اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس قرآن کریم کو اس نے اپنے بندے اور اپنے سچے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے اور بیان فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی بڑی عزت والا ہے جو کبھی کم نہ ہو گی۔ اور ایسی زبردست حکمت والا ہے جس کا کوئی قول، کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں۔ پھر ارشاد فرماتا ہے کہ آسمان و زمین وغیرہ تمام چیزیں اس نے عبث اور باطل پیدا نہیں کیں بلکہ سراسر حق کے ساتھ اور بہترین تدبیر کے ساتھ بنائی ہیں اور ان سب کے لیے وقت مقرر ہے جو نہ گھٹے، نہ بڑھے۔ اس رسول سے، اس کتاب سے اور اللہ کے ڈراوے کی اور نشانیوں سے جو بدباطن لوگ بےپرواہی اور لا ابالی کرتے ہیں انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ انہوں نے کس قدر خود اپنا ہی نقصان کیا۔ پھر فرماتا ہے ذرا ان مشرکین سے پوچھو تو کہ اللہ کے سوا جن کے نام تم پوجتے ہو جنہیں تم پکارتے ہو اور جن کی عبادت کرتے ہو ذرا مجھے بھی تو ان کی طاقت قدرت دکھاؤ بتاؤ تو زمین کے کس ٹکڑے کو خود انہوں نے بنایا ہے؟ یا ثابت تو کرو کہ آسمانوں میں ان کی شرکت کتنی ہے اور کہاں ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ آسمان ہوں یا زمینیں ہوں یا اور چیزیں ہوں ان سب کا پیدا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
بجز اس کے کسی کو ایک ذرے کا بھی اختیار نہیں، تمام ملک کا مالک وہی ہے، وہ ہر چیز پر کامل تصرف اور قبضہ رکھنے والا ہے، تم اس کے سوا دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہو؟ کیوں اس کے سوا دوسروں کو اپنی مصیبتوں میں پکارتے ہو؟ تمہیں یہ تعلیم کس نے دی؟ کس نے یہ شرک تمہیں سکھایا؟ دراصل کسی بھلے اور سمجھدار شخص کی یہ تعلیم نہیں ہو سکتی۔ نہ اللہ نے یہ تعلیم دی ہے اگر تم اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پر کوئی آسمانی دلیل رکھتے ہو، تو اچھا اس کتاب کو تو جانے دو اور کوئی آسمانی صحیفہ ہی پیش کر دو۔ اچھا نہ سہی اپنے مسلک پر کوئی دلیل علم ہی قائم کرو لیکن یہ تو جب ہو سکتا ہے کہ تمہارا یہ فعل صحیح بھی ہو، اس باطل فعل پر نہ تو تم کوئی نقلی دلیل پیش کر سکتے ہو نہ عقلی ایک قرأت میں «او اثرة من علم» یعنی کوئی صحیح علم کی نقل اگلوں سے ہی پیش کرو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ کسی کو پیش کرو جو علم کی نقل کرے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:273/11] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس امر کی کوئی بھی دلیل لے آؤ۔ مسند احمد میں ہے اس سے مراد علمی تحریر ہے [مسند احمد:262/1:صحیح] راوی کہتے ہیں میرا تو خیال ہے یہ حدیث مرفوع ہے۔ ابوبکر بن عیاش رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد بقیہ علم ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کسی مخفی دلیل کو ہی پیش کر دو ان اور بزرگوں سے یہ بھی منقول ہے کہ مراد اس سے اگلی تحریریں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کوئی خاص علم، اور یہ سب اقوال قریب قریب ہم معنی ہیں۔ مراد وہی ہے جو ہم نے شروع میں بیان کر دی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔
تفسیر احسن البیان
(آیت 1) {حٰمٓ:} حروف مقطعات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی پہلی آیت کی تفسیر۔
اِس کتاب کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کتاب کا اتارنا اللہ تعالیٰ غالب حکمت والے کی طرف سے ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہ کتاب اتارنا ہے اللہ عزت و حکمت والے کی طرف سے،
علامہ محمد حسین نجفی
(یہ) کتابِ عزیز و حکیم (غالب اور بڑے حکمت والے خدا) کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس قرآن کریم کو اس نے اپنے بندے اور اپنے سچے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے اور بیان فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی بڑی عزت والا ہے جو کبھی کم نہ ہو گی۔ اور ایسی زبردست حکمت والا ہے جس کا کوئی قول، کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں۔ پھر ارشاد فرماتا ہے کہ آسمان و زمین وغیرہ تمام چیزیں اس نے عبث اور باطل پیدا نہیں کیں بلکہ سراسر حق کے ساتھ اور بہترین تدبیر کے ساتھ بنائی ہیں اور ان سب کے لیے وقت مقرر ہے جو نہ گھٹے، نہ بڑھے۔ اس رسول سے، اس کتاب سے اور اللہ کے ڈراوے کی اور نشانیوں سے جو بدباطن لوگ بےپرواہی اور لا ابالی کرتے ہیں انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ انہوں نے کس قدر خود اپنا ہی نقصان کیا۔ پھر فرماتا ہے ذرا ان مشرکین سے پوچھو تو کہ اللہ کے سوا جن کے نام تم پوجتے ہو جنہیں تم پکارتے ہو اور جن کی عبادت کرتے ہو ذرا مجھے بھی تو ان کی طاقت قدرت دکھاؤ بتاؤ تو زمین کے کس ٹکڑے کو خود انہوں نے بنایا ہے؟ یا ثابت تو کرو کہ آسمانوں میں ان کی شرکت کتنی ہے اور کہاں ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ آسمان ہوں یا زمینیں ہوں یا اور چیزیں ہوں ان سب کا پیدا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
بجز اس کے کسی کو ایک ذرے کا بھی اختیار نہیں، تمام ملک کا مالک وہی ہے، وہ ہر چیز پر کامل تصرف اور قبضہ رکھنے والا ہے، تم اس کے سوا دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہو؟ کیوں اس کے سوا دوسروں کو اپنی مصیبتوں میں پکارتے ہو؟ تمہیں یہ تعلیم کس نے دی؟ کس نے یہ شرک تمہیں سکھایا؟ دراصل کسی بھلے اور سمجھدار شخص کی یہ تعلیم نہیں ہو سکتی۔ نہ اللہ نے یہ تعلیم دی ہے اگر تم اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پر کوئی آسمانی دلیل رکھتے ہو، تو اچھا اس کتاب کو تو جانے دو اور کوئی آسمانی صحیفہ ہی پیش کر دو۔ اچھا نہ سہی اپنے مسلک پر کوئی دلیل علم ہی قائم کرو لیکن یہ تو جب ہو سکتا ہے کہ تمہارا یہ فعل صحیح بھی ہو، اس باطل فعل پر نہ تو تم کوئی نقلی دلیل پیش کر سکتے ہو نہ عقلی ایک قرأت میں «او اثرة من علم» یعنی کوئی صحیح علم کی نقل اگلوں سے ہی پیش کرو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ کسی کو پیش کرو جو علم کی نقل کرے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:273/11] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس امر کی کوئی بھی دلیل لے آؤ۔ مسند احمد میں ہے اس سے مراد علمی تحریر ہے [مسند احمد:262/1:صحیح] راوی کہتے ہیں میرا تو خیال ہے یہ حدیث مرفوع ہے۔ ابوبکر بن عیاش رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد بقیہ علم ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کسی مخفی دلیل کو ہی پیش کر دو ان اور بزرگوں سے یہ بھی منقول ہے کہ مراد اس سے اگلی تحریریں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کوئی خاص علم، اور یہ سب اقوال قریب قریب ہم معنی ہیں۔ مراد وہی ہے جو ہم نے شروع میں بیان کر دی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔
2۔ 1 یہ فواتح سورة ان متشابہات میں سے ہیں جن کا علم صرف اللہ کو ہے اس لیے ان کے معانی و مطالب میں پڑنے کی ضرورت نہیں تاہم ان کے دو فائدے بعض مفسرین نے بیان کیے ہیں جنہیں ہم پیچھے بیان کر آئے ہیں۔
(آیت 2){ تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ …:} اس آیت کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ زمر، سورۂ مومن اور سورۂ جاثیہ کی ابتدائی آیات کی تفسیر۔
ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو جو اُن کے درمیان ہیں برحق، اور ایک مدت خاص کے تعین کے ساتھ پیدا کیا ہے مگر یہ کافر لوگ اُس حقیقت سے منہ موڑے ہوئے ہیں جس سے ان کو خبردار کیا گیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی تمام چیزوں کو بہترین تدبیر کے ساتھ ہی ایک مدت معین کے لئے پیدا کیا ہے، اور کافر لوگ جس چیز سے ڈرائے جاتے ہیں منھ موڑ لیتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق کے ساتھ اور ایک مقرر میعاد پر اور کافر اس چیز سے کہ ڈرائے گئے منہ پھیرے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کو پیدا نہیں کیا مگر حق و حکمت کے ساتھ اور ایک مقررہ مدت تک اور جو کافر لوگ ہیں وہ جس چیز سے ڈرائے جاتے ہیں وہ اس سے رُوگردانی کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو ان دونوں کے درمیان ہے حق اور مقرر ہ میعاد ہی کے ساتھ پیداکیا ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اس چیز سے جس سے وہ ڈرائے گئے، منہ پھیرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس قرآن کریم کو اس نے اپنے بندے اور اپنے سچے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے اور بیان فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی بڑی عزت والا ہے جو کبھی کم نہ ہو گی۔ اور ایسی زبردست حکمت والا ہے جس کا کوئی قول، کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں۔ پھر ارشاد فرماتا ہے کہ آسمان و زمین وغیرہ تمام چیزیں اس نے عبث اور باطل پیدا نہیں کیں بلکہ سراسر حق کے ساتھ اور بہترین تدبیر کے ساتھ بنائی ہیں اور ان سب کے لیے وقت مقرر ہے جو نہ گھٹے، نہ بڑھے۔ اس رسول سے، اس کتاب سے اور اللہ کے ڈراوے کی اور نشانیوں سے جو بدباطن لوگ بےپرواہی اور لا ابالی کرتے ہیں انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ انہوں نے کس قدر خود اپنا ہی نقصان کیا۔ پھر فرماتا ہے ذرا ان مشرکین سے پوچھو تو کہ اللہ کے سوا جن کے نام تم پوجتے ہو جنہیں تم پکارتے ہو اور جن کی عبادت کرتے ہو ذرا مجھے بھی تو ان کی طاقت قدرت دکھاؤ بتاؤ تو زمین کے کس ٹکڑے کو خود انہوں نے بنایا ہے؟ یا ثابت تو کرو کہ آسمانوں میں ان کی شرکت کتنی ہے اور کہاں ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ آسمان ہوں یا زمینیں ہوں یا اور چیزیں ہوں ان سب کا پیدا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
بجز اس کے کسی کو ایک ذرے کا بھی اختیار نہیں، تمام ملک کا مالک وہی ہے، وہ ہر چیز پر کامل تصرف اور قبضہ رکھنے والا ہے، تم اس کے سوا دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہو؟ کیوں اس کے سوا دوسروں کو اپنی مصیبتوں میں پکارتے ہو؟ تمہیں یہ تعلیم کس نے دی؟ کس نے یہ شرک تمہیں سکھایا؟ دراصل کسی بھلے اور سمجھدار شخص کی یہ تعلیم نہیں ہو سکتی۔ نہ اللہ نے یہ تعلیم دی ہے اگر تم اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پر کوئی آسمانی دلیل رکھتے ہو، تو اچھا اس کتاب کو تو جانے دو اور کوئی آسمانی صحیفہ ہی پیش کر دو۔ اچھا نہ سہی اپنے مسلک پر کوئی دلیل علم ہی قائم کرو لیکن یہ تو جب ہو سکتا ہے کہ تمہارا یہ فعل صحیح بھی ہو، اس باطل فعل پر نہ تو تم کوئی نقلی دلیل پیش کر سکتے ہو نہ عقلی ایک قرأت میں «او اثرة من علم» یعنی کوئی صحیح علم کی نقل اگلوں سے ہی پیش کرو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ کسی کو پیش کرو جو علم کی نقل کرے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:273/11] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس امر کی کوئی بھی دلیل لے آؤ۔ مسند احمد میں ہے اس سے مراد علمی تحریر ہے [مسند احمد:262/1:صحیح] راوی کہتے ہیں میرا تو خیال ہے یہ حدیث مرفوع ہے۔ ابوبکر بن عیاش رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد بقیہ علم ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کسی مخفی دلیل کو ہی پیش کر دو ان اور بزرگوں سے یہ بھی منقول ہے کہ مراد اس سے اگلی تحریریں ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کوئی خاص علم، اور یہ سب اقوال قریب قریب ہم معنی ہیں۔ مراد وہی ہے جو ہم نے شروع میں بیان کر دی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔
3۔ 1 یعنی آسمان اور زمین کی پیدائش کا ایک خاص مقصد بھی ہے اور وہ ہے انسانوں کی آزمائش۔ دوسرا اس کے لئے ایک وقت بھی مقرر ہے جب وہ وقت آجائے گا تو آسمان اور زمین کا موجودہ نظام سارا بکھر جائے گا۔ نہ آسمان، یہ آسمان ہوگا نہ زمین، یہ زمین ہوگی۔ یوم تبدل الارض غیر الارض والسموات " سورة ابراھیم۔ 3۔ 2 یعنی عدم ایمان کی صورت میں بعث حساب اور جزا سے جو انہیں ڈرایا جاتا ہے وہ اس کی پرواہی نہیں کرتے اس پر ایمان لاتے ہیں نہ عذاب اخروی سے بچنے کی تیاری کرتے ہیں۔
(آیت 3) ➊ {مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ:} قرآن مجید کے بنیادی مضامین میں سب سے اہم مضمون توحید اور آخرت ہیں۔ ان دونوں کو دلائل کے ساتھ ثابت کرنے کے لیے {” تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ “} کو بطور تمہید ذکر فرمایا۔ اس کے بعد ایک متفق علیہ بات کا ذکر فرمایا کہ یہ سب مانتے ہیں کہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ تسلیم کر لینے کے بعد اس کائنات کے متعلق کوئی بھی بات اسی کی معتبر ہو گی جس نے اسے بنایا ہے۔ چنانچہ اس کا فرمان ہے کہ ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو حق ہی کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ ان میں سے کوئی چیز باطل نہیں کہ اس میں کوئی خامی یا غلطی ہو یا وہ بے مقصد ہو یا محض کھیل کے لیے بنائی گئی ہو، بلکہ ان کے پیدا کرنے میں بہت سی حکمتیں ہیں۔ قرآن مجید نے آسمان و زمین کی پیدائش میں ملحوظ بہت سی حکمتیں بیان فرمائی ہیں، جن میں سب سے بڑی اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید پر دلالت ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ (163) اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِيْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِيْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ وَّ تَصْرِيْفِ الرِّيٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» [ البقرۃ: ۱۶۳، ۱۶۴ ] ”اور تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، بے حد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔ بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں وہ چیزیں لے کر چلتی ہیں جو لوگوں کو نفع دیتی ہیں اور اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیا اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دیے اور ہواؤں کے بدلنے میں اور اس بادل میں جو آسمان و زمین کے درمیان مسخر کیا ہوا ہے، ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔“ یعنی یہ حقیقت کہ معبود برحق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے، عقل والوں کو زمین و آسمان کی پیدائش اور ان دونوں میں پائی جانے والی مذکورہ اشیاء پر غور کرنے سے معلوم ہو جاتی ہے۔ قرآن مجید نے یہ حقیقت بار بار دہرائی ہے کہ عبادت کا حق دار ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ اس بات پر ہوتا ہے کہ پیدا کرنے والا کون ہے؟ جو پیدا کرنے والا ہے سچا معبود وہی ہے، جو کچھ پیدا ہی نہیں کر سکتا وہ معبود بھی نہیں ہو سکتا۔ خالق ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے اکیلے مستحق عبادت ہونے کی متعدد آیات میں سے چند آیات ملاحظہ فرمائیں، سورۂ بقرہ (۲۱، ۲۲)، اعراف (۱۹۱)، ہود (۷)، رعد (۱۶)، سورۂ نحل (۳ تا ۲۰) (ان آیات میں ”خلق“ کے بار بار دہرانے کو ملحوظ رکھیں)، سورۂ حج (۷۳)، فرقان (۲، ۳) اور سورۂ اعلیٰ (۱، ۲)۔ زمین و آسمان کی پیدائش میں ایک حکمت ان کی اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی قدرت کے کمال پر دلالت ہے، جیسا کہ فرمایا: «اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا» [ الطلاق: ۱۲ ] ”اللہ ہی ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمین سے بھی ان کی مانند۔ ان کے درمیان حکم نازل ہوتا ہے، تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے اور یہ کہ اللہ نے یقینا ہر چیز کو علم سے گھیر رکھا ہے۔“ سورۂ طلاق کی اس آیت میں {” لِتَعْلَمُوْۤا “} (تاکہ تم جان لو) کا ”لام“ {” خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ “} کے متعلق ہے۔ آسمان و زمین کو حق کے ساتھ پیدا کرنے میں ایک حکمت مخلوق کی آزمائش ہے کہ ان میں سے عمل کے لحاظ سے بہتر کون ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا» [ ھود: ۷ ] ”اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا، تاکہ وہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے۔“ یہی بات سورۂ کہف (۷) اور سورۂ ملک (۲،۳) میں فرمائی۔ اسی کی وضاحت سورۂ ذاریات میں فرمائی: «وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (56) مَاۤ اُرِيْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِيْدُ اَنْ يُّطْعِمُوْنِ» [الذاریات: ۵۶،۵۷ ] ”اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔ نہ میں ان سے کوئی رزق چاہتا ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔“ حق کے ساتھ پیدا کرنے میں ایک حکمت ان کی اس بات پر دلالت ہے کہ ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا ملے گی، جیسا کہ فرمایا: «وَ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ يَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰى» [ النجم: ۳۱ ] ”اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے، تاکہ وہ ان لوگوں کو جنھوں نے برائی کی اس کا بدلا دے جو انھوں نے کیا اور ان لوگوں کو جنھوں نے بھلائی کی بھلائی کے ساتھ بدلا دے۔“ اس کی وضاحت سورۂ یونس کی آیت (۴) سے بھی ہوتی ہے۔ کفار چونکہ سمجھتے تھے کہ آسمان و زمین کی پیدائش کا کوئی مقصد نہیں، نہ اللہ کی طرف سے ان پر کوئی ذمہ داری عائد ہوئی ہے، نہ حساب ہو گا اور نہ جزا و سزا کا کوئی معاملہ ہے۔ ان کے مطابق تو زمین و آسمان کا یہ سب سلسلہ باطل اور بے مقصد ہوا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے کفار کی اس بات کی سخت تردید فرمائی، فرمایا: «وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِ» [ صٓ: ۲۷ ] ”اور ہم نے آسمان و زمین کو اور ان دونوں کے درمیان کی چیزوں کو بے کارپیدا نہیں کیا۔ یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنھوں نے کفر کیا، سو ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا آگ کی صورت میں بڑی ہلاکت ہے۔“ یہی بات سورۂ مومنون (۱۱۵، ۱۱۶)، آل عمران (۱۹۰، ۱۹۱) اور سورۂ دخان (۳۸، ۳۹) میں بیان ہوئی ہے۔ ➋ { وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى:} یعنی ہم نے کائنات کا یہ نظام دائمی اور ابدی نہیں بنایا، بلکہ اس کا ایک وقت مقرر ہے، جس کے بعد ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلا ملے گا۔ ➌ { وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ:} ”انذار“ کا معنی آگاہ کرنا ہے جس کے ساتھ ڈرانا بھی ہو۔ یعنی اگرچہ کفار کو آگاہ کر دیا گیا کہ زمین و آسمان کی پیدائش بے مقصد نہیں، نہ یہ سلسلہ دائمی ہے بلکہ یہ تمھاری آزمائش کے لیے ہے اور ایک مقرر وقت پر تم سب اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاؤ گے، اس کے باوجود جس آخرت اور جس اخروی عذاب سے انھیں ڈرایا گیا وہ اس سے منہ پھیرنے والے ہیں، نہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور نہ اس سے بچنے کی تیاری کرتے ہیں۔
اے نبیؐ، اِن سے کہو، "کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا بھی کہ وہ ہستیاں ہیں کیا جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو؟ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی کہ زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے، یا آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں ان کا کیا حصہ ہے اِس سے پہلے آئی ہوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیہ (اِن عقائد کے ثبوت میں) تمہارے پاس ہو تو وہی لے آؤ اگر تم سچے ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے! بھلا دیکھو تو جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے بھی تو دکھاؤ کہ انہوں نے زمین کا کون سا ٹکڑا بنایا ہے یا آسمانوں میں ان کا کون سا حصہ ہے؟ اگر تم سچے ہو تو اس سے پہلے ہی کی کوئی کتاب یا کوئی علم ہی جو نقل کیا جاتا ہو، میرے پاس ﻻؤ
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو مجھے دکھاؤ انہوں نے زمین کا کون سا ذرہ بنایا یا آسمان میں ان کا کوئی حصہ ہے، میرے پاس لاؤ اس سے پہلی کوئی کتاب یا کچھ بچا کھچا علم اگر تم سچے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں سے کیا پیدا کیا ہے؟ یا آسمانوں کی تخلیق میں ان کی کچھ شرکت ہے؟ میرے پاس پہلے کی کوئی کتاب لاؤ! یا کوئی عِلمی روایت(اور علمی ثبوت) لاؤ اگر تم سچے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے کیا تم نے دیکھا جن چیزوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، مجھے دکھاؤ انھوں نے زمین میں سے کون سی چیز پیدا کی ہے، یا آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے؟ لاؤ میرے پاس اس سے پہلے کی کوئی کتاب، یا علم کی کوئی نقل شدہ بات، اگر تم سچے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے اس سے بڑھ کر کوئی گمراہ کردہ نہیں جو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پکارے اور اس سے حاجتیں طلب کرے جن حاجتوں کو پورا کرنے کی ان میں طاقت ہی نہیں بلکہ وہ تو اس سے بھی بے خبر ہیں نہ کسی چیز کو لے دے سکتے ہیں اس لیے کہ وہ تو پتھر ہیں، جمادات میں سے ہیں۔ قیامت کے دن جب سب لوگ اکھٹے کئے جائیں گے تو یہ معبودان باطل اپنے عابدوں کے دشمن بن جائیں گے اور اس بات سے کہ یہ لوگ ان کی پوجا کرتے تھے صاف انکار کر جائیں گے۔ جیسے اللہ عزوجل کا اور جگہ ارشاد ہے «وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» [19-مريم:82،81] ، یعنی ان لوگوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کی عزت کا باعث بنیں۔ واقعہ ایسا نہیں بلکہ وہ تو ان کی عبادت کا انکار کر جائیں گے اور ان کے پورے مخالف ہو جائیں گے یعنی جب کہ یہ ان کے پورے محتاج ہوں گے اس وقت وہ ان سے منہ پھیر لیں گے۔ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی امت سے فرمایا تھا «اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» [29-العنكبوت:25] ، یعنی تم نے اللہ کے سوا بتوں سے جو تعلقات قائم کر لیے ہیں اس کا نتیجہ قیامت کے دن دیکھ لو گے جب کہ تم ایک دوسرے سے انکار کر جاؤ گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگو گے اور تمہاری جگہ جہنم مقرر اور متعین ہو جائے گی اور تم اپنا مددگار کسی کو نہ پاؤ گے۔
4۔ 1 ارایتم یعنی اخبرونی یا ارونی یعنی اللہ کو چھوڑ کر جن بتوں یا شخصیات کی تم عبادت کرتے ہو مجھے بتلاؤ یا دکھلاؤ کہ انہوں نے زمین و آسمان کی پیدائش میں کیا حصہ لیا ہے مطلب یہ ہے کہ جب آسمان و زمین کی پیدائش میں بھی ان کا کوئی حصہ نہیں ہے بلکہ مکمل طور پر ان سب کا خالق صرف ایک اللہ ہے تو پھر تم ان غیر حق معبودوں کو اللہ کی عبادت میں کیوں شریک کرتے ہو۔ 4۔ 2 یعنی کسی نبی پر نازل شدہ میں یا کسی منقول روایت میں یہ بات لکھی ہو تو وہ لا کر دکھاؤ تاکہ تمہاری صداقت واضح ہو سکے۔ بعض نے اثارہ من علم کے معنی واضح علمی دلیل کے کئے ہیں اس صورت میں کتاب سے نقلی دلیل اور اثارہ من علم سے عقلی دلیل مراد ہوگی یعنی کوئی عقلی اور نقلی دلیل پیش کرو پہلے معنی اس کے اثر سے ماخوذ ہونے کی بنیاد پر روایت کے کیے گئے ہیں یا بقیۃ من علم پہلے انبیاء علیم السلام کی تعلیمات کا باقی ماندہ حصہ جو قابل اعتماد ذریعے سے نقل ہوتا آیا ہو اس میں یہ بات ہو۔
(آیت 4) ➊ { قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ …:} جیسا کہ پچھلی آیت کی تفسیر میں تفصیل سے بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اکیلے معبود ہونے کی اور اس کے سوا تمام معبودوں کے باطل ہونے کی سب سے بڑی اور واضح دلیل اس کا کائنات کو پیدا کرنا ہے۔ یہ عقلی دلیل ہے جسے کوئی صاحبِ عقل ردّ نہیں کر سکتا، کفار کی اس کے جواب سے بے بسی واضح کرنے کے لیے اسے مناظرانہ انداز میں پیش کرنے کا حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں کہ مجھے بتاؤ کہ اللہ کے سوا جن ہستیوں کو تم پکارتے ہو، ذرا مجھے دکھاؤ زمین کی وہ کون سی چیز ہے جو انھوں نے پیدا کی ہے، یا آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے تو وہ دکھاؤ؟ ظاہر ہے وہ ایسی کوئی چیز دکھا ہی نہیں سکتے، تو پھر کسی اور معبود کی عبادت کیوں کرتے ہیں۔ یہاں ایک لمبی بات کو مختصر کر دیا ہے، اصل یہ تھا کہ مجھے دکھاؤ کہ زمین و آسمان کی کون سی چیز ہے جو پوری کی پوری انھوں نے پیدا کی ہو، یا زمین و آسمان کی کوئی چیز دکھاؤ جو پوری نہ سہی اس کے بنانے یا چلانے میں ان کا حصہ ہی ہو۔ پہلے جملے میں سے صرف زمین کا ذکر فرمایا آسمان کو حذف کر دیا، دوسرے جملے میں آسمانوں کا ذکر فرمایا زمین کو حذف کر دیا۔ یہ بات خود بخود سمجھ میں آ رہی ہے کہ دونوں جملوں میں دونوں مراد ہیں، اسے بلاغت کی اصطلاح میں احتباک کہتے ہیں۔ بعض مفسرین نے یہاں لکھا ہے کہ آیت میں زمین کی کسی چیز کو پیدا کرنے کی نفی اور آسمانوں کی چیز میں شرکت کی نفی اس لیے فرمائی ہے کہ بظاہر زمین کی بعض اشیاء میں ان کی شرکت ہے جو آسمانوں میں بظاہر بھی نہیں۔ مگر یہ درست نہیں، کیونکہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں زمین و آسمان دونوں کی کسی چیز میں ان کی شرکت کی نفی فرمائی ہے۔ اس لیے وہی تفسیر درست ہے جو اوپر کی گئی ہے۔ دیکھیے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: «قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِي الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِيْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِيْرٍ» [ سبا:۲۲] ”کہہ دے پکارو ان کو جنھیں تم نے اللہ کے سوا گمان کر رکھا ہے، وہ نہ آسمانوں میں ذرہ برابر کے مالک ہیں اور نہ زمین میں اور نہ ان کا ان دونوں میں کوئی حصہ ہے اور نہ ان میں سے کوئی اس کا مدد گار ہے۔“ ➋ {اِيْتُوْنِيْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ ……: ” اَثٰرَةٍ “ ”أَثَرَ يَأْثِرُ أَثَرًا وَ أَثَارَةً وَ أَثْرَةً“} (ض، ن) {الْحَدِيْثَ“} بات کو نقل کرنا۔ {”مَأْثُوْرٌ“} بمعنی ”منقول“ {” اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ “} نقل شدہ یا پہلے لوگوں کا باقی ماندہ علم۔ یہ شرک کی تردید کی نقلی دلیل ہے، یعنی شرک کی عقلی دلیل پیش نہیں کر سکتے تو کوئی معتبر نقلی دلیل ہی لے آؤ۔ قرآن سے پہلے کی کسی آسمانی کتاب مثلاً تورات یا انجیل وغیرہ سے شرک کا ثبوت لے آؤ، وہ دلیل جو کسی قابلِ اعتماد طریقے سے ہم تک پہنچی ہو، کیونکہ اس کے بغیر اس کا آسمانی کتاب ہونا ثابت ہی نہیں ہوتا۔ یا پہلے انبیاء کی احادیث میں سے منقول کوئی حدیث لے آؤ، جو محض ظن و تخمین سے منقول نہ ہو بلکہ اس سے علم و یقین حاصل ہوتا ہو۔ اس طرح کہ وہ صحیح سند یا تواتر کے ساتھ نقل ہوئی ہو، کیونکہ وہم و گمان پر مبنی چیز کو علم نہیں کہا جاتا، جیسا کہ فرمایا: «وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَيْـًٔا» [النجم: ۲۸ ] ”حالانکہ انھیں اس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمان کے پیچھے چل رہے ہیں اور بے شک گمان حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا۔ “ مگر تمھیں ایسی کوئی معتبر قدیم آسمانی کتاب یا کسی نبی کی حدیث نہیں ملے گی جس میں شرک کا شائبہ تک موجود ہو، کیونکہ ہر رسول نے توحید ہی کی تعلیم دی، فرمایا: «وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» [ النحل: ۳۶ ] ”اور بلاشبہ یقینا ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔“ اور فرمایا: «وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْۤ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» [ الأنبیاء: ۲۵ ] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“ بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ ”اگر یہاں کتاب سے مراد کتابِ الٰہی اور بقیہ علم سے مراد انبیاء و صلحاء کا چھوڑا ہوا علم نہ بھی لیا جائے تو دنیا کی کسی علمی کتاب اور دینی یا دنیوی علوم کے کسی ماہر کی تحقیقات میں بھی آج تک اس امر کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے کہ زمین یا آسمان کی فلاں چیز کو خدا کے سوا فلاں بزرگ یا دیوتا نے پیدا کیا ہے، یا انسان جن نعمتوں سے اس کائنات میں متمتع ہو رہا ہے ان میں سے فلاں نعمت خدا کے بجائے فلاں معبود کی آفریدہ ہے۔“ مگر یہ بات کلی طور پر درست نہیں، کیونکہ کئی دہریہ سائنسدان اپنی تحقیق کے ذریعے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کائنات خود بخود پیدا ہوئی اور خود بخود ہی چل رہی ہے۔ زمانے کو خالق و مالک قرار دینے والے لوگ اپنی اس جہالت کو تحقیق ہی کہتے ہیں۔ اس لیے کتاب سے مراد آسمانی کتاب ہی لینا چاہیے، کیونکہ دوسری آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کتاب سے مراد اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب ہے، جیسا کہ فرمایا: «قُلْ اَرَءَيْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِيْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمٰوٰتِ اَمْ اٰتَيْنٰهُمْ كِتٰبًا فَهُمْ عَلٰى بَيِّنَتٍ مِّنْهُ بَلْ اِنْ يَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا» [ فاطر: ۴۰ ] ”کہہ دے کیا تم نے اپنے شریکوں کو دیکھا، جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو؟ مجھے دکھاؤ زمین میں سے انھوں نے کون سی چیز پیدا کی ہے، یاآسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے، یا ہم نے انھیں کوئی کتاب دی ہے کہ وہ اس کی کسی دلیل پر قائم ہیں؟ بلکہ ظالم لوگ، ان کے بعض بعض کو دھوکے کے سوا کچھ وعدہ نہیں دیتے۔“ ان آیات سے معلوم ہوا کہ دین میں دلیل کے طور پر آسمانی کتاب پیش کی جا سکتی ہے یا آسمانی وحی پر مشتمل احادیث، ان کے علاوہ کسی کی تصنیف کو یا اس کے اقوال کو بطور دلیل پیش نہیں کیا جا سکتا۔
آخر اُس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہو گا جو اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے بلکہ اِس سے بھی بے خبر ہیں کہ پکارنے والے اُن کو پکار رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس سے بڑھ کر گمراه اور کون ہوگا؟ جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کر سکیں بلکہ ان کے پکارنے سے محض بےخبر ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اللہ کے سوا ایسوں کو پوجے جو قیامت تک اس کی نہ سنیں اور انہیں ان کی پوجا کی خبر تک نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارے جو قیامت تک اس کو جواب نہیں دے سکتے بلکہ وہ ان کی دعا و پکار سے غافل ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کے سوا انھیں پکارتا ہے جو قیامت کے دن تک اس کی دعا قبول نہیں کریں گے اور وہ ان کے پکارنے سے بے خبر ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے اس سے بڑھ کر کوئی گمراہ کردہ نہیں جو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پکارے اور اس سے حاجتیں طلب کرے جن حاجتوں کو پورا کرنے کی ان میں طاقت ہی نہیں بلکہ وہ تو اس سے بھی بے خبر ہیں نہ کسی چیز کو لے دے سکتے ہیں اس لیے کہ وہ تو پتھر ہیں، جمادات میں سے ہیں۔ قیامت کے دن جب سب لوگ اکھٹے کئے جائیں گے تو یہ معبودان باطل اپنے عابدوں کے دشمن بن جائیں گے اور اس بات سے کہ یہ لوگ ان کی پوجا کرتے تھے صاف انکار کر جائیں گے۔ جیسے اللہ عزوجل کا اور جگہ ارشاد ہے «وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» [19-مريم:82،81] ، یعنی ان لوگوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کی عزت کا باعث بنیں۔ واقعہ ایسا نہیں بلکہ وہ تو ان کی عبادت کا انکار کر جائیں گے اور ان کے پورے مخالف ہو جائیں گے یعنی جب کہ یہ ان کے پورے محتاج ہوں گے اس وقت وہ ان سے منہ پھیر لیں گے۔ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی امت سے فرمایا تھا «اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» [29-العنكبوت:25] ، یعنی تم نے اللہ کے سوا بتوں سے جو تعلقات قائم کر لیے ہیں اس کا نتیجہ قیامت کے دن دیکھ لو گے جب کہ تم ایک دوسرے سے انکار کر جاؤ گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگو گے اور تمہاری جگہ جہنم مقرر اور متعین ہو جائے گی اور تم اپنا مددگار کسی کو نہ پاؤ گے۔
5۔ 1 یعنی یہی سب سے بڑے گمراہ ہیں جو پتھر کی مورتیوں کو مدد کے لئے پکارتے ہیں جو قیامت تک جواب دینے سے قاصر۔ ہیں اور قاصر ہی نہیں بلکہ بالکل بیخبر ہیں۔
(آیت 5) {وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ …:} یہ استفہام انکار کے لیے ہے، یعنی اس سے بڑھ کر کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کو چھوڑ کر ایسی ہستیوں کو پکارے جو قیامت کے دن تک ان کی دعا قبول نہیں کر سکتے، کیونکہ ان کے پاس یہ اختیار ہی نہیں، بلکہ انھیں ان کے پکارنے کی خبر ہی نہیں۔ عام طور پر ان سے مراد پتھر اور بت لیے جاتے ہیں، مگر لفظ {”مَنْ“} ذوی العقول کے لیے آتا ہے، اس لیے اس سے مراد وہ سب ہستیاں ہیں جنھیں لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، جن میں انسان، جن، فرشتے، نبی، ولی، نیک، بد، زندہ، مردہ سب شامل ہیں۔ رہے پتھر، بت اور قبریں وغیرہ تو انھیں پکارتے اور پوجتے وقت بھی مشرکین دراصل ان بتوں یا قبروں کے بجائے ان ہستیوں ہی کو پکار رہے ہوتے ہیں جن کے وہ بت یا قبریں ہیں، ورنہ انھیں بت بنانے کی ضرورت کیا تھی، کسی بھی پتھر کی پوجا کر لیتے۔ چنانچہ مشرکینِ عرب نے عین کعبہ کے اندر ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام کی صورتیں بنا کر رکھی ہوئی تھیں، جنھیں فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے کعبہ سے نکالا گیا۔ (دیکھیے بخاری: ۴۲۸۸) اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی کسی کی پکار نہ سنتا ہے نہ اس کی مدد کو پہنچ سکتا ہے۔ قرآن مجید نے یہ بات بار بار دہرائی ہے، فرمایا: «وَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا يَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِيْرٍ (13) اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ وَ لَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ» [ فاطر: ۱۳، ۱۴ ] ”اور جن کو تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے ایک چھلکے کے مالک نہیں۔ اگر تم انھیں پکارو تو وہ تمھاری پکار نہیں سنیں گے اور اگر وہ سن لیں تو تمھاری درخواست قبول نہیں کریں گے اور قیامت کے دن تمھارے شرک کا انکا ر کر دیں گے اور تجھے ایک پوری خبر رکھنے والے کی طرح کوئی خبر نہیں دے گا۔“ اور فرمایا: «اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» [ الأعراف: ۱۹۴ ] ”بے شک جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمھارے جیسے بندے ہیں، پس انھیں پکارو تو لازم ہے کہ وہ تمھاری دعا قبول کریں، اگر تم سچے ہو۔“ اور فرمایا: «لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ وَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَجِيْبُوْنَ۠ لَهُمْ بِشَيْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ اِلَى الْمَآءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ» [الرعد: ۱۴ ] ”برحق پکارنا صرف اسی کے لیے ہے اور جن کو وہ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی دعا کچھ بھی قبول نہیں کرتے، مگراس شخص کی طرح جو اپنی دونوں ہتھیلیاں پانی کی طرف پھیلانے والا ہے، تاکہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے، حالانکہ وہ اس تک ہرگز پہنچنے والا نہیں اور نہیں ہے کافروں کا پکارنا مگر سراسر بے سود۔“ قارئین {” لَا يَسْتَجِيْبُ “} کا مفہوم سمجھنے کے لیے تھوڑی زحمت کرکے ان مذکورہ بالا مقامات کی تفسیر پر بھی نظر ڈال لیں۔
اور جب تمام انسان جمع کیے جائیں گے اُس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو یہ ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی پرستش سے صاف انکار کر جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب لوگوں کا حشر ہوگا وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان سے منکر ہوجائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب سب لوگ جمع کئے جائیں گے تو وہ (معبود) ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کریں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت سے منکر ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے اس سے بڑھ کر کوئی گمراہ کردہ نہیں جو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پکارے اور اس سے حاجتیں طلب کرے جن حاجتوں کو پورا کرنے کی ان میں طاقت ہی نہیں بلکہ وہ تو اس سے بھی بے خبر ہیں نہ کسی چیز کو لے دے سکتے ہیں اس لیے کہ وہ تو پتھر ہیں، جمادات میں سے ہیں۔ قیامت کے دن جب سب لوگ اکھٹے کئے جائیں گے تو یہ معبودان باطل اپنے عابدوں کے دشمن بن جائیں گے اور اس بات سے کہ یہ لوگ ان کی پوجا کرتے تھے صاف انکار کر جائیں گے۔ جیسے اللہ عزوجل کا اور جگہ ارشاد ہے «وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» [19-مريم:82،81] ، یعنی ان لوگوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کی عزت کا باعث بنیں۔ واقعہ ایسا نہیں بلکہ وہ تو ان کی عبادت کا انکار کر جائیں گے اور ان کے پورے مخالف ہو جائیں گے یعنی جب کہ یہ ان کے پورے محتاج ہوں گے اس وقت وہ ان سے منہ پھیر لیں گے۔ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی امت سے فرمایا تھا «اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» [29-العنكبوت:25] ، یعنی تم نے اللہ کے سوا بتوں سے جو تعلقات قائم کر لیے ہیں اس کا نتیجہ قیامت کے دن دیکھ لو گے جب کہ تم ایک دوسرے سے انکار کر جاؤ گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگو گے اور تمہاری جگہ جہنم مقرر اور متعین ہو جائے گی اور تم اپنا مددگار کسی کو نہ پاؤ گے۔
6 ۔ 1 یہ مضمون قرآن کریم میں متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے مثلا سورة یونس سورة مریم سورة عنکبوت وغیر ھا من الایات دنیا میں ان معبودوں کی دو قسمیں ہیں ایک تو غیر ذی روح جمادات و نباتات اور مظاہر قدرت (سورج آگ) ہیں اللہ تعالیٰ ان کو زندگی اور قوت گویائی عطا فرمائے گا اور یہ چیزیں بول کر بتلائیں گی کہ ہمیں قطعا اس بات کا علم نہیں ہے کہ یہ ہماری عبادت کرتے اور ہمیں تیری خدائی میں شریک گردانتے تھے بعض کہتے ہیں کہ زبان قال سے نہیں ہے زبان حال سے وہ اپنے جذبات کا اظہار کریں گی واللہ اعلم معبودوں کی دوسری قسم وہ ہے جو انبیاء (علیہم السلام) ملائکہ اور صالحین میں سے ہیں جیسے عیسی، حضرت عزیر (علیہما السلام) اور دیگر عباد اللہ الصالحین ہیں یہ اللہ کی بارگاہ میں اسی طرح کا جواب دیں گے جیسے حضرت عیسیٰ ؑ کا جواب قرآن کریم میں منقول ہے علاوہ ازیں شیطان بھی انکار کریں گے جیسے قرآن میں ان کا قول نقل کیا گیا ہے۔ تبرأنا الیک ما کانوا ایانا یعبدون۔ القصص۔ ہم تیرے سامنے (اپنے عابدین سے) اظہار براءت کرتے ہیں یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے
(آیت 6) {وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً …:} یعنی قیامت کے دن جب انھیں بتایا جائے گا کہ یہ لوگ تمھیں پکارتے رہے اور تم سے فریاد کرتے رہے تو وہ صاف کہہ دیں گے کہ ہمیں اس بات کی کوئی خبر نہیں کہ یہ ہمیں پکارتے رہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ يَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِيَّانَا تَعْبُدُوْنَ (28) فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِيْنَ» [ یونس: ۲۸، ۲۹ ] ”اور جس دن ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے، پھر ہم ان لوگوں سے جنھوں نے شریک بنائے تھے، کہیں گے اپنی جگہ ٹھہرے رہو، تم اور تمھارے شریک بھی، پھر ہم ان کے درمیان علیحدگی کر دیں گے اور ان کے شریک کہیں گے تم ہماری تو عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔ سو اللہ ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان کافی گواہ ہے کہ بے شک ہم تمھاری عبادت سے یقینا بے خبر تھے۔“ اور دیکھیے سورۂ قصص (۶۳) اور سورۂ نحل (۸۶) مسیح علیہ السلام بھی اپنی عبادت کرنے والوں سے اپنے بے خبر ہونے کی صراحت فرما دیں گے (دیکھیے مائدہ: ۱۱۶، ۱۱۷) اور فرشتے بھی۔ (دیکھیے فرقان: ۱۷، ۸ا۔ سبا: ۴۰، ۴۱) بلکہ اللہ تعالیٰ کے سوا جن کی بھی پوجا کی گئی وہ پوجا کرنے اور پکارنے والوں کے شدید مخالف اور دشمن بن جائیں گے۔ دیکھیے سورۂ مریم (۸۱، ۸۲)۔
اِن لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں اور حق اِن کے سامنے آ جاتا ہے تو یہ کافر لوگ اُس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور انہیں جب ہماری واضح آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو منکر لوگ سچی بات کو جب کہ ان کے پاس آچکی، کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ان پر پڑھی جائیں ہماری روشن آیتیں تو کافر اپنے پاس آئے ہوئے حق کو کہتے ہیں یہ کھلا جادو ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ان کو ہماری واضح آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو (یہ) کافر لوگ حق کے بارے میں کہتے ہیں جبکہ ان کے پاس آگیا کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اورجب ان کے سامنے ہماری واضح آیا ت پڑھی جاتی ہیں تو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا حق کے بارے میں، جب وہ ان کے پاس آیا، کہتے ہیں یہ کھلا جادو ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار بےبسی ٭٭
مشرکوں کی سرکشی اور ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جب انہیں اللہ کی ظاہر و باطن واضح اور صاف آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے، تکذیب و افترا، ضلالت و کفر گویا ان کا شیوہ ہو گیا ہے۔ جادو کہہ کر ہی بس نہیں کرتے بلکہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اسے تو محمد نے گھڑ لیا ہے۔ پس نبی کی زبانی اللہ جواب دلواتا ہے کہ اگر میں نے ہی اس قرآن کو بنایا ہے اور میں اس کا سچا نبی نہیں تو یقینًا وہ مجھے میرے اس جھوٹ اور بہتان پر سخت تر عذاب کرے گا اور پھر تم کیا سارے جہان میں کوئی ایسا نہیں جو مجھے اس کے عذابوں سے چھڑا سکے۔ جیسے اور جگہ ہے «قُلْ اِنِّىْ لَنْ يُّجِيْرَنِيْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ ڏ وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا إِلَّا بَلَاغًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِسَالَاتِهِ» [72-الجن:23،22] ، یعنی تو کہہ دے کہ مجھے اللہ کے ہاتھ سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ اس کے سوا کہیں اور مجھے پناہ کی جگہ مل سکے گی لیکن میں اللہ کی تبلیغ اور اس کی رسالت کو بجا لاتا ہوں۔ اور جگہ ہے «وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ» [69-الحاقة:47-44] ، یعنی اگر یہ ہم پر کوئی بات بنا لیتا، تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے اور تم میں سے کوئی بھی اسے نہ بچا سکتا۔ پھر کفار کو دھمکایا جا رہا ہے کہ تمہاری گفتگو کا پورا علم اس علیم اللہ کو ہے، وہی میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اس کی دھمکی کے بعد انہیں توبہ اور انابت کی رغبت دلائی جا رہی ہے اور فرماتا ہے، وہ غفور و رحیم ہے، اگر تم اس کی طرف رجوع کرو اپنے کرتوت سے باز آؤ تو وہ بھی تمہیں بخش دے گا اور تم پر رحم کرے گا۔ سورۃ الفرقان میں بھی اسی مضمون کی آیت ہے۔ فرمان ہے «وَقَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6،5] ، یعنی یہ کہتے ہیں کہ یہ اگلوں کی کہانیاں ہیں جو اس نے لکھ لی ہیں اور صبح شام لکھائی جا رہی ہیں تو کہہ دے کہ اسے اس اللہ نے اتارا ہے جو ہر پوشیدہ کو جانتا ہے خواہ آسمانوں میں ہو، خواہ زمین میں ہو وہ غفور و رحیم ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میں دنیا میں کوئی پہلا نبی تو نہیں، مجھ سے پہلے بھی تو دنیا میں لوگوں کی طرف رسول آتے رہے پھر میرے آنے سے تمہیں اس قدر اچنبھا کیوں ہوا؟ مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا؟ بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کے بعد آیت «لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَـقِيْمًا» [48-الفتح:2] ، اتری ہے۔ اسی طرح عکرمہ، حسن، قتادہ رحمہم اللہ علیہم بھی اسے منسوخ بتاتے ہیں۔ یہ بھی مروی ہے کہ جب آیت بخشش اتری جس میں فرمایا گیا تاکہ اللہ تیرے اگلے پچھلے گناہ بخشے تو ایک صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو اللہ نے بیان فرما دیا کہ وہ آپ کے ساتھ کیا کرنے والا ہے پس وہ ہمارے ساتھ کیا کرنے والا ہے؟ اس پر آیت «لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًا» [48-الفتح:5] اتری یعنی تاکہ اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، صحیح حدیث سے بھی یہ تو ثابت ہے کہ مومنوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ کو مبارک ہو، فرمائیے! ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری [صحیح مسلم:1786] ضحاک رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں کیا حکم دیا جاؤں اور کس چیز سے روک دیا جاؤں؟ امام حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ آخرت کا انجام تو مجھے قطعًا معلوم ہے کہ میں جنت میں جاؤں گا، ہاں دنیوی حال معلوم نہیں کہ اگلے بعض انبیاء کی طرح قتل کیا جاؤں یا اپنی زندگی کے دن پورے کر کے اللہ کے ہاں جاؤں؟ اور اسی طرح میں نہیں کہہ سکتا کہ تمہیں دھنسایا جائے یا تم پر پتھر برسائے جائیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:277/11]
امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو معتبر کہتے ہیں اور فی الواقع ہے بھی یہ ٹھیک۔ آپ بالیقین جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو جنت میں ہی جائیں گے اور دنیا کی حالت کے انجام سے آپ بےخبر تھے کہ انجام کار آپ کا اور آپ کے مخالفین قریش کا کیا حال ہو گا؟ آیا وہ ایمان لائیں گے یا کفر پر ہی رہیں گے اور عذاب کئے جائیں گے یا بالکل ہی ہلاک کر دئیے جائیں گے۔ لیکن جو حدیث مسند احمد میں ہے [مسند احمد:436/6:صحیح] { سیدہ ام العلاء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی کہ جس وقت مہاجرین بذریعہ قرعہ اندازی انصاریوں میں تقسیم ہو رہے تھے اس وقت ہمارے حصہ میں سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ آئے، آپ ہمارے ہاں بیمار ہوئے اور فوت بھی ہو گئے جب ہم آپ کو کفن پہنا چکے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لا چکے، تو میرے منہ سے نکل گیا، اے ابوالسائب! اللہ تجھ پر رحم کرے میری تو تجھ پر گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ یقیناً تیرا اکرام ہی کرے گا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ یقیناً اس کا اکرام ہی کرے گا۔“ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! پر میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں مجھے کچھ نہیں معلوم پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! ان کے پاس تو ان کے رب کی طرف کا یقین آ پہنچا اور مجھے ان کیلئے بھلائی اور خیر کی امید ہے، قسم ہے اللہ کے باوجود رسول ہونے کے میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟“ اس پر میں نے کہا: اللہ کی قسم اب اس کے بعد میں کسی کی برات نہیں کروں گی اور مجھے اس کا بڑا صدمہ ہوا، لیکن میں نے خواب میں دیکھا کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی ایک نہر بہہ رہی ہے، میں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان کے اعمال ہیں“ }، یہ حدیث بخاری میں ہے [صحیح بخاری:1243] مسلم میں نہیں اور اس کی ایک سند میں ہے ”میں نہیں جانتا باوجود یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟“ دل کو تو کچھ ایسا لگتا ہے کہ یہی الفاظ موقعہ کے لحاظ سے ٹھیک ہیں کیونکہ اس کے بعد ہی یہ جملہ ہے کہ مجھے اس بات سے بڑا صدمہ ہوا۔ الغرض یہ حدیث اور اسی کی ہم معنی اور حدیثیں دلالت ہیں اس امر پر کہ کسی معین شخص کے جنتی ہونے کا قطعی علم کسی کو نہیں، نہ کسی کو ایسی بات زبان سے کہنی چاہیئے۔ بجز ان بزرگوں کے جن کے نام لے کر شارع علیہ السلام نے انہیں جنتی کہا ہے، جیسے عشرہ مبشرہ اور ابن سلام اور عمیصا اور بلال اور سراقہ اور عبداللہ بن عمرو بن حرام جو جابر کے والد ہیں اور وہ ستر قاری جو بیرمعونہ کی جنگ میں شہید کئے گئے اور زید بن حارثہ اور جعفر اور ابن رواحہ اور ان جیسے اور بزرگ رضی اللہ عنہم اجمعین۔ پھر فرماتا ہے اے نبی! تم کہہ دو کہ میں تو صرف اس وحی کا مطیع ہوں جو اللہ کی جناب سے میری جانب آئے اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں کہ کھول کھول کر ہر شخص کو آگاہ کر رہا ہوں ہر عقلمند میرے منصب سے باخبر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 7) {وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ …:} قرآن پر ایمان نہ لانے کے لیے وہ جو بہانے کرتے تھے ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ اختصار کا تقاضا یہ تھا کہ کہا جاتا: {” وَ إِذَا تُتْلٰي عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ “} (جب ان کے سامنے ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ کھلا جادو ہے) مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ» ”اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا حق کے بارے میں، جب وہ ان کے پاس آیا، کہتے ہیں یہ کھلا جادو ہے۔“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اختصار کے بجائے تین باتوں {” قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا “، ” لِلْحَقِّ “} اور {” لَمَّا جَآءَهُمْ “} کی صراحت فرمائی۔ {” قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا “} کا مقصد یہ ہے کہ ان کے جھٹلانے کا اصل باعث ان کا کفر و انکار ہے، جب کوئی طے کر لے کہ ماننا ہی نہیں تو بڑی سے بڑی دلیل بھی اس کے لیے بے کار ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ» [ البقرۃ: ۶ ] ”بے شک جن لوگوں نے کفر کیا ان پر برابر ہے، خواہ تو نے انھیں ڈرایا ہو یا انھیں نہ ڈرایا ہو، ایمان نہیں لائیں گے۔“ {” لِلْحَقِّ “} کہہ کر آیات بینات کی عظمت و اہمیت اور کفار کی بدنصیبی نمایاں فرمائی کہ دیکھو وہ اس چیز کو جادو کہہ رہے ہیں جو حق ہے، جب کہ جادو سراسر باطل ہوتا ہے اور {” لَمَّا جَآءَهُمْ “} کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان کے پاس حق نہ آتا تو انھیں معذور سمجھا جاتا، حق آنے کے بعد اسے جادو کہنا بہت بڑی جرأت ہے۔ {” وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ “} اور {” لَمَّا جَآءَهُمْ “} سے یہ بات بھی واضح ہو رہی ہے کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات پر غور و فکر کی زحمت ہی نہیں کرتے، بلکہ سنتے ہی انھیں جھٹلا دیتے ہیں اور جب جھٹلانے کے لیے کوئی معقول وجہ نہیں پاتے تو اس کی شدتِ تاثیر کی وجہ سے اسے جادو کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں، حالانکہ کہاں جادو اور کہاں یہ پاکیزہ اور عظیم الشان کلام، جس کی ایک سورت کی مثال وہ نہ لا سکے نہ لا سکتے ہیں اور کہاں نجس اور پلید جادوگر اور کہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا پاک باز اور صادق و امین انسان، جس کی پاک بازی اور صدق و امانت کا انھیں نبوت سے چالیس برس پہلے کا بھی تجربہ تھا۔
کیا اُن کا کہنا یہ ہے کہ رسول نے اِسے خود گھڑ لیا ہے؟ ان سے کہو، "اگر میں نے اِسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے، جو باتیں تم بناتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لیے کافی ہے، اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا وه کہتے ہیں کہ اسے تو اس نے خود گھڑ لیا ہے آپ کہہ دیجئے! کہ اگر میں ہی اسے بنا ﻻیا ہوں تو تم میرے لئے اللہ کی طرف سے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے، تم اس (قرآن) کے بارے میں جو کچھ کہہ سن رہے ہو اسے اللہ خوب جانتا ہے، میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے وہی کافی ہے، اور وه بخشنے واﻻ مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا کہتے ہیں انہوں نے اسے جی سے بنایا تم فرماؤ اگر میں نے اسے جی سے بنالیا ہوگا تو تم اللہ کے سامنے میرا کچھ اختیار نہیں رکھتے وہ خوب جانتا ہے جن باتوں میں تم مشغول ہو اور وہ کافی ہے میرے اور تمہارے درمیان گواہ، اور وہی بخشنے والا مہربان ہے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا وہ کہتے ہیں کہ اس (رسول(ص)) نے اسے خود گھڑ لیا ہے؟ آپ(ص) کہیے کہ اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہے تو تم لوگ اللہ کے مقابلہ میں میرے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتے (ذرا بھی مجھے نہیں بچا سکتے) (قرآن کے متعلق) تم جن باتوں میں مشغول ہو وہ (اللہ) ان کو خوب جانتا ہے اور وہی میرے اور تمہارے درمیان بطور گواہ کافی ہے اور بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑ لیا ہے، کہہ دے اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے توتم میرے لیے اللہ کے مقابلے میں کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے، وہ ان باتوں کو زیادہ جاننے والا ہے جن میں تم مشغول ہوتے ہو، وہی میرے درمیان اور تمھارے درمیان گواہ کے طور پر کافی ہے اور وہی بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار بےبسی ٭٭
مشرکوں کی سرکشی اور ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جب انہیں اللہ کی ظاہر و باطن واضح اور صاف آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے، تکذیب و افترا، ضلالت و کفر گویا ان کا شیوہ ہو گیا ہے۔ جادو کہہ کر ہی بس نہیں کرتے بلکہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اسے تو محمد نے گھڑ لیا ہے۔ پس نبی کی زبانی اللہ جواب دلواتا ہے کہ اگر میں نے ہی اس قرآن کو بنایا ہے اور میں اس کا سچا نبی نہیں تو یقینًا وہ مجھے میرے اس جھوٹ اور بہتان پر سخت تر عذاب کرے گا اور پھر تم کیا سارے جہان میں کوئی ایسا نہیں جو مجھے اس کے عذابوں سے چھڑا سکے۔ جیسے اور جگہ ہے «قُلْ اِنِّىْ لَنْ يُّجِيْرَنِيْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ ڏ وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا إِلَّا بَلَاغًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِسَالَاتِهِ» [72-الجن:23،22] ، یعنی تو کہہ دے کہ مجھے اللہ کے ہاتھ سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ اس کے سوا کہیں اور مجھے پناہ کی جگہ مل سکے گی لیکن میں اللہ کی تبلیغ اور اس کی رسالت کو بجا لاتا ہوں۔ اور جگہ ہے «وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ» [69-الحاقة:47-44] ، یعنی اگر یہ ہم پر کوئی بات بنا لیتا، تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے اور تم میں سے کوئی بھی اسے نہ بچا سکتا۔ پھر کفار کو دھمکایا جا رہا ہے کہ تمہاری گفتگو کا پورا علم اس علیم اللہ کو ہے، وہی میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اس کی دھمکی کے بعد انہیں توبہ اور انابت کی رغبت دلائی جا رہی ہے اور فرماتا ہے، وہ غفور و رحیم ہے، اگر تم اس کی طرف رجوع کرو اپنے کرتوت سے باز آؤ تو وہ بھی تمہیں بخش دے گا اور تم پر رحم کرے گا۔ سورۃ الفرقان میں بھی اسی مضمون کی آیت ہے۔ فرمان ہے «وَقَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6،5] ، یعنی یہ کہتے ہیں کہ یہ اگلوں کی کہانیاں ہیں جو اس نے لکھ لی ہیں اور صبح شام لکھائی جا رہی ہیں تو کہہ دے کہ اسے اس اللہ نے اتارا ہے جو ہر پوشیدہ کو جانتا ہے خواہ آسمانوں میں ہو، خواہ زمین میں ہو وہ غفور و رحیم ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میں دنیا میں کوئی پہلا نبی تو نہیں، مجھ سے پہلے بھی تو دنیا میں لوگوں کی طرف رسول آتے رہے پھر میرے آنے سے تمہیں اس قدر اچنبھا کیوں ہوا؟ مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا؟ بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کے بعد آیت «لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَـقِيْمًا» [48-الفتح:2] ، اتری ہے۔ اسی طرح عکرمہ، حسن، قتادہ رحمہم اللہ علیہم بھی اسے منسوخ بتاتے ہیں۔ یہ بھی مروی ہے کہ جب آیت بخشش اتری جس میں فرمایا گیا تاکہ اللہ تیرے اگلے پچھلے گناہ بخشے تو ایک صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو اللہ نے بیان فرما دیا کہ وہ آپ کے ساتھ کیا کرنے والا ہے پس وہ ہمارے ساتھ کیا کرنے والا ہے؟ اس پر آیت «لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًا» [48-الفتح:5] اتری یعنی تاکہ اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، صحیح حدیث سے بھی یہ تو ثابت ہے کہ مومنوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ کو مبارک ہو، فرمائیے! ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری [صحیح مسلم:1786] ضحاک رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں کیا حکم دیا جاؤں اور کس چیز سے روک دیا جاؤں؟ امام حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ آخرت کا انجام تو مجھے قطعًا معلوم ہے کہ میں جنت میں جاؤں گا، ہاں دنیوی حال معلوم نہیں کہ اگلے بعض انبیاء کی طرح قتل کیا جاؤں یا اپنی زندگی کے دن پورے کر کے اللہ کے ہاں جاؤں؟ اور اسی طرح میں نہیں کہہ سکتا کہ تمہیں دھنسایا جائے یا تم پر پتھر برسائے جائیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:277/11]
امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو معتبر کہتے ہیں اور فی الواقع ہے بھی یہ ٹھیک۔ آپ بالیقین جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو جنت میں ہی جائیں گے اور دنیا کی حالت کے انجام سے آپ بےخبر تھے کہ انجام کار آپ کا اور آپ کے مخالفین قریش کا کیا حال ہو گا؟ آیا وہ ایمان لائیں گے یا کفر پر ہی رہیں گے اور عذاب کئے جائیں گے یا بالکل ہی ہلاک کر دئیے جائیں گے۔ لیکن جو حدیث مسند احمد میں ہے [مسند احمد:436/6:صحیح] { سیدہ ام العلاء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی کہ جس وقت مہاجرین بذریعہ قرعہ اندازی انصاریوں میں تقسیم ہو رہے تھے اس وقت ہمارے حصہ میں سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ آئے، آپ ہمارے ہاں بیمار ہوئے اور فوت بھی ہو گئے جب ہم آپ کو کفن پہنا چکے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لا چکے، تو میرے منہ سے نکل گیا، اے ابوالسائب! اللہ تجھ پر رحم کرے میری تو تجھ پر گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ یقیناً تیرا اکرام ہی کرے گا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ یقیناً اس کا اکرام ہی کرے گا۔“ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! پر میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں مجھے کچھ نہیں معلوم پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! ان کے پاس تو ان کے رب کی طرف کا یقین آ پہنچا اور مجھے ان کیلئے بھلائی اور خیر کی امید ہے، قسم ہے اللہ کے باوجود رسول ہونے کے میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟“ اس پر میں نے کہا: اللہ کی قسم اب اس کے بعد میں کسی کی برات نہیں کروں گی اور مجھے اس کا بڑا صدمہ ہوا، لیکن میں نے خواب میں دیکھا کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی ایک نہر بہہ رہی ہے، میں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان کے اعمال ہیں“ }، یہ حدیث بخاری میں ہے [صحیح بخاری:1243] مسلم میں نہیں اور اس کی ایک سند میں ہے ”میں نہیں جانتا باوجود یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟“ دل کو تو کچھ ایسا لگتا ہے کہ یہی الفاظ موقعہ کے لحاظ سے ٹھیک ہیں کیونکہ اس کے بعد ہی یہ جملہ ہے کہ مجھے اس بات سے بڑا صدمہ ہوا۔ الغرض یہ حدیث اور اسی کی ہم معنی اور حدیثیں دلالت ہیں اس امر پر کہ کسی معین شخص کے جنتی ہونے کا قطعی علم کسی کو نہیں، نہ کسی کو ایسی بات زبان سے کہنی چاہیئے۔ بجز ان بزرگوں کے جن کے نام لے کر شارع علیہ السلام نے انہیں جنتی کہا ہے، جیسے عشرہ مبشرہ اور ابن سلام اور عمیصا اور بلال اور سراقہ اور عبداللہ بن عمرو بن حرام جو جابر کے والد ہیں اور وہ ستر قاری جو بیرمعونہ کی جنگ میں شہید کئے گئے اور زید بن حارثہ اور جعفر اور ابن رواحہ اور ان جیسے اور بزرگ رضی اللہ عنہم اجمعین۔ پھر فرماتا ہے اے نبی! تم کہہ دو کہ میں تو صرف اس وحی کا مطیع ہوں جو اللہ کی جناب سے میری جانب آئے اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں کہ کھول کھول کر ہر شخص کو آگاہ کر رہا ہوں ہر عقلمند میرے منصب سے باخبر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
8۔ 1 اس حق سے مراد جو ان کے پاس آیا قرآن کریم ہے اس کے اعجاز اور قوت تاثیر کو دیکھ کر وہ اسے جادو سے تعبیر کرتے پھر اس سے بھی انحراف کر کے یا اس سے بھی بات نہ بنتی تو کہتے کہ یہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا گھڑا ہوا کلام ہے۔ 8۔ 2 یعنی اگر تماری یہ بات صحیح ہو کہ میں اللہ کا بنایا ہوا رسول نہیں ہوں اور یہ کلام بھی میرا اپنا گھڑا ہوا ہے پھر تو یقینا میں بڑا مجرم ہوں اللہ تعالیٰ اتنے بڑے جھوٹ پر مجھے پکڑے بغیر تو نہیں چھوڑے گا اور اگر ایسی کوئی گرفت ہوئی تو پھر سمجھ لینا کہ میں جھوٹا ہوں اور میری کوئی مدد بھی مت کرتا بلکہ ایسی حالت میں مجھے مواخذہ الہی سے بچانے کا تمہیں کوئی اختیار ہی نہیں ہوگا اسی مضمون کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ہے۔ (وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ 44 ۙ لَاَخَذْنَا مِنْهُ بالْيَمِيْنِ 45ۙ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ 46ڮ فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِـزِيْنَ 47) 69۔ الحاقہ:44) 8۔ 3 یعنی جس جس انداز سے بھی تم قرآن کی تکذیب کرتے ہو، کبھی اسے جادو، کبھی کہانت اور کبھی گھڑا ہوا کہتے ہو۔ اللہ اسے خوب جانتا ہے یعنی وہی تمہاری ان مذموم حرکتوں کا تمہیں بدلہ دے گا۔ 8۔ 4 وہ اس بات کی گواہی کے لئے کافی ہے کہ یہ قرآن اسی کی طرف سے نازل ہوا ہے اور وہی تمہاری تکذیب و مخالفت کا بھی گواہ ہے۔ اس میں بھی ان کے لئے سخت وعید ہے۔ 8۔ 5 اس کے لیے جو توبہ کرلے ایمان لے آئے اور قرآن کو اللہ تعالیٰ کا سچا کلام مان لے مطلب ہے کہ ابھی بھی وقت ہے کہ توبہ کر کے اللہ کی مغفرت و رحمت کے مستحق بن جاؤ۔
(آیت 8) ➊ { اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ:} یہ ایمان نہ لانے کا ایک اور بہانہ ہے۔ ”واؤ“ کے ساتھ عطف کے بجائے حرف {” اَمْ “} لایا گیا ہے، یعنی ان کی یہ بات کہ یہ جادو ہے ایک طرف رہی، اس سے بھی عجیب بات سنو، وہ کہتے ہیں کہ اس نے قرآن خود تصنیف کیا ہے اور جھوٹ باندھتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ حالانکہ اس میں وہ اپنی ہی بات کی نفی کر رہے ہیں، کیونکہ اگر یہ جادو ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا کلام نہیں اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام ہے تو جادو نہیں۔ ➋ {قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِيْ مِنَ اللّٰهِ شَيْـًٔا: ” اِنِ افْتَرَيْتُهٗ “} کا جواب محذوف ہے جو {” فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِيْ “} سے سمجھ میں آ رہا ہے: {”أَيْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ عَاقَبَنِيَ اللّٰهُ عَلَي الْإِفْتِرَاءِ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِيْ مِنَ اللّٰهِ شَيْئًا “} ”یعنی آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر میں نے جھوٹ گھڑنے کا جرم کیا ہے تو یقینا اللہ تعالیٰ مجھے جھوٹ گھڑنے کی سزا دے گا، پھر تم اللہ تعالیٰ سے چھڑانے کے لیے میرے کسی کام نہ آؤ گے۔“ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ (44) لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ (45) ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ (46) فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِيْنَ» [ الحاقۃ: ۴۴ تا ۴۷ ] ”اور اگر وہ ہم پر کوئی بات بنا کر لگا دیتا۔ تو یقینا ہم اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑتے۔ پھر یقینا ہم اس کی جان کی رگ کاٹ دیتے۔ پھر تم میں سے کوئی بھی(ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔“ ➌ {هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ …:} یعنی جب تم اس حد تک آ گئے کہ اس کلام کو افترا اور انسانی کلام کہنے لگے جس کی چھوٹی سے چھوٹی سورت کی مثال لانے سے بھی تم قاصر رہے اور سب کے سامنے واضح ہو گیا کہ وہ انسان کا کلام نہیں اور نہ کوئی انسان ایسا کلام کر سکتا ہے تو اب تم سے بحث کا کوئی فائدہ نہیں، میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، وہ ان باتوں کو خوب جانتا ہے جو تم بناتے رہتے ہو۔ کبھی اسے جادو کہتے ہو، کبھی کہانت، کبھی شعر اور کبھی خود تصنیف کرکے اللہ تعالیٰ پر باندھا ہوا طوفان۔ وہی میرے اور تمھارے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے کافی ہے، کیونکہ وہ ہم دونوں کی ہر بات سے واقف اور ہر موقع کا گواہ ہے۔ ➍ { وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ:} اس جملے کی مناسبت اس مقام پر دو طرح سے ہے، ایک یہ کہ تمھارا قرآن کو افترا اور نبی کو مفتری کہنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ غفور و رحیم نہ ہوتا، بلکہ کوئی بے رحم اور سخت گیر مالک ہوتا تو تمھیں ایک سانس کی مہلت بھی نہ ملتی۔ یہ اس کی مغفرت اور رحمت ہی ہے کہ ایسی گستاخیوں کے باوجود وہ تمھیں فوراً نہیں پکڑتا، بلکہ مہلت دیتا ہے کہ تم کسی وقت ہی پلٹ آؤ۔ دوسری مناسبت یہ ترغیب ہے کہ اب بھی اس ہٹ دھرمی سے باز آ جاؤ تو اللہ تعالیٰ کی مغفرت و رحمت تمھارا انتظار کر رہی ہیں، کیونکہ وہ غفور بھی ہے اور رحیم بھی۔ نہ اس کی مغفرت کی کوئی انتہا ہے نہ رحمت کی، تم نے جو کچھ کیا وہ اب بھی معاف کر دے گا۔ {” الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ “} ضمیر {” هُوَ “} کی خبر ہے، جس پر الف لام آنے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا ہے، یعنی غفور و رحیم بس وہی ہے اور کوئی ہے ہی نہیں جو تمھارے گناہوں پر پردہ ڈال دے اور تم پر بے حد رحم کرنے والا ہو، پھر اس سے بھاگ کر کہاں جاؤ گے؟
اِن سے کہو، "میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں، میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا، میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کر دینے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں"
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے! کہ میں کوئی بالکل انوکھا پیغمبر تو نہیں نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ میں تو صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی بھیجی جاتی ہے اور میں تو صرف علیاﻻعلان آگاه کر دینے واﻻ ہوں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ میں کوئی انوکھا رسول نہیں اور میں نہیں جانتا میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا میں تو اسی کا تابع ہوں جو مجھے وحی ہوتی ہے اور میں نہیں مگر صاف ڈر سنانے والا،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کہہ دیجئے کہ رسولوں(ع) میں سے میں کوئی انوکھا نہیں ہوں اور میں (از خود) نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیاجائے گا؟ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا اور میں تو صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جس کی مجھے وحی کی جاتی ہے اور میں نہیں ہوں مگر کھلا ہوا ڈرانے والا۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں ہوں اور نہ میں یہ جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ (یہ کہ) تمھارے ساتھ (کیا)، میں تو بس اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے اور میں تو بس واضح ڈرانے والا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار بےبسی ٭٭
مشرکوں کی سرکشی اور ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جب انہیں اللہ کی ظاہر و باطن واضح اور صاف آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے، تکذیب و افترا، ضلالت و کفر گویا ان کا شیوہ ہو گیا ہے۔ جادو کہہ کر ہی بس نہیں کرتے بلکہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اسے تو محمد نے گھڑ لیا ہے۔ پس نبی کی زبانی اللہ جواب دلواتا ہے کہ اگر میں نے ہی اس قرآن کو بنایا ہے اور میں اس کا سچا نبی نہیں تو یقینًا وہ مجھے میرے اس جھوٹ اور بہتان پر سخت تر عذاب کرے گا اور پھر تم کیا سارے جہان میں کوئی ایسا نہیں جو مجھے اس کے عذابوں سے چھڑا سکے۔ جیسے اور جگہ ہے «قُلْ اِنِّىْ لَنْ يُّجِيْرَنِيْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ ڏ وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا إِلَّا بَلَاغًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِسَالَاتِهِ» [72-الجن:23،22] ، یعنی تو کہہ دے کہ مجھے اللہ کے ہاتھ سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ اس کے سوا کہیں اور مجھے پناہ کی جگہ مل سکے گی لیکن میں اللہ کی تبلیغ اور اس کی رسالت کو بجا لاتا ہوں۔ اور جگہ ہے «وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ» [69-الحاقة:47-44] ، یعنی اگر یہ ہم پر کوئی بات بنا لیتا، تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے اور تم میں سے کوئی بھی اسے نہ بچا سکتا۔ پھر کفار کو دھمکایا جا رہا ہے کہ تمہاری گفتگو کا پورا علم اس علیم اللہ کو ہے، وہی میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اس کی دھمکی کے بعد انہیں توبہ اور انابت کی رغبت دلائی جا رہی ہے اور فرماتا ہے، وہ غفور و رحیم ہے، اگر تم اس کی طرف رجوع کرو اپنے کرتوت سے باز آؤ تو وہ بھی تمہیں بخش دے گا اور تم پر رحم کرے گا۔ سورۃ الفرقان میں بھی اسی مضمون کی آیت ہے۔ فرمان ہے «وَقَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6،5] ، یعنی یہ کہتے ہیں کہ یہ اگلوں کی کہانیاں ہیں جو اس نے لکھ لی ہیں اور صبح شام لکھائی جا رہی ہیں تو کہہ دے کہ اسے اس اللہ نے اتارا ہے جو ہر پوشیدہ کو جانتا ہے خواہ آسمانوں میں ہو، خواہ زمین میں ہو وہ غفور و رحیم ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میں دنیا میں کوئی پہلا نبی تو نہیں، مجھ سے پہلے بھی تو دنیا میں لوگوں کی طرف رسول آتے رہے پھر میرے آنے سے تمہیں اس قدر اچنبھا کیوں ہوا؟ مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا؟ بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کے بعد آیت «لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَـقِيْمًا» [48-الفتح:2] ، اتری ہے۔ اسی طرح عکرمہ، حسن، قتادہ رحمہم اللہ علیہم بھی اسے منسوخ بتاتے ہیں۔ یہ بھی مروی ہے کہ جب آیت بخشش اتری جس میں فرمایا گیا تاکہ اللہ تیرے اگلے پچھلے گناہ بخشے تو ایک صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو اللہ نے بیان فرما دیا کہ وہ آپ کے ساتھ کیا کرنے والا ہے پس وہ ہمارے ساتھ کیا کرنے والا ہے؟ اس پر آیت «لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًا» [48-الفتح:5] اتری یعنی تاکہ اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، صحیح حدیث سے بھی یہ تو ثابت ہے کہ مومنوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ کو مبارک ہو، فرمائیے! ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری [صحیح مسلم:1786] ضحاک رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں کیا حکم دیا جاؤں اور کس چیز سے روک دیا جاؤں؟ امام حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ آخرت کا انجام تو مجھے قطعًا معلوم ہے کہ میں جنت میں جاؤں گا، ہاں دنیوی حال معلوم نہیں کہ اگلے بعض انبیاء کی طرح قتل کیا جاؤں یا اپنی زندگی کے دن پورے کر کے اللہ کے ہاں جاؤں؟ اور اسی طرح میں نہیں کہہ سکتا کہ تمہیں دھنسایا جائے یا تم پر پتھر برسائے جائیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:277/11]
امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو معتبر کہتے ہیں اور فی الواقع ہے بھی یہ ٹھیک۔ آپ بالیقین جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو جنت میں ہی جائیں گے اور دنیا کی حالت کے انجام سے آپ بےخبر تھے کہ انجام کار آپ کا اور آپ کے مخالفین قریش کا کیا حال ہو گا؟ آیا وہ ایمان لائیں گے یا کفر پر ہی رہیں گے اور عذاب کئے جائیں گے یا بالکل ہی ہلاک کر دئیے جائیں گے۔ لیکن جو حدیث مسند احمد میں ہے [مسند احمد:436/6:صحیح] { سیدہ ام العلاء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی کہ جس وقت مہاجرین بذریعہ قرعہ اندازی انصاریوں میں تقسیم ہو رہے تھے اس وقت ہمارے حصہ میں سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ آئے، آپ ہمارے ہاں بیمار ہوئے اور فوت بھی ہو گئے جب ہم آپ کو کفن پہنا چکے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لا چکے، تو میرے منہ سے نکل گیا، اے ابوالسائب! اللہ تجھ پر رحم کرے میری تو تجھ پر گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ یقیناً تیرا اکرام ہی کرے گا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ یقیناً اس کا اکرام ہی کرے گا۔“ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! پر میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں مجھے کچھ نہیں معلوم پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! ان کے پاس تو ان کے رب کی طرف کا یقین آ پہنچا اور مجھے ان کیلئے بھلائی اور خیر کی امید ہے، قسم ہے اللہ کے باوجود رسول ہونے کے میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟“ اس پر میں نے کہا: اللہ کی قسم اب اس کے بعد میں کسی کی برات نہیں کروں گی اور مجھے اس کا بڑا صدمہ ہوا، لیکن میں نے خواب میں دیکھا کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی ایک نہر بہہ رہی ہے، میں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان کے اعمال ہیں“ }، یہ حدیث بخاری میں ہے [صحیح بخاری:1243] مسلم میں نہیں اور اس کی ایک سند میں ہے ”میں نہیں جانتا باوجود یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟“ دل کو تو کچھ ایسا لگتا ہے کہ یہی الفاظ موقعہ کے لحاظ سے ٹھیک ہیں کیونکہ اس کے بعد ہی یہ جملہ ہے کہ مجھے اس بات سے بڑا صدمہ ہوا۔ الغرض یہ حدیث اور اسی کی ہم معنی اور حدیثیں دلالت ہیں اس امر پر کہ کسی معین شخص کے جنتی ہونے کا قطعی علم کسی کو نہیں، نہ کسی کو ایسی بات زبان سے کہنی چاہیئے۔ بجز ان بزرگوں کے جن کے نام لے کر شارع علیہ السلام نے انہیں جنتی کہا ہے، جیسے عشرہ مبشرہ اور ابن سلام اور عمیصا اور بلال اور سراقہ اور عبداللہ بن عمرو بن حرام جو جابر کے والد ہیں اور وہ ستر قاری جو بیرمعونہ کی جنگ میں شہید کئے گئے اور زید بن حارثہ اور جعفر اور ابن رواحہ اور ان جیسے اور بزرگ رضی اللہ عنہم اجمعین۔ پھر فرماتا ہے اے نبی! تم کہہ دو کہ میں تو صرف اس وحی کا مطیع ہوں جو اللہ کی جناب سے میری جانب آئے اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں کہ کھول کھول کر ہر شخص کو آگاہ کر رہا ہوں ہر عقلمند میرے منصب سے باخبر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
9۔ 1 یعنی پہلا اور انوکھا رسول تو نہیں ہوں، بلکہ مجھ سے پہلے بھی متعدد رسول آ چکے ہیں۔ 9۔ 2 یعنی دنیا میں، میں مکہ میں ہی رہوں گا یا یہاں سے نکلنے پر مجبور ہونا پڑے گا، مجھے موت طبعی آئے گی یا تمہارے ہاتھوں میرا قتل ہوگا؟ تم جلدی ہی سزا سے دو چار ہونگیں یا لمبی مہلت تمہیں دی جائے گی؟ ان تمام باتوں کا علم صرف اللہ کو ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ یا تمہارے ساتھ کل کیا ہوگا تاہم آخرت کے بارے میں یقینی علم ہے کہ اہل ایمن جنت میں اور کافر جہنم میں جائیں گے اور حدیث میں جو آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر جب ان کے بارے میں حسن ظن کا اظہار کیا گیا تو فرمایا واللہ ما ادری وانا رسول اللہ ما یفعل بی ولا بکم۔ صحیح بخاری۔ اللہ کی قسم مجھے اللہ کا رسول ہونے کے باوجود علم نہیں کہ قیامت کو میرے اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا اس سے کسی ایک معین شخص کے قطعی انجام کے علم کی نفی ہے الا یہ کہ ان کی بابت بھی نص موجود ہو جیسے عشرہ مبشرہ اور اصحاب بدر وغیرہ۔
(آیت 9) ➊ {قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ:” بَدَعَ يَبْدَعُ بَدْعًا “} (ف) {”اَلشَّيْءَ“} کسی چیز کو ایجاد کرنا، کسی پہلی مثال کے بغیر بنانا۔ سورۂ بقرہ (۱۱۷) اور سورۂ انعام (۱۰۱) میں {” بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ “} اسی سے ہے۔ {”بَدُعَ يَبْدُعُ بَدْعًا وَ بَدَاعَةً وَ بُدُوْعَةً“} (ک) نیا ہونا، جس کی پہلے کوئی مثال نہ ہو۔ {” بِدْعًا “} صفت مشبّہ فعل لازم سے بمعنی اسم فاعل ہے، جیسے {”خِفٌّ“} بمعنی خفیف ہے، یا فعل متعدی سے بمعنی اسم مفعول ہے، جیسے {”حِبٌّ“} بمعنی محبوب ہے۔ {” بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ “} نیا یا انوکھا رسول۔ کفار ایمان نہ لانے کے لیے جو بہانے اور اعتراض کرتے تھے ان میں سے چند کا ذکر اور ان کا جواب پچھلی دو آیات میں گزرا۔ اس آیت میں ان کے بہت سے اعتراضات کا صرف جواب ذکر کیا گیا ہے، اعتراضات کا ذکر نہیں کیا گیا، کیونکہ وہ خود بخود جواب سے سمجھ میں آ رہے ہیں۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر ان کا ذکر صراحت کے ساتھ بھی موجود ہے، جن میں سے ایک یہ تھا کہ ہمارے جیسا ایک بشر رسول کیسے بن گیا، جو ہماری طرح کھاتا پیتا، بازاروں میں چلتا پھرتا اور بیوی بچے رکھتا ہے۔ ایک اعتراض یہ کرتے کہ توحید کی جو تعلیم یہ نبی پیش کرتا ہے ہم نے اپنے آبا و اجداد میں نہیں سنی۔ (دیکھیے ص: ۴ تا ۸۔ فرقان: ۷) ایک یہ کہ اگر یہ رسول ہے تو ہمارے مطالبے کے مطابق معجزے کیوں پیش نہیں کرتا، مثلاً پہاڑہٹا دے، دریا بہا دے، سونے کا مکان بنا لے، آسمان پر چڑھ جائے اور وہاں سے کتاب لا کر دکھائے وغیرہ۔ (دیکھیے بنی اسرائیل: ۹۰ تا ۹۳) اور ایک یہ کہ غیب کی خبریں ہمارے مطالبے کے مطابق کیوں نہیں بتاتا، کم از کم یہ ہی بتا دے کہ قیامت کب ہو گی۔ (دیکھیے اعراف: ۱۸۷) اللہ تعالیٰ نے ان سب کے جواب میں یہ کہنے کا حکم دیا کہ میں کوئی پہلا رسول نہیں جو بشر ہو، مجھ سے پہلے تمام رسول بشر ہی تھے، وہ کھاتے پیتے، بازاروں میں چلتے پھرتے اور بیوی بچوں والے تھے۔ ان پر انسانی عوارض آتے تھے، سب کی تعلیم توحید تھی، وہ خدائی اختیارات نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی وہ اپنی مرضی سے معجزے پیش کر سکتے تھے۔ پھر اگر وہ سب، جن میں تمھارے جد امجد ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام اور بنی اسرائیل کے بہت سے انبیاء شامل ہیں، رسول اور نبی ہو سکتے ہیں اور تم انھیں نبی مانتے ہو تو میرا رسول ہونا کون سی انوکھی بات ہے؟ ➋ {وَ مَاۤ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَ لَا بِكُمْ:} یہ ان کے اس مطالبے کا جواب ہے کہ یہ ہمیں ہمارے مطالبے کے مطابق غیب کی خبریں کیوں نہیں دیتا۔ فرمایا ان سے کہہ دو کہ میں خود کچھ بھی نہیں جانتا، نہ یہ جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمھارے ساتھ کیا کیا جائے گا، تو میں تمھیں اپنے پاس سے تمھاری طلب کردہ باتیں کیسے بتا سکتا ہوں؟ {” مَا يُفْعَلُ “} فعل مجہول اس لیے لایا گیا تاکہ فاعل عام رہے، یعنی اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ کیا کرے گا اور لوگ کیا کریں گے۔ پھر یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ کس وقت کیا کیا جائے گا، تاکہ عام رہے کہ ہمارے ساتھ دنیا میں کیا کیا جائے گا اور آخرت میں کیا کیا جائے گا۔ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقینا جانتے تھے کہ دنیا اور آخرت میں آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا اور آپ پر ایمان لانے والوں یا نہ لانے والوں کے ساتھ کیا کیا جائے گا، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ آپ کے پہلے اور پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے گئے اور صحابہ کرام کے تمام گناہ معاف کرکے انھیں جنت میں داخل کیا جائے گا اور کفار و منافقین کو جہنم کا عذاب دیا جائے گا۔ (دیکھیے فتح: ۱ تا ۶) دنیا میں بھی آپ کو اور ایمان والوں کو عزت و غلبہ اور کفار کو ذلت و رسوائی ملے گی اور آپ کا دین تمام دینوں پر غالب آئے گا۔ دیکھیے سورۂ مجادلہ (۲۱)، فتح (۲۸)، صف (۸، ۹) اور دوسری متعدد آیات۔ پھر یہ کہنے کا حکم کیوں دیا کہ میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ جانتا ہوں کہ تمھارے ساتھ کیا کیا جائے گا؟ اہلِ علم نے اس سوال کے مختلف جواب دیے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ آپ اجمالی طور پر تو یہ جانتے تھے مگر تفصیلی طور پر آپ کو معلوم نہ تھا کہ آپ کے ساتھ یا آپ کے مخاطبین کے ساتھ دنیا یا آخرت میں کیا ہو گا۔ ایک جواب یہ دیا گیا ہے کہ پہلے آپ کو یہ معلوم نہ تھا بعد میں معلوم ہو گیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کا جواب اس آیت کے جملہ {” وَ مَاۤ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَ لَا بِكُمْ “} میں اور اگلے جملے {” اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰۤى اِلَيَّ “} میں موجود ہے۔ ➌ { اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰۤى اِلَيَّ:} یعنی میں خود آئندہ کی کوئی بات نہیں جانتا، نہ یہ کہ میرے ساتھ کیا ہو گا اور نہ یہ کہ تمھارے ساتھ کیا ہو گا، میں تو بس اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ یعنی میں صرف اتنا بتا سکتا ہوں جو مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی جاتی ہے اور واقعی اللہ تعالیٰ نے دنیا میں آئندہ ہونے والی جو بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی وہ آپ جان گئے اور جو نہیں بتائی وہ آپ کو معلوم نہیں ہوئی۔ اس کی دلیل سیکڑوں واقعات ہیں، مثلاً واقعۂ افک، بئرِ معونہ کے شہداء اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چند کفار کا نام لے کر ایک ماہ تک قنوت میں ان پر لعنت کرنا، مگر اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ کہنا کہ یہ آپ کے اختیار میں نہیں اور پھر ان سب کا مسلمان ہو جانا وغیرہ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نمل کی آیت (۶۵): «قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ» کی تفسیر۔ سورۂ اعراف میں فرمایا: «قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَ مَا مَسَّنِيَ السُّوْٓءُ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّ بَشِيْرٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ» [الاعراف: ۱۸۸ ] ”کہہ دے میں اپنی جان کے لیے نہ کسی نفع کا مالک ہوں اور نہ کسی نقصان کا، مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو ضرور بھلائیوں میں سے بہت زیادہ حاصل کر لیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی، میں نہیں ہوں مگر ایک ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والا ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔“ اسی طرح آخرت کے متعلق جو بات بتائی وہ آپ جان گئے جو نہیں بتائی وہ نہیں جانتے تھے، جیسا کہ حدیثِ شفاعت میں ہے کہ میں عرش کے نیچے سجدے میں گر جاؤں گا اور اللہ تعالیٰ مجھے وہ تعریفیں الہام کرے گا جو اب مجھے یاد نہیں۔ [ دیکھیے بخاري، التوحید، باب کلام الرب عز و جل یوم القیامۃ مع الأنبیاء وغیرہم: ۷۵۱۰ ] الغرض، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور پہلے تمام انبیاء علیھم السلام کو آئندہ کی کسی بات کا نہ اجمالی علم تھا اور نہ تفصیلی، صرف ان باتوں کا علم تھا جو اللہ تعالیٰ نے انھیں بتائیں، خواہ اجمالاً بتائیں یا تفصیلاً۔ یوسف اور یعقوب علیھما السلام کا واقعہ اس کی بہترین مثال ہے۔ دیکھیے سورۂ یوسف کی آیت (۹۴) کی تفسیر۔ اسی طرح ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کے تمام واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ پیغمبر کو آنے والے واقعات کا صرف اتنا علم ہوتا ہے جتنا اسے بتا دیا جائے۔ اگر کہا جائے کہ وہ سب کچھ جانتے ہوتے ہیں تو ابراہیم علیہ السلام کے آگ میں پھینکے جانے، بیٹے کو ذبح کرنے کے حکم، ہجرت میں بیوی کی عزت خطرے میں پڑنے، بیوی بچے کو بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑنے، غرض کسی بھی امتحان میں سرخرو ہونے کی کوئی قدر و قیمت باقی نہیں رہتی۔ خلاصہ یہ کہ آیت کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ اے نبی! کہہ دے نہ میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا ہوں اور نہ میں یہ جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمھارے ساتھ کیا کیا جائے گا، مجھے تو صرف اس بات کا پتا چلتا ہے اور میں اسی کی پیروی کرتا ہوں جس کی میری طرف وحی کی جاتی ہے، اس کے سوا میں اپنے یا تمھارے متعلق آئندہ کی کوئی بات نہیں جانتا۔ اس لیے مجھ سے قیامت کے وقت یا آئندہ کی دوسری کسی بات کے متعلق بتانے کا مطالبہ مت کرو، کیونکہ یہ میرے دائرۂ اختیار میں نہیں ہیں۔ ➍ { وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ:} یعنی میرا کام یہ نہیں کہ میں تمھیں بتاؤں کہ قیامت کب آئے گی، یا اپنے پاس سے تمھیں آئندہ کی خبریں بتاؤں۔ میرا کام صرف یہ ہے کہ میں اللہ کا عذاب آنے سے پہلے تمھیں اس سے واضح طور پر ڈرا دوں۔ ➎ مفسر علی بن احمد مہائمی نے اپنی تفسیر{ ” تبصير الرحمان “} میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے نہایت عمدہ الفاظ میں بحث کا خلاصہ بیان فرما دیا ہے، وہ لکھتے ہیں: [ «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ» آتِيْكُمْ بِالْمُؤَاخَذَةِ الْأُخْرَوِيَّةِ «وَ» مِنْ أَيْنَ لِيْ تَعْيِيْنُ وَقْتِهَا مَعَ أَنِّيْ «مَاۤ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَ لَا بِكُمْ» فِيْمَا لَمْ يُوْحَ إِلَيَّ وَالْوَحْيُ بِبَعْضِ الْأُمُوْرِ لَا يَسْتَلْزِمُ الْعِلْمَ بِالْبَاقِيْ وَلَمْ يَكُنْ لِيْ أَنْ أَضُمَّ إِلَی الْوَحْيِ كَذِبًا مِنْ عِنْدِيْ «اِنْ اَتَّبِعُ» فِيْ تَقْرِيْرِ الْأُمُوْرِ الْغَيْبِيَّةِ «اِلَّا مَا يُوْحٰۤى اِلَيَّ وَ» مَعَ ذٰلِكَ لَا يُفَوَّضُ إِلَيَّ شَيْءٌ مِمَّا يُوْحٰی إِلَيَّ مِنْ تَعْذِيْبِ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِيْ بَلْ «مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ» عَنْهُ «مُبِيْنٌ» لَهُ بِالدَّلَائِلِ الْقَطْعِيَّةِ۔] ”(کہہ دے میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں) کہ تم پر آخرت کا عذاب لے آؤں (اور) میں اس کے وقت کی تعیین کیسے کر سکتا ہوں جب کہ (میں جانتا ہی نہیں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمھارے ساتھ کیا کیا جائے گا) ان معاملات میں جن کی میری طرف وحی نہیں کی گئی اور بعض معاملات کے وحی کیے جانے سے لازم نہیں آتا کہ مجھے تمام معاملات کا بھی علم ہو گیا اور یہ مجھ سے ہو نہیں سکتا کہ باقی معاملات میں وحی کے ساتھ اپنے پاس سے جھوٹ ملا دوں۔ (میں پیروی نہیں کرتا) غیبی معاملات بیان کرنے میں (مگر اسی کی جو میری طرف وحی کی جاتی ہے اور) اس کے ساتھ یہ کہ مجھے جو وحی کی جاتی ہے اس میں مجھ پر ایمان نہ لانے والوں کو عذاب دینے میں کسی چیز کا معاملہ میرے سپرد نہیں کیا جاتا، بلکہ (میں نہیں ہوں مگر ڈرانے والا) اس کی طرف سے (بالکل واضح) جو اپنے ڈرانے کو قطعی دلائل کے ساتھ واضح کرکے بیان کرنے والا ہوں۔“
اے نبیؐ، ان سے کہو "کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہوا اور تم نے اِس کا انکار کر دیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا)؟ اور اِس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا"
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے! اگر یہ (قرآن) اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اسے نہ مانا ہو اور بنی اسرائیل کا ایک گواه اس جیسی کی گواہی بھی دے چکا ہو اور وه ایمان بھی ﻻچکا ہو اور تم نے سرکشی کی ہو، تو بیشک اللہ تعالیٰ ﻇالموں کو راه نہیں دکھاتا
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر وہ قرآن اللہ کے پاس سے ہو اور تم نے اس کا انکار کیا اور بنی اسرائیل کا ایک گواہ اس پر گواہی دے چکا تو وہ ایمان لایا اور تم نے تکبر کیا بیشک اللہ راہ نہیں دیتا ظالموں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کہیے کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ اگر وہ (قرآن) اللہ کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کیا درآنحالیکہ تم بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اس جیسی (کتاب پر) گواہی دے چکا اور ایمان بھی لا چکا مگر تم نے تکبر کیا؟ بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے کیا تم نے دیکھا اگر یہ اللہ کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کر دیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک شہادت دینے والے نے اس جیسے (قرآن) کی شہادت دی، پھر وہ ایمان لے آیا اور تم نے تکبر کیا( تو تمھارا انجا م کیا ہوگا) بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تابع قرآن اور جنتیوں کے حالات ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ ان مشرکین کافرین سے کہو کہ اگر یہ قرآن سچ مچ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور پھر بھی تم اس کا انکار کر رہے ہو، تو بتلاؤ تو تمہارا کیا حال ہو گا؟ وہ اللہ جس نے مجھے حق کے ساتھ تمہاری طرف یہ پاک کتاب دے کر بھیجا ہے، وہ تمہیں کیسی کچھ سزائیں کرے گا؟، تم اس کا انکار کرتے ہو، اسے جھوٹا بتلاتے ہو حالانکہ اس کی سچائی اور صحت کی شہادت وہ کتابیں بھی دے رہی ہیں جو اس سے پہلے وقتاً فوقتاً اگلے انبیأء علیہ السلام پر نازل ہوتی رہیں اور بنی اسرائیل کے جس شخص نے اس کی سچائی کی گواہی دی، اس نے حقیقت کو پہچان کر اسے مانا اور اس پر ایمان لایا۔ لیکن تم نے اس کی اتباع سے جی چرایا اور تکبر کیا۔ یہ بھی مطلب بیان ہو گیا ہے کہ اس شاہد نے اپنے نبی پر اور اس کی کتاب پر یقین کر لیا لیکن تم نے اپنے نبی اور اپنی کتاب کے ساتھ کفر کیا۔ اللہ تعالیٰ ظالم گروہ کو ہدایت نہیں کرتا۔ «شَاھِدٌ» کا لفظ ہم جنس ہے اور یہ اپنے معانی کے لحاظ سے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ وغیرہ سب کو شامل ہے۔ یہ یاد رہے کہ یہ آیت مکی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے اسلام سے پہلے کی ہے۔ اسی جیسی آیت یہ بھی ہے «وَإِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ» [28-القصص:53] یعنی ’ جب ان پر تلاوت کی جاتی ہے تو اقرار کرتے ہیں کہ یہ ہمارے رب کی جانب سے سراسر برحق ہے ہم تو اس سے پہلے ہی مسلمان ہیں ‘۔ اور فرمان ہے «قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا» [17-الإسراء:108،107] یعنی ’ جن لوگوں کو اس سے پہلے علم عطا فرمایا گیا ہے ان پر جب تلاوت کی جاتی ہے تو وہ بلا پس و پیش سجدے میں گر پڑتے ہیں اور زبان سے کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے، اس کے وعدے یقناً سچے اور ہو کر رہنے والے ہیں ‘۔ مسروق اور شعبی رحمہا اللہ فرماتے ہیں یہاں اس آیت سے مراد سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نہیں، اس لئے کہ آیت مکہ میں اترتی ہے اور آپ مدینے کی ہجرت کے بعد اسلام قبول کرتے ہیں۔
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کسی شخص کے بارے میں جو زندہ ہو اور زمین پر چل پھر رہا ہو، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اس کا جنتی ہونا نہیں سنا، بجز سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے، انہی کے بارے میں «قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن كَانَ مِنْ عِندِ اللَّـهِ وَكَفَرْتُم بِهِ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّن بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَىٰ مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ» [سورةالأحقاف46:10] نازل ہوئی ہے [ صحیحین وغیرہ ] سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد، ضحاک، قتادہ، عکرمہ، یوسف بن عبداللہ بن سلام، ہلال بن بشار، سدی، ثوری، مالک بن انس بن زبیر رحمہم اللہ علیہم کا قول ہے کہ اس سے مراد سیدنا ابن سلام رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ کفار کہا کرتے ہیں کہ اگر قرآن بہتری کی چیز ہوتی، تو ہم جیسے شریف انسان جو اللہ کے مقبول بندے ہیں، ان پر بھلا یہ نیچے کے درجے کے لوگ جیسے بلال، عمار، صہیب، خباب رضی اللہ عنہم اور انہی جیسے اور گرے پڑے لونڈی غلام کیسے سبقت کر جاتے۔ پھر تو اللہ سب سے پہلے ہمیں ہی نوازتا۔ حالانکہ یہ قول بالبداہت باطل ہے۔ اللہ تبارک تعالیٰ فرماتا ہے «وَكَذَٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لِّيَقُولُوا أَهَـٰؤُلَاءِ مَنَّ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَا أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» [سورةالأنعام6:53] یعنی انہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کیسے ہدایت پا گئے؟ اگر یہ چیز بھلی ہوتی تو ہم اس کی طرف لپک کر جاتے۔ پس یہ خیال ان کا خام تھا لیکن اتنی بات یقینی ہے کہ نیک سمجھ والے، سلامت روی والے، ہمیشہ بھلائی کی طرف سبقت کرتے ہیں۔ اسی لیے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ جو قول و فعل صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت نہ ہو وہ بدعت ہے، اس لیے کہ اگر اس میں بہتری ہوتی تو وہ پاک جماعت جو کسی چیز میں پیچھے رہنے والی نہ تھی وہ اسے ترک نہ کرتی۔ چونکہ اپنی بدنصیبی کے باعث یہ گروہ قرآن پر ایمان نہیں لایا اس لیے یہ اپنی خجالت دفع کرنے کو قرآن کی اہانت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تو پرانے لوگوں کی پرانی غلط باتیں ہیں، یہ کہہ کر وہ قرآن اور قرآن والوں کو طعنہ دیتے ہیں۔ یعنی وہ تکبر ہے جس کی بابت حدیث میں ہے کہ { تکبر نام ہے حق کو ہٹا دینے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا }۔ [صحیح مسلم:91]
10۔ 1 اس شاہد بنی اسرائیل سے کون مراد ہے؟ بعض کہتے ہیں کہ یہ بطور جنس کے ہے۔ بنی اسرائیل میں سے ہر ایمان لانے والا اس کا مصداق ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ مکہ میں رہنے والا کوئی بنی اسرائیلی مراد ہے کیونکہ یہ سورت مکی ہے بعض کے نزدیک اس سے مراد عبد اللہ بن سلام ہیں اور وہ اس آیت کو مدنی قرار دیتے ہیں (صحیح بخاری) امام شوکانی نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے (اس جیسی کتاب کی گواہی) کا مطلب تورات کی گواہی جو قرآن کے منزل من اللہ ہونے کی تصدیق ہے۔ کیونکہ قرآن بھی توحید و معاد کے اثبات میں تورات ہی کی مثل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب کی گواہی اور ان کے ایمان لانے کے بعد اس کے منزل من اللہ ہونے میں کوئی شک نہیں رہ جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بعد تمہارے انکار استکبار کا بھی کوئی جواز نہیں ہے تمہیں اپنے اس رویے کا انجام سوچ لینا چاہئے
(آیت 10) ➊ {قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ …:” اَرَءَيْتُمْ “} کا لفظی معنی ہے ”کیا تم نے دیکھا۔“ اہلِ عرب اسے {” أَخْبِرُوْنِيْ“} (مجھے بتاؤ) کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ یعنی کیا تم نے دیکھا؟ اگر دیکھا ہے تو مجھے بتاؤ۔ {” وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ “} میں ”اس جیسے کی شہادت“ سے مراد یہ ہے کہ اگر بنی اسرائیل میں سے ایک شہادت دینے والے نے اس کی شہادت دی ہو۔ کیونکہ بعض اوقات کسی چیز کی مثل سے مراد خود وہ چیز ہوتی ہے، جیسے کہتے ہیں: {”مِثْلُكَ لَا يَفْعَلُ هٰذَا“} ”تیرے جیسا یہ کام نہیں کرتا“ یعنی تو یہ کام نہیں کرتا۔ اس لیے آگے {” فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ “} کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس جیسے پر ایمان لایا، بلکہ اس کا مطلب ہے ”پھر وہ اس پر ایمان لے آیا اور تم نے تکبر کیا۔“ لفظ {”مِثْلٌ“} کو خود کسی کی ذات کے لیے استعمال کرنے کی ایک مثال ایک تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: «اَوَ مَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا» [ الأنعام: ۱۲۲ ] {” أَيْ كَمَنْ هُوَ ({نَفْسُهُ}) فِي الظُّلُمَاتِ “} یہاں ”اس شخص کی طرح ہے جس کی مثل اندھیروں میں ہے“ سے مراد ہے ”اس شخص کی طرح ہے جو (خود) اندھیروں میں ہے۔“ اسی طرح: «فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا» [ البقرۃ: ۱۳۷ ] (پس اگر وہ اس جیسی چیز پر ایمان لائیں جس پر تم ایمان لائے ہو تو یقینا وہ ہدایت پا گئے) سے مراد یہ ہے کہ ”اگر وہ اس چیز پر ایمان لے آئیں جس پر تم ایمان لائے ہو…۔“ (اضواء البیان) مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ شوریٰ کی آیت (۱۱): «لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ» کی تفسیر۔ اس آیت میں {” اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ “} سے لے کر {” وَ اسْتَكْبَرْتُمْ “} تک شرط ہے، جس کی جزا محذوف ہے اور وہ بعد والے جملے {” اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ “} سے ظاہر ہو رہی ہے: {”أَيْ فَمَنْ أَظْلَمُ مِنْكُمْ“} ”تو تم سے بڑھ کر ظالم کون ہے۔“ اس کی تائید سورۂ حم السجدۃ (۵۲) سے بھی ہوتی ہے۔ قرآن کو جھٹلانے کے لیے کفار کے مختلف اعتراضات اور ان کے جوابات ذکر کرنے کے بعد اب انھیں اس پر ایمان نہ لانے کے انجامِ بد سے ڈرایا جا رہا ہے کہ یہ بتاؤ کہ اگر یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور تم اس کا انکار کرو، حالانکہ بنی اسرائیل میں سے ایک شہادت دینے والا بھی اس کے حق ہونے کی شہادت دے چکا ہو، پھر وہ خود بھی اس پر ایمان لے آیا ہو مگر (تم یہ جان لینے کے باوجود کہ یہ حق ہے) محض تکبر اور جھوٹی بڑائی قائم رکھنے کے لیے اسے ماننے سے انکار کر دو (تو یقینا تم ظالم ہو گے اور اللہ تعالیٰ تمھیں ہدایت کی توفیق نہیں دے گا) کیونکہ جو لوگ تکبر کرتے ہوئے حق سے انکار کر دیں ایسے ظالموں کو اللہ تعالیٰ بھی سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق نہیں دیتا۔ ➋ اس آیت میں {” شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ “} سے کون مراد ہے؟ مفسرین کے اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ سب سے مشہور قول یہ ہے کہ اس سے مراد عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس کی دلیل سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں: [ مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَقُوْلُ لِأَحَدٍ يَمْشِيْ عَلَی الْأَرْضِ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا لِعَبْدِ اللّٰهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ وَ فِيْهِ نَزَلَتْ هٰذِهِ الْآيَةُ: «وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ» ] [ بخاري، مناقب الأنصار، مناقب عبد اللّٰہ بن سلام رضی اللہ عنہ: ۳۸۱۲ ] ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے سوا کسی ایسے شخص کے بارے میں جو زمین پر چل پھر رہا ہو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا کہ وہ جنتیوں میں سے ہے۔“ سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ انھی کے بارے میں یہ آیت اتری: «وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ» [ الأحقاف: ۱۱ ] ”اور بنی اسرائیل میں سے ایک شہادت دینے والے نے اس جیسے (قرآن) کی شہادت دی۔“ مگر اس میں یہ اشکال ہے کہ یہ سورت مکی ہے جب کہ عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ مدینہ میں مسلمان ہوئے۔ جو حضرات اس ”شاہد“ سے مراد عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ لیتے ہیں وہ اس کا حل یہ بتاتے ہیں کہ بے شک سورت مکی ہے مگر یہ آیت مدنی ہو سکتی ہے، یا ہو سکتا ہے کہ مکہ میں پہلے ہی بنی اسرائیل میں سے عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کا پیش گوئی کے طور پر ذکر کر دیا گیا ہو۔ مگر زیادہ قرین قیاس بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ کے قول کا مطلب یہ ہے کہ عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جنھوں نے بنی اسرائیل میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق ہونے کی شہادت دی اور آپ پر ایمان لائے۔ کیونکہ اصولِ تفسیر میں یہ بات طے ہے کہ بعض اوقات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم یہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت فلاں مسئلے یا فلاں شخص کے بارے میں اتری، حالانکہ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ آیت اس شخص یا اس مسئلے پر منطبق ہوتی اور صادق آتی ہے۔ دوسرا اور تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد موسیٰ علیہ السلام یا بقول بعض عیسیٰ علیہ السلام ہیں، کیونکہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق ہونے کی شہادت تورات اور انجیل میں دی۔ خصوصاً عیسیٰ علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے کر آپ کی آمد کی بشارت دی اور آپ پر ایمان لانے سے مراد یہ ہے کہ انھوں نے آپ کی تصدیق کی، فرمایا: «وَ اِذْ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ يٰبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ يَّاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِي اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ» [الصف: ۶ ] ”اور جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل! بلاشبہ میں تمھاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اس کی تصدیق کرنے والا ہوں جو مجھ سے پہلے تورات کی صورت میں ہے اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں،جو میرے بعد آئے گا،اس کا نام احمد ہے۔“ تورات و انجیل میں تحریف کے باوجود اب بھی ان میں ایسی آیات موجود ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی بشارت دی گئی ہے اور آپ کی تصدیق کی گئی ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ صف (۶) اور سورۂ اعراف (۱۵۷) کی تفسیر۔ چوتھا قول جو زیادہ قوی معلوم ہوتا ہے، یہ ہے کہ مشرکینِ مکہ کا تجارت کے سلسلے میں مدینہ، خیبر اور شام میں آنا جانا عام تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے سورۂ قریش میں بھی ذکر فرمایا ہے۔ ان سفروں میں ان کی ملاقات اہلِ کتاب یہود و نصاریٰ سے بھی ہوتی تھی اور وہ ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھتے تھے اور ان میں سے منصف لوگ حق بات کی شہادت سے گریز نہیں کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر مکی سورتوں میں بھی اس بات کا ذکر فرمایا ہے کہ اہلِ کتاب کے اہلِ علم بھی اس پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کتاب کی تصدیق کرتے اور اس پر ایمان لاتے ہیں، اس لیے {” وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ “} میں لفظ {” شَاهِدٌ “} جیسا کہ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا اسم جنس ہے اور اس سے مراد ان تمام لوگوں میں سے کوئی بھی شخص ہو سکتا ہے جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ میں موجود ہونے کے وقت آپ کے سچا نبی ہونے کی شہادت دی، جیسا کہ نجاشی رضی اللہ عنہ کا آپ پر ایمان لانا اور آپ کے حق ہونے کی شہادت دینا سب کو معلوم ہے، اگرچہ مدینہ میں ایمان لانے والے اسرائیلی صحابہ بھی اس سے باہر نہیں ہیں۔ اب مکی سورتوں کی وہ آیات ملاحظہ فرمائیں جن میں اہلِ کتاب کی شہادت کو بطور تائید ذکر کیا گیا ہے: «قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَ بَيْنَكُمْ وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ» [ الرعد: ۴۳ ] ”کہہ دے میرے درمیان اور تمھارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے اور وہ شخص بھی جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔“ اور فرمایا: «اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا (107) وَّ يَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا» [ بني إسرائیل: ۱۰۷، ۱۰۸ ] ”بے شک جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا، جب ان کے سامنے اسے پڑھا جاتا ہے وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ کرتے ہوئے گر جاتے ہیں۔ اور کہتے ہیں ہمارا رب پاک ہے، بے شک ہمارے رب کا وعدہ یقینا ہمیشہ پورا کیا ہوا ہے۔“ اور فرمایا: «وَ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ» [ القصص: ۵۳ ] ”اور جب ان کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، یقینا یہی ہمارے رب کی طرف سے حق ہے، بے شک ہم اس سے پہلے فرماں بردار تھے۔“ اور فرمایا: «اَوَ لَمْ يَكُنْ لَّهُمْ اٰيَةً اَنْ يَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ» [ الشعراء: ۱۹۷ ] ”اور کیا ان کے لیے یہ ایک نشانی نہ تھی کہ اسے بنی اسرائیل کے علماء جانتے ہیں۔“
جن لوگوں نے ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جا سکتے تھے چونکہ اِنہوں نے اُس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کافروں نے ایمان داروں کی نسبت کہا کہ اگر یہ (دین) بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت کرنے نہ پاتے، اور چونکہ انہوں نے قرآن سے ہدایت نہیں پائی پس یہ کہہ دیں گے کہ قدیمی جھوٹ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کافروں نے مسلمانوں کو کہا اگر اس میں کچھ بھلائی ہو تو یہ ہم سے آگے اس تک نہ پہنچ جاتے اور جب انہیں اس کی ہدایت نہ ہوئی تو اب کہیں گے کہ یہ پرانا بہتان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور کافر لوگ ایمان لانے والوں کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر وہ (قرآن و اسلام) کوئی اچھی چیز ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم پر سبقت نہلے جاتے اب چونکہ انہوں نے اس (قرآن) سے ہدایت نہیں پائی تو وہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، ان لوگوں سے کہا جو ایمان لائے اگر یہ کچھ بھی بہتر ہوتا تو یہ ہم سے پہلے اس کی طرف نہ آتے اورجب انھوں نے اس سے ہدایت نہیں پائی تو ضرور کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تابع قرآن اور جنتیوں کے حالات ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ ان مشرکین کافرین سے کہو کہ اگر یہ قرآن سچ مچ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور پھر بھی تم اس کا انکار کر رہے ہو، تو بتلاؤ تو تمہارا کیا حال ہو گا؟ وہ اللہ جس نے مجھے حق کے ساتھ تمہاری طرف یہ پاک کتاب دے کر بھیجا ہے، وہ تمہیں کیسی کچھ سزائیں کرے گا؟، تم اس کا انکار کرتے ہو، اسے جھوٹا بتلاتے ہو حالانکہ اس کی سچائی اور صحت کی شہادت وہ کتابیں بھی دے رہی ہیں جو اس سے پہلے وقتاً فوقتاً اگلے انبیأء علیہ السلام پر نازل ہوتی رہیں اور بنی اسرائیل کے جس شخص نے اس کی سچائی کی گواہی دی، اس نے حقیقت کو پہچان کر اسے مانا اور اس پر ایمان لایا۔ لیکن تم نے اس کی اتباع سے جی چرایا اور تکبر کیا۔ یہ بھی مطلب بیان ہو گیا ہے کہ اس شاہد نے اپنے نبی پر اور اس کی کتاب پر یقین کر لیا لیکن تم نے اپنے نبی اور اپنی کتاب کے ساتھ کفر کیا۔ اللہ تعالیٰ ظالم گروہ کو ہدایت نہیں کرتا۔ «شَاھِدٌ» کا لفظ ہم جنس ہے اور یہ اپنے معانی کے لحاظ سے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ وغیرہ سب کو شامل ہے۔ یہ یاد رہے کہ یہ آیت مکی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے اسلام سے پہلے کی ہے۔ اسی جیسی آیت یہ بھی ہے «وَإِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ» [28-القصص:53] یعنی ’ جب ان پر تلاوت کی جاتی ہے تو اقرار کرتے ہیں کہ یہ ہمارے رب کی جانب سے سراسر برحق ہے ہم تو اس سے پہلے ہی مسلمان ہیں ‘۔ اور فرمان ہے «قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا» [17-الإسراء:108،107] یعنی ’ جن لوگوں کو اس سے پہلے علم عطا فرمایا گیا ہے ان پر جب تلاوت کی جاتی ہے تو وہ بلا پس و پیش سجدے میں گر پڑتے ہیں اور زبان سے کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے، اس کے وعدے یقناً سچے اور ہو کر رہنے والے ہیں ‘۔ مسروق اور شعبی رحمہا اللہ فرماتے ہیں یہاں اس آیت سے مراد سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نہیں، اس لئے کہ آیت مکہ میں اترتی ہے اور آپ مدینے کی ہجرت کے بعد اسلام قبول کرتے ہیں۔
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کسی شخص کے بارے میں جو زندہ ہو اور زمین پر چل پھر رہا ہو، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اس کا جنتی ہونا نہیں سنا، بجز سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے، انہی کے بارے میں «قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن كَانَ مِنْ عِندِ اللَّـهِ وَكَفَرْتُم بِهِ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّن بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَىٰ مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ» [سورةالأحقاف46:10] نازل ہوئی ہے [ صحیحین وغیرہ ] سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد، ضحاک، قتادہ، عکرمہ، یوسف بن عبداللہ بن سلام، ہلال بن بشار، سدی، ثوری، مالک بن انس بن زبیر رحمہم اللہ علیہم کا قول ہے کہ اس سے مراد سیدنا ابن سلام رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ کفار کہا کرتے ہیں کہ اگر قرآن بہتری کی چیز ہوتی، تو ہم جیسے شریف انسان جو اللہ کے مقبول بندے ہیں، ان پر بھلا یہ نیچے کے درجے کے لوگ جیسے بلال، عمار، صہیب، خباب رضی اللہ عنہم اور انہی جیسے اور گرے پڑے لونڈی غلام کیسے سبقت کر جاتے۔ پھر تو اللہ سب سے پہلے ہمیں ہی نوازتا۔ حالانکہ یہ قول بالبداہت باطل ہے۔ اللہ تبارک تعالیٰ فرماتا ہے «وَكَذَٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لِّيَقُولُوا أَهَـٰؤُلَاءِ مَنَّ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَا أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» [سورةالأنعام6:53] یعنی انہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کیسے ہدایت پا گئے؟ اگر یہ چیز بھلی ہوتی تو ہم اس کی طرف لپک کر جاتے۔ پس یہ خیال ان کا خام تھا لیکن اتنی بات یقینی ہے کہ نیک سمجھ والے، سلامت روی والے، ہمیشہ بھلائی کی طرف سبقت کرتے ہیں۔ اسی لیے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ جو قول و فعل صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت نہ ہو وہ بدعت ہے، اس لیے کہ اگر اس میں بہتری ہوتی تو وہ پاک جماعت جو کسی چیز میں پیچھے رہنے والی نہ تھی وہ اسے ترک نہ کرتی۔ چونکہ اپنی بدنصیبی کے باعث یہ گروہ قرآن پر ایمان نہیں لایا اس لیے یہ اپنی خجالت دفع کرنے کو قرآن کی اہانت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تو پرانے لوگوں کی پرانی غلط باتیں ہیں، یہ کہہ کر وہ قرآن اور قرآن والوں کو طعنہ دیتے ہیں۔ یعنی وہ تکبر ہے جس کی بابت حدیث میں ہے کہ { تکبر نام ہے حق کو ہٹا دینے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا }۔ [صحیح مسلم:91]
11۔ 1 کفار مکہ، حضرت بلال، عمار، صہیب اور خباب ؓ جیسے مسلمانوں کو، جو غریب و قلاش کے لوگ تھے لیکن اسلام قبول کرنے میں انہیں سب سے پہلے شرف حاصل ہوا، دیکھ کر کہتے کہ اگر اس دین میں بہتری ہوتی تو ہم جیسے ذی عزت و ذی مرتبہ لوگ سب سے پہلے اسے قبول کرتے نہ کہ یہ لوگ پہلے ایمان لاتے۔ یعنی اپنے طور پر انہوں نے اپنی بابت یہ فرض کرلیا کہ اللہ کے ہاں ان کا بڑا مقام ہے۔ اس لیے اگر یہ دین بھی اللہ کی طرف سے ہوتا تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے قبول کرنے میں پیچھے نہ چھوڑتا اور جب ہم نے اسے نہ اپنایا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک پرانا جھوٹ ہے یعنی قرآن کو انہوں نے پرانا جھوٹ قرار دیا ہے جیسے وہ اسے اساطیر الاولین بھی کہتے تھے حالانکہ دنیاوی مال ودولت میں ممتاز ہونا عند اللہ مقبولیت کی دلیل نہیں (جیسے ان کو مغالظہ ہوا یا شیطان نے مغالطے میں ڈالا) عند اللہ مقبولیت کے لیے تو ایمان و اخلاص کی ضرورت ہے اور اس دولت ایمان و اخلاص سے وہ جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے۔ جیسے وہ مال ودولت آزمائش کے طور پر جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔
(آیت 11) ➊ {وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَيْرًا …: ” لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} میں ”لام“ کا مطلب یہ نہیں کہ ان سے مخاطب ہو کر کہا، بلکہ یہ ہے کہ ان کے بارے میں کہا۔ پچھلی آیت میں مشرکین کے ایمان نہ لانے کا باعث ان کا تکبر ذکر فرمایا تھا، اب ان کے تکبر اور خود پسندی کی ایک مثال ذکر فرمائی جس کی بنا پر وہ ایمان کی نعمت سے محروم رہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی دنیا کی نعمتوں پر اس قدر مغرور ہیں کہ اس کی ہر نعمت کا مستحق صرف اپنے آپ ہی کو سمجھتے ہیں۔ بلال، عمار، عبد اللہ بن مسعود، سمیہ اور زنیرہ رضی اللہ عنھم جیسے مسکین اور ضعیف مسلمانوں کو وہ اللہ تعالیٰ کے کسی انعام کے قابل ہی نہیں سمجھتے تھے، اس لیے انھوں نے اسلام کے ہر خیر سے خالی ہونے کی دلیل یہ تصنیف کی کہ اگر اسلام میں کوئی خوبی ہوتی تو یہ لوگ ہم سے پہلے اس کی طرف نہ آتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبر کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی: [ اَلْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ ] [ مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ: ۹۱ ] ”تکبر حق کے انکار اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔“ مشرکین مسلمانوں کو کس قدر حقیر جانتے تھے، اس کا اندازہ اس آیت سے بھی ہوتا ہے: «وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْۢ بَيْنِنَا» [ الأنعام: ۵۳ ] ”اور اسی طرح ہم نے ان میں سے بعض کی بعض کے ساتھ آزمائش کی ہے، تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہمارے درمیان میں سے احسان فرمایا ہے؟“ نوح علیہ السلام کی قوم کے سرداروں کا اندازِ تحقیر ملاحظہ فرمائیں، انھوں نے نوح علیہ السلام سے کہا: «مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّاْيِ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِيْنَ» [ ھود: ۲۷ ] ”ہم تجھے نہیں دیکھتے مگر اپنے جیسا ایک بشر اور ہم تجھے نہیں دیکھتے کہ ان لوگوں کے سوا کسی نے تیری پیروی کی ہو جو ہمارے سب سے رذیل ہیں، سطحی رائے کے ساتھ اور ہم تمھارے لیے اپنے آپ پر کوئی برتری نہیں دیکھتے، بلکہ ہم تمھیں جھوٹے گمان کرتے ہیں۔“ ➋ { وَ اِذْ لَمْ يَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَيَقُوْلُوْنَ…:} کفار کے جن اقوال کا یہاں ذکر ہوا ان سب کا مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کو جھٹلانا تھا، مثلاً یہ کہنا کہ یہ سحر ہے، افترا ہے، اس میں کوئی خیر نہیں وغیرہ۔ فرمایا جب وہ اس قرآن کے ذریعے سے سیدھا راستہ حاصل نہ کر سکے تو وہ یہی کہتے رہیں گے کہ یہ قدیم جھوٹ ہے۔ یعنی اگر وہ ضد اور عناد پر اڑے رہے تو کسی صورت ایمان نہیں لائیں گے اور نہ کوئی عقلی یا نقلی دلیل تسلیم کریں گے، بلکہ ان کے سامنے پہلے انبیاء اور اہلِ علم کی شہادت پیش کی گئی تو وہ تمام پیغمبروں اور کتابوں کو بھی یہ کہہ کر رد کر دیں گے کہ یہ قدیم جھوٹ ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ ان کے اس رویے کا باعث صرف ان کا کفر اور تکبر ہے، جب تک وہ اس پر قائم رہیں گے یہی بات کہتے رہیں گے، جیسا کہ فرمایا: «وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ افْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَيْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًا (4) وَ قَالُوْۤا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا» [ الفرقان: ۴، ۵ ] ”اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، یہ نہیں ہے مگر ایک جھوٹ، جو اس نے گھڑ لیا اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس پر اس کی مدد کی، سو بلاشبہ وہ بھاری ظلم اور سخت جھوٹ پر اتر آئے ہیں۔ اور انھوں نے کہا یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، جو اس نے لکھوا لی ہیں، تو وہ پہلے اور پچھلے پہر اس پر پڑھی جاتی ہیں۔“
حالانکہ اِس سے پہلے موسیٰؑ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آ چکی ہے، اور یہ کتاب اُس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی ہے تاکہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی۔ اور یہ کتاب ہے تصدیق کرنے والی عربی زبان میں تاکہ ﻇالموں کو ڈرائے اور نیک کاروں کو بشارت ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب سے پیشوا اور مہربانی، اور یہ کتاب ہے تصدیق فرماتی عربی زبان میں کہ ظالموں کو ڈر سنائے، اور نیکوں کو بشارت،
علامہ محمد حسین نجفی
حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ(ع) کی کتاب (توراۃ) بھی راہنماورحمت تھی اور یہ کتاب (قرآن) تو اس کی تصدیق کرنے والی ہے (اور) عربی زبان میں ہے تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور نیکوکاروں کے لئے خوشخبری ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی اور یہ ایک تصدیق کرنے والی کتاب عربی زبان میں ہے، تاکہ ان لوگوں کو ڈرائے جنھوں نے ظلم کیا اور نیکی کرنے والوں کے لیے بشارت ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام پر نازل شدہ کتاب تورات امام و رحمت تھی اور یہ کتاب یعنی قرآن مجید اپنے سے پہلے کی تمام کتابوں کو منزل من اللہ اور سچی کتابیں مانتا ہے۔ یہ عربی فصیح اور بلیغ زبان میں نہایت واضح کتاب ہے۔ اس میں کفار کے لیے ڈراوا ہے اور ایمانداروں کے لیے بشارت ہے۔ اس کے بعد کی آیت کی پوری تفسیر سورۂ حم السجدہ میں گزر چکی ہے۔ ان پر خوف نہ ہو گا۔ یعنی آئندہ اور یہ غم نہ کھائیں گے یعنی چھوڑی ہوئی چیزوں کا۔ یہ ہمیشہ جنت میں رہنے والے جنتی ہیں، ان کے پاکیزہ اعمال تھے ہی ایسے کہ رحمت رحیم، کرم کریم کی بدلیاں ان پر جھوم جھوم کر موسلا دھار بارش برسائیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 12) ➊ {وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً: ” كِتٰبُ مُوْسٰۤى “} کا عطف {” شَاهِدٌ “} پر ہے اور {” قَبْلِهٖ “} کی ضمیر اس {” شَاهِدٌ “} کی طرف جا رہی ہے: {”أَيْ شَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِيْ إِسْرَائِيْلَ عَلٰي مِثْلِهِ وَ شَهِدَ مِنْ قَبْلِهِ كِتَابُ مُوْسٰي عَلٰي مِثْلِهِ“} یعنی بنی اسرائیل کے ایک شہادت دینے والے نے اس کی شہادت دی اور اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کی کتاب نے بھی اس کے حق ہونے کی شہادت دی جو لوگوں کی پیشوائی کرنے والی تھی۔ لوگ اس کی پیروی اور اس کے احکام پر عمل کرتے تھے (دیکھیے مائدہ: ۴۴) اور وہ لوگوں کے لیے سراسر رحمت تھی۔ ➋ اکثر مفسرین نے {” قَبْلِهٖ “} کی ضمیر کا مرجع قرآن کو قرار دیا ہے، یعنی اس قرآن سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی، لیکن مجھے وہ ترکیب بہتر معلوم ہوتی ہے جو اوپر ذکر ہوئی۔ ➌ { وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِيًّا:} اور یہ کتاب یعنی قرآن موسیٰ علیہ السلام کی کتاب کی تصدیق کرتی ہے، یعنی یہ عین ان پیش گوئیوں کے مطابق ہے جو تورات میں کی گئی تھیں، جس سے اس کی تصدیق ہوتی ہے اور دونوں کی بنیادی تعلیم بھی ایک ہے۔ حالانکہ وہ عبرانی زبان میں تھی اور یہ عربی زبان میں ہے اور ایسے شخص پر نازل ہوئی جو عبرانی جانتا ہی نہیں بلکہ اُمی ہے، عربی بھی نہیں پڑھ سکتا۔ یہ دلیل ہے کہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہیں جو تمام زبانیں پیدا کرنے والا اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ ➍ {لِّيُنْذِرَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا …:} تاکہ یہ ان لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرائے جنھوں نے کفر و شرک کا ارتکاب کرکے اپنی جانوں پر ظلم ڈھایا ہے اور نیک عمل کرنے والوں کے لیے عظیم خوش خبری ہو۔
یقیناً جن لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے، پھر اُس پر جم گئے، اُن کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جمے رہے تو ان پر نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ غمگین ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے اور پھر اس (اقرار) پر ثابت و برقرار رہے تو انہیں کوئی خوف نہیں ہے اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے، پھر خوب قائم رہے، تو ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام پر نازل شدہ کتاب تورات امام و رحمت تھی اور یہ کتاب یعنی قرآن مجید اپنے سے پہلے کی تمام کتابوں کو منزل من اللہ اور سچی کتابیں مانتا ہے۔ یہ عربی فصیح اور بلیغ زبان میں نہایت واضح کتاب ہے۔ اس میں کفار کے لیے ڈراوا ہے اور ایمانداروں کے لیے بشارت ہے۔ اس کے بعد کی آیت کی پوری تفسیر سورۂ حم السجدہ میں گزر چکی ہے۔ ان پر خوف نہ ہو گا۔ یعنی آئندہ اور یہ غم نہ کھائیں گے یعنی چھوڑی ہوئی چیزوں کا۔ یہ ہمیشہ جنت میں رہنے والے جنتی ہیں، ان کے پاکیزہ اعمال تھے ہی ایسے کہ رحمت رحیم، کرم کریم کی بدلیاں ان پر جھوم جھوم کر موسلا دھار بارش برسائیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 14،13){ اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا …:} ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حم سجدہ (۳۰، ۳۱) کی تفسیر۔
ایسے سب لوگ جنت میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اپنے اُن اعمال کے بدلے جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ تو اہل جنت ہیں جو سدا اسی میں رہیں گے، ان اعمال کے بدلے جو وه کیا کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
وہ جنت والے ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے ان کے اعمال کا انعام،
علامہ محمد حسین نجفی
یہی لوگ بہشتی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ صِلہ ہے ان کے ان اعمال کا جو وہ (دنیا میں) کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ لوگ جنت والے ہیں، ہمیشہ اس میں رہنے والے، اس کے بدلے کے لیے جو وہ کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام پر نازل شدہ کتاب تورات امام و رحمت تھی اور یہ کتاب یعنی قرآن مجید اپنے سے پہلے کی تمام کتابوں کو منزل من اللہ اور سچی کتابیں مانتا ہے۔ یہ عربی فصیح اور بلیغ زبان میں نہایت واضح کتاب ہے۔ اس میں کفار کے لیے ڈراوا ہے اور ایمانداروں کے لیے بشارت ہے۔ اس کے بعد کی آیت کی پوری تفسیر سورۂ حم السجدہ میں گزر چکی ہے۔ ان پر خوف نہ ہو گا۔ یعنی آئندہ اور یہ غم نہ کھائیں گے یعنی چھوڑی ہوئی چیزوں کا۔ یہ ہمیشہ جنت میں رہنے والے جنتی ہیں، ان کے پاکیزہ اعمال تھے ہی ایسے کہ رحمت رحیم، کرم کریم کی بدلیاں ان پر جھوم جھوم کر موسلا دھار بارش برسائیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک بر تاؤ کرے اُس کی ماں نے مشقت اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور مشقت اٹھا کر ہی اس کو جنا، اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری طاقت کو پہنچا اور چالیس سال کا ہو گیا تو اس نے کہا "اے میرے رب، مجھے توفیق دے کہ میں تیری اُن نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں، اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو، اور میری اولاد کو بھی نیک بنا کر مجھے سُکھ دے، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور تابع فرمان (مسلم) بندوں میں سے ہوں"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا۔ اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے۔ یہاں تک کہ جب وه پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو کہنے لگا اے میرے پروردگار! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا ﻻؤں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہو جائے اور تو میری اوﻻد بھی صالح بنا، میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے آدمی کو حکم کیا اپنے ماں باپ سے بھلائی کرے، ا س کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا تکلیف سے اور جنا اس کو تکلیف سے، اور اسے اٹھائے پھرنا اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے میں ہے یہاں تک کہ جب اپنے زور کو پہنچا اور چالیس برس کا ہوا عرض کی اے میرے رب! میرے دل میں ڈال کہ میں تیری نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی اور میں وہ کام کروں جو تجھے پسند آئے اور میرے لیے میری اولاد میں صلاح (نیکی) رکھ میں تیری طرف رجوع لایا اور میں مسلمان ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اس کی ماں نے زحمت کے ساتھ اسے پیٹ میں رکھا اور زحمت کے ساتھ اسے جنم دیا اور اس کا حمل اور دودھ چھڑانا تیس مہینوں میں ہوا۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری طاقت کو پہنچا (جوان ہوا) اور پورے چالیس سال کا ہوگیا تو اس نے کہا اے میرے پروردگار! تو مجھے توفیق عطا فرما کہ میں تیرے اس احسان کاشکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے اور یہ کہ میں ایسا نیک عمل کروں جسے تو پسند کرتا ہے اور میرے لئے میری اولاد میں بھی صالحیت پیدا فرما میں تیری بارگاہ میں توبہ (رجوع) کرتا ہوں اور میں مسلمانوں(فرمانبرداروں) میں سے ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے کی تاکید کی، اس کی ماں نے اسے ناگواری کی حالت میں اٹھائے رکھا اور اسے ناگواری کی حالت میں جنا اور اس کے حمل اور اس کے دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہے، یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری قوت کو پہنچا اور چالیس برس کو پہنچ گیا تو اس نے کہا اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں وہ نیک عمل کروں جسے تو پسند کرتا ہے اور میرے لیے میری اولاد میں اصلاح فرما دے، بے شک میں نے تیری طرف توبہ کی اور بے شک میں حکم ماننے والوں سے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
والدین سے بہترین سلوک کرو ٭٭
اس سے پہلے چونکہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی عبادت کے اخلاص کا اور اس پر استقامت کرنے کا حکم ہوا تھا اس لیے یہاں ماں باپ کے حقوق کی بجا آوری کا حکم ہو رہا ہے۔ اسی مضمون کی اور بہت سی آیتیں قرآن پاک میں موجود ہیں۔ جیسے فرمایا «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلٰـهُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا» [17-الإسراء:23] یعنی ’ تیرا رب یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو ‘۔ اور آیت میں ہے «أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ» [31-لقمان:14] یعنی ’ میرا شکر کر اور اپنے والدین کا لوٹنا تو میری ہی طرف ہے ‘ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں۔ پس یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ «وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا» [29-العنكبوت:8] ’ ہم نے انسان کو حکم کیا ہے کہ ماں باپ کے ساتھ احسان کرو ان سے تواضع سے پیش آؤ ‘۔
ابوداؤد طیالسی میں حدیث ہے کہ { سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی والدہ نے آپ سے کہا کہ کیا ماں باپ کی اطاعت کا حکم اللہ نے نہیں دیا؟ سن میں نہ کھانا کھاؤں گی، نہ پانی پیوں گی، جب تک تو اللہ عزوجل کے ساتھ کفر نہ کرے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے انکار پر اس نے یہی کیا کہ کھانا پینا چھوڑ دیا یہاں تک کہ لکڑی سے اس کا منہ کھول کر جبراً پانی وغیرہ چھوا دیتے، اس پر یہ آیت اتری یہ حدیث مسلم شریف وغیرہ میں بھی ہے }۔ [صحیح مسلم:1748] ماں نے حالت حمل میں کیسی کچھ تکلیفیں برداشت کی ہیں؟ اسی طرح بچہ ہونے کے وقت کیسی کیسی مصیبتوں کا وہ شکار بنی ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس آیت سے اور اس کے ساتھ سورۃ لقمان کی آیت «وَّفِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ» ۔ [31-لقمان:14] اور اللہ عزوجل کا فرمان «وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ» [2-البقرة:233] یعنی مائیں اپنے بچوں کو دو سال کامل دودھ پلائیں ان کے لیے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہیں ملا کر استدلال کیا ہے کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ ہے۔ یہ استدلال بہت قوی اور بالکل صحیح ہے۔
سیدنا عثمان اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت نے بھی اس کی تائید کی ہے { معمر بن عبداللہ جہنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے قبیلے کے ایک شخص نے جہنیہ کی ایک عورت سے نکاح کیا چھ مہینے پورے ہوتے ہی اسے بچہ تولد ہوا اس کے خاوند نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا آپ نے اس عورت کے پاس آدمی بھیجا وہ تیار ہو کر آنے لگی تو ان کی بہن نے گریہ و زاری شروع کر دی اس بیوی صاحبہ نے اپنی بہن کو تسکین دی اور فرمایا: کیوں روتی ہو، اللہ کی قسم! اس کی مخلوق میں سے کسی سے میں نہیں ملی میں نے کبھی کوئی برا فعل نہیں کیا، تو دیکھو کہ اللہ کا فیصلہ میرے بارے میں کیا ہوتا ہے، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس یہ آئیں تو آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے خلیفۃ المسلمین سے دریافت کیا کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ اس عورت کو نکاح کے چھ مہینے کے بعد بچہ ہوا ہے جو ناممکن ہے۔ یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ نے قرآن نہیں پڑھا؟ فرمایا: ہاں پڑھا ہے فرمایا: کیا یہ آیت نہیں پڑھی «وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» [46-الأحقاف:15] اور ساتھ ہی یہ آیت بھی «حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ» [2-البقرة:233] پس مدت حمل اور مدت دودھ پلائی دونوں کے مل کر تیس مہینے اور اس میں سے جب دودھ پلائی کی کل مدت دو سال کے چوبیس وضع کر دئیے جائیں تو باقی چھ مہینے رہ جاتے ہیں، تو قرآن کریم سے معلوم ہوا کہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے اور اس بیوی صاحبہ کو بھی اتنی ہی مدت میں بچہ ہوا، پھر اس پر زنا کا الزام کیسے قائم کر رہے ہیں؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واللہ! یہ بات بہت ٹھیک ہے، افسوس میرا خیال ہے میں اس طرف نہیں گیا، جاؤ اس عورت کو لے آؤ پس لوگوں نے اس عورت کو اس حال پر پایا کہ اسے فراغت ہو چکی تھی۔ معمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں، واللہ! ایک کوا دوسرے کوے سے اور ایک انڈا دوسرے انڈے سے بھی اتنا مشابہ نہیں ہوتا جتنا اس عورت کا یہ بچہ اپنے باپ سے مشابہ تھا، خود اس کے والد نے بھی اسے دیکھ کر کہا: اللہ کی قسم! اس بچے کے بارے میں مجھے اب کوئی شک نہیں رہا اور اسے اللہ تعالیٰ نے ایک ناسور کے ساتھ مبتلا کیا جو اس کے چہرے پر تھا وہ ہی اسے گھلاتا رہا یہاں تک کہ وہ مر گیا }۔ ابن ابی حاتم [الدالمنثورللسیوطی9/6]
یہ روایت دوسری سند سے «فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ» [43-الزخرف:81] کی تفسیر میں ہم نے وارد کی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب کسی عورت کو نو مہینے میں بچہ ہو تو اس کی دودھ پلائی کی مدت اکیس ماہ کافی ہیں اور جب سات مہینے میں ہو تو مدت رضاعت تئیس ماہ اور جب چھ ماہ میں بچہ ہو جائے تو مدت رضاعت دو سال کامل اس لیے کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے کہ حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہے۔ جب وہ اپنی پوری قوت کے زمانے کو پہنچا یعنی قوی ہو گیا، جوانی کی عمر میں پہنچ گیا، مردوں کی گنتی میں آیا اور چالیس سال کا ہوا، عقل پوری آئی، فہم و کمال کو پہنچا، حلم اور بردباری آ گئی۔ یہ کہا جاتا ہے کہ چالیس سال کی عمر میں جو حالت اس کی ہوتی ہے عموماً پھر باقی عمر وہی رہتی ہے۔ مسروق رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ انسان کب اپنے گناہوں پر پکڑا جاتا ہے؟ تو فرمایا: جب تو چالیس سال کا ہو جائے تو اپنا بچاؤ مہیا کر لے۔ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جب مسلمان بندہ چالیس سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے حساب میں تخفیف کر دیتا ہے اور جب ساٹھ سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف جھکنا نصیب فرماتا ہے اور جب ستر سال کی عمر کا ہو جاتا ہے تو آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب اسی سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں ثابت رکھتا ہے اور اس کی برائیاں مٹا دیتا ہے اور جب نوے سال کا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرماتا ہے اور اس کے گھرانے کے آدمیوں کے بارے میں اسے شفاعت کرنے والا بناتا ہے اور آسمانوں میں لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ اللہ کی زمین میں اس کا قیدی ہے }۔ [مجمع الزوائد204/10ضعیف] یہ حدیث دوسری سند سے مسند احمد میں بھی ہے۔ [مسند احمد:217/3:ضعیف] بنو امیہ کے دمشقی گورنر حجاج بن عبداللہ حکمی فرماتے ہیں کہ چالیس سال کی عمر میں تو میں نے نافرمانیوں اور گناہوں کو لوگوں کی شرم و حیاء سے چھوڑا تھا اس کے بعد گناہوں کے چھوڑنے کا باعث خود ذات اللہ سے حیاء تھی۔ عرب شاعر کہتا ہے بچپنے میں ناسمجھی کی حالت میں تو جو کچھ ہو گیا ہو گیا لیکن جس وقت بڑھاپے نے منہ دکھایا تو سر کی سفیدی نے خود ہی برائیوں سے کہہ دیا کہ اب تم کوچ کر جاؤ۔ پھر اس کی دعا کا بیان ہو رہا ہے کہ اس نے کہا میرے پرورودگار میرے دل میں ڈال کہ تیری نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام فرمائی اور میں وہ اعمال کروں جن سے تو مستقبل میں خوش ہو جائے اور میری اولاد میں میرے لیے اصلاح کر دے یعنی میری نسل اور میرے پیچھے والوں میں، میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میرا اقرار ہے کہ میں فرنبرداروں میں ہوں۔ اس میں ارشاد ہے کہ چالیس سال کی عمر کو پہنچ کر انسان کو پختہ دل سے اللہ کی طرف توبہ کرنی چاہیئے اور نئے سرے سے اللہ کی طرف رجوع و رغبت کر کے اس پر جم جانا چاہیئے۔
ابوداؤد میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم التحیات میں پڑھنے کے لیے اس دعا کی تعلیم کیا کرتے تھے «اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَبَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا، وَأَبْصَارِنَا، وَقُلُوبِنَا، وَأَزْوَاجِنَا، وَذُرِّيَّاتِنَا، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمِكَ مُثْنِينَ بِهَا عَلَيْكَ، قَابِلِينَ لَهَا، وَأَتِمِمْهَا عَلَيْنَا» یعنی، اے اللہ! ہمارے دلوں میں الفت ڈال اور ہمارے آپس میں اصلاح کر دے اور ہمیں سلامتی کی راہیں دکھا اور ہمیں اندھیروں سے بچا کر نور کی طرف نجات دے اور ہمیں ہر برائی سے بچا لے، خواہ وہ ظاہر ہو، خواہ چھپی ہوئی ہو اور ہمیں ہمارے کانوں میں اور آنکھوں میں اور دلوں میں اور بیوی بچوں میں برکت دے اور ہم پر رجوع فرما، یقیناً تو رجوع فرمانے والا مہربان ہے اے اللہ ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر گزار اور ان کے باعث اپنا ثنا خواں اور نعمتوں کا اقراری بنا اور اپنی بھرپور نعمتیں ہمیں عطا فرما }۔ [سنن ابوداود:969،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرماتا ہے یہ جن کا بیان گزرا جو اللہ کی طرف توبہ کرنے والے اس کی جانب میں جھکنے والے اور جو نیکیاں چھوٹ جائیں انہیں کثرت استغفار سے پا لینے والے ہی وہ ہیں جن کی اکثر لغزشیں ہم معاف فرما دیتے ہیں اور ان کے تھوڑے نیک اعمال کے بدلے ہم انہیں جنتی بنا دیتے ہیں ان کا یہی حکم ہے جیسے کہ وعدہ کیا اور فرمایا یہ وہ سچا وعدہ ہے جو ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ ابن جریر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بروایت روح الامین علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”انسان کی نیکیاں اور بدیاں لائی جائیں گی اور ایک کو ایک کے بدلے میں کیا جائے گا پس اگر ایک نیکی بھی بچ رہی تو اللہ تعالیٰ اسی کے عوض اسے جنت میں پہنچا دے گا۔“ راوی حدیث نے اپنے استاد سے پوچھا اگر تمام نیکیاں ہی برائیوں کے بدلے میں چلی جائیں تو؟ آپ نے فرمایا: ”ان کی برائیوں سے اللہ رب العزت تجاوز فرما لیتا ہے“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:286/11:ضعیف]
دوسری سند میں یہ بفرمان اللہ عزوجل مروی ہے۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند بہت پختہ ہے، یوسف بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ { جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ اہل بصرہ پر غالب آئے اس وقت میرے ہاں مجمد بن حاطب رحمہ اللہ آئے۔ ایک دن مجھ سے فرمانے لگے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور اس وقت سیدنا عمار، صعصعہ، اشتر، محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ بعض لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نکالا اور کچھ گستاخی کی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس وقت تخت پر بیٹھے ہوئے تھے، ہاتھ میں چھڑی تھی۔ حاضرین مجلس میں سے کسی نے کہا کہ آپ کے سامنے تو آپ کی اس بحث کا صحیح محاکمہ کرنے والے موجود ہی ہیں، چنانچہ سب لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا۔ اس پر آپ نے فرمایا: عثمان ان لوگوں میں سے تھے جن کے بارے میں اللہ عزوجل فرماتا ہے «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَـيِّاٰتِهِمْ فِيْٓ اَصْحٰبِ الْجَــنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ» [46-الأحقاف:16] قسم اللہ کی یہ لوگ جن کا ذکر اس آیت میں ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہیں اور ان کے ساتھی، تین مرتبہ یہی فرمایا۔ راوی یوسف کہتے ہیں میں نے محمد بن حاطب رحمہ اللہ سے پوچھا: سچ کہو، تمہیں اللہ کی قسم تم نے خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ سنا ہے؟ فرمایا: ہاں، قسم اللہ کی میں نے خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ سنا ہے }۔
15۔ 1 اس مشقت و تکلیف کا ذکر والدین کے ساتھ حسن سلوک کے حکم میں مزید تاکید کے لیے ہے جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ماں اس حکم احسان میں باپ سے مقدم ہے کیونکہ نو ماہ تک مسلسل حمل کی تکلیف اور پھر زچگی کی تکلیف صرف تنہا ماں ہی اٹھاتی ہے باپ کی اس میں شرکت نہیں اسی لیے حدیث میں بھی ماں کے ساتھ حسن سلوک کو اولیت دی گئی ہے اور باپ کا درجہ اس کے بعد بتلایا گیا ہے ایک صحابی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری ماں اس نے پھر یہی پوچھا آپ نے یہی جواب دیا تیسری مرتبہ بھی یہی جواب دیاچھوتھی مرتبہ پوچھنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تمہارا باپ۔ صحیح مسلم۔ 15۔ 2 فِصَا ل، ُ کے معنی، دودھ چھڑانا ہیں۔ اس سے بعض صحابہ نے استدلال کیا ہے کہ کم از کم مدت حمل چھ مہینے یعنی چھ مہینے کے بعد اگر کسی عورت کے ہاں بچہ پیدا ہوجائے تو وہ بچہ حلال ہی ہوگا، حرام نہیں۔ اس لئے کہ قرآن نے مدت رضاعت دو سال (24) مہینے بتلائی ہے، اس حساب سے مدت حمل صرف چھ مہینے ہی باقی رہ جاتی ہے۔ 15۔ 3 کمال قدرت (اَشْدُّہُ) کے زمانے سے مراد جوانی ہے، بعض نے اسے 18 سال سے تعبیر کیا ہے، حتٰی کہ پھر بڑھتے بھڑتے چالیس سال کی عمر کو پہنچ گیا یہ عمر قوائے عقلی کے مکمل بلوغ کی عمر ہے اسی لیے مفسرین کی رائے ہے کہ ہر نبی کو چالیس سال کے بعد ہی نبوت سے سرفراز کیا گیا۔ 15۔ 4 اَوْزِغنِیْ بمعنی اَلْھِمْنِیْ ہے، مجھے توفیق دے۔ اس سے استدلال کرتے ہوئے علماء نے کہا کہ اس عمر کے بعد انسان کو یہ دعا کثرت سے پڑھتے رہنا چاہئے۔ یعنی ربی اَوْزغْنِیْ سے مِنَ الْمُسْلِمیْنَ تک۔ کو پہنچ گیا، یہ عمر قوائے عقلی کے مکمل بلوغ کی عمر ہے۔ اس لئے مفسرین کی رائے ہے کہ ہر نبی کو چالیس سال کے بعد ہی نبوت سے سرفراز کیا گیا
(آیت 15) ➊ { وَ وَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ اِحْسٰنًا:} سورت کے شروع سے یہاں تک اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی نازل کردہ کتاب کے حق ہونے اور اس کی عبادت پر استقامت کا بیان فرمایا، اب ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کا بیان ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ کے حق توحید اور اخلاصِ عبادت کے ساتھ ماں باپ کے حق کا ذکر فرمایا ہے۔ اس جملے کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۸۳)، بنی اسرائیل (۲۳، ۲۴)، عنکبوت (۸) اور سورۂ لقمان (۱۴، ۱۵)۔ ➋ { حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا: ”كَرِهَ يَكْرَهُ كَرْهًا وَ كُرْهًا وَ كَرَاهَةً وَ كَرَاهِيَةً“} (ع) {” اَلشَّيْءَ“ } یہ {”أَحَبَّ الشَّيْءَ“} کی ضد ہے، ناپسند کرنا۔ {”اَلْكَرْهُ “} اور {”اَلْكُرْهُ “} کا معنی انکار اور مشقت بھی ہے۔ {” كُرْهًا “} حال ہے: {”أَيْ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ ذَاتَ كُرْهٍ“} یعنی اس کی ماں نے اسے اس حالت میں اٹھائے رکھا کہ وہ ناگواری یا مشقت والی تھی۔ یا اس سے پہلے حرف جار باء محذوف ہے، جس کے حذف کرنے سے اس پر نصب آیا ہے: {”أَيْ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ بِكُرْهٍ“} یعنی اس کی ماں نے اسے ناگواری یا مشقت کے ساتھ اٹھایا، {” وَ وَضَعَتْهُ كُرْهًا “} اور اسے ناگواری اور مشقت کے ساتھ جنا۔ ➌ آیت میں اگرچہ ماں اور باپ دونوں کے ساتھ احسان کی تاکید کی گئی ہے، مگر ماں کی تین قربانیوں کا ذکر خاص طور پر کیا گیا ہے۔ پہلی یہ کہ وہ حمل کی پوری مدت اسے اپنے پیٹ میں اٹھائے پھرتی ہے، اس دوران اس پر کئی ناگوار حالتیں گزرتی ہیں، مثلاً متلی، بے چینی، تھکاوٹ، بیماری کی سی حالت، دن بدن بڑھتی ہوئی کمزوری، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا: «حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ» [ لقمان: ۱۴ ] ”اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری کی حالت میں اٹھائے رکھا۔“ خصوصاً حمل کے آخری ایام میں تو یہ بوجھ اس کی جان کا روگ بنا ہوتا ہے۔ حقیقت ہے کہ کوئی شخص اگر اپنی ماں کا حق ادا کرنے کے لیے اسے کمزوری کی حالت میں اٹھا کر لیے پھرے تب بھی وہ اس کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ کہاں پوری مدتِ حمل مسلسل اپنے شکم میں اٹھائے پھرنا اور کہاں کسی وقت کچھ دیر کے لیے اٹھا لینا۔ پھر ماں ان سب ناگوار کیفیتوں کو آنے والے فرزند کی امید پر خوشی سے برداشت کرتی ہے، جب کہ اولاد اسے بوجھ سمجھ کر یا صرف اللہ کا حکم سمجھ کر اٹھاتی ہے، دونوں میں کوئی نسبت ہی نہیں۔ دوسری قربانی وضع حمل کا نہایت تکلیف دہ مرحلہ ہے جس میں اس کی جان داؤ پر لگی ہوتی ہے، کتنی مائیں اس مرحلے میں جان سے گزر جاتی ہیں، وہ اپنے فرزند کی امید پر اس ناگوار مرحلے کو بھی برداشت کرتی ہے۔ تیسری قربانی دو سال تک اس کی پرورش، اپنے آرام کی قربانی دے کر اس کے لیے ہر آسائش مہیا کرنا اور اپنا خون دودھ کی صورت میں دو سال تک پلاتے جانا ہے۔ ان تین قربانیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ماں کا حق باپ سے تین گنا زیادہ رکھا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، کہنے لگا: [ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِيْ؟ قَالَ أُمُّكَ، قَالَ ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ ثُمَّ أُمُّكَ، قَالَ ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ ثُمَّ أُمُّكَ، قَالَ ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ ثُمَّ أَبُوْكَ ] [ بخاري، الأدب، باب من أحق الناس بحسن الصحبۃ: ۵۹۷۱ ] ”یا رسول اللہ! لوگوں میں سے میرے حسن محبت کا زیادہ حق دار کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھاری ماں۔“ اس نے کہا: ”پھر کون؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تمھاری ماں۔“ اس نے کہا: ” پھر کون؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تمھاری ماں۔“ اس نے کہا: ”پھر کون؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (چوتھی مرتبہ) فرمایا: ” پھر تمھارا باپ۔“ ➍ {وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا:} اس آیت کو اور سورۂ لقمان کی آیت (۱۴): «وَ فِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ» (اور اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہے) اور سورۂ بقرہ کی آیت (۲۳۳): «وَ الْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ» (اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں، اس کے لیے جو چاہے کہ دودھ کی مدت پوری کرے) ان تینوں آیتوں کو ملانے سے ثابت ہوتا ہے کہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے، کیونکہ تیس ماہ میں سے دودھ پلانے کی مدت دو سال نکالی جائے تو باقی چھ ماہ بچتے ہیں۔ ابن کثیر نے سورۂ زخرف کی آیت (۸۱): «قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ» کی تفسیر میں ابن جریر طبری سے نقل فرمایا ہے: [عَنْ بَعْجَةَ بْنِ زَيْدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ امْرَأَةً مِّنْهُمْ دَخَلَتْ عَلٰی زَوْجِهَا، وَ هُوَ رَجُلٌ مِّنْهُمْ أَيْضًا، فَوَلَدَتْ لَهُ فِيْ سِتَّةِ أَشْهُرٍ، فَذَكَرَ ذٰلِكَ زَوْجُهَا لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ فَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُرْجَمَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِيْ طَالِبٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ اللّٰهَ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی يَقُوْلُ فِيْ كِتَابِهِ: «وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» وَ قَالَ: «وَ فِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ» قَالَ فَوَاللّٰهِ! مَا عَبِدَ عُثْمَانُ أَنْ بَعَثَ إِلَيْهَا تُرَدَّ ] [الطبري: ۲۰ /۶۵۷، ح: ۳۱۲۷۰ ] ”بعجہ بن یزید جہنی کہتے ہیں کہ ان کے قبیلے کی ایک عورت اپنے خاوند کے پاس آئی، وہ آدمی بھی اسی قبیلے کا تھا، تو اس عورت نے چھ مہینے میں بچے کو جنم دیا۔ اس کے خاوند نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے اس بات کا ذکر کیا تو انھوں نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا۔ اس پر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: ”اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں: «وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» (کہ اس کے حمل اور اس کے دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ ہے) اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: «وَ فِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ» (اور اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہے)۔“ بعجہ بن یزید کہتے ہیں: ”تو اللہ کی قسم! عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی بات کا کوئی انکار نہیں کیا اور فوراً آدمی بھیجا کہ اسے واپس لایا جائے۔“ ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا، اس کی سند صحیح ہے۔ یہ استدلال نہایت مضبوط ہے، علی اور عثمان رضی اللہ عنھما کے علاوہ صحابہ کی ایک جماعت نے ان کی موافقت کی ہے۔ (ابن کثیر) ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”عورت جب نو (۹) ماہ میں بچہ جنے تو اسے اکیس (۲۱) ماہ دودھ پلانا کافی ہے، جب سات (۷) ماہ میں جنے تو اسے تیئیس (۲۳) ماہ دودھ پلانا کافی ہے اور جب چھ (۶) ماہ میں جنے تو پورے دو سال دودھ پلائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» ”اس کے حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ ہے۔“ [ ابن أبي حاتم: ۱۸۵۶۷۔ ابن کثیر وقال المحقق سندہ حسن ] ➎ { حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِيْنَ سَنَةً …:} یہاں سے اللہ تعالیٰ نے والدین کا حق پہچاننے کے اعتبار سے دو قسم کے آدمیوں کا ذکر فرمایا ہے۔ اس آیت میں اس آدمی کا ذکر ہے جو اپنی جوانی کو پہنچتا ہے تو اپنے والدین کا حق پہچانتا ہے اور یہ پہچان اسے اپنے اصل مالک اور مربی کی پہچان اور اس کا شکر ادا کرنے تک پہنچا دیتی ہے۔ {” بَلَغَ اَشُدَّهٗ “} کی تشریح کے لیے دیکھیے سورۂ یوسف (۲۲) کی تفسیر۔ اس سلسلے میں چالیس سال کی عمر کا ذکر بلوغت کی آخری حد کے طور پر فرمایا ہے، کیونکہ اس عمر میں آدمی کی قوتیں اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہیں۔ اس کے بعد انحطاط کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ اس آیت میں ہر جوان کو عموماً اور چالیس برس والے آدمی کو خصوصاً خبردار کیا گیا ہے کہ اسے چاہیے کہ اپنی پرورش کرنے والے والدین کا اور اپنے اور اپنے والدین کے اصل مربی اور مالک کا حق پہچانے اور اپنے اور اپنے والدین پر اپنے رب کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے لیے اس سے توفیق مانگتا رہے، کیونکہ اس کی توفیق کے بغیر کوئی نیکی نہیں ہو سکتی اور ساتھ ہی اپنی اولاد کی اصلاح کی دعا بھی کرتا رہے۔ اس طرح والدین کے حقوق کی پہچان اور ان کی ادائیگی اس کے لیے اپنے رب کے حقوق کی پہچان، اس کی توحید پر استقامت، اس کی عبادت میں اخلاص اور اس کی نعمتوں پر شکر کا ذریعہ بن جائے گی، جو انسان کی زندگی کا اصل مقصود ہے۔ ➏ { وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ:} عمل اگرچہ وہی صالح ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہو اور اخلاص کے ساتھ ہو، مگر اخلاصِ نیت اور ریا سے پاک ہونے کی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے اس کا الگ بھی ذکر فرمایا۔ یعنی مجھے ایسے عمل کی توفیق دے جو ظاہر میں درست یعنی تیری کتاب اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہو اور حقیقت میں بھی تیری رضا کے مطابق اور تیری جناب میں قبول ہونے کے لائق ہو، یعنی اخلاصِ نیت پر مبنی اور ریا سے پاک ہو۔ ➐ { وَ اَصْلِحْ لِيْ فِيْ ذُرِّيَّتِيْ:} اس دعا میں دو الفاظ قابل غور ہیں، ایک {” لِيْ “} اور دوسرا{ ” فِيْ “۔ ” اَصْلِحْ لِيْ “} (میرے لیے اصلاح فرما دے) کا مطلب یہ ہے کہ ان کی ایسی اصلاح فرما جس کا فائدہ مجھے بھی حاصل ہو۔ {” فِيْ ذُرِّيَّتِيْ “} یہاں بظاہر {”أَصْلِحْ لِيْ ذُرِّيَّتِيْ“} (میرے لیے میری اولاد کی اصلاح فرما دے) کافی تھا، جیسا کہ فرمایا: «وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ» [ الأنبیاء: ۹۰ ] ”اور ہم نے اس کے لیے اس کی بیوی کی اصلاح فرما دی۔“ مگر {” فِيْ “} لانے کا مطلب یہ ہے کہ میری اولاد میں اصلاح کا عمل جاری و ساری فرما دے جو آگے تک چلتا رہے، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِيَةً فِيْ عَقِبِهٖ» [ الزخرف: ۲۸ ] ”اور اس نے اس (توحید کی بات) کو اپنے پچھلوں میں باقی رہنے والی بات بنا دیا۔“ ➑ { اِنِّيْ تُبْتُ اِلَيْكَ وَ اِنِّيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ:} یعنی میں اپنی جوانی کی سرکشی اور جہالت سے اور تیری ہر قسم کی نافرمانی سے باز آ یا اور میں تیرے مکمل فرماں برداروں سے ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ خصوصی اہتمام کے ساتھ چالیس (۴۰) برس کی عمر میں اور اس کے بعد توبہ کی تجدید کرتے رہنا چاہیے۔ ➒ یہ دعا اولاد کی اصلاح کے لیے اکسیر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اس کی تعلیم دی ہے اور یہ مقبول دعاؤں میں سے ہے، کیونکہ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کے قبول ہونے کی بشارت دی ہے، فرمایا: «نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ» ”ہم ان سے قبول کرتے ہیں۔“ جیسا کہ سورۂ فاتحہ ہے اور سورۂ بقرہ کی آخری آیات والی دعائیں ہیں۔ اس لیے کسی صاحبِ اولاد کو، خصوصاً جو چالیس سال یا اس سے اوپر ہو اسے اس دعا سے غافل نہیں رہنا چاہیے۔ تفسیر قرطبی میں ہے کہ مالک بن مغول نے طلحہ بن مصرف کے پاس اپنے بیٹے کی شکایت کی تو انھوں نے فرمایا: ”اس کے لیے اس دعا سے مدد حاصل کرو۔“ [ قرطبي: ۱۶ /۱۹۵ ]
