بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 244
صفحہ 5 از 13
حدیث نمبر: 18548 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، مَالِكٌ ، أَبِي دَاوُدَ ، الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، قَالَ: لَقِيتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، فَسَلَّمَ عَلَيَّ، وَأَخَذَ بِيَدِي، وَضَحِكَ فِي وَجْهِي، قَالَ: تَدْرِي لِمَ فَعَلْتُ هَذَا بِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا أَدْرِي، وَلَكِنْ لَا أَرَاكَ فَعَلْتَهُ إِلَّا لِخَيْرٍ، قَالَ: إِنَّهُ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَعَلَ بِي مِثْلَ الَّذِي فَعَلْتُ بِكَ، فَسَأَلَنِي، فَقُلْتُ مِثْلَ الَّذِي قُلْتَ لِي، فَقَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ، فَيُسَلِّمُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ وَيَأْخُذُ بِيَدِهِ، لَا يَأْخُذُهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، لَا يَتَفَرَّقَانِ، حَتَّى يُغْفَرَ لَهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میری ملاقات حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ہوئی انہوں نے مجھے سلام کیا اور میرا ہاتھ پکڑ کر میرے سامنے مسکرانے لگے پھر فرمایا تم جانتے ہو کہ میں نے تمہارے ساتھ اس طرح کیوں کیا؟ میں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں البتہ آپ نے خیر کے ارادے سے ہی ایسا کیا ہوگا، انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے ساتھ بھی اسی طرح کیا تھا اور مجھ سے بھی یہی سوال پوچھا تھا اور میں نے بھی تمہارے والا جواب دیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو سلام کرتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑتا ہے جو صرف اللہ کی رضاء کے لئے ہو " تو جب وہ دونوں جدا ہوتے ہیں تو ان کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18548]
حکم دارالسلام
إسناده تالف، أبوداود نفيع بن الحارث متروك ، وقد روي هذا الحديث من حديث أنس بإسناد حسن، وليس فيه: لا يأخذه إلا الله عزوجل
الحكم: إسناده تالف، أبوداود نفيع بن الحارث متروك ، وقد روي هذا الحديث من حديث أنس بإسناد حسن، وليس فيه: لا يأخذه إلا الله عزوجل
حدیث نمبر: 18549 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَجْلَحُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَجْلَحُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ الْعَدُوَّ غَدًا، وَإِنَّ شِعَارَكُمْ حم لَا يُنْصَرُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے ارشاد فرمایا کہ کل تمہارا دشمن سے آمنا سامنا ہوگا اس وقت تمہارا شعار (شناختی علامت) " لاینصرون " کا لفظ ہوگی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18549]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف بهذه السياقة لضعف أجلح
الحكم: إسناده ضعيف بهذه السياقة لضعف أجلح
حدیث نمبر: 18550 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، الْأَعْمَشُ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَنْبَأَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، قَالَ الْأَعْمَشُ : أُرَاهُ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْفَنَ فِي الْبَقِيعِ، وَقَالَ:" إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا تُرْضِعُهُ فِي الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی جن کا انتقال صرف سولہ مہینے کی عمر میں ہوگیا تھا پھر انہیں جنت البقیع میں دفن کرنے کا حکم دیا اور فرمایا جنت میں ان کے لئے دائی کا مقرر کی گئی ہے جوان کی مدت رضاعت کی تکمیل کرے گی [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18550]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وشك الأعمش فى وصله لا يؤثر
الحكم: حديث صحيح، وشك الأعمش فى وصله لا يؤثر
حدیث نمبر: 18551 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَر ، شُعْبَةُ ، جَابِرٍ ، الشَّعْبِيَّ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَر ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ فِي ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ:" إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا يُرْضِعُهُ فِي الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا جنت میں ان کے لئے دائی کا مقرر کی گئی ہے جوان کی مدت رضاعت کی تکمیل کرے گی [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18551]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر
حدیث نمبر: 18552 مسند احمد
أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، سُفْيَانَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ، وَضَعَ يَدَهُ عَلَى خَدِّهِ، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو دائیں ہاتھ کا تکیہ بناتے اور یہ دعاء پڑھتے اے اللہ! جس دن تو اپنے بندوں کو جمع فرمائے گا مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18552]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق
حدیث نمبر: 18553 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مِسْعَرٌ ، ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَحَبَّ أَوْ مِمَّا يُحِبُّ أَنْ يَقُومَ عَنْ يَمِينِهِ، قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ " رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ" أَوْ" تَجْمَعُ عِبَادَكَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے پڑھتے تو اس بات کو اچھا سمجھتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دائیں جانب کھڑے ہوں اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پروردگار! جس دن تو اپنے بندوں کو جمع فرمائے گا مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18553]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 709، واختلف فى تعيين اسم: يزيد بن البراء
الحكم: حديث صحيح، م: 709، واختلف فى تعيين اسم: يزيد بن البراء
حدیث نمبر: 18554 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، ثَابِتٌ ، ابْنِ الْبَرَاءِ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَاه أَبُو نُعَيْمٍ ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثَابِتٌ ، عَنِ ابْنِ الْبَرَاءِ ، عَنِ الْبَرَاءِ .
حکم دارالسلام
هنا ورد اسم ابن البراء مبهماً
الحكم: هنا ورد اسم ابن البراء مبهماً
حدیث نمبر: 18555 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبِي ، وَسُفْيَانُ ، وَإِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَسُفْيَانُ ، وَإِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ عِدَّةَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَوْمَ بَدْرٍ عَلَى عِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ يَوْمَ جَالُوتَ ثَلَاثَ مِئَةٍ، وَبِضْعَةَ عَشَرَ، الَّذِينَ جَازُوا مَعَهُ النَّهْرَ، قَالَ: وَلَمْ يُجَاوِزْ مَعَهُ النَّهْرَ إِلَّا مُؤْمِنٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ آپس میں یہ گفتگو کرتے تھے کہ غزوہ بدر کے موقع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی تعداد حضرت طالوت کے ساتھیوں کی تعداد کے برابر " جو جالوت سے جنگ کے موقع پر تھی " تین سو تیرہ تھی حضرت طالوت کے یہ وہی ساتھی تھے جنہوں نے ان کے ساتھ نہر کو عبور کیا تھا اور نہر وہی شخص عبور کرسکا تھا جو مؤمن تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18555]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3958
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3958
حدیث نمبر: 18556 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ، جَاءَ عَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ ضَرِيرَ الْبَصَرِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَأْمُرُنِي؟ إِنِّي ضَرِيرُ الْبَصَرِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ، أَوْ اللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابتداء قرآن کریم کی یہ آیت ہوئی کہ " مسلمانوں میں سے جو لوگ جہاد کے انتظار میں بیٹھے ہیں وہ اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے بھی برابر نہیں ہوسکتے " نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو بلا کر حکم دیا " وہ شانے کی ایک ہڈی لے آئے اور اس پر یہ آیت لکھ دی، اس پر حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو اس آیت میں " غیراولی الضرر " کا لفظ مزید نازل ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے پاس شانے کی ہڈی یا تختی اور دوات لے کر آؤ۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18556]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4594، م: 1898
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4594، م: 1898
حدیث نمبر: 18557 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، السُّدِّيِّ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، الْبَرَاءِ ، خَالِي
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: لَقِيتُ خَالِي وَمَعَهُ الرَّايَةُ، فقلت: أين تريد؟ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ أَنْ" أَضْرِبَ عُنُقَهُ، أَوْ أَقْتُلَهُ وَآخُذَ مَالَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن اپنے ماموں سے میری ملاقات ہوئی ان کے پاس ایک جھنڈا تھا میں نے ان سے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے بتایا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد اپنے باپ کی بیوی (سوتیلی ماں) سے شادی کرلی ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ اس کی گردن اڑادوں اور اس کا مال چھین لوں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18557]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لاضطرابه
الحكم: إسناده ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 18558 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَهُ شَعَرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ، بَعِيدُ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، لَيْسَ بِالْقَصِيرِ وَلَا بِالطَّوِيلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سرخ جوڑا زیب تن فرما رکھا تھا میں نے ان سے زیادہ حسین کوئی نہیں دیکھا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال ہلکے گھنگھریالے قد درمیانہ دونوں کندھوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ اور کانوں کی لوتک لمبے بال تھے [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18558]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3551، م: 2337
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3551، م: 2337
حدیث نمبر: 18559 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبِي ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: " غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ عَشْرَةَ غَزْوَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پندرہ غزوات میں شرکت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18559]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الجراح الرؤاسي مختلف فيه، وقد خالفه إسرائيل، وفيه: غزونا بدل غزا
