بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 244
صفحہ 2 از 13
حدیث نمبر: 18488 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الْحَقِّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَغْتَسِلَ أَحَدُهُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَأَنْ يَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَ أَهْلِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُمْ طِيبٌ، فَإِنَّ الْمَاءَ أَطْيَبُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمانوں پر یہ حق ہے کہ ان میں سے ہر ایک جمعہ کے دن غسل کرے خوشبو لگائے بشرطیکہ موجود بھی ہو اگر خوشبو نہ ہو تو پانی ہی بہت پاک کرنے والا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18488]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: فإن لم يكن عندهم طيب، فإن الماء طيب ، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
الحكم: حديث صحيح دون قوله: فإن لم يكن عندهم طيب، فإن الماء طيب ، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 18489 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبُو جَنَابٍ ، يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَنَابٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ:" إِنَّ أَوَّلَ نُسُكِكُمْ هَذِهِ الصَّلَاةُ" . فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ، خَالِي قَالَ سفيان: وَكَانَ بَدْرِيًّا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ يَوْمًا يشْتَهِي فِيهِ اللَّحْمَ، ثُمَّ إِنَّا عَجَّلْنَا، فَذَبَحْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَبْدِلْهَا" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عِنْدَنَا مَاعِزًا جَذَعًا، قَالَ:" فَهِيَ لَكَ وَلَيْسَ لِأَحَدٍ بَعْدَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (بقرعید کے دن) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ آج کے دن کا آغاز ہم نماز پڑھ کر کریں گے پھر واپس گھر پہنچ کر قربانی کریں گے جو شخص اسی طرح کرے تو وہ ہمارے طریقے تک پہنچ گیا اور جو نماز عید سے پہلے قربانی کرے تو وہ محض گوشت ہے جو اس نے اپنے اہل خانہ کو پہلے دے دیا، اس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں میرے ماموں حضرت ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے نماز عید سے پہلے ہی اپنا جانور ذبح کرلیا تھا وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں نے تو اپنا جانور پہلے ہی ذبح کرلیا البتہ اب میرے پاس چھ ماہ کا ایک بچہ ہے جو سال بھرکے جانور سے بھی بہتر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسی کو اس کی جگہ ذبح کرلو لیکن تمہارے علاوہ کسی کو اس کی اجازت نہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18489]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 955، م: 1961، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبى جناب
الحكم: حديث صحيح، خ: 955، م: 1961، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبى جناب
حدیث نمبر: 18490 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ ، يَزيدُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ ، حَدَّثَنِي يَزيدُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمُصَلَّى يَوْمَ أَضْحَى، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ أَوَّلَ نُسُكِ يَوْمِكُمْ هَذَا الصَّلَاةُ". قَالَ: فَتَقَدَّمَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ النَّاسَ بِوَجْهِهِ، وَأُعْطِيَ قَوْسًا أَوْ عَصًا فَاتَّكَأَ عَلَيْهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَأَمَرَهُمْ، وَنَهَاهُمْ، وَقَالَ:" مَنْ كَانَ مِنْكُمْ عَجَّلَ ذَبْحًا، فَإِنَّمَا هِيَ جَزْرَةٌ أَطْعَمَهُ أَهْلَهُ، إِنَّمَا الذَّبْحُ بَعْدَ الصَّلَاةِ" . فَقَامَ إِلَيْهِ خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ، فَقَالَ: أَنَا عَجَّلْتُ ذَبْحَ شَاتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ لِيُصْنَعَ لَنَا طَعَامٌ نَجْتَمِعُ عَلَيْهِ إِذَا رَجَعْنَا، وَعِنْدِي جَذَعَةٌ مِنْ مَعْزٍ، هِيَ أَوْفَى مِنَ الَّذِي ذَبَحْتُ، أَفَتُغْنِي عَنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَلَنْ تُغْنِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ" . قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" يَا بِلَالُ"، قَالَ: فَمَشَى، وَاتَّبَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى النِّسَاءَ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ النِّسْوَانِ، تَصَدَّقْنَ، الصَّدَقَةُ خَيْرٌ لَكُنَّ" . قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ أَكْثَرَ خَدَمَةً مَقْطُوعَةً، وَقِلَادَةً وَقُرْطًا مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی کہ عیدالاضحی کے موقع پر ہم لوگ عیدگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو سلام کیا اور فرمایا کہ آج کی سب سے پہلی عبادت نماز ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آگے بڑھ کردو رکعتیں پڑھادیں اور سلام پھیر کر اپنارخ انور لوگوں کی طرف کرلیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک کمان یا لاٹھی پیش کی گئی جس سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ٹیک لگائی اللہ کی حمد وثناء بیان کی اور کچھ اوامرو نواہی بیان کئے اور فرمایا تم میں سے جس شخص نے نماز سے پہلے جانور ذبح کرلیا ہو تو وہ صرف ایک جانور ہے جو اس نے اپنے اہل خانہ کو کھلا دیا قربانی تو نماز کے بعد ہوتی ہے۔ یہ سن کر میرے ماموں حضرت ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں نے اپنی بکری نماز سے پہلے ذبح کرلی تھی تاکہ جب ہم واپس جائیں تو کھانا تیار ہو اور ہم اکٹھے بیٹھ کر کھالیں البتہ میرے پاس بکری کا ایک چھ ماہ کا بچہ ہے جو اس بکری سے زیادہ صحت مند ہے جسے میں ذبح کرچکا ہوں کیا وہ میری طرف سے کافی ہوجائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! لیکن تمہارے علاوہ کسی کی طرف سے کافی نہیں ہوگا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو آواز دی اور وہ چل پڑے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ان کے پیچھے چل پڑے یہاں تک کہ عورتوں کے پاس پہنچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے گروہ نسواں! صدقہ کیا کرو کہ تمہارے حق میں صدقہ کرنا ہی سب سے بہتر ہے حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ پازیبیں، ہار اور بالیاں کبھی نہیں دیکھیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18490]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 955، م: 1961 بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبى جناب
الحكم: حديث صحيح، خ: 955، م: 1961 بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبى جناب
حدیث نمبر: 18491 مسند احمد
أَبُو الْوَلِيدِ ، وَعَفَّانُ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ ، إِيَادُ بْنُ لَقِيطٍ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ ، قَال: حَدَّثَنَا إِيَادُ بْنُ لَقِيطٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَجَدْتَ، فَضَعْ كَفَّيْكَ، وَارْفَعْ مِرْفَقَيْكَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم سجدہ کیا کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر رکھ لیا کرو اور اپنے بازواوپر اٹھا کر رکھا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18491]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 494
الحكم: إسناده صحيح، م: 494
حدیث نمبر: 18492 مسند احمد
أبو الوليد ، وعفان ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ ، إِيَادٌ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ
حدثنا أبو الوليد ، وعفان ، قالا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِيَادٌ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ تَقُولُونَ بِفَرَحِ رَجُلٍ انْفَلَتَتْ مِنْهُ رَاحِلَتُهُ، تَجُرُّ زِمَامَهَا بِأَرْضٍ قَفْرٍ، لَيْسَ فِيهَا طَعَامٌ وَلَا شَرَابٌ، وَعَلَيْهَا طَعَامٌ قَالَ عَفَّانُ: وَشَرَابٌ، فَطَلَبَهَا، حَتَّى شَقَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ مَرَّتْ بِجِذْلِ شَجَرَةٍ قَالَ عَفَّانُ: بِجِذْلٍ فَتَعَلَّقَ زِمَامُهَا، فَوَجَدَهَا مُعَلَّقَةً بِهِ قَالَ عَفَّانُ: مُتَعَلِّقَةً بِهِ". قَالَ: قُلْنَا: شَدِيدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا وَاللَّهِ، لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنَ الرَّجُلِ بِرَاحِلَتِهِ" . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وحَدَّثَنَاه جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ ، مِثْلَهُ.