اِس طرح کے لوگوں سے ہم اُن کے بہترین اعمال کو قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں یہ جنتی لوگوں میں شامل ہوں گے اُس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہی وه لوگ ہیں جن کے نیک اعمال تو ہم قبول فرما لیتے ہیں اور جن کے بداعمال سے درگزر کر لیتے ہیں، (یہ) جنتی لوگوں میں ہیں۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا تھا
احمد رضا خان بریلوی
یہ ہیں وہ جن کی نیکیاں ہم قبول فرمائیں گے اور ان کی تقصیروں سے درگزر فرمائیں گے جنت والوں میں، سچا وعدہ جو انہیں دیا جاتا تھا
علامہ محمد حسین نجفی
یہی وہ لوگ ہیں جن کے بہترین اعمال کو ہم قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے درگزر کرتے ہیں یہ بہشتیوں میں ہوں گے اس سچے وعدہ کی بناء پر جو برابر ان سے کیا جاتا رہا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہی وہ لوگ ہیں کہ ہم ان سے وہ سب سے اچھے عمل قبول کرتے ہیں جو انھوں نے کیے اور ان کی برائیوں سے در گزر کرتے ہیں، جنت والوں میں، سچے وعدے کے مطابق جو ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
والدین سے بہترین سلوک کرو ٭٭
اس سے پہلے چونکہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی عبادت کے اخلاص کا اور اس پر استقامت کرنے کا حکم ہوا تھا اس لیے یہاں ماں باپ کے حقوق کی بجا آوری کا حکم ہو رہا ہے۔ اسی مضمون کی اور بہت سی آیتیں قرآن پاک میں موجود ہیں۔ جیسے فرمایا «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلٰـهُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا» [17-الإسراء:23] یعنی ’ تیرا رب یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو ‘۔ اور آیت میں ہے «أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ» [31-لقمان:14] یعنی ’ میرا شکر کر اور اپنے والدین کا لوٹنا تو میری ہی طرف ہے ‘ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں۔ پس یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ «وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا» [29-العنكبوت:8] ’ ہم نے انسان کو حکم کیا ہے کہ ماں باپ کے ساتھ احسان کرو ان سے تواضع سے پیش آؤ ‘۔
ابوداؤد طیالسی میں حدیث ہے کہ { سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی والدہ نے آپ سے کہا کہ کیا ماں باپ کی اطاعت کا حکم اللہ نے نہیں دیا؟ سن میں نہ کھانا کھاؤں گی، نہ پانی پیوں گی، جب تک تو اللہ عزوجل کے ساتھ کفر نہ کرے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے انکار پر اس نے یہی کیا کہ کھانا پینا چھوڑ دیا یہاں تک کہ لکڑی سے اس کا منہ کھول کر جبراً پانی وغیرہ چھوا دیتے، اس پر یہ آیت اتری یہ حدیث مسلم شریف وغیرہ میں بھی ہے }۔ [صحیح مسلم:1748] ماں نے حالت حمل میں کیسی کچھ تکلیفیں برداشت کی ہیں؟ اسی طرح بچہ ہونے کے وقت کیسی کیسی مصیبتوں کا وہ شکار بنی ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس آیت سے اور اس کے ساتھ سورۃ لقمان کی آیت «وَّفِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ» ۔ [31-لقمان:14] اور اللہ عزوجل کا فرمان «وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ» [2-البقرة:233] یعنی مائیں اپنے بچوں کو دو سال کامل دودھ پلائیں ان کے لیے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہیں ملا کر استدلال کیا ہے کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ ہے۔ یہ استدلال بہت قوی اور بالکل صحیح ہے۔
سیدنا عثمان اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت نے بھی اس کی تائید کی ہے { معمر بن عبداللہ جہنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے قبیلے کے ایک شخص نے جہنیہ کی ایک عورت سے نکاح کیا چھ مہینے پورے ہوتے ہی اسے بچہ تولد ہوا اس کے خاوند نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا آپ نے اس عورت کے پاس آدمی بھیجا وہ تیار ہو کر آنے لگی تو ان کی بہن نے گریہ و زاری شروع کر دی اس بیوی صاحبہ نے اپنی بہن کو تسکین دی اور فرمایا: کیوں روتی ہو، اللہ کی قسم! اس کی مخلوق میں سے کسی سے میں نہیں ملی میں نے کبھی کوئی برا فعل نہیں کیا، تو دیکھو کہ اللہ کا فیصلہ میرے بارے میں کیا ہوتا ہے، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس یہ آئیں تو آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے خلیفۃ المسلمین سے دریافت کیا کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ اس عورت کو نکاح کے چھ مہینے کے بعد بچہ ہوا ہے جو ناممکن ہے۔ یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ نے قرآن نہیں پڑھا؟ فرمایا: ہاں پڑھا ہے فرمایا: کیا یہ آیت نہیں پڑھی «وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» [46-الأحقاف:15] اور ساتھ ہی یہ آیت بھی «حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ» [2-البقرة:233] پس مدت حمل اور مدت دودھ پلائی دونوں کے مل کر تیس مہینے اور اس میں سے جب دودھ پلائی کی کل مدت دو سال کے چوبیس وضع کر دئیے جائیں تو باقی چھ مہینے رہ جاتے ہیں، تو قرآن کریم سے معلوم ہوا کہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے اور اس بیوی صاحبہ کو بھی اتنی ہی مدت میں بچہ ہوا، پھر اس پر زنا کا الزام کیسے قائم کر رہے ہیں؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واللہ! یہ بات بہت ٹھیک ہے، افسوس میرا خیال ہے میں اس طرف نہیں گیا، جاؤ اس عورت کو لے آؤ پس لوگوں نے اس عورت کو اس حال پر پایا کہ اسے فراغت ہو چکی تھی۔ معمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں، واللہ! ایک کوا دوسرے کوے سے اور ایک انڈا دوسرے انڈے سے بھی اتنا مشابہ نہیں ہوتا جتنا اس عورت کا یہ بچہ اپنے باپ سے مشابہ تھا، خود اس کے والد نے بھی اسے دیکھ کر کہا: اللہ کی قسم! اس بچے کے بارے میں مجھے اب کوئی شک نہیں رہا اور اسے اللہ تعالیٰ نے ایک ناسور کے ساتھ مبتلا کیا جو اس کے چہرے پر تھا وہ ہی اسے گھلاتا رہا یہاں تک کہ وہ مر گیا }۔ ابن ابی حاتم [الدالمنثورللسیوطی9/6]
یہ روایت دوسری سند سے «فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ» [43-الزخرف:81] کی تفسیر میں ہم نے وارد کی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب کسی عورت کو نو مہینے میں بچہ ہو تو اس کی دودھ پلائی کی مدت اکیس ماہ کافی ہیں اور جب سات مہینے میں ہو تو مدت رضاعت تئیس ماہ اور جب چھ ماہ میں بچہ ہو جائے تو مدت رضاعت دو سال کامل اس لیے کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے کہ حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہے۔ جب وہ اپنی پوری قوت کے زمانے کو پہنچا یعنی قوی ہو گیا، جوانی کی عمر میں پہنچ گیا، مردوں کی گنتی میں آیا اور چالیس سال کا ہوا، عقل پوری آئی، فہم و کمال کو پہنچا، حلم اور بردباری آ گئی۔ یہ کہا جاتا ہے کہ چالیس سال کی عمر میں جو حالت اس کی ہوتی ہے عموماً پھر باقی عمر وہی رہتی ہے۔ مسروق رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ انسان کب اپنے گناہوں پر پکڑا جاتا ہے؟ تو فرمایا: جب تو چالیس سال کا ہو جائے تو اپنا بچاؤ مہیا کر لے۔ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جب مسلمان بندہ چالیس سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے حساب میں تخفیف کر دیتا ہے اور جب ساٹھ سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف جھکنا نصیب فرماتا ہے اور جب ستر سال کی عمر کا ہو جاتا ہے تو آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب اسی سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں ثابت رکھتا ہے اور اس کی برائیاں مٹا دیتا ہے اور جب نوے سال کا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرماتا ہے اور اس کے گھرانے کے آدمیوں کے بارے میں اسے شفاعت کرنے والا بناتا ہے اور آسمانوں میں لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ اللہ کی زمین میں اس کا قیدی ہے }۔ [مجمع الزوائد204/10ضعیف] یہ حدیث دوسری سند سے مسند احمد میں بھی ہے۔ [مسند احمد:217/3:ضعیف] بنو امیہ کے دمشقی گورنر حجاج بن عبداللہ حکمی فرماتے ہیں کہ چالیس سال کی عمر میں تو میں نے نافرمانیوں اور گناہوں کو لوگوں کی شرم و حیاء سے چھوڑا تھا اس کے بعد گناہوں کے چھوڑنے کا باعث خود ذات اللہ سے حیاء تھی۔ عرب شاعر کہتا ہے بچپنے میں ناسمجھی کی حالت میں تو جو کچھ ہو گیا ہو گیا لیکن جس وقت بڑھاپے نے منہ دکھایا تو سر کی سفیدی نے خود ہی برائیوں سے کہہ دیا کہ اب تم کوچ کر جاؤ۔ پھر اس کی دعا کا بیان ہو رہا ہے کہ اس نے کہا میرے پرورودگار میرے دل میں ڈال کہ تیری نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام فرمائی اور میں وہ اعمال کروں جن سے تو مستقبل میں خوش ہو جائے اور میری اولاد میں میرے لیے اصلاح کر دے یعنی میری نسل اور میرے پیچھے والوں میں، میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میرا اقرار ہے کہ میں فرنبرداروں میں ہوں۔ اس میں ارشاد ہے کہ چالیس سال کی عمر کو پہنچ کر انسان کو پختہ دل سے اللہ کی طرف توبہ کرنی چاہیئے اور نئے سرے سے اللہ کی طرف رجوع و رغبت کر کے اس پر جم جانا چاہیئے۔
ابوداؤد میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم التحیات میں پڑھنے کے لیے اس دعا کی تعلیم کیا کرتے تھے «اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَبَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا، وَأَبْصَارِنَا، وَقُلُوبِنَا، وَأَزْوَاجِنَا، وَذُرِّيَّاتِنَا، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمِكَ مُثْنِينَ بِهَا عَلَيْكَ، قَابِلِينَ لَهَا، وَأَتِمِمْهَا عَلَيْنَا» یعنی، اے اللہ! ہمارے دلوں میں الفت ڈال اور ہمارے آپس میں اصلاح کر دے اور ہمیں سلامتی کی راہیں دکھا اور ہمیں اندھیروں سے بچا کر نور کی طرف نجات دے اور ہمیں ہر برائی سے بچا لے، خواہ وہ ظاہر ہو، خواہ چھپی ہوئی ہو اور ہمیں ہمارے کانوں میں اور آنکھوں میں اور دلوں میں اور بیوی بچوں میں برکت دے اور ہم پر رجوع فرما، یقیناً تو رجوع فرمانے والا مہربان ہے اے اللہ ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر گزار اور ان کے باعث اپنا ثنا خواں اور نعمتوں کا اقراری بنا اور اپنی بھرپور نعمتیں ہمیں عطا فرما }۔ [سنن ابوداود:969،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرماتا ہے یہ جن کا بیان گزرا جو اللہ کی طرف توبہ کرنے والے اس کی جانب میں جھکنے والے اور جو نیکیاں چھوٹ جائیں انہیں کثرت استغفار سے پا لینے والے ہی وہ ہیں جن کی اکثر لغزشیں ہم معاف فرما دیتے ہیں اور ان کے تھوڑے نیک اعمال کے بدلے ہم انہیں جنتی بنا دیتے ہیں ان کا یہی حکم ہے جیسے کہ وعدہ کیا اور فرمایا یہ وہ سچا وعدہ ہے جو ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ ابن جریر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بروایت روح الامین علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”انسان کی نیکیاں اور بدیاں لائی جائیں گی اور ایک کو ایک کے بدلے میں کیا جائے گا پس اگر ایک نیکی بھی بچ رہی تو اللہ تعالیٰ اسی کے عوض اسے جنت میں پہنچا دے گا۔“ راوی حدیث نے اپنے استاد سے پوچھا اگر تمام نیکیاں ہی برائیوں کے بدلے میں چلی جائیں تو؟ آپ نے فرمایا: ”ان کی برائیوں سے اللہ رب العزت تجاوز فرما لیتا ہے“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:286/11:ضعیف]
دوسری سند میں یہ بفرمان اللہ عزوجل مروی ہے۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند بہت پختہ ہے، یوسف بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ { جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ اہل بصرہ پر غالب آئے اس وقت میرے ہاں مجمد بن حاطب رحمہ اللہ آئے۔ ایک دن مجھ سے فرمانے لگے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور اس وقت سیدنا عمار، صعصعہ، اشتر، محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ بعض لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نکالا اور کچھ گستاخی کی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس وقت تخت پر بیٹھے ہوئے تھے، ہاتھ میں چھڑی تھی۔ حاضرین مجلس میں سے کسی نے کہا کہ آپ کے سامنے تو آپ کی اس بحث کا صحیح محاکمہ کرنے والے موجود ہی ہیں، چنانچہ سب لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا۔ اس پر آپ نے فرمایا: عثمان ان لوگوں میں سے تھے جن کے بارے میں اللہ عزوجل فرماتا ہے «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَـيِّاٰتِهِمْ فِيْٓ اَصْحٰبِ الْجَــنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ» [46-الأحقاف:16] قسم اللہ کی یہ لوگ جن کا ذکر اس آیت میں ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہیں اور ان کے ساتھی، تین مرتبہ یہی فرمایا۔ راوی یوسف کہتے ہیں میں نے محمد بن حاطب رحمہ اللہ سے پوچھا: سچ کہو، تمہیں اللہ کی قسم تم نے خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ سنا ہے؟ فرمایا: ہاں، قسم اللہ کی میں نے خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ سنا ہے }۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 16) ➊ {اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا …:} آیت کے ضمن میں یہ مفہوم موجود ہے کہ ماں باپ کے ساتھ احسان، ان کے لیے دعا، اللہ تعالیٰ سے شکر اور عملِ صالح کی توفیق مانگنا اور اولاد کے لیے اصلاح کی دعا انسان کے سب سے اچھے اعمال میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو لوگ یہ عمل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے اس بہترین عمل کو قبول فرمائے گا اور ان کی برائیوں سے درگزر فرمائے گا۔ ➋ {فِيْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ:} يہ {” اُولٰٓىِٕكَ “} سے حال کی جگہ میں ہے: {”أَيْ كَائِنِيْنَ فِيْ أَصْحَابِ الْجَنَّةِ“} بہترین اعمال کی قبولیت اور گناہوں سے درگزر کے ساتھ یہ تیسرا انعام ہے کہ انھیں اصحاب الجنہ میں شامل کیا جائے گا جو بہترین ساتھی ہیں۔ کیونکہ ان میں شامل ہونا بجائے خود بہت بڑا اعزاز ہے، جس کی دعا انبیاء علیھم السلام کرتے رہے ہیں، جیسا کہ سلیمان علیہ السلام کی دعا ہے: «وَ اَدْخِلْنِيْ بِرَحْمَتِكَ فِيْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيْنَ» [ النمل: ۱۹ ] ”اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔“ یوسف علیہ السلام کی دعا ہے: «تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ» [ یوسف: ۱۰۱ ] ”مجھے مسلم ہونے کی حالت میں فوت کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔“ اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری وقت کے الفاظ ہیں: [ فِي الرَّفِيْقِ الْأَعْلٰی ] [ بخاري، المغازي، باب مرض النبي صلی اللہ علیہ وسلم و وفاتہ: ۴۴۳۶ ] ”مجھے بلند ترین ساتھیوں میں شامل فرما۔“ [ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْھُمْ بِفَضْلِکَ وَ رَحْمَتِکَ ] ➌ { وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ:} یعنی اس سچے وعدے کے مطابق جو قرآن و حدیث میں والدین سے احسان کرنے والوں کے ساتھ کیا جاتا تھا اور اللہ تعالیٰ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
اور جس شخص نے اپنے والدین سے کہا "اُف، تنگ کر دیا تم نے، کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد پھر قبر سے نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی نسلیں گزر چکی ہیں (اُن میں سے تو کوئی اٹھ کر نہ آیا)" ماں اور باپ اللہ کی دوہائی دے کر کہتے ہیں "ارے بدنصیب، مان جا، اللہ کا وعدہ سچا ہے" مگر وہ کہتا ہے "یہ سب اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جس نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ تم سے میں تنگ آگیا، تم مجھ سے یہی کہتے رہو گے کہ میں مرنے کے بعد پھر زنده کیا جاؤں گا مجھ سے پہلے بھی امتیں گزر چکی ہیں، وه دونوں جناب باری میں فریادیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں تجھے خرابی ہو تو ایمان لے آ، بیشک اللہ کا وعده حق ہے، وه جواب دیتا ہے کہ یہ تو صرف اگلوں کے افسانے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جس نے اپنے ماں باپ سے کہا اُف تم سے دل پک گیا (بیزار ہے) کیا مجھے یہ وعدہ دیتے ہو کہ پھر زندہ کیا جاؤں گا حالانکہ مجھ پر سے پہلے سنگتیں گزر چکیں اور وہ دونوں اللہ سے فریاد کرتے ہیں تیری خرابی ہو ایمان لا، بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے تو کہتا ہے یہ تو نہیں مگر اگلوں کی کہانیاں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جس نے اپنے والدین سے کہا تُف ہے تم پر کیا تم دونوں مجھ سے وعدہ کرتے ہو کہ میں (دوبارہ قبر سے) نکالا جاؤں گا۔ حالانکہ مجھ سے پہلے کئی نسلیں گزر چکی ہیں (اور کوئی ایک بھی زندہ نہ ہوا) اور وہ دونوں اللہ سے فریاد کرتے ہیں (اور کہتے ہیں) وائے ہو تجھ پر ایمانلے آ۔ بےشک اللہ کا وعدہ سچاہے(مگر) وہ کہتا ہے کہ یہ سب اگلے لوگوں کی (پرانی) کہانیاں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ جس نے اپنے ماں باپ سے کہا اف ہے تم دونوں کے لیے! کیا تم مجھے دھمکی دیتے ہو کہ مجھے( قبر سے) نکالا جائے گا، حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکیں۔ جب کہ وہ دونوں اللہ سے فریاد کرتے (ہوئے کہتے) ہیں تجھے ہلاکت ہو! ایما ن لے آ، بے شک اللہ کا وعدہ حق ہے۔ تو وہ کہتا ہے یہ پہلے لوگوں کی فرضی کہانیوں کے سوا کچھ نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس دنیا کے طالب آخرت سے محروم ہوں گے ٭٭
چونکہ اوپر ان لوگوں کا حال بیان ہوا تھا جو اپنے ماں باپ کے حق میں نیک دعائیں کرتے ہیں اور ان کی خدمتیں کرتے رہتے ہیں اور ساتھ ہی ان کے اخروی درجات کا اور وہاں نجات پانے اور اپنے رب کی نعمتوں سے مالا مال ہونے کا ذکر ہوا تھا۔ اس لیے اس کے بعد ان بدبختوں کا بیان ہو رہا ہے جو اپنے ماں باپ کے نافرمان ہیں انہیں باتیں سناتے ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے حق میں نازل ہوئی ہے جیسے کہ عوفی بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں جس کی صحت میں بھی کلام ہے اور جو قول نہایت کمزور ہے اس لیے کہ سیدنا عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما تو مسلمان ہو گئے تھے اور بہت اچھے اسلام والوں میں سے تھے بلکہ اپنے زمانے کے بہترین لوگوں میں سے تھے بعض اور مفسرین کا بھی یہ قول ہے لیکن ٹھیک یہی ہے کہ یہ آیت عام ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { مروان نے اپنے خطبہ میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے امیر المؤمنین کو یزید کے بارے میں ایک اچھی رائے سمجھائی ہے اگر وہ انہیں اپنے بعد بطور خلیفہ کے نامزد کر جائیں تو سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے بھی تو اپنے بعد خلیفہ مقرر کیا ہے اس پر سیدنا عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما بول اٹھے کہ کیا ہرقل کے دستور پر اور نصرانیوں کے قانون پر عمل کرنا چاہتے ہو؟ قسم ہے اللہ کی نہ تو خلیفہ اول نے اپنی اولاد میں سے کسی کو خلافت کے لیے منتخب کیا، نہ اپنے کنبے قبیلے والوں سے کسی کو نامزد کیا اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے جو اسے کیا وہ صرف ان کی عزت افزائی اور ان کے بچوں پر رحم کھا کر کیا، یہ سن کر مروان کہنے لگا کہ تو وہی نہیں جس نے اپنے والدین کو اف کہا تھا؟ تو سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تو ایک ملعون شخص کی اولاد میں سے نہیں؟ تیرے باپ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی تھی۔ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ سن کر مروان سے کہا تو نے عبدالرحمٰن سے جو کہا وہ بالکل جھوٹ ہے وہ آیت ان کے بارے میں نہیں بلکہ وہ فلاں بن فلاں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پھر مروان جلدی ہی منبر سے اتر کر آپ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے دروازے پر آیا اور کچھ باتیں کر کے لوٹ گیا۔ } [تفسیر ابن ابی حاتم:18572:حسن]
بخاری میں یہ حدیث دوسری سند سے اور الفاظ کے ساتھ ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ { معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کی طرف سے مروان حجاز کا امیر بنایا گیا تھا، اس میں یہ بھی ہے کہ مروان نے سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو گرفتار کر لینے کا حکم اپنے سپاہیوں کو دیا لیکن یہ دوڑ کر اپنی ہمشیرہ صاحبہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں چلے گئے اس وجہ سے انہیں کوئی پکڑ نہ سکا۔ اور اس میں یہ بھی ہے کہ سیدہ صدیقہ کبریٰ رضی اللہ عنہا نے پردہ میں سے ہی فرمایا کہ ہمارے بارے میں بجز میری پاک دامنی کی آیتوں کے اور کوئی آیت نہیں اتری }۔ [صحیح بخاری:4827] نسائی کی روایت میں ہے کہ اس خطبے سے مقصود یزید کی طرف سے بیعت حاصل کرنا تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فرمان میں یہ بھی ہے کہ مروان اپنے قول میں جھوٹا ہے جس کے بارے میں یہ آیت اتری ہے مجھے بخوبی معلوم ہے لیکن میں اس وقت اسے ظاہر کرنا نہیں چاہتی لیکن ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مروان کے باپ کو ملعون کہا ہے اور مروان اس کی پشت میں تھا، پس یہ اس اللہ تعالیٰ کی لعنت کا بقیہ ہے۔ یہ جہاں اپنے ماں باپ کی بےادبی کرتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی بےادبی سے بھی نہیں چوکتا، مرنے کے بعد کی زندگی کو جھٹلاتا ہے اور اپنے ماں باپ سے کہتا ہے کہ تم مجھے اس دوسری زندگی سے کیا ڈراتے ہو، مجھ سے پہلے سینکڑوں زمانے گزر گئے، لاکھوں کروڑوں انسان مرے، میں تو کسی کو دوبارہ زندہ ہوتے نہیں دیکھا، ان میں سے ایک بھی تو لوٹ کر خبر دینے نہیں آیا۔ ماں باپ بیچارے اس سے تنگ آ کر جناب باری سے اس کی ہدایت چاہتے ہیں، اس بارگاہ میں اپنی فریاد پہنچاتے ہیں اور پھر اس سے کہتے ہیں کہ بدنصیب ابھی کچھ نہیں بگڑا اب بھی مسلمان بن جا لیکن یہ مغرور پھر جواب دیتا ہے کہ جسے تم ماننے کو کہتے ہو، میں تو اسے ایک دیرینہ قصہ سے زیادہ وقعت کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ اپنے جیسے گزشتہ جنات اور انسانوں کے زمرے میں داخل ہو گئے جنہوں نے خود اپنا نقصان بھی کیا اور اپنے والوں کو بھی برباد کیا۔
اللہ تعالیٰ کے فرمان میں یہاں لفظ «اولئک» ہے حالانکہ اس سے پہلے لفظ «والذی» ہے اس سے بھی ہماری تفسیر کی پوری تائید ہوتی ہے کہ مراد اس سے عام ہے جو بھی ایسا ہو یعنی ماں باپ کا بے ادب اور قیامت کا منکر اس کے لیے یہی حکم ہے چنانچہ حسن اور قتادہ رحمہا اللہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ اس سے مراد کافر فاجر، ماں باپ کا نافرمان اور مر کر جی اٹھنے کا منکر ہے۔ [ضعیف] ابن عساکر کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ چار شخصوں پر اللہ عزوجل نے اپنے عرش پر سے لعنت کی ہے اور اس پر فرشتوں نے آمین کہی ہے جو کسی مسکین کو بہکائے اور کہے کہ آؤ تجھے کچھ دوں گا اور جب وہ آئے تو کہہ دے کہ میرے پاس تو کچھ نہیں اور جو «ماعون» سے کہے سب حاضر ہے حالانکہ اس کے آگے کچھ نہ ہو۔ اور وہ لوگ جو کسی کو اس کے اس سوال کے جواب میں فلاں کا مکان کون سا ہے؟ کسی دوسرے کا مکان بتا دیں اور وہ جو اپنے ماں باپ کو مارے یہاں تک کہ تنگ آ جائیں اور چیخ و پکار کرنے لگیں۔
17۔ 1 مذکورہ آیت میں سعادت مند اولاد کا تذکرہ تھا جو ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک بھی کرتی ہے اور ان کے حق میں دعائے خیر بھی اب اس کے مقابلے میں بدبخت اور نافرمان اولاد کا ذکر کیا جارہا ہے جو ماں باپ کے ساتھ گستاخی سے پیش آتی ہے اف لکما افسوس ہے تم پر اف کا کلمہ ناگواری کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے یعنی نافرمان اولاد باپ کی ناصحانہ باتوں پر یا دعوت ایمان وعمل صالح پر ناگواری اور شدت غیظ کا اظہار کرتی ہے جس کی اولاد کو قظعا اجازت نہیں ہے یہ آیت عام ہے ہر نافرمان اولاد اس کی مصداق ہے۔ 17۔ 2 مطلب ہے کہ وہ تو دوبارہ زندہ ہو کر دنیا میں نہیں آئے۔ حالانکہ دوبارہ زندہ ہونے کا مطلب قیامت والے دن زندہ ہونا ہے جس کے بعد حساب ہوگا۔ 17۔ 3 ماں باپ مسلمان ہوں اور اولاد کافر، تو وہاں اولاد اور والدین کے درمیان اسی طرح تکرار اور بحث ہوتی ہے جس کا ایک نمونہ اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔
(آیت 17) ➊ {وَ الَّذِيْ قَالَ لِوَالِدَيْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ: ” اُفٍّ “} کا لفظ اکتاہٹ اور تنگ پڑ جانے کے موقع پر بولا جاتا ہے۔ پچھلی آیت میں ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والی سعادت مند مومن اولاد کا اور ان کے حسن انجام کا ذکر تھا، اس آیت میں ان کے مقابلے میں اس بدبخت اور نافرمان اولاد کا اور ان کے برے انجام کا ذکر ہے جس کے والدین مومن ہیں اور وہ اس کوشش میں ہیں کہ ان کی اولاد ایمان لے آئے، مگر ان کی اولاد اس دعوت پر شدید اکتاہٹ کا اظہار کرتے ہوئے انھیں کہتی ہے، تم دونوں کے لیے {”اُف“} ہے، تم نے مجھے تنگ کر دیا۔ مکہ میں ایسے بہت سے خاندان تھے جن میں والدین ایمان لے آئے تھے مگر اولاد مشرک اور قیامت کی منکر تھی، یا اولاد ایمان لے آئی تھی اور والدین مشرک تھے۔ ➋ { اَتَعِدٰنِنِيْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِيْ:} کیا تم مجھے ڈراتے ہو کہ مجھے دوبارہ قبر سے زندہ کرکے نکالا جائے گا جب میں مٹی اور ہڈیوں کی صورت ہو چکا ہوں گا؟ حالانکہ مجھ سے پہلے صدیاں گزر چکیں، آج تک کوئی واپس نہیں آیا۔ یہاں اس بدبخت کی اس بات کا جواب ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر اس کا جواب آ چکا ہے۔ ➌ {وَ هُمَا يَسْتَغِيْثٰنِ اللّٰهَ:} اور وہ دونوں اس کی اتنی گستاخانہ اور کفریہ بات کے شر سے پناہ مانگنے کے لیے فریاد کرتے ہیں کہ یا اللہ! ہمیں اس کے شر سے بچا اور اسے ہدایت دے۔ ➍ { وَيْلَكَ اٰمِنْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ:” وَيْلَكَ “} کا لفظ اگرچہ بددعا ہے، مگر بعض دفعہ اسے نہایت محبت و شفقت اور دردمندی کے اظہار کے لیے بولا جاتا ہے، جیسے {” ثَكِلَتْكَ الثَّوَاكِلُ“} (تجھے گم کرنے والیاں گم پائیں)۔ یعنی ماں باپ اسے سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں، تیرا ستیا ناس ہو، ایمان لے آ اور آخرت کا انکار نہ کر، کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، مگر وہ نہایت نفرت کے ساتھ انھیں جھڑک دیتا ہے۔ ➎ { فَيَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۳۱)، مومنون (۸۳) اور نمل (۶۸)۔
یہ وہ لوگ ہیں جن پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہو چکا ہے اِن سے پہلے جنوں اور انسانوں کے جو ٹولے (اِسی قماش کے) ہو گزرے ہیں اُنہی میں یہ بھی جا شامل ہوں گے بے شک یہ گھاٹے میں رہ جانے والے لوگ ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
وه لوگ ہیں جن پر (اللہ کے عذاب کا) وعده صادق آگیا، ان جنات اور انسانوں کے گروہوں کے ساتھ جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، یقیناً یہ نقصان پانے والے تھے
احمد رضا خان بریلوی
یہ وہ ہیں جن پر بات ثابت ہوچکی ان گروہوں میں جو ان سے پلے گزرے جن اور آدمی، بیشک وہ زیاں کار تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کے قول (عذاب) کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔ ان گروہوں کے ساتھ جو جنوں اور انسانوں میں سے پہلے گزر چکے ہیں۔یقیناً وہ لوگ گھاٹے میں تھے۔
عبدالسلام بن محمد
یہی وہ لوگ ہیں جن پر بات ثابت ہو گئی ان امتوں سمیت جو جن و انس میں سے ان سے پہلے گزر چکیں، یقینا وہ خسارہ پانے والے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس دنیا کے طالب آخرت سے محروم ہوں گے ٭٭
چونکہ اوپر ان لوگوں کا حال بیان ہوا تھا جو اپنے ماں باپ کے حق میں نیک دعائیں کرتے ہیں اور ان کی خدمتیں کرتے رہتے ہیں اور ساتھ ہی ان کے اخروی درجات کا اور وہاں نجات پانے اور اپنے رب کی نعمتوں سے مالا مال ہونے کا ذکر ہوا تھا۔ اس لیے اس کے بعد ان بدبختوں کا بیان ہو رہا ہے جو اپنے ماں باپ کے نافرمان ہیں انہیں باتیں سناتے ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے حق میں نازل ہوئی ہے جیسے کہ عوفی بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں جس کی صحت میں بھی کلام ہے اور جو قول نہایت کمزور ہے اس لیے کہ سیدنا عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما تو مسلمان ہو گئے تھے اور بہت اچھے اسلام والوں میں سے تھے بلکہ اپنے زمانے کے بہترین لوگوں میں سے تھے بعض اور مفسرین کا بھی یہ قول ہے لیکن ٹھیک یہی ہے کہ یہ آیت عام ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { مروان نے اپنے خطبہ میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے امیر المؤمنین کو یزید کے بارے میں ایک اچھی رائے سمجھائی ہے اگر وہ انہیں اپنے بعد بطور خلیفہ کے نامزد کر جائیں تو سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے بھی تو اپنے بعد خلیفہ مقرر کیا ہے اس پر سیدنا عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما بول اٹھے کہ کیا ہرقل کے دستور پر اور نصرانیوں کے قانون پر عمل کرنا چاہتے ہو؟ قسم ہے اللہ کی نہ تو خلیفہ اول نے اپنی اولاد میں سے کسی کو خلافت کے لیے منتخب کیا، نہ اپنے کنبے قبیلے والوں سے کسی کو نامزد کیا اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے جو اسے کیا وہ صرف ان کی عزت افزائی اور ان کے بچوں پر رحم کھا کر کیا، یہ سن کر مروان کہنے لگا کہ تو وہی نہیں جس نے اپنے والدین کو اف کہا تھا؟ تو سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تو ایک ملعون شخص کی اولاد میں سے نہیں؟ تیرے باپ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی تھی۔ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ سن کر مروان سے کہا تو نے عبدالرحمٰن سے جو کہا وہ بالکل جھوٹ ہے وہ آیت ان کے بارے میں نہیں بلکہ وہ فلاں بن فلاں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پھر مروان جلدی ہی منبر سے اتر کر آپ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے دروازے پر آیا اور کچھ باتیں کر کے لوٹ گیا۔ } [تفسیر ابن ابی حاتم:18572:حسن]
بخاری میں یہ حدیث دوسری سند سے اور الفاظ کے ساتھ ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ { معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کی طرف سے مروان حجاز کا امیر بنایا گیا تھا، اس میں یہ بھی ہے کہ مروان نے سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو گرفتار کر لینے کا حکم اپنے سپاہیوں کو دیا لیکن یہ دوڑ کر اپنی ہمشیرہ صاحبہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں چلے گئے اس وجہ سے انہیں کوئی پکڑ نہ سکا۔ اور اس میں یہ بھی ہے کہ سیدہ صدیقہ کبریٰ رضی اللہ عنہا نے پردہ میں سے ہی فرمایا کہ ہمارے بارے میں بجز میری پاک دامنی کی آیتوں کے اور کوئی آیت نہیں اتری }۔ [صحیح بخاری:4827] نسائی کی روایت میں ہے کہ اس خطبے سے مقصود یزید کی طرف سے بیعت حاصل کرنا تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فرمان میں یہ بھی ہے کہ مروان اپنے قول میں جھوٹا ہے جس کے بارے میں یہ آیت اتری ہے مجھے بخوبی معلوم ہے لیکن میں اس وقت اسے ظاہر کرنا نہیں چاہتی لیکن ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مروان کے باپ کو ملعون کہا ہے اور مروان اس کی پشت میں تھا، پس یہ اس اللہ تعالیٰ کی لعنت کا بقیہ ہے۔ یہ جہاں اپنے ماں باپ کی بےادبی کرتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی بےادبی سے بھی نہیں چوکتا، مرنے کے بعد کی زندگی کو جھٹلاتا ہے اور اپنے ماں باپ سے کہتا ہے کہ تم مجھے اس دوسری زندگی سے کیا ڈراتے ہو، مجھ سے پہلے سینکڑوں زمانے گزر گئے، لاکھوں کروڑوں انسان مرے، میں تو کسی کو دوبارہ زندہ ہوتے نہیں دیکھا، ان میں سے ایک بھی تو لوٹ کر خبر دینے نہیں آیا۔ ماں باپ بیچارے اس سے تنگ آ کر جناب باری سے اس کی ہدایت چاہتے ہیں، اس بارگاہ میں اپنی فریاد پہنچاتے ہیں اور پھر اس سے کہتے ہیں کہ بدنصیب ابھی کچھ نہیں بگڑا اب بھی مسلمان بن جا لیکن یہ مغرور پھر جواب دیتا ہے کہ جسے تم ماننے کو کہتے ہو، میں تو اسے ایک دیرینہ قصہ سے زیادہ وقعت کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ اپنے جیسے گزشتہ جنات اور انسانوں کے زمرے میں داخل ہو گئے جنہوں نے خود اپنا نقصان بھی کیا اور اپنے والوں کو بھی برباد کیا۔
اللہ تعالیٰ کے فرمان میں یہاں لفظ «اولئک» ہے حالانکہ اس سے پہلے لفظ «والذی» ہے اس سے بھی ہماری تفسیر کی پوری تائید ہوتی ہے کہ مراد اس سے عام ہے جو بھی ایسا ہو یعنی ماں باپ کا بے ادب اور قیامت کا منکر اس کے لیے یہی حکم ہے چنانچہ حسن اور قتادہ رحمہا اللہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ اس سے مراد کافر فاجر، ماں باپ کا نافرمان اور مر کر جی اٹھنے کا منکر ہے۔ [ضعیف] ابن عساکر کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ چار شخصوں پر اللہ عزوجل نے اپنے عرش پر سے لعنت کی ہے اور اس پر فرشتوں نے آمین کہی ہے جو کسی مسکین کو بہکائے اور کہے کہ آؤ تجھے کچھ دوں گا اور جب وہ آئے تو کہہ دے کہ میرے پاس تو کچھ نہیں اور جو «ماعون» سے کہے سب حاضر ہے حالانکہ اس کے آگے کچھ نہ ہو۔ اور وہ لوگ جو کسی کو اس کے اس سوال کے جواب میں فلاں کا مکان کون سا ہے؟ کسی دوسرے کا مکان بتا دیں اور وہ جو اپنے ماں باپ کو مارے یہاں تک کہ تنگ آ جائیں اور چیخ و پکار کرنے لگیں۔
18۔ 1 جو پہلے اللہ کے علم میں تھا، یا شیطان کے جواب میں جو اللہ نے فرمایا تھا (لَاَمْلَــــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِيْنَ) 38۔ ص:85)۔ 18۔ 2 یعنی یہ بھی ان کافروں میں شامل ہوگئے جو انسانوں اور جنوں میں سے قیامت والے دن نقصان اٹھانے والے ہونگے۔
(آیت 18) ➊ { اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ:} یعنی والدین کے گستاخ اور آخرت کے منکر ہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی بات ثابت ہو چکی، جو اس نے پہلے فرما دی تھی: «لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِيْنَ» [ ھود:۱۱۹] ”کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے ضرور ہی بھروں گا۔“ مزید دیکھیے سورۂ اعراف (۱۸)۔ ➋ { فِيْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ:} یعنی جنوں اور انسانوں کے ان گروہوں میں شامل ہو کر جو اہلِ جہنم میں سے ان سے پہلے گزرے۔ ان بدترین لوگوں کا ساتھ خود بدترین سزا ہے۔ ➌ { اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِيْنَ: ”إِنَّ“} تعلیل کے لیے ہے، یعنی ان کا یہ انجام اس لیے ہوا کہ انھیں جو سرمایۂ حیات دنیا میں آخرت کی تیاری کے لیے دیا گیا تھا انھوں نے اس سے نفع حاصل کرنے کے بجائے اصل راس المال بھی گنوا دیا اور یہی حقیقی خسارہ ہے جو انھوں نے اٹھایا۔
دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تاکہ اللہ ان کے کیے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کے مطابق درجے ملیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال کے پورے بدلے دے اور ان پر ﻇلم نہ کیا جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہر ایک کے لیے اپنے اپنے عمل کے درجے ہیں اور تاکہ اللہ ان کے کام انہیں پورے بھردے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہر ایک کیلئے ان کے اعمال کے مطابق درجے ہوں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ مل جائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہر ایک کے لیے الگ الگ درجے ہیں، ان اعمال کی وجہ سے جو انھوں نے کیے اور تاکہ اللہ انھیں ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ہر ایک کے لیے اس کی برائی کے مطابق سزا ہے، اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بلکہ اس سے بھی کم کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں جہنم کے درجے نیچے ہیں اور جنت کے درجے اونچے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:288/11] پھر فرماتا ہے کہ جب جہنمی جہنم پر لا کھڑے کئے جائیں گے انہیں بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ تم اپنی نیکیاں دنیا میں ہی وصول کر چکے ان سے فائدہ وہیں اٹھا لیا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بہت زیادہ مرغوب اور لطیف غذا سے اسی آیت کو پیش نظر رکھ کر اجتناب کر لیا تھا اور فرماتے تھے مجھے خوف ہے کہیں میں بھی ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤں جنہیں اللہ تعالیٰ ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ یہ فرمائے گا۔ ابو مجلز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو دنیا میں کی ہوئی اپنی نیکیاں قیامت کے دن گم پائیں گے اور ان سے یہی کہا جائے گا۔ پھر فرماتا ہے آج انہیں ذلت کے عذابوں کی سزا دی جائے گی ان کے تکبر اور ان کے فسق کی وجہ سے۔ جیسا عمل ویسا ہی بدلہ ملا۔ دنیا میں یہ ناز و نعمت سے اپنی جانوں کو پالنے والے اور نخوت و بڑائی سے اتباع حق کو چھوڑنے والے اور برائیوں اور نافرمانیوں میں ہمہ تن مشغول رہنے والے تھے، تو آج قیامت کے دن انہیں اہانت اور رسوائی والے عذاب اور سخت درد ناک سزائیں اور ہائے وائے اور افسوس و حسرت کے ساتھ جہنم کے نیچے کے طبقوں میں جگہ ملے گی اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں ان سب باتوں سے محفوظ رکھے۔
19۔ 1 مومن اور کافر دونوں کا ان کے عملوں کے مطابق اللہ کے ہاں مرتبہ ہوگا مومن مراتب عالیہ سے سرفراز ہوں گے اور کافر جہنم کے پست ترین درجوں میں ہوں گے۔ 19۔ 1 گنہگار کو اس کے جرم سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی اور نیکوکار کے صلے میں کمی نہیں ہوگی۔ بلکہ ہر ایک کو خیر یا شر میں سے وہی ملے گا جس کا وہ مستحق ہوگا۔
(آیت 19) {وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا …:} اس آیت سے پہلے مضمون کی تاکید مقصود ہے، یعنی ہر ایک کو، وہ مومن ہو یا کافر، اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا ملے گی۔ یہ نہیں ہو گا کہ بروں پر ایسے گناہ لاد دیے جائیں جو انھوں نے نہ کیے ہوں، یا نیکوں کو ان کی نیکی سے محروم کر دیا جائے۔ واضح رہے یہاں مومن و کافر سب کے لیے {” دَرَجٰتٌ “} کا لفظ تغلیباً استعمال ہوا ہے، ورنہ تو اصل میں منازلِ جنت کو ”درجات“ اور منازلِ جہنم کو ”درکات“ کہا جاتا ہے، جس طرح منافقوں کے بارے میں {” فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ “} آیا ہے۔ (روح المعانی)
پھر جب یہ کافر آگ کے سامنے لا کھڑے کیے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا: "تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کر چکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا، اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں اُن کی پاداش میں آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جس دن کافر جہنم کے سرے پر ﻻئے جائیں گے (کہا جائے گا) تم نے اپنی نیکیاں دنیا کی زندگی میں ہی برباد کر دیں اور ان سے فائدے اٹھا چکے، پس آج تمہیں ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی، اس باعﺚ کہ تم زمین میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے اور اس باعﺚ بھی کہ تم حکم عدولی کیا کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور ان پر ظلم نہ ہوگا، اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں گے، ان سے فرمایا جائے گا تم اپنے حصہ کی پاک چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کرچکے اور انہیں برت چکے تو آج تمہیں ذلت کا عذاب بدلہ دیا جائے گا سزا اس کی کہ تم زمین میں ناحق تکبر کرتے تھے اور سزا اس کی کہ حکم عدولی کرتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جس دن کافروں کو دوزخ کے سامنے لایا جائے گا (تو ان سے کہا جائے گا کہ) تم اپنے حصے کی نعمتیں دنیاوی زندگی میںلے چکے اور ان سے فائدہ اٹھا چکے آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا بوجہ اس کے کہ تم زمین میں ناحق تکبر کرتے تھے اور نافرمانیاں کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جس دن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، آگ پر پیش کیے جائیں گے، تم اپنی نیکیاں اپنی دنیا کی زندگی میں لے جا چکے اور تم ان سے فائدہ اٹھا چکے، سو آج تمھیں ذلت کے عذاب کا بدلہ دیا جائے گا، اس لیے کہ تم زمین میں کسی حق کے بغیر تکبر کرتے تھے اور اس لیے کہ تم نافرمانی کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ہر ایک کے لیے اس کی برائی کے مطابق سزا ہے، اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بلکہ اس سے بھی کم کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں جہنم کے درجے نیچے ہیں اور جنت کے درجے اونچے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:288/11] پھر فرماتا ہے کہ جب جہنمی جہنم پر لا کھڑے کئے جائیں گے انہیں بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ تم اپنی نیکیاں دنیا میں ہی وصول کر چکے ان سے فائدہ وہیں اٹھا لیا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بہت زیادہ مرغوب اور لطیف غذا سے اسی آیت کو پیش نظر رکھ کر اجتناب کر لیا تھا اور فرماتے تھے مجھے خوف ہے کہیں میں بھی ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤں جنہیں اللہ تعالیٰ ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ یہ فرمائے گا۔ ابو مجلز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو دنیا میں کی ہوئی اپنی نیکیاں قیامت کے دن گم پائیں گے اور ان سے یہی کہا جائے گا۔ پھر فرماتا ہے آج انہیں ذلت کے عذابوں کی سزا دی جائے گی ان کے تکبر اور ان کے فسق کی وجہ سے۔ جیسا عمل ویسا ہی بدلہ ملا۔ دنیا میں یہ ناز و نعمت سے اپنی جانوں کو پالنے والے اور نخوت و بڑائی سے اتباع حق کو چھوڑنے والے اور برائیوں اور نافرمانیوں میں ہمہ تن مشغول رہنے والے تھے، تو آج قیامت کے دن انہیں اہانت اور رسوائی والے عذاب اور سخت درد ناک سزائیں اور ہائے وائے اور افسوس و حسرت کے ساتھ جہنم کے نیچے کے طبقوں میں جگہ ملے گی اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں ان سب باتوں سے محفوظ رکھے۔
20۔ 1 یعنی اس وقت کو یاد کرو جب کافروں کی آنکھوں سے پردے ہٹا دیئے جائیں گے اور وہ جہنم کی آگ دیکھ رہے یا اس کے قریب ہوں گے بعض نے یعرضون کے معنی یعذبون کے کیے ہیں اور بعض کہتے ہیں کلام میں قلب ہے مطلب ہے جب آگ ان پر پیش کی جائے گی تعرض النار علیھم (فتح القدیر) 20۔ 2 طیبات سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو انسان ذوق وشوق سے کھاتے پیتے اور استعمال کرتے اور لذت و فرحت محسوس کرتے لیکن آخرت کی فکر کے ساتھ ان کا استعمال ہو تو بات اور ہے جیسے مومن کرتا ہے وہ اس کے ساتھ ساتھ احکام الہی کی اطاعت کر کے شکر الہی کا بھی اہتمام کرتا رہتا ہے لیکن فکر آخرت سے بےنیازی کے ساتھ ان کا استعمال انسان کو سرکش اور باغی بنا دیتا ہے جیسے کافر کرتا ہے اور یوں وہ اللہ کی ناشکری کرتا ہے چناچہ مومن کو تو اس کے شکر و اطاعت کی وجہ سے یہ نعمتیں بلکہ ان سے بدرجہا بہتر نعمتیں آخرت میں پھر مل جائیں گی۔ 20۔ 3 ان کے عذاب کے دو سبب بیان فرمائے، ناحق تکبر، جس کی بنیاد پر انسان حق کا اتباع کرنے سے گریز کرتا ہے اور دوسرا فسق۔ بےخوفی کے ساتھ معاصی کا ارتکاب یہ دونوں باتیں تمام کافروں میں مشترکہ ہوتی ہیں۔ اہل ایمان کو ان دونوں باتوں سے اپنا دامن بچانا چاہیئے۔
