بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأحقاف — Surah Ahqaf
آیت نمبر 19
کل آیات: 35
قرآن کریم الأحقاف آیت 19
آیت نمبر: 19 — سورۃ الأحقاف islamicurdubooks.com ↗
وَ لِکُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوۡا ۚ وَ لِیُوَفِّیَہُمۡ اَعۡمَالَہُمۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۱۹﴾
دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تاکہ اللہ ان کے کیے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا
اور ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کے مطابق درجے ملیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال کے پورے بدلے دے اور ان پر ﻇلم نہ کیا جائے گا
اور ہر ایک کے لیے اپنے اپنے عمل کے درجے ہیں اور تاکہ اللہ ان کے کام انہیں پورے بھردے
اور ہر ایک کیلئے ان کے اعمال کے مطابق درجے ہوں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ مل جائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
اور ہر ایک کے لیے الگ الگ درجے ہیں، ان اعمال کی وجہ سے جو انھوں نے کیے اور تاکہ اللہ انھیں ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پھر فرماتا ہے ہر ایک کے لیے اس کی برائی کے مطابق سزا ہے، اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بلکہ اس سے بھی کم کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں جہنم کے درجے نیچے ہیں اور جنت کے درجے اونچے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:288/11] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ جب جہنمی جہنم پر لا کھڑے کئے جائیں گے انہیں بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ تم اپنی نیکیاں دنیا میں ہی وصول کر چکے ان سے فائدہ وہیں اٹھا لیا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بہت زیادہ مرغوب اور لطیف غذا سے اسی آیت کو پیش نظر رکھ کر اجتناب کر لیا تھا اور فرماتے تھے مجھے خوف ہے کہیں میں بھی ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤں جنہیں اللہ تعالیٰ ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ یہ فرمائے گا۔ ابو مجلز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو دنیا میں کی ہوئی اپنی نیکیاں قیامت کے دن گم پائیں گے اور ان سے یہی کہا جائے گا۔ پھر فرماتا ہے آج انہیں ذلت کے عذابوں کی سزا دی جائے گی ان کے تکبر اور ان کے فسق کی وجہ سے۔ جیسا عمل ویسا ہی بدلہ ملا۔ دنیا میں یہ ناز و نعمت سے اپنی جانوں کو پالنے والے اور نخوت و بڑائی سے اتباع حق کو چھوڑنے والے اور برائیوں اور نافرمانیوں میں ہمہ تن مشغول رہنے والے تھے، تو آج قیامت کے دن انہیں اہانت اور رسوائی والے عذاب اور سخت درد ناک سزائیں اور ہائے وائے اور افسوس و حسرت کے ساتھ جہنم کے نیچے کے طبقوں میں جگہ ملے گی اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں ان سب باتوں سے محفوظ رکھے۔

📖 احسن البیان

19۔ 1 مومن اور کافر دونوں کا ان کے عملوں کے مطابق اللہ کے ہاں مرتبہ ہوگا مومن مراتب عالیہ سے سرفراز ہوں گے اور کافر جہنم کے پست ترین درجوں میں ہوں گے۔ 19۔ 1 گنہگار کو اس کے جرم سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی اور نیکوکار کے صلے میں کمی نہیں ہوگی۔ بلکہ ہر ایک کو خیر یا شر میں سے وہی ملے گا جس کا وہ مستحق ہوگا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 19) {وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا …:} اس آیت سے پہلے مضمون کی تاکید مقصود ہے، یعنی ہر ایک کو، وہ مومن ہو یا کافر، اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا ملے گی۔ یہ نہیں ہو گا کہ بروں پر ایسے گناہ لاد دیے جائیں جو انھوں نے نہ کیے ہوں، یا نیکوں کو ان کی نیکی سے محروم کر دیا جائے۔ واضح رہے یہاں مومن و کافر سب کے لیے {” دَرَجٰتٌ “} کا لفظ تغلیباً استعمال ہوا ہے، ورنہ تو اصل میں منازلِ جنت کو ”درجات“ اور منازلِ جہنم کو ”درکات“ کہا جاتا ہے، جس طرح منافقوں کے بارے میں {” فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ “} آیا ہے۔ (روح المعانی)
← پچھلی آیت (18) پوری سورۃ اگلی آیت (20) →