حدیث نمبر: 18493 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: " مَا كُلُّ الْحَدِيثِ سَمِعْنَاهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُحَدِّثُنَا أَصْحَابُنَا عَنْهُ، كَانَتْ تَشْغَلُنَا عَنْهُ رَعِيَّةُ الْإِبِلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ساری حدیثیں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی سے نہیں سنیں ہمارے ساتھی بھی ہم سے احادیث بیان کرتے تھے اونٹوں کو چرانے کی وجہ سے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بہت زیادہ حاضر نہیں ہوپاتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18493]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2746
الحكم: إسناده صحيح، م: 2746
حدیث نمبر: 18494 مسند احمد
حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الْأَعْمَشِ ، طَلْحَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قرآن کریم کو اپنی آواز سے مزین کیا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18494]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: معلقاً قبل الحديث: 7544
الحكم: إسناده صحيح، خ: معلقاً قبل الحديث: 7544
حدیث نمبر: 18495 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مِنَ الْحَقِّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَنْ يَغْتَسِلَ وَيَمَسَّ طِيبًا إِنْ وَجَدَ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ طِيبًا، فَالْمَاءُ طِيبٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمانوں پر یہ حق ہے کہ ان میں سے ہر ایک جمعہ کے دن غسل کرے خوشبو لگائے بشرطیکہ موجود بھی ہو اگر خوشبو نہ ہو تو پانی ہی بہت پاک کرنے والا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18495]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: فإن لم يجد طيباً فالماء طيب ، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
الحكم: حديث صحيح دون قوله: فإن لم يجد طيباً فالماء طيب ، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 18496 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، زُهَيْرٌ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَوَّلَ مَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ، نَزَلَ عَلَى أَجْدَادِهِ وَأَخْوَالِهِ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَنَّهُ صَلَّى قِبَلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَكَانَ " يُعْجِبُهُ أَنْ تَكُونَ قِبْلَتُهُ قِبَلَ الْبَيْتِ، وَأَنَّهُ صَلَّى أَوَّلَ صَلَاةٍ صَلَّاهَا صَلَاةَ الْعَصْرِ، وَصَلَّى مَعَهُ قَوْمٌ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ صَلَّى مَعَهُ، فَمَرَّ عَلَى أَهْلِ مَسْجِدٍ، وَهُمْ رَاكِعُونَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ بِاللَّهِ، لَقَدْ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ مَكَّةَ. قَالَ: فَدَارُوا كَمَا هُمْ قِبَلَ الْبَيْتِ، وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يُحَوَّلَ قِبَلَ الْبَيْتِ، وَكَانَ الْيَهُودُ قَدْ أَعْجَبَهُمْ إِذْ كَانَ يُصَلِّي قِبَلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَأَهْلُ الْكِتَابِ، فَلَمَّا وَلَّى وَجْهَهُ قِبَلَ الْبَيْتِ، أَنْكَرُوا ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو سب سے پہلے اپنے ننہیال میں قیام فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سولہ (یاسترہ) مہینے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی جبکہ آپ کی خواہش یہ تھی کہ قبلہ بیت اللہ کی جانب ہو اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف رخ کرکے سب سے پہلی جو نماز پڑھی وہ نماز عصر تھی جس میں کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ شریک تھے ان ہی میں سے ایک آدمی باہر نکلا تو کسی مسجد کے قریب سے گذرا جہاں نمازی بیت المقدس کی طرف رخ کرکے رکوع کی حالت میں تھے اس نے کہا کہ میں اللہ کے نام پر گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ کی جانب رخ کرکے نماز پڑھی ہے چناچہ وہ لوگ اسی حال میں بیت اللہ کی جانب گھوم گئے الغرض! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خواہش یہ تھی کہ آپ کا رخ بیت اللہ کی طرف دیا جائے کیونکہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے تو یہودی اور تمام اہل کتاب اس سے بہت خوش ہوتے تھے اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف اپنا رخ پھیرلیا تو وہ انہیں ناگوار گذرا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18496]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 40، م: 525
الحكم: إسناده صحيح، خ: 40، م: 525
حدیث نمبر: 18497 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، جَابِرٍ ، عَامِرٍ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ، وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَقَالَ:" إِنَّ لَهُ فِي الْجَنَّةِ مَنْ يُتِمُّ رَضَاعَهُ، وَهُوَ صِدِّيق" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی جن کا انتقال صرف سولہ مہینے کی عمر میں ہوگیا تھا اور فرمایا جنت میں ان کے لئے دائی کا مقرر کی گئی ہے جوان کی مدت رضاعت کی تکمیل کرے گی اور وہ صدیق ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18497]
حکم دارالسلام
قوله: إن له فى الجنة من يتم رضاعه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي
الحكم: قوله: إن له فى الجنة من يتم رضاعه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 18498 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: " مَا كُلُّ مَا نُحَدِّثُكُمُوهُ سَمِعْنَاهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ حَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا، وَكَانَتْ تَشْغَلُنَا رَعِيَّةُ الْإِبِلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ساری حدیثیں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی سے نہیں سنیں ہمارے ساتھی بھی ہم سے احادیث بیان کرتے تھے اونٹوں کو چرانے کی وجہ سے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بہت زیادہ حاضر نہیں ہوپاتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18498]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18499 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ ، غَيْرِهِ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ أَوْ غَيْرِهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِالْعَبَّاسِ قَدْ أَسَرَهُ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ هَذَا أَسَرَنِي، أَسَرَنِي رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنْزِعُ مِنْ هَيْئَتِهِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ: " لَقَدْ آزَرَكَ اللَّهُ بِمَلَكٍ كَرِيمٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری آدمی حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو (غزوہ بدر کے موقع پر ') قیدی بنا کر لایا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے یاسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مجھے اس شخص نے قید نہیں کیا مجھے تو ایک دوسرے آدمی نے قید کیا ہے جس کی ہیئت میں سے فلاں فلاں چیزیاد ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا اللہ نے ایک معزز فرشتے کے ذریعے تمہاری مدد فرمائی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18499]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لتفرد أبى أحمد عن سفيان، وهو كثير الخطأ عنه ، وأبو إسحاق لم يجزم بروايته عن البراء، فقال: أو غيره
الحكم: إسناده ضعيف لتفرد أبى أحمد عن سفيان، وهو كثير الخطأ عنه ، وأبو إسحاق لم يجزم بروايته عن البراء، فقال: أو غيره
حدیث نمبر: 18500 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُحِبُّ الْأَنْصَارَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ، مَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللَّهُ" . قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لِعَدِيٍّ: أَنْتَ سَمِعْتَ مِنَ الْبَرَاءِ؟ قَالَ: إِيَّايَ يُحَدِّثُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انصار سے وہی محبت کرے گا جو مؤمن ہو اور ان سے وہی بغض رکھے گا جو منافق ہو جو ان سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرے اور جوان سے نفرت کرے اللہ اس سے نفرت کرے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18500]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3783، م: 75
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3783، م: 75
حدیث نمبر: 18501 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ حَامِلًا الْحَسَنَ، فَقَالَ: " إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر رکھا تھا اور فرما رہے تھے میں اس سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18501]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3749، م: 2422
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3749، م: 2422
حدیث نمبر: 18502 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِإِبْرَاهِيمَ مُرْضِعٌ فِي الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے لئے جنت میں دودھ پلانے والی عورت کو انتظام کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18502]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1382
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1382
حدیث نمبر: 18503 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ، " فَقَرَأَ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ ب التِّينِ وَالزَّيْتُونِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک سفر میں تھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عشاء کی ایک رکعت میں سورت والتین کی تلاوت فرمائی [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18503]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 767، م: 464
الحكم: إسناده صحيح، خ: 767، م: 464
حدیث نمبر: 18504 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، الْأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ، قَالَ: فَذَكَرَ مَا أَمَرَهُمْ مِنْ: عِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَرَدِّ السَّلَامِ، وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَنَهَانَا عَنْ آنِيَةِ الْفِضَّةِ، وَعَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ أَوْ قَالَ: حَلْقَةِ الذَّهَبِ، وَالْإِسْتَبْرَقِ، وَالْحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، وَالْمِيثَرَةِ، وَالْقَسِّيِّ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں سے منع کیا ہے پھر انہوں نے حکم والی چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے مریض کی بیمار پرسی کا تذکرہ کیا نیز یہ کہ جنازے کے ساتھ جاناچھینکنے والے کو جواب دینا سلام کا جواب دینا قسم کھانے والے کو سچا کرنا، دعوت کو قبول کرنا مظلوم کی مدد کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں چاندی کے برتن سونے کی انگوٹھی، استبرق، حریر، دیباج (تینوں ریشم کے نام ہیں) سرخ خوان پوش سے اور ریشمی کتان سے منع فرمایا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18504]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1239، م: 2066
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1239، م: 2066
حدیث نمبر: 18505 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ".
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6654، م: 2066
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6654، م: 2066
حدیث نمبر: 18506 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مُعَاذٌ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، أَبِي إِسْحَاقَ الْكُوفِيِّ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْكُوفِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ، وَالْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَّ صَوْتِهِ، وَيُصَدِّقُهُ مَنْ سَمِعَهُ مِنْ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ صَلَّى مَعَهُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا صف اول کے لوگوں پر اللہ تعالیٰ نزول رحمت اور فرشتے دعاء رحمت کرتے رہتے ہیں اور مؤذن کی آواز جہاں تک جاتی ہے اور جو بھی خشک یا تر چیز اسے سنتی ہے تو اس کی تصدیق کرتی ہے اور اس کی برکت سے مؤذن کی مغفرت کردی جاتی ہے اور اسے ان لوگوں کا اجر بھی ملتا ہے جو اس کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18506]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: وله مثل أجر من صلى معه ، وهذا إسناد ضعيف، قتادة مدلس، وقد عنعن، وفي سماعه من أبى إسحاق نظر
الحكم: حديث صحيح دون قوله: وله مثل أجر من صلى معه ، وهذا إسناد ضعيف، قتادة مدلس، وقد عنعن، وفي سماعه من أبى إسحاق نظر
حدیث نمبر: 18507 مسند احمد
عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ ، مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ بِإِسْنَادِهِ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، قتادة مدلس وقد عنعن، ولعل الراجح أنه لم يسمع من أبى إسحاق
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، قتادة مدلس وقد عنعن، ولعل الراجح أنه لم يسمع من أبى إسحاق