الحكم: إسناده ضعيف، الجراح الرؤاسي مختلف فيه، وقد خالفه إسرائيل، وفيه: غزونا بدل غزا
حدیث نمبر: 18561 مسند احمد
وَكِيعٌ ، فِطْرٌ ، سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ:" إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ طَاهِرًا، فَقُلْ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، وَلَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ، مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ، وَإِنْ أَصْبَحْتَ، أَصْبَحْتَ وَقَدْ أَصَبْتَ خَيْرًا كَثِيرًا" . قال عبد الله: قال أبي: سَمِعَهُ فِطْرٌ مِنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک انصاری کو حکم دیا کہ جب وہ اپنے بستر پر آیا کرے تو یوں کہہ لیا کرے اے اللہ میں نے اپنے آپ کو تیرے حوالے کردیا اپنے چہرے کو تیری طرف متوجہ کرلیا اپنے معاملات کو تیرے سپرد کردیا اور اپنی پشت کا تجھ ہی کو سہارا بنا لیا تیری ہی رغبت ہے تجھ ہی سے ڈر ہے تیرے علاوہ کوئی ٹھکانہ اور پناہ گاہ نہیں میں تیری اس کتاب پر ایمان لے آیا جو تو نے نازل کی اور اس نبی پر جسے تو نے بھیج دیا اگر یہ کلمات کہنے والا اسی رات میں مرجائے تو وہ فطرت پر مرے گا۔ اگر صبح پالی تو خیر کثیر کے ساتھ صبح کروگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18561]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6313، م: 2710
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6313، م: 2710
حدیث نمبر: 18562 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رجم کی سزاجاری فرمائی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18562]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1700
الحكم: إسناده صحيح، م: 1700
حدیث نمبر: 18563 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: انْتَهَيْنَا إِلَى الْحُدَيْبِيَةِ، وَهِيَ بِئْرٌ قَدْ نُزِحَتْ، وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، قَالَ: فَنُزِعَ مِنْهَا دَلْوًا " فَتَمَضْمَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ، ثُمَّ مَجَّهُ فِيهِ وَدَعَا"، قَالَ: فَرُوِينَا وَأَرْوَيْنَا وَقَالَ وَكِيعٌ أَرْبَعَةَ عَشْرَ مِائَةً .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حدیبیہ پہنچے جو ایک کنواں تھا اور اس کا پانی بہت کم ہوچکا تھا، ہم چودہ سو افراد تھے اس میں سے ایک ڈول نکالا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے پانی لے کر کلی کی اور کلی کا پانی کنوئیں میں ہی ڈال دیا اور دعاء فرمادی اور ہم اس پانی سے خوب سیراب ہوگئے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18563]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3577
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3577
حدیث نمبر: 18564 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً بِالْحُدَيْبِيَةِ، وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ، فَنَزَحْنَاهَا، فَلَمْ نَتْرُكْ فِيهَا شَيْئًا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَجَاءَ، فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِهَا، فَدَعَا بِإِنَاءٍ، فَمَضْمَضَ، ثُمَّ مَجَّهُ فِيهِ"، ثُمَّ تَرَكْنَاهَا غَيْرَ بَعِيدٍ، فَأَصْدَرَتْنَا نَحْنُ وَرِكَابُنَا، نَشْرَبُ مِنْهَا مَا شِئْنَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حدیبیہ پہنچے جو ایک کنواں تھا اور اس کا پانی بہت کم ہوچکا تھا، ہم چودہ سو افراد تھے اس میں سے ایک ڈول نکالا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے پانی لے کر کلی کی اور کلی کا پانی کنوئیں میں ہی ڈال دیا اور دعاء فرمادی اور ہم اس پانی سے خوب سیراب ہوگئے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18564]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3577
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3577
حدیث نمبر: 18565 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ مُقَنَّعٌ فِي الْحَدِيدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُسْلِمُ أَوْ أُقَاتِلُ؟ قَالَ:" لَا، بَلْ أَسْلِمْ، ثُمَّ قَاتِلْ". فَأَسْلَمَ ثُمَّ قَاتَلَ، فَقُتِلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک انصاری آیا جو لوہے میں غرق تھا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں پہلے اسلام قبول کروں یا پہلے جہاد میں شریک ہوجاؤں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پہلے اسلام قبول کرلو پھر جہاد میں شریک ہوجاؤ چناچہ اس نے ایسا ہی کیا اور اس جہاد میں شہید ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس نے عمل تو تھوڑا کیا لیکن اجربہت لے گیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18565]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2808، م: 1900
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2808، م: 1900
حدیث نمبر: 18566 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مِسْعَرٌ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ ب التِّينِ وَالزَّيْتُونِ، قَالَ: وَمَا سَمِعْتُ إِنْسَانًا أَحْسَنَ قِرَاءَةً مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز عشاء کی ایک رکعت میں سورت والتین کی تلاوت فرماتے ہوئے سنا میں نے ان سے اچھی قرأت کسی کی نہیں سنی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18566]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 767، م: 464
الحكم: إسناده صحيح، خ: 767، م: 464
حدیث نمبر: 18567 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ: لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ، كَتَبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كِتَابًا بَيْنَهُمْ، وَقَالَ: فَكَتَبَ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَا تَكْتُبْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، وَلَوْ كُنْتَ رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ نُقَاتِلْكَ. قَالَ: فَقَالَ لِعَلِيٍّ:" امْحُهُ". قَالَ: فَقَالَ: مَا أَنَا بِالَّذِي أَمْحَاهُ، فَمَحَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، قَالَ: " وَصَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ يَدْخُلَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَلَا يَدْخُلُوهَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلَاحِ" ، فَسَأَلْتُ: مَا جُلُبَّانُ السِّلَاحِ؟ قَالَ: الْقِرَابُ بِمَا فِيهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل حدیبیہ سے صلح کرلی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اس مضمون کی دستاویز لکھنے کے لئے بیٹھے انہوں نے اس میں " محمد رسول اللہ " صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا لفظ لکھا لیکن مشرکین کہنے لگے کہ آپ یہ لفظ مت لکھیں اس لئے کہ اگر آپ اللہ کے پیغمبر ہوتے تو ہم آپ سے کبھی جنگ نہ کرتے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا اس لفظ کو مٹادو حضرت علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں تو اسے نہیں مٹاسکتا، چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود اپنے دست مبارک سے اسے مٹادیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے اس شرط پر مصالحت کی تھی کہ وہ اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہ صرف تین دن مکہ مکرمہ میں قیام کرسکیں گے اور اپنے ساتھ صرف " جلبان سلاح " لاسکیں گے راوی نے " جلبان سلاح " کا مطلب پوچھا تو فرمایا میان اور اس کی تلوار۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18567]
حکم دارالسلام
إستاده صحيح، خ: 3184، م: 1783
الحكم: إستاده صحيح، خ: 3184، م: 1783
حدیث نمبر: 18568 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، قَالَ: كَانَ " أَوَّلَ مَنْ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَكَانُوا يُقْرِئُونَ النَّاسَ. قَالَ: ثُمَّ قَدِمَ بِلَالٌ وَسَعْدٌ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، ثُمَّ قَدِمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فِي عِشْرِينَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا رَأَيْتُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَرِحُوا بِشَيْءٍ فَرَحَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: حَتَّى جَعَلَ الْإِمَاءُ يَقُلْنَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: فَمَا قَدِمَ حَتَّى قَرَأْتُ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى فِي سُوَرٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں ہمارے یہاں سب سے پہلے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے تھے وہ لوگوں کو قرآن کریم پڑھاتے تھے پھر حضرت عمار رضی اللہ عنہ بلال رضی اللہ عنہ اور سعد رضی اللہ عنہ آئے پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بیس آدمیوں کے ساتھ آئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی تشریف لے آئے اس وقت اہل مدینہ جتنے خوش تھے میں نے انہوں اس سے زیادہ خوش کبھی نہیں دیکھا حتیٰ کہ باندیاں بھی کہنے لگیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب تشریف لائے تو میں سورت اعلیٰ وغیرہ مفصلات کی کچھ سورتیں پڑھ چکا تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18568]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3924
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3924