بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأحقاف — Surah Ahqaf
آیت نمبر 34
کل آیات: 35
قرآن کریم الأحقاف آیت 34
آیت نمبر: 34 — سورۃ الأحقاف islamicurdubooks.com ↗
وَ یَوۡمَ یُعۡرَضُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا عَلَی النَّارِ ؕ اَلَیۡسَ ہٰذَا بِالۡحَقِّ ؕ قَالُوۡا بَلٰی وَ رَبِّنَا ؕ قَالَ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡفُرُوۡنَ ﴿۳۴﴾
جس روز یہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے، اُس وقت اِن سے پوچھا جائے گا "کیا یہ حق نہیں ہے؟" یہ کہیں گے "ہاں، ہمارے رب کی قسم (یہ واقعی حق ہے)" اللہ فرمائے گا، "اچھا تو اب عذاب کا مزا چکھو اپنے اُس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے رہے تھے"
وه لوگ جنہوں نے کفر کیا جس دن جہنم کے سامنے ﻻئے جائیں گے (اور ان سے کہا جائے گا کہ) کیا یہ حق نہیں ہے؟ تو جواب دیں گے کہ ہاں قسم ہے ہمارے رب کی (حق ہے) (اللہ) فرمائے گا، اب اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزه چکھو
اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں گے، ان سے فرمایا جائے گا کیا یہ حق نہیں کہیں گے کیوں نہیں ہمارے رب کی قسم، فرمایا جائے گا تو عذاب چکھو بدلہ اپنے کفر کا
اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے پیش کئے جائیں گے (ان سے کہا جائے گا) کیا یہ حقیقت نہیں ہے؟ وہ کہیں گے کہ ہاں ہمیں قَسم ہے اپنے پروردگار کی! ارشاد ہوگا اپنے کفر و انکارکی پاداش میں عذاب کا مزہ چکھو۔
اور جس دن وہ لوگ جنھوںنے کفر کیا، آگ پر پیش کیے جائیں گے، کیا یہ حق نہیں ہے؟ کہیں گے کیوں نہیں، ہمارے رب کی قسم! وہ کہے گا پھر چکھو عذاب اس کے بدلے جو تم کفر کیا کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا ان لوگوں نے جو مرنے کے بعد جینے کے منکر ہیں اور قیامت کے دن جسموں سمیت جی اٹھنے کو محال جانتے ہیں یہ نہیں دیکھا کہ اللہ نے کل آسمانوں اور تمام زمینوں کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش نے اسے کچھ نہ تھکایا بلکہ صرف ہو جا کے کہنے سے ہی ہو گئیں، کون تھا جو اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتا، یا مخالفت کرتا بلکہ حکم برداری سے راضی خوشی ڈرے دبتے سب موجود ہو گئے، کیا اتنی کامل قدرت و قوت والا مرُدوں کے زندہ کر دینے کی سکت نہیں رکھتا؟ چنانچہ دوسری آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] ‏‏‏‏ یعنی ’ انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بھاری اور مشکل اور بہت بڑی اہم پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےسمجھ ہیں ‘۔ جب زمین و آسمان کو اس نے پیدا کر دیا تو انسان کا پیدا کر دینا خواہ ابتدًا ہو، خواہ دوبارہ ہو اس پر کیا مشکل ہے؟ اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ہاں وہ ہر شے پر قادر ہے اور انہی میں سے موت کے بعد زندہ کرتا ہے کہ اس پر بھی وہ صحیح طور پر قادر ہے۔ پھر اللہ جل و علا کافروں کو دھمکاتا ہے کہ قیامت والے دن جہنم میں ڈالے جائیں گے، اس سے پہلے جہنم کے کنارے پر انہیں کھڑا کر کے ایک مرتبہ پھر لاجواب اور بے حجت کیا جائے گا اور کہا جائے گا، کیوں جی ہمارے وعدے اور یہ دوزخ کے عذاب اب تو صحیح نکلے یا اب بھی شک و شبہ اور انکار و تکذیب ہے؟ یہ جادو تو نہیں، تمہاری آنکھیں تو اندھی نہیں ہو گئیں؟ جو دیکھ رہے ہو صحیح دیکھ رہے ہو یا درحقیقت صحیح نہیں؟ اب سوائے اقرار کے کچھ نہ بن پڑے گا، جواب دیں گے کہ ہاں ہاں سب حق ہے جو کہا گیا تھا وہی نکلا قسم اللہ کی اب ہمیں رتی برابر بھی شک نہیں، اللہ فرمائے گا اب دو گھڑی پہلے کے کفر کا مزہ چکھو۔

📖 احسن البیان

34۔ 1 وہاں اعتراف ہی نہیں کریں گے بلکہ اپنے اس اعتراف پر قسم کھا کر اسے مؤکد کریں گے لیکن اس وقت کا یہ اعتراف بےفائدہ ہے کیونکہ مشاہدے کے بعد اعتراف کی کیا حثیت ہوسکتی ہے آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد اعتراف نہیں تو کیا انکار کریں گے۔ 34۔ 2 اس لئے کہ جب ماننے کا وقت تھا، اس وقت مانا نہیں، یہ عذاب اسی کفر کا بدلہ ہے، جو اب تمہیں بھگتنا ہی بھگتنا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 34) ➊ {وَ يَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ …:} قیامت کے حق ہونے کو دلیل کے ساتھ ذکر کرنے کے بعد اس دن کا ایک منظر پیش فرمایا، یعنی وہ دن یاد کرو جب ان لوگوں کو جو قیامت اور جہنم کا انکار کرتے تھے آگ پر پیش کیا جائے گا (اور کہا جائے گا) کیا یہ حق نہیں؟ سوال کا مقصد پوچھنا نہیں ہو گا بلکہ انھیں ذلیل کرنا اور وہ دنیا میں جہنم اور قیامت کا جو مذاق اڑاتے رہے اس کے بدلے میں ان کا مذاق اڑانا ہو گا۔ جہنم کے عذاب کے ساتھ ملامت، ڈانٹ ڈپٹ اور طنز و تہکّم کا یہ عذاب بجائے خود بہت بڑی سزا ہو گی، دوسری جگہ فرمایا: «يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا (13) هٰذِهِ النَّارُ الَّتِيْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ (14) اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الطور: ۱۳ تا ۱۵ ] ”جس دن انھیں جہنم کی آگ کی طرف دھکیلا جائے گا، سخت دھکیلا جانا۔ یہی ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے تھے۔ تو کیا یہ جادو ہے، یا تم نہیں دیکھ رہے؟“ ➋ { قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا:} دنیا میں جس جہنم کا انکار کرتے تھے اور اس کا مذاق اڑاتے تھے اب اس کا اقرار ہی نہیں کریں گے بلکہ اس کے حق ہونے پر قسم کھائیں گے، کیونکہ اس کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ ہی نہیں ہو گا۔ ➌ { فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ:} مگر اس وقت کا اقرار و اعتراف انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گا، بلکہ ان سے کہا جائے گا کہ اگر یہ حق ہے تو پھر اس حق کو نہ ماننے کی وجہ سے اس کی سزا کا مزہ چکھو۔
← پچھلی آیت (33) پوری سورۃ اگلی آیت (35) →