اگر ہم چاہتے تو ایک ایک بستی میں ایک ایک نذیر اٹھا کھڑا کرتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر ہم چاہتے تو ہر ہر بستی میں ایک ایک ڈرانے واﻻ بھیج دیتے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈر سنانے والا بھیجتے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے نبی(ص)) آپ کافروں کی پیروی نہ کریں اور اس (قرآن) کے ذریعہ سے ان سے بڑا جہاد کریں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر ہم چاہتے تو ضرور ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
النبی کل عالم علیہ السلام ٭٭
اگر رب چاہتا تو ہر ہر بستی میں ایک ایک نبی بھیج دیتا۔ اس نے تمام دنیا کی طرف صرف ایک ہی نبی بھیجا ہے اور پھر اسے حکم دے دیا کہ قرآن کا وعظ سب کو سنا دے۔ جیسے فرمان ہے کہ میں اس قرآن سے تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ہوشیار کر دوں اور ان تمام جماعتوں میں سے جو بھی کفر کرے، اس کے ٹھہرنے کی جگہ جہنم ہے۔ اور فرمان ہے کہ ’ تو مکے والوں کو اور چاروں طرف کے لوگوں کو آگاہ کر دے۔ ‘ ۱؎ [6-الأنعام:92] اور آیت میں ہے کہ ’ اے نبی! آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بن کر آیا ہوں۔ ‘ ۱؎ [7-الأعراف:158] بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: { میں سرخ و سیاہ سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:3] بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ { تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے رہے اور میں تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:335] پھر فرمایا: کافروں کا کہنا نہ ماننا اور اس قرآن کے ساتھ ان سے بہت بڑا جہاد کرنا۔ جیسے ارشاد ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [9-التوبة:73] یعنی ’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کافروں سے اور منافقوں سے جہاد کرتے رہو۔
اسی رب نے پانی کو دو طرح کا کر دیا ہے، میٹھا اور کھاری۔ نہروں، چشموں اور کنوؤں کا پانی عموماً شیریں، صاف اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔ بعض ٹھہرے ہوئے سمندروں کا پانی کھاری اور بدمزہ ہوتا ہے۔ اللہ کی اس نعمت پر بھی شکر کرنا چاہیے کہ اس نے میٹھے پانی کی چاروں طرف ریل پیل کر دی تاکہ لوگوں کو نہانے دھونے اور اپنے کھیت اور باغات کو پانی دینے میں آسانی رہے۔ مشرقوں اور مغربوں میں محیط سمندر کھاری پانی کے اس نے بہا دیئے جو ٹھہرے ہوئے ہیں، ادھر ادھر بہتے نہیں لیکن موجیں مار رہے ہیں، تلاطم پیدا کر رہے ہیں، بعض میں مدوجزر ہے،۔ ہر مہینے کی ابتدائی تاریخوں میں تو ان میں زیادتی اور بہاؤ ہوتا ہے پھر چاند کے گھٹنے کے ساتھ وہ گھٹتا جاتا ہے یہاں تک آخر میں اپنی حالت پر آ جاتا ہے پھر جہاں چاند چڑھا، یہ بھی چڑھنے لگا۔ چودہ تاریخ تک برابر چاند کے ساتھ چڑھتا رہا، پھر اترنا شروع ہوا۔ ان تمام سمندروں کو اسی اللہ نے پیدا کیا ہے، وہ پوری اور زبردست قدرت والا ہے۔ کھاری اور گرم پانی گو پینے کے کام نہیں آتا لیکن ہواؤں کو صاف کر دیتا ہے۔ جس سے انسانی زندگی ہلاکت میں نہ پڑے۔ اس میں جو جانور مر جاتے ہیں، ان کی بدبو دنیا والوں کو ستا نہیں سکتی اور کھاری پانی کے سبب سے اس کی ہوا صحت بخش اور اس کا مردہ پاک، طیب ہوتا ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سمندر کے پانی کی نسبت سوال ہوا کہ کیا ہم اس سے وضو کر لیں؟ تو آپ نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح] مالک، شافعی رحمۃ اللہ علیہما اور اہل سنن رحمۃ اللہ علیہم نے اسے روایت کیا ہے اور اسناد بھی صحیح ہے۔
پھر اس کی قدرت دیکھو کہ محض اپنی طاقت سے اور اپنے حکم سے ایک دوسرے سے جدا رکھا ہے۔ نہ کھاری میٹھے میں مل سکے، نہ میٹھا کھاری میں مل سکے۔ جیسے فرمان ہے «مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» ۱؎ [55-الرحمن:19-21] ’ اس نے دونوں سمندر جاری کر دئیے ہیں کہ دونوں مل جائیں اور ان دونوں کے درمیان ایک حجاب قائم کر دیا ہے کہ حد سے نہ بڑھیں۔ پھر تم اپنے رب کی کس نعمت کے منکر ہو؟ ‘ اور آیت میں ہے: ’ کون ہے وہ جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس میں جگہ جگہ دریا جاری کر دئیے، اس پر پہاڑ قائم کر دئیے اور سمندروں کے درمیان اوٹ کر دی۔ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بات یہ ہے کہ ان مشرکوں کے اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ ‘ ۱؎ [27-النمل:61] اس نے انسان کو ضعیف نطفے سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک اور برابر بنایا ہے۔ اور اچھی پیدائش میں پیدا کر کے پھر اسے مرد یا عورت بنایا۔ پھر اس کے لیے نسب کے رشتےدار بنا دئیے پھر کچھ مدت بعد سسرالی رشتے قائم کر دئیے۔ اتنے بڑے قادر اللہ کی قدرتیں تمہارے سامنے ہیں۔
51-1لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا اور صرف آپ کو ہی تمام بستیوں بلکہ تمام انسانوں کے لیے نذیر بنا کر بھیجا ہے۔
(آیت 51) ➊ { وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِيْ كُلِّ قَرْيَةٍ نَّذِيْرًا:} یعنی جس طرح ہم نے بارش کو مختلف شہروں اور ملکوں میں بانٹ دیا، اگر ہم چاہتے تو اسی طرح ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے، مگر ہم نے ایسا نہیں چاہا، کیونکہ اس سے الگ الگ امتیں وجود میں آتیں، جن کا آپس میں اختلاف ہوتا، اس لیے ہم نے ساری زمین کے لیے ایک آفتاب کی طرح سب کے لیے ایک ہی ڈرانے والا مقرر فرمایا کہ سب اس کی اطاعت کریں اور ان کے انکار کی صورت میں وہ سب کے ساتھ قتال کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیامت تک کے تمام لوگوں کے لیے نذیر ہونے کا ذکر اسی سورت کے شروع میں بھی ہے: «{ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا }» مزید حوالہ جات کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۱۵۸)۔ ➋ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی کمال قوت اور بے نیازی کا اظہار بھی ہے اور اس کی حکمت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کمال نعمت کا بھی۔ فرمایا اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے اور جس شان کا چاہتے بھیج دیتے، کسی کی جرأت نہ تھی کہ ہمیں روک سکتا، مگر ہم نے یہ نہیں چاہا، بلکہ یہ چاہا ہے کہ یہ عزت و رفعت ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم “ کو ملے، فرمایا: «{ وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ }» [ الم نشرح: ۴ ] ”اور ہم نے تیرے لیے تیرا ذکر بلند کر دیا۔“ اور فرمایا: «{ عَسٰۤى اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا }» [ بني إسرائیل: ۷۹ ] ”قریب ہے کہ تیر ارب تجھے مقام محمود پر کھڑا کرے۔“
پس اے نبیؐ، کافروں کی بات ہرگز نہ مانو اور اس قرآن کو لے کر ان کے ساتھ جہاد کبیر کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
پس آپ کافروں کا کہنا نہ مانیں اور قرآن کے ذریعے ان سے پوری طاقت سے بڑا جہاد کریں
احمد رضا خان بریلوی
تو کافروں کا کہا نہ مان اور اس قرآن سے ان پر جہاد کر بڑا جہاد،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ وہی ہے جس نے دو دریاؤں کو آپس میں ملا دیا ہے یہ شیریں و خوشگوار ہے اور یہ سخت کھاری و تلخ ہے اور ان دونوں کے درمیان ایک حد فاصل اور مضبوط رکاوٹ بنا دی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پس تو کافروں کا کہنا مت مان اور اس کے ساتھ ان سے جہاد کر، بہت بڑا جہاد۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
النبی کل عالم علیہ السلام ٭٭
اگر رب چاہتا تو ہر ہر بستی میں ایک ایک نبی بھیج دیتا۔ اس نے تمام دنیا کی طرف صرف ایک ہی نبی بھیجا ہے اور پھر اسے حکم دے دیا کہ قرآن کا وعظ سب کو سنا دے۔ جیسے فرمان ہے کہ میں اس قرآن سے تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ہوشیار کر دوں اور ان تمام جماعتوں میں سے جو بھی کفر کرے، اس کے ٹھہرنے کی جگہ جہنم ہے۔ اور فرمان ہے کہ ’ تو مکے والوں کو اور چاروں طرف کے لوگوں کو آگاہ کر دے۔ ‘ ۱؎ [6-الأنعام:92] اور آیت میں ہے کہ ’ اے نبی! آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بن کر آیا ہوں۔ ‘ ۱؎ [7-الأعراف:158] بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: { میں سرخ و سیاہ سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:3] بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ { تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے رہے اور میں تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:335] پھر فرمایا: کافروں کا کہنا نہ ماننا اور اس قرآن کے ساتھ ان سے بہت بڑا جہاد کرنا۔ جیسے ارشاد ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [9-التوبة:73] یعنی ’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کافروں سے اور منافقوں سے جہاد کرتے رہو۔
اسی رب نے پانی کو دو طرح کا کر دیا ہے، میٹھا اور کھاری۔ نہروں، چشموں اور کنوؤں کا پانی عموماً شیریں، صاف اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔ بعض ٹھہرے ہوئے سمندروں کا پانی کھاری اور بدمزہ ہوتا ہے۔ اللہ کی اس نعمت پر بھی شکر کرنا چاہیے کہ اس نے میٹھے پانی کی چاروں طرف ریل پیل کر دی تاکہ لوگوں کو نہانے دھونے اور اپنے کھیت اور باغات کو پانی دینے میں آسانی رہے۔ مشرقوں اور مغربوں میں محیط سمندر کھاری پانی کے اس نے بہا دیئے جو ٹھہرے ہوئے ہیں، ادھر ادھر بہتے نہیں لیکن موجیں مار رہے ہیں، تلاطم پیدا کر رہے ہیں، بعض میں مدوجزر ہے،۔ ہر مہینے کی ابتدائی تاریخوں میں تو ان میں زیادتی اور بہاؤ ہوتا ہے پھر چاند کے گھٹنے کے ساتھ وہ گھٹتا جاتا ہے یہاں تک آخر میں اپنی حالت پر آ جاتا ہے پھر جہاں چاند چڑھا، یہ بھی چڑھنے لگا۔ چودہ تاریخ تک برابر چاند کے ساتھ چڑھتا رہا، پھر اترنا شروع ہوا۔ ان تمام سمندروں کو اسی اللہ نے پیدا کیا ہے، وہ پوری اور زبردست قدرت والا ہے۔ کھاری اور گرم پانی گو پینے کے کام نہیں آتا لیکن ہواؤں کو صاف کر دیتا ہے۔ جس سے انسانی زندگی ہلاکت میں نہ پڑے۔ اس میں جو جانور مر جاتے ہیں، ان کی بدبو دنیا والوں کو ستا نہیں سکتی اور کھاری پانی کے سبب سے اس کی ہوا صحت بخش اور اس کا مردہ پاک، طیب ہوتا ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سمندر کے پانی کی نسبت سوال ہوا کہ کیا ہم اس سے وضو کر لیں؟ تو آپ نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح] مالک، شافعی رحمۃ اللہ علیہما اور اہل سنن رحمۃ اللہ علیہم نے اسے روایت کیا ہے اور اسناد بھی صحیح ہے۔
پھر اس کی قدرت دیکھو کہ محض اپنی طاقت سے اور اپنے حکم سے ایک دوسرے سے جدا رکھا ہے۔ نہ کھاری میٹھے میں مل سکے، نہ میٹھا کھاری میں مل سکے۔ جیسے فرمان ہے «مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» ۱؎ [55-الرحمن:19-21] ’ اس نے دونوں سمندر جاری کر دئیے ہیں کہ دونوں مل جائیں اور ان دونوں کے درمیان ایک حجاب قائم کر دیا ہے کہ حد سے نہ بڑھیں۔ پھر تم اپنے رب کی کس نعمت کے منکر ہو؟ ‘ اور آیت میں ہے: ’ کون ہے وہ جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس میں جگہ جگہ دریا جاری کر دئیے، اس پر پہاڑ قائم کر دئیے اور سمندروں کے درمیان اوٹ کر دی۔ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بات یہ ہے کہ ان مشرکوں کے اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ ‘ ۱؎ [27-النمل:61] اس نے انسان کو ضعیف نطفے سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک اور برابر بنایا ہے۔ اور اچھی پیدائش میں پیدا کر کے پھر اسے مرد یا عورت بنایا۔ پھر اس کے لیے نسب کے رشتےدار بنا دئیے پھر کچھ مدت بعد سسرالی رشتے قائم کر دئیے۔ اتنے بڑے قادر اللہ کی قدرتیں تمہارے سامنے ہیں۔
52-1جاھدھم بہ میں ھا ضمیر کا مرجع قرآن ہے یعنی اس قرآن کے ذریعے سے جہاد کریں یہ آیت مکی ہے ابھی جہاد کا حکم نہیں ملا تھا اس لیے مطلب یہ ہوا کہ قرآن کے اوامرو نواہی کھول کھول کر بیان کریں اور اہل کفر کے لیے جو زجر و توبیخ اور وعیدیں ہیں وہ واضح کریں۔
(آیت 52) ➊ { فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِيْنَ:} چونکہ ہم نے ہر بستی کی طرف الگ الگ نذیر بھیجنے کے بجائے تمام جہانوں کے لیے آپ ہی کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، اس لیے آپ کافروں کا کہنا مت مانیے، خواہ وہ معجزوں کا مطالبہ کریں یا طعن و تشنیع اور ٹھٹھے مذاق کے ساتھ دعوت سے روکنے کی کوشش کریں، یا مدا ہنت کی پیش کش کریں، جیسا کہ فرمایا: «{ وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُوْنَ}» [ القلم: ۹ ] ” وہ چاہتے ہیں کاش! تو نرمی کرے تو وہ بھی نرمی کریں۔“ ➋ {وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِيْرًا: ”جَاهَدَ يُجَاهِدُ جِهَادًا وَ مُجَاهَدَةً“} (مفاعلہ) کسی کے مقابلے میں اپنی پوری کوشش صرف کر دینا۔ {” بِهٖ “ } سے مراد قرآن مجید ہے، جس کا تذکرہ {” وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ “} میں گزرا ہے اور جس کے ذکر کے ساتھ سورت کی ابتدا ہوئی ہے، فرمایا: «{ تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ }» یعنی اگر ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیجا جاتا تو آپ کے بوجھ میں کمی ہو جاتی، اب تمام لوگوں تک پیغام پہنچانے کی ذمہ داری کی وجہ سے آپ کا بوجھ بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے آپ اس قرآن کو لے کر جہاد کبیر کریں۔ ”جہاد کبیر“ سے کیا مراد ہے؟ ظاہر ہے اس سے مراد اپنی آخری کوشش تک لگا دینا ہے، یعنی دعوت کے ذریعے سے بھی اور جب ممکن ہو قتال کے ذریعے سے بھی۔ رازی لکھتے ہیں: ”بعض مفسرین نے فرمایا، یہاں جہاد سے مراد اللہ کا پیغام پہنچانے اور دعوت میں پوری کوشش کرنا ہے اور بعض نے فرمایا، قتال (لڑائی) کے ساتھ جہاد مراد ہے اور بعض نے فرمایا، دونوں کے ساتھ جہاد مراد ہے۔“ رازی نے فرمایا: ”پہلی تفسیر زیادہ قریب ہے، کیونکہ سورت مکی ہے اور قتال کا حکم ہجرت کے بھی کچھ دیر بعد نازل ہوا۔“ مگر حقیقت یہ ہے کہ زیادہ قریب بات یہ ہے کہ دعوت و قتال دونوں کے ساتھ جہاد مراد ہے، کیونکہ لفظ جہاد (پوری کوشش صرف کرنے) کا تقاضا بھی یہی ہے اور لفظ ”کبیر“ کا بھی۔ رہی یہ بات کہ یہ سورت مکی ہے، تو مکی سورتوں میں بھی قتال کا ذکر موجود ہے، اگرچہ حکمتِ الٰہی کے پیشِ نظر ہجرت سے پہلے قتال کی اجازت نہیں دی گئی، جیسا کہ سورۂ مزمل میں (جو بالاتفاق مکی ہے) فرمایا: «{ عَلِمَ اَنْ سَيَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى وَ اٰخَرُوْنَ يَضْرِبُوْنَ فِي الْاَرْضِ يَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اٰخَرُوْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ }» [ المزمل: ۲۰ ] ”اس نے جان لیا کہ یقینا تم میں سے کچھ بیمار ہوں گے اور کچھ دوسرے زمین میں سفر کریں گے، اللہ کا فضل تلاش کریں گے اور کچھ دوسرے اللہ کی راہ میں لڑیں گے، پس اس میں سے جو میسر ہو پڑھو۔“ اور عروہ بن زبیر نے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما سے پوچھا: ”قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ سے زیادہ جو ایذا دی وہ کیا تھی؟“ تو انھوں نے دو دنوں کا ذکر فرمایا، جن میں سے ایک وہ دن تھا جب عقبہ بن ابی معیط نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن میں چادر ڈال کر گلا گھونٹا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے دھکا دے کر آپ کو چھڑایا اور ایک اس سے پہلا دن کہ جب آپ طواف کر رہے تھے اور جب آپ کفارِ قریش کے پاس سے گزرتے تو وہ کوئی نہ کوئی تکلیف دہ بات کرتے، تین چکروں میں ایسا ہی ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ تَسْمَعُوْنَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ! أَمَا وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِالذَّبْحِ ] ”قریشیو! سنتے ہو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! میں تمھارے پاس (تمھارے) ذبح (کا پیغام) لے کر آیا ہوں۔“ [ مسند أحمد: 218/2، ح: ۷۰۵۴۔ مسند أبی یعلٰی: 425/6، ح: ۷۳۳۹ ] مسند احمد اور مسند ابی یعلی ٰ دونوں کی تحقیق میں اسے حسن کہا گیا ہے۔ ذبح کا یہ حکم جسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے، جب اس پر عمل کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کرکے دکھایا اور فرمایا: [ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی يَشْهَدُوْا أَنْ لَا إِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ، وَيُقِيْمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوْا ذٰلِكَ عَصَمُوْا مِنِّيْ دِمَاءَهُمْ وَ أَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلاَمِ وَ حِسَابُهُمْ عَلَی اللّٰهِ ] [ بخاري، الإیمان، باب: «فإن تابوا و أقاموا الصلاۃ…» : ۲۵، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما ] ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمام لوگوں سے لڑوں، یہاں تک کہ وہ اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کا رسول ہے۔ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، جب وہ یہ کام کر لیں تو انھوں نے مجھ سے اپنے خون اور اپنے مال محفوظ کر لیے، مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔“ ➌ جہادِ کبیر کی تفسیر دعوت و قتال دونوں کے ساتھ کرنا اس لیے بھی راجح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: [ أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ ] ”کون سا جہاد افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ أُهْرِيْقَ دَمُهُ وَ عُقِرَ جَوَادُهُ ] [ ابن ماجہ، الجہاد، باب القتال في سبیل اللہ: ۲۷۹۴، قال الشیخ الألباني صحیح ] ”جس کا خون بہا دیا گیا اور اس کا گھوڑا کاٹ دیا گیا۔“ اور طارق ابن شہاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا جب آپ رکاب میں پاؤں رکھ چکے تھے: [ أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ ] ”کون سا جہاد افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ ] [ نسائي، البیعۃ، باب فضل من تکلم بالحق عند إمام جائر: ۴۲۱۴ ] ”کسی ظالم بادشاہ کے پاس حق بات کہہ دینا۔“ ظاہر ہے ظالم بادشاہ کے سامنے وہی شخص کلمۂ حق کہہ سکتا ہے جو اس کے سامنے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر جائے گا، یہ ہر ایرے غیرے کا کام نہیں۔ اس لیے پچھلی حدیث میں اور اس میں کوئی تضاد نہیں۔ ➍ اس مقام پر ایک روایت بیان کی جاتی ہے، جس میں مال و جان کی قربانی والے جہاد کو جہاد اصغر قرار دیا گیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَی الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ قَالُوْا وَمَا الْجِهَادُ الْأَكْبَرُ؟ قَالَ جِهَادُ الْقَلْبِ ] ”ہم جہادِ اصغر سے جہادِ اکبر کی طرف واپس پلٹ آئے ہیں۔“ لوگوں نے کہا: ”تو وہ جہادِ اکبر کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد القلب (دل کا جہاد)۔“ [”اَلْمَقُوْلُ مِنْ مَا لَيْسَ بِمَنْقُوْلٍ“] کے مصنف ولید بن راشد السعیدان لکھتے ہیں: ”حافظ ابن حجر نے (تسدید القوس میں) فرمایا، یہ ابراہیم بن ابی عَبلَہ کا کلام ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ اس کا اصل کچھ نہیں اور یہ جابر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اور اس کی سند بھی ضعیف ہے۔ (و اللہ اعلم)
اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملا رکھا ہے ایک لذیذ و شیریں، دوسرا تلخ و شور اور دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے ایک رکاوٹ ہے جو انہیں گڈ مڈ ہونے سے روکے ہوئے ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وہی ہے جس نے دو سمندر آپس میں ملا رکھے ہیں، یہ ہے میٹھا اور مزیدار اور یہ ہے کھاری کڑوا، اور ان دونوں کے درمیان ایک حجاب اور مضبوط اوٹ کردی
احمد رضا خان بریلوی
اور وہی ہے جس نے ملے ہوئے رواں کیے دو سمندر یہ میٹھا ہے نہایت شیریں اور یہ کھاری ہے نہایت تلخ اور ان کے بیچ میں پردہ رکھا اور روکی ہوئی آڑ
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ وہی ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا اور پھر اس کو خاندان والا اور سسرال والا بنایا اور تمہارا پروردگار بڑی قدرت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملا دیا، یہ میٹھا ہے ، پیاس بجھانے والا اور یہ نمکین ہے کڑوا اور اس نے ان دونوں کے درمیان ایک پردہ اور مضبوط آڑ بنا دی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
النبی کل عالم علیہ السلام ٭٭
اگر رب چاہتا تو ہر ہر بستی میں ایک ایک نبی بھیج دیتا۔ اس نے تمام دنیا کی طرف صرف ایک ہی نبی بھیجا ہے اور پھر اسے حکم دے دیا کہ قرآن کا وعظ سب کو سنا دے۔ جیسے فرمان ہے کہ میں اس قرآن سے تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ہوشیار کر دوں اور ان تمام جماعتوں میں سے جو بھی کفر کرے، اس کے ٹھہرنے کی جگہ جہنم ہے۔ اور فرمان ہے کہ ’ تو مکے والوں کو اور چاروں طرف کے لوگوں کو آگاہ کر دے۔ ‘ ۱؎ [6-الأنعام:92] اور آیت میں ہے کہ ’ اے نبی! آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بن کر آیا ہوں۔ ‘ ۱؎ [7-الأعراف:158] بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: { میں سرخ و سیاہ سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:3] بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ { تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے رہے اور میں تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:335] پھر فرمایا: کافروں کا کہنا نہ ماننا اور اس قرآن کے ساتھ ان سے بہت بڑا جہاد کرنا۔ جیسے ارشاد ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [9-التوبة:73] یعنی ’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کافروں سے اور منافقوں سے جہاد کرتے رہو۔
اسی رب نے پانی کو دو طرح کا کر دیا ہے، میٹھا اور کھاری۔ نہروں، چشموں اور کنوؤں کا پانی عموماً شیریں، صاف اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔ بعض ٹھہرے ہوئے سمندروں کا پانی کھاری اور بدمزہ ہوتا ہے۔ اللہ کی اس نعمت پر بھی شکر کرنا چاہیے کہ اس نے میٹھے پانی کی چاروں طرف ریل پیل کر دی تاکہ لوگوں کو نہانے دھونے اور اپنے کھیت اور باغات کو پانی دینے میں آسانی رہے۔ مشرقوں اور مغربوں میں محیط سمندر کھاری پانی کے اس نے بہا دیئے جو ٹھہرے ہوئے ہیں، ادھر ادھر بہتے نہیں لیکن موجیں مار رہے ہیں، تلاطم پیدا کر رہے ہیں، بعض میں مدوجزر ہے،۔ ہر مہینے کی ابتدائی تاریخوں میں تو ان میں زیادتی اور بہاؤ ہوتا ہے پھر چاند کے گھٹنے کے ساتھ وہ گھٹتا جاتا ہے یہاں تک آخر میں اپنی حالت پر آ جاتا ہے پھر جہاں چاند چڑھا، یہ بھی چڑھنے لگا۔ چودہ تاریخ تک برابر چاند کے ساتھ چڑھتا رہا، پھر اترنا شروع ہوا۔ ان تمام سمندروں کو اسی اللہ نے پیدا کیا ہے، وہ پوری اور زبردست قدرت والا ہے۔ کھاری اور گرم پانی گو پینے کے کام نہیں آتا لیکن ہواؤں کو صاف کر دیتا ہے۔ جس سے انسانی زندگی ہلاکت میں نہ پڑے۔ اس میں جو جانور مر جاتے ہیں، ان کی بدبو دنیا والوں کو ستا نہیں سکتی اور کھاری پانی کے سبب سے اس کی ہوا صحت بخش اور اس کا مردہ پاک، طیب ہوتا ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سمندر کے پانی کی نسبت سوال ہوا کہ کیا ہم اس سے وضو کر لیں؟ تو آپ نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح] مالک، شافعی رحمۃ اللہ علیہما اور اہل سنن رحمۃ اللہ علیہم نے اسے روایت کیا ہے اور اسناد بھی صحیح ہے۔
پھر اس کی قدرت دیکھو کہ محض اپنی طاقت سے اور اپنے حکم سے ایک دوسرے سے جدا رکھا ہے۔ نہ کھاری میٹھے میں مل سکے، نہ میٹھا کھاری میں مل سکے۔ جیسے فرمان ہے «مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» ۱؎ [55-الرحمن:19-21] ’ اس نے دونوں سمندر جاری کر دئیے ہیں کہ دونوں مل جائیں اور ان دونوں کے درمیان ایک حجاب قائم کر دیا ہے کہ حد سے نہ بڑھیں۔ پھر تم اپنے رب کی کس نعمت کے منکر ہو؟ ‘ اور آیت میں ہے: ’ کون ہے وہ جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس میں جگہ جگہ دریا جاری کر دئیے، اس پر پہاڑ قائم کر دئیے اور سمندروں کے درمیان اوٹ کر دی۔ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بات یہ ہے کہ ان مشرکوں کے اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ ‘ ۱؎ [27-النمل:61] اس نے انسان کو ضعیف نطفے سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک اور برابر بنایا ہے۔ اور اچھی پیدائش میں پیدا کر کے پھر اسے مرد یا عورت بنایا۔ پھر اس کے لیے نسب کے رشتےدار بنا دئیے پھر کچھ مدت بعد سسرالی رشتے قائم کر دئیے۔ اتنے بڑے قادر اللہ کی قدرتیں تمہارے سامنے ہیں۔
53-1آپ شریں کو فرات کہتے ہیں، فَرَات کے معنی کاٹ دینا، توڑ دینا، میٹھا پانی پیاس کو کاٹ دیتا ہے یعنی ختم کردیتا ہے۔ اُجَاج، سخت کھاری یا کڑوا۔ 53-2جو ایک دوسرے سے ملنے نہیں دیتی بعض نے حجرا محجورا کے معنی کیے ہیں حراما محرما ان پر حرام کردیا گیا ہے کہ میٹھا پانی کھاری یا کھاری پانی میٹھا ہوجائے اور بعض مفسرین نے مرج البحرین کا ترجمہ کیا ہے خلق المائین دو پانی پیدا کیے ایک میٹھا اور دوسرا کھاری میٹھا پانی تو وہ ہے جو نہروں چشموں اور کنوؤں کی شکل میں آبادیوں کے درمیان پایا جاتا ہے جس کو انسان اپنی ضروریات کے لیے استعمال کرتا ہے اور کھاری پانی وہ ہے جو مشرق و مغرب میں پھیلے ہوئے بڑے بڑے سمندروں میں ہے جو کہتے ہیں کہ زمین کا تین چوتھائی حصہ ہیں اور ایک چوتھائی حصہ خشکی کا ہے جس میں انسانوں اور حیوانوں کا بسیرا ہے یہ سمندر ساکن ہیں البتہ ان میں مد وجزر ہوتا رہتا ہے اور موجوں کا تلاطم جاری رہتا ہے سمندری پانی کے کھاری رکھنے میں اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمت ہے میٹھا پانی زیادہ دیر تک کہیں ٹھہرا رہے تو وہ خراب ہوجاتا ہے اس کے ذائقے رنگ یا بو میں تبدیلی آجاتی ہے کھاری پانی خراب نہیں ہوتا نہ اس کا ذائقہ بدلتا ہے نہ رنگ اور بو اگر ان ساکن سمندروں کا پانی بھی میٹھا ہوتا تو اس میں بدبو پیدا ہوجاتی جس سے انسانوں اور حیوانوں کا زمین میں رہنا مشکل ہوجاتا اس میں مرنے والے جانوروں کی سڑاند اس پر مستزاد اللہ کی حکمت تو یہ ہے کہ ہزاروں برس سے یہ سمندر موجود ہیں اور ان میں ہزاروں جانور مرتے ہیں اور انہی میں گل سڑ جاتے ہیں لیکن اللہ نے ان میں ملاحت نمکیات کی اتنی مقدار رکھ دی ہے کہ وہ اس کے پانی میں ذرا بھی بدبو پیدا نہیں ہونے دیتی ان سے اٹھنے والی ہوائیں بھی صحیح ہیں اور انکا پانی بھی پاک ہے حتی کہ ان کا مردار بھی حلال ہے کما فی الحدیث۔ موطا امام مالک۔ ابن ماجہ
(آیت 53) ➊ { وَ هُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ …: ” فُرَاتٌ “ ”فَرُتَ يَفْرُتُ“} کا معنی توڑ دینا ہے، میٹھا پانی پیاس کو ختم کرتا ہے، اس لیے اسے {” فُرَاتٌ “ } کہتے ہیں۔ توحید کے دلائل جو {” اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ “} سے شروع ہوئے تھے یہ ان کا چوتھا سلسلہ ہے۔ اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی قدرت کے کمال اور انسان پر اس کے انعامات تینوں چیزوں کا بیان ہے۔ اس کی ہم معنی آیت سورۂ رحمن میں ہے: «{ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيٰنِ (19) بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيٰنِ }» [ الرحمٰن: ۱۹، ۲۰ ] ”اس نے دو سمندروں کو ملادیا، جو اس حال میں مل رہے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان ایک پردہ ہے (جس سے) وہ آگے نہیں بڑھتے۔“ {” وَ هُوَ الَّذِيْ “} میں مبتدا اور خبر دونوں کے معرفہ ہونے سے قصر کا مفہوم ادا ہو رہا ہے کہ دو سمندروں کو اس طرح ملانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، کسی اور کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ زمین کے تقریباً ستر (۷۰) فیصد حصے پر سمندر ہے جس کا پانی سخت نمکین ہے، بظاہر اس کے ساتھ ملا ہوا میٹھے پانی کا کوئی سمندر نہیں اور یہ بات یقینی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بات کسی صورت غلط نہیں ہو سکتی۔ اس لیے مفسرین نے آیت کے کئی مصداق بیان فرمائے ہیں اور سبھی درست ہیں۔ ایک مصداق اس کا یہ ہے کہ عربی میں بحر کا لفظ پانی کے بڑے ذخیرے پر بولا جاتا ہے، اس لیے یہ لفظ سمندر اور دریا دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تو اس سے مراد زمین پر موجود پانی کے دو بڑے ذخیرے ہیں، ایک میٹھا جو دریاؤں، جھیلوں اور ندی نالوں کی صورت میں ہے اور دوسرا کڑوا جو سمندر کی صورت میں ہے۔ ایک دوسرے کے قریب ہونے کے باوجود دونوں کے درمیان اللہ تعالیٰ نے زمین کی اوٹ بنا دی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی اپنی جگہ رہتے ہیں، نہ نمکین میٹھے پر غالب آتا ہے اور نہ میٹھا نمکین پر۔ اس کا واضح مشاہدہ جزیروں پر ہوتا ہے، جہاں سمندر کے سخت نمکین پانی کے ساتھ ہی میٹھے پانی کا دریا چل رہا ہوتا ہے۔ دوسرا مصداق اس کا یہ ہے کہ اس سے مراد زمین کے نیچے موجود پانی کے دو سمندر ہیں، جن میں سے ہر ایک کی رو دوسرے کی رو کے بالکل ساتھ چل رہی ہے، ایک جگہ نلکا لگائیں تو میٹھا پانی نکلتا ہے اور بعض اوقات اس کے قریب ہی دوسرا نلکا لگانے سے نمکین پانی نکلتا ہے، حتیٰ کہ دیوار کی ایک طرف کا پانی میٹھا ہوتا ہے اور دوسری طرف کا نمکین، نہ یہ اس کی نمکینی میں دخل دیتا ہے اور نہ وہ اس کی شیرینی میں۔ میری دانست میں یہ صورت سب سے واضح ہے، ہر شخص اس کا مشاہدہ کر سکتا ہے اور اس پر کسی ملحد کے لیے اعتراض کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔ تیسرا مصداق اس کا وہ مقام ہے جہاں کسی بڑے دریا کا پانی سمندر میں گرتا ہے اور اس کے اندر دور تک چلا جاتا ہے، اس کا رنگ اور ذائقہ سمندر کے پانی کے رنگ اور ذائقے سے الگ رہتا ہے، دونوں کے درمیان نظر نہ آنے والی رکاوٹ حائل رہتی ہے۔ مفسر ابوحیان لکھتے ہیں: {” وَ نِيْلُ مِصْرَ فِيْ فَيْضِهِ يَشُقُّ الْبَحْرَ الْمَالِحَ شَقًّا بِحَيْثُ يَبْقٰي نَهْرًا جَارِيًا أَحْمَرَ فِيْ وَسْطِ الْمَالِحِ لِيَسْتَقِي النَّاسُ مِنْهُ “} [ البحر المحیط ] ”یعنی مصر کا دریائے نیل اپنی طغیانی کے زمانے میں نمکین سمندر کو چیرتا ہوا شور سمندر کے وسط میں سرخ رنگ کے دریا کی صورت میں دور تک بہتا چلا جاتا ہے، جس سے لوگ پینے کے لیے پانی حاصل کرتے ہیں۔“ چوتھا مصداق اس کا یہ ہے کہ کھارے اور کڑوے سمندر کے درمیان ایسے ذخیرے موجود ہیں جن کا پانی بالکل میٹھا ہے۔ ابو حیان ہی نے لکھا ہے: {” وَ تَرَي الْمِيَاهَ قِطْعًا فِيْ وَسْطِ الْبَحْرِ الْمَالِحِ فَيَقُوْلُوْنَ هٰذَا مَاءٌ ثَلْجٌ فَيَسْقُوْنَ مِنْهُ مِنْ وَسْطِ الْبَحْرِ “} [ البحر المحیط ] ”یعنی نمکین سمندر کے وسط میں (میٹھے) پانی ٹکڑوں کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں، جن کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ یہ برف کا پانی ہے اور وہ سمندر کے درمیان اس سے پینے کا پانی حاصل کرتے ہیں۔“ تفہیم القرآن میں ہے: ”خود سمندر میں بھی مختلف مقامات پر میٹھے پانی کے چشمے پائے جاتے ہیں، جن کا پانی سمندر کے نہایت تلخ پانی کے درمیان بھی اپنی مٹھاس پر قائم رہتا ہے۔ ترکی امیر البحر سیدی علی رئیس (کاتب رومی) اپنی کتاب ”مرأۃ الممالک“ میں (جو سولھویں صدی عیسوی کی تصنیف ہے) خلیج فارس کے اندر ایسے ہی ایک مقام کی نشان دہی کرتا ہے، اس نے لکھا ہے کہ وہاں آبِ شور کے نیچے آبِ شیریں کے چشمے ہیں، جن سے میں خود اپنے بیڑے کے لیے پینے کا پانی حاصل کرتا رہا ہوں۔ موجودہ زمانے میں جب امریکن کمپنی نے سعودی عرب میں تیل نکالنے کا کام شروع کیا تو ابتداءً وہ بھی خلیج فارس کے انھی چشموں سے پانی حاصل کرتی تھی، بعد میں ”ظہران“ کے پاس کنویں کھود لیے گئے اور ان سے پانی لیا جانے لگا۔ بحرین کے قریب بھی سمندر کی تہ میں آبِ شیریں کے چشمے ہیں جن سے لوگ کچھ مدت پہلے تک پینے کا پانی حاصل کرتے رہے ہیں۔“ ➋ اس آیت میں نعمت کی یاد دہانی کس طرح ہے، اس کے لیے میٹھے اور نمکین سمندروں میں سے میٹھے پانی کے فوائد بیان کرنے کی تو خاص ضرورت ہی نہیں، کیونکہ خشکی کے ہر جان دار کی زندگی کا دار و مدار اسی پر ہے، البتہ نمکین سمندر میں اللہ تعالیٰ کی نعمت کا مشاہدہ کئی طرح سے ہوتا ہے۔ ”تفسیر احسن البیان“ میں ہے: ”سمندری پانی کھارا رکھنے میں اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمت ہے۔ میٹھا پانی زیادہ دیر کہیں ٹھہرا رہے تو وہ خراب ہو جاتا ہے، اس کے ذائقے، رنگ یا بو میں تبدیلی آ جاتی ہے، کھارا پانی خراب نہیں ہوتا، نہ اس کا ذائقہ بدلتا ہے، نہ رنگ اور بو۔ اگر ان ساکن سمندروں کا پانی بھی میٹھا ہوتا تو اس میں بدبو پیدا ہو جاتی، جس سے انسانوں اور حیوانوں کا زمین میں رہنا مشکل ہو جاتا۔ اس میں مرنے والے جانوروں کی سڑاند اس پر مستزاد۔ اللہ کی حکمت تو یہ ہے کہ ہزاروں (لاکھوں) برس سے یہ سمندر موجود ہیں، ان میں ہزاروں (لاکھوں بلکہ کروڑوں) جانور مرتے ہیں اور انھی میں گل سڑ جاتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان میں ملاحت (نمکیات) کی اتنی مقدار رکھ دی ہے کہ وہ اس کے پانی میں ذرا بھی بدبو پیدا نہیں ہونے دیتی، ان سے اٹھنے والی ہوائیں بھی صحیح ہیں اور ان کا پانی بھی پاک ہے، حتیٰ کہ ان کا مردار بھی حلال ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے: [ هُوَ الطَّهُوْرُ مَاءُهُ وَ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ ] [أبوداوٗد، الطہارۃ، باب الوضوء بماء البحر: ۸۳ ] ”اس (سمندر) کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے۔“ (احسن البیان) پانی کا یہ عظیم ذخیرہ ہزاروں لاکھوں ٹن وزنی سامان مختلف مقامات پر پہنچانے کا آسان ترین ذریعہ بھی ہے، خوراک اور ضروریات زندگی کا لا محدود خزانہ بھی اور تمام جان داروں اور پودوں کو میٹھا پانی مہیا کرنے کے لیے بادلوں اور بارشوں کی پیدائش کا منبع بھی۔ اس کے علاوہ موسموں کے رد و بدل میں بھی اس کا بہت بڑا حصہ ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ فاطر (۱۲)، نحل (۱۴)، حج (۶۵)، زخرف (۱۱، ۱۲) اور جاثیہ (۱۲)۔
اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر پیدا کیا، پھر اس سے نسب اور سسرال کے دو الگ سلسلے چلائے تیرا رب بڑا ہی قدرت والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا، پھر اسے نسب واﻻ اور سسرالی رشتوں واﻻ کردیا۔ بلاشبہ آپ کا پروردگار (ہر چیز پر) قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہی ہے جس نے پانی سے بنایا آدمی پھر اس کے رشتے اور سسرال مقرر کی اور تمہارا رب قدرت والا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ (مشرک) اللہ کو چھوڑ کر ان کی پرستش کرتے ہیں جو ان کو نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان اور کافر تو (ہمیشہ) اپنے پروردگار کے مقابلے میں (مخالفوں کی) پشت پناہی کرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر کو پیدا کیا، پھر اسے خاندان اور سسرال بنا دیا اور تیرا رب ہمیشہ سے بے حد قدرت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
النبی کل عالم علیہ السلام ٭٭
اگر رب چاہتا تو ہر ہر بستی میں ایک ایک نبی بھیج دیتا۔ اس نے تمام دنیا کی طرف صرف ایک ہی نبی بھیجا ہے اور پھر اسے حکم دے دیا کہ قرآن کا وعظ سب کو سنا دے۔ جیسے فرمان ہے کہ میں اس قرآن سے تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ہوشیار کر دوں اور ان تمام جماعتوں میں سے جو بھی کفر کرے، اس کے ٹھہرنے کی جگہ جہنم ہے۔ اور فرمان ہے کہ ’ تو مکے والوں کو اور چاروں طرف کے لوگوں کو آگاہ کر دے۔ ‘ ۱؎ [6-الأنعام:92] اور آیت میں ہے کہ ’ اے نبی! آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بن کر آیا ہوں۔ ‘ ۱؎ [7-الأعراف:158] بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: { میں سرخ و سیاہ سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:3] بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ { تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے رہے اور میں تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:335] پھر فرمایا: کافروں کا کہنا نہ ماننا اور اس قرآن کے ساتھ ان سے بہت بڑا جہاد کرنا۔ جیسے ارشاد ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [9-التوبة:73] یعنی ’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کافروں سے اور منافقوں سے جہاد کرتے رہو۔
اسی رب نے پانی کو دو طرح کا کر دیا ہے، میٹھا اور کھاری۔ نہروں، چشموں اور کنوؤں کا پانی عموماً شیریں، صاف اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔ بعض ٹھہرے ہوئے سمندروں کا پانی کھاری اور بدمزہ ہوتا ہے۔ اللہ کی اس نعمت پر بھی شکر کرنا چاہیے کہ اس نے میٹھے پانی کی چاروں طرف ریل پیل کر دی تاکہ لوگوں کو نہانے دھونے اور اپنے کھیت اور باغات کو پانی دینے میں آسانی رہے۔ مشرقوں اور مغربوں میں محیط سمندر کھاری پانی کے اس نے بہا دیئے جو ٹھہرے ہوئے ہیں، ادھر ادھر بہتے نہیں لیکن موجیں مار رہے ہیں، تلاطم پیدا کر رہے ہیں، بعض میں مدوجزر ہے،۔ ہر مہینے کی ابتدائی تاریخوں میں تو ان میں زیادتی اور بہاؤ ہوتا ہے پھر چاند کے گھٹنے کے ساتھ وہ گھٹتا جاتا ہے یہاں تک آخر میں اپنی حالت پر آ جاتا ہے پھر جہاں چاند چڑھا، یہ بھی چڑھنے لگا۔ چودہ تاریخ تک برابر چاند کے ساتھ چڑھتا رہا، پھر اترنا شروع ہوا۔ ان تمام سمندروں کو اسی اللہ نے پیدا کیا ہے، وہ پوری اور زبردست قدرت والا ہے۔ کھاری اور گرم پانی گو پینے کے کام نہیں آتا لیکن ہواؤں کو صاف کر دیتا ہے۔ جس سے انسانی زندگی ہلاکت میں نہ پڑے۔ اس میں جو جانور مر جاتے ہیں، ان کی بدبو دنیا والوں کو ستا نہیں سکتی اور کھاری پانی کے سبب سے اس کی ہوا صحت بخش اور اس کا مردہ پاک، طیب ہوتا ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سمندر کے پانی کی نسبت سوال ہوا کہ کیا ہم اس سے وضو کر لیں؟ تو آپ نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح] مالک، شافعی رحمۃ اللہ علیہما اور اہل سنن رحمۃ اللہ علیہم نے اسے روایت کیا ہے اور اسناد بھی صحیح ہے۔
