بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 244
صفحہ 9 از 13
حدیث نمبر: 18629 مسند احمد
يَزِيدُ ، زَكَرِيَّا ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: " اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ، وَاعْتَمَرَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ، وَاعْتَمَرَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ:" لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهُ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ بِعُمْرَتِهِ الَّتِي حَجَّ فِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج سے پہلے عمرہ کیا تھا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ براء جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چار مرتبہ عمرہ فرمایا تھا جن میں حج والا عمرہ بھی شامل تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18629]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، زكريا سمع من أبى إسحاق السبيعي بعد الاختلاط
الحكم: صحيح لغيره، زكريا سمع من أبى إسحاق السبيعي بعد الاختلاط
حدیث نمبر: 18630 مسند احمد
يَزِيدُ ، دَاوُدُ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، دَاوُدَ ، عَامِرٍ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ . ح وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَن دَاوُدَ الْمَعْنَى، عَن عَامِرٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا يَذْبَحَنَّ أَحَدٌ قَبْلَ أَنْ نُصَلِّيَ"، فَقَامَ إِلَيْهِ خَالِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا يَوْمٌ، اللَّحْمُ فِيهِ كَثِيرٌ قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ: مَكْرُوهٌ، وَإِنِّي ذَبَحْتُ نُسُكِي قَبْلُ لِيَأْكُلَ أَهْلِي وَجِيرَانِي، وَعِنْدِي عَنَاقُ لَبَنٍ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَأَذْبَحُهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ وَلَا تُجْزِئُ جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ، وَهِيَ خَيْرُ نَسِيكَتَيْكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (بقر عید کے دن) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ آج کے دن کا آغاز ہم نماز پڑھ کر کریں گے پھر واپس گھر پہنچ کر قربانی کریں گے جو شخص اسی طرح کرے تو وہ ہمارے طریقے تک پہنچ گیا اور جو نماز عید سے پہلے قربانی کرے تو وہ محض گوشت ہے جو اس نے اپنے اہل خانہ کو پہلے دے دیا، اس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں میرے ماموں حضرت ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے نماز عید سے پہلے ہی اپنا جانور ذبح کرلیا تھا وہ کہنے لگے یا رسول اللہ! میں نے تو اپنا جانور پہلے ہی ذبح کرلیا البتہ اب میرے پاس چھ ماہ کا ایک بچہ ہے جو سال بھر کے جانور سے بھی بہتر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی کو اس کی جگہ ذبح کرلو لیکن تمہارے علاوہ کسی کو اس کی اجازت نہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18630]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 951، م: 1961
الحكم: إسناده صحيح، خ: 951، م: 1961
حدیث نمبر: 18631 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ، وَضَعَ خَدَّهُ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى، وَقَالَ: " رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو دائیں ہاتھ کا تکیہ بناتے اور یہ دعاء پڑھتے اے اللہ! جس دن تو اپنے بندوں کو جمع فرمائے گا مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18631]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق
حدیث نمبر: 18632 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الرَّبِيعِ بْنِ الْبَرَاءِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن الرَّبِيعِ بْنِ الْبَرَاءِ ، عَن أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا رَجَعَ مِنْ سَفَرٍ، قَالَ: " آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کبھی سفر سے واپس آتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ ہم توبہ کرتے ہوئے لوٹ رہے ہیں اور ہم اپنے رب کے عبادت گذار اور اس کے ثناء خواں ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18632]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18633 مسند احمد
يَزِيدُ ، شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: " اسْتَصْغَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَابْنَ عُمَرَ، فَرُدِدْنَا يَوْمَ بَدْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ بدر کے موقع پر مجھے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو بچہ قرار دیا تھا اس لئے ہمیں واپس بھیج دیا گیا تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18633]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3955، شريك سيئ الحفظ ، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 3955، شريك سيئ الحفظ ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 18634 مسند احمد
عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْكِلَابِيُّ ، مِسْعَرٌ ، الْحَكَمِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْكِلَابِيُّ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ:" كَانَ رُكُوعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقِيَامُهُ بَعْدَ الرُّكُوعِ، وَجُلُوسُهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، لَا نَدْرِي أَيَّهُ أَفْضَلَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کی کیفیت اس طرح تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھتے رکوع کرتے رکوع سے سر اٹھاتے سجدہ کرتے سجدہ سے سر اٹھاتے اور دو سجدوں کے درمیان تمام مواقع پر برابر دورانیہ ہوتا تھا، ہم نہیں جانتے کہ ان میں سے افضل کیا ہے؟ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18634]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 820، م: 471
الحكم: إسناده صحيح، خ: 820، م: 471
حدیث نمبر: 18635 مسند احمد
حُجَيْنٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن الْبَرَاءِ ، قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يَدْعُوهُ يَدْخُلُ مَكَّةَ، حَتَّى قَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا كَتَبُوا الْكِتَابَ، كَتَبُوا: هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ. قَالُوا: لَا نُقِرُّ بِهَذَا. لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، مَا مَنَعْنَاكَ شَيْئًا، وَلَكِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" أَنَا رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ". قَالَ لِعَلِيٍّ:" امْحُ رَسُولُ اللَّهِ". قَالَ: وَاللَّهِ لَا أَمْحُوكَ أَبَدًا، فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِتَابَ، وَلَيْسَ يُحْسِنُ أَنْ يَكْتُبَ، فَكَتَبَ مَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ: " هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنْ لَا يُدْخِلَ مَكَّةَ السِّلَاحَ إِلَّا السَّيْفَ فِي الْقِرَابِ، وَلَا يَخْرُجَ مِنْ أَهْلِهَا أَحَدٌ إِلَّا مَنْ أَرَادَ أَنْ يَتَّبِعَهُ، وَلَا يَمْنَعَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ أَنْ يُقِيمَ بِهَا". فَلَمَّا دَخَلَهَا وَمَضَى الْأَجَلُ، أَتَوْا عَلِيًّا، فَقَالُوا: قُلْ لِصَاحِبِكَ فَلْيَخْرُجْ عَنَّا، فَقَدْ مَضَى الْأَجَلُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ذیقعدہ کے مہینے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عمرے کے لئے روانہ ہوئے تو اہل مکہ نے انہیں مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روک دیا تاآنکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے اس شرط پر مصالحت کرلی کہ وہ صرف تین دن مکہ مکرمہ میں قیام کریں گے جب لوگ اس مضمون کی دستاویز لکھنے کے لئے بیٹھے انہوں نے اس میں " محمد رسول اللہ " صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا لفظ لکھا لیکن مشرکین کہنے لگے کہ آپ یہ لفظ مت لکھیں اس لئے کہ اگر آپ اللہ کے پیغمبر ہوتے تو ہم آپ سے کبھی جنگ نہ کرتے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا اس لفظ کو مٹادو حضرت علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں تو اسے نہیں مٹاسکتا، چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود اپنے دست مبارک سے اسے مٹادیا حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لکھنا پڑھنا نہ سیکھا تھا اور اس کی جگہ لکھ دیا کہ یہ فیصلہ ہے جو محمد بن عبداللہ نے اہل مکہ سے کیا ہے کہ وہ مکہ مکرمہ میں سوائے نیام میں پڑی ہوئی تلوار کے کوئی اسلحہ نہ لائیں گے مکہ مکرمہ سے کسی کو نکال کر نہیں لے جائیں گے الاّ یہ کہ کوئی خود ہی ان کے ساتھ جانا چاہے اور اپنے ساتھیوں میں سے کی کو مکہ مکرمہ میں قیام کرنے سے نہیں روکیں گے " چناچہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے بعدجب تین دن گذرگئے تو مشرکین مکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اپنے ساتھی سے واپس روانگی کے لئے کہہ دو کیونکہ مدت پوری ہوچکی ہے چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نکل آئے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18635]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1844، م: 1783
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1844، م: 1783
حدیث نمبر: 18636 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ
وحَدَّثَنَاه أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن الْبَرَاءِ ، قَالَ: اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، وَقَالَ:" أَنْ لَا يُدْخِلَ مَكَّةَ السِّلَاحَ وَلَا يَخْرُجَ مِنْ أَهْلِهَا".
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1844، م: 1783
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1844، م: 1783
حدیث نمبر: 18637 مسند احمد
حُجَيْنٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، وَفَرَسٌ لَهُ حِصَانٌ، مَرْبُوطٌ فِي الدَّارِ، فَجَعَلَ يَنْفِرُ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ، فَنَظَرَ، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، وَجَعَلَ يَنْفِرُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، ذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " تِلْكَ السَّكِينَةُ نَزَلَتْ بِالْقُرْآنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص سورت کہف پڑھ رہا تھا گھر میں کوئی جانور (گھوڑا) بھی بندھا ہوا تھا اچانک وہ بدکنے لگا اس شخص نے دیکھا تو ایک بادل یا سائبان تھا جس نے اسے ڈھانپ رکھا تھا اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے فلاں! پڑھتے رہا کرو کہ یہ سکینہ تھا جو قرآن کریم کی تلاوت کے وقت اترتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18637]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3614، م: 795
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3614، م: 795
حدیث نمبر: 18638 مسند احمد
حُجَيْنٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: " آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَامِلَةً: بَرَاءَةُ، وَآخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ خَاتِمَةُ سُورَةِ النِّسَاءِ: يَسْتَفْتُونَكَ... سورة النساء آية 127 إِلَى آخِرِ السُّورَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جو سورت سب سے آخر میں اور مکمل نازل ہوئی وہ سورت برأت تھی اور سب سے آخری آیت جو نازل ہوئی وہ سورت نساء کی آخری آیت ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18638]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4605، م: 1618
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4605، م: 1618
حدیث نمبر: 18639 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، مِسْعَرٌ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَن عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ:" قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعِشَاءِ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ"، " فَلَمْ أَسْمَعْ أَحْسَنَ صَوْتًا وَلَا أَحْسَنَ صَلَاةً مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز عشاء کی ایک رکعت میں سورت والتین کی تلاوت فرماتے ہوئے سنا میں نے ان سے اچھی قرأت کسی کی نہیں سنی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18639]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 767، م: 464
الحكم: إسناده صحيح، خ: 767، م: 464
حدیث نمبر: 18640 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَحُسَيْنٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَحُسَيْنٌ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا صف اول کے لوگوں پر اللہ تعالیٰ نزول رحمت اور فرشتے دعاء رحمت کرتے رہتے ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18640]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، سقط من هذا الإسناد اثنان : طلحة بن مصرف عن عبدالرحمن بن عوسجة، بين أبى إسحاق والبراء).
الحكم: حديث صحيح، سقط من هذا الإسناد اثنان : طلحة بن مصرف عن عبدالرحمن بن عوسجة، بين أبى إسحاق والبراء).
حدیث نمبر: 18641 مسند احمد
يَحْيَى ، وَحُسَيْنٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَحُسَيْنٌ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اعْتَمَرَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ماہ ذیقعدہ میں بھی عمرہ کیا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18641]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3184، م: 1783
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3184، م: 1783
حدیث نمبر: 18642 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ: " اهْجُ الْمُشْرِكِينَ، فَإِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ مَعَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ مشرکین کی ہجو بیان کرو جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18642]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18643 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، يَشْهَدُ بِهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْأُوَلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا صف اول کے لوگوں پر اللہ تعالیٰ نزول رحمت اور فرشتے دعاء رحمت کرتے رہتے ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18643]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، أبو إسحاق السبيعي مختلط ، ورواية عمار بن رزيق عنه بأخرة
الحكم: حديث صحيح، أبو إسحاق السبيعي مختلط ، ورواية عمار بن رزيق عنه بأخرة
حدیث نمبر: 18644 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَن أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَن مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ، أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ، وَآنِيَةِ الْفِضَّةِ، وَالْحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، وَالْإِسْتَبْرَقِ، وَالْمَيَاثِرِ الْحُمْرِ، وَالْقَسِّيِّ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں سے منع کیا ہے پھر انہوں نے حکم والی چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے مریض کی بیمار پرسی کا تذکرہ کیا نیز یہ کہ جنازے کے ساتھ جاناچھینکنے والے کو جواب دینا سلام کا جواب دینا قسم کھانے والے کو سچا کرنا، دعوت کو قبول کرنا مظلوم کی مدد کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں چاندی کے برتن سونے کی انگوٹھی، استبرق، حریر، دیباج (تینوں ریشم کے نام ہیں) سرخ خوان پوش سے اور ریشمی کتان سے منع فرمایا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18644]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6253، م: 2066
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6253، م: 2066
حدیث نمبر: 18645 مسند احمد
أَبُو دَاوُدَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، سُفْيَانَ
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَن سُفْيَانَ ، مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ: إِفْشَاءَ السَّلَامِ، وَقَالَ: نَهَانَا عَنْ آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1239، م: 2066
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1239، م: 2066
حدیث نمبر: 18646 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَعَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَعَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْأُوَلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا صف اول کے لوگوں پر اللہ تعالیٰ نزول رحمت اور فرشتے دعاء رحمت کرتے رہتے ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18646]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، سماع أبى بكر بن عياش من أبى إسحاق ليس بذاك القوي، وأبو إسحاق مختلط، ورواية عمار بن رزيق عنه بأخرة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، سماع أبى بكر بن عياش من أبى إسحاق ليس بذاك القوي، وأبو إسحاق مختلط، ورواية عمار بن رزيق عنه بأخرة
حدیث نمبر: 18647 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَجَلِيُّ ، طَلْحَةَ ، أَبُو أَحْمَدَ ، طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَجَلِيُّ مِنْ بَنِي بَجْلَةَ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، عَن طَلْحَةَ . ح قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي عَمَلًا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، فَقَالَ: " لَئِنْ كُنْتَ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ، لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ، أَعْتِقْ النَّسَمَةَ، وَفُكَّ الرَّقَبَةَ". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَلَيْسَتَا بِوَاحِدَةٍ؟ قَالَ:" لَا، إِنَّ عِتْقَ النَّسَمَةِ أَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِهَا، وَفَكَّ الرَّقَبَةِ أَنْ تُعِينَ فِي عِتْقِهَا، وَالْمِنْحَةُ الْوَكُوفُ، وَالْفَيْءُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ، فَأَطْعِمْ الْجَائِعَ، وَاسْقِ الظَّمْآنَ، وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ، فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنَ الْخَيْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو مجھے جنت میں داخل کرادے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بات تو تم نے مختصر کہی ہے لیکن سوال بڑا لمبا چوڑا پوچھا ہے عتق نسمہ اور فک رقبہ کیا کرو اس نے کہا یا رسول اللہ! کیا یہ دونوں چیزیں ایک ہی نہیں ہیں؟ (کیونکہ دونوں کا معنی غلام آزاد کرنا ہے ') نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں عتق نسمہ سے مراد یہ ہے کہ تم اکیلے پورا غلام آزاد کردو اور فک رقبہ سے مراد یہ ہے کہ غلام کی آزادی میں تم اس کی مدد کرو اس طرح قریبی رشتہ دار پر جو ظالم ہو، احسان اور مہربانی کرو، اگر تم میں اس کی طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھانا کھلادو پیاسے کو پانی پلادو، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو، اگر یہ بھی نہ کرسکو تو اپنی زبان کو خیر کے علاوہ بند کرکے رکھو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18647]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18648 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، يَقُولُ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا سورة النساء آية 95، أَتَاهُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَأْمُرُنِي؟ إِنِّي ضَرِيرُ الْبَصَرِ، قَالَ: فَنَزَلَتْ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ، أَوْ اللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابتداء قرآن کریم کی یہ آیت ہوئی کہ " مسلمانوں میں سے جو لوگ جہاد کے انتظار میں بیٹھے ہیں وہ اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے بھی برابر نہیں ہوسکتے " نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو بلا کر حکم دیا " وہ شانے کی ایک ہڈی لے آئے اور اس پر یہ آیت لکھ دی، اس پر حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو اس آیت میں " غیراولی الضرر " کا لفظ مزید نازل ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے پاس شانے کی ہڈی یا تختی اور دوات لے کر آؤ۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18648]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4594، م: 1898
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4594، م: 1898