بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 244
صفحہ 8 از 13
حدیث نمبر: 18609 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، مُطَرِّفٍ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَن مُطَرِّفٍ ، قَالَ: أَتَوْا قُبَّةً، فَاسْتَخْرَجُوا مِنْهَا رَجُلًا، فَقَتَلُوهُ. قَالَ: قُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا:" هَذَا رَجُلٌ دَخَلَ بِأُمِّ امْرَأَتِهِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَتَلُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ شہسوار نظر آئے اور انہوں نے اس گھر کا محاصرہ کرلیا جس میں میں تھا اور اس میں سے ایک آدمی کو نکالا اور بغیر کسی تاخیر کے اس کی گردن اڑادی جب وہ چلے گئے تو میں نے اس کے متعلق پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کرلی تھی۔ ان لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھیجا تھا کہ اسے قتل کردیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18609]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لاضطرابه
الحكم: إسناده ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 18610 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، يَزِيدُ بْنُ الْبَرَاءِ ، أَبِيهِ ، خَالِي
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْبَرَاءِ ، عَن أَبِيهِ ، قَالَ: لَقِيتُ خَالِي مَعَهُ رَايَةٌ، فَقُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ:" بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ، فَأَمَرَنَا أَنْ نَقْتُلَهُ، وَنَأْخُذَ مَالَهُ" . قَالَ: فَفَعَلُوا. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مَا حَدَّثَ أَبِي عَنْ أَبِي مَرْيَمَ عَبْدِ الْغَفَّارِ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ لِعِلَّتِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن اپنے ماموں سے میری ملاقات ہوئی ان کے پاس ایک جھنڈا تھا میں نے ان سے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے بتایا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد اپنے باپ کی بیوی (سوتیلی ماں) سے شادی کرلی ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ اس کی گردن اڑادوں اور اس کا مال چھین لوں۔ چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18610]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لاضطرابه
الحكم: إسناده ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 18611 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن الْبَرَاءِ ، قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَائِمًا، فَحَضَرَ الْإِفْطَارُ، فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَ، لَمْ يَأْكُلْ لَيْلَتَهُ وَلَا يَوْمَهُ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنَّ فُلَانًا الْأَنْصَارِيَّ كَانَ صَائِمًا، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْإِفْطَارُ، أَتَى امْرَأَتَهُ، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكِ مِنْ طَعَامٍ؟ قَالَتْ: لَا، وَلَكِنْ أَنْطَلِقُ، فَأَطْلُبُ لَكَ، فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ، وَجَاءَتْ امْرَأَتُهُ، فَلَمَّا رَأَتْهُ، قَالَتْ: خَيْبَةٌ لَكَ، فَأَصْبَحَ، فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّهَارُ، غُشِيَ عَلَيْهِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ إِلَى قَوْلِهِ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187" . قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: وَإِنَّ قَيْسَ بْنَ صِرْمَةَ الْأَنْصَارِيَّ جَاءَ فَنَامَ، فَذَكَرَهُ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابتداء اسلام میں جو شخص روزہ رکھتا اور افطاری کے وقت روزہ کھولنے سے پہلے سوجاتا تو وہ اس رات اور اگلے دن شام تک کچھ نہیں کھاپی سکتا تھا ایک دن فلاں انصاری روزے سے تھا افطاری کے وقت وہ اپنی بیوی کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ کیا تمہارے پاس کھانے کے لئے کچھ ہے؟ اس نے کہا نہیں لیکن میں جا کر کچھ تلاش کرتی ہوں اسی دوران اس کی آنکھ لگ گئی بیوی نے آ کر دیکھا تو کہنے لگی کہ تمہارا تو نقصان ہوگیا۔ اگلے دن جبکہ ابھی صرف آدھا دن ہی گذر تھا کہ وہ (بھوک پیاس کی تاب نہ لاکر) بیہوش ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا تو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی تمہارے لئے روزے کی رات میں اپنی بیویوں سے بےتکلف ہوناحلال کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔ " گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18611]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1915
