بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 244
صفحہ 11 از 13
حدیث نمبر: 18669 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَن أَبِيهِ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: " غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ عَشْرَةَ غَزْوَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پندرہ غزوات میں شرکت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18669]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الجراح الرؤاسي والد وكيع مختلف فيه، وقد خالفه إسرائيل، وفيه: غزونا بدل غزا
الحكم: إسناده ضعيف، الجراح الرؤاسي والد وكيع مختلف فيه، وقد خالفه إسرائيل، وفيه: غزونا بدل غزا
حدیث نمبر: 18670 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَن إِسْرَائِيلَ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: مَرَّ بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَقَدْ طَبَخْنَا الْقُدُورَ، فَقَالَ:" مَا هَذِهِ؟" قُلْنَا: حُمُرًا أَصَبْنَاهَا. قَالَ:" وَحْشِيَّةٌ أَمْ أَهْلِيَّةٌ". قُلْنَا: أَهْلِيَّةٌ. قَالَ:" أَكْفِئُوهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس سے گذرے اس وقت ہم کھانا پکار ہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا ان ہانڈیوں میں کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ گدھے ہیں جو ہمارے ہاتھ لگے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا جنگلی یا پالتو؟ ہم نے عرض کیا پالتو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہانڈیاں الٹادو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18670]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4221، م: 1938
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4221، م: 1938
حدیث نمبر: 18671 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ، قَالَ: وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، قَالَ: فَإِذَا فِي الْمَاءِ قِلَّةٌ قَالَ: " فَنَزَعَ دَلْوًا، ثُمَّ مَضْمَضَ، ثُمَّ مَجَّ وَدَعَا، قَالَ: فَرَوِينَا وَأَرْوَيْنَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حدیبیہ پہنچے جو ایک کنواں تھا اور اس کا پانی بہت کم ہوچکا تھا، ہم چودہ سو افراد تھے اس میں سے ایک ڈول نکالا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے پانی لے کر کلی کی اور کلی کا پانی کنوئیں میں ہی ڈال دیا اور دعاء فرمادی اور ہم اس پانی سے خوب سیراب ہوگئے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18671]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3577
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3577
حدیث نمبر: 18672 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَن إِسْرَائِيلَ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَن الْبَرَاءِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ، وَقَال: " اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ" أَوْ" تَجْمَعُ عِبَادَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو دائیں ہاتھ کا تکیہ بناتے اور یہ دعاء پڑھتے اے اللہ! جس دن تو اپنے بندوں کو جمع فرمائے گا مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18672]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق السبيعي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق السبيعي
حدیث نمبر: 18673 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ مَرْزُوقٍ ، شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ مَرْزُوقٍ ، عَن شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: " نَزَلَتْ:" حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ"، فَقَرَأْنَاهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ نَقْرَأَهَا، لَمْ يَنْسَخْهَا اللَّهُ، فَأَنْزَلَ: حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238" . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ كَانَ مَعَ شَقِيقٍ يُقَالُ لَهُ: أَزْهَرُ: وَهِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ؟ قَالَ: قَدْ أَخْبَرْتُكَ كَيْفَ نَزَلَتْ، وَكَيْفَ نَسَخَهَا اللَّهُ تَعَالَى، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابتداء ًیہ آیت نازل ہوئی کہ " نمازوں کی پابندی کروخاص طور پر نماز عصر کی اور ہم اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں اس وقت تک پڑھتے رہے جب تک اللہ کو منظور ہوا اور اللہ نے اسے منسوخ نہ کیا بعد میں نماز عصر کے بجائے " درمیانی نماز " کا لفظ نازل ہوگیا ایک آدمی نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے پوچھا اس کا مطلب یہ ہے کہ درمیانی نماز سے مراد نماز عصر ہے؟ انہوں نے فرمایا میں نے تمہیں بتادیا کہ وہ کس طرح نازل ہوئی اور کیسے منسوخ ہوئی اب اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18673]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 630
الحكم: إسناده صحيح، م: 630
حدیث نمبر: 18674 مسند احمد
أَسْبَاطٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَ إِبْهَامَاهُ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو افتتاح نماز کے موقع پر رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے انگوٹھے کانوں کی لوتک برابر ہوتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18674]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 18675 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ ، عَن عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَن عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ مَاذَا يُتَّقَى مِنَ الضَّحَايَا؟ فَقَالَ:" أَرْبَعٌ" وَقَالَ الْبَرَاءُ: وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا، وَالْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لَا تُنْقِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ قربانی میں کس جانور سے بچاجائے؟ میرا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ سے چھوٹا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چار جانور قربانی میں کافی نہیں ہوسکتے وہ کانا جانور جس کا کانا ہونا واضح ہو وہ بیمار جانور جس کی بیماری واضح ہو وہ لنگڑا جانور کی لنگراہٹ واضح ہو اور وہ جانور جس کی ہڈی ٹوٹ کر اس کا گودا نکل گیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18675]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، فقد أسقط منه مالك سليمان بن عبدالرحمن الراوي عن عبيد بن فيروز
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، فقد أسقط منه مالك سليمان بن عبدالرحمن الراوي عن عبيد بن فيروز
حدیث نمبر: 18676 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، شُعْبَةُ ، أَبَا إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةَ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي مَجَالِسِهِمْ، فَقَالَ: " إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ، فَاهْدُوا السَّبِيلَ، وَرُدُّوا السَّلَامَ، وَأَعِينُوا الْمَظْلُومَ" . وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ : عَن شُعْبَةَ ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ أَبُو إِسْحَاقَ مِنَ الْبَرَاءِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کچھ انصاری حضرات کے پاس سے گذرے اور فرمایا کہ اگر تمہارے راستے میں بیٹھے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے تو سلام پھیلایا کرو، مظلوم کی مدد کیا کرو اور راستہ بتایا کرو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18676]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أبو إسحاق لم يسمعه من البراء
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أبو إسحاق لم يسمعه من البراء
حدیث نمبر: 18677 مسند احمد
مَعْمَرٌ ، الْحَجَّاجُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَلَالَةِ، فَقَالَ: " تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور " کلالہ " کے متعلق سوال پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس سلسلے میں تمہارے لئے موسم گرما میں نازل ہونے والی آیت ہی کافی ہے (سورۃ النساء کی آخری آیت کی طرف اشارہ ہے) [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18677]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة ، ثم إنه لا يدري أسمع من أبى إسحاق قبل الاختلاط أم بعده ؟
الحكم: إسناده ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة ، ثم إنه لا يدري أسمع من أبى إسحاق قبل الاختلاط أم بعده ؟
حدیث نمبر: 18678 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا حَسَّانُ، اهْجُ الْمُشْرِكِينَ، فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ"، أَوْ" إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ مَعَكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ مشرکین کی ہجو بیان کرو جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18678]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18679 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " ادْعُوا إِلَيَّ زَيْدًا يَجِيءُ أَوْ يَأْتِي بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ أَوْ اللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ"، اكَتَبَ:" لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ". قَالَ:" هَكَذَا نَزَلَتْ"، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَهُوَ خَلْفَ ظَهْرِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بِعَيْنَيَّ ضَرَرًا، قَالَ: فَنَزَلَتْ قَبْلَ أَنْ يَبْرَحَ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابتداء قرآن کریم کی یہ آیت ہوئی کہ " مسلمانوں میں سے جو لوگ جہاد کے انتظار میں بیٹھے ہیں وہ اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے بھی برابر نہیں ہوسکتے " نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو بلا کر حکم دیا " وہ شانے کی ایک ہڈی لے آئے اور اس پر یہ آیت لکھ دی، اس پر حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو اس آیت میں " غیراولی الضرر " کا لفظ مزیدنازل ہوا [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18679]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4594، م: 1898
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4594، م: 1898
حدیث نمبر: 18680 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن الْبَرَاءِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ، فَقُلْ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، فَإِنْ مِتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ، مِتَّ وَأَنْتَ عَلَى الْفِطْرَةِ، وَإِنْ أَصْبَحْتَ، أَصَبْتَ خَيْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک انصاری کو حکم دیا کہ جب وہ اپنے بستر پر آیا کرے تو یوں کہہ لیا کرے اے اللہ میں نے اپنے آپ کو تیرے حوالے کردیا اپنے چہرے کو تیری طرف متوجہ کرلیا اپنے معاملات کو تیرے سپرد کردیا اور اپنی پشت کا تجھ ہی کو سہارابنا لیا تیری ہی رغبت ہے تجھ ہی سے ڈر ہے تیرے علاوہ کوئی ٹھکانہ اور پناہ گاہ نہیں میں تیری اس کتاب پر ایمان لے آیا جو تو نے نازل کی اور اس نبی پر جسے تو نے بھیج دیا اگر یہ کلمات کہنے والا اسی رات میں مرجائے تو وہ فطرت پر مرے گا۔ اگر صبح پالی تو خیر کثیر کے ساتھ صبح کروگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18680]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 274، م: 2710
الحكم: إسناده صحيح، خ: 274، م: 2710
حدیث نمبر: 18681 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أَحْمَدَ ، مِسْعَرٌ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَن عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَن الْبَرَاءِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ ب التِّينِ وَالزَّيْتُونِ، " فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ صَوْتًا مِنْهُ إِذَا قَرَأَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز عشاء کی ایک رکعت میں سورت والتین کی تلاوت فرماتے ہوئے سنا میں نے ان سے اچھی قرأت کسی کی نہیں سنی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18681]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 767، م: 464
الحكم: إسناده صحيح، خ: 767، م: 464
حدیث نمبر: 18682 مسند احمد
أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَ إِبْهَامَاهُ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو افتتاح نماز کے موقع پر رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے انگوٹھے کانوں کی لو کے برابر ہوتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18682]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 18683 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: " وَادَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَلَاثٍ: مَنْ أَتَاهُمْ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنْ يَرُدُّوهُ، وَمَنْ أَتَى إِلَيْنَا مِنْهُمْ رَدُّوهُ إِلَيْهِمْ، وَعَلَى أَنْ يَجِيءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ وَأَصْحَابُهُ فَيَدْخُلُونَ مَكَّةَ مُعْتَمِرِينَ، فَلَا يُقِيمُونَ إِلَّا ثَلَاثًا، وَلَا يُدْخِلُونَ إِلَّا جَلَبَ السِّلَاحِ السَّيْفِ وَالْقَوْسِ وَنَحْوِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ذیقعدہ کے مہینے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عمرے کے لئے روانہ ہوئے تو اہل مکہ نے انہیں مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روک دیا تاآنکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے اس شرط پر مصالحت کرلی کہ وہ آئندہ سال آکر صرف تین دن مکہ مکرمہ میں قیام کریں گے وہ مکہ مکرمہ میں سوائے نیام میں پڑی ہوئی تلوار کے کوئی اسلحہ نہ لائیں گے مکہ مکرمہ سے کسی کو نکال کر نہیں لے جائیں گے الاّ یہ کہ کوئی خود ہی ان کے ساتھ جانا چاہے اور اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو مکہ مکرمہ میں قیام کرنے سے نہیں روکیں گے " [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18683]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3184، م: 1783، مؤمل ضعيف، لكنه ثقة فى سفيان
الحكم: حديث صحيح، خ: 3184، م: 1783، مؤمل ضعيف، لكنه ثقة فى سفيان
حدیث نمبر: 18684 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ مِنْ تُرَابِ الْخَنْدَقِ حَتَّى وَارَى التُّرَابُ جِلْدَ بَطْنِهِ، وَهُوَ يَرْتَجِزُ بِكَلِمَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ: " اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتْ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خندق کی کھدائی کے موقع پر دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کے ساتھ مٹی اٹھاتے جارہے ہیں حتیٰ کہ مٹی نے پیٹ کی جلد کو چھپالیا اور (عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے) یہ اشعار پڑھتے جارہے ہیں اے اللہ اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت پاسکتے صدقہ کرتے اور نہ ہی نماز پڑھ سکتے لہٰذا تو ہم پر سکینہ نازل فرما اور دشمن سے آمنا سامنا ہونے پر ہمیں ثابت قدمی عطا فرما ان لوگوں نے ہم پر سرکشی کی ہے اور وہ جب کسی فتنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کردیتے ہیں اس آخری جملے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی آوازبلند فرمالیتے ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18684]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2836، م: 1803
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2836، م: 1803
حدیث نمبر: 18685 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يَقُولُ: أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةٌ حَرِيرٌ، فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَمَسُّونَهَا وَيَعْجَبُونَ مِنْ لِينِهَا، فَقَالَ:" تَعْجَبُونَ مِنْ لِينِ هَذِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْهَا أَوْ أَلْيَنُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی کپڑا پیش کیا گیا لوگ اس کی خوبصورتی اور نرمی پر تعجب کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے کہیں زیادہ نرم بہتر ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18685]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3802، م: 2468
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3802، م: 2468
حدیث نمبر: 18686 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، أَبَا بَكْرِ بْنَ أَبِي مُوسَى ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ أَبِي مُوسَى يُحَدِّثُ، عَنِ الْبَرَاءِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَيْقَظَ، قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا مِنْ بَعْدِ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ" قَالَ شُعْبَةُ هَذَا أَوْ نَحْوَ هَذَا الْمَعْنَى، وَإِذَا نَامَ قَالَ:" اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَبِاسْمِكَ أَمُوتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بیدار ہوتے تو یوں کہتے " اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں موت دینے کے بعد زندگی دی اور اسی کے پاس جمع ہونا ہے اور جب سوتے تو یوں کہتے اے اللہ! میں تیرے ہی نام سے جیتا ہوں اور تیرے ہی نام پر مرتا ہوں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18686]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:2711
الحكم: إسناده صحيح، م:2711
حدیث نمبر: 18687 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ فِي ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ:" إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے لئے جنت میں دودھ پلانے والی عورت کا انتظام کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18687]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1382
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1382
حدیث نمبر: 18688 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، عَدِيٍّ ، بَهْزٌ ، عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، الْبَرَاءَ ، بَهْزٌ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن عَدِيٍّ ، قَالَ بَهْزٌ : حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، وَقَالَ بَهْزٌ : عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، فَقَرَأَ بِإِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ ب التِّينِ وَالزَّيْتُونِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک سفر میں تھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عشاء کی ایک رکعت میں سورت والتین کی تلاوت فرمائی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18688]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 767، م: 464
الحكم: إسناده صحيح، خ: 767، م: 464