بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 250
صفحہ 6 از 13
حدیث نمبر: 20902 مسند احمد
سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت سے پہلے کچھ کذاب آکر رہیں گے تم ان سے بچنا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20902]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2923، وهذا إسناد صحيح
الحكم: حديث صحيح، م: 2923، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20903 مسند احمد
الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سِمَاكٌ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ وَالِدِهِ بِالْحَرَّةِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: إِنَّ نَاقَةً لِي ذَهَبَتْ، فَإِنْ أَصَبْتَهَا فَأَمْسِكْهَا، فَوَجَدَهَا الرَّجُلُ، فَلَمْ يَجِئْ صَاحِبُهَا حَتَّى مَرِضَتْ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: انْحَرْهَا حَتَّى نَأْكُلَهَا، فَلَمْ يَفْعَلْ حَتَّى نَفَقَتْ، فَقَالَتْ امْرَأَتُهُ اسْلَخْهَا حَتَّى نُقَدِّدَ لَحْمَهَا وَشَحْمَهَا، قَالَ: حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ يُغْنِيكَ عَنْهَا؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" كُلْهَا"، فَجَاءَ صَاحِبُهَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالََ: فَهَلَّا نَحَرْتَهَا! قَالَ: اسْتَحْيَيْتُ مِنْكَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی اپنے والد کے ساتھ حرہ میں رہتا تھا اس سے کسی نے کہا کہ میری اونٹنی بھاگ گئی ہے اگر تمہیں ملے تو اسے پکڑ لاؤ اتفاق سے اس آدمی کو وہ مل گئی لیکن اس کا مالک واپس نہ آیا یہاں تک کہ وہ بیمار ہوگئی اس کی بیوی نے اس سے کہا کہ اسے ذبح کرلو تاکہ ہم اسے کھاسکیں لیکن اس نے ایسا نہیں کیا حتی کہ وہ اونٹنی مرگئی اس کی بیوی نے پھر کہا کہ اس کی کھال کو اتار دو تاکہ اب تو اس کے گوشت کو چربی کے ٹکڑے کرلے اس نے کہا کہ میں پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھوں گا اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے پاس اتنا ہے کہ تمہیں اس اونٹنی سے مستغنی کردے اس نے کہا نہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم جا کر اسے کھالو کچھ عرصہ بعد اس کا مالک بھی آگیا اور سارا واقعہ سن کر اس نے کہا تم نے اسے ذبح کیوں نہ کرلیا اس نے جواب دیا مجھے تم سے حیاء آئی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20903]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وقد توبع، وهذا الحديث قد تفرد به سماك، فهو ممن لا يحتمل تفرده فى مثل هذه الأبواب
الحكم: إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وقد توبع، وهذا الحديث قد تفرد به سماك، فهو ممن لا يحتمل تفرده فى مثل هذه الأبواب
حدیث نمبر: 20904 مسند احمد
سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يُصَلِّ عَلَى رَجُلٍ قَتَلَ نَفْسَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم کے دور باسعادت میں پتہ چلا کہ ایک آدمی نے خود کشی کرلی ہے یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20904]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع
حدیث نمبر: 20905 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ الْمُقْرِئُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، مُجَالِدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ: " لَنْ يَزَالَ هَذَا الدِّينُ عَزِيزًا مَنِيعًا ظَاهِرًا عَلَى مَنْ نَاوَأَهُ، لَا يَضُرُّهُ مَنْ فَارَقَهُ أَوْ خَالَفَهُ حَتَّى يَمْلِكَ اثْنَا عَشَرَ، كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ" ، أَوْ كَمَا قَالَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20905]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد لكنه توبع
حدیث نمبر: 20906 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، مُجَالِدٌ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ، فَقَالَ: " لَنْ يَزَالَ هَذَا الْأَمْرُ عَزِيزًا مَنِيعًا ظَاهِرًا عَلَى مَنْ نَاوَأَهُ حَتَّى يَمْلِكَ اثْنَا عَشَرَ، كُلُّهُمْ"، قَالَ: فَلَمْ أَفْهَمْ مَا بَعْدُ، قَالَ: فَقُلْتُ لِأَبِي: مَا بَعْدَ" كُلُّهُمْ"؟ قَالَ:" كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20906]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد لكنه توبع
حدیث نمبر: 20907 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، وَابْنِ أَبِي لَيْلَى ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، وَابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَا: " رَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ اور ابن عمر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور عورت پر رجم کی سزا جاری فرمائی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20907]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذان إسنادان ضعيفان: الأول، لسوء حفظ شريك بن عبدالله، والثاني، لسوء شريك وابن أبى ليلي
الحكم: صحيح لغيره، وهذان إسنادان ضعيفان: الأول، لسوء حفظ شريك بن عبدالله، والثاني، لسوء شريك وابن أبى ليلي
حدیث نمبر: 20908 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شَيْبَانُ ، أَشْعَثَ ، جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، أُرَاهُ عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْمُرُنَا بِصِيَامِ عَاشُورَاءَ، وَيَحُثُّنَا عَلَيْهِ، وَيَتَعَاهَدُنَا عِنْدَهُ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ لَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْهُ، وَلَمْ يَتَعَاهَدْنَا عِنْدَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں ابتداء میں دسویں محرم کا روزہ رکھنے کی ترغیب اور حکم دیتے تھے اور ہم سے اس پر عمل کرواتے تھے بعد میں ماہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اس کا حکم دیا اور نہ ہی منع کیا اور نہ ہی عمل کروایا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20908]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 1128، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، م: 1128، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20909 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شَيْبَانُ ، الْأَشْعَثِ ، جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنِ الْأَشْعَثِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَوَضَّأَ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ، وَلَا نَتَوَضَّأَ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ، وَأَنْ نُصَلِّيَ فِي دِمَنِ الْغَنَمِ، وَلَا نُصَلِّيَ فِي عَطَنِ الْإِبِلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اونٹ کھا گوشت کھا کر وضو کریں اور بکری کا گوشت کھا کر وضو نہ کریں اور بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیں اور اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20909]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 360، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، م: 360، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20910 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ السَّلُولِيَّ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ السَّلُولِيَّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ،" أَنَّ رَجُلًا نَحَرَ نَفْسَهُ بِمِشْقَصٍ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک شخص نے چھری سے اپنا سینہ چاک کرلیا خودکشی کرلی یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20910]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20911 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلَ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ: " مُتَّكِئًا عَلَى مِرْفَقِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں داخل ہوا تو دیکھا کہ اپنی کہنی سے ٹیک لگا رکھی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20911]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20912 مسند احمد
أَبُو عَمْرٍو الْعَنْبَرِيُّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، سِمَاكٍ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْعَنْبَرِيُّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، عَنْ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" كَانَ أَشْكَلَ الْعَيْنِ، ضَلِيعَ الْفَمِ، مَنْهُوسَ الْعَقِبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھوں کی سفیدی میں ڈورے سرخ تھے دہن مبارک کشادہ تھے اور مبارک پنڈلی پر گوشت کم تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20912]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20913 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ، قَعَدَ فِي مُصَلَّاهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز فجر پڑھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طلوع آفتاب تک اپنی جگہ پر ہی بیٹھے رہتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20913]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 670
الحكم: إسناده صحيح، م: 670
حدیث نمبر: 20914 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً" ، يَعْنِي هَذَا الْحَدِيثَ، وَحَدِيثُ خَلَفٍ عَنْ شَرِيكٍ لَيْسَ فِيهِ سِمَاكٌ، وَإِنَّمَا سَمِعَهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ خَلَفٌ مِنَ الْمُبَارَكِيِّ، عَنْ شَرِيكٍ، أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابهِ عَنْ سِمَاكٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور عورت پر رجم کی سزا جاری فرمائی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20914]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك
حدیث نمبر: 20915 مسند احمد
خَلَفٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُبَارَكِيُّ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ أَيْضًا، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُبَارَكِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور عورت پر رجم کی سزا جاری فرمائی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20915]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك
حدیث نمبر: 20916 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَمَّى الْمَدِينَةَ طَابَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ مدینہ منورہ کا نام اللہ نے طابہ رکھا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20916]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1385
الحكم: إسناده صحيح، م: 1385
حدیث نمبر: 20917 مسند احمد
شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو الْفَضْلِ ، عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، الْحَجَّاجِ ، سِمَاكٍ وَهُوَ ابْنُ حَرْبٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ سِمَاكٍ وَهُوَ ابْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ:" كَانَ فِي سَاقَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمُوشَةٌ، وَكَانَ لَا يَضْحَكُ إِلَّا تَبَسُّمًا"، وَكُنْتُ إِذَا رَأَيْتُهُ، قُلْتُ:" أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ، وَلَيْسَ بِأَكْحَلَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک پنڈلیوں پر پتلا پن تھا اور ہنستے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف تبسم فرماتے تھے اور میں جب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھتا کہ یہی کہتا تھا کہ آپ کی آنکھیں سرمگیں ہیں خواہ آپ نے سرمہ نہ بھی لگایا ہوتا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20917]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعنه
الحكم: إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعنه
حدیث نمبر: 20918 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: مَاتَ بَغْلٌ عِنْدَ رَجُلٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِيهِ، قَالَ: فَزَعَمَ جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِصَاحِبِهَا: " مَا لَكَ مَا يُغْنِيكَ عَنْهَا؟ قَالَ: لَا، قَالَ:" فَاذْهَبْ فَكُلْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حرہ میں ایک خاندان آباد تھا جس کے افراد غریب محتاج تھے ان کی قریب ان کی یا کسی اور کی اونٹنی مرگئی ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اس کا حکم پوچھنے کے لئے آیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس ایسی چیز نہیں ہے جو تمہیں اس سے بےنیاز کردے اس نے کہا نہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں وہ کھانے میں رخصت دیدی۔ (اضطراری حالت کی وجہ سے) [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20918]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لتفرد سماك به، ومثله لا يحتمل تفرده فى مثل هذه الأبواب
الحكم: إسناده ضعيف لتفرد سماك به، ومثله لا يحتمل تفرده فى مثل هذه الأبواب
حدیث نمبر: 20919 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَخْطُبُ قَائِمًا، يَقْعُدُ قَعْدَةً لَا يَتَكَلَّمُ فِيهَا، فَقَامَ فَخَطَبَ خُطْبَةً أُخْرَى قَائِمًا"، فَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ قَاعِدًا، فَلَا تُصَدِّقْهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مری ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے اور پھر تھوڑی دیر بیٹھ جاتے پھر کسی سے بات نہ کرتے پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ ارشاد فرماتے اس لئے اگر تم میں سے کوئی شخص یہ بیان کرتا ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بیٹھ کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے تو اس کی تصدیق نہ کرنا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20919]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20920 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ مَخْلَدُ بْنُ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زُمَيْلٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيَّ ، عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ عُمَيْرٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو أَحْمَدَ مَخْلَدُ بْنُ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيَّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الَّذِي آتِي فِيهِ أَهْلِي؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِلَّا أَنْ تَرَى فِيهِ شَيْئًا فَتَغْسِلَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک آدمی کو یہ سوال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھتے ہوئے سنا کہ کیا میں ان کپڑوں میں نماز پڑھ سکتا ہوں جن میں میں اپنی بیوی کے پاس جاتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں الاّ یہ کہ تمہیں اس پر کوئی دھبہ نظر آئے تو اسے دھولو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20920]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، لكن اختلف فى رفعه ووقفه
الحكم: إسناده قوي، لكن اختلف فى رفعه ووقفه
حدیث نمبر: 20921 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّقِّيُّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصَلِّي فِي ثَوْبِي الَّذِي آتِي فِيهِ أَهْلِي؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِلَّا أَنْ تَرَى فِيهِ شَيْئًا فَتَغْسِلَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک آدمی کو یہ سوال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھتے ہوئے سنا کہ کیا میں ان کپڑوں میں نماز پڑھ سکتا ہوں جن میں میں اپنی بیوی کے پاس جاتاہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں الاّ یہ کہ تمہیں اس پر کوئی دھبہ نظر آئے تو اسے دھولو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20921]