بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 250
صفحہ 8 از 13
حدیث نمبر: 20942 مسند احمد
أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ هُوَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبُو عُمَرَ الْمُقْرِئُ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ هُوَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الْمُقْرِئُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جانور کی جانور کے بدلے اور ادھار خریدوفروخت سے منع کیا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20942]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى عامر المقرئ
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى عامر المقرئ
حدیث نمبر: 20943 مسند احمد
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَيُوسُفُ الصَّفَّارُ ، أَبُو أُسَامَةَ ، زَكَرِيَّا بْنِ سِيَاهٍ الثَّقَفِيِّ ، عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ رِيَاحٍ ، عَلِيِّ بْنِ عُمَارَةَ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَيُوسُفُ الصَّفَّارُ مولى بني أمية قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ سِيَاهٍ الثَّقَفِيِّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ رِيَاحٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا فِي مَجْلِسٍ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي سَمُرَةَ جَالِسٌ أَمَامِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْفُحْشَ وَالتَّفَاحُشَ لَيْسَا مِنَ الْإِسْلَامِ فِي شَيْءٍ، وَإِنَّ خَيْرَ النَّاسِ إِسْلَامًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا" ، قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي حَدِيثِهِ: زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ رِيَاحٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک مجلس میں شریک تھا میرے والد حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سامنے بیٹھے ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ بےحیائی اور بےہودہ گوئی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسلام کے اعتبار سے لوگوں سے سب سے اچھا شخص وہ ہوتا ہے جس کے اخلاق سب سے عمدہ ہوں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20943]
حدیث نمبر: 20944 مسند احمد
أَبُو الْقَاسِمِ الزُّهْرِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِي ، وَعَمِّي ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عُمَرُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْوَجِيهِ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو الْقَاسِمِ الزُّهْرِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَعَمِّي ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْوَجِيهِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ مَعَ جَنَازَةِ ثَابِتِ بْنِ الدَّحْدَاحَةِ عَلَى فَرَسٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ تَحْتَهُ، لَيْسَ عَلَيْهِ سَرْجٌ، مَعَهُ النَّاسُ وَهُمْ حَوْلَهُ"، قَالَ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ حَتَّى فُرِغَ مِنْهُ، ثُمَّ قَامَ فَقَعَدَ عَلَى فَرَسِهِ، ثُمَّ انْطَلَقَ يَسِيرُ حَوْلَهُ الرِّجَالُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا تو وہ ثابت بن دحداح کے جنازے میں ایک روشن کشادہ پیشانی والے گھوڑے پر سوار ہو کر نکلے اس پر زین کسی ہوئی نہ تھی لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اردگرد تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھوڑے سے اترے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور بیٹھ گئے یہاں تک کہ تدفین سے فراغت ہوگئی پھر کھڑے ہوئے اور پنے گھوڑے پر بیٹھ گئے اور روانہ ہوئے لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اردگرد تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20944]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 965
الحكم: إسناده صحيح، م: 965
حدیث نمبر: 20945 مسند احمد
أَبُو الْقَاسِمِ الزُّهْرِيُّ ، عَمِّي ، شَرِيكٌ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو الْقَاسِمِ الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمِّي ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَاعِدًا قَطُّ، فَلَا تُصَدِّقْهُ، قَدْ رَأَيْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ مَرَّةٍ فَرَأَيْتُهُ " يَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَجْلِسُ فَلَا يَتَكَلَّمُ بِشَيْءٍ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ خُطْبَتَهُ الْأُخْرَى"، قُلْتُ: كَيْفَ كَانَتْ خُطْبَتُهُ؟ قَالَ:" كَانَتْ قَصْدًا، كَلَامٌ يَعِظُ بِهِ النَّاسَ، وَيَقْرَأُ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے اس لئے اگر تم سے کوئی شخص یہ بیان کرتا ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بیٹھ کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے تو وہ غلط بیانی کرتا ہے میں نے انہیں سو سے زائد مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے پہلے ایک مرتبہ خطبہ دیتے اور بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ دیتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خطبہ اور نماز معتدل ہوتے تھے۔ وہ لوگوں کو وعظ فرماتے تھے اور قرآن کریم کی آیات پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20945]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك
حدیث نمبر: 20946 مسند احمد
عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ الْحِمْصِيُّ ، أَحْمَدُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ الْوَهْبِيَّ ، قَيْسٌ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ الْوَهْبِيَّ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَتَفْتَحَنَّ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَبْيَضَ آلِ كِسْرَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت نکلے گی اور وہ کسری کا سفید خزانہ نکال لیں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20946]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2919، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 2919، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20947 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ:" مَا رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِلَّا قَائِمًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20947]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20948 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو دَاوُدَ ، سُفْيَانُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ، لَمْ يَرْجِعْ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز فجر پڑھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طلوع آفتاب تک اپنی جگہ پر ہی بیٹھے رہتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20948]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 670
الحكم: إسناده صحيح، م: 670
حدیث نمبر: 20949 مسند احمد
قَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ ، مُصْعَبٌ يَعْنِي ابْنَ الْمِقْدَامِ ، سُفْيَانُ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ يَعْنِي ابْنَ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَأُ فِي خُطْبَتِهِ آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ، وَيُذَكِّرُ النَّاسَ، وَكَانَتْ خُطْبَتُهُ قَصْدًا، وَصَلَاتُهُ قَصْدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کے دن دو خطبے دیتے تھے پہلا خطبہ دیتے اور بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہوتے اور دوسرا خطبہ دیتے تھے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خطبہ اور نماز معتدل ہوتے تھے۔ اور وہ منبر پر قرآن کریم کی آیات تلاوت کرتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20949]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20950 مسند احمد
الصَّغَانِيُّ ، سَلَمَةُ بْنُ حَفْصٍ السَّعْدِيُّ ، يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، إِسْرَائِيلَ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي الصَّغَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ حَفْصٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ: عَبْد اللَّهِ: وَقَدْ رَأَيْتُ أَنَا سَلَمَةَ بْنَ حَفْصٍ، وَكَانَ يُكَنَّى أَبَا بَكْرٍ مِنْ وَلَدِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ أَبْيَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ، فَحَدَّثَنِي عَنْهُ أَبُو بَكْرٍ الصَّغَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ:" كَانَتْ أُصْبُعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَظَاهِرَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگلیاں ایک دوسرے سے جدا جدا تھیں۔ (جڑی ہوئی نہ تھیں) [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20950]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، سلمة بن حفص متهم، ويحيي بن يمان ضعيف يعتبر به
الحكم: إسناده ضعيف، سلمة بن حفص متهم، ويحيي بن يمان ضعيف يعتبر به
حدیث نمبر: 20951 مسند احمد
بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سِمَاكٌ ، جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً"، فَقَالَ كَلِمَةً خَفِيَّةً لَمْ أَفْهَمْهَا، قَالَ: فَقُلْتُ لِأَبِي: مَا قَالَ؟ قَالَ:" كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزرجائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20951]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد صحيح
الحكم: حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20952 مسند احمد
بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سِمَاكٍ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت سے پہلے کچھ کذاب آکر رہیں گے تم ان سے بچنا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20952]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2923، وهذا إسناد صحيح
الحكم: حديث صحيح، م: 2923، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20953 مسند احمد
بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ:" مَا كَانَ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّيْبِ إِلَّا شَعَرَاتٌ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ، إِذَا ادَّهَنَ وَارَاهُنَّ الدُّهْنُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سفید بالوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر میں چند بال سفید تھے جب آپ سر پر تیل لگاتے تو بالوں کی سفیدی واضح نہیں ہوتی تھی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20953]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20954 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، زُهَيْرٌ ، سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: نْبَأَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَخْطُبُ قَائِمًا عَلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا"، قَالَ: فَقَالَ لِي جَابِرٌ: مَنْ نَبَّأَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَدْ كَذَبَ، فَقَدْ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَيْ صَلَاةٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے پھر تھوڑی دیر بیٹھ جاتے کسی سے بات نہ کرتے پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ ارشاد فرماتے اس لئے اگر تم میں سے کوئی شخص یہ بیان کرتا ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بیٹھ کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے وہ غلط بیانی کرتا ہے واللہ میں نے ان کے ساتھ دوہزار نمازیں پڑھی ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20954]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20955 مسند احمد
أَبُو بَكْرٍ خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ ، النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكٍ ، أَبَا ثَوْرِ بْنَ عِكْرِمَةَ بْنِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَوْرِ بْنَ عِكْرِمَةَ بْنِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَبَاتِ الْغَنَمِ؟ فَرَخَّصَ، وَسُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَبَاتِ الْإِبِلِ؟ فَنَهَى عَنْهُ، وَسُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ؟ فَقَالَ: تَوَضَّئُوا، وَسُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ، وَإِنْ شِئْتَ فَلَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا میں بکری کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کیا کروں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں اس نے پوچھا کہ بکریوں کے بارے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں سائل نے پوچھا کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کروں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ اس نے پوچھا کہ اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20955]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 360، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، م: 360، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20956 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، زَائِدَةُ ، سِمَاكٍ ، جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ، فَقَالَ: أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَأُصَلِّي فِي مَرَابِضِهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنْ شِئْتَ، قَالَ: أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأُصَلِّي فِي أَعْطَانِهَا؟ قَالَ: لَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا میں بکری کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کیا کروں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں اس نے پوچھا کہ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں سائل نے پوچھا کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کروں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ اس نے پوچھا کہ اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20956]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 360، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، م: 360، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20957 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَمُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَمُؤَمَّلٌ المعنى، وهذا لفظ عبد الله، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ،" أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَأُصَلِّي فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أُصَلِّي فِي أَعْطَانِهَا؟ قَال: لَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہمارے نسخے میں یہاں صرف حدثنا لکھا ہوا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20957]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20958 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، الْأَعْمَشِ ، مُسَيَّبُ بْنُ رَافِعٍ ، تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُسَيَّبُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَهُمْ حِلَقٌ، فَقَالَ:" مَا لِي أَرَاكُمْ عِزِينَ؟" وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ، فَقَالَ:" قَدْ رَفَعُوهَا كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے تو فرمایا کہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں مختلف ٹولیوں کی شکل میں بٹا ہوا دیکھ رہاہوں صحابہ کرام اس وقت اسی طرح بیٹھے ہوئے تھے۔ اور ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے اور کچھ لوگوں کو ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کا کیا مسئلہ ہے وہ اپنے ہاتھوں سے اس طرح اشارہ کرتے ہیں جیسے دشوار خو گھوڑوں کی دم ہو۔ نماز میں پرسکون رہا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20958]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 430
الحكم: إسناده صحيح، م: 430
حدیث نمبر: 20959 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، سِمَاكٌ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكٍ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَحْيَى
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ " بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابُونَ" ، قَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ: قَالَ أَخِي: وَكَانَ أَقْرَبَ مِنِّي" فَاحْذَرُوهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت سے پہلے کچھ کذاب آکر رہیں گے تم ان سے بچنا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20959]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2923، وهذا إسناد صحيح
الحكم: حديث صحيح، م: 2923، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20960 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، سِمَاكٌ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا، ثُمَّ يَقْعُدُ، ثُمَّ يَقُومُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کے دن دو خطبے دیتے تھے پہلا خطبہ دیتے اور بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ دیتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20960]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20961 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، سِمَاكٌ ، لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ : كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ؟ قَالَ:" كَانَ يَجْلِسُ فِي مُصَلَّاهُ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سماک نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نماز فجر کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کیا معمول تھا انہوں نے فرمایا کہ طلوع آفتاب تک اپنی جگہ پر ہی بیٹھے رہتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20961]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 670
الحكم: إسناده صحيح، م: 670