بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 250
صفحہ 3 از 13
حدیث نمبر: 20842 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، زُهَيْرٌ ، سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: نَبَّأَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ , أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَطَبَ قَائِمًا عَلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا"، قَالَ: فَقَالَ لِي جَابِرٌ فَمَنْ نَبَّأَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ قَاعِدًا، فَقَدْ كَذَبَ، فَقَدْ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَيْ صَلَاةٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے اور پھر تھوڑی دیر بعد بیٹھ جاتے اور کسی سے بات نہ کرتے پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ ارشاد فرماتے اس لئے اگر تم سے کوئی شخص یہ بیان کرتا ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بیٹھ کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے تو وہ غلط بیانی کرتا ہے۔ واللہ میں نے ان کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھی ہوئی ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20842]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 862، وهذا إسناد صحيح
الحكم: صحيح لغيره، م: 862، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20843 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، زُهَيْرٌ ، سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، جَابِرًا
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" كَانَ يُخَفِّفُ وَلَا يُصَلِّي صَلَاةَ هَؤُلَاءِ"، قَالَ: وَنَبَّأَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ بِ" ق، وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ"، وَنَحْوِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سماک کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہلکی نماز پڑھاتے تھے ان لوگوں کی طرح نہیں پڑھاتے تھے اور انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز فجر میں سورت ق اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20843]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 643، وقد اختلف على سماك بن حرب فى قصة القراءة فى صلاة الفجر
الحكم: صحيح لغيره، م: 643، وقد اختلف على سماك بن حرب فى قصة القراءة فى صلاة الفجر
حدیث نمبر: 20844 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، زُهَيْرٌ ، سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ كَثِيرًا،" كَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ قَامَ، وَكَانَ يُطِيلُ قَالَ أَبُو النَّضْرِ: كَثِيرَ الصُّمَاتِ، فَيَتَحَدَّثُونَ، فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَيَضْحَكُونَ، وَيَتَبَسَّمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سماک کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلسوں میں شریک ہوتے تھے انہوں نے فرمایا کہ ہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جس جگہ پر نماز فجر پڑھتے تھے طلوع آفتاب تک وہاں سے نہیں اٹھتے تھے جب سورج طلوع ہوجاتا تو اٹھ جاتے تھے اور زیادہ وقت خاموش رہتے تھے اور کم ہنستے تھے البتہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں صحابہ باتیں بھی کہہ لیا کرتے تھے اور زمانہ جاہلیت کے واقعات ذکر کرکے ہنستے بھی تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تبسم فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20844]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 670
الحكم: إسناده صحيح، م: 670
حدیث نمبر: 20845 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ قَعَدَ فِي مُصَلَّاهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ" . قَالَ:" وَكَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ بِ" ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ"، وَكَانَتْ صَلَاتُهُ بَعْدُ تَخْفِيفًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز فجر پڑھنے کے بعد طلوع آفتاب تک اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز فجر میں سورت ق اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت فرماتے تھے اور مختصر نماز پڑھاتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20845]
حکم دارالسلام
شطره الأول حسن، والثاني صحيح لغيره، وإسناده صحيح، وقد اختلف على سماك فى الشطر الثاني
الحكم: شطره الأول حسن، والثاني صحيح لغيره، وإسناده صحيح، وقد اختلف على سماك فى الشطر الثاني
حدیث نمبر: 20846 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، زَائِدَةَ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا"، فَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ جَلَسَ فَكَذِّبْهُ، قَالَ: وَقَالَ جَابِرٌ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ، يَخْطُبُ ثُمَّ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ، وَكَانَتْ خُطْبَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَاتُهُ قَصْدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے اگر تم سے کوئی شخص یہ بیان کرتا ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے تو وہ غلط بیانی کرتا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو خطبے فرماتے تھے پہلے ایک خطبہ دیتے اور بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ دیتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خطبہ اور نماز معتدل ہوتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20846]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 866، وهذا إسناد صحيح
الحكم: صحيح لغيره، م: 866، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20847 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَيْنِ، غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ، بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک دو مرتبہ نہیں بلکہ کئی مرتبہ عیدین کی نماز پڑھی ہے اس میں اذان اور اقامت نہیں ہوتی تھی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20847]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 887، وهذا إسناد صحيح
الحكم: صحيح لغيره، م: 887، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20848 مسند احمد
حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ ، زُهَيْرٌ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ أَنَّ رَجُلًا قَتَلَ نَفْسَهُ، قَالَ:" إِذَنْ لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں پتہ چلا کہ ایک آدمی نے خود کشی کرلی ہے یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھاؤں گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20848]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 978
الحكم: إسناده صحيح، م: 978
حدیث نمبر: 20849 مسند احمد
حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، زُهَيْرٌ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ:" كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ لَا يَخْرِمُ، ثُمَّ لَا يُقِيمُ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ:" فَإِذَا خَرَجَ أَقَامَ حِينَ يَرَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت بلال زوال کے بعد اذان دیتے تھے۔ اس میں کوتاہی نہیں کرتے تھے اور اس وقت تک اقامت نہ کہتے جب تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو باہر نکلتے ہوئے نہ دیکھ لیتے۔ جب وہ دیکھتے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر نکل آئے ہیں تو اقامت شروع کردیتے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20849]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 606
الحكم: إسناده صحيح، م: 606
حدیث نمبر: 20850 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، نَبَّأَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ ، قَالَ:" كَانَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَذِّنُ ثُمَّ يُمْهِلُ، فَلَا يُقِيمُ حَتَّى إِذَا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ، أَقَامَ حِينَ يَرَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت بلال زوال کے بعد اذان دیتے تھے۔ اس میں کوتاہی نہیں کرتے تھے اور اس وقت تک اقامت نہ کہتے جب تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو باہر نکلتے ہوئے نہ دیکھ لیتے۔ جب وہ دیکھتے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر نکل آئے ہیں تو اقامت شروع کردیتے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20850]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20851 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، زُهَيْرٌ ، سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: نَبَّأَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ قَائِمًا، ثُمَّ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا"، فَمَنْ نَبَّأَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ جَالِسًا، فَقَدْ كَذَبَ، فَقَدْ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَيْ صَلَاةٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے اور پھر تھوڑی دیر بعد بیٹھ جاتے اور کسی سے بات نہ کرتے پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ ارشاد فرماتے اس لئے اگر تم سے کوئی شخص یہ بیان کرتا ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بیٹھ کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے تو وہ غلط بیانی کرتا ہے۔ واللہ میں نے ان کے ساتھ دوہزار سے زیادہ نمازیں پڑھی ہوئی ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20851]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20852 مسند احمد
هَاشِمٌ ، زُهَيْرٌ ، سِمَاكٌ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ:" كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا دَحَضَتْ، ثُمَّ لَا يُقِيمُ حَتَّى يَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَآهُ أَقَامَ حِينَ يَرَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت بلال زوال کے بعد اذان دیتے تھے۔ اس میں کوتاہی نہیں کرتے تھے اور اس وقت تک اقامت نہ کہتے جب تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو باہر نکلتے ہوئے نہ دیکھ لیتے۔ جب وہ دیکھتے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر نکل آئے ہیں تو اقامت شروع کردیتے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20852]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م 606
الحكم: إسناده صحيح، م 606
حدیث نمبر: 20853 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: " شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ مَرَّةٍ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَصْحَابُهُ يَتَذَاكَرُونَ الشِّعْرَ وَأَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَرُبَّمَا تَبَسَّمَ مَعَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سماک کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلسوں میں شریک ہوتے تھے انہوں نے فرمایا کہ ہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جس جگہ پر نماز فجر پڑھتے تھے طلوع آفتاب تک وہاں سے نہیں اٹھتے تھے جب سورج طلوع ہوجاتا تو اٹھ جاتے تھے اور زیادہ وقت خاموش رہتے تھے اور کم ہنستے تھے البتہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں صحابہ باتیں بھی کہہ لیا کرتے تھے اور زمانہ جاہلیت کے واقعات ذکر کرکے ہنستے بھی تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تبسم فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20853]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، لكنه توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، لكنه توبع
حدیث نمبر: 20854 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ " أَنَّ مَاعِزًا جَاءَ، فَأَقَرَّ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ماعز نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے آکر چار مرتبہ بدکاری کا اعتراف کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیدیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20854]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، لكنه توبع
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، لكنه توبع
حدیث نمبر: 20855 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كُنَّا إِذَا جِئْنَا إِلَيْهِ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوتے جہاں مجلس ختم ہورہی ہوتی ہم وہیں بیٹھ جاتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20855]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، لكنه توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، لكنه توبع
حدیث نمبر: 20856 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک یہودی عورت اور مرد پر رجم کی سزا جاری فرمادی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20856]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، لكنه توبع
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، لكنه توبع
حدیث نمبر: 20857 مسند احمد
وَقَالَ: " وَلَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعِيدَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور عیدین کی نماز میں اذان نہیں ہوتی تھی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20857]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، لكنه توبع
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، لكنه توبع
حدیث نمبر: 20858 مسند احمد
" وَإِنَّ رَجُلًا قَتَلَ نَفْسَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور ایک آدمی نے خود کشی کرلی یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20858]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، لكنه توبع
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، لكنه توبع
حدیث نمبر: 20859 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، شَرِيكٌ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، رَفَعَهُ: قَالَ:" لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ" ، قَالَ شَرِيكٌ سَمِعْتُهُ مِنْ أَخِيهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَرْبٍ ، قُلْتُ لِشَرِيكٍ: عَمَّنْ ذَكَرَهُ هُوَ لَكُمْ أَنْتُمْ؟ قَالَ: عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا اور ایک جماعت اس کے لئے قتال کرتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20859]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، لكنه توبع
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، لكنه توبع
حدیث نمبر: 20860 مسند احمد
هَاشِمٌ ، زُهَيْرٌ ، زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ ، الْأَسْوَدِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيِّ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَكُونُ بَعْدِي اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً، كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ"، قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَأَتَتْهُ قُرَيْشٌ، فَقَالُوا: ثُمَّ يَكُونُ مَاذَا؟ قَالَ:" ثُمَّ يَكُونُ الْهَرْجُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد بارہ خلیفہ ہوں گے جو سب کے سب قریش میں سے ہوں گے۔ یہ فرما کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر چلے گئے تو قریش کے لوگ ان کے پاس آئے تو عرض کیا اس کے بعد کیا ہوگا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بعد قتل و غارت عام ہوجائے گی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20860]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: ثم يكون الهرج، الأسود بن سعيد فيه جهالة، وقد توبع، لكن أحدا منهم لم يذكر قصة الهرج
الحكم: حديث صحيح دون قوله: ثم يكون الهرج، الأسود بن سعيد فيه جهالة، وقد توبع، لكن أحدا منهم لم يذكر قصة الهرج
حدیث نمبر: 20861 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، زُهَيْرٌ ، سِمَاكٌ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ لَهُ رَجُلٌ نَحَرَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذًَا لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتایا گیا کہ ایک آدمی نے چھری سے اپنا سینہ چاک کرلیا اور خود کشی کرلی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ میں یہ نماز جنازہ نہیں پڑھاؤں گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20861]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن