يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، يَزِيدُ بْنُ الْبَرَاءِ ، أَبِيهِ ، خَالِي
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْبَرَاءِ ، عَن أَبِيهِ ، قَالَ: لَقِيتُ خَالِي مَعَهُ رَايَةٌ، فَقُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ:" بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ، فَأَمَرَنَا أَنْ نَقْتُلَهُ، وَنَأْخُذَ مَالَهُ" . قَالَ: فَفَعَلُوا. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مَا حَدَّثَ أَبِي عَنْ أَبِي مَرْيَمَ عَبْدِ الْغَفَّارِ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ لِعِلَّتِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن اپنے ماموں سے میری ملاقات ہوئی ان کے پاس ایک جھنڈا تھا میں نے ان سے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے بتایا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد اپنے باپ کی بیوی (سوتیلی ماں) سے شادی کرلی ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ اس کی گردن اڑادوں اور اس کا مال چھین لوں۔ چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18610]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لاضطرابه
الحكم: إسناده ضعيف لاضطرابه