بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأحقاف — Surah Ahqaf
آیت نمبر 28
کل آیات: 35
قرآن کریم الأحقاف آیت 28
آیت نمبر: 28 — سورۃ الأحقاف islamicurdubooks.com ↗
فَلَوۡ لَا نَصَرَہُمُ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ قُرۡبَانًا اٰلِـہَۃً ؕ بَلۡ ضَلُّوۡا عَنۡہُمۡ ۚ وَ ذٰلِکَ اِفۡکُہُمۡ وَ مَا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۲۸﴾
پھر کیوں نہ اُن ہستیوں نے اُن کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبود بنا لیا تھا؟ بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے، اور یہ تھا اُن کے جھوٹ اور اُن بناوٹی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے
پس قرب الٰہی حاصل کرنے کے لئے انہوں نے اللہ کے سوا جن جن کو اپنا معبود بنا رکھا تھا انہوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی؟ بلکہ وه تو ان سے کھو گئے، (بلکہ دراصل) یہ ان کا محض جھوٹ اور (بالکل) بہتان تھا
تو کیوں نہ مدد کی ان کی جن کو انہوں نے اللہ کے سوا قرب حاصل کرنے کو خدا ٹھہرا رکھا تھا بلکہ وہ ان سے گم گئے اور یہ ان کا بہتان و افتراء ہے
تو انہوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی جن کو انہوں نے خدا کے تقرب کیلئے معبود بنا رکھا تھا بلکہ وہ تو ان سے غائب ہو گئے، یہ تھا ان کا جھوٹ اور ان کا بہتان جو وہ باندھتے تھے۔
پھر ان لوگوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی جنھیں انھوں نے قرب حاصل کرنے کے لیے اللہ کے سوا معبود بنایا؟ بلکہ وہ ان سے گم ہو گئے اور یہ ان کا جھوٹ تھا اور جو وہ بہتان باندھتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مغضوب شدہ قوموں کی نشاندہی ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ اگلی امتوں کو جو اسباب دنیوی مال و اولاد وغیرہ ہماری طرف سے دئیے گئے تھے ویسے تو تمہیں اب تک مہیا بھی نہیں، ان کے بھی کان آنکھیں اور دل تھے لیکن جس وقت انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور ہمارے عذابوں کا مذاق اڑایا تو بالاخر ان کے ظاہری اسباب انہیں کچھ کام نہ آئے اور وہ سزائیں ان پر برس پڑیں جن کی یہ ہمیشہ ہنسی کرتے رہے تھے۔ پس تمہیں ان کی طرح نہ ہونا چاہیئے ایسا نہ ہو کہ ان کے سے عذاب تم پر بھی آ جائیں اور تم بھی ان کی طرح جڑ سے کاٹ دئیے جاؤ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے اے اہل مکہ تم اپنے آس پاس ہی ایک نظر ڈالو اور دیکھو کہ کس قدر قومیں نیست و نابود کر دی گئی ہیں اور کس طرح انہوں نے اپنے کرتوت کے بدلے پائے ہیں احقاف جو یمن کے پاس ہے حضر موت کے علاقہ میں ہے، یہاں کے بسنے والے عادیوں کے انجام پر نظر ڈالو، تمہارے اور شام کے درمیان ثمودیوں کا جو حشر ہوا اسے دیکھو، اہل یمن اور اہل مدین کی قوم سبا کے نتیجہ پر غور کرو، تم تو اکثر غزوات اور تجارت وغیرہ کے لیے وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو، بحیرہ قوم لوط سے عبرت حاصل کرو وہ بھی تمہارے راستے میں ہی پڑتا ہے پھر فرماتا ہے ہم نے اپنی نشانیوں اور آیتوں سے خوب واضح کر دیا ہے تاکہ لوگ برائیوں سے بھلائیوں کی طرف لوٹ آئیں۔

پھر فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا جن جن معبودان باطل کی پرستش شروع کر رکھی تھی گو اس میں ان کا اپنا خیال تھا کہ اس کی وجہ سے ہم قرب الٰہی حاصل کریں گے، لیکن کیا ہمارے عذابوں کے وقت جبکہ ان کو ان کی مدد کی پوری ضرورت تھی انہوں نے ان کی کسی طرح مدد کی؟ ہرگز نہیں، بلکہ ان کی احتیاج اور مصیبت کے وقت وہ گم ہو گئے، ان سے بھاگ گئے، ان کا پتہ بھی نہ چلا الغرض ان کا پوجنا صریح غلطی تھی غرض جھوٹ تھا اور صاف افتراء اور فضول بہتان تھا کہ یہ انہیں معبود سمجھ رہے تھے پس ان کی عبادت کرنے میں اور ان پر اعتماد کرنے میں یہ دھوکے میں اور نقصان میں ہی رہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

📖 احسن البیان

28۔ 1 یعنی جن معبودوں کو وہ تقرب الہی کا ذریعہ سمجھتے تھے انہوں نے ان کی کوئی مدد نہیں کی بلکہ وہ اس موقعے پر آئے ہی نہیں بلکہ گم رہے اس سے بھی معلوم ہوا کہ مشرکین مکہ بتوں کو الہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ انہیں بارگاہ الہی میں قرب کا ذریعہ اور وسیلہ سمجھتے تھے اللہ نے اس وسیلے کو یہاں افک اور افتراء قرار دے کر واضح فرما دیا کہ یہ ناجائز اور حرام ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 28) ➊ {فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا …: ” قُرْبَانًا “} حال ہے یا مفعول لہ ہے، ترجمہ مفعول لہ کے مطابق کیا گیا ہے۔ اہل مکہ اور ان کے اردگرد کی قوموں کا سب سے بڑا اور مشترکہ جرم یہ تھا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا کئی ایسے الٰہ بنا رکھے تھے جن کے متعلق وہ سمجھتے تھے کہ وہ مصیبت کے وقت ان کے کام آتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی سفارش کرتے ہیں، اس کے پاس ان کی فریادیں پہنچاتے ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ سورۂ زمر میں گزر چکا ہے کہ مشرکینِ مکہ بھی اپنے پیش رو لوگوں کی طرح کہا کرتے تھے: «‏‏‏‏مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى» ‏‏‏‏ [ الزمر: ۳ ] ”ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں۔“ اور سورۂ یونس میں ہے: «‏‏‏‏هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ» ‏‏‏‏ [ یونس: ۱۸ ] ”یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔“ پھر چاہیے تو یہ تھا کہ جب اس جرم کی پاداش میں ان پر عذاب آیا تو وہ ان کی مدد کو پہنچتے، مگر کوئی ان کی مدد کو نہ پہنچا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر ان کے ان داتاؤں، حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں نے ان کی مدد کیوں نہ کی جنھیں ان لوگوں نے قرب حاصل کرنے کے لیے اللہ کے سوا معبود بنایا ہوا تھا؟ ➋ { بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ:} یعنی جب وہ وقت آیا جس کے لیے ان کی پوجا کی جاتی تھی اور ان کے سامنے نذرانے پیش کیے جاتے تھے، تو وہ معبود یوں غائب ہو گئے کہ کہیں ان کا سراغ نہ ملا۔ ➌ { وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ:} معلوم ہوا کہ ان کی وہ باتیں جو انھوں نے اپنے معبودوں کی دھاک بٹھانے کے لیے گھڑ رکھی تھیں سب جھوٹ تھیں اور وہ سراسر بہتان تھیں جو وہ باندھتے رہتے تھے۔
← پچھلی آیت (27) پوری سورۃ اگلی آیت (29) →