بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 250
صفحہ 11 از 13
حدیث نمبر: 21002 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، وَعَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ نَحْوًا مِنْ صَلَاتِكُمْ، وَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَتَمَةَ بَعْدَ صَلَاتِكُمْ شَيْئًا، وَكَانَ يُخَفِّفُ الصَّلَاةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہی نمازیں پڑھاتے تھے جو تم پڑھتے ہو لیکن وہ درمیانی نماز پڑھاتے تھے اور نماز عشاء کو ذرا مؤخر کردیتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21002]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 643
الحكم: إسناده صحيح، م: 643
حدیث نمبر: 21003 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ بِ" ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ" وَكَانَتْ صَلَاتُهُ بَعْدُ تَخْفِيفًا . وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ قَعَدَ فِي مُصَلَّاهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کے متعلق مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہلکی نماز پڑھاتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر میں سورت ق اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت فرماتے تھے۔
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز فجر پڑھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طلوع آفتاب تک اپنی جگہ پر ہی بیٹھے رہتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21003]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 643
الحكم: إسناده صحيح، م: 643
حدیث نمبر: 21004 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ ، حَجَّاجٍ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ:" كَانَ فِي سَاقَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمُوشَةٌ، وَكَانَ لَا يَضْحَكُ إِلَّا تَبَسُّمًا، وَكَانَ إِذَا نَظَرْتُ إِلَيْهِ، قُلْتُ: أَكْحَلُ، وَلَيْسَ بِأَكْحَلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک پنڈلیوں میں پتلا پن تھا اور ہنستے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف تبسم فرماتے تھے اور جب بھی تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھتے تو یہی کہتے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھیں سرمگیں ہیں خواہ آپ نے سرمہ بھی نہ لگایا ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21004]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، حجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعنه
الحكم: إسناده ضعيف، حجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعنه
حدیث نمبر: 21005 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّبِّيُّ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّبِّيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بِمَكَّةَ لَحَجَرًا كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ لَيَالِيَ بُعِثْتُ، إِنِّي لَأَعْرِفُهُ إِذَا مَرَرْتُ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں مکہ مکرمہ میں ایک پتھر کو پہچانتاہوں جو مجھے قبل از بعثت سلام کیا کرتا تھا میں اسے اب بھی پہچانتاہوں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21005]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف الضعف سليمان بن معاذ الضبي، لكنه متابع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف الضعف سليمان بن معاذ الضبي، لكنه متابع
حدیث نمبر: 21006 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، زُهَيْرٌ ، سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَجَعَلَ يَنْتَهِرُ شَيْئًا قُدَّامَهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ سَأَلْنَاهُ، فَقَالَ: " ذَاكَ الشَّيْطَانُ أَلْقَى عَلَى قَدَمَيَّ شَرَرًا مِنْ نَارٍ لِيَفْتِنَنِي عَنِ الصَّلَاةِ"، قَالَ:" وَقَدْ انْتَهَرْتُهُ، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَنِيطَ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، حَتَّى يُطِيفَ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں فجر کی نماز پڑھا رہے تھے کہ دوران نماز اپنے ہاتھ سے کسی چیز کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھائی دیئے نماز سے فارغ ہو کر لوگوں نے اس کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ شیطان میرے سامنے آگ کے شعلے لے کر آتا تھا تاکہ میری نماز خراب کردے میں اسے پکڑ رہا تھا اگر میں اسے پکڑ لیتا تو وہ مجھ سے اپنے آپ کو چھڑا نہیں سکتا تھا یہاں تک کہ اسے مسجد کے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیا جاتا اور اہل مدینہ کے بچے اسے دیکھتے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21006]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21007 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ:" كَانَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَذِّنُ، ثُمَّ لَا يُقِيمُ يُمْهِلُ، حَتَّى إِذَا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ أَقَامَ الصَّلَاةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مؤذن جب اذان دیتا تو کچھ دیر رک جاتا اور اس وقت تک اقامت نہ کہتا جب تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو باہر نکلتے ہوئے نہ دیکھ لیتا جب وہ دیکھتا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر نکل آئے ہیں تو وہ اقامت شروع کردیتا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21007]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21008 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شَيْبَانُ ، الْأَشْعَثِ ، جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنِ الْأَشْعَثِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِصِيَامِ عَاشُورَاءَ، وَيَحُثُّنَا عَلَيْهِ، وَيَتَعَاهَدُنَا عِنْدَهُ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ لَمْ يَأْمُرْنَا بِهِ، وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْهُ، وَلَمْ يَتَعَاهَدْنَا عِنْدَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں ابتداء دس محرم کا روزہ رکھنے کی ترغیب اور حکم دیتے تھے اور ہم سے اس پر عمل کرواتے تھے بعد میں جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اس کا حکم دیا اور نہ ہی منع کیا اور نہ ہی عمل کروایا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21008]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21009 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شَيْبَانُ ، الْأَشْعَثِ ، جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنِ الْأَشْعَثِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَوَضَّأَ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ، وَلَا نَتَوَضَّأَ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ، وَأَنْ نُصَلِّيَ فِي دِمَنِ الْغَنَمِ، وَلَا نُصَلِّيَ فِي عَطَنِ الْإِبِلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کریں بکری کا گوشت کھا کر وضو نہ کریں بکریوں کے ریوڑ میں نماز پڑھ لیں اور اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21009]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21010 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كُنَّا نَجْلِسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانُوا يَتَنَاشَدُونَ الْأَشْعَارَ وَيَتَذَاكَرُونَ أَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ،" وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاكِتٌ، فَرُبَّمَا تَبَسَّمَ"، أَوْ قَالَ: كُنَّا نَتَنَاشَدُ الْأَشْعَارَ، وَنَذْكُرُ أَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ،" فَرُبَّمَا تَبَسَّمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلسوں میں شریک ہوتے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زیادہ وقت خاموش رہتے تھے اور کم ہنستے تھے البتہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں صحابہ اشعار بھی کہہ لیا کرتے تھے اور زمانہ جاہلیت کے واقعات ذکر کر کے ہنستے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تبسم فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21010]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع
حدیث نمبر: 21011 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ لَيْسَ مِنْ وَلَدِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، إِنَّمَا كَانَ اسْمُ جَدِّهِ الزُّبَيْرَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا اور ایک جماعت اس کے لئے قتال کرتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت آجائے [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21011]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21012 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، شَيْبَانُ ، عَبْدِ الْمَلَكِ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلَكِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا ذَهَبَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَإِذَا ذَهَبَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کسری ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسری نہ آسکے گا اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہ آئے گا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستہ میں خرچ کرو گے اور وہ وقت ضرور آئے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21012]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3121، م: 2919
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3121، م: 2919
حدیث نمبر: 21013 مسند احمد
مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَكُونُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس امت میں بارہ خلفاء ہوں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21013]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ مؤمل
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ مؤمل
حدیث نمبر: 21014 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، سِمَاكٌ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَنْ يَبْرَحَ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دین ہمشیہ قائم رہے گا اور ایک جماعت اس کے لئے قتال کرے گی یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21014]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21015 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: " إِنْ شِئْتَ تَوَضَّأْ مِنْهُ، وَإِنْ شِئْتَ لَا تَوَضَّأْ مِنْهُ"، قَالَ:" أَفَأَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، فَتَوَضَّأْ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ"، قَالَ: فَنُصَلِّي فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ؟ قَالَ:" لَا"، قَالَ: أَنُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، صَلِّ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا میں بکری کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چاہو تو کرلو چاہو تو نہ کرو اس نے پوچھا کہ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں سائل نے پوچھا اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں اس نے پوچھا کہ اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21015]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره ، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره ، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21016 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21016]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 618
الحكم: إسناده صحيح، م: 618
حدیث نمبر: 21017 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادٌ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ:" كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت بلال زوال کے بعد اذان دیتے تھے اس میں کوتاہی نہیں کرتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21017]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21018 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِ وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ سورة الطارق آية 1، وَ وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ سورة البروج آية 1، وَنَحْوَهُمَا مِنَ السُّورِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز میں والسماء ذات البروج اور والسماء والطارق اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21018]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21019 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، وَبَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ،" أَنَّ بِلَالًا كَانَ يُؤَذِّنُ بِالظُّهْرِ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت بلال زوال کے بعد اذان دیتے تھے اس میں کوتاہی نہیں کرتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21019]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21020 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سِمَاكٌ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً"، ثُمَّ قَالَ: كَلِمَةً خَفِيَّةً لَمْ أَفْهَمْهَا، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي مَا قَالَ؟ قَالَ:" كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21020]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد صحيح
الحكم: حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 21021 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سِمَاكٍ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت سے پہلے کچھ کذاب آکر رہیں گے تم ان سے بچنا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21021]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2923، وهذا إسناد صحيح
الحكم: حديث صحيح، م: 2923، وهذا إسناد صحيح