن مطلق گھبراہٹ یا پریشانی نہ ہو گی۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پچاس ہزار سال کا دن تو بہت ہی دراز ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مومنوں پر تو وہ ایک وقت کی فرض نماز سے بھی ہلکا اور آسان ہو گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف] ‏‏‏‏ پیغمبر علیہ السلام کے طریقے اور آپ کے لائے ہوئے کھلے حق سے ہٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ کے سوا دوسری راہوں پہ چلنے والے اس دن بڑے ہی نادم ہونگے اور حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے ہاتھ چبائیں گے۔ گو اس کا نزول عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں ہو یا کسی اور کے بارے میں لیکن حکم کے اعتبار سے یہ ہر ایسے ظالم کو شامل ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» ۱؎ [33-الأحزاب:66-67] ‏‏‏‏ ’ پس ہر ظالم قیامت کے دن پچھتائے گا، اپنے ہاتھوں کو چبائے گا اور آہ و زاری کر کے کہے گا: کاش! کہ میں نے نبی کی راہ اپنائی ہوتی۔ کاش! کہ میں نے فلاں کی عقیدت مندی نہ کی ہوتی۔ جس نے مجھے راہ حق سے گمراہ کر دیا۔ ‘ امیہ بن خلف کا اور اس کے بھائی ابی بن خلف کا بھی یہی حال ہو گا اور ان کے سوا اور بھی ایسے لوگوں کا یہ حال ہو گا۔ کہے گا کہ اس نے مجھے ذکر یعنی قرآن سے بیگانہ کر دیا حالانکہ وہ مجھ تک پہنچ چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: شیطان انسان کو رسوا کرنے والا ہے، وہ اسے ناحق کی طرف بلاتا ہے اور حق سے ہٹا دیتا ہے۔

📖 احسن البیان

28-1اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نافرمانوں سے دوستی اور وابستگی نہیں رکھنی چاہیئے، اس لئے کہ اچھی صحبت سے انسان اچھا اور بری صحبت سے انسان برا بنتا ہے۔ اکثر لوگوں کی گمراہی کی وجہ غلط دوستوں کا انتخاب اور صحبت بد کا اختیار کرنا ہی ہے۔ اس لئے حدیث میں بھی صالحین کی صحبت کی تاکید اور بری صحبت سے اجتناب کو ایک بہترین مثال سے و اضع کیا گیا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 28) {يٰوَيْلَتٰى لَيْتَنِيْ لَمْ اَتَّخِذْ …: ” يٰوَيْلَتٰى “} اصل میں {”يَا وَيْلَتِيْ“} ہے، جس میں لفظ {”وَيْلَةٌ“} یائے متکلم کی طرف مضاف ہے، جسے الف سے بدل دیا گیا ہے، معنی ہے میری ہلاکت، میری بربادی۔ یعنی کافر اپنی ہلاکت کو پکارے گا اور ان لوگوں کا نام لے کر کہے گا جنھوں نے اسے گمراہ کیا تھا کہ کاش! میں فلاں کو دلی دوست نہ بناتا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ایک کا نام لینے کے بجائے ہر شخص کے دلی دوست کے لیے {” فُلَانًا “} کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ کفار کی اس ندامت کا ذکر سورۂ بقرہ (۱۶۷) اور سورۂ احزاب (۶۶ تا ۶۸) میں بھی دیکھیے۔ اس سے معلوم ہوا آدمی کو خوب سوچ سمجھ کر دوست کا انتخاب کرنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلرَّجُلُ عَلٰی دِيْنِ خَلِيْلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُّخَالِلُ ] [ أبوداوٗد، الأدب، باب من یؤمر أن یجالس: ۴۸۳۳، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ و حسنہ الألباني ] ”آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اس لیے تم میں سے ہر ایک کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کسے دلی دوست بنا رہا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَ نَافِخِ الْكِيْرِ، فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُّحْذِيَكَ وَ إِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ إِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا طَيِّبَةً، وَ نَافِخُ الْكِيْرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ وَ إِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيْحًا خَبِيْثَةً ] [ بخاري، الذبائح و الصید، باب المسک: ۵۵۳۴، عن أبي موسٰی رضی اللہ عنہ ] ”نیک اور برے ہم نشین کی مثال کستوری رکھنے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی ہے، کستوری رکھنے والا یا تو تجھے عطیہ دے دے گا، یا تو اس سے خرید لے گا، یا اس سے عمدہ خوشبو پاتا رہے گا اور بھٹی دھونکنے والا یا تو تیرے کپڑے جلا دے گا، یا تو اس سے گندی بو پاتا رہے گا۔“
← پچھلی آیت (27) پوری سورۃ اگلی آیت (29) →