بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الفرقان — Surah Furqan
آیت نمبر 70
کل آیات: 77
قرآن کریم الفرقان آیت 70
آیت نمبر: 70 — سورۃ الفرقان islamicurdubooks.com ↗
اِلَّا مَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمۡ حَسَنٰتٍ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۷۰﴾
اِلّا یہ کہ کوئی (ان گناہوں کے بعد) توبہ کر چکا ہو اور ایمان لا کر عمل صالح کرنے لگا ہو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور وہ بڑا غفور رحیم ہے
سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں، ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے، اللہ بخشنے واﻻ مہربانی کرنے واﻻ ہے
مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھا کام کرے اور اچھا کام کرے تو ایسوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
سوائے اس کے جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے کہ اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور عمل کیا، کچھ نیک عمل تو یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ نیکیوں میں بدل دے گا اور اللہ ہمیشہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

سب سے بڑا گناہ ٭٭

{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: تیرا اللہ کے ساتھ شرک کرنا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اس نے کہا: اس سے کم؟ فرمایا: تیرا اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالنا کہ تو اسے کھلائے گا کہاں سے؟ پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: تیرا اپنے پڑوس کی کسی عورت سے بدکاری کرنا۔ } پس اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں موجود ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4761] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر جانے لگے، تنہا تھے۔ میں بھی ساتھ ہو لیا۔ آپ ایک اونچی جگہ بیٹھ گئے۔ میں آپ سے نیچے بیٹھ گیا اور اس تنہائی کے موقعہ کو غنیمت سمجھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ سوالات کئے، جو اوپر مذکور ہوئے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26509] ‏‏‏‏ حجۃ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { چار گناہوں سے بہت بچو ؛ اللہ کے ساتھ شرک، کسی حرمت والے نفس کا قتل، زناکاری اور چوری۔ } ۱؎ [مسند احمد:339/4:حسن] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: زنا کی بابت تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: وہ حرام ہے اور قیامت تک حرام ہے۔ آپ نے فرمایا: ہاں سنو! انسان کا اپنے پڑوس کی عورت سے زنا کرنا دوسری دس عورتوں کے زنا سے بھی بدتر ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: چوری کی نسبت کیا کہتے ہو؟ انہوں نے یہی جواب دیا کہ وہ حرام ہے، اللہ و رسول اسے حرام قرار دے چکے ہیں۔ آپ نے فرمایا: سنو! دس جگہ کی چوری بھی اتنی بری نہیں جیسی پڑوس کی ایک جگہ کی چوری۔ } ۱؎ [مسند احمد:8/6:جید] ‏‏‏‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { شرک کے بعد اس سے بڑا گناہ کوئی نہیں کہ انسان اپنا نطفہ اس رحم میں ڈالے جو اس کے لیے حلال نہیں۔ } ۱؎ [الورع لابن ابی الدنیا:137:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ بھی مروی ہے کہ { بعض مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ کی دعوت اچھی ہے، سچی ہے لیکن ہم نے تو شرک بھی کیا ہے، قتل بھی کیا ہے، زناکاریاں بھی کی ہیں اور یہ سب بکثرت کیے ہیں تو فرمائیے ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت اتری اور آیت «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ‏‏‏‏ نازل ہوئی۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26504] ‏‏‏‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: { اللہ تمہیں اس سے منع فرماتا ہے کہ تم خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی عبادت کرو اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنے کتے کو تو پالو اور اپنے بچے کو قتل کر ڈالو۔ اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنی پڑوسن سے بدکاری کرو۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:277/6] ‏‏‏‏ «اثام» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے۔ یہی وہ وادیاں ہیں جن میں زانیوں کو عذاب کیا جائے گا۔ اس کے معنی عذاب و سزا کے بھی آتے ہیں۔ لقمان حکیم رحمہ اللہ کی نصیحتوں میں ہے کہ اے بچے! زناکاری سے بچنا، اس کے شروع میں ڈر، خوف ہے اور اس کا انجام ندامت و حسرت ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ «غی» اور «اثام» دوزخ کے دو کنوئیں ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29/19] ‏‏‏‏ اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔ «اثام» کے معنی بدلے کے بھی مروی ہیں اور یہی ظاہر آیت کے بھی مشابہ بھی ہے۔ اور گویا اس کے بعد کی آیت اسی بدلے اور سزا کی تفسیر ہے کہ اسے بار بار عذاب کیا جائے گا اور سختی کی جائے گی اور ذلت کے دائمی عذابوں میں پھنس جائے گا۔ «اَللّٰھُمَّ احْفَظْنَا» ان کاموں کے کرنے والے کی سزا تو بیان ہو چکی ہے مگر اس سزا سے وہ بچ جائیں گے جو دنیا ہی میں اس سے توبہ کر لیں، اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قاتل کی توبہ بھی قبول ہے جو آیت سورۃ نساء میں ہیں «وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًا» ۱؎ [4-النساء:93] ‏‏‏‏ وہ اس کے خلاف نہیں گو وہ مدنی آیت ہے لیکن وہ مطلق ہے تو وہ محمول کی جائے گی ان قاتلوں پر جو اپنے اس فعل سے توبہ نہ کریں اور یہ آیت ان قاتلوں کے بارے میں، جو توبہ کریں۔ پھر مشرکوں کی بخشش نہ ہونے کا بیان فرمایا ہے اور صحیح احادیث سے بھی قاتل کی توبہ کی مقبولیت ثابت ہے۔ جیسے اس شخص کا قصہ جس نے ایک سو قتل کیے تھے اور اس کی توبہ قبول ہوئی۔ وغیرہ۔ یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دیتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے گناہ کے کام کئے تھے۔ اسلام میں آنے کے بعد نیکیاں کیں تو اللہ نے ان گناہ کے کاموں کے بدلے نیکیوں کی توفیق عنایت فرمائی۔ اس آیت کی تلاوت کے وقت آپ ایک عربی شعر پڑھتے تھے جس میں احوال کے تغیر کا بیان ہے جیسے گرمی سے ٹھنڈک۔ عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ دنیا کا ذکر ہے کہ انسان کی بری خصلت کو اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے نیک عادت سے بدل دیتا ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ بتوں کی پرستش کے بدلے اللہ تعالیٰ کی توفیق انہیں ملی۔ مومنوں سے لڑنے کے بجائے کافروں سے جہاد کرنے لگے۔ مشرکہ عورتوں سے نکاح کے بجائے مومنہ عورتوں سے نکاح کئے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گناہ کے بدلے ثواب کے عمل کرنے لگے۔ شرک کے بدلے توحید و اخلاص ملا۔ بدکاری کے بدلے پاکدامنی حاصل ہوئی۔ کفر کے بدلے اسلام ملا۔ ایک معنی تو اس آیت کے یہ ہوئے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ خلوص کے ساتھ ان کی جو توبہ تھی، اس سے خوش ہو کر اللہ عزوجل نے ان کے گناہوں کو نیکوں میں بدل دیا۔ یہ اس لیے کہ توبہ کے بعد جب کبھی انہیں اپنے گزشتہ گناہ یاد آتے تھے، انہیں ندامت ہوتی تھی۔ یہ غمگین ہو جاتے تھے، شرمانے لگتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔ اس وجہ سے ان کے گناہ اطاعت سے بدل گئے گو وہ ان کے نامہ اعمال میں گناہ کے طور پر لکھے ہوئے تھے لیکن قیامت کے دن وہ سب نیکیاں بن جائیں گے۔ جیسے کہ احادیث و آثار میں ثابت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { میں اس شخص کو پہچانتا ہوں جو جنت میں داخل ہونے والوں میں سب سے آخر میں جنت میں داخل ہو گا اور سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا، یہ ایک وہ شخص ہو گا جسے اللہ کے سامنے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس کے بڑے بڑے گناہوں کو چھوڑ کر چھوٹے چھوٹے گناہوں کی نسبت اس سے بازپرس کرو چنانچہ اس سے سوال ہو گا کہ فلاں فلاں دن تو نے فلاں کام کیا تھا؟ فلاں دن فلاں گناہ کیا تھا؟ یہ ایک کا بھی انکار نہ کر سکے گا، اقرار کرے گا۔ آخر میں کہا جائے گا: تجھے ہم نے ہر گناہ کے بدلے نیکی دی ہے تو اب اس کی باچھیں کھل جائیں گی اور کہے گا: اے میرے پروردگار! میں نے اور بھی بہت سے اعمال کئے تھے جنہیں یہاں پا نہیں رہا۔ یہ فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر ہنسے کہ آپ کے مسوڑھے دیکھے جانے لگے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:190ـ314] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏مسلم) آپ فرماتے ہیں کہ { جب انسان سوتا ہے تو فرشتہ شیطان سے کہتا ہے: مجھے اپنا صحیفہ جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہیں دے، وہ دیتا ہے تو ایک ایک نیکی کے بدلے دس دس گناہ وہ اس کے صحیفے سے مٹا دیتا ہے اور انہیں نیکیاں لکھ دیتا ہے پس تم میں سے جو بھی سونے کا ارادہ کرے، وہ چونتیس دفعہ «اللہ اکبر» کہے اور تینتیس دفعہ «الحمدللہ» کہے اور تینتیس دفعہ «سبحان اللہ» کہے، یہ مل کر سو مرتبہ ہو گئے۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:3451:ضعیف] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏ابن ابی دنیا)

سلمان فرماتے ہیں: انسان کو قیامت کے دن نامہ اعمال دیا جائے گا۔ وہ پڑھنا شروع کرے گا تو اوپر برائیاں درج ہوں گی جنہیں پڑھ کر یہ کچھ ناامید سا ہونے لگے گا۔ اسی وقت اس کی نظر نیچے کی طرف پڑے گی تو اپنی نیکیاں لکھی ہوئی پائے گا جس سے کچھ ڈھارس بندھے گی۔ اب دوبارہ اوپر کی طرف دیکھے گا تو وہاں کی برائیوں کو بھی بھلائیوں سے بدلا ہوا پائے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے آئیں گے جن کے پاس کچھ گناہ ہوں گے۔ پوچھا گیا کہ وہ کون سے لوگ ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ جن کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دے گا۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنتی جنت میں چار قسم کے جائیں گے ؛ متقین یعنی پرہیزگاری کرنے والے، پھر شاکرین یعنی شکر الٰہی کرنے والے، پھر خائفین یعنی خوف الٰہی رکھنے والے، پھر اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پانے والے۔ پوچھا گیا کہ انہیں اصحاب یمین کیوں کہا جاتا ہے؟ جواب دیا: اس لیے کہ انہوں نے نیکیاں، بدیاں سب کی تھیں۔ ان کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ ملے، اپنی بدیوں کا ایک ایک حرف پڑھ کر یہ کہنے لگے کہ اے اللہ! ہماری نیکیاں کہاں ہیں؟ یہاں تو سب بدیاں لکھی ہوئی ہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ان بدیوں کو مٹا دے گا اور ان کے بدلے نیکیاں لکھ دے گا۔ انہیں پڑھ کر خوش ہو کر اب تو یہ ایک دوسروں سے کہیں گے کہ آؤ، ہمارے اعمال نامے دیکھو۔ جنتیوں میں اکثر یہی لوگ ہونگے۔ علی بن حسین زین العابدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: برائیوں کو بھلائیوں میں بدلنا آخرت میں ہو گا۔ مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو بخشے گا اور انہیں نیکیوں میں بدل دے گا۔ مکحول رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ حدیث بیان کی کہ { ایک بہت بوڑھے ضعیف آدمی جن کی بھویں آنکھوں پر اتر آئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک ایسا شخص ہوں جس نے کوئی غداری، کوئی گناہ، کوئی بدکاری باقی نہیں چھوڑی۔ میرے گناہ اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اگر تمام انسانوں پر تقسیم ہو جائیں تو سب کے سب غضب الٰہی میں گرفتار ہو جائیں، کیا میری بخشش کی بھی کوئی صورت ہے؟ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تم مسلمان ہو جاؤ۔ اس نے کلمہ پڑھ لیا کہ «اَشْھَدُاَنْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُهُ» تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیری تمام برائیاں، گناہ، بدکاریاں سب کچھ معاف کر دے گا بلکہ جب تک تو اس پر قائم رہے گا، اللہ تعالیٰ تیری برائیاں بھلائیوں میں بدل دے گا۔ اس نے پھر پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے چھوٹے بڑے سب گناہ صاف ہو جائیں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہاں سب کے سب، پھر تو وہ شخص خوشی خوشی واپس جانے لگا اور تکبیر و تہلیل پکارتا ہوا لوٹ گیا۔ } (‏‏‏‏ابن ابی حاتم) { سیدنا ابوفروہ رضی اللہ عنہ حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے سارے گناہ کئے ہوں۔ جو جی میں آیا ہو، پورا کیا ہو۔ کیا ایسے شخص کی بھی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: تم مسلمان ہو گئے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اب نیکیاں کرو، برائیوں سے بچو تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بھی نیکوں میں بدل دے گا۔ اس نے کہا: میری غداریاں اور بدکاریاں بھی؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اب وہ اللہ اکبر کہتا ہوا واپس چلا گیا۔ } (‏‏‏‏طبرانی) ۱؎ [طبرانی کبیر:7235:صحیح] ‏‏‏‏ { ایک عورت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور دریافت کیا فرمایا کہ مجھ سے بدکاری ہو گئی، اس سے بچہ ہو گیا، میں نے اسے مار ڈالا۔ اب کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب نہ تیری آنکھیں ٹھنڈی ہو سکتی ہیں، نہ اللہ کے ہاں تیری بزرگی ہو سکتی ہے، تیرے لیے توبہ ہرگز نہیں۔ وہ روتی پیٹتی واپس چلی گئی۔ صبح کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر میں نے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا: تو نے اس سے بہت ہی بری بات کہی، کیا تو ان آیتوں کو قرآن میں نہیں پڑھتا؟ «وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا إِلَّا مَن تَابَ» مجھے بڑا ہی رنج ہوا اور میں لوٹ کر اس عورت کے پاس پہنچا۔ اور اسے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ وہ خوش ہو گئی اور اسی وقت سجدے میں گر پڑی اور کہنے لگی: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت پیدا کر دی۔ } (‏‏‏‏طبرانی) ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26515:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا پہلا فتویٰ سن کر وہ حسرت و افسوس کے ساتھ یہ کہتی ہوئی واپس چلی گئی کہ ہائے ہائے، یہ اچھی صورت کیا جہنم کے لے بنائی گئی تھی؟