پھر اس کی قدرت دیکھو کہ محض اپنی طاقت سے اور اپنے حکم سے ایک دوسرے سے جدا رکھا ہے۔ نہ کھاری میٹھے میں مل سکے، نہ میٹھا کھاری میں مل سکے۔ جیسے فرمان ہے «مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» ۱؎ [55-الرحمن:19-21] ’ اس نے دونوں سمندر جاری کر دئیے ہیں کہ دونوں مل جائیں اور ان دونوں کے درمیان ایک حجاب قائم کر دیا ہے کہ حد سے نہ بڑھیں۔ پھر تم اپنے رب کی کس نعمت کے منکر ہو؟ ‘ اور آیت میں ہے: ’ کون ہے وہ جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس میں جگہ جگہ دریا جاری کر دئیے، اس پر پہاڑ قائم کر دئیے اور سمندروں کے درمیان اوٹ کر دی۔ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بات یہ ہے کہ ان مشرکوں کے اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ ‘ ۱؎ [27-النمل:61] اس نے انسان کو ضعیف نطفے سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک اور برابر بنایا ہے۔ اور اچھی پیدائش میں پیدا کر کے پھر اسے مرد یا عورت بنایا۔ پھر اس کے لیے نسب کے رشتےدار بنا دئیے پھر کچھ مدت بعد سسرالی رشتے قائم کر دئیے۔ اتنے بڑے قادر اللہ کی قدرتیں تمہارے سامنے ہیں۔
54-1نسب سے مراد رشتے داریاں ہیں جو باپ یا ماں کی طرف سے ہوں اور صہرا سے مراد وہ قرابت مندی ہے جو شادی کے بعد بیوی کی طرف سے ہو، جس کو ہماری زبان میں سسرالی رشتے کہا جاتا ہے۔ ان دونوں رشتہ داریوں کی تفصیل آیت (وَلَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَاۗؤُكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۭاِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّمَقْتًا ۭوَسَاۗءَ سَبِيْلًا 22ۧ حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّھٰتُكُمْ وَبَنٰتُكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ وَعَمّٰتُكُمْ وَخٰلٰتُكُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ وَاُمَّھٰتُكُمُ الّٰتِيْٓ اَرْضَعْنَكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَاُمَّھٰتُ نِسَاۗىِٕكُمْ وَرَبَاۗىِٕبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَاۗىِٕكُمُ الّٰتِيْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ ۡ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ ۡ وَحَلَاۗىِٕلُ اَبْنَاۗىِٕكُمُ الَّذِيْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ ۙ وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِـيْمًا 23ۙ) 4۔ النساء:23-22) میں بیان کردی گئی ہے اور رضائی رشتے داریاں حدیث کی رو سے نسبی رشتوں میں شامل ہے۔ جیسا کہ فرمایا یحرم من الرضاع ما یحرم من النسب۔ البخاری ومسلم۔
(آیت 54) ➊ {وَ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا …: } یہ توحید کے دلائل کی پانچویں قسم ہے۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی قدرت کاملہ اور آدمی پر انعام تینوں کا ذکر ہے۔ {” بَشَرًا “} کا لفظ {”اَلْبَشَرَةُ“} (کھال، ظاہری جلد) سے ہے، دوسرے تمام جانوروں کا جسم بالوں سے یا پروں وغیرہ سے چھپا ہوتا ہے، جبکہ انسان کی جلد اس سے صاف ہوتی ہے، اس لیے اسے ”بشر“ کہا جاتا ہے۔ پچھلی آیت میں خالق و مالک اور تنہا معبود ہونے کی دلیل کے طور پر دو پانیوں کو ملنے سے روکنے کی قدرت کا ذکر تھا اور اس آیت میں انھیں ملانے کا ذکر ہے، فرمایا: «{ اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ }» [ الدھر: ۲ ] ”بلاشبہ ہم نے انسان کو ایک ملے جلے قطرے سے پیدا کیا۔“ تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ کائنات میں سب کچھ خود بخود ہر چیز کی طبیعت کے تقاضے سے ہو رہا ہے۔ نہیں! یہ اس زبردست مالک و مختار کا کام ہے، چاہتا ہے تو سمندروں کو ملنے سے روک دیتا ہے، چاہتا ہے تو قطرے کو باہم ملا دیتا ہے اور پانی پر صورت گری اور نقش آفرینی فرما دیتا ہے۔ ➋ { فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا:} یعنی یہی کرشمہ بجائے خود کیا کم تھا کہ وہ ایک حقیر قطرے سے انسان جیسی حیرت انگیز مخلوق بنا دیتا ہے، اس پر مزید یہ کہ اس نے انسان کا ایک نمونہ ہی نہیں، دو الگ الگ نمونے (عورت اور مرد) بنا دیے، فرمایا: «{ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰى }» [ القیامۃ: ۳۹ ] ”پھر اس نے اس سے دو قسمیں نر اور مادہ بنائیں۔“ پھر وہ مذکر ہو یا مؤنث، ان سب کی نسبت باپ دادا کی طرف ہوتی ہے، فلاں بن فلاں اور فلانہ بنت فلاں۔ جب مرد اور عورت کی آپس میں شادی ہوتی ہے تو ان کے بہت سے سسرالی رشتے دار بن جاتے ہیں، خاندانی قبیلوں اور قوموں کا یہ سارا پھیلاؤ ایک قطرۂ منی سے وجود میں آتا ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء کی پہلی آیت اور سورۂ حجرات (۱۳)۔ ➌ { وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِيْرًا:} یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کرشمے ہیں، کیونکہ تیرا رب ہمیشہ سے بے حد قدرت والا ہے۔ہمیشگی کا مفہوم {” كَانَ “} سے ظاہر ہو رہا ہے۔
اس خدا کو چھوڑ کر لوگ اُن کو پوج رہے ہیں جو نہ ان کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، اور اوپر سے مزید یہ کہ کافر اپنے رب کے مقابلے میں ہر باغی کا مدد گار بنا ہوا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہیں جو نہ تو انہیں کوئی نفع دے سکیں نہ کوئی نقصان پہنچاسکیں، اور کافر تو ہے ہی اپنے رب کے خلاف (شیطان کی) مدد کرنے واﻻ
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جو ان کا بھلا برا کچھ نہ کریں اور کافر اپنے رب کے مقابل شیطان کو مدد دیتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ اللہ کے سوا اس چیز کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انھیں نفع دیتی ہے اور نہ انھیں نقصان پہنچاتی ہے اور کافر ہمیشہ اپنے رب کے خلاف مدد کرنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آبائی گمراہی ٭٭
مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں، بلادلیل و حجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک، نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں کی دیکھا دیکھی، نفسانی خواہشات سے ان کی محبت و عظمت اپنے دل میں جمائے ہوئے ہیں اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی اور مخالفت رکھتے ہیں۔ شیطانی لشکر میں شامل ہو گئے ہیں اور رحمانی لشکر کے مخالف ہو گئے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ انجام کار غلبہ اللہ والوں کو ہی ہو گا۔ یہ خواہ مخواہ ان کی طرف سے سینہ سپر ہو رہے ہیں۔ انجام کار مومنوں کے ہی ہاتھ رہے گا۔ دنیا و آخرت میں ان کا پروردگار ان کی امداد کرے گا۔ ان کفار کو تو شیطان صرف اللہ کی مخالفت پر ابھار دیتا ہے اور کچھ نہیں۔ سچے اللہ کی عداوت ان کے دل میں ڈال دیتا ہے، شرک کی محبت بٹھا دیتا ہے۔ یہ اللہ کے احکام سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں مومنوں کو خوشخبری سنانے والا اور کفار کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اطاعت گزاروں کو جنت کی بشارت دیجئے اور نافرمانوں کو جہنم کے عذابوں سے مطلع فرما دیجئے۔ لوگوں میں عام طور پر اعلان کر دیجئے کہ میں اپنی تبلیغ کا بدلہ، اپنے وعظ کا معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ارادہ سوائے اللہ کی رضا مندی کی تلاش کے اور کچھ نہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم میں سے جو راہ راست پر آنا چاہے، اس کے سامنے صحیح راستہ نمایاں کر دوں۔ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے کاموں میں اس اللہ پر بھروسہ رکھئے جو ہمیشہ اور دوام والا ہے، جو موت و فوت سے پاک ہے، جو اول و آخر، ظاہر و باطن اور ہر چیز کا عالم ہے، جو دائم، باقی، سرمدی، ابدی، حی و قیوم ہے، جو ہر چیز کا مالک ہے اور رب ہے، اس کو اپنا ماویٰ و ملجا ٹھہرا لے۔ اسی کی ذات ایسی ہے کہ اس پر توکل کیا جائے۔ ہر گھبراہٹ میں اسی کی طرف جھکا جائے۔ وہ کافی ہے، وہی ناصر ہے، وہی موید و مظفر ہے۔ جیسے فرمان ہے «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» ۱؎ [5-المائدة:67] الخ، ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتارا گیا ہے، اسے پہنچا دیجئے۔ اگر آپ نے یہ نہ کیا تو آپ نے حق رسالت ادا نہیں کیا۔ آپ بےفکر رہیے، اللہ آپ کو لوگوں کے برے ارادوں سے بچالے گا۔ ‘ ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { مدینے کی کسی گلی میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنے لگے تو آپ نے فرمایا: اے سلمان! مجھے سجدہ نہ کر۔ سجدے کے لائق وہ ہے جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے، جس پر کبھی موت نہیں۔ (ابن ابی حاتم) اور اس کی تسبیح و حمد بیان کرتا رہ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعمیل میں فرمایا کرتے تھے: «سُبْحَانَکَ الّٰلہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ» } ۱؎ [صحیح بخاری:794] مراد اس سے یہ کہ عبادت اللہ ہی کی کر، توکل صرف اسی کی ذات پر کر۔ جیسے فرمان ہے: ’ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کارساز سمجھ۔ ‘ ۱؎ [73-المزمل:9] اور جگہ ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [11-هود:123] ’ اسی کی عبادت کر، اسی پر بھروسہ رکھ۔ ‘ اور آیت میں ہے: اعلان کر دے کہ اسی رحمن کے ہم بندے ہیں اور اسی پر ہمارا کامل بھروسہ ہے۔ اس پر بندوں کے سب اعمال ظاہر ہیں۔ کوئی ایک ذرہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں، کوئی پراسرار بات بھی اس سے مخفی نہیں۔
وہی تمام چیزوں کا خالق ہے، مالک و قابض ہے، وہی ہر جاندار کا روزی رساں ہے، اس نے اپنی قدرت و عظمت سے آسمان و زمین جیسی زبردست مخلوق کو صرف چھ دن میں پیدا کر دیا ہے۔ پھر عرش پر قرار پکڑا، کاموں کی تدبیروں کا انجام اسی کی طرف سے اور اسی کے حکم اور تدبیر کا مرہون ہے۔ اس کا فیصلہ اعلی اور اچھا ہی ہوتا ہے۔ جو ذات الٰہ کا عالم ہو اور صفات الٰہ سے آگاہ ہو، اس سے اس کی شان دریافت کر لے۔ یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی پوری خبر رکھنے والے، اس کی ذات سے پورے واقف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ جو دنیا اور آخرت میں تمام اولاد آدم کے علی الاطلاق سردار تھے۔ جو ایک بات بھی اپنی طرف سے نہیں کہتے تھے بلکہ جو فرماتے تھے، وہ فرمودہ الٰہ ہی ہوتا تھا۔ آپ نے جو جو صفتیں اللہ کی بیان کیں، سب برحق ہیں، آپ نے جو خبریں دیں، سب سچ ہیں۔ سچے امام آپ ہی ہیں، تمام جھگڑوں کا فیصلہ آپ ہی کے حکم سے کیا جا سکتا ہے۔ جو آپ کی بات بتلائے، وہ سچا۔ جو آپ کے خلاف کہے، وہ مردود خواہ کوئی بھی ہو۔ اللہ کا فرمان واجب الاذعان کھلے طور سے صادر ہو چکا ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» ۱؎ [4-النساء:59] ’ تم اگر کسی چیز میں جھگڑو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ۔ ‘ اور فرمان ہے «وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ» ۱؎ [42-الشورى:10] ’ تم جس چیز میں بھی اختلاف کرو، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے۔ ‘ اور فرمان ہے «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» ۱؎ [6-الأنعام:115] ’ تیرے رب کی باتیں جو خبروں میں سچی اور حکم و ممانعت میں عدل کی ہیں، پوری ہوچکیں۔ ‘ یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے۔ مشرکین اللہ کے سوا اوروں کو سجدے کرتے تھے۔ ان سے جب رحمان کو سجدہ کرنے کو کہا جاتا تھا تو کہتے تھے کہ ہم رحمان کو نہیں جانتے۔ وہ اس سے منکر تھے کہ اللہ کا نام رحمان ہے۔ جیسے { حدیبیہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح نامہ کے کاتب سے فرمایا: «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھ۔ تو مشرکین نے کہا: نہ ہم رحمان کو جانیں، نہ رحیم کو۔ ہمارے رواج کے مطابق «بِاسْمِکَ الّٰلہُمَّ» لکھ۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2731-2732] اس کے جواب میں یہ آیت اتری «قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰى وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:110] ’ کہہ دے کہ اللہ کو پکارو یا رحمان کو، جس نام سے چاہو پکارو۔ اس کے بہت سے بہترین نام ہیں۔ ‘ وہی اللہ ہے، وہی رحمن ہے۔ پس مشرکین کہتے تھے کہ کیا صرف تیرے کہنے سے ہم ایسا مان لیں؟ الغرض وہ اور نفرت میں بڑھ گئے۔ برخلاف مومنوں کے کہ وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، جو رحمان و رحیم ہے۔ اسی کو عبادت کے لائق سمجھتے ہیں اور اسی کے لیے سجدے کرتے ہیں۔ علماء رحمۃ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ سورۃ الفرقان کی اس آیت کے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ مشروع ہے، جیسے کہ اس کی تفصیل موجود ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 55) ➊ {وَ يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنْفَعُهُمْ وَ لَا يَضُرُّهُمْ …:} انسان کو کسی کی عبادت اور خود سپردگی پر آمادہ کرنے والی چیز اس سے فائدے کی امید ہوتی ہے یا نقصان کا خوف۔ اللہ تعالیٰ نے انسان پر اپنے انعامات اور عاد و ثمود اور دوسری قوموں کو دی جانے والی سزائیں شمار کرنے کے بعد کفار کی بے عقلی بیان فرمائی کہ وہ اس محسن کو چھوڑ کر جس نے انھیں پانی کی ایک بوند سے پیدا فرما کر ضرورت کی ہر چیز اور ہر نعمت عطا فرمائی ہے، ان بے حقیقت چیزوں کی پوجا کر رہے ہیں جو نہ انھیں کوئی فائدہ پہنچاتی ہیں اور نہ نقصان۔ {” يَعْبُدُوْنَ “} مضارع کا صیغہ (جو استمرار کے لیے ہے) ان کے حال پر تعجب کے لیے ذکر فرمایا کہ یہ نہیں کہ انھوں نے ایک آدھ دفعہ یہ کمینگی کی ہو، بلکہ کرتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے سوا تمام ہستیوں کے نفع و نقصان کے مالک ہونے کی اور عبادت کا حق دار ہونے کی نفی بار بار فرمائی ہے۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۷۶)، اعراف (۱۸۸)، یونس (۱۸، ۴۹)، رعد (۱۶)، فرقان (۳)، یٰس (۷۵)، فتح (۱۱) اور سورۂ جن (۲۱)۔ ➋ { وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِيْرًا: ” الْكَافِرُ “} میں الف لام جنس کا ہے یا استغراق کا، اور {” كَانَ “} استمرار اور ہمیشگی کے لیے ہے، یعنی ہر کافر کی عادت ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اس کے دشمنوں کی مدد کرتا ہے، خواہ وہ شیاطین الجن ہوں یا شیاطین الانس۔ اس کی دلی، زبانی، مالی اور جانی ساری توانائیاں اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت اور کفر اور کافروں کی حمایت کے لیے وقف ہوتی ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِيَآءَ الشَّيْطٰنِ اِنَّ كَيْدَ الشَّيْطٰنِ كَانَ ضَعِيْفًا }» [ النساء: ۷۶ ] ”وہ لوگ جو ایمان لائے وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ باطل معبود کے راستے میں لڑتے ہیں۔ پس تم شیطان کے دوستوں سے لڑو، بے شک شیطان کی چال ہمیشہ نہایت کمزور رہی ہے۔“ {” عَلٰى رَبِّهٖ “} میں کافر کی نمک حرامی نمایاں فرمائی ہے کہ اسے سوچنا چاہیے کہ وہ کس کے خلاف مورچہ باندھے ہوئے ہے، کیا اپنے پرورش کرنے والے ہی کے خلاف؟
اے محمدؐ، تم کو تو ہم نے بس ایک مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے تو آپ کو خوشخبری اور ڈر سنانے واﻻ (نبی) بنا کر بھیجا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر خوشی اور ڈر سناتا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور آپ کہہ دیجئے! کہ میں اس (کار رسالت) پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ جو چاہے اپنے پروردگار کا راستہ اختیار کرے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آبائی گمراہی ٭٭
مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں، بلادلیل و حجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک، نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں کی دیکھا دیکھی، نفسانی خواہشات سے ان کی محبت و عظمت اپنے دل میں جمائے ہوئے ہیں اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی اور مخالفت رکھتے ہیں۔ شیطانی لشکر میں شامل ہو گئے ہیں اور رحمانی لشکر کے مخالف ہو گئے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ انجام کار غلبہ اللہ والوں کو ہی ہو گا۔ یہ خواہ مخواہ ان کی طرف سے سینہ سپر ہو رہے ہیں۔ انجام کار مومنوں کے ہی ہاتھ رہے گا۔ دنیا و آخرت میں ان کا پروردگار ان کی امداد کرے گا۔ ان کفار کو تو شیطان صرف اللہ کی مخالفت پر ابھار دیتا ہے اور کچھ نہیں۔ سچے اللہ کی عداوت ان کے دل میں ڈال دیتا ہے، شرک کی محبت بٹھا دیتا ہے۔ یہ اللہ کے احکام سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں مومنوں کو خوشخبری سنانے والا اور کفار کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اطاعت گزاروں کو جنت کی بشارت دیجئے اور نافرمانوں کو جہنم کے عذابوں سے مطلع فرما دیجئے۔ لوگوں میں عام طور پر اعلان کر دیجئے کہ میں اپنی تبلیغ کا بدلہ، اپنے وعظ کا معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ارادہ سوائے اللہ کی رضا مندی کی تلاش کے اور کچھ نہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم میں سے جو راہ راست پر آنا چاہے، اس کے سامنے صحیح راستہ نمایاں کر دوں۔ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے کاموں میں اس اللہ پر بھروسہ رکھئے جو ہمیشہ اور دوام والا ہے، جو موت و فوت سے پاک ہے، جو اول و آخر، ظاہر و باطن اور ہر چیز کا عالم ہے، جو دائم، باقی، سرمدی، ابدی، حی و قیوم ہے، جو ہر چیز کا مالک ہے اور رب ہے، اس کو اپنا ماویٰ و ملجا ٹھہرا لے۔ اسی کی ذات ایسی ہے کہ اس پر توکل کیا جائے۔ ہر گھبراہٹ میں اسی کی طرف جھکا جائے۔ وہ کافی ہے، وہی ناصر ہے، وہی موید و مظفر ہے۔ جیسے فرمان ہے «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» ۱؎ [5-المائدة:67] الخ، ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتارا گیا ہے، اسے پہنچا دیجئے۔ اگر آپ نے یہ نہ کیا تو آپ نے حق رسالت ادا نہیں کیا۔ آپ بےفکر رہیے، اللہ آپ کو لوگوں کے برے ارادوں سے بچالے گا۔ ‘ ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { مدینے کی کسی گلی میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنے لگے تو آپ نے فرمایا: اے سلمان! مجھے سجدہ نہ کر۔ سجدے کے لائق وہ ہے جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے، جس پر کبھی موت نہیں۔ (ابن ابی حاتم) اور اس کی تسبیح و حمد بیان کرتا رہ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعمیل میں فرمایا کرتے تھے: «سُبْحَانَکَ الّٰلہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ» } ۱؎ [صحیح بخاری:794] مراد اس سے یہ کہ عبادت اللہ ہی کی کر، توکل صرف اسی کی ذات پر کر۔ جیسے فرمان ہے: ’ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کارساز سمجھ۔ ‘ ۱؎ [73-المزمل:9] اور جگہ ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [11-هود:123] ’ اسی کی عبادت کر، اسی پر بھروسہ رکھ۔ ‘ اور آیت میں ہے: اعلان کر دے کہ اسی رحمن کے ہم بندے ہیں اور اسی پر ہمارا کامل بھروسہ ہے۔ اس پر بندوں کے سب اعمال ظاہر ہیں۔ کوئی ایک ذرہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں، کوئی پراسرار بات بھی اس سے مخفی نہیں۔
وہی تمام چیزوں کا خالق ہے، مالک و قابض ہے، وہی ہر جاندار کا روزی رساں ہے، اس نے اپنی قدرت و عظمت سے آسمان و زمین جیسی زبردست مخلوق کو صرف چھ دن میں پیدا کر دیا ہے۔ پھر عرش پر قرار پکڑا، کاموں کی تدبیروں کا انجام اسی کی طرف سے اور اسی کے حکم اور تدبیر کا مرہون ہے۔ اس کا فیصلہ اعلی اور اچھا ہی ہوتا ہے۔ جو ذات الٰہ کا عالم ہو اور صفات الٰہ سے آگاہ ہو، اس سے اس کی شان دریافت کر لے۔ یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی پوری خبر رکھنے والے، اس کی ذات سے پورے واقف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ جو دنیا اور آخرت میں تمام اولاد آدم کے علی الاطلاق سردار تھے۔ جو ایک بات بھی اپنی طرف سے نہیں کہتے تھے بلکہ جو فرماتے تھے، وہ فرمودہ الٰہ ہی ہوتا تھا۔ آپ نے جو جو صفتیں اللہ کی بیان کیں، سب برحق ہیں، آپ نے جو خبریں دیں، سب سچ ہیں۔ سچے امام آپ ہی ہیں، تمام جھگڑوں کا فیصلہ آپ ہی کے حکم سے کیا جا سکتا ہے۔ جو آپ کی بات بتلائے، وہ سچا۔ جو آپ کے خلاف کہے، وہ مردود خواہ کوئی بھی ہو۔ اللہ کا فرمان واجب الاذعان کھلے طور سے صادر ہو چکا ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» ۱؎ [4-النساء:59] ’ تم اگر کسی چیز میں جھگڑو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ۔ ‘ اور فرمان ہے «وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ» ۱؎ [42-الشورى:10] ’ تم جس چیز میں بھی اختلاف کرو، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے۔ ‘ اور فرمان ہے «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» ۱؎ [6-الأنعام:115] ’ تیرے رب کی باتیں جو خبروں میں سچی اور حکم و ممانعت میں عدل کی ہیں، پوری ہوچکیں۔ ‘ یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے۔ مشرکین اللہ کے سوا اوروں کو سجدے کرتے تھے۔ ان سے جب رحمان کو سجدہ کرنے کو کہا جاتا تھا تو کہتے تھے کہ ہم رحمان کو نہیں جانتے۔ وہ اس سے منکر تھے کہ اللہ کا نام رحمان ہے۔ جیسے { حدیبیہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح نامہ کے کاتب سے فرمایا: «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھ۔ تو مشرکین نے کہا: نہ ہم رحمان کو جانیں، نہ رحیم کو۔ ہمارے رواج کے مطابق «بِاسْمِکَ الّٰلہُمَّ» لکھ۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2731-2732] اس کے جواب میں یہ آیت اتری «قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰى وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:110] ’ کہہ دے کہ اللہ کو پکارو یا رحمان کو، جس نام سے چاہو پکارو۔ اس کے بہت سے بہترین نام ہیں۔ ‘ وہی اللہ ہے، وہی رحمن ہے۔ پس مشرکین کہتے تھے کہ کیا صرف تیرے کہنے سے ہم ایسا مان لیں؟ الغرض وہ اور نفرت میں بڑھ گئے۔ برخلاف مومنوں کے کہ وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، جو رحمان و رحیم ہے۔ اسی کو عبادت کے لائق سمجھتے ہیں اور اسی کے لیے سجدے کرتے ہیں۔ علماء رحمۃ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ سورۃ الفرقان کی اس آیت کے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ مشروع ہے، جیسے کہ اس کی تفصیل موجود ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 56) { وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًا:} اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے اور کفار کے لیے تنبیہ، یعنی اگر کافر ایمان نہیں لاتے اور اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کی دشمنی اور مخالفت سے باز نہیں آتے تو اس کی ذمہ داری آپ پر نہیں، آپ کا کام حق قبول کرنے والوں کو بشارت دینا اور اسے ٹھکرانے والے کو ڈرانا ہے اور بس۔ کفار کو سمجھایا جا رہا ہے کہ جس رسول کی دشمنی پر تم کمر باندھے ہوئے ہو وہ تو سر سے پاؤں تک تمھارا خیر خواہ ہے، وہ تمھیں ایمان قبول کرنے پر جنت کی خوش خبری دینے والا اور ایمان سے انکار کرنے پر اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا ہے، ایسے خیر خواہ سے دشمنی رکھنا تمھیں زیب دیتا بھی ہے؟
اِن سے کہہ دو کہ "میں اس کام پر تم سے کوئی اُجرت نہیں مانگتا، میری اُجرت بس یہی ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کا راستہ اختیار کر لے"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے کہ میں قرآن کے پہنچانے پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر جو شخص اپنے رب کی طرف راه پکڑنا چاہے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر جو چاہے کہ اپنے رب کی طرف راہ لے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) آپ اس زندہ (خدا) پر بھروسہ کیجئے جس کے لئے موت نہیں ہے۔ اور اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجئے اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے کیلئے خود کافی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے میں تم سے اس پر کسی مزدوری کا سوال نہیں کرتا مگر جو چاہے کہ اپنے رب کی طرف کوئی راستہ اختیار کرے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آبائی گمراہی ٭٭
مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں، بلادلیل و حجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک، نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں کی دیکھا دیکھی، نفسانی خواہشات سے ان کی محبت و عظمت اپنے دل میں جمائے ہوئے ہیں اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی اور مخالفت رکھتے ہیں۔ شیطانی لشکر میں شامل ہو گئے ہیں اور رحمانی لشکر کے مخالف ہو گئے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ انجام کار غلبہ اللہ والوں کو ہی ہو گا۔ یہ خواہ مخواہ ان کی طرف سے سینہ سپر ہو رہے ہیں۔ انجام کار مومنوں کے ہی ہاتھ رہے گا۔ دنیا و آخرت میں ان کا پروردگار ان کی امداد کرے گا۔ ان کفار کو تو شیطان صرف اللہ کی مخالفت پر ابھار دیتا ہے اور کچھ نہیں۔ سچے اللہ کی عداوت ان کے دل میں ڈال دیتا ہے، شرک کی محبت بٹھا دیتا ہے۔ یہ اللہ کے احکام سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں مومنوں کو خوشخبری سنانے والا اور کفار کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اطاعت گزاروں کو جنت کی بشارت دیجئے اور نافرمانوں کو جہنم کے عذابوں سے مطلع فرما دیجئے۔ لوگوں میں عام طور پر اعلان کر دیجئے کہ میں اپنی تبلیغ کا بدلہ، اپنے وعظ کا معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ارادہ سوائے اللہ کی رضا مندی کی تلاش کے اور کچھ نہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم میں سے جو راہ راست پر آنا چاہے، اس کے سامنے صحیح راستہ نمایاں کر دوں۔ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے کاموں میں اس اللہ پر بھروسہ رکھئے جو ہمیشہ اور دوام والا ہے، جو موت و فوت سے پاک ہے، جو اول و آخر، ظاہر و باطن اور ہر چیز کا عالم ہے، جو دائم، باقی، سرمدی، ابدی، حی و قیوم ہے، جو ہر چیز کا مالک ہے اور رب ہے، اس کو اپنا ماویٰ و ملجا ٹھہرا لے۔ اسی کی ذات ایسی ہے کہ اس پر توکل کیا جائے۔ ہر گھبراہٹ میں اسی کی طرف جھکا جائے۔ وہ کافی ہے، وہی ناصر ہے، وہی موید و مظفر ہے۔ جیسے فرمان ہے «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» ۱؎ [5-المائدة:67] الخ، ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتارا گیا ہے، اسے پہنچا دیجئے۔ اگر آپ نے یہ نہ کیا تو آپ نے حق رسالت ادا نہیں کیا۔ آپ بےفکر رہیے، اللہ آپ کو لوگوں کے برے ارادوں سے بچالے گا۔ ‘ ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { مدینے کی کسی گلی میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنے لگے تو آپ نے فرمایا: اے سلمان! مجھے سجدہ نہ کر۔ سجدے کے لائق وہ ہے جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے، جس پر کبھی موت نہیں۔ (ابن ابی حاتم) اور اس کی تسبیح و حمد بیان کرتا رہ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعمیل میں فرمایا کرتے تھے: «سُبْحَانَکَ الّٰلہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ» } ۱؎ [صحیح بخاری:794] مراد اس سے یہ کہ عبادت اللہ ہی کی کر، توکل صرف اسی کی ذات پر کر۔ جیسے فرمان ہے: ’ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کارساز سمجھ۔ ‘ ۱؎ [73-المزمل:9] اور جگہ ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [11-هود:123] ’ اسی کی عبادت کر، اسی پر بھروسہ رکھ۔ ‘ اور آیت میں ہے: اعلان کر دے کہ اسی رحمن کے ہم بندے ہیں اور اسی پر ہمارا کامل بھروسہ ہے۔ اس پر بندوں کے سب اعمال ظاہر ہیں۔ کوئی ایک ذرہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں، کوئی پراسرار بات بھی اس سے مخفی نہیں۔
وہی تمام چیزوں کا خالق ہے، مالک و قابض ہے، وہی ہر جاندار کا روزی رساں ہے، اس نے اپنی قدرت و عظمت سے آسمان و زمین جیسی زبردست مخلوق کو صرف چھ دن میں پیدا کر دیا ہے۔ پھر عرش پر قرار پکڑا، کاموں کی تدبیروں کا انجام اسی کی طرف سے اور اسی کے حکم اور تدبیر کا مرہون ہے۔ اس کا فیصلہ اعلی اور اچھا ہی ہوتا ہے۔ جو ذات الٰہ کا عالم ہو اور صفات الٰہ سے آگاہ ہو، اس سے اس کی شان دریافت کر لے۔ یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی پوری خبر رکھنے والے، اس کی ذات سے پورے واقف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ جو دنیا اور آخرت میں تمام اولاد آدم کے علی الاطلاق سردار تھے۔ جو ایک بات بھی اپنی طرف سے نہیں کہتے تھے بلکہ جو فرماتے تھے، وہ فرمودہ الٰہ ہی ہوتا تھا۔ آپ نے جو جو صفتیں اللہ کی بیان کیں، سب برحق ہیں، آپ نے جو خبریں دیں، سب سچ ہیں۔ سچے امام آپ ہی ہیں، تمام جھگڑوں کا فیصلہ آپ ہی کے حکم سے کیا جا سکتا ہے۔ جو آپ کی بات بتلائے، وہ سچا۔ جو آپ کے خلاف کہے، وہ مردود خواہ کوئی بھی ہو۔ اللہ کا فرمان واجب الاذعان کھلے طور سے صادر ہو چکا ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» ۱؎ [4-النساء:59] ’ تم اگر کسی چیز میں جھگڑو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ۔ ‘ اور فرمان ہے «وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ» ۱؎ [42-الشورى:10] ’ تم جس چیز میں بھی اختلاف کرو، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے۔ ‘ اور فرمان ہے «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» ۱؎ [6-الأنعام:115] ’ تیرے رب کی باتیں جو خبروں میں سچی اور حکم و ممانعت میں عدل کی ہیں، پوری ہوچکیں۔ ‘ یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے۔ مشرکین اللہ کے سوا اوروں کو سجدے کرتے تھے۔ ان سے جب رحمان کو سجدہ کرنے کو کہا جاتا تھا تو کہتے تھے کہ ہم رحمان کو نہیں جانتے۔ وہ اس سے منکر تھے کہ اللہ کا نام رحمان ہے۔ جیسے { حدیبیہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح نامہ کے کاتب سے فرمایا: «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھ۔ تو مشرکین نے کہا: نہ ہم رحمان کو جانیں، نہ رحیم کو۔ ہمارے رواج کے مطابق «بِاسْمِکَ الّٰلہُمَّ» لکھ۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2731-2732] اس کے جواب میں یہ آیت اتری «قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰى وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:110] ’ کہہ دے کہ اللہ کو پکارو یا رحمان کو، جس نام سے چاہو پکارو۔ اس کے بہت سے بہترین نام ہیں۔ ‘ وہی اللہ ہے، وہی رحمن ہے۔ پس مشرکین کہتے تھے کہ کیا صرف تیرے کہنے سے ہم ایسا مان لیں؟ الغرض وہ اور نفرت میں بڑھ گئے۔ برخلاف مومنوں کے کہ وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، جو رحمان و رحیم ہے۔ اسی کو عبادت کے لائق سمجھتے ہیں اور اسی کے لیے سجدے کرتے ہیں۔ علماء رحمۃ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ سورۃ الفرقان کی اس آیت کے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ مشروع ہے، جیسے کہ اس کی تفصیل موجود ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
57-1یعنی یہی میرا اجر ہے کہ رب کا راستہ اختیار کرلو۔
(آیت 57) ➊ { قُلْ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ:} قرآن مجید میں یہ جملہ کئی جگہ آیا ہے، یہاں مطلب یہ ہے کہ کفار جو آپ کی عداوت پر تلے ہوئے ہیں ان سے کہہ دیجیے کہ میں اپنے رب کی طرف سے تمھارے پاس جو پیغام لے کر آیا ہوں، اسے پہنچانے میں تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا کہ تم اپنے اموال بچانے کی خاطر مجھ پر ایمان لانے سے گریز کرو۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَى الَّذِيْ }» [ ھود: ۵۱ ] ”میری مزدوری اللہ کے سوا کسی پر نہیں۔“ اس سے بڑی نادانی کیا ہو گی کہ جو شخص تمھاری دین و دنیا کی بہتری کے لیے اپنی ساری توانائیاں صرف کر رہا ہے اور اس پر تم سے کسی مزدوری کا مطالبہ بھی نہیں کرتا، تم اسی کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہو۔ ➋ { اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ يَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا:} مفسرین نے اس جملے کی دو تفسیریں فرمائی ہیں اور دونوں درست ہیں۔ ایک یہ کہ میں اس دعوت پر تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا، لیکن تم میں سے جو شخص چاہے کہ جہاد اور دوسرے خیر کے کاموں میں خرچ کرکے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرے اور اسے اس کی رحمت اور ثواب کے حصول کا ذریعہ بنائے تو وہ ایسا کرے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ يُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ يَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ سَيُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِيْ رَحْمَتِهٖ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ }» [ التوبۃ: ۹۹ ] ”اور بدویوں میں سے کچھ وہ ہیں جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے ہاں قربتوں اور رسول کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ سن لو! بے شک وہ ان کے لیے قرب کا ذریعہ ہے، عنقریب اللہ انھیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔“ اس صورت میں {” اِلَّا “} بمعنی {”لٰكِنْ“} ہے اور استثنا منقطع ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ میں تم سے اس دعوت پر اس شخص کے سوا کوئی مزدوری نہیں مانگتا جو اپنے رب کے قرب کا راستہ اختیار کرنا چاہے۔ میری مزدوری بس ایسے لوگوں کا حصول ہے، اس کے سوا اللہ تم سے کسی مال یا جاہ یا کسی بھی مزدوری کا مطالبہ نہیں کرتا۔ ہاں، ایسے لوگوں کا حصول میرے لیے بہت بڑی مزدوری اور اجرت ہے، کیونکہ ایک شخص بھی ایمان لے آئے تو وہ میرے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے، پھر میری دعوت پر ایمان لانے والے جو بھی صالح عمل کریں گے سب کا اجر ان کے ساتھ ساتھ مجھے بھی ملے گا، میرے لیے یہی اجرت بہت ہے۔ اس صورت میں استثنا متصل ہے۔
اور اے محمدؐ، اُس خدا پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو اپنے بندوں کے گناہوں سے بس اُسی کا باخبر ہونا کافی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس ہمیشہ زنده رہنے والے اللہ تعالیٰ پر توکل کریں جسے کبھی موت نہیں اور اس کی تعریف کے ساتھ پاکیزگی بیان کرتے رہیں، وه اپنے بندوں کے گناہوں سے کافی خبردار ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بھروسہ کرو اس زندہ پر جو کبھی نہ مرے گا اور اسے سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور وہی کافی ہے اپنے بندوں کے گناہوں پر خبردار
علامہ محمد حسین نجفی
وہ خدا جس نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو چھ (۶) دن میں پیدا کیا۔ پھر عرش پر اقتدار قائم کیا۔ وہی (خدائے) رحمن ہے اس کے بارے میں کسی باخبر سے پوچھو۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس زندہ پر بھروسا کر جو نہیں مرے گا اور اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی پوری خبر رکھنے والا کافی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آبائی گمراہی ٭٭
مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں، بلادلیل و حجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک، نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں کی دیکھا دیکھی، نفسانی خواہشات سے ان کی محبت و عظمت اپنے دل میں جمائے ہوئے ہیں اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی اور مخالفت رکھتے ہیں۔ شیطانی لشکر میں شامل ہو گئے ہیں اور رحمانی لشکر کے مخالف ہو گئے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ انجام کار غلبہ اللہ والوں کو ہی ہو گا۔ یہ خواہ مخواہ ان کی طرف سے سینہ سپر ہو رہے ہیں۔ انجام کار مومنوں کے ہی ہاتھ رہے گا۔ دنیا و آخرت میں ان کا پروردگار ان کی امداد کرے گا۔ ان کفار کو تو شیطان صرف اللہ کی مخالفت پر ابھار دیتا ہے اور کچھ نہیں۔ سچے اللہ کی عداوت ان کے دل میں ڈال دیتا ہے، شرک کی محبت بٹھا دیتا ہے۔ یہ اللہ کے احکام سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں مومنوں کو خوشخبری سنانے والا اور کفار کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اطاعت گزاروں کو جنت کی بشارت دیجئے اور نافرمانوں کو جہنم کے عذابوں سے مطلع فرما دیجئے۔ لوگوں میں عام طور پر اعلان کر دیجئے کہ میں اپنی تبلیغ کا بدلہ، اپنے وعظ کا معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ارادہ سوائے اللہ کی رضا مندی کی تلاش کے اور کچھ نہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم میں سے جو راہ راست پر آنا چاہے، اس کے سامنے صحیح راستہ نمایاں کر دوں۔ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے کاموں میں اس اللہ پر بھروسہ رکھئے جو ہمیشہ اور دوام والا ہے، جو موت و فوت سے پاک ہے، جو اول و آخر، ظاہر و باطن اور ہر چیز کا عالم ہے، جو دائم، باقی، سرمدی، ابدی، حی و قیوم ہے، جو ہر چیز کا مالک ہے اور رب ہے، اس کو اپنا ماویٰ و ملجا ٹھہرا لے۔ اسی کی ذات ایسی ہے کہ اس پر توکل کیا جائے۔ ہر گھبراہٹ میں اسی کی طرف جھکا جائے۔ وہ کافی ہے، وہی ناصر ہے، وہی موید و مظفر ہے۔ جیسے فرمان ہے «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» ۱؎ [5-المائدة:67] الخ، ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتارا گیا ہے، اسے پہنچا دیجئے۔ اگر آپ نے یہ نہ کیا تو آپ نے حق رسالت ادا نہیں کیا۔ آپ بےفکر رہیے، اللہ آپ کو لوگوں کے برے ارادوں سے بچالے گا۔ ‘ ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { مدینے کی کسی گلی میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنے لگے تو آپ نے فرمایا: اے سلمان! مجھے سجدہ نہ کر۔ سجدے کے لائق وہ ہے جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے، جس پر کبھی موت نہیں۔ (ابن ابی حاتم) اور اس کی تسبیح و حمد بیان کرتا رہ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعمیل میں فرمایا کرتے تھے: «سُبْحَانَکَ الّٰلہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ» } ۱؎ [صحیح بخاری:794] مراد اس سے یہ کہ عبادت اللہ ہی کی کر، توکل صرف اسی کی ذات پر کر۔ جیسے فرمان ہے: ’ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کارساز سمجھ۔ ‘ ۱؎ [73-المزمل:9] اور جگہ ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [11-هود:123] ’ اسی کی عبادت کر، اسی پر بھروسہ رکھ۔ ‘ اور آیت میں ہے: اعلان کر دے کہ اسی رحمن کے ہم بندے ہیں اور اسی پر ہمارا کامل بھروسہ ہے۔ اس پر بندوں کے سب اعمال ظاہر ہیں۔ کوئی ایک ذرہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں، کوئی پراسرار بات بھی اس سے مخفی نہیں۔
وہی تمام چیزوں کا خالق ہے، مالک و قابض ہے، وہی ہر جاندار کا روزی رساں ہے، اس نے اپنی قدرت و عظمت سے آسمان و زمین جیسی زبردست مخلوق کو صرف چھ دن میں پیدا کر دیا ہے۔ پھر عرش پر قرار پکڑا، کاموں کی تدبیروں کا انجام اسی کی طرف سے اور اسی کے حکم اور تدبیر کا مرہون ہے۔ اس کا فیصلہ اعلی اور اچھا ہی ہوتا ہے۔ جو ذات الٰہ کا عالم ہو اور صفات الٰہ سے آگاہ ہو، اس سے اس کی شان دریافت کر لے۔ یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی پوری خبر رکھنے والے، اس کی ذات سے پورے واقف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ جو دنیا اور آخرت میں تمام اولاد آدم کے علی الاطلاق سردار تھے۔ جو ایک بات بھی اپنی طرف سے نہیں کہتے تھے بلکہ جو فرماتے تھے، وہ فرمودہ الٰہ ہی ہوتا تھا۔ آپ نے جو جو صفتیں اللہ کی بیان کیں، سب برحق ہیں، آپ نے جو خبریں دیں، سب سچ ہیں۔ سچے امام آپ ہی ہیں، تمام جھگڑوں کا فیصلہ آپ ہی کے حکم سے کیا جا سکتا ہے۔ جو آپ کی بات بتلائے، وہ سچا۔ جو آپ کے خلاف کہے، وہ مردود خواہ کوئی بھی ہو۔ اللہ کا فرمان واجب الاذعان کھلے طور سے صادر ہو چکا ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» ۱؎ [4-النساء:59] ’ تم اگر کسی چیز میں جھگڑو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ۔ ‘ اور فرمان ہے «وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ» ۱؎ [42-الشورى:10] ’ تم جس چیز میں بھی اختلاف کرو، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے۔ ‘ اور فرمان ہے «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» ۱؎ [6-الأنعام:115] ’ تیرے رب کی باتیں جو خبروں میں سچی اور حکم و ممانعت میں عدل کی ہیں، پوری ہوچکیں۔ ‘ یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے۔ مشرکین اللہ کے سوا اوروں کو سجدے کرتے تھے۔ ان سے جب رحمان کو سجدہ کرنے کو کہا جاتا تھا تو کہتے تھے کہ ہم رحمان کو نہیں جانتے۔ وہ اس سے منکر تھے کہ اللہ کا نام رحمان ہے۔ جیسے { حدیبیہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح نامہ کے کاتب سے فرمایا: «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھ۔ تو مشرکین نے کہا: نہ ہم رحمان کو جانیں، نہ رحیم کو۔ ہمارے رواج کے مطابق «بِاسْمِکَ الّٰلہُمَّ» لکھ۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2731-2732] اس کے جواب میں یہ آیت اتری «قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰى وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:110] ’ کہہ دے کہ اللہ کو پکارو یا رحمان کو، جس نام سے چاہو پکارو۔ اس کے بہت سے بہترین نام ہیں۔ ‘ وہی اللہ ہے، وہی رحمن ہے۔ پس مشرکین کہتے تھے کہ کیا صرف تیرے کہنے سے ہم ایسا مان لیں؟ الغرض وہ اور نفرت میں بڑھ گئے۔ برخلاف مومنوں کے کہ وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، جو رحمان و رحیم ہے۔ اسی کو عبادت کے لائق سمجھتے ہیں اور اسی کے لیے سجدے کرتے ہیں۔ علماء رحمۃ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ سورۃ الفرقان کی اس آیت کے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ مشروع ہے، جیسے کہ اس کی تفصیل موجود ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 58) ➊ { وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِيْ لَا يَمُوْتُ:} یہ بتانے کے بعد کہ تمام کفار آپ کی دشمنی میں یک جان اور ایک دوسرے کے مددگار ہیں، ان کی دشمنی اور ایذا سے بچنے کا طریقہ بتایا کہ آپ ان کی دشمنی پر صبر کریں، نہ کسی کا خوف رکھیں نہ کسی سے امید، اپنے ہر کام میں اس پر بھروسا رکھیں جو ہمیشہ زندہ ہے، کبھی نہیں مرے گا، وہی آپ کی ہر طرح سے حفاظت فرمائے گا، جیسا کہ فرمایا: «{ يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ }» [ المائدۃ: ۶۷ ] ”اے رسول! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اگر تو نے نہ کیا تو تُو نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا۔“ بعض اہلِ علم نے فرمایا، اس کے بعد کسی عاقل کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی بھی مخلوق پر بھروسا کرے، کیونکہ مخلوق کو مرنا ہے۔ یاد رہے، توکل کا معنی یہ نہیں کہ اسباب کو ترک کر دیا جائے، بلکہ توکل کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حسب استطاعت تمام اسباب اختیار کرنے کے بعد بھروسا صرف اللہ پر رکھا جائے۔ ➋ اس جملے میں اللہ تعالیٰ کی دو صفات {” الْحَيِّ “} اور {” الَّذِيْ لَا يَمُوْتُ “} کے ساتھ مشرکین پر چوٹ بھی ہے کہ وہ ان ہستیوں کی عبادت کرتے اور انھیں اپنا داتا و دستگیر مانتے ہیں جو نہ زندہ ہیں اور نہ موت سے محفوظ، جیسا کہ فرمایا: «وَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْـًٔا وَّ هُمْ يُخْلَقُوْنَ (20) اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَآءٍ وَ مَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ» [ النحل: ۲۰، ۲۱ ] ”اور وہ لوگ جنھیں وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرتے اور وہ خودپیدا کیے جاتے ہیں۔ مردے ہیں، زندہ نہیں ہیں اور وہ نہیں جانتے کب اٹھائے جائیں گے۔“ ➌ { وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ:} تسبیح سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہر ایسی چیز کی نفی ہے جو اس کی شان کے لائق نہ ہو، جس میں سب سے پہلی چیز اس کا کوئی شریک ہونا ہے اور حمد سے مراد اس کے لیے ہر خوبی ثابت کرنا ہے جو اس کی شان کے لائق ہے۔ یعنی اللہ پر توکل کے ساتھ اس کی تسبیح و تحمید آپ کو ہر دشمن سے محفوظ رکھے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جو بھی حکم دیا ہے وہ آپ کے ساتھ پوری امت کے لیے بھی ہے، جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ وہ آپ کے ساتھ خاص ہے۔ ➍ { وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِيْرًا:} اس میں دو عموم ہیں، تمام بندے اور ان کے تمام گناہ اور {” خَبِيْرَا “} میں مبالغے کی وجہ سے ”علم“ کا بھی عموم ہے اور {” كَفٰى “} کے فاعل کی تاکید ”باء“ کے ساتھ کرنے میں کفایت میں بھی عموم ہے، یعنی وہ اپنے تمام بندوں کے تمام گناہوں کی پوری پوری خبر رکھنے والا ہونے کے لحاظ سے ہر طرح کافی ہے، کیونکہ اس سے کوئی چیز مخفی نہیں۔ دیکھیے سورۂ انعام (۵۹) اور سورۂ سبا (۳)۔ ➎ اس جملے میں کفار کے لیے وعید اور دھمکی بھی ہے، جیسے کوئی بڑا اپنے ماتحت کو کہے کہ تم جو کچھ کر رہے ہو میں دیکھ رہا ہوں۔
وہ جس نے چھ دنوں میں زمین اور آسمان کو اور اُن ساری چیزوں کو بنا کر رکھ دیا جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں، پھر آپ ہی (کائنات کے تخت سلطنت) "عرش" پر جلوہ فرما ہوا رحمٰن، اس کی شان بس کسی جاننے والے سے پوچھو
مولانا محمد جوناگڑھی
وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین اوران کے درمیان کی سب چیزوں کو چھ دن میں پیدا کردیا ہے، پھر عرش پر مستوی ہوا، وه رحمٰن ہے، آپ اس کے بارے میں کسی خبردار سے پوچھ لیں
احمد رضا خان بریلوی
جس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استواء فرمایا جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے وہ بڑی مہر والا تو کسی جاننے والے سے اس کی تعریف پوچھ
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو۔ تو وہ کہتے ہیں کہ یہ رحمن کیا چیز ہے؟ کیا ہم اسے سجدہ کریں جس کے بارے میں تم ہمیں حکم دو؟ اور یہ چیز ان کی نفرت میں اور اضافہ کر دیتی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر عرش پر بلند ہوا، بے حد رحم والاہے، سو اس کے متعلق کسی پورے با خبر سے پوچھ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آبائی گمراہی ٭٭
مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں، بلادلیل و حجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک، نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں کی دیکھا دیکھی، نفسانی خواہشات سے ان کی محبت و عظمت اپنے دل میں جمائے ہوئے ہیں اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی اور مخالفت رکھتے ہیں۔ شیطانی لشکر میں شامل ہو گئے ہیں اور رحمانی لشکر کے مخالف ہو گئے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ انجام کار غلبہ اللہ والوں کو ہی ہو گا۔ یہ خواہ مخواہ ان کی طرف سے سینہ سپر ہو رہے ہیں۔ انجام کار مومنوں کے ہی ہاتھ رہے گا۔ دنیا و آخرت میں ان کا پروردگار ان کی امداد کرے گا۔ ان کفار کو تو شیطان صرف اللہ کی مخالفت پر ابھار دیتا ہے اور کچھ نہیں۔ سچے اللہ کی عداوت ان کے دل میں ڈال دیتا ہے، شرک کی محبت بٹھا دیتا ہے۔ یہ اللہ کے احکام سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں مومنوں کو خوشخبری سنانے والا اور کفار کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اطاعت گزاروں کو جنت کی بشارت دیجئے اور نافرمانوں کو جہنم کے عذابوں سے مطلع فرما دیجئے۔ لوگوں میں عام طور پر اعلان کر دیجئے کہ میں اپنی تبلیغ کا بدلہ، اپنے وعظ کا معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ارادہ سوائے اللہ کی رضا مندی کی تلاش کے اور کچھ نہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم میں سے جو راہ راست پر آنا چاہے، اس کے سامنے صحیح راستہ نمایاں کر دوں۔ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے کاموں میں اس اللہ پر بھروسہ رکھئے جو ہمیشہ اور دوام والا ہے، جو موت و فوت سے پاک ہے، جو اول و آخر، ظاہر و باطن اور ہر چیز کا عالم ہے، جو دائم، باقی، سرمدی، ابدی، حی و قیوم ہے، جو ہر چیز کا مالک ہے اور رب ہے، اس کو اپنا ماویٰ و ملجا ٹھہرا لے۔ اسی کی ذات ایسی ہے کہ اس پر توکل کیا جائے۔ ہر گھبراہٹ میں اسی کی طرف جھکا جائے۔ وہ کافی ہے، وہی ناصر ہے، وہی موید و مظفر ہے۔ جیسے فرمان ہے «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» ۱؎ [5-المائدة:67] الخ، ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتارا گیا ہے، اسے پہنچا دیجئے۔ اگر آپ نے یہ نہ کیا تو آپ نے حق رسالت ادا نہیں کیا۔ آپ بےفکر رہیے، اللہ آپ کو لوگوں کے برے ارادوں سے بچالے گا۔ ‘ ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { مدینے کی کسی گلی میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنے لگے تو آپ نے فرمایا: اے سلمان! مجھے سجدہ نہ کر۔ سجدے کے لائق وہ ہے جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے، جس پر کبھی موت نہیں۔ (ابن ابی حاتم) اور اس کی تسبیح و حمد بیان کرتا رہ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعمیل میں فرمایا کرتے تھے: «سُبْحَانَکَ الّٰلہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ» } ۱؎ [صحیح بخاری:794] مراد اس سے یہ کہ عبادت اللہ ہی کی کر، توکل صرف اسی کی ذات پر کر۔ جیسے فرمان ہے: ’ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کارساز سمجھ۔ ‘ ۱؎ [73-المزمل:9] اور جگہ ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [11-هود:123] ’ اسی کی عبادت کر، اسی پر بھروسہ رکھ۔ ‘ اور آیت میں ہے: اعلان کر دے کہ اسی رحمن کے ہم بندے ہیں اور اسی پر ہمارا کامل بھروسہ ہے۔ اس پر بندوں کے سب اعمال ظاہر ہیں۔ کوئی ایک ذرہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں، کوئی پراسرار بات بھی اس سے مخفی نہیں۔
وہی تمام چیزوں کا خالق ہے، مالک و قابض ہے، وہی ہر جاندار کا روزی رساں ہے، اس نے اپنی قدرت و عظمت سے آسمان و زمین جیسی زبردست مخلوق کو صرف چھ دن میں پیدا کر دیا ہے۔ پھر عرش پر قرار پکڑا، کاموں کی تدبیروں کا انجام اسی کی طرف سے اور اسی کے حکم اور تدبیر کا مرہون ہے۔ اس کا فیصلہ اعلی اور اچھا ہی ہوتا ہے۔ جو ذات الٰہ کا عالم ہو اور صفات الٰہ سے آگاہ ہو، اس سے اس کی شان دریافت کر لے۔ یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی پوری خبر رکھنے والے، اس کی ذات سے پورے واقف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ جو دنیا اور آخرت میں تمام اولاد آدم کے علی الاطلاق سردار تھے۔ جو ایک بات بھی اپنی طرف سے نہیں کہتے تھے بلکہ جو فرماتے تھے، وہ فرمودہ الٰہ ہی ہوتا تھا۔ آپ نے جو جو صفتیں اللہ کی بیان کیں، سب برحق ہیں، آپ نے جو خبریں دیں، سب سچ ہیں۔ سچے امام آپ ہی ہیں، تمام جھگڑوں کا فیصلہ آپ ہی کے حکم سے کیا جا سکتا ہے۔ جو آپ کی بات بتلائے، وہ سچا۔ جو آپ کے خلاف کہے، وہ مردود خواہ کوئی بھی ہو۔ اللہ کا فرمان واجب الاذعان کھلے طور سے صادر ہو چکا ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» ۱؎ [4-النساء:59] ’ تم اگر کسی چیز میں جھگڑو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ۔ ‘ اور فرمان ہے «وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ» ۱؎ [42-الشورى:10] ’ تم جس چیز میں بھی اختلاف کرو، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے۔ ‘ اور فرمان ہے «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» ۱؎ [6-الأنعام:115] ’ تیرے رب کی باتیں جو خبروں میں سچی اور حکم و ممانعت میں عدل کی ہیں، پوری ہوچکیں۔ ‘ یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے۔ مشرکین اللہ کے سوا اوروں کو سجدے کرتے تھے۔ ان سے جب رحمان کو سجدہ کرنے کو کہا جاتا تھا تو کہتے تھے کہ ہم رحمان کو نہیں جانتے۔ وہ اس سے منکر تھے کہ اللہ کا نام رحمان ہے۔ جیسے { حدیبیہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح نامہ کے کاتب سے فرمایا: «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھ۔ تو مشرکین نے کہا: نہ ہم رحمان کو جانیں، نہ رحیم کو۔ ہمارے رواج کے مطابق «بِاسْمِکَ الّٰلہُمَّ» لکھ۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2731-2732] اس کے جواب میں یہ آیت اتری «قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰى وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:110] ’ کہہ دے کہ اللہ کو پکارو یا رحمان کو، جس نام سے چاہو پکارو۔ اس کے بہت سے بہترین نام ہیں۔ ‘ وہی اللہ ہے، وہی رحمن ہے۔ پس مشرکین کہتے تھے کہ کیا صرف تیرے کہنے سے ہم ایسا مان لیں؟ الغرض وہ اور نفرت میں بڑھ گئے۔ برخلاف مومنوں کے کہ وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، جو رحمان و رحیم ہے۔ اسی کو عبادت کے لائق سمجھتے ہیں اور اسی کے لیے سجدے کرتے ہیں۔ علماء رحمۃ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ سورۃ الفرقان کی اس آیت کے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ مشروع ہے، جیسے کہ اس کی تفصیل موجود ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 59) ➊ {الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَا …:} اس کی تفسیر سورۂ یونس، ہود اور طٰہٰ میں گزر چکی ہے۔ یہاں ان صفات کا ذکر اللہ تعالیٰ پر توکل کی تلقین کے لیے بھی ہے اور اس میں نزول قرآن میں تدریج پر اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ بھی ہے۔ ➋ { فَسْـَٔلْ بِهٖ خَبِيْرًا:} ”پورے باخبر“ سے مراد خود اللہ تبارک و تعالیٰ ہے اور {” بِهٖ “} سے مراد {”عَنْهُ“} (اس کے متعلق) ہے۔ اس آیت میں مزید وہ افعال و اوصاف ذکر فرمائے ہیں جن کی وجہ سے اللہ پر توکل کرنا چاہیے، یعنی اس پر توکل کر جو ہمیشہ زندہ ہے، جس پر کبھی موت نہیں آئے گی، جس نے آسمان و زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر عرش پر مستوی ہو گیا، جو بے حد رحم والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین کی پیدائش، استواء علی العرش اور اس کی لا محدود رحمت کے بارے میں اہلِ کتاب یا مشرکین کیا جانیں، ان کی تفصیلات کا صحیح علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، لہٰذا اسی سے دریافت کیجیے۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ لَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ}» [ فاطر: ۱۴ ] ”اور تجھے ایک پوری خبر رکھنے والے کی طرح کوئی خبر نہیں دے گا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ جیسا پورا باخبر۔
اِن لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ اس رحمان کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں "رحمان کیا ہوتا ہے؟ کیا بس جسے تو کہہ دے اسی کو ہم سجدہ کرتے پھریں؟" یہ دعوت ان کی نفرت میں الٹا اور اضافہ کر دیتی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان سے جب بھی کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کو سجده کرو تو جواب دیتے ہیں رحمٰن ہے کیا؟ کیا ہم اسے سجده کریں جس کا تو ہمیں حکم دے رہا ہے اور اس (تبلیﻎ) نےان کی نفرت میں مزید اضافہ کردیا
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ان سے کہا جائے رحمن کو سجدہ کرو کہتے ہیں رحمن کیا ہے، کیا ہم سجدہ کرلیں جسے تم کہو اور اس حکم نے انہیں اور بدکنا بڑھایا السجدة ۔۷
علامہ محمد حسین نجفی
بڑا بابرکت ہے وہ (خدا) جس نے آسمان میں (بارہ) برج بنائے اور ان میں ایک چراغ (سورج) اور ایک چمکتا ہوا چاند بنایا۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ان سے کہا جاتا ہے رحمان کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں اور رحمان کیا چیز ہے؟ کیا ہم اسے سجدہ کریں جس کے لیے تو ہمیں حکم دیتا ہے اور یہ بات انھیں بدکنے میں بڑھا دیتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آبائی گمراہی ٭٭
مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں، بلادلیل و حجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک، نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں کی دیکھا دیکھی، نفسانی خواہشات سے ان کی محبت و عظمت اپنے دل میں جمائے ہوئے ہیں اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی اور مخالفت رکھتے ہیں۔ شیطانی لشکر میں شامل ہو گئے ہیں اور رحمانی لشکر کے مخالف ہو گئے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ انجام کار غلبہ اللہ والوں کو ہی ہو گا۔ یہ خواہ مخواہ ان کی طرف سے سینہ سپر ہو رہے ہیں۔ انجام کار مومنوں کے ہی ہاتھ رہے گا۔ دنیا و آخرت میں ان کا پروردگار ان کی امداد کرے گا۔ ان کفار کو تو شیطان صرف اللہ کی مخالفت پر ابھار دیتا ہے اور کچھ نہیں۔ سچے اللہ کی عداوت ان کے دل میں ڈال دیتا ہے، شرک کی محبت بٹھا دیتا ہے۔ یہ اللہ کے احکام سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں مومنوں کو خوشخبری سنانے والا اور کفار کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اطاعت گزاروں کو جنت کی بشارت دیجئے اور نافرمانوں کو جہنم کے عذابوں سے مطلع فرما دیجئے۔ لوگوں میں عام طور پر اعلان کر دیجئے کہ میں اپنی تبلیغ کا بدلہ، اپنے وعظ کا معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ارادہ سوائے اللہ کی رضا مندی کی تلاش کے اور کچھ نہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم میں سے جو راہ راست پر آنا چاہے، اس کے سامنے صحیح راستہ نمایاں کر دوں۔ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے کاموں میں اس اللہ پر بھروسہ رکھئے جو ہمیشہ اور دوام والا ہے، جو موت و فوت سے پاک ہے، جو اول و آخر، ظاہر و باطن اور ہر چیز کا عالم ہے، جو دائم، باقی، سرمدی، ابدی، حی و قیوم ہے، جو ہر چیز کا مالک ہے اور رب ہے، اس کو اپنا ماویٰ و ملجا ٹھہرا لے۔ اسی کی ذات ایسی ہے کہ اس پر توکل کیا جائے۔ ہر گھبراہٹ میں اسی کی طرف جھکا جائے۔ وہ کافی ہے، وہی ناصر ہے، وہی موید و مظفر ہے۔ جیسے فرمان ہے «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» ۱؎ [5-المائدة:67] الخ، ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتارا گیا ہے، اسے پہنچا دیجئے۔ اگر آپ نے یہ نہ کیا تو آپ نے حق رسالت ادا نہیں کیا۔ آپ بےفکر رہیے، اللہ آپ کو لوگوں کے برے ارادوں سے بچالے گا۔ ‘ ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { مدینے کی کسی گلی میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنے لگے تو آپ نے فرمایا: اے سلمان! مجھے سجدہ نہ کر۔ سجدے کے لائق وہ ہے جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے، جس پر کبھی موت نہیں۔ (ابن ابی حاتم) اور اس کی تسبیح و حمد بیان کرتا رہ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعمیل میں فرمایا کرتے تھے: «سُبْحَانَکَ الّٰلہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ» } ۱؎ [صحیح بخاری:794] مراد اس سے یہ کہ عبادت اللہ ہی کی کر، توکل صرف اسی کی ذات پر کر۔ جیسے فرمان ہے: ’ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کارساز سمجھ۔ ‘ ۱؎ [73-المزمل:9] اور جگہ ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [11-هود:123] ’ اسی کی عبادت کر، اسی پر بھروسہ رکھ۔ ‘ اور آیت میں ہے: اعلان کر دے کہ اسی رحمن کے ہم بندے ہیں اور اسی پر ہمارا کامل بھروسہ ہے۔ اس پر بندوں کے سب اعمال ظاہر ہیں۔ کوئی ایک ذرہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں، کوئی پراسرار بات بھی اس سے مخفی نہیں۔
وہی تمام چیزوں کا خالق ہے، مالک و قابض ہے، وہی ہر جاندار کا روزی رساں ہے، اس نے اپنی قدرت و عظمت سے آسمان و زمین جیسی زبردست مخلوق کو صرف چھ دن میں پیدا کر دیا ہے۔ پھر عرش پر قرار پکڑا، کاموں کی تدبیروں کا انجام اسی کی طرف سے اور اسی کے حکم اور تدبیر کا مرہون ہے۔ اس کا فیصلہ اعلی اور اچھا ہی ہوتا ہے۔ جو ذات الٰہ کا عالم ہو اور صفات الٰہ سے آگاہ ہو، اس سے اس کی شان دریافت کر لے۔ یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی پوری خبر رکھنے والے، اس کی ذات سے پورے واقف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ جو دنیا اور آخرت میں تمام اولاد آدم کے علی الاطلاق سردار تھے۔ جو ایک بات بھی اپنی طرف سے نہیں کہتے تھے بلکہ جو فرماتے تھے، وہ فرمودہ الٰہ ہی ہوتا تھا۔ آپ نے جو جو صفتیں اللہ کی بیان کیں، سب برحق ہیں، آپ نے جو خبریں دیں، سب سچ ہیں۔ سچے امام آپ ہی ہیں، تمام جھگڑوں کا فیصلہ آپ ہی کے حکم سے کیا جا سکتا ہے۔ جو آپ کی بات بتلائے، وہ سچا۔ جو آپ کے خلاف کہے، وہ مردود خواہ کوئی بھی ہو۔ اللہ کا فرمان واجب الاذعان کھلے طور سے صادر ہو چکا ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» ۱؎ [4-النساء:59] ’ تم اگر کسی چیز میں جھگڑو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ۔ ‘ اور فرمان ہے «وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ» ۱؎ [42-الشورى:10] ’ تم جس چیز میں بھی اختلاف کرو، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے۔ ‘ اور فرمان ہے «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» ۱؎ [6-الأنعام:115] ’ تیرے رب کی باتیں جو خبروں میں سچی اور حکم و ممانعت میں عدل کی ہیں، پوری ہوچکیں۔ ‘ یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے۔ مشرکین اللہ کے سوا اوروں کو سجدے کرتے تھے۔ ان سے جب رحمان کو سجدہ کرنے کو کہا جاتا تھا تو کہتے تھے کہ ہم رحمان کو نہیں جانتے۔ وہ اس سے منکر تھے کہ اللہ کا نام رحمان ہے۔ جیسے { حدیبیہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح نامہ کے کاتب سے فرمایا: «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھ۔ تو مشرکین نے کہا: نہ ہم رحمان کو جانیں، نہ رحیم کو۔ ہمارے رواج کے مطابق «بِاسْمِکَ الّٰلہُمَّ» لکھ۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2731-2732] اس کے جواب میں یہ آیت اتری «قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰى وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:110] ’ کہہ دے کہ اللہ کو پکارو یا رحمان کو، جس نام سے چاہو پکارو۔ اس کے بہت سے بہترین نام ہیں۔ ‘ وہی اللہ ہے، وہی رحمن ہے۔ پس مشرکین کہتے تھے کہ کیا صرف تیرے کہنے سے ہم ایسا مان لیں؟ الغرض وہ اور نفرت میں بڑھ گئے۔ برخلاف مومنوں کے کہ وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، جو رحمان و رحیم ہے۔ اسی کو عبادت کے لائق سمجھتے ہیں اور اسی کے لیے سجدے کرتے ہیں۔ علماء رحمۃ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ سورۃ الفرقان کی اس آیت کے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ مشروع ہے، جیسے کہ اس کی تفصیل موجود ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
60-1رَ حْمٰن، رَ حِیْم اللّٰہ کی صفات اور اسمائے حسنٰی میں سے ہیں لیکن اہل جاہلیت، اللہ کو ان ناموں سے نہیں پہچانتے تھے جیسا کہ صلح حدیبیہ کے موقعے پر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدے کے آغاز پر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیْمِ لکھوایا تو مشرکین مکہ نے کہا، ہم رحمٰن و رحیم کو نہیں جانتے۔ بِاسْمِکَ اللَّھُمَّ! لکھو (سیرت ابن ہشام۔-2317 مذید دیکھئے (كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِيْٓ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَآ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَا۟ عَلَيْهِمُ الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَهُمْ يَكْفُرُوْنَ بالرَّحْمٰنِ ۭ قُلْ هُوَ رَبِّيْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَاِلَيْهِ مَتَابِ) 13۔ الرعد:30) (قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ ۭ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى ۚ وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا) 17۔ الاسراء:110) یہاں بھی ان کا رحمٰن کے نام سے بدکنے اور سجدہ کرنے سے گریز کرنے کا ذکر ہے۔
(آیت 60) {وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ …:} اس آیت کی دو تفسیریں ہیں، ایک یہ کہ مشرکین مکہ زمین و آسمان کے خالق کے لیے ”اللہ“ کا لفظ تو مانتے تھے، لیکن وہ اس کے نام ”رحمان“ سے مانوس نہ تھے، اس لیے اسے سنتے ہی چڑ جاتے تھے۔ دیکھیے سورۂ رعد (۳۰) اور بنی اسرائیل (۱۱۰) دوسری تفسیر اس کی یہ ہے کہ وہ لوگ یہ بات کہ ”رحمان چیز کیا ہے“ محض کافرانہ شوخی اور سراسر ہٹ دھرمی کی بنا پر کہتے تھے، جس طرح فرعون نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا: «{ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ }» [الشعراء: ۲۳ ] ”اور رب العالمین کیا چیز ہے؟“ حالانکہ نہ کفار مکہ اس بے حد رحم والی ہستی سے بے خبر تھے اور نہ فرعون رب العالمین سے نا واقف تھا، جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام نے اسے برملا کہا تھا: «{ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآىِٕرَ }» [ بنی إسرائیل: ۱۰۲ ] ”بلاشبہ یقینا تو جان چکا ہے کہ انھیں آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نہیں اتارا، اس حال میں کہ واضح دلائل ہیں۔“
بڑا متبرک ہے وہ جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں ایک چراغ اور ایک چمکتا چاند روشن کیا
مولانا محمد جوناگڑھی
بابرکت ہے وه جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں آفتاب بنایا اور منور مہتاب بھی
احمد رضا خان بریلوی
بڑی برکت والا ہے وہ جس نے آسمان میں برج بنائے اور ان میں چراغ رکھا اور چمکتا چاند،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا ہے اس شخص کیلئے جو نصیحت حاصل کرنا چاہے یا شکر ادا کرنا چاہے۔
عبدالسلام بن محمد
بہت برکت والا ہے وہ جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں ایک چراغ اور ایک روشنی کرنے والا چاند بنایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کی رفعت و عظمت ٭٭
اللہ تعالیٰ کی بڑائی، عظمت، رفعت کو دیکھو کہ اس نے آسمان میں برج بنائے۔ اس سے مراد یا تو بڑے بڑے ستارے ہیں یا چوکیداری کے برج ہیں۔ پہلا قول زیادہ ظاہر ہے اور ہوسکتا ہے کہ بڑے بڑے ستاروں سے مراد بھی یہی برج ہوں۔ اور آیت میں ہے: آسمان دنیا کو ہم نے ستاروں کے ساتھ مزین بنایا۔ سراج سے مراد سورج ہے، جو چمکتا رہتا ہے اور مثل چراغ کے ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا» ۱؎ [78-النبأ:13] ’ اور ہم نے روشن چراغ یعنی سورج بنایا۔ ‘ اور چاند بنایا جو منور اور روشن ہے، دوسرے نور سے جو سورج کے سوا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ اس نے سورج کو روشن بنایا اور چاند کو نور بنایا۔ ‘ ۱؎ [10-يونس:5] نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا: «اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا» ۱؎ [71-نوح:15-16] ’ کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے سات آسمان پیدا کیے اور ان میں چاند کو نور بنایا اور سورج کو چراغ بنایا۔ ‘ دن رات کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اس کی قدرت کا نظام ہے۔ یہ جاتا ہے، وہ آتا ہے۔ اس کا جانا اس کا آنا ہے۔ جیسے فرمان ہے: اس نے تمہارے لیے سورج، چاند پے در پے آنے جانے والے بنائے ہیں۔ اور جگہ ہے: رات دن کو ڈھانپ لیتی ہے اور جلدی جلدی اسے طلب کرتی آتی ہے۔ نہ سورج چاند سے آگے بڑھ سکے، نہ رات دن سے سبقت لے سکے۔ اسی سے اس کے بندوں کو اس کی عبادتوں کے وقت معلوم ہوتے ہیں۔ رات کا فوت شدہ عمل دن میں پورا کر لیں، دن کا رہ گیا ہوا عمل رات کو ادا کر لیں۔ صحیح حدیث شریف میں ہے: { اللہ تعالیٰ رات کو اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کا گنہگار توبہ کر لے اور دن کو ہاتھ پھیلاتا ہے کہ رات کا گنہگار توبہ کر لے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2759] سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک دن ضحیٰ کی نماز میں بڑی دیر لگا دی۔ سوال پر فرمایا کہ رات کا کچھ میرا وظیفہ باقی رہ گیا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے پورا کر لوں یا قضاء کر لوں۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ «خِلْفَةً» کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مختلف یعنی دن روشن، رات تاریک۔ اس میں اجالا، اس میں اندھیرا۔ یہ نورانی اور وہ ظلماتی۔
61-1بروج۔ برج کی جمع ہے، سلف کی تفسیر میں بروج سے مراد بڑے بڑے ستارے لئے گئے ہیں۔ اور اسی مراد پر کلام کا نظم واضح ہے کہ بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے اور سورج اور چاند بنائے۔ بعد کے مفسرین نے اس سے اہل نجوم کے مطابق بروج مراد لئے اور یہ بارہ برج ہیں، حمل، ثور، جوزاء، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو اور حوت اور یہ برج سات بڑے سیاروں کی منزلیں ہیں جن کے نام ہیں مریخ، زہرہ، عطارد، قمر، شمس، مشتری اور زحل۔ یہ کواکب (سیارے) ان برجوں میں اس طرح اترتے ہیں جیسے یہ ان کے لئے عالی شان محل ہیں (ایسرالتفاسیر)
(آیت 61) {تَبٰرَكَ الَّذِيْ جَعَلَ فِي السَّمَآءِ بُرُوْجًا …:} اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حجر (۱۶) اور بروج (۱)۔
وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا، ہر اس شخص کے لیے جو سبق لینا چاہے، یا شکر گزار ہونا چاہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اسی نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے واﻻ بنایا۔ اس شخص کی نصیحت کے لیے جو نصیحت حاصل کرنے یا شکر گزاری کرنے کا اراده رکھتا ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور وہی ہے جس نے رات اور دن کی بدلی رکھی اس کے لیے جو دھیان کرنا چاہے یا شکر کا ارادہ کرے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (خدائے) رحمن کے (خاص) بندے وہ ہیں جو زمین پر آہستہ آہستہ (فروتنی کے ساتھ) چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے خطاب کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں تم پر سلام۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا بنایا، اس کے لیے جو چاہے کہ نصیحت حاصل کرے، یا کچھ شکر کرنا چاہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کی رفعت و عظمت ٭٭
اللہ تعالیٰ کی بڑائی، عظمت، رفعت کو دیکھو کہ اس نے آسمان میں برج بنائے۔ اس سے مراد یا تو بڑے بڑے ستارے ہیں یا چوکیداری کے برج ہیں۔ پہلا قول زیادہ ظاہر ہے اور ہوسکتا ہے کہ بڑے بڑے ستاروں سے مراد بھی یہی برج ہوں۔ اور آیت میں ہے: آسمان دنیا کو ہم نے ستاروں کے ساتھ مزین بنایا۔ سراج سے مراد سورج ہے، جو چمکتا رہتا ہے اور مثل چراغ کے ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا» ۱؎ [78-النبأ:13] ’ اور ہم نے روشن چراغ یعنی سورج بنایا۔ ‘ اور چاند بنایا جو منور اور روشن ہے، دوسرے نور سے جو سورج کے سوا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ اس نے سورج کو روشن بنایا اور چاند کو نور بنایا۔ ‘ ۱؎ [10-يونس:5] نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا: «اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا» ۱؎ [71-نوح:15-16] ’ کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے سات آسمان پیدا کیے اور ان میں چاند کو نور بنایا اور سورج کو چراغ بنایا۔ ‘ دن رات کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اس کی قدرت کا نظام ہے۔ یہ جاتا ہے، وہ آتا ہے۔ اس کا جانا اس کا آنا ہے۔ جیسے فرمان ہے: اس نے تمہارے لیے سورج، چاند پے در پے آنے جانے والے بنائے ہیں۔ اور جگہ ہے: رات دن کو ڈھانپ لیتی ہے اور جلدی جلدی اسے طلب کرتی آتی ہے۔ نہ سورج چاند سے آگے بڑھ سکے، نہ رات دن سے سبقت لے سکے۔ اسی سے اس کے بندوں کو اس کی عبادتوں کے وقت معلوم ہوتے ہیں۔ رات کا فوت شدہ عمل دن میں پورا کر لیں، دن کا رہ گیا ہوا عمل رات کو ادا کر لیں۔ صحیح حدیث شریف میں ہے: { اللہ تعالیٰ رات کو اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کا گنہگار توبہ کر لے اور دن کو ہاتھ پھیلاتا ہے کہ رات کا گنہگار توبہ کر لے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2759] سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک دن ضحیٰ کی نماز میں بڑی دیر لگا دی۔ سوال پر فرمایا کہ رات کا کچھ میرا وظیفہ باقی رہ گیا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے پورا کر لوں یا قضاء کر لوں۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ «خِلْفَةً» کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مختلف یعنی دن روشن، رات تاریک۔ اس میں اجالا، اس میں اندھیرا۔ یہ نورانی اور وہ ظلماتی۔
62-1یعنی رات جاتی ہے تو دن آجاتا ہے اور دن آتا ہے تو رات چلی جاتی ہے۔ دونوں بیک وقت جمع نہیں ہوتے، اس کے فوائد و مصالح محتاج وضاحت نہیں۔ بعض نے خِلْفَۃً کے معنی ایک دوسرے کے مخالف کے کئے ہیں یعنی رات تاریک ہے تو دن روشن۔
(آیت 62) ➊ { وَ هُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الَّيْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً:} اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی قدرت کا کمال اور نعمتوں کی یاد دہانی تینوں چیزیں موجود ہیں۔ یعنی رات اور دن ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں، رات جاتی ہے تو دن آ جاتا ہے اور دن جاتا ہے تو رات آ جاتی ہے۔ اگر ہمیشہ دن رہتا یا ہمیشہ رات رہتی تو زندگی اور اس کی مصروفیات کا سلسلہ باقی نہ رہ سکتا۔ (دیکھیے قصص: ۷۱ تا ۷۳) دن رات کے اس بدلنے میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ (دیکھیے بقرہ: ۱۶۴۔ آل عمران: ۱۹۰) ایک مطلب اس کا یہ ہے کہ دن اور رات گھٹتے بڑھتے اور ایک دوسرے کی جگہ آتے جاتے رہتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَ يُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ }» [ الحج: ۶۱ ] ”یہ اس لیے کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ طبری نے معتبر سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ سے ابن عباس رضی اللہ عنھما کی تفسیر نقل فرمائی ہے: ”جس کا کوئی کام رات کو رہ جائے تو وہ دن کو پورا کر لیتا ہے اور دن کو رہ جائے تو رات کو پورا کر لیتا ہے۔“ (طبری: ۲۶۶۶۰) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ، لِيَتُوْبَ مُسِيْءُ النَّهَارِ، وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ، لِيَتُوْبَ مُسِيْءُ اللَّيْلِ، حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا ] [ مسلم، التوبۃ، باب قبول التوبۃ من الذنوب …: ۲۷۵۹ ] ”اللہ تعالیٰ رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے، تاکہ دن کو برائی کرنے والا شخص توبہ کر لے اور دن کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے، تاکہ رات کو برائی کرنے والا توبہ کر لے، یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا، فَكَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا ] [ مسلم، المساجد، باب قضاء الصلاۃ الفائتۃ…: ۳۱۵ /۶۸۴ ] ”جو شخص کسی نماز سے سویا رہ جائے یا بھول جائے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب اسے وہ یاد آئے پڑھ لے۔“ امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَقَرَأَهُ فِيْمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَ صَلَاةِ الظُّهْرِ، كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ ] [ مسلم، صلاۃ المسافرین، باب جامع صلاۃ اللیل: ۷۴۷ ] ”جو شخص اپنے مقرر کر دہ وظیفے سے یا اس کے کچھ حصے سے سویا رہ جائے، پھر اسے فجر کی نماز اور ظہر کی نماز کے درمیان پڑھ لے تو گویا اس نے اسے رات ہی میں پڑھا ہے۔“ {” خِلْفَةً “} کا ایک معنی ”مختلف“ بھی ہے، قاموس میں ہے: {” اَلْخِلْفُ وَالْخِلْفَةُ بِالْكَسْرِ الْمُخْتَلِفُ“} اس کے مطابق معنی یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کو روشنی اور اندھیرے میں، گرمی اور سردی میں، کام اور آرام میں ایک دوسرے سے مختلف بنایا ہے۔ ➋ { لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا:} یعنی کہ اگر کوئی کفر یا فسق کی وجہ سے غفلت میں مبتلا ہے اور چاہتا ہے کہ اسے کسی طرح نصیحت ہو تو دن رات کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے میں اس کے لیے بہت بڑی نصیحت ہے کہ اتنی بڑی تبدیلی وہی کر سکتا ہے جو لا محدود قدرت والا اور ہر طرح صاحب اختیار ہے، اوراگر کوئی مومن اور صالح ہے اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہتا ہے تو دن رات کی یہ تبدیلی بہت بڑی نعمت ہے، جس پر اسے شکر ادا کرنا لازم ہے۔ رات دن کے سلسلے میں ایک نصیحت ابن العربی نے ذکر فرمائی ہے کہ ایک آدمی جس کی عمر ساٹھ (۶۰) برس ہے، وہ رات سو کر گزار دیتا ہے، تو اس کی آدھی عمر بے کار گئی، پھر دن کا تقریباً چھٹا حصہ آرام میں گزر جاتا ہے، یوں کل دو تہائی چلا گیا۔ اس کے پاس ساٹھ (۶۰) سال کی عمر میں سے بیس (۲۰) برس رہ گئے۔ کتنی بڑی جہالت اور بے وقوفی ہے کہ آدمی اپنی عمر کا دو تہائی حصہ فانی لذت میں گزار دے اور عمر عزیز کو اس دائمی لذت کے حصول کے لیے خرچ نہ کرے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس اس کے لیے تیار کر رکھی ہے۔
رحمان کے (اصلی) بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جاہل ان کے منہ کو آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام
مولانا محمد جوناگڑھی
رحمٰن کے (سچے) بندے وه ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب بے علم لوگ ان سے باتیں کرنے لگتے ہیں تو وه کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور رحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو اپنے پروردگار کی بارگاہ میں سجدہ اور قیام کرتے ہوئے رات گزارتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومنوں کا کردار ٭٭
اللہ کے مومن بندوں کے اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ زمین پر سکون و وقار کے ساتھ، تواضع، عاجزی، مسکینی اور فروتنی سے چلتے پھرتے ہیں۔ تکبر، تجبر، فساد اور ظلم و ستم نہیں کرتے۔ جیسے لقمان رحمہ اللہ نے اپنے لڑکے سے فرمایا تھا کہ اکڑ کر نہ چلا کر۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تصنع اور بناوٹ سے کمر جھکا کر مریضوں کی طرح قدم قدم چلنا۔ یہ تو ریاکاروں کا کام ہے کہ وہ اپنے آپ کو دکھانے کے لیے اور دنیا کی نگاہیں اپنی طرف اٹھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت اس کے بالکل برعکس تھی۔ آپ کی چال ایسی تھی کہ گویا آپ کسی اونچائی سے اتر رہے ہیں اور گویا کہ زمین آپ کے لیے لپٹی جا رہی ہے۔ سلف صالحین نے بیماروں کی سی تکلف والی چال کو مکروہ فرمایا ہے۔
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ وہ بہت آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا تو کچھ بیمار ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: پھر یہ کیا چال ہے؟ خبردار! جو اب اس طرح چلا تو کوڑے کھائے گا۔ طاقت کے ساتھ جلدی جلدی چلا کرو۔ پس یہاں مراد تسکین اور وقار کے ساتھ شریفانہ چال چلنا ہے، نہ کہ ضعیفانہ اور مریضانہ۔ چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ { جب نماز کے لیے آؤ تو دوڑ کر نہ آؤ بلکہ تسکین کے ساتھ آؤ۔ جو جماعت کے ساتھ مل جائے، ادا کر لو اور جو فوت ہو جائے، پوری کر لو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:636] امام حسن بصری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں نہایت ہی عمدہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ مومنوں کی آنکھیں اور ان کے کان اور ان کے اعضاء جھکے ہوئے اور رکے ہوئے رہتے ہیں، یہاں تک کہ گنوار اور بےوقوف لوگ انہیں بیمار سمجھ لیتے ہیں حالانکہ وہ بیمار نہیں ہوتے بلکہ خوف الٰہی سے جھکے جاتے ہیں۔ ویسے پورے تندرست ہیں لیکن دل اللہ کے خوف سے پر ہیں۔ آخرت کا علم دنیا طلبی سے اور یہاں کے ٹھاٹھ سے انہیں روکے ہوئے ہے۔ یہ قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ انہیں دنیا میں کھانے پینے کا غم لگا رہتا تھا، نہیں نہیں، اللہ کی قسم! دنیا کا کوئی غم ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتا تھا۔ ہاں انہیں آخرت کا کھٹکا ہر وقت لگا رہتا تھا۔ جنت کے کسی کام کو وہ بھاری نہیں سمجھتے تھے، ہاں جہنم کا خوف انہیں رلاتا رہتا تھا۔ جو شخص اللہ کے خوف دلانے سے بھی خوف نہ کھائے، اس کا نفس حسرتوں کا مالک ہے۔ جو شخص کھانے پینے کو ہی اللہ کی نعمت سمجھے، وہ کم علم ہے اور عذابوں میں پھنسا ہوا ہے۔ پھر اپنے نیک بندوں کا اور وصف بیان فرمایا کہ جب جاہل لوگ ان سے جہالت کی باتیں کرتے ہیں تو یہ بھی ان کی طرح جہالت پر نہیں اتر آتے بلکہ درگزر کر لیتے ہیں، معاف فرما دیتے ہیں اور سوائے بھلی بات کے، گندی باتوں سے اپنی زبان آلودہ نہیں کرتے۔ جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جوں جوں دوسرا آپ پر تیز ہوتا، آپ اتنے ہی نرم ہوتے۔ یہی وصف قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوا ہے «وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:55] ’ مومن لوگ بے ہودہ باتیں سن کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ ‘
ایک حسن سند سے مسند احمد میں مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی شخص نے دوسرے کو برا بھلا کہا لیکن اس نے پلٹ کر جواب دیا کہ تجھ پر سلام ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کے درمیان فرشتہ موجود تھا، وہ تیری طرف سے گالیاں دینے والے کو جواب دیتا تھا۔ وہ جو گالی تجھے دیتا تھا، فرشتہ کہتا تھا یہ نہیں بلکہ تو۔ اور جب تو کہتا تھا تجھ پر سلام تو فرشتہ کہتا تھا اس پر نہیں بلکہ تجھ پر، تو ہی سلامتی کو پورا حق دار ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:445/5:حسن لغیرہ] پس فرمان ہے کہ یہ اپنی زبان کو گندی نہیں کرتے۔ برا کہنے والوں کو برا نہیں کہتے، سوائے بھلے کلمے کے زبان سے اور کوئی لفظ نہیں نکالتے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسرا ان پر ظلم کرے، یہ صلح اور برداشت کرتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ دن اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کی کڑوی کسیلی سن لیتے ہیں۔ رات کو جس حالت میں گزارتے ہیں، اس کا بیان اگلی آیت میں ہے۔
فرماتا ہے کہ رات اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت میں بسر ہوتی ہے، بہت کم سوتے ہیں۔ صبح کو استغفار کرتے ہیں، کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے۔ امید رحمت ہوتی ہے اور راتوں کی گھڑیوں کو اللہ کی عبادتوں میں گزارتے ہیں۔ دعائیں مانگتے ہیں کہ اے اللہ! عذاب جہنم ہم سے دور رکھ، وہ تو دائمی اور لازمی عذاب ہے۔ جیسے شاعر نے اللہ کی شان بتائی ہے کہ «اِنْ یُعَذِّبْ یَکُنْ غَرَامًا وَ اِنْ یُّعْطِ جَزِیْلًا فَاِنَّہُ لَا یُبَالِی» یعنی اس کے عذاب بھی سخت اور لازمی اور ابدی۔ اور اس کی عطا اور انعام بھی بے حد، ان گنت اور بے حساب۔ جو چیز آئے اور ہٹ جائے وہ غرام نہیں۔ غرام وہ ہے جو آنے کے بعد ہٹنے اور دور ہونے کا نام ہی نہ لے۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ عذاب جہنم تاوان ہے جو کفران نعمت سے لیا جائے گا۔ انہوں نے اللہ کے دیئے کو اس کی راہ میں نہیں لگایا لہٰذا آج اس کا تاوان یہ بھرنا پڑے گا جہنم کو پر کر دیں۔ وہ بری جگہ ہے، بدمنظر ہے، تکلیف دہ ہے، مصیبت ناک ہے۔
مالک بن حارث رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب دوزخی کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا تو اللہ ہی جانتا ہے کہ کتنی مدت تک وہ نیچے ہی نیچے چلا جائے گا۔ اس کے بعد جہنم کے ایک دروازے پر اسے روک دیا جائے گا اور کہا جائے گا: تم بہت پیاسے ہو رہے ہو گے، لو ایک جام تو نوش کر لو۔ یہ کہہ کر انہیں کالے ناگ اور زہریلے بچھوؤں کے زہر کا ایک پیالہ پلا دیا جائے گا جس کے پیتے ہی ان کی کھالیں الگ جھڑ جائیں گی، بال الگ ہو جائیں گے، رگیں الگ جا پڑیں گی، ہڈیاں جدا جدا ہو جائیں گی۔ عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہنم میں گڑھے ہیں، کنویں ہیں۔ ان میں سانپ ہیں جیسے بختی اونٹ اور بچھو ہیں جیسے خچر۔ جب کسی جہنمی کو جہنم میں ڈالا جاتا ہے تو وہ وہاں سے نکل کر آتے اور انہیں لپٹ جاتے ہیں، ہونٹوں پر، سروں پر اور جسم کے اور حصوں پر ڈستے اور ڈنک مارتے ہیں۔ جس سے ان کے سارے بدن میں زہر پھیل جاتا ہے اور پھکنے لگتے ہیں۔ سارے سر کی کھال جھلس کر گر پڑتی ہے پھر وہ سانپ چلے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جہنمی ایک ہزار سال تک جہنم میں چلاتا رہے گا «یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ» تب اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا: جاؤ دیکھو، یہ کیا کہہ رہا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام آ کر دیکھیں گے کہ سب جہنمی برے حال سر جھکائے آہ و زاری کر رہے ہیں۔ جا کر جناب باری تعالیٰ میں خبر کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر جاؤ، فلاں فلاں جگہ یہ شخص ہے، جاؤ اور اسے لے آؤ۔ یہ بحکم الٰہی جائیں گے اور اسے لا کر اللہ کے سامنے کھڑا کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تو کیسی جگہ پر ہے؟ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! ٹھہرنے کی بری جگہ اور سونے بیٹھے کی بھی بدترین جگہ ہے۔ اللہ فرمائے گا: اچھا اب اسے اس کی جگہ واپس لے جاؤ تو یہ گڑگڑائے گا، عرض کرے گا کہ اے میرے ارحم الراحمین اللہ! جب تو نے مجھے اس سے باہر نکالا تو تیری ذات ایسی نہیں کہ پھر مجھے اس میں داخل کر دے، مجھے تو تجھ سے رحم و کرم کی ہی امید ہے۔ اے اللہ! بس اب مجھ پر کرم فرما۔ جب تو نے مجھے جہنم سے نکالا تو میں خوش ہو گیا تھا کہ اب تو اس میں نہ ڈالے گا۔ اس مالک و رحمن و رحیم اللہ کو بھی رحم آ جائے گا اور فرمائے گا: اچھا میرے بندے کو چھوڑ دو۔ } ۱؎ [مسند احمد:230/3:ضعیف]
پھر ان کا ایک اور وصف بیان ہوتا ہے کہ نہ تو وہ مسرف ہیں، نہ بخیل ہیں، نہ بےجا خرچ کرتے ہیں، نہ ضروری اخراجات میں کوتاہی کرتے ہیں بلکہ میانہ روی سے کام لیتے ہیں۔ نہ ہی ایسا کرتے ہیں کہ اپنے والوں کو، اہل و عیال کو بھی تنگ رکھیں، نہ ایسا کرتے ہیں کہ جو ہو سب لٹا دیں۔ اسی کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ فرماتا ہے: «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:29] یعنی ’ نہ تو اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ اور نہ انہیں بالکل ہی چھوڑ دے۔ ‘ مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { اپنی گزران میں میانہ روی کرنا انسان کی سمجھ داری کی دلیل ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:194/5:ضعیف] اور حدیث میں ہے: { جو افراط تفریط سے بچتا ہے، وہ کبھی فقیر محتاج نہیں ہوتا۔ } ۱؎ [مسند احمد:447/1:ضعیف] بزار کی حدیث میں ہے کہ { امیری میں، فقیری میں، عبادت میں میانہ روی بڑی ہی بہتر اور احسن چیز ہے۔ } ۱؎ [مسند بزار:3604:ضعیف] امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی راہ میں کتنا ہی چاہو دو، اس کا نام اسراف نہیں ہے۔ ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں کہیں تو حکم اللہ سے آگے بڑھ جائے، وہی اسراف ہے۔ اور بزرگوں کا قول ہے: اللہ کی نافرمانی کا خرچ اسراف کہلاتا ہے۔
63-1سلام سے مراد یہاں اعراض اور ترک بحث ہے۔ یعنی اہل ایمان، اہل جہالت سے الجھتے نہیں ہیں بلکہ ایسے موقع پر پرہیز اور گریز کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور بےفائدہ بحث نہیں کرتے۔
(آیت 63) ➊ {وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ …:} اللہ تعالیٰ کا عبد (بندہ) ہونے کی دو حیثیتیں ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ رب ہے اور یہ اس کا بندہ ہے، اس بندگی میں ساری مخلوق شریک ہے، مسلم ہوں یا کافر، نیک ہوں یا بد، سب اللہ کے عبد (بندے) ہیں، وہ سب کا رب ہے، فرمایا: «{ اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا }» [ مریم: ۹۳ ] ”آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمان کے پاس غلام بن کر آنے والا ہے۔“ دوسری حیثیت عبد ہونے کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ معبود ہے اور یہ اس کی عبادت اور بندگی کرنے والا ہے۔ اس معنی میں عباد الرحمن (رحمان کے بندے) صرف انبیاء، اولیاء اور اس کے نیک بندے ہیں۔ اس لحاظ سے جب کسی کو عبد اللہ (اللہ کا بندہ) کہا جاتا ہے، تو اسے مخلوق کے مرتبوں میں سے سب سے اونچے مرتبے پر فائز کیا جاتا ہے۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱) اور سورۂ جن (۱۹)۔ ➋ رحمان کی عبادت کے لحاظ سے بندوں کی ایک قسم کا ذکر پچھلی آیات میں گزرا ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمان کو سجدہ کرو تو وہ جانتے بوجھتے ہوئے شوخی و شرارت اور سرکشی و تکبر کے ساتھ رحمان کو جاننے ہی سے انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں رحمان ہے کیا چیز؟ اور مزید بدک جاتے ہیں، حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ رحمان کون ہے۔ اب رحمان کے ان بندوں کا ذکر ہے جو واقعی رحمان کی بندگی کرتے ہیں اور رات دن کے یکے بعد دیگرے آنے جانے سے اور کائنات کی ہر چیز سے نصیحت حاصل کرتے اور مالک کا شکر ادا کرتے ہیں، فرمایا: «{ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا }» [ الفرقان: ۶۲ ] ”اس کے لیے جو چاہے کہ نصیحت حاصل کرے، یا کچھ شکر کرنا چاہے۔“ اور ان کی ان صفات کا ذکر ہے جو رحمان کی بندگی سے پیدا ہوتی ہیں، جن سے وہ لوگ سراسر محروم رہتے ہیں جو رحمان کو سجدہ کرنے کے حکم پر سرکشی اور نفرت کا اظہار کرتے ہیں اور نہ نصیحت حاصل کرتے ہیں، نہ شکر اد اکرتے ہیں۔ ➌ {” عِبَادُ الرَّحْمٰنِ “} کے لفظ میں اشارہ ہے کہ ان کی یہ صفات ان پر رحمان کی رحمت کا نتیجہ ہیں۔ ➍ ”عباد الرحمان“ کے سب سے پہلے مصداق صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں جو ان آیات میں ذکر کر دہ تمام صفات کے ساتھ متصف تھے۔ (دیکھیے فتح: ۲۹) اس کے بعد قیامت تک آنے والے تمام متقی مومن اس کے مصداق ہیں۔ اسی طرح ”عباد الشیطان“ کے سب سے پہلے مصداق ابو لہب، ابوجہل اور ان کے ساتھی ہیں، ان کے بعد قیامت تک آنے والے تمام کفار و فجار۔ ➎ عباد الرحمان کی صفات جو اس مقام پر بیان ہوئی ہیں، چار قسم کی ہیں، پہلی قسم ان کا دینی کمالات کے ساتھ آراستہ ہونا ہے، ان کی ابتدا {” الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا “} سے ہوتی ہے۔ دوسری قسم ان کا ہر طرح کے رذائل اور کمینگیوں سے پاک ہونا ہے، یہ {” وَ الَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ “} سے شروع ہوتی ہے۔ تیسری قسم ان کا اسلام کے احکام پر کار بند ہونا ہے، ان صفات کا ذکر آیت (۶۴): «{ وَ الَّذِيْنَ يَبِيْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِيَامًا }» اور آیت (۶۷): «{ وَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا…}» اور آیت (۶۸): «{ وَ لَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ }» سے لے کر آیت (۷۲): «وَ الَّذِيْنَ لَا يَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ» تک میں ہے اور چوتھی قسم ان کی طرف سے اس بات کی مسلسل کوشش اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ان کی دینی حالت بہتر سے بہتر ہوتی چلی جائے، اس کا ذکر آیت (۷۴): «{ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا }» میں ہے۔ (ابن عاشور) ➏ { يَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: ” هَوْنًا “} نرمی، مصدر بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے: {”أَيْ مَشْيًا ذَا هَوْنٍ“} یعنی بہت نرمی والی چال چلتے ہیں۔ یعنی رحمان کے محبوب بندے وہ ہیں جو تواضع اور عاجزی اختیار کرتے ہیں اور جب زمین پر چلتے ہیں تو نرمی کے ساتھ چلتے ہیں نہ کہ فساد برپا کرنے والوں اور ظلم و جبر کرنے والوں کی طرح اینٹھتے اور اکڑتے ہوئے۔ لقمان حکیم نے اپنے بیٹے کو وصیت فرمائی: «{ وَ لَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ }» [ لقمان: ۱۸ ] ”اور زمین میں اکڑ کر نہ چل، بے شک اللہ کسی اکڑنے والے، فخر کرنے والے سے محبت نہیں کرتا۔“ نرمی کی چال سے مراد سکون اور وقار کی چال ہے نہ کہ دکھاوے کے لیے بناوٹ کے ساتھ مریضوں کی طرح چلنا۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مضبوط قدم رکھتے ہوئے چلتے تھے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح چلتے تھے: {” كَأَنَّمَا يَنْحَطُّ عَنْ صَبَبٍ “} (گویا ڈھلوان کی طرف اتر رہے ہوں۔) [ مسند أحمد: 96/1، ح: ۷۴۹، قال المحقق سندہ قوي ] ابو طفیل رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بیان کرتے ہیں: [ كَانَ أَبْيَضَ مَلِيْحًا، إِذَا مَشَی كَأَنَّمَا يَهْوِيْ فِيْ صَبُوْبٍ ] [ أبوداوٗد، الأدب، باب في ھدی الرجل: ۴۸۶۴، وقال الألبانی صحیح ] ”آپ سفید رنگ اور انتہائی خوبصورت تھے، جب چلتے تو گویا ڈھلوان میں اتر رہے ہوں۔“ زمین پر نرمی کے ساتھ چلنے میں عام زندگی کا چال چلن بھی شامل ہے، کیونکہ آدمی کی چال اس کے چلن ہی کے مطابق ہوتی ہے۔ رحمان کے بندوں کی چال اور ان کا چلن دونوں سے تواضع اور نرمی کا اظہار ہوتا ہے، ان میں نہ تکبر ہوتا ہے نہ شدت، ہاں، کفار کے مقابلے میں وہ اکڑ کر بھی چلتے ہیں اور ان میں شدت بھی ہوتی ہے، جیسا کہ طواف کے اندر رمل کے حکم سے ظاہر ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ }» [ الفتح: ۲۹ ] ”محمد اللہ کا رسول ہے اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر بہت سخت ہیں، آپس میں نہایت رحم دل ہیں۔“ اور فرمایا: «{اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ }» [ المائدۃ: ۵۴ ] ”مومنوں پر بہت نرم ہوں گے، کافروں پر بہت سخت۔“ ➐ { وَ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا: ”جَهْل“} کا لفظ یہاں ”علم“ کے مقابلے میں نہیں بلکہ ”حلم“ کے مقابلے میں ہے۔{” الْجٰهِلُوْنَ “} کے لفظ سے یہ بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ عباد الرحمن لوگوں سے ہمیشہ علیحدگی اور ترکِ کلام اختیار نہیں کرتے، بلکہ صرف ان کی جہالت اور اکھڑ پن کے رویے پر انھیں ترکی بہ ترکی جواب دینے اور جھگڑنے کے بجائے سلام کہہ کر گزر جاتے ہیں۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ }» [ القصص: ۵۵ ] ”اور جب وہ لغو بات سنتے ہیں تو اس سے کنارہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال۔ سلام ہے تم پر، ہم جاہلوں کو نہیں چاہتے۔“ ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَنَا زَعِيْمٌ بِبَيْتٍ فِيْ رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا، وَ بِبَيْتٍ فِيْ وَسَطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَإِنْ كَانَ مَازِحًا، وَ بِبَيْتٍ فِيْ أَعْلَی الْجَنَّةِ لِمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ ] [ أبوداوٗد، الأدب، باب في حسن الخلق: ۴۸۰۰، و حسنہ الألباني ] ”میں جنت کے اطراف میں مکان کا ضامن ہوں، اس شخص کے لیے جو جھگڑا چھوڑ دے خواہ حق دار ہو اور جنت کے وسط میں مکان کا ضامن ہوں اس شخص کے لیے جو جھوٹ چھوڑ دے خواہ مذاق سے ہو اور جنت کے سب سے بلند مقام پر مکان کا ضامن ہوں اس شخص کے لیے جو اپنا خلق (اخلاق) اچھا بنا لے۔“
جو اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو اپنے رب کے سامنے سجدے اور قیام کرتے ہوئے راتیں گزار دیتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو رات کاٹتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام میں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہم سے جہنم کا عذاب دور رکھ۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ جو اپنے رب کے لیے سجدہ کرتے ہوئے اور قیام کرتے ہوئے رات گزارتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومنوں کا کردار ٭٭
اللہ کے مومن بندوں کے اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ زمین پر سکون و وقار کے ساتھ، تواضع، عاجزی، مسکینی اور فروتنی سے چلتے پھرتے ہیں۔ تکبر، تجبر، فساد اور ظلم و ستم نہیں کرتے۔ جیسے لقمان رحمہ اللہ نے اپنے لڑکے سے فرمایا تھا کہ اکڑ کر نہ چلا کر۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تصنع اور بناوٹ سے کمر جھکا کر مریضوں کی طرح قدم قدم چلنا۔ یہ تو ریاکاروں کا کام ہے کہ وہ اپنے آپ کو دکھانے کے لیے اور دنیا کی نگاہیں اپنی طرف اٹھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت اس کے بالکل برعکس تھی۔ آپ کی چال ایسی تھی کہ گویا آپ کسی اونچائی سے اتر رہے ہیں اور گویا کہ زمین آپ کے لیے لپٹی جا رہی ہے۔ سلف صالحین نے بیماروں کی سی تکلف والی چال کو مکروہ فرمایا ہے۔
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ وہ بہت آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا تو کچھ بیمار ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: پھر یہ کیا چال ہے؟ خبردار! جو اب اس طرح چلا تو کوڑے کھائے گا۔ طاقت کے ساتھ جلدی جلدی چلا کرو۔ پس یہاں مراد تسکین اور وقار کے ساتھ شریفانہ چال چلنا ہے، نہ کہ ضعیفانہ اور مریضانہ۔ چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ { جب نماز کے لیے آؤ تو دوڑ کر نہ آؤ بلکہ تسکین کے ساتھ آؤ۔ جو جماعت کے ساتھ مل جائے، ادا کر لو اور جو فوت ہو جائے، پوری کر لو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:636] امام حسن بصری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں نہایت ہی عمدہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ مومنوں کی آنکھیں اور ان کے کان اور ان کے اعضاء جھکے ہوئے اور رکے ہوئے رہتے ہیں، یہاں تک کہ گنوار اور بےوقوف لوگ انہیں بیمار سمجھ لیتے ہیں حالانکہ وہ بیمار نہیں ہوتے بلکہ خوف الٰہی سے جھکے جاتے ہیں۔ ویسے پورے تندرست ہیں لیکن دل اللہ کے خوف سے پر ہیں۔ آخرت کا علم دنیا طلبی سے اور یہاں کے ٹھاٹھ سے انہیں روکے ہوئے ہے۔ یہ قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ انہیں دنیا میں کھانے پینے کا غم لگا رہتا تھا، نہیں نہیں، اللہ کی قسم! دنیا کا کوئی غم ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتا تھا۔ ہاں انہیں آخرت کا کھٹکا ہر وقت لگا رہتا تھا۔ جنت کے کسی کام کو وہ بھاری نہیں سمجھتے تھے، ہاں جہنم کا خوف انہیں رلاتا رہتا تھا۔ جو شخص اللہ کے خوف دلانے سے بھی خوف نہ کھائے، اس کا نفس حسرتوں کا مالک ہے۔ جو شخص کھانے پینے کو ہی اللہ کی نعمت سمجھے، وہ کم علم ہے اور عذابوں میں پھنسا ہوا ہے۔ پھر اپنے نیک بندوں کا اور وصف بیان فرمایا کہ جب جاہل لوگ ان سے جہالت کی باتیں کرتے ہیں تو یہ بھی ان کی طرح جہالت پر نہیں اتر آتے بلکہ درگزر کر لیتے ہیں، معاف فرما دیتے ہیں اور سوائے بھلی بات کے، گندی باتوں سے اپنی زبان آلودہ نہیں کرتے۔ جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جوں جوں دوسرا آپ پر تیز ہوتا، آپ اتنے ہی نرم ہوتے۔ یہی وصف قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوا ہے «وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:55] ’ مومن لوگ بے ہودہ باتیں سن کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ ‘
ایک حسن سند سے مسند احمد میں مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی شخص نے دوسرے کو برا بھلا کہا لیکن اس نے پلٹ کر جواب دیا کہ تجھ پر سلام ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کے درمیان فرشتہ موجود تھا، وہ تیری طرف سے گالیاں دینے والے کو جواب دیتا تھا۔ وہ جو گالی تجھے دیتا تھا، فرشتہ کہتا تھا یہ نہیں بلکہ تو۔ اور جب تو کہتا تھا تجھ پر سلام تو فرشتہ کہتا تھا اس پر نہیں بلکہ تجھ پر، تو ہی سلامتی کو پورا حق دار ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:445/5:حسن لغیرہ] پس فرمان ہے کہ یہ اپنی زبان کو گندی نہیں کرتے۔ برا کہنے والوں کو برا نہیں کہتے، سوائے بھلے کلمے کے زبان سے اور کوئی لفظ نہیں نکالتے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسرا ان پر ظلم کرے، یہ صلح اور برداشت کرتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ دن اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کی کڑوی کسیلی سن لیتے ہیں۔ رات کو جس حالت میں گزارتے ہیں، اس کا بیان اگلی آیت میں ہے۔
فرماتا ہے کہ رات اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت میں بسر ہوتی ہے، بہت کم سوتے ہیں۔ صبح کو استغفار کرتے ہیں، کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے۔ امید رحمت ہوتی ہے اور راتوں کی گھڑیوں کو اللہ کی عبادتوں میں گزارتے ہیں۔ دعائیں مانگتے ہیں کہ اے اللہ! عذاب جہنم ہم سے دور رکھ، وہ تو دائمی اور لازمی عذاب ہے۔ جیسے شاعر نے اللہ کی شان بتائی ہے کہ «اِنْ یُعَذِّبْ یَکُنْ غَرَامًا وَ اِنْ یُّعْطِ جَزِیْلًا فَاِنَّہُ لَا یُبَالِی» یعنی اس کے عذاب بھی سخت اور لازمی اور ابدی۔ اور اس کی عطا اور انعام بھی بے حد، ان گنت اور بے حساب۔ جو چیز آئے اور ہٹ جائے وہ غرام نہیں۔ غرام وہ ہے جو آنے کے بعد ہٹنے اور دور ہونے کا نام ہی نہ لے۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ عذاب جہنم تاوان ہے جو کفران نعمت سے لیا جائے گا۔ انہوں نے اللہ کے دیئے کو اس کی راہ میں نہیں لگایا لہٰذا آج اس کا تاوان یہ بھرنا پڑے گا جہنم کو پر کر دیں۔ وہ بری جگہ ہے، بدمنظر ہے، تکلیف دہ ہے، مصیبت ناک ہے۔
مالک بن حارث رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب دوزخی کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا تو اللہ ہی جانتا ہے کہ کتنی مدت تک وہ نیچے ہی نیچے چلا جائے گا۔ اس کے بعد جہنم کے ایک دروازے پر اسے روک دیا جائے گا اور کہا جائے گا: تم بہت پیاسے ہو رہے ہو گے، لو ایک جام تو نوش کر لو۔ یہ کہہ کر انہیں کالے ناگ اور زہریلے بچھوؤں کے زہر کا ایک پیالہ پلا دیا جائے گا جس کے پیتے ہی ان کی کھالیں الگ جھڑ جائیں گی، بال الگ ہو جائیں گے، رگیں الگ جا پڑیں گی، ہڈیاں جدا جدا ہو جائیں گی۔ عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہنم میں گڑھے ہیں، کنویں ہیں۔ ان میں سانپ ہیں جیسے بختی اونٹ اور بچھو ہیں جیسے خچر۔ جب کسی جہنمی کو جہنم میں ڈالا جاتا ہے تو وہ وہاں سے نکل کر آتے اور انہیں لپٹ جاتے ہیں، ہونٹوں پر، سروں پر اور جسم کے اور حصوں پر ڈستے اور ڈنک مارتے ہیں۔ جس سے ان کے سارے بدن میں زہر پھیل جاتا ہے اور پھکنے لگتے ہیں۔ سارے سر کی کھال جھلس کر گر پڑتی ہے پھر وہ سانپ چلے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جہنمی ایک ہزار سال تک جہنم میں چلاتا رہے گا «یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ» تب اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا: جاؤ دیکھو، یہ کیا کہہ رہا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام آ کر دیکھیں گے کہ سب جہنمی برے حال سر جھکائے آہ و زاری کر رہے ہیں۔ جا کر جناب باری تعالیٰ میں خبر کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر جاؤ، فلاں فلاں جگہ یہ شخص ہے، جاؤ اور اسے لے آؤ۔ یہ بحکم الٰہی جائیں گے اور اسے لا کر اللہ کے سامنے کھڑا کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تو کیسی جگہ پر ہے؟ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! ٹھہرنے کی بری جگہ اور سونے بیٹھے کی بھی بدترین جگہ ہے۔ اللہ فرمائے گا: اچھا اب اسے اس کی جگہ واپس لے جاؤ تو یہ گڑگڑائے گا، عرض کرے گا کہ اے میرے ارحم الراحمین اللہ! جب تو نے مجھے اس سے باہر نکالا تو تیری ذات ایسی نہیں کہ پھر مجھے اس میں داخل کر دے، مجھے تو تجھ سے رحم و کرم کی ہی امید ہے۔ اے اللہ! بس اب مجھ پر کرم فرما۔ جب تو نے مجھے جہنم سے نکالا تو میں خوش ہو گیا تھا کہ اب تو اس میں نہ ڈالے گا۔ اس مالک و رحمن و رحیم اللہ کو بھی رحم آ جائے گا اور فرمائے گا: اچھا میرے بندے کو چھوڑ دو۔ } ۱؎ [مسند احمد:230/3:ضعیف]
پھر ان کا ایک اور وصف بیان ہوتا ہے کہ نہ تو وہ مسرف ہیں، نہ بخیل ہیں، نہ بےجا خرچ کرتے ہیں، نہ ضروری اخراجات میں کوتاہی کرتے ہیں بلکہ میانہ روی سے کام لیتے ہیں۔ نہ ہی ایسا کرتے ہیں کہ اپنے والوں کو، اہل و عیال کو بھی تنگ رکھیں، نہ ایسا کرتے ہیں کہ جو ہو سب لٹا دیں۔ اسی کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ فرماتا ہے: «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:29] یعنی ’ نہ تو اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ اور نہ انہیں بالکل ہی چھوڑ دے۔ ‘ مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { اپنی گزران میں میانہ روی کرنا انسان کی سمجھ داری کی دلیل ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:194/5:ضعیف] اور حدیث میں ہے: { جو افراط تفریط سے بچتا ہے، وہ کبھی فقیر محتاج نہیں ہوتا۔ } ۱؎ [مسند احمد:447/1:ضعیف] بزار کی حدیث میں ہے کہ { امیری میں، فقیری میں، عبادت میں میانہ روی بڑی ہی بہتر اور احسن چیز ہے۔ } ۱؎ [مسند بزار:3604:ضعیف] امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی راہ میں کتنا ہی چاہو دو، اس کا نام اسراف نہیں ہے۔ ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں کہیں تو حکم اللہ سے آگے بڑھ جائے، وہی اسراف ہے۔ اور بزرگوں کا قول ہے: اللہ کی نافرمانی کا خرچ اسراف کہلاتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 64) {وَ الَّذِيْنَ يَبِيْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ …:} پچھلی آیت میں لوگوں کے ساتھ ان کے معاملے کا ذکر تھا، اس آیت میں اپنے رب کے ساتھ ان کے معاملے کا ذکر ہے۔ حسن بصری نے فرمایا: ”پچھلی آیت میں ان کے دن کا ذکر ہے اور اس آیت میں ان کی رات کا۔“ اس آیت سے قیام اللیل کی اہمیت ثابت ہوتی ہے۔ مزید دیکھیے آیت: «{ تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ }» [ السجدۃ: ۱۶ ] اور آیت: «{ كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ }» [ الذاریات: ۱۷ ] امیر المومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [ مَنْ صَلَّی الْعِشَاءَ فِيْ جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ وَ مَنْ صَلَّی الصُّبْحَ فِيْ جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا صَلَّی اللَّيْلَ كُلَّهُ] [مسلم، المساجد و مواضع الصلاۃ، باب فضل صلاۃ العشاء والصبح في جماعۃ: ۶۵۶ ] ”جو شخص عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے تو گویا اس نے نصف رات قیام کیا اور جو صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے تو گویا اس نے ساری رات نماز پڑھی۔“ اس حدیث سے عشاء اور فجر جماعت کے ساتھ پڑھنے پر قیام اللیل کا اجر حاصل ہونا ثابت ہوتا ہے، اس کے باوجود کوئی شک نہیں کہ جو لوگ اس کے علاوہ بھی قیام اللیل کی پابندی کرتے ہیں ان کے درجے کو وہ لوگ نہیں پہنچ سکتے جو صرف فرائض پر اکتفا کرتے ہیں۔
جو دعائیں کرتے ہیں کہ "اے ہمارے رب، جہنم کے عذاب سے ہم کو بچا لے، اُس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہم سے دوزخ کا عذاب پرے ہی پرے رکھ، کیونکہ اس کا عذاب چمٹ جانے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب! ہم سے پھیر دے جہنم کا عذاب، بیشک اس کا عذاب گلے کا غل (پھندا) ہے
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک اس کا عذاب پوری ہلاکت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہم سے جہنم کا عذاب پھیر دے۔ بے شک اس کا عذاب ہمیشہ چمٹ جانے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومنوں کا کردار ٭٭
اللہ کے مومن بندوں کے اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ زمین پر سکون و وقار کے ساتھ، تواضع، عاجزی، مسکینی اور فروتنی سے چلتے پھرتے ہیں۔ تکبر، تجبر، فساد اور ظلم و ستم نہیں کرتے۔ جیسے لقمان رحمہ اللہ نے اپنے لڑکے سے فرمایا تھا کہ اکڑ کر نہ چلا کر۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تصنع اور بناوٹ سے کمر جھکا کر مریضوں کی طرح قدم قدم چلنا۔ یہ تو ریاکاروں کا کام ہے کہ وہ اپنے آپ کو دکھانے کے لیے اور دنیا کی نگاہیں اپنی طرف اٹھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت اس کے بالکل برعکس تھی۔ آپ کی چال ایسی تھی کہ گویا آپ کسی اونچائی سے اتر رہے ہیں اور گویا کہ زمین آپ کے لیے لپٹی جا رہی ہے۔ سلف صالحین نے بیماروں کی سی تکلف والی چال کو مکروہ فرمایا ہے۔
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ وہ بہت آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا تو کچھ بیمار ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: پھر یہ کیا چال ہے؟ خبردار! جو اب اس طرح چلا تو کوڑے کھائے گا۔ طاقت کے ساتھ جلدی جلدی چلا کرو۔ پس یہاں مراد تسکین اور وقار کے ساتھ شریفانہ چال چلنا ہے، نہ کہ ضعیفانہ اور مریضانہ۔ چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ { جب نماز کے لیے آؤ تو دوڑ کر نہ آؤ بلکہ تسکین کے ساتھ آؤ۔ جو جماعت کے ساتھ مل جائے، ادا کر لو اور جو فوت ہو جائے، پوری کر لو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:636] امام حسن بصری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں نہایت ہی عمدہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ مومنوں کی آنکھیں اور ان کے کان اور ان کے اعضاء جھکے ہوئے اور رکے ہوئے رہتے ہیں، یہاں تک کہ گنوار اور بےوقوف لوگ انہیں بیمار سمجھ لیتے ہیں حالانکہ وہ بیمار نہیں ہوتے بلکہ خوف الٰہی سے جھکے جاتے ہیں۔ ویسے پورے تندرست ہیں لیکن دل اللہ کے خوف سے پر ہیں۔ آخرت کا علم دنیا طلبی سے اور یہاں کے ٹھاٹھ سے انہیں روکے ہوئے ہے۔ یہ قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ انہیں دنیا میں کھانے پینے کا غم لگا رہتا تھا، نہیں نہیں، اللہ کی قسم! دنیا کا کوئی غم ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتا تھا۔ ہاں انہیں آخرت کا کھٹکا ہر وقت لگا رہتا تھا۔ جنت کے کسی کام کو وہ بھاری نہیں سمجھتے تھے، ہاں جہنم کا خوف انہیں رلاتا رہتا تھا۔ جو شخص اللہ کے خوف دلانے سے بھی خوف نہ کھائے، اس کا نفس حسرتوں کا مالک ہے۔ جو شخص کھانے پینے کو ہی اللہ کی نعمت سمجھے، وہ کم علم ہے اور عذابوں میں پھنسا ہوا ہے۔ پھر اپنے نیک بندوں کا اور وصف بیان فرمایا کہ جب جاہل لوگ ان سے جہالت کی باتیں کرتے ہیں تو یہ بھی ان کی طرح جہالت پر نہیں اتر آتے بلکہ درگزر کر لیتے ہیں، معاف فرما دیتے ہیں اور سوائے بھلی بات کے، گندی باتوں سے اپنی زبان آلودہ نہیں کرتے۔ جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جوں جوں دوسرا آپ پر تیز ہوتا، آپ اتنے ہی نرم ہوتے۔ یہی وصف قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوا ہے «وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:55] ’ مومن لوگ بے ہودہ باتیں سن کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ ‘
ایک حسن سند سے مسند احمد میں مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی شخص نے دوسرے کو برا بھلا کہا لیکن اس نے پلٹ کر جواب دیا کہ تجھ پر سلام ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کے درمیان فرشتہ موجود تھا، وہ تیری طرف سے گالیاں دینے والے کو جواب دیتا تھا۔ وہ جو گالی تجھے دیتا تھا، فرشتہ کہتا تھا یہ نہیں بلکہ تو۔ اور جب تو کہتا تھا تجھ پر سلام تو فرشتہ کہتا تھا اس پر نہیں بلکہ تجھ پر، تو ہی سلامتی کو پورا حق دار ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:445/5:حسن لغیرہ] پس فرمان ہے کہ یہ اپنی زبان کو گندی نہیں کرتے۔ برا کہنے والوں کو برا نہیں کہتے، سوائے بھلے کلمے کے زبان سے اور کوئی لفظ نہیں نکالتے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسرا ان پر ظلم کرے، یہ صلح اور برداشت کرتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ دن اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کی کڑوی کسیلی سن لیتے ہیں۔ رات کو جس حالت میں گزارتے ہیں، اس کا بیان اگلی آیت میں ہے۔
فرماتا ہے کہ رات اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت میں بسر ہوتی ہے، بہت کم سوتے ہیں۔ صبح کو استغفار کرتے ہیں، کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے۔ امید رحمت ہوتی ہے اور راتوں کی گھڑیوں کو اللہ کی عبادتوں میں گزارتے ہیں۔ دعائیں مانگتے ہیں کہ اے اللہ! عذاب جہنم ہم سے دور رکھ، وہ تو دائمی اور لازمی عذاب ہے۔ جیسے شاعر نے اللہ کی شان بتائی ہے کہ «اِنْ یُعَذِّبْ یَکُنْ غَرَامًا وَ اِنْ یُّعْطِ جَزِیْلًا فَاِنَّہُ لَا یُبَالِی» یعنی اس کے عذاب بھی سخت اور لازمی اور ابدی۔ اور اس کی عطا اور انعام بھی بے حد، ان گنت اور بے حساب۔ جو چیز آئے اور ہٹ جائے وہ غرام نہیں۔ غرام وہ ہے جو آنے کے بعد ہٹنے اور دور ہونے کا نام ہی نہ لے۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ عذاب جہنم تاوان ہے جو کفران نعمت سے لیا جائے گا۔ انہوں نے اللہ کے دیئے کو اس کی راہ میں نہیں لگایا لہٰذا آج اس کا تاوان یہ بھرنا پڑے گا جہنم کو پر کر دیں۔ وہ بری جگہ ہے، بدمنظر ہے، تکلیف دہ ہے، مصیبت ناک ہے۔
مالک بن حارث رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب دوزخی کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا تو اللہ ہی جانتا ہے کہ کتنی مدت تک وہ نیچے ہی نیچے چلا جائے گا۔ اس کے بعد جہنم کے ایک دروازے پر اسے روک دیا جائے گا اور کہا جائے گا: تم بہت پیاسے ہو رہے ہو گے، لو ایک جام تو نوش کر لو۔ یہ کہہ کر انہیں کالے ناگ اور زہریلے بچھوؤں کے زہر کا ایک پیالہ پلا دیا جائے گا جس کے پیتے ہی ان کی کھالیں الگ جھڑ جائیں گی، بال الگ ہو جائیں گے، رگیں الگ جا پڑیں گی، ہڈیاں جدا جدا ہو جائیں گی۔ عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہنم میں گڑھے ہیں، کنویں ہیں۔ ان میں سانپ ہیں جیسے بختی اونٹ اور بچھو ہیں جیسے خچر۔ جب کسی جہنمی کو جہنم میں ڈالا جاتا ہے تو وہ وہاں سے نکل کر آتے اور انہیں لپٹ جاتے ہیں، ہونٹوں پر، سروں پر اور جسم کے اور حصوں پر ڈستے اور ڈنک مارتے ہیں۔ جس سے ان کے سارے بدن میں زہر پھیل جاتا ہے اور پھکنے لگتے ہیں۔ سارے سر کی کھال جھلس کر گر پڑتی ہے پھر وہ سانپ چلے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جہنمی ایک ہزار سال تک جہنم میں چلاتا رہے گا «یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ» تب اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا: جاؤ دیکھو، یہ کیا کہہ رہا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام آ کر دیکھیں گے کہ سب جہنمی برے حال سر جھکائے آہ و زاری کر رہے ہیں۔ جا کر جناب باری تعالیٰ میں خبر کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر جاؤ، فلاں فلاں جگہ یہ شخص ہے، جاؤ اور اسے لے آؤ۔ یہ بحکم الٰہی جائیں گے اور اسے لا کر اللہ کے سامنے کھڑا کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تو کیسی جگہ پر ہے؟ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! ٹھہرنے کی بری جگہ اور سونے بیٹھے کی بھی بدترین جگہ ہے۔ اللہ فرمائے گا: اچھا اب اسے اس کی جگہ واپس لے جاؤ تو یہ گڑگڑائے گا، عرض کرے گا کہ اے میرے ارحم الراحمین اللہ! جب تو نے مجھے اس سے باہر نکالا تو تیری ذات ایسی نہیں کہ پھر مجھے اس میں داخل کر دے، مجھے تو تجھ سے رحم و کرم کی ہی امید ہے۔ اے اللہ! بس اب مجھ پر کرم فرما۔ جب تو نے مجھے جہنم سے نکالا تو میں خوش ہو گیا تھا کہ اب تو اس میں نہ ڈالے گا۔ اس مالک و رحمن و رحیم اللہ کو بھی رحم آ جائے گا اور فرمائے گا: اچھا میرے بندے کو چھوڑ دو۔ } ۱؎ [مسند احمد:230/3:ضعیف]
پھر ان کا ایک اور وصف بیان ہوتا ہے کہ نہ تو وہ مسرف ہیں، نہ بخیل ہیں، نہ بےجا خرچ کرتے ہیں، نہ ضروری اخراجات میں کوتاہی کرتے ہیں بلکہ میانہ روی سے کام لیتے ہیں۔ نہ ہی ایسا کرتے ہیں کہ اپنے والوں کو، اہل و عیال کو بھی تنگ رکھیں، نہ ایسا کرتے ہیں کہ جو ہو سب لٹا دیں۔ اسی کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ فرماتا ہے: «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:29] یعنی ’ نہ تو اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ اور نہ انہیں بالکل ہی چھوڑ دے۔ ‘ مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { اپنی گزران میں میانہ روی کرنا انسان کی سمجھ داری کی دلیل ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:194/5:ضعیف] اور حدیث میں ہے: { جو افراط تفریط سے بچتا ہے، وہ کبھی فقیر محتاج نہیں ہوتا۔ } ۱؎ [مسند احمد:447/1:ضعیف] بزار کی حدیث میں ہے کہ { امیری میں، فقیری میں، عبادت میں میانہ روی بڑی ہی بہتر اور احسن چیز ہے۔ } ۱؎ [مسند بزار:3604:ضعیف] امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی راہ میں کتنا ہی چاہو دو، اس کا نام اسراف نہیں ہے۔ ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں کہیں تو حکم اللہ سے آگے بڑھ جائے، وہی اسراف ہے۔ اور بزرگوں کا قول ہے: اللہ کی نافرمانی کا خرچ اسراف کہلاتا ہے۔
65-1اس سے معلوم ہوا کہ رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو ایک طرف راتوں کو اٹھ کر عبادت کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ ڈرتے بھی ہیں کہ کہیں کسی غلطی یا کوتاہی پر اللہ کی گرفت میں نہ آجائیں، اس لئے وہ عذاب جہنم سے پناہ طلب کرتے ہیں۔ گویا اللہ کی عبادت و اطاعت کے باوجود اللہ کے عذاب اور اس کے مؤاخذے سے انسان کو بےخوف اور اپنی عبادت و اطاعت الٰہی پر کسی غرور اور گھمنڈ میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔ اسی مفہوم کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ہے۔ (وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ) 23۔ المومنون:60) اور وہ لوگ کہ جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل ڈرتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ڈر صرف اسی بات کا نہیں کہ انھیں بارگاہ الہی میں حاضر ہونا ہے بلکہ اس کے ساتھ اس کا بھی کہ ان کا صدقہ و خیرات قبول ہوتا ہے یا نہیں؟ حدیث میں آیت کی تفسیر میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت پوچھا کہ کیا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے اور چوری کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انھیں اے ابوبکر ؓ کی بیٹی! بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے، نماز پڑھتے اور صدقہ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کے یہ اعمال نا مقبول نہ ہوجائیں۔ الترمذی۔
(آیت 65) ➊ { وَ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا …:} مخلوق اور خالق کے ساتھ اپنا معاملہ درست کرنے کے باوجود ان میں غرور یا خود پسندی کا شائبہ تک نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے اپنے آپ کو عذاب کا مستحق سمجھتے ہوئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے اس کی رحمت اور عفو کے طلب گار اور عذاب جہنم سے بچنے کے خواست گار رہتے ہیں۔ سورۂ مومنون کی آیت (۶۰): «{ وَ الَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ }» (اور وہ کہ انھوں نے جو کچھ دیا اس حال میں دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں) میں ان کی یہی کیفیت بیان ہوئی ہے اور سورۂ ذاریات کی آیت (۱۷، ۱۸): «{ كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ (17) وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ}» (وہ رات کے بہت تھوڑے حصے میں سوتے تھے اور رات کی آخری گھڑیوں میں وہ بخشش مانگتے تھے) میں مذکور ساری رات قیام کے بعد سحریوں کے وقت استغفار کا باعث بھی ان کا یہی احساس ہوتا ہے۔ ➋ {اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا: ” غَرَامًا “} ”چمٹ جانے والا“ جس طرح مقروض جب تک قرض ادا نہ کرے غریم (قرض خواہ) اس کی جان نہیں چھوڑتا، جیسے شاعر نے کہا ہے: {سَتَعْلَمُ لَيْلٰي أَيَّ دَيْنٍ تَدَانَيَتْ وَ أَيَّ غَرِيْمٍ فِي التَّقَاضِيْ غَرِيْمُهَا} ”لیلیٰ جان لے گی کہ اس نے کون سا قرض اٹھا لیا ہے اور تقاضا کرنے میں اس کا قرض خواہ کیسا قرض خواہ ہے؟“ یہ جملہ عباد الرحمان کا قول بھی ہو سکتا ہے اور رب رحمان کا فرمان بھی۔
اللہ کے مومن بندوں کے اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ زمین پر سکون و وقار کے ساتھ، تواضع، عاجزی، مسکینی اور فروتنی سے چلتے پھرتے ہیں۔ تکبر، تجبر، فساد اور ظلم و ستم نہیں کرتے۔ جیسے لقمان رحمہ اللہ نے اپنے لڑکے سے فرمایا تھا کہ اکڑ کر نہ چلا کر۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تصنع اور بناوٹ سے کمر جھکا کر مریضوں کی طرح قدم قدم چلنا۔ یہ تو ریاکاروں کا کام ہے کہ وہ اپنے آپ کو دکھانے کے لیے اور دنیا کی نگاہیں اپنی طرف اٹھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت اس کے بالکل برعکس تھی۔ آپ کی چال ایسی تھی کہ گویا آپ کسی اونچائی سے اتر رہے ہیں اور گویا کہ زمین آپ کے لیے لپٹی جا رہی ہے۔ سلف صالحین نے بیماروں کی سی تکلف والی چال کو مکروہ فرمایا ہے۔
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ وہ بہت آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا تو کچھ بیمار ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: پھر یہ کیا چال ہے؟ خبردار! جو اب اس طرح چلا تو کوڑے کھائے گا۔ طاقت کے ساتھ جلدی جلدی چلا کرو۔ پس یہاں مراد تسکین اور وقار کے ساتھ شریفانہ چال چلنا ہے، نہ کہ ضعیفانہ اور مریضانہ۔ چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ { جب نماز کے لیے آؤ تو دوڑ کر نہ آؤ بلکہ تسکین کے ساتھ آؤ۔ جو جماعت کے ساتھ مل جائے، ادا کر لو اور جو فوت ہو جائے، پوری کر لو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:636] امام حسن بصری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں نہایت ہی عمدہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ مومنوں کی آنکھیں اور ان کے کان اور ان کے اعضاء جھکے ہوئے اور رکے ہوئے رہتے ہیں، یہاں تک کہ گنوار اور بےوقوف لوگ انہیں بیمار سمجھ لیتے ہیں حالانکہ وہ بیمار نہیں ہوتے بلکہ خوف الٰہی سے جھکے جاتے ہیں۔ ویسے پورے تندرست ہیں لیکن دل اللہ کے خوف سے پر ہیں۔ آخرت کا علم دنیا طلبی سے اور یہاں کے ٹھاٹھ سے انہیں روکے ہوئے ہے۔ یہ قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ انہیں دنیا میں کھانے پینے کا غم لگا رہتا تھا، نہیں نہیں، اللہ کی قسم! دنیا کا کوئی غم ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتا تھا۔ ہاں انہیں آخرت کا کھٹکا ہر وقت لگا رہتا تھا۔ جنت کے کسی کام کو وہ بھاری نہیں سمجھتے تھے، ہاں جہنم کا خوف انہیں رلاتا رہتا تھا۔ جو شخص اللہ کے خوف دلانے سے بھی خوف نہ کھائے، اس کا نفس حسرتوں کا مالک ہے۔ جو شخص کھانے پینے کو ہی اللہ کی نعمت سمجھے، وہ کم علم ہے اور عذابوں میں پھنسا ہوا ہے۔ پھر اپنے نیک بندوں کا اور وصف بیان فرمایا کہ جب جاہل لوگ ان سے جہالت کی باتیں کرتے ہیں تو یہ بھی ان کی طرح جہالت پر نہیں اتر آتے بلکہ درگزر کر لیتے ہیں، معاف فرما دیتے ہیں اور سوائے بھلی بات کے، گندی باتوں سے اپنی زبان آلودہ نہیں کرتے۔ جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جوں جوں دوسرا آپ پر تیز ہوتا، آپ اتنے ہی نرم ہوتے۔ یہی وصف قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوا ہے «وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:55] ’ مومن لوگ بے ہودہ باتیں سن کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ ‘
ایک حسن سند سے مسند احمد میں مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی شخص نے دوسرے کو برا بھلا کہا لیکن اس نے پلٹ کر جواب دیا کہ تجھ پر سلام ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کے درمیان فرشتہ موجود تھا، وہ تیری طرف سے گالیاں دینے والے کو جواب دیتا تھا۔ وہ جو گالی تجھے دیتا تھا، فرشتہ کہتا تھا یہ نہیں بلکہ تو۔ اور جب تو کہتا تھا تجھ پر سلام تو فرشتہ کہتا تھا اس پر نہیں بلکہ تجھ پر، تو ہی سلامتی کو پورا حق دار ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:445/5:حسن لغیرہ] پس فرمان ہے کہ یہ اپنی زبان کو گندی نہیں کرتے۔ برا کہنے والوں کو برا نہیں کہتے، سوائے بھلے کلمے کے زبان سے اور کوئی لفظ نہیں نکالتے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسرا ان پر ظلم کرے، یہ صلح اور برداشت کرتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ دن اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کی کڑوی کسیلی سن لیتے ہیں۔ رات کو جس حالت میں گزارتے ہیں، اس کا بیان اگلی آیت میں ہے۔
فرماتا ہے کہ رات اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت میں بسر ہوتی ہے، بہت کم سوتے ہیں۔ صبح کو استغفار کرتے ہیں، کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے۔ امید رحمت ہوتی ہے اور راتوں کی گھڑیوں کو اللہ کی عبادتوں میں گزارتے ہیں۔ دعائیں مانگتے ہیں کہ اے اللہ! عذاب جہنم ہم سے دور رکھ، وہ تو دائمی اور لازمی عذاب ہے۔ جیسے شاعر نے اللہ کی شان بتائی ہے کہ «اِنْ یُعَذِّبْ یَکُنْ غَرَامًا وَ اِنْ یُّعْطِ جَزِیْلًا فَاِنَّہُ لَا یُبَالِی» یعنی اس کے عذاب بھی سخت اور لازمی اور ابدی۔ اور اس کی عطا اور انعام بھی بے حد، ان گنت اور بے حساب۔ جو چیز آئے اور ہٹ جائے وہ غرام نہیں۔ غرام وہ ہے جو آنے کے بعد ہٹنے اور دور ہونے کا نام ہی نہ لے۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ عذاب جہنم تاوان ہے جو کفران نعمت سے لیا جائے گا۔ انہوں نے اللہ کے دیئے کو اس کی راہ میں نہیں لگایا لہٰذا آج اس کا تاوان یہ بھرنا پڑے گا جہنم کو پر کر دیں۔ وہ بری جگہ ہے، بدمنظر ہے، تکلیف دہ ہے، مصیبت ناک ہے۔
مالک بن حارث رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب دوزخی کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا تو اللہ ہی جانتا ہے کہ کتنی مدت تک وہ نیچے ہی نیچے چلا جائے گا۔ اس کے بعد جہنم کے ایک دروازے پر اسے روک دیا جائے گا اور کہا جائے گا: تم بہت پیاسے ہو رہے ہو گے، لو ایک جام تو نوش کر لو۔ یہ کہہ کر انہیں کالے ناگ اور زہریلے بچھوؤں کے زہر کا ایک پیالہ پلا دیا جائے گا جس کے پیتے ہی ان کی کھالیں الگ جھڑ جائیں گی، بال الگ ہو جائیں گے، رگیں الگ جا پڑیں گی، ہڈیاں جدا جدا ہو جائیں گی۔ عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہنم میں گڑھے ہیں، کنویں ہیں۔ ان میں سانپ ہیں جیسے بختی اونٹ اور بچھو ہیں جیسے خچر۔ جب کسی جہنمی کو جہنم میں ڈالا جاتا ہے تو وہ وہاں سے نکل کر آتے اور انہیں لپٹ جاتے ہیں، ہونٹوں پر، سروں پر اور جسم کے اور حصوں پر ڈستے اور ڈنک مارتے ہیں۔ جس سے ان کے سارے بدن میں زہر پھیل جاتا ہے اور پھکنے لگتے ہیں۔ سارے سر کی کھال جھلس کر گر پڑتی ہے پھر وہ سانپ چلے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جہنمی ایک ہزار سال تک جہنم میں چلاتا رہے گا «یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ» تب اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا: جاؤ دیکھو، یہ کیا کہہ رہا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام آ کر دیکھیں گے کہ سب جہنمی برے حال سر جھکائے آہ و زاری کر رہے ہیں۔ جا کر جناب باری تعالیٰ میں خبر کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر جاؤ، فلاں فلاں جگہ یہ شخص ہے، جاؤ اور اسے لے آؤ۔ یہ بحکم الٰہی جائیں گے اور اسے لا کر اللہ کے سامنے کھڑا کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تو کیسی جگہ پر ہے؟ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! ٹھہرنے کی بری جگہ اور سونے بیٹھے کی بھی بدترین جگہ ہے۔ اللہ فرمائے گا: اچھا اب اسے اس کی جگہ واپس لے جاؤ تو یہ گڑگڑائے گا، عرض کرے گا کہ اے میرے ارحم الراحمین اللہ! جب تو نے مجھے اس سے باہر نکالا تو تیری ذات ایسی نہیں کہ پھر مجھے اس میں داخل کر دے، مجھے تو تجھ سے رحم و کرم کی ہی امید ہے۔ اے اللہ! بس اب مجھ پر کرم فرما۔ جب تو نے مجھے جہنم سے نکالا تو میں خوش ہو گیا تھا کہ اب تو اس میں نہ ڈالے گا۔ اس مالک و رحمن و رحیم اللہ کو بھی رحم آ جائے گا اور فرمائے گا: اچھا میرے بندے کو چھوڑ دو۔ } ۱؎ [مسند احمد:230/3:ضعیف]
پھر ان کا ایک اور وصف بیان ہوتا ہے کہ نہ تو وہ مسرف ہیں، نہ بخیل ہیں، نہ بےجا خرچ کرتے ہیں، نہ ضروری اخراجات میں کوتاہی کرتے ہیں بلکہ میانہ روی سے کام لیتے ہیں۔ نہ ہی ایسا کرتے ہیں کہ اپنے والوں کو، اہل و عیال کو بھی تنگ رکھیں، نہ ایسا کرتے ہیں کہ جو ہو سب لٹا دیں۔ اسی کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ فرماتا ہے: «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:29] یعنی ’ نہ تو اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ اور نہ انہیں بالکل ہی چھوڑ دے۔ ‘ مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { اپنی گزران میں میانہ روی کرنا انسان کی سمجھ داری کی دلیل ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:194/5:ضعیف] اور حدیث میں ہے: { جو افراط تفریط سے بچتا ہے، وہ کبھی فقیر محتاج نہیں ہوتا۔ } ۱؎ [مسند احمد:447/1:ضعیف] بزار کی حدیث میں ہے کہ { امیری میں، فقیری میں، عبادت میں میانہ روی بڑی ہی بہتر اور احسن چیز ہے۔ } ۱؎ [مسند بزار:3604:ضعیف] امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی راہ میں کتنا ہی چاہو دو، اس کا نام اسراف نہیں ہے۔ ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں کہیں تو حکم اللہ سے آگے بڑھ جائے، وہی اسراف ہے۔ اور بزرگوں کا قول ہے: اللہ کی نافرمانی کا خرچ اسراف کہلاتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 66) { اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا:” مُسْتَقَرًّا “} کچھ مدت ٹھہرنے کی جگہ گناہ گار مسلمانوں کے لیے اور {” مُقَامًا “} ہمیشہ اقامت کی جگہ کفار کے لیے۔ یہ جملہ بھی رب رحمان اور عباد الرحمان دونوں کا ہو سکتا ہے۔
جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل، بلکہ ان کا خرچ دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو خرچ کرتے وقت بھی نہ تو اسراف کرتے ہیں نہ بخیلی، بلکہ ان دونوں کے درمیان معتدل طریقے پر خرچ کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ کنجوسی (بلکہ) ان کا خرچ کرنا ان (دونوں) کے درمیان (حد اعتدال پر) ہوتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ خرچ میں تنگی کرتے ہیں اور (ان کا خرچ) اس کے درمیان معتدل ہوتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومنوں کا کردار ٭٭
اللہ کے مومن بندوں کے اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ زمین پر سکون و وقار کے ساتھ، تواضع، عاجزی، مسکینی اور فروتنی سے چلتے پھرتے ہیں۔ تکبر، تجبر، فساد اور ظلم و ستم نہیں کرتے۔ جیسے لقمان رحمہ اللہ نے اپنے لڑکے سے فرمایا تھا کہ اکڑ کر نہ چلا کر۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تصنع اور بناوٹ سے کمر جھکا کر مریضوں کی طرح قدم قدم چلنا۔ یہ تو ریاکاروں کا کام ہے کہ وہ اپنے آپ کو دکھانے کے لیے اور دنیا کی نگاہیں اپنی طرف اٹھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت اس کے بالکل برعکس تھی۔ آپ کی چال ایسی تھی کہ گویا آپ کسی اونچائی سے اتر رہے ہیں اور گویا کہ زمین آپ کے لیے لپٹی جا رہی ہے۔ سلف صالحین نے بیماروں کی سی تکلف والی چال کو مکروہ فرمایا ہے۔
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ وہ بہت آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا تو کچھ بیمار ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: پھر یہ کیا چال ہے؟ خبردار! جو اب اس طرح چلا تو کوڑے کھائے گا۔ طاقت کے ساتھ جلدی جلدی چلا کرو۔ پس یہاں مراد تسکین اور وقار کے ساتھ شریفانہ چال چلنا ہے، نہ کہ ضعیفانہ اور مریضانہ۔ چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ { جب نماز کے لیے آؤ تو دوڑ کر نہ آؤ بلکہ تسکین کے ساتھ آؤ۔ جو جماعت کے ساتھ مل جائے، ادا کر لو اور جو فوت ہو جائے، پوری کر لو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:636] امام حسن بصری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں نہایت ہی عمدہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ مومنوں کی آنکھیں اور ان کے کان اور ان کے اعضاء جھکے ہوئے اور رکے ہوئے رہتے ہیں، یہاں تک کہ گنوار اور بےوقوف لوگ انہیں بیمار سمجھ لیتے ہیں حالانکہ وہ بیمار نہیں ہوتے بلکہ خوف الٰہی سے جھکے جاتے ہیں۔ ویسے پورے تندرست ہیں لیکن دل اللہ کے خوف سے پر ہیں۔ آخرت کا علم دنیا طلبی سے اور یہاں کے ٹھاٹھ سے انہیں روکے ہوئے ہے۔ یہ قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ انہیں دنیا میں کھانے پینے کا غم لگا رہتا تھا، نہیں نہیں، اللہ کی قسم! دنیا کا کوئی غم ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتا تھا۔ ہاں انہیں آخرت کا کھٹکا ہر وقت لگا رہتا تھا۔ جنت کے کسی کام کو وہ بھاری نہیں سمجھتے تھے، ہاں جہنم کا خوف انہیں رلاتا رہتا تھا۔ جو شخص اللہ کے خوف دلانے سے بھی خوف نہ کھائے، اس کا نفس حسرتوں کا مالک ہے۔ جو شخص کھانے پینے کو ہی اللہ کی نعمت سمجھے، وہ کم علم ہے اور عذابوں میں پھنسا ہوا ہے۔ پھر اپنے نیک بندوں کا اور وصف بیان فرمایا کہ جب جاہل لوگ ان سے جہالت کی باتیں کرتے ہیں تو یہ بھی ان کی طرح جہالت پر نہیں اتر آتے بلکہ درگزر کر لیتے ہیں، معاف فرما دیتے ہیں اور سوائے بھلی بات کے، گندی باتوں سے اپنی زبان آلودہ نہیں کرتے۔ جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جوں جوں دوسرا آپ پر تیز ہوتا، آپ اتنے ہی نرم ہوتے۔ یہی وصف قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوا ہے «وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:55] ’ مومن لوگ بے ہودہ باتیں سن کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ ‘
ایک حسن سند سے مسند احمد میں مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی شخص نے دوسرے کو برا بھلا کہا لیکن اس نے پلٹ کر جواب دیا کہ تجھ پر سلام ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کے درمیان فرشتہ موجود تھا، وہ تیری طرف سے گالیاں دینے والے کو جواب دیتا تھا۔ وہ جو گالی تجھے دیتا تھا، فرشتہ کہتا تھا یہ نہیں بلکہ تو۔ اور جب تو کہتا تھا تجھ پر سلام تو فرشتہ کہتا تھا اس پر نہیں بلکہ تجھ پر، تو ہی سلامتی کو پورا حق دار ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:445/5:حسن لغیرہ] پس فرمان ہے کہ یہ اپنی زبان کو گندی نہیں کرتے۔ برا کہنے والوں کو برا نہیں کہتے، سوائے بھلے کلمے کے زبان سے اور کوئی لفظ نہیں نکالتے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسرا ان پر ظلم کرے، یہ صلح اور برداشت کرتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ دن اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کی کڑوی کسیلی سن لیتے ہیں۔ رات کو جس حالت میں گزارتے ہیں، اس کا بیان اگلی آیت میں ہے۔
فرماتا ہے کہ رات اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت میں بسر ہوتی ہے، بہت کم سوتے ہیں۔ صبح کو استغفار کرتے ہیں، کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے۔ امید رحمت ہوتی ہے اور راتوں کی گھڑیوں کو اللہ کی عبادتوں میں گزارتے ہیں۔ دعائیں مانگتے ہیں کہ اے اللہ! عذاب جہنم ہم سے دور رکھ، وہ تو دائمی اور لازمی عذاب ہے۔ جیسے شاعر نے اللہ کی شان بتائی ہے کہ «اِنْ یُعَذِّبْ یَکُنْ غَرَامًا وَ اِنْ یُّعْطِ جَزِیْلًا فَاِنَّہُ لَا یُبَالِی» یعنی اس کے عذاب بھی سخت اور لازمی اور ابدی۔ اور اس کی عطا اور انعام بھی بے حد، ان گنت اور بے حساب۔ جو چیز آئے اور ہٹ جائے وہ غرام نہیں۔ غرام وہ ہے جو آنے کے بعد ہٹنے اور دور ہونے کا نام ہی نہ لے۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ عذاب جہنم تاوان ہے جو کفران نعمت سے لیا جائے گا۔ انہوں نے اللہ کے دیئے کو اس کی راہ میں نہیں لگایا لہٰذا آج اس کا تاوان یہ بھرنا پڑے گا جہنم کو پر کر دیں۔ وہ بری جگہ ہے، بدمنظر ہے، تکلیف دہ ہے، مصیبت ناک ہے۔
مالک بن حارث رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب دوزخی کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا تو اللہ ہی جانتا ہے کہ کتنی مدت تک وہ نیچے ہی نیچے چلا جائے گا۔ اس کے بعد جہنم کے ایک دروازے پر اسے روک دیا جائے گا اور کہا جائے گا: تم بہت پیاسے ہو رہے ہو گے، لو ایک جام تو نوش کر لو۔ یہ کہہ کر انہیں کالے ناگ اور زہریلے بچھوؤں کے زہر کا ایک پیالہ پلا دیا جائے گا جس کے پیتے ہی ان کی کھالیں الگ جھڑ جائیں گی، بال الگ ہو جائیں گے، رگیں الگ جا پڑیں گی، ہڈیاں جدا جدا ہو جائیں گی۔ عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہنم میں گڑھے ہیں، کنویں ہیں۔ ان میں سانپ ہیں جیسے بختی اونٹ اور بچھو ہیں جیسے خچر۔ جب کسی جہنمی کو جہنم میں ڈالا جاتا ہے تو وہ وہاں سے نکل کر آتے اور انہیں لپٹ جاتے ہیں، ہونٹوں پر، سروں پر اور جسم کے اور حصوں پر ڈستے اور ڈنک مارتے ہیں۔ جس سے ان کے سارے بدن میں زہر پھیل جاتا ہے اور پھکنے لگتے ہیں۔ سارے سر کی کھال جھلس کر گر پڑتی ہے پھر وہ سانپ چلے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جہنمی ایک ہزار سال تک جہنم میں چلاتا رہے گا «یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ» تب اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا: جاؤ دیکھو، یہ کیا کہہ رہا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام آ کر دیکھیں گے کہ سب جہنمی برے حال سر جھکائے آہ و زاری کر رہے ہیں۔ جا کر جناب باری تعالیٰ میں خبر کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر جاؤ، فلاں فلاں جگہ یہ شخص ہے، جاؤ اور اسے لے آؤ۔ یہ بحکم الٰہی جائیں گے اور اسے لا کر اللہ کے سامنے کھڑا کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تو کیسی جگہ پر ہے؟ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! ٹھہرنے کی بری جگہ اور سونے بیٹھے کی بھی بدترین جگہ ہے۔ اللہ فرمائے گا: اچھا اب اسے اس کی جگہ واپس لے جاؤ تو یہ گڑگڑائے گا، عرض کرے گا کہ اے میرے ارحم الراحمین اللہ! جب تو نے مجھے اس سے باہر نکالا تو تیری ذات ایسی نہیں کہ پھر مجھے اس میں داخل کر دے، مجھے تو تجھ سے رحم و کرم کی ہی امید ہے۔ اے اللہ! بس اب مجھ پر کرم فرما۔ جب تو نے مجھے جہنم سے نکالا تو میں خوش ہو گیا تھا کہ اب تو اس میں نہ ڈالے گا۔ اس مالک و رحمن و رحیم اللہ کو بھی رحم آ جائے گا اور فرمائے گا: اچھا میرے بندے کو چھوڑ دو۔ } ۱؎ [مسند احمد:230/3:ضعیف]
پھر ان کا ایک اور وصف بیان ہوتا ہے کہ نہ تو وہ مسرف ہیں، نہ بخیل ہیں، نہ بےجا خرچ کرتے ہیں، نہ ضروری اخراجات میں کوتاہی کرتے ہیں بلکہ میانہ روی سے کام لیتے ہیں۔ نہ ہی ایسا کرتے ہیں کہ اپنے والوں کو، اہل و عیال کو بھی تنگ رکھیں، نہ ایسا کرتے ہیں کہ جو ہو سب لٹا دیں۔ اسی کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ فرماتا ہے: «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:29] یعنی ’ نہ تو اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ اور نہ انہیں بالکل ہی چھوڑ دے۔ ‘ مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { اپنی گزران میں میانہ روی کرنا انسان کی سمجھ داری کی دلیل ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:194/5:ضعیف] اور حدیث میں ہے: { جو افراط تفریط سے بچتا ہے، وہ کبھی فقیر محتاج نہیں ہوتا۔ } ۱؎ [مسند احمد:447/1:ضعیف] بزار کی حدیث میں ہے کہ { امیری میں، فقیری میں، عبادت میں میانہ روی بڑی ہی بہتر اور احسن چیز ہے۔ } ۱؎ [مسند بزار:3604:ضعیف] امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی راہ میں کتنا ہی چاہو دو، اس کا نام اسراف نہیں ہے۔ ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں کہیں تو حکم اللہ سے آگے بڑھ جائے، وہی اسراف ہے۔ اور بزرگوں کا قول ہے: اللہ کی نافرمانی کا خرچ اسراف کہلاتا ہے۔
67-1اللہ کی نافرمانی میں خرچ کرنا اسراف اور اللہ کی اطاعت میں خرچ کرنا بخیلی اور اللہ کے احکام و اطاعت کے مطابق خرچ کرنا قوام ہے (فتح القدیر) اسی طرح نفقات واجبہ اور مباحات میں حد اعتدال سے تجاوز بھی اسراف میں آسکتا ہے، اس لیے وہاں بھی احتیاط اور میانہ روی نہایت ضروری ہے۔
(آیت 67) {وَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَ لَمْ يَقْتُرُوْا …:} لوگوں کے ساتھ اور اپنے رب کے ساتھ رویے کے بعد ان کے مالی معاملے کا ذکر ہے۔ اسراف کا اطلاق کسی کام میں ضرورت سے زیادہ خرچ کرنے پر ہوتا ہے، مثلاً کھانے پینے یا لباس یا مکان یا شادی بیاہ وغیرہ پر بے دریغ خرچ کر دینا (ایک بلب کی ضرورت ہو تو زیادہ بلب لگا دینا، تھوڑے پانی سے کام چلتا ہو تو بے دریغ پانی بہا دینا) یا اپنی ہمت اور مقدور سے زیادہ خرچ کر دینا (پھر قرض اتارتے رہنا یا مانگنا شروع کر دینا) ایسی فضول خرچیوں سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ پھر اسراف کی ایک قسم تبذیر ہے، جس کا معنی ہے بلاضرورت خرچ کرنا، مثلاً دن کو بھی گلی میں بلب جلائے رکھنا، یا پانی کی ٹونٹی کھلی چھوڑ دینا۔ اسی طرح ناجائز کاموں میں خرچ کرنا بھی تبذیر ہے، جیسے شراب، زنا، جوئے، گانے بجانے یا آتش بازی وغیرہ ایسے کاموں میں ایک پیسہ بھی خرچ کرنا حرام ہے۔ اسراف کی ضد ”قتور“ ہے، جو {”قَتَرَ يَقْتُرُ} (ن، ض) {قَتْرًا وَ قُتُوْرًا“} سے ہے۔ باب ”افعال“ اور ”تفعیل“ سے {”إِقْتَارٌ“} اور {”تَقْتِيْرٌ“ } بھی اسی معنی میں آتا ہے، یعنی خرچ میں تنگی کرنا، شدید بخل کہ مقدور ہوتے ہوئے بھی ضرورت سے کم خرچ کرنا اور مال کو جوڑ جوڑ کر رکھنا، اپنی ذات اور اہل و عیال کی جائز ضروریات میں بھی بخل کرنا۔ اسراف اور تقتیر کے درمیان کی صفت کا نام اقتصاد (میانہ روی) ہے، یعنی اتنا خرچ کرنا جتنی ضرورت ہے اور جتنی ہمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے {” بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا “} کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ {”قَوَامٌ“} دو چیزوں کے عین درمیان کو کہتے ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ انعام (۱۴۲)، اعراف (۳۱) اور بنی اسرائیل (۲۶، ۲۹)۔
جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے، اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کردیا ہو وه بجز حق کے قتل نہیں کرتے، نہ وه زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئی یہ کام کرے وه اپنے اوپر سخت وبال ﻻئے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے اور اس جان کو جس کی اللہ نے حرمت رکھی ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے گا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ اللہ کے ساتھ کسی اور خدا کو نہیں پکارتے اور جس جان (کے مارنے) کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے ناحق قتل نہیں کرتے اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو کوئی ایسا کرے گا تو وہ گناہ کی سزا پائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ اس جان کو قتل کرتے ہیں جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو یہ کرے گا وہ سخت گناہ کو ملے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب سے بڑا گناہ ٭٭
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: تیرا اللہ کے ساتھ شرک کرنا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اس نے کہا: اس سے کم؟ فرمایا: تیرا اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالنا کہ تو اسے کھلائے گا کہاں سے؟ پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: تیرا اپنے پڑوس کی کسی عورت سے بدکاری کرنا۔ } پس اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں موجود ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4761] اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر جانے لگے، تنہا تھے۔ میں بھی ساتھ ہو لیا۔ آپ ایک اونچی جگہ بیٹھ گئے۔ میں آپ سے نیچے بیٹھ گیا اور اس تنہائی کے موقعہ کو غنیمت سمجھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ سوالات کئے، جو اوپر مذکور ہوئے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26509] حجۃ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { چار گناہوں سے بہت بچو ؛ اللہ کے ساتھ شرک، کسی حرمت والے نفس کا قتل، زناکاری اور چوری۔ } ۱؎ [مسند احمد:339/4:حسن] مسند احمد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: زنا کی بابت تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: وہ حرام ہے اور قیامت تک حرام ہے۔ آپ نے فرمایا: ہاں سنو! انسان کا اپنے پڑوس کی عورت سے زنا کرنا دوسری دس عورتوں کے زنا سے بھی بدتر ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: چوری کی نسبت کیا کہتے ہو؟ انہوں نے یہی جواب دیا کہ وہ حرام ہے، اللہ و رسول اسے حرام قرار دے چکے ہیں۔ آپ نے فرمایا: سنو! دس جگہ کی چوری بھی اتنی بری نہیں جیسی پڑوس کی ایک جگہ کی چوری۔ } ۱؎ [مسند احمد:8/6:جید]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { شرک کے بعد اس سے بڑا گناہ کوئی نہیں کہ انسان اپنا نطفہ اس رحم میں ڈالے جو اس کے لیے حلال نہیں۔ } ۱؎ [الورع لابن ابی الدنیا:137:ضعیف] یہ بھی مروی ہے کہ { بعض مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ کی دعوت اچھی ہے، سچی ہے لیکن ہم نے تو شرک بھی کیا ہے، قتل بھی کیا ہے، زناکاریاں بھی کی ہیں اور یہ سب بکثرت کیے ہیں تو فرمائیے ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت اتری اور آیت «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] نازل ہوئی۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26504] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: { اللہ تمہیں اس سے منع فرماتا ہے کہ تم خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی عبادت کرو اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنے کتے کو تو پالو اور اپنے بچے کو قتل کر ڈالو۔ اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنی پڑوسن سے بدکاری کرو۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:277/6] «اثام» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے۔ یہی وہ وادیاں ہیں جن میں زانیوں کو عذاب کیا جائے گا۔ اس کے معنی عذاب و سزا کے بھی آتے ہیں۔ لقمان حکیم رحمہ اللہ کی نصیحتوں میں ہے کہ اے بچے! زناکاری سے بچنا، اس کے شروع میں ڈر، خوف ہے اور اس کا انجام ندامت و حسرت ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ «غی» اور «اثام» دوزخ کے دو کنوئیں ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29/19] اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔ «اثام» کے معنی بدلے کے بھی مروی ہیں اور یہی ظاہر آیت کے بھی مشابہ بھی ہے۔ اور گویا اس کے بعد کی آیت اسی بدلے اور سزا کی تفسیر ہے کہ اسے بار بار عذاب کیا جائے گا اور سختی کی جائے گی اور ذلت کے دائمی عذابوں میں پھنس جائے گا۔ «اَللّٰھُمَّ احْفَظْنَا» ان کاموں کے کرنے والے کی سزا تو بیان ہو چکی ہے مگر اس سزا سے وہ بچ جائیں گے جو دنیا ہی میں اس سے توبہ کر لیں، اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قاتل کی توبہ بھی قبول ہے جو آیت سورۃ نساء میں ہیں «وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًا» ۱؎ [4-النساء:93] وہ اس کے خلاف نہیں گو وہ مدنی آیت ہے لیکن وہ مطلق ہے تو وہ محمول کی جائے گی ان قاتلوں پر جو اپنے اس فعل سے توبہ نہ کریں اور یہ آیت ان قاتلوں کے بارے میں، جو توبہ کریں۔ پھر مشرکوں کی بخشش نہ ہونے کا بیان فرمایا ہے اور صحیح احادیث سے بھی قاتل کی توبہ کی مقبولیت ثابت ہے۔ جیسے اس شخص کا قصہ جس نے ایک سو قتل کیے تھے اور اس کی توبہ قبول ہوئی۔ وغیرہ۔ یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دیتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے گناہ کے کام کئے تھے۔ اسلام میں آنے کے بعد نیکیاں کیں تو اللہ نے ان گناہ کے کاموں کے بدلے نیکیوں کی توفیق عنایت فرمائی۔ اس آیت کی تلاوت کے وقت آپ ایک عربی شعر پڑھتے تھے جس میں احوال کے تغیر کا بیان ہے جیسے گرمی سے ٹھنڈک۔ عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ دنیا کا ذکر ہے کہ انسان کی بری خصلت کو اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے نیک عادت سے بدل دیتا ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ بتوں کی پرستش کے بدلے اللہ تعالیٰ کی توفیق انہیں ملی۔ مومنوں سے لڑنے کے بجائے کافروں سے جہاد کرنے لگے۔ مشرکہ عورتوں سے نکاح کے بجائے مومنہ عورتوں سے نکاح کئے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گناہ کے بدلے ثواب کے عمل کرنے لگے۔ شرک کے بدلے توحید و اخلاص ملا۔ بدکاری کے بدلے پاکدامنی حاصل ہوئی۔ کفر کے بدلے اسلام ملا۔ ایک معنی تو اس آیت کے یہ ہوئے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ خلوص کے ساتھ ان کی جو توبہ تھی، اس سے خوش ہو کر اللہ عزوجل نے ان کے گناہوں کو نیکوں میں بدل دیا۔ یہ اس لیے کہ توبہ کے بعد جب کبھی انہیں اپنے گزشتہ گناہ یاد آتے تھے، انہیں ندامت ہوتی تھی۔ یہ غمگین ہو جاتے تھے، شرمانے لگتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔ اس وجہ سے ان کے گناہ اطاعت سے بدل گئے گو وہ ان کے نامہ اعمال میں گناہ کے طور پر لکھے ہوئے تھے لیکن قیامت کے دن وہ سب نیکیاں بن جائیں گے۔ جیسے کہ احادیث و آثار میں ثابت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { میں اس شخص کو پہچانتا ہوں جو جنت میں داخل ہونے والوں میں سب سے آخر میں جنت میں داخل ہو گا اور سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا، یہ ایک وہ شخص ہو گا جسے اللہ کے سامنے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس کے بڑے بڑے گناہوں کو چھوڑ کر چھوٹے چھوٹے گناہوں کی نسبت اس سے بازپرس کرو چنانچہ اس سے سوال ہو گا کہ فلاں فلاں دن تو نے فلاں کام کیا تھا؟ فلاں دن فلاں گناہ کیا تھا؟ یہ ایک کا بھی انکار نہ کر سکے گا، اقرار کرے گا۔ آخر میں کہا جائے گا: تجھے ہم نے ہر گناہ کے بدلے نیکی دی ہے تو اب اس کی باچھیں کھل جائیں گی اور کہے گا: اے میرے پروردگار! میں نے اور بھی بہت سے اعمال کئے تھے جنہیں یہاں پا نہیں رہا۔ یہ فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر ہنسے کہ آپ کے مسوڑھے دیکھے جانے لگے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:190ـ314] (مسلم) آپ فرماتے ہیں کہ { جب انسان سوتا ہے تو فرشتہ شیطان سے کہتا ہے: مجھے اپنا صحیفہ جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہیں دے، وہ دیتا ہے تو ایک ایک نیکی کے بدلے دس دس گناہ وہ اس کے صحیفے سے مٹا دیتا ہے اور انہیں نیکیاں لکھ دیتا ہے پس تم میں سے جو بھی سونے کا ارادہ کرے، وہ چونتیس دفعہ «اللہ اکبر» کہے اور تینتیس دفعہ «الحمدللہ» کہے اور تینتیس دفعہ «سبحان اللہ» کہے، یہ مل کر سو مرتبہ ہو گئے۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:3451:ضعیف] (ابن ابی دنیا)
