بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الفرقان — Surah Furqan
آیت نمبر 45
کل آیات: 77
قرآن کریم الفرقان آیت 45
آیت نمبر: 45 — سورۃ الفرقان islamicurdubooks.com ↗
اَلَمۡ تَرَ اِلٰی رَبِّکَ کَیۡفَ مَدَّ الظِّلَّ ۚ وَ لَوۡ شَآءَ لَجَعَلَہٗ سَاکِنًا ۚ ثُمَّ جَعَلۡنَا الشَّمۡسَ عَلَیۡہِ دَلِیۡلًا ﴿ۙ۴۵﴾
تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارا رب کس طرح سایہ پھیلا دیتا ہے؟ اگر وہ چاہتا تو اسے دائمی سایہ بنا دیتا ہم نے سورج کو اُس پر دلیل بنایا
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے سائے کو کس طرح پھیلا دیا ہے؟ اگر چاہتا تو اسے ٹھہرا ہوا ہی کر دیتا۔ پھر ہم نے آفتاب کو اس پر دلیل بنایا
اے محبوب! کیا تم نے اپنے رب کو نہ دیکھا کہ کیسا پھیلا سایہ اور اگر چاہتا تو اسے ٹھہرایا ہوا کردیتا پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل کیا،
کیا تم نے اپنے پروردگار کی (قدرت کی) طرف نہیں دیکھا کہ اس نے سایہ کو کیونکر پھیلایا ہے؟ اور اگر وہ چاہتا تو اسے (ایک جگہ) ٹھہرا ہوا بنا دیتا۔ پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل راہ بنایا۔
کیا تو نے اپنے رب کو نہیں دیکھا، اس نے کس طرح سائے کو پھیلا دیا اور اگر وہ چاہتا تو اسے ضرور ساکن کر دیتا، پھر ہم نے سورج کو اس پر دلالت کرنے والا بنایا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اگر وہ چاہے تو رات دن نہ بدلے ٭٭

اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت پر دلیلیں بیان ہو رہی ہے کہ مختلف اور متضاد چیزوں کو وہ پیدا کر رہا ہے۔ سائے کو وہ بڑھاتا ہے، کہتے ہیں کہ یہ وقت صبح صادق سے لے کر سورج نکلنے تک کا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو اسے ایک ہی حالت پر رکھ دیتا۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر وہ رات ہی رات رکھے تو کوئی دن نہیں کر سکتا اور اگر دن ہی دن رکھے تو کوئی رات نہیں لا سکتا۔ اگر سورج نہ نکلتا تو سائے کا حال ہی معلوم نہ ہوتا۔ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ سائے کے پیچھے دھوپ، دھوپ کے پیچھے سایہ، یہ بھی قدرت کا انتظام ہے۔ پھر سہج سہج ہم اسے یعنی سائے کو یا سورج کو اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔ ایک گھٹتا جاتا ہے تو دوسرا بڑھتا جاتا ہے اور یہ انقلاب سرعت سے عمل میں آتا ہے۔ کوئی جگہ سایہ دار باقی نہیں رہتی۔ صرف گھروں کے چھپڑوں کے اور درختوں کے نیچے سایہ رہ جاتا ہے اور ان کے بھی اوپر دھوپ کھلی ہوئی ہوتی ہے۔ آہستہ آہستہ تھوڑا تھوڑا کر کے ہم اسے اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔

اسی نے رات کو تمہارے لیے لباس بنایا ہے کہ وہ تمہارے وجود پر چھا جاتی ہے اور اسے ڈھانپ لیتی ہے جیسے فرمان ہے: قسم ہے رات کی جبکہ ڈھانپ لے، اسی نے نیند کو سبب راحت و سکون بنایا ہے کہ اس وقت حرکت موقوف ہو جاتی ہے۔ اور دن بھر کے کام کاج سے جو تھکن چڑھ گئی تھی، وہ اس آرام سے اتر جاتی ہے۔ بدن کو اور روح کو راحت حاصل ہو جاتی ہے۔ پھر دن کو اٹھ کھڑے ہوتے ہو، پھیل جاتے ہو۔ اور روزی کی تلاش میں لگ جاتے ہو۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ اس نے اپنی رحمت سے رات دن مقرر کر دیا ہے کہ تم سکون و آرام بھی حاصل کر لو اور اپنی روزیاں بھی تلاش کرو۔ ‘ ۱؎ [28-القصص:73] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

45-1یہاں سے پھر توحید کے دلائل کا آغاز ہو رہا ہے۔ دیکھو، اللہ تعالیٰ نے کائنات میں کس طرح سایہ پھیلایا ہے، جو صبح صادق کے بعد سے سورج طلوع ہونے تک رہتا ہے۔ یعنی اس وقت دھوپ نہیں ہوتی، دھوپ کے ساتھ یہ سمٹتا سکڑنا شروع ہوتا جاتا ہے۔ 45-2یعنی ہمیشہ سایہ ہی رہتا، سورج کی دھوپ سائے کو ختم ہی نہ کرتی۔ 45-3یعنی دھوپ سے ہی سایہ کا پتہ چلتا ہے کہ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ اگر سورج نہ ہوتا، تو سائے سے بھی لوگ متعارف نہ ہوتے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 45) ➊ { اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ …:} سورت کی ابتدا توحید کے اثبات اور شرک کے رد کے دلائل سے ہوئی ہے، کفار کی گمراہی کے بیان کے بعد ایک بار پھر توحید کے دلائل کا بیان ہے۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ سائے کے پھیلنے اور سکڑنے کو کائنات میں تدریج کے اصول کی مثال کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، توجہ اس بات کی طرف دلائی جا رہی ہے کہ یہی اصول قرآن کے آہستہ آہستہ نازل ہونے میں کار فرما ہے۔ ➋ آیت کے شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے اپنا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ فرمایا ہے، فرمایا: «{اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ }» ”کیا تو نے اپنے رب کو نہیں دیکھا، اس نے کس طرح سائے کو پھیلا دیا۔“ کیونکہ اصل مقصود سائے کی کیفیت کی طرف توجہ دلانا ہے اور آخر میں اپنا ذکر اپنی عظمت کے اظہار کے لیے جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ فرمایا ہے، فرمایا: «{ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيْلًا }» ”پھر ہم نے سورج کو اس پر دلالت کرنے والا بنایا۔“ ➌ سائے سے مراد روشنی اور تاریکی کے بین بین وہ درمیانی حالت ہے جو سورج نکلنے سے پہلے ہوتی ہے اور دن بھر مکانوں میں، دیواروں کی اوٹ میں اور درختوں کے نیچے رہتی ہے۔ بعض مفسرین نے سائے سے مراد رات کی ظلمت لی ہے، جسے اللہ تعالیٰ سورج غروب ہونے کے ساتھ بتدریج پھیلاتا ہے اور طلوع آفتاب تک بتدریج ختم کرتا ہے۔ ➍ یعنی تم نے اپنے رب کی عجیب کاری گری نہیں دیکھی کہ اس نے سائے کو اس طرح بنایا کہ طلوع آفتاب تک ہر جگہ پھیلا ہوتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ سورج کو طلوع نہ ہونے دیتا تو وہی سایہ قائم رہتا، مگر اس نے اپنی قدرت سے سورج نکالا، جس سے دھوپ پھیلنا شروع ہوئی اور سایہ بتدریج ایک طرف کو سمٹنے لگا۔ اگر دھوپ نہ آتی تو سائے کو ہم سمجھ بھی نہ سکتے۔ پھر سورج طلوع ہونے کے ساتھ ہر چیز کا سایہ مغرب کی طرف بہت لمبا اور پھیلا ہوا ہوتا ہے، پھر جیسے جیسے سورج بلند ہوتا ہے سایہ آہستہ آہستہ سکڑتا جاتا ہے، حتیٰ کہ دھوپ پھیلنے سے بالکل ختم ہو جاتا ہے یا تھوڑا سا رہ جاتا ہے، پھر سایہ مشرق کی طرف بڑھنا شروع ہو جاتا ہے جو آخر کار رات کی تاریکی کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔ سائے کے اس پھیلنے اور سکڑنے میں انسان، حیوان حتیٰ کہ زمین پر پائی جانے والی ہر چیز کے لیے بے شمار فائدے ہیں، بلکہ ان کی زندگی ہی سائے کے اس گھٹنے بڑھنے پر موقوف ہے۔ ہمیشہ سایہ رہے تو زمین پر کوئی جان دار مخلوق بلکہ نباتات تک باقی نہ رہ سکے، کیونکہ ان سب کی زندگی سورج کی حرارت پر موقوف ہے۔ سایہ بالکل نہ رہے تب بھی زندگی محال ہے، کیونکہ ہر وقت سورج کے سامنے رہنے اور اس کی شعاعوں سے کوئی پناہ نہ ملنے کی صورت میں نہ جان دار زندہ رہ سکتے ہیں نہ نباتات، بلکہ پانی تک کا وجود باقی رہنا مشکل ہے، پھر اللہ کا فضل یہ ہے کہ دھوپ چھاؤں کا یہ سلسلہ آہستہ آہستہ بدلتا ہے، اگر یہ تبدیلی یک لخت ہو تب بھی زمین کی مخلوقات کی خیر نہیں۔ دن رات، دھوپ چھاؤں اور موسموں کے تغیر و تبدل کا سارا سلسلہ تدریج کے اصول پر قائم ہے، جس سے مقصود انسان کی ضروریات بہم پہنچانا ہے۔ دن بھر کے اوقات، نمازوں کے ہوں یا کسی اور کام کے، سائے کے بڑھنے گھٹنے سے وجود میں آتے ہیں۔ ➎ { وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ قصص (۷۱، ۷۲)۔ ➏ { ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيْلًا:} یعنی اگر دھوپ نہ ہوتی تو کچھ پتا نہ چلتا کہ سایہ کیا ہوتا ہے، کیونکہ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ (قرطبی) اس کے علاوہ سورج کا سائے پر دلالت کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ سایہ دھوپ کے تابع رہتا ہے، دھوپ ہی کے اعتبار سے وہ بڑھتا گھٹتا اور پھیلتا سمٹتا ہے، گویا دھوپ اس کے لیے بمنزلہ دلیل و راہنما ہے۔ (شوکانی)
← پچھلی آیت (44) پوری سورۃ اگلی آیت (46) →