بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأحقاف — Surah Ahqaf
آیت نمبر 12
کل آیات: 35
قرآن کریم الأحقاف آیت 12
آیت نمبر: 12 — سورۃ الأحقاف islamicurdubooks.com ↗
وَ مِنۡ قَبۡلِہٖ کِتٰبُ مُوۡسٰۤی اِمَامًا وَّ رَحۡمَۃً ؕ وَ ہٰذَا کِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنۡذِرَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ٭ۖ وَ بُشۡرٰی لِلۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿ۚ۱۲﴾
حالانکہ اِس سے پہلے موسیٰؑ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آ چکی ہے، اور یہ کتاب اُس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی ہے تاکہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے
اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی۔ اور یہ کتاب ہے تصدیق کرنے والی عربی زبان میں تاکہ ﻇالموں کو ڈرائے اور نیک کاروں کو بشارت ہو
اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب سے پیشوا اور مہربانی، اور یہ کتاب ہے تصدیق فرماتی عربی زبان میں کہ ظالموں کو ڈر سنائے، اور نیکوں کو بشارت،
حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ(ع) کی کتاب (توراۃ) بھی راہنماورحمت تھی اور یہ کتاب (قرآن) تو اس کی تصدیق کرنے والی ہے (اور) عربی زبان میں ہے تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور نیکوکاروں کے لئے خوشخبری ہے۔
اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی اور یہ ایک تصدیق کرنے والی کتاب عربی زبان میں ہے، تاکہ ان لوگوں کو ڈرائے جنھوں نے ظلم کیا اور نیکی کرنے والوں کے لیے بشارت ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام پر نازل شدہ کتاب تورات امام و رحمت تھی اور یہ کتاب یعنی قرآن مجید اپنے سے پہلے کی تمام کتابوں کو منزل من اللہ اور سچی کتابیں مانتا ہے۔ یہ عربی فصیح اور بلیغ زبان میں نہایت واضح کتاب ہے۔ اس میں کفار کے لیے ڈراوا ہے اور ایمانداروں کے لیے بشارت ہے۔ اس کے بعد کی آیت کی پوری تفسیر سورۂ حم السجدہ میں گزر چکی ہے۔ ان پر خوف نہ ہو گا۔ یعنی آئندہ اور یہ غم نہ کھائیں گے یعنی چھوڑی ہوئی چیزوں کا۔ یہ ہمیشہ جنت میں رہنے والے جنتی ہیں، ان کے پاکیزہ اعمال تھے ہی ایسے کہ رحمت رحیم، کرم کریم کی بدلیاں ان پر جھوم جھوم کر موسلا دھار بارش برسائیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 12) ➊ {وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً:كِتٰبُ مُوْسٰۤى “} کا عطف {” شَاهِدٌ “} پر ہے اور {” قَبْلِهٖ “} کی ضمیر اس {” شَاهِدٌ “} کی طرف جا رہی ہے: {”أَيْ شَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِيْ إِسْرَائِيْلَ عَلٰي مِثْلِهِ وَ شَهِدَ مِنْ قَبْلِهِ كِتَابُ مُوْسٰي عَلٰي مِثْلِهِ“} یعنی بنی اسرائیل کے ایک شہادت دینے والے نے اس کی شہادت دی اور اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کی کتاب نے بھی اس کے حق ہونے کی شہادت دی جو لوگوں کی پیشوائی کرنے والی تھی۔ لوگ اس کی پیروی اور اس کے احکام پر عمل کرتے تھے (دیکھیے مائدہ: ۴۴) اور وہ لوگوں کے لیے سراسر رحمت تھی۔ ➋ اکثر مفسرین نے {” قَبْلِهٖ “} کی ضمیر کا مرجع قرآن کو قرار دیا ہے، یعنی اس قرآن سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی، لیکن مجھے وہ ترکیب بہتر معلوم ہوتی ہے جو اوپر ذکر ہوئی۔ ➌ { وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِيًّا:} اور یہ کتاب یعنی قرآن موسیٰ علیہ السلام کی کتاب کی تصدیق کرتی ہے، یعنی یہ عین ان پیش گوئیوں کے مطابق ہے جو تورات میں کی گئی تھیں، جس سے اس کی تصدیق ہوتی ہے اور دونوں کی بنیادی تعلیم بھی ایک ہے۔ حالانکہ وہ عبرانی زبان میں تھی اور یہ عربی زبان میں ہے اور ایسے شخص پر نازل ہوئی جو عبرانی جانتا ہی نہیں بلکہ اُمی ہے، عربی بھی نہیں پڑھ سکتا۔ یہ دلیل ہے کہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہیں جو تمام زبانیں پیدا کرنے والا اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ ➍ {لِّيُنْذِرَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا …:} تاکہ یہ ان لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرائے جنھوں نے کفر و شرک کا ارتکاب کرکے اپنی جانوں پر ظلم ڈھایا ہے اور نیک عمل کرنے والوں کے لیے عظیم خوش خبری ہو۔
← پچھلی آیت (11) پوری سورۃ اگلی آیت (13) →