بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 250
صفحہ 5 از 13
حدیث نمبر: 20882 مسند احمد
دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ ، سَلَّامٌ أَبُو الْأَحْوَصِ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَّامٌ أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز عشاء کو ذرا موخر کرتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20882]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 643
الحكم: إسناده صحيح، م: 643
حدیث نمبر: 20883 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ،" أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُرِحَ فَآذَتْهُ الْجِرَاحَةُ، فَدَبَّ إِلَى مَشَاقِصَ فَذَبَحَ بِهِ نَفْسَهُ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، وَقَالَ: كُلُّ ذَلِكَ أَدَبٌ مِنْهُ ، هَكَذَا أَمْلَاهُ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ مِنْ كِتَابِهِ، وَلَا أَحْسَبُ هَذِهِ الزِّيَادَةَ إِلَّا مِنْ قَوْلِ شَرِيكٍ قَوْلَهُ: ذَلِكَ أَدَبٌ مِنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک صحابی زخمی ہوگیا۔ جب زخموں کی تکلیف بڑھی تو اس نے چھری سے اپنا سینہ چاک کرلیا (خود کشی کرلی) یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20883]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، لكنه توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 20884 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُعَلِّمُّ أَبُو مُسْلِمٍ ، أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ الْيَمَامِيُّ ، سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُعَلِّمُّ أَبُو مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: جَاءَ جُرْمُقَانِيٌّ إِلَى أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيْنَ صَاحِبُكُمْ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ لَئِنْ سَأَلْتُهُ لَأَعْلَمَنَّ أَنَّهُ نَبِيٌّ أَوْ غَيْرُ نَبِيٍّ، قَالَ: فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْجُرْمُقَانِيُّ اقْرَأْ عَلَيَّ، أَوْ قُصَّ عَلَيَّ،" فَتَلَا عَلَيْهِ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى"، فَقَالَ الْجُرْمُقَانِيُّ: هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد: هَذَا الْحَدِيثُ مُنْكَرٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جرمقانی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ تمہارے وہ ساتھی کہاں ہیں جو اپنے آپ کو نبی سمجھتے ہیں اگر میں نے ان سے کچھ سوالات پوچھ لئے تو مجھے پتہ چل جائے گا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں یا نہیں۔ اتنی دیر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے جرمقانی نے کہا کہ مجھے کچھ پڑھ کر سنائیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ آیات پڑھ کر سنائیں جرمقانی انہیں سن کر کہنے لگا واللہ یہ ویساہی کلام ہے جو حضرت موسیٰ لے کر آئے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20884]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أيوب بن جابر، وعبدالرحمن المعلم مجهول
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أيوب بن جابر، وعبدالرحمن المعلم مجهول
حدیث نمبر: 20885 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو عَلِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو عَلِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا، وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خطبہ اور نماز معتدل ہوتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20885]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20886 مسند احمد
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ:" كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَتَانِ، يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، وَيُذَكِّرُ النَّاسَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے اور دو خطبوں کے درمیان بیٹھتے تھے اور ان خطبوں میں قرآن کریم کی آیات تلاوت فرماتے اور لوگوں کو نصیحت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20886]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20887 مسند احمد
قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ سَمَّى الْمَدِينَةَ طَابَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مدینہ منورہ کا نام اللہ تعالیٰ نے طابہ رکھا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20887]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1385
الحكم: إسناده صحيح، م: 1385
حدیث نمبر: 20888 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أُهْدِيَ لَهُ طَعَامٌ أَصَابَ مِنْهُ، ثُمَّ بَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ، فَأُهْدِيَ لَهُ طَعَامٌ فِيهِ ثُومٌ، فَبَعَثَ بِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ وَلَمْ يَنَلْ مِنْهُ شَيْئًا، فَلَمْ يَرَ أَبُو أَيُّوبَ أَثَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّعَامِ، فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ" إِنِّي إِنَّمَا تَرَكْتُهُ مِنْ أَجَلِ رِيحِهِ"، قَالَ: فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: وَأَنَا أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں جب کھانے کی کوئی چیز ہدیہ کی جاتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس میں سے کچھ لے کر باقی سارا حضرت ابوایوب انصاری کے پاس بھیج دیتے۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے کھانا آیا جس میں لہسن تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ اسی طرح حضرت ابوایوب کو بھجوادیا اور خود اس میں سے کچھ بھی نہیں لیاجب حضرت ابوایوب نے اس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کچھ لینے کا اثر محسوس نہیں کیا تو کھانا لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آگئے۔ اور اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے لہسن کی بدبو کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا حضرت ابوایوب نے یہ سن کر عرض کیا کہ پھر جس چیز کو آپ اچھا نہیں سمجھتے میں بھی اچھا نہیں سمجھتا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20888]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20889 مسند احمد
حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، سِمَاكٌ هُوَ ابْنُ حَرْبٍ ، جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ هُوَ ابْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَكُونُ بَعْدِي اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا"، ثُمَّ لَا أَدْرِي مَا قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَسَأَلْتُ الْقَوْمَ؟ فَقَالُوا: قَالَ:" كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ" .
