أَبُو الْقَاسِمِ الزُّهْرِيُّ ، عَمِّي ، شَرِيكٌ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو الْقَاسِمِ الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمِّي ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَاعِدًا قَطُّ، فَلَا تُصَدِّقْهُ، قَدْ رَأَيْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ مَرَّةٍ فَرَأَيْتُهُ " يَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَجْلِسُ فَلَا يَتَكَلَّمُ بِشَيْءٍ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ خُطْبَتَهُ الْأُخْرَى"، قُلْتُ: كَيْفَ كَانَتْ خُطْبَتُهُ؟ قَالَ:" كَانَتْ قَصْدًا، كَلَامٌ يَعِظُ بِهِ النَّاسَ، وَيَقْرَأُ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے اس لئے اگر تم سے کوئی شخص یہ بیان کرتا ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بیٹھ کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے تو وہ غلط بیانی کرتا ہے میں نے انہیں سو سے زائد مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے پہلے ایک مرتبہ خطبہ دیتے اور بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ دیتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خطبہ اور نماز معتدل ہوتے تھے۔ وہ لوگوں کو وعظ فرماتے تھے اور قرآن کریم کی آیات پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20945]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك