بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 244
صفحہ 7 از 13
حدیث نمبر: 18589 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَبُو بَكْرٍ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْكَلَالَةِ، فَقَالَ: " تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور " کلالہ " کے متعلق سوال پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس سلسلے میں تمہارے لئے موسم گرما میں نازل ہونے والی آیت ہی کافی ہے (سورۃ النساء کی آخری آیت کی طرف اشارہ ہے) [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18589]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، سماع أبى بكر من أبى إسحاق ليس بذاك القوي
الحكم: إسناده ضعيف، سماع أبى بكر من أبى إسحاق ليس بذاك القوي
حدیث نمبر: 18590 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَجْلِسِ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: " إِنْ أَبَيْتُمْ إِلَّا أَنْ تَجْلِسُوا، فَاهْدُوا السَّبِيلَ، وَرُدُّوا السَّلَامَ، وَأَعِينُوا الْمَظْلُومَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کچھ انصاری حضرات کے پاس سے گذرے اور فرمایا کہ اگر تمہارا راستے میں بیٹھے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے تو سلام پھیلایا کرو، مظلوم کی مدد کیا کرو اور راستہ بتایا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18590]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، إسناده منقطع، أبو إسحاق لم يسمع هذا الحديث من البراء
الحكم: حديث صحيح، إسناده منقطع، أبو إسحاق لم يسمع هذا الحديث من البراء
حدیث نمبر: 18591 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَقْرَأُ فِي دَارِهِ سُورَةَ الْكَهْفِ، وَإِلَى جَانِبِهِ حِصَانٌ لَهُ مَرْبُوطٌ بِشَطَنَيْنِ، حَتَّى غَشِيَتْهُ سَحَابَةٌ، فَجَعَلَتْ تَدْنُو وَتَدْنُو، حَتَّى جَعَلَ فَرَسُهُ يَنْفِرُ مِنْهَا، قَالَ الرَّجُلُ: فَعَجِبْتُ لِذَلِكَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، وَقَصَّ عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تِلْكَ السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص سورت کہف پڑھ رہا تھا گھر میں کوئی جانور (گھوڑا) بھی بندھا ہوا تھا اچانک وہ بدکنے لگا اس شخص نے دیکھا تو ایک بادل یا سائبان تھا جس نے اسے ڈھانپ رکھا تھا اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے فلاں! پڑھتے رہا کرو کہ یہ سکینہ تھا جو قرآن کریم کی تلاوت کے وقت اترتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18591]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5011، م: 795
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5011، م: 795
حدیث نمبر: 18592 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقَنَّعًا فِي الْحَدِيدِ، قَالَ: أُقَاتِلُ أَوْ أُسْلِمُ؟ قَالَ:" بَلْ أَسْلِمْ، ثُمَّ قَاتِلْ". فَأَسْلَمَ، ثُمَّ قَاتَلَ، فَقُتِلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَمِلَ هَذَا قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک انصاری آیا جو لوہے میں غرق تھا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں پہلے اسلام قبول کروں یا پہلے جہاد میں شریک ہوجاؤں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پہلے اسلام قبول کرلو پھر جہاد میں شریک ہوجاؤ چناچہ اس نے ایسا ہی کیا اور اس جہاد میں شہید ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس نے عمل تو تھوڑا کیا لیکن اجربہت لے گیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18592]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2808، م: 1900
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2808، م: 1900
حدیث نمبر: 18593 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، زُهَيْرٌ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرُّمَاةِ يَوْمَ أُحُدٍ وَكَانُوا خَمْسِينَ رَجُلًا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ: وَوَضَعَهُمْ مَوْضِعًا، وَقَالَ:" إِنْ رَأَيْتُمُونَا تَخْطَفُنَا الطَّيْرُ، فَلَا تَبْرَحُوا حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ، وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا ظَهَرْنَا عَلَى الْعَدُوِّ وَأَوْطَأْنَاهُمْ، فَلَا تَبْرَحُوا حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ". قَالَ: فَهَزَمُوهُمْ، قَالَ: فَأَنَا وَاللَّهِ رَأَيْتُ النِّسَاءَ يَشْتَدِدْنَ عَلَى الْجَبَلِ، وَقَدْ بَدَتْ أَسْوُقُهُنَّ وَخَلَاخِلُهُنَّ، رَافِعَاتٍ ثِيَابَهُنَّ، فَقَالَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرٍ: الْغَنِيمَةَ أَيْ قَوْمُ الْغَنِيمَةَ، ظَهَرَ أَصْحَابُكُمْ فَمَا تَنْظُرُونَ؟ فقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جُبَيْرٍ: أَنَسِيتُمْ مَا قَالَ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: إِنَّا وَاللَّهِ لَنَأْتِيَنَّ النَّاسَ، فَلَنُصِيبَنَّ مِنَ الْغَنِيمَةِ، فَلَمَّا أَتَوْهُمْ، صُرِفَتْ وُجُوهُهُمْ، فَأَقْبَلُوا مُنْهَزِمِينَ، فَذَلِكَ الَّذِي يَدْعُوهُمْ الرَّسُولُ فِي أُخْرَاهُمْ، فَلَمْ يَبْقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا، فَأَصَابُوا مِنَّا سَبْعِينَ رَجُلًا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ أَصَابَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ بَدرٍ أَرْبَعِينَ وَمِائَةً سَبْعِينَ أَسِيرًا، وَسَبْعِينَ قَتِيلًا، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: أَفِي الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ؟ أَفِي الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ؟ أَفِي الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ؟ ثَلَاثًا، فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجِيبُوهُ، ثُمَّ قَالَ: أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ؟ أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ؟ أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ الْخَطَّابِ؟ أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ الْخَطَّابِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: أَمَّا هَؤُلَاءِ، فَقَدْ قُتِلُوا وَقَدْ كُفِيتُمُوهُمْ، فَمَا مَلَكَ عُمَرُ نَفْسَهُ أَنْ قَالَ: كَذَبْتَ وَاللَّهِ يَا عَدُوَّ اللَّهِ، إِنَّ الَّذِينَ عَدَدْتَ لَأَحْيَاءٌ كُلُّهُمْ، وَقَدْ بَقِيَ لَكَ مَا يَسُوءُكَ، فَقَالَ: يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ، وَالْحَرْبُ سِجَالٌ، إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ فِي الْقَوْمِ مُثْلَةً لَمْ آمُرْ بِهَا، وَلَمْ تَسُؤْنِي، ثُمَّ أَخَذَ يَرْتَجِزُ اعْلُ هُبَلُ، اعْلُ هُبَلُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا تُجِيبُونَهُ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا نَقُولُ؟ قَالَ:" قُولُوا: اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ". قَالَ: إِنَّ الْعُزَّى لَنَا، وَلَا عُزَّى لَكُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا تُجِيبُونَهُ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا نَقُولُ؟ قَالَ:" قُولُوا: اللَّهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلَى لَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پچاس تیر اندازوں پر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو مقرر کردیا تھا اور انہیں ایک جگہ پر متعین کرکے فرما دیا اگر تم ہمیں اس حال میں دیکھو کہ ہمیں پرندے اچک کرلے جارہے ہیں تب بھی تم اپنی جگہ سے اس وقت تک نہ ہلنا جب تک میں تمہارے پاس پیغام نہ بھیج دوں اور اگر تم ہمیں اس حال میں دیکھو کہ ہم دشمن پر غالب آگئے ہیں اور ہم نے انہیں روند دیا ہے تب بھی تم اپنی جگہ سے اس وقت تک نہ ہلنا جب تک میں تمہارے پاس پیغام نہ بھیج دوں۔ چناچہ جنگ میں مشرکین کو شکست ہوگئی بخدا! میں نے عورتوں کو تیزی سے پہاڑوں پر چڑھتے ہوئے دیکھا ان کی پنڈلیاں اور پازیبیں نظر آرہی تھیں اور انہوں نے اپنے کپڑے اوپر کر رکھے تھے یہ دیکھ کر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھی کہنے لگے لوگو! مال غنیمت تمہارے ساتھی غالب آگئے اب تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟ حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم وہ بات فراموش کررہے ہو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تم سے فرمائی تھی؟ وہ کہنے لگے کہ ہم تو ان کے پاس ضرور جائیں گے تاکہ ہم بھی مال غنیمت اکٹھا کرسکیں۔ جب وہ ان کے پاس پہنچے تو ان پر پیچھے سے حملہ ہوگیا اور وہ شکست کھا کر بھاگ گئے یہ وہی وقت تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں پیچھے سے آوازیں دیتے رہ گئے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سوائے بارہ آدمیوں کے کوئی نہ بچا اور ہمارے ستر آدمی شہید ہوگئے غزوہ بدر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہ نے مشرکین کے ایک سوچالیس آدمیوں کا نقصان کیا تھا جن میں سے ستر قتل ہوئے اور ستر قید ہوگئے تھے۔ اس وقت کے سالار مشرکین ابوسفیان نے فتح پانے کے بعد تین مرتبہ پوچھا کہ کیا لوگوں میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو جواب دینے سے منع کردیا پھر اس نے دو دو مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا نام لے کر یہی سوال کیا پھر اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا کہ یہ سب تو مارے گئے ہیں اور اب ان سے تمہاری جان چھوٹ گئی ہے اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے اور کہنے لگے بخدا! اے دشمن خدا! تو جھوٹ بولتا ہے تو نے جتنے نام گنوائے ہیں وہ سب کے سب زندہ ہیں اور اب تیرے لئے پریشان کن خبر رہ گئی ہے ابوسفیان کہنے لگا کہ یہ جنگ بدر کا بدلہ ہے اور جنگ تو ایک ڈول کی طرح ہے تم لوگ اپنی جماعت کے کچھ لوگوں کے اعضاء جسم کٹے ہوئے دیکھو گے میں نے اس کا حکم نہیں دیا تھا اور مجھے یہ بات بری بھی نہیں لگی پھر وہ " ہبل کی جے " کے نعرے لگانے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اسے جواب کیوں نہیں دیتے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا جواب دیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یوں کہو کہ اللہ بلندو برتر اور بزرگ ہے پھر ابوسفیان نے کہا کہ ہمارے پاس عزیٰ ہے جبکہ تمہارا کوئی عزیٰ نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اسے جواب کیوں نہیں دیتے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! ہم کیا جواب دیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یوں کہو اللہ ہمارا مولیٰ ہے جبکہ تمہارا کوئی مولیٰ نہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18593]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3039
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3039
حدیث نمبر: 18594 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، زُهَيْرٌ ، أَبُو بَلْجٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، أَبُو الْحَكَمِ عَلِيٌّ الْبَصْرِيُّ ، أَبِي بَحْرٍ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَلْجٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْحَكَمِ عَلِيٌّ الْبَصْرِيُّ ، عَن أَبِي بَحْرٍ ، عَن الْبَرَاءِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا مُسْلِمَيْنِ الْتَقَيَا، فَأَخَذَ أَحَدُهُمَا بِيَدِ صَاحِبِهِ، ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ، تَفَرَّقَا لَيْسَ بَيْنَهُمَا خَطِيئَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے جدا ہونے سے پہلے ان کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18594]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: ثم حمد الله ، وهذا إسناد ضعيف، فيه جهالة واضطراب، فقد اختلف فيه على أبى بلج يحيى بن أبى سليم
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: ثم حمد الله ، وهذا إسناد ضعيف، فيه جهالة واضطراب، فقد اختلف فيه على أبى بلج يحيى بن أبى سليم
حدیث نمبر: 18595 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، غَيْرُهُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ أَوْ غَيْرُهُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن الْبَرَاءِ ، قَالَ: أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبٌ حَرِيرٌ، فَجَعَلْنَا نَلْمِسُهُ وَنَعْجَبُ مِنْهُ، وَنَقُولُ مَا رَأَيْنَا ثَوْبًا خَيْرًا مِنْهُ وَأَلْيَنَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُعْجِبُكُمْ هَذَا؟" قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: " لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا وَأَلْيَنُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی کپڑا پیش کیا گیا لوگ اس کی خوبصورتی اور نرمی پر تعجب کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے کہیں افضل اور بہتر ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18595]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3249، م: 2468
الحكم: حديث صحيح، خ: 3249، م: 2468
حدیث نمبر: 18596 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، بُرْدٍ ، الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَكَتَبَ بِهِ إِلَيَّ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ بُرْدٍ أَخِي يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَن الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً حَتَّى يُصَلِّيَ عَلَيْهَا، كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ قِيرَاطٌ، وَمَنْ مَشَى مَعَ الْجِنَازَةِ حَتَّى تُدْفَنَ وَقَالَ مَرَّةً: حَتَّى يُدْفَنَ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ قِيرَاطَانِ، وَالْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جنازے کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ میں شریک ہو اسے ایک قیراط ثواب ملے گا اور جو شخص دفن ہونے تک جنازے کے ساتھ رہے تو اسے دو قیراط ثواب ملے گا اور ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18596]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18597 مسند احمد
صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيُّ ، وَأَبُو مَعْمَرٍ ، عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو زُبَيْدٍ ، بُرْدٍ ، الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، الْبَرَاءِ
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدَّثَنَاه صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيُّ ، وَأَبُو مَعْمَرٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو زُبَيْدٍ ، عَن بُرْدٍ أَخِي يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَن الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَن الْبَرَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18598 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَن هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ:" رَمَقْتُ الصَّلَاةَ مَعَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْتُ قِيَامَهُ، فَرَكْعَتَهُ، فَاعْتِدَالَهُ بَعْدَ الرَّكْعَةِ، فَسَجْدَتَهُ، فَجِلْسَتَهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، فَجِلْسَتَهُ بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَمَا بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَالِانْصِرَافِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کا شرف حاصل کیا ہے میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا قیام، رکوع کے بعد اعتدال، سجدہ، دو سجدوں کے درمیان جلسہ، قعدہ اخیرہ اور سلام پھیرنے سے واپس جانے کا درمیانی وقفہ تقریباً برابر ہی پایا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18598]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 792، م: 471
الحكم: إسناده صحيح، خ: 792، م: 471
حدیث نمبر: 18599 مسند احمد
عَفَّانُ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ ، إِيَادٌ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ ، حَدَّثَنَا إِيَادٌ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَجَدْتَ، فَضَعْ كَفَّيْكَ، وَارْفَعْ مِرْفَقَيْكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم سجدہ کیا کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر رکھ لیا کرو اور اپنے بازواوپر اٹھا کر رکھا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18599]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 494
الحكم: إسناده صحيح، م: 494
حدیث نمبر: 18600 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرُّمَاةِ وَكَانُوا خَمْسِينَ رَجُلًا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ يَوْمَ أُحُدٍ، وَقَالَ: " إِنْ رَأَيْتُمْ الْعَدُوَّ وَرَأَيْتُمْ الطَّيْرَ تَخْطَفُنَا، فَلَا تَبْرَحُوا". فَلَمَّا رَأَوْا الْغَنَائِمَ، قَالُوا: عَلَيْكُمْ الْغَنَائِمَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَبْرَحُوا؟ قَالَ غَيْرُهُ: فَنَزَلَتْ: وَعَصَيْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا أَرَاكُمْ مَا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 152 ، يَقُولُ: عَصَيْتُمْ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا أَرَاكُمْ الْغَنَائِمَ وَهَزِيمَةَ الْعَدُوِّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پچاس تیر اندازوں پر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو مقرر کردیا تھا اور انہیں ایک جگہ پر متعین کرکے فرما دیا اگر تم ہمیں اس حال میں دیکھو کہ ہمیں پرندے اچک کرلے جارہے ہیں تب بھی تم اپنی جگہ سے اس وقت تک نہ ہلنا جب تک میں تمہارے پاس پیغام نہ بھیج دوں اور اگر تم ہمیں اس حال میں دیکھو کہ ہم دشمن پر غالب آگئے ہیں اور ہم نے انہیں روند دیا ہے تب بھی تم اپنی جگہ سے اس وقت تک نہ ہلناجب تک میں تمہارے پاس پیغام نہ بھیج دوں۔ لیکن جب انہوں نے مال غنیمت کو دیکھا تو کہنے لگے لوگو! مال غنیمت، حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم وہ بات فراموش کررہے ہو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تم سے فرمائی تھی؟ انہوں نے ان کی بات نہیں مانی چناچہ یہ آیت نازل ہوئی تم نے جب اپنی پسندیدہ چیزیں دیکھیں تو نافرمانی کرنے لگے یعنی مال غنیمت اور دشمن کی شکست کو دیکھ کر تم نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حکم نہ مانا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18600]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3039
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3039
حدیث نمبر: 18601 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو رَجَاءٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَاقِدٍ الْهَرَوِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ مَالِكٍ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الْمَعْنَى، قَالاَ: حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَاقِدٍ الْهَرَوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَالِكٍ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ بَصُرَ بِجَمَاعَةٍ، فَقَالَ:" عَلَامَ اجْتَمَعَ عَلَيْهِ هَؤُلَاءِ؟" قِيلَ: عَلَى قَبْرٍ يَحْفِرُونَهُ. قَالَ: فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَدَرَ بَيْنَ يَدَيْ أَصْحَابِهِ مُسْرِعًا حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْقَبْرِ، فَجَثَا عَلَيْهِ، قَالَ: فَاسْتَقْبَلْتُهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ لِأَنْظُرَ مَا يَصْنَعُ، فَبَكَى حَتَّى بَلَّ الثَّرَى مِنْ دُمُوعِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، قَالَ:" أَيْ إِخْوَانِي، لِمِثْلِ الْيَوْمِ فَأَعِدُّوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جارہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نظر کچھ لوگوں پر پڑگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ یہ لوگ کیسے جمع ہیں؟ بتایا گیا کہ قبر کھود رہے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تیزی سے آگے بڑھے اور اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گئے یہاں تک کہ قبر کے قریب پہنچ گئے اور اس پر جھک گئے میں بھی یہ دیکھنے کے لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا کرتے ہیں، تیزی سے آگے نکل گیا وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رو رہے تھے یہاں تک کہ آنسوؤں سے مٹی گیلی ہوگئی پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا بھائیو! اس دن کے لئے تیاری کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18601]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف محمد بن مالك
الحكم: إسناده ضعيف لضعف محمد بن مالك
حدیث نمبر: 18602 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبُو رَجَاءٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ مَالِكٍ ، الْبَرَاءُ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلَى الْبَرَاءِ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَكَانَ النَّاسُ يَقُولُونَ لَهُ: لِمَ تَخَتَّمُ بِالذَّهَبِ وَقَدْ نَهَى عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ الْبَرَاءُ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ غَنِيمَةٌ يَقْسِمُهَا سَبْيٌ وَخُرْثِيٌّ، قَالَ: فَقَسَمَهَا حَتَّى بَقِيَ هَذَا الْخَاتَمُ، فَرَفَعَ طَرْفَهُ، فَنَظَرَ إِلَى أَصْحَابِهِ، ثُمَّ خَفَّضَ، ثُمَّ رَفَعَ طَرْفَهُ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ، ثُمَّ خَفَّضَ، ثُمَّ رَفَعَ طَرْفَهُ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ:" أَيْ بَرَاءُ" فَجِئْتُهُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَخَذَ الْخَاتَمَ فَقَبَضَ عَلَى كُرْسُوعِي، ثُمَّ قَالَ:" خُذْ الْبَسْ مَا كَسَاكَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ" . قَالَ: وَكَانَ الْبَرَاءُ يَقُولُ: كَيْفَ تَأْمُرُونِي أَنْ أَضَعَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَسْ مَا كَسَاكَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی لوگ ان سے کہہ رہے تھے کہ آپ نے سونے کی انگوٹھی کیوں پہن رکھی ہے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی ممانعت فرمائی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حاضر تھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے مال غنیمت کا ڈھیر تھا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تقسیم فرما رہے تھے ان میں قیدی بھی تھے اور معمولی چیزیں بھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ سب چیزیں تقسیم فرمادیں یہاں تک کہ یہ انگوٹھی رہ گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نظر اٹھا کر اپنے ساتھیوں کو دیکھا پھر نگاہیں جھکالیں تین مرتبہ ایساہی ہوا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا نام لے کر پکارا میں آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ انگوٹھی پکڑی اور میری چھنگلیا کا گٹے کی طرف سے حصہ پکڑ کر فرمایا یہ لو اور پہن لو جو تمہیں اللہ اور رسول پہنادیں تو تم مجھے کس طرح اسے اتارنے کا کہہ رہے ہو جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں جو پہنا رہے ہیں اسے پہن لو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18602]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف محمد بن مالك، وفي متنه نكارة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف محمد بن مالك، وفي متنه نكارة
حدیث نمبر: 18603 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، أَبَا بَكْرِ بْنَ أَبِي مُوسَى ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ أَبِي مُوسَى يُحَدِّثُ، عَنِ الْبَرَاءِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ". قَالَ شُعْبَةُ: هَذَا أَوْ نَحْوَ هَذَا الْمَعْنَى، وَإِذَا نَامَ قَالَ:" اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا، وَبِاسْمِكَ أَمُوتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بیدار ہوتے تو یوں کہتے " اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں موت دینے کے بعد زندگی دی اور اسی کے پاس جمع ہونا ہے اور جب سوتے تو یوں کہتے اے اللہ! میں تیرے ہی نام سے جیتا ہوں اور تیرے ہی نام پر مرتا ہوں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18603]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2711
الحكم: إسناده صحيح، م: 2711
حدیث نمبر: 18604 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، الْحُسَيْنُ يَعْنِي ابْنَ وَاقِدٍ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ يَعْنِي ابْنَ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ عَلَى أَلْيَتَيْ الْكَفِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہتھیلی کے باطنی حصے کو زمین پر ٹیک کر سجدہ فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18604]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف وروي مرفوعا وموقوفاً، والصحيح وقفه، أبو إسحاق مختلط ، ولا يدري أسمع الحسن بن واقد منه قبل الاختلاط أم بعده ؟ ثم إن أبا إسحاق خولف
الحكم: إسناده ضعيف وروي مرفوعا وموقوفاً، والصحيح وقفه، أبو إسحاق مختلط ، ولا يدري أسمع الحسن بن واقد منه قبل الاختلاط أم بعده ؟ ثم إن أبا إسحاق خولف
حدیث نمبر: 18605 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، فُلَيْحٌ ، صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَبِي بُسْرَةَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَن صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَن أَبِي بُسْرَةَ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: " غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً، فَمَا رَأَيْتُهُ تَرَكَ رَكْعَتَيْنِ حِينَ تَمِيلُ الشَّمْسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ جہاد کے دس سے زیادہ سفر کئے ہیں میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کبھی بھی ظہر سے پہلے دو رکعتیں چھوڑتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18605]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، راجع ما قبله
الحكم: إسناده ضعيف، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 18606 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَن الزُّهْرِيِّ ، عَن حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ نَاقَةٌ ضَارِيَةٌ، فَدَخَلَتْ حَائِطًا فَأَفْسَدَتْ فِيهِ،" فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ حِفْظَ الْحَوَائِطِ بِالنَّهَارِ عَلَى أَهْلِهَا، وَأَنَّ حِفْظَ الْمَاشِيَةِ بِاللَّيْلِ عَلَى أَهْلِهَا، وَأَنَّ مَا أَصَابَتْ الْمَاشِيَةُ بِاللَّيْلِ، فَهُوَ عَلَى أَهْلِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک اونٹنی بہت تنگ کرنے والی تھی ایک مرتبہ اس نے کسی باغ میں داخل ہو کر اس میں کچھ نقصان کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا فیصلہ یہ فرمایا کہ دن کے وقت باغ کی حفاظت مالک کے ذمے ہے اور جانوروں کی حفاظت رات کے وقت ان کے مالکوں کے ذمے ہے اور جو جانور رات کے وقت کوئی نقصان کردے اس کا تاوان جانور کے مالک پر ہوگا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18606]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، حرام اين محيصة لم يسمع البراء بن عازب
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، حرام اين محيصة لم يسمع البراء بن عازب
حدیث نمبر: 18607 مسند احمد
مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، الْحَجَّاجُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَلَالَةِ، فَقَالَ: " تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور " کلالہ " کے متعلق سوال پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس سلسلے میں تمہارے لئے موسم گرما میں نازل ہونے والی آیت ہی کافی ہے (سورۃ النساء کی آخری آیت کی طرف اشارہ ہے) [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18607]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف حجاج، ثم إنه لا يدري أسمع من أبى إسحاق قبل الاختلاط أم بعده ؟
الحكم: إسناده ضعيف لضعف حجاج، ثم إنه لا يدري أسمع من أبى إسحاق قبل الاختلاط أم بعده ؟
حدیث نمبر: 18608 مسند احمد
أَسْبَاطٌ ، مُطَرِّفٌ ، أَبِي الْجَهْمِ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
قال: حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَن أَبِي الْجَهْمِ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ:" إِنِّي لَأَطُوفُ عَلَى إِبِلٍ ضَلَّتْ لِي فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنَا أَجُولُ فِي أَبْيَاتٍ، فَإِذَا أَنَا بِرَكْبٍ وَفَوَارِسَ، إِذْ جَاءوا، فَطَافُوا بِفِنَائِي، فَاسْتَخْرَجُوا رَجُلًا، فَمَا سَأَلُوهُ وَلَا كَلَّمُوهُ، حَتَّى ضَرَبُوا عُنُقَهُ، فَلَمَّا ذَهَبُوا سَأَلْتُ عَنْهُ، فَقَالُوا: عَرَّسَ بِامْرَأَةِ أَبِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ میرا ایک اونٹ گم ہوگیا میں اس کی تلاش میں مختلف گھروں کے چکر لگارہا تھا اچانک مجھے کچھ شہسوار نظر آئے وہ آئے اور انہوں نے اس گھر کا محاصرہ کرلیا جس میں میں تھا اور اس میں سے ایک آدمی کو نکالا اس سے کچھ پوچھا اور نہ ہی کوئی بات کی بلکہ بغیر کسی تاخیر کے اس کی گردن اڑادی جب وہ چلے گئے تو میں نے اس کے متعلق پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کرلی تھی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18608]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لاضطرابه
الحكم: إسناده ضعيف لاضطرابه