اس میں یہ بھی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس عورت کو ڈھونڈنے کے لیے نکلے۔ تمام مدینہ اور ایک ایک گلی چھان ماری لیکن کہیں پتہ نہ چلا۔ اتفاق سے رات کو وہی عوت پھر آئی۔ تب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں صحیح مسئلہ بتلایا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اس نے اللہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت بنائی اور میری توبہ کو قبول فرمایا۔ یہ کہہ کر اس کے ساتھ جو لونڈی تھی، اسے آزاد کر دیا۔ اس لونڈی کی ایک لڑکی بھی تھی اور سچے دل سے توبہ کر لی۔ پھر فرماتا ہے اور اپنے عام لطف و کرم، فضل و رحم کی خبر دیتا ہے کہ جو بھی اللہ کی طرف جھکے اور اپنی سیاہ کاریوں پر نادم ہو کر توبہ کرے، اللہ اس کی سنتا ہے، قبول فرماتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے۔ جیسا ارشاد ہے «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» ۱؎ [4-النساء:110] ‏‏‏‏ ’ جو برا عمل کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے، وہ اللہ کو غفور رحیم پائے گا۔ ‘ اور جگہ ارشاد ہے «أَلَم يَعلَموا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقبَلُ التَّوبَةَ عَن عِبادِهِ» ۱؎ [9-التوبة:104] ‏‏‏‏ ’ کیا انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ توبہ کو قبول فرمانے والا ہے۔ ‘ اور آیت میں ہے «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ‏‏‏‏ ’ میرے ان بندوں سے جو گنہگار ہیں، کہہ دیجئیے کہ وہ میری رحمت سے ناامید نہ ہوں۔ ‘ یعنی توبہ کرنے والا محروم نہیں۔

📖 احسن البیان

70-1اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں خالص توبہ سے ہر گناہ معاف ہوسکتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی بڑا ہو، اور سورة نساء کی آیت93میں جو مومن کے قتل کی سزا جہنم بتلائی گئی ہے، تو وہ اس صورت پر معمول ہوگی، جب قاتل نے توبہ نہ کی ہو اور بغیر توبہ کئے فوت ہوگیا۔ ورنہ حدیث میں آتا ہے کہ سو آدمی کے قاتل نے بھی خالص توبہ کی تو اللہ نے اسے معاف فرمایا (صحیح مسلم) 70-2اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا حال تبدیل فرما دیتا ہے اسلام قبول کرنے سے پہلے وہ برائیاں کرتا تھا، اب نیکیاں کرتا ہے، پہلے شرک کرتا تھا، اب صرف اللہ واحد کی عبادت کرتا ہے، پہلے کافروں کے ساتھ ملکر مسلمانوں سے لڑتا تھا، اب مسلمانوں کی طرف سے کافروں سے لڑتا ہے وغیرۃ وغیرہ۔ دوسرے معنی یہ ہوئے کہ اس کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیا جاتا ہے اس کی تائید حدیث میں بھی ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' میں اس شخص کو جانتا ہوں، جو سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا ہے اور سب آخر میں جہنم سے نکلنے والا ہوگا۔ یہ وہ آدمی ہوگا کہ قیامت کے دن اس پر اس کے چھوٹے چھوٹے گناہ پیش کئے جائیں گے، بڑے ایک طرف رکھ دیئے جائیں گے۔ اس کو کہا جائیگا کہ تو نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں کام کیا تھا؟ وہ ہاں میں جواب دے گا، انکار کی اسے طاقت نہ ہوگی، علاوہ ازیں وہ اس بات سے بھی ڈر رہا ہوگا کہ ابھی تو بڑے گناہ بھی پیش کئے جائیں گے۔ کہ اتنے میں اس سے کہا جائے گا کہ جا تیرے لئے ہر برائی کے بدلے ایک نیکی ہے۔ اللہ کی مہربانی دیکھ کر کہے گا، کہ ابھی تو میرے بہت سے اعمال ایسے ہیں کہ میں انھیں یہاں نہیں دیکھ رہا، یہ بیان کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ کے دانت ظاہر ہوگئے (صحیح مسلم)

📖 القرآن الکریم

(آیت 70) ➊ { اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا …:} ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”اہلِ شرک میں سے کچھ لوگوں نے قتل کیے اور بہت کیے اور زنا کیے اور بہت کیے، پھر وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”آپ جو بات کہتے ہیں اور جس کی دعوت دیتے ہیں وہ بہت اچھی ہے، اگر آپ ہمیں یہ بتا دیں کہ ہم نے جو کچھ کیا اس کا کوئی کفارہ ہے؟“ تو یہ آیت اتری: «{ وَ الَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ … }» [ الفرقان: ۶۸ ] اور یہ آیت اتری: «{ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ }» [ الزمر: ۵۳ ] ”اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی! اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ۔“ [ مسلم، الإیمان، باب کون الإسلام یھدم ما قبلہ…: ۱۲۲ ] یہ آیت ان لوگوں کے لیے بشارت ہے جن کی زندگی پہلے طرح طرح کے جرائم سے آلودہ رہی ہو اور اب وہ اپنی اصلاح پر آمادہ ہوں، یہی عام معافی کا دن تھا جس نے اس بگڑے ہوئے معاشرے کے لاکھوں انسانوں کو سہارا دے کر مستقبل کے بگاڑ سے بچا لیا اور انھیں امید کی روشنی دکھا کر اصلاح پر آمادہ کیا۔ اگر ان سے کہا جاتا کہ جو گناہ تم کر چکے ہو ان کی سزا سے اب تم کسی طرح بچ نہیں سکتے تو وہ ہمیشہ کے لیے بدی کے بھنور میں پھنس جاتے۔ توبہ کی اس نعمت نے بگڑے ہوئے لوگوں کو کس طرح سنبھالا، اس کا اندازہ ان بہت سے واقعات سے ہوتا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آئے، عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کی محبت میرے دل میں ڈال دی تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے عرض کی: ”اپنا دایاں ہاتھ آگے کیجیے، تاکہ میں آپ کی بیعت کروں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھایا تو میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمرو! تجھے کیا ہوا؟“ میں نے کہا: ”میری ایک شرط ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری کیا شرط ہے؟“ میں نے کہا: [ أَنْ يُّغْفَرَ لِيْ، قَالَ أَمَا عَلِمْتَ يَا عَمْرُو! أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟ وَ أَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا؟ وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قبْلَهُ؟ ] [ مسلم، الإیمان، باب کون الإسلام یھدم ما قبلہ و کذا الھجرۃ والحج: ۱۲۱ ] ”(میری شرط یہ ہے) کہ میرے گناہ معاف ہوں (جو اب تک کیے ہیں)۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمرو! کیا تو جانتا نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے؟ اور یہ کہ ہجرت اپنے سے پہلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے؟ اور یہ کہ حج اپنے سے پہلے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے؟“ ➋ اللہ تعالیٰ نے برائیوں کو نیکیوں میں بدلنے کے لیے تین شرطیں رکھی ہیں، پہلی توبہ، یعنی گناہ سے باز آ جانا، گزشتہ گناہوں پر ندامت اور آئندہ کے لیے گناہ نہ کرنے کا عزم۔ دوسری شرط ایمان ہے، کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی عمل قبول ہی نہیں اور تیسری شرط عمل صالح ہے، یعنی اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق عمل کرنا۔ {” عَمَلًا صَالِحًا “} نکرہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے ”اورعمل کیا، کچھ نیک عمل۔“ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے ترجمہ کیا ہے ”اور کیا کچھ نیک کام۔“ اس میں بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں توبہ اور ایمان کے ساتھ تھوڑے عمل صالح کی بھی بہت قدر ہے۔ ➌ { فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ:} اس کی دو تفسیریں ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں انھیں گناہوں کی جگہ نیکیوں کی توفیق دے گا، کفر اور شرک کی جگہ وہ ایمان اور توحید پر قائم ہوں گے، مومنوں کو قتل کرنے کے بجائے میدان جنگ میں کفار کو قتل کریں گے۔ زنا کی جگہ پاک دامنی پر، جھوٹ کی جگہ صدق پر اور نافرمانی کی جگہ فرماں برداری پر قائم ہوں گے۔ (و علی ہذا القیاس) یہ تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنھما سے معتبر سند کے ساتھ طبری نے نقل فرمائی ہے۔ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کے تمام گناہوں کو نیکیوں میں بدل دے گا، یہ تفسیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے۔ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنِّيْ لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُوْلًا الْجَنَّةَ، وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوْجًا مِنْهَا، رَجُلٌ يُؤْتٰی بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ اعْرِضُوْا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوْبِهِ وَارْفَعُوْا عَنْهُ كِبَارَهَا، فَتُعْرَضُ عَلَيْهِ صِغَارُ ذُنُوْبِهِ، فَيُقَالُ عَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَ كَذَا، كَذَا وَ كَذَا، وَ عَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَ كَذَا، كَذَا وَ كَذَا، فَيَقُوْلُ نَعَمْ، لَا يَسْتَطِيْعُ أَنْ يُّنْكِرَ، وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنْ كِبَارِ ذُنُوْبِهِ أَنْ تُّعْرَضَ عَلَيْهِ، فَيُقَالُ لَهُ فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً، فَيَقُوْلُ رَبِّ! قَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لَا أَرَاهَا هٰهُنَا، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ ضَحِكَ حَتّٰی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ] [مسلم، الإیمان، باب أدنٰی أہل الجنۃ منزلۃ فیھا: ۱۹۰ ] ”میں اس شخص کو جانتا ہوں جو جنت میں داخل ہونے والوں میں سب سے آخری اور جہنم سے نکلنے والوں میں سب سے آخری ہو گا، وہ ایسا آدمی ہو گا جسے قیامت کے دن لایا جائے گا اور کہا جائے گا: ”اس کے سامنے اس کے چھوٹے گناہ پیش کرو اور اس کے بڑے گناہ بچائے رکھو۔“ تو اس کے سامنے اس کے چھوٹے گناہ پیش کیے جائیں گے اور کہا جائے گا: ”تو نے فلاں فلاں دن یہ یہ عمل کیے تھے اور فلاں فلاں دن یہ یہ عمل کیے تھے؟“ وہ کہے گا: ”ہاں!“ انکار نہیں کر سکے گا اور وہ اپنے بڑے گناہوں کے پیش کیے جانے سے ڈر رہا ہو گا، تو اس سے کہا جائے گا: ”تمھارے لیے ہر برائی کی جگہ ایک نیکی ہے۔“ تو وہ کہے گا: ”اے میرے رب! میں نے کئی کام کیے ہیں جو مجھے یہاں دکھائی نہیں دے رہے۔“ (ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں): ”تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کی ڈاڑھیں ظاہر ہو گئیں۔“ ➍ اہلِ علم نے گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے کی توجیہ یہ بیان فرمائی ہے کہ گناہ جتنی بار یاد آتے ہیں ان پر ندامت اور استغفار مسلسل نیکی ہے، اسی طرح توبہ کے بعد یہ عزم کہ آئندہ اگر موقع ملا تو میں ہمیشہ برائی کے بجائے نیکی کروں گا، یہ عزم ایسی نیکی ہے جو انسان کو جنت کا ابدی وارث بنا دیتی ہے۔ گزشتہ پر ندامت یا آئندہ کا عزم اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے کا باعث بن جائے گا۔ (بقاعی) ایک اور توجیہ یہ ہے کہ وہ شخص جس نے گناہ کیا ہی نہیں، مثلاً زنا یا چوری کی ہی نہیں، اسے گناہ سے بچنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی، بخلاف اس شخص کے جو زنا کا مرتکب رہا ہے، اسے زنا چھوڑنے میں جس قدر دشواری پیش آتی ہے اسے برداشت کرنا اور گناہ نہ کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ ➎ { وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا:} بظاہر گناہوں کو نیکیوں میں بدلنا بعید معلوم ہوتا ہے، اس کا جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے گناہوں پر پردہ ڈالنے والا اور بے حد رحم کرنے والا ہے، اس سے یہ کرم کچھ بھی بعید نہیں۔
← پچھلی آیت (69) پوری سورۃ اگلی آیت (71) →