سلمان فرماتے ہیں: انسان کو قیامت کے دن نامہ اعمال دیا جائے گا۔ وہ پڑھنا شروع کرے گا تو اوپر برائیاں درج ہوں گی جنہیں پڑھ کر یہ کچھ ناامید سا ہونے لگے گا۔ اسی وقت اس کی نظر نیچے کی طرف پڑے گی تو اپنی نیکیاں لکھی ہوئی پائے گا جس سے کچھ ڈھارس بندھے گی۔ اب دوبارہ اوپر کی طرف دیکھے گا تو وہاں کی برائیوں کو بھی بھلائیوں سے بدلا ہوا پائے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے آئیں گے جن کے پاس کچھ گناہ ہوں گے۔ پوچھا گیا کہ وہ کون سے لوگ ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ جن کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دے گا۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنتی جنت میں چار قسم کے جائیں گے ؛ متقین یعنی پرہیزگاری کرنے والے، پھر شاکرین یعنی شکر الٰہی کرنے والے، پھر خائفین یعنی خوف الٰہی رکھنے والے، پھر اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پانے والے۔ پوچھا گیا کہ انہیں اصحاب یمین کیوں کہا جاتا ہے؟ جواب دیا: اس لیے کہ انہوں نے نیکیاں، بدیاں سب کی تھیں۔ ان کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ ملے، اپنی بدیوں کا ایک ایک حرف پڑھ کر یہ کہنے لگے کہ اے اللہ! ہماری نیکیاں کہاں ہیں؟ یہاں تو سب بدیاں لکھی ہوئی ہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ان بدیوں کو مٹا دے گا اور ان کے بدلے نیکیاں لکھ دے گا۔ انہیں پڑھ کر خوش ہو کر اب تو یہ ایک دوسروں سے کہیں گے کہ آؤ، ہمارے اعمال نامے دیکھو۔ جنتیوں میں اکثر یہی لوگ ہونگے۔ علی بن حسین زین العابدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: برائیوں کو بھلائیوں میں بدلنا آخرت میں ہو گا۔ مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو بخشے گا اور انہیں نیکیوں میں بدل دے گا۔ مکحول رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ حدیث بیان کی کہ { ایک بہت بوڑھے ضعیف آدمی جن کی بھویں آنکھوں پر اتر آئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک ایسا شخص ہوں جس نے کوئی غداری، کوئی گناہ، کوئی بدکاری باقی نہیں چھوڑی۔ میرے گناہ اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اگر تمام انسانوں پر تقسیم ہو جائیں تو سب کے سب غضب الٰہی میں گرفتار ہو جائیں، کیا میری بخشش کی بھی کوئی صورت ہے؟ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تم مسلمان ہو جاؤ۔ اس نے کلمہ پڑھ لیا کہ «اَشْھَدُاَنْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُهُ» تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیری تمام برائیاں، گناہ، بدکاریاں سب کچھ معاف کر دے گا بلکہ جب تک تو اس پر قائم رہے گا، اللہ تعالیٰ تیری برائیاں بھلائیوں میں بدل دے گا۔ اس نے پھر پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے چھوٹے بڑے سب گناہ صاف ہو جائیں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہاں سب کے سب، پھر تو وہ شخص خوشی خوشی واپس جانے لگا اور تکبیر و تہلیل پکارتا ہوا لوٹ گیا۔ } (ابن ابی حاتم) { سیدنا ابوفروہ رضی اللہ عنہ حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے سارے گناہ کئے ہوں۔ جو جی میں آیا ہو، پورا کیا ہو۔ کیا ایسے شخص کی بھی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: تم مسلمان ہو گئے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اب نیکیاں کرو، برائیوں سے بچو تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بھی نیکوں میں بدل دے گا۔ اس نے کہا: میری غداریاں اور بدکاریاں بھی؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اب وہ اللہ اکبر کہتا ہوا واپس چلا گیا۔ } (طبرانی) ۱؎ [طبرانی کبیر:7235:صحیح] { ایک عورت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور دریافت کیا فرمایا کہ مجھ سے بدکاری ہو گئی، اس سے بچہ ہو گیا، میں نے اسے مار ڈالا۔ اب کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب نہ تیری آنکھیں ٹھنڈی ہو سکتی ہیں، نہ اللہ کے ہاں تیری بزرگی ہو سکتی ہے، تیرے لیے توبہ ہرگز نہیں۔ وہ روتی پیٹتی واپس چلی گئی۔ صبح کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر میں نے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا: تو نے اس سے بہت ہی بری بات کہی، کیا تو ان آیتوں کو قرآن میں نہیں پڑھتا؟ «وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا إِلَّا مَن تَابَ» مجھے بڑا ہی رنج ہوا اور میں لوٹ کر اس عورت کے پاس پہنچا۔ اور اسے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ وہ خوش ہو گئی اور اسی وقت سجدے میں گر پڑی اور کہنے لگی: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت پیدا کر دی۔ } (طبرانی) ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26515:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا پہلا فتویٰ سن کر وہ حسرت و افسوس کے ساتھ یہ کہتی ہوئی واپس چلی گئی کہ ہائے ہائے، یہ اچھی صورت کیا جہنم کے لے بنائی گئی تھی؟
اس میں یہ بھی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس عورت کو ڈھونڈنے کے لیے نکلے۔ تمام مدینہ اور ایک ایک گلی چھان ماری لیکن کہیں پتہ نہ چلا۔ اتفاق سے رات کو وہی عوت پھر آئی۔ تب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں صحیح مسئلہ بتلایا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اس نے اللہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت بنائی اور میری توبہ کو قبول فرمایا۔ یہ کہہ کر اس کے ساتھ جو لونڈی تھی، اسے آزاد کر دیا۔ اس لونڈی کی ایک لڑکی بھی تھی اور سچے دل سے توبہ کر لی۔ پھر فرماتا ہے اور اپنے عام لطف و کرم، فضل و رحم کی خبر دیتا ہے کہ جو بھی اللہ کی طرف جھکے اور اپنی سیاہ کاریوں پر نادم ہو کر توبہ کرے، اللہ اس کی سنتا ہے، قبول فرماتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے۔ جیسا ارشاد ہے «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» ۱؎ [4-النساء:110] ’ جو برا عمل کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے، وہ اللہ کو غفور رحیم پائے گا۔ ‘ اور جگہ ارشاد ہے «أَلَم يَعلَموا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقبَلُ التَّوبَةَ عَن عِبادِهِ» ۱؎ [9-التوبة:104] ’ کیا انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ توبہ کو قبول فرمانے والا ہے۔ ‘ اور آیت میں ہے «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ’ میرے ان بندوں سے جو گنہگار ہیں، کہہ دیجئیے کہ وہ میری رحمت سے ناامید نہ ہوں۔ ‘ یعنی توبہ کرنے والا محروم نہیں۔
68-1اور حق کے ساتھ قتل کرنے کی تین صورتیں ہیں، اسلام کے بعد کوئی دوبارہ کفر اختیار کرے، جسے ارتداد کہتے ہیں، یا شادی شدہ ہو کر بدکاری کا ارتکاب کرے یا کسی کو قتل کر دے۔ ان صورتوں میں قتل کیا جائے گا۔ 68-2حدیث میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا، کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا۔ یہ کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے دراں حالیکہ اس نے تجھے پیدا کیا۔ اس نے کہا، اس کے بعد کون سا گناہ بڑا ہے؟ فرمایا، اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کرنا کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گی، اس نے پوچھا، پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا، یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ ان باتوں کی تصدیق اس آیت سے ہوتی ہے۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی (البخاری، تفسیر سورة البقرۃ)
(آیت 68) ➊ { وَ الَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ:} یہ عباد الرحمن کی صفات کی ایک اور قسم ہے، یعنی ان برائیوں اور کمینگیوں سے پاک ہونا جو مشرکین میں پائی جاتی ہیں اور عباد الرحمان ایمان کی وجہ سے ان سے محفوظ رہتے ہیں۔ یہاں ان کے تین بڑی برائیوں سے بچے رہنے کا ذکر فرمایا، یعنی شرک، قتل ناحق اور زنا۔ اگرچہ کبیرہ گناہ اور بھی بہت سے ہیں، مگر عرب کے معاشرے میں اس وقت زیادہ تسلط انھی تین گناہوں کا تھا، اس لیے مسلمانوں کی اس خصوصیت کو نمایاں کیا گیا، اس سے مشرکین پر چوٹ بھی مقصود ہے کہ وہ اتنی نمایاں برائیوں میں مبتلا ہیں جن کی برائی ہر عقل سلیم پر واضح ہے۔ ➋ { وَ لَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ:} مراد ہر انسانی جان ہے، کیونکہ کسی بھی انسانی جان کا قتل اللہ نے حرام کیا ہے۔ ➌ { اِلَّا بِالْحَقِّ:} جیسے جان کے بدلے جان، شادی شدہ زانی کا رجم، مرتد کو قتل کرنا، جنگ میں کافر کو قتل کرنا اور مسلم یا غیر مسلم محارب کو قتل کرنا، یہ سب صورتیں {” اِلَّا بِالْحَقِّ “} کے تحت آتی ہیں۔ یہ تینوں گناہ اسی ترتیب کے ساتھ ایک حدیث میں بھی مذکور ہیں، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ”کون سا گناہ سب بڑا ہے؟“ فرمایا: ”یہ کہ تم کسی کو اللہ کا شریک قرار دو، حالانکہ اسی نے تمھیں پیدا فرمایا۔“ سائل نے کہا: ”پھر کون سا؟“ فرمایا: ”یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس اندیشے سے قتل کر دو کہ وہ تمھارے ساتھ کھانے میں شریک ہو گی۔“ اس نے کہا: ”پھر کون سا؟“ فرمایا: ”یہ کہ تم اپنے ہمسائے کی بیوی کی رضا سے اس کے ساتھ زنا کرو۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت اتار دی: «{ وَ الَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ }» [ الفرقان: ۶۸ ] [ بخاری، الأدب، باب قتل الولد …: ۶۰۰۱ ] ➍ { وَ مَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا: ” اَثَامًا “ ”إِثْمٌ“} میں الف کے اضافے سے معنی میں اضافہ ہو گیا، ”سخت گناہ۔“ اس کا معنی گناہ کی جزا بھی آتا ہے، یعنی سخت گناہ کی سزا پائے گا۔ ابن کثیر میں ہے کہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”اثام جہنم میں ایک وادی ہے۔“ دکتور حکمت بن بشیر نے فرمایا: ”اسے طبری نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔“
قیامت کے روز اس کو مکرّر عذاب دیا جائے گا اور اسی میں وہ ہمیشہ ذلت کے ساتھ پڑا رہے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اسے قیامت کے دن دوہرا عذاب کیا جائے گا اور وه ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ اسی میں رہے گا
احمد رضا خان بریلوی
بڑھایا جائے گا اس پر عذابِ قیامت کے دن اور ہمیشہ اس میں ذلت سے رہے گا،
علامہ محمد حسین نجفی
قیامت کے دن اس کا عذاب دوگنا کر دیا جائے گا۔ اور وہ اس میں ذلیل و خوار ہوکر ہمیشہ رہے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اس کے لیے قیامت کے دن عذاب دگنا کیا جائے گا اور وہ ہمیشہ اس میں ذلیل کیا ہوا رہے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب سے بڑا گناہ ٭٭
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: تیرا اللہ کے ساتھ شرک کرنا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اس نے کہا: اس سے کم؟ فرمایا: تیرا اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالنا کہ تو اسے کھلائے گا کہاں سے؟ پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: تیرا اپنے پڑوس کی کسی عورت سے بدکاری کرنا۔ } پس اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں موجود ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4761] اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر جانے لگے، تنہا تھے۔ میں بھی ساتھ ہو لیا۔ آپ ایک اونچی جگہ بیٹھ گئے۔ میں آپ سے نیچے بیٹھ گیا اور اس تنہائی کے موقعہ کو غنیمت سمجھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ سوالات کئے، جو اوپر مذکور ہوئے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26509] حجۃ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { چار گناہوں سے بہت بچو ؛ اللہ کے ساتھ شرک، کسی حرمت والے نفس کا قتل، زناکاری اور چوری۔ } ۱؎ [مسند احمد:339/4:حسن] مسند احمد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: زنا کی بابت تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: وہ حرام ہے اور قیامت تک حرام ہے۔ آپ نے فرمایا: ہاں سنو! انسان کا اپنے پڑوس کی عورت سے زنا کرنا دوسری دس عورتوں کے زنا سے بھی بدتر ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: چوری کی نسبت کیا کہتے ہو؟ انہوں نے یہی جواب دیا کہ وہ حرام ہے، اللہ و رسول اسے حرام قرار دے چکے ہیں۔ آپ نے فرمایا: سنو! دس جگہ کی چوری بھی اتنی بری نہیں جیسی پڑوس کی ایک جگہ کی چوری۔ } ۱؎ [مسند احمد:8/6:جید]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { شرک کے بعد اس سے بڑا گناہ کوئی نہیں کہ انسان اپنا نطفہ اس رحم میں ڈالے جو اس کے لیے حلال نہیں۔ } ۱؎ [الورع لابن ابی الدنیا:137:ضعیف] یہ بھی مروی ہے کہ { بعض مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ کی دعوت اچھی ہے، سچی ہے لیکن ہم نے تو شرک بھی کیا ہے، قتل بھی کیا ہے، زناکاریاں بھی کی ہیں اور یہ سب بکثرت کیے ہیں تو فرمائیے ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت اتری اور آیت «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] نازل ہوئی۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26504] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: { اللہ تمہیں اس سے منع فرماتا ہے کہ تم خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی عبادت کرو اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنے کتے کو تو پالو اور اپنے بچے کو قتل کر ڈالو۔ اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنی پڑوسن سے بدکاری کرو۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:277/6] «اثام» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے۔ یہی وہ وادیاں ہیں جن میں زانیوں کو عذاب کیا جائے گا۔ اس کے معنی عذاب و سزا کے بھی آتے ہیں۔ لقمان حکیم رحمہ اللہ کی نصیحتوں میں ہے کہ اے بچے! زناکاری سے بچنا، اس کے شروع میں ڈر، خوف ہے اور اس کا انجام ندامت و حسرت ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ «غی» اور «اثام» دوزخ کے دو کنوئیں ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29/19] اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔ «اثام» کے معنی بدلے کے بھی مروی ہیں اور یہی ظاہر آیت کے بھی مشابہ بھی ہے۔ اور گویا اس کے بعد کی آیت اسی بدلے اور سزا کی تفسیر ہے کہ اسے بار بار عذاب کیا جائے گا اور سختی کی جائے گی اور ذلت کے دائمی عذابوں میں پھنس جائے گا۔ «اَللّٰھُمَّ احْفَظْنَا» ان کاموں کے کرنے والے کی سزا تو بیان ہو چکی ہے مگر اس سزا سے وہ بچ جائیں گے جو دنیا ہی میں اس سے توبہ کر لیں، اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قاتل کی توبہ بھی قبول ہے جو آیت سورۃ نساء میں ہیں «وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًا» ۱؎ [4-النساء:93] وہ اس کے خلاف نہیں گو وہ مدنی آیت ہے لیکن وہ مطلق ہے تو وہ محمول کی جائے گی ان قاتلوں پر جو اپنے اس فعل سے توبہ نہ کریں اور یہ آیت ان قاتلوں کے بارے میں، جو توبہ کریں۔ پھر مشرکوں کی بخشش نہ ہونے کا بیان فرمایا ہے اور صحیح احادیث سے بھی قاتل کی توبہ کی مقبولیت ثابت ہے۔ جیسے اس شخص کا قصہ جس نے ایک سو قتل کیے تھے اور اس کی توبہ قبول ہوئی۔ وغیرہ۔ یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دیتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے گناہ کے کام کئے تھے۔ اسلام میں آنے کے بعد نیکیاں کیں تو اللہ نے ان گناہ کے کاموں کے بدلے نیکیوں کی توفیق عنایت فرمائی۔ اس آیت کی تلاوت کے وقت آپ ایک عربی شعر پڑھتے تھے جس میں احوال کے تغیر کا بیان ہے جیسے گرمی سے ٹھنڈک۔ عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ دنیا کا ذکر ہے کہ انسان کی بری خصلت کو اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے نیک عادت سے بدل دیتا ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ بتوں کی پرستش کے بدلے اللہ تعالیٰ کی توفیق انہیں ملی۔ مومنوں سے لڑنے کے بجائے کافروں سے جہاد کرنے لگے۔ مشرکہ عورتوں سے نکاح کے بجائے مومنہ عورتوں سے نکاح کئے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گناہ کے بدلے ثواب کے عمل کرنے لگے۔ شرک کے بدلے توحید و اخلاص ملا۔ بدکاری کے بدلے پاکدامنی حاصل ہوئی۔ کفر کے بدلے اسلام ملا۔ ایک معنی تو اس آیت کے یہ ہوئے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ خلوص کے ساتھ ان کی جو توبہ تھی، اس سے خوش ہو کر اللہ عزوجل نے ان کے گناہوں کو نیکوں میں بدل دیا۔ یہ اس لیے کہ توبہ کے بعد جب کبھی انہیں اپنے گزشتہ گناہ یاد آتے تھے، انہیں ندامت ہوتی تھی۔ یہ غمگین ہو جاتے تھے، شرمانے لگتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔ اس وجہ سے ان کے گناہ اطاعت سے بدل گئے گو وہ ان کے نامہ اعمال میں گناہ کے طور پر لکھے ہوئے تھے لیکن قیامت کے دن وہ سب نیکیاں بن جائیں گے۔ جیسے کہ احادیث و آثار میں ثابت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { میں اس شخص کو پہچانتا ہوں جو جنت میں داخل ہونے والوں میں سب سے آخر میں جنت میں داخل ہو گا اور سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا، یہ ایک وہ شخص ہو گا جسے اللہ کے سامنے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس کے بڑے بڑے گناہوں کو چھوڑ کر چھوٹے چھوٹے گناہوں کی نسبت اس سے بازپرس کرو چنانچہ اس سے سوال ہو گا کہ فلاں فلاں دن تو نے فلاں کام کیا تھا؟ فلاں دن فلاں گناہ کیا تھا؟ یہ ایک کا بھی انکار نہ کر سکے گا، اقرار کرے گا۔ آخر میں کہا جائے گا: تجھے ہم نے ہر گناہ کے بدلے نیکی دی ہے تو اب اس کی باچھیں کھل جائیں گی اور کہے گا: اے میرے پروردگار! میں نے اور بھی بہت سے اعمال کئے تھے جنہیں یہاں پا نہیں رہا۔ یہ فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر ہنسے کہ آپ کے مسوڑھے دیکھے جانے لگے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:190ـ314] (مسلم) آپ فرماتے ہیں کہ { جب انسان سوتا ہے تو فرشتہ شیطان سے کہتا ہے: مجھے اپنا صحیفہ جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہیں دے، وہ دیتا ہے تو ایک ایک نیکی کے بدلے دس دس گناہ وہ اس کے صحیفے سے مٹا دیتا ہے اور انہیں نیکیاں لکھ دیتا ہے پس تم میں سے جو بھی سونے کا ارادہ کرے، وہ چونتیس دفعہ «اللہ اکبر» کہے اور تینتیس دفعہ «الحمدللہ» کہے اور تینتیس دفعہ «سبحان اللہ» کہے، یہ مل کر سو مرتبہ ہو گئے۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:3451:ضعیف] (ابن ابی دنیا)
سلمان فرماتے ہیں: انسان کو قیامت کے دن نامہ اعمال دیا جائے گا۔ وہ پڑھنا شروع کرے گا تو اوپر برائیاں درج ہوں گی جنہیں پڑھ کر یہ کچھ ناامید سا ہونے لگے گا۔ اسی وقت اس کی نظر نیچے کی طرف پڑے گی تو اپنی نیکیاں لکھی ہوئی پائے گا جس سے کچھ ڈھارس بندھے گی۔ اب دوبارہ اوپر کی طرف دیکھے گا تو وہاں کی برائیوں کو بھی بھلائیوں سے بدلا ہوا پائے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے آئیں گے جن کے پاس کچھ گناہ ہوں گے۔ پوچھا گیا کہ وہ کون سے لوگ ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ جن کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دے گا۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنتی جنت میں چار قسم کے جائیں گے ؛ متقین یعنی پرہیزگاری کرنے والے، پھر شاکرین یعنی شکر الٰہی کرنے والے، پھر خائفین یعنی خوف الٰہی رکھنے والے، پھر اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پانے والے۔ پوچھا گیا کہ انہیں اصحاب یمین کیوں کہا جاتا ہے؟ جواب دیا: اس لیے کہ انہوں نے نیکیاں، بدیاں سب کی تھیں۔ ان کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ ملے، اپنی بدیوں کا ایک ایک حرف پڑھ کر یہ کہنے لگے کہ اے اللہ! ہماری نیکیاں کہاں ہیں؟ یہاں تو سب بدیاں لکھی ہوئی ہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ان بدیوں کو مٹا دے گا اور ان کے بدلے نیکیاں لکھ دے گا۔ انہیں پڑھ کر خوش ہو کر اب تو یہ ایک دوسروں سے کہیں گے کہ آؤ، ہمارے اعمال نامے دیکھو۔ جنتیوں میں اکثر یہی لوگ ہونگے۔ علی بن حسین زین العابدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: برائیوں کو بھلائیوں میں بدلنا آخرت میں ہو گا۔ مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو بخشے گا اور انہیں نیکیوں میں بدل دے گا۔ مکحول رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ حدیث بیان کی کہ { ایک بہت بوڑھے ضعیف آدمی جن کی بھویں آنکھوں پر اتر آئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک ایسا شخص ہوں جس نے کوئی غداری، کوئی گناہ، کوئی بدکاری باقی نہیں چھوڑی۔ میرے گناہ اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اگر تمام انسانوں پر تقسیم ہو جائیں تو سب کے سب غضب الٰہی میں گرفتار ہو جائیں، کیا میری بخشش کی بھی کوئی صورت ہے؟ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تم مسلمان ہو جاؤ۔ اس نے کلمہ پڑھ لیا کہ «اَشْھَدُاَنْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُهُ» تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیری تمام برائیاں، گناہ، بدکاریاں سب کچھ معاف کر دے گا بلکہ جب تک تو اس پر قائم رہے گا، اللہ تعالیٰ تیری برائیاں بھلائیوں میں بدل دے گا۔ اس نے پھر پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے چھوٹے بڑے سب گناہ صاف ہو جائیں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہاں سب کے سب، پھر تو وہ شخص خوشی خوشی واپس جانے لگا اور تکبیر و تہلیل پکارتا ہوا لوٹ گیا۔ } (ابن ابی حاتم) { سیدنا ابوفروہ رضی اللہ عنہ حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے سارے گناہ کئے ہوں۔ جو جی میں آیا ہو، پورا کیا ہو۔ کیا ایسے شخص کی بھی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: تم مسلمان ہو گئے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اب نیکیاں کرو، برائیوں سے بچو تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بھی نیکوں میں بدل دے گا۔ اس نے کہا: میری غداریاں اور بدکاریاں بھی؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اب وہ اللہ اکبر کہتا ہوا واپس چلا گیا۔ } (طبرانی) ۱؎ [طبرانی کبیر:7235:صحیح] { ایک عورت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور دریافت کیا فرمایا کہ مجھ سے بدکاری ہو گئی، اس سے بچہ ہو گیا، میں نے اسے مار ڈالا۔ اب کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب نہ تیری آنکھیں ٹھنڈی ہو سکتی ہیں، نہ اللہ کے ہاں تیری بزرگی ہو سکتی ہے، تیرے لیے توبہ ہرگز نہیں۔ وہ روتی پیٹتی واپس چلی گئی۔ صبح کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر میں نے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا: تو نے اس سے بہت ہی بری بات کہی، کیا تو ان آیتوں کو قرآن میں نہیں پڑھتا؟ «وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا إِلَّا مَن تَابَ» مجھے بڑا ہی رنج ہوا اور میں لوٹ کر اس عورت کے پاس پہنچا۔ اور اسے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ وہ خوش ہو گئی اور اسی وقت سجدے میں گر پڑی اور کہنے لگی: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت پیدا کر دی۔ } (طبرانی) ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26515:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا پہلا فتویٰ سن کر وہ حسرت و افسوس کے ساتھ یہ کہتی ہوئی واپس چلی گئی کہ ہائے ہائے، یہ اچھی صورت کیا جہنم کے لے بنائی گئی تھی؟
اس میں یہ بھی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس عورت کو ڈھونڈنے کے لیے نکلے۔ تمام مدینہ اور ایک ایک گلی چھان ماری لیکن کہیں پتہ نہ چلا۔ اتفاق سے رات کو وہی عوت پھر آئی۔ تب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں صحیح مسئلہ بتلایا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اس نے اللہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت بنائی اور میری توبہ کو قبول فرمایا۔ یہ کہہ کر اس کے ساتھ جو لونڈی تھی، اسے آزاد کر دیا۔ اس لونڈی کی ایک لڑکی بھی تھی اور سچے دل سے توبہ کر لی۔ پھر فرماتا ہے اور اپنے عام لطف و کرم، فضل و رحم کی خبر دیتا ہے کہ جو بھی اللہ کی طرف جھکے اور اپنی سیاہ کاریوں پر نادم ہو کر توبہ کرے، اللہ اس کی سنتا ہے، قبول فرماتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے۔ جیسا ارشاد ہے «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» ۱؎ [4-النساء:110] ’ جو برا عمل کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے، وہ اللہ کو غفور رحیم پائے گا۔ ‘ اور جگہ ارشاد ہے «أَلَم يَعلَموا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقبَلُ التَّوبَةَ عَن عِبادِهِ» ۱؎ [9-التوبة:104] ’ کیا انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ توبہ کو قبول فرمانے والا ہے۔ ‘ اور آیت میں ہے «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ’ میرے ان بندوں سے جو گنہگار ہیں، کہہ دیجئیے کہ وہ میری رحمت سے ناامید نہ ہوں۔ ‘ یعنی توبہ کرنے والا محروم نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 69) { يُضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ …: ” فِيْهٖ “} میں ہائے ضمیر کے کسرہ کے ساتھ یاء ملا دی گئی ہے، اسے اشباع کہتے ہیں۔ ان تینوں برائیوں کو ایک ہی {” الَّذِيْنَ “} کے صلے کے طور پر ذکر کیا ہے، گویا ان کے مجموعے کو ایک برائی قرار دیا ہے۔ {”ذٰلِكَ “} کا اشارہ بھی اس مجموعے کی طرف ہے۔ مراد اس سے کفار ہیں، کیونکہ مومن نہ غیر اللہ کو پکارتا ہے، نہ وہ ابدی جہنمی ہے، جبکہ ان تینوں کے مرتکب کے لیے دگنے عذاب کی اور اس میں ذلیل ہو کر ہمیشہ رہنے کی وعید ہے۔
اِلّا یہ کہ کوئی (ان گناہوں کے بعد) توبہ کر چکا ہو اور ایمان لا کر عمل صالح کرنے لگا ہو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور وہ بڑا غفور رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں، ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے، اللہ بخشنے واﻻ مہربانی کرنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھا کام کرے اور اچھا کام کرے تو ایسوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
سوائے اس کے جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے کہ اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور عمل کیا، کچھ نیک عمل تو یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ نیکیوں میں بدل دے گا اور اللہ ہمیشہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب سے بڑا گناہ ٭٭
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: تیرا اللہ کے ساتھ شرک کرنا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اس نے کہا: اس سے کم؟ فرمایا: تیرا اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالنا کہ تو اسے کھلائے گا کہاں سے؟ پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: تیرا اپنے پڑوس کی کسی عورت سے بدکاری کرنا۔ } پس اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں موجود ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4761] اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر جانے لگے، تنہا تھے۔ میں بھی ساتھ ہو لیا۔ آپ ایک اونچی جگہ بیٹھ گئے۔ میں آپ سے نیچے بیٹھ گیا اور اس تنہائی کے موقعہ کو غنیمت سمجھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ سوالات کئے، جو اوپر مذکور ہوئے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26509] حجۃ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { چار گناہوں سے بہت بچو ؛ اللہ کے ساتھ شرک، کسی حرمت والے نفس کا قتل، زناکاری اور چوری۔ } ۱؎ [مسند احمد:339/4:حسن] مسند احمد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: زنا کی بابت تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: وہ حرام ہے اور قیامت تک حرام ہے۔ آپ نے فرمایا: ہاں سنو! انسان کا اپنے پڑوس کی عورت سے زنا کرنا دوسری دس عورتوں کے زنا سے بھی بدتر ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: چوری کی نسبت کیا کہتے ہو؟ انہوں نے یہی جواب دیا کہ وہ حرام ہے، اللہ و رسول اسے حرام قرار دے چکے ہیں۔ آپ نے فرمایا: سنو! دس جگہ کی چوری بھی اتنی بری نہیں جیسی پڑوس کی ایک جگہ کی چوری۔ } ۱؎ [مسند احمد:8/6:جید]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { شرک کے بعد اس سے بڑا گناہ کوئی نہیں کہ انسان اپنا نطفہ اس رحم میں ڈالے جو اس کے لیے حلال نہیں۔ } ۱؎ [الورع لابن ابی الدنیا:137:ضعیف] یہ بھی مروی ہے کہ { بعض مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ کی دعوت اچھی ہے، سچی ہے لیکن ہم نے تو شرک بھی کیا ہے، قتل بھی کیا ہے، زناکاریاں بھی کی ہیں اور یہ سب بکثرت کیے ہیں تو فرمائیے ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت اتری اور آیت «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] نازل ہوئی۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26504] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: { اللہ تمہیں اس سے منع فرماتا ہے کہ تم خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی عبادت کرو اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنے کتے کو تو پالو اور اپنے بچے کو قتل کر ڈالو۔ اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنی پڑوسن سے بدکاری کرو۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:277/6] «اثام» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے۔ یہی وہ وادیاں ہیں جن میں زانیوں کو عذاب کیا جائے گا۔ اس کے معنی عذاب و سزا کے بھی آتے ہیں۔ لقمان حکیم رحمہ اللہ کی نصیحتوں میں ہے کہ اے بچے! زناکاری سے بچنا، اس کے شروع میں ڈر، خوف ہے اور اس کا انجام ندامت و حسرت ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ «غی» اور «اثام» دوزخ کے دو کنوئیں ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29/19] اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔ «اثام» کے معنی بدلے کے بھی مروی ہیں اور یہی ظاہر آیت کے بھی مشابہ بھی ہے۔ اور گویا اس کے بعد کی آیت اسی بدلے اور سزا کی تفسیر ہے کہ اسے بار بار عذاب کیا جائے گا اور سختی کی جائے گی اور ذلت کے دائمی عذابوں میں پھنس جائے گا۔ «اَللّٰھُمَّ احْفَظْنَا» ان کاموں کے کرنے والے کی سزا تو بیان ہو چکی ہے مگر اس سزا سے وہ بچ جائیں گے جو دنیا ہی میں اس سے توبہ کر لیں، اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قاتل کی توبہ بھی قبول ہے جو آیت سورۃ نساء میں ہیں «وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًا» ۱؎ [4-النساء:93] وہ اس کے خلاف نہیں گو وہ مدنی آیت ہے لیکن وہ مطلق ہے تو وہ محمول کی جائے گی ان قاتلوں پر جو اپنے اس فعل سے توبہ نہ کریں اور یہ آیت ان قاتلوں کے بارے میں، جو توبہ کریں۔ پھر مشرکوں کی بخشش نہ ہونے کا بیان فرمایا ہے اور صحیح احادیث سے بھی قاتل کی توبہ کی مقبولیت ثابت ہے۔ جیسے اس شخص کا قصہ جس نے ایک سو قتل کیے تھے اور اس کی توبہ قبول ہوئی۔ وغیرہ۔ یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دیتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے گناہ کے کام کئے تھے۔ اسلام میں آنے کے بعد نیکیاں کیں تو اللہ نے ان گناہ کے کاموں کے بدلے نیکیوں کی توفیق عنایت فرمائی۔ اس آیت کی تلاوت کے وقت آپ ایک عربی شعر پڑھتے تھے جس میں احوال کے تغیر کا بیان ہے جیسے گرمی سے ٹھنڈک۔ عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ دنیا کا ذکر ہے کہ انسان کی بری خصلت کو اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے نیک عادت سے بدل دیتا ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ بتوں کی پرستش کے بدلے اللہ تعالیٰ کی توفیق انہیں ملی۔ مومنوں سے لڑنے کے بجائے کافروں سے جہاد کرنے لگے۔ مشرکہ عورتوں سے نکاح کے بجائے مومنہ عورتوں سے نکاح کئے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گناہ کے بدلے ثواب کے عمل کرنے لگے۔ شرک کے بدلے توحید و اخلاص ملا۔ بدکاری کے بدلے پاکدامنی حاصل ہوئی۔ کفر کے بدلے اسلام ملا۔ ایک معنی تو اس آیت کے یہ ہوئے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ خلوص کے ساتھ ان کی جو توبہ تھی، اس سے خوش ہو کر اللہ عزوجل نے ان کے گناہوں کو نیکوں میں بدل دیا۔ یہ اس لیے کہ توبہ کے بعد جب کبھی انہیں اپنے گزشتہ گناہ یاد آتے تھے، انہیں ندامت ہوتی تھی۔ یہ غمگین ہو جاتے تھے، شرمانے لگتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔ اس وجہ سے ان کے گناہ اطاعت سے بدل گئے گو وہ ان کے نامہ اعمال میں گناہ کے طور پر لکھے ہوئے تھے لیکن قیامت کے دن وہ سب نیکیاں بن جائیں گے۔ جیسے کہ احادیث و آثار میں ثابت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { میں اس شخص کو پہچانتا ہوں جو جنت میں داخل ہونے والوں میں سب سے آخر میں جنت میں داخل ہو گا اور سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا، یہ ایک وہ شخص ہو گا جسے اللہ کے سامنے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس کے بڑے بڑے گناہوں کو چھوڑ کر چھوٹے چھوٹے گناہوں کی نسبت اس سے بازپرس کرو چنانچہ اس سے سوال ہو گا کہ فلاں فلاں دن تو نے فلاں کام کیا تھا؟ فلاں دن فلاں گناہ کیا تھا؟ یہ ایک کا بھی انکار نہ کر سکے گا، اقرار کرے گا۔ آخر میں کہا جائے گا: تجھے ہم نے ہر گناہ کے بدلے نیکی دی ہے تو اب اس کی باچھیں کھل جائیں گی اور کہے گا: اے میرے پروردگار! میں نے اور بھی بہت سے اعمال کئے تھے جنہیں یہاں پا نہیں رہا۔ یہ فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر ہنسے کہ آپ کے مسوڑھے دیکھے جانے لگے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:190ـ314] (مسلم) آپ فرماتے ہیں کہ { جب انسان سوتا ہے تو فرشتہ شیطان سے کہتا ہے: مجھے اپنا صحیفہ جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہیں دے، وہ دیتا ہے تو ایک ایک نیکی کے بدلے دس دس گناہ وہ اس کے صحیفے سے مٹا دیتا ہے اور انہیں نیکیاں لکھ دیتا ہے پس تم میں سے جو بھی سونے کا ارادہ کرے، وہ چونتیس دفعہ «اللہ اکبر» کہے اور تینتیس دفعہ «الحمدللہ» کہے اور تینتیس دفعہ «سبحان اللہ» کہے، یہ مل کر سو مرتبہ ہو گئے۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:3451:ضعیف] (ابن ابی دنیا)
سلمان فرماتے ہیں: انسان کو قیامت کے دن نامہ اعمال دیا جائے گا۔ وہ پڑھنا شروع کرے گا تو اوپر برائیاں درج ہوں گی جنہیں پڑھ کر یہ کچھ ناامید سا ہونے لگے گا۔ اسی وقت اس کی نظر نیچے کی طرف پڑے گی تو اپنی نیکیاں لکھی ہوئی پائے گا جس سے کچھ ڈھارس بندھے گی۔ اب دوبارہ اوپر کی طرف دیکھے گا تو وہاں کی برائیوں کو بھی بھلائیوں سے بدلا ہوا پائے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے آئیں گے جن کے پاس کچھ گناہ ہوں گے۔ پوچھا گیا کہ وہ کون سے لوگ ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ جن کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دے گا۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنتی جنت میں چار قسم کے جائیں گے ؛ متقین یعنی پرہیزگاری کرنے والے، پھر شاکرین یعنی شکر الٰہی کرنے والے، پھر خائفین یعنی خوف الٰہی رکھنے والے، پھر اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پانے والے۔ پوچھا گیا کہ انہیں اصحاب یمین کیوں کہا جاتا ہے؟ جواب دیا: اس لیے کہ انہوں نے نیکیاں، بدیاں سب کی تھیں۔ ان کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ ملے، اپنی بدیوں کا ایک ایک حرف پڑھ کر یہ کہنے لگے کہ اے اللہ! ہماری نیکیاں کہاں ہیں؟ یہاں تو سب بدیاں لکھی ہوئی ہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ان بدیوں کو مٹا دے گا اور ان کے بدلے نیکیاں لکھ دے گا۔ انہیں پڑھ کر خوش ہو کر اب تو یہ ایک دوسروں سے کہیں گے کہ آؤ، ہمارے اعمال نامے دیکھو۔ جنتیوں میں اکثر یہی لوگ ہونگے۔ علی بن حسین زین العابدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: برائیوں کو بھلائیوں میں بدلنا آخرت میں ہو گا۔ مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو بخشے گا اور انہیں نیکیوں میں بدل دے گا۔ مکحول رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ حدیث بیان کی کہ { ایک بہت بوڑھے ضعیف آدمی جن کی بھویں آنکھوں پر اتر آئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک ایسا شخص ہوں جس نے کوئی غداری، کوئی گناہ، کوئی بدکاری باقی نہیں چھوڑی۔ میرے گناہ اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اگر تمام انسانوں پر تقسیم ہو جائیں تو سب کے سب غضب الٰہی میں گرفتار ہو جائیں، کیا میری بخشش کی بھی کوئی صورت ہے؟ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تم مسلمان ہو جاؤ۔ اس نے کلمہ پڑھ لیا کہ «اَشْھَدُاَنْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُهُ» تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیری تمام برائیاں، گناہ، بدکاریاں سب کچھ معاف کر دے گا بلکہ جب تک تو اس پر قائم رہے گا، اللہ تعالیٰ تیری برائیاں بھلائیوں میں بدل دے گا۔ اس نے پھر پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے چھوٹے بڑے سب گناہ صاف ہو جائیں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہاں سب کے سب، پھر تو وہ شخص خوشی خوشی واپس جانے لگا اور تکبیر و تہلیل پکارتا ہوا لوٹ گیا۔ } (ابن ابی حاتم) { سیدنا ابوفروہ رضی اللہ عنہ حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے سارے گناہ کئے ہوں۔ جو جی میں آیا ہو، پورا کیا ہو۔ کیا ایسے شخص کی بھی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: تم مسلمان ہو گئے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اب نیکیاں کرو، برائیوں سے بچو تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بھی نیکوں میں بدل دے گا۔ اس نے کہا: میری غداریاں اور بدکاریاں بھی؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اب وہ اللہ اکبر کہتا ہوا واپس چلا گیا۔ } (طبرانی) ۱؎ [طبرانی کبیر:7235:صحیح] { ایک عورت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور دریافت کیا فرمایا کہ مجھ سے بدکاری ہو گئی، اس سے بچہ ہو گیا، میں نے اسے مار ڈالا۔ اب کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب نہ تیری آنکھیں ٹھنڈی ہو سکتی ہیں، نہ اللہ کے ہاں تیری بزرگی ہو سکتی ہے، تیرے لیے توبہ ہرگز نہیں۔ وہ روتی پیٹتی واپس چلی گئی۔ صبح کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر میں نے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا: تو نے اس سے بہت ہی بری بات کہی، کیا تو ان آیتوں کو قرآن میں نہیں پڑھتا؟ «وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا إِلَّا مَن تَابَ» مجھے بڑا ہی رنج ہوا اور میں لوٹ کر اس عورت کے پاس پہنچا۔ اور اسے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ وہ خوش ہو گئی اور اسی وقت سجدے میں گر پڑی اور کہنے لگی: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت پیدا کر دی۔ } (طبرانی) ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26515:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا پہلا فتویٰ سن کر وہ حسرت و افسوس کے ساتھ یہ کہتی ہوئی واپس چلی گئی کہ ہائے ہائے، یہ اچھی صورت کیا جہنم کے لے بنائی گئی تھی؟
اس میں یہ بھی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس عورت کو ڈھونڈنے کے لیے نکلے۔ تمام مدینہ اور ایک ایک گلی چھان ماری لیکن کہیں پتہ نہ چلا۔ اتفاق سے رات کو وہی عوت پھر آئی۔ تب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں صحیح مسئلہ بتلایا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اس نے اللہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت بنائی اور میری توبہ کو قبول فرمایا۔ یہ کہہ کر اس کے ساتھ جو لونڈی تھی، اسے آزاد کر دیا۔ اس لونڈی کی ایک لڑکی بھی تھی اور سچے دل سے توبہ کر لی۔ پھر فرماتا ہے اور اپنے عام لطف و کرم، فضل و رحم کی خبر دیتا ہے کہ جو بھی اللہ کی طرف جھکے اور اپنی سیاہ کاریوں پر نادم ہو کر توبہ کرے، اللہ اس کی سنتا ہے، قبول فرماتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے۔ جیسا ارشاد ہے «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» ۱؎ [4-النساء:110] ’ جو برا عمل کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے، وہ اللہ کو غفور رحیم پائے گا۔ ‘ اور جگہ ارشاد ہے «أَلَم يَعلَموا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقبَلُ التَّوبَةَ عَن عِبادِهِ» ۱؎ [9-التوبة:104] ’ کیا انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ توبہ کو قبول فرمانے والا ہے۔ ‘ اور آیت میں ہے «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ’ میرے ان بندوں سے جو گنہگار ہیں، کہہ دیجئیے کہ وہ میری رحمت سے ناامید نہ ہوں۔ ‘ یعنی توبہ کرنے والا محروم نہیں۔
70-1اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں خالص توبہ سے ہر گناہ معاف ہوسکتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی بڑا ہو، اور سورة نساء کی آیت93میں جو مومن کے قتل کی سزا جہنم بتلائی گئی ہے، تو وہ اس صورت پر معمول ہوگی، جب قاتل نے توبہ نہ کی ہو اور بغیر توبہ کئے فوت ہوگیا۔ ورنہ حدیث میں آتا ہے کہ سو آدمی کے قاتل نے بھی خالص توبہ کی تو اللہ نے اسے معاف فرمایا (صحیح مسلم) 70-2اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا حال تبدیل فرما دیتا ہے اسلام قبول کرنے سے پہلے وہ برائیاں کرتا تھا، اب نیکیاں کرتا ہے، پہلے شرک کرتا تھا، اب صرف اللہ واحد کی عبادت کرتا ہے، پہلے کافروں کے ساتھ ملکر مسلمانوں سے لڑتا تھا، اب مسلمانوں کی طرف سے کافروں سے لڑتا ہے وغیرۃ وغیرہ۔ دوسرے معنی یہ ہوئے کہ اس کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیا جاتا ہے اس کی تائید حدیث میں بھی ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' میں اس شخص کو جانتا ہوں، جو سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا ہے اور سب آخر میں جہنم سے نکلنے والا ہوگا۔ یہ وہ آدمی ہوگا کہ قیامت کے دن اس پر اس کے چھوٹے چھوٹے گناہ پیش کئے جائیں گے، بڑے ایک طرف رکھ دیئے جائیں گے۔ اس کو کہا جائیگا کہ تو نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں کام کیا تھا؟ وہ ہاں میں جواب دے گا، انکار کی اسے طاقت نہ ہوگی، علاوہ ازیں وہ اس بات سے بھی ڈر رہا ہوگا کہ ابھی تو بڑے گناہ بھی پیش کئے جائیں گے۔ کہ اتنے میں اس سے کہا جائے گا کہ جا تیرے لئے ہر برائی کے بدلے ایک نیکی ہے۔ اللہ کی مہربانی دیکھ کر کہے گا، کہ ابھی تو میرے بہت سے اعمال ایسے ہیں کہ میں انھیں یہاں نہیں دیکھ رہا، یہ بیان کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ کے دانت ظاہر ہوگئے (صحیح مسلم)
(آیت 70) ➊ { اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا …:} ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”اہلِ شرک میں سے کچھ لوگوں نے قتل کیے اور بہت کیے اور زنا کیے اور بہت کیے، پھر وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”آپ جو بات کہتے ہیں اور جس کی دعوت دیتے ہیں وہ بہت اچھی ہے، اگر آپ ہمیں یہ بتا دیں کہ ہم نے جو کچھ کیا اس کا کوئی کفارہ ہے؟“ تو یہ آیت اتری: «{ وَ الَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ … }» [ الفرقان: ۶۸ ] اور یہ آیت اتری: «{ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ }» [ الزمر: ۵۳ ] ”اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی! اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ۔“ [ مسلم، الإیمان، باب کون الإسلام یھدم ما قبلہ…: ۱۲۲ ] یہ آیت ان لوگوں کے لیے بشارت ہے جن کی زندگی پہلے طرح طرح کے جرائم سے آلودہ رہی ہو اور اب وہ اپنی اصلاح پر آمادہ ہوں، یہی عام معافی کا دن تھا جس نے اس بگڑے ہوئے معاشرے کے لاکھوں انسانوں کو سہارا دے کر مستقبل کے بگاڑ سے بچا لیا اور انھیں امید کی روشنی دکھا کر اصلاح پر آمادہ کیا۔ اگر ان سے کہا جاتا کہ جو گناہ تم کر چکے ہو ان کی سزا سے اب تم کسی طرح بچ نہیں سکتے تو وہ ہمیشہ کے لیے بدی کے بھنور میں پھنس جاتے۔ توبہ کی اس نعمت نے بگڑے ہوئے لوگوں کو کس طرح سنبھالا، اس کا اندازہ ان بہت سے واقعات سے ہوتا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آئے، عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کی محبت میرے دل میں ڈال دی تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے عرض کی: ”اپنا دایاں ہاتھ آگے کیجیے، تاکہ میں آپ کی بیعت کروں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھایا تو میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمرو! تجھے کیا ہوا؟“ میں نے کہا: ”میری ایک شرط ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری کیا شرط ہے؟“ میں نے کہا: [ أَنْ يُّغْفَرَ لِيْ، قَالَ أَمَا عَلِمْتَ يَا عَمْرُو! أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟ وَ أَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا؟ وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قبْلَهُ؟ ] [ مسلم، الإیمان، باب کون الإسلام یھدم ما قبلہ و کذا الھجرۃ والحج: ۱۲۱ ] ”(میری شرط یہ ہے) کہ میرے گناہ معاف ہوں (جو اب تک کیے ہیں)۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمرو! کیا تو جانتا نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے؟ اور یہ کہ ہجرت اپنے سے پہلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے؟ اور یہ کہ حج اپنے سے پہلے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے؟“ ➋ اللہ تعالیٰ نے برائیوں کو نیکیوں میں بدلنے کے لیے تین شرطیں رکھی ہیں، پہلی توبہ، یعنی گناہ سے باز آ جانا، گزشتہ گناہوں پر ندامت اور آئندہ کے لیے گناہ نہ کرنے کا عزم۔ دوسری شرط ایمان ہے، کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی عمل قبول ہی نہیں اور تیسری شرط عمل صالح ہے، یعنی اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق عمل کرنا۔ {” عَمَلًا صَالِحًا “} نکرہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے ”اورعمل کیا، کچھ نیک عمل۔“ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے ترجمہ کیا ہے ”اور کیا کچھ نیک کام۔“ اس میں بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں توبہ اور ایمان کے ساتھ تھوڑے عمل صالح کی بھی بہت قدر ہے۔ ➌ { فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ:} اس کی دو تفسیریں ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں انھیں گناہوں کی جگہ نیکیوں کی توفیق دے گا، کفر اور شرک کی جگہ وہ ایمان اور توحید پر قائم ہوں گے، مومنوں کو قتل کرنے کے بجائے میدان جنگ میں کفار کو قتل کریں گے۔ زنا کی جگہ پاک دامنی پر، جھوٹ کی جگہ صدق پر اور نافرمانی کی جگہ فرماں برداری پر قائم ہوں گے۔ (و علی ہذا القیاس) یہ تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنھما سے معتبر سند کے ساتھ طبری نے نقل فرمائی ہے۔ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کے تمام گناہوں کو نیکیوں میں بدل دے گا، یہ تفسیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے۔ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنِّيْ لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُوْلًا الْجَنَّةَ، وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوْجًا مِنْهَا، رَجُلٌ يُؤْتٰی بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ اعْرِضُوْا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوْبِهِ وَارْفَعُوْا عَنْهُ كِبَارَهَا، فَتُعْرَضُ عَلَيْهِ صِغَارُ ذُنُوْبِهِ، فَيُقَالُ عَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَ كَذَا، كَذَا وَ كَذَا، وَ عَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَ كَذَا، كَذَا وَ كَذَا، فَيَقُوْلُ نَعَمْ، لَا يَسْتَطِيْعُ أَنْ يُّنْكِرَ، وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنْ كِبَارِ ذُنُوْبِهِ أَنْ تُّعْرَضَ عَلَيْهِ، فَيُقَالُ لَهُ فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً، فَيَقُوْلُ رَبِّ! قَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لَا أَرَاهَا هٰهُنَا، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ ضَحِكَ حَتّٰی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ] [مسلم، الإیمان، باب أدنٰی أہل الجنۃ منزلۃ فیھا: ۱۹۰ ] ”میں اس شخص کو جانتا ہوں جو جنت میں داخل ہونے والوں میں سب سے آخری اور جہنم سے نکلنے والوں میں سب سے آخری ہو گا، وہ ایسا آدمی ہو گا جسے قیامت کے دن لایا جائے گا اور کہا جائے گا: ”اس کے سامنے اس کے چھوٹے گناہ پیش کرو اور اس کے بڑے گناہ بچائے رکھو۔“ تو اس کے سامنے اس کے چھوٹے گناہ پیش کیے جائیں گے اور کہا جائے گا: ”تو نے فلاں فلاں دن یہ یہ عمل کیے تھے اور فلاں فلاں دن یہ یہ عمل کیے تھے؟“ وہ کہے گا: ”ہاں!“ انکار نہیں کر سکے گا اور وہ اپنے بڑے گناہوں کے پیش کیے جانے سے ڈر رہا ہو گا، تو اس سے کہا جائے گا: ”تمھارے لیے ہر برائی کی جگہ ایک نیکی ہے۔“ تو وہ کہے گا: ”اے میرے رب! میں نے کئی کام کیے ہیں جو مجھے یہاں دکھائی نہیں دے رہے۔“ (ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں): ”تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کی ڈاڑھیں ظاہر ہو گئیں۔“ ➍ اہلِ علم نے گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے کی توجیہ یہ بیان فرمائی ہے کہ گناہ جتنی بار یاد آتے ہیں ان پر ندامت اور استغفار مسلسل نیکی ہے، اسی طرح توبہ کے بعد یہ عزم کہ آئندہ اگر موقع ملا تو میں ہمیشہ برائی کے بجائے نیکی کروں گا، یہ عزم ایسی نیکی ہے جو انسان کو جنت کا ابدی وارث بنا دیتی ہے۔ گزشتہ پر ندامت یا آئندہ کا عزم اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے کا باعث بن جائے گا۔ (بقاعی) ایک اور توجیہ یہ ہے کہ وہ شخص جس نے گناہ کیا ہی نہیں، مثلاً زنا یا چوری کی ہی نہیں، اسے گناہ سے بچنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی، بخلاف اس شخص کے جو زنا کا مرتکب رہا ہے، اسے زنا چھوڑنے میں جس قدر دشواری پیش آتی ہے اسے برداشت کرنا اور گناہ نہ کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ ➎ { وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا:} بظاہر گناہوں کو نیکیوں میں بدلنا بعید معلوم ہوتا ہے، اس کا جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے گناہوں پر پردہ ڈالنے والا اور بے حد رحم کرنے والا ہے، اس سے یہ کرم کچھ بھی بعید نہیں۔
جو شخص توبہ کر کے نیک عملی اختیار کرتا ہے وہ تو اللہ کی طرف پلٹ آتا ہے جیسا کہ پلٹنے کا حق ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو شخص توبہ کرے اور نیک عمل کرے وه تو (حقیقتاً) اللہ تعالیٰ کی طرف سچا رجوع کرتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جو توبہ کرے اور اچھا کام کرے تو وہ اللہ کی طرف رجوع لایا جیسی چاہیے تھی،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو کوئی توبہ کرے اور نیک عمل کرے تو وہ اللہ کی طرف اس طرح رجوع کرتا ہے جو رجوع کرنے کا حق ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو توبہ کرے اور نیک عمل کرے تو یقینا وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، سچا رجوع کرنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب سے بڑا گناہ ٭٭
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: تیرا اللہ کے ساتھ شرک کرنا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اس نے کہا: اس سے کم؟ فرمایا: تیرا اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالنا کہ تو اسے کھلائے گا کہاں سے؟ پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: تیرا اپنے پڑوس کی کسی عورت سے بدکاری کرنا۔ } پس اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں موجود ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4761] اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر جانے لگے، تنہا تھے۔ میں بھی ساتھ ہو لیا۔ آپ ایک اونچی جگہ بیٹھ گئے۔ میں آپ سے نیچے بیٹھ گیا اور اس تنہائی کے موقعہ کو غنیمت سمجھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ سوالات کئے، جو اوپر مذکور ہوئے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26509] حجۃ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { چار گناہوں سے بہت بچو ؛ اللہ کے ساتھ شرک، کسی حرمت والے نفس کا قتل، زناکاری اور چوری۔ } ۱؎ [مسند احمد:339/4:حسن] مسند احمد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: زنا کی بابت تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: وہ حرام ہے اور قیامت تک حرام ہے۔ آپ نے فرمایا: ہاں سنو! انسان کا اپنے پڑوس کی عورت سے زنا کرنا دوسری دس عورتوں کے زنا سے بھی بدتر ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: چوری کی نسبت کیا کہتے ہو؟ انہوں نے یہی جواب دیا کہ وہ حرام ہے، اللہ و رسول اسے حرام قرار دے چکے ہیں۔ آپ نے فرمایا: سنو! دس جگہ کی چوری بھی اتنی بری نہیں جیسی پڑوس کی ایک جگہ کی چوری۔ } ۱؎ [مسند احمد:8/6:جید]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { شرک کے بعد اس سے بڑا گناہ کوئی نہیں کہ انسان اپنا نطفہ اس رحم میں ڈالے جو اس کے لیے حلال نہیں۔ } ۱؎ [الورع لابن ابی الدنیا:137:ضعیف] یہ بھی مروی ہے کہ { بعض مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ کی دعوت اچھی ہے، سچی ہے لیکن ہم نے تو شرک بھی کیا ہے، قتل بھی کیا ہے، زناکاریاں بھی کی ہیں اور یہ سب بکثرت کیے ہیں تو فرمائیے ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت اتری اور آیت «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] نازل ہوئی۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26504] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: { اللہ تمہیں اس سے منع فرماتا ہے کہ تم خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی عبادت کرو اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنے کتے کو تو پالو اور اپنے بچے کو قتل کر ڈالو۔ اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنی پڑوسن سے بدکاری کرو۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:277/6] «اثام» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے۔ یہی وہ وادیاں ہیں جن میں زانیوں کو عذاب کیا جائے گا۔ اس کے معنی عذاب و سزا کے بھی آتے ہیں۔ لقمان حکیم رحمہ اللہ کی نصیحتوں میں ہے کہ اے بچے! زناکاری سے بچنا، اس کے شروع میں ڈر، خوف ہے اور اس کا انجام ندامت و حسرت ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ «غی» اور «اثام» دوزخ کے دو کنوئیں ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29/19] اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔ «اثام» کے معنی بدلے کے بھی مروی ہیں اور یہی ظاہر آیت کے بھی مشابہ بھی ہے۔ اور گویا اس کے بعد کی آیت اسی بدلے اور سزا کی تفسیر ہے کہ اسے بار بار عذاب کیا جائے گا اور سختی کی جائے گی اور ذلت کے دائمی عذابوں میں پھنس جائے گا۔ «اَللّٰھُمَّ احْفَظْنَا» ان کاموں کے کرنے والے کی سزا تو بیان ہو چکی ہے مگر اس سزا سے وہ بچ جائیں گے جو دنیا ہی میں اس سے توبہ کر لیں، اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قاتل کی توبہ بھی قبول ہے جو آیت سورۃ نساء میں ہیں «وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًا» ۱؎ [4-النساء:93] وہ اس کے خلاف نہیں گو وہ مدنی آیت ہے لیکن وہ مطلق ہے تو وہ محمول کی جائے گی ان قاتلوں پر جو اپنے اس فعل سے توبہ نہ کریں اور یہ آیت ان قاتلوں کے بارے میں، جو توبہ کریں۔ پھر مشرکوں کی بخشش نہ ہونے کا بیان فرمایا ہے اور صحیح احادیث سے بھی قاتل کی توبہ کی مقبولیت ثابت ہے۔ جیسے اس شخص کا قصہ جس نے ایک سو قتل کیے تھے اور اس کی توبہ قبول ہوئی۔ وغیرہ۔ یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دیتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے گناہ کے کام کئے تھے۔ اسلام میں آنے کے بعد نیکیاں کیں تو اللہ نے ان گناہ کے کاموں کے بدلے نیکیوں کی توفیق عنایت فرمائی۔ اس آیت کی تلاوت کے وقت آپ ایک عربی شعر پڑھتے تھے جس میں احوال کے تغیر کا بیان ہے جیسے گرمی سے ٹھنڈک۔ عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ دنیا کا ذکر ہے کہ انسان کی بری خصلت کو اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے نیک عادت سے بدل دیتا ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ بتوں کی پرستش کے بدلے اللہ تعالیٰ کی توفیق انہیں ملی۔ مومنوں سے لڑنے کے بجائے کافروں سے جہاد کرنے لگے۔ مشرکہ عورتوں سے نکاح کے بجائے مومنہ عورتوں سے نکاح کئے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گناہ کے بدلے ثواب کے عمل کرنے لگے۔ شرک کے بدلے توحید و اخلاص ملا۔ بدکاری کے بدلے پاکدامنی حاصل ہوئی۔ کفر کے بدلے اسلام ملا۔ ایک معنی تو اس آیت کے یہ ہوئے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ خلوص کے ساتھ ان کی جو توبہ تھی، اس سے خوش ہو کر اللہ عزوجل نے ان کے گناہوں کو نیکوں میں بدل دیا۔ یہ اس لیے کہ توبہ کے بعد جب کبھی انہیں اپنے گزشتہ گناہ یاد آتے تھے، انہیں ندامت ہوتی تھی۔ یہ غمگین ہو جاتے تھے، شرمانے لگتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔ اس وجہ سے ان کے گناہ اطاعت سے بدل گئے گو وہ ان کے نامہ اعمال میں گناہ کے طور پر لکھے ہوئے تھے لیکن قیامت کے دن وہ سب نیکیاں بن جائیں گے۔ جیسے کہ احادیث و آثار میں ثابت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { میں اس شخص کو پہچانتا ہوں جو جنت میں داخل ہونے والوں میں سب سے آخر میں جنت میں داخل ہو گا اور سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا، یہ ایک وہ شخص ہو گا جسے اللہ کے سامنے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس کے بڑے بڑے گناہوں کو چھوڑ کر چھوٹے چھوٹے گناہوں کی نسبت اس سے بازپرس کرو چنانچہ اس سے سوال ہو گا کہ فلاں فلاں دن تو نے فلاں کام کیا تھا؟ فلاں دن فلاں گناہ کیا تھا؟ یہ ایک کا بھی انکار نہ کر سکے گا، اقرار کرے گا۔ آخر میں کہا جائے گا: تجھے ہم نے ہر گناہ کے بدلے نیکی دی ہے تو اب اس کی باچھیں کھل جائیں گی اور کہے گا: اے میرے پروردگار! میں نے اور بھی بہت سے اعمال کئے تھے جنہیں یہاں پا نہیں رہا۔ یہ فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر ہنسے کہ آپ کے مسوڑھے دیکھے جانے لگے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:190ـ314] (مسلم) آپ فرماتے ہیں کہ { جب انسان سوتا ہے تو فرشتہ شیطان سے کہتا ہے: مجھے اپنا صحیفہ جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہیں دے، وہ دیتا ہے تو ایک ایک نیکی کے بدلے دس دس گناہ وہ اس کے صحیفے سے مٹا دیتا ہے اور انہیں نیکیاں لکھ دیتا ہے پس تم میں سے جو بھی سونے کا ارادہ کرے، وہ چونتیس دفعہ «اللہ اکبر» کہے اور تینتیس دفعہ «الحمدللہ» کہے اور تینتیس دفعہ «سبحان اللہ» کہے، یہ مل کر سو مرتبہ ہو گئے۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:3451:ضعیف] (ابن ابی دنیا)
سلمان فرماتے ہیں: انسان کو قیامت کے دن نامہ اعمال دیا جائے گا۔ وہ پڑھنا شروع کرے گا تو اوپر برائیاں درج ہوں گی جنہیں پڑھ کر یہ کچھ ناامید سا ہونے لگے گا۔ اسی وقت اس کی نظر نیچے کی طرف پڑے گی تو اپنی نیکیاں لکھی ہوئی پائے گا جس سے کچھ ڈھارس بندھے گی۔ اب دوبارہ اوپر کی طرف دیکھے گا تو وہاں کی برائیوں کو بھی بھلائیوں سے بدلا ہوا پائے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے آئیں گے جن کے پاس کچھ گناہ ہوں گے۔ پوچھا گیا کہ وہ کون سے لوگ ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ جن کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دے گا۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنتی جنت میں چار قسم کے جائیں گے ؛ متقین یعنی پرہیزگاری کرنے والے، پھر شاکرین یعنی شکر الٰہی کرنے والے، پھر خائفین یعنی خوف الٰہی رکھنے والے، پھر اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پانے والے۔ پوچھا گیا کہ انہیں اصحاب یمین کیوں کہا جاتا ہے؟ جواب دیا: اس لیے کہ انہوں نے نیکیاں، بدیاں سب کی تھیں۔ ان کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ ملے، اپنی بدیوں کا ایک ایک حرف پڑھ کر یہ کہنے لگے کہ اے اللہ! ہماری نیکیاں کہاں ہیں؟ یہاں تو سب بدیاں لکھی ہوئی ہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ان بدیوں کو مٹا دے گا اور ان کے بدلے نیکیاں لکھ دے گا۔ انہیں پڑھ کر خوش ہو کر اب تو یہ ایک دوسروں سے کہیں گے کہ آؤ، ہمارے اعمال نامے دیکھو۔ جنتیوں میں اکثر یہی لوگ ہونگے۔ علی بن حسین زین العابدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: برائیوں کو بھلائیوں میں بدلنا آخرت میں ہو گا۔ مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو بخشے گا اور انہیں نیکیوں میں بدل دے گا۔ مکحول رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ حدیث بیان کی کہ { ایک بہت بوڑھے ضعیف آدمی جن کی بھویں آنکھوں پر اتر آئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک ایسا شخص ہوں جس نے کوئی غداری، کوئی گناہ، کوئی بدکاری باقی نہیں چھوڑی۔ میرے گناہ اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اگر تمام انسانوں پر تقسیم ہو جائیں تو سب کے سب غضب الٰہی میں گرفتار ہو جائیں، کیا میری بخشش کی بھی کوئی صورت ہے؟ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تم مسلمان ہو جاؤ۔ اس نے کلمہ پڑھ لیا کہ «اَشْھَدُاَنْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُهُ» تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیری تمام برائیاں، گناہ، بدکاریاں سب کچھ معاف کر دے گا بلکہ جب تک تو اس پر قائم رہے گا، اللہ تعالیٰ تیری برائیاں بھلائیوں میں بدل دے گا۔ اس نے پھر پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے چھوٹے بڑے سب گناہ صاف ہو جائیں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہاں سب کے سب، پھر تو وہ شخص خوشی خوشی واپس جانے لگا اور تکبیر و تہلیل پکارتا ہوا لوٹ گیا۔ } (ابن ابی حاتم) { سیدنا ابوفروہ رضی اللہ عنہ حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے سارے گناہ کئے ہوں۔ جو جی میں آیا ہو، پورا کیا ہو۔ کیا ایسے شخص کی بھی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: تم مسلمان ہو گئے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اب نیکیاں کرو، برائیوں سے بچو تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بھی نیکوں میں بدل دے گا۔ اس نے کہا: میری غداریاں اور بدکاریاں بھی؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اب وہ اللہ اکبر کہتا ہوا واپس چلا گیا۔ } (طبرانی) ۱؎ [طبرانی کبیر:7235:صحیح] { ایک عورت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور دریافت کیا فرمایا کہ مجھ سے بدکاری ہو گئی، اس سے بچہ ہو گیا، میں نے اسے مار ڈالا۔ اب کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب نہ تیری آنکھیں ٹھنڈی ہو سکتی ہیں، نہ اللہ کے ہاں تیری بزرگی ہو سکتی ہے، تیرے لیے توبہ ہرگز نہیں۔ وہ روتی پیٹتی واپس چلی گئی۔ صبح کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر میں نے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا: تو نے اس سے بہت ہی بری بات کہی، کیا تو ان آیتوں کو قرآن میں نہیں پڑھتا؟ «وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا إِلَّا مَن تَابَ» مجھے بڑا ہی رنج ہوا اور میں لوٹ کر اس عورت کے پاس پہنچا۔ اور اسے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ وہ خوش ہو گئی اور اسی وقت سجدے میں گر پڑی اور کہنے لگی: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت پیدا کر دی۔ } (طبرانی) ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26515:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا پہلا فتویٰ سن کر وہ حسرت و افسوس کے ساتھ یہ کہتی ہوئی واپس چلی گئی کہ ہائے ہائے، یہ اچھی صورت کیا جہنم کے لے بنائی گئی تھی؟
اس میں یہ بھی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس عورت کو ڈھونڈنے کے لیے نکلے۔ تمام مدینہ اور ایک ایک گلی چھان ماری لیکن کہیں پتہ نہ چلا۔ اتفاق سے رات کو وہی عوت پھر آئی۔ تب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں صحیح مسئلہ بتلایا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اس نے اللہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت بنائی اور میری توبہ کو قبول فرمایا۔ یہ کہہ کر اس کے ساتھ جو لونڈی تھی، اسے آزاد کر دیا۔ اس لونڈی کی ایک لڑکی بھی تھی اور سچے دل سے توبہ کر لی۔ پھر فرماتا ہے اور اپنے عام لطف و کرم، فضل و رحم کی خبر دیتا ہے کہ جو بھی اللہ کی طرف جھکے اور اپنی سیاہ کاریوں پر نادم ہو کر توبہ کرے، اللہ اس کی سنتا ہے، قبول فرماتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے۔ جیسا ارشاد ہے «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» ۱؎ [4-النساء:110] ’ جو برا عمل کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے، وہ اللہ کو غفور رحیم پائے گا۔ ‘ اور جگہ ارشاد ہے «أَلَم يَعلَموا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقبَلُ التَّوبَةَ عَن عِبادِهِ» ۱؎ [9-التوبة:104] ’ کیا انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ توبہ کو قبول فرمانے والا ہے۔ ‘ اور آیت میں ہے «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ’ میرے ان بندوں سے جو گنہگار ہیں، کہہ دیجئیے کہ وہ میری رحمت سے ناامید نہ ہوں۔ ‘ یعنی توبہ کرنے والا محروم نہیں۔
71-1پہلی توبہ کا تعلق کفر و شرک سے ہے۔ اس توبہ کا تعلق دیگر معاصی اور کوتاہیوں سے ہے۔
(آیت 71) {وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوْبُ …:} یہاں ایک سوال یہ ہے کہ پچھلی آیت میں توبہ کے ذکر کے بعد دوبارہ توبہ کے ذکر میں کیا حکمت ہے؟ اور ایک یہ کہ یہ کہنا کہ ”جو شخص توبہ کرے تو وہ توبہ کرتا ہے…“ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے {”مَنْ قَامَ فَإِنَّهُ يَقُوْمُ“} یعنی جو کھڑا ہو تو وہ کھڑا ہوتا ہے، تو اس سے کیا فائدہ حاصل ہوا؟ اس کا جواب کئی طرح سے دیا گیا ہے، ایک یہ کہ اس میں توبہ کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ جو شخص توبہ کرے اور عمل صالح کرے، تو اسے جان لینا چاہیے کہ وہ اس توبہ کے ساتھ کسی معمولی ہستی کی طرف پلٹ کر نہیں جا رہا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹ کر جا رہا ہے، جو بندے کی توبہ سے بہت محبت کرتا ہے اور اس کی توبہ معمولی نہیں بلکہ بڑی شان والی اور سچی توبہ ہے۔ دوسرا یہ کہ اگرچہ پچھلی آیت میں بھی عملِ صالح کا ذکر تھا مگر اس کی اہمیت کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ نے اسے پھر دہرایا اور فرمایا کہ صرف زبانی توبہ اللہ کے ہاں معتبر نہیں، اس کے مطابق عمل بھی ضروری ہے، چنانچہ جو شخص توبہ کرے اور نیک اعمال کرے وہ اللہ کی طرف سچی اور حقیقی توبہ کرتا ہے اور جو قدرت کے باوجود عمل نہ کرے اس کا توبہ کا دعویٰ قبول نہیں اور اس کی توبہ سچی اور حقیقی نہیں، بلکہ جھوٹی اور بے کار ہے۔ تیسرا یہ کہ پچھلی آیت میں کفر کے زمانے میں کیے ہوئے گناہوں سے توبہ کا ذکر تھا، اس آیت میں مسلمان ہونے کے بعد کیے ہوئے گناہوں سے توبہ کا ذکر ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد بھی کوئی شخص کسی بھی گناہ سے توبہ کرے تو اس کی توبہ بھی سچی اور مقبول توبہ ہو گی۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما مسلمان قاتل کی توبہ قبول ہونے کے قائل نہیں، اس آیت سے اس کی توبہ کا قبول ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نساء کی آیت (۹۳): «{ وَ مَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا }» کی تفسیر۔
(اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں) جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے اور کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہو جائے تو شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہوتا ہے تو شرافت سے گزر جاتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب بیہودہ پر گذرتے ہیں اپنی عزت سنبھالے گزر جاتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے (یا جو زُور یعنی غنا کی جگہ پر حاضر نہیں ہوتے) اور جو جب کسی بیہودہ کام کے پاس سے گزرتے ہیں تو شریفانہ انداز میں گزر جاتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ جو جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے اور جب بے ہودہ کام کے پاس سے گزرتے ہیں تو باعزت گزر جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عباد الرحمن کے اوصاف ٭٭
عباد الرحمان کے اور نیک اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے یعنی شرک نہیں کرتے، بت پرستی سے بچتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے، فسق و فجور نہیں کرتے، کفر سے الگ رہتے ہیں، لغو اور باطل کاموں سے پرہیز کرتے ہیں، گانا نہیں سنتے، مشرکوں کی عیدیں نہیں مناتے، خیانت نہیں کرتے، بری مجلسوں میں نشست نہیں رکھتے، شرابیں نہیں پیتے، شراب خانوں میں نہیں جاتے، اس کی رغبت نہیں کرتے۔ حدیث میں بھی ہے کہ { سچے مومن کو چاہئے کہ اس دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر دور شراب چل رہا ہو اور یہ مطلب ہے کہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ } ۱؎ [مسند احمد:20/1:حسن] بخاری و مسلم میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ بتا دوں؟ تین دفعہ یہی فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔ اس وقت تک آپ تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے تھے، اب اس سے الگ ہو کر فرمانے لگے: سنو اور جھوٹی بات کہنا، سنو اور جھوٹی گواہی دینا، اسے باربار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم اپنے دل میں کہنے لگے کہ کاش! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب خاموش ہو جاتے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2654] زیادہ ظاہر لفظوں سے تو یہ ہے کہ وہ جھوٹ کے پاس نہیں جاتے۔ اللہ کے ان بزرگ بندوں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ قرآن کی آیتیں سن کر ان کے دل دہل جاتے ہیں، ان کے ایمان اور توکل بڑھ جاتے ہیں بخلاف کفار کے کہ ان پر کلام الٰہی کا اثر نہیں ہوتا، وہ اپنی بداعمالیوں سے باز نہیں رہتے۔ نہ اپنا کفر چھوڑتے ہیں نہ سرکشی، طغیانی اور جہالت و ضلالت سے باز آتے ہیں۔ ایمان والوں کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور بیمار دل والوں کی گندگی ابھر آتی ہے۔ پس کافر اللہ کی آیتوں سے بہرے اور اندھے ہو جاتے ہیں۔ ان مومنوں کی حالت ان کے برعکس ہے، نہ یہ حق سے بہرے ہیں، نہ حق سے اندھے ہیں۔ سنتے ہیں، سمجھتے ہیں، نفع حاصل کرتے ہیں، اپنی اصلاح کرتے ہیں۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو پڑھتے تو ہیں لیکن اندھا پن، بہرا پن نہیں چھوڑتے۔ شعبی رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص آتا ہے اور وہ دوسروں کو سجدے میں پاتا ہے لیکن اسے نہیں معلوم کہ کس آیت کو پڑھ کر سجدہ کیا ہے؟ تو کیا وہ بھی ان کے ساتھ سجدہ کر لے؟ تو آپ نے یہی آیت پڑھی یعنی سجدہ نہ کرے۔ اس لیے کہ اس نے سجدے کی آیت پڑھی، نہ سنی، نہ سوچی تو مومن کا کوئی کام اندھا دھند نہ کرنا چاہیے جب تک اس کے سامنے کسی چیز کی حقیقت نہ ہو، اسے شامل نہ ہونا چائیے۔
پھر ان بزرگ بندوں کی ایک دعا بیان ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے طلب کرتے ہیں کہ ان کی اولادیں بھی ان کی طرح رب کی فرمانبردار، عبادت گزار، موحد اور غیر مشرک ہوں تاکہ دنیا میں بھی اس نیک اولاد سے ان کا دل ٹھنڈا رہے اور آخرت میں بھی۔ یہ انہیں اچھی حالت میں دیکھ کر خوش ہوں۔ اس دعا سے ان کی غرض خوبصورتی اور جمال نہیں بلکہ نیکی اور خوش خلقی کی ہے۔ مسلمان کی سچی خوشی اسی میں ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کو، دوست احباب کو اللہ کا فرماں بردار دیکھے۔ وہ ظالم نہ ہوں، بدکار نہ ہوں۔ سچے مسلمان ہوں۔ { سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر ایک صاحب فرمانے لگے: ان کی آنکھوں کو مبارک باد ہو جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے۔ کاش کہ ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے اور تمہاری طرح فیض صحبت حاصل کرتے۔ اس پر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے تو نفیر کہتے ہیں: مجھے تعجب معلوم ہوا کہ اس بات میں کوئی برائی نہیں، پھر یہ کیوں خفا ہو رہے ہیں؟ اتنے میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ کہ اس چیز کی آرزو کرتے ہیں کہ جو قدرت نے انہیں نہیں دی۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ اگر اس وقت ہوتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ واللہ وہ لوگ بھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے جنہوں نے نہ آپ کی تصدیق کی، نہ تابعداری کی اور اوندھے منہ جہنم میں گئے۔ تم اللہ کا یہ احسان نہیں مانتے کہ اللہ نے تمہیں اسلام میں اور مسلمان گھروں میں پیدا کیا؟ پیدا ہوتے ہی تمہارے کانوں میں اللہ کی توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پڑی اور ان بلاؤں سے تم بچالئے گئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ایسے زمانے میں مبعوث ہوئے تھے جس وقت دنیا کی اندھیر نگری اپنی انتہا پر تھی۔ اس وقت دنیا والوں کے نزدیک بت پرستی سے بہتر کوئی مذہب نہ تھا۔ آپ فرقان لے کر آئے، حق و باطل میں تمیز کی۔ باپ بیٹے جدا ہو گئے۔ مسلمان اپنے باپ دادوں، بیٹوں، پوتوں، دوست احباب کو کفر پر دیکھتے، ان سے انہیں کوئی محبت پیار نہیں ہوتا تھا بلکہ کڑہتے تھے کہ یہ جہنمی ہیں اسی لیے ان کی دعائیں ہوتی تھیں کہ ہمیں ہماری اولاد اور بیویوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما کیونکہ کفار کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہوتی تھیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:3/6:صحیح] اس دعا کا آخر یہ ہے کہ ہمیں لوگوں کا رہبر بنا دے کہ ہم انہیں نیکی کی تعلیم دیں، لوگ بھلائی میں ہماری اقتداء کریں۔ ہماری اولاد ہماری راہ چلے تاکہ ثواب بڑھ جائے اور ان کی نیکیوں کا باعث بھی ہم بن جائیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { انسان کے مرتے ہی اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں مگر تین چیزیں ؛ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے یا علم جس سے اس کے بعد نفع اٹھایا جائے یا صدقہ جاریہ۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:3084]
72-1زور کے معنی جھوٹ کے ہیں۔ ہر باطل چیز بھی جھوٹ ہے، اس لئے جھوٹی گواہی سے لے کر کفر و شرک اور ہر طرح کی غلط چیزیں مثلاً، گانا اور دیگر بےہودہ جاہلانہ رسوم و افعال، سب اس میں شامل ہیں اور اللہ کے نیک بندوں کی یہ صفت بھی ہے کہ وہ کسی بھی جھوٹ میں اور جھوٹی مجلس میں حاضر نہیں ہوتے۔ 72-2لَغْو ہر وہ بات اور کام ہے، جس میں شرعاً کوئی فائدہ نہیں۔ یعنی ایسے کاموں اور باتوں میں بھی شرکت نہیں کرتے بلکہ خاموشی کے ساتھ عزت اور وقار سے گزر جاتے ہیں۔
(آیت 72) ➊ {وَ الَّذِيْنَ لَا يَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ:} اہل ایمان کی تین بنیادی صفات کے بعد اب چند مزید صفات کا ذکر ہوتا ہے، جن کے ساتھ ایمان میں کمال حاصل ہوتا ہے۔ {”شَهِدَ يَشْهَدُ“ } حاضر ہونے کے معنی میں آتا ہے اور اس کا اصل مفہوم یہی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ }» [ البقرۃ: ۱۸۵ ] ”تو تم میں سے جو اس مہینے میں حاضر ہو وہ اس کا روزہ رکھے۔“ اور کسی چیز کے متعلق گواہی دینے کے لیے بھی آتا ہے، جس میں وہ حاضر رہا ہو یا جانتا ہو، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اَشْهِدُوْا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ }» [ الطلاق: ۲ ] ”اور اپنوں میں سے دو صاحب عدل آدمی گواہ بنا لو۔“ اور فرمایا: «{ شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ }» [ آل عمران: ۱۸ ] ”اللہ نے گواہی دی کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی، اس حال میں کہ وہ انصاف پر قائم ہے۔“ اس آیت کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ وہ باطل کی مجلسوں میں حاضر نہیں ہوتے، جن میں مشرکین حاضر ہوتے ہیں۔ وہ لہو و لعب، گانے بجانے، غیبت یا بدکاری کی مجلسیں ہوں یا ظلم و زیادتی یا کسی بھی گناہ کی منصوبہ بندی کی مجلسیں، یا کفار کے جشنوں، ان کے کھیل تماشوں کی مجلسیں، غرض ایسی ہر مجلس میں شرکت سے وہ اجتناب کرتے ہیں۔ اس صورت میں لفظ {”الزُّوْرَ “ ” لَا يَشْهَدُوْنَ “} کا مفعول بہ ہو گا۔ یہی مفہوم سورۂ انعام میں بیان ہوا ہے، فرمایا: «{ وَ اِذَا رَاَيْتَ الَّذِيْنَ يَخُوْضُوْنَ فِيْۤ اٰيٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِهٖ وَ اِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ }» [الأنعام: ۶۸ ] ”اور جب تو ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیات کے بارے میں (فضول) بحث کرتے ہیں تو ان سے کنارہ کر، یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ بات میں مشغول ہو جائیں اور اگر کبھی شیطان تجھے ضرور ہی بھلا دے تو یا د آنے کے بعد ایسے ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھ۔“ اور {”يَشْهَدُوْنَ“} کا معنی گواہی بھی ہو سکتا ہے، اس صورت میں {” لَا يَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ “} سے مراد {”لَا يَشْهَدُوْنَ بِالزُّوْرِ“} یا {”لَا يَشْهَدُوْنَ شَهَادَةَ الزُّوْرِ“} ہو گا کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْإِشْرَاكُ بِاللّٰهِ وَ عُقُوْقُ الْوَالِدَيْنِ وَ قَتْلُ النَّفْسِ وَ شَهَادَةُ الزُّوْرِ ] [ بخاري، الشھادات، باب ما قیل في شھادۃ الزور: ۲۶۵۳ ] ”اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، والدین کو ستانا، کسی جان کو قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔“ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”آیات کے سیاق سے زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ وہ جھوٹ اور باطل کی مجلس میں شریک نہیں ہوتے۔“ ➋ { وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا:” كِرَامًا “} کریم کا اصل معنی وہ چیز ہے جو اپنی قسم میں سب سے عمدہ ہو، جیسا کہ فرمایا: «{فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ کَرِیْمٍ}» [ لقمان: ۱۰ ] ”پھر ہم نے اس میں ہر طرح کی عمدہ قسم اگائی۔“ ”لغو“ کا معنی بے فائدہ اور بے کار چیز، یعنی {”كُلَّ مَا يَنْبَغِيْ أَنْ يُّلْغٰي وَ يُطْرَحُ “} کہ ہر وہ چیز جو بے کار کیے جانے اورپھینکے جانے کے لائق ہو۔ (کشاف) اس میں ہر گناہ آ جاتا ہے، یعنی رحمان کے بندے بے ہودہ مجالس میں شریک نہیں ہوتے اور اگر ایسی کسی مجلس پر ان کا گزر ہو تو الجھنے اور لڑنے کے بجائے بہت باعزت اور عمدہ ترین طریقے سے گزر جاتے ہیں۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ ذَرِ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا }» [ الأنعام: ۷۰ ] ”اور ان لوگوں کو چھوڑ دے جنھوں نے اپنے دین کو کھیل اور دل لگی بنا لیا۔“ اور فرمایا: «{ وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ }» [ القصص: ۵۵ ] ”اور جب وہ لغو بات سنتے ہیں تو اس سے کنارہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال۔ سلام ہے تم پر، ہم جاہلوں کو نہیں چاہتے۔“
جنہیں اگر اُن کے رب کی آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس پر اندھے اور بہرے بن کر نہیں رہ جاتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب انہیں ان کے رب کے کلام کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وه اندھے بہرے ہو کر ان پر نہیں گرتے۔
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ کہ جب کہ انہیں ان کے رب کی آیتیں یاد د لائی جائیں تو ان پر بہرے اندھے ہوکر نہیں گرتے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب انہیں ان کے پروردگار کی آیتوں کے ذریعہ سے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ بہرے اور اندھے ہوکر ان پر گر نہیں پڑتے (بلکہ ان میں غور و فکر کرتے ہیں)۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ کہ جب انھیں ان کے رب کی آیات کے ساتھ نصیحت کی جائے تو ان پر بہرے اور اندھے ہوکر نہیں گرتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عباد الرحمن کے اوصاف ٭٭
عباد الرحمان کے اور نیک اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے یعنی شرک نہیں کرتے، بت پرستی سے بچتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے، فسق و فجور نہیں کرتے، کفر سے الگ رہتے ہیں، لغو اور باطل کاموں سے پرہیز کرتے ہیں، گانا نہیں سنتے، مشرکوں کی عیدیں نہیں مناتے، خیانت نہیں کرتے، بری مجلسوں میں نشست نہیں رکھتے، شرابیں نہیں پیتے، شراب خانوں میں نہیں جاتے، اس کی رغبت نہیں کرتے۔ حدیث میں بھی ہے کہ { سچے مومن کو چاہئے کہ اس دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر دور شراب چل رہا ہو اور یہ مطلب ہے کہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ } ۱؎ [مسند احمد:20/1:حسن] بخاری و مسلم میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ بتا دوں؟ تین دفعہ یہی فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔ اس وقت تک آپ تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے تھے، اب اس سے الگ ہو کر فرمانے لگے: سنو اور جھوٹی بات کہنا، سنو اور جھوٹی گواہی دینا، اسے باربار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم اپنے دل میں کہنے لگے کہ کاش! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب خاموش ہو جاتے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2654] زیادہ ظاہر لفظوں سے تو یہ ہے کہ وہ جھوٹ کے پاس نہیں جاتے۔ اللہ کے ان بزرگ بندوں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ قرآن کی آیتیں سن کر ان کے دل دہل جاتے ہیں، ان کے ایمان اور توکل بڑھ جاتے ہیں بخلاف کفار کے کہ ان پر کلام الٰہی کا اثر نہیں ہوتا، وہ اپنی بداعمالیوں سے باز نہیں رہتے۔ نہ اپنا کفر چھوڑتے ہیں نہ سرکشی، طغیانی اور جہالت و ضلالت سے باز آتے ہیں۔ ایمان والوں کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور بیمار دل والوں کی گندگی ابھر آتی ہے۔ پس کافر اللہ کی آیتوں سے بہرے اور اندھے ہو جاتے ہیں۔ ان مومنوں کی حالت ان کے برعکس ہے، نہ یہ حق سے بہرے ہیں، نہ حق سے اندھے ہیں۔ سنتے ہیں، سمجھتے ہیں، نفع حاصل کرتے ہیں، اپنی اصلاح کرتے ہیں۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو پڑھتے تو ہیں لیکن اندھا پن، بہرا پن نہیں چھوڑتے۔ شعبی رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص آتا ہے اور وہ دوسروں کو سجدے میں پاتا ہے لیکن اسے نہیں معلوم کہ کس آیت کو پڑھ کر سجدہ کیا ہے؟ تو کیا وہ بھی ان کے ساتھ سجدہ کر لے؟ تو آپ نے یہی آیت پڑھی یعنی سجدہ نہ کرے۔ اس لیے کہ اس نے سجدے کی آیت پڑھی، نہ سنی، نہ سوچی تو مومن کا کوئی کام اندھا دھند نہ کرنا چاہیے جب تک اس کے سامنے کسی چیز کی حقیقت نہ ہو، اسے شامل نہ ہونا چائیے۔
پھر ان بزرگ بندوں کی ایک دعا بیان ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے طلب کرتے ہیں کہ ان کی اولادیں بھی ان کی طرح رب کی فرمانبردار، عبادت گزار، موحد اور غیر مشرک ہوں تاکہ دنیا میں بھی اس نیک اولاد سے ان کا دل ٹھنڈا رہے اور آخرت میں بھی۔ یہ انہیں اچھی حالت میں دیکھ کر خوش ہوں۔ اس دعا سے ان کی غرض خوبصورتی اور جمال نہیں بلکہ نیکی اور خوش خلقی کی ہے۔ مسلمان کی سچی خوشی اسی میں ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کو، دوست احباب کو اللہ کا فرماں بردار دیکھے۔ وہ ظالم نہ ہوں، بدکار نہ ہوں۔ سچے مسلمان ہوں۔ { سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر ایک صاحب فرمانے لگے: ان کی آنکھوں کو مبارک باد ہو جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے۔ کاش کہ ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے اور تمہاری طرح فیض صحبت حاصل کرتے۔ اس پر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے تو نفیر کہتے ہیں: مجھے تعجب معلوم ہوا کہ اس بات میں کوئی برائی نہیں، پھر یہ کیوں خفا ہو رہے ہیں؟ اتنے میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ کہ اس چیز کی آرزو کرتے ہیں کہ جو قدرت نے انہیں نہیں دی۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ اگر اس وقت ہوتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ واللہ وہ لوگ بھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے جنہوں نے نہ آپ کی تصدیق کی، نہ تابعداری کی اور اوندھے منہ جہنم میں گئے۔ تم اللہ کا یہ احسان نہیں مانتے کہ اللہ نے تمہیں اسلام میں اور مسلمان گھروں میں پیدا کیا؟ پیدا ہوتے ہی تمہارے کانوں میں اللہ کی توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پڑی اور ان بلاؤں سے تم بچالئے گئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ایسے زمانے میں مبعوث ہوئے تھے جس وقت دنیا کی اندھیر نگری اپنی انتہا پر تھی۔ اس وقت دنیا والوں کے نزدیک بت پرستی سے بہتر کوئی مذہب نہ تھا۔ آپ فرقان لے کر آئے، حق و باطل میں تمیز کی۔ باپ بیٹے جدا ہو گئے۔ مسلمان اپنے باپ دادوں، بیٹوں، پوتوں، دوست احباب کو کفر پر دیکھتے، ان سے انہیں کوئی محبت پیار نہیں ہوتا تھا بلکہ کڑہتے تھے کہ یہ جہنمی ہیں اسی لیے ان کی دعائیں ہوتی تھیں کہ ہمیں ہماری اولاد اور بیویوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما کیونکہ کفار کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہوتی تھیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:3/6:صحیح] اس دعا کا آخر یہ ہے کہ ہمیں لوگوں کا رہبر بنا دے کہ ہم انہیں نیکی کی تعلیم دیں، لوگ بھلائی میں ہماری اقتداء کریں۔ ہماری اولاد ہماری راہ چلے تاکہ ثواب بڑھ جائے اور ان کی نیکیوں کا باعث بھی ہم بن جائیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { انسان کے مرتے ہی اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں مگر تین چیزیں ؛ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے یا علم جس سے اس کے بعد نفع اٹھایا جائے یا صدقہ جاریہ۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:3084]
73-1یعنی وہ ان سے اعراض و غفلت نہیں برتتے جیسے وہ بہرے ہوں کہ سنیں ہی نہیں یا اندھے ہوں کہ دیکھیں ہی نہیں۔ بلکہ وہ غور اور توجہ سے سنتے اور انھیں آویزہ گوش اور حرز جان بناتے ہیں۔
(آیت 73) {وَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ …:} ”بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرتے“ بلکہ وہ انھیں نہایت غور و فکر سے سنتے اور ان کا گہرا اثر قبول کرتے ہیں۔ اس میں کفار پر چوٹ ہے کہ وہ اپنے رب کی آیات سن کر ذرہ بھر متاثر نہیں ہوتے، بلکہ اپنے کفر پر سختی سے جمے رہتے ہیں۔ نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے کفار کا یہی نقشہ کھینچا ہے، فرمایا: «{ وَ اِنِّيْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِيْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا }» [ نوح: ۷ ] ”اور بے شک میں نے جب بھی انھیں دعوت دی، تاکہ تو انھیں معاف کردے، انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے اور اَڑ گئے اور تکبر کیا، بڑا تکبر کرنا۔“ کفار کی اس حالت کے بیان کے لیے دیکھیے سورۂ حم السجدہ (۵، ۲۶)۔ زمخشری نے فرمایا کہ اس کا معنی یہ نہیں کہ رحمان کے بندے آیات کے ساتھ نصیحت سن کر گرتے نہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اندھے بہرے ہو کر نہیں گرتے بلکہ سنتے اور دیکھتے ہوئے گر جاتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّمَا يُؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ۠ }» [ السجدۃ: ۱۵ ] ”ہماری آیات پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب انھیں ان کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔“ اور فرمایا: «{ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْاسُجَّدًا وَّ بُكِيًّا }» [ مریم: ۵۸ ] ”جب ان پر رحمان کی آیات پڑھی جاتی تھیں وہ سجدہ کرتے اور روتے ہوئے گر جاتے تھے۔“
جو دعائیں مانگا کرتے ہیں کہ "اے ہمارے رب، ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا امام بنا"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اوﻻد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو عرض کرتے ہیں، اے ہمارے رب! ہمیں دے ہماری بیبیوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیش رو بنا۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور اولادوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عباد الرحمن کے اوصاف ٭٭
عباد الرحمان کے اور نیک اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے یعنی شرک نہیں کرتے، بت پرستی سے بچتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے، فسق و فجور نہیں کرتے، کفر سے الگ رہتے ہیں، لغو اور باطل کاموں سے پرہیز کرتے ہیں، گانا نہیں سنتے، مشرکوں کی عیدیں نہیں مناتے، خیانت نہیں کرتے، بری مجلسوں میں نشست نہیں رکھتے، شرابیں نہیں پیتے، شراب خانوں میں نہیں جاتے، اس کی رغبت نہیں کرتے۔ حدیث میں بھی ہے کہ { سچے مومن کو چاہئے کہ اس دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر دور شراب چل رہا ہو اور یہ مطلب ہے کہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ } ۱؎ [مسند احمد:20/1:حسن] بخاری و مسلم میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ بتا دوں؟ تین دفعہ یہی فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔ اس وقت تک آپ تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے تھے، اب اس سے الگ ہو کر فرمانے لگے: سنو اور جھوٹی بات کہنا، سنو اور جھوٹی گواہی دینا، اسے باربار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم اپنے دل میں کہنے لگے کہ کاش! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب خاموش ہو جاتے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2654] زیادہ ظاہر لفظوں سے تو یہ ہے کہ وہ جھوٹ کے پاس نہیں جاتے۔ اللہ کے ان بزرگ بندوں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ قرآن کی آیتیں سن کر ان کے دل دہل جاتے ہیں، ان کے ایمان اور توکل بڑھ جاتے ہیں بخلاف کفار کے کہ ان پر کلام الٰہی کا اثر نہیں ہوتا، وہ اپنی بداعمالیوں سے باز نہیں رہتے۔ نہ اپنا کفر چھوڑتے ہیں نہ سرکشی، طغیانی اور جہالت و ضلالت سے باز آتے ہیں۔ ایمان والوں کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور بیمار دل والوں کی گندگی ابھر آتی ہے۔ پس کافر اللہ کی آیتوں سے بہرے اور اندھے ہو جاتے ہیں۔ ان مومنوں کی حالت ان کے برعکس ہے، نہ یہ حق سے بہرے ہیں، نہ حق سے اندھے ہیں۔ سنتے ہیں، سمجھتے ہیں، نفع حاصل کرتے ہیں، اپنی اصلاح کرتے ہیں۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو پڑھتے تو ہیں لیکن اندھا پن، بہرا پن نہیں چھوڑتے۔ شعبی رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص آتا ہے اور وہ دوسروں کو سجدے میں پاتا ہے لیکن اسے نہیں معلوم کہ کس آیت کو پڑھ کر سجدہ کیا ہے؟ تو کیا وہ بھی ان کے ساتھ سجدہ کر لے؟ تو آپ نے یہی آیت پڑھی یعنی سجدہ نہ کرے۔ اس لیے کہ اس نے سجدے کی آیت پڑھی، نہ سنی، نہ سوچی تو مومن کا کوئی کام اندھا دھند نہ کرنا چاہیے جب تک اس کے سامنے کسی چیز کی حقیقت نہ ہو، اسے شامل نہ ہونا چائیے۔
پھر ان بزرگ بندوں کی ایک دعا بیان ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے طلب کرتے ہیں کہ ان کی اولادیں بھی ان کی طرح رب کی فرمانبردار، عبادت گزار، موحد اور غیر مشرک ہوں تاکہ دنیا میں بھی اس نیک اولاد سے ان کا دل ٹھنڈا رہے اور آخرت میں بھی۔ یہ انہیں اچھی حالت میں دیکھ کر خوش ہوں۔ اس دعا سے ان کی غرض خوبصورتی اور جمال نہیں بلکہ نیکی اور خوش خلقی کی ہے۔ مسلمان کی سچی خوشی اسی میں ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کو، دوست احباب کو اللہ کا فرماں بردار دیکھے۔ وہ ظالم نہ ہوں، بدکار نہ ہوں۔ سچے مسلمان ہوں۔ { سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر ایک صاحب فرمانے لگے: ان کی آنکھوں کو مبارک باد ہو جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے۔ کاش کہ ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے اور تمہاری طرح فیض صحبت حاصل کرتے۔ اس پر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے تو نفیر کہتے ہیں: مجھے تعجب معلوم ہوا کہ اس بات میں کوئی برائی نہیں، پھر یہ کیوں خفا ہو رہے ہیں؟ اتنے میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ کہ اس چیز کی آرزو کرتے ہیں کہ جو قدرت نے انہیں نہیں دی۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ اگر اس وقت ہوتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ واللہ وہ لوگ بھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے جنہوں نے نہ آپ کی تصدیق کی، نہ تابعداری کی اور اوندھے منہ جہنم میں گئے۔ تم اللہ کا یہ احسان نہیں مانتے کہ اللہ نے تمہیں اسلام میں اور مسلمان گھروں میں پیدا کیا؟ پیدا ہوتے ہی تمہارے کانوں میں اللہ کی توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پڑی اور ان بلاؤں سے تم بچالئے گئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ایسے زمانے میں مبعوث ہوئے تھے جس وقت دنیا کی اندھیر نگری اپنی انتہا پر تھی۔ اس وقت دنیا والوں کے نزدیک بت پرستی سے بہتر کوئی مذہب نہ تھا۔ آپ فرقان لے کر آئے، حق و باطل میں تمیز کی۔ باپ بیٹے جدا ہو گئے۔ مسلمان اپنے باپ دادوں، بیٹوں، پوتوں، دوست احباب کو کفر پر دیکھتے، ان سے انہیں کوئی محبت پیار نہیں ہوتا تھا بلکہ کڑہتے تھے کہ یہ جہنمی ہیں اسی لیے ان کی دعائیں ہوتی تھیں کہ ہمیں ہماری اولاد اور بیویوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما کیونکہ کفار کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہوتی تھیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:3/6:صحیح] اس دعا کا آخر یہ ہے کہ ہمیں لوگوں کا رہبر بنا دے کہ ہم انہیں نیکی کی تعلیم دیں، لوگ بھلائی میں ہماری اقتداء کریں۔ ہماری اولاد ہماری راہ چلے تاکہ ثواب بڑھ جائے اور ان کی نیکیوں کا باعث بھی ہم بن جائیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { انسان کے مرتے ہی اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں مگر تین چیزیں ؛ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے یا علم جس سے اس کے بعد نفع اٹھایا جائے یا صدقہ جاریہ۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:3084]
74-1یعنی انھیں اپنا بھی فرماں بردار بنا اور ہمارا بھی اطاعت گزار جس سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔74۔-1یعنی ایسا اچھا نمونہ کہ خیر میں وہ ہماری پیروی کریں۔
(آیت 74) ➊ { وَ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا …:} مکی دور میں مسلمانوں کی زندگی کچھ اس طرح سے گزر رہی تھی کہ باپ مسلمان ہے تو اولاد کافر ہے اور اولاد مسلمان ہے تو والدین کافر ہیں، شوہر مسلمان ہے تو بیوی کافر ہے اور بیوی مسلمان ہے تو شوہر کافر ہے۔ یہ صورت حال مسلمانوں کے لیے سخت غم اور اضطراب کا باعث بنی ہوئی تھی، وہ اپنی آنکھوں سے اپنے پیاروں کو جہنم کا ایندھن بنتے ہوئے دیکھتے تو سخت بے چین ہوتے۔ لہٰذا عباد الرحمان کی صفات میں سے ایک صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ یہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے ازواج و اولاد کو بھی ایمان کی دولت نصیب فرما، تاکہ انھیں دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھندی ہوں۔ واضح رہے کہ مرد یہ دعا کریں تو ان کی ازواج بیویاں ہوں گی اور عورتیں یہ دعا کریں تو ان کے ازواج ان کے خاوند ہوں گے۔ اس دعا کے مفہوم میں یہ بھی شامل ہے کہ پروردگارا! ہمیں ایسے ازواج و اولاد عطا فرما جو تیرے فرماں بردار ہوں اور ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کی خوشی کا باعث ہوں۔ ➋ {وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا:} اس کے دو معنی ہیں، ایک تو یہ کہ ہر شخص امام ہے اور کوئی نہ کوئی پیروکار رکھتا ہے، جیسا کہ صحیح بخاری (۵۲۰۰) میں ہے: [ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَ كُلُّكُمْ مَسْؤلٌ عَنْ رَّعِيَّتِهِ ] ”تم سب حکمران ہو اور تم سب اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہو۔“ مطلب یہ ہے کہ پروردگارا! جن لوگوں کے ہم امام ہیں، مثلاً ہمارے اہل و عیال اور ہمارے زیر نگرانی لوگ، تو انھیں متقی بنا دے، تاکہ ہم متقین کے امام ہوں، فاجروں کے امام نہ ہوں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ تو ہمیں اتنا متقی بنا کہ ہم متقین کے امام اور پیشوا بن جائیں۔ طبری نے معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل فرمایا ہے کہ ہمیں ہدایت کے امام بنا کہ ہم سے لوگوں کو ہدایت حاصل ہو، گمراہی کے امام نہ بنا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ سعادت کے متعلق فرمایا: «{ وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِيْتَآءَ الزَّكٰوةِ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِيْنَ }» [الأنبیاء: ۷۳ ] ”اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے ساتھ رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے ان کی طرف نیکیاں کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی وحی بھیجی اور وہ صرف ہماری عبادت کرنے والے تھے۔“ اور اہل شقاوت کے متعلق فرمایا: «{ وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ }» [ القصص: ۴۱ ] ”اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو آگ کی طرف بلاتے تھے۔“ خلاصہ یہ کہ انھوں نے دو دعائیں کیں، ایک اپنی اولاد و ازواج کے لیے کہ وہ توحید و اطاعتِ الٰہی پر کاربند ہوں اور ان کے لیے دنیا و آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں، دوسری اپنے لیے کہ انھیں تقویٰ کی ایسی توفیق عطا ہو کہ وہ متقین کے امام بنیں اور لوگوں کو ہدایت اور تقویٰ کی دعوت دیں۔
یہ ہیں وہ لوگ جو اپنے صبر کا پھل منزل بلند کی شکل میں پائیں گے آداب و تسلیمات سے اُن کا استقبال ہو گا
مولانا محمد جوناگڑھی
یہی وه لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کے بدلے جنت کے بلند و باﻻخانے دیئے جائیں گے جہاں انہیں دعا سلام پہنچایا جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
ان کو جنت کا سب سے اونچا بالا خانہ انعام ملے گا بدلہ ان کے صبر کا اور وہاں مجرے اور سلام کے ساتھ ان کی پیشوائی ہوگی
علامہ محمد حسین نجفی
یہ وہ ہیں جنہیں ان کے صبر و ثبات کے صلہ میں بہشت میں بالاخانہ عطا کیا جائے گا۔ اور وہاں ان کا تحیہ و سلام سے استقبال کیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
یہ لوگ ہیں جنھیں جزا میں بلند و بالا محل عطا کیے جائیں گے، اس لیے کہ انھوں نے صبر کیا اور اس میں ان کا استقبال زندگی کی دعا اور سلام کے ساتھ کیا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومنوں کے اعمال اور اللہ کے انعامات ٭٭
مومنوں کی پاک صفتیں، ان کے بھلے اقوال، عمدہ افعال بیان فرما کر ان کا بدلہ بیان ہو رہا ہے کہ انہیں جنت ملے گی جو بلند تر جگہ ہے۔ اس وجہ سے کہ یہ ان کے اوصاف پر جمے رہے۔ وہاں ان کی عزت ہو گی، اکرام ہو گا، ادب و تعظیم ہو گی، احترام اور توقیر ہو گی۔ ان کے لیے سلامتی ہے، ان پر سلامتی ہے، ہر دروازہ جنت سے فرشتے حاضر خدمت ہوتے ہیں اور سلام کر کے کہتے ہیں کہ تمہارا انجام بہتر ہو گیا کیونکہ تم صبر کرنے والے تھے۔ یہ وہاں ہمیشہ رہیں گے، نہ نکلیں، نہ نکالے جائیں، نہ نعمتیں کم ہوں، نہ راحتیں فنا ہوں۔ یہ سعید بخت ہیں۔ جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے رہنے سہنے، راحت و آرام کرنے کی جگہ بڑی سہانی و پاک، صاف، طیب و طاہر ہے۔ دیکھنے میں خوش منظر، رہنے میں آرام دہ۔ اللہ نے اپنی مخلوق کو اپنی عبادت اور تسبیح و تہلیل کے لیے پیدا کیا ہے۔ اگر مخلوق یہ نہ بجا لائے تو وہ اللہ کے نزدیک نہایت حقیر ہے۔ ایمان کے بغیر انسان ناکارہ محض ہے۔ اگر اللہ کو کافروں کی چاہت ہوتی تو وہ انہیں بھی اپنی عبادت کی طرف جھکا دیتا لیکن اللہ کے نزدیک یہ کسی گنتی میں ہی نہیں۔ کافرو! تم نے جھٹلایا۔ اب تم نہ سمجھو کہ بس معاملہ ختم ہو گیا۔ نہیں اس کا وبال تمہارے ساتھ ہی ساتھ ہے، دنیا اور آخرت میں تم برباد ہو گے اور عذاب اللہ تم سے چمٹے ہوئے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی بدر کے دن کی کفار کی ہزیمت اور شکست تھی جیسے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے: قیامت کے دن کی سزا ابھی باقی ہے۔ الحمدللہ کہ سورۃ الفرقان کی تفسیر ختم ہوئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 75) ➊ { اُولٰٓىِٕكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ …:” غُرْفَةٌ “} ہر بلند عمارت اور اونچا محل، بالا خانہ۔ {” الْغُرْفَةَ “} سے مراد کوئی ایک بالا خانہ نہیں بلکہ مراد جنس ہے، یعنی عباد الرحمان کو صبر کے بدلے جنت کے بالا خانے یعنی اونچے محل عطا کیے جائیں گے، جن کی بلندی ان کے مراتب کے اعتبار سے ہو گی۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَتَرَاءَوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ، كَمَا يَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ ] [ بخاري، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ …: ۳۲۵۶ ] ”اہلِ جنت اپنے اوپر کی طرف بالا خانوں والوں کو دیکھیں گے جیسے تم مشرق یا مغرب کے افق پر دور چمک دار تارے کو دیکھتے ہو، ان کی ایک دوسرے کے درمیان درجوں کی برتری کی وجہ سے۔“ اور دیکھیے سورۂ زمر (۲۰) اور عنکبوت (۵۸)۔ ➋ { بِمَا صَبَرُوْا:} یعنی عباد الرحمان کو یہ نعمت ان کے صبر کی وجہ سے حاصل ہو گی کہ انھوں نے نیکی پر صبر کیا، برائی سے اجتناب پر صبر کیا اور راہِ حق میں پیش آنے والی مصیبتوں پر صبر کیا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ }» [ الزمر: ۱۰ ] ”صرف صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر کسی شمار کے بغیر دیا جائے گا۔“ ➌ { وَ يُلَقَّوْنَ فِيْهَا تَحِيَّةً وَّ سَلٰمًا: ” تَحِيَّةً “ ”حَيّٰ يُحَيِّيْ“} کا مصدر ہے، زندگی کی دعا دینا۔ رب تعالیٰ اور فرشتوں کی طرف سے جنتیوں کے استقبال اور سلام کے لیے دیکھیے سورۂ رعد (۲۳، ۲۴)، انبیاء (۱۰۱ تا ۱۰۳)، زمر (۷۳) اور سورۂ یٰس (۵۵ تا ۵۸)۔
وہ ہمیشہ ہمیشہ وہاں رہیں گے کیا ہی اچھا ہے وہ مستقر اور وہ مقام
مولانا محمد جوناگڑھی
اس میں یہ ہمیشہ رہیں گے، وه بہت ہی اچھی جگہ اور عمده مقام ہے
احمد رضا خان بریلوی
ہمیشہ اس میں رہیں گے، کیا ہی اچھی ٹھہرنے اور بسنے کی جگہ،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے کیا اچھا ہے وہ ٹھکانہ اور وہ مقام۔
عبدالسلام بن محمد
ہمیشہ اس میں رہنے والے ہیں۔ وہ ٹھہرنے اور رہنے کی اچھی جگہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومنوں کے اعمال اور اللہ کے انعامات ٭٭
مومنوں کی پاک صفتیں، ان کے بھلے اقوال، عمدہ افعال بیان فرما کر ان کا بدلہ بیان ہو رہا ہے کہ انہیں جنت ملے گی جو بلند تر جگہ ہے۔ اس وجہ سے کہ یہ ان کے اوصاف پر جمے رہے۔ وہاں ان کی عزت ہو گی، اکرام ہو گا، ادب و تعظیم ہو گی، احترام اور توقیر ہو گی۔ ان کے لیے سلامتی ہے، ان پر سلامتی ہے، ہر دروازہ جنت سے فرشتے حاضر خدمت ہوتے ہیں اور سلام کر کے کہتے ہیں کہ تمہارا انجام بہتر ہو گیا کیونکہ تم صبر کرنے والے تھے۔ یہ وہاں ہمیشہ رہیں گے، نہ نکلیں، نہ نکالے جائیں، نہ نعمتیں کم ہوں، نہ راحتیں فنا ہوں۔ یہ سعید بخت ہیں۔ جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے رہنے سہنے، راحت و آرام کرنے کی جگہ بڑی سہانی و پاک، صاف، طیب و طاہر ہے۔ دیکھنے میں خوش منظر، رہنے میں آرام دہ۔ اللہ نے اپنی مخلوق کو اپنی عبادت اور تسبیح و تہلیل کے لیے پیدا کیا ہے۔ اگر مخلوق یہ نہ بجا لائے تو وہ اللہ کے نزدیک نہایت حقیر ہے۔ ایمان کے بغیر انسان ناکارہ محض ہے۔ اگر اللہ کو کافروں کی چاہت ہوتی تو وہ انہیں بھی اپنی عبادت کی طرف جھکا دیتا لیکن اللہ کے نزدیک یہ کسی گنتی میں ہی نہیں۔ کافرو! تم نے جھٹلایا۔ اب تم نہ سمجھو کہ بس معاملہ ختم ہو گیا۔ نہیں اس کا وبال تمہارے ساتھ ہی ساتھ ہے، دنیا اور آخرت میں تم برباد ہو گے اور عذاب اللہ تم سے چمٹے ہوئے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی بدر کے دن کی کفار کی ہزیمت اور شکست تھی جیسے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے: قیامت کے دن کی سزا ابھی باقی ہے۔ الحمدللہ کہ سورۃ الفرقان کی تفسیر ختم ہوئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 77،76) ➊ { قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّيْ:” مَا “} یہاں نافیہ بھی ہو سکتا ہے اور استفہامیہ بھی، یعنی میرا رب تمھاری پروا نہیں کرتا، یا میرا رب تمھاری کیا پروا کرے گا؟ ”میرا رب“ اس لیے فرمایا کہ خطاب کفار سے ہے، جو کما حقہ اسے رب نہیں مانتے۔ ➋ { لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ:} یہ خطاب کفار سے ہے، کیونکہ آگے فرمایا ہے: «{ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ }» ”سو بے شک تم نے جھٹلا دیا۔“ {”دُعَآؤُكُمْ “} کا معنی ابن عباس رضی اللہ عنھما نے {”إِيْمَانُكُمْ“} کیا ہے۔ [ طبري بطریق علي بن أبي طلحۃ و ذکرہ البخاري ] یعنی میرا رب تمھیں مہلت اس لیے دے رہا ہے کہ تم اس پر ایمان لے آؤ، اس کی عبادت کرو اور اس سے دعا کرو، کیونکہ اس نے جنّ و انس کو پیدا ہی اپنی عبادت کے لیے کیا ہے، سو اگر تم ایمان لا کر اس کی عبادت نہ کرو اور اس کے حضور دعائیں نہ کرو تو اسے تمھاری کچھ پروا نہیں ہے۔ ایک تفسیر اس کی یہ بھی ہے کہ کفار بھی شدید مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے ان کی التجا سن کر مصیبت دور بھی کر دیتا ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۴۰، ۴۱)، یونس (۲۲)، عنکبوت (۶۵)، روم (۳۳) اور لقمان (۳۲) فرمایا، اللہ تعالیٰ جو تمھیں مہلت دے رہا ہے اور تمھاری پکار پر مشکلات بھی دور کر دیتا ہے، یہ صرف تمھارے اس کو پکارنے کی وجہ سے ہے، اس کے باوجود تم نے جھٹلا دیا ہے تو سن لو کہ اس کا عذاب تمھیں پہنچ کر رہے گا۔ چنانچہ دنیا ہی میں جنگِ بدر اور دوسرے موقعوں پر انھوں نے وہ عذاب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور قیامت بھی کچھ دور نہیں۔
اے محمدؐ، لوگوں سے کہو "میرے رب کو تمہاری کیا حاجت پڑی ہے اگر تم اس کو نہ پکارو اب کہ تم نے جھٹلا دیا ہے، عنقریب وہ سزا پاؤ گے کہ جان چھڑانی محال ہو گی"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے! اگر تمہاری دعا التجا (پکارنا) نہ ہوتی تو میرا رب تمہاری مطلق پروا نہ کرتا، تم تو جھٹلا چکے اب عنقریب اس کی سزا تمہیں چمٹ جانے والی ہوگی
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ تمہاری کچھ قدر نہیں میرے رب کے یہاں اگر تم اسے نہ پوجو تو تم نے تو جھٹلایا تو اب ہوگا وہ عذاب کہ لپٹ رہے گا
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کہہ دیجئے! اگر تمہاری دعا و پکار نہ ہو تو میرا پروردگار تمہاری کوئی پروا نہ کرے سو اب جبکہ تم نے (رسول کو) جھٹلا دیا ہے تو یہ (تکذیب) عنقریب (تمہارے لئے) وبال جان بن کر رہے گی۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ میرا رب تمھاری پروا نہیں کرتا اگر تمھارا پکارنا نہ ہو، سو بے شک تم نے جھٹلا دیا، تو عنقریب (اس کا انجام) چمٹ جانے والا ہوگا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومنوں کے اعمال اور اللہ کے انعامات ٭٭
مومنوں کی پاک صفتیں، ان کے بھلے اقوال، عمدہ افعال بیان فرما کر ان کا بدلہ بیان ہو رہا ہے کہ انہیں جنت ملے گی جو بلند تر جگہ ہے۔ اس وجہ سے کہ یہ ان کے اوصاف پر جمے رہے۔ وہاں ان کی عزت ہو گی، اکرام ہو گا، ادب و تعظیم ہو گی، احترام اور توقیر ہو گی۔ ان کے لیے سلامتی ہے، ان پر سلامتی ہے، ہر دروازہ جنت سے فرشتے حاضر خدمت ہوتے ہیں اور سلام کر کے کہتے ہیں کہ تمہارا انجام بہتر ہو گیا کیونکہ تم صبر کرنے والے تھے۔ یہ وہاں ہمیشہ رہیں گے، نہ نکلیں، نہ نکالے جائیں، نہ نعمتیں کم ہوں، نہ راحتیں فنا ہوں۔ یہ سعید بخت ہیں۔ جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے رہنے سہنے، راحت و آرام کرنے کی جگہ بڑی سہانی و پاک، صاف، طیب و طاہر ہے۔ دیکھنے میں خوش منظر، رہنے میں آرام دہ۔ اللہ نے اپنی مخلوق کو اپنی عبادت اور تسبیح و تہلیل کے لیے پیدا کیا ہے۔ اگر مخلوق یہ نہ بجا لائے تو وہ اللہ کے نزدیک نہایت حقیر ہے۔ ایمان کے بغیر انسان ناکارہ محض ہے۔ اگر اللہ کو کافروں کی چاہت ہوتی تو وہ انہیں بھی اپنی عبادت کی طرف جھکا دیتا لیکن اللہ کے نزدیک یہ کسی گنتی میں ہی نہیں۔ کافرو! تم نے جھٹلایا۔ اب تم نہ سمجھو کہ بس معاملہ ختم ہو گیا۔ نہیں اس کا وبال تمہارے ساتھ ہی ساتھ ہے، دنیا اور آخرت میں تم برباد ہو گے اور عذاب اللہ تم سے چمٹے ہوئے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی بدر کے دن کی کفار کی ہزیمت اور شکست تھی جیسے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے: قیامت کے دن کی سزا ابھی باقی ہے۔ الحمدللہ کہ سورۃ الفرقان کی تفسیر ختم ہوئی۔
77-1دعا والتجا کا مطلب، اللہ کو پکارنا اور اس کی عبادت کرنا اور مطلب یہ ہے کہ تمہارا مقصد تخلیق اللہ کی عبادت ہے، اگر یہ نہ ہو تو اللہ کو تمہاری کوئی پرواہ نہ ہو۔ یعنی اللہ کے ہاں انسان کی قدر و قیمت، اس کے اللہ پر ایمان لانے اور اس کی عبادت کرنے کی وجہ سے ہے۔ 77-2اس میں کافروں سے خطاب ہے کہ تم نے اللہ کو جھٹلا دیا، سو اب اس کی سزا بھی لازماً تمہیں چکھنی ہے۔ چناچہ دنیا میں یہ سزا بدر میں شکست کی صورت میں انھیں ملی اور آخرت میں جہنم کے دائمی عذاب سے بھی انھیں دو چار ہونا پڑے گا۔