بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 250
صفحہ 7 از 13
حدیث نمبر: 20922 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: جِئْتُ أَنَا وَأَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: " لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ صَالِحًا حَتَّى يَكُونَ اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا"، ثُمَّ قَالَ كَلِمَةً لَمْ أَفْهَمْهَا، فَقُلْتُ لِأَبِي مَا قَالَ؟ قَالَ:" كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزرجائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20922]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7222، م: 1821
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7222، م: 1821
حدیث نمبر: 20923 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ مَاضِيًا حَتَّى يَقُومَ اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا"، ثُمَّ تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ خَفِيَتْ عَلَيَّ، فَسَأَلْتُ عَنْهَا أَبِي مَا قَالَ؟ قَالَ:" كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20923]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7222، م: 1821
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7222، م: 1821
حدیث نمبر: 20924 مسند احمد
أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيُّ ، أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ عَزِيزًا أَوْ قَالَ لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ، شَكَّ أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً"، ثُمَّ قَالَ كَلِمَةً خَفِيَّةً، فَقُلْتُ لِأَبِي: مَا قَالَ؟ قَالَ:" كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20924]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7222، م: 1821
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7222، م: 1821
حدیث نمبر: 20925 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُثْمَانَ بْنِ مَوْهَبٍ ، جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ فَقَالَ" إِنْ شِئْتُمْ فَتَوَضَّئُوا، وَإِنْ شِئْتُمْ لَا تَتَوَضَّئُوا"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ؟ قَالَ" نَعَمْ، تَوَضَّئُوا"، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالُوا: نُصَلِّي فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ؟ قَالَ:" لَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا میں بکری کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کیا کروں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں اس نے پوچھا کہ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں سائل نے پوچھا کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کروں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ اس نے پوچھا کہ اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20925]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 360، وهذا إسناد صحيح
الحكم: صحيح لغيره، م: 360، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20926 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، ابْنُ عَوْنٍ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ عَزِيزًا مَنِيعًا يُنْصَرُونَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ عَلَيْهِ إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً"، ثُمَّ قَالَ كَلِمَةً أَصَمَّنِيهَا النَّاسُ، فَقُلْتُ لِأَبِي مَا قَالَ؟ قَالَ:" كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20926]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7222، م: 1821
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7222، م: 1821
حدیث نمبر: 20927 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، زُهَيْرُ بْنُ إِسْحَاقَ ، دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَامِرٍ يَعْنِي الشَّعْبِيَّ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَامِرٍ يَعْنِي الشَّعْبِيَّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً"، فَكَبَّرَ النَّاسُ وَضَجُّوا، وَقَالَ: كَلِمَةً خَفِيَّةً، قُلْتُ لِأَبِي يَا أَبَتِ، مَا قَالَ؟ قَالَ:" كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20927]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 20928 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَجْلِسُ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَيَخْطُبُ قَائِمًا، وَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا، وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا، وَيَقْرَأُ آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ عَلَى الْمِنْبَرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جمعہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ دیتے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خطبہ اور نماز معتدل ہو تھے اور پھر وہ منبر پر قرآن کریم کی آیات تلاوت کرتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20928]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20929 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ حَبِيبٍ لُوَيْنٌ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ حَبِيبٍ لُوَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ:" كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوتے تو جہاں مجلس ختم ہورہی ہوتی ہم وہیں بیٹھ جاتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20929]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شرك، وقد توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شرك، وقد توبع
حدیث نمبر: 20930 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي غَالِبٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَرِيكٍ ، أَبِي ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي غَالِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَرِيكٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فِي وَتْرٍ، فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُهَا فَنُسِّيتُهَا، وَهِيَ لَيْلَةُ مَطَرٍ وَرِيحٍ" ، أَوْ قَالَ:" قَطْرٍ وَرِيحٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ شب قدر کو رمضان کی آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا کرو کیونکہ میں نے اسے دیکھ لیا تھا لیکن پھر وہ مجھے بھلادی گئی اس رات بارش ہوگی اور ہوا چلے گی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20930]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: وهى ليلة مطر وريح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن شريك وأبيه شريك
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: وهى ليلة مطر وريح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن شريك وأبيه شريك
حدیث نمبر: 20931 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي غَالِبٍ ، عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ طَلْحَةَ ، أَسْبَاطٌ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي غَالِبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةُ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ هُوَ سَمَّى الْمَدِينَةَ طَابَةَ" ، قَالَ جَابِرٌ: وَأَنَا أَسْمَعُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے مدینہ منورہ کا تذکرہ ہوا تو فرمایا مدینہ منورہ کا نام اللہ نے طابہ رکھا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20931]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1385
الحكم: إسناده صحيح، م: 1385
حدیث نمبر: 20932 مسند احمد
جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
وَبِهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " صَلَّى خَلْفَهُ فِي يَوْمِ عِيدٍ بِغَيْرِ أَذَانٍ، وَلَا إِقَامَةٍ"، وَزَعَمَ سِمَاكٌ، أَنَّهُ صَلَّى خَلْفَ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ بِغَيْرِ أَذَانٍ، وَلَا إِقَامَةٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ عیدین کی نماز پڑھی اس میں اذان اور اقامت نہیں ہوتی تھی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20932]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20933 مسند احمد
مُحَمَّدٌ ، عَمْرٌو ، أَسْبَاطٌ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَمَّنْ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا، يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا اور ایک جماعت اس کے لئے قتال کرتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20933]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20934 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ سَنَةَ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ " الْخَاتَمَ بَيْنَ كَتِفَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ بَيْضَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پشت مبارک پر مہر نبوت دیکھی ہے وہ کبوتری کے انڈے جتنی تھی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20934]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، يحيى بن عبدالله ضعيف
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، يحيى بن عبدالله ضعيف
حدیث نمبر: 20935 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ، كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ أَبِي الدَّحْدَاحِ،" وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ يَتَوَقَّصُ، وَنَحْنُ نَسْعَى حَوْلَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابودحداح کی نماز جنازہ پڑھائی ہم ان کے ہمراہ تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار تھے جو بدکنے لگا یہ دیکھ کر ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے دوڑنے لگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20935]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 965، وهذا إسناد ضعيف لضعف يحيي بن عبدالله
الحكم: حديث صحيح، م: 965، وهذا إسناد ضعيف لضعف يحيي بن عبدالله
حدیث نمبر: 20936 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكٍ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ: أَتَى مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي زَنَيْتُ، " فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ رَجَمَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حضرت ماعز بن مالک آیا اور کہنے لگا کہ میں نے بدکاری کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ اسے واپس بھیجا پھر انہیں رجم کردیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20936]
حدیث نمبر: 20937 مسند احمد
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ، وَقَالَ الْمُقَدَّمِيُّ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِمِنًى، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي الرَّبِيعِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " لَنْ يَزَالَ هَذَا الْأَمْرُ عَزِيزًا ظَاهِرًا حَتَّى يَمْلِكَ اثْنَا عَشَرَ كُلُّهُمْ"، ثُمَّ لَغَطَ الْقَوْمُ وَتَكَلَّمُوا، فَلَمْ أَفْهَمْ قَوْلَهُ بَعْدَ" كُلُّهُمْ"، فَقُلْتُ لِأَبِي يَا أَبَتَاهُ، مَا بَعْدَ" كُلُّهُمْ"؟ قَالَ:" كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ"، وَقَالَ الْقَوَارِيرِيُّ فِي حَدِيثِهِ:" لَا يَضُرُّهُ مَنْ خَالَفَهُ أَوْ فَارَقَهُ حَتَّى يَمْلِكَ اثْنَا عَشَرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20937]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد، وقد توبع
حدیث نمبر: 20938 مسند احمد
سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، أَبِي ، مُجَالِدٌ ، عَامِرٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَقُولُ: " لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ ظَاهِرًا عَلَى كُلِّ مَنْ نَاوَأَهُ، وَلَا يَضُرُّهُ مَنْ خَالَفَهُ أَوْ فَارَقَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20938]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد، وقد توبع
حدیث نمبر: 20939 مسند احمد
عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ ، سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، ابْنِ عَوْنٍ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ عَزِيزًا مَنِيعًا، يُنْصَرُونَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ عَلَيْهِ إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً"، قَالَ: فَجَعَلَ النَّاسُ يَقُومُونَ وَيَقْعُدُونَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20939]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1821
الحكم: إسناده صحيح، م: 1821
حدیث نمبر: 20940 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کسری ہلاک ہوجائے تو اس کے بعد کوئی کسری نہ آسکے گا اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں آسکے گا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستہ میں خرچ کرو گے وہ وقت ضرور آئے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20940]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3121، م: 2919
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3121، م: 2919
حدیث نمبر: 20941 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، عُمَرَ بْنِ عُبَيْدٍ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَكُونُ مِنْ بَعْدِي اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا"، فَتُكُلِّمَ فَخَفِيَ عَلَيَّ، فَسَأَلْتُ الَّذِي يَلِينِي، أَوْ إِلَى جَنْبِي، فَقَالَ:" كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزرجائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20941]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 7222، م: 1821، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 7222، م: 1821، وهذا إسناد حسن