بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 244
صفحہ 3 از 13
حدیث نمبر: 18508 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا، فَجَاءَ بِكَتِفٍ، فَكَتَبَهَا، قَالَ: فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَشَكَا ضَرَارَتَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَنَزَلَتْ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابتداء قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی کہ " مسلمانوں میں سے جو لوگ جہاد کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں وہ اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے بھی برابر نہیں ہوسکتے " نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو بلا کر حکم دیا وہ شانے کی ایک ہڈی لے آئے اور اس پر یہ آیت لکھ دی، اس پر حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو اس آیت میں " غیراولیٰ الضرر " کا لفظ مزید نازل ہوا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18508]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4594، م: 1898
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4594، م: 1898
حدیث نمبر: 18509 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، قَالَ: قَرَأَ رَجُلٌ سُورَةَ الْكَهْفِ، وَلَهُ دَابَّةٌ مَرْبُوطَةٌ، فَجَعَلَتْ الدَّابَّةُ تَنْفِرُ، فَنَظَرَ الرَّجُلُ إِلَى سَحَابَةٍ قَدْ غَشِيَتْهُ أَوْ ضَبَابَةٍ فَفَزِعَ، فَذَهَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: سَمَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ الرَّجُلَ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَقَالَ:" اقْرَأْ فُلَانُ، فَإِنَّ السَّكِينَةَ نَزَلَتْ لِلْقُرْآنِ، أَوْ عِنْدَ الْقُرْآنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص سورت کہف پڑھ رہا تھا گھر میں کوئی جانور (گھوڑا) بھی بندھا ہوا تھا اچانک وہ بدکنے لگا اس شخص نے دیکھا تو ایک بادل یا سائبان تھا جس نے اسے ڈھانپ رکھا تھا اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے فلاں! پڑھتے رہا کرو کہ یہ سکینہ تھا جو قرآن کریم کی تلاوت کے وقت اترتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18509]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3614، م: 795
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3614، م: 795
حدیث نمبر: 18510 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ ، الْبَرَاءَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ مَوْلَى بَنِي شَيْبَانَ، أَنَّهُ سَأَلَ الْبَرَاءَ عَنِ الْأَضَاحِيِّ، مَا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا كَرِهَ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ، فَقَالَ: " أَرْبَعٌ لَا تُجْزِئُ: الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا، وَالْكَسِيرُ الَّتِي لَا تُنْقِي". قَالَ: قُلْتُ: فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ فِي الْقَرْنِ نَقْصٌ أَوْ قَالَ: فِي الْأُذُنِ نَقْصٌ، أَوْ فِي السِّنِّ نَقْصٌ. قَالَ:" مَا كَرِهْتَ فَدَعْهُ، وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبید بن فیروز رحمہ اللہ نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کس قسم کی جانور کی قربانی سے منع کیا ہے اور کسے مکروہ سمجھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چار جانور قربانی میں کافی نہیں ہوسکتے وہ کانا جانور جس کا کانا ہونا واضح ہو وہ بیمار جانور جس کی بیماری واضح ہو وہ لنگڑا جانور کی لنگراہٹ واضح ہو اور وہ جانور جس کی ہڈی ٹوٹ کر اس کا گودا نکل گیا ہو عبید نے کہا کہ میں اس جانور کو مکروہ سمجھتا ہوں جس کے سینگ کان یا دانت میں کوئی نقص ہو، انہوں نے فرمایا کہ تم جسے مکروہ سمجھتے ہو اسے چھوڑ دو لیکن کسی دوسرے پر اسے اسے حرام قرار نہ دو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18510]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18511 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبَا إِسْحَاقَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ ، الْبَرَاءُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ يَخْطُبُ، فَقَالَ: أَنَا الْبَرَاءُ وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَامُوا قِيَامًا حَتَّى يَسْجُدَ، ثُمَّ يَسْجُدُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدے میں نہ چلے جاتے اس کے بعد وہ سجدے میں جاتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18511]
حکم دارالسلام
إستاده صحيح، خ: 711، م: 197 ، 474
الحكم: إستاده صحيح، خ: 711، م: 197 ، 474
حدیث نمبر: 18512 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، قَالَ: " أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، قَالَ: فَجَعَلَا يُقْرِئَانِ النَّاسَ الْقُرْآنَ، ثُمَّ جَاءَ عَمَّارٌ وَبِلَالٌ وَسَعْدٌ، قَالَ: ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي عِشْرِينَ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَمَا رَأَيْتُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَرِحُوا بِشَيْءٍ قَطُّ فَرَحَهُمْ بِهِ، حَتَّى رَأَيْتُ الْوَلَائِدَ وَالصِّبْيَانَ يَقُولُونَ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ جَاءَ. قَالَ: فَمَا قَدِمَ حَتَّى قَرَأْتُ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى فِي سُوَرٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں ہمارے یہاں سب سے پہلے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے تھے وہ لوگوں کو قرآن کریم پڑھاتے تھے پھر حضرت عمار رضی اللہ عنہ بلال رضی اللہ عنہ اور سعد رضی اللہ عنہ آئے پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بیس آدمیوں کے ساتھ آئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی تشریف لے آئے اس وقت اہل مدنیہ جتنے خوش تھے میں نے انہوں اس سے زیادہ خوش کبھی نہیں دیکھا حتیٰ کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو میں نے دیکھا وہ بھی خوشی سے کہہ رہے تھے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب تشریف لائے تو میں سورت اعلیٰ وغیرہ مفصلات کی کچھ سورتیں پڑھ چکا تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18512]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3924
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3924
حدیث نمبر: 18513 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنْقُلُ مَعَنَا التُّرَابَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ وَيَقُولُ: " اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا وَإِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا"، يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خندق کی کھدائی کے موقع پر دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کے ساتھ مٹی اٹھاتے جارہے ہیں اور (عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے) یہ اشعار پڑھتے جارہے ہیں اے اللہ اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت پاسکتے صدقہ کرتے اور نہ ہی نماز پڑھ سکتے لہٰذا تو ہم پر سکینہ نازل فرما اور دشمن سے آمنا سامنا ہونے پر ہمیں ثابت قدمی عطا فرما ان لوگوں نے ہم پر سرکشی کی ہے اور وہ جب کسی فتنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کردیتے ہیں اس آخری جملے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی آواز بلند فرمالیتے ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18513]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2836، م: 1803
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2836، م: 1803
حدیث نمبر: 18514 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمُ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَسُجُودُهُ، وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کی کیفیت اس طرح تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھتے رکوع کرتے رکوع سے سر اٹھاتے سجدہ کرتے سجدے سے سر اٹھاتے اور دو سجدوں کے درمیان تمام مواقع پر برابر دورانیہ ہوتا تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18514]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 792، م: 471
الحكم: إسناده صحيح، خ: 792، م: 471
حدیث نمبر: 18515 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَقُولَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ: " اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، فَإِنْ مَاتَ، مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک انصاری کو حکم دیا کہ جب وہ اپنے بستر پر آیا کرے تو یوں کہہ لیاکریں اے اللہ میں نے اپنے آپ کو تیرے حوالے کردیا اپنے چہرے کو تیری طرف متوجہ کرلیا اپنے معاملات کو تیرے سپرد کردیا اور اپنی پشت کا تجھ ہی کو سہارا بنا لیا تیری ہی رغبت ہے تجھ ہی سے ڈر ہے تیرے علاوہ کوئی ٹھکانہ اور پناہ گاہ نہیں میں تیری اس کتاب پر ایمان لے آیا جو تو نے نازل کی اور اس نبی پر جسے تو نے بھیج دیا اگر یہ کلمات کہنے والا اسی رات میں مرجائے تو وہ فطرت پر مرے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18515]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6313، م: 2710
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6313، م: 2710
حدیث نمبر: 18516 مسند احمد
عَفَّانُ ، مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ مَنَحَ مِنْحَةَ وَرِقٍ، أَوْ مِنْحَةَ لَبَنٍ، أَوْ هَدَى زُقَاقًا، فَهُوَ كَعِتَاقِ نَسَمَةٍ، وَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، فَهُوَ كَعِتَاقِ نَسَمَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کو کوئی ہدیہ مثلاً چاندی سونا دے یا کسی کو دودھ پلادے یا کسی کو مشکیزہ دے دے تو یہ ایسے ہے جیسے ایک غلام کو آزاد کرنا۔ اور جو شخص یہ کلمات کہہ لے لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھوعلی کل شیء قدیر۔ تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کی طرح ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18516]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن طلحة ضعيف، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، محمد بن طلحة ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 18517 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ ، الْبَرَاءُ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَبُو إِسْحَاقَ أَنْبَأَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يَخْطُبُ، حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ وَكَانَ غَيْرَ كَذُوبٍ، أَنَّهُمْ كَانُوا " إِذَا صَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَامُوا قِيَامًا حَتَّى يَرَوْهُ قَدْ سَجَدَ، فَيَسْجُدُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدے میں نہ چلے جاتے اس کے بعد وہ سجدے میں جاتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18517]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 711، م: 474، 197
الحكم: إسناده صحيح، خ: 711، م: 474، 197
حدیث نمبر: 18518 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، طَلْحَةُ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْسَجَةَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: طَلْحَةُ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْسَجَةَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ مَنَحَ مِنْحَةَ وَرِقٍ أَوْ مَنَحَ وَرِقًا أَوْ هَدَى زُقَاقًا، أَوْ سَقَى لَبَنًا، كَانَ لَهُ عَدْلَ رَقَبَةٍ، أَوْ نَسَمَةٍ، وَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ، كَانَ لَهُ كَعَدْلِ رَقَبَةٍ، أَوْ نَسَمَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کو کوئی ہدیہ مثلاً چاندی سونا دے یا کسی کو دودھ پلادے یا کسی کو مشکیزہ دے دے تو یہ ایسے ہے جیسے ایک غلام کو آزاد کرنا۔ اور جو شخص یہ کلمات کہہ لے لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھوعلی کل شیء قدیر۔ تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کی طرح ہے [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18518]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18519 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، صَالِحُ بْنُ عُمَرَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَمَّى الْمَدِينَةَ يَثْرِبَ، فَلْيَسْتَغْفِرْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، هِيَ طَابَةُ هِيَ طَابَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مدینہ کو یثرب کہہ کر پکارے اسے اللہ سے استغفار کرنا چاہے یہ تو طابہ ہے طابہ (پاکیزہ) [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18519]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد، ولاضطرابه فيه
الحكم: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد، ولاضطرابه فيه
حدیث نمبر: 18520 مسند احمد
ابْنُ إِدْرِيسَ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَنَتَ فِي الصُّبْحِ، وَفِي الْمَغْرِبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز فجر اور نماز مغرب میں قنوت نازلہ پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18520]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 678
الحكم: إسناده صحيح، م: 678
حدیث نمبر: 18521 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى ، الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، أن مطر بنَ ناجية اسْتَعْمَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى الصَّلَاةِ أَيَّامَ ابْنِ الْأَشْعَثِ، فَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَامَ قَدْرَ مَا أَقُولُ، أَوْ يقول، وَقَدْ قَالَ قَدْرَ قَوْلِهِ:" اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدَ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ"، قَالَ الْحَكَمُ:، فَحَدَّثْتُ ذَاكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ، قَالَ: كَانَ " رُكُوعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَسُجُودُهُ، وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حکم رحمہ اللہ سے مروی ہے ابن اشعث کے ایام خروج میں مطربن ناجیہ نے ابوعبیدہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو نماز کے لئے مقرر کردیا تھا وہ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے جتنی دیر میں میں یہ کلمات کہہ سکتا ہوں (جن کا ترجمہ یہ ہے کہ اے اللہ اے ہمارے رب تمام تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں آسمان جن سے بھرجائیں اور زمین جن سے بھرپور ہوجائے اور آپ چاہیں وہ بھی اس سے بھرجائے جسے آپ کچھ دے دیں اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے آپ روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا اور کسی منصب والے کا منصب آپ کے سامنے کچھ کام نہیں آسکتا۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کی کیفیت اس طرح تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھتے رکوع کرتے رکوع سے سر اٹھاتے سجدہ کرتے سجدے سے سر اٹھاتے اور دو سجدوں کے درمیان تمام مواقع پر برابر دورانیہ ہوتا تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18521]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 792، م: 471
الحكم: إسناده صحيح، خ: 792، م: 471
حدیث نمبر: 18522 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ ، الْبَرَاءُ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ فَكَانَ غَيْرَ كَذُوبٍ، أَنَّهُمْ كَانُوا " إِذَا صَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَامُوا قِيَامًا حَتَّى يَرَوْهُ سَاجِدًا، ثُمَّ سَجَدُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدے میں نہ چلے جاتے اس کے بعد وہ سجدے میں جاتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18522]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 711، م: 197، 474
الحكم: إسناده صحيح، خ: 711، م: 197، 474
حدیث نمبر: 18523 مسند احمد
أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، قَالَ: فَأَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ، قَالَ: " اجْعَلُوا حَجَّكُمْ عُمْرَةً". قَالَ: فَقَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ، فَكَيْفَ نَجْعَلُهَا عُمْرَةً؟! قَالَ:" انْظُرُوا مَا آمُرُكُمْ بِهِ فَافْعَلُوا". فَرَدُّوا عَلَيْهِ الْقَوْلَ، فَغَضِبَ، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ غَضْبَانَ، فَرَأَتْ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَتْ: مَنْ أَغْضَبَكَ أَغْضَبَهُ اللَّهُ؟ قَالَ:" وَمَا لِي لَا أَغْضَبُ وَأَنَا آمُرُ بِالْأَمْرِ فَلَا أُتَّبَعُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ روانہ ہوئے ہم نے حج کا احرام باندھ لیاجب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے حج کے اس احرام کو عمرے سے بدل لولوگ کہنے لگے یا رسول اللہ! ہم نے تو حج کا احرام باندھ رکھا ہے ہم اسے عمرے میں کیسے تبدیل کرسکتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں جو حکم دے رہا ہوں اس کے مطابق عمل کرو کچھ لوگوں نے پھر وہی بات دہرائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غصے میں آکر وہاں سے چلے گئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس اسی غصے کی کیفیت میں پہنچے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے تو کہنے لگیں کہ آپ کو کس نے غصہ دلایا؟ اللہ اس پر اپنا غصہ اتارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں کیوں غصے میں نہ آؤں جبکہ میں ایک کام کا حکم دے رہا ہوں اور میری بات نہیں مانی جارہی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18523]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، سماع أبى بكر بن عياش من أبى إسحاق ليس بذاك القوي، وأبو إسحاق لم يصرح بسماعه من البراء
الحكم: إسناده ضعيف، سماع أبى بكر بن عياش من أبى إسحاق ليس بذاك القوي، وأبو إسحاق لم يصرح بسماعه من البراء
حدیث نمبر: 18524 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، لَيْثٌ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَيُّ عُرَى الْإِسْلَامِ أَوْثَق؟" قَالُوا: الصَّلَاةُ. قَالَ:" حَسَنَةٌ، وَمَا هِيَ بِهَا". قَالُوا: الزَّكَاةُ. قَالَ:" حَسَنَةٌ، وَمَا هِيَ بِهَا". قَالُوا: صِيَامُ رَمَضَانَ. قَالَ:" حَسَنٌ، وَمَا هُوَ بِهِ". قَالُوا: الْحَجُّ. قَالَ:" حَسَنٌ وَمَا هُوَ بِهِ". قَالُوا: الْجِهَادُ. قَالَ:" حَسَنٌ وَمَا هُوَ بِهِ". قَالَ:" إِنَّ أَوْثَق عُرَى الْإِيمَانِ أَنْ تُحِبَّ فِي اللَّهِ، وَتُبْغِضَ فِي اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم سے پوچھنے لگے اسلام کی کون سے رسی سب سے زیادہ مضبوط ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا نماز، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بہت خوب اس کے بعد؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا زکوۃ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بہت خوب، اس کے بعد؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ماہ رمضان کے روزے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بہت خوب، اس کے بعد؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا حج بیت اللہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بہت خوب، اس کے بعد؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جہاد، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بہت خوب کہہ کر فرمایا ایمان کی سب سے مضبوط رسی یہ ہے کہ تم اللہ کی رضا کے لئے کسی سے محبت یا نفرت کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18524]
حکم دارالسلام
حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
الحكم: حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 18525 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: مُرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِيٍّ مُحَمَّمٍ مَجْلُودٍ، فَدَعَاهُمْ، فَقَالَ:" أَهَكَذَا تَجِدُونَ حَدَّ الزَّانِي فِي كِتَابِكُم؟" فَقَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَدَعَا رَجُلًا مِنْ عُلَمَائِهِمْ، فَقَالَ:" أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى، أَهَكَذَا تَجِدُونَ حَدَّ الزَّانِي فِي كِتَابِكُمْ؟" فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ، وَلَوْلَا أَنَّكَ أَنْشَدْتَنِي بِهَذَا لَمْ أُخْبِرْكَ، نَجِدُ حَدَّ الزَّانِي فِي كِتَابِنَا الرَّجْمَ، وَلَكِنَّهُ كَثُرَ فِي أَشْرَافِنَا، فَكُنَّا إِذَا أَخَذْنَا الشَّرِيفَ، تَرَكْنَاهُ، وَإِذَا أَخَذْنَا الضَّعِيفَ، أَقَمْنَا عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَقُلْنَا: تَعَالَوْا حَتَّى نَجْعَلَ شَيْئًا نُقِيمُهُ عَلَى الشَّرِيفِ وَالْوَضِيعِ، فَاجْتَمَعْنَا عَلَى التَّحْمِيمِ وَالْجَلْدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا أَمْرَكَ إِذْ أَمَاتُوهُ". قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَأَيُّهَا الرَّسُولُ لا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ إِلَى قَوْلِهِ يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ سورة المائدة آية 41، يَقُولُونَ: ائْتُوا مُحَمَّدًا، فَإِنْ أَفْتَاكُمْ بِالتَّحْمِيمِ وَالْجَلْدِ، فَخُذُوهُ وَإِنْ أَفْتَاكُمْ بِالرَّجْمِ، فَاحْذَرُوا. إِلَى قَوْلِهِ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ قَالَ فِي الْيَهُودِ إِلَى قَوْلِهِ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ سورة المائدة آية 44 - 45، وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ سورة المائدة آية 47 قَالَ:" هِيَ فِي الْكُفَّارِ كُلُّهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سے لوگ ایک یہودی کے لے گذرے جس کے چہرے پر سیاہی ملی ہوئی تھی اور اسے کوڑے مارے گئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ایک عالم (پادری) کو بلایا اور فرمایا میں تمہیں اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے موسیٰ پر تورات نازل فرمائی کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی یہی سزا پاتے ہو؟ اس نے قسم کھا کر کہا نہیں اگر آپ نے مجھے اتنی بڑی قسم نہ دی ہوتی تو میں کبھی آپ کو اس سے آگاہ نہ کرتا ہم اپنی کتاب میں زانی کی سزا رجم ہی پاتے ہیں لیکن ہمارے شرفاء میں زناء کی بڑی کثرت ہوگئی ہے اس لئے جب ہم کسی معزز آدمی کو پکڑتے تھے تو اسے چھوڑ دیتے اور کسی کمزور کو پکڑتے تو اس پر حد جاری کردیتے پھر ہم نے سوچا کہ ہم ایک سزا ایسی مقرر کرلیتے ہیں جو ہم معزز اور کمزور دونوں پر جاری کرسکیں، چناچہ ہم نے منہ کالا کرنے اور کوڑے مارنے پر اتفاق رائے کرلیا یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! میں سب سے پہلا آدمی ہوں جو تیرے حکم کو زندہ کر رہا ہوں جبکہ انہوں نے اسے مردہ کردیا تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر اسے رجم کردیا گیا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اے پیغمبر! کفر کی طرف تیزی سے لپکنے والے آپ کو غمگین نہ کردیں جو کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ ملے تولے لو یعنی تم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جاؤ اگر وہ تمہیں منہ کالا کرنے اور کوڑے مارنے کا فتویٰ دیں تو اسے قبول کرلو اور اگر رجم کا حکم دیں تو اسے چھوڑ دو پھر یہودیوں کے متعلق خاص طور پر فرمایا گیا کہ جو شخص اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا ایسے لوگ کافر ہیں پھر تمام کافروں کے متعلق فرمایا گیا کہ جو شخص اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا ایسے لوگ ظالم ہیں جو شخص اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا ایسے لوگ فاسق ہیں راوی کہتے ہیں کہ ان تینوں آیتوں کا تعلق کافروں سے ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18525]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1700
الحكم: إسناده صحيح، م: 1700
حدیث نمبر: 18526 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الشَّيْبَانِيُّ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ: " اهْجُ الْمُشْرِكِينَ، فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ مشرکین کی ہجو بیان کرو جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18526]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3213، م: 2486
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3213، م: 2486
حدیث نمبر: 18527 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّهُ صَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، " فَقَرَأَ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے نماز عشاء پڑھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی ایک رکعت میں سورت والتین کی تلاوت فرمائی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18527]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 767، م: 464
الحكم: إسناده صحيح، خ: 767، م: 464