(آیت 20) ➊ {وَ يَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ:} پچھلی آیات سے اس کا ربط دو طرح سے ہے، ایک یہ کہ والدین سے بدسلوکی کرنے والے قیامت کے منکر کے انجام کے ذکر کے بعد تمام کفار کا انجام بیان فرمایا۔ دوسرا یہ کہ پچھلی آیت میں ذکر ہوا کہ مومن ہوں یا کافر سب کو ان کے اعمال کے مطابق جزا ملے گی اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا، تو اب اس سوال کا جواب دیا کہ کفار دنیا میں جو نیکیاں کرتے رہے ان کا کیا بنے گا؟ کم از کم ان کا بدلا تو ضرور ملنا چاہیے، اگر انھیں ان کی جزا نہ دی گئی تو یہ ظلم ہے۔ فرمایا اس وقت کو یاد کرو جب وہ لوگ جنھوں نے حق قبول کرنے سے انکار کیا، آگ پر پیش کیے جائیں گے۔ ➋ { اَذْهَبْتُمْ طَيِّبٰتِكُمْ فِيْ حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا:} کفار چونکہ اپنے تکبر اور فسق کی وجہ سے ایمان قبول کرنے اور اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا پابند کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور نہ ہی آخرت ان کا مقصود ہوتی ہے، اس لیے انھیں ان کے نیک اعمال کا بدلا دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے۔ ان میں سے جو اعمال انھوں نے دنیا کے کسی مفاد مثلاً شہرت وغیرہ کے لیے کیے تھے ان کا تو آخرت سے کوئی تعلق ہی نہیں، البتہ جو اعمال انھوں نے اللہ کے لیے کیے ہوتے ہیں ان کا بدلا بھی انھیں یہیں دنیا میں دے دیا جاتا ہے، جو اور کچھ نہ ہو تو اتنا ہی بہت زیادہ ہے کہ ان کے کفر و شرک پر فوری گرفت نہیں ہوتی، بلکہ انھیں مہلت دی جاتی ہے اور اس کے ساتھ یہ کہ انھیں دنیا کی کئی نعمتیں بھی دی جاتی ہیں۔ (دیکھیے ہود: ۱۵، ۱۶) انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مُؤْمِنًا حَسَنَةً، يُعْطٰی بِهَا فِي الدُّنْيَا وَيُجْزٰی بِهَا فِی الْآخِرَةِ، وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِ مَا عَمِلَ بِهَا لِلّٰهِ فِي الدُّنْيَا حَتّٰی إِذَا أَفْضٰی إِلَی الْآخِرَةِ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُّجْزٰی بِهَا ] [مسلم، صفات المنافقین، باب جزاء المؤمن بحسناتہ في الدنیا والآخرۃ…: ۲۸۰۸ ] ”اللہ تعالیٰ کسی مومن کی کسی ایک نیکی میں بھی کمی نہیں کرے گا، اسے اس کے عوض دنیا میں بھی دیا جائے گا اور آخرت میں بھی اس کی جزا دی جائے گی۔ رہا کافر تو اسے ان نیکیوں کے عوض جو اس نے اللہ کے لیے کی ہوتی ہیں دنیا میں کھلایا جاتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کے پاس کوئی نیکی نہیں ہو گی جس کی اسے جزا دی جائے۔“ ➌ { فَالْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ …:} اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا اس نیکی یا بدی کی مناسبت سے دی جائے گی، جیسا کہ روزہ داروں کے لیے ”باب الریان“ سے داخلہ ہو گا۔ تو کفار کو ذلیل کرنے والا عذاب اس تکبر کی مناسبت سے ہو گا جو انھوں نے کیا، وہ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے تھے، ان کی عزت انھیں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے کی اجازت نہیں دیتی تھی، لا محالہ انھیں ایسا عذاب دیا جائے گا جو ان کے تکبر کا بدلا ہو۔ قیامت کے بعض مواقع میں ان کی ذلت کا نقشہ اس حدیث میں بیان ہوا جو عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما نے بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يُحْشَرُ الْمُتَكَبِّرُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمْثَالَ الذَّرِّ فِيْ صُوَرِ الرِّجَالِ يَغْشَاهُمُ الذُّلُّ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَيُسَاقُوْنَ إِلٰی سِجْنٍ فِيْ جَهَنَّمَ يُسَمّٰی بُوْلَسَ تَعْلُوْهُمْ نَارُ الْأَنْيَارِ يُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ طِيْنَةِ الْخَبَالِ ] [ ترمذي، صفۃ القیامۃ، باب ما جاء في شدۃ الوعید للمتکبرین: ۲۴۹۲، قال الألباني حسن ] ”متکبر لوگ قیامت کے دن آدمیوں کی شکل میں چیونٹیوں کی طرح اٹھائے جائیں گے، ہر جگہ سے ذلت انھیں ڈھانپ رہی ہو گی۔ پھر انھیں ہانک کر جہنم کے ایک قید خانے کی طرف لے جایا جائے گا جس کا نام ”بولس“ ہے۔ ان پر آگوں کی آگ چڑھ رہی ہو گی، انھیں جہنمیوں کا نچوڑ پلایا جائے گا، جو تباہ کن کیچڑ ہو گا۔“ رہی یہ بات کہ تکبر کیا ہے؟ تو اس کی تفصیل عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِيْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ، قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَكُوْنَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنَةً، قَالَ إِنَّ اللّٰهَ جَمِيْلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ ] [ مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ: ۹۱ ] ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں ذرّہ برابر تکبر ہو گا۔“ ایک آدمی نے کہا: ”آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کا جوتا اچھا ہو (تو کیا یہ تکبر ہے)؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ جمیل ہے، جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر تو حق کو ٹھکرا دینے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔“ ➍ { تَسْتَكْبِرُوْنَ فِي الْاَرْضِ:} ”تم زمین میں بڑے بنتے تھے“ اگرچہ بڑائی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا حق نہیں خواہ وہ زمین میں ہو یا آسمانوں میں، مگر زمین کے رہنے والوں کو تو بدرجہ اولیٰ اپنی حیثیت مدنظر رکھنی چاہیے۔ پستی کے مکین کو بلندی کی ہوس کسی طرح بھی زیب نہیں دیتی، فرمایا: «وَ لَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا» [ بني إسرائیل: ۳۷ ] ”اور زمین میں اکڑ کر نہ چل، بے شک تو نہ کبھی زمین کو پھاڑے گا اور نہ کبھی لمبائی میں پہاڑوں تک پہنچے گا۔“ ➎ { بِغَيْرِ الْحَقِّ:} اس کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ اس کی صراحت اس لیے فرمائی کہ تکبر اللہ کے سوا کسی کا حق ہے ہی نہیں، جو بھی تکبر کرتا ہے ناحق کرتا ہے۔ دوسرا یہ کہ ناحق تکبر حرام ہے، جس کا ذکر اوپر گزرا، البتہ جہاد فی سبیل اللہ کرتے ہوئے کفار کے مقابلے میں تکبر حق ہے اور اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ ➏ { وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ:} استکبار سے مراد ایمان سے انکار اور فسق سے مراد دوسرے گناہ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ذلت کے عذاب کے دو سبب ہوں گے، ایک زمین میں ناحق تکبر، یعنی ایمان لانے سے انکار اور دوسرا فسق، یعنی معاصی اور نافرمانیاں اور یہ دونوں کفار کا شیوہ ہیں، مسلمانوں کو اس سے پناہ مانگنی چاہیے۔ ➐ واضح رہے کہ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے لکھا ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کو دنیا کی نعمتیں کم از کم استعمال کرنی چاہییں، تاکہ اس کی آخرت کی نعمتوں میں کمی نہ ہو اور یہاں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ کے زہد اور سادہ زندگی اور دنیا کی لذتوں سے اجتناب کے واقعات لکھے ہیں۔ مگر حق یہ ہے کہ یہ آیت مسلمانوں کے بارے میں ہے ہی نہیں، اس کا تعلق کفار سے ہے۔ کفار کے لیے صرف دنیا کی نعمتیں ہیں جبکہ ایمان والوں کے لیے دنیا اور آخرت دونوں کی نعمتیں ہیں، جیسا کہ فرمایا: «قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَةَ اللّٰهِ الَّتِيْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّيِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِيَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ» [ الأعراف: ۳۲ ] ”تو کہہ کس نے حرام کی اللہ کی زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی اور کھانے پینے کی پاکیزہ چیزیں؟ کہہ دے یہ چیزیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں (بھی) ہیں، جبکہ قیامت کے دن (ان کے لیے) خالص ہوں گی۔“ مومن کو اس کی نیکیوں کا بدلا دنیا اور آخرت دونوں جگہ ملتا ہے، جیسا کہ اس آیت کے فائدہ (۲) میں حدیث گزری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا دنیا کی لذتوں سے اجتناب اس آیت کی بنا پر نہ تھا، کیونکہ یہ کفار کے لیے ہے، ان کا اجتناب اس لیے تھا کہ وہ دنیا کی لذتوں میں منہمک ہو کر آخرت سے غافل نہ ہو جائیں اور اس صبر و زہد پر انھیں زیادہ ثواب حاصل ہو۔ (خلاصہ اضواء البیان)
ذرا اِنہیں عاد کے بھائی (ہودؑ) کا قصہ سناؤ جبکہ اُس نے احقاف میں اپنی قوم کو خبردار کیا تھا اور ایسے خبردار کرنے والے اُس سے پہلے بھی گزر چکے تھے اور اس کے بعد بھی آتے رہے کہ "اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور عاد کے بھائی کو یاد کرو، جبکہ اس نے اپنی قوم کو احقاف میں ڈرایا اور یقیناً اس سے پہلے بھی ڈرانے والے گزر چکے ہیں اور اس کے بعد بھی یہ کہ تم سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کی عبادت نہ کرو، بیشک میں تم پر بڑے دن کے عذاب سے خوف کھاتا ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور یاد کرو عاد کے ہم قوم کو جب اس نے ان کو سرزمینِ احقاف میں ڈرایا اور بیشک اس سے پہلے ڈر سنانے والے گزر چکے اور اس کے بعد آئے کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پُوجو، بیشک مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) قومِ عاد کے بھائی (جنابِ ہود(ع)) کاذکر کیجئے جبکہ انہوں نے اپنی قوم کو مقامِ احقاف (ریت کے ٹیلوں والی بستی) میں ڈرایا تھا جبکہ بہت سے ڈرانے والے ان سے پہلے بھی گزر چکے اوران کے بعد بھی (جنابِ ہود(ع) نے کہا کہ) اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو (ورنہ) مجھے تمہارے بارے میں ایک بڑے (ہولناک) دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور عاد کے بھائی کو یاد کر جب اس نے اپنی قوم کو احقاف میں ڈرایا، جب کہ اس سے پہلے اور اس کے بعد کئی ڈرانے والے گزر چکے کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، بے شک میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم عاد کی تباہی کے اسباب ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے تو آپ اگلے انبیاء کے واقعات یاد کر لیجئے کہ ان کی قوم نے بھی ان کی تکذیب کی عادیوں کے بھائی سے مراد ہود پیغمبر ہیں علیہ السلام والصلوۃ۔ انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے عاد اولیٰ کی طرف بھیجا تھا جو «احقاف» میں رہتے تھے «احقاف» جمع ہے «حقف» کی اور «حقف» کہتے ہیں ریت کے پہاڑ کو۔ مطلق پہاڑ اور غار اور حضر موت کی وادی جس کا نام برہوت ہے جہاں کفار کی روحیں ڈالی جاتی ہیں یہ مطلب بھی «احقاف» کا بیان کیا گیا ہے قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ یمن میں سمندر کے کنارے ریت کے ٹیلوں میں ایک جگہ تھی جس کا نام شحر تھا یہاں یہ لوگ آباد تھے، [تفسیر ابن جریر الطبری:291/11] امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے کہ { جب دعا مانگے تو اپنے نفس سے شروع کرے اس میں ایک حدیث لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہم پر اور عادیوں کے بھائی پر رحم کرے“ }۔ [سنن ابن ماجہ:3852،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر فرماتا ہے کہ اللہ عزوجل نے ان کے اردگرد کے شہروں میں بھی اپنے رسول علیہم السلام مبعوث فرمائے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَجَــعَلْنٰھَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ» ۔ [2-البقرة:66] اور جیسے اللہ جل وعلا کا فرمان ہے «فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِّثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ إِذْ جَاءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّـهَ قَالُوا لَوْ شَاءَ رَبُّنَا لَأَنزَلَ مَلَائِكَةً فَإِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ كَافِرُونَ» ۔ [41-فصلت:14،13]
پھر فرماتا ہے کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم موحد بن جاؤ ورنہ تمہیں اس بڑے بھاری دن میں عذاب ہو گا۔ جس پر قوم نے کہا: کیا تو ہمیں ہمارے معبودوں سے روک رہا ہے؟ جا جس عذاب سے تو ہمیں ڈرا رہا ہے وہ لے آ۔ یہ تو اپنے ذہن میں اسے محال جانتے تھے تو جرات کر کے جلد طلب کیا۔ جیسے کہ اور آیت میں ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا» [42-الشورى:18] یعنی ایمان نہ لانے والے ہمارے عذابوں کے جلد آنے کی خواہش کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں ان کے پیغمبر نے کہا کہ اللہ ہی کو بہتر علم ہے اگر وہ تمہیں اسی لائق جانے گا تو تم پر عذاب بھیج دے گا۔ میرا منصب تو صرف اتنا ہی ہے کہ میں اپنے رب کی رسالت تمہیں پہنچا دوں لیکن میں جانتا ہوں کہ تم بالکل بےعقل اور بیوقوف لوگ ہو، اب اللہ کا عذاب آ گیا انہوں نے دیکھا کہ ایک کالا ابر ان کی طرف بڑھتا چلا آ رہا ہے چونکہ خشک سالی تھی، گرمی سخت تھی، یہ خوشیاں منانے لگے کہ اچھا ہوا ابر چڑھا ہے اور اسی طرف رخ ہے، اب بارش برسے گی۔ دراصل ابر کی صورت میں یہ وہ قہر الٰہی تھا جس کے آنے کی وہ جلدی مچا رہے تھے، اس میں وہ عذاب تھا، جسے ہود علیہ السلام سے یہ طلب کر رہے تھے وہ عذاب ان کی بستیوں کی تمام ان چیزوں کو بھی جن کی بربادی ہونے والی تھی تہس نہس کرتا ہوا آیا اور اسی کا اسے حکم تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ اَتَتْ عَلَيْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيْمِ» [51-الذاريات:42] یعنی جس چیز پر وہ گزر جاتی تھی اسے چورا چورا کر دیتی تھی، پس سب کے سب ہلاک و تباہ ہو گئے ایک بھی نہ بچ سکا۔ پھر فرماتا ہے ہم اسی طرح ان کا فیصلہ کرتے ہیں جو ہمارے رسولوں کو جھٹلائیں اور ہمارے احکام کی خلاف ورزی کریں ایک بہت ہی غریب حدیث میں ان کا جو قصہ آیا ہے وہ بھی سن لیجئے۔
{ سیدنا حارث بکری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں سیدنا علا بن حضرمی رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا رہا تھا۔ ربذہ میں مجھے بنو تمیم کی ایک بڑھیا ملی جس کے پاس سواری وغیرہ نہ تھی، مجھ سے کہنے لگی، اے اللہ کے بندے! میرا ایک کام اللہ کے رسول سے ہے، کیا تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دے گا؟ میں نے اقرار کیا اور انہیں اپنی سواری پر بٹھا لیا اور مدینہ شریف پہنچا میں نے دیکھا کہ مسجد نبوی لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہے، سیاہ رنگ جھنڈا لہرا رہا ہے اور بلال تلوار لٹکائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہیں میں نے دریافت کیا کہ کیا بات ہے؟ تو لوگوں نے مجھ سے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو کسی طرف بھیجنا چاہتے ہیں میں ایک طرف بیٹھ گیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل یا اپنے خیمے میں تشریف لے گئے تو میں بھی گیا اجازت طلب کی اور اجازت ملنے پر آپ کی خدمت میں باریاب ہوا۔ سلام علیک کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے اور بنو تمیم کے درمیان کچھ رنجش تھی؟ میں نے کہا: ہاں اور ہم ان پر غالب رہے تھے اور اب میرے اس سفر میں بنو تمیم کی ایک نادار بڑھیا راستے میں مجھے ملی اور یہ خواہش ظاہر کی کہ میں اسے اپنے ساتھ آپ کی خدمت میں پہنچاؤں چنانچہ میں اسے اپنے ساتھ لایا ہوں اور وہ دروازہ پر منتظر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بھی اندر بلا لو“، چنانچہ وہ آ گئیں میں نے کہا: یا رسول اللہ! اگر آپ ہم میں اور بنو تمیم میں کوئی روک کر سکتے ہیں تو اسے کر دیجئیے، اس پر بڑھیا کو حمیت لاحق ہوئی اور وہ بھرائی ہوئی آواز میں بول اٹھی کہ پھر یا رسول اللہ! آپ کا مضطر کہاں قرار کرے گا؟ میں نے کہا: سبحان اللہ میری تو وہی مثل ہوئی کہ ”اپنے پاؤں میں آپ ہی کلہاڑی ماری“ مجھے کیا خبر تھی کہ یہ میری ہی دشمنی کرے گی؟ ورنہ میں اسے لاتا ہی کیوں؟ اللہ کی پناہ، واللہ! کہیں ایسا نہ ہو کہ میں بھی مثل عادیوں کے قاصد کے ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ عادیوں کے قاصد کا واقعہ کیا ہے؟ باوجود یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس واقعہ سے بہ نسبت میرے بہت زیادہ واقف تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر میں نے وہ قصہ بیان کیا کہ عادیوں کی بستیوں میں جب سخت قحط سالی ہوئی تو انہوں نے اپنا ایک قاصد قیل نامی روانہ کیا، یہ راستے میں معاویہ بن بکر کے ہاں آ کر ٹھہرا اور شراب پینے لگا اور اس کی دونوں کنیزوں کا گانا سننے میں جن کا نام جرادہ تھا اس قدر مشغول ہوا کہ مہینہ بھر تک یہیں پڑا رہا پھر چلا اور جبال مہرہ میں جا کر اس نے دعا کی کہ اللہ تو خوب جانتا ہے میں کسی مریض کی دوا کے لیے یا کسی قیدی کا فدیہ ادا کرنے کے لیے تو آیا نہیں الٰہی عادیوں کو وہ پلا جو تو انہیں پلانے والا ہے۔ چنانچہ چند سیاہ رنگ بادل اٹھے اور ان میں سے ایک آواز آئی کہ ان میں سے جسے تو چاہے پسند کر لے چنانچہ اس نے سخت سیاہ بادل کو پسند کر لیا اسی وقت ان میں سے ایک آواز آئی کہ اسے راکھ اور خاک بنانے والا کر دے تاکہ عادیوں میں سے کوئی باقی نہ رہے۔ کہا اور مجھے جہاں تک علم ہوا ہے یہی ہے کہ ہواؤں کے مخزن میں سے صرف پہلے ہی سوراخ سے ہوا چھوڑی گئی تھی جیسے میری اس انگوٹھی کا حلقہ اسی سے سب ہلاک ہو گئے۔ ابووائل کہتے ہیں یہ بالکل ٹھیک نقل ہے عرب میں دستور تھا کہ جب کسی قاصد کو بھیجتے تو کہہ دیتے کہ عادیوں کے قاصد کی طرح نہ کرنا }۔ [مسند احمد:482/3:حسن] یہ روایت ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔
جیسے کہ سورۃ الاعراف کی تفسیر میں گزرا مسند احمد میں ہے کہ { سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کھل کھلا کر اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کے مسوڑھے نظر آئیں۔ آپ صرف تبسم فرمایا کرتے تھے اور جب ابر اٹھتا اور آندھی چلتی تو آپ کے چہرے سے فکر کے آثار نمودار ہو جاتے۔ چنانچہ ایک روز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! لوگ تو ابروباد کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ اب بارش برسے گی لیکن آپ کی اس کے بالکل برعکس حالت ہو جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ میں اس بات سے کہ کہیں اس میں عذاب ہو کیسے مطمئن ہو جاؤں؟ ایک قوم ہوا ہی سے ہلاک کی گئی ایک قوم نے عذاب کے بادل کو دیکھ کہا تھا کہ یہ ابر ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔“ صحیح بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے }۔ [صحیح بخاری:4828] مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی آسمان کے کسی کنارے سے ابر اٹھتا ہوا دیکھتے تو اپنے تمام کام چھوڑ دیتے اگرچہ نماز میں ہوں اور یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَآ فِیہ» اللہ میں تجھ سے اس برائی سے پناہ چاہتا ہوں جو اس میں ہے، پس اگر یہ کھل جاتا تو اللہ عزوجل کی حمد کرتے اور اگر برس جاتا تو یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ صَیِّباً نَّافِعًا» اے اللہ! اسے نفع دینے والا اور برسنے والا بنا دے }۔ [مسند احمد:190/6:صحیح]
صحیح مسلم میں روایت ہے کہ { جب ہوائیں چلتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرِهَا وَخَيْرِ مَا فِیھَا وَخَيْرَ مآ اَرسَلتَ بِہِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرّ مَآ فِیھَا وَشَرِ مَآ اَرسَلتَ بِہِ» یا اللہ! میں تجھ سے اس کی اور اس میں جو ہے اس کی اور جس کو یہ ساتھ لے کر آئی ہے اس کی بھلائی طلب کرتا ہوں اور تجھ سے اس کی اور اس میں جو ہے اس کی اور جس چیز کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے اس کی برائی سے پناہ چاہتا ہوں۔ اور جب ابر اٹھتا تو آپ کا رنگ متغیر ہو جاتا، کبھی اندر، کبھی باہر آتے کبھی جاتے۔ جب بارش ہو جاتی تو آپ کی یہ فکرمندی دور ہو جاتی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے سمجھ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ عائشہ خوف اس بات کا ہوتا ہے کہ کہیں یہ اسی طرح نہ ہو جس طرح قوم ہود نے اپنی طرف بادل بڑھتا دیکھ کر خوشی سے کہا تھا کہ یہ ابر ہمیں سیراب کرے گا }۔ [صحیح مسلم:899,15] سورۃ الاعراف میں عادیوں کی ہلاکت کا اور ہود کا پورا واقعہ گزر چکا ہے اس لیے ہم اسے یہاں نہیں دوہراتے «فللہ الحمد والمنہ» طبرانی کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { عادیوں پر اتنی ہی ہوا کھولی گئی تھی جتنا انگوٹھی کا حلقہ ہوتا ہے، یہ ہوا پہلے دیہات والوں اور بادیہ نشینوں پر آئی وہاں سے شہری لوگوں پر آئی جسے دیکھ کر یہ کہنے لگے کہ یہ ابر جو ہماری طرف بڑھا چلا آ رہا ہے یہ ضرور ہم پر بارش برسائے گا لیکن اس میں جنگلی لوگ تھے جو ان شہریوں پر گرا دئیے گئے اور سب ہلاک ہو گئے، ہوا کے خزانچیوں پر ہوا کی سرکشی اس وقت اتنی تھی کہ دروازوں کے سوراخوں سے وہ نکلی جا رہی تھی }۔ [طبرانی کبیر:12416:ضعیف] «واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم»
21۔ 1 احقاف حقف کی جمع ہے ریت کا بلند مستطیل ٹیلہ بعض نے اس کے معنی پہاڑ اور غار کے کیے ہیں یہ حضرت ہود ؑ کی قوم عاد اولی کے علاقے کا نام ہے جو حضرموت (یمن) کے قریب تھا کفار کہ کی تکذیب کے پیش نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے گزشتہ انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ 21۔ 2 یوم عظیم سے مراد قیامت کا دن ہے، جسے اس کی ہولناکیوں کی وجہ سے بجا طور پر بڑا دن کہا گیا ہے۔
(آیت 21) ➊ {وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ: ” اذْكُرْ “ ”ذِكْرٌ“} سے ہو تو مطلب یہ ہے کہ اپنی قوم کے سامنے اس کا ذکر کرو، تاکہ انھیں نصیحت ہو اور اگر {”ذُكْرٌ“} سے ہو تو مطلب یہ ہے کہ اسے یاد کرو، تاکہ تمھیں اس سے تسلی حاصل ہو۔ دونوں باتیں بیک وقت بھی مراد ہو سکتی ہیں، کیونکہ {” اذْكُرْ “} دونوں سے فعلِ امر ہے۔ قیامت کے دن تکبر کرنے والوں کا حال بیان کرنے کے بعد دنیا میں چند متکبر اقوام کا ذکر فرمایا، جن میں سے عاد کا ذکر کچھ تفصیل کے ساتھ اور دوسری اقوام کا حال آیت (۲۷): «وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى» میں اجمال کے ساتھ بیان فرمایا۔ عاد کے بھائی سے مراد ہود علیہ السلام ہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا» [ الأعراف: ۶۵ ] ”اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا)۔“ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۶۵) کی تفسیر۔ ہود علیہ السلام کو قومِ عاد کا بھائی اس لیے فرمایا کہ وہ ان کے ایک فرد تھے۔ عاد کا تفصیلی ذکر اس لیے فرمایا کہ عرب اقوام میں سے یہ پہلی قوم ہے جس کے پاس نوح علیہ السلام کی عام رسالت کے بعد کوئی رسول آیا۔ ہود اور صالح علیھما السلام کا زمانہ ابراہیم علیہ السلام سے پہلے کا ہے۔ سرداران قریش جو اپنی بڑائی کا زعم رکھتے تھے، انھیں قومِ عاد کا قصہ سنایا جو ان کی سرزمین کی سب سے طاقتور قوم تھی۔ ➋ {اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ: ”اَلْأَحْقَافُ“ ”حِقْفٌ“} کی جمع ہے، ریت کے بلند اور مستطیل ٹیلے کو {”حِقْفٌ“} کہتے ہیں، جو کچھ ٹیڑھا ہو۔ {”اِحْقَوْقَفَ الشَّيْءُ“} جب کوئی چیز ٹیڑھی ہو۔ یہاں ”احقاف “ سے مراد یمن کے مشرق میں حضر موت کا وہ علاقہ ہے جو عرب کے صحرائے اعظم (ربع خالی) کا حصہ ہے۔ ہود علیہ السلام کی قوم وہاں آباد تھی اور اس زمانے میں وہ نہایت زرخیز اور ترقی یافتہ علاقہ تھا، جس میں چشمے، باغات اور مال مویشی کثرت کے ساتھ موجود تھے، جیسا کہ سورۂ شعراء (۱۳۲ تا ۱۳۴) میں مذکور ہے۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بعد وہ علاقہ ایسا برباد ہوا کہ اب تک وہاں آبادی کا نام و نشان نہیں، ہر طرف ریگستان ہے اور ریت کے لمبے چوڑے ٹیلے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس علاقے کو ”احقاف“ اس کی موجودہ حالت کے اعتبار سے کہا گیا ہے۔ تفہیم القرآن میں ہے: ”احقاف کی موجودہ حالت دیکھ کر کوئی شخص یہ گمان بھی نہیں کر سکتا کہ کبھی یہاں ایک شاندار تمدن رکھنے والی ایک طاقتور قوم آباد ہو گی۔ اغلب یہ ہے کہ ہزاروں برس پہلے یہ ایک شاداب علاقہ ہو گا اور بعد میں آب و ہوا کی تبدیلی نے اسے ریگزار بنا دیا ہو گا۔ آج اس کی یہ حالت ہے کہ وہ ایک لق و دق ریگستان ہے، جس کے اندرونی حصوں میں جانے کی بھی کوئی ہمت نہیں رکھتا۔ ۱۸۴۳ء میں بویریا کا ایک فوجی آدمی اس کے جنوبی کنارے پر پہنچ گیا تھا، وہ کہتا ہے کہ حضر موت کی شمالی سطح مرتفع پر سے کھڑا ہو کر دیکھا جائے تو یہ صحرا ایک ہزار فٹ نشیب میں نظر آتا ہے، اس میں جگہ جگہ ایسے سفید خطے ہیں جن میں اگر کوئی چیز گر جائے تو ریت میں غرق ہوتی چلی جاتی ہے اور بالکل بوسیدہ ہو جاتی ہے۔ عرب کے بدو اس علاقے سے بہت ڈرتے ہیں اور کسی قیمت پر وہاں جانے پر راضی نہیں ہوتے۔ ایک موقع پر جب بدو اسے وہاں لے جانے پر راضی نہ ہوئے تو وہ اکیلا وہاں گیا۔ اس کا بیان ہے کہ یہاں کی ریت بالکل باریک سفوف کی طرح ہے، میں نے دور سے ایک شاقول اس میں پھینکا تو وہ پانچ منٹ کے اندر اس میں غرق ہو گیا اور اس رسی کا سرا گل گیا جس کے ساتھ وہ بندھا ہوا تھا۔ مفصل معلومات کے لیے ملاحظہ ہو: Arabia and the Isles by Harold Ingrams, London 1946 The Unveiling of Arabia. By Reginald Hugh kiernan, London 1937 ".The Empty Quarter By st john philby. London 1933 ➌ {وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ …:} اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ہود علیہ السلام سے پہلے بھی کئی ڈرانے والے گزرے اور ان کے بعد بھی اپنی اپنی قوم کو ڈرانے والے کئی پیغمبر گزر چکے، سب کی تعلیم یہی تھی کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ ڈرانے والوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ بشارت ماننے والوں کو دی جاتی ہے۔ اس سورت کی ابتدا بھی اسی بات سے ہوئی ہے، فرمایا: «وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ» [ الأحقاف: ۳ ] ”اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اس چیز سے جس سے وہ ڈرائے گئے، منہ پھیرنے والے ہیں۔“ ➍ { اِنِّيْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ: ” عَظِيْمٍ “ ” يَوْمٍ “} کی صفت ہے۔ اس عظیم دن سے مراد آخرت کا دن بھی ہو سکتا ہے اور دنیا میں آنے والے تباہ کن عذاب کا دن بھی، جو قومِ عاد پر آندھی کی صورت میں آیا۔ یوم (دن) کو ان عظیم واقعات کی وجہ سے عظیم کہا ہے جو اس میں واقع ہوں گے۔
انہوں نے کہا "کیا تو اِس لیے آیا ہے کہ ہمیں بہکا کر ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دے؟ اچھا تو لے آ اپنا وہ عذاب جس سے تو ہمیں ڈراتا ہے اگر واقعی تو سچا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
قوم نے جواب دیا، کیا آپ ہمارے پاس اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں اپنے معبودوں (کی پرستش) سے باز رکھیں؟ پس اگر آپ سچے ہیں تو جس عذاب کا آپ وعده کرتے ہیں اسے ہم پر ﻻ ڈالیں
احمد رضا خان بریلوی
بولے کیا تم اس لیے آئے کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے پھیر دو، تو ہم پر لاؤ جس کا ہمیں وعدہ دیتے ہو اگر تم سچے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
ان قوم والوں نے کہا کہ کیا تم اس لئے ہمارے پاس آئے ہو کہ ہمیں اپنے معبودوں سے منحرف کردو۔ لاؤ ہمارے پاس وہ (عذاب) جس کی دھمکی تم ہمیں دیتے ہواگر تم سچے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے ہٹا دے، سو ہم پر وہ( عذاب) لے آ جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے، اگر تو سچوں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم عاد کی تباہی کے اسباب ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے تو آپ اگلے انبیاء کے واقعات یاد کر لیجئے کہ ان کی قوم نے بھی ان کی تکذیب کی عادیوں کے بھائی سے مراد ہود پیغمبر ہیں علیہ السلام والصلوۃ۔ انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے عاد اولیٰ کی طرف بھیجا تھا جو «احقاف» میں رہتے تھے «احقاف» جمع ہے «حقف» کی اور «حقف» کہتے ہیں ریت کے پہاڑ کو۔ مطلق پہاڑ اور غار اور حضر موت کی وادی جس کا نام برہوت ہے جہاں کفار کی روحیں ڈالی جاتی ہیں یہ مطلب بھی «احقاف» کا بیان کیا گیا ہے قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ یمن میں سمندر کے کنارے ریت کے ٹیلوں میں ایک جگہ تھی جس کا نام شحر تھا یہاں یہ لوگ آباد تھے، [تفسیر ابن جریر الطبری:291/11] امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے کہ { جب دعا مانگے تو اپنے نفس سے شروع کرے اس میں ایک حدیث لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہم پر اور عادیوں کے بھائی پر رحم کرے“ }۔ [سنن ابن ماجہ:3852،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر فرماتا ہے کہ اللہ عزوجل نے ان کے اردگرد کے شہروں میں بھی اپنے رسول علیہم السلام مبعوث فرمائے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَجَــعَلْنٰھَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ» ۔ [2-البقرة:66] اور جیسے اللہ جل وعلا کا فرمان ہے «فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِّثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ إِذْ جَاءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّـهَ قَالُوا لَوْ شَاءَ رَبُّنَا لَأَنزَلَ مَلَائِكَةً فَإِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ كَافِرُونَ» ۔ [41-فصلت:14،13]
پھر فرماتا ہے کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم موحد بن جاؤ ورنہ تمہیں اس بڑے بھاری دن میں عذاب ہو گا۔ جس پر قوم نے کہا: کیا تو ہمیں ہمارے معبودوں سے روک رہا ہے؟ جا جس عذاب سے تو ہمیں ڈرا رہا ہے وہ لے آ۔ یہ تو اپنے ذہن میں اسے محال جانتے تھے تو جرات کر کے جلد طلب کیا۔ جیسے کہ اور آیت میں ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا» [42-الشورى:18] یعنی ایمان نہ لانے والے ہمارے عذابوں کے جلد آنے کی خواہش کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں ان کے پیغمبر نے کہا کہ اللہ ہی کو بہتر علم ہے اگر وہ تمہیں اسی لائق جانے گا تو تم پر عذاب بھیج دے گا۔ میرا منصب تو صرف اتنا ہی ہے کہ میں اپنے رب کی رسالت تمہیں پہنچا دوں لیکن میں جانتا ہوں کہ تم بالکل بےعقل اور بیوقوف لوگ ہو، اب اللہ کا عذاب آ گیا انہوں نے دیکھا کہ ایک کالا ابر ان کی طرف بڑھتا چلا آ رہا ہے چونکہ خشک سالی تھی، گرمی سخت تھی، یہ خوشیاں منانے لگے کہ اچھا ہوا ابر چڑھا ہے اور اسی طرف رخ ہے، اب بارش برسے گی۔ دراصل ابر کی صورت میں یہ وہ قہر الٰہی تھا جس کے آنے کی وہ جلدی مچا رہے تھے، اس میں وہ عذاب تھا، جسے ہود علیہ السلام سے یہ طلب کر رہے تھے وہ عذاب ان کی بستیوں کی تمام ان چیزوں کو بھی جن کی بربادی ہونے والی تھی تہس نہس کرتا ہوا آیا اور اسی کا اسے حکم تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ اَتَتْ عَلَيْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيْمِ» [51-الذاريات:42] یعنی جس چیز پر وہ گزر جاتی تھی اسے چورا چورا کر دیتی تھی، پس سب کے سب ہلاک و تباہ ہو گئے ایک بھی نہ بچ سکا۔ پھر فرماتا ہے ہم اسی طرح ان کا فیصلہ کرتے ہیں جو ہمارے رسولوں کو جھٹلائیں اور ہمارے احکام کی خلاف ورزی کریں ایک بہت ہی غریب حدیث میں ان کا جو قصہ آیا ہے وہ بھی سن لیجئے۔
{ سیدنا حارث بکری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں سیدنا علا بن حضرمی رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا رہا تھا۔ ربذہ میں مجھے بنو تمیم کی ایک بڑھیا ملی جس کے پاس سواری وغیرہ نہ تھی، مجھ سے کہنے لگی، اے اللہ کے بندے! میرا ایک کام اللہ کے رسول سے ہے، کیا تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دے گا؟ میں نے اقرار کیا اور انہیں اپنی سواری پر بٹھا لیا اور مدینہ شریف پہنچا میں نے دیکھا کہ مسجد نبوی لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہے، سیاہ رنگ جھنڈا لہرا رہا ہے اور بلال تلوار لٹکائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہیں میں نے دریافت کیا کہ کیا بات ہے؟ تو لوگوں نے مجھ سے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو کسی طرف بھیجنا چاہتے ہیں میں ایک طرف بیٹھ گیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل یا اپنے خیمے میں تشریف لے گئے تو میں بھی گیا اجازت طلب کی اور اجازت ملنے پر آپ کی خدمت میں باریاب ہوا۔ سلام علیک کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے اور بنو تمیم کے درمیان کچھ رنجش تھی؟ میں نے کہا: ہاں اور ہم ان پر غالب رہے تھے اور اب میرے اس سفر میں بنو تمیم کی ایک نادار بڑھیا راستے میں مجھے ملی اور یہ خواہش ظاہر کی کہ میں اسے اپنے ساتھ آپ کی خدمت میں پہنچاؤں چنانچہ میں اسے اپنے ساتھ لایا ہوں اور وہ دروازہ پر منتظر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بھی اندر بلا لو“، چنانچہ وہ آ گئیں میں نے کہا: یا رسول اللہ! اگر آپ ہم میں اور بنو تمیم میں کوئی روک کر سکتے ہیں تو اسے کر دیجئیے، اس پر بڑھیا کو حمیت لاحق ہوئی اور وہ بھرائی ہوئی آواز میں بول اٹھی کہ پھر یا رسول اللہ! آپ کا مضطر کہاں قرار کرے گا؟ میں نے کہا: سبحان اللہ میری تو وہی مثل ہوئی کہ ”اپنے پاؤں میں آپ ہی کلہاڑی ماری“ مجھے کیا خبر تھی کہ یہ میری ہی دشمنی کرے گی؟ ورنہ میں اسے لاتا ہی کیوں؟ اللہ کی پناہ، واللہ! کہیں ایسا نہ ہو کہ میں بھی مثل عادیوں کے قاصد کے ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ عادیوں کے قاصد کا واقعہ کیا ہے؟ باوجود یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس واقعہ سے بہ نسبت میرے بہت زیادہ واقف تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر میں نے وہ قصہ بیان کیا کہ عادیوں کی بستیوں میں جب سخت قحط سالی ہوئی تو انہوں نے اپنا ایک قاصد قیل نامی روانہ کیا، یہ راستے میں معاویہ بن بکر کے ہاں آ کر ٹھہرا اور شراب پینے لگا اور اس کی دونوں کنیزوں کا گانا سننے میں جن کا نام جرادہ تھا اس قدر مشغول ہوا کہ مہینہ بھر تک یہیں پڑا رہا پھر چلا اور جبال مہرہ میں جا کر اس نے دعا کی کہ اللہ تو خوب جانتا ہے میں کسی مریض کی دوا کے لیے یا کسی قیدی کا فدیہ ادا کرنے کے لیے تو آیا نہیں الٰہی عادیوں کو وہ پلا جو تو انہیں پلانے والا ہے۔ چنانچہ چند سیاہ رنگ بادل اٹھے اور ان میں سے ایک آواز آئی کہ ان میں سے جسے تو چاہے پسند کر لے چنانچہ اس نے سخت سیاہ بادل کو پسند کر لیا اسی وقت ان میں سے ایک آواز آئی کہ اسے راکھ اور خاک بنانے والا کر دے تاکہ عادیوں میں سے کوئی باقی نہ رہے۔ کہا اور مجھے جہاں تک علم ہوا ہے یہی ہے کہ ہواؤں کے مخزن میں سے صرف پہلے ہی سوراخ سے ہوا چھوڑی گئی تھی جیسے میری اس انگوٹھی کا حلقہ اسی سے سب ہلاک ہو گئے۔ ابووائل کہتے ہیں یہ بالکل ٹھیک نقل ہے عرب میں دستور تھا کہ جب کسی قاصد کو بھیجتے تو کہہ دیتے کہ عادیوں کے قاصد کی طرح نہ کرنا }۔ [مسند احمد:482/3:حسن] یہ روایت ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔
جیسے کہ سورۃ الاعراف کی تفسیر میں گزرا مسند احمد میں ہے کہ { سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کھل کھلا کر اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کے مسوڑھے نظر آئیں۔ آپ صرف تبسم فرمایا کرتے تھے اور جب ابر اٹھتا اور آندھی چلتی تو آپ کے چہرے سے فکر کے آثار نمودار ہو جاتے۔ چنانچہ ایک روز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! لوگ تو ابروباد کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ اب بارش برسے گی لیکن آپ کی اس کے بالکل برعکس حالت ہو جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ میں اس بات سے کہ کہیں اس میں عذاب ہو کیسے مطمئن ہو جاؤں؟ ایک قوم ہوا ہی سے ہلاک کی گئی ایک قوم نے عذاب کے بادل کو دیکھ کہا تھا کہ یہ ابر ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔“ صحیح بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے }۔ [صحیح بخاری:4828] مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی آسمان کے کسی کنارے سے ابر اٹھتا ہوا دیکھتے تو اپنے تمام کام چھوڑ دیتے اگرچہ نماز میں ہوں اور یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَآ فِیہ» اللہ میں تجھ سے اس برائی سے پناہ چاہتا ہوں جو اس میں ہے، پس اگر یہ کھل جاتا تو اللہ عزوجل کی حمد کرتے اور اگر برس جاتا تو یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ صَیِّباً نَّافِعًا» اے اللہ! اسے نفع دینے والا اور برسنے والا بنا دے }۔ [مسند احمد:190/6:صحیح]
صحیح مسلم میں روایت ہے کہ { جب ہوائیں چلتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرِهَا وَخَيْرِ مَا فِیھَا وَخَيْرَ مآ اَرسَلتَ بِہِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرّ مَآ فِیھَا وَشَرِ مَآ اَرسَلتَ بِہِ» یا اللہ! میں تجھ سے اس کی اور اس میں جو ہے اس کی اور جس کو یہ ساتھ لے کر آئی ہے اس کی بھلائی طلب کرتا ہوں اور تجھ سے اس کی اور اس میں جو ہے اس کی اور جس چیز کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے اس کی برائی سے پناہ چاہتا ہوں۔ اور جب ابر اٹھتا تو آپ کا رنگ متغیر ہو جاتا، کبھی اندر، کبھی باہر آتے کبھی جاتے۔ جب بارش ہو جاتی تو آپ کی یہ فکرمندی دور ہو جاتی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے سمجھ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ عائشہ خوف اس بات کا ہوتا ہے کہ کہیں یہ اسی طرح نہ ہو جس طرح قوم ہود نے اپنی طرف بادل بڑھتا دیکھ کر خوشی سے کہا تھا کہ یہ ابر ہمیں سیراب کرے گا }۔ [صحیح مسلم:899,15] سورۃ الاعراف میں عادیوں کی ہلاکت کا اور ہود کا پورا واقعہ گزر چکا ہے اس لیے ہم اسے یہاں نہیں دوہراتے «فللہ الحمد والمنہ» طبرانی کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { عادیوں پر اتنی ہی ہوا کھولی گئی تھی جتنا انگوٹھی کا حلقہ ہوتا ہے، یہ ہوا پہلے دیہات والوں اور بادیہ نشینوں پر آئی وہاں سے شہری لوگوں پر آئی جسے دیکھ کر یہ کہنے لگے کہ یہ ابر جو ہماری طرف بڑھا چلا آ رہا ہے یہ ضرور ہم پر بارش برسائے گا لیکن اس میں جنگلی لوگ تھے جو ان شہریوں پر گرا دئیے گئے اور سب ہلاک ہو گئے، ہوا کے خزانچیوں پر ہوا کی سرکشی اس وقت اتنی تھی کہ دروازوں کے سوراخوں سے وہ نکلی جا رہی تھی }۔ [طبرانی کبیر:12416:ضعیف] «واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم»
22۔ 1 لتافکنا لتصرفنا یا لتمنعنا یا لتزیلنا سب متقارب المعنی ہیں تاکہ تو ہمیں ہمارے معبودوں کی پرستش سے پھیر دے روک دے ہٹا دے۔
(آیت 22) {قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا …:} اس آیت کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۳۲) کی تفسیر۔
اُس نے کہا کہ "اِس کا علم تو اللہ کو ہے، میں صرف وہ پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں جسے دے کر مجھے بھیجا گیا ہے مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
(حضرت ہود نے) کہا (اس کا) علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، میں تو جو پیغام دے کر بھیجا گیا تھا وه تمہیں پہنچا رہا ہوں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اس نے فرمایا اس کی خبر تو اللہ ہی کے پاس ہے میں تو تمہیں اپنے رب کے پیام پہنچاتا ہوں ہاں میری دانست میں تم نرے جاہل لوگ ہو
علامہ محمد حسین نجفی
جنابِ ہود(ع) نے کہا اس (نزولِ عذاب) کا علم تو بس اللہ کے پاس ہے میں تو صرف تم تک وہ (پیغام) پہنچا رہا ہوں جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں۔ لیکن میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم بالکل جاہل قوم ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا یہ علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تمھیں وہ پیغام پہنچاتا ہوں جو مجھے دے کر بھیجا گیا ہے اور لیکن میں تمھیں ایسے لوگ دیکھتا ہوں کہ تم جہالت برتتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم عاد کی تباہی کے اسباب ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے تو آپ اگلے انبیاء کے واقعات یاد کر لیجئے کہ ان کی قوم نے بھی ان کی تکذیب کی عادیوں کے بھائی سے مراد ہود پیغمبر ہیں علیہ السلام والصلوۃ۔ انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے عاد اولیٰ کی طرف بھیجا تھا جو «احقاف» میں رہتے تھے «احقاف» جمع ہے «حقف» کی اور «حقف» کہتے ہیں ریت کے پہاڑ کو۔ مطلق پہاڑ اور غار اور حضر موت کی وادی جس کا نام برہوت ہے جہاں کفار کی روحیں ڈالی جاتی ہیں یہ مطلب بھی «احقاف» کا بیان کیا گیا ہے قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ یمن میں سمندر کے کنارے ریت کے ٹیلوں میں ایک جگہ تھی جس کا نام شحر تھا یہاں یہ لوگ آباد تھے، [تفسیر ابن جریر الطبری:291/11] امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے کہ { جب دعا مانگے تو اپنے نفس سے شروع کرے اس میں ایک حدیث لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہم پر اور عادیوں کے بھائی پر رحم کرے“ }۔ [سنن ابن ماجہ:3852،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر فرماتا ہے کہ اللہ عزوجل نے ان کے اردگرد کے شہروں میں بھی اپنے رسول علیہم السلام مبعوث فرمائے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَجَــعَلْنٰھَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ» ۔ [2-البقرة:66] اور جیسے اللہ جل وعلا کا فرمان ہے «فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِّثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ إِذْ جَاءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّـهَ قَالُوا لَوْ شَاءَ رَبُّنَا لَأَنزَلَ مَلَائِكَةً فَإِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ كَافِرُونَ» ۔ [41-فصلت:14،13]
پھر فرماتا ہے کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم موحد بن جاؤ ورنہ تمہیں اس بڑے بھاری دن میں عذاب ہو گا۔ جس پر قوم نے کہا: کیا تو ہمیں ہمارے معبودوں سے روک رہا ہے؟ جا جس عذاب سے تو ہمیں ڈرا رہا ہے وہ لے آ۔ یہ تو اپنے ذہن میں اسے محال جانتے تھے تو جرات کر کے جلد طلب کیا۔ جیسے کہ اور آیت میں ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا» [42-الشورى:18] یعنی ایمان نہ لانے والے ہمارے عذابوں کے جلد آنے کی خواہش کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں ان کے پیغمبر نے کہا کہ اللہ ہی کو بہتر علم ہے اگر وہ تمہیں اسی لائق جانے گا تو تم پر عذاب بھیج دے گا۔ میرا منصب تو صرف اتنا ہی ہے کہ میں اپنے رب کی رسالت تمہیں پہنچا دوں لیکن میں جانتا ہوں کہ تم بالکل بےعقل اور بیوقوف لوگ ہو، اب اللہ کا عذاب آ گیا انہوں نے دیکھا کہ ایک کالا ابر ان کی طرف بڑھتا چلا آ رہا ہے چونکہ خشک سالی تھی، گرمی سخت تھی، یہ خوشیاں منانے لگے کہ اچھا ہوا ابر چڑھا ہے اور اسی طرف رخ ہے، اب بارش برسے گی۔ دراصل ابر کی صورت میں یہ وہ قہر الٰہی تھا جس کے آنے کی وہ جلدی مچا رہے تھے، اس میں وہ عذاب تھا، جسے ہود علیہ السلام سے یہ طلب کر رہے تھے وہ عذاب ان کی بستیوں کی تمام ان چیزوں کو بھی جن کی بربادی ہونے والی تھی تہس نہس کرتا ہوا آیا اور اسی کا اسے حکم تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ اَتَتْ عَلَيْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيْمِ» [51-الذاريات:42] یعنی جس چیز پر وہ گزر جاتی تھی اسے چورا چورا کر دیتی تھی، پس سب کے سب ہلاک و تباہ ہو گئے ایک بھی نہ بچ سکا۔ پھر فرماتا ہے ہم اسی طرح ان کا فیصلہ کرتے ہیں جو ہمارے رسولوں کو جھٹلائیں اور ہمارے احکام کی خلاف ورزی کریں ایک بہت ہی غریب حدیث میں ان کا جو قصہ آیا ہے وہ بھی سن لیجئے۔
{ سیدنا حارث بکری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں سیدنا علا بن حضرمی رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا رہا تھا۔ ربذہ میں مجھے بنو تمیم کی ایک بڑھیا ملی جس کے پاس سواری وغیرہ نہ تھی، مجھ سے کہنے لگی، اے اللہ کے بندے! میرا ایک کام اللہ کے رسول سے ہے، کیا تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دے گا؟ میں نے اقرار کیا اور انہیں اپنی سواری پر بٹھا لیا اور مدینہ شریف پہنچا میں نے دیکھا کہ مسجد نبوی لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہے، سیاہ رنگ جھنڈا لہرا رہا ہے اور بلال تلوار لٹکائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہیں میں نے دریافت کیا کہ کیا بات ہے؟ تو لوگوں نے مجھ سے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو کسی طرف بھیجنا چاہتے ہیں میں ایک طرف بیٹھ گیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل یا اپنے خیمے میں تشریف لے گئے تو میں بھی گیا اجازت طلب کی اور اجازت ملنے پر آپ کی خدمت میں باریاب ہوا۔ سلام علیک کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے اور بنو تمیم کے درمیان کچھ رنجش تھی؟ میں نے کہا: ہاں اور ہم ان پر غالب رہے تھے اور اب میرے اس سفر میں بنو تمیم کی ایک نادار بڑھیا راستے میں مجھے ملی اور یہ خواہش ظاہر کی کہ میں اسے اپنے ساتھ آپ کی خدمت میں پہنچاؤں چنانچہ میں اسے اپنے ساتھ لایا ہوں اور وہ دروازہ پر منتظر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بھی اندر بلا لو“، چنانچہ وہ آ گئیں میں نے کہا: یا رسول اللہ! اگر آپ ہم میں اور بنو تمیم میں کوئی روک کر سکتے ہیں تو اسے کر دیجئیے، اس پر بڑھیا کو حمیت لاحق ہوئی اور وہ بھرائی ہوئی آواز میں بول اٹھی کہ پھر یا رسول اللہ! آپ کا مضطر کہاں قرار کرے گا؟ میں نے کہا: سبحان اللہ میری تو وہی مثل ہوئی کہ ”اپنے پاؤں میں آپ ہی کلہاڑی ماری“ مجھے کیا خبر تھی کہ یہ میری ہی دشمنی کرے گی؟ ورنہ میں اسے لاتا ہی کیوں؟ اللہ کی پناہ، واللہ! کہیں ایسا نہ ہو کہ میں بھی مثل عادیوں کے قاصد کے ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ عادیوں کے قاصد کا واقعہ کیا ہے؟ باوجود یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس واقعہ سے بہ نسبت میرے بہت زیادہ واقف تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر میں نے وہ قصہ بیان کیا کہ عادیوں کی بستیوں میں جب سخت قحط سالی ہوئی تو انہوں نے اپنا ایک قاصد قیل نامی روانہ کیا، یہ راستے میں معاویہ بن بکر کے ہاں آ کر ٹھہرا اور شراب پینے لگا اور اس کی دونوں کنیزوں کا گانا سننے میں جن کا نام جرادہ تھا اس قدر مشغول ہوا کہ مہینہ بھر تک یہیں پڑا رہا پھر چلا اور جبال مہرہ میں جا کر اس نے دعا کی کہ اللہ تو خوب جانتا ہے میں کسی مریض کی دوا کے لیے یا کسی قیدی کا فدیہ ادا کرنے کے لیے تو آیا نہیں الٰہی عادیوں کو وہ پلا جو تو انہیں پلانے والا ہے۔ چنانچہ چند سیاہ رنگ بادل اٹھے اور ان میں سے ایک آواز آئی کہ ان میں سے جسے تو چاہے پسند کر لے چنانچہ اس نے سخت سیاہ بادل کو پسند کر لیا اسی وقت ان میں سے ایک آواز آئی کہ اسے راکھ اور خاک بنانے والا کر دے تاکہ عادیوں میں سے کوئی باقی نہ رہے۔ کہا اور مجھے جہاں تک علم ہوا ہے یہی ہے کہ ہواؤں کے مخزن میں سے صرف پہلے ہی سوراخ سے ہوا چھوڑی گئی تھی جیسے میری اس انگوٹھی کا حلقہ اسی سے سب ہلاک ہو گئے۔ ابووائل کہتے ہیں یہ بالکل ٹھیک نقل ہے عرب میں دستور تھا کہ جب کسی قاصد کو بھیجتے تو کہہ دیتے کہ عادیوں کے قاصد کی طرح نہ کرنا }۔ [مسند احمد:482/3:حسن] یہ روایت ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔
جیسے کہ سورۃ الاعراف کی تفسیر میں گزرا مسند احمد میں ہے کہ { سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کھل کھلا کر اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کے مسوڑھے نظر آئیں۔ آپ صرف تبسم فرمایا کرتے تھے اور جب ابر اٹھتا اور آندھی چلتی تو آپ کے چہرے سے فکر کے آثار نمودار ہو جاتے۔ چنانچہ ایک روز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! لوگ تو ابروباد کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ اب بارش برسے گی لیکن آپ کی اس کے بالکل برعکس حالت ہو جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ میں اس بات سے کہ کہیں اس میں عذاب ہو کیسے مطمئن ہو جاؤں؟ ایک قوم ہوا ہی سے ہلاک کی گئی ایک قوم نے عذاب کے بادل کو دیکھ کہا تھا کہ یہ ابر ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔“ صحیح بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے }۔ [صحیح بخاری:4828] مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی آسمان کے کسی کنارے سے ابر اٹھتا ہوا دیکھتے تو اپنے تمام کام چھوڑ دیتے اگرچہ نماز میں ہوں اور یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَآ فِیہ» اللہ میں تجھ سے اس برائی سے پناہ چاہتا ہوں جو اس میں ہے، پس اگر یہ کھل جاتا تو اللہ عزوجل کی حمد کرتے اور اگر برس جاتا تو یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ صَیِّباً نَّافِعًا» اے اللہ! اسے نفع دینے والا اور برسنے والا بنا دے }۔ [مسند احمد:190/6:صحیح]
صحیح مسلم میں روایت ہے کہ { جب ہوائیں چلتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرِهَا وَخَيْرِ مَا فِیھَا وَخَيْرَ مآ اَرسَلتَ بِہِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرّ مَآ فِیھَا وَشَرِ مَآ اَرسَلتَ بِہِ» یا اللہ! میں تجھ سے اس کی اور اس میں جو ہے اس کی اور جس کو یہ ساتھ لے کر آئی ہے اس کی بھلائی طلب کرتا ہوں اور تجھ سے اس کی اور اس میں جو ہے اس کی اور جس چیز کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے اس کی برائی سے پناہ چاہتا ہوں۔ اور جب ابر اٹھتا تو آپ کا رنگ متغیر ہو جاتا، کبھی اندر، کبھی باہر آتے کبھی جاتے۔ جب بارش ہو جاتی تو آپ کی یہ فکرمندی دور ہو جاتی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے سمجھ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ عائشہ خوف اس بات کا ہوتا ہے کہ کہیں یہ اسی طرح نہ ہو جس طرح قوم ہود نے اپنی طرف بادل بڑھتا دیکھ کر خوشی سے کہا تھا کہ یہ ابر ہمیں سیراب کرے گا }۔ [صحیح مسلم:899,15] سورۃ الاعراف میں عادیوں کی ہلاکت کا اور ہود کا پورا واقعہ گزر چکا ہے اس لیے ہم اسے یہاں نہیں دوہراتے «فللہ الحمد والمنہ» طبرانی کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { عادیوں پر اتنی ہی ہوا کھولی گئی تھی جتنا انگوٹھی کا حلقہ ہوتا ہے، یہ ہوا پہلے دیہات والوں اور بادیہ نشینوں پر آئی وہاں سے شہری لوگوں پر آئی جسے دیکھ کر یہ کہنے لگے کہ یہ ابر جو ہماری طرف بڑھا چلا آ رہا ہے یہ ضرور ہم پر بارش برسائے گا لیکن اس میں جنگلی لوگ تھے جو ان شہریوں پر گرا دئیے گئے اور سب ہلاک ہو گئے، ہوا کے خزانچیوں پر ہوا کی سرکشی اس وقت اتنی تھی کہ دروازوں کے سوراخوں سے وہ نکلی جا رہی تھی }۔ [طبرانی کبیر:12416:ضعیف] «واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم»
23۔ 1 یعنی عذاب کب آئے گا یا دنیا میں نہیں آئے گا بلکہ آخرت میں تمہیں عذاب دیا جائے گا اس کا علم صرف اللہ کو ہے وہی اپنی مشیت کے مطابق فیصلہ فرماتا ہے میرا کام تو صرف پیغام پہچانا ہے۔ 23۔ 2 کہ ایک کفر پر اصرار کر رہے ہو۔ دوسرے، مجھ سے ایسی چیز کا مطالبہ کر رہے ہو جو میرے اختیار میں نہیں ہے۔
(آیت 23) ➊ { قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ:} ہود علیہ السلام نے ان کے اس گستاخانہ مطالبے پر کسی تلخی کے اظہار کے بجائے انھیں مزید سمجھانے کی کوشش فرمائی۔ چنانچہ فرمایا، عذاب کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اس کا اختیار بھی وہی رکھتا ہے، وہی جانتا ہے کہ تم پر دنیا میں عذاب آئے گا یا آخرت میں اور یہ بھی وہی جانتا ہے کہ تمھیں کب تک مہلت دی جائے گی۔ میرے پاس نہ اس کا اختیار ہے کہ جب چاہوں تم پر عذاب لے آؤں اور نہ ہی مجھے اس کے وقت کا علم ہے۔ ➋ { وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ:} میرا کام وہ پیغام تم تک پہنچا دینا ہے جو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًا اِنْ عَلَيْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ» [ الشورٰی: ۴۸ ] ”پھر اگر وہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تجھے ان پر کوئی نگران بنا کر نہیں بھیجا، تیرے ذمے پہنچا دینے کے سوا کچھ نہیں۔“ ➌ { وَ لٰكِنِّيْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ:} ”جہل“ اکھڑ پن کو بھی کہتے ہیں اور لاعلمی کو بھی۔ اگر پہلا معنی ہو تو جہالت برتنے کا مطلب یہ ہو گا کہ ایک تم کفر پر اصرار کر رہے ہو، اچھی بات قبول کرنے کے بجائے عذاب مانگ رہے ہو اور دوسرے مجھ سے ایسی چیز کا مطالبہ کر رہے ہو جو میرے اختیار میں نہیں ہے، اور اگر یہ جہل علم کے مقابلے میں ہو تو مطلب یہ ہے کہ تمھیں علم ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب کیا ہوتا ہے اور وہ تمھارے کس قدر قریب آ چکا ہے اور نہ یہ علم ہے کہ رسول پیغام پہنچانے کے لیے آتے ہیں، عذاب لانا ان کے اختیار میں نہیں ہوتا۔
پھر جب انہوں نے اُس عذاب کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے "یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا" "نہیں، بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آ رہا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر جب انہوں نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے، یہ ابر ہم پر برسنے واﻻ ہے، (نہیں) بلکہ دراصل یہ ابر وه (عذاب) ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے، ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب انہوں نے عذاب کو دیکھا بادل کی طرح آسمان کے کنارے میں پھیلا ہوا ان کی وادیوں کی طرف آتا بولے یہ بادل ہے کہ ہم پر برسے گا بلکہ یہ تو وہ ہے جس کی تم جلدی مچاتے تھے، ایک آندھی ہے جس میں دردناک عذاب،
علامہ محمد حسین نجفی
پس جب انہوں نے (عذاب) کو ایک بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ بادل تو ہم پر برسنے والا ہے بلکہ یہ وہ (عذاب) ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے (یہ تند و تیز) ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو جب انھوں نے اسے ایک بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کا رخ کیے ہوئے دیکھا تو انھوں نے کہا یہ بادل ہے جو ہم پر مینہ برسانے والا ہے۔ بلکہ یہ وہ(عذاب) ہے جو تم نے جلدی مانگا تھا، آندھی ہے، جس میں دردناک عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم عاد کی تباہی کے اسباب ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے تو آپ اگلے انبیاء کے واقعات یاد کر لیجئے کہ ان کی قوم نے بھی ان کی تکذیب کی عادیوں کے بھائی سے مراد ہود پیغمبر ہیں علیہ السلام والصلوۃ۔ انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے عاد اولیٰ کی طرف بھیجا تھا جو «احقاف» میں رہتے تھے «احقاف» جمع ہے «حقف» کی اور «حقف» کہتے ہیں ریت کے پہاڑ کو۔ مطلق پہاڑ اور غار اور حضر موت کی وادی جس کا نام برہوت ہے جہاں کفار کی روحیں ڈالی جاتی ہیں یہ مطلب بھی «احقاف» کا بیان کیا گیا ہے قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ یمن میں سمندر کے کنارے ریت کے ٹیلوں میں ایک جگہ تھی جس کا نام شحر تھا یہاں یہ لوگ آباد تھے، [تفسیر ابن جریر الطبری:291/11] امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے کہ { جب دعا مانگے تو اپنے نفس سے شروع کرے اس میں ایک حدیث لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہم پر اور عادیوں کے بھائی پر رحم کرے“ }۔ [سنن ابن ماجہ:3852،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر فرماتا ہے کہ اللہ عزوجل نے ان کے اردگرد کے شہروں میں بھی اپنے رسول علیہم السلام مبعوث فرمائے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَجَــعَلْنٰھَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ» ۔ [2-البقرة:66] اور جیسے اللہ جل وعلا کا فرمان ہے «فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِّثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ إِذْ جَاءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّـهَ قَالُوا لَوْ شَاءَ رَبُّنَا لَأَنزَلَ مَلَائِكَةً فَإِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ كَافِرُونَ» ۔ [41-فصلت:14،13]
پھر فرماتا ہے کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم موحد بن جاؤ ورنہ تمہیں اس بڑے بھاری دن میں عذاب ہو گا۔ جس پر قوم نے کہا: کیا تو ہمیں ہمارے معبودوں سے روک رہا ہے؟ جا جس عذاب سے تو ہمیں ڈرا رہا ہے وہ لے آ۔ یہ تو اپنے ذہن میں اسے محال جانتے تھے تو جرات کر کے جلد طلب کیا۔ جیسے کہ اور آیت میں ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا» [42-الشورى:18] یعنی ایمان نہ لانے والے ہمارے عذابوں کے جلد آنے کی خواہش کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں ان کے پیغمبر نے کہا کہ اللہ ہی کو بہتر علم ہے اگر وہ تمہیں اسی لائق جانے گا تو تم پر عذاب بھیج دے گا۔ میرا منصب تو صرف اتنا ہی ہے کہ میں اپنے رب کی رسالت تمہیں پہنچا دوں لیکن میں جانتا ہوں کہ تم بالکل بےعقل اور بیوقوف لوگ ہو، اب اللہ کا عذاب آ گیا انہوں نے دیکھا کہ ایک کالا ابر ان کی طرف بڑھتا چلا آ رہا ہے چونکہ خشک سالی تھی، گرمی سخت تھی، یہ خوشیاں منانے لگے کہ اچھا ہوا ابر چڑھا ہے اور اسی طرف رخ ہے، اب بارش برسے گی۔ دراصل ابر کی صورت میں یہ وہ قہر الٰہی تھا جس کے آنے کی وہ جلدی مچا رہے تھے، اس میں وہ عذاب تھا، جسے ہود علیہ السلام سے یہ طلب کر رہے تھے وہ عذاب ان کی بستیوں کی تمام ان چیزوں کو بھی جن کی بربادی ہونے والی تھی تہس نہس کرتا ہوا آیا اور اسی کا اسے حکم تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ اَتَتْ عَلَيْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيْمِ» [51-الذاريات:42] یعنی جس چیز پر وہ گزر جاتی تھی اسے چورا چورا کر دیتی تھی، پس سب کے سب ہلاک و تباہ ہو گئے ایک بھی نہ بچ سکا۔ پھر فرماتا ہے ہم اسی طرح ان کا فیصلہ کرتے ہیں جو ہمارے رسولوں کو جھٹلائیں اور ہمارے احکام کی خلاف ورزی کریں ایک بہت ہی غریب حدیث میں ان کا جو قصہ آیا ہے وہ بھی سن لیجئے۔
{ سیدنا حارث بکری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں سیدنا علا بن حضرمی رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا رہا تھا۔ ربذہ میں مجھے بنو تمیم کی ایک بڑھیا ملی جس کے پاس سواری وغیرہ نہ تھی، مجھ سے کہنے لگی، اے اللہ کے بندے! میرا ایک کام اللہ کے رسول سے ہے، کیا تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دے گا؟ میں نے اقرار کیا اور انہیں اپنی سواری پر بٹھا لیا اور مدینہ شریف پہنچا میں نے دیکھا کہ مسجد نبوی لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہے، سیاہ رنگ جھنڈا لہرا رہا ہے اور بلال تلوار لٹکائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہیں میں نے دریافت کیا کہ کیا بات ہے؟ تو لوگوں نے مجھ سے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو کسی طرف بھیجنا چاہتے ہیں میں ایک طرف بیٹھ گیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل یا اپنے خیمے میں تشریف لے گئے تو میں بھی گیا اجازت طلب کی اور اجازت ملنے پر آپ کی خدمت میں باریاب ہوا۔ سلام علیک کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے اور بنو تمیم کے درمیان کچھ رنجش تھی؟ میں نے کہا: ہاں اور ہم ان پر غالب رہے تھے اور اب میرے اس سفر میں بنو تمیم کی ایک نادار بڑھیا راستے میں مجھے ملی اور یہ خواہش ظاہر کی کہ میں اسے اپنے ساتھ آپ کی خدمت میں پہنچاؤں چنانچہ میں اسے اپنے ساتھ لایا ہوں اور وہ دروازہ پر منتظر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بھی اندر بلا لو“، چنانچہ وہ آ گئیں میں نے کہا: یا رسول اللہ! اگر آپ ہم میں اور بنو تمیم میں کوئی روک کر سکتے ہیں تو اسے کر دیجئیے، اس پر بڑھیا کو حمیت لاحق ہوئی اور وہ بھرائی ہوئی آواز میں بول اٹھی کہ پھر یا رسول اللہ! آپ کا مضطر کہاں قرار کرے گا؟ میں نے کہا: سبحان اللہ میری تو وہی مثل ہوئی کہ ”اپنے پاؤں میں آپ ہی کلہاڑی ماری“ مجھے کیا خبر تھی کہ یہ میری ہی دشمنی کرے گی؟ ورنہ میں اسے لاتا ہی کیوں؟ اللہ کی پناہ، واللہ! کہیں ایسا نہ ہو کہ میں بھی مثل عادیوں کے قاصد کے ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ عادیوں کے قاصد کا واقعہ کیا ہے؟ باوجود یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس واقعہ سے بہ نسبت میرے بہت زیادہ واقف تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر میں نے وہ قصہ بیان کیا کہ عادیوں کی بستیوں میں جب سخت قحط سالی ہوئی تو انہوں نے اپنا ایک قاصد قیل نامی روانہ کیا، یہ راستے میں معاویہ بن بکر کے ہاں آ کر ٹھہرا اور شراب پینے لگا اور اس کی دونوں کنیزوں کا گانا سننے میں جن کا نام جرادہ تھا اس قدر مشغول ہوا کہ مہینہ بھر تک یہیں پڑا رہا پھر چلا اور جبال مہرہ میں جا کر اس نے دعا کی کہ اللہ تو خوب جانتا ہے میں کسی مریض کی دوا کے لیے یا کسی قیدی کا فدیہ ادا کرنے کے لیے تو آیا نہیں الٰہی عادیوں کو وہ پلا جو تو انہیں پلانے والا ہے۔ چنانچہ چند سیاہ رنگ بادل اٹھے اور ان میں سے ایک آواز آئی کہ ان میں سے جسے تو چاہے پسند کر لے چنانچہ اس نے سخت سیاہ بادل کو پسند کر لیا اسی وقت ان میں سے ایک آواز آئی کہ اسے راکھ اور خاک بنانے والا کر دے تاکہ عادیوں میں سے کوئی باقی نہ رہے۔ کہا اور مجھے جہاں تک علم ہوا ہے یہی ہے کہ ہواؤں کے مخزن میں سے صرف پہلے ہی سوراخ سے ہوا چھوڑی گئی تھی جیسے میری اس انگوٹھی کا حلقہ اسی سے سب ہلاک ہو گئے۔ ابووائل کہتے ہیں یہ بالکل ٹھیک نقل ہے عرب میں دستور تھا کہ جب کسی قاصد کو بھیجتے تو کہہ دیتے کہ عادیوں کے قاصد کی طرح نہ کرنا }۔ [مسند احمد:482/3:حسن] یہ روایت ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔
جیسے کہ سورۃ الاعراف کی تفسیر میں گزرا مسند احمد میں ہے کہ { سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کھل کھلا کر اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کے مسوڑھے نظر آئیں۔ آپ صرف تبسم فرمایا کرتے تھے اور جب ابر اٹھتا اور آندھی چلتی تو آپ کے چہرے سے فکر کے آثار نمودار ہو جاتے۔ چنانچہ ایک روز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! لوگ تو ابروباد کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ اب بارش برسے گی لیکن آپ کی اس کے بالکل برعکس حالت ہو جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ میں اس بات سے کہ کہیں اس میں عذاب ہو کیسے مطمئن ہو جاؤں؟ ایک قوم ہوا ہی سے ہلاک کی گئی ایک قوم نے عذاب کے بادل کو دیکھ کہا تھا کہ یہ ابر ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔“ صحیح بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے }۔ [صحیح بخاری:4828] مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی آسمان کے کسی کنارے سے ابر اٹھتا ہوا دیکھتے تو اپنے تمام کام چھوڑ دیتے اگرچہ نماز میں ہوں اور یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَآ فِیہ» اللہ میں تجھ سے اس برائی سے پناہ چاہتا ہوں جو اس میں ہے، پس اگر یہ کھل جاتا تو اللہ عزوجل کی حمد کرتے اور اگر برس جاتا تو یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ صَیِّباً نَّافِعًا» اے اللہ! اسے نفع دینے والا اور برسنے والا بنا دے }۔ [مسند احمد:190/6:صحیح]
صحیح مسلم میں روایت ہے کہ { جب ہوائیں چلتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرِهَا وَخَيْرِ مَا فِیھَا وَخَيْرَ مآ اَرسَلتَ بِہِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرّ مَآ فِیھَا وَشَرِ مَآ اَرسَلتَ بِہِ» یا اللہ! میں تجھ سے اس کی اور اس میں جو ہے اس کی اور جس کو یہ ساتھ لے کر آئی ہے اس کی بھلائی طلب کرتا ہوں اور تجھ سے اس کی اور اس میں جو ہے اس کی اور جس چیز کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے اس کی برائی سے پناہ چاہتا ہوں۔ اور جب ابر اٹھتا تو آپ کا رنگ متغیر ہو جاتا، کبھی اندر، کبھی باہر آتے کبھی جاتے۔ جب بارش ہو جاتی تو آپ کی یہ فکرمندی دور ہو جاتی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے سمجھ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ عائشہ خوف اس بات کا ہوتا ہے کہ کہیں یہ اسی طرح نہ ہو جس طرح قوم ہود نے اپنی طرف بادل بڑھتا دیکھ کر خوشی سے کہا تھا کہ یہ ابر ہمیں سیراب کرے گا }۔ [صحیح مسلم:899,15] سورۃ الاعراف میں عادیوں کی ہلاکت کا اور ہود کا پورا واقعہ گزر چکا ہے اس لیے ہم اسے یہاں نہیں دوہراتے «فللہ الحمد والمنہ» طبرانی کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { عادیوں پر اتنی ہی ہوا کھولی گئی تھی جتنا انگوٹھی کا حلقہ ہوتا ہے، یہ ہوا پہلے دیہات والوں اور بادیہ نشینوں پر آئی وہاں سے شہری لوگوں پر آئی جسے دیکھ کر یہ کہنے لگے کہ یہ ابر جو ہماری طرف بڑھا چلا آ رہا ہے یہ ضرور ہم پر بارش برسائے گا لیکن اس میں جنگلی لوگ تھے جو ان شہریوں پر گرا دئیے گئے اور سب ہلاک ہو گئے، ہوا کے خزانچیوں پر ہوا کی سرکشی اس وقت اتنی تھی کہ دروازوں کے سوراخوں سے وہ نکلی جا رہی تھی }۔ [طبرانی کبیر:12416:ضعیف] «واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم»
24۔ 1 عرصہ دراز سے ان کے ہاں بارش نہیں ہوئی تھی امنڈتے بادل دیکھ کر خوش ہوئے کہ اب بارش ہوگی بادل کو عارض اس لیے کہا ہے کہ بادل عرض آسمان پر ظاہر ہوتا ہے۔ 24۔ 1 یہ حضرت ہود ؑ نے انہیں کہا کہ یہ محض بادل نہیں ہے جیسے تم سمجھ رہے ہو۔ بلکہ یہ وہ عذاب ہے جسے تم جلدی لانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ 24۔ 3 یعنی وہ ہوا جس سے اس قوم کی ہلاکت ہوئی ان بادلوں سے ہی اٹھی اور نکلی اور اللہ کی مشیت سے ان کو اور ان کی ہر چیز کو تباہ کرگئی اسی لیے حدیث میں آتا ہے حضرت عائشہ ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ لوگ تو بادل دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہوگی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر اس کے برعکس تشویش کے آثار نظر آتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ؓ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اس بادل میں عذاب نہیں ہوگا جب کہ ایک قوم ہوا کے عذاب سے ہی ہلاک کردی گئی اس قوم نے بھی بادل دیکھ کر کہا تھا یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔ البخاری۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب باد تند چلتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے اللھم انی اسالک خیرھا وخیر ما فیھا وخیر ما ارسلت بہ واغوذبک من شرھا وشر ما ارسلت بہ اور جب آسمان پر بادل گہرے ہوجاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ متغیر ہوجاتا اور خوف کی سی ایک کیفیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر طاری ہوجاتی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اطمینان کا سانس لیتے (صحیح مسلم)
(آیت 24) ➊ {فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا …: ” رَاَوْهُ “} کی ضمیر عذاب کی طرف لوٹ رہی ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے آتے تھے۔ {”عَرَضَ يَعْرِضُ“} سامنے آنا۔ {” عَارِضٌ“} عظیم بادل جو پہاڑوں کی طرح افق پر سامنے آیا ہوا ہو۔ قوم کے ہود علیہ السلام کو جھٹلانے اور ان پر عذاب کے درمیان کا لمبا قصہ مختصر کرکے نتیجہ بیان فرمایا ہے۔ اس آیت میں ان کے الفاظ {” هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا “} (یہ بادل ہے جو ہم پر مینہ برسانے والا ہے) سے ظاہر ہے کہ اس عذاب سے پہلے مدت تک بارش بند رہی۔ ہود علیہ السلام نے کفر و شرک سے توبہ اور اللہ تعالیٰ سے استغفار پر انھیں بارش کی بشارت بھی دی۔ چنانچہ فرمایا: «وَ يٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ يَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِيْنَ» [ ھود: ۵۲ ] ”اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف پلٹ آؤ، وہ تم پر بادل بھیجے گا، جو خوب برسنے والا ہوگا اور تمھیں تمھاری قوت کے ساتھ اور قوت زیادہ دے گا اور مجرم بنتے ہوئے منہ نہ موڑو۔“ اس سے ظاہر ہے کہ انھیں بارش کی شدید ضرورت تھی، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور یہ کہہ کر عذاب لانے کا مطالبہ کرتے رہے کہ اگر سچے ہو تو عذاب لے آؤ، یعنی اگر فوراً عذاب نہیں لاتے تو تم جھوٹے ہو۔ ہود علیہ السلام کا جواب پیچھے گزر چکا ہے۔ آخر عذاب کا وقت آ پہنچا اور اس نے بادل کی صورت میں ان کی وادیوں کی طرف بڑھنا شروع کیا، جب انھوں نے اس عذاب کو بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو بہت خوش ہوئے کہ یہ بادل ہم پر بارش برسائے گا۔ ➋ { بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ:} ممکن ہے کہ انھیں یہ جواب ہود علیہ السلام نے دیا ہو یا صورتِ حال انھیں پکار کر کہہ رہی ہو۔ ➌ {رِيْحٌ فِيْهَا عَذَابٌ اَلِيْمٌ: ” رِيْحٌ “} میں تنوین تہویل کے لیے ہے، بلکہ یہ وہ ہے جسے تم نے جلدی طلب کیا ہے، یہ خوفناک آندھی ہے جس میں عذابِ الیم ہے۔ اس کی کیفیت سورۂ قمر (۱۹، ۲۰) اور سورۂ حاقہ (۶ تا ۸) میں تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔ قومِ عاد آندھی والے بادلوں کو بارش برسانے والے سمجھتے رہے، حالانکہ وہ ان پر آنے والا عذاب تھا۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل اٹھتے یا ہوا تیز چلتی تو پریشان ہو جاتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا: [ مَا رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ ضَاحِكًا حَتّٰی أَرٰی مِنْهُ لَهَوَاتِهِ، إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ، قَالَتْ وَكَانَ إِذَا رَأٰی غَيْمًا أَوْ رِيْحًا عُرِفَ فِيْ وَجْهِهِ، قَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا الْغَيْمَ فَرِحُوْا، رَجَاءَ أَنْ يَكُوْنَ فِيْهِ الْمَطَرُ، وَ أَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عُرِفَ فِيْ وَجْهِكَ الْكَرَاهِيَةُ، فَقَالَ يَا عَائِشَةُ! مَا يُؤْمِنِّيْ أَنْ يَكُوْنَ فِيْهِ عَذَابٌ، عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيْحِ، وَقَدْ رَأٰی قَوْمٌ الْعَذَابَ فَقَالُوْا: «هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا» ] [بخاري، التفسیر، تفسیر سورۃ الأحقاف: ۴۸۲۸، ۴۸۲۹ ] ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ مجھے آپ کا تالو میں لٹکا ہوا گوشت کا ٹکڑا نظر آ جائے، آپ صرف مسکراتے تھے۔“ فرماتی ہیں: ”اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل یا ہوا دیکھتے تو وہ آپ کے چہرے میں پہچانی جاتی۔“ انھوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! لوگ جب بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہو جاتے ہیں، اس امید پر کہ اس میں بارش ہو گی اور میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ جب اسے دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے میں ناگواری پہچانی جاتی ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! مجھے اس سے کیا چیز بے خوف کرتی ہے کہ اس میں کوئی عذاب ہو؟ ایک قوم کو آندھی کے ساتھ عذاب دیا گیا اور ایک قوم نے عذاب دیکھا تو کہنے لگے: ”یہ بادل ہم پر بارش برسانے والا ہے۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا ہی بیان کرتی ہیں: [ كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الرِّيْحِ وَالْغَيْمِ عُرِفَ ذٰلِكَ فِيْ وَجْهِهِ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، فَإِذَا مَطَرَتْ سُرَّ بِهِ وَذَهَبَ عَنْهُ ذٰلِكَ، قَالَتْ عَائِشَةُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ إِنِّيْ خَشِيْتُ أَنْ يَكُوْنَ عَذَابًا سُلِّطَ عَلٰی أُمَّتِيْ، وَيَقُوْلُ إِذَا رَأَی الْمَطَرَ، رَحْمَةً ] [ مسلم، صلاۃ الاستسقاء، باب التعوذ عند رؤیۃ الریح…: ۸۹۹ ] ”جب ہوا اور بادل والا دن ہوتا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے میں پہچانا جاتا اور آپ (بے چینی کے عالم میں) کبھی اندر آتے کبھی باہر جاتے، جب بارش برسنے لگتی تو خوش ہو جاتے اور آپ کی وہ کیفیت ختم ہو جاتی۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا، میں نے آپ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ڈرتا ہوں کہیں وہ عذاب نہ ہو جو میری امت پر مسلط کیا گیا ہو۔“ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بارش کو دیکھتے تو کہتے: ”(یا اللہ! اسے) رحمت(بنا)۔“
اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا" آخرکار اُن کا حال یہ ہوا کہ اُن کے رہنے کی جگہوں کے سوا وہاں کچھ نظر نہ آتا تھا اِس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کر دے گی، پس وه ایسے ہوگئے کہ بجر ان کے مکانات کے اور کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ گنہگاروں کے گروه کو ہم یوں ہی سزا دیتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ہر چیز کو تباہ کر ڈالتی ہے اپنے رب کے حکم سے تو صبح رہ گئے کہ نظر نہ آتے تھے مگر ان کے سُونے مکان، ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں مجرموں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ اپنے پروردگار کے حکم سے ہر چیز کو تباہ و برباد کر دے گی۔ چنانچہ وہ ایسے ہو گئے کہ ان کے مکانوں کے سوا وہاں کچھ نظر نہیں آتا تھا ہم مجرم قوم کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
جو ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی، پس وہ اس طرح ہو گئے کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا کوئی چیز دکھائی نہ دیتی تھی، اسی طرح ہم مجرم لوگوں کو بدلہ دیتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم عاد کی تباہی کے اسباب ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے تو آپ اگلے انبیاء کے واقعات یاد کر لیجئے کہ ان کی قوم نے بھی ان کی تکذیب کی عادیوں کے بھائی سے مراد ہود پیغمبر ہیں علیہ السلام والصلوۃ۔ انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے عاد اولیٰ کی طرف بھیجا تھا جو «احقاف» میں رہتے تھے «احقاف» جمع ہے «حقف» کی اور «حقف» کہتے ہیں ریت کے پہاڑ کو۔ مطلق پہاڑ اور غار اور حضر موت کی وادی جس کا نام برہوت ہے جہاں کفار کی روحیں ڈالی جاتی ہیں یہ مطلب بھی «احقاف» کا بیان کیا گیا ہے قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ یمن میں سمندر کے کنارے ریت کے ٹیلوں میں ایک جگہ تھی جس کا نام شحر تھا یہاں یہ لوگ آباد تھے، [تفسیر ابن جریر الطبری:291/11] امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے کہ { جب دعا مانگے تو اپنے نفس سے شروع کرے اس میں ایک حدیث لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہم پر اور عادیوں کے بھائی پر رحم کرے“ }۔ [سنن ابن ماجہ:3852،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر فرماتا ہے کہ اللہ عزوجل نے ان کے اردگرد کے شہروں میں بھی اپنے رسول علیہم السلام مبعوث فرمائے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَجَــعَلْنٰھَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ» ۔ [2-البقرة:66] اور جیسے اللہ جل وعلا کا فرمان ہے «فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِّثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ إِذْ جَاءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّـهَ قَالُوا لَوْ شَاءَ رَبُّنَا لَأَنزَلَ مَلَائِكَةً فَإِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ كَافِرُونَ» ۔ [41-فصلت:14،13]
پھر فرماتا ہے کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم موحد بن جاؤ ورنہ تمہیں اس بڑے بھاری دن میں عذاب ہو گا۔ جس پر قوم نے کہا: کیا تو ہمیں ہمارے معبودوں سے روک رہا ہے؟ جا جس عذاب سے تو ہمیں ڈرا رہا ہے وہ لے آ۔ یہ تو اپنے ذہن میں اسے محال جانتے تھے تو جرات کر کے جلد طلب کیا۔ جیسے کہ اور آیت میں ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا» [42-الشورى:18] یعنی ایمان نہ لانے والے ہمارے عذابوں کے جلد آنے کی خواہش کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں ان کے پیغمبر نے کہا کہ اللہ ہی کو بہتر علم ہے اگر وہ تمہیں اسی لائق جانے گا تو تم پر عذاب بھیج دے گا۔ میرا منصب تو صرف اتنا ہی ہے کہ میں اپنے رب کی رسالت تمہیں پہنچا دوں لیکن میں جانتا ہوں کہ تم بالکل بےعقل اور بیوقوف لوگ ہو، اب اللہ کا عذاب آ گیا انہوں نے دیکھا کہ ایک کالا ابر ان کی طرف بڑھتا چلا آ رہا ہے چونکہ خشک سالی تھی، گرمی سخت تھی، یہ خوشیاں منانے لگے کہ اچھا ہوا ابر چڑھا ہے اور اسی طرف رخ ہے، اب بارش برسے گی۔ دراصل ابر کی صورت میں یہ وہ قہر الٰہی تھا جس کے آنے کی وہ جلدی مچا رہے تھے، اس میں وہ عذاب تھا، جسے ہود علیہ السلام سے یہ طلب کر رہے تھے وہ عذاب ان کی بستیوں کی تمام ان چیزوں کو بھی جن کی بربادی ہونے والی تھی تہس نہس کرتا ہوا آیا اور اسی کا اسے حکم تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ اَتَتْ عَلَيْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيْمِ» [51-الذاريات:42] یعنی جس چیز پر وہ گزر جاتی تھی اسے چورا چورا کر دیتی تھی، پس سب کے سب ہلاک و تباہ ہو گئے ایک بھی نہ بچ سکا۔ پھر فرماتا ہے ہم اسی طرح ان کا فیصلہ کرتے ہیں جو ہمارے رسولوں کو جھٹلائیں اور ہمارے احکام کی خلاف ورزی کریں ایک بہت ہی غریب حدیث میں ان کا جو قصہ آیا ہے وہ بھی سن لیجئے۔
{ سیدنا حارث بکری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں سیدنا علا بن حضرمی رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا رہا تھا۔ ربذہ میں مجھے بنو تمیم کی ایک بڑھیا ملی جس کے پاس سواری وغیرہ نہ تھی، مجھ سے کہنے لگی، اے اللہ کے بندے! میرا ایک کام اللہ کے رسول سے ہے، کیا تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دے گا؟ میں نے اقرار کیا اور انہیں اپنی سواری پر بٹھا لیا اور مدینہ شریف پہنچا میں نے دیکھا کہ مسجد نبوی لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہے، سیاہ رنگ جھنڈا لہرا رہا ہے اور بلال تلوار لٹکائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہیں میں نے دریافت کیا کہ کیا بات ہے؟ تو لوگوں نے مجھ سے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو کسی طرف بھیجنا چاہتے ہیں میں ایک طرف بیٹھ گیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل یا اپنے خیمے میں تشریف لے گئے تو میں بھی گیا اجازت طلب کی اور اجازت ملنے پر آپ کی خدمت میں باریاب ہوا۔ سلام علیک کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے اور بنو تمیم کے درمیان کچھ رنجش تھی؟ میں نے کہا: ہاں اور ہم ان پر غالب رہے تھے اور اب میرے اس سفر میں بنو تمیم کی ایک نادار بڑھیا راستے میں مجھے ملی اور یہ خواہش ظاہر کی کہ میں اسے اپنے ساتھ آپ کی خدمت میں پہنچاؤں چنانچہ میں اسے اپنے ساتھ لایا ہوں اور وہ دروازہ پر منتظر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بھی اندر بلا لو“، چنانچہ وہ آ گئیں میں نے کہا: یا رسول اللہ! اگر آپ ہم میں اور بنو تمیم میں کوئی روک کر سکتے ہیں تو اسے کر دیجئیے، اس پر بڑھیا کو حمیت لاحق ہوئی اور وہ بھرائی ہوئی آواز میں بول اٹھی کہ پھر یا رسول اللہ! آپ کا مضطر کہاں قرار کرے گا؟ میں نے کہا: سبحان اللہ میری تو وہی مثل ہوئی کہ ”اپنے پاؤں میں آپ ہی کلہاڑی ماری“ مجھے کیا خبر تھی کہ یہ میری ہی دشمنی کرے گی؟ ورنہ میں اسے لاتا ہی کیوں؟ اللہ کی پناہ، واللہ! کہیں ایسا نہ ہو کہ میں بھی مثل عادیوں کے قاصد کے ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ عادیوں کے قاصد کا واقعہ کیا ہے؟ باوجود یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس واقعہ سے بہ نسبت میرے بہت زیادہ واقف تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر میں نے وہ قصہ بیان کیا کہ عادیوں کی بستیوں میں جب سخت قحط سالی ہوئی تو انہوں نے اپنا ایک قاصد قیل نامی روانہ کیا، یہ راستے میں معاویہ بن بکر کے ہاں آ کر ٹھہرا اور شراب پینے لگا اور اس کی دونوں کنیزوں کا گانا سننے میں جن کا نام جرادہ تھا اس قدر مشغول ہوا کہ مہینہ بھر تک یہیں پڑا رہا پھر چلا اور جبال مہرہ میں جا کر اس نے دعا کی کہ اللہ تو خوب جانتا ہے میں کسی مریض کی دوا کے لیے یا کسی قیدی کا فدیہ ادا کرنے کے لیے تو آیا نہیں الٰہی عادیوں کو وہ پلا جو تو انہیں پلانے والا ہے۔ چنانچہ چند سیاہ رنگ بادل اٹھے اور ان میں سے ایک آواز آئی کہ ان میں سے جسے تو چاہے پسند کر لے چنانچہ اس نے سخت سیاہ بادل کو پسند کر لیا اسی وقت ان میں سے ایک آواز آئی کہ اسے راکھ اور خاک بنانے والا کر دے تاکہ عادیوں میں سے کوئی باقی نہ رہے۔ کہا اور مجھے جہاں تک علم ہوا ہے یہی ہے کہ ہواؤں کے مخزن میں سے صرف پہلے ہی سوراخ سے ہوا چھوڑی گئی تھی جیسے میری اس انگوٹھی کا حلقہ اسی سے سب ہلاک ہو گئے۔ ابووائل کہتے ہیں یہ بالکل ٹھیک نقل ہے عرب میں دستور تھا کہ جب کسی قاصد کو بھیجتے تو کہہ دیتے کہ عادیوں کے قاصد کی طرح نہ کرنا }۔ [مسند احمد:482/3:حسن] یہ روایت ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔
جیسے کہ سورۃ الاعراف کی تفسیر میں گزرا مسند احمد میں ہے کہ { سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کھل کھلا کر اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کے مسوڑھے نظر آئیں۔ آپ صرف تبسم فرمایا کرتے تھے اور جب ابر اٹھتا اور آندھی چلتی تو آپ کے چہرے سے فکر کے آثار نمودار ہو جاتے۔ چنانچہ ایک روز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! لوگ تو ابروباد کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ اب بارش برسے گی لیکن آپ کی اس کے بالکل برعکس حالت ہو جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ میں اس بات سے کہ کہیں اس میں عذاب ہو کیسے مطمئن ہو جاؤں؟ ایک قوم ہوا ہی سے ہلاک کی گئی ایک قوم نے عذاب کے بادل کو دیکھ کہا تھا کہ یہ ابر ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔“ صحیح بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے }۔ [صحیح بخاری:4828] مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی آسمان کے کسی کنارے سے ابر اٹھتا ہوا دیکھتے تو اپنے تمام کام چھوڑ دیتے اگرچہ نماز میں ہوں اور یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَآ فِیہ» اللہ میں تجھ سے اس برائی سے پناہ چاہتا ہوں جو اس میں ہے، پس اگر یہ کھل جاتا تو اللہ عزوجل کی حمد کرتے اور اگر برس جاتا تو یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ صَیِّباً نَّافِعًا» اے اللہ! اسے نفع دینے والا اور برسنے والا بنا دے }۔ [مسند احمد:190/6:صحیح]
صحیح مسلم میں روایت ہے کہ { جب ہوائیں چلتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرِهَا وَخَيْرِ مَا فِیھَا وَخَيْرَ مآ اَرسَلتَ بِہِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرّ مَآ فِیھَا وَشَرِ مَآ اَرسَلتَ بِہِ» یا اللہ! میں تجھ سے اس کی اور اس میں جو ہے اس کی اور جس کو یہ ساتھ لے کر آئی ہے اس کی بھلائی طلب کرتا ہوں اور تجھ سے اس کی اور اس میں جو ہے اس کی اور جس چیز کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے اس کی برائی سے پناہ چاہتا ہوں۔ اور جب ابر اٹھتا تو آپ کا رنگ متغیر ہو جاتا، کبھی اندر، کبھی باہر آتے کبھی جاتے۔ جب بارش ہو جاتی تو آپ کی یہ فکرمندی دور ہو جاتی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے سمجھ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ عائشہ خوف اس بات کا ہوتا ہے کہ کہیں یہ اسی طرح نہ ہو جس طرح قوم ہود نے اپنی طرف بادل بڑھتا دیکھ کر خوشی سے کہا تھا کہ یہ ابر ہمیں سیراب کرے گا }۔ [صحیح مسلم:899,15] سورۃ الاعراف میں عادیوں کی ہلاکت کا اور ہود کا پورا واقعہ گزر چکا ہے اس لیے ہم اسے یہاں نہیں دوہراتے «فللہ الحمد والمنہ» طبرانی کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { عادیوں پر اتنی ہی ہوا کھولی گئی تھی جتنا انگوٹھی کا حلقہ ہوتا ہے، یہ ہوا پہلے دیہات والوں اور بادیہ نشینوں پر آئی وہاں سے شہری لوگوں پر آئی جسے دیکھ کر یہ کہنے لگے کہ یہ ابر جو ہماری طرف بڑھا چلا آ رہا ہے یہ ضرور ہم پر بارش برسائے گا لیکن اس میں جنگلی لوگ تھے جو ان شہریوں پر گرا دئیے گئے اور سب ہلاک ہو گئے، ہوا کے خزانچیوں پر ہوا کی سرکشی اس وقت اتنی تھی کہ دروازوں کے سوراخوں سے وہ نکلی جا رہی تھی }۔ [طبرانی کبیر:12416:ضعیف] «واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم»
25۔ 1 یعنی مکین سب تباہ ہوگئے اور صرف مکانات نشان عبرت کے طور پر باقی رہ گئے۔
(آیت 25) ➊ { تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا:} یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”وہ ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی“ حالانکہ کئی چیزیں اس کے بعد بھی موجود رہیں، جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے سورۂ ہود (۵۸) میں فرمایا ہے کہ ہود علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والے اس عذاب سے محفوظ رہے۔ اہلِ علم نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ لفظ {” كُلٌّ“} سے کائنات کی ہر چیز مراد نہیں ہوتی، بلکہ ہر مقام پر اس کی مناسبت سے کل چیزیں مراد ہوتی ہیں، جیسا کہ ہُد ہُد نے ملکہ سبا کے متعلق کہا تھا: «وَ اُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ» [ النمل: ۲۳ ] ”اور اسے ہر چیز میں سے حصہ دیا گیا ہے۔“ ظاہر ہے اس سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن کی حکومت کے لیے ضرورت ہوتی ہے، ورنہ ہر چیز میں سے تو اسے حصہ نہیں دیا گیا تھا۔ اسی طرح یہاں ہر چیز کو برباد کرنے سے مراد ہر اس چیز کو برباد کرنا ہے جسے برباد کرنے کا اسے حکم دیا گیا تھا، جیسا کہ {” بِاَمْرِ رَبِّهَا “} (اپنے رب کے حکم کے ساتھ) کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ چنانچہ ہود علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والوں کو اس آندھی نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا، کیونکہ اسے یہی حکم تھا، جیسا کہ سورۂ ہود (۵۸) میں ہے۔ ➋ { فَاَصْبَحُوْا لَا يُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ …: ” فَاَصْبَحُوْا “} سے مراد یہاں ”انھوں نے صبح کی“ نہیں، بلکہ یہاں {”أَصْبَحَ“ ”صَارَ“} کے معنی میں ہے، یعنی ”وہ اس طرح ہو گئے“ کیونکہ وہ ہوا صرف ایک رات نہیں چلی کہ صبح ان کی یہ حالت ہوئی ہو، بلکہ سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی اور ایسی تند و تیز اور غضب ناک ہو کر چلی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ اَتَتْ عَلَيْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيْمِ» [ الذاریات: ۴۲ ] ”جو کسی چیز کو نہ چھوڑتی تھی جس پر سے گزرتی مگر اسے بوسیدہ ہڈی کی طرح کر دیتی تھی۔“ درخت، آدمی، جانور، مکان غرض ہر چیز ہوا نے اکھاڑ پھینکی۔ آخر مکانوں کے کھنڈروں یا گری ہوئی کھوکھلی کھجوروں کے تنوں جیسے لاشوں کے سو اکچھ نظر نہ آتا تھا، جو نشانِ عبرت بنے ہوئے تھے کہ اللہ کے مجرموں کا یہ حال ہوتا ہے۔ مراد کفار مکہ کو سمجھانا ہے کہ کفر پر اصرار کے نتیجے میں تمھارا بھی یہ حال ہو سکتا ہے۔
اُن کو ہم نے وہ کچھ دیا تھا جو تم لوگوں کو نہیں دیا ہے اُن کو ہم نے کان، آنکھیں اور دل، سب کچھ دے رکھے تھے، مگر نہ وہ کان اُن کے کسی کام آئے، نہ آنکھیں، نہ دل، کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے، اور اُسی چیز کے پھیر میں وہ آ گئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بالیقین ہم نے (قوم عاد) کو وه مقدور دیئے تھے جو تمہیں تو دیئے بھی نہیں اور ہم نے انہیں کان آنکھیں اور دل بھی دے رکھے تھے۔ لیکن ان کے کانوں اور آنکھوں اور دلوں نے انہیں کچھ بھی نفع نہ پہنچایا جبکہ وه اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرنے لگے اور جس چیز کا وه مذاق اڑایا کرتے تھے وہی ان پر الٹ پڑی
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے انہیں وہ مقدور دیے تھے جو تم کو نہ دیے اور ان کے لیے کان اور آنکھ اور دل بنائے تو ان کے کام کان اور آنکھیں اور دل کچھ کام نہ آئے جبکہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور انہیں گھیرلیا اس عذاب نے جس کی ہنسی بناتے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے ان لوگوں کو ان کاموں کی قدرت دی تھی جو تمہیں بھی نہیں دی اور ہم نے ان کو کان، آنکھیں اور دل دیئے تھے مگر ان کے کانوں اور آنکھوں اور دلوں نے کچھ بھی فائدہ نہ پہنچایا کیونکہ وہ آیاتِ الہیہ کا انکار کیا کرتے تھے اور ان کو اس چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے انھیں ان چیزوں میں قدرت دی جن میں ہم نے تمھیں قدرت نہیں دی اور ہم نے ان کے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تو نہ ان کے کان ان کے کسی کام آئے اور نہ ان کی آنکھیں اور نہ ان کے دل، کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور انھیں اس چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مغضوب شدہ قوموں کی نشاندہی ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ اگلی امتوں کو جو اسباب دنیوی مال و اولاد وغیرہ ہماری طرف سے دئیے گئے تھے ویسے تو تمہیں اب تک مہیا بھی نہیں، ان کے بھی کان آنکھیں اور دل تھے لیکن جس وقت انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور ہمارے عذابوں کا مذاق اڑایا تو بالاخر ان کے ظاہری اسباب انہیں کچھ کام نہ آئے اور وہ سزائیں ان پر برس پڑیں جن کی یہ ہمیشہ ہنسی کرتے رہے تھے۔ پس تمہیں ان کی طرح نہ ہونا چاہیئے ایسا نہ ہو کہ ان کے سے عذاب تم پر بھی آ جائیں اور تم بھی ان کی طرح جڑ سے کاٹ دئیے جاؤ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے اے اہل مکہ تم اپنے آس پاس ہی ایک نظر ڈالو اور دیکھو کہ کس قدر قومیں نیست و نابود کر دی گئی ہیں اور کس طرح انہوں نے اپنے کرتوت کے بدلے پائے ہیں احقاف جو یمن کے پاس ہے حضر موت کے علاقہ میں ہے، یہاں کے بسنے والے عادیوں کے انجام پر نظر ڈالو، تمہارے اور شام کے درمیان ثمودیوں کا جو حشر ہوا اسے دیکھو، اہل یمن اور اہل مدین کی قوم سبا کے نتیجہ پر غور کرو، تم تو اکثر غزوات اور تجارت وغیرہ کے لیے وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو، بحیرہ قوم لوط سے عبرت حاصل کرو وہ بھی تمہارے راستے میں ہی پڑتا ہے پھر فرماتا ہے ہم نے اپنی نشانیوں اور آیتوں سے خوب واضح کر دیا ہے تاکہ لوگ برائیوں سے بھلائیوں کی طرف لوٹ آئیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا جن جن معبودان باطل کی پرستش شروع کر رکھی تھی گو اس میں ان کا اپنا خیال تھا کہ اس کی وجہ سے ہم قرب الٰہی حاصل کریں گے، لیکن کیا ہمارے عذابوں کے وقت جبکہ ان کو ان کی مدد کی پوری ضرورت تھی انہوں نے ان کی کسی طرح مدد کی؟ ہرگز نہیں، بلکہ ان کی احتیاج اور مصیبت کے وقت وہ گم ہو گئے، ان سے بھاگ گئے، ان کا پتہ بھی نہ چلا الغرض ان کا پوجنا صریح غلطی تھی غرض جھوٹ تھا اور صاف افتراء اور فضول بہتان تھا کہ یہ انہیں معبود سمجھ رہے تھے پس ان کی عبادت کرنے میں اور ان پر اعتماد کرنے میں یہ دھوکے میں اور نقصان میں ہی رہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
2 6 ۔ 1 یہ اہل مکہ کو خطاب کر کے کہا جا رہا ہے کہ تم کیا چیز ہو تم سے پہلی قومیں جنہیں ہم نے ہلاک کیا قوت وشوکت میں تم سے کہیں زیادہ تھیں لیکن جب انہوں نے اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں آنکھ کان اور دل کو حق کے سننے دیکھنے اور اسے سمجھنے کے لیے استعمال نہیں کیا تو بالآخر ہم نے انہیں تباہ کردیا اور یہ چیزیں ان کے کچھ کام نہ آسکیں۔ 26۔ یعنی جس عذاب کو وہ انہونا سمجھ کر بطور مذاق کہا کرتے تھے کہ لے آ اپنا عذاب! جس سے تو ہمیں ڈراتا رہتا ہے، وہ عذاب آیا اور اس نے انہیں ایسا گھیرا کہ پھر اس سے نکل نہ سکے۔
(آیت 26) ➊ {وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِيْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِيْهِ: ”مَكَّنَ يُمَكِّنُ تَمْكِيْنًا“} کسی چیز پر قدرت دینا۔ {” اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ “} میں{ ” اِنْ “} شرطیہ نہیں بلکہ نافیہ ہے، یعنی ”اگر“ کے بجائے ”نہیں“ کے معنی میں ہے۔ قریش مکہ کو یہ بات کہی جا رہی ہے کہ جسمانی ڈیل ڈول، مال، اولاد، قوت، سلطنت، غرض وہ دنیوی اسباب جن پر ہم نے قومِ عاد کو قدرت عطا کی تھی تمھیں ان پر قدرت عطا نہیں کی، جب اللہ کے عذاب کے سامنے ان کی تمام تر قوت و شوکت تنکوں کی طرح اڑ گئی تو تمھاری کیا بساط ہے؟ یہ بات اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر فرمائی ہے، دیکھیے سورۂ روم (۹) اور سورۂ مومن (۲۱)۔ ➋ { وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْـِٕدَةً …:} دوسری جگہ ان کے متعلق فرمایا: «وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِيْنَ» [ العنکبوت: ۳۸] ”حالانکہ وہ بہت سمجھ دار تھے۔“ یعنی ہم نے انھیں سننے کے لیے کان، دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سوچ بچار کے لیے دل دیے تھے، مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو سننے، اس کی نشانیوں کو عبرت کے لیے دیکھنے اور آخرت کی زندگی کے متعلق غور و فکر کے بجائے ان سے اتنا ہی کام لیا جو دنیا کے مال و متاع کے حصول کے لیے مفید ہو۔ دنیا کے کام میں عقل مند تھے، لیکن وہ عقل نہ آئی جس سے آخرت درست ہو، آیاتِ الٰہی سنتے وقت ان کے کان بہرے ہو جاتے تھے اور آیاتِ الٰہی دیکھنے کے لیے ان کی آنکھیں بند ہی رہتی تھیں۔ پھر جب ان پر اللہ کا عذاب آیا تو ان کی عقل مندی ان کے کسی کام نہ آ سکی، کیونکہ وہ اللہ کی آیات تسلیم کرنے سے صاف انکار کیا کرتے تھے۔ ➌ { وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ:} یعنی وہ عذاب جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ جس عذاب سے ہمیں ڈراتے ہو وہ کب آ رہا ہے، اسی عذاب نے انھیں گھیر لیا اور ایسا گھیرا کہ پھر اس سے نکل نہ سکے۔
تمہارے گرد و پیش کے علاقوں میں بہت سی بستیوں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں ہم نے اپنی آیات بھیج کر بار بار طرح طرح سے اُن کو سمجھایا، شاید کہ وہ باز آ جائیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یقیناً ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں تباه کر دیں اور طرح طرح کی ہم نے اپنی نشانیاں بیان کر دیں تاکہ وه رجوع کر لیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے ہلاک کردیں تمہارے آس پاس کی بستیاں اور طرح طرح کی نشانیاں لائے کہ وہ باز آئیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے تمہارے اردگرد کی کئی بستیوں کو ہلاک و برباد کر دیا اور ہم نے اپنی (قدرت کی) نشانیاں پھیر پھیر کر(مختلف انداز سے) پیش کیں تاکہ وہ باز آجائیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تمھارے اردگرد کی بستیوں کو ہلاک کر دیا اور ہم نے پھیر پھیر کر آیات بیان کیں، شاید وہ لوٹ آئیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مغضوب شدہ قوموں کی نشاندہی ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ اگلی امتوں کو جو اسباب دنیوی مال و اولاد وغیرہ ہماری طرف سے دئیے گئے تھے ویسے تو تمہیں اب تک مہیا بھی نہیں، ان کے بھی کان آنکھیں اور دل تھے لیکن جس وقت انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور ہمارے عذابوں کا مذاق اڑایا تو بالاخر ان کے ظاہری اسباب انہیں کچھ کام نہ آئے اور وہ سزائیں ان پر برس پڑیں جن کی یہ ہمیشہ ہنسی کرتے رہے تھے۔ پس تمہیں ان کی طرح نہ ہونا چاہیئے ایسا نہ ہو کہ ان کے سے عذاب تم پر بھی آ جائیں اور تم بھی ان کی طرح جڑ سے کاٹ دئیے جاؤ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے اے اہل مکہ تم اپنے آس پاس ہی ایک نظر ڈالو اور دیکھو کہ کس قدر قومیں نیست و نابود کر دی گئی ہیں اور کس طرح انہوں نے اپنے کرتوت کے بدلے پائے ہیں احقاف جو یمن کے پاس ہے حضر موت کے علاقہ میں ہے، یہاں کے بسنے والے عادیوں کے انجام پر نظر ڈالو، تمہارے اور شام کے درمیان ثمودیوں کا جو حشر ہوا اسے دیکھو، اہل یمن اور اہل مدین کی قوم سبا کے نتیجہ پر غور کرو، تم تو اکثر غزوات اور تجارت وغیرہ کے لیے وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو، بحیرہ قوم لوط سے عبرت حاصل کرو وہ بھی تمہارے راستے میں ہی پڑتا ہے پھر فرماتا ہے ہم نے اپنی نشانیوں اور آیتوں سے خوب واضح کر دیا ہے تاکہ لوگ برائیوں سے بھلائیوں کی طرف لوٹ آئیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا جن جن معبودان باطل کی پرستش شروع کر رکھی تھی گو اس میں ان کا اپنا خیال تھا کہ اس کی وجہ سے ہم قرب الٰہی حاصل کریں گے، لیکن کیا ہمارے عذابوں کے وقت جبکہ ان کو ان کی مدد کی پوری ضرورت تھی انہوں نے ان کی کسی طرح مدد کی؟ ہرگز نہیں، بلکہ ان کی احتیاج اور مصیبت کے وقت وہ گم ہو گئے، ان سے بھاگ گئے، ان کا پتہ بھی نہ چلا الغرض ان کا پوجنا صریح غلطی تھی غرض جھوٹ تھا اور صاف افتراء اور فضول بہتان تھا کہ یہ انہیں معبود سمجھ رہے تھے پس ان کی عبادت کرنے میں اور ان پر اعتماد کرنے میں یہ دھوکے میں اور نقصان میں ہی رہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
27۔ 1 آس پاس سے عاد، ثمود اور لوط کی وہ بستیاں مراد ہیں جو حجاز کے قریب ہی تھیں، یمن اور شام و فلسطین کی طرف آتے جاتے ان سے ان کا گزر ہوتا تھا۔ 27۔ 2 یعنی ہم نے مختلف انداز سے اور مختلف انوواع کے دلائل ان کے سامنے پیش کئے کہ شاید وہ توبہ کرلیں۔ لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے۔
(آیت 27) ➊ { وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى:} انسان کی فطرت ہے کہ وہ دوسروں کو دیکھ کر عبرت حاصل کرتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہلِ مکہ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ تم اپنے اردگرد کی بستیوں پر نظر ڈالو اور دیکھو کس قدر قومیں نیست و نابود کر دی گئیں اور کس طرح انھوں نے اپنے کرتوتوں کے بدلے پائے ہیں۔ اردگرد سے مراد احقاف ہے جو یمن کے حضر موت کے علاقے میں ہے، وہاں کے بسنے والے عادیوں کے انجام پر نظر ڈالو۔ تمھارے اور شام کے درمیان مقامِ حجر میں ثمود کا جو حشر ہوا اسے دیکھو، یمن کی قوم سبا کے انجام پر غور کرو، مدین جو تمھارے اور غزہ کے درمیان ہے، تم وہاں آتے جاتے رہتے ہو اور قومِ لوط کی بستیاں بھی تمھارے راستے میں پڑتی ہیں، ان سب کے واقعات عرب میں مشہور و معروف تھے۔ (ابن کثیر) ➋ { وَ صَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ:} اس کی تفسیر دو طرح سے ہو سکتی ہے، ایک یہ کہ ہم نے ان بستیوں کے رہنے والوں کے لیے آیات کو پھیر پھیر کر اور کئی طرح سے کھول کر بیان کیا، تاکہ وہ پلٹ آئیں۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کفارِ مکہ کے متعلق فرما رہے ہیں کہ ہم نے ان کے لیے آیات کو پھیر پھیر کر بیان کیا، تاکہ وہ کفر و شرک سے پلٹ آئیں۔ اس صورت میں کلام میں التفات ہے کہ پچھلے جملے {” وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى “} میں کفارِ مکہ کو مخاطب فرمایا، پھر{” وَ صَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ “} میں ناراضی کے اظہار کے لیے ان کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ فرمایا۔
پھر کیوں نہ اُن ہستیوں نے اُن کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبود بنا لیا تھا؟ بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے، اور یہ تھا اُن کے جھوٹ اور اُن بناوٹی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس قرب الٰہی حاصل کرنے کے لئے انہوں نے اللہ کے سوا جن جن کو اپنا معبود بنا رکھا تھا انہوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی؟ بلکہ وه تو ان سے کھو گئے، (بلکہ دراصل) یہ ان کا محض جھوٹ اور (بالکل) بہتان تھا
احمد رضا خان بریلوی
تو کیوں نہ مدد کی ان کی جن کو انہوں نے اللہ کے سوا قرب حاصل کرنے کو خدا ٹھہرا رکھا تھا بلکہ وہ ان سے گم گئے اور یہ ان کا بہتان و افتراء ہے
علامہ محمد حسین نجفی
تو انہوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی جن کو انہوں نے خدا کے تقرب کیلئے معبود بنا رکھا تھا بلکہ وہ تو ان سے غائب ہو گئے، یہ تھا ان کا جھوٹ اور ان کا بہتان جو وہ باندھتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ان لوگوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی جنھیں انھوں نے قرب حاصل کرنے کے لیے اللہ کے سوا معبود بنایا؟ بلکہ وہ ان سے گم ہو گئے اور یہ ان کا جھوٹ تھا اور جو وہ بہتان باندھتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مغضوب شدہ قوموں کی نشاندہی ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ اگلی امتوں کو جو اسباب دنیوی مال و اولاد وغیرہ ہماری طرف سے دئیے گئے تھے ویسے تو تمہیں اب تک مہیا بھی نہیں، ان کے بھی کان آنکھیں اور دل تھے لیکن جس وقت انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور ہمارے عذابوں کا مذاق اڑایا تو بالاخر ان کے ظاہری اسباب انہیں کچھ کام نہ آئے اور وہ سزائیں ان پر برس پڑیں جن کی یہ ہمیشہ ہنسی کرتے رہے تھے۔ پس تمہیں ان کی طرح نہ ہونا چاہیئے ایسا نہ ہو کہ ان کے سے عذاب تم پر بھی آ جائیں اور تم بھی ان کی طرح جڑ سے کاٹ دئیے جاؤ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے اے اہل مکہ تم اپنے آس پاس ہی ایک نظر ڈالو اور دیکھو کہ کس قدر قومیں نیست و نابود کر دی گئی ہیں اور کس طرح انہوں نے اپنے کرتوت کے بدلے پائے ہیں احقاف جو یمن کے پاس ہے حضر موت کے علاقہ میں ہے، یہاں کے بسنے والے عادیوں کے انجام پر نظر ڈالو، تمہارے اور شام کے درمیان ثمودیوں کا جو حشر ہوا اسے دیکھو، اہل یمن اور اہل مدین کی قوم سبا کے نتیجہ پر غور کرو، تم تو اکثر غزوات اور تجارت وغیرہ کے لیے وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو، بحیرہ قوم لوط سے عبرت حاصل کرو وہ بھی تمہارے راستے میں ہی پڑتا ہے پھر فرماتا ہے ہم نے اپنی نشانیوں اور آیتوں سے خوب واضح کر دیا ہے تاکہ لوگ برائیوں سے بھلائیوں کی طرف لوٹ آئیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا جن جن معبودان باطل کی پرستش شروع کر رکھی تھی گو اس میں ان کا اپنا خیال تھا کہ اس کی وجہ سے ہم قرب الٰہی حاصل کریں گے، لیکن کیا ہمارے عذابوں کے وقت جبکہ ان کو ان کی مدد کی پوری ضرورت تھی انہوں نے ان کی کسی طرح مدد کی؟ ہرگز نہیں، بلکہ ان کی احتیاج اور مصیبت کے وقت وہ گم ہو گئے، ان سے بھاگ گئے، ان کا پتہ بھی نہ چلا الغرض ان کا پوجنا صریح غلطی تھی غرض جھوٹ تھا اور صاف افتراء اور فضول بہتان تھا کہ یہ انہیں معبود سمجھ رہے تھے پس ان کی عبادت کرنے میں اور ان پر اعتماد کرنے میں یہ دھوکے میں اور نقصان میں ہی رہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
28۔ 1 یعنی جن معبودوں کو وہ تقرب الہی کا ذریعہ سمجھتے تھے انہوں نے ان کی کوئی مدد نہیں کی بلکہ وہ اس موقعے پر آئے ہی نہیں بلکہ گم رہے اس سے بھی معلوم ہوا کہ مشرکین مکہ بتوں کو الہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ انہیں بارگاہ الہی میں قرب کا ذریعہ اور وسیلہ سمجھتے تھے اللہ نے اس وسیلے کو یہاں افک اور افتراء قرار دے کر واضح فرما دیا کہ یہ ناجائز اور حرام ہے۔
(آیت 28) ➊ {فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا …: ” قُرْبَانًا “} حال ہے یا مفعول لہ ہے، ترجمہ مفعول لہ کے مطابق کیا گیا ہے۔ اہل مکہ اور ان کے اردگرد کی قوموں کا سب سے بڑا اور مشترکہ جرم یہ تھا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا کئی ایسے الٰہ بنا رکھے تھے جن کے متعلق وہ سمجھتے تھے کہ وہ مصیبت کے وقت ان کے کام آتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی سفارش کرتے ہیں، اس کے پاس ان کی فریادیں پہنچاتے ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ سورۂ زمر میں گزر چکا ہے کہ مشرکینِ مکہ بھی اپنے پیش رو لوگوں کی طرح کہا کرتے تھے: «مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى» [ الزمر: ۳ ] ”ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں۔“ اور سورۂ یونس میں ہے: «هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ» [ یونس: ۱۸ ] ”یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔“ پھر چاہیے تو یہ تھا کہ جب اس جرم کی پاداش میں ان پر عذاب آیا تو وہ ان کی مدد کو پہنچتے، مگر کوئی ان کی مدد کو نہ پہنچا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر ان کے ان داتاؤں، حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں نے ان کی مدد کیوں نہ کی جنھیں ان لوگوں نے قرب حاصل کرنے کے لیے اللہ کے سوا معبود بنایا ہوا تھا؟ ➋ { بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ:} یعنی جب وہ وقت آیا جس کے لیے ان کی پوجا کی جاتی تھی اور ان کے سامنے نذرانے پیش کیے جاتے تھے، تو وہ معبود یوں غائب ہو گئے کہ کہیں ان کا سراغ نہ ملا۔ ➌ { وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ:} معلوم ہوا کہ ان کی وہ باتیں جو انھوں نے اپنے معبودوں کی دھاک بٹھانے کے لیے گھڑ رکھی تھیں سب جھوٹ تھیں اور وہ سراسر بہتان تھیں جو وہ باندھتے رہتے تھے۔
(اور وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے) جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تاکہ قرآن سنیں جب وہ اُس جگہ پہنچے (جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے) تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہو جاؤ پھر جب وہ پڑھا جا چکا تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یاد کرو! جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف متوجہ کیا کہ وه قرآن سنیں، پس جب (نبی کے) پاس پہنچ گئے تو (ایک دوسرے سے) کہنے لگے خاموش ہو جاؤ، پھر جب پڑھ کر ختم ہوگیا تو اپنی قوم کو خبردار کرنے کے لئے واپس لوٹ گئے
احمد رضا خان بریلوی
اور جبکہ ہم نے تمہاری طرف کتنے جن پھیرے کان لگا کر قرآن سنتے، پھر جب وہاں حاضر ہوئے آپس میں بولے خاموش رہو پھر جب پڑھنا ہوچکا اپنی قوم کی طرف ڈر سناتے پلٹے
علامہ محمد حسین نجفی
اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے جنات کے کچھ افراد کو آپ(ص) کی طرف متوجہ کیا تاکہ وہ غور سے قرآن سنیں۔ پس وہ اس جگہ پہنچے (جہاں قرآن پڑھا جا رہاتھا) تو (آپس میں کہنے لگے) خاموش ہو کر سنو پس جب (قرآن) پڑھا جا چکا تو وہ اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے بن کر لوٹے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ہم نے جنوں کے ایک گروہ کو تیری طرف پھیرا، جو قرآن غور سے سنتے تھے تو جب وہ اس کے پاس پہنچے تو انھوں نے کہا خاموش ہو جاؤ، پھر جب وہ پورا کیا گیا تو اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے بن کر واپس لوٹے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طائف سے واپسی پر جنات نے کلام الہٰی سنا ، شیطان بوکھلایا ٭٭
مسند امام احمد میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ { یہ واقعہ نخلہ کا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز عشاء ادا کر رہے تھے، یہ سب جنات سمٹ کر آپ کے اردگرد بھیڑ کی شکل میں کھڑے ہو گئے }۔ [مسند احمد:167/1:حسن] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ { یہ جنات «نصیبین» کے تھے تعداد میں سات تھے }۔
کتاب دلائل النبوۃ میں بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ { نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنات کو سنانے کی غرض سے قرآن پڑھا تھا، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا، آپ تو اپنے صحابہ کے ساتھ عکاظ کے بازار جا رہے تھے ادھر یہ ہوا تھا شیاطین کے اور آسمانوں کی خبروں کے درمیان روک ہو گئی تھی اور ان پر شعلے برسنے شروع ہو گئے تھے۔ شیاطین نے آ کر اپنی قوم کو یہ خبر دی تو انہوں نے کہا کوئی نہ کوئی نئی بات پیدا ہوئی ہے جاؤ تلاش کرو پس یہ نکل کھڑے ہوئے ان میں کی جو جماعت عرب کی طرف متوجہ ہوئی تھی وہ جب یہاں پہنچی تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوق عکاظ کی طرف جاتے ہوئے نخلہ میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کی نماز پڑھا رہے تھے ان کے کانوں میں جب آپ کی تلاوت کی آواز پہنچی تو یہ ٹھہر گئے اور کان لگا کر بغور سننے لگے اس کے بعد انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ بس یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے تمہارا آسمانوں تک پہنچنا موقوف کر دیا گیا ہے یہاں سے فوراً ہی واپس لوٹ کر اپنی قوم کے پاس پہنچے اور ان سے کہنے لگے «قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا» [72-الجن:1] ہم نے عجیب قرآن سنا جو نیکی کا رہبر ہے ہم تو اس پر ایمان لا چکے اور اقرار کرتے ہیں کہ اب ناممکن ہے کہ اللہ کے ساتھ ہم کسی اور کو شریک کریں۔ اس واقعہ کی خبر اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ الجن میں دی }، یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:773]
مسند میں ہے { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنات وحی الٰہی سنا کرتے تھے ایک کلمہ جب ان کے کان میں پڑ جاتا تو وہ اس میں دس ملا لیا کرتے پس وہ ایک تو حق نکلتا باقی سب باطل نکلتے اور اس سے پہلے ان پر تارے پھینکے نہیں جاتے تھے۔ پس جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو ان پر شعلہ باری ہونے لگی، یہ اپنے بیٹھنے کی جگہ پہنچتے اور ان پر شعلہ گرتا اور یہ ٹھہر نہ سکتے انہوں نے آ کر ابلیس سے یہ شکایت کی تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نخلہ کی دونوں پہاڑیوں کے درمیان نماز پڑھتے ہوئے پایا اور جا کر اسے خبر دی اس نے کہا بس یہی وجہ ہے جو آسمان محفوظ کر دیا گیا اور تمہارا جانا بند ہوا }۔ یہ روایت ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ [سنن ترمذي:3324،قال الشيخ الألباني:صحیح] حسن بصری رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے کہ اس واقعہ کی خبر تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آئی تب آپ نے یہ معلوم کیا۔ سیرت ابن اسحاق میں محمد بن کعب کا ایک لمبا بیان منقول ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طائف جانا انہیں اسلام کی دعوت دینا ان کا انکار کرنا وغیرہ پورا واقعہ بیان ہے۔ حسن رحمہ اللہ نے اس دعا کا بھی ذکر کیا ہے جو آپ نے اس تنگی کے وقت کی تھی جو یہ ہے { «اللّهُمّ إلَيْك أَشْكُو ضَعْفَ قُوّتِي، وَقِلّةَ حِيلَتِي، وَهَوَانِي عَلَى النّاسِ، يَا أَرْحَمَ الرّاحِمِينَ! أَنْتَ رَبّ الْمُسْتَضْعَفِينَ وَأَنْتَ رَبّي، إلَى مَنْ تَكِلُنِي؟ إلَى بَعِيدٍ يَتَجَهّمُنِي؟ أَمْ إلَى عَدُوّ مَلّكْتَهُ أَمْرِي؟ إنْ لَمْ يَكُنْ بِك عَلَيّ غَضَبٌ فَلَا أُبَالِي، وَلَكِنّ عَافِيَتَك هِيَ أَوْسَعُ لِي، أَعُوذُ بِنُورِ وَجْهِك الّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ الظّلُمَاتُ وَصَلُحَ عَلَيْهِ أَمْرُ الدّنْيَا وَالْآخِرَةِ مِنْ أَنْ تُنْزِلَ بِي غَضَبَك، أَوْ يَحِلّ عَلَيّ سُخْطُكَ، لَك الْعُتْبَى حَتّى تَرْضَى، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوّةَ إلّا بِك» یعنی اپنی کمزوری اور بےسروسامانی اور کسمپرسی کی شکایت صرف تیرے سامنے کرتا ہوں۔ اے ارحم الراحمین! تو دراصل سب سے زیادہ رحم و کرم کرنے والا ہے اور کمزوروں کا رب تو ہی ہے میرا پالنہار بھی تو ہی ہے، تو مجھے کس کو سونپ رہا ہے کسی دوری والے دشمن کو جو مجھے عاجز کر دے یا کسی قرب والے دوست کو جسے تو نے میرے بارے اختیار دے رکھا ہو، اگر تیری کوئی خفگی مجھ پر نہ ہو تو مجھے اس درد دکھ کی کوئی پرواہ نہیں لیکن تاہم اگر تو مجھے عافیت کے ساتھ ہی رکھ تو وہ میرے لیے بہت ہی راحت رساں ہے، میں تیرے چہرے کے اس نور کے باعث جس کی وجہ سے تمام اندھیریاں جگمگا اٹھی ہیں اور دین و دنیا کے تمام امور کی اصلاح کا مدار اسی پر ہے تجھ سے اس بات کی پناہ طلب کرتا ہوں کہ مجھ پر تیرا عتاب اور تیرا غصہ نازل ہو یا تیری ناراضگی مجھ پر آ جائے، مجھے تیری ہی رضا مندی اور خوشنودی درکار ہے اور نیکی کرنے اور بدی سے بچنے کی طاقت تیری ہی مدد سے ہے۔ اسی سفر کی واپسی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نخلہ میں رات گزاری اور اسی رات قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے «نصیبین» کے جنوں نے آپ کو سنا }۔ [سیرۃ ابن ہشام21/2:مرسل] یہ ہے تو صحیح لیکن اس میں قول تامل طلب ہے اس لیے کہ جنات کا، کلام اللہ سننے کا واقعہ وحی شروع ہونے کے زمانے کا ہے جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اوپر بیان کردہ حدیث سے ثابت ہو رہا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طائف جانا اپنے چچا ابوطالب کے انتقال کے بعد ہوا ہے جو ہجرت کے ایک یا زیادہ سے زیادہ دو سال پہلے کا واقعہ ہے جیسے کہ سیرت ابن اسحاق وغیرہ میں ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ابن ابی شیبہ میں ان جنات کی گنتی نو کی ہے جن میں سے ایک کا نام زوبعہ ہے۔ انہی کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں [دلائل النبوۃ للبیهقی:228/2:] پس یہ روایت اور اس سے پہلے کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کا اقتضاء یہ ہے کہ اس مرتبہ جو جن آئے تھے ان کی موجودگی کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم نہ تھا یہ تو آپ کی بے خبری میں ہی آپ کی زبانی قرآن سن کر واپس لوٹ گئے اس کے بعد بطور وفد فوجیں کی فوجیں اور جتھے کے جتھے ان کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جیسے کہ اس ذکر کے احادیث و آثار اپنی جگہ آ رہے ہیں۔ «ان شاءاللہ» بخاری و مسلم میں ہے { عبدالرحمٰن نے مسروق رحمہا اللہ سے پوچھا کہ جس رات جنات نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سنا تھا اس رات کس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا ذکر کیا تھا؟ تو فرمایا مجھ سے تیرے والد سیدنا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا ہے ان کی آگاہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک درخت نے دی تھی }۔ [صحیح بخاری:3859] تو ممکن ہے کہ یہ خبر پہلی دفعہ کی ہو اور اثبات کو ہم نفی پر مقدم مان لیں۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ جب وہ سن رہے تھے آپ کو تو کوئی خبر نہ تھی یہاں تک کہ اس درخت نے آپ کو ان کے اجتماع کی خبر دی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ اس کے بعد والے کئی واقعات میں سے ایک ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
امام حافظ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہلی مرتبہ نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں کو دیکھا نہ خاص ان کے سنانے کے لیے قرآن پڑھا ہاں البتہ اس کے بعد جن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قرآن پڑھ کر سنایا اور اللہ عزوجل کی طرف بلایا جیسے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ اس کی روایتیں سنئے۔ { علقمہ رحمہ اللہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہیں کہ کیا تم میں سے کوئی اس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا؟ تو آپ نے جواب دیا کہ کوئی نہ تھا آپ رات بھر ہم سے غائب رہے اور ہمیں رہ رہ کر باربار یہی خیال گزرا کرتا تھا کہ شاید کسی دشمن نے آپ کو دھوکا دے دیا، اللہ نہ کرے آپ کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہو، وہ رات ہماری بڑی بری طرح کٹی، صبح صادق سے کچھ ہی پہلے ہم نے دیکھا کہ آپ غار حرا سے واپس آ رہے ہیں، پس ہم نے رات کی اپنی ساری کیفیت بیان کر دی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جنات کا قاصد آیا تھا جس کے ساتھ جا کر میں نے انہیں قرآن سنایا“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں لے کر گئے اور ان کے نشانات اور ان کی آگ کے نشانات ہمیں دکھائے۔ شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں انہوں نے آپ سے توشہ طلب کیا تو عامر کہتے ہیں یعنی مکے میں اور یہ جن جزیرے کے تھے تو آپ نے فرمایا: ”ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام ذکر کیا گیا ہو وہ تمہارے ہاتھوں میں پہلے سے زیادہ گوشت والی ہو کر پڑے گی، اور لید اور گوبر تمہارے جانوروں کا چارہ بنے گا، پس اے مسلمانو! ان دونوں چیزوں سے استنجاء نہ کرو یہ تمہارے جن بھائیوں کی خوراک ہیں“ }۔ [صحیح مسلم:450-150] دوسری روایت میں ہے کہ { اس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پا کر ہم بہت ہی گھبرائے تھے اور تمام وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کر آئے تھے }۔ [ایضاً] اور حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات میں جنات کو قرآن سناتا رہا اور جنوں میں ہی اسی شغل میں رات گزاری“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری31320:ضعیف]
ابن جریر میں { سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو چاہے آج کی رات جنات سے دلچسپی لینے والا میرے ساتھ رہے“، پس میں موجود ہو گیا آپ مجھے لے کر چلے جب مکہ شریف کے اونچے حصے میں پہنچے تو آپ نے اپنے پاؤں سے ایک خط کھینچ دیا اور مجھ سے فرمایا: ”بس یہیں بیٹھے رہو“، پھر آپ چلے اور ایک جگہ پر کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرأت شروع کی پھر تو اس قدر جماعت آپ کے اردگرد ٹھٹ لگا کر کھڑی ہو گئی کہ میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت سننے سے بھی رہ گیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ جس طرح ابر کے ٹکڑے پھٹتے ہیں اس طرح وہ ادھر ادھر جانے لگے اور یہاں تک کہ اب بہت تھوڑے باقی رہ گئے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت فارغ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے دور نکل گئے اور حاجت سے فارغ ہو کر میرے پاس تشریف لائے اور پوچھنے لگے ”وہ باقی کے کہاں ہیں؟“ میں نے کہا: وہ یہ ہیں پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہڈی اور لید دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ان دونوں چیزوں سے استنجاء کرنے سے منع فرما دیا }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:31319:ضعیف] اس روایت کی دوسری سند میں ہے کہ جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو بٹھایا تھا وہاں بٹھا کر فرما دیا تھا کہ { خبردار یہاں سے نکلنا نہیں ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے }۔
اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت آ کر ان سے دریافت کیا کہ کیا تم سو گئے تھے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں نہیں , اللہ کی قسم! میں نے تو کئی مرتبہ چاہا کہ لوگوں سے فریاد کروں لیکن میں نے سن لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنی لکڑی سے دھمکا رہے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ بیٹھ جاؤ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم یہاں سے باہر نکلتے، تو مجھے خوف تھا کہ ان میں کے بعض تمہیں اچک نہ لے جائیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اچھا تم نے کچھ دیکھا بھی؟ میں نے کہا: ہاں، لوگ تھے سیاہ انجان خوفناک، سفید کپڑے پہنے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ [ «نصیبین» ] کے جن تھے انہوں نے مجھ سے توشہ طلب کیا تھا پس میں نے ہڈی اور لید، گوبر دیا، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس سے انہیں کیا فائدہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ہڈی ان کے ہاتھ لگتے ہی ایسی ہو جائے گی جیسی اس وقت تھی جب کھائی گئی تھی یعنی گوشت والی ہو کر انہیں ملے گی اور لید میں بھی وہی دانے پائیں گے جو اس روز تھے جب وہ دانے کھائے گئے تھے پس ہم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء سے نکل کر ہڈی لید اور گوبر سے استنجاء نہ کرے“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:31317،ضعیف] اس روایت کی دوسری سند میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پندرہ جنات جو آپس میں چچازاد اور پھوپھی زاد بھائی ہیں آج رات مجھ سے قرآن سننے کیلئے آنے والے ہیں۔ اس میں ہڈی اور لید کے ساتھ کوئلے کا لفظ بھی ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دن نکلے میں اسی جگہ گیا تو دیکھا کہ وہ کوئی ساٹھ اونٹ بیٹھنے کی جگہ ہے }۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:231/2:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ { جب جنات کا اژدھام ہو گیا تو ان کے سردار نے کہا: یا رسول اللہ! میں انہیں ادھر ادھر کر کے آپ کو اس تکلیف سے بچا لیتا ہوں، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ سے زیادہ مجھے کوئی بچانے والا نہیں۔“ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنات والی رات میں مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! پانی تو نہیں البتہ ایک ڈولچی نبیذ ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمدہ کھجوریں اور پاکیزہ پانی“ }۔ [سنن ابوداود:84،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد کی اس حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس سے وضو کراؤ“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور فرمایا: ”یہ تو پینے کی اور پاک چیز ہے“ }۔ [مسند احمد:398/1:ضعیف] { جب آپ لوٹ کر آئے تو سانس چڑھ رہا تھا میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس میرے انتقال کی خبر آئی ہے“ }۔ [مسند احمد:449/1:ضعیف] یہی حدیث قدرے زیادتی کے ساتھ حافظ ابونعیم کی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی ہے اس میں ہے کہ { میں نے یہ سن کر کہا: پھر یا رسول اللہ! اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد کر جائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”کس کو؟“ میں نے کہا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے چلتے چلتے پھر کچھ دیر بعد یہی حالت طاری ہوئی۔ میں نے وہی سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی جواب دیا۔ میں نے خلیفہ مقرر کرنے کو کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کسے؟“ میں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس پر آپ خاموش ہو گئے کچھ دور چلنے کے بعد پھر یہی حالت اور یہی سوال جواب ہوئے اب کی مرتبہ میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا نام پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر یہ لوگ ان کی اطاعت کریں تو سب جنت میں چلے جائیں گے۔“ } [طبرانی کبیر:9970:ضعیف] لیکن یہ حدیث بالکل ہی غریب ہے اور بہت ممکن ہے کہ یہ محفوظ نہ ہو اور اگر صحت تسلیم کر لی جائے تو اس واقعہ کو مدینہ کا واقعہ ماننا پڑے گا۔ وہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جنوں کے وفود آئے تھے جیسے کہ ہم عنقریب ان شاءاللہ تعالیٰ بیان کریں گے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری وقت فتح مکہ کے بعد تھا جب کہ دین الٰہی میں انسانوں اور جنوں کی فوجیں داخل ہو گئیں اور سورۃ «إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّـهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا» [110-النصر:1-3] ، اتر چکی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر انتقال دی گئی تھی۔ جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی اس پر موافقت ہے جو حدیثیں ہم اسی سورت کی تفسیر میں لائیں گے ان شاءاللہ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
مندرجہ بالا حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے لیکن اس کی سند بھی غریب ہے اور سیاق بھی غریب ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جنات جزیرہ موصل کے تھے ان کی تعداد بارہ ہزار کی تھی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس خط کشیدہ کی جگہ میں بیٹھے ہوئے تھے، لیکن جنات کے کھجوروں کے درختوں کے برابر کے قد و قامت وغیرہ دیکھ کر ڈر گئے اور بھاگ جانا چاہا لیکن فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم یاد آ گیا کہ اس حد سے باہر نہ نکلنا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس حد سے باہر آ جاتے تو قیامت تک ہماری تمہاری ملاقات نہ ہو سکتی“ اور روایت میں ہے کہ جنات کی یہ جماعت جن کا ذکر آیت «وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا أَنصِتُوا فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا إِلَى قَوْمِهِم مُّنذِرِينَ» [46-الأحقاف:29] میں ہے نینویٰ کی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ انہیں قرآن سناؤں تم میں سے میرے ساتھ کون چلے گا؟ اس پر سب خاموش ہو گئے، دوبارہ پوچھا: پھر خاموشی رہی، تیسری مرتبہ دریافت کیا تو قبیلہ ہذیل کے شخص سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تیار ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ساتھ لے کر حجون کی گھاٹی میں گئے۔ ایک لکیر کھینچ کر انہیں یہاں بٹھا دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے۔ یہ دیکھنے لگے کہ گدھوں کی طرح کے زمین کے قریب اڑتے ہوئے کچھ جانور آ رہے ہیں، تھوڑی دیر بعد بڑا غل غپاڑہ سنائی دینے لگا یہاں تک کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر ڈر لگنے لگا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ شور و غل کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے ایک مقتول کا قصہ تھا، جس میں یہ مختلف تھے، ان کے درمیان صحیح فیصلہ کر دیا گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:297/11:مرسل] یہ واقعات صاف ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قصدًا جا کر جنات کو قرآن سنایا، انہیں اسلام کی دعوت دی اور جن مسائل کی اس وقت انہیں ضرورت تھی وہ سب بتا دئیے۔ ہاں پہلی مرتبہ جب جنات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی قرآن سنا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ معلوم تھا، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سنانے کی غرض سے قرآن پڑھا تھا، جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس کے بعد وہ وفود کی صورت میں آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمداً تشریف لے گئے اور انہیں قرآن سنایا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت نہ تھے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بات چیت کی انہیں اسلام کی دعوت دی البتہ کچھ فاصلہ پر دور بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ کے ساتھ اس واقعہ میں سوائے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اور کوئی نہ تھا اور دوسری تطبیق ان روایات میں جن میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تھے اور جن میں ہے کہ نہ تھے یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پہلی دفعہ نہ تھے دوسری مرتبہ تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
یہ بھی مروی ہے کہ نخلہ میں جن جنوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی تھی وہ نینویٰ کے تھے اور مکہ شریف میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے وہ (نصیبین) کے تھے۔ اور یہ جو روایتوں میں آیا ہے کہ ہم نے وہ رات بہت بری بسر کی اس سے مراد سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سوا اور صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں، جنہیں اس بات کا علم نہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنات کو قرآن سنانے گئے ہیں۔ لیکن یہ تاویل ہے ذرا دور کی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» بیہقی میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حاجت اور وضو کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پانی کی ڈولچی لیے ہوئے جایا کرتے تھے، ایک دن یہ پیچھے پیچھے پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون ہے؟“ جواب دیا کہ میں ابوہریرہ ہوں، فرمایا: ”میرے استنجے کے لیے پتھر لاؤ لیکن ہڈی اور لید نہ لانا“، میں اپنی جھولی میں پتھر بھر لایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رکھ دئیے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو چکے اور چلنے لگے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا اور پوچھا یا رسول اللہ! کیا وجہ ہے جو آپ نے ہڈی اور لید سے منع فرما دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”میرے پاس [ نصیبین ] کے جنوں کا وفد آیا تھا اور انہوں نے مجھ سے توشہ طلب کیا تھا تو میں نے اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا کی کہ وہ جس لید اور ہڈی پر گذریں اسے طَعام پائیں“ }۔ [بیهقی فی السنن الکبریٰ:233/2:ضعیف]
صحیح بخاری میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے [صحیح بخاری:3860] پس یہ حدیث اور اس سے پہلے کی حدیثیں دلالت کرتی ہیں کہ جنات کا وفد آپ کے پاس اس کے بعد بھی آیا تھا۔ اب ہم ان احادیث کو بیان کرتے ہیں جو دلالت کرتی ہیں کہ جنات آپ کے پاس کئی دفعہ حاضر ہوئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جو روایت اس سے پہلے بیان ہو چکی ہے اس کے سوا بھی آپ سے دوسری سند سے مروی ہے ابن جریر میں ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:297/11] آپ فرماتے ہیں یہ سات جن تھے (نصیبین) کے رہنے والے۔ انہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے قاصد بنا کر جنات کی طرف بھیجا تھا، مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ جنات تعداد میں سات تھے (نصیبین) کے تھے ان میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین کو اہل حران سے، کہا اور چار کو اہل (نصیبین) سے، ان کے نام یہ ہیں۔ «حسی» ، «حسا» ، «منسی» ، «ساحر» ، «ناصر» ، «الاردوبیان» ، «الاحتم» ۔
ابوحمزہ ثمالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں انہیں بنو شیصبان کہتے ہیں یہ قبیلہ جنات کے اور قبیلوں سے تعداد میں بہت زیادہ تھا اور یہ ان میں نصب کے بھی شریف مانے جاتے تھے اور عموماً یہ ابلیس کے لشکروں میں سے تھے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ نو تھے ان میں سے ایک کا نام روبعہ تھا، اصل نخلہ سے آئے تھے۔ بعض حضرات سے مروی ہے کہ یہ پندرہ تھے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ساٹھ اونٹوں پر آئے تھے اور ان کے سردار کا نام وردان تھا اور کہا گیا ہے کہ تین سو تھے اور یہ بھی مروی ہے کہ بارہ ہزار تھے۔ ان سب میں تطبیق یہ ہے کہ چونکہ وفود کئی ایک آئے تھے ممکن ہے کہ کسی میں چھ سات نو ہی ہوں کسی میں زیادہ کسی میں اس سے بھی زیادہ۔ اس پر دلیل صحیح بخاری شریف کی یہ روایت بھی ہے کہ { سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جس چیز کی نسبت جب کبھی کہتے کہ میرے خیال میں یہ اس طرح ہو گی تو وہ عمومًا اسی طرح نکلتی، ایک مرتبہ آپ بیٹھے ہوئے تھے تو ایک حسین شخص گزرا آپ رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ کر فرمایا: اگر میرا گمان غلط نہ ہو تو یہ شخص اپنے جاہلیت کے زمانہ میں ان لوگوں کا کاہن تھا، جانا ذرا اسے لے آنا، جب وہ آ گیا تو آپ نے اپنا یہ خیال اس پر ظاہر فرمایا، وہ کہنے لگا مسلمانوں میں اس ذہانت و فطانت کا کوئی شخص آج تک میری نظر سے نہیں گزرا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اب میں تجھ سے کہتا ہوں کہ تو اپنی کوئی صحیح اور سچی خبر سنا، اس نے کہا: بہت اچھا سنئے میں جاہلیت کے زمانہ میں ان کا کاہن تھا، میرے پاس میرا جن جو سب سے زیادہ تعجب خیز خبر لایا وہ سنئے۔ میں ایک مرتبہ بازار جا رہا تھا تو وہ آ گیا اور سخت گھبراہٹ میں تھا اور کہنے لگا، کیا تو نے جنوں کی بربادی مایوسی اور ان کے پھیلنے کے بعد سمٹ جانا اور ان کی درگت نہیں دیکھی؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے یہ سچا ہے میں ایک مرتبہ ان کے بتوں کے پاس سویا ہوا تھا ایک شخص نے وہاں ایک بچھڑا چڑھایا کہ ناگہاں ایک سخت پُرزور آواز آئی، ایسی کہ اتنی بلند اور کرخت آواز میں نے کبھی نہیں سنی اس نے کہا: اے جلیح! نجات دینے والا امر آ چکا، ایک شخص ہے جو فصیح زبان سے «لا الہ الا اللہ» کی منادی کر رہا ہے۔ سب لوگ تو مارے ڈر کے بھاگ گئے لیکن میں وہیں بیٹھا رہا کہ دیکھوں آخر یہ کیا ہے؟ کہ دوبارہ پھر اسی طرح وہی آواز سنائی دی اور اس نے وہی کہا پس کچھ ہی دن گزرے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی آوازیں ہمارے کانوں میں پڑنے لگیں }۔ [صحیح بخاری:3866] اس روایت سے ظاہر الفاظ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ خود عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ آوازیں اس ذبح شدہ بچھڑے سے سنیں اور ایک ضعیف روایت میں صریح طور پر یہ آ بھی گیا ہے لیکن باقی اور روایتیں یہ بتلا رہی ہیں کہ اسی کاہن نے اپنے دیکھنے سننے کا ایک واقعہ یہ بھی بیان کیا۔ «وَاللهُ اَ
29۔ 1 صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ مکہ کے قریب نخلہ وادی میں پیش آیا، جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحاب اکرام کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ جنوں کو تجسس تھا کہ آسمان پر ہم پر بہت زیادہ سختی کردی گئی ہے اب ہمارا وہاں جانا تقریبًا ناممکن بنادیا گیا ہے، کوئی بہت ہی اہم واقعہ رونما ہوا ہے جس کے نتیجے میں ایسا ہوا ہے۔ چناچہ مشرق و مغرب کے مختلف اطراف میں جنوں کی ٹولیاں واقعے کا سراغ لگانے کے لئے پھیل گئیں ان میں سے ایک ٹو لی نے یہ قرآن سنا اور یہ بات سمجھ لی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا یہ واقعہ ہی ہم پر آسمان کی بندش کا سبب ہے اور جنوں کی یہ ٹولی آپ پر ایمان لے آئی اور جا کر اپنی قوم کو بھی بتلایا (مسلم بخاری) (صحیح بخاری)۔ میں بھی بعض باتوں کا تذکرہ ہے کتاب مناقب الانصار باب ذکر الجن بعض دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد آپ جنوں کی دعوت پر ان کے ہاں بھی تشریف لے گئے اور انہیں جا کر اللہ کا پیغام سنایا اور متعدد مرتبہ جنوں کا وفد آپ کی خدمت میں بھی حاضر ہوا (فتح الباری، تفسیر ابن کثیر) 29۔ 2 یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تلاوت قرآن ختم ہوگی۔
(آیت 29) ➊ {وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ …:” اِذْ “} سے پہلے {”اُذْكُرْ“} محذوف ہے جس کا عطف اس سے پہلے مذکور آیت {” وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ “} پر ہے۔ یعنی کفارِ مکہ کے لیے ہود علیہ السلام اور ان کی قوم عاد کا ذکر کیجیے جو ان سے کہیں زیادہ قوت و شوکت والے تھے کہ اپنے رسول کو جھٹلانے پر ان کا کیا حال ہوا، اسی طرح اہلِ مکہ کے اردگرد کی بستیوں کے کفر پر اصرار کا انجام کیا ہوا، تاکہ اہلِ مکہ کو ان کے انجام سے عبرت ہو اور وہ کفر و شرک سے باز آ جائیں۔ {” وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ “} اور ان کفار کے لیے اس وقت کا ذکر کیجیے جب ہم نے جنوں کے ایک گروہ کا رخ آپ کی طرف پھیرا اور انھوں نے آپ سے قرآن سنا۔ مقصد کفارِ مکہ کو شرم دلانا ہے کہ اپنی جنس انسان، اپنی نسل عرب، اپنی قوم قریش اور اپنے شہر مکہ میں مبعوث رسول کی زبان سے ان پر نازل شدہ قرآن جیسی فصیح و بلیغ اور معجز کتاب مدت سے سننے کے باوجود نہ تم پر قرآن کا کچھ اثر ہوا، نہ تم رسول پر ایمان لائے اور نہ شرک کی نجاست سے پاک ہو سکے، ذرا جنوں کے اس گروہ کو بھی دیکھو جو اچانک اس موقع پر پہنچا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھ رہے تھے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنس یا قوم کے فرد نہیں تھے بلکہ ایک الگ جنس سے تھے، شہر بھی ان کا کوئی اور تھا، راستے میں انھیں قرآن سننے کا اتفاق ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم بھی نہ تھا کہ جنوں کا کوئی گروہ میرا قرآن سن رہا ہے، اس کے باوجود ان کے طرزِ عمل اور اپنے طرزِ عمل کا موازنہ کر لو۔ ➋ {فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا:} جب وہ اس موقع پر حاضر ہوئے تو ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ خاموش ہو جاؤ، تاکہ ہم غور سے قرآن سن سکیں۔ ان جنوں کو دیکھو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ توفیق سے خود ہی اس حکم پر عمل کر رہے ہیں جو سورۂ اعراف میں ہے: «وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» [ الأعراف: ۲۰۴ ] ”اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور چپ رہو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“ اور اپنے آپ کو دیکھو، تمھاری روش وہ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے حم السجدہ میں فرمایا ہے: «وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ» [ حٰمٓ السجدۃ: ۲۶ ] ” اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، اس قرآن کو مت سنو اور اس میں شور کرو، تاکہ تم غالب رہو۔“ وہ ایک دوسرے کو خاموش رہ کر سننے کی تلقین کر رہے ہیں اور تم ایک دوسرے کو سننے سے روک رہے ہو۔ کم از کم سن تو لو، تاکہ ان کی طرح رحم کا دروازہ تمھارے لیے بھی کھل سکے، صرف تکبر اور غلبے کی ہوس میں نہ پڑے رہو، ایسا نہ ہو کہ یہ ہوس قومِ عاد کی طرح تمھیں بھی برباد کر دے۔ ➌ { فَلَمَّا قُضِيَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِيْنَ:} جب قرآن کی قراء ت پوری ہو چکی تو وہ نہ صرف یہ کہ خود ایمان لے آئے بلکہ اپنی قوم کو بھی کفر کے انجام سے خبردار کرنے کے لیے ان کی طرف واپس پلٹ گئے، کیونکہ ایمان کی تکمیل اسی سے ہوتی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند نصیحتیں فرمائیں، ان میں سے ایک یہ تھی: [ وَ أَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ، تَكُنْ مُؤْمِنًا ] [ ابن ماجہ، الزھد، باب الورع والتقوٰی: ۴۲۱۷ ] ”لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو، مومن بن جاؤ گے۔“ ➍ طبری نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کی ہے کہ انھوں نے {” وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ “} کے بارے میں فرمایا: ”یہ اہل نصیبین میں سے سات (مرد جن) تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اپنی قوم کی طرف پیغام پہنچانے والا بنا کر بھیجا۔“ [ الطبري: ۳۱۵۷۴ ] ابن کثیر کے محقق نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔ ➎ جنوں کا یہ گروہ کس موقع پر آیا؟ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ جن کی شانِ نزول اور اس کی ابتدائی آیات کی تفسیر۔
انہوں نے جا کر کہا، "اے ہماری قوم کے لوگو، ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰؑ کے بعد نازل کی گئی ہے، تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتابوں کی، رہنمائی کرتی ہے حق اور راہ راست کی طرف
مولانا محمد جوناگڑھی
کہنے لگے اے ہماری قوم! ہم نے یقیناً وه کتاب سنی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل کی گئی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو سچے دین کی اور راه راست کی طرف رہنمائی کرتی ہے
احمد رضا خان بریلوی
بولے اے ہماری قوم ہم نے ایک کتاب سنی کہ موسیٰ کے بعد اتاری گئی اگلی کتابوں کی تصدیق فرمائی حق اور سیدھی راہ دکھائی،
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں نے کہا اے ہماری قوم! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسٰی (ع)ٰ کے بعد نازل کی گئی ہے جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے (اور جو) حق اور سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا اے ہماری قوم! بے شک ہم نے ایک ایسی کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے، وہ حق کی طرف اور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان دار جنوں کی آخری منزل ٭٭
اب بیان ہو رہا ہے جنات کے اس وعظ کا جو انہوں نے اپنی قوم میں کیا۔ فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کو سنا ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے، عیسیٰ کی کتاب انجیل کا ذکر اس لیے چھوڑ دیا کہ وہ دراصل توراۃ پوری کرنے والی تھی۔ اس میں زیادہ تر وعظ کے اور دل کو نرم کرنے کے بیانات تھے، حرام حلال کے مسائل بہت کم تھے، پس اصل چیز توراۃ ہی رہی، اسی لیے ان مسلم جنات نے اسی کا ذکر کیا اور اسی بات کو پیش نظر رکھ کر ورقہ بن نوفل نے جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جبرائیل علیہ السلام کے اول دفعہ آنے کا حال سنا تو کہا تھا کہ واہ واہ یہی تو وہ مبارک وجود اللہ کے بھیدی کا ہے جو موسیٰ کے پاس آیا کرتے تھے، کاش کہ میں اور کچھ زمانہ زندہ رہتا، الخ۔ پھر قرآن کی اور صف بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے سے پہلے تمام آسمانی کتابوں کو سچا بتلاتا ہے، وہ اعتقادی مسائل اور اخباری مسائل میں حق کی جانب رہبری کرتا ہے اور اعمال میں راہ راست دکھاتا ہے۔ قرآن میں دو چیزیں ہیں یا خبر یا طلب، پس اس کی خبر سچی اور اس کی طلب عدل والی۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» [6-الانعام:115] یعنی ’ تیرے رب کا کلمہ سچائی اور عدل کے لحاظ سے بالکل پورا ہی ہے ‘۔ اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ» [9-التوبة:33] الخ یعنی ’ وہ اللہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور حق دین کے ساتھ بھیجا ہے ‘،پس ہدایت نفع دینے والا علم ہے اور دین حق نیک عمل ہے یہی مقصد جنات کا تھا۔ پھر کہتے ہیں، اے ہماری قوم! اللہ کے داعی کی دعوت پر لبیک کہو۔ اس میں دلالت ہے اس امر کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن و انس کی دونوں جماعتوں کی طرف اللہ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اس لیے کہ آپ نے جنات کو اللہ کی طرف دعوت دی اور ان کے سامنے قرآن کریم کی وہ سورت پڑھی جس میں ان دونوں جماعتوں کو مخاطب کیا گیا ہے اور ان کے نام احکام جاری فرمائے ہیں اور وعدہ وعید بیان کیا ہے یعنی سورۃ الرحمن۔ پھر فرماتے ہیں ایسا کرنے سے وہ تمہارے بعض گناہ بخش دے گا۔ لیکن یہ اس صورت میں ہو سکتا ہے جب لفظ «من» کو زائدہ نہ مانیں، چنانچہ ایک قول مفسرین کا یہ بھی ہے اور قاعدے کے مطابق اثبات کے موقعہ پر لفظ «من» بہت ہی کم زائد آتا ہے اور اگر زائد مان لیا جائے تو مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرمائے گا اور تمہیں اپنے المناک عذابوں سے رہائی دے گا۔ اس آیت سے بعض علماء نے استدلال کیا ہے کہ ایماندار جنوں کو بھی جنت نہیں ملے گی، ہاں عذاب سے وہ چھٹکارا پا لیں گے، یہی ان کی نیک اعمالیوں کا بدلہ ہے اور اگر اس سے زیادہ مرتبہ بھی انہیں ملنے والا ہوتا تو اس مقام پر یہ مومن جن اسے ضرور بیان کر دیتے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ مومن جن جنت میں نہیں جائیں گے اس لیے کہ وہ ابلیس کی اولاد سے ہیں اور اولاد ابلیس جنت میں نہیں جائے گی۔ لیکن حق یہ ہے کہ مومن جن مثل ایماندار انسانوں کے ہیں اور وہ جنت میں جگہ پائیں گے جیسا کہ سلف کی ایک جماعت کا مذہب ہے بعض لوگوں نے اس پر اس آیت سے استدلال کیا ہے «فِيهِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ» [ 55- الرحمن: 56 ] یعنی ’ حوران بہشتی کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان کا ہاتھ لگا نہ کسی جن کا ‘۔ لیکن اس استدلال میں نظر ہے اس سے بہت بہتر استدلال تو اللہ عزوجل کے اس فرمان سے ہے «وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ» * «فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» [55-الرحمن:47،46] یعنی ’ جو کوئی اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے دو دو جنتیں ہیں، پھر اے جنو اور انسانو! تم اپنے پروردگار کی کون سی نعمت کو جھٹلاتے ہو؟ ‘۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ انسانوں اور جنوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ان کے نیک کار کا بدلہ جنت ہے اور اس آیت کو سن کر مسلمان انسانوں سے بہت زیادہ شکر یہ مسلمان جنوں نے کیا اور اسے سنتے ہی کہا کہ اللہ ہم تیری نعمتوں میں سے کسی کے انکاری نہیں، ہم تیرے بہت بہت شکر گزار ہیں، ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ ان کے سامنے ان پر وہ احسان جتایا جائے جو اصل انہیں ملنے کا نہیں۔ اور بھی ہماری ایک دلیل سنئے جب کافر جنات کو جہنم میں ڈالا جائے گا جو مقام عدل ہے تو مومن جنات کو جنت میں کیوں نہ لے جایا جائے جو مقام فضل ہے بلکہ یہ بہت زیادہ لائق اور بطور اولیٰ ہونے کے قابل ہے اور اس پر وہ آیتیں بھی دلیل ہیں جن میں عام طور پر ایمانداروں کو جنت کو خوشخبری دی گئی ہے مثلا «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا» [18-الكهف:107] وغیرہ وغیرہ یعنی ایمان داروں کا مہمان خانہ یقینًا جنت فردوس ہے۔ «الحمداللہ» میں نے اس مسئلہ کو بہت کچھ وضاحت کے ساتھ اپنی ایک مستقل تصنیف میں بیان کر دیا ہے اور سنئے جنت کا تو یہ حال ہے کہ ایمانداروں کے کل کے داخل ہو جانے کے بعد بھی اس میں بےحد و حساب جگہ بچ رہے گی۔ اور پھر ایک نئی مخلوق پیدا کر کے انہیں اس میں آباد کیا جائے گا۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ ایماندار اور نیک عمل والے جنات جنت میں نہ بھیجے جائیں اور سنئے یہاں دو باتیں بیان کی گئی ہیں گناہوں کی بخشش اور عذابوں سے رہائی اور جب یہ دونوں چیزیں ہیں تو یقیناً یہ مستلزم ہیں دخول جنت کو۔ اس لیے کہ آخرت میں یا جنت ہے یا جہنم، پس جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا وہ قطعًا جنت میں جانا چاہیئے اور کوئی نص صریح یا ظاہر اس بات کے بیان میں وارد نہیں ہوئی کہ مومن جن باوجود دوزخ سے بچ جانے کے جنت میں نہیں جائیں گے اگر کوئی اس قسم کی صاف دلیل ہو تو بیشک ہم اس کے ماننے کے لیے تیار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
نوح علیہ السلام کو دیکھئیے اپنی قوم سے فرماتے ہیں «يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى» [71-نوح:4] ’ اللہ تمہارے گناہوں کو (بوجہ ایمان لانے کے) بخش دے گا اور ایک وقت مقرر تک تمہیں مہلت دے گا ‘۔ تو یہاں بھی دخول جنت کا ذکر نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ نوح علیہ السلام کی قوم کے مسلمان جنت میں نہیں جائیں گے بلکہ بالاتفاق وہ سب جنتی ہیں پس اسی طرح یہاں بھی سمجھ لیجئے۔ اب چند اور اقوال بھی اس مسئلہ میں سن لیجئے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بیچ جنت میں تو یہ پہنچیں گے نہیں البتہ کناروں پر ادھر ادھر رہیں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں جنت میں تو وہ ہوں گے لیکن دنیا کے بالکل برعکس انسان انہیں دیکھیں گے اور یہ انسانوں کو دیکھ نہیں سکیں گے۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ وہ جنت میں کھائیں پئیں گے نہیں صرف تسبیح و تحمید و تقدیس کا طَعام ہو گا جیسے فرشتے اس لیے کہ یہ بھی انہی کی جنس سے ہیں۔ لیکن ان تمام اقوال میں نظر ہے اور سب بے دلیل ہیں۔ پھر مومن واعظ فرماتے ہیں کہ جو اللہ کے داعی کی دعوت کو قبول نہ کرے گا وہ زمین میں اللہ تعالیٰ کو ہرا نہیں سکتا بلکہ قدرت اللہ اس پر شامل اور اسے گھیرے ہوئے ہے اس کے عذابوں سے انہیں کوئی بچا نہیں سکتا، یہ کھلے بہکاوے میں ہیں، خیال فرمائیے کہ تبلیغ کا یہ طریقہ کتنا پیارا اور کس قدر موثر ہے، رغبت بھی دلائی اور دھمکایا بھی اسی لیے ان میں سے اکثر ٹھیک ہو گئے اور قافلے کے قافلے اور فوجیں بن کر کئی کئی بار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں باریاب ہوئے اور اسلام قبول کیا جیسے کہ پہلے مفصلًا ہم نے بیان کر دیا ہے جس پر ہم جناب باری کے احسان کے شکر گزار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 30) ➊ {قَالُوْا يٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى:} جنوں نے نازل کردہ کتابوں میں سے آخری کتاب انجیل کا نام لینے کے بجائے تورات کا نام لیا۔ بعض مفسرین کے مطابق اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ وہ یہود کے دین پر تھے، یا انھیں انجیل کے نزول کا علم نہیں تھا، مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ قرآن سے پہلے آخری کتاب جو شریعت کے احکام پر مشتمل تھی وہ تورات تھی۔ داؤد علیہ السلام کی زبور اور عیسیٰ علیہ السلام کی انجیل اس کی تکمیل یا تفسیر و تبیین کرنے والی کتابیں تھیں۔ موسیٰ علیہ السلام کے بعد آنے والے تمام انبیاء حتیٰ کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی تورات ہی پر عمل کے پابند تھے۔ (دیکھیے مائدہ: ۴۴) اسی سورۂ احقاف میں بھی قرآن سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کی کتاب کا ذکر ہے، فرمایا: «وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً» [الأحقاف: ۱۲ ] ”اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غارِ حرا میں پہلی وحی کے نزول پر جب ام المومنین خدیجہ رضی اللہ عنھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں تو انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا معاملہ سن کر کہا تھا: [ هٰذَا النَّامُوْسُ الَّذِيْ أُنْزِلَ عَلٰی مُوْسٰی] [ بخاري، التعبیر، باب أوّل ما بدء بہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم …: ۶۹۸۲ ] ”یہ وہی صاحب راز فرشتہ ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا گیا۔“ حالانکہ ورقہ بن نوفل اس سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کا دین قبول کر چکے تھے اور انجیل کے عالم تھے۔ ➋ { مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ:} یعنی یہ کتاب اس سے پہلی تمام آسمانی کتابوں کو سچا ثابت کرنے والی ہے کہ اس کتاب کے ذریعے سے وہ تمام باتیں اور پیش گوئیاں سچ ثابت ہوئیں جو ان کتابوں میں کی گئی ہیں، جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی پیش گوئی بھی شامل ہے۔ ➌ { يَهْدِيْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِيْقٍ مُّسْتَقِيْمٍ:} ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یعنی عقائد و اخبار میں حق اور اعمال میں سیدھے راستے کی طرف راہ نمائی کرتی ہے، کیونکہ قرآن خبر اور طلب دو چیزوں پر مشتمل ہے۔ اس کی خبر صدق اور طلب عدل ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا» [ الأنعام: ۱۱۵ ] ”اور تیرے رب کی کتاب صدق اور عدل کے اعتبار سے پوری ہو گئی۔“ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ» [ التوبۃ: ۳۳ ] ”وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا۔“ چنانچہ ہدایت علم نافع ہے اور دینِ حق عمل صالح ہے اور جنوں نے بھی یہی بات کہی کہ {” يَهْدِيْۤ اِلَى الْحَقِّ “} (اعتقادات میں حق کی راہنمائی کرتی ہے) {” وَ اِلٰى طَرِيْقٍ مُّسْتَقِيْمٍ “} (اور عملیات میں سیدھے راستے کی)۔“
اے ہماری قوم کے لوگو، اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کر لو اور اس پر ایمان لے آؤ، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں عذاب الیم سے بچا دے گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ہماری قوم! اللہ کے بلانے والے کا کہا مانو، اس پر ایمان ﻻؤ، تو اللہ تمہارے گناه بخش دے گا اور تمہیں المناک عذاب سے پناه دےگا
احمد رضا خان بریلوی
اے ہماری قوم! اللہ کے منادی کی بات مانو اور اس پر ایمان لاؤ کہ وہ تمہارے کچھ گناہ بخش دے اور تمہیں دردناک عذاب سے بچالے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ہماری قوم! اللہ کیطرف بلانے والے کی دعوت پر لبیک کہو اور اس پر ایمانلے آؤ۔ اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے پناہ دے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اے ہماری قوم !اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کرو اور اس پر ایمان لے آؤ، وہ تمھیں تمھارے گناہ معاف کر دے گا اور تمھیں دردناک عذاب سے پناہ دے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان دار جنوں کی آخری منزل ٭٭
اب بیان ہو رہا ہے جنات کے اس وعظ کا جو انہوں نے اپنی قوم میں کیا۔ فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کو سنا ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے، عیسیٰ کی کتاب انجیل کا ذکر اس لیے چھوڑ دیا کہ وہ دراصل توراۃ پوری کرنے والی تھی۔ اس میں زیادہ تر وعظ کے اور دل کو نرم کرنے کے بیانات تھے، حرام حلال کے مسائل بہت کم تھے، پس اصل چیز توراۃ ہی رہی، اسی لیے ان مسلم جنات نے اسی کا ذکر کیا اور اسی بات کو پیش نظر رکھ کر ورقہ بن نوفل نے جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جبرائیل علیہ السلام کے اول دفعہ آنے کا حال سنا تو کہا تھا کہ واہ واہ یہی تو وہ مبارک وجود اللہ کے بھیدی کا ہے جو موسیٰ کے پاس آیا کرتے تھے، کاش کہ میں اور کچھ زمانہ زندہ رہتا، الخ۔ پھر قرآن کی اور صف بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے سے پہلے تمام آسمانی کتابوں کو سچا بتلاتا ہے، وہ اعتقادی مسائل اور اخباری مسائل میں حق کی جانب رہبری کرتا ہے اور اعمال میں راہ راست دکھاتا ہے۔ قرآن میں دو چیزیں ہیں یا خبر یا طلب، پس اس کی خبر سچی اور اس کی طلب عدل والی۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» [6-الانعام:115] یعنی ’ تیرے رب کا کلمہ سچائی اور عدل کے لحاظ سے بالکل پورا ہی ہے ‘۔ اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ» [9-التوبة:33] الخ یعنی ’ وہ اللہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور حق دین کے ساتھ بھیجا ہے ‘،پس ہدایت نفع دینے والا علم ہے اور دین حق نیک عمل ہے یہی مقصد جنات کا تھا۔ پھر کہتے ہیں، اے ہماری قوم! اللہ کے داعی کی دعوت پر لبیک کہو۔ اس میں دلالت ہے اس امر کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن و انس کی دونوں جماعتوں کی طرف اللہ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اس لیے کہ آپ نے جنات کو اللہ کی طرف دعوت دی اور ان کے سامنے قرآن کریم کی وہ سورت پڑھی جس میں ان دونوں جماعتوں کو مخاطب کیا گیا ہے اور ان کے نام احکام جاری فرمائے ہیں اور وعدہ وعید بیان کیا ہے یعنی سورۃ الرحمن۔ پھر فرماتے ہیں ایسا کرنے سے وہ تمہارے بعض گناہ بخش دے گا۔ لیکن یہ اس صورت میں ہو سکتا ہے جب لفظ «من» کو زائدہ نہ مانیں، چنانچہ ایک قول مفسرین کا یہ بھی ہے اور قاعدے کے مطابق اثبات کے موقعہ پر لفظ «من» بہت ہی کم زائد آتا ہے اور اگر زائد مان لیا جائے تو مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرمائے گا اور تمہیں اپنے المناک عذابوں سے رہائی دے گا۔ اس آیت سے بعض علماء نے استدلال کیا ہے کہ ایماندار جنوں کو بھی جنت نہیں ملے گی، ہاں عذاب سے وہ چھٹکارا پا لیں گے، یہی ان کی نیک اعمالیوں کا بدلہ ہے اور اگر اس سے زیادہ مرتبہ بھی انہیں ملنے والا ہوتا تو اس مقام پر یہ مومن جن اسے ضرور بیان کر دیتے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ مومن جن جنت میں نہیں جائیں گے اس لیے کہ وہ ابلیس کی اولاد سے ہیں اور اولاد ابلیس جنت میں نہیں جائے گی۔ لیکن حق یہ ہے کہ مومن جن مثل ایماندار انسانوں کے ہیں اور وہ جنت میں جگہ پائیں گے جیسا کہ سلف کی ایک جماعت کا مذہب ہے بعض لوگوں نے اس پر اس آیت سے استدلال کیا ہے «فِيهِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ» [ 55- الرحمن: 56 ] یعنی ’ حوران بہشتی کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان کا ہاتھ لگا نہ کسی جن کا ‘۔ لیکن اس استدلال میں نظر ہے اس سے بہت بہتر استدلال تو اللہ عزوجل کے اس فرمان سے ہے «وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ» * «فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» [55-الرحمن:47،46] یعنی ’ جو کوئی اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے دو دو جنتیں ہیں، پھر اے جنو اور انسانو! تم اپنے پروردگار کی کون سی نعمت کو جھٹلاتے ہو؟ ‘۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ انسانوں اور جنوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ان کے نیک کار کا بدلہ جنت ہے اور اس آیت کو سن کر مسلمان انسانوں سے بہت زیادہ شکر یہ مسلمان جنوں نے کیا اور اسے سنتے ہی کہا کہ اللہ ہم تیری نعمتوں میں سے کسی کے انکاری نہیں، ہم تیرے بہت بہت شکر گزار ہیں، ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ ان کے سامنے ان پر وہ احسان جتایا جائے جو اصل انہیں ملنے کا نہیں۔ اور بھی ہماری ایک دلیل سنئے جب کافر جنات کو جہنم میں ڈالا جائے گا جو مقام عدل ہے تو مومن جنات کو جنت میں کیوں نہ لے جایا جائے جو مقام فضل ہے بلکہ یہ بہت زیادہ لائق اور بطور اولیٰ ہونے کے قابل ہے اور اس پر وہ آیتیں بھی دلیل ہیں جن میں عام طور پر ایمانداروں کو جنت کو خوشخبری دی گئی ہے مثلا «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا» [18-الكهف:107] وغیرہ وغیرہ یعنی ایمان داروں کا مہمان خانہ یقینًا جنت فردوس ہے۔ «الحمداللہ» میں نے اس مسئلہ کو بہت کچھ وضاحت کے ساتھ اپنی ایک مستقل تصنیف میں بیان کر دیا ہے اور سنئے جنت کا تو یہ حال ہے کہ ایمانداروں کے کل کے داخل ہو جانے کے بعد بھی اس میں بےحد و حساب جگہ بچ رہے گی۔ اور پھر ایک نئی مخلوق پیدا کر کے انہیں اس میں آباد کیا جائے گا۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ ایماندار اور نیک عمل والے جنات جنت میں نہ بھیجے جائیں اور سنئے یہاں دو باتیں بیان کی گئی ہیں گناہوں کی بخشش اور عذابوں سے رہائی اور جب یہ دونوں چیزیں ہیں تو یقیناً یہ مستلزم ہیں دخول جنت کو۔ اس لیے کہ آخرت میں یا جنت ہے یا جہنم، پس جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا وہ قطعًا جنت میں جانا چاہیئے اور کوئی نص صریح یا ظاہر اس بات کے بیان میں وارد نہیں ہوئی کہ مومن جن باوجود دوزخ سے بچ جانے کے جنت میں نہیں جائیں گے اگر کوئی اس قسم کی صاف دلیل ہو تو بیشک ہم اس کے ماننے کے لیے تیار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
نوح علیہ السلام کو دیکھئیے اپنی قوم سے فرماتے ہیں «يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى» [71-نوح:4] ’ اللہ تمہارے گناہوں کو (بوجہ ایمان لانے کے) بخش دے گا اور ایک وقت مقرر تک تمہیں مہلت دے گا ‘۔ تو یہاں بھی دخول جنت کا ذکر نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ نوح علیہ السلام کی قوم کے مسلمان جنت میں نہیں جائیں گے بلکہ بالاتفاق وہ سب جنتی ہیں پس اسی طرح یہاں بھی سمجھ لیجئے۔ اب چند اور اقوال بھی اس مسئلہ میں سن لیجئے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بیچ جنت میں تو یہ پہنچیں گے نہیں البتہ کناروں پر ادھر ادھر رہیں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں جنت میں تو وہ ہوں گے لیکن دنیا کے بالکل برعکس انسان انہیں دیکھیں گے اور یہ انسانوں کو دیکھ نہیں سکیں گے۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ وہ جنت میں کھائیں پئیں گے نہیں صرف تسبیح و تحمید و تقدیس کا طَعام ہو گا جیسے فرشتے اس لیے کہ یہ بھی انہی کی جنس سے ہیں۔ لیکن ان تمام اقوال میں نظر ہے اور سب بے دلیل ہیں۔ پھر مومن واعظ فرماتے ہیں کہ جو اللہ کے داعی کی دعوت کو قبول نہ کرے گا وہ زمین میں اللہ تعالیٰ کو ہرا نہیں سکتا بلکہ قدرت اللہ اس پر شامل اور اسے گھیرے ہوئے ہے اس کے عذابوں سے انہیں کوئی بچا نہیں سکتا، یہ کھلے بہکاوے میں ہیں، خیال فرمائیے کہ تبلیغ کا یہ طریقہ کتنا پیارا اور کس قدر موثر ہے، رغبت بھی دلائی اور دھمکایا بھی اسی لیے ان میں سے اکثر ٹھیک ہو گئے اور قافلے کے قافلے اور فوجیں بن کر کئی کئی بار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں باریاب ہوئے اور اسلام قبول کیا جیسے کہ پہلے مفصلًا ہم نے بیان کر دیا ہے جس پر ہم جناب باری کے احسان کے شکر گزار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
31۔ 1 یہ جنوں نے اپنی قوم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دی اس سے قبل قرآن کریم کے متعلق بتلایا کہ یہ تورات کے بعد ایک اور آسمانی کتاب ہے جو سچے دین اور صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ 31۔ 2 یہ ایمان لانے کے وہ فائدے بتلائے جو آخرت میں انہیں حاصل ہوں گے من ذنوبکم میں من تبعیض کے لیے ہے یعنی بعض گناہ معاف فرما دے گا اور یہ وہ گناہ ہوں گے جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہوگا کیونکہ حقوق العباد معاف نہیں ہوں گے یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ ثواب و عقاب اور اوامر ونواہی میں جنات کے لیے بھی وہی حکم ہے جو انسانوں کے لیے ہے۔
(آیت 31) ➊ { يٰقَوْمَنَاۤ …: ” يٰقَوْمَنَاۤ “} کے ساتھ دوبارہ مخاطب کرنے کا مقصد اس بات کے اہم ہونے کی طرف متوجہ کرنا ہے جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے۔ جس طرح خطیب کسی اہم بات کی طرف متوجہ کرنے کے لیے اثنائے کلام میں {”أَيُّهَا النَّاسُ“} کہتا ہے۔ (ابن عاشور) ➋ { اَجِيْبُوْا دَاعِيَ اللّٰهِ: ” دَاعِيَ اللّٰهِ “} سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اپنی ذات یا کسی بھی مخلوق کے بجائے صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اسی کی اطاعت کی طرف تھی، جیسا کہ فرمایا: «قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ عَلٰى بَصِيْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِيْ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» [ یوسف: ۱۰۸ ] ”کہہ دے یہی میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر، میں اور وہ بھی جنھوں نے میری پیروی کی ہے اور اللہ پاک ہے اور میں شریک بنانے والوں سے نہیں ہوں۔“ یہاں ایک سوال ہے کہ جنوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صبح کی نماز کے دوران قرآن مجید کی جو تلاوت سنی آپ نے اس میں کون سی آیات پڑھیں، جن میں وہ باتیں موجود تھیں جن کی تلقین جنوں نے اپنی قوم کو کی؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اگر ہمیں اور کوئی آیات معلوم نہ ہو سکیں تو سورۂ فاتحہ کی قراء ت تو یقینی ہے جو قرآن مجید کے تمام مضامین کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ ➌ { يَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ يُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ: ” يَغْفِرْ “} اور {” يُجِرْ“ ” اَجِيْبُوْا “} اور {” اٰمِنُوْا “} (فعل امر) کا جواب ہونے کی وجہ سے مجزوم ہیں۔ {” يُجِرْ “} اصل میں {”يُجِيْرُ“} ہے، جو باب افعال کا مضارع معلوم ہے۔ راء پر جزم آنے کی وجہ سے یاء اور راء دو ساکن جمع ہونے پر یاء کو حذف کر دیا گیا تو {” يُجِرْ “} ہو گیا۔ ➍ {” يَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ “} میں {” مِنْ “} لانے کا کیا فائدہ ہے؟ اس کے لیے دیکھیے سورۂ نوح (۴) کی تفسیر۔ ➎ اللہ کے داعی کی دعوت قبول کرنے اور اس پر ایمان لانے پر دو بشارتیں دیں، ایک اس فائدے کے حصول کی بشارت جو تمھیں ایمان لانے سے حاصل ہو گا کہ وہ تمھارے گناہ بخش دے گا اور دوسری ناقابلِ تلافی نقصان سے بچنے کی بشارت کہ وہ تمھیں عذابِ الیم سے پناہ دے گا۔
اور جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہ مانے وہ نہ زمین میں خود کوئی بل بوتا رکھتا ہے کہ اللہ کو زچ کر دے، اور نہ اس کے کوئی ایسے حامی و سرپرست ہیں کہ اللہ سے اس کو بچا لیں ایسے لوگ کھلی گمراہی میں پڑ ے ہوئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو شخص اللہ کے بلانے والے کا کہا نہ مانے گا پس وه زمین میں کہیں (بھاگ کر اللہ کو) عاجز نہیں کر سکتا، نہ اللہ کے سوا اور کوئی اس کے مدد گار ہوں گے، یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جو اللہ کے منادی کی بات نہ مانے وہ زمین میں قابو سے نکل کر جانے والا نہیں اور اللہ کے سامنے اس کا کوئی مددگار نہیں وہ کھلی گمراہی میں ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو کوئی اللہ کی طرف بلانے والے کی آواز پر لبیک نہیں کہے گا تو وہ زمین میں اللہ کو عاجز نہیں کرسکتا (اس کے قابو سے باہر نہیں نکل سکتا) اور نہ اللہ کے سوا اس کے لئے کوئی مددگار و سازگار ہے ایسے لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول نہ کرے گا تو نہ وہ زمین میں کسی طرح عاجز کرنے والا ہے اور نہ ہی اس کے سوا اس کے کوئی مدد گار ہوں گے، یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان دار جنوں کی آخری منزل ٭٭
اب بیان ہو رہا ہے جنات کے اس وعظ کا جو انہوں نے اپنی قوم میں کیا۔ فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کو سنا ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے، عیسیٰ کی کتاب انجیل کا ذکر اس لیے چھوڑ دیا کہ وہ دراصل توراۃ پوری کرنے والی تھی۔ اس میں زیادہ تر وعظ کے اور دل کو نرم کرنے کے بیانات تھے، حرام حلال کے مسائل بہت کم تھے، پس اصل چیز توراۃ ہی رہی، اسی لیے ان مسلم جنات نے اسی کا ذکر کیا اور اسی بات کو پیش نظر رکھ کر ورقہ بن نوفل نے جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جبرائیل علیہ السلام کے اول دفعہ آنے کا حال سنا تو کہا تھا کہ واہ واہ یہی تو وہ مبارک وجود اللہ کے بھیدی کا ہے جو موسیٰ کے پاس آیا کرتے تھے، کاش کہ میں اور کچھ زمانہ زندہ رہتا، الخ۔ پھر قرآن کی اور صف بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے سے پہلے تمام آسمانی کتابوں کو سچا بتلاتا ہے، وہ اعتقادی مسائل اور اخباری مسائل میں حق کی جانب رہبری کرتا ہے اور اعمال میں راہ راست دکھاتا ہے۔ قرآن میں دو چیزیں ہیں یا خبر یا طلب، پس اس کی خبر سچی اور اس کی طلب عدل والی۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» [6-الانعام:115] یعنی ’ تیرے رب کا کلمہ سچائی اور عدل کے لحاظ سے بالکل پورا ہی ہے ‘۔ اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ» [9-التوبة:33] الخ یعنی ’ وہ اللہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور حق دین کے ساتھ بھیجا ہے ‘،پس ہدایت نفع دینے والا علم ہے اور دین حق نیک عمل ہے یہی مقصد جنات کا تھا۔ پھر کہتے ہیں، اے ہماری قوم! اللہ کے داعی کی دعوت پر لبیک کہو۔ اس میں دلالت ہے اس امر کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن و انس کی دونوں جماعتوں کی طرف اللہ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اس لیے کہ آپ نے جنات کو اللہ کی طرف دعوت دی اور ان کے سامنے قرآن کریم کی وہ سورت پڑھی جس میں ان دونوں جماعتوں کو مخاطب کیا گیا ہے اور ان کے نام احکام جاری فرمائے ہیں اور وعدہ وعید بیان کیا ہے یعنی سورۃ الرحمن۔ پھر فرماتے ہیں ایسا کرنے سے وہ تمہارے بعض گناہ بخش دے گا۔ لیکن یہ اس صورت میں ہو سکتا ہے جب لفظ «من» کو زائدہ نہ مانیں، چنانچہ ایک قول مفسرین کا یہ بھی ہے اور قاعدے کے مطابق اثبات کے موقعہ پر لفظ «من» بہت ہی کم زائد آتا ہے اور اگر زائد مان لیا جائے تو مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرمائے گا اور تمہیں اپنے المناک عذابوں سے رہائی دے گا۔ اس آیت سے بعض علماء نے استدلال کیا ہے کہ ایماندار جنوں کو بھی جنت نہیں ملے گی، ہاں عذاب سے وہ چھٹکارا پا لیں گے، یہی ان کی نیک اعمالیوں کا بدلہ ہے اور اگر اس سے زیادہ مرتبہ بھی انہیں ملنے والا ہوتا تو اس مقام پر یہ مومن جن اسے ضرور بیان کر دیتے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ مومن جن جنت میں نہیں جائیں گے اس لیے کہ وہ ابلیس کی اولاد سے ہیں اور اولاد ابلیس جنت میں نہیں جائے گی۔ لیکن حق یہ ہے کہ مومن جن مثل ایماندار انسانوں کے ہیں اور وہ جنت میں جگہ پائیں گے جیسا کہ سلف کی ایک جماعت کا مذہب ہے بعض لوگوں نے اس پر اس آیت سے استدلال کیا ہے «فِيهِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ» [ 55- الرحمن: 56 ] یعنی ’ حوران بہشتی کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان کا ہاتھ لگا نہ کسی جن کا ‘۔ لیکن اس استدلال میں نظر ہے اس سے بہت بہتر استدلال تو اللہ عزوجل کے اس فرمان سے ہے «وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ» * «فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» [55-الرحمن:47،46] یعنی ’ جو کوئی اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے دو دو جنتیں ہیں، پھر اے جنو اور انسانو! تم اپنے پروردگار کی کون سی نعمت کو جھٹلاتے ہو؟ ‘۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ انسانوں اور جنوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ان کے نیک کار کا بدلہ جنت ہے اور اس آیت کو سن کر مسلمان انسانوں سے بہت زیادہ شکر یہ مسلمان جنوں نے کیا اور اسے سنتے ہی کہا کہ اللہ ہم تیری نعمتوں میں سے کسی کے انکاری نہیں، ہم تیرے بہت بہت شکر گزار ہیں، ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ ان کے سامنے ان پر وہ احسان جتایا جائے جو اصل انہیں ملنے کا نہیں۔ اور بھی ہماری ایک دلیل سنئے جب کافر جنات کو جہنم میں ڈالا جائے گا جو مقام عدل ہے تو مومن جنات کو جنت میں کیوں نہ لے جایا جائے جو مقام فضل ہے بلکہ یہ بہت زیادہ لائق اور بطور اولیٰ ہونے کے قابل ہے اور اس پر وہ آیتیں بھی دلیل ہیں جن میں عام طور پر ایمانداروں کو جنت کو خوشخبری دی گئی ہے مثلا «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا» [18-الكهف:107] وغیرہ وغیرہ یعنی ایمان داروں کا مہمان خانہ یقینًا جنت فردوس ہے۔ «الحمداللہ» میں نے اس مسئلہ کو بہت کچھ وضاحت کے ساتھ اپنی ایک مستقل تصنیف میں بیان کر دیا ہے اور سنئے جنت کا تو یہ حال ہے کہ ایمانداروں کے کل کے داخل ہو جانے کے بعد بھی اس میں بےحد و حساب جگہ بچ رہے گی۔ اور پھر ایک نئی مخلوق پیدا کر کے انہیں اس میں آباد کیا جائے گا۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ ایماندار اور نیک عمل والے جنات جنت میں نہ بھیجے جائیں اور سنئے یہاں دو باتیں بیان کی گئی ہیں گناہوں کی بخشش اور عذابوں سے رہائی اور جب یہ دونوں چیزیں ہیں تو یقیناً یہ مستلزم ہیں دخول جنت کو۔ اس لیے کہ آخرت میں یا جنت ہے یا جہنم، پس جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا وہ قطعًا جنت میں جانا چاہیئے اور کوئی نص صریح یا ظاہر اس بات کے بیان میں وارد نہیں ہوئی کہ مومن جن باوجود دوزخ سے بچ جانے کے جنت میں نہیں جائیں گے اگر کوئی اس قسم کی صاف دلیل ہو تو بیشک ہم اس کے ماننے کے لیے تیار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
نوح علیہ السلام کو دیکھئیے اپنی قوم سے فرماتے ہیں «يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى» [71-نوح:4] ’ اللہ تمہارے گناہوں کو (بوجہ ایمان لانے کے) بخش دے گا اور ایک وقت مقرر تک تمہیں مہلت دے گا ‘۔ تو یہاں بھی دخول جنت کا ذکر نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ نوح علیہ السلام کی قوم کے مسلمان جنت میں نہیں جائیں گے بلکہ بالاتفاق وہ سب جنتی ہیں پس اسی طرح یہاں بھی سمجھ لیجئے۔ اب چند اور اقوال بھی اس مسئلہ میں سن لیجئے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بیچ جنت میں تو یہ پہنچیں گے نہیں البتہ کناروں پر ادھر ادھر رہیں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں جنت میں تو وہ ہوں گے لیکن دنیا کے بالکل برعکس انسان انہیں دیکھیں گے اور یہ انسانوں کو دیکھ نہیں سکیں گے۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ وہ جنت میں کھائیں پئیں گے نہیں صرف تسبیح و تحمید و تقدیس کا طَعام ہو گا جیسے فرشتے اس لیے کہ یہ بھی انہی کی جنس سے ہیں۔ لیکن ان تمام اقوال میں نظر ہے اور سب بے دلیل ہیں۔ پھر مومن واعظ فرماتے ہیں کہ جو اللہ کے داعی کی دعوت کو قبول نہ کرے گا وہ زمین میں اللہ تعالیٰ کو ہرا نہیں سکتا بلکہ قدرت اللہ اس پر شامل اور اسے گھیرے ہوئے ہے اس کے عذابوں سے انہیں کوئی بچا نہیں سکتا، یہ کھلے بہکاوے میں ہیں، خیال فرمائیے کہ تبلیغ کا یہ طریقہ کتنا پیارا اور کس قدر موثر ہے، رغبت بھی دلائی اور دھمکایا بھی اسی لیے ان میں سے اکثر ٹھیک ہو گئے اور قافلے کے قافلے اور فوجیں بن کر کئی کئی بار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں باریاب ہوئے اور اسلام قبول کیا جیسے کہ پہلے مفصلًا ہم نے بیان کر دیا ہے جس پر ہم جناب باری کے احسان کے شکر گزار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
32۔ 1 یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ زمین کی وسعتوں میں اس طرح گم ہوجائے کہ اللہ کی گرفت میں نہ آسکے۔۔ 32۔ 1 جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا لیں۔ مطلب یہ ہوا کہ نہ وہ خود اللہ کی گرفت سے بچنے پر قادر ہے اور نہ کسی دوسرے کی مدد سے ایسا ممکن ہے۔
(آیت 32) ➊ {وَ مَنْ لَّا يُجِبْ دَاعِيَ اللّٰهِ …:} بشارت کے بعد یہ نذارت ہے، جس میں اس کتاب پر ایمان نہ لانے والوں کو ڈرایا گیا ہے۔ یہ وہی بات ہے جو سورۂ جن میں ان الفاظ کے ساتھ بیان ہوئی ہے: «وَ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِي الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًا» [ الجن: ۱۲ ] ”اور یہ کہ ہم نے یقین کر لیا کہ بے شک ہم کبھی اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی بھاگ کر کبھی اسے عاجز کر سکیں گے۔“ ➋ { وَ لَيْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءُ:} یعنی اللہ تعالیٰ کی دعوت قبول نہ کرنے والا نہ خود دنیا یا آخرت میں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بھاگ کر کہیں جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی طرح کے مددگار اس کی مدد کو پہنچ سکتے ہیں۔
اور کیا اِن لوگوں کو یہ سجھائی نہیں دیتا کہ جس خدا نے یہ زمین اور آسمان پیدا کیے ہیں اور ان کو بناتے ہوئے جو نہ تھکا، وہ ضرور اس پر قادر ہے کہ مُردوں کو جلا اٹھائے؟ کیوں نہیں، یقیناً وہ ہر چیز کی قدرت رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا وه نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے وه نہ تھکا، وه یقیناً مُردوں کو زنده کرنے پر قادر ہے؟ کیوں نہ ہو؟ وه یقیناً ہر چیز پر قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا انہوں نے نہ جانا کہ وہ اللہ جس نے آسمان اور زمین بنائے اور ان کے بنانے میں نہ تھکا قادر ہے کہ مردے جِلائے، کیوں نہیں بیشک وہ سب کچھ کرسکتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور ان کے پیدا کرنے سے تھکا نہیں ہے وہ اس پر قادر ہے کہ مُردوں کو زندہ کرے۔ ہاں بےشک وہ ہر چیز پر بڑی قدرت رکھتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور وہ ان کے پیدا کرنے سے نہیں تھکا، وہ اس بات پر قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے؟ کیوں نہیں! یقینا وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا ان لوگوں نے جو مرنے کے بعد جینے کے منکر ہیں اور قیامت کے دن جسموں سمیت جی اٹھنے کو محال جانتے ہیں یہ نہیں دیکھا کہ اللہ نے کل آسمانوں اور تمام زمینوں کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش نے اسے کچھ نہ تھکایا بلکہ صرف ہو جا کے کہنے سے ہی ہو گئیں، کون تھا جو اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتا، یا مخالفت کرتا بلکہ حکم برداری سے راضی خوشی ڈرے دبتے سب موجود ہو گئے، کیا اتنی کامل قدرت و قوت والا مرُدوں کے زندہ کر دینے کی سکت نہیں رکھتا؟ چنانچہ دوسری آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] یعنی ’ انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بھاری اور مشکل اور بہت بڑی اہم پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےسمجھ ہیں ‘۔ جب زمین و آسمان کو اس نے پیدا کر دیا تو انسان کا پیدا کر دینا خواہ ابتدًا ہو، خواہ دوبارہ ہو اس پر کیا مشکل ہے؟ اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ہاں وہ ہر شے پر قادر ہے اور انہی میں سے موت کے بعد زندہ کرتا ہے کہ اس پر بھی وہ صحیح طور پر قادر ہے۔ پھر اللہ جل و علا کافروں کو دھمکاتا ہے کہ قیامت والے دن جہنم میں ڈالے جائیں گے، اس سے پہلے جہنم کے کنارے پر انہیں کھڑا کر کے ایک مرتبہ پھر لاجواب اور بے حجت کیا جائے گا اور کہا جائے گا، کیوں جی ہمارے وعدے اور یہ دوزخ کے عذاب اب تو صحیح نکلے یا اب بھی شک و شبہ اور انکار و تکذیب ہے؟ یہ جادو تو نہیں، تمہاری آنکھیں تو اندھی نہیں ہو گئیں؟ جو دیکھ رہے ہو صحیح دیکھ رہے ہو یا درحقیقت صحیح نہیں؟ اب سوائے اقرار کے کچھ نہ بن پڑے گا، جواب دیں گے کہ ہاں ہاں سب حق ہے جو کہا گیا تھا وہی نکلا قسم اللہ کی اب ہمیں رتی برابر بھی شک نہیں، اللہ فرمائے گا اب دو گھڑی پہلے کے کفر کا مزہ چکھو۔
33۔ 1 جو اللہ آسمان اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے، جن کی وسعت و بےکرانی کی انتہا نہیں ہے وہ ان کو بنا کر تھکا بھی نہیں۔ کیا وہ مردوں کو دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا؟ یقینا کرسکتا ہے۔ اس لیے کہ وہ علی کل شیء قدیر کی صفت سے متصف ہے۔
(آیت 33) ➊ {اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ …: ” اَوَ لَمْ يَرَوْا “} سے مراد {”أَوَ لَمْ يَعْلَمُوْا“} ہے، یعنی ”کیا انھیں معلوم نہیں؟“ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو آسمان و زمین کو پیدا کرتے ہوئے دیکھا نہیں تھا، بلکہ یہ بات وہ جانتے تھے۔ یہ اس لیے فرمایا کہ یہ بات ان کے ہاں مسلم تھی کہ آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے ساتھ قیامت کا ذکر بھی یہ کہہ کر فرمایا: «مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ» [ الأحقاف: ۳ ] ”ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو ان دونوں کے درمیان ہے حق اور مقررہ میعاد ہی کے ساتھ پیداکیا ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اس چیز سے جس سے وہ ڈرائے گئے، منہ پھیرنے والے ہیں۔“ سورت کے درمیان میں بھی یہ مضمون ذکر فرمایا: «وَ الَّذِيْ قَالَ لِوَالِدَيْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِيْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِيْ وَ هُمَا يَسْتَغِيْثٰنِ اللّٰهَ وَيْلَكَ اٰمِنْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَيَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ» [ الأحقاف: ۱۷ ] ”اور وہ جس نے اپنے ماں باپ سے کہا اف ہے تم دونوں کے لیے! کیا تم مجھے دھمکی دیتے ہو کہ مجھے(قبر سے) نکالا جائے گا، حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکیں۔ جب کہ وہ دونوں اللہ سے فریاد کرتے (ہوئے کہتے) ہیں تجھے ہلاکت ہو! ایمان لے آ، بے شک اللہ کا وعدہ حق ہے۔ تو وہ کہتا ہے یہ پہلے لوگوں کی فرضی کہانیوں کے سوا کچھ نہیں۔“ توحید کے ساتھ رسالت کے دلائل، منکرین پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کے نزول اور جنوں کے ایمان لانے کے ذکر کے بعد آخر میں پھر قیامت کے حق ہونے کا اور اس کی ایک زبردست دلیل کا ذکر فرمایا۔ یعنی یہ کفار جو انسان کے دوبارہ زندہ ہونے کو محال سمجھ رہے ہیں، کیا انھیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس نے آسمان و زمین پیدا فرمائے وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے؟ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش کو انسان کے دوبارہ پیدا کرنے کی دلیل کے طور پر متعدد مقامات پر ذکر فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا: «ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ بَنٰىهَا (27) رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَا (28) وَ اَغْطَشَ لَيْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا (29) وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا (30) اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا (31) وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَا (32) مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْ» [ النازعات: ۲۷ تا ۳۳ ] ”کیا پیدا کرنے میں تم زیادہ مشکل ہو یا آسمان؟ اس نے اسے بنایا۔ اس کی چھت کو بلند کیا، پھر اسے برابر کیا۔ اور اس کی رات کو تاریک کر دیا اور اس کے دن کی روشنی کو ظاہر کر دیا۔ اور زمین، اس کے بعد اسے بچھا دیا۔ اس سے اس کا پانی اور اس کا چارا نکالا۔ اور پہاڑ، اس نے انھیں گاڑ دیا۔ تمھاری اور تمھارے چوپاؤں کی زندگی کے سامان کے لیے۔“ اور فرمایا: «لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [ المؤمن: ۵۷ ] ”یقینا آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا (کام) ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“ ➋ { وَ لَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ:} یہود و نصاریٰ کی الہامی کتاب تورات کی دوسری کتاب ”خروج“ میں مذکور ہے: ”چھ دن میں خداوند نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کیا اور تازہ دم ہوا۔“ [ خروج، باب: ۳۱، فقرہ: ۱۷ ] تازہ دم وہ ہوتا ہے جو تھکے اور تھکنا نقصانِ قدرت پر مبنی ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ میں کسی قسم کا نقصان نہیں، اس لیے تورات کی اس عبارت کی اصلاح اور یہودیوں عیسائیوں کے عقیدے کی غلطی کا اظہار کرنے کو قرآن مجید کی اس آیت میں فرمایا: «وَ لَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ» اللہ آسمان و زمین کو پیدا کر کے تھکا نہیں، یہ تمھارا خیال غلط ہے۔ (تفسیر ثنائی) دوسری جگہ فرمایا: «وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَا فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ» [ قٓ: ۳۸ ] ”اور بلاشبہ یقینا ہم نے آسمانوں اور زمین کواور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دنوں میں پیدا کیا اور ہمیں کسی قسم کی تھکاوٹ نے نہیں چھوا۔“ ➌ {” بِقٰدِرٍ “} میں ”باء“ لانے کی توجیہ ابن ہشام نے بہت عمدہ فرمائی ہے، وہ فرماتے ہیں: ”بعض اوقات کسی چیز کو اس کے معنی یا لفظ میں یا دونوں میں مشابہ چیز کا حکم دے دیا جاتا ہے۔ پہلی کی کئی صورتیں ہیں، جن میں سے ایک اللہ تعالیٰ کے فرمان {” اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ “} میں {” اَنَّ “} کی خبر {”قَادِرٌ“} پر باء کا داخل ہونا ہے، کیونکہ یہ {” أَوَ لَيْسَ اللّٰهُ بِقَادِرٍ“} کے معنی میں ہے۔ یہ ”باء “ اس لیے آئی ہے کہ {” اَنَّ “} کے اسم اور خبر میں بہت فاصلہ ہے۔ اسی لیے دوسری آیت: «اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ» [ بني إسرائیل: ۹۹ ] میں {” قَادِرٌ “} پر باء نہیں آئی۔ اسی کی ایک مثال {” وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًا “} ہے، کیونکہ اس میں {” اِكْتَفِ بِاللّٰهِ شَهِيْدًا “} کا معنی پایا جا رہا ہے۔“ (اعراب القرآن از درویش) {” اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ …“} کے جواب میں {” بَلٰۤى “} آنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ یہ {”أَوَ لَيْسَ اللّٰهُ بِقَادِرٍ“} کے معنی میں ہے، کیونکہ {” بَلٰۤى “} سابقہ نفی کی تردید کے لیے لایا جاتا ہے، جب کہ {”نَعَمْ“} پہلی نفی کی تاکید کے لیے لایا جاتا ہے۔
جس روز یہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے، اُس وقت اِن سے پوچھا جائے گا "کیا یہ حق نہیں ہے؟" یہ کہیں گے "ہاں، ہمارے رب کی قسم (یہ واقعی حق ہے)" اللہ فرمائے گا، "اچھا تو اب عذاب کا مزا چکھو اپنے اُس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے رہے تھے"
مولانا محمد جوناگڑھی
وه لوگ جنہوں نے کفر کیا جس دن جہنم کے سامنے ﻻئے جائیں گے (اور ان سے کہا جائے گا کہ) کیا یہ حق نہیں ہے؟ تو جواب دیں گے کہ ہاں قسم ہے ہمارے رب کی (حق ہے) (اللہ) فرمائے گا، اب اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزه چکھو
احمد رضا خان بریلوی
اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں گے، ان سے فرمایا جائے گا کیا یہ حق نہیں کہیں گے کیوں نہیں ہمارے رب کی قسم، فرمایا جائے گا تو عذاب چکھو بدلہ اپنے کفر کا
علامہ محمد حسین نجفی
اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے پیش کئے جائیں گے (ان سے کہا جائے گا) کیا یہ حقیقت نہیں ہے؟ وہ کہیں گے کہ ہاں ہمیں قَسم ہے اپنے پروردگار کی! ارشاد ہوگا اپنے کفر و انکارکی پاداش میں عذاب کا مزہ چکھو۔
عبدالسلام بن محمد
اور جس دن وہ لوگ جنھوںنے کفر کیا، آگ پر پیش کیے جائیں گے، کیا یہ حق نہیں ہے؟ کہیں گے کیوں نہیں، ہمارے رب کی قسم! وہ کہے گا پھر چکھو عذاب اس کے بدلے جو تم کفر کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا ان لوگوں نے جو مرنے کے بعد جینے کے منکر ہیں اور قیامت کے دن جسموں سمیت جی اٹھنے کو محال جانتے ہیں یہ نہیں دیکھا کہ اللہ نے کل آسمانوں اور تمام زمینوں کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش نے اسے کچھ نہ تھکایا بلکہ صرف ہو جا کے کہنے سے ہی ہو گئیں، کون تھا جو اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتا، یا مخالفت کرتا بلکہ حکم برداری سے راضی خوشی ڈرے دبتے سب موجود ہو گئے، کیا اتنی کامل قدرت و قوت والا مرُدوں کے زندہ کر دینے کی سکت نہیں رکھتا؟ چنانچہ دوسری آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] یعنی ’ انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بھاری اور مشکل اور بہت بڑی اہم پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےسمجھ ہیں ‘۔ جب زمین و آسمان کو اس نے پیدا کر دیا تو انسان کا پیدا کر دینا خواہ ابتدًا ہو، خواہ دوبارہ ہو اس پر کیا مشکل ہے؟ اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ہاں وہ ہر شے پر قادر ہے اور انہی میں سے موت کے بعد زندہ کرتا ہے کہ اس پر بھی وہ صحیح طور پر قادر ہے۔ پھر اللہ جل و علا کافروں کو دھمکاتا ہے کہ قیامت والے دن جہنم میں ڈالے جائیں گے، اس سے پہلے جہنم کے کنارے پر انہیں کھڑا کر کے ایک مرتبہ پھر لاجواب اور بے حجت کیا جائے گا اور کہا جائے گا، کیوں جی ہمارے وعدے اور یہ دوزخ کے عذاب اب تو صحیح نکلے یا اب بھی شک و شبہ اور انکار و تکذیب ہے؟ یہ جادو تو نہیں، تمہاری آنکھیں تو اندھی نہیں ہو گئیں؟ جو دیکھ رہے ہو صحیح دیکھ رہے ہو یا درحقیقت صحیح نہیں؟ اب سوائے اقرار کے کچھ نہ بن پڑے گا، جواب دیں گے کہ ہاں ہاں سب حق ہے جو کہا گیا تھا وہی نکلا قسم اللہ کی اب ہمیں رتی برابر بھی شک نہیں، اللہ فرمائے گا اب دو گھڑی پہلے کے کفر کا مزہ چکھو۔
34۔ 1 وہاں اعتراف ہی نہیں کریں گے بلکہ اپنے اس اعتراف پر قسم کھا کر اسے مؤکد کریں گے لیکن اس وقت کا یہ اعتراف بےفائدہ ہے کیونکہ مشاہدے کے بعد اعتراف کی کیا حثیت ہوسکتی ہے آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد اعتراف نہیں تو کیا انکار کریں گے۔ 34۔ 2 اس لئے کہ جب ماننے کا وقت تھا، اس وقت مانا نہیں، یہ عذاب اسی کفر کا بدلہ ہے، جو اب تمہیں بھگتنا ہی بھگتنا ہے۔
(آیت 34) ➊ {وَ يَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ …:} قیامت کے حق ہونے کو دلیل کے ساتھ ذکر کرنے کے بعد اس دن کا ایک منظر پیش فرمایا، یعنی وہ دن یاد کرو جب ان لوگوں کو جو قیامت اور جہنم کا انکار کرتے تھے آگ پر پیش کیا جائے گا (اور کہا جائے گا) کیا یہ حق نہیں؟ سوال کا مقصد پوچھنا نہیں ہو گا بلکہ انھیں ذلیل کرنا اور وہ دنیا میں جہنم اور قیامت کا جو مذاق اڑاتے رہے اس کے بدلے میں ان کا مذاق اڑانا ہو گا۔ جہنم کے عذاب کے ساتھ ملامت، ڈانٹ ڈپٹ اور طنز و تہکّم کا یہ عذاب بجائے خود بہت بڑی سزا ہو گی، دوسری جگہ فرمایا: «يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا (13) هٰذِهِ النَّارُ الَّتِيْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ (14) اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَ» [ الطور: ۱۳ تا ۱۵ ] ”جس دن انھیں جہنم کی آگ کی طرف دھکیلا جائے گا، سخت دھکیلا جانا۔ یہی ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے تھے۔ تو کیا یہ جادو ہے، یا تم نہیں دیکھ رہے؟“ ➋ { قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا:} دنیا میں جس جہنم کا انکار کرتے تھے اور اس کا مذاق اڑاتے تھے اب اس کا اقرار ہی نہیں کریں گے بلکہ اس کے حق ہونے پر قسم کھائیں گے، کیونکہ اس کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ ہی نہیں ہو گا۔ ➌ { فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ:} مگر اس وقت کا اقرار و اعتراف انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گا، بلکہ ان سے کہا جائے گا کہ اگر یہ حق ہے تو پھر اس حق کو نہ ماننے کی وجہ سے اس کی سزا کا مزہ چکھو۔
پس اے نبیؐ، صبر کرو جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا ہے، اور ان کے معاملہ میں جلدی نہ کرو جس روز یہ لوگ اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا اِنہیں خوف دلایا جا رہا ہے تو اِنہیں یوں معلوم ہو گا کہ جیسے دنیا میں دن کی ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے تھے بات پہنچا دی گئی، اب کیا نافرمان لوگوں کے سوا اور کوئی ہلاک ہو گا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پس (اے پیغمبر!) تم ایسا صبر کرو جیسا صبر عالی ہمت رسولوں نے کیا اور ان کے لئے (عذاب طلب کرنے میں) جلدی نہ کرو، یہ جس دن اس عذاب کو دیکھ لیں گے جس کا وعده دیئے جاتے ہیں تو (یہ معلوم ہونے لگے گا کہ) دن کی ایک گھڑی ہی (دنیا میں) ٹھہرے تھے، یہ ہے پیغام پہنچا دینا، پس بدکاروں کے سوا کوئی ہلاک نہ کیا جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
تو تم صبر کرو جیسا ہمت والے رسولوں نے صبر کیا اور ان کے لیے جلدی نہ کرو گویا وہ جس دن دیکھیں گے جو انہیں وعدہ دیا جاتا ہے دنیا میں نہ ٹھہرے تھے مگر دن کی ایک گھڑی بھر یہ پہنچانا ہے تو کون ہلاک کیے جائیں گے مگر بے حکم لوگ
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) آپ(ص) اسی طرح صبر کریں جس طرح اولوالعزم رسولوں(ع) نے صبر کیا ہے اور ان کیلئے جلدی نہ کریں جس دن وہ دیکھیں گے (وہ عذاب) جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو وہ محسوس کریں گے کہ وہ (دنیا میں) دن کی ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے۔ بس یہ پیغام پہنچا دینا ہے۔ انجامِ کار ہلاک و برباد وہی ہوں گے جو فاسق و فاجر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پس صبر کر جس طرح پختہ ارادے والے رسولوں نے صبر کیا اور ان کے لیے جلدی کا مطالبہ نہ کر، جس دن وہ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو گویا وہ دن کی ایک گھڑی کے سوا نہیں رہے۔ یہ پہنچا دینا ہے، پھر کیا نافرمان لوگوں کے سوا کوئی اور ہلاک کیا جائے گا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو تسلی دے رہا ہے کہ آپ کی قوم نے اگر آپ کو جھٹلایا، آپ کی قدر نہ کی، آپ کی مخالفت کی، ایذاء رسانی کے درپے ہوئے تو یہ کوئی نئی بات تھوڑی ہی ہے؟ اگلے اولوالعزم پیغمبروں کو یاد کرو کہ کیسی کیسی ایذائیں، مصیبتیں اور تکلیفیں برداشت کیں اور کن کن زبردست مخالفوں کی مخالفت کو صبر سے برداشت کیا ان رسولوں کے نام یہ ہیں نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ، اور خاتم الانبیاء اللھم صلی علیہم اجمعین۔ انبیاء علیہ السلام کے بیان میں ان کے نام خصوصیت سے سورۃ الاحزاب اور سورۃ شوریٰ میں مذکور ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اولوالعزم رسول سے مراد سب پیغمبر علیہ السلام ہوں تو «من الرسل» کا «من» بیان جنس کے لیے ہو گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا پھر بھوکے ہی رہے پھر روزہ رکھا پھر بھوکے ہی رہے اور پھر روزہ رکھا پھر فرمانے لگے عائشہ محمد اور آل محمد کے لائق تو دنیا ہے ہی نہیں۔ عائشہ دنیا کی بلاؤں اور مصیبتوں پر صبر کرنے اور دنیا کی خواہش کی چیزوں سے اپنے تئیں بچائے رکھنے کا حکم اولوالعزم رسول کئے گئے اور وہی تکلیف مجھے بھی دی گئی ہے جو ان عالی ہمت رسولوں کو دی گئی تھی۔ قسم اللہ کی میں بھی انہی کی طرح اپنی طاقت بھر صبر و سہار سے ہی کام لوں گا اللہ کی قوت کے بھروسے پر یہ بات زبان سے نکال رہا ہوں۔ [شرح السنة للبغوی4046ضعیف] پھر فرمایا: اے نبی! یہ لوگ عذابوں میں مبتلا کئے جائیں اس کی جلدی نہ کرو۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا» ۔ [73-المزمل:11] اور «فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا» [86-الطارق:17] ، یعنی کافروں کو مہلت دو، انہیں تھوڑی دیر چھوڑ دو۔ پھر فرماتا ہے جس دن یہ ان چیزوں کا مشاہدہ کر لیں گے جن کے وعدے آج دئیے جاتے ہیں اس دن انہیں معلوم ہونے لگے گا کہ دنیا میں صرف دن کا کچھ ہی حصہ گزارا ہے۔ اور آیت میں ہے «أَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا» [79-النازعات:46] یعنی ’ جس دن یہ قیامت کو دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہو گا کہ گویا دنیا میں صرف ایک صبح یا ایک شام ہی گزاری تھی ‘۔ «وَيَوْمَ يَحْشُرُھُمْ كَاَنْ لَّمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ يَتَعَارَفُوْنَ بَيْنَھُمْ قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَاءِ اللّٰهِ وَمَا كَانُوْا مُهْتَدِيْنَ» [10-یونس:45] یعنی ’ جس دن ہم انہیں جمع کریں گے تو یہ محسوس کرنے لگیں گے کہ گویا دن کی ایک ساعت ہی دنیا میں رہے تھے ‘۔ پھر فرمایا پہنچا دینا ہے۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ دنیا کا ٹھہرنا صرف ہماری طرف سے ہماری باتوں کے پہنچا دینے کے لیے تھا دوسرے یہ کہ یہ قرآن صرف پہنچا دینے کیلئے ہے یہ کھلی تبلیغ ہے۔ پھر فرماتا ہے سوائے فاسقوں کے اور کسی کو ہلاکی نہیں۔ یہ اللہ جل و علا کا عدل ہے کہ جو خود ہلاک ہوا اسے ہی وہ ہلاک کرتا ہے، عذاب اسی کو ہوتے ہیں جو خود اپنے ہاتھوں اپنے لیے عذاب مہیا کرے اور اپنے آپ کو مستحق عذاب کر دے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «الحمدللہ» سورۃ الاحقاف کی تفسیر اختتام پذیر ہوئی۔
35۔ 1 یہ کفار مکہ کے رویے کے مقابلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جا رہی ہے اور صبر کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ 35۔ 2 قیامت کا ہولناک عذاب دیکھنے کے بعد انہیں دنیا کی زندگی ایسے ہی معلوم ہوگی جیسے دن کی صرف ایک گھڑی یہاں گزار کر گئے ہیں۔ 35۔ 3 یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے ای ہذا الذی وعظتھم بہ بلاغ یہ وہ نصحیت یا پیغام ہے جس کا پہچانا تیرا کام ہے۔ 35۔ 4 اس آیت میں بھی اہل ایمان کے لیے خوشخبری اور حوصلہ افزائی ہے کہ ہلاکت اخروی صرف ان لوگوں کا حصہ ہے جو اللہ کے نافرمان اور اس کی حدود پامال کرنے والے ہیں۔
(آیت 35) ➊ { فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ:} توحید و رسالت اور قیامت کو دلائل سے ثابت کرنے اور کفار کے شہادت کا جواب دینے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر و استقامت کی نصیحت فرمائی، کیونکہ آپ کو دعوت الی اللہ کے جواب میں کفار کی بدزبانی، استہزا اور اذیت رسانی سے شدید قلق اور سخت تکلیف ہوتی تھی، اس لیے فرمایا کہ اے نبی! جس طرح پختہ ارادے اور مضبوط عزم و ہمت والے رسولوں نے صبر کیا، آپ بھی صبر کریں۔ رہی یہ بات کہ ان اولوا العزم رسولوں سے مراد کون ہیں؟ تو عموماً پانچ رسولوں کو اولوا العزم کہا جاتا ہے جن میں نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیھم السلام کے ساتھ پانچویں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، کیونکہ ان کا اکٹھا ذکر قرآن مجید میں دو مقامات پر آیا ہے، ایک سورۂ احزاب میں ہے، فرمایا: «وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِيّٖنَ مِيْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِيْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا» [ الأحزاب: ۷ ] ”اور جب ہم نے تمام نبیوں سے ان کا پختہ عہد لیا اور تجھ سے اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے بھی اور ہم نے ان سے بہت پختہ عہد لیا۔“ اور دوسری آیت سورۂ شوریٰ کی ہے، فرمایا: «شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِيْۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ وَ مَا وَصَّيْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِيْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِيْسٰۤى اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ» [ الشورٰی: ۱۳ ] ”اس نے تمھارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا جس کا تاکیدی حکم اس نے نوح کو دیا اور جس کی وحی ہم نے تیری طرف کی اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا، یہ کہ اس دین کو قائم رکھو اور اس میں جدا جدا نہ ہو جاؤ۔“ مگر ان آیات میں نہ ان پیغمبروں کے اولوا العزم ہونے کا ذکر ہے اور نہ دوسرے پیغمبروں کے اولوا العزم نہ ہونے کا، اس لیے اسے عام رکھا جائے اور {” مِنْ “} کو بیانیہ قرار دیا جائے تو بہتر ہے۔ معنی یہ ہو گا کہ اس طرح صبر کر جس طرح پختہ ارادے والوں نے کیا، جو رسول تھے، جیسا کہ فرمایا: «فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ» [ الحج: ۳۰ ] ”پس گندگی سے بچو، جو بت ہیں۔“ مطلب یہ ہے کہ آپ سے پہلے پیغمبر اپنی قوم کی بے رخی، مخالفت اور ایذا رسانیوں کا جس طرح عزم و ہمت اور صبر و استقامت کے ساتھ مقابلہ کرتے رہے اسی طرح آپ بھی کریں۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ اولوا العزم سے تمام رسول مراد لینا درست نہیں، کیونکہ بعض رسولوں کے متعلق عزم کی نفی آئی ہے، جیسا کہ آدم علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «فَنَسِيَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا» [ طٰہٰ: ۱۱۵ ] ”پھر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں ارادے کی کچھ پختگی نہ پائی۔“ اور یونس علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ» [ القلم: ۴۸ ] ”اور تو مچھلی والے کی طرح نہ ہو۔“ اس لیے اولوا العزم سے اونچے درجے کے صاحبِ عزم رسول مراد ہیں، اگرچہ ان کی تعیین مشکل ہے۔ مگر ان مفسرین کی یہ بات اس لیے درست نہیں کہ اگرچہ آدم علیہ السلام سے یہ فعل سر زد ہو گیا مگر بعد میں ان کا درجہ پہلے سے بھی اونچا ہو گیا، جیسا کہ فرمایا: «ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَيْهِ وَ هَدٰى» [ طٰہٰ: ۱۲۲ ] ”پھر اس کے رب نے اسے چن لیا، تو اس پر مہربانی فرمائی اور ہدایت دی۔“ اور یونس علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ» [ القلم: ۵۰ ] ”پھر اس کے رب نے اسے چن لیا، پس اسے نیکوں میں شامل کر دیا۔“ اس لیے توبہ کے بعد ان دونوں پیغمبروں کے بھی اولوا العزم ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ ➋ { وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ:} صبر کے حکم کے ساتھ ہی جلد بازی سے منع فرمایا، یعنی ان کے لیے جلدی کا مطالبہ نہ کریں کہ یہ لوگ جلدی ایمان کیوں نہیں لاتے، یا ایمان نہ لانے کی وجہ سے ان پر جلدی عذاب کیوں نہیں آ جاتا۔ ➌ { كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوْعَدُوْنَ …:} یعنی جب وہ اللہ کا عذاب دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو انھیں ایسا معلوم ہو گا کہ وہ دنیا میں ایک ساعت سے زیادہ نہیں رہے، کیونکہ عذاب کی شدت انھیں سال و ماہ کی وہ مدت فراموش کروا دے گی جو انھوں نے دنیا میں بسر کی، جیسا کہ فرمایا: «قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِيْنَ (112) قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَسْـَٔلِ الْعَآدِّيْنَ (113) قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ» [ المؤمنون: ۱۱۲ تا ۱۱۴ ] ”فرمائے گا تم زمین میں سالوں کی گنتی میں کتنی مدت رہے؟ وہ کہیں گے ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے، سو شمار کرنے والوں سے پوچھ لے۔ فرمائے گا تم نہیں رہے مگر تھوڑا ہی، کاش کہ واقعی تم جانتے ہوتے۔“ کبھی انھیں وہ مدت ایک پہر معلوم ہو گی (دیکھیے نازعات: ۴۶) اور کبھی وہ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ وہ دنیا میں صرف ایک گھڑی رہے ہیں۔ دیکھیے سورۂ روم (۵۵)۔ ➍ { بَلٰغٌ:} یہ {”هٰذَا“} کی خبر ہے، یعنی یہ قرآن تو پیغام کا پہنچا دینا ہے، جیسا کہ فرمایا: «هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِيُنْذَرُوْا بِهٖ» [ إبراھیم: ۵۲ ] ”یہ لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے اور تاکہ انھیں اس کے ساتھ ڈرایا جائے۔“ ➎ { فَهَلْ يُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ:} یعنی قرآن کے پہنچ جانے کے بعد حجت تمام ہو گئی، اب بھی اگر کوئی فسق اور نافرمانی میں پڑا رہتا ہے تو وہ اپنی شامت کو خود دعوت دے رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کو بے قصور نہیں پکڑا جاتا، وہاں وہی لوگ ہلاک کیے جاتے ہیں جو فاسق اور نافرمان ہوں۔