أَبُو أَحْمَدَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً بِالْحُدَيْبِيَةِ، وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ، فَنَزَحْنَاهَا، فَلَمْ نَتْرُكْ فِيهَا شَيْئًا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَجَاءَ، فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِهَا، فَدَعَا بِإِنَاءٍ، فَمَضْمَضَ، ثُمَّ مَجَّهُ فِيهِ"، ثُمَّ تَرَكْنَاهَا غَيْرَ بَعِيدٍ، فَأَصْدَرَتْنَا نَحْنُ وَرِكَابُنَا، نَشْرَبُ مِنْهَا مَا شِئْنَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حدیبیہ پہنچے جو ایک کنواں تھا اور اس کا پانی بہت کم ہوچکا تھا، ہم چودہ سو افراد تھے اس میں سے ایک ڈول نکالا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے پانی لے کر کلی کی اور کلی کا پانی کنوئیں میں ہی ڈال دیا اور دعاء فرمادی اور ہم اس پانی سے خوب سیراب ہوگئے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18564]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3577
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3577