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1915
حدیث نمبر: 18612 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّ أَحَدَهُمْ كَانَ إِذَا نَامَ. فَذَكَرَ نَحْوًا مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: نَزَلَتْ فِي أَبِي قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1915، زهير روي عن أبى إسحاق بعد الاختلاط ، لكنه متابع، غير أنه لم يتابع فى اسم الذى نزلت فيه الآية
الحكم: حديث صحيح، خ: 1915، زهير روي عن أبى إسحاق بعد الاختلاط ، لكنه متابع، غير أنه لم يتابع فى اسم الذى نزلت فيه الآية
حدیث نمبر: 18613 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ . ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يَقُولُ: " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ جُمَّتَهُ لَتَضْرِبُ إِلَى مَنْكِبَيْهِ" ، قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ:" لَتَضْرِبُ قَرِيبًا مِنْ مَنْكِبَيْهِ"، وَقَدْ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ بِهِ مِرَارًا، مَا حَدَّثَ بِهِ قَطُّ إِلَّا ضَحِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سرخ جوڑا زیب تن فرما رکھا تھا میں نے ان سے زیادہ حسین کوئی نہیں دیکھا، صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے بال کندھوں تک آتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18613]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5901، م: 2337
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5901، م: 2337
حدیث نمبر: 18614 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ، الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، زَاذَانَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جِنَازَةٍ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَبْرِ، وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ، وَهُوَ يُلْحَدُ لَهُ، فَقَالَ: " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ" ثَلَاثَ مِرَارٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ انصاری کے جنازے میں نکلے ہم قبر کے قریب پہنچے تو ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھ گئے ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اردگرد بیٹھ گئے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زمین کو کرید رہے تھے پھر سر اٹھا کر فرمایا اللہ سے عذاب قبر سے بچنے کے لئے پناہ مانگو، دو تین مرتبہ فرمایا۔ پھر فرمایا کہ بندہ مؤمن جب دنیا سے رخصتی اور سفر آخرت پر جانے کے قریب ہوتا ہے تو اس کے آس پاس سے روشن چہروں والے ہوتے ہیں آتے ہیں ان کے پاس جنت کا کفن اور جنت کی حنوط ہوتی ہے تاحد نگاہ وہ بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آکر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں اے نفس مطمئنہ! اللہ کی مغفرت اور خوشنودی کی طرف نکل چل چناچہ اس کی روح اس بہہ کر نکل جاتی ہے جیسے مشکیزے کے منہ سے پانی کا قطرہ بہہ جاتا ہے ملک الموت اسے پکڑ لیتے ہیں اور دوسرے فرشتے پلک جھپکنے کی مقدار بھی اس کی روح کو ملک الموت کے ہاتھ میں نہیں رہنے دیتے بلکہ ان سے لے کر اسے اس کفن لپیٹ کر اس پر اپنی لائی ہوئی حنوط مل دیتے ہیں اور اس کے جسم سے ایسی خوشبو آتی ہے جیسے مشک کا ایک خوشگوار جھونکا جو زمین پر محسوس ہوسکے۔ پھر فرشتے اس روح کو لے کر اوپر چڑھ جاتے ہیں اور فرشتوں کے جس گروہ پر بھی ان کا گذر ہوتا ہے وہ گروہ پوچھتا ہے کہ یہ پاکیزہ روح کون ہے؟ وہ جواب میں اس کا وہ بہترین نام بتاتے ہیں جس سے دنیا میں لوگ اسے پکارتے تھے حتی کہ وہ اسے لے کر آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں اور دروازے کھلواتے ہیں جب دروازہ کھلتا ہے تو ہر آسمان کے فرشتے اس کی مشایعت کرتے ہیں اگلے آسمان تک اسے چھوڑ کر آتے ہیں اور اس طرح وہ ساتویں آسمان تک پہنچ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے کا نامہ اعمال " علیین " میں لکھ دو اور اسے واپس زمین کی طرف لے جاؤ کیونکہ میں نے اپنے بندوں کو زمین کی مٹی ہی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹاؤں گا اور اسی سے دوبارہ نکالوں گا۔ چناچہ اس کی روح جسم میں واپس لوٹادی جاتی ہے پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں وہ اسے بٹھاکر پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے میرا رب اللہ ہے وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میرا دین اسلام ہے وہ پوچھتے ہیں کہ یہ کون شخص ہے جو تمہاری طرف بھیجا گیا تھا؟ وہ جواب دیتا ہے کہ وہ اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا علم کیا ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی، اس پر آسمان سے ایک منادی پکارتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا اس کے لئے جنت کا بستر بچھادو اسے جنت کا لباس پہنادو اور اس کے لئے جنت کا ایک دروازہ کھول دو چناچہ اسے جنت کی ہوائیں اور خوشبوئیں آتی رہتیں ہیں اور تاحدنگاہ اس کی قبر وسیع کردی جاتی ہے اور اس کے پاس ایک خوبصورت لباس اور انتہائی عمدہ خوشبو والا ایک آدمی آتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ تمہیں خوشخبری مبارک ہو یہ وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا وہ اس سے پوچھتاے کہ تم کون ہو؟ کہ تمہارا چہرہ ہی خیر کا پتہ دیتا ہے وہ جواب دیتا ہے کہ میں تمہارا نیک عمل ہوں اس پر وہ کہتا ہے کہ پروردگار! قیامت ابھی قائم کردے تاکہ میں اپنے اہل خانہ اور مال میں واپس لوٹ جاؤں۔ اور جب کوئی کافر شخص دنیا سے رخصتی اور سفر آخرت پر جانے کے قریب ہوتا ہے تو اس کے پاس آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے اتر کر آتے ہیں جن کے پاس ٹاٹ ہوتے ہیں وہ تاحد نگاہ بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت يآکر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ اے نفس خبیثہ! اللہ کی ناراضگی اور غصے کی طرف چل یہ سن کر اس کی روح جسم میں دوڑنے لگتی ہے اور ملک الموت اسے جسم سے اس طرح کھینچتے ہیں جیسے گیلی اون سے سیخ کھینچی جاتی ہے اور اسے پکڑ لیتے ہیں فرشتے ایک پلک جھپکنے کی مقدار بھی اسے ان کے ہاتھ میں نہیں چھوڑتے اور اس ٹاٹ میں لپیٹ لیتے ہیں اور اس سے مردار کی بدبوجیسا ایک ناخوشگوار اور بدبودار جھونکا آتا ہے۔ پھر وہ اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے ان کا گذر ہوتا ہے وہی گروہ کہتا ہے کہ یہ کیسی خبیث روح ہے؟ وہ اس کا دنیا میں لیا جانے والا بدترین نام بتاتے ہیں یہاں تک کہ اسے لے کر آسمان دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ در کھلواتے ہیں لیکن دروازہ نہیں کھولا جاتا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " ان کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ ہی وہ جنت میں داخل ہوں گے تاوقتیکہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18614]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف بهذه السياقة، لضعف يونس ابن خباب
الحكم: إسناده ضعيف بهذه السياقة، لضعف يونس ابن خباب
حدیث نمبر: 18615 مسند احمد
أَبُو الرَّبِيعِ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ، الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، زَاذَانَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي إِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ، وَانْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا، تَنَزَّلَتْ إِلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ كَأَنَّ عَلَى وُجُوهِهِمْ الشَّمْسَ، مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ كَفَنٌ وَحَنُوطٌ، فَجَلَسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ، حَتَّى إِذَا خَرَجَ رُوحُهُ، صَلَّى عَلَيْهِ كُلُّ مَلَكٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَكُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ، وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، لَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُونَ اللَّهَ أَنْ يُعْرَجَ بِرُوحِهِ مِنْ قِبَلِهِمْ، فَإِذَا عُرِجَ بِرُوحِهِ، قَالُوا: رَبِّ عَبْدُكَ فُلَانٌ، فَيَقُولُ: أَرْجِعُوهُ، فَإِنِّي عَهِدْتُ إِلَيْهِمْ أَنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ، وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ، وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى". قَالَ:" فَإِنَّهُ يَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِ أَصْحَابِهِ إِذَا وَلَّوْا عَنْهُ، فَيَأْتِيهِ آتٍ فَيَقُولُ: مَنْ رَبُّكَ؟ مَا دِينُكَ؟ مَنْ نَبِيُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، وَدِينِيَ الْإِسْلَامُ، وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْتَهِرُهُ، فَيَقُولُ: مَنْ رَبُّكَ؟ مَا دِينُكَ؟ مَنْ نَبِيُّكَ؟ وَهِيَ آخِرُ فِتْنَةٍ تُعْرَضُ عَلَى الْمُؤْمِنِ، فَذَلِكَ حِينَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27. فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، وَدِينِيَ الْإِسْلَامُ، وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُ لَهُ: صَدَقْتَ، ثُمَّ يَأْتِيهِ آتٍ حَسَنُ الْوَجْهِ، طَيِّبُ الرِّيحِ، حَسَنُ الثِّيَابِ، فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِكَرَامَةٍ مِنَ اللَّهِ وَنَعِيمٍ مُقِيمٍ، فَيَقُولُ: وَأَنْتَ فَبَشَّرَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ، مَنْ أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ، كُنْتَ وَاللَّهِ سَرِيعًا فِي طَاعَةِ اللَّهِ، بَطِيئًا عَنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ، فَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنَ الْجَنَّةِ، وَبَابٌ مِنَ النَّارِ، فَيُقَالُ: هَذَا كَانَ مَنْزِلَكَ لَوْ عَصَيْتَ اللَّهَ، أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ هَذَا، فَإِذَا رَأَى مَا فِي الْجَنَّةِ، قَالَ: رَبِّ عَجِّلْ قِيَامَ السَّاعَةِ كَيْمَا أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي وَمَالِي، فَيُقَالُ لَهُ: اسْكُنْ. وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا، وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ، نَزَلَتْ عَلَيْهِ مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ، فَانْتَزَعُوا رُوحَهُ كَمَا يُنْتَزَعُ السَّفُّودُ الْكَثِيرُ الشِّعْبِ مِنَ الصُّوفِ الْمُبْتَلِّ، وَتُنْزَعُ نَفْسُهُ مَعَ الْعُرُوقِ، فَيَلْعَنُهُ كُلُّ مَلَكٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَكُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ، وَتُغْلَقُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، لَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُونَ اللَّهَ أَنْ لَا تَعْرُجَ رُوحُهُ مِنْ قِبَلِهِمْ، فَإِذَا عُرِجَ بِرُوحِهِ قَالُوا: رَبِّ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ عَبْدُكَ، قَالَ: أَرْجِعُوهُ، فَإِنِّي عَهِدْتُ إِلَيْهِمْ أَنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ، وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ، وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى". قَالَ:" فَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِ أَصْحَابِهِ إِذَا وَلَّوْا عَنْهُ". قَالَ:" فَيَأْتِيهِ آتٍ فَيَقُولُ: مَنْ رَبُّكَ؟ مَا دِينُكَ؟ مَنْ نَبِيُّكَ؟ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، فَيَقُولُ: لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَوْتَ، وَيَأْتِيهِ آتٍ قَبِيحُ الْوَجْهِ، قَبِيحُ الثِّيَابِ، مُنْتِنُ الرِّيحِ، فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِهَوَانٍ مِنَ اللَّهِ وَعَذَابٍ مُقِيمٍ، فَيَقُولُ: وَأَنْتَ فَبَشَّرَكَ اللَّهُ بِالشَّرِّ، مَنْ أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ، كُنْتَ بَطِيئًا عَنْ طَاعَةِ اللَّهِ، سَرِيعًا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، فَجَزَاكَ اللَّهُ شَرًّا، ثُمَّ يُقَيَّضُ لَهُ أَعْمَى أَصَمُّ أَبْكَمُ فِي يَدِهِ مِرْزَبَةٌ، لَوْ ضُرِبَ بِهَا جَبَلٌ كَانَ تُرَابًا، فَيَضْرِبُهُ ضَرْبَةً حَتَّى يَصِيرَ تُرَابًا، ثُمَّ يُعِيدُهُ اللَّهُ كَمَا كَانَ، فَيَضْرِبُهُ ضَرْبَةً أُخْرَى، فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ" قَالَ: الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ" ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنَ النَّارِ وَيُمَهَّدُ مِنْ فُرُشِ النَّارِ" . قال عبد الله: وحَدَّثَنَاه أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَن يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف يونس ابن خباب
الحكم: إسناده ضعيف لضعف يونس ابن خباب
حدیث نمبر: 18616 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشِ ، طَلْحَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ النَّهْمِيِّ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَن مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشِ ، عَن طَلْحَةَ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ النَّهْمِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْأُوَلِ، وَزَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ، وَمَنْ مَنَحَ مَنِيحَةَ لَبَنٍ، أَوْ مَنِيحَةَ وَرِقٍ، أَوْ هَدَى زُقَاقًا، فَهُوَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پہلی صفوں والوں پر اللہ تعالیٰ نزول رحمت اور فرشتے دعاء رحمت کرتے رہتے ہیں۔ اور فرماتے تھے کہ قرآن کریم کو اپنے آواز سے مزین کیا کرو۔ اور جو شخص کسی کوئی ہدیہ مثلاً چاندی سونا دے یا کسی کو دودھ پلادے یا کسی کو مشکیزہ دے دے تو یہ ایسے ہے جیسے ایک غلام کو آزاد کرنا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18616]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18617 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَن سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اضْطَجَعَ الرَّجُلُ، فَتَوَسَّدَ يَمِينَهُ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِلَيْكَ أَسْلَمْتُ نَفْسِي، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ إِلَيْكَ ظَهْرِي، وَوَجَّهْتُ إِلَيْكَ وَجْهِي، رَهْبَةً مِنْكَ وَرَغْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، وَمَاتَ عَلَى ذَلِكَ، بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ، أَوْ بُوِّئَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے بستر پر آئے اور دائیں ہاتھ کا تکیہ بناکر یوں کہہ لیا کرے اے اللہ میں نے اپنے آپ کو تیرے حوالے کردیا اپنے چہرے کو تیری طرف متوجہ کرلیا اپنے معاملات کو تیرے سپرد کردیا اور اپنی پشت کا تجھ ہی کو سہارا بنا لیا تیری ہی رغبت ہے تجھ ہی سے ڈر ہے تیرے علاوہ کوئی ٹھکانہ اور پناہ گاہ نہیں میں تیری اس کتاب پر ایمان لے آیا جو تو نے نازل کی اور اس نبی پر جسے تو نے بھیج دیا اگر یہ کلمات کہنے والا اسی رات میں مرجائے تو اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنادیا جائے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18617]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 247، م: 2710 دون قوله: بني له بيت فى الجنة أو بويء له بيت فى الجنة، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم
الحكم: حديث صحيح، خ: 247، م: 2710 دون قوله: بني له بيت فى الجنة أو بويء له بيت فى الجنة، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم
حدیث نمبر: 18618 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو ، طَلْحَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَن الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو ، عَن طَلْحَةَ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَن الْبَرَاءِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ لَا يَتَخَلَّلُكُمْ كَأَوْلَادِ الْحَذَفِ"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا أَوْلَادُ الْحَذَفِ؟ قَالَ:" سُودٌ جُرْدٌ تَكُونُ بِأَرْضِ الْيَمَنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا صفیں سیدھی رکھا کرو اور صفوں کے درمیان " حذف " جیسے بچے نہ کھڑے ہوں کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! حذف جیسے بچوں سے کیا مراد ہے؟ فرمایا وہ کالے سیاہ بےریش جو سر زمین یمن میں ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18618]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18619 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، شَرِيكٌ ، الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَن عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَن الْبَرَاءِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ بَدَا جَفَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دیہات میں رہتا ہے وہ اپنے اوپر ظلم کرتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18619]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لاضطرابه
الحكم: إسناده ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 18620 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عُثْمَانَ ، جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، مُطَرِّفٍ ، أَبِي الْجَهْمِ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَن مُطَرِّفٍ ، عَن أَبِي الْجَهْمِ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ أَنْ يَقْتُلَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کی طرف کچھ لوگوں کو بھیجا جس نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد اپنے باپ کی بیوی (سوتیلی ماں) سے شادی کرلی کہ اس کی گردن اڑادو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18620]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لاضطرابه
الحكم: إسناده ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 18621 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، مِنْهُ ، ابْنُ وَهْبٍ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، أَبَا إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيَّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْسَجَةَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَأَظُنُّ أَنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيَّ يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا، فَيَمْسَحُ عَوَاتِقَنَا وَصُدُورَنَا وَيَقُولُ: " لَا تَخْتَلِفْ صُفُوفُكُمْ فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ، أَوْ الصُّفُوفِ الْأُولَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صف کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک نمازیوں کے سینے اور کندھے درست کرتے ہوئے آتے تھے اور فرماتے تھے کہ آگے پیچھے مت ہوا کرو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہوجائے گا اور فرماتے تھے کہ پہلی صفوں والوں پر اللہ تعالیٰ نزول رحمت اور فرشتے دعاء رحمت کرتے رہتے ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18621]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، أبو إسحاق الهمداني السبيعي مختلط، ورواية جرير بن حازم عنه لا يدرى أقبل الاختلاط أم بعده ؟
الحكم: حديث صحيح، أبو إسحاق الهمداني السبيعي مختلط، ورواية جرير بن حازم عنه لا يدرى أقبل الاختلاط أم بعده ؟
حدیث نمبر: 18622 مسند احمد
عَفَّانُ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، يُونُسُ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَأَتَيْنَا عَلَى رَكِيٍّ ذَمَّةٍ، فَنَزَلَ فِيهَا سِتَّةٌ أَنَا سَابِعُهُمْ، أَوْ سَبْعَةٌ أَنَا ثَامِنُهُمْ، قَالَ: مَاحَةً، فَأُدْلِيَتْ إِلَيْنَا دَلْوٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَفَةِ الرَّكِيِّ، فَجَعَلْتُ فِيهَا نِصْفَهَا أَوْ قِرَابَ ثُلُثِهَا، فَرُفِعَتْ الدَّلْوُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الْبَرَاءُ: وَكِدْتُ بِإِنَائِي هَلْ أَجِدُ شَيْئًا أَجْعَلُهُ فِي حَلْقِي فَمَا وَجَدْتُ، فَغَمَسَ يَدَهُ فِيهَا، وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، وَأُعِيدَتْ إِلَيْنَا الدَّلْوُ بِمَا فِيهَا، فَلَقَدْ أُخْرِجَ آخِرُنَا بِثَوْبٍ مَخَافَةَ الْغَرَقِ، ثُمَّ سَاحَتْ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً: رَهْبَةَ الْغَرَقِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے ہم ایک کنوئیں پر پہنچے جس میں تھوڑا سا پانی رہ گیا تھا چھ آدمی جن میں سے ساتوں میں بھی تھا اس میں اترے پھر ڈول لٹکائے گئے کنوئیں کی منڈیر پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی موجود تھے ہم نے نصف یا دو تہائی کے قریب پانی ان میں ڈالا اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کیا کردیا گیا میں نے اپنے برتن کو اچھی طرح چیک کیا کہ اتنا پانی ہی مل جائے جسے میں اپنے حلق میں ڈال سکوں لیکن نہیں مل سکا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس ڈول میں ہاتھ ڈالا اور کچھ کلمات " جو اللہ کو منظور تھے " پڑھے اس کے بعد وہ ڈول ہمارے پاس واپس آگیا (جب وہ کنوئیں میں انڈیلا گیا تو ہم کنوئیں میں ہی تھے) میں نے اپنے آخری ساتھی کو دیکھا کہ اسے کپڑے سے پکڑ کر باہر نکالا گیا کہ کہیں وہ غرق ہی نہ ہوجائے اور پانی کی جل تھل ہوگئی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18622]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال يونس
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال يونس
حدیث نمبر: 18623 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عَاصِمٍ ، الشَّعْبِيِّ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَن عَاصِمٍ ، عَن الشَّعْبِيِّ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرٍ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ نَضِيجًا وَنِيئًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں غزوہ خیبر کے موقع پر پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمادیا تھا خواہ وہ کچا ہو یا پکا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18623]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4226، م: 1938
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4226، م: 1938
حدیث نمبر: 18624 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي الضُّحَى ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَن أَبِي الضُّحَى ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، فَقَالَ: " ادْفِنُوهُ بِالْبَقِيعِ، فَإِنَّ لَهُ مُرْضِعًا يُتِمُّ رَضَاعَهُ فِي الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی جن کا انتقال صرف سولہ مہینے کی عمر میں ہوگیا تھا اور فرمایا جنت میں ان کے لئے دائی کا مقرر کی گئی ہے جوان کی مدت رضاعت کی تکمیل کرے گی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18624]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18625 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، الْمِنْهَالِ ، زَاذَانَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَن الْمِنْهَالِ ، عَن زَاذَانَ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ، فَوَجَدْنَا الْقَبْرَ، وَلَمَّا يُلْحَدْ، فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے ہم قبر کے قریب پہنچے تو ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھ گئے ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اردگرد بیٹھ گئے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18625]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18626 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَشْعَثَ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ ، أَبِيهِ ، عَمِّي
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَن أَشْعَثَ ، عَن عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَن يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ ، عَن أَبِيهِ ، قَالَ: لَقِيَنِي عَمِّي وَمَعَهُ رَايَةٌ، فَقُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ فَقَالَ: " بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْتُلَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن اپنے چچاحارث بن عمرو سے میری ملاقات ہوئی ان کے پاس ایک جھنڈا تھا میں نے ان سے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد اپنے باپ کی بیوی (سوتیلی ماں) سے شادی کرلی ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ اس کی گردن اڑا ادوں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18626]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لاضطرابه
الحكم: إسناده ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 18627 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، أَبُو يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ، يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: بَعَثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ إِلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَسْأَلُهُ عَنْ رَايَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَتْ؟ قَالَ:" كَانَتْ سَوْدَاءَ مُرَبَّعَةً مِنْ نَمِرَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یونس بن عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے (میرے آقا) محمد بن قاسم رحمہ اللہ نے حضرت براء رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جھنڈا کیسا تھا؟ انہوں نے فرمایا سیاہ رنگ کا چوکور جھنڈا تھا جو چیتے کی کھال سے بنا ہوا تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18627]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى يعقوب، ويونس بن عبيد مجهول
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى يعقوب، ويونس بن عبيد مجهول
حدیث نمبر: 18628 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، مَنْصُورٍ ، الشَّعْبِيِّ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَن مَنْصُورٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: " خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیدالاضحی کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز کے بعد ہم سے خطاب فرمایا تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18628]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 983، م: 1961
الحكم: إسناده صحيح، خ: 983، م: 1961