بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الفرقان — Surah Furqan
آیت نمبر 34
کل آیات: 77
قرآن کریم الفرقان آیت 34
آیت نمبر: 34 — سورۃ الفرقان islamicurdubooks.com ↗
اَلَّذِیۡنَ یُحۡشَرُوۡنَ عَلٰی وُجُوۡہِہِمۡ اِلٰی جَہَنَّمَ ۙ اُولٰٓئِکَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیۡلًا ﴿٪۳۴﴾
جو لوگ اوندھے منہ جہنم کی طرف دھکیلے جانے والے ہیں ان کا موقف بہت برا اور ان کی راہ حد درجہ غلط ہے
جو لوگ اپنے منھ کے بل جہنم کی طرف جمع کیے جائیں گے۔ وہی بدتر مکان والے اور گمراه تر راستے والے ہیں
وہ جو جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے اپنے منہ کے بل ان کا ٹھکانا سب سے برا اور وہ سب سے گمراہ،
وہ لوگ جو اپنے مونہوں کے بل جہنم کی طرف لے جائے جائیں گے وہ ٹھکانے کے لحاظ سے بدتر اور راستہ کے اعتبار سے گمراہ تر ہیں۔
وہ لوگ جو اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے وہی ٹھکانے میں نہایت برے اور راستے کے اعتبار سے بہت زیادہ گمراہ ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قرآن حکیم مختلف اوقات میں کیوں اتارا ٭٭

کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ جیسے تورات، انجیل، زبور وغیرہ ایک ساتھ پیغمبروں پر نازل ہوتی رہیں۔ یہ قرآن ایک ہی دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیوں نہ ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہاں واقعی یہ متفرق طور پر اترا ہے، بیس برس میں نازل ہوا ہے جیسے جیسے ضرورت پڑتی گئی، جو جو واقعات ہوتے رہے، احکام نازل ہوتے گئے تاکہ مومنوں کا دل جما رہے۔ ٹھہر ٹھہر کر احکام اتریں تاکہ ایک دم عمل مشکل نہ ہو پڑے، وضاحت کے ساتھ بیان ہو جائے۔ سمجھ میں آ جائے۔ تفسیر بھی ساتھ ہی ساتھ ہوتی رہے۔ ہم ان کے کل اعتراضات کا صحیح اور سچا جواب دیں گے جو ان کے بیان سے بھی واضح اور سچا ہو گا۔ جو کمی یہ بیان کریں گے، ہم ان کی تسلی کر دیں گے۔ صبح و شام، رات دن، سفر حضر میں بار بار اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور اپنے خاص بندوں کی ہدایت کے لیے ہمارا کلام ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی تک اترتا رہا۔ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور فضیلت بھی ظاہر ہوتی رہی لیکن دوسرے انبیاء علیہم السلام پر ایک ہی مرتبہ سارا کلام اترا مگر اس سے بہترین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تبارک و تعالیٰ بار بار خطاب کرتا رہا تاکہ اس قرآن کی عظمت بھی آشکار ہو جائے، اس لیے کہ یہ کتنی لمبی مدت میں نازل ہوا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سب نبیوں میں اعلیٰ اور قرآن بھی سب کلاموں میں بالا۔ اور لطیفہ یہ ہے کہ قرآن کو دونوں بزرگیاں ملیں۔ یہ ایک ساتھ لوح محفوظ سے ملأ اعلیٰ میں اترا۔ لوح محفوظ سے پورے کا پورا دنیا کے آسمان تک پہنچا۔ پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوتا رہا۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں: سارا قرآن ایک دفعہ ہی لیلۃ القدر میں دنیا کے آسمان پر نازل ہوا پھر بیس سال تک زمین پر اترتا رہا۔ پھر اس کے ثبوت میں آپ نے آیت «وَلَا يَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِيْرًا» اور آیت «وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:106] ‏‏‏‏ تلاوت فرمائی۔ اس کے بعد کافروں کی جو درگت قیامت کے روز ہونے والی ہے، اس کا بیان فرمایا کہ بدترین حالت اور قبیح تر ذلت میں ان کا حشر جہنم کی طرف ہو گا۔ یہ اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے، یہی برے ٹھکانے والے اور سب سے بڑھ کر گمراہ ہیں۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کافروں کا حشر منہ کے بل کیسے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے انہیں پیر کے بل چلایا ہے ِ، وہ سر کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 34) ➊ { اَلَّذِيْنَ يُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ …:} اس آیت کو پچھلی آیات کے ساتھ ملائیں تو ان الفاظ کا تقاضا ہے کہ یہاں کچھ عبارت محذوف ہے، جو یہ ہے کہ ”نبی اور قرآن پر اعتراض کرنے والے یہ لوگ اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے“ اور وہ لوگ جو اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے وہی ٹھکانے میں نہایت برے اور راستے کے اعتبار سے بہت زیادہ گمراہ ہیں۔ ➋ { اُولٰٓىِٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِيْلًا:شَرٌّ “} اصل میں {”أَشَرُّ “} ہے، جیسے {”خَيْرٌ“} اصل میں {” أَخْيَرُ“} ہے، دونوں اسم تفضیل کے صیغے ہیں، {” اَضَلُّ “} بھی اسم تفضیل ہے، مگر یہاں تفضیل مراد نہیں، نہ یہ معنی ہے کہ یہ لوگ اہلِ جنت سے زیادہ برے ہیں۔ یہاں {” شَرٌّ “} اور {” اَضَلُّ “} کا لفظ کسی کے مقابلے میں زیادہ برے یا زیادہ گمراہ کے معنی میں نہیں بلکہ صرف مبالغے کے لیے ہے، یعنی نہایت برے اور بہت زیادہ گمراہ ہیں، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”وہی ٹھکانے میں نہایت برے اور راستے کے اعتبار سے بہت زیادہ گمراہ ہیں۔“ ٹھکانے سے مراد جہنم ہے اور راستے سے مراد کفر و شرک کا راستہ ہے، جو جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔ چند آیات پہلے اہلِ جنت کا وصف بیان ہوا ہے: «{ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِيْلًا }» [ الفرقان: ۲۴ ] اس کے مقابلے میں یہاں اہلِ جہنم کا وصف {” شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِيْلًا “} بیان ہوا ہے۔ ➌ { اَلَّذِيْنَ يُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ …:} دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۹۷) اور طٰہٰ (۱۲۵) چہروں کے بل اکٹھے کیے جانے کی ایک تفسیر یہ ہے کہ انھیں چہروں کے بل گھسیٹتے ہوئے میدانِ محشر کی طرف لے جایا جائے گا، جیسا کہ جہنم میں بھی ان کے ساتھ یہی معاملہ ہو گا، فرمایا: «{ يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ }» [ القمر: ۴۸ ] ”جس دن وہ آگ میں اپنے چہروں پر گھسیٹے جائیں گے، چکھو آگ کا چھونا۔“ اور فرمایا: «{ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ }» [ النمل: ۹۰ ] ”اور جوبرائی لے کر آئے گا تو ان کے چہرے آگ میں اوندھے ڈالے جائیں گے۔“ دوسری تفسیر وہ ہے جو انس رضی اللہ عنہ نے روایت فرمائی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: ”یا رسول اللہ! کافر کو قیامت کے دن چہرے کے بل اکٹھا کیا جائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَلَيْسَ الَّذِيْ أَمْشَاهُ عَلَی الرِّجْلَيْنِ فِي الدُّنْيَا قَادِرًا عَلٰی أَنْ يُّمْشِيَهُ عَلٰی وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «‏‏‏‏الذین یحشرون علی…» : ۴۷۶۰ ] ”کیا جس نے اسے ٹانگوں پر چلایا ہے وہ اس پر قادر نہیں کہ اسے قیامت کے دن اس کے چہرے پر چلائے؟“ اکثر مفسرین نے یہی تفسیر کی ہے۔
← پچھلی آیت (33) پوری سورۃ اگلی آیت (35) →