بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 250
صفحہ 1 از 13
حدیث نمبر: 20802 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت کے پہلے کچھ کذاب آکر رہیں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20802]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2923، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 2923، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20803 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ، رَجُلٍ قَصِيرٍ، فِي إِزَارِهِ مَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ، قَالَ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ عَلَى وِسَادَةٍ عَلَى يَسَارِهِ، فَكَلَّمَهُ، وَمَا أَدْرِي مَا يُكَلِّمُهُ، وَأَنَا بَعِيدٌ مِنْهُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ قَوْمٌ، فَقَالَ:" اذْهَبُوا بِهِ"، ثُمَّ قَالَ:" رُدُّوهُ"، فَكَلَّمَهُ وَأَنَا أَسْمَعُ، فَقَالَ:" اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ"، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، وَأَنَا أَسْمَعُهُ، قَالَ: فَقَالَ: " أَكُلَّمَا نَفَرْنَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، خَلَفَ أَحَدُهُمْ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ مِنَ اللَّبَنِ، وَاللَّهِ لَا أَقْدِرُ عَلَى أَحَدِهِمْ إِلَّا نَكَّلْتُ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حضرت ماعز بن مالک جو پستہ قد آدمی تھے کو ایک تہبند میں پیش کیا گیا ان کے جسم پر تہنبد کے علاوہ کوئی چادر نہ تھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک تکیہ پر بائیں جانب ٹیک لگائے بیٹھے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے کچھ باتیں جن کے متعقل مجھے کچھ معلوم نہیں کہ وہ کیا باتیں تھیں کیونکہ میرے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان قوم حائل تھی تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے جاؤ کچھ وقفے کے بعد فرمایا کہ اسے واپس لے آؤ اس وقت جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے باتیں کہی وہ میں نے سنی پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے جاؤ اسے رجم کردو۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے میں نے وہ بھی سنا ہماری کوئی بھی جماعت اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے نکلتی ہے تو ان میں سے جو شخص پیچھے رہ جاتا ہے اس کی آواز بکرے جیسے ہوتی ہے اور جو کسی کو تھوڑا سا دودھ دے دے واللہ اس پر جس کو بھی قدرت ملی اسے سزا ضرور دوں گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20803]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20804 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٌ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سِمَاكٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ:" كَانَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَذِّنُ، ثُمَّ يُمْهِلُ، فَلَا يُقِيمُ حَتَّى إِذَا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ، أَقَامَ الصَّلَاةَ حِينَ يَرَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مؤذن جب اذان دیتا ہے تو کچھ دیر رک جاتا اور اس وقت اقامت نہ کہتا جب تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو باہر نکلتے ہوئے نہ دیکھ لیتا تو جب وہ دیکھتا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر نکل آئے تو وہ اقامت شروع کردیتا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20804]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20805 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، عَنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَزَالُ الدِّينُ قَائِمًا، حَتَّى يَكُونَ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً مِنْ قُرَيْشٍ، ثُمَّ يَخْرُجُ كَذَّابُونَ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، ثُمَّ تَخْرُجُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَ الْأَبْيَضِ، كِسْرَى وَآلِ كِسْرَى، وَإِذَا أَعْطَى اللَّهُ أَحَدَكُمْ خَيْرًا، فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ وَأَهْلِهِ، وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عامر بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی حدیث پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ دین اس وقت تک قائم رہے گا جب تک قریش کے بارہ خلیفہ نہ ہوجائیں۔ پھر قیامت سے پہلے کچھ کذاب آکر رہیں گے۔ پھر مسلمانوں کی ایک جماعت نکلے گی اور وہ کسری اور آل کسری کا سفید خزانہ نکال لیں گے۔ اور جب اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کو کوئی خیر عطا فرمادیں تو اسے چاہیے کہ اپنی ذات اور اپنے اہل خانہ سے اس کا آغاز کرے۔۔ اور میں حوض کوثر پر تمہارا منتظر ہوں گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20805]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1822، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 1822، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20806 مسند احمد
يَزِيدُ ، مِسْعَرٌ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ بِأَيْدِينَا يَمِينًا وَشِمَالًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْمُونَ بِأَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمْسِ؟! أَلَا يَسْكُنُ أَحَدُكُمْ، وَيُشِيرُ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى صَاحِبِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم دائیں بائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کا کیا مسئلہ ہے وہ اپنے ہاتھوں سے اس طرح اشارہ کرتے ہیں جیسے دشوار خو گھوڑوں کی دم ہو کیا تم سکون سے نہیں رہ سکتے کہ ران پر ہاتھ رکھے ہوئے ہی اشارہ کرلو اور دائیں بائیں جانب اپنے ساتھی کو سلام کردو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20806]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 431
الحكم: إسناده صحيح، م: 431
حدیث نمبر: 20807 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكٍ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، وَسُئِلَ عَنْ شَيْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَانَ فِي رَأْسِهِ شَعَرَاتٌ إِذَا دَهَنَ رَأْسَهُ لَمْ يَتَبَيَّنَّ، وَإِذَا لَمْ يَدْهُنْهُ يَتَبَيَّنَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سفید بالوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر میں چند بال سفید تھے جب آپ سر پر تیل لگاتے تو بالوں کی سفیدی واضح نہیں ہوتی تھی اور جب تیل نہ لگاتے تو ان کی سفیدی واضح ہوجاتی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20807]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20808 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكٍ ، جَابِرًا
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ بِ" سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى" وَنَحْوَهَا، وَفِي الصُّبْحِ بِأَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز ظہر میں سورت اعلی جیسی سورتیں پڑھتے تھے اور نماز فجر میں اس سے لمبی سورتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20808]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 460، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، م: 460، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20809 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شَرِيكٍ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ شب قدر کو عشرہ اخیر میں تلاش کیا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20809]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، لكنه توبع
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، لكنه توبع
حدیث نمبر: 20810 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ،" وَكَانَ طَوِيلَ الصَّمْتِ، قَلِيلَ الضَّحِكِ، وَكَانَ أَصْحَابُهُ يَذْكُرُونَ عِنْدَهُ الشِّعْرَ وَأَشْيَاءَ مِنْ أُمُورِهِمْ، فَيَضْحَكُونَ، وَرُبَّمَا تَبَسَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سماعت کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلسوں میں شریک ہوتے تھے انہوں نے فرمایا ہاں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زیادہ وقت خاموش رہتے اور کم ہنستے تھے۔ البتہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں صحابہ اشعار بھی کہہ دیا کرتے تھے اور اپنے معاملات ذکر کرکے ہنستے بھی تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تبسم بھی فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20810]
حکم دارالسلام
حديث حسن، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع
الحكم: حديث حسن، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع
حدیث نمبر: 20811 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَمُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَمُؤَمَّلٌ ، المعنى، وهذا لفظ عبد الله، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ:" لَا"، قَالَ: فَأُصَلِّي فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَأُصَلِّي فِي أَعْطَانِهَا؟ قَالَ:" لَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا میں بکری کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کیا کرو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں اس نے پوچھا کہ بکریوں کے بارے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں سائل نے پوچھا کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کرو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ اس نے پوچھا کہ اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20811]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20812 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْكَلَ الْعَيْنِ، مَنْهُوسَ الْعَقِبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھوں کی سفیدی میں سرخ دوڑے تھے اور مبارک پنڈلیوں پر گوشت کم تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20812]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20813 مسند احمد
عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، سُفْيَانَ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَخْطُبُ قَائِمًا، وَيَجْلِسُ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ، وَيَقْرَأُ آيَاتٍ، وَيُذَكِّرُ النَّاسَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے دو خطبوں کے درمیان بیٹھتے تھے اور ان خطبوں میں قرآن کریم کی آیات تلاوت فرماتے اور لوگوں کو نصیحت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20813]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20814 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، مُجَالِدٌ ، عَامِرٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:" إِنَّ هَذَا الدِّينَ لَنْ يَزَالَ ظَاهِرًا عَلَى مَنْ نَاوَأَهُ، لَا يَضُرُّهُ مُخَالِفٌ وَلَا مُفَارِقٌ، حَتَّى يَمْضِيَ مِنْ أُمَّتِي اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً"، قَالَ: ثُمَّ تَكَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ أَفْهَمْهُ، فَقُلْتُ لِأَبِي: مَا قَالَ؟ قَالَ:" كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ دین ہمیشہ غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا کوئی مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ وہ سب کے سب قریش سے ہوں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20814]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد، لكنه توبع
حدیث نمبر: 20815 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ " أَنَّ أَهْلَ بَيْتٍ كَانُوا بِالْحَرَّةِ مُحْتَاجِينَ، قَالَ: فَمَاتَتْ عِنْدَهُمْ نَاقَةٌ لَهُمْ أَوْ لِغَيْرِهِمْ، فَرَخَّصَ لَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَكْلِهَا"، قَالَ: فَعَصَمَتْهُمْ بَقِيَّةَ شِتَائِهِمْ، أَوْ سَنَتِهِمْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حرہ میں ایک خاندان آباد تھا جس کے افراد غریب تھے محتاج تھے ان کے قریب ان کی یا کسی اور کی اونٹنی مرگئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو کھانے کی رخصت دیدی۔ (اضطراری کی حالت کی وجہ سے اور اس اونٹنی نے انہیں ایک سال تک بچائے رکھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20815]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وقد توبع، وهذا الحديث قد تفرد به سماك، فهو ممن لا يحتمل تفرده فى مثل هذه الأبواب
الحكم: إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وقد توبع، وهذا الحديث قد تفرد به سماك، فهو ممن لا يحتمل تفرده فى مثل هذه الأبواب
حدیث نمبر: 20816 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ: مَاتَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاتَ فُلَانٌ، قَالَ:" لَمْ يَمُتْ"، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ الثَّالِثَةَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ مَاتَ؟" قَالَ: نَحَرَ نَفْسَهُ بِمِشْقَصٍ، قَالَ: فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک آدمی فوت ہوگیا ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اطلاع دینے کے لئے آیا کہ یارسول اللہ فلاں آدمی فوت ہوگیا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ مرا نہیں ہے اس نے تین مرتبہ آکر اس کی خبر دی پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ وہ کیسے مرا ہے؟ اس نے بتایا کہ اس نے چھری سے اپنا سینہ چاک کردیا ہے (خودکشی کرلی) یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20816]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20817 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، مُجَالِدٌ ، عَامِرٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:" لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ ظَاهِرًا عَلَى مَنْ نَاوَأَهُ، لَا يَضُرُّهُ مُخَالِفٌ وَلَا مُفَارِقٌ، حَتَّى يَمْضِيَ مِنْ أُمَّتِي اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا كُلُّهُمْ" ثُمَّ خَفِيَ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَكَانَ أَبِي أَقْرَبَ إِلَى رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي، فَقُلْتُ: يَا أَبَتَاهُ، مَا الَّذِي خَفِيَ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: يَقُولُ:" كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والانقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزرجائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکتا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20817]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد، لكنه توبع
حدیث نمبر: 20818 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، كَيْفَ كَانَ يَخْطُبُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يَقْعُدُ قَعْدَةً، ثُمَّ يَقُومُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سماک کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس طرح خطبہ دیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے دو خطبوں کے درمیان بیٹھتے تھے اور پھر کھڑے ہوتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20818]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20819 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْولُ:" إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ" ، قَالَ سِمَاكٌ: سَمِعْتُ أَخِي يَقُولُ: قَالَ جَابِرٌ" فَاحْذَرُوهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت سے پہلے کچھ کذاب آکر رہیں گے تم ان سے بچنا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20819]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2923، وهذا إسناد صحيح
الحكم: حديث صحيح، م: 2923، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20820 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ؟ قَالَ:" كَانَ يَقْعُدُ فِي مَقْعَدِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سماک نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نماز فجر پڑھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کیا معمول مبارک تھا انہوں نے فرمایا طلوع آفتاب تک اپنی جگہ پر ہی بیٹھے رہتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20820]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 670
الحكم: إسناده صحيح، م: 670
حدیث نمبر: 20821 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَتَفْتَحَنَّ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، أَوْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ كَنْزَ آلِ كِسْرَى الَّذِي فِي الْأَبْيَضِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابربن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت نکلے گی اور وہ کسری اور آل کسری کا سفید خزانہ نکال لیں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20821]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2919، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 2919، وهذا إسناد حسن