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد صحيح
الحكم: حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20890 مسند احمد
أَبُو سُلَيْمَانَ الضَّبِّيُّ دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الْمُسَيَّبِيُّ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو سُلَيْمَانَ الضَّبِّيُّ دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَهُ الْعِيدَيْنِ، فَلَمْ يُؤَذَّنْ لَهُ، وَلَمْ يُقَمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ عیدین کی نمازیں پڑھی ہیں اس میں اذان اور اقامت نہیں ہوتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20890]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع
حدیث نمبر: 20891 مسند احمد
دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز عشاء کو ذرا موخر کردیتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20891]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 643
الحكم: إسناده صحيح، م: 643
حدیث نمبر: 20892 مسند احمد
خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ ، النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكٍ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابُونَ" ، قَالَ سِمَاكٌ: وَقَالَ لِي أَخِي: إِنَّهُ قَالَ:" فَاحْذَرُوهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت سے پہلے کچھ کذاب آکر رہیں گے تم ان سے بچنا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20892]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2923، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 2923، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20893 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ، إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ مکہ میں ایک پتھر کو پہچانتا ہوں جو قبل از بعثت سلام کرتا تھا میں اسے اب بھی پہچانتا ہوں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20893]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20894 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، حَجَّاجٌ ، رَجُلٌ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِ الدَّحْدَاحِ قَالَ حَجَّاجٌ: أَبِي الدَّحْدَاحِ، ثُمَّ أُتِيَ بِفَرَسٍ عُرْيٍ، فَعَقَلَهُ رَجُلٌ فَرَكِبَهُ، فَجَعَلَ يَتَوَقَّصُ بِهِ وَنَحْنُ نَتَّبِعُهُ نَسْعَى خَلْفَهُ، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَمْ مِنْ عِذْقٍ مُعَلَّقٍ أَوْ مُدَلًّى فِي الْجَنَّةِ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ" ، قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ رَجُلٌ مَعَنَا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ فِي الْمَجْلِسِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَمْ مِنْ عِذْقٍ مُدَلًّى لِأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابودحداح کی نماز جنازہ پڑھی اور پھر ایک خارش زدہ اونٹ لایا گیا جسے ایک آدمی نے رسی سے باندھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر سوار ہوگئے وہ اونٹ بدکنے لگا یہ دیکھ کر ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے دوڑنے لگے اس وقت ایک آدمی نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں کتنے ہی لٹکے ہوئے خوشے ہیں جو ابودحداح کے لئے ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20894]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20895 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ:" رَأَيْتُ خَاتَمًا فِي ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ بَيْضَةُ حَمَامٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پشت پر مہر نبوت دیکھی ہے وہ کبوتری کے انڈے جتنی تھی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20895]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20896 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَكُونُ اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا"، فَقَالَ كَلِمَةً لَمْ أَسْمَعْهَا، فَقَالَ الْقَوْمُ:" كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزرجائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20896]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 7222، م: 1821، وهذا إسناد صحيح
الحكم: حديث صحيح، خ: 7222، م: 1821، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20897 مسند احمد
أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكٍ يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا بَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِفَضْلَةٍ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا، فِيهَا ثُومٌ، فَأَتَاهُ أَبُو أَيُّوبَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنِّي كَرِهْتُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ"، فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں جب کھانے کی کوئی چیز ہدیہ کی جاتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس میں سے کچھ لے کر باقی سارا حضرت ابوایوب انصاری کے پاس بھیج دیتے۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے کھانا آیا جس میں لہسن تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ اسی طرح حضرت ابوایوب کو بھجوادیا اور خود اس میں سے کچھ بھی نہیں لیا جب حضرت ابوایوب نے اس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کچھ لینے کا اثر محسوس نہیں کیا تو کھانا لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آگئے۔ اور اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے لہسن کی بدبو کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا حضرت ابوایوب نے یہ سن کر عرض کیا کہ پھر جس چیز کو آپ اچھا نہیں سمجھتے میں بھی اچھا نہیں سمجھتا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20897]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20898 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النَّاجِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النَّاجِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ فَأَكَلَ مِنْهُ، بَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ، فَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ يَتَتَبَّعُ أَثَرَ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَضَعُ أَصَابِعَهُ حَيْثُ يَرَى أَثَرَ أَصَابِعِهِ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بِصَحْفَةٍ، فَوَجَدَ مِنْهَا رِيحَ ثُومٍ، فَلَمْ يَذُقْهَا، وَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَبِي أَيُّوبَ، فَلَمْ يَرَ أَثَرَ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَرَ فِيهَا أَثَرَ أَصَابِعِكَ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ ثُومٍ"، قَالَ: لِمَ تَبْعَثُ إِلَيَّ مَا لَا تَأْكُلُ؟ فَقَالَ:" إِنَّهُ يَأْتِينِي الْمَلَكُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں جب کھانے کی کوئی چیز ہدیہ کی جاتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس میں سے کچھ لے کر باقی سارا حضرت ابوایوب انصاری کے پاس بھیج دیتے۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے کھانا آیا جس میں لہسن تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ اسی طرح حضرت ابوایوب کو بھجوادیا اور خود اس میں سے کچھ بھی نہیں لیا جب حضرت ابوایوب نے اس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کچھ لینے کا اثر محسوس نہیں کیا تو کھانا لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آگئے۔ اور اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے لہسن کی بدبو کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا حضرت ابوایوب نے یہ سن کر عرض کیا کہ پھر جس چیز کو آپ تناول نہیں فرماتے اسے میرے پاس کیوں بھیج دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ کیونکہ میرے پاس فرشتہ آتا تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20898]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20899 مسند احمد
شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كَانُوا يَقُولُونَ: يَثْرِبَ وَالْمَدِينَةَ، فَقَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِنَّ اللَّهَ سَمَّاهَا طَيْبَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگ مدینہ منورہ کو یثرب بھی کہتے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ کا نام اللہ نے طیبہ رکھا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20899]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1385
الحكم: إسناده صحيح، م: 1385
حدیث نمبر: 20900 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِيُّ ، نَاصِحٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِيُّ ، عَنْ نَاصِحٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَأَنْ يُؤَدِّبَ الرَّجُلُ وَلَدَهُ أَوْ أَحَدُكُمْ وَلَدَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ كُلَّ يَوْمٍ بِنِصْفِ صَاعٍ" ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَهَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يُخَرِّجْهُ أَبِي فِي مُسْنَدِهِ مِنْ أَجْلِ نَاصِحٍ، لِأَنَّهُ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ، وَأَمْلَاهُ عَلَيَّ فِي النَّوَادِرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انسان اپنی اولاد کو اچھے آداب سکھادے وہ اس کے لئے روزانہ نصف صاع صدقہ کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20900]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ناصح أبى عبدالله
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ناصح أبى عبدالله
حدیث نمبر: 20901 مسند احمد
الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الرَّبِيعِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي الرَّبِيعِ الْجُرْجَانِيُّ ، عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَمَّادٌ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الرَّبِيعِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي الرَّبِيعِ الْجُرْجَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَجَمَ مَاعِزًا، وَلَمْ يَذْكُرْ جَلْدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ماعز نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے چار مرتبہ بدکاری کا اعتراف کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیدیا راوی نے کوڑے مارنے کا ذکر نہیں کیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20901]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن