بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأحقاف — Surah Ahqaf
آیت نمبر 29
کل آیات: 35
قرآن کریم الأحقاف آیت 29
آیت نمبر: 29 — سورۃ الأحقاف islamicurdubooks.com ↗
وَ اِذۡ صَرَفۡنَاۤ اِلَیۡکَ نَفَرًا مِّنَ الۡجِنِّ یَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ ۚ فَلَمَّا حَضَرُوۡہُ قَالُوۡۤا اَنۡصِتُوۡا ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَلَّوۡا اِلٰی قَوۡمِہِمۡ مُّنۡذِرِیۡنَ ﴿۲۹﴾
(اور وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے) جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تاکہ قرآن سنیں جب وہ اُس جگہ پہنچے (جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے) تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہو جاؤ پھر جب وہ پڑھا جا چکا تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے
اور یاد کرو! جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف متوجہ کیا کہ وه قرآن سنیں، پس جب (نبی کے) پاس پہنچ گئے تو (ایک دوسرے سے) کہنے لگے خاموش ہو جاؤ، پھر جب پڑھ کر ختم ہوگیا تو اپنی قوم کو خبردار کرنے کے لئے واپس لوٹ گئے
اور جبکہ ہم نے تمہاری طرف کتنے جن پھیرے کان لگا کر قرآن سنتے، پھر جب وہاں حاضر ہوئے آپس میں بولے خاموش رہو پھر جب پڑھنا ہوچکا اپنی قوم کی طرف ڈر سناتے پلٹے
اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے جنات کے کچھ افراد کو آپ(ص) کی طرف متوجہ کیا تاکہ وہ غور سے قرآن سنیں۔ پس وہ اس جگہ پہنچے (جہاں قرآن پڑھا جا رہاتھا) تو (آپس میں کہنے لگے) خاموش ہو کر سنو پس جب (قرآن) پڑھا جا چکا تو وہ اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے بن کر لوٹے۔
اور جب ہم نے جنوں کے ایک گروہ کو تیری طرف پھیرا، جو قرآن غور سے سنتے تھے تو جب وہ اس کے پاس پہنچے تو انھوں نے کہا خاموش ہو جاؤ، پھر جب وہ پورا کیا گیا تو اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے بن کر واپس لوٹے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

طائف سے واپسی پر جنات نے کلام الہٰی سنا ، شیطان بوکھلایا ٭٭

مسند امام احمد میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ { یہ واقعہ نخلہ کا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز عشاء ادا کر رہے تھے، یہ سب جنات سمٹ کر آپ کے اردگرد بھیڑ کی شکل میں کھڑے ہو گئے }۔ [مسند احمد:167/1:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ { یہ جنات «نصیبین» کے تھے تعداد میں سات تھے }۔

کتاب دلائل النبوۃ میں بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ { نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنات کو سنانے کی غرض سے قرآن پڑھا تھا، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا، آپ تو اپنے صحابہ کے ساتھ عکاظ کے بازار جا رہے تھے ادھر یہ ہوا تھا شیاطین کے اور آسمانوں کی خبروں کے درمیان روک ہو گئی تھی اور ان پر شعلے برسنے شروع ہو گئے تھے۔ شیاطین نے آ کر اپنی قوم کو یہ خبر دی تو انہوں نے کہا کوئی نہ کوئی نئی بات پیدا ہوئی ہے جاؤ تلاش کرو پس یہ نکل کھڑے ہوئے ان میں کی جو جماعت عرب کی طرف متوجہ ہوئی تھی وہ جب یہاں پہنچی تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوق عکاظ کی طرف جاتے ہوئے نخلہ میں اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کی نماز پڑھا رہے تھے ان کے کانوں میں جب آپ کی تلاوت کی آواز پہنچی تو یہ ٹھہر گئے اور کان لگا کر بغور سننے لگے اس کے بعد انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ بس یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے تمہارا آسمانوں تک پہنچنا موقوف کر دیا گیا ہے یہاں سے فوراً ہی واپس لوٹ کر اپنی قوم کے پاس پہنچے اور ان سے کہنے لگے «قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا» [72-الجن:1] ‏‏‏‏ ہم نے عجیب قرآن سنا جو نیکی کا رہبر ہے ہم تو اس پر ایمان لا چکے اور اقرار کرتے ہیں کہ اب ناممکن ہے کہ اللہ کے ساتھ ہم کسی اور کو شریک کریں۔ اس واقعہ کی خبر اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ الجن میں دی }، یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:773] ‏‏‏‏

مسند میں ہے { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنات وحی الٰہی سنا کرتے تھے ایک کلمہ جب ان کے کان میں پڑ جاتا تو وہ اس میں دس ملا لیا کرتے پس وہ ایک تو حق نکلتا باقی سب باطل نکلتے اور اس سے پہلے ان پر تارے پھینکے نہیں جاتے تھے۔ پس جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو ان پر شعلہ باری ہونے لگی، یہ اپنے بیٹھنے کی جگہ پہنچتے اور ان پر شعلہ گرتا اور یہ ٹھہر نہ سکتے انہوں نے آ کر ابلیس سے یہ شکایت کی تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نخلہ کی دونوں پہاڑیوں کے درمیان نماز پڑھتے ہوئے پایا اور جا کر اسے خبر دی اس نے کہا بس یہی وجہ ہے جو آسمان محفوظ کر دیا گیا اور تمہارا جانا بند ہوا }۔ یہ روایت ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ [سنن ترمذي:3324،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ حسن بصری رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے کہ اس واقعہ کی خبر تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آئی تب آپ نے یہ معلوم کیا۔ سیرت ابن اسحاق میں محمد بن کعب کا ایک لمبا بیان منقول ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طائف جانا انہیں اسلام کی دعوت دینا ان کا انکار کرنا وغیرہ پورا واقعہ بیان ہے۔ حسن رحمہ اللہ نے اس دعا کا بھی ذکر کیا ہے جو آپ نے اس تنگی کے وقت کی تھی جو یہ ہے { «اللّهُمّ إلَيْك أَشْكُو ضَعْفَ قُوّتِي، وَقِلّةَ حِيلَتِي، وَهَوَانِي عَلَى النّاسِ، يَا أَرْحَمَ الرّاحِمِينَ! أَنْتَ رَبّ الْمُسْتَضْعَفِينَ وَأَنْتَ رَبّي، إلَى مَنْ تَكِلُنِي؟ إلَى بَعِيدٍ يَتَجَهّمُنِي؟ أَمْ إلَى عَدُوّ مَلّكْتَهُ أَمْرِي؟ إنْ لَمْ يَكُنْ بِك عَلَيّ غَضَبٌ فَلَا أُبَالِي، وَلَكِنّ عَافِيَتَك هِيَ أَوْسَعُ لِي، أَعُوذُ بِنُورِ وَجْهِك الّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ الظّلُمَاتُ وَصَلُحَ عَلَيْهِ أَمْرُ الدّنْيَا وَالْآخِرَةِ مِنْ أَنْ تُنْزِلَ بِي غَضَبَك، أَوْ يَحِلّ عَلَيّ سُخْطُكَ، لَك الْعُتْبَى حَتّى تَرْضَى، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوّةَ إلّا بِك» یعنی اپنی کمزوری اور بےسروسامانی اور کسمپرسی کی شکایت صرف تیرے سامنے کرتا ہوں۔ اے ارحم الراحمین! تو دراصل سب سے زیادہ رحم و کرم کرنے والا ہے اور کمزوروں کا رب تو ہی ہے میرا پالنہار بھی تو ہی ہے، تو مجھے کس کو سونپ رہا ہے کسی دوری والے دشمن کو جو مجھے عاجز کر دے یا کسی قرب والے دوست کو جسے تو نے میرے بارے اختیار دے رکھا ہو، اگر تیری کوئی خفگی مجھ پر نہ ہو تو مجھے اس درد دکھ کی کوئی پرواہ نہیں لیکن تاہم اگر تو مجھے عافیت کے ساتھ ہی رکھ تو وہ میرے لیے بہت ہی راحت رساں ہے، میں تیرے چہرے کے اس نور کے باعث جس کی وجہ سے تمام اندھیریاں جگمگا اٹھی ہیں اور دین و دنیا کے تمام امور کی اصلاح کا مدار اسی پر ہے تجھ سے اس بات کی پناہ طلب کرتا ہوں کہ مجھ پر تیرا عتاب اور تیرا غصہ نازل ہو یا تیری ناراضگی مجھ پر آ جائے، مجھے تیری ہی رضا مندی اور خوشنودی درکار ہے اور نیکی کرنے اور بدی سے بچنے کی طاقت تیری ہی مدد سے ہے۔ اسی سفر کی واپسی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نخلہ میں رات گزاری اور اسی رات قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے «نصیبین» کے جنوں نے آپ کو سنا }۔ [سیرۃ ابن ہشام21/2:مرسل] ‏‏‏‏ یہ ہے تو صحیح لیکن اس میں قول تامل طلب ہے اس لیے کہ جنات کا، کلام اللہ سننے کا واقعہ وحی شروع ہونے کے زمانے کا ہے جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اوپر بیان کردہ حدیث سے ثابت ہو رہا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طائف جانا اپنے چچا ابوطالب کے انتقال کے بعد ہوا ہے جو ہجرت کے ایک یا زیادہ سے زیادہ دو سال پہلے کا واقعہ ہے جیسے کہ سیرت ابن اسحاق وغیرہ میں ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ابن ابی شیبہ میں ان جنات کی گنتی نو کی ہے جن میں سے ایک کا نام زوبعہ ہے۔ انہی کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں [دلائل النبوۃ للبیهقی:228/2:] ‏‏‏‏ پس یہ روایت اور اس سے پہلے کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کا اقتضاء یہ ہے کہ اس مرتبہ جو جن آئے تھے ان کی موجودگی کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم نہ تھا یہ تو آپ کی بے خبری میں ہی آپ کی زبانی قرآن سن کر واپس لوٹ گئے اس کے بعد بطور وفد فوجیں کی فوجیں اور جتھے کے جتھے ان کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جیسے کہ اس ذکر کے احادیث و آثار اپنی جگہ آ رہے ہیں۔ «ان شاءاللہ» بخاری و مسلم میں ہے { عبدالرحمٰن نے مسروق رحمہا اللہ سے پوچھا کہ جس رات جنات نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سنا تھا اس رات کس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا ذکر کیا تھا؟ تو فرمایا مجھ سے تیرے والد سیدنا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا ہے ان کی آگاہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک درخت نے دی تھی }۔ [صحیح بخاری:3859] ‏‏‏‏ تو ممکن ہے کہ یہ خبر پہلی دفعہ کی ہو اور اثبات کو ہم نفی پر مقدم مان لیں۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ جب وہ سن رہے تھے آپ کو تو کوئی خبر نہ تھی یہاں تک کہ اس درخت نے آپ کو ان کے اجتماع کی خبر دی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ اس کے بعد والے کئی واقعات میں سے ایک ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

امام حافظ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہلی مرتبہ نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں کو دیکھا نہ خاص ان کے سنانے کے لیے قرآن پڑھا ہاں البتہ اس کے بعد جن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قرآن پڑھ کر سنایا اور اللہ عزوجل کی طرف بلایا جیسے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ اس کی روایتیں سنئے۔ { علقمہ رحمہ اللہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہیں کہ کیا تم میں سے کوئی اس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا؟ تو آپ نے جواب دیا کہ کوئی نہ تھا آپ رات بھر ہم سے غائب رہے اور ہمیں رہ رہ کر باربار یہی خیال گزرا کرتا تھا کہ شاید کسی دشمن نے آپ کو دھوکا دے دیا، اللہ نہ کرے آپ کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہو، وہ رات ہماری بڑی بری طرح کٹی، صبح صادق سے کچھ ہی پہلے ہم نے دیکھا کہ آپ غار حرا سے واپس آ رہے ہیں، پس ہم نے رات کی اپنی ساری کیفیت بیان کر دی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جنات کا قاصد آیا تھا جس کے ساتھ جا کر میں نے انہیں قرآن سنایا“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں لے کر گئے اور ان کے نشانات اور ان کی آگ کے نشانات ہمیں دکھائے۔ شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں انہوں نے آپ سے توشہ طلب کیا تو عامر کہتے ہیں یعنی مکے میں اور یہ جن جزیرے کے تھے تو آپ نے فرمایا: ”ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام ذکر کیا گیا ہو وہ تمہارے ہاتھوں میں پہلے سے زیادہ گوشت والی ہو کر پڑے گی، اور لید اور گوبر تمہارے جانوروں کا چارہ بنے گا، پس اے مسلمانو! ان دونوں چیزوں سے استنجاء نہ کرو یہ تمہارے جن بھائیوں کی خوراک ہیں“ }۔ [صحیح مسلم:450-150] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ { اس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پا کر ہم بہت ہی گھبرائے تھے اور تمام وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کر آئے تھے }۔ [ایضاً] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات میں جنات کو قرآن سناتا رہا اور جنوں میں ہی اسی شغل میں رات گزاری“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری31320:ضعیف] ‏‏‏‏

ابن جریر میں { سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو چاہے آج کی رات جنات سے دلچسپی لینے والا میرے ساتھ رہے“، پس میں موجود ہو گیا آپ مجھے لے کر چلے جب مکہ شریف کے اونچے حصے میں پہنچے تو آپ نے اپنے پاؤں سے ایک خط کھینچ دیا اور مجھ سے فرمایا: ”بس یہیں بیٹھے رہو“، پھر آپ چلے اور ایک جگہ پر کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرأت شروع کی پھر تو اس قدر جماعت آپ کے اردگرد ٹھٹ لگا کر کھڑی ہو گئی کہ میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت سننے سے بھی رہ گیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ جس طرح ابر کے ٹکڑے پھٹتے ہیں اس طرح وہ ادھر ادھر جانے لگے اور یہاں تک کہ اب بہت تھوڑے باقی رہ گئے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت فارغ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے دور نکل گئے اور حاجت سے فارغ ہو کر میرے پاس تشریف لائے اور پوچھنے لگے ”وہ باقی کے کہاں ہیں؟“ میں نے کہا: وہ یہ ہیں پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہڈی اور لید دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ان دونوں چیزوں سے استنجاء کرنے سے منع فرما دیا }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:31319:ضعیف] ‏‏‏‏ اس روایت کی دوسری سند میں ہے کہ جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو بٹھایا تھا وہاں بٹھا کر فرما دیا تھا کہ { خبردار یہاں سے نکلنا نہیں ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے }۔

اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت آ کر ان سے دریافت کیا کہ کیا تم سو گئے تھے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں نہیں , اللہ کی قسم! میں نے تو کئی مرتبہ چاہا کہ لوگوں سے فریاد کروں لیکن میں نے سن لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنی لکڑی سے دھمکا رہے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ بیٹھ جاؤ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم یہاں سے باہر نکلتے، تو مجھے خوف تھا کہ ان میں کے بعض تمہیں اچک نہ لے جائیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اچھا تم نے کچھ دیکھا بھی؟ میں نے کہا: ہاں، لوگ تھے سیاہ انجان خوفناک، سفید کپڑے پہنے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ [ «نصیبین» ] ‏‏‏‏ کے جن تھے انہوں نے مجھ سے توشہ طلب کیا تھا پس میں نے ہڈی اور لید، گوبر دیا، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس سے انہیں کیا فائدہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ہڈی ان کے ہاتھ لگتے ہی ایسی ہو جائے گی جیسی اس وقت تھی جب کھائی گئی تھی یعنی گوشت والی ہو کر انہیں ملے گی اور لید میں بھی وہی دانے پائیں گے جو اس روز تھے جب وہ دانے کھائے گئے تھے پس ہم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء سے نکل کر ہڈی لید اور گوبر سے استنجاء نہ کرے“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:31317،ضعیف] ‏‏‏‏ اس روایت کی دوسری سند میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پندرہ جنات جو آپس میں چچازاد اور پھوپھی زاد بھائی ہیں آج رات مجھ سے قرآن سننے کیلئے آنے والے ہیں۔ اس میں ہڈی اور لید کے ساتھ کوئلے کا لفظ بھی ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دن نکلے میں اسی جگہ گیا تو دیکھا کہ وہ کوئی ساٹھ اونٹ بیٹھنے کی جگہ ہے }۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:231/2:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { جب جنات کا اژدھام ہو گیا تو ان کے سردار نے کہا: یا رسول اللہ! میں انہیں ادھر ادھر کر کے آپ کو اس تکلیف سے بچا لیتا ہوں، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ سے زیادہ مجھے کوئی بچانے والا نہیں۔‏‏‏‏“ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنات والی رات میں مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! پانی تو نہیں البتہ ایک ڈولچی نبیذ ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمدہ کھجوریں اور پاکیزہ پانی“ }۔ [سنن ابوداود:84،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

مسند احمد کی اس حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس سے وضو کراؤ“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور فرمایا: ”یہ تو پینے کی اور پاک چیز ہے“ }۔ [مسند احمد:398/1:ضعیف] ‏‏‏‏ { جب آپ لوٹ کر آئے تو سانس چڑھ رہا تھا میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس میرے انتقال کی خبر آئی ہے“ }۔ [مسند احمد:449/1:ضعیف] ‏‏‏‏ یہی حدیث قدرے زیادتی کے ساتھ حافظ ابونعیم کی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی ہے اس میں ہے کہ { میں نے یہ سن کر کہا: پھر یا رسول اللہ! اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد کر جائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”کس کو؟“ میں نے کہا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے چلتے چلتے پھر کچھ دیر بعد یہی حالت طاری ہوئی۔ میں نے وہی سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی جواب دیا۔ میں نے خلیفہ مقرر کرنے کو کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کسے؟“ میں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس پر آپ خاموش ہو گئے کچھ دور چلنے کے بعد پھر یہی حالت اور یہی سوال جواب ہوئے اب کی مرتبہ میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا نام پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر یہ لوگ ان کی اطاعت کریں تو سب جنت میں چلے جائیں گے۔‏‏‏‏“ } [طبرانی کبیر:9970:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث بالکل ہی غریب ہے اور بہت ممکن ہے کہ یہ محفوظ نہ ہو اور اگر صحت تسلیم کر لی جائے تو اس واقعہ کو مدینہ کا واقعہ ماننا پڑے گا۔ وہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جنوں کے وفود آئے تھے جیسے کہ ہم عنقریب ان شاءاللہ تعالیٰ بیان کریں گے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری وقت فتح مکہ کے بعد تھا جب کہ دین الٰہی میں انسانوں اور جنوں کی فوجیں داخل ہو گئیں اور سورۃ «إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّـهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا» [110-النصر:1-3] ‏‏‏‏، اتر چکی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر انتقال دی گئی تھی۔ جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی اس پر موافقت ہے جو حدیثیں ہم اسی سورت کی تفسیر میں لائیں گے ان شاءاللہ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

مندرجہ بالا حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے لیکن اس کی سند بھی غریب ہے اور سیاق بھی غریب ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جنات جزیرہ موصل کے تھے ان کی تعداد بارہ ہزار کی تھی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس خط کشیدہ کی جگہ میں بیٹھے ہوئے تھے، لیکن جنات کے کھجوروں کے درختوں کے برابر کے قد و قامت وغیرہ دیکھ کر ڈر گئے اور بھاگ جانا چاہا لیکن فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم یاد آ گیا کہ اس حد سے باہر نہ نکلنا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس حد سے باہر آ جاتے تو قیامت تک ہماری تمہاری ملاقات نہ ہو سکتی“ اور روایت میں ہے کہ جنات کی یہ جماعت جن کا ذکر آیت «وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا أَنصِتُوا فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا إِلَى قَوْمِهِم مُّنذِرِينَ» [46-الأحقاف:29] ‏‏‏‏ میں ہے نینویٰ کی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ انہیں قرآن سناؤں تم میں سے میرے ساتھ کون چلے گا؟ اس پر سب خاموش ہو گئے، دوبارہ پوچھا: پھر خاموشی رہی، تیسری مرتبہ دریافت کیا تو قبیلہ ہذیل کے شخص سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تیار ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ساتھ لے کر حجون کی گھاٹی میں گئے۔ ایک لکیر کھینچ کر انہیں یہاں بٹھا دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے۔ یہ دیکھنے لگے کہ گدھوں کی طرح کے زمین کے قریب اڑتے ہوئے کچھ جانور آ رہے ہیں، تھوڑی دیر بعد بڑا غل غپاڑہ سنائی دینے لگا یہاں تک کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر ڈر لگنے لگا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ شور و غل کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے ایک مقتول کا قصہ تھا، جس میں یہ مختلف تھے، ان کے درمیان صحیح فیصلہ کر دیا گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:297/11:مرسل] ‏‏‏‏ یہ واقعات صاف ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قصدًا جا کر جنات کو قرآن سنایا، انہیں اسلام کی دعوت دی اور جن مسائل کی اس وقت انہیں ضرورت تھی وہ سب بتا دئیے۔ ہاں پہلی مرتبہ جب جنات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی قرآن سنا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ معلوم تھا، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سنانے کی غرض سے قرآن پڑھا تھا، جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس کے بعد وہ وفود کی صورت میں آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمداً تشریف لے گئے اور انہیں قرآن سنایا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت نہ تھے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بات چیت کی انہیں اسلام کی دعوت دی البتہ کچھ فاصلہ پر دور بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ کے ساتھ اس واقعہ میں سوائے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اور کوئی نہ تھا اور دوسری تطبیق ان روایات میں جن میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تھے اور جن میں ہے کہ نہ تھے یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پہلی دفعہ نہ تھے دوسری مرتبہ تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

یہ بھی مروی ہے کہ نخلہ میں جن جنوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی تھی وہ نینویٰ کے تھے اور مکہ شریف میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے وہ (‏‏‏‏نصیبین) کے تھے۔ اور یہ جو روایتوں میں آیا ہے کہ ہم نے وہ رات بہت بری بسر کی اس سے مراد سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سوا اور صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں، جنہیں اس بات کا علم نہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنات کو قرآن سنانے گئے ہیں۔ لیکن یہ تاویل ہے ذرا دور کی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» بیہقی میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حاجت اور وضو کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پانی کی ڈولچی لیے ہوئے جایا کرتے تھے، ایک دن یہ پیچھے پیچھے پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون ہے؟“ جواب دیا کہ میں ابوہریرہ ہوں، فرمایا: ”میرے استنجے کے لیے پتھر لاؤ لیکن ہڈی اور لید نہ لانا“، میں اپنی جھولی میں پتھر بھر لایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رکھ دئیے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو چکے اور چلنے لگے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا اور پوچھا یا رسول اللہ! کیا وجہ ہے جو آپ نے ہڈی اور لید سے منع فرما دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”میرے پاس [ نصیبین ] ‏‏‏‏ کے جنوں کا وفد آیا تھا اور انہوں نے مجھ سے توشہ طلب کیا تھا تو میں نے اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا کی کہ وہ جس لید اور ہڈی پر گذریں اسے طَعام پائیں“ }۔ [بیهقی فی السنن الکبریٰ:233/2:ضعیف] ‏‏‏‏

صحیح بخاری میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے [صحیح بخاری:3860] ‏‏‏‏ پس یہ حدیث اور اس سے پہلے کی حدیثیں دلالت کرتی ہیں کہ جنات کا وفد آپ کے پاس اس کے بعد بھی آیا تھا۔ اب ہم ان احادیث کو بیان کرتے ہیں جو دلالت کرتی ہیں کہ جنات آپ کے پاس کئی دفعہ حاضر ہوئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جو روایت اس سے پہلے بیان ہو چکی ہے اس کے سوا بھی آپ سے دوسری سند سے مروی ہے ابن جریر میں ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:297/11] ‏‏‏‏ آپ فرماتے ہیں یہ سات جن تھے (‏‏‏‏نصیبین) کے رہنے والے۔ انہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے قاصد بنا کر جنات کی طرف بھیجا تھا، مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ جنات تعداد میں سات تھے (‏‏‏‏نصیبین) کے تھے ان میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین کو اہل حران سے، کہا اور چار کو اہل (‏‏‏‏نصیبین) سے، ان کے نام یہ ہیں۔ «حسی» ، «حسا» ، «منسی» ، «ساحر» ، «ناصر» ، «الاردوبیان» ، «الاحتم» ۔

ابوحمزہ ثمالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں انہیں بنو شیصبان کہتے ہیں یہ قبیلہ جنات کے اور قبیلوں سے تعداد میں بہت زیادہ تھا اور یہ ان میں نصب کے بھی شریف مانے جاتے تھے اور عموماً یہ ابلیس کے لشکروں میں سے تھے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ نو تھے ان میں سے ایک کا نام روبعہ تھا، اصل نخلہ سے آئے تھے۔ بعض حضرات سے مروی ہے کہ یہ پندرہ تھے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ساٹھ اونٹوں پر آئے تھے اور ان کے سردار کا نام وردان تھا اور کہا گیا ہے کہ تین سو تھے اور یہ بھی مروی ہے کہ بارہ ہزار تھے۔ ان سب میں تطبیق یہ ہے کہ چونکہ وفود کئی ایک آئے تھے ممکن ہے کہ کسی میں چھ سات نو ہی ہوں کسی میں زیادہ کسی میں اس سے بھی زیادہ۔ اس پر دلیل صحیح بخاری شریف کی یہ روایت بھی ہے کہ { سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جس چیز کی نسبت جب کبھی کہتے کہ میرے خیال میں یہ اس طرح ہو گی تو وہ عمومًا اسی طرح نکلتی، ایک مرتبہ آپ بیٹھے ہوئے تھے تو ایک حسین شخص گزرا آپ رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ کر فرمایا: اگر میرا گمان غلط نہ ہو تو یہ شخص اپنے جاہلیت کے زمانہ میں ان لوگوں کا کاہن تھا، جانا ذرا اسے لے آنا، جب وہ آ گیا تو آپ نے اپنا یہ خیال اس پر ظاہر فرمایا، وہ کہنے لگا مسلمانوں میں اس ذہانت و فطانت کا کوئی شخص آج تک میری نظر سے نہیں گزرا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اب میں تجھ سے کہتا ہوں کہ تو اپنی کوئی صحیح اور سچی خبر سنا، اس نے کہا: بہت اچھا سنئے میں جاہلیت کے زمانہ میں ان کا کاہن تھا، میرے پاس میرا جن جو سب سے زیادہ تعجب خیز خبر لایا وہ سنئے۔ میں ایک مرتبہ بازار جا رہا تھا تو وہ آ گیا اور سخت گھبراہٹ میں تھا اور کہنے لگا، کیا تو نے جنوں کی بربادی مایوسی اور ان کے پھیلنے کے بعد سمٹ جانا اور ان کی درگت نہیں دیکھی؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے یہ سچا ہے میں ایک مرتبہ ان کے بتوں کے پاس سویا ہوا تھا ایک شخص نے وہاں ایک بچھڑا چڑھایا کہ ناگہاں ایک سخت پُرزور آواز آئی، ایسی کہ اتنی بلند اور کرخت آواز میں نے کبھی نہیں سنی اس نے کہا: اے جلیح! نجات دینے والا امر آ چکا، ایک شخص ہے جو فصیح زبان سے «لا الہ الا اللہ» کی منادی کر رہا ہے۔ سب لوگ تو مارے ڈر کے بھاگ گئے لیکن میں وہیں بیٹھا رہا کہ دیکھوں آخر یہ کیا ہے؟ کہ دوبارہ پھر اسی طرح وہی آواز سنائی دی اور اس نے وہی کہا پس کچھ ہی دن گزرے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی آوازیں ہمارے کانوں میں پڑنے لگیں }۔ [صحیح بخاری:3866] ‏‏‏‏ اس روایت سے ظاہر الفاظ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ خود عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ آوازیں اس ذبح شدہ بچھڑے سے سنیں اور ایک ضعیف روایت میں صریح طور پر یہ آ بھی گیا ہے لیکن باقی اور روایتیں یہ بتلا رہی ہیں کہ اسی کاہن نے اپنے دیکھنے سننے کا ایک واقعہ یہ بھی بیان کیا۔ «وَاللهُ اَ

📖 احسن البیان

29۔ 1 صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ مکہ کے قریب نخلہ وادی میں پیش آیا، جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحاب اکرام کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ جنوں کو تجسس تھا کہ آسمان پر ہم پر بہت زیادہ سختی کردی گئی ہے اب ہمارا وہاں جانا تقریبًا ناممکن بنادیا گیا ہے، کوئی بہت ہی اہم واقعہ رونما ہوا ہے جس کے نتیجے میں ایسا ہوا ہے۔ چناچہ مشرق و مغرب کے مختلف اطراف میں جنوں کی ٹولیاں واقعے کا سراغ لگانے کے لئے پھیل گئیں ان میں سے ایک ٹو لی نے یہ قرآن سنا اور یہ بات سمجھ لی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا یہ واقعہ ہی ہم پر آسمان کی بندش کا سبب ہے اور جنوں کی یہ ٹولی آپ پر ایمان لے آئی اور جا کر اپنی قوم کو بھی بتلایا (مسلم بخاری) (صحیح بخاری)۔ میں بھی بعض باتوں کا تذکرہ ہے کتاب مناقب الانصار باب ذکر الجن بعض دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد آپ جنوں کی دعوت پر ان کے ہاں بھی تشریف لے گئے اور انہیں جا کر اللہ کا پیغام سنایا اور متعدد مرتبہ جنوں کا وفد آپ کی خدمت میں بھی حاضر ہوا (فتح الباری، تفسیر ابن کثیر) 29۔ 2 یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تلاوت قرآن ختم ہوگی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 29) ➊ {وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ …:” اِذْ “} سے پہلے {”اُذْكُرْ“} محذوف ہے جس کا عطف اس سے پہلے مذکور آیت {” وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ “} پر ہے۔ یعنی کفارِ مکہ کے لیے ہود علیہ السلام اور ان کی قوم عاد کا ذکر کیجیے جو ان سے کہیں زیادہ قوت و شوکت والے تھے کہ اپنے رسول کو جھٹلانے پر ان کا کیا حال ہوا، اسی طرح اہلِ مکہ کے اردگرد کی بستیوں کے کفر پر اصرار کا انجام کیا ہوا، تاکہ اہلِ مکہ کو ان کے انجام سے عبرت ہو اور وہ کفر و شرک سے باز آ جائیں۔ {” وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ “} اور ان کفار کے لیے اس وقت کا ذکر کیجیے جب ہم نے جنوں کے ایک گروہ کا رخ آپ کی طرف پھیرا اور انھوں نے آپ سے قرآن سنا۔ مقصد کفارِ مکہ کو شرم دلانا ہے کہ اپنی جنس انسان، اپنی نسل عرب، اپنی قوم قریش اور اپنے شہر مکہ میں مبعوث رسول کی زبان سے ان پر نازل شدہ قرآن جیسی فصیح و بلیغ اور معجز کتاب مدت سے سننے کے باوجود نہ تم پر قرآن کا کچھ اثر ہوا، نہ تم رسول پر ایمان لائے اور نہ شرک کی نجاست سے پاک ہو سکے، ذرا جنوں کے اس گروہ کو بھی دیکھو جو اچانک اس موقع پر پہنچا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھ رہے تھے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنس یا قوم کے فرد نہیں تھے بلکہ ایک الگ جنس سے تھے، شہر بھی ان کا کوئی اور تھا، راستے میں انھیں قرآن سننے کا اتفاق ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم بھی نہ تھا کہ جنوں کا کوئی گروہ میرا قرآن سن رہا ہے، اس کے باوجود ان کے طرزِ عمل اور اپنے طرزِ عمل کا موازنہ کر لو۔ ➋ {فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا:} جب وہ اس موقع پر حاضر ہوئے تو ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ خاموش ہو جاؤ، تاکہ ہم غور سے قرآن سن سکیں۔ ان جنوں کو دیکھو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ توفیق سے خود ہی اس حکم پر عمل کر رہے ہیں جو سورۂ اعراف میں ہے: «‏‏‏‏وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الأعراف: ۲۰۴ ] ”اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور چپ رہو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“ اور اپنے آپ کو دیکھو، تمھاری روش وہ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے حم السجدہ میں فرمایا ہے: «‏‏‏‏وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ» [ حٰمٓ السجدۃ: ۲۶ ] ” اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، اس قرآن کو مت سنو اور اس میں شور کرو، تاکہ تم غالب رہو۔“ وہ ایک دوسرے کو خاموش رہ کر سننے کی تلقین کر رہے ہیں اور تم ایک دوسرے کو سننے سے روک رہے ہو۔ کم از کم سن تو لو، تاکہ ان کی طرح رحم کا دروازہ تمھارے لیے بھی کھل سکے، صرف تکبر اور غلبے کی ہوس میں نہ پڑے رہو، ایسا نہ ہو کہ یہ ہوس قومِ عاد کی طرح تمھیں بھی برباد کر دے۔ ➌ { فَلَمَّا قُضِيَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِيْنَ:} جب قرآن کی قراء ت پوری ہو چکی تو وہ نہ صرف یہ کہ خود ایمان لے آئے بلکہ اپنی قوم کو بھی کفر کے انجام سے خبردار کرنے کے لیے ان کی طرف واپس پلٹ گئے، کیونکہ ایمان کی تکمیل اسی سے ہوتی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند نصیحتیں فرمائیں، ان میں سے ایک یہ تھی: [ وَ أَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ، تَكُنْ مُؤْمِنًا ] [ ابن ماجہ، الزھد، باب الورع والتقوٰی: ۴۲۱۷ ] ”لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو، مومن بن جاؤ گے۔“ ➍ طبری نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کی ہے کہ انھوں نے {” وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ “} کے بارے میں فرمایا: ”یہ اہل نصیبین میں سے سات (مرد جن) تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اپنی قوم کی طرف پیغام پہنچانے والا بنا کر بھیجا۔“ [ الطبري: ۳۱۵۷۴ ] ابن کثیر کے محقق نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔ ➎ جنوں کا یہ گروہ کس موقع پر آیا؟ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ جن کی شانِ نزول اور اس کی ابتدائی آیات کی تفسیر۔
← پچھلی آیت (28) پوری سورۃ اگلی آیت (30) →