بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأحقاف — Surah Ahqaf
آیت نمبر 5
کل آیات: 35
قرآن کریم الأحقاف آیت 5
آیت نمبر: 5 — سورۃ الأحقاف islamicurdubooks.com ↗
وَ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ یَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَنۡ لَّا یَسۡتَجِیۡبُ لَہٗۤ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ وَ ہُمۡ عَنۡ دُعَآئِہِمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴿۵﴾
آخر اُس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہو گا جو اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے بلکہ اِس سے بھی بے خبر ہیں کہ پکارنے والے اُن کو پکار رہے ہیں
اور اس سے بڑھ کر گمراه اور کون ہوگا؟ جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کر سکیں بلکہ ان کے پکارنے سے محض بےخبر ہوں
اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اللہ کے سوا ایسوں کو پوجے جو قیامت تک اس کی نہ سنیں اور انہیں ان کی پوجا کی خبر تک نہیں
اور اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارے جو قیامت تک اس کو جواب نہیں دے سکتے بلکہ وہ ان کی دعا و پکار سے غافل ہیں۔
اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کے سوا انھیں پکارتا ہے جو قیامت کے دن تک اس کی دعا قبول نہیں کریں گے اور وہ ان کے پکارنے سے بے خبر ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پھر فرماتا ہے اس سے بڑھ کر کوئی گمراہ کردہ نہیں جو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پکارے اور اس سے حاجتیں طلب کرے جن حاجتوں کو پورا کرنے کی ان میں طاقت ہی نہیں بلکہ وہ تو اس سے بھی بے خبر ہیں نہ کسی چیز کو لے دے سکتے ہیں اس لیے کہ وہ تو پتھر ہیں، جمادات میں سے ہیں۔ قیامت کے دن جب سب لوگ اکھٹے کئے جائیں گے تو یہ معبودان باطل اپنے عابدوں کے دشمن بن جائیں گے اور اس بات سے کہ یہ لوگ ان کی پوجا کرتے تھے صاف انکار کر جائیں گے۔ جیسے اللہ عزوجل کا اور جگہ ارشاد ہے «وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» [19-مريم:82،81] ‏‏‏‏، یعنی ان لوگوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کی عزت کا باعث بنیں۔ واقعہ ایسا نہیں بلکہ وہ تو ان کی عبادت کا انکار کر جائیں گے اور ان کے پورے مخالف ہو جائیں گے یعنی جب کہ یہ ان کے پورے محتاج ہوں گے اس وقت وہ ان سے منہ پھیر لیں گے۔ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی امت سے فرمایا تھا «اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» [29-العنكبوت:25] ‏‏‏‏، یعنی تم نے اللہ کے سوا بتوں سے جو تعلقات قائم کر لیے ہیں اس کا نتیجہ قیامت کے دن دیکھ لو گے جب کہ تم ایک دوسرے سے انکار کر جاؤ گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگو گے اور تمہاری جگہ جہنم مقرر اور متعین ہو جائے گی اور تم اپنا مددگار کسی کو نہ پاؤ گے۔

📖 احسن البیان

5۔ 1 یعنی یہی سب سے بڑے گمراہ ہیں جو پتھر کی مورتیوں کو مدد کے لئے پکارتے ہیں جو قیامت تک جواب دینے سے قاصر۔ ہیں اور قاصر ہی نہیں بلکہ بالکل بیخبر ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 5) {وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ …:} یہ استفہام انکار کے لیے ہے، یعنی اس سے بڑھ کر کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کو چھوڑ کر ایسی ہستیوں کو پکارے جو قیامت کے دن تک ان کی دعا قبول نہیں کر سکتے، کیونکہ ان کے پاس یہ اختیار ہی نہیں، بلکہ انھیں ان کے پکارنے کی خبر ہی نہیں۔ عام طور پر ان سے مراد پتھر اور بت لیے جاتے ہیں، مگر لفظ {”مَنْ“} ذوی العقول کے لیے آتا ہے، اس لیے اس سے مراد وہ سب ہستیاں ہیں جنھیں لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، جن میں انسان، جن، فرشتے، نبی، ولی، نیک، بد، زندہ، مردہ سب شامل ہیں۔ رہے پتھر، بت اور قبریں وغیرہ تو انھیں پکارتے اور پوجتے وقت بھی مشرکین دراصل ان بتوں یا قبروں کے بجائے ان ہستیوں ہی کو پکار رہے ہوتے ہیں جن کے وہ بت یا قبریں ہیں، ورنہ انھیں بت بنانے کی ضرورت کیا تھی، کسی بھی پتھر کی پوجا کر لیتے۔ چنانچہ مشرکینِ عرب نے عین کعبہ کے اندر ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام کی صورتیں بنا کر رکھی ہوئی تھیں، جنھیں فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے کعبہ سے نکالا گیا۔ (دیکھیے بخاری: ۴۲۸۸) اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی کسی کی پکار نہ سنتا ہے نہ اس کی مدد کو پہنچ سکتا ہے۔ قرآن مجید نے یہ بات بار بار دہرائی ہے، فرمایا: «‏‏‏‏وَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا يَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِيْرٍ (13) اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ وَ لَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ» [ فاطر: ۱۳، ۱۴ ] ”اور جن کو تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے ایک چھلکے کے مالک نہیں۔ اگر تم انھیں پکارو تو وہ تمھاری پکار نہیں سنیں گے اور اگر وہ سن لیں تو تمھاری درخواست قبول نہیں کریں گے اور قیامت کے دن تمھارے شرک کا انکا ر کر دیں گے اور تجھے ایک پوری خبر رکھنے والے کی طرح کوئی خبر نہیں دے گا۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» ‏‏‏‏ [ الأعراف: ۱۹۴ ] ”بے شک جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمھارے جیسے بندے ہیں، پس انھیں پکارو تو لازم ہے کہ وہ تمھاری دعا قبول کریں، اگر تم سچے ہو۔“ اور فرمایا: «لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ وَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَجِيْبُوْنَ۠ لَهُمْ بِشَيْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ اِلَى الْمَآءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ» ‏‏‏‏ [الرعد: ۱۴ ] ”برحق پکارنا صرف اسی کے لیے ہے اور جن کو وہ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی دعا کچھ بھی قبول نہیں کرتے، مگراس شخص کی طرح جو اپنی دونوں ہتھیلیاں پانی کی طرف پھیلانے والا ہے، تاکہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے، حالانکہ وہ اس تک ہرگز پہنچنے والا نہیں اور نہیں ہے کافروں کا پکارنا مگر سراسر بے سود۔“ قارئین {” لَا يَسْتَجِيْبُ “} کا مفہوم سمجھنے کے لیے تھوڑی زحمت کرکے ان مذکورہ بالا مقامات کی تفسیر پر بھی نظر ڈال لیں۔
← پچھلی آیت (4) پوری سورۃ اگلی آیت (6) →