بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأحقاف — Surah Ahqaf
آیت نمبر 9
کل آیات: 35
قرآن کریم الأحقاف آیت 9
آیت نمبر: 9 — سورۃ الأحقاف islamicurdubooks.com ↗
قُلۡ مَا کُنۡتُ بِدۡعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدۡرِیۡ مَا یُفۡعَلُ بِیۡ وَ لَا بِکُمۡ ؕ اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۹﴾
اِن سے کہو، "میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں، میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا، میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کر دینے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں"
آپ کہہ دیجئے! کہ میں کوئی بالکل انوکھا پیغمبر تو نہیں نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ میں تو صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی بھیجی جاتی ہے اور میں تو صرف علیاﻻعلان آگاه کر دینے واﻻ ہوں
تم فرماؤ میں کوئی انوکھا رسول نہیں اور میں نہیں جانتا میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا میں تو اسی کا تابع ہوں جو مجھے وحی ہوتی ہے اور میں نہیں مگر صاف ڈر سنانے والا،
آپ کہہ دیجئے کہ رسولوں(ع) میں سے میں کوئی انوکھا نہیں ہوں اور میں (از خود) نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیاجائے گا؟ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا اور میں تو صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جس کی مجھے وحی کی جاتی ہے اور میں نہیں ہوں مگر کھلا ہوا ڈرانے والا۔
کہہ دے میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں ہوں اور نہ میں یہ جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ (یہ کہ) تمھارے ساتھ (کیا)، میں تو بس اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے اور میں تو بس واضح ڈرانے والا ہوں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار بےبسی ٭٭

مشرکوں کی سرکشی اور ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جب انہیں اللہ کی ظاہر و باطن واضح اور صاف آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے، تکذیب و افترا، ضلالت و کفر گویا ان کا شیوہ ہو گیا ہے۔ جادو کہہ کر ہی بس نہیں کرتے بلکہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اسے تو محمد نے گھڑ لیا ہے۔ پس نبی کی زبانی اللہ جواب دلواتا ہے کہ اگر میں نے ہی اس قرآن کو بنایا ہے اور میں اس کا سچا نبی نہیں تو یقینًا وہ مجھے میرے اس جھوٹ اور بہتان پر سخت تر عذاب کرے گا اور پھر تم کیا سارے جہان میں کوئی ایسا نہیں جو مجھے اس کے عذابوں سے چھڑا سکے۔ جیسے اور جگہ ہے «قُلْ اِنِّىْ لَنْ يُّجِيْرَنِيْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ ڏ وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا إِلَّا بَلَاغًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِسَالَاتِهِ» [72-الجن:23،22] ‏‏‏‏، یعنی تو کہہ دے کہ مجھے اللہ کے ہاتھ سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ اس کے سوا کہیں اور مجھے پناہ کی جگہ مل سکے گی لیکن میں اللہ کی تبلیغ اور اس کی رسالت کو بجا لاتا ہوں۔ اور جگہ ہے «وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ» [69-الحاقة:47-44] ‏‏‏‏، یعنی اگر یہ ہم پر کوئی بات بنا لیتا، تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے اور تم میں سے کوئی بھی اسے نہ بچا سکتا۔ پھر کفار کو دھمکایا جا رہا ہے کہ تمہاری گفتگو کا پورا علم اس علیم اللہ کو ہے، وہی میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اس کی دھمکی کے بعد انہیں توبہ اور انابت کی رغبت دلائی جا رہی ہے اور فرماتا ہے، وہ غفور و رحیم ہے، اگر تم اس کی طرف رجوع کرو اپنے کرتوت سے باز آؤ تو وہ بھی تمہیں بخش دے گا اور تم پر رحم کرے گا۔ سورۃ الفرقان میں بھی اسی مضمون کی آیت ہے۔ فرمان ہے «وَقَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6،5] ‏‏‏‏، یعنی یہ کہتے ہیں کہ یہ اگلوں کی کہانیاں ہیں جو اس نے لکھ لی ہیں اور صبح شام لکھائی جا رہی ہیں تو کہہ دے کہ اسے اس اللہ نے اتارا ہے جو ہر پوشیدہ کو جانتا ہے خواہ آسمانوں میں ہو، خواہ زمین میں ہو وہ غفور و رحیم ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میں دنیا میں کوئی پہلا نبی تو نہیں، مجھ سے پہلے بھی تو دنیا میں لوگوں کی طرف رسول آتے رہے پھر میرے آنے سے تمہیں اس قدر اچنبھا کیوں ہوا؟ مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا؟ بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کے بعد آیت «لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَـقِيْمًا» [48-الفتح:2] ‏‏‏‏، اتری ہے۔ اسی طرح عکرمہ، حسن، قتادہ رحمہم اللہ علیہم بھی اسے منسوخ بتاتے ہیں۔ یہ بھی مروی ہے کہ جب آیت بخشش اتری جس میں فرمایا گیا تاکہ اللہ تیرے اگلے پچھلے گناہ بخشے تو ایک صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو اللہ نے بیان فرما دیا کہ وہ آپ کے ساتھ کیا کرنے والا ہے پس وہ ہمارے ساتھ کیا کرنے والا ہے؟ اس پر آیت «لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًا» [48-الفتح:5] ‏‏‏‏ اتری یعنی تاکہ اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، صحیح حدیث سے بھی یہ تو ثابت ہے کہ مومنوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ کو مبارک ہو، فرمائیے! ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری [صحیح مسلم:1786] ‏‏‏‏ ضحاک رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں کیا حکم دیا جاؤں اور کس چیز سے روک دیا جاؤں؟ امام حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ آخرت کا انجام تو مجھے قطعًا معلوم ہے کہ میں جنت میں جاؤں گا، ہاں دنیوی حال معلوم نہیں کہ اگلے بعض انبیاء کی طرح قتل کیا جاؤں یا اپنی زندگی کے دن پورے کر کے اللہ کے ہاں جاؤں؟ اور اسی طرح میں نہیں کہہ سکتا کہ تمہیں دھنسایا جائے یا تم پر پتھر برسائے جائیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:277/11] ‏‏‏‏

امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو معتبر کہتے ہیں اور فی الواقع ہے بھی یہ ٹھیک۔ آپ بالیقین جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو جنت میں ہی جائیں گے اور دنیا کی حالت کے انجام سے آپ بےخبر تھے کہ انجام کار آپ کا اور آپ کے مخالفین قریش کا کیا حال ہو گا؟ آیا وہ ایمان لائیں گے یا کفر پر ہی رہیں گے اور عذاب کئے جائیں گے یا بالکل ہی ہلاک کر دئیے جائیں گے۔ لیکن جو حدیث مسند احمد میں ہے [مسند احمد:436/6:صحیح] ‏‏‏‏ { سیدہ ام العلاء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی کہ جس وقت مہاجرین بذریعہ قرعہ اندازی انصاریوں میں تقسیم ہو رہے تھے اس وقت ہمارے حصہ میں سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ آئے، آپ ہمارے ہاں بیمار ہوئے اور فوت بھی ہو گئے جب ہم آپ کو کفن پہنا چکے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لا چکے، تو میرے منہ سے نکل گیا، اے ابوالسائب! اللہ تجھ پر رحم کرے میری تو تجھ پر گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ یقیناً تیرا اکرام ہی کرے گا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ یقیناً اس کا اکرام ہی کرے گا۔‏‏‏‏“ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! پر میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں مجھے کچھ نہیں معلوم پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! ان کے پاس تو ان کے رب کی طرف کا یقین آ پہنچا اور مجھے ان کیلئے بھلائی اور خیر کی امید ہے، قسم ہے اللہ کے باوجود رسول ہونے کے میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟“ اس پر میں نے کہا: اللہ کی قسم اب اس کے بعد میں کسی کی برات نہیں کروں گی اور مجھے اس کا بڑا صدمہ ہوا، لیکن میں نے خواب میں دیکھا کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی ایک نہر بہہ رہی ہے، میں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان کے اعمال ہیں“ }، یہ حدیث بخاری میں ہے [صحیح بخاری:1243] ‏‏‏‏ مسلم میں نہیں اور اس کی ایک سند میں ہے ”میں نہیں جانتا باوجود یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟“ دل کو تو کچھ ایسا لگتا ہے کہ یہی الفاظ موقعہ کے لحاظ سے ٹھیک ہیں کیونکہ اس کے بعد ہی یہ جملہ ہے کہ مجھے اس بات سے بڑا صدمہ ہوا۔ الغرض یہ حدیث اور اسی کی ہم معنی اور حدیثیں دلالت ہیں اس امر پر کہ کسی معین شخص کے جنتی ہونے کا قطعی علم کسی کو نہیں، نہ کسی کو ایسی بات زبان سے کہنی چاہیئے۔ بجز ان بزرگوں کے جن کے نام لے کر شارع علیہ السلام نے انہیں جنتی کہا ہے، جیسے عشرہ مبشرہ اور ابن سلام اور عمیصا اور بلال اور سراقہ اور عبداللہ بن عمرو بن حرام جو جابر کے والد ہیں اور وہ ستر قاری جو بیرمعونہ کی جنگ میں شہید کئے گئے اور زید بن حارثہ اور جعفر اور ابن رواحہ اور ان جیسے اور بزرگ رضی اللہ عنہم اجمعین۔ پھر فرماتا ہے اے نبی! تم کہہ دو کہ میں تو صرف اس وحی کا مطیع ہوں جو اللہ کی جناب سے میری جانب آئے اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں کہ کھول کھول کر ہر شخص کو آگاہ کر رہا ہوں ہر عقلمند میرے منصب سے باخبر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

📖 احسن البیان

9۔ 1 یعنی پہلا اور انوکھا رسول تو نہیں ہوں، بلکہ مجھ سے پہلے بھی متعدد رسول آ چکے ہیں۔ 9۔ 2 یعنی دنیا میں، میں مکہ میں ہی رہوں گا یا یہاں سے نکلنے پر مجبور ہونا پڑے گا، مجھے موت طبعی آئے گی یا تمہارے ہاتھوں میرا قتل ہوگا؟ تم جلدی ہی سزا سے دو چار ہونگیں یا لمبی مہلت تمہیں دی جائے گی؟ ان تمام باتوں کا علم صرف اللہ کو ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ یا تمہارے ساتھ کل کیا ہوگا تاہم آخرت کے بارے میں یقینی علم ہے کہ اہل ایمن جنت میں اور کافر جہنم میں جائیں گے اور حدیث میں جو آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر جب ان کے بارے میں حسن ظن کا اظہار کیا گیا تو فرمایا واللہ ما ادری وانا رسول اللہ ما یفعل بی ولا بکم۔ صحیح بخاری۔ اللہ کی قسم مجھے اللہ کا رسول ہونے کے باوجود علم نہیں کہ قیامت کو میرے اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا اس سے کسی ایک معین شخص کے قطعی انجام کے علم کی نفی ہے الا یہ کہ ان کی بابت بھی نص موجود ہو جیسے عشرہ مبشرہ اور اصحاب بدر وغیرہ۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 9) ➊ {قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ:” بَدَعَ يَبْدَعُ بَدْعًا “} (ف) {”اَلشَّيْءَ“} کسی چیز کو ایجاد کرنا، کسی پہلی مثال کے بغیر بنانا۔ سورۂ بقرہ (۱۱۷) اور سورۂ انعام (۱۰۱) میں {” بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ “} اسی سے ہے۔ {”بَدُعَ يَبْدُعُ بَدْعًا وَ بَدَاعَةً وَ بُدُوْعَةً“} (ک) نیا ہونا، جس کی پہلے کوئی مثال نہ ہو۔ {” بِدْعًا “} صفت مشبّہ فعل لازم سے بمعنی اسم فاعل ہے، جیسے {”خِفٌّ“} بمعنی خفیف ہے، یا فعل متعدی سے بمعنی اسم مفعول ہے، جیسے {”حِبٌّ“} بمعنی محبوب ہے۔ {” بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ “} نیا یا انوکھا رسول۔ کفار ایمان نہ لانے کے لیے جو بہانے اور اعتراض کرتے تھے ان میں سے چند کا ذکر اور ان کا جواب پچھلی دو آیات میں گزرا۔ اس آیت میں ان کے بہت سے اعتراضات کا صرف جواب ذکر کیا گیا ہے، اعتراضات کا ذکر نہیں کیا گیا، کیونکہ وہ خود بخود جواب سے سمجھ میں آ رہے ہیں۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر ان کا ذکر صراحت کے ساتھ بھی موجود ہے، جن میں سے ایک یہ تھا کہ ہمارے جیسا ایک بشر رسول کیسے بن گیا، جو ہماری طرح کھاتا پیتا، بازاروں میں چلتا پھرتا اور بیوی بچے رکھتا ہے۔ ایک اعتراض یہ کرتے کہ توحید کی جو تعلیم یہ نبی پیش کرتا ہے ہم نے اپنے آبا و اجداد میں نہیں سنی۔ (دیکھیے ص: ۴ تا ۸۔ فرقان: ۷) ایک یہ کہ اگر یہ رسول ہے تو ہمارے مطالبے کے مطابق معجزے کیوں پیش نہیں کرتا، مثلاً پہاڑہٹا دے، دریا بہا دے، سونے کا مکان بنا لے، آسمان پر چڑھ جائے اور وہاں سے کتاب لا کر دکھائے وغیرہ۔ (دیکھیے بنی اسرائیل: ۹۰ تا ۹۳) اور ایک یہ کہ غیب کی خبریں ہمارے مطالبے کے مطابق کیوں نہیں بتاتا، کم از کم یہ ہی بتا دے کہ قیامت کب ہو گی۔ (دیکھیے اعراف: ۱۸۷) اللہ تعالیٰ نے ان سب کے جواب میں یہ کہنے کا حکم دیا کہ میں کوئی پہلا رسول نہیں جو بشر ہو، مجھ سے پہلے تمام رسول بشر ہی تھے، وہ کھاتے پیتے، بازاروں میں چلتے پھرتے اور بیوی بچوں والے تھے۔ ان پر انسانی عوارض آتے تھے، سب کی تعلیم توحید تھی، وہ خدائی اختیارات نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی وہ اپنی مرضی سے معجزے پیش کر سکتے تھے۔ پھر اگر وہ سب، جن میں تمھارے جد امجد ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام اور بنی اسرائیل کے بہت سے انبیاء شامل ہیں، رسول اور نبی ہو سکتے ہیں اور تم انھیں نبی مانتے ہو تو میرا رسول ہونا کون سی انوکھی بات ہے؟ ➋ {وَ مَاۤ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَ لَا بِكُمْ:} یہ ان کے اس مطالبے کا جواب ہے کہ یہ ہمیں ہمارے مطالبے کے مطابق غیب کی خبریں کیوں نہیں دیتا۔ فرمایا ان سے کہہ دو کہ میں خود کچھ بھی نہیں جانتا، نہ یہ جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمھارے ساتھ کیا کیا جائے گا، تو میں تمھیں اپنے پاس سے تمھاری طلب کردہ باتیں کیسے بتا سکتا ہوں؟ {” مَا يُفْعَلُ “} فعل مجہول اس لیے لایا گیا تاکہ فاعل عام رہے، یعنی اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ کیا کرے گا اور لوگ کیا کریں گے۔ پھر یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ کس وقت کیا کیا جائے گا، تاکہ عام رہے کہ ہمارے ساتھ دنیا میں کیا کیا جائے گا اور آخرت میں کیا کیا جائے گا۔ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقینا جانتے تھے کہ دنیا اور آخرت میں آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا اور آپ پر ایمان لانے والوں یا نہ لانے والوں کے ساتھ کیا کیا جائے گا، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ آپ کے پہلے اور پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے گئے اور صحابہ کرام کے تمام گناہ معاف کرکے انھیں جنت میں داخل کیا جائے گا اور کفار و منافقین کو جہنم کا عذاب دیا جائے گا۔ (دیکھیے فتح: ۱ تا ۶) دنیا میں بھی آپ کو اور ایمان والوں کو عزت و غلبہ اور کفار کو ذلت و رسوائی ملے گی اور آپ کا دین تمام دینوں پر غالب آئے گا۔ دیکھیے سورۂ مجادلہ (۲۱)، فتح (۲۸)، صف (۸، ۹) اور دوسری متعدد آیات۔ پھر یہ کہنے کا حکم کیوں دیا کہ میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ جانتا ہوں کہ تمھارے ساتھ کیا کیا جائے گا؟ اہلِ علم نے اس سوال کے مختلف جواب دیے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ آپ اجمالی طور پر تو یہ جانتے تھے مگر تفصیلی طور پر آپ کو معلوم نہ تھا کہ آپ کے ساتھ یا آپ کے مخاطبین کے ساتھ دنیا یا آخرت میں کیا ہو گا۔ ایک جواب یہ دیا گیا ہے کہ پہلے آپ کو یہ معلوم نہ تھا بعد میں معلوم ہو گیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کا جواب اس آیت کے جملہ {” وَ مَاۤ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَ لَا بِكُمْ “} میں اور اگلے جملے {” اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰۤى اِلَيَّ “} میں موجود ہے۔ ➌ { اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰۤى اِلَيَّ:} یعنی میں خود آئندہ کی کوئی بات نہیں جانتا، نہ یہ کہ میرے ساتھ کیا ہو گا اور نہ یہ کہ تمھارے ساتھ کیا ہو گا، میں تو بس اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ یعنی میں صرف اتنا بتا سکتا ہوں جو مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی جاتی ہے اور واقعی اللہ تعالیٰ نے دنیا میں آئندہ ہونے والی جو بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی وہ آپ جان گئے اور جو نہیں بتائی وہ آپ کو معلوم نہیں ہوئی۔ اس کی دلیل سیکڑوں واقعات ہیں، مثلاً واقعۂ افک، بئرِ معونہ کے شہداء اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چند کفار کا نام لے کر ایک ماہ تک قنوت میں ان پر لعنت کرنا، مگر اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ کہنا کہ یہ آپ کے اختیار میں نہیں اور پھر ان سب کا مسلمان ہو جانا وغیرہ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نمل کی آیت (۶۵): «قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ» ‏‏‏‏ کی تفسیر۔ سورۂ اعراف میں فرمایا: «‏‏‏‏قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَ مَا مَسَّنِيَ السُّوْٓءُ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّ بَشِيْرٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ» [الاعراف: ۱۸۸ ] ”کہہ دے میں اپنی جان کے لیے نہ کسی نفع کا مالک ہوں اور نہ کسی نقصان کا، مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو ضرور بھلائیوں میں سے بہت زیادہ حاصل کر لیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی، میں نہیں ہوں مگر ایک ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والا ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔“ اسی طرح آخرت کے متعلق جو بات بتائی وہ آپ جان گئے جو نہیں بتائی وہ نہیں جانتے تھے، جیسا کہ حدیثِ شفاعت میں ہے کہ میں عرش کے نیچے سجدے میں گر جاؤں گا اور اللہ تعالیٰ مجھے وہ تعریفیں الہام کرے گا جو اب مجھے یاد نہیں۔ [ دیکھیے بخاري، التوحید، باب کلام الرب عز و جل یوم القیامۃ مع الأنبیاء وغیرہم: ۷۵۱۰ ] الغرض، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور پہلے تمام انبیاء علیھم السلام کو آئندہ کی کسی بات کا نہ اجمالی علم تھا اور نہ تفصیلی، صرف ان باتوں کا علم تھا جو اللہ تعالیٰ نے انھیں بتائیں، خواہ اجمالاً بتائیں یا تفصیلاً۔ یوسف اور یعقوب علیھما السلام کا واقعہ اس کی بہترین مثال ہے۔ دیکھیے سورۂ یوسف کی آیت (۹۴) کی تفسیر۔ اسی طرح ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کے تمام واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ پیغمبر کو آنے والے واقعات کا صرف اتنا علم ہوتا ہے جتنا اسے بتا دیا جائے۔ اگر کہا جائے کہ وہ سب کچھ جانتے ہوتے ہیں تو ابراہیم علیہ السلام کے آگ میں پھینکے جانے، بیٹے کو ذبح کرنے کے حکم، ہجرت میں بیوی کی عزت خطرے میں پڑنے، بیوی بچے کو بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑنے، غرض کسی بھی امتحان میں سرخرو ہونے کی کوئی قدر و قیمت باقی نہیں رہتی۔ خلاصہ یہ کہ آیت کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ اے نبی! کہہ دے نہ میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا ہوں اور نہ میں یہ جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمھارے ساتھ کیا کیا جائے گا، مجھے تو صرف اس بات کا پتا چلتا ہے اور میں اسی کی پیروی کرتا ہوں جس کی میری طرف وحی کی جاتی ہے، اس کے سوا میں اپنے یا تمھارے متعلق آئندہ کی کوئی بات نہیں جانتا۔ اس لیے مجھ سے قیامت کے وقت یا آئندہ کی دوسری کسی بات کے متعلق بتانے کا مطالبہ مت کرو، کیونکہ یہ میرے دائرۂ اختیار میں نہیں ہیں۔ ➍ { وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ:} یعنی میرا کام یہ نہیں کہ میں تمھیں بتاؤں کہ قیامت کب آئے گی، یا اپنے پاس سے تمھیں آئندہ کی خبریں بتاؤں۔ میرا کام صرف یہ ہے کہ میں اللہ کا عذاب آنے سے پہلے تمھیں اس سے واضح طور پر ڈرا دوں۔ ➎ مفسر علی بن احمد مہائمی نے اپنی تفسیر{ ” تبصير الرحمان “} میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے نہایت عمدہ الفاظ میں بحث کا خلاصہ بیان فرما دیا ہے، وہ لکھتے ہیں: [ «‏‏‏‏قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ» آتِيْكُمْ بِالْمُؤَاخَذَةِ الْأُخْرَوِيَّةِ «‏‏‏‏وَ» مِنْ أَيْنَ لِيْ تَعْيِيْنُ وَقْتِهَا مَعَ أَنِّيْ «‏‏‏‏مَاۤ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَ لَا بِكُمْ» ‏‏‏‏ فِيْمَا لَمْ يُوْحَ إِلَيَّ وَالْوَحْيُ بِبَعْضِ الْأُمُوْرِ لَا يَسْتَلْزِمُ الْعِلْمَ بِالْبَاقِيْ وَلَمْ يَكُنْ لِيْ أَنْ أَضُمَّ إِلَی الْوَحْيِ كَذِبًا مِنْ عِنْدِيْ «‏‏‏‏اِنْ اَتَّبِعُ» ‏‏‏‏ فِيْ تَقْرِيْرِ الْأُمُوْرِ الْغَيْبِيَّةِ «‏‏‏‏اِلَّا مَا يُوْحٰۤى اِلَيَّ وَ» ‏‏‏‏ مَعَ ذٰلِكَ لَا يُفَوَّضُ إِلَيَّ شَيْءٌ مِمَّا يُوْحٰی إِلَيَّ مِنْ تَعْذِيْبِ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِيْ بَلْ «‏‏‏‏مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ» ‏‏‏‏ عَنْهُ «‏‏‏‏مُبِيْنٌ» ‏‏‏‏ لَهُ بِالدَّلَائِلِ الْقَطْعِيَّةِ۔] ”(کہہ دے میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں) کہ تم پر آخرت کا عذاب لے آؤں (اور) میں اس کے وقت کی تعیین کیسے کر سکتا ہوں جب کہ (میں جانتا ہی نہیں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمھارے ساتھ کیا کیا جائے گا) ان معاملات میں جن کی میری طرف وحی نہیں کی گئی اور بعض معاملات کے وحی کیے جانے سے لازم نہیں آتا کہ مجھے تمام معاملات کا بھی علم ہو گیا اور یہ مجھ سے ہو نہیں سکتا کہ باقی معاملات میں وحی کے ساتھ اپنے پاس سے جھوٹ ملا دوں۔ (میں پیروی نہیں کرتا) غیبی معاملات بیان کرنے میں (مگر اسی کی جو میری طرف وحی کی جاتی ہے اور) اس کے ساتھ یہ کہ مجھے جو وحی کی جاتی ہے اس میں مجھ پر ایمان نہ لانے والوں کو عذاب دینے میں کسی چیز کا معاملہ میرے سپرد نہیں کیا جاتا، بلکہ (میں نہیں ہوں مگر ڈرانے والا) اس کی طرف سے (بالکل واضح) جو اپنے ڈرانے کو قطعی دلائل کے ساتھ واضح کرکے بیان کرنے والا ہوں۔“
← پچھلی آیت (8) پوری سورۃ اگلی آیت (10) →