وہ اس پر ایمان نہیں لاتے جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں
مولانا محمد جوناگڑھی
وه جب تک دردناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کرلیں ایمان نہ ﻻئیں گے
احمد رضا خان بریلوی
وہ اس پر ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ دیکھیں دردناک عذاب،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک دردناک عذاب کو نہیں دیکھ لیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفر و انکار ٭٭
تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بے سود ہو گا ان پر لعنت برس چکی ہو گی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بے خبری میں ہی آ جائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بے سود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہو جاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لا حاصل۔
فرعون ہی کو دیکھئیے موسیٰ علیہ السلام نے اس کے لیے بد دعا کی «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-يونس:88،89] جو قبول ہوئی عذاب کو دیکھ کر ڈوبتے ہوئے کہنے لگا کہ ”اب میں مسلمان ہوتا ہوں لیکن جواب ملا کہ ’ یہ ایمان بےسود ہے ‘۔ اسی طرح ایک اور آیت میں «وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدْوًا حَتَّىٰ إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [10-يونس:90-91] ہے کہ ’ ہمارا عذاب دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا ‘۔ پھر ان کی ایک اور بدبختی بیان ہو رہی ہے کہ ’ وہ اپنے نبیوں سے کہتے تھے اگر سچے ہو تو عذاب اللہ لاؤ۔ اگرچہ ہم انہیں مہلت دیں اور کچھ دنوں تک کچھ مدت تک انہیں عذاب سے بچائے رکھیں۔ پھر ان کے پاس ہمارا مقررہ عذاب آجائے۔ ان کا حال ان کی نعمتیں ان کی جاہ وحشمت غرض کوئی چیز انہیں ذرا سابھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اس وقت تک یہی معلوم ہو گا کہ شاید ایک صبح یا ایک شام ہی دنیا میں رہے ‘۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «يَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَةٍ وَمَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌ بِمَا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:96] ، ’ ان میں سے ہر ایک کی چاہت ہے کہ وہ ہزار ہزار سال جئے لیکن اتنی عمر بھی اللہ کے عذاب ہٹا نہیں سکتی ‘۔ یہی یہاں بھی فرمایا کہ ’ اسباب ان کے کچھ کام نہ آئیں گے الٹا عذاب میں مبتلا ہوتے وقت ان کی تمام طاقتیں اور اسباب یونہی رکھے رکھے رہ جائیں گے ‘۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { کافر کو قیامت کے دن لایا جائے گا، پھر آگ میں ایک غوطہٰ دلا کر پوچھا جائے گا کہ تو نے کبھی راحت بھی اٹھائی ہے تو کہے گا کہ اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور ایک اس شخص کو لایا جائے گا جس نے پوری عمر واقعی کوئی راحت چکھی ہی نہ ہو۔ اسے جنت کی ہوا کھلا کر لایا جائے گا اور سوال ہو گا کہ کیا تو نے عمر بھر کبھی کوئی برائی دیکھی ہے؟ تو وہ کہے گا اے اللہ تیری ذات پاک کی قسم میں نے کبھی کوئی زحمت نہیں اٹھائی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2807] سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عموماً یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ ”جب تو اپنی مراد کو پہنچ گیا تو گویا تو نے کبھی کسی تکلیف کا نام بھی نہیں سنا۔“
اللہ عزوجل اس کے بعد اپنے عدل کی خبر دیتا ہے کہ ’ کبھی اس نے حجت ختم ہونے سے پہلے کبھی کسی امت کو ختم نہیں کیا ‘۔ رسولوں کو بھیجتا، کتابیں اتارتا ہے، خبریں دیتا ہے، ہوشیار کرتا ہے پھر نہ ماننے والوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ پس فرمایا کہ ’ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم نے کسی امت پر عذاب بھیج دئے ہوں ‘۔ ڈرانے والے بھیج کر نصیحت کر کے عذر ہٹا کر پھر نہ مانے پر عذاب ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا ’ تیرا رب کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان کی بستیوں کی صدر بستی میں کسی رسول کو نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے ‘۔
پس وه عذاب ان کو ناگہاں آجائے گا انہیں اس کا شعور بھی نہ ہو گا
احمد رضا خان بریلوی
تو وہ اچانک ان پر آجائے گا اور انہیں خبر نہ ہوگی،
علامہ محمد حسین نجفی
چنانچہ وہ (عذاب) اس طرح اچانک ان پر آجائے گا کہ انہیں احساس بھی نہ ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
پس وہ ان پر اچانک آپڑے اور وہ سوچتے بھی نہ ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفر و انکار ٭٭
تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بے سود ہو گا ان پر لعنت برس چکی ہو گی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بے خبری میں ہی آ جائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بے سود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہو جاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لا حاصل۔
فرعون ہی کو دیکھئیے موسیٰ علیہ السلام نے اس کے لیے بد دعا کی «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-يونس:88،89] جو قبول ہوئی عذاب کو دیکھ کر ڈوبتے ہوئے کہنے لگا کہ ”اب میں مسلمان ہوتا ہوں لیکن جواب ملا کہ ’ یہ ایمان بےسود ہے ‘۔ اسی طرح ایک اور آیت میں «وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدْوًا حَتَّىٰ إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [10-يونس:90-91] ہے کہ ’ ہمارا عذاب دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا ‘۔ پھر ان کی ایک اور بدبختی بیان ہو رہی ہے کہ ’ وہ اپنے نبیوں سے کہتے تھے اگر سچے ہو تو عذاب اللہ لاؤ۔ اگرچہ ہم انہیں مہلت دیں اور کچھ دنوں تک کچھ مدت تک انہیں عذاب سے بچائے رکھیں۔ پھر ان کے پاس ہمارا مقررہ عذاب آجائے۔ ان کا حال ان کی نعمتیں ان کی جاہ وحشمت غرض کوئی چیز انہیں ذرا سابھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اس وقت تک یہی معلوم ہو گا کہ شاید ایک صبح یا ایک شام ہی دنیا میں رہے ‘۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «يَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَةٍ وَمَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌ بِمَا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:96] ، ’ ان میں سے ہر ایک کی چاہت ہے کہ وہ ہزار ہزار سال جئے لیکن اتنی عمر بھی اللہ کے عذاب ہٹا نہیں سکتی ‘۔ یہی یہاں بھی فرمایا کہ ’ اسباب ان کے کچھ کام نہ آئیں گے الٹا عذاب میں مبتلا ہوتے وقت ان کی تمام طاقتیں اور اسباب یونہی رکھے رکھے رہ جائیں گے ‘۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { کافر کو قیامت کے دن لایا جائے گا، پھر آگ میں ایک غوطہٰ دلا کر پوچھا جائے گا کہ تو نے کبھی راحت بھی اٹھائی ہے تو کہے گا کہ اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور ایک اس شخص کو لایا جائے گا جس نے پوری عمر واقعی کوئی راحت چکھی ہی نہ ہو۔ اسے جنت کی ہوا کھلا کر لایا جائے گا اور سوال ہو گا کہ کیا تو نے عمر بھر کبھی کوئی برائی دیکھی ہے؟ تو وہ کہے گا اے اللہ تیری ذات پاک کی قسم میں نے کبھی کوئی زحمت نہیں اٹھائی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2807] سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عموماً یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ ”جب تو اپنی مراد کو پہنچ گیا تو گویا تو نے کبھی کسی تکلیف کا نام بھی نہیں سنا۔“
اللہ عزوجل اس کے بعد اپنے عدل کی خبر دیتا ہے کہ ’ کبھی اس نے حجت ختم ہونے سے پہلے کبھی کسی امت کو ختم نہیں کیا ‘۔ رسولوں کو بھیجتا، کتابیں اتارتا ہے، خبریں دیتا ہے، ہوشیار کرتا ہے پھر نہ ماننے والوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ پس فرمایا کہ ’ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم نے کسی امت پر عذاب بھیج دئے ہوں ‘۔ ڈرانے والے بھیج کر نصیحت کر کے عذر ہٹا کر پھر نہ مانے پر عذاب ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا ’ تیرا رب کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان کی بستیوں کی صدر بستی میں کسی رسول کو نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 203،202) {فَيَاْتِيَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ …:} یعنی وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک وہ ”عذاب اليم“ کو دیکھ لیں، جو ان پر اچانک آئے اور وہ سوچتے بھی نہ ہوں، پھر وہ یہ کہیں کہ کیا ہم مہلت دیے جانے والے ہیں کہ ہم ایمان لائیں اور تصدیق کریں، مگر اس وقت مہلت نہیں ملے گی۔
اُس وقت وہ کہتے ہیں "کہ “کیا اب ہمیں کچھ مُہلت مِل سکتی ہے؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
اس وقت کہیں گے کہ کیا ہمیں کچھ مہلت دی جائے گی؟
احمد رضا خان بریلوی
تو کہیں گے کیا ہمیں کچھ مہلت ملے گی
علامہ محمد حسین نجفی
تب وہ کہیں گے کیا ہمیں مہلت مل سکتی ہے؟
عبدالسلام بن محمد
تو وہ کہیں کیا ہم مہلت دیے جانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفر و انکار ٭٭
تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بے سود ہو گا ان پر لعنت برس چکی ہو گی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بے خبری میں ہی آ جائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بے سود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہو جاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لا حاصل۔
فرعون ہی کو دیکھئیے موسیٰ علیہ السلام نے اس کے لیے بد دعا کی «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-يونس:88،89] جو قبول ہوئی عذاب کو دیکھ کر ڈوبتے ہوئے کہنے لگا کہ ”اب میں مسلمان ہوتا ہوں لیکن جواب ملا کہ ’ یہ ایمان بےسود ہے ‘۔ اسی طرح ایک اور آیت میں «وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدْوًا حَتَّىٰ إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [10-يونس:90-91] ہے کہ ’ ہمارا عذاب دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا ‘۔ پھر ان کی ایک اور بدبختی بیان ہو رہی ہے کہ ’ وہ اپنے نبیوں سے کہتے تھے اگر سچے ہو تو عذاب اللہ لاؤ۔ اگرچہ ہم انہیں مہلت دیں اور کچھ دنوں تک کچھ مدت تک انہیں عذاب سے بچائے رکھیں۔ پھر ان کے پاس ہمارا مقررہ عذاب آجائے۔ ان کا حال ان کی نعمتیں ان کی جاہ وحشمت غرض کوئی چیز انہیں ذرا سابھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اس وقت تک یہی معلوم ہو گا کہ شاید ایک صبح یا ایک شام ہی دنیا میں رہے ‘۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «يَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَةٍ وَمَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌ بِمَا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:96] ، ’ ان میں سے ہر ایک کی چاہت ہے کہ وہ ہزار ہزار سال جئے لیکن اتنی عمر بھی اللہ کے عذاب ہٹا نہیں سکتی ‘۔ یہی یہاں بھی فرمایا کہ ’ اسباب ان کے کچھ کام نہ آئیں گے الٹا عذاب میں مبتلا ہوتے وقت ان کی تمام طاقتیں اور اسباب یونہی رکھے رکھے رہ جائیں گے ‘۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { کافر کو قیامت کے دن لایا جائے گا، پھر آگ میں ایک غوطہٰ دلا کر پوچھا جائے گا کہ تو نے کبھی راحت بھی اٹھائی ہے تو کہے گا کہ اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور ایک اس شخص کو لایا جائے گا جس نے پوری عمر واقعی کوئی راحت چکھی ہی نہ ہو۔ اسے جنت کی ہوا کھلا کر لایا جائے گا اور سوال ہو گا کہ کیا تو نے عمر بھر کبھی کوئی برائی دیکھی ہے؟ تو وہ کہے گا اے اللہ تیری ذات پاک کی قسم میں نے کبھی کوئی زحمت نہیں اٹھائی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2807] سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عموماً یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ ”جب تو اپنی مراد کو پہنچ گیا تو گویا تو نے کبھی کسی تکلیف کا نام بھی نہیں سنا۔“
اللہ عزوجل اس کے بعد اپنے عدل کی خبر دیتا ہے کہ ’ کبھی اس نے حجت ختم ہونے سے پہلے کبھی کسی امت کو ختم نہیں کیا ‘۔ رسولوں کو بھیجتا، کتابیں اتارتا ہے، خبریں دیتا ہے، ہوشیار کرتا ہے پھر نہ ماننے والوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ پس فرمایا کہ ’ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم نے کسی امت پر عذاب بھیج دئے ہوں ‘۔ ڈرانے والے بھیج کر نصیحت کر کے عذر ہٹا کر پھر نہ مانے پر عذاب ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا ’ تیرا رب کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان کی بستیوں کی صدر بستی میں کسی رسول کو نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے ‘۔
23-1لیکن مشاہدہ عذاب کے بعد مہلت نہیں دی جاتی، نہ اس وقت کی توبہ ہی مقبول ہے۔
تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بے سود ہو گا ان پر لعنت برس چکی ہو گی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بے خبری میں ہی آ جائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بے سود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہو جاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لا حاصل۔
فرعون ہی کو دیکھئیے موسیٰ علیہ السلام نے اس کے لیے بد دعا کی «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-يونس:88،89] جو قبول ہوئی عذاب کو دیکھ کر ڈوبتے ہوئے کہنے لگا کہ ”اب میں مسلمان ہوتا ہوں لیکن جواب ملا کہ ’ یہ ایمان بےسود ہے ‘۔ اسی طرح ایک اور آیت میں «وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدْوًا حَتَّىٰ إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [10-يونس:90-91] ہے کہ ’ ہمارا عذاب دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا ‘۔ پھر ان کی ایک اور بدبختی بیان ہو رہی ہے کہ ’ وہ اپنے نبیوں سے کہتے تھے اگر سچے ہو تو عذاب اللہ لاؤ۔ اگرچہ ہم انہیں مہلت دیں اور کچھ دنوں تک کچھ مدت تک انہیں عذاب سے بچائے رکھیں۔ پھر ان کے پاس ہمارا مقررہ عذاب آجائے۔ ان کا حال ان کی نعمتیں ان کی جاہ وحشمت غرض کوئی چیز انہیں ذرا سابھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اس وقت تک یہی معلوم ہو گا کہ شاید ایک صبح یا ایک شام ہی دنیا میں رہے ‘۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «يَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَةٍ وَمَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌ بِمَا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:96] ، ’ ان میں سے ہر ایک کی چاہت ہے کہ وہ ہزار ہزار سال جئے لیکن اتنی عمر بھی اللہ کے عذاب ہٹا نہیں سکتی ‘۔ یہی یہاں بھی فرمایا کہ ’ اسباب ان کے کچھ کام نہ آئیں گے الٹا عذاب میں مبتلا ہوتے وقت ان کی تمام طاقتیں اور اسباب یونہی رکھے رکھے رہ جائیں گے ‘۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { کافر کو قیامت کے دن لایا جائے گا، پھر آگ میں ایک غوطہٰ دلا کر پوچھا جائے گا کہ تو نے کبھی راحت بھی اٹھائی ہے تو کہے گا کہ اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور ایک اس شخص کو لایا جائے گا جس نے پوری عمر واقعی کوئی راحت چکھی ہی نہ ہو۔ اسے جنت کی ہوا کھلا کر لایا جائے گا اور سوال ہو گا کہ کیا تو نے عمر بھر کبھی کوئی برائی دیکھی ہے؟ تو وہ کہے گا اے اللہ تیری ذات پاک کی قسم میں نے کبھی کوئی زحمت نہیں اٹھائی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2807] سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عموماً یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ ”جب تو اپنی مراد کو پہنچ گیا تو گویا تو نے کبھی کسی تکلیف کا نام بھی نہیں سنا۔“
اللہ عزوجل اس کے بعد اپنے عدل کی خبر دیتا ہے کہ ’ کبھی اس نے حجت ختم ہونے سے پہلے کبھی کسی امت کو ختم نہیں کیا ‘۔ رسولوں کو بھیجتا، کتابیں اتارتا ہے، خبریں دیتا ہے، ہوشیار کرتا ہے پھر نہ ماننے والوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ پس فرمایا کہ ’ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم نے کسی امت پر عذاب بھیج دئے ہوں ‘۔ ڈرانے والے بھیج کر نصیحت کر کے عذر ہٹا کر پھر نہ مانے پر عذاب ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا ’ تیرا رب کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان کی بستیوں کی صدر بستی میں کسی رسول کو نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے ‘۔
24-1یہ اشارہ ہے ان کے مطالبے کی طرف جو اپنے پیغمبر سے کرتے رہے ہیں کہ اگر تو سچا ہے تو عذاب لے آ۔
(آیت 204) {اَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُوْنَ:} یعنی عذاب آئے گا تو مہلت کا مطالبہ کریں گے اور آج مہلت ملی ہوئی ہے تو عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں، کبھی کہتے ہیں: «{ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ }» [ الأنفال: ۳۲ ] ”تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا۔“ کبھی کہتے ہیں: «{ فَاَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ }» [ الشعراء: ۱۸۷ ] ”سو ہم پر آسمان سے کچھ ٹکڑے گرا دے۔“ کبھی کہتے ہیں: «{ اَوْ تَاْتِيَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ قَبِيْلًا }» [ بني إسرائیل: ۹۲ ] ”یا تو اللہ اور فرشتوں کو سامنے لے آئے۔“ کبھی کہتے ہیں: «{ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ }» [ یونس: ۴۸ ] ”یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا، اگر تم سچے ہو۔“
تم نے کچھ غور کیا، اگر ہم انہیں برسوں تک عیش کرنے کی مُہلت بھی دے دیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اچھا یہ بھی بتاؤ کہ اگر ہم نے انہیں کئی سال بھی فائده اٹھانے دیا
احمد رضا خان بریلوی
بھلا دیکھو تو اگر کچھ برس ہم انہیں برتنے دیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم دیکھتے ہو کہ اگر ہم انہیں کئی سال تک فائدہ اٹھانے کا موقع دیں۔
عبدالسلام بن محمد
پس کیا تو نے دیکھا اگر ہم انھیں کئی سال فائدہ دیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفر و انکار ٭٭
تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بے سود ہو گا ان پر لعنت برس چکی ہو گی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بے خبری میں ہی آ جائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بے سود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہو جاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لا حاصل۔
فرعون ہی کو دیکھئیے موسیٰ علیہ السلام نے اس کے لیے بد دعا کی «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-يونس:88،89] جو قبول ہوئی عذاب کو دیکھ کر ڈوبتے ہوئے کہنے لگا کہ ”اب میں مسلمان ہوتا ہوں لیکن جواب ملا کہ ’ یہ ایمان بےسود ہے ‘۔ اسی طرح ایک اور آیت میں «وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدْوًا حَتَّىٰ إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [10-يونس:90-91] ہے کہ ’ ہمارا عذاب دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا ‘۔ پھر ان کی ایک اور بدبختی بیان ہو رہی ہے کہ ’ وہ اپنے نبیوں سے کہتے تھے اگر سچے ہو تو عذاب اللہ لاؤ۔ اگرچہ ہم انہیں مہلت دیں اور کچھ دنوں تک کچھ مدت تک انہیں عذاب سے بچائے رکھیں۔ پھر ان کے پاس ہمارا مقررہ عذاب آجائے۔ ان کا حال ان کی نعمتیں ان کی جاہ وحشمت غرض کوئی چیز انہیں ذرا سابھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اس وقت تک یہی معلوم ہو گا کہ شاید ایک صبح یا ایک شام ہی دنیا میں رہے ‘۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «يَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَةٍ وَمَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌ بِمَا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:96] ، ’ ان میں سے ہر ایک کی چاہت ہے کہ وہ ہزار ہزار سال جئے لیکن اتنی عمر بھی اللہ کے عذاب ہٹا نہیں سکتی ‘۔ یہی یہاں بھی فرمایا کہ ’ اسباب ان کے کچھ کام نہ آئیں گے الٹا عذاب میں مبتلا ہوتے وقت ان کی تمام طاقتیں اور اسباب یونہی رکھے رکھے رہ جائیں گے ‘۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { کافر کو قیامت کے دن لایا جائے گا، پھر آگ میں ایک غوطہٰ دلا کر پوچھا جائے گا کہ تو نے کبھی راحت بھی اٹھائی ہے تو کہے گا کہ اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور ایک اس شخص کو لایا جائے گا جس نے پوری عمر واقعی کوئی راحت چکھی ہی نہ ہو۔ اسے جنت کی ہوا کھلا کر لایا جائے گا اور سوال ہو گا کہ کیا تو نے عمر بھر کبھی کوئی برائی دیکھی ہے؟ تو وہ کہے گا اے اللہ تیری ذات پاک کی قسم میں نے کبھی کوئی زحمت نہیں اٹھائی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2807] سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عموماً یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ ”جب تو اپنی مراد کو پہنچ گیا تو گویا تو نے کبھی کسی تکلیف کا نام بھی نہیں سنا۔“
اللہ عزوجل اس کے بعد اپنے عدل کی خبر دیتا ہے کہ ’ کبھی اس نے حجت ختم ہونے سے پہلے کبھی کسی امت کو ختم نہیں کیا ‘۔ رسولوں کو بھیجتا، کتابیں اتارتا ہے، خبریں دیتا ہے، ہوشیار کرتا ہے پھر نہ ماننے والوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ پس فرمایا کہ ’ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم نے کسی امت پر عذاب بھیج دئے ہوں ‘۔ ڈرانے والے بھیج کر نصیحت کر کے عذر ہٹا کر پھر نہ مانے پر عذاب ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا ’ تیرا رب کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان کی بستیوں کی صدر بستی میں کسی رسول کو نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 205تا207) ➊ {اَفَرَءَيْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِيْنَ …:} ان کا عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرنے سے ظاہر ہے کہ وہ اس کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے اور بہت دیر تک زندہ رہنے کی امید رکھتے ہیں، اسی لیے وہ اسے جلدی طلب کرتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ فرمایا، یہ بتاؤ کہ اگر ہم ان کی توقع کے مطابق کچھ سال انھیں زندہ رہنے اور فائدہ اٹھانے کا موقع دے دیں، پھر ان پر عذاب آئے یا موت ہی آ جائے جس کے بعد عذاب ہی عذاب ہے، تو جتنے سال انھیں زندہ رہنے کا اور زندگی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جاتا رہا وہ عذاب سے بچانے میں ان کے کس کام آئے گا؟ (دیکھیے بقرہ: ۹۶) وہ گزرا ہوا سارا عرصہ تو ایک ساعت سے زیادہ معلوم نہیں ہو گا۔ (دیکھیے روم: ۵۵) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق دنیا کے سب سے خوش حال کافر کو جہنم کا ایک غوطہ دلانے کے بعد پوچھا جائے گا کہ تو نے کبھی خیر دیکھی ہے تو وہ قسم اٹھا کر کہے گا کہ نہیں۔ [ دیکھیے مسلم، صفات المنافقین، باب صبغ أنعم أھل الدنیا في النار: ۲۸۰۷، عن أنس رضی اللہ عنہ ] تفسیر کبیر میں ہے کہ میمون بن مہران طواف میں حسن بصری سے ملے اور نصیحت کی درخواست کی تو انھوں نے صرف اس آیت کی تلاوت کر دی، تو میمون نے کہا، آپ نے نصیحت کی اور کمال کی نصیحت کی۔ ➋ { ” سِنِيْنَ “} جمع مذکر سالم نکرہ قلت کے لیے استعمال ہوا ہے، یعنی جتنی لمبی زندگی بھی مل جائے وہ چند سال ہی ہیں، کیونکہ گزر جانے والی چیز قلیل ہی ہوتی ہے۔
اور پھر وہی چیز ان پر آ جائے جس سے انہیں ڈرایا جا رہا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر انہیں وه عذاب آ لگا جن سے یہ دھمکائے جاتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
پھر آئے ان پر جس کا وہ وعدہ دیے جاتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ان پر وہ عذاب آجائے جس سے انہیں ڈرایا جاتا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ان کے پاس وہ چیز آجا ئے جس کا وہ وعدہ دیے جاتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفر و انکار ٭٭
تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بے سود ہو گا ان پر لعنت برس چکی ہو گی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بے خبری میں ہی آ جائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بے سود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہو جاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لا حاصل۔
فرعون ہی کو دیکھئیے موسیٰ علیہ السلام نے اس کے لیے بد دعا کی «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-يونس:88،89] جو قبول ہوئی عذاب کو دیکھ کر ڈوبتے ہوئے کہنے لگا کہ ”اب میں مسلمان ہوتا ہوں لیکن جواب ملا کہ ’ یہ ایمان بےسود ہے ‘۔ اسی طرح ایک اور آیت میں «وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدْوًا حَتَّىٰ إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [10-يونس:90-91] ہے کہ ’ ہمارا عذاب دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا ‘۔ پھر ان کی ایک اور بدبختی بیان ہو رہی ہے کہ ’ وہ اپنے نبیوں سے کہتے تھے اگر سچے ہو تو عذاب اللہ لاؤ۔ اگرچہ ہم انہیں مہلت دیں اور کچھ دنوں تک کچھ مدت تک انہیں عذاب سے بچائے رکھیں۔ پھر ان کے پاس ہمارا مقررہ عذاب آجائے۔ ان کا حال ان کی نعمتیں ان کی جاہ وحشمت غرض کوئی چیز انہیں ذرا سابھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اس وقت تک یہی معلوم ہو گا کہ شاید ایک صبح یا ایک شام ہی دنیا میں رہے ‘۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «يَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَةٍ وَمَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌ بِمَا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:96] ، ’ ان میں سے ہر ایک کی چاہت ہے کہ وہ ہزار ہزار سال جئے لیکن اتنی عمر بھی اللہ کے عذاب ہٹا نہیں سکتی ‘۔ یہی یہاں بھی فرمایا کہ ’ اسباب ان کے کچھ کام نہ آئیں گے الٹا عذاب میں مبتلا ہوتے وقت ان کی تمام طاقتیں اور اسباب یونہی رکھے رکھے رہ جائیں گے ‘۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { کافر کو قیامت کے دن لایا جائے گا، پھر آگ میں ایک غوطہٰ دلا کر پوچھا جائے گا کہ تو نے کبھی راحت بھی اٹھائی ہے تو کہے گا کہ اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور ایک اس شخص کو لایا جائے گا جس نے پوری عمر واقعی کوئی راحت چکھی ہی نہ ہو۔ اسے جنت کی ہوا کھلا کر لایا جائے گا اور سوال ہو گا کہ کیا تو نے عمر بھر کبھی کوئی برائی دیکھی ہے؟ تو وہ کہے گا اے اللہ تیری ذات پاک کی قسم میں نے کبھی کوئی زحمت نہیں اٹھائی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2807] سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عموماً یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ ”جب تو اپنی مراد کو پہنچ گیا تو گویا تو نے کبھی کسی تکلیف کا نام بھی نہیں سنا۔“
اللہ عزوجل اس کے بعد اپنے عدل کی خبر دیتا ہے کہ ’ کبھی اس نے حجت ختم ہونے سے پہلے کبھی کسی امت کو ختم نہیں کیا ‘۔ رسولوں کو بھیجتا، کتابیں اتارتا ہے، خبریں دیتا ہے، ہوشیار کرتا ہے پھر نہ ماننے والوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ پس فرمایا کہ ’ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم نے کسی امت پر عذاب بھیج دئے ہوں ‘۔ ڈرانے والے بھیج کر نصیحت کر کے عذر ہٹا کر پھر نہ مانے پر عذاب ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا ’ تیرا رب کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان کی بستیوں کی صدر بستی میں کسی رسول کو نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے ‘۔
تو وہ سامانِ زیست جو ان کو ملا ہوا ہے اِن کے کس کام آئے گا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
تو جو کچھ بھی یہ برتتے رہے اس میں سے کچھ بھی فائده نہ پہنچا سکے گا
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا کام آئے گا ان کے وہ جو برتتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
تو وہ سب ساز و سامان جس سے وہ فائدہ اٹھاتے رہے تھے انہیں کوئی فائدہ نہ دے گا۔
عبدالسلام بن محمد
تو وہ فائدہ جو وہ دیے جاتے تھے، ان کے کس کام آئے گا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفر و انکار ٭٭
تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بے سود ہو گا ان پر لعنت برس چکی ہو گی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بے خبری میں ہی آ جائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بے سود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہو جاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لا حاصل۔
فرعون ہی کو دیکھئیے موسیٰ علیہ السلام نے اس کے لیے بد دعا کی «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-يونس:88،89] جو قبول ہوئی عذاب کو دیکھ کر ڈوبتے ہوئے کہنے لگا کہ ”اب میں مسلمان ہوتا ہوں لیکن جواب ملا کہ ’ یہ ایمان بےسود ہے ‘۔ اسی طرح ایک اور آیت میں «وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدْوًا حَتَّىٰ إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [10-يونس:90-91] ہے کہ ’ ہمارا عذاب دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا ‘۔ پھر ان کی ایک اور بدبختی بیان ہو رہی ہے کہ ’ وہ اپنے نبیوں سے کہتے تھے اگر سچے ہو تو عذاب اللہ لاؤ۔ اگرچہ ہم انہیں مہلت دیں اور کچھ دنوں تک کچھ مدت تک انہیں عذاب سے بچائے رکھیں۔ پھر ان کے پاس ہمارا مقررہ عذاب آجائے۔ ان کا حال ان کی نعمتیں ان کی جاہ وحشمت غرض کوئی چیز انہیں ذرا سابھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اس وقت تک یہی معلوم ہو گا کہ شاید ایک صبح یا ایک شام ہی دنیا میں رہے ‘۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «يَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَةٍ وَمَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌ بِمَا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:96] ، ’ ان میں سے ہر ایک کی چاہت ہے کہ وہ ہزار ہزار سال جئے لیکن اتنی عمر بھی اللہ کے عذاب ہٹا نہیں سکتی ‘۔ یہی یہاں بھی فرمایا کہ ’ اسباب ان کے کچھ کام نہ آئیں گے الٹا عذاب میں مبتلا ہوتے وقت ان کی تمام طاقتیں اور اسباب یونہی رکھے رکھے رہ جائیں گے ‘۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { کافر کو قیامت کے دن لایا جائے گا، پھر آگ میں ایک غوطہٰ دلا کر پوچھا جائے گا کہ تو نے کبھی راحت بھی اٹھائی ہے تو کہے گا کہ اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور ایک اس شخص کو لایا جائے گا جس نے پوری عمر واقعی کوئی راحت چکھی ہی نہ ہو۔ اسے جنت کی ہوا کھلا کر لایا جائے گا اور سوال ہو گا کہ کیا تو نے عمر بھر کبھی کوئی برائی دیکھی ہے؟ تو وہ کہے گا اے اللہ تیری ذات پاک کی قسم میں نے کبھی کوئی زحمت نہیں اٹھائی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2807] سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عموماً یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ ”جب تو اپنی مراد کو پہنچ گیا تو گویا تو نے کبھی کسی تکلیف کا نام بھی نہیں سنا۔“
اللہ عزوجل اس کے بعد اپنے عدل کی خبر دیتا ہے کہ ’ کبھی اس نے حجت ختم ہونے سے پہلے کبھی کسی امت کو ختم نہیں کیا ‘۔ رسولوں کو بھیجتا، کتابیں اتارتا ہے، خبریں دیتا ہے، ہوشیار کرتا ہے پھر نہ ماننے والوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ پس فرمایا کہ ’ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم نے کسی امت پر عذاب بھیج دئے ہوں ‘۔ ڈرانے والے بھیج کر نصیحت کر کے عذر ہٹا کر پھر نہ مانے پر عذاب ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا ’ تیرا رب کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان کی بستیوں کی صدر بستی میں کسی رسول کو نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے ‘۔
27-1یعنی اگر ہم نے انھیں مہلت دے دیں اور پھر انھیں اپنے عذاب کی گرفت میں لیں، تو کیا دنیا کا مال و متاع ان کے کچھ کام آئے گا؟ یعنی انھیں عذاب سے بچا سکے گا؟ نہیں یقینا نہیں۔
(دیکھو) ہم نے کبھی کسی بستی کو اِس کے بغیر ہلاک نہیں کیا کہ اُس کے لیے خبردار کرنے والے حق نصیحت ادا کرنے کو موجود تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا ہے مگر اسی حال میں کہ اس کے لیے ڈرانے والے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہ کی جسے ڈر سنانے والے نہ ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے کبھی کسی بستی کو اس وقت تک ہلاک نہیں کیا جب تک اس کے پاس عذاب الٰہی سے ڈرانے والے نہ آچکے ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے کوئی بستی تباہ نہیں کی مگر اس کے لیے کئی ڈرانے والے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفر و انکار ٭٭
تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بے سود ہو گا ان پر لعنت برس چکی ہو گی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بے خبری میں ہی آ جائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بے سود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہو جاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لا حاصل۔
فرعون ہی کو دیکھئیے موسیٰ علیہ السلام نے اس کے لیے بد دعا کی «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-يونس:88،89] جو قبول ہوئی عذاب کو دیکھ کر ڈوبتے ہوئے کہنے لگا کہ ”اب میں مسلمان ہوتا ہوں لیکن جواب ملا کہ ’ یہ ایمان بےسود ہے ‘۔ اسی طرح ایک اور آیت میں «وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدْوًا حَتَّىٰ إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [10-يونس:90-91] ہے کہ ’ ہمارا عذاب دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا ‘۔ پھر ان کی ایک اور بدبختی بیان ہو رہی ہے کہ ’ وہ اپنے نبیوں سے کہتے تھے اگر سچے ہو تو عذاب اللہ لاؤ۔ اگرچہ ہم انہیں مہلت دیں اور کچھ دنوں تک کچھ مدت تک انہیں عذاب سے بچائے رکھیں۔ پھر ان کے پاس ہمارا مقررہ عذاب آجائے۔ ان کا حال ان کی نعمتیں ان کی جاہ وحشمت غرض کوئی چیز انہیں ذرا سابھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اس وقت تک یہی معلوم ہو گا کہ شاید ایک صبح یا ایک شام ہی دنیا میں رہے ‘۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «يَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَةٍ وَمَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌ بِمَا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:96] ، ’ ان میں سے ہر ایک کی چاہت ہے کہ وہ ہزار ہزار سال جئے لیکن اتنی عمر بھی اللہ کے عذاب ہٹا نہیں سکتی ‘۔ یہی یہاں بھی فرمایا کہ ’ اسباب ان کے کچھ کام نہ آئیں گے الٹا عذاب میں مبتلا ہوتے وقت ان کی تمام طاقتیں اور اسباب یونہی رکھے رکھے رہ جائیں گے ‘۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { کافر کو قیامت کے دن لایا جائے گا، پھر آگ میں ایک غوطہٰ دلا کر پوچھا جائے گا کہ تو نے کبھی راحت بھی اٹھائی ہے تو کہے گا کہ اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور ایک اس شخص کو لایا جائے گا جس نے پوری عمر واقعی کوئی راحت چکھی ہی نہ ہو۔ اسے جنت کی ہوا کھلا کر لایا جائے گا اور سوال ہو گا کہ کیا تو نے عمر بھر کبھی کوئی برائی دیکھی ہے؟ تو وہ کہے گا اے اللہ تیری ذات پاک کی قسم میں نے کبھی کوئی زحمت نہیں اٹھائی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2807] سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عموماً یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ ”جب تو اپنی مراد کو پہنچ گیا تو گویا تو نے کبھی کسی تکلیف کا نام بھی نہیں سنا۔“
اللہ عزوجل اس کے بعد اپنے عدل کی خبر دیتا ہے کہ ’ کبھی اس نے حجت ختم ہونے سے پہلے کبھی کسی امت کو ختم نہیں کیا ‘۔ رسولوں کو بھیجتا، کتابیں اتارتا ہے، خبریں دیتا ہے، ہوشیار کرتا ہے پھر نہ ماننے والوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ پس فرمایا کہ ’ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم نے کسی امت پر عذاب بھیج دئے ہوں ‘۔ ڈرانے والے بھیج کر نصیحت کر کے عذر ہٹا کر پھر نہ مانے پر عذاب ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا ’ تیرا رب کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان کی بستیوں کی صدر بستی میں کسی رسول کو نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 209،208) {وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ…:} یعنی ہم نے جو بستی بھی ہلاک کی اس کی طرف خبردار کرنے اور ڈرانے والے بھیجے، تاکہ وہ انھیں نصیحت کریں اور یاد دہانی کروائیں، پھر جب انھوں نے ان کی نصیحت قبول نہیں کی، نہ یاد دہانی کی پروا کی تو ہم نے انھیں ہلاک کر دیا۔ ظاہر ہے کہ یہ ہماری طرف سے ان پر کوئی ظلم نہ تھا، ظلم اس وقت ہوتا جب ہم پہلے نصیحت نہ کرتے اور خبردار نہ کرتے۔ پہلی آیت کے مضمون کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۵) اور قصص (۵۹) اور دوسری آیت کے مضمون کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۴۴) اور نساء (۴۰)۔
نصیحت اور یاد دہانی کیلئے! اور ہم کبھی ظالم نہیں تھے۔
عبدالسلام بن محمد
یاد دہانی کے لیے اور ہم ظالم نہ تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفر و انکار ٭٭
تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بے سود ہو گا ان پر لعنت برس چکی ہو گی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بے خبری میں ہی آ جائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بے سود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہو جاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لا حاصل۔
فرعون ہی کو دیکھئیے موسیٰ علیہ السلام نے اس کے لیے بد دعا کی «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-يونس:88،89] جو قبول ہوئی عذاب کو دیکھ کر ڈوبتے ہوئے کہنے لگا کہ ”اب میں مسلمان ہوتا ہوں لیکن جواب ملا کہ ’ یہ ایمان بےسود ہے ‘۔ اسی طرح ایک اور آیت میں «وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدْوًا حَتَّىٰ إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [10-يونس:90-91] ہے کہ ’ ہمارا عذاب دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا ‘۔ پھر ان کی ایک اور بدبختی بیان ہو رہی ہے کہ ’ وہ اپنے نبیوں سے کہتے تھے اگر سچے ہو تو عذاب اللہ لاؤ۔ اگرچہ ہم انہیں مہلت دیں اور کچھ دنوں تک کچھ مدت تک انہیں عذاب سے بچائے رکھیں۔ پھر ان کے پاس ہمارا مقررہ عذاب آجائے۔ ان کا حال ان کی نعمتیں ان کی جاہ وحشمت غرض کوئی چیز انہیں ذرا سابھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اس وقت تک یہی معلوم ہو گا کہ شاید ایک صبح یا ایک شام ہی دنیا میں رہے ‘۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «يَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَةٍ وَمَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌ بِمَا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:96] ، ’ ان میں سے ہر ایک کی چاہت ہے کہ وہ ہزار ہزار سال جئے لیکن اتنی عمر بھی اللہ کے عذاب ہٹا نہیں سکتی ‘۔ یہی یہاں بھی فرمایا کہ ’ اسباب ان کے کچھ کام نہ آئیں گے الٹا عذاب میں مبتلا ہوتے وقت ان کی تمام طاقتیں اور اسباب یونہی رکھے رکھے رہ جائیں گے ‘۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { کافر کو قیامت کے دن لایا جائے گا، پھر آگ میں ایک غوطہٰ دلا کر پوچھا جائے گا کہ تو نے کبھی راحت بھی اٹھائی ہے تو کہے گا کہ اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور ایک اس شخص کو لایا جائے گا جس نے پوری عمر واقعی کوئی راحت چکھی ہی نہ ہو۔ اسے جنت کی ہوا کھلا کر لایا جائے گا اور سوال ہو گا کہ کیا تو نے عمر بھر کبھی کوئی برائی دیکھی ہے؟ تو وہ کہے گا اے اللہ تیری ذات پاک کی قسم میں نے کبھی کوئی زحمت نہیں اٹھائی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2807] سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عموماً یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ ”جب تو اپنی مراد کو پہنچ گیا تو گویا تو نے کبھی کسی تکلیف کا نام بھی نہیں سنا۔“
اللہ عزوجل اس کے بعد اپنے عدل کی خبر دیتا ہے کہ ’ کبھی اس نے حجت ختم ہونے سے پہلے کبھی کسی امت کو ختم نہیں کیا ‘۔ رسولوں کو بھیجتا، کتابیں اتارتا ہے، خبریں دیتا ہے، ہوشیار کرتا ہے پھر نہ ماننے والوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ پس فرمایا کہ ’ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم نے کسی امت پر عذاب بھیج دئے ہوں ‘۔ ڈرانے والے بھیج کر نصیحت کر کے عذر ہٹا کر پھر نہ مانے پر عذاب ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا ’ تیرا رب کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان کی بستیوں کی صدر بستی میں کسی رسول کو نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے ‘۔
29-1یعنی ارسال رسل اور انزار کے بغیر اگر ہم کسی بستی کو ہلاک کردیتے تو یہ ظلم ہوتا، تاہم ہم نے ایسا ظلم نہیں کیا بلکہ عدل کے تقاضوں کے مطابق ہم نے پہلے ہر بستی میں رسول بھیجے، جنہوں نے اہل بستی کو عذاب الٰہی سے ڈرایا اور اس کے بعد جب انہوں نے پیغمبر کی بات نہیں مانی، تو ہم نے انھیں ہلاک کیا۔ یہی مضمون بنی اسرائیل۔15اور قصص۔59وغیرہ میں بھی بیان کیا گیا ہے۔
’ یہ کتاب عزیز جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا جو حکیم و حمید اللہ کی طرف سے اتری ہے جس کو روح الامین جو قوت وطاقت والے ہیں لے کر آئیں ہیں اسے شیاطین نہیں لائے ‘۔ پھر ان کے نہ لانے پر تین وجوہات بیان کی گئیں، ایک تو یہ کہ وہ اس کے لائق نہیں۔ ان کا کام مخلوق کو بہکانا ہے نہ کہ راہ راست پر لانا۔ «الْأَمْر بِالْمَعْرُوفِ» اور «وَالنَّهْي عَنْ الْمُنْكَر» جو اس کتاب کی شان ہے اس کے سراسر خلاف ہے۔ یہ نور یہ ہدایت ہے یہ برہان ہے اور شیاطین ان تینوں چیزوں سے چڑتے ہیں وہ ظلمت کے دلدادہ اور ضلالت کے ہیرو ہیں۔ وہ جہالت کے شیدا ہیں پس اس کتاب میں اور ان میں تو تباین اور اختلاف ہے۔ کہاں وہ کہاں یہ؟ دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ جہاں اس کے اہل نہیں وہاں ان میں اس کو اٹھانے اور لانے کی طاقت بھی نہیں۔ «لَوْ أَنزَلْنَا هَـٰذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّـهِ وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ» ۱؎ [59-الحشر:21] یہ تو وہ ذی عزت والا کام ہے کہ ’ اگر کسی بڑے سے بڑے پہاڑ بھی اترے تو اس کو بھی چکنا چور کر دے ‘۔
پھر تیسری وجہ یہ بیان فرمائی کہ ’ وہ تو اس کے نزول کے وقت ہٹادئیے گئے تھے انہیں تو سننا بھی نہیں ملا۔ تمام آسمان پر سخت پہرہ چوکی تھی یہ سننے کے لیے چڑھتے تھے تو ان پر آگ برسائی جاتی تھیں۔ اس کا ایک حرف سن لینا بھی ان کی طاقت سے باہر تھا۔ تاکہ اللہ کا کلام محفوظ طریقے پر اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے مخلوق الٰہی کو پہنچے ‘۔ جیسے سورۃ الجن میں «وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْنَاهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَشُهُبًا وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَن يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدْ لَهُ شِهَابًا رَّصَدًا وَأَنَّا لَا نَدْرِي أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِي الْأَرْضِ أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا» ۱؎ [72-الجن:8-10] خود جنات کا مقولہ بیان ہوا ہے کہ ’ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے سخت پہر چوکی سے بھرپور پایا اور جگہ جگہ شعلے متعین پائے پہلے تو ہم بیٹھ کراکا دکا بات اڑا لایا کرتے تھے لیکن اب تو کان لگاتے ہی شعلہ لپکتا ہے اور جلا کر بھسم کر دیتا ہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 210) {وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيٰطِيْنُ:} یہ ذکر کرنے کے بعد کہ یہ قرآن رب العالمین کا نازل کردہ ہے، جسے جبریل امین لے کر آپ کے دل پر اترا ہے، اب ان لوگوں کی تردید فرمائی جو کہتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ وحی شیطان لاتے ہیں، جیسا کہ جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ جبریل علیہ السلام کی آمد رک گئی تو قریش کی ایک عورت کہنے لگی: {”أَبْطَأَ عَلَيْهِ شَيْطَانُهُ“} ”اس کے شیطان نے اس کے پاس آنے میں دیر کر دی ہے۔“ تو اس پر یہ آیات اتریں: «{ وَ الضُّحٰى (1) وَ الَّيْلِ اِذَا سَجٰى (2) مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى }» [ الضحٰی: ۱ تا ۳ ] ”قسم ہے دھوپ چڑھنے کے وقت کی! اور رات کی جب وہ چھا جائے! نہ تیرے رب نے تجھے چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔“ [ بخاري، التہجد، باب ترک القیام للمریض: ۱۱۲۵ ] اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس قرآن کو لے کر شیاطین نہیں اترے کہ یہ جادو ہو یا کہانت ہو، یا شعر ہو یا اوٹ پٹانگ خواب ہوں، کیونکہ شیاطین کا سرمایہ یہی کچھ ہوتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے شیاطین کے لیے اس کے ناممکن ہونے کی تین وجہیں بیان فرمائیں۔
نہ یہ کام ان کو سجتا ہے، اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
نہ وه اس کے قابل ہیں، نہ انہیں اس کی طاقت ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ اس قابل نہیں اور نہ وہ ایسا کرسکتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور نہ ہی یہ ان کیلئے مناسب ہے اور نہ ہی وہ اس کی طاقت رکھتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور نہ یہ ان کے لائق ہے اور نہ وہ یہ کر سکتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہ کتاب عزیز ٭٭
’ یہ کتاب عزیز جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا جو حکیم و حمید اللہ کی طرف سے اتری ہے جس کو روح الامین جو قوت وطاقت والے ہیں لے کر آئیں ہیں اسے شیاطین نہیں لائے ‘۔ پھر ان کے نہ لانے پر تین وجوہات بیان کی گئیں، ایک تو یہ کہ وہ اس کے لائق نہیں۔ ان کا کام مخلوق کو بہکانا ہے نہ کہ راہ راست پر لانا۔ «الْأَمْر بِالْمَعْرُوفِ» اور «وَالنَّهْي عَنْ الْمُنْكَر» جو اس کتاب کی شان ہے اس کے سراسر خلاف ہے۔ یہ نور یہ ہدایت ہے یہ برہان ہے اور شیاطین ان تینوں چیزوں سے چڑتے ہیں وہ ظلمت کے دلدادہ اور ضلالت کے ہیرو ہیں۔ وہ جہالت کے شیدا ہیں پس اس کتاب میں اور ان میں تو تباین اور اختلاف ہے۔ کہاں وہ کہاں یہ؟ دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ جہاں اس کے اہل نہیں وہاں ان میں اس کو اٹھانے اور لانے کی طاقت بھی نہیں۔ «لَوْ أَنزَلْنَا هَـٰذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّـهِ وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ» ۱؎ [59-الحشر:21] یہ تو وہ ذی عزت والا کام ہے کہ ’ اگر کسی بڑے سے بڑے پہاڑ بھی اترے تو اس کو بھی چکنا چور کر دے ‘۔
پھر تیسری وجہ یہ بیان فرمائی کہ ’ وہ تو اس کے نزول کے وقت ہٹادئیے گئے تھے انہیں تو سننا بھی نہیں ملا۔ تمام آسمان پر سخت پہرہ چوکی تھی یہ سننے کے لیے چڑھتے تھے تو ان پر آگ برسائی جاتی تھیں۔ اس کا ایک حرف سن لینا بھی ان کی طاقت سے باہر تھا۔ تاکہ اللہ کا کلام محفوظ طریقے پر اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے مخلوق الٰہی کو پہنچے ‘۔ جیسے سورۃ الجن میں «وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْنَاهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَشُهُبًا وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَن يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدْ لَهُ شِهَابًا رَّصَدًا وَأَنَّا لَا نَدْرِي أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِي الْأَرْضِ أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا» ۱؎ [72-الجن:8-10] خود جنات کا مقولہ بیان ہوا ہے کہ ’ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے سخت پہر چوکی سے بھرپور پایا اور جگہ جگہ شعلے متعین پائے پہلے تو ہم بیٹھ کراکا دکا بات اڑا لایا کرتے تھے لیکن اب تو کان لگاتے ہی شعلہ لپکتا ہے اور جلا کر بھسم کر دیتا ہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 211) ➊ { وَ مَا يَنْۢبَغِيْ لَهُمْ:} پہلی یہ کہ اتنا پاکیزہ کلام لے کر اترنا شیاطین کے لائق ہی نہیں، کیونکہ قرآن سراسر خیر و برکت اور نور ہے، جبکہ شیاطین سرا سر شر و فساد اور ظلمت سے بھرے ہوئے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ➋ { وَ مَا يَسْتَطِيْعُوْنَ:} دوسری یہ کہ اگر ان کے لائق ہو بھی تو وہ اس جیسا کلام لانے کی طاقت ہی نہیں رکھتے، خواہ کتنی کوشش کر لیں، فرمایا: «{ قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا}» [ بني إسرائیل: ۸۸ ] ”کہہ دے اگر سب انسان اور جن جمع ہوجائیں کہ اس قرآن جیسا بنا لائیں تو اس جیسا نہیں لائیں گے، اگرچہ ان کا بعض بعض کا مددگار ہو۔“
وہ تو اس (وحی) کے سننے سے بھی معزول کئے جا چکے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ وہ تو سننے ہی سے الگ کیے ہوئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہ کتاب عزیز ٭٭
’ یہ کتاب عزیز جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا جو حکیم و حمید اللہ کی طرف سے اتری ہے جس کو روح الامین جو قوت وطاقت والے ہیں لے کر آئیں ہیں اسے شیاطین نہیں لائے ‘۔ پھر ان کے نہ لانے پر تین وجوہات بیان کی گئیں، ایک تو یہ کہ وہ اس کے لائق نہیں۔ ان کا کام مخلوق کو بہکانا ہے نہ کہ راہ راست پر لانا۔ «الْأَمْر بِالْمَعْرُوفِ» اور «وَالنَّهْي عَنْ الْمُنْكَر» جو اس کتاب کی شان ہے اس کے سراسر خلاف ہے۔ یہ نور یہ ہدایت ہے یہ برہان ہے اور شیاطین ان تینوں چیزوں سے چڑتے ہیں وہ ظلمت کے دلدادہ اور ضلالت کے ہیرو ہیں۔ وہ جہالت کے شیدا ہیں پس اس کتاب میں اور ان میں تو تباین اور اختلاف ہے۔ کہاں وہ کہاں یہ؟ دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ جہاں اس کے اہل نہیں وہاں ان میں اس کو اٹھانے اور لانے کی طاقت بھی نہیں۔ «لَوْ أَنزَلْنَا هَـٰذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّـهِ وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ» ۱؎ [59-الحشر:21] یہ تو وہ ذی عزت والا کام ہے کہ ’ اگر کسی بڑے سے بڑے پہاڑ بھی اترے تو اس کو بھی چکنا چور کر دے ‘۔
پھر تیسری وجہ یہ بیان فرمائی کہ ’ وہ تو اس کے نزول کے وقت ہٹادئیے گئے تھے انہیں تو سننا بھی نہیں ملا۔ تمام آسمان پر سخت پہرہ چوکی تھی یہ سننے کے لیے چڑھتے تھے تو ان پر آگ برسائی جاتی تھیں۔ اس کا ایک حرف سن لینا بھی ان کی طاقت سے باہر تھا۔ تاکہ اللہ کا کلام محفوظ طریقے پر اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے مخلوق الٰہی کو پہنچے ‘۔ جیسے سورۃ الجن میں «وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْنَاهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَشُهُبًا وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَن يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدْ لَهُ شِهَابًا رَّصَدًا وَأَنَّا لَا نَدْرِي أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِي الْأَرْضِ أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا» ۱؎ [72-الجن:8-10] خود جنات کا مقولہ بیان ہوا ہے کہ ’ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے سخت پہر چوکی سے بھرپور پایا اور جگہ جگہ شعلے متعین پائے پہلے تو ہم بیٹھ کراکا دکا بات اڑا لایا کرتے تھے لیکن اب تو کان لگاتے ہی شعلہ لپکتا ہے اور جلا کر بھسم کر دیتا ہے ‘۔
212-1ان آیات میں قرآن کی، شیطانی دخل اندازیوں سے، محفوظیت کا بیان ہے۔ ایک تو اس لئے کہ شیا طین کا قرآن لے کر نازل ہونا، ان کے لائق نہیں ہے۔ کیونکہ ان کا مقصد شر و فساد اور منکرات کی اشاعت ہے، جب کہ قرآن کا مقصد نیکی کا حکم اور فروغ اور منکرات کا سد باب ہے گویا دونوں ایک دوسرے کی ضد اور باہم منافی ہیں۔ دوسرے یہ کہ شیاطین اس کی طاقت بھی نہیں رکھتے، تیسرے، نزول قرآن کے وقت شیاطین اس کے سننے سے دور اور محروم رکھے گئے، آسمانوں پر ستاروں کو چوکیدار بنادیا گیا تھا اور جو بھی شیطان اوپر جاتا یہ ستارے اس پر بجلی بن کر گرتے اور بھسم کردیتے، اس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کو شیاطین سے بچانے کا خصوصی اہتمام فرمایا۔
(آیت 212) {اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ:} تیسری وجہ یہ کہ اگر بالفرض وہ سن سنا کر لانے کی طاقت بھی رکھتے ہوں تو بارگاہ الٰہی میں ان کا دخل ہی نہیں کہ سن لیں، زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا تھا کہ وہ فرشتوں سے سن کر آگے پہنچا دیں، مگر قرآن کے نزول کے وقت ان پر فرشتوں کی باہمی گفتگو سننے پر بھی پابندی لگا دی گئی، اب وہ سننے کی کوشش کرتے ہیں تو ان پر شہابوں کی بارش ہوتی ہے۔ کوئی ایک آدھ بات چوری سے سن بھی لیں تو سیکڑوں جھوٹوں کی آمیزش کی وجہ سے اس کا اعتبار نہیں رہتا۔ دیکھیے سورۂ جنّ (۸ تا ۱۰) اور صافات (۶ تا ۱۰)۔
پس اے محمدؐ، اللہ کے ساتھ کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکارو، ورنہ تم بھی سزا پانے والوں میں شامل ہو جاؤ گے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس تو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکار کہ تو بھی سزا پانے والوں میں سے ہوجائے
احمد رضا خان بریلوی
تو اللہ کے سوا دوسرا خدا نہ پوج کہ تجھ پر عذاب ہوگا،
علامہ محمد حسین نجفی
پس آپ اللہ کے ساتھ کسی اور الہ کو نہ پکاریں ورنہ آپ بھی سزا پانے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
سو تو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو مت پکار، ورنہ تو عذاب دیے جانے والوں سے ہوجائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مستحق سزا لوگوں سے الگ ہو جاؤ ٭٭
خود اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کر دے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں ‘۔ پھر حکم دیتا ہے کہ ’ موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بے تعلق ہو جا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کر دے ‘۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے ’ تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا» ۱؎ [6-الأنعام:92] ’ تا کہ تو مکے والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے ‘۔ اور آیت میں ہے ’ تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کر دے، جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں ‘۔ دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ ’ تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا دے اور سرکشوں کو ڈرادے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ» ۱؎ [6-الأنعام:19] ’ تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں ‘۔ اور فرمان ہے ’ اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے ‘۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑ جائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:153] اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔
[١] مسند احمد میں ہے { جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور «یَا صَبَاحَاہ» کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہو گئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے اولاد عبدالمطلب! اے اولاد فہر! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟} سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں }۔ اس پر ابولہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہو جائے یہی سنانے کے لیے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورۃ «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ» ۱؎ [111-المسد:1-5] اتری }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4971]
[٢] مسند احمد میں ہے { اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے { اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آ سکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لیے تیار ہوں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:205]
[٣] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { اس آیت کے اترتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کر کے اور عام طور پر خطاب کر کے فرمایا: { اے قریشیو! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو! اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبدالمطلب کے لڑکو! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:204] بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی صفیہ اور اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی فرمایا کہ { میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کر لو } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3527] ابویعلیٰ میں ہے کہ { آپ نے فرمایا: { اے قصی! اے ہاشم! اے عبد مناف کی اولادو! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے } }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:6149:ضعیف]
[٤] مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کر دینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لیے آیا تاکہ وہ بچاؤ کر لیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کر دیا کہ پہلے ہی خبردار ہو جائیں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:207]
[۵] سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی میرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا }۔ تو ایک شخص نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو سمندر ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے؟ تین دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا ”یا رسول اللہ میں اس کے لیے تیار ہوں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:111/1:ضعیف] ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھاجاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے کھانے کے لیے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے اولاد عبدالمطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموماً نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم بیٹھ جاؤ }، تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بیعت لی }۔ ۱؎ [مسند احمد:159/1:ضعیف]
امام بہیقی رحمہ اللہ دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ { جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے }۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمانے لگے ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سزا ہوگی۔“ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: { مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کر کے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہو گا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کر کے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھرلو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو }۔ میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا بھی تھے۔ ابوطالب، حمزہ، عباس، اور ابولہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا: { لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو }۔ سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا: { اے علی انہیں پلاؤ }۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہو گئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابولہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لیے تھی۔ چنانچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت وتبلیغ کو موقعہ نہ ملا۔ دوسرے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا }۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابولہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہو گئے۔ تیسرے دن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کر دی اور فرمایا: { اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں } }۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:178/2:ضعیف] اور روایت میں یہ بھی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون میرا ساتھ دیتا ہے؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اس کی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہو گا اور یہ درجے ملیں گے }۔ لوگ سب خاموش ہو گئے لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یا رسول اللہ اس امر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وزارت میں قبول کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ { یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو }۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابوطالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:40/19:ضعیف] لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیاکرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ { جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ یہ ہے کہ { کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا } }۔ ۱؎ [ضعیف] ان روایتوں میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے؟ } اس سے مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہو جائیں گے اور مجھے قتل کر دیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری «وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» ۱؎ [5-المائدة:67] ’ اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا ‘۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے خطر ہو گئے۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنو ہاشم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق ویقین والا کوئی نہ تھا۔
اس لیے ہی آپ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ ابودرداء رضی اللہ عنہ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بے پرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے ابودرداء رضی اللہ عنہ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [26-سورةالشعراء:214-216] ہے۔ ۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:587/10:ضعیف]
پھر فرماتا ہے ’ اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ و ناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ» ۱؎ [52-الطور:48] ’ اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے‘۔ یہ بھی مطلب ہے کہ ’ جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو ‘۔ یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں رہتے تھے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے { صفیں درست کر لیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:718] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ”ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔“ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، ان کی حرکات وسکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت «وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ» ۱؎ [10-یونس:61] ، ’ تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 213) {فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ …:} قرآن کے حق اور منزل من اللہ ہونے کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اللہ کو پکارنے اور اس کے سوا کسی کو بھی نہ پکارنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اگر کسی اور کو پکارو گے تو عذاب دیے جانے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔ یہ خطاب اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے، مگر اصل مقصود کفار و مشرکین کو متنبہ کرنا ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو نہ شرک کیا نہ کرنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لیے مخاطب کیا کہ سب لوگ آگاہ ہو جائیں کہ شرک اتنا بڑا گناہ ہے کہ بالفرض رسول سے سرزد ہو جائے تو اسے بھی عذاب ہو گا، پھر دوسرے لوگوں کا کیا حال ہو گا؟ جیسا کہ فرمایا: «{ وَ لَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَ اِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ }» [ الزمر: ۶۵ ] ”اور بلاشبہ یقینا تیری طرف وحی کی گئی اور ان لوگوں کی طرف بھی جو تجھ سے پہلے تھے کہ بلاشبہ اگر تو نے شریک ٹھہرایا تو یقینا تیرا عمل ضرور ضائع ہو جائے گا اور تو ضرور بالضرور خسارہ اٹھانے والوں سے ہو جائے گا۔“
اور (اے رسول) اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو (عذاب سے) ڈراؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنے سب سے قریب رشتہ داروں کو ڈرا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مستحق سزا لوگوں سے الگ ہو جاؤ ٭٭
خود اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کر دے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں ‘۔ پھر حکم دیتا ہے کہ ’ موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بے تعلق ہو جا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کر دے ‘۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے ’ تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا» ۱؎ [6-الأنعام:92] ’ تا کہ تو مکے والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے ‘۔ اور آیت میں ہے ’ تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کر دے، جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں ‘۔ دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ ’ تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا دے اور سرکشوں کو ڈرادے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ» ۱؎ [6-الأنعام:19] ’ تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں ‘۔ اور فرمان ہے ’ اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے ‘۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑ جائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:153] اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔
[١] مسند احمد میں ہے { جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور «یَا صَبَاحَاہ» کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہو گئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے اولاد عبدالمطلب! اے اولاد فہر! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟} سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں }۔ اس پر ابولہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہو جائے یہی سنانے کے لیے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورۃ «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ» ۱؎ [111-المسد:1-5] اتری }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4971]
[٢] مسند احمد میں ہے { اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے { اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آ سکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لیے تیار ہوں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:205]
[٣] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { اس آیت کے اترتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کر کے اور عام طور پر خطاب کر کے فرمایا: { اے قریشیو! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو! اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبدالمطلب کے لڑکو! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:204] بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی صفیہ اور اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی فرمایا کہ { میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کر لو } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3527] ابویعلیٰ میں ہے کہ { آپ نے فرمایا: { اے قصی! اے ہاشم! اے عبد مناف کی اولادو! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے } }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:6149:ضعیف]
[٤] مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کر دینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لیے آیا تاکہ وہ بچاؤ کر لیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کر دیا کہ پہلے ہی خبردار ہو جائیں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:207]
[۵] سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی میرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا }۔ تو ایک شخص نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو سمندر ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے؟ تین دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا ”یا رسول اللہ میں اس کے لیے تیار ہوں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:111/1:ضعیف] ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھاجاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے کھانے کے لیے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے اولاد عبدالمطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموماً نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم بیٹھ جاؤ }، تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بیعت لی }۔ ۱؎ [مسند احمد:159/1:ضعیف]
امام بہیقی رحمہ اللہ دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ { جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے }۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمانے لگے ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سزا ہوگی۔“ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: { مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کر کے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہو گا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کر کے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھرلو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو }۔ میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا بھی تھے۔ ابوطالب، حمزہ، عباس، اور ابولہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا: { لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو }۔ سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا: { اے علی انہیں پلاؤ }۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہو گئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابولہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لیے تھی۔ چنانچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت وتبلیغ کو موقعہ نہ ملا۔ دوسرے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا }۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابولہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہو گئے۔ تیسرے دن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کر دی اور فرمایا: { اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں } }۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:178/2:ضعیف] اور روایت میں یہ بھی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون میرا ساتھ دیتا ہے؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اس کی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہو گا اور یہ درجے ملیں گے }۔ لوگ سب خاموش ہو گئے لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یا رسول اللہ اس امر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وزارت میں قبول کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ { یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو }۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابوطالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:40/19:ضعیف] لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیاکرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ { جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ یہ ہے کہ { کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا } }۔ ۱؎ [ضعیف] ان روایتوں میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے؟ } اس سے مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہو جائیں گے اور مجھے قتل کر دیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری «وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» ۱؎ [5-المائدة:67] ’ اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا ‘۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے خطر ہو گئے۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنو ہاشم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق ویقین والا کوئی نہ تھا۔
اس لیے ہی آپ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ ابودرداء رضی اللہ عنہ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بے پرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے ابودرداء رضی اللہ عنہ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [26-سورةالشعراء:214-216] ہے۔ ۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:587/10:ضعیف]
پھر فرماتا ہے ’ اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ و ناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ» ۱؎ [52-الطور:48] ’ اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے‘۔ یہ بھی مطلب ہے کہ ’ جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو ‘۔ یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں رہتے تھے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے { صفیں درست کر لیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:718] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ”ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔“ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، ان کی حرکات وسکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت «وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ» ۱؎ [10-یونس:61] ، ’ تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں ‘۔
214-1پیغمبر کی دعوت صرف رشتہ داروں کے لئے نہیں، بلکہ پوری قوم کے لئے ہوتی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو پوری نسل انسانی کے لئے ہادی اور رہبر بن کر آئے تھے۔ قریبی رشتہ داروں کو دعوت ایمان، دعوت عام کے منافی نہیں، بلکہ اسی کا ایک حصہ یا اس کا ترجیحی پہلو ہے۔ جس طرح حضرت ابراہیم ؑ نے بھی سب سے پہلے اپنے باپ آزر کو توحید کی دعوت دی تھی۔ اس حکم کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی پر چڑھ گئے اور یَا صَبَاحَا کہہ کر آواز دی۔ یہ کلمہ اس وقت بولا جاتا ہے جب دشمن اچانک حملہ کر دے، اس کے ذریعہ سے قوم کو خبردار کیا جاتا ہے۔ یہ کلمہ سن کر لوگ جمع ہوگئے، آپ نے قریش کے مختلف قبیلوں کے نام لے لے کر فرمایا، بتلاؤ اگر میں تمہیں یہ کہوں کہ اس پہاڑی کی پشت پر دشمن کا لشکر موجود ہے جو تم پر حملہ آور ہوا چاہتا ہے، تو کیا تم مانو گے؟ سب نے کہا ہاں، یقینا ہم تصدیق کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اللہ نے نذیر بنا کر بھیجا ہے، میں تمہیں ایک سخت عذاب سے ڈراتا ہوں، اس پر ابو لہب نے کہا، تیرے لئے ہلاکت ہو، کیا تو نے ہمیں اس لئے بلایا تھا؟ اس کے جواب میں یہ سورة تبت نازل ہوئی (صحیح بخاری) آپ نے اپنی بیٹی فاطمہ اور اپنی پھوپھی حضرت صفیہ کو بھی فرمایا تم اللہ کے ہاں بچاؤ کا بندوبست کرلو میں وہاں تمہارے کام نہیں آسکوں گا۔
(آیت 214) {وَ اَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ:} اور اپنے سب سے قریب رشتہ داروں کو اللہ کے عذاب سے ڈرا کہ میری قرابت پر بھروسا نہ رکھنا۔ سب سے قریب رشتہ داروں کو ڈرانے کے حکم سے ظاہر ہے کہ جو ان کے علاوہ ہیں انھیں بالاولیٰ ڈرانا ہو گا اور جب قریب ترین رشتہ داروں کو ڈرانے میں ان کی ناپسندیدگی یا ناراضی کی پروا نہیں کی جائے گی تو دوسروں کی ناراضی یا ناپسندیدگی تو اس کے مقابلے میں معمولی بات ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فریضہ کو اس طرح ادا کیا جیسے اس کا حق تھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ جب آیت: «{ وَ اَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ }» اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر چڑھے اور آواز دینے لگے: [ يَا بَنِيْ فِهْرٍ! يَا بَنِيْ عَدِيٍّ! لِبُطُوْنِ قُرَيْشٍ، حَتَّی اجْتَمَعُوْا، فَجَعَلَ الرَّجُلُ إِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَّخْرُجَ أَرْسَلَ رَسُوْلًا لِيَنْظُرَ مَا هُوَ، فَجَاءَ أَبُوْ لَهَبٍ وَ قُرَيْشٌ فَقَالَ أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِالْوَادِيْ تُرِيْدُ أَنْ تُغِيْرَ عَلَيْكُمْ أَ كُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ؟ قَالُوْا نَعَمْ مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ إِلَّا صِدْقًا، قَالَ فَإِنِّيْ نَذِيْرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ، فَقَالَ أَبُوْ لَهَبٍ تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ، أَ لِهٰذَا جَمَعْتَنَا؟ فَنَزَلَتْ: «{ تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّ (1) مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَ }» ] [ بخاري، التفسیر، باب: «و أنذر عشیرتک الأقربین …» : ۴۷۷۰ ] ”یا بنی فہر! یا بنی عدی!“ قریش کے مختلف قبائل کو آواز دی، یہاں تک کہ وہ جمع ہو گئے، کوئی آدمی خود نہ آ سکتا تو کسی دوسرے کو بھیج دیتا، تاکہ وہ دیکھے کیا معاملہ ہے۔ غرض ابولہب اور قریش سب آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ کہ اگر میں تمھیں اطلاع دوں کہ اس وادی میں ایک لشکر تم پر حملہ آور ہونا چاہتا ہے تو کیا تم مجھے سچا جانو گے؟“ انھوں نے کہا: ”ہاں! ہم نے آپ پر سچ ہی کا تجربہ کیا ہے۔“ آپ نے فرمایا: ”پھر میں تمھیں ایک شدید عذاب سے پہلے ڈرانے والا ہوں۔“ تو ابو لہب نے کہا: ”تیرے لیے سارا دن ہلاکت ہو، کیا تو نے ہمیں اسی لیے جمع کیا ہے؟“ اس پر یہ سورت اتری: «{ تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّ (1) مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَ }» [ اللھب: ۱، ۲ ] ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَا بَنِيْ عَبْدِ مَنَافٍ! اشْتَرُوْا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللّٰهِ، يَا بَنِيْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! اشْتَرُوْا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللّٰهِ، يَا أُمَّ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ عَمَّةَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ! يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ! اشْتَرِيَا أَنْفُسَكُمَا مِنَ اللّٰهِ، لَا أَمْلِكُ لَكُمَا مِنَ اللّٰهِ شَيْئًا، سَلَانِيْ مِنْ مَالِيْ مَا شِئْتُمَا ] [ بخاري، المناقب، باب من انتسب إلی آبائہ …: ۳۵۲۷ ] ”اے بنی عبد مناف! اپنی جانیں اللہ سے خرید لو، اے بنی عبد المطلب! اپنی جانیں اللہ سے خرید لو، اے زبیر بن عوام کی ماں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی (صفیہ)! اے فاطمہ بنت محمد! تم دونوں اپنی جانیں اللہ سے خرید لو، میں اللہ کے ہاں تمھارے لیے کچھ اختیار نہیں رکھتا، مجھ سے میرے مال میں سے جو چاہو مانگ لو۔“ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو اور اپنے چچا عباس کو بھی مخاطب فرمایا۔ [ دیکھیے بخاري، التفسیر، باب: «و أنذر عشیرتک…» : ۴۷۷۱ ]
اور ایمان لانے والوں میں سے جو لوگ تمہاری پیروی اختیار کریں ان کے ساتھ تواضع سے پیش آؤ
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کے ساتھ فروتنی سے پیش آ، جو بھی ایمان ﻻنے واﻻ ہو کر تیری تابعداری کرے
احمد رضا خان بریلوی
اور اپنی رحمت کا بازو بچھاؤ اپنے پیرو مسلمانوں کے لیے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو اہلِ ایمان آپ کی پیروی کریں ان کیلئے اپنا بازو جھکاؤ (ان کے ساتھ تواضع و فروتنی سے پیش آؤ)۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنا بازو اس کے لیے جھکا دے جو ایمان والوں میں سے تیرے پیچھے چلے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مستحق سزا لوگوں سے الگ ہو جاؤ ٭٭
خود اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کر دے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں ‘۔ پھر حکم دیتا ہے کہ ’ موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بے تعلق ہو جا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کر دے ‘۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے ’ تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا» ۱؎ [6-الأنعام:92] ’ تا کہ تو مکے والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے ‘۔ اور آیت میں ہے ’ تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کر دے، جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں ‘۔ دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ ’ تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا دے اور سرکشوں کو ڈرادے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ» ۱؎ [6-الأنعام:19] ’ تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں ‘۔ اور فرمان ہے ’ اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے ‘۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑ جائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:153] اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔
[١] مسند احمد میں ہے { جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور «یَا صَبَاحَاہ» کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہو گئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے اولاد عبدالمطلب! اے اولاد فہر! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟} سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں }۔ اس پر ابولہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہو جائے یہی سنانے کے لیے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورۃ «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ» ۱؎ [111-المسد:1-5] اتری }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4971]
[٢] مسند احمد میں ہے { اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے { اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آ سکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لیے تیار ہوں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:205]
[٣] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { اس آیت کے اترتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کر کے اور عام طور پر خطاب کر کے فرمایا: { اے قریشیو! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو! اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبدالمطلب کے لڑکو! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:204] بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی صفیہ اور اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی فرمایا کہ { میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کر لو } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3527] ابویعلیٰ میں ہے کہ { آپ نے فرمایا: { اے قصی! اے ہاشم! اے عبد مناف کی اولادو! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے } }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:6149:ضعیف]
[٤] مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کر دینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لیے آیا تاکہ وہ بچاؤ کر لیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کر دیا کہ پہلے ہی خبردار ہو جائیں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:207]
[۵] سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی میرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا }۔ تو ایک شخص نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو سمندر ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے؟ تین دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا ”یا رسول اللہ میں اس کے لیے تیار ہوں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:111/1:ضعیف] ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھاجاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے کھانے کے لیے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے اولاد عبدالمطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموماً نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم بیٹھ جاؤ }، تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بیعت لی }۔ ۱؎ [مسند احمد:159/1:ضعیف]
امام بہیقی رحمہ اللہ دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ { جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے }۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمانے لگے ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سزا ہوگی۔“ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: { مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کر کے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہو گا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کر کے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھرلو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو }۔ میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا بھی تھے۔ ابوطالب، حمزہ، عباس، اور ابولہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا: { لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو }۔ سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا: { اے علی انہیں پلاؤ }۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہو گئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابولہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لیے تھی۔ چنانچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت وتبلیغ کو موقعہ نہ ملا۔ دوسرے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا }۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابولہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہو گئے۔ تیسرے دن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کر دی اور فرمایا: { اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں } }۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:178/2:ضعیف] اور روایت میں یہ بھی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون میرا ساتھ دیتا ہے؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اس کی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہو گا اور یہ درجے ملیں گے }۔ لوگ سب خاموش ہو گئے لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یا رسول اللہ اس امر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وزارت میں قبول کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ { یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو }۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابوطالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:40/19:ضعیف] لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیاکرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ { جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ یہ ہے کہ { کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا } }۔ ۱؎ [ضعیف] ان روایتوں میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے؟ } اس سے مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہو جائیں گے اور مجھے قتل کر دیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری «وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» ۱؎ [5-المائدة:67] ’ اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا ‘۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے خطر ہو گئے۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنو ہاشم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق ویقین والا کوئی نہ تھا۔
اس لیے ہی آپ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ ابودرداء رضی اللہ عنہ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بے پرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے ابودرداء رضی اللہ عنہ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [26-سورةالشعراء:214-216] ہے۔ ۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:587/10:ضعیف]
پھر فرماتا ہے ’ اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ و ناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ» ۱؎ [52-الطور:48] ’ اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے‘۔ یہ بھی مطلب ہے کہ ’ جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو ‘۔ یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں رہتے تھے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے { صفیں درست کر لیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:718] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ”ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔“ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، ان کی حرکات وسکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت «وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ» ۱؎ [10-یونس:61] ، ’ تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 215) {وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ …:} ڈرانے کی ضرورت اس کے لیے ہے جو اعراض کرے، جو پیروی اختیار کرے اس کے لیے اس کے برعکس حکم دیا، فرمایا مومنوں میں سے جو آپ کے پیچھے چلیں، اپنے ہوں یا پرائے، ان کے لیے اپنا (شفقت کا) بازو جھکا دیں، جس طرح مرغی کسی خطرے کو محسوس کرکے اپنے بچوں کو اپنے پروں میں لے لیتی ہے اسی طرح آپ بھی اے پیغمبر! ان کو اپنی رحمت و عنایت کے بازؤوں کے نیچے چھپائے رکھیں۔ نرمی کا یہ حکم ان پیچھے چلنے والوں کے لیے ہے جو مومن ہیں۔ معلوم ہوا جو لوگ قرابت کی وجہ سے آپ کا ساتھ دیتے تھے، جیسے ابوطالب، بنو ہاشم اور بنو مطلب، یا حق کو پہچاننے کی وجہ سے ساتھ دیتے تھے مگر ایمان نہیں لاتے تھے، ان کے ساتھ مومنوں والی نرمی اور شفقت کا حکم نہیں۔
لیکن اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو ان سے کہو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذ مہ ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر یہ لوگ تیری نافرمانی کریں تو تو اعلان کردے کہ میں ان کاموں سے بیزار ہوں جو تم کر رہے ہو
احمد رضا خان بریلوی
تو اگر وہ تمہارا حکم نہ مانیں تو فرمادو میں تمہارے کاموں سے بے علاقہ ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ میں اس سے بیزار ہوں جو کچھ تم کرتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اگر وہ تیری نافرمانی کریں تو کہہ دے کہ بے شک میں اس سے بری ہوں جو تم کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مستحق سزا لوگوں سے الگ ہو جاؤ ٭٭
خود اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کر دے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں ‘۔ پھر حکم دیتا ہے کہ ’ موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بے تعلق ہو جا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کر دے ‘۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے ’ تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا» ۱؎ [6-الأنعام:92] ’ تا کہ تو مکے والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے ‘۔ اور آیت میں ہے ’ تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کر دے، جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں ‘۔ دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ ’ تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا دے اور سرکشوں کو ڈرادے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ» ۱؎ [6-الأنعام:19] ’ تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں ‘۔ اور فرمان ہے ’ اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے ‘۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑ جائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:153] اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔
[١] مسند احمد میں ہے { جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور «یَا صَبَاحَاہ» کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہو گئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے اولاد عبدالمطلب! اے اولاد فہر! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟} سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں }۔ اس پر ابولہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہو جائے یہی سنانے کے لیے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورۃ «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ» ۱؎ [111-المسد:1-5] اتری }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4971]
[٢] مسند احمد میں ہے { اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے { اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آ سکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لیے تیار ہوں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:205]
[٣] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { اس آیت کے اترتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کر کے اور عام طور پر خطاب کر کے فرمایا: { اے قریشیو! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو! اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبدالمطلب کے لڑکو! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:204] بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی صفیہ اور اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی فرمایا کہ { میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کر لو } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3527] ابویعلیٰ میں ہے کہ { آپ نے فرمایا: { اے قصی! اے ہاشم! اے عبد مناف کی اولادو! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے } }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:6149:ضعیف]
[٤] مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کر دینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لیے آیا تاکہ وہ بچاؤ کر لیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کر دیا کہ پہلے ہی خبردار ہو جائیں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:207]
[۵] سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی میرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا }۔ تو ایک شخص نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو سمندر ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے؟ تین دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا ”یا رسول اللہ میں اس کے لیے تیار ہوں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:111/1:ضعیف] ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھاجاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے کھانے کے لیے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے اولاد عبدالمطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموماً نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم بیٹھ جاؤ }، تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بیعت لی }۔ ۱؎ [مسند احمد:159/1:ضعیف]
امام بہیقی رحمہ اللہ دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ { جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے }۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمانے لگے ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سزا ہوگی۔“ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: { مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کر کے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہو گا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کر کے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھرلو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو }۔ میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا بھی تھے۔ ابوطالب، حمزہ، عباس، اور ابولہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا: { لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو }۔ سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا: { اے علی انہیں پلاؤ }۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہو گئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابولہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لیے تھی۔ چنانچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت وتبلیغ کو موقعہ نہ ملا۔ دوسرے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا }۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابولہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہو گئے۔ تیسرے دن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کر دی اور فرمایا: { اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں } }۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:178/2:ضعیف] اور روایت میں یہ بھی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون میرا ساتھ دیتا ہے؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اس کی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہو گا اور یہ درجے ملیں گے }۔ لوگ سب خاموش ہو گئے لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یا رسول اللہ اس امر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وزارت میں قبول کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ { یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو }۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابوطالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:40/19:ضعیف] لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیاکرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ { جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ یہ ہے کہ { کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا } }۔ ۱؎ [ضعیف] ان روایتوں میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے؟ } اس سے مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہو جائیں گے اور مجھے قتل کر دیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری «وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» ۱؎ [5-المائدة:67] ’ اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا ‘۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے خطر ہو گئے۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنو ہاشم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق ویقین والا کوئی نہ تھا۔
اس لیے ہی آپ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ ابودرداء رضی اللہ عنہ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بے پرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے ابودرداء رضی اللہ عنہ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [26-سورةالشعراء:214-216] ہے۔ ۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:587/10:ضعیف]
پھر فرماتا ہے ’ اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ و ناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ» ۱؎ [52-الطور:48] ’ اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے‘۔ یہ بھی مطلب ہے کہ ’ جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو ‘۔ یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں رہتے تھے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے { صفیں درست کر لیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:718] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ”ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔“ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، ان کی حرکات وسکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت «وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ» ۱؎ [10-یونس:61] ، ’ تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 216) {فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ …:} یعنی پھر اگر وہ تیری نافرمانی کریں، تیرے قریب ترین رشتہ دار ہوں یا کوئی اور، تو ان کے ساتھ مومنوں کے لیے نرمی والے معاملے کے بجائے ان سے الگ ہو جا اور کہہ دے کہ تم جس نافرمانی کا ارتکاب کر رہے ہو میں اس سے بری ہوں۔ ممکن ہے تیرا لاتعلقی کا اعلان ہی انھیں واپس لے آئے، یا کم از کم تو اللہ کے ہاں بری ہو جائے۔
اور اس (پروردگار) پر بھروسہ کیجئے جو غالب ہے اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس سب پر غالب، نہایت رحم والے پر بھروسا کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مستحق سزا لوگوں سے الگ ہو جاؤ ٭٭
خود اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کر دے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں ‘۔ پھر حکم دیتا ہے کہ ’ موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بے تعلق ہو جا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کر دے ‘۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے ’ تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا» ۱؎ [6-الأنعام:92] ’ تا کہ تو مکے والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے ‘۔ اور آیت میں ہے ’ تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کر دے، جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں ‘۔ دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ ’ تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا دے اور سرکشوں کو ڈرادے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ» ۱؎ [6-الأنعام:19] ’ تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں ‘۔ اور فرمان ہے ’ اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے ‘۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑ جائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:153] اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔
[١] مسند احمد میں ہے { جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور «یَا صَبَاحَاہ» کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہو گئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے اولاد عبدالمطلب! اے اولاد فہر! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟} سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں }۔ اس پر ابولہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہو جائے یہی سنانے کے لیے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورۃ «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ» ۱؎ [111-المسد:1-5] اتری }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4971]
[٢] مسند احمد میں ہے { اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے { اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آ سکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لیے تیار ہوں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:205]
[٣] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { اس آیت کے اترتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کر کے اور عام طور پر خطاب کر کے فرمایا: { اے قریشیو! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو! اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبدالمطلب کے لڑکو! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:204] بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی صفیہ اور اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی فرمایا کہ { میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کر لو } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3527] ابویعلیٰ میں ہے کہ { آپ نے فرمایا: { اے قصی! اے ہاشم! اے عبد مناف کی اولادو! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے } }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:6149:ضعیف]
[٤] مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کر دینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لیے آیا تاکہ وہ بچاؤ کر لیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کر دیا کہ پہلے ہی خبردار ہو جائیں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:207]
[۵] سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی میرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا }۔ تو ایک شخص نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو سمندر ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے؟ تین دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا ”یا رسول اللہ میں اس کے لیے تیار ہوں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:111/1:ضعیف] ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھاجاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے کھانے کے لیے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے اولاد عبدالمطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموماً نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم بیٹھ جاؤ }، تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بیعت لی }۔ ۱؎ [مسند احمد:159/1:ضعیف]
امام بہیقی رحمہ اللہ دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ { جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے }۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمانے لگے ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سزا ہوگی۔“ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: { مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کر کے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہو گا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کر کے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھرلو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو }۔ میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا بھی تھے۔ ابوطالب، حمزہ، عباس، اور ابولہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا: { لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو }۔ سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا: { اے علی انہیں پلاؤ }۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہو گئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابولہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لیے تھی۔ چنانچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت وتبلیغ کو موقعہ نہ ملا۔ دوسرے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا }۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابولہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہو گئے۔ تیسرے دن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کر دی اور فرمایا: { اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں } }۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:178/2:ضعیف] اور روایت میں یہ بھی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون میرا ساتھ دیتا ہے؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اس کی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہو گا اور یہ درجے ملیں گے }۔ لوگ سب خاموش ہو گئے لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یا رسول اللہ اس امر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وزارت میں قبول کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ { یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو }۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابوطالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:40/19:ضعیف] لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیاکرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ { جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ یہ ہے کہ { کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا } }۔ ۱؎ [ضعیف] ان روایتوں میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے؟ } اس سے مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہو جائیں گے اور مجھے قتل کر دیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری «وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» ۱؎ [5-المائدة:67] ’ اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا ‘۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے خطر ہو گئے۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنو ہاشم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق ویقین والا کوئی نہ تھا۔
اس لیے ہی آپ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ ابودرداء رضی اللہ عنہ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بے پرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے ابودرداء رضی اللہ عنہ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [26-سورةالشعراء:214-216] ہے۔ ۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:587/10:ضعیف]
پھر فرماتا ہے ’ اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ و ناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ» ۱؎ [52-الطور:48] ’ اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے‘۔ یہ بھی مطلب ہے کہ ’ جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو ‘۔ یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں رہتے تھے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے { صفیں درست کر لیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:718] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ”ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔“ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، ان کی حرکات وسکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت «وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ» ۱؎ [10-یونس:61] ، ’ تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 217) {وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيْزِ الرَّحِيْمِ:} جب ہر نافرمانی کرنے والے سے براء ت کا اعلان کرنے کا حکم دیا تو ساتھ ہی فرمایا کہ نافرمانی کرنے والے کوئی ہوں یا کتنے ہوں، تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اس لیے سب سے بیزار ہو کر اس مالک پر بھروسا رکھ، جو عزیز (سب پر غالب) بھی ہے کہ اس کے مقابلے میں کسی کی پیش نہیں جاتی اور رحیم (بے حد رحم والا) بھی کہ اس کی بے حساب رحمت ہمیشہ اپنوں پر متوجہ رہتی ہے۔توکل کا معنی اپنا کام اس کے سپرد کر دینا جس کے متعلق یقین ہو کہ وہ اس کے لیے کافی ہو جائے گا۔
خود اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کر دے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں ‘۔ پھر حکم دیتا ہے کہ ’ موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بے تعلق ہو جا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کر دے ‘۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے ’ تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا» ۱؎ [6-الأنعام:92] ’ تا کہ تو مکے والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے ‘۔ اور آیت میں ہے ’ تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کر دے، جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں ‘۔ دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ ’ تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا دے اور سرکشوں کو ڈرادے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ» ۱؎ [6-الأنعام:19] ’ تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں ‘۔ اور فرمان ہے ’ اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے ‘۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑ جائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:153] اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔
[١] مسند احمد میں ہے { جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور «یَا صَبَاحَاہ» کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہو گئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے اولاد عبدالمطلب! اے اولاد فہر! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟} سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں }۔ اس پر ابولہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہو جائے یہی سنانے کے لیے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورۃ «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ» ۱؎ [111-المسد:1-5] اتری }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4971]
[٢] مسند احمد میں ہے { اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے { اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آ سکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لیے تیار ہوں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:205]
[٣] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { اس آیت کے اترتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کر کے اور عام طور پر خطاب کر کے فرمایا: { اے قریشیو! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو! اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبدالمطلب کے لڑکو! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:204] بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی صفیہ اور اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی فرمایا کہ { میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کر لو } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3527] ابویعلیٰ میں ہے کہ { آپ نے فرمایا: { اے قصی! اے ہاشم! اے عبد مناف کی اولادو! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے } }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:6149:ضعیف]
[٤] مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کر دینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لیے آیا تاکہ وہ بچاؤ کر لیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کر دیا کہ پہلے ہی خبردار ہو جائیں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:207]
[۵] سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی میرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا }۔ تو ایک شخص نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو سمندر ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے؟ تین دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا ”یا رسول اللہ میں اس کے لیے تیار ہوں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:111/1:ضعیف] ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھاجاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے کھانے کے لیے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے اولاد عبدالمطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموماً نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم بیٹھ جاؤ }، تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بیعت لی }۔ ۱؎ [مسند احمد:159/1:ضعیف]
امام بہیقی رحمہ اللہ دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ { جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے }۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمانے لگے ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سزا ہوگی۔“ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: { مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کر کے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہو گا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کر کے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھرلو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو }۔ میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا بھی تھے۔ ابوطالب، حمزہ، عباس، اور ابولہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا: { لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو }۔ سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا: { اے علی انہیں پلاؤ }۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہو گئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابولہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لیے تھی۔ چنانچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت وتبلیغ کو موقعہ نہ ملا۔ دوسرے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا }۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابولہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہو گئے۔ تیسرے دن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کر دی اور فرمایا: { اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں } }۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:178/2:ضعیف] اور روایت میں یہ بھی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون میرا ساتھ دیتا ہے؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اس کی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہو گا اور یہ درجے ملیں گے }۔ لوگ سب خاموش ہو گئے لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یا رسول اللہ اس امر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وزارت میں قبول کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ { یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو }۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابوطالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:40/19:ضعیف] لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیاکرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ { جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ یہ ہے کہ { کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا } }۔ ۱؎ [ضعیف] ان روایتوں میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے؟ } اس سے مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہو جائیں گے اور مجھے قتل کر دیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری «وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» ۱؎ [5-المائدة:67] ’ اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا ‘۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے خطر ہو گئے۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنو ہاشم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق ویقین والا کوئی نہ تھا۔
اس لیے ہی آپ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ ابودرداء رضی اللہ عنہ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بے پرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے ابودرداء رضی اللہ عنہ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [26-سورةالشعراء:214-216] ہے۔ ۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:587/10:ضعیف]
پھر فرماتا ہے ’ اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ و ناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ» ۱؎ [52-الطور:48] ’ اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے‘۔ یہ بھی مطلب ہے کہ ’ جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو ‘۔ یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں رہتے تھے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے { صفیں درست کر لیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:718] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ”ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔“ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، ان کی حرکات وسکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت «وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ» ۱؎ [10-یونس:61] ، ’ تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 218تا220) ➊ {الَّذِيْ يَرٰىكَ حِيْنَ تَقُوْمُ …:} یعنی اس عزیز و رحیم پر بھروسا رکھ جو ہر وقت تجھے دیکھ رہا ہے، اس وقت بھی جب تو کھڑا ہوتا ہے، رات قیام میں کھڑا ہو یا دعوت و جہاد کے فریضے کی ادائیگی کے لیے، یا کسی بھی کام کے لیے اور تیرے صحابہ میں تیرے گھومنے پھرنے کو بھی دیکھ رہا ہے جن کا خاص وصف ساجدین ہے، فرمایا: «{ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ }» [ الفتح: ۲۹ ] ”تو انھیں اس حال میں دیکھے گا کہ رکوع کرنے والے ہیں، سجدے کرنے والے ہیں، اپنے رب کا فضل اور (اس کی) رضا ڈھونڈتے ہیں، ان کی شناخت ان کے چہروں میں (موجود) ہے۔“ جب تو ان کے ساتھ باجماعت نماز کی حالت میں اپنی ہیئت بدل رہا ہوتا ہے، کبھی ان کے ساتھ سجدے میں ہوتا ہے، کبھی رکوع میں، کبھی قیام میں اور جب تو ان سجدہ گزاروں کے ساتھ دعوت یا جہاد کے کام میں پھر رہا ہوتا ہے تو تیرا رب ہر وقت تجھے دیکھ رہا ہے اور اپنے اس قیام اور پھرنے میں تو جو کچھ کہتا ہے وہ اسے سنتا ہے اور جو کچھ تو کرتا ہے اسے جانتا ہے، کیونکہ وہی سننے والا، جاننے والا ہے۔ اس لیے اس پر بھروسا رکھ جس کی نگاہ سے تو ایک لمحہ اوجھل نہیں، وہ تجھے کبھی بے سہارا نہیں چھوڑے گا۔ ➋ ان آیات میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی شب و روز کی مصروفیات کو جو شخص بھی غور سے دیکھے گا وہ کبھی نہیں کہہ سکتا کہ ان لوگوں کا شیطان سے کوئی تعلق ہو سکتا ہے۔
اور سجدہ گزار لوگوں میں تمہاری نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور سجده کرنے والوں کے درمیان تیرا گھومنا پھرنا بھی
احمد رضا خان بریلوی
اور نمازیوں میں تمہارے دورے کو
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب آپ سجدہ کرنے والوں میں نشست و برخاست کرتے ہیں تب بھی دیکھتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور سجدہ کرنے والوں میں تیرے پھرنے کو بھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مستحق سزا لوگوں سے الگ ہو جاؤ ٭٭
خود اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کر دے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں ‘۔ پھر حکم دیتا ہے کہ ’ موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بے تعلق ہو جا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کر دے ‘۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے ’ تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا» ۱؎ [6-الأنعام:92] ’ تا کہ تو مکے والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے ‘۔ اور آیت میں ہے ’ تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کر دے، جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں ‘۔ دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ ’ تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا دے اور سرکشوں کو ڈرادے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ» ۱؎ [6-الأنعام:19] ’ تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں ‘۔ اور فرمان ہے ’ اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے ‘۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑ جائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:153] اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔
[١] مسند احمد میں ہے { جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور «یَا صَبَاحَاہ» کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہو گئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے اولاد عبدالمطلب! اے اولاد فہر! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟} سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں }۔ اس پر ابولہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہو جائے یہی سنانے کے لیے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورۃ «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ» ۱؎ [111-المسد:1-5] اتری }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4971]
[٢] مسند احمد میں ہے { اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے { اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آ سکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لیے تیار ہوں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:205]
[٣] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { اس آیت کے اترتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کر کے اور عام طور پر خطاب کر کے فرمایا: { اے قریشیو! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو! اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبدالمطلب کے لڑکو! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:204] بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی صفیہ اور اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی فرمایا کہ { میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کر لو } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3527] ابویعلیٰ میں ہے کہ { آپ نے فرمایا: { اے قصی! اے ہاشم! اے عبد مناف کی اولادو! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے } }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:6149:ضعیف]
[٤] مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کر دینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لیے آیا تاکہ وہ بچاؤ کر لیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کر دیا کہ پہلے ہی خبردار ہو جائیں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:207]
[۵] سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی میرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا }۔ تو ایک شخص نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو سمندر ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے؟ تین دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا ”یا رسول اللہ میں اس کے لیے تیار ہوں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:111/1:ضعیف] ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھاجاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے کھانے کے لیے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے اولاد عبدالمطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموماً نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم بیٹھ جاؤ }، تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بیعت لی }۔ ۱؎ [مسند احمد:159/1:ضعیف]
امام بہیقی رحمہ اللہ دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ { جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے }۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمانے لگے ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سزا ہوگی۔“ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: { مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کر کے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہو گا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کر کے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھرلو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو }۔ میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا بھی تھے۔ ابوطالب، حمزہ، عباس، اور ابولہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا: { لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو }۔ سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا: { اے علی انہیں پلاؤ }۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہو گئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابولہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لیے تھی۔ چنانچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت وتبلیغ کو موقعہ نہ ملا۔ دوسرے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا }۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابولہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہو گئے۔ تیسرے دن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کر دی اور فرمایا: { اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں } }۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:178/2:ضعیف] اور روایت میں یہ بھی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون میرا ساتھ دیتا ہے؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اس کی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہو گا اور یہ درجے ملیں گے }۔ لوگ سب خاموش ہو گئے لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یا رسول اللہ اس امر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وزارت میں قبول کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ { یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو }۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابوطالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:40/19:ضعیف] لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیاکرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ { جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ یہ ہے کہ { کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا } }۔ ۱؎ [ضعیف] ان روایتوں میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے؟ } اس سے مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہو جائیں گے اور مجھے قتل کر دیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری «وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» ۱؎ [5-المائدة:67] ’ اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا ‘۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے خطر ہو گئے۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنو ہاشم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق ویقین والا کوئی نہ تھا۔
اس لیے ہی آپ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ ابودرداء رضی اللہ عنہ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بے پرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے ابودرداء رضی اللہ عنہ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [26-سورةالشعراء:214-216] ہے۔ ۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:587/10:ضعیف]
پھر فرماتا ہے ’ اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ و ناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ» ۱؎ [52-الطور:48] ’ اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے‘۔ یہ بھی مطلب ہے کہ ’ جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو ‘۔ یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں رہتے تھے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے { صفیں درست کر لیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:718] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ”ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔“ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، ان کی حرکات وسکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت «وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ» ۱؎ [10-یونس:61] ، ’ تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں ‘۔
219-1یعنی جب تو تنہا ہوتا ہے، تب بھی اللہ دیکھتا ہے اور جب لوگوں میں ہوتا ہے تب بھی۔
خود اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کر دے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں ‘۔ پھر حکم دیتا ہے کہ ’ موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بے تعلق ہو جا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کر دے ‘۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے ’ تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا» ۱؎ [6-الأنعام:92] ’ تا کہ تو مکے والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے ‘۔ اور آیت میں ہے ’ تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کر دے، جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں ‘۔ دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ ’ تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا دے اور سرکشوں کو ڈرادے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ» ۱؎ [6-الأنعام:19] ’ تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں ‘۔ اور فرمان ہے ’ اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے ‘۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑ جائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:153] اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔
[١] مسند احمد میں ہے { جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور «یَا صَبَاحَاہ» کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہو گئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے اولاد عبدالمطلب! اے اولاد فہر! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟} سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں }۔ اس پر ابولہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہو جائے یہی سنانے کے لیے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورۃ «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ» ۱؎ [111-المسد:1-5] اتری }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4971]
[٢] مسند احمد میں ہے { اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے { اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آ سکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لیے تیار ہوں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:205]
[٣] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { اس آیت کے اترتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کر کے اور عام طور پر خطاب کر کے فرمایا: { اے قریشیو! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو! اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبدالمطلب کے لڑکو! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:204] بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی صفیہ اور اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی فرمایا کہ { میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کر لو } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3527] ابویعلیٰ میں ہے کہ { آپ نے فرمایا: { اے قصی! اے ہاشم! اے عبد مناف کی اولادو! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے } }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:6149:ضعیف]
[٤] مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کر دینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لیے آیا تاکہ وہ بچاؤ کر لیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کر دیا کہ پہلے ہی خبردار ہو جائیں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:207]
[۵] سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی میرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا }۔ تو ایک شخص نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو سمندر ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے؟ تین دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا ”یا رسول اللہ میں اس کے لیے تیار ہوں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:111/1:ضعیف] ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھاجاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے کھانے کے لیے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے اولاد عبدالمطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموماً نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم بیٹھ جاؤ }، تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بیعت لی }۔ ۱؎ [مسند احمد:159/1:ضعیف]
امام بہیقی رحمہ اللہ دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ { جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے }۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمانے لگے ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سزا ہوگی۔“ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: { مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کر کے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہو گا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کر کے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھرلو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو }۔ میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا بھی تھے۔ ابوطالب، حمزہ، عباس، اور ابولہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا: { لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو }۔ سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا: { اے علی انہیں پلاؤ }۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہو گئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابولہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لیے تھی۔ چنانچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت وتبلیغ کو موقعہ نہ ملا۔ دوسرے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا }۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابولہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہو گئے۔ تیسرے دن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کر دی اور فرمایا: { اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں } }۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:178/2:ضعیف] اور روایت میں یہ بھی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون میرا ساتھ دیتا ہے؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اس کی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہو گا اور یہ درجے ملیں گے }۔ لوگ سب خاموش ہو گئے لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یا رسول اللہ اس امر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وزارت میں قبول کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ { یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو }۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابوطالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:40/19:ضعیف] لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیاکرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ { جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ یہ ہے کہ { کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا } }۔ ۱؎ [ضعیف] ان روایتوں میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے؟ } اس سے مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہو جائیں گے اور مجھے قتل کر دیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری «وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» ۱؎ [5-المائدة:67] ’ اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا ‘۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے خطر ہو گئے۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنو ہاشم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق ویقین والا کوئی نہ تھا۔
اس لیے ہی آپ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ ابودرداء رضی اللہ عنہ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بے پرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے ابودرداء رضی اللہ عنہ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [26-سورةالشعراء:214-216] ہے۔ ۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:587/10:ضعیف]
پھر فرماتا ہے ’ اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ و ناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ» ۱؎ [52-الطور:48] ’ اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے‘۔ یہ بھی مطلب ہے کہ ’ جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو ‘۔ یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں رہتے تھے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے { صفیں درست کر لیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:718] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ”ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔“ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، ان کی حرکات وسکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت «وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ» ۱؎ [10-یونس:61] ، ’ تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں ‘۔
لوگو، کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اُترا کرتے ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا میں تمہیں بتادوں کہ کس پر اترتے ہیں شیطان،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کیا میں تمھیں بتاؤں شیاطین کس پر اترتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیاطین اور جادوگر ٭٭
مشرکین کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اس کو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر جھوٹ بولنے والے ہوں۔ بدکردار اور گناہگار ہوں۔ ایسے کاہنوں اور بدکرداروں اور جھوٹے لوگوں کے پاس جنات اور شیاطین پہنچتے ہیں کیونکہ وہ بھی جھوٹے اور بداعمال ہیں۔ اچٹتی ہوئی کوئی ایک آدھ بات سنی سنائی پہنچاتے ہیں اور وہ ایک جو آسمان سے چھپے چھپائے سن لی تو سو جھوٹ اس میں ملا کر کاہنوں کے کان میں ڈالدی۔ انہوں نے اپنی طرف سے پھر بہت سی باتیں شامل کر کے لوگوں میں ڈینگیں مار دیں۔ اب ایک آدھ بات تو سچی نکلی لیکن لوگوں نے ان کی اور سو جھوٹی باتیں بھی سچی مان لیں اور تباہ ہوئے۔ بخاری شریف میں ہے کہ { لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ کوئی چیز نہیں ہیں }۔ لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی تو ان کی کوئی بات کھری بھی نکل آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں یہ وہی بات ہوتی ہے جو جنات آسمان سے اڑا لاتے ہیں اور ان کے کان میں کہہ کر جاتے ہیں پھر اس کے ساتھ جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر کہہ دیتے ہیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5762] صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ { جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے با ادب اپنے پر جھکا دیتے ہیں۔ ایسی آواز آتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر بجائی جاتی ہو جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوتی ہے تو آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ رب کا کیا حکم صادر ہوا ہے؟ دوسرے جواب دیتے ہیں کہ رب نے یہ فرمایا اور وہ عالی شان اور بہت بڑی کبرائی والا ہے۔ کبھی کبھی امر الٰہی سے چوری چھپے سننے والے کسی جن کے کان میں بھنک پڑجاتی ہے جو اس طرح ایک پر ایک پر ہو کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ راوی حدیث سیدنا سفیان نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیلا کر اس پر دوسرا ہاتھ اس طرح رکھ کر انہیں ہلا کر بتایا کہ اس طرح۔ اب اوپر والا نیچے والے کو اور وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتلا دیتا ہے یہاں تک کہ جادوگر اور کاہن کو وہ پہنچادیتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات پہنچاتے اس سے پہلے شعلہ پہنچ جاتا ہے اور کبھی اس کے پہلے ہی وہ پہنچا دیتے ہیں اس میں کاہن وجادوگر اپنے سوجھوٹ شامل کر کے مشہور کرتا ہے چونکہ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ سب باتوں کو ہی سچا سمجھنے لگتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4800] ان تمام احایث کا بیان آیت «حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ» ۱؎ [34-سبأ:23] کی تفسیر میں آئے گا۔ ان شاءاللہ۔
بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ { فرشتے آسمانی امر کی بات چیت بادلوں پر کرتے ہیں جسے شیطان سن کر کاہنوں اور وہ ایک سچ میں سو جھوٹ ملاتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3288] پھر فرمایا کہ ’ کافر شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے ہیں ‘۔ عرب کے شاعروں کا دستور تھا کسی کی مذمت اور ہجو میں کچھ کہہ ڈالتے تھے لوگوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہو جاتی تھی اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگتی تھی۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ عرج میں جا رہے تھے راستے میں ایک شاعر شعر خوانی کرتے ہوئے ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس شیطان کو پکڑ لو } یا فرمایا: { روکو! تم میں سے کوئی شخص خون اور پیپ سے اپنا پیٹ بھرلے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے اپنا پیٹ بھرے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2259] انہیں ہر جنگل کی ٹھوکریں کھاتے کسی نے نہیں دیکھا؟ ہر لغو میں یہ گھس جاتے ہیں۔ کلام کے ہر فن میں بولتے ہیں۔ کبھی کسی کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ کبھی کسی کی مذمت میں آسمان و زمین سر پر اٹھاتے ہیں جھوٹی خوشامد جھوٹی برائیاں گھڑی ہوئی بدیاں ان کے حصے میں آئی ہیں۔ یہ زبان کے بھانڈ ہوتے ہیں لیکن کام کے کاہل ایک انصاری اور ایک دوسری قوم کے شخص نے ہجو کا مقابلہ کیا جس میں دنوں کے قوم کے بڑے بڑے لوگ بھی ان کے ساتھ ہوگئے۔ پس اس آیت میں یہی ہے کہ ان کا ساتھ دینے والے گمراہ لوگ ہیں۔ وہ وہ باتیں بکا کرتے ہیں جنہیں کسی نے کبھی کیا نہ ہو۔ اسی لیے علماء نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ اگر کسی شاعر نے نے اپنے شعر میں کسی ایسے گناہ کا اقرار کیا ہو جس پر حد شرع واجب ہوتی ہو تو آیا وہ حد اس پر جاری کی جائے گی یا نہیں؟ دونوں طرف علماء گئے۔ واقعی وہ فخر و غرور کے ساتھ ایسی باتیں بک دیتے ہیں کہ میں نے یہ کیا اور وہ کیا حالانکہ نہ کچھ کیا ہو اور نہ ہی کر سکتے ہوں۔ امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا نے اپنی خلافت کے زمانے میں نعمان بن عدی بن فضلہ کو بصرے کے شہر یسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ وہ شاعر تھے ایک مرتبہ اپنے شعروں میں کہا کہ ”کیا حسینوں کو یہ اطلاع نہیں ہوئی کہ ان کا محبوب یسان میں ہے جہاں ہر وقت شیشے کے گلاسوں میں دور شراب چل رہا ہے اور گاؤں کی بھولی لڑکیوں نے گانے اور ان کے رقص وسرور مہیا ہیں ہاں اگر میرے کسی دوست سے ہو سکے تو اس بڑے اور بھرے ہوئے جام مجھے پلائے لیکن ان سے چھوٹے جام مجھے سخت ناپسند ہیں۔“ اللہ کرے امیر المؤمنین کو یہ خبر نہ پہنچے ورنہ برا مانیں گے اور سزادیں گے۔ یہ اشعار سچ مچ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئے آپ رضی اللہ عنہ سخت ناراض ہوئے اور اسی وقت آدمی بھیجا کہ میں نے تجھے تیرے عہدے سے معزول کیا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خط بھیجا جس میں بسم اللہ کے بعد حم کی تین آیتیں «حم تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ» ۱؎ [40-غافر:1-3] تک لکھ کر پھر تحریر فرمایا کہ ”تیرے اشعار سے مجھے سخت رنج ہوا۔ میں تجھے تیرے عہدے سے معزول کرتا ہوں۔“ چنانچہ اس خط کو پڑھتے ہی نعمان دربار خلافت میں حاضر ہوئے اور با ادب عرض کیا کہ امیر المؤمنین واللہ نہ میں نے کبھی شراب پی نہ ناچ رنگ وگانا بجانا دیکھا، نہ سنا۔ یہ تو صرف شاعرانہ ترنگ تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہی میرا خیال ہے لیکن میری تو ہمت نہیں پڑتی کہ ایسے فحش گو شاعر کو کوئی عہدہ دوں۔“ پس معلوم ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک بھی شاعر اپنے شعروں میں کسی جرم کے اعلان پر اگرچہ وہ قابل حد ہو تو حد نہیں لگائی جائے گی اس لیے کہ وہ جو کہتے ہیں سو کرتے نہیں ہاں وہ قابل ملامت اور لائق سرزنش ضرور ہیں۔
چنانچہ حدیث میں ہے کہ { پیٹ کو لہو پیپ سے بھر لینا اشعار سے بھرلینے سے بد تر ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2258] مطلب یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو شاعر ہیں، نہ ساحر، نہ کاہن، نہ مفتری ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہر حال ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان عیوب سے برأت کا بہت بڑا عادل گواہ ہے جیسے فرمان ہے کہ «وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْآنٌ مُّبِينٌ» ۱؎ [36-يس:69] ’ تو ہم نے انہیں شعر گوئی سکھائی ہے نہ اس کے لائق ہے یہ تو صرف نصیحت اور قرآن مبین ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [69-الحاقة:40-43] ’ یہ رسول اللہ کا قول ہے کسی شاعر کا نہیں تم میں ایمان کی کمی ہے یہ کسی کاہن کا قول نہیں۔ تم میں نصیحت ماننے کا مادہ کم ہے یہ تو رب العلمین کی اتاری ہوئی کتاب ہے ‘۔ اس سورت میں بھی یہی فرمایا گیا کہ ’ یہ رب العلمین کی طرف سے اتری ہے۔ روح الامین نے تیرے دل پر نازل فرمائی ہے عربی زبان میں ہے اس لیے کہ تو لوگوں کو آگاہ کر دے اسے شیاطین لے کر نہیں آئے نہ یہ ان کے لائق ہے نہ ان کی بس کی بات ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ کر دئیے گئے ہیں ‘۔ جو جھوٹے مفتری اور بد کردار ہوتے ہیں ان کے پاس شیاطین آتے ہیں جو اچٹتی باتیں سن سنا کر ان کے کانوں میں آ کر ڈال جاتے ہیں۔ محض جھوٹ بولنے والے یہ خود ہوتے ہیں شاعروں کی پشت پناہی اوباشوں کا کام ہے وہ تو ہر وادی میں سرگرداں ہوتے ہیں زبانی باتیں بناتیں ہیں عمل سے کورے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جو فرمان ہے اس کا شان نزول یہ ہے کہ { اس سے اگلی آیت جس میں شاعروں کی مذمت ہے جب اتری تو دربار رسول کے شعراء حسان بن ثابت، عبداللہ بن رواحہ، کعب بن مالک رضی اللہ عنہم روتے ہوئے دربار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعروں کی تو یہ گت بنی اور ہم بھی شاعر ہیں اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دوسری آیت تلاوت فرمائی کہ ’ ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے تم ہو ذکر اللہ بکثرت کرنے والے تم ہو مظلوم ہو کر بدلہ لینے والے تم ہو پس تم ان سے مستثنٰی ہو ‘ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26848:ضعیف] ۔
ایک روایت میں کعب رضی اللہ عنہ کا نام ہے ایک روایت میں صرف عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اس شکایت پر کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعر تو میں بھی ہوں۔“ اس دوسری آیت کا نازل ہونا مروی ہے لیکن یہ قابل نظر، اس لیے کہ یہ سورت مکیہ ہے شعراء انصار جتنے بھی تھے وہ سب مدینے میں تھے پھر ان کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا یقیناً محل غور ہو گا اور جو حدیثیں بیان ہوئیں وہ مرسل ہیں اس وجہ سے اعتماد نہیں ہوسکتا ہے یہ آیت بے شک استثناء کے بارے میں ہے اور صرف یہی انصاری شعراء رضی اللہ عنہم ہی نہیں بلکہ اگر کسی شاعر نے اپنی جاہلیت کے زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی اشعار کہے ہوں اور پھر مسلمان ہو جائے توبہ کر لے اور اس کے مقابلے میں ذکر اللہ بکثرت کرے وہ بیشک اس برائی سے الگ ہے۔ حسنات سیئات کو دور کر دیتی ہے جب کہ اس نے مسلمان کو اور دین حق کو برا کہا تھا وہ برا تھا لیکن جب اس نے ان کی مدح کی تو برائی بھلائی سے بدل گئی۔ جیسے عبداللہ بن زبعری رضی اللہ عنہ نے اسلام سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو بیان کی تھی لیکن اسلام کے بعد بڑی مدح بیان کی اور اپنے اشعار میں اس ہجو کا عذر بھی بیان کرتے ہوئے کہا۔ میں اس وقت شیطانی پنجہ میں پھنسا ہوا تھا۔ اسی طرح ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب باوجود آپ کا چچا زاد بھائی ہونے کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانی دشمن تھا اور بہت ہجو کیا کرتا تھا جب مسلمان ہوئے تو ایسے مسلمان ہوئے کہ دنیا بھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب انہیں کوئی نہ تھا۔ اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح کیا کرتے تھے اور بہت ہی عقیدت ومحبت رکھتے تھے۔ (رضی اللہ عنہ)
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ابوسفیان صخر بن حرب جب مسلمان ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا مجھے تین چیزیں عطا فرمائیے ایک تو یہ کہ میرے لڑکے معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیجئیے۔ دوسرے مجھے کافروں سے جہاد کے لیے بھیجیے اور میرے ساتھ کوئی لشکر دیجئیے تاکہ جس طرح کفر میں مسلمانوں سے لڑا کرتا تھا اب اسلام میں کافروں کی خبرلوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں باتیں قبول فرمائیں ایک تیسری درخواست بھی کی جو قبول کی گئی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2501] پس ایسے لوگ اس آیت کے حکم سے اس دوسری آیت سے الگ کرلئے گئے۔ ذکر اللہ خواہ وہ اپنے شعروں میں بکثرت کریں خواہ اور طرح اپنے کلام میں یقیناً وہ اگلے گناہوں کا بدلہ اور کفارہ ہے۔ ’ اپنی مظلومی کا بدلہ لیتے ہیں ‘۔ یعنی کافروں کی ہجو کا جواب دیتے ہیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا { ان کفار کی ہجو کرو جبرائیل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3213] { کعب بن مالک رضی اللہ عنہ شاعر نے جب شعراء کی برائی قرآن میں سنی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم ان میں نہیں ہو مومن تو جس طرح اپنی جان سے جہاد کرتا ہے اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے۔ واللہ تم لوگوں کے اشعار تو انہیں مجاہدین کے تیروں کی طرح چھید ڈالتے ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:387/6:صحیح] پھر فرمایا ’ ظالموں کو اپنا انجام ابھی معلوم ہو جائے گا۔ انہیں عذر معذرت بھی کچھ کام نہ آئیگی ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ظالم سے بچو اس سے میدان قیامت میں اندھیروں میں رہ جاؤ گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2578] آیت عام ہے خواہ شاعر ہوں خواہ شاعر نہ ہوں سب شامل ہیں۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ایک نصرانی کے جنازے کو جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو اس قدر روتے کہ ہچکی بندھ جاتی۔ روم میں جب فضالہ بن عبید تشریف لے گئے اس وقت ایک صاحب نماز پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا ”اس سے مراد بیت اللہ کی بربادی کرنے والے ہیں“، کہا گیا کہ ”اس سے مراد اہل مکہ ہیں“، یہ بھی مروی ہے کہ ”مراد مشرک ہیں۔“ حقیقت یہ ہے کہ آیت عام ہے سب پر مشتمل ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے والد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی وصیت صرف دو سطروں میں لکھی۔ جو یہ تھی « «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» » یہ ہے وصیت ابوبکر بن ابی قحافہ کی۔ اس وقت کی جب کہ وہ دنیا چھوڑ رہے تھے۔ جس وقت کافر بھی مومن ہو جاتا، فاجر بھی توبہ کر لیتا تب کاذب کو بھی سچا سمجھتا ہے میں تم پر اپنا خلیفہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بنا جا رہا ہوں۔ اگر وہ عدل کرے تو بہت اچھا اور میرا گمان بھی ان کے ساتھ یہی ہے اور اگر وہ ظلم کرے اور کوئی تبدیلی کر دے تو میں غیب نہیں جانتا۔ ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ کس لوٹنے کی جگہ وہ لوٹتے ہیں }۔ ۱؎ [ضعیف] سورۃ الشعراء کی تفسیر بحمد اللہ ختم ہوئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 222،221) {هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيٰطِيْنُ …:” اَفَّاكٍ “ ”إِفْكٌ“} میں سے مبالغہ ہے، زبردست جھوٹا۔ {”اَثِيْمٍ “ ”إِثْمٌ“} میں سے مبالغہ ہے، سخت گناہ گار۔ پہلے فرمایا تھا کہ شیاطین نہ یہ قرآن لے کر اترے ہیں نہ ان کے لیے یہ ممکن ہے، اب یہ بیان ہے کہ شیاطین کا قرآن لے کر آنے کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اترنا بھی محال ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صادق و امین ہیں اور خیر کی تمام خوبیوں سے آراستہ ہیں، شیاطین تو ایسے لوگوں پر اترتے ہیں جو نہایت جھوٹے اور سخت گناہ گار ہوں، کیونکہ انھوں نے انھی لوگوں پر اترنا ہوتا ہے جن کے دلوں میں ان کی بات قبول کرنے کی استعداد ہو اور جو جھوٹ، خیانت، خبث اور دوسری کمینگیوں میں ان کے ساتھ مناسبت رکھتے ہوں۔ مراد اس سے وہ کاہن، نجومی، جوتشی، چوریاں بتانے والے اور عامل قسم کے لوگ ہیں جو غیب دانی کا ڈھونگ رچاتے اور لوگوں کو ان کی قسمتیں بتاتے پھرتے ہیں۔ کچھ جنّوں اور موکّلوں کی تسخیر کے دعوے سے اپنا کاروبار چلاتے پھرتے ہیں۔
مشرکین کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اس کو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر جھوٹ بولنے والے ہوں۔ بدکردار اور گناہگار ہوں۔ ایسے کاہنوں اور بدکرداروں اور جھوٹے لوگوں کے پاس جنات اور شیاطین پہنچتے ہیں کیونکہ وہ بھی جھوٹے اور بداعمال ہیں۔ اچٹتی ہوئی کوئی ایک آدھ بات سنی سنائی پہنچاتے ہیں اور وہ ایک جو آسمان سے چھپے چھپائے سن لی تو سو جھوٹ اس میں ملا کر کاہنوں کے کان میں ڈالدی۔ انہوں نے اپنی طرف سے پھر بہت سی باتیں شامل کر کے لوگوں میں ڈینگیں مار دیں۔ اب ایک آدھ بات تو سچی نکلی لیکن لوگوں نے ان کی اور سو جھوٹی باتیں بھی سچی مان لیں اور تباہ ہوئے۔ بخاری شریف میں ہے کہ { لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ کوئی چیز نہیں ہیں }۔ لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی تو ان کی کوئی بات کھری بھی نکل آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں یہ وہی بات ہوتی ہے جو جنات آسمان سے اڑا لاتے ہیں اور ان کے کان میں کہہ کر جاتے ہیں پھر اس کے ساتھ جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر کہہ دیتے ہیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5762] صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ { جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے با ادب اپنے پر جھکا دیتے ہیں۔ ایسی آواز آتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر بجائی جاتی ہو جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوتی ہے تو آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ رب کا کیا حکم صادر ہوا ہے؟ دوسرے جواب دیتے ہیں کہ رب نے یہ فرمایا اور وہ عالی شان اور بہت بڑی کبرائی والا ہے۔ کبھی کبھی امر الٰہی سے چوری چھپے سننے والے کسی جن کے کان میں بھنک پڑجاتی ہے جو اس طرح ایک پر ایک پر ہو کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ راوی حدیث سیدنا سفیان نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیلا کر اس پر دوسرا ہاتھ اس طرح رکھ کر انہیں ہلا کر بتایا کہ اس طرح۔ اب اوپر والا نیچے والے کو اور وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتلا دیتا ہے یہاں تک کہ جادوگر اور کاہن کو وہ پہنچادیتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات پہنچاتے اس سے پہلے شعلہ پہنچ جاتا ہے اور کبھی اس کے پہلے ہی وہ پہنچا دیتے ہیں اس میں کاہن وجادوگر اپنے سوجھوٹ شامل کر کے مشہور کرتا ہے چونکہ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ سب باتوں کو ہی سچا سمجھنے لگتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4800] ان تمام احایث کا بیان آیت «حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ» ۱؎ [34-سبأ:23] کی تفسیر میں آئے گا۔ ان شاءاللہ۔
بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ { فرشتے آسمانی امر کی بات چیت بادلوں پر کرتے ہیں جسے شیطان سن کر کاہنوں اور وہ ایک سچ میں سو جھوٹ ملاتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3288] پھر فرمایا کہ ’ کافر شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے ہیں ‘۔ عرب کے شاعروں کا دستور تھا کسی کی مذمت اور ہجو میں کچھ کہہ ڈالتے تھے لوگوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہو جاتی تھی اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگتی تھی۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ عرج میں جا رہے تھے راستے میں ایک شاعر شعر خوانی کرتے ہوئے ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس شیطان کو پکڑ لو } یا فرمایا: { روکو! تم میں سے کوئی شخص خون اور پیپ سے اپنا پیٹ بھرلے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے اپنا پیٹ بھرے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2259] انہیں ہر جنگل کی ٹھوکریں کھاتے کسی نے نہیں دیکھا؟ ہر لغو میں یہ گھس جاتے ہیں۔ کلام کے ہر فن میں بولتے ہیں۔ کبھی کسی کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ کبھی کسی کی مذمت میں آسمان و زمین سر پر اٹھاتے ہیں جھوٹی خوشامد جھوٹی برائیاں گھڑی ہوئی بدیاں ان کے حصے میں آئی ہیں۔ یہ زبان کے بھانڈ ہوتے ہیں لیکن کام کے کاہل ایک انصاری اور ایک دوسری قوم کے شخص نے ہجو کا مقابلہ کیا جس میں دنوں کے قوم کے بڑے بڑے لوگ بھی ان کے ساتھ ہوگئے۔ پس اس آیت میں یہی ہے کہ ان کا ساتھ دینے والے گمراہ لوگ ہیں۔ وہ وہ باتیں بکا کرتے ہیں جنہیں کسی نے کبھی کیا نہ ہو۔ اسی لیے علماء نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ اگر کسی شاعر نے نے اپنے شعر میں کسی ایسے گناہ کا اقرار کیا ہو جس پر حد شرع واجب ہوتی ہو تو آیا وہ حد اس پر جاری کی جائے گی یا نہیں؟ دونوں طرف علماء گئے۔ واقعی وہ فخر و غرور کے ساتھ ایسی باتیں بک دیتے ہیں کہ میں نے یہ کیا اور وہ کیا حالانکہ نہ کچھ کیا ہو اور نہ ہی کر سکتے ہوں۔ امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا نے اپنی خلافت کے زمانے میں نعمان بن عدی بن فضلہ کو بصرے کے شہر یسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ وہ شاعر تھے ایک مرتبہ اپنے شعروں میں کہا کہ ”کیا حسینوں کو یہ اطلاع نہیں ہوئی کہ ان کا محبوب یسان میں ہے جہاں ہر وقت شیشے کے گلاسوں میں دور شراب چل رہا ہے اور گاؤں کی بھولی لڑکیوں نے گانے اور ان کے رقص وسرور مہیا ہیں ہاں اگر میرے کسی دوست سے ہو سکے تو اس بڑے اور بھرے ہوئے جام مجھے پلائے لیکن ان سے چھوٹے جام مجھے سخت ناپسند ہیں۔“ اللہ کرے امیر المؤمنین کو یہ خبر نہ پہنچے ورنہ برا مانیں گے اور سزادیں گے۔ یہ اشعار سچ مچ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئے آپ رضی اللہ عنہ سخت ناراض ہوئے اور اسی وقت آدمی بھیجا کہ میں نے تجھے تیرے عہدے سے معزول کیا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خط بھیجا جس میں بسم اللہ کے بعد حم کی تین آیتیں «حم تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ» ۱؎ [40-غافر:1-3] تک لکھ کر پھر تحریر فرمایا کہ ”تیرے اشعار سے مجھے سخت رنج ہوا۔ میں تجھے تیرے عہدے سے معزول کرتا ہوں۔“ چنانچہ اس خط کو پڑھتے ہی نعمان دربار خلافت میں حاضر ہوئے اور با ادب عرض کیا کہ امیر المؤمنین واللہ نہ میں نے کبھی شراب پی نہ ناچ رنگ وگانا بجانا دیکھا، نہ سنا۔ یہ تو صرف شاعرانہ ترنگ تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہی میرا خیال ہے لیکن میری تو ہمت نہیں پڑتی کہ ایسے فحش گو شاعر کو کوئی عہدہ دوں۔“ پس معلوم ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک بھی شاعر اپنے شعروں میں کسی جرم کے اعلان پر اگرچہ وہ قابل حد ہو تو حد نہیں لگائی جائے گی اس لیے کہ وہ جو کہتے ہیں سو کرتے نہیں ہاں وہ قابل ملامت اور لائق سرزنش ضرور ہیں۔
چنانچہ حدیث میں ہے کہ { پیٹ کو لہو پیپ سے بھر لینا اشعار سے بھرلینے سے بد تر ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2258] مطلب یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو شاعر ہیں، نہ ساحر، نہ کاہن، نہ مفتری ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہر حال ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان عیوب سے برأت کا بہت بڑا عادل گواہ ہے جیسے فرمان ہے کہ «وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْآنٌ مُّبِينٌ» ۱؎ [36-يس:69] ’ تو ہم نے انہیں شعر گوئی سکھائی ہے نہ اس کے لائق ہے یہ تو صرف نصیحت اور قرآن مبین ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [69-الحاقة:40-43] ’ یہ رسول اللہ کا قول ہے کسی شاعر کا نہیں تم میں ایمان کی کمی ہے یہ کسی کاہن کا قول نہیں۔ تم میں نصیحت ماننے کا مادہ کم ہے یہ تو رب العلمین کی اتاری ہوئی کتاب ہے ‘۔ اس سورت میں بھی یہی فرمایا گیا کہ ’ یہ رب العلمین کی طرف سے اتری ہے۔ روح الامین نے تیرے دل پر نازل فرمائی ہے عربی زبان میں ہے اس لیے کہ تو لوگوں کو آگاہ کر دے اسے شیاطین لے کر نہیں آئے نہ یہ ان کے لائق ہے نہ ان کی بس کی بات ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ کر دئیے گئے ہیں ‘۔ جو جھوٹے مفتری اور بد کردار ہوتے ہیں ان کے پاس شیاطین آتے ہیں جو اچٹتی باتیں سن سنا کر ان کے کانوں میں آ کر ڈال جاتے ہیں۔ محض جھوٹ بولنے والے یہ خود ہوتے ہیں شاعروں کی پشت پناہی اوباشوں کا کام ہے وہ تو ہر وادی میں سرگرداں ہوتے ہیں زبانی باتیں بناتیں ہیں عمل سے کورے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جو فرمان ہے اس کا شان نزول یہ ہے کہ { اس سے اگلی آیت جس میں شاعروں کی مذمت ہے جب اتری تو دربار رسول کے شعراء حسان بن ثابت، عبداللہ بن رواحہ، کعب بن مالک رضی اللہ عنہم روتے ہوئے دربار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعروں کی تو یہ گت بنی اور ہم بھی شاعر ہیں اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دوسری آیت تلاوت فرمائی کہ ’ ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے تم ہو ذکر اللہ بکثرت کرنے والے تم ہو مظلوم ہو کر بدلہ لینے والے تم ہو پس تم ان سے مستثنٰی ہو ‘ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26848:ضعیف] ۔
ایک روایت میں کعب رضی اللہ عنہ کا نام ہے ایک روایت میں صرف عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اس شکایت پر کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعر تو میں بھی ہوں۔“ اس دوسری آیت کا نازل ہونا مروی ہے لیکن یہ قابل نظر، اس لیے کہ یہ سورت مکیہ ہے شعراء انصار جتنے بھی تھے وہ سب مدینے میں تھے پھر ان کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا یقیناً محل غور ہو گا اور جو حدیثیں بیان ہوئیں وہ مرسل ہیں اس وجہ سے اعتماد نہیں ہوسکتا ہے یہ آیت بے شک استثناء کے بارے میں ہے اور صرف یہی انصاری شعراء رضی اللہ عنہم ہی نہیں بلکہ اگر کسی شاعر نے اپنی جاہلیت کے زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی اشعار کہے ہوں اور پھر مسلمان ہو جائے توبہ کر لے اور اس کے مقابلے میں ذکر اللہ بکثرت کرے وہ بیشک اس برائی سے الگ ہے۔ حسنات سیئات کو دور کر دیتی ہے جب کہ اس نے مسلمان کو اور دین حق کو برا کہا تھا وہ برا تھا لیکن جب اس نے ان کی مدح کی تو برائی بھلائی سے بدل گئی۔ جیسے عبداللہ بن زبعری رضی اللہ عنہ نے اسلام سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو بیان کی تھی لیکن اسلام کے بعد بڑی مدح بیان کی اور اپنے اشعار میں اس ہجو کا عذر بھی بیان کرتے ہوئے کہا۔ میں اس وقت شیطانی پنجہ میں پھنسا ہوا تھا۔ اسی طرح ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب باوجود آپ کا چچا زاد بھائی ہونے کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانی دشمن تھا اور بہت ہجو کیا کرتا تھا جب مسلمان ہوئے تو ایسے مسلمان ہوئے کہ دنیا بھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب انہیں کوئی نہ تھا۔ اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح کیا کرتے تھے اور بہت ہی عقیدت ومحبت رکھتے تھے۔ (رضی اللہ عنہ)
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ابوسفیان صخر بن حرب جب مسلمان ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا مجھے تین چیزیں عطا فرمائیے ایک تو یہ کہ میرے لڑکے معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیجئیے۔ دوسرے مجھے کافروں سے جہاد کے لیے بھیجیے اور میرے ساتھ کوئی لشکر دیجئیے تاکہ جس طرح کفر میں مسلمانوں سے لڑا کرتا تھا اب اسلام میں کافروں کی خبرلوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں باتیں قبول فرمائیں ایک تیسری درخواست بھی کی جو قبول کی گئی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2501] پس ایسے لوگ اس آیت کے حکم سے اس دوسری آیت سے الگ کرلئے گئے۔ ذکر اللہ خواہ وہ اپنے شعروں میں بکثرت کریں خواہ اور طرح اپنے کلام میں یقیناً وہ اگلے گناہوں کا بدلہ اور کفارہ ہے۔ ’ اپنی مظلومی کا بدلہ لیتے ہیں ‘۔ یعنی کافروں کی ہجو کا جواب دیتے ہیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا { ان کفار کی ہجو کرو جبرائیل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3213] { کعب بن مالک رضی اللہ عنہ شاعر نے جب شعراء کی برائی قرآن میں سنی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم ان میں نہیں ہو مومن تو جس طرح اپنی جان سے جہاد کرتا ہے اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے۔ واللہ تم لوگوں کے اشعار تو انہیں مجاہدین کے تیروں کی طرح چھید ڈالتے ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:387/6:صحیح] پھر فرمایا ’ ظالموں کو اپنا انجام ابھی معلوم ہو جائے گا۔ انہیں عذر معذرت بھی کچھ کام نہ آئیگی ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ظالم سے بچو اس سے میدان قیامت میں اندھیروں میں رہ جاؤ گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2578] آیت عام ہے خواہ شاعر ہوں خواہ شاعر نہ ہوں سب شامل ہیں۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ایک نصرانی کے جنازے کو جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو اس قدر روتے کہ ہچکی بندھ جاتی۔ روم میں جب فضالہ بن عبید تشریف لے گئے اس وقت ایک صاحب نماز پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا ”اس سے مراد بیت اللہ کی بربادی کرنے والے ہیں“، کہا گیا کہ ”اس سے مراد اہل مکہ ہیں“، یہ بھی مروی ہے کہ ”مراد مشرک ہیں۔“ حقیقت یہ ہے کہ آیت عام ہے سب پر مشتمل ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے والد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی وصیت صرف دو سطروں میں لکھی۔ جو یہ تھی « «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» » یہ ہے وصیت ابوبکر بن ابی قحافہ کی۔ اس وقت کی جب کہ وہ دنیا چھوڑ رہے تھے۔ جس وقت کافر بھی مومن ہو جاتا، فاجر بھی توبہ کر لیتا تب کاذب کو بھی سچا سمجھتا ہے میں تم پر اپنا خلیفہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بنا جا رہا ہوں۔ اگر وہ عدل کرے تو بہت اچھا اور میرا گمان بھی ان کے ساتھ یہی ہے اور اگر وہ ظلم کرے اور کوئی تبدیلی کر دے تو میں غیب نہیں جانتا۔ ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ کس لوٹنے کی جگہ وہ لوٹتے ہیں }۔ ۱؎ [ضعیف] سورۃ الشعراء کی تفسیر بحمد اللہ ختم ہوئی۔
222-1یعنی اس قرآن کے نزول میں شیطان کا کوئی دخل نہیں ہے، کیونکہ شیطان تو جھوٹوں اور گنہگاروں (یعنی کاہنوں، نجومیوں وغیرہ) پر اترتے ہیں نہ کہ انبیاء صالحین پر۔
سُنی سُنائی باتیں کانوں میں پھونکتے ہیں، اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
(اچٹتی) ہوئی سنی سنائی پہنچا دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
شیطان اپنی سنی ہوئی ان پر ڈالتے ہیں اور ان میں اکثر جھوٹے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
جو ان (شیاطین) کی طرف کان لگائے رہتے ہیں اور ان میں اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ سنی ہوئی بات لا ڈالتے ہیں اور ان کے اکثر جھوٹے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیاطین اور جادوگر ٭٭
مشرکین کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اس کو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر جھوٹ بولنے والے ہوں۔ بدکردار اور گناہگار ہوں۔ ایسے کاہنوں اور بدکرداروں اور جھوٹے لوگوں کے پاس جنات اور شیاطین پہنچتے ہیں کیونکہ وہ بھی جھوٹے اور بداعمال ہیں۔ اچٹتی ہوئی کوئی ایک آدھ بات سنی سنائی پہنچاتے ہیں اور وہ ایک جو آسمان سے چھپے چھپائے سن لی تو سو جھوٹ اس میں ملا کر کاہنوں کے کان میں ڈالدی۔ انہوں نے اپنی طرف سے پھر بہت سی باتیں شامل کر کے لوگوں میں ڈینگیں مار دیں۔ اب ایک آدھ بات تو سچی نکلی لیکن لوگوں نے ان کی اور سو جھوٹی باتیں بھی سچی مان لیں اور تباہ ہوئے۔ بخاری شریف میں ہے کہ { لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ کوئی چیز نہیں ہیں }۔ لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی تو ان کی کوئی بات کھری بھی نکل آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں یہ وہی بات ہوتی ہے جو جنات آسمان سے اڑا لاتے ہیں اور ان کے کان میں کہہ کر جاتے ہیں پھر اس کے ساتھ جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر کہہ دیتے ہیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5762] صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ { جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے با ادب اپنے پر جھکا دیتے ہیں۔ ایسی آواز آتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر بجائی جاتی ہو جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوتی ہے تو آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ رب کا کیا حکم صادر ہوا ہے؟ دوسرے جواب دیتے ہیں کہ رب نے یہ فرمایا اور وہ عالی شان اور بہت بڑی کبرائی والا ہے۔ کبھی کبھی امر الٰہی سے چوری چھپے سننے والے کسی جن کے کان میں بھنک پڑجاتی ہے جو اس طرح ایک پر ایک پر ہو کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ راوی حدیث سیدنا سفیان نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیلا کر اس پر دوسرا ہاتھ اس طرح رکھ کر انہیں ہلا کر بتایا کہ اس طرح۔ اب اوپر والا نیچے والے کو اور وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتلا دیتا ہے یہاں تک کہ جادوگر اور کاہن کو وہ پہنچادیتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات پہنچاتے اس سے پہلے شعلہ پہنچ جاتا ہے اور کبھی اس کے پہلے ہی وہ پہنچا دیتے ہیں اس میں کاہن وجادوگر اپنے سوجھوٹ شامل کر کے مشہور کرتا ہے چونکہ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ سب باتوں کو ہی سچا سمجھنے لگتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4800] ان تمام احایث کا بیان آیت «حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ» ۱؎ [34-سبأ:23] کی تفسیر میں آئے گا۔ ان شاءاللہ۔
بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ { فرشتے آسمانی امر کی بات چیت بادلوں پر کرتے ہیں جسے شیطان سن کر کاہنوں اور وہ ایک سچ میں سو جھوٹ ملاتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3288] پھر فرمایا کہ ’ کافر شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے ہیں ‘۔ عرب کے شاعروں کا دستور تھا کسی کی مذمت اور ہجو میں کچھ کہہ ڈالتے تھے لوگوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہو جاتی تھی اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگتی تھی۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ عرج میں جا رہے تھے راستے میں ایک شاعر شعر خوانی کرتے ہوئے ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس شیطان کو پکڑ لو } یا فرمایا: { روکو! تم میں سے کوئی شخص خون اور پیپ سے اپنا پیٹ بھرلے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے اپنا پیٹ بھرے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2259] انہیں ہر جنگل کی ٹھوکریں کھاتے کسی نے نہیں دیکھا؟ ہر لغو میں یہ گھس جاتے ہیں۔ کلام کے ہر فن میں بولتے ہیں۔ کبھی کسی کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ کبھی کسی کی مذمت میں آسمان و زمین سر پر اٹھاتے ہیں جھوٹی خوشامد جھوٹی برائیاں گھڑی ہوئی بدیاں ان کے حصے میں آئی ہیں۔ یہ زبان کے بھانڈ ہوتے ہیں لیکن کام کے کاہل ایک انصاری اور ایک دوسری قوم کے شخص نے ہجو کا مقابلہ کیا جس میں دنوں کے قوم کے بڑے بڑے لوگ بھی ان کے ساتھ ہوگئے۔ پس اس آیت میں یہی ہے کہ ان کا ساتھ دینے والے گمراہ لوگ ہیں۔ وہ وہ باتیں بکا کرتے ہیں جنہیں کسی نے کبھی کیا نہ ہو۔ اسی لیے علماء نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ اگر کسی شاعر نے نے اپنے شعر میں کسی ایسے گناہ کا اقرار کیا ہو جس پر حد شرع واجب ہوتی ہو تو آیا وہ حد اس پر جاری کی جائے گی یا نہیں؟ دونوں طرف علماء گئے۔ واقعی وہ فخر و غرور کے ساتھ ایسی باتیں بک دیتے ہیں کہ میں نے یہ کیا اور وہ کیا حالانکہ نہ کچھ کیا ہو اور نہ ہی کر سکتے ہوں۔ امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا نے اپنی خلافت کے زمانے میں نعمان بن عدی بن فضلہ کو بصرے کے شہر یسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ وہ شاعر تھے ایک مرتبہ اپنے شعروں میں کہا کہ ”کیا حسینوں کو یہ اطلاع نہیں ہوئی کہ ان کا محبوب یسان میں ہے جہاں ہر وقت شیشے کے گلاسوں میں دور شراب چل رہا ہے اور گاؤں کی بھولی لڑکیوں نے گانے اور ان کے رقص وسرور مہیا ہیں ہاں اگر میرے کسی دوست سے ہو سکے تو اس بڑے اور بھرے ہوئے جام مجھے پلائے لیکن ان سے چھوٹے جام مجھے سخت ناپسند ہیں۔“ اللہ کرے امیر المؤمنین کو یہ خبر نہ پہنچے ورنہ برا مانیں گے اور سزادیں گے۔ یہ اشعار سچ مچ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئے آپ رضی اللہ عنہ سخت ناراض ہوئے اور اسی وقت آدمی بھیجا کہ میں نے تجھے تیرے عہدے سے معزول کیا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خط بھیجا جس میں بسم اللہ کے بعد حم کی تین آیتیں «حم تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ» ۱؎ [40-غافر:1-3] تک لکھ کر پھر تحریر فرمایا کہ ”تیرے اشعار سے مجھے سخت رنج ہوا۔ میں تجھے تیرے عہدے سے معزول کرتا ہوں۔“ چنانچہ اس خط کو پڑھتے ہی نعمان دربار خلافت میں حاضر ہوئے اور با ادب عرض کیا کہ امیر المؤمنین واللہ نہ میں نے کبھی شراب پی نہ ناچ رنگ وگانا بجانا دیکھا، نہ سنا۔ یہ تو صرف شاعرانہ ترنگ تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہی میرا خیال ہے لیکن میری تو ہمت نہیں پڑتی کہ ایسے فحش گو شاعر کو کوئی عہدہ دوں۔“ پس معلوم ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک بھی شاعر اپنے شعروں میں کسی جرم کے اعلان پر اگرچہ وہ قابل حد ہو تو حد نہیں لگائی جائے گی اس لیے کہ وہ جو کہتے ہیں سو کرتے نہیں ہاں وہ قابل ملامت اور لائق سرزنش ضرور ہیں۔
چنانچہ حدیث میں ہے کہ { پیٹ کو لہو پیپ سے بھر لینا اشعار سے بھرلینے سے بد تر ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2258] مطلب یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو شاعر ہیں، نہ ساحر، نہ کاہن، نہ مفتری ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہر حال ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان عیوب سے برأت کا بہت بڑا عادل گواہ ہے جیسے فرمان ہے کہ «وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْآنٌ مُّبِينٌ» ۱؎ [36-يس:69] ’ تو ہم نے انہیں شعر گوئی سکھائی ہے نہ اس کے لائق ہے یہ تو صرف نصیحت اور قرآن مبین ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [69-الحاقة:40-43] ’ یہ رسول اللہ کا قول ہے کسی شاعر کا نہیں تم میں ایمان کی کمی ہے یہ کسی کاہن کا قول نہیں۔ تم میں نصیحت ماننے کا مادہ کم ہے یہ تو رب العلمین کی اتاری ہوئی کتاب ہے ‘۔ اس سورت میں بھی یہی فرمایا گیا کہ ’ یہ رب العلمین کی طرف سے اتری ہے۔ روح الامین نے تیرے دل پر نازل فرمائی ہے عربی زبان میں ہے اس لیے کہ تو لوگوں کو آگاہ کر دے اسے شیاطین لے کر نہیں آئے نہ یہ ان کے لائق ہے نہ ان کی بس کی بات ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ کر دئیے گئے ہیں ‘۔ جو جھوٹے مفتری اور بد کردار ہوتے ہیں ان کے پاس شیاطین آتے ہیں جو اچٹتی باتیں سن سنا کر ان کے کانوں میں آ کر ڈال جاتے ہیں۔ محض جھوٹ بولنے والے یہ خود ہوتے ہیں شاعروں کی پشت پناہی اوباشوں کا کام ہے وہ تو ہر وادی میں سرگرداں ہوتے ہیں زبانی باتیں بناتیں ہیں عمل سے کورے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جو فرمان ہے اس کا شان نزول یہ ہے کہ { اس سے اگلی آیت جس میں شاعروں کی مذمت ہے جب اتری تو دربار رسول کے شعراء حسان بن ثابت، عبداللہ بن رواحہ، کعب بن مالک رضی اللہ عنہم روتے ہوئے دربار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعروں کی تو یہ گت بنی اور ہم بھی شاعر ہیں اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دوسری آیت تلاوت فرمائی کہ ’ ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے تم ہو ذکر اللہ بکثرت کرنے والے تم ہو مظلوم ہو کر بدلہ لینے والے تم ہو پس تم ان سے مستثنٰی ہو ‘ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26848:ضعیف] ۔
ایک روایت میں کعب رضی اللہ عنہ کا نام ہے ایک روایت میں صرف عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اس شکایت پر کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعر تو میں بھی ہوں۔“ اس دوسری آیت کا نازل ہونا مروی ہے لیکن یہ قابل نظر، اس لیے کہ یہ سورت مکیہ ہے شعراء انصار جتنے بھی تھے وہ سب مدینے میں تھے پھر ان کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا یقیناً محل غور ہو گا اور جو حدیثیں بیان ہوئیں وہ مرسل ہیں اس وجہ سے اعتماد نہیں ہوسکتا ہے یہ آیت بے شک استثناء کے بارے میں ہے اور صرف یہی انصاری شعراء رضی اللہ عنہم ہی نہیں بلکہ اگر کسی شاعر نے اپنی جاہلیت کے زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی اشعار کہے ہوں اور پھر مسلمان ہو جائے توبہ کر لے اور اس کے مقابلے میں ذکر اللہ بکثرت کرے وہ بیشک اس برائی سے الگ ہے۔ حسنات سیئات کو دور کر دیتی ہے جب کہ اس نے مسلمان کو اور دین حق کو برا کہا تھا وہ برا تھا لیکن جب اس نے ان کی مدح کی تو برائی بھلائی سے بدل گئی۔ جیسے عبداللہ بن زبعری رضی اللہ عنہ نے اسلام سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو بیان کی تھی لیکن اسلام کے بعد بڑی مدح بیان کی اور اپنے اشعار میں اس ہجو کا عذر بھی بیان کرتے ہوئے کہا۔ میں اس وقت شیطانی پنجہ میں پھنسا ہوا تھا۔ اسی طرح ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب باوجود آپ کا چچا زاد بھائی ہونے کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانی دشمن تھا اور بہت ہجو کیا کرتا تھا جب مسلمان ہوئے تو ایسے مسلمان ہوئے کہ دنیا بھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب انہیں کوئی نہ تھا۔ اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح کیا کرتے تھے اور بہت ہی عقیدت ومحبت رکھتے تھے۔ (رضی اللہ عنہ)
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ابوسفیان صخر بن حرب جب مسلمان ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا مجھے تین چیزیں عطا فرمائیے ایک تو یہ کہ میرے لڑکے معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیجئیے۔ دوسرے مجھے کافروں سے جہاد کے لیے بھیجیے اور میرے ساتھ کوئی لشکر دیجئیے تاکہ جس طرح کفر میں مسلمانوں سے لڑا کرتا تھا اب اسلام میں کافروں کی خبرلوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں باتیں قبول فرمائیں ایک تیسری درخواست بھی کی جو قبول کی گئی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2501] پس ایسے لوگ اس آیت کے حکم سے اس دوسری آیت سے الگ کرلئے گئے۔ ذکر اللہ خواہ وہ اپنے شعروں میں بکثرت کریں خواہ اور طرح اپنے کلام میں یقیناً وہ اگلے گناہوں کا بدلہ اور کفارہ ہے۔ ’ اپنی مظلومی کا بدلہ لیتے ہیں ‘۔ یعنی کافروں کی ہجو کا جواب دیتے ہیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا { ان کفار کی ہجو کرو جبرائیل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3213] { کعب بن مالک رضی اللہ عنہ شاعر نے جب شعراء کی برائی قرآن میں سنی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم ان میں نہیں ہو مومن تو جس طرح اپنی جان سے جہاد کرتا ہے اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے۔ واللہ تم لوگوں کے اشعار تو انہیں مجاہدین کے تیروں کی طرح چھید ڈالتے ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:387/6:صحیح] پھر فرمایا ’ ظالموں کو اپنا انجام ابھی معلوم ہو جائے گا۔ انہیں عذر معذرت بھی کچھ کام نہ آئیگی ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ظالم سے بچو اس سے میدان قیامت میں اندھیروں میں رہ جاؤ گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2578] آیت عام ہے خواہ شاعر ہوں خواہ شاعر نہ ہوں سب شامل ہیں۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ایک نصرانی کے جنازے کو جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو اس قدر روتے کہ ہچکی بندھ جاتی۔ روم میں جب فضالہ بن عبید تشریف لے گئے اس وقت ایک صاحب نماز پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا ”اس سے مراد بیت اللہ کی بربادی کرنے والے ہیں“، کہا گیا کہ ”اس سے مراد اہل مکہ ہیں“، یہ بھی مروی ہے کہ ”مراد مشرک ہیں۔“ حقیقت یہ ہے کہ آیت عام ہے سب پر مشتمل ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے والد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی وصیت صرف دو سطروں میں لکھی۔ جو یہ تھی « «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» » یہ ہے وصیت ابوبکر بن ابی قحافہ کی۔ اس وقت کی جب کہ وہ دنیا چھوڑ رہے تھے۔ جس وقت کافر بھی مومن ہو جاتا، فاجر بھی توبہ کر لیتا تب کاذب کو بھی سچا سمجھتا ہے میں تم پر اپنا خلیفہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بنا جا رہا ہوں۔ اگر وہ عدل کرے تو بہت اچھا اور میرا گمان بھی ان کے ساتھ یہی ہے اور اگر وہ ظلم کرے اور کوئی تبدیلی کر دے تو میں غیب نہیں جانتا۔ ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ کس لوٹنے کی جگہ وہ لوٹتے ہیں }۔ ۱؎ [ضعیف] سورۃ الشعراء کی تفسیر بحمد اللہ ختم ہوئی۔
223-1یعنی ایک آدھ بات، جو کسی طرح وہ سننے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، ان کاہنوں کو آکر بتلا دیتے ہیں، جن کے ساتھ وہ جھوٹی باتیں اور بھی ملا لیتے ہیں۔
(آیت 223) {يُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَ: ” السَّمْعَ “} مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، یعنی سنی ہوئی بات۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ شیاطین فرشتوں سے سنی ہوئی بات کاہنوں کے کانوں میں لا ڈالتے ہیں، جن میں وہ اپنی طرف سے سو (۱۰۰) جھوٹی باتیں ملا دیتے ہیں۔ فرشتوں سے سنی ہوئی وہ بات سچی نکلتی ہے تو سو (۱۰۰) جھوٹی باتوں کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں کرتے۔ دوسرا یہ کہ وہ {”افاك و اثيم“} کاہن شیاطین سے سنی ہوئی بات لوگوں کو بتاتے ہیں جس میں وہ مزید جھوٹ ملا دیتے ہیں اور ان کے اکثر جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں، سوائے اس ایک بات کے جو شیاطین نے چرا کر ان تک پہنچائی ہوتی ہے۔ {” يُّلْقُوْنَ السَّمْعَ “} میں {” السَّمْعَ “} مصدر مفعول لہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی وہ شیاطین فرشتوں کی گفتگو سننے کے لیے کان لگاتے ہیں، یا وہ کاہن شیاطین کی باتیں سننے کے لیے کان لگاتے ہیں۔ یہ معنی بھی درست ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِذَا قَضَی اللّٰهُ الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ، ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ، كَأَنَّهُ سِلْسِلَةٌ عَلٰی صَفْوَانٍ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوْا لِلَّذِيْ قَالَ الْحَقَّ، وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ، فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُ السَّمْعِ وَمُسْتَرِقُوا السَّمْعِ هٰكَذَا بَعْضُهُ فَوْقَ بَعْضٍ، وَصَفَهُ سُفْيَانُ بِكَفِّهِ فَحَرَفَهَا وَ بَدَّدَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، فَيَسْمَعُ الْكَلِمَةَ فَيُلْقِيْهَا إِلٰی مَنْ تَحْتَهُ، ثُمَّ يُّلْقِيْهَا الْآخَرُ إِلٰی مَنْ تَحْتَهُ، حَتّٰی يُلْقِيَهَا عَلٰی لِسَانِ السَّاحِرِ أَوِ الْكَاهِنِ، فَرُبَّمَا أَدْرَكَ الشِّهَابُ قَبْلَ أَنْ يُلْقِيَهَا، وَرُبَّمَا أَلْقَاهَا قَبْلَ أَنْ يُّدْرِكَهُ، فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ فَيُقَالُ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ لَنَا يَوْمَ كَذَا وَ كَذَا، كَذَا وَ كَذَا؟ فَيُصَدَّقُ بِتِلْكَ الْكَلِمَةِ الَّتِيْ سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ] [ بخاري، التفسیر، باب «حتی إذا فزع عن قلوبہم…» : ۴۸۰۰ ] ”جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے عاجزی سے اپنے پر پھڑ پھڑاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا فرمان انھیں اس طرح سنائی دیتا ہے جیسے صاف چکنے پتھر پر زنجیر کی آواز ہوتی ہے، پھر جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہو جاتی ہے تو وہ آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ تمھارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ اس نے حق فرمایا ہے اور وہ بہت بلندی والا، بہت بڑائی والا ہے، تو (کبھی کبھی) چوری سننے والا اسے سن لیتا ہے اور چوری سننے والے اس طرح ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں۔“ اور (حدیث کے راوی) سفیان نے چوری سننے والوں کی کیفیت بیان کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو الگ الگ کرکے ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر دکھایا۔ ”تو وہ (شیطان جنّ) بات سن لیتا ہے اور اپنے سے نیچے والے کو پہنچا دیتا ہے، پھر وہ دوسرا اسے اپنے سے نیچے والے کو پہنچا دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ اسے جادوگر کاہن کی زبان پر ڈال دیتا ہے، پھر بعض اوقات شُعلہ اسے نیچے پہنچانے سے پہلے آ پکڑتا ہے اور بعض اوقات وہ شعلہ پہنچنے سے پہلے دوسرے کو وہ بات پہنچا دیتا ہے تو وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا دیتا ہے۔ تو کہا جاتا ہے، کیا اس نے ہمیں فلاں فلاں دن ایسے ایسے نہیں کہا تھا؟ تو اس بات کی وجہ سے جو آسمان سے سنی تھی اس کو سچا سمجھ لیا جاتا ہے۔“ عائشہ زوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: [ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَنْزِلُ فِي الْعَنَانِ، وَهُوَ السَّحَابُ، فَتَذْكُرُ الْأَمْرَ قُضِيَ فِي السَّمَاءِ، فَتَسْتَرِقُ الشَّيَاطِيْنُ السَّمْعَ فَتَسْمَعُهُ، فَتُوْحِيْهِ إِلَی الْكُهَّانِ، فَيَكْذِبُوْنَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ ] [بخاري، بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ…: ۳۲۱۰ ] ”فرشتے بادل میں اترتے ہیں اور اس کام کا ذکر کرتے ہیں جس کا آسمان میں فیصلہ کیا گیا ہوتا ہے۔ تو شیطان چوری سے اس کی طرف کان لگاتے ہیں اور اسے سن لیتے ہیں اور کاہنوں کے دلوں میں پہنچا دیتے ہیں اور اس کے ساتھ اپنی طرف سے سو (۱۰۰) جھوٹ ملا دیتے ہیں۔“ صفیہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے ایک بیوی سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ أَتٰی عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاَةُ أَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً] [مسلم، السلام، باب تحریم الکہانۃ…: ۲۲۳۰ ] ”جو شخص کسی عراف (چوریاں یا گم شدہ چیزیں بتانے والے) کے پاس گیا اور اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو اس کی چالیس راتوں کی نماز قبول نہیں ہو گی۔“ ابوہریرہ اور حسن رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ أَتٰی كَاهِنًا أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُوْلُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] [ مسند أحمد: 429/2، ح: ۹۵۴۸ ] ”جو شخص کسی کاہن یا عراف کے پاس جائے اور اسے اس بات میں سچا سمجھے جو وہ کہے تو اس نے اس کے ساتھ کفر کیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں (غیب کی باتیں بتانے والوں) کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَيْسُوْا بِشَيْءٍ، قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُوْنَ أَحْيَانًا بِالشَّيْءِ يَكُوْنُ حَقًّا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ فَيَقُرُّهَا فِيْ أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ فَيَخْلِطُوْنَ فِيْهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ] [بخاري، الأدب، باب قول الرجل للشيء …: ۶۲۱۳ ] ”وہ کچھ بھی نہیں۔“ لوگوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! بعض اوقات وہ ہمیں کوئی بات بتاتے ہیں جو سچی نکلتی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بات حق ہوتی ہے جسے جنّی (جن) اچک لیتا ہے اور اپنے دوست کے کان میں مرغی کے کڑکڑ کرنے کی طرح ڈال دیتا ہے، پھر وہ اس کے ساتھ سو (۱۰۰) جھوٹ ملا لیتے ہیں۔“
رہے شعراء، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلا کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
شاعروں کی پیروی وه کرتے ہیں جو بہکے ہوئے ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور شاعروں کی پیرو ی گمراہ کرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو شعراء ہیں ان کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور شاعر لوگ، ان کے پیچھے گمراہ لوگ لگتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیاطین اور جادوگر ٭٭
مشرکین کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اس کو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر جھوٹ بولنے والے ہوں۔ بدکردار اور گناہگار ہوں۔ ایسے کاہنوں اور بدکرداروں اور جھوٹے لوگوں کے پاس جنات اور شیاطین پہنچتے ہیں کیونکہ وہ بھی جھوٹے اور بداعمال ہیں۔ اچٹتی ہوئی کوئی ایک آدھ بات سنی سنائی پہنچاتے ہیں اور وہ ایک جو آسمان سے چھپے چھپائے سن لی تو سو جھوٹ اس میں ملا کر کاہنوں کے کان میں ڈالدی۔ انہوں نے اپنی طرف سے پھر بہت سی باتیں شامل کر کے لوگوں میں ڈینگیں مار دیں۔ اب ایک آدھ بات تو سچی نکلی لیکن لوگوں نے ان کی اور سو جھوٹی باتیں بھی سچی مان لیں اور تباہ ہوئے۔ بخاری شریف میں ہے کہ { لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ کوئی چیز نہیں ہیں }۔ لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی تو ان کی کوئی بات کھری بھی نکل آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں یہ وہی بات ہوتی ہے جو جنات آسمان سے اڑا لاتے ہیں اور ان کے کان میں کہہ کر جاتے ہیں پھر اس کے ساتھ جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر کہہ دیتے ہیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5762] صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ { جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے با ادب اپنے پر جھکا دیتے ہیں۔ ایسی آواز آتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر بجائی جاتی ہو جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوتی ہے تو آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ رب کا کیا حکم صادر ہوا ہے؟ دوسرے جواب دیتے ہیں کہ رب نے یہ فرمایا اور وہ عالی شان اور بہت بڑی کبرائی والا ہے۔ کبھی کبھی امر الٰہی سے چوری چھپے سننے والے کسی جن کے کان میں بھنک پڑجاتی ہے جو اس طرح ایک پر ایک پر ہو کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ راوی حدیث سیدنا سفیان نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیلا کر اس پر دوسرا ہاتھ اس طرح رکھ کر انہیں ہلا کر بتایا کہ اس طرح۔ اب اوپر والا نیچے والے کو اور وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتلا دیتا ہے یہاں تک کہ جادوگر اور کاہن کو وہ پہنچادیتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات پہنچاتے اس سے پہلے شعلہ پہنچ جاتا ہے اور کبھی اس کے پہلے ہی وہ پہنچا دیتے ہیں اس میں کاہن وجادوگر اپنے سوجھوٹ شامل کر کے مشہور کرتا ہے چونکہ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ سب باتوں کو ہی سچا سمجھنے لگتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4800] ان تمام احایث کا بیان آیت «حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ» ۱؎ [34-سبأ:23] کی تفسیر میں آئے گا۔ ان شاءاللہ۔
بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ { فرشتے آسمانی امر کی بات چیت بادلوں پر کرتے ہیں جسے شیطان سن کر کاہنوں اور وہ ایک سچ میں سو جھوٹ ملاتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3288] پھر فرمایا کہ ’ کافر شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے ہیں ‘۔ عرب کے شاعروں کا دستور تھا کسی کی مذمت اور ہجو میں کچھ کہہ ڈالتے تھے لوگوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہو جاتی تھی اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگتی تھی۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ عرج میں جا رہے تھے راستے میں ایک شاعر شعر خوانی کرتے ہوئے ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس شیطان کو پکڑ لو } یا فرمایا: { روکو! تم میں سے کوئی شخص خون اور پیپ سے اپنا پیٹ بھرلے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے اپنا پیٹ بھرے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2259] انہیں ہر جنگل کی ٹھوکریں کھاتے کسی نے نہیں دیکھا؟ ہر لغو میں یہ گھس جاتے ہیں۔ کلام کے ہر فن میں بولتے ہیں۔ کبھی کسی کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ کبھی کسی کی مذمت میں آسمان و زمین سر پر اٹھاتے ہیں جھوٹی خوشامد جھوٹی برائیاں گھڑی ہوئی بدیاں ان کے حصے میں آئی ہیں۔ یہ زبان کے بھانڈ ہوتے ہیں لیکن کام کے کاہل ایک انصاری اور ایک دوسری قوم کے شخص نے ہجو کا مقابلہ کیا جس میں دنوں کے قوم کے بڑے بڑے لوگ بھی ان کے ساتھ ہوگئے۔ پس اس آیت میں یہی ہے کہ ان کا ساتھ دینے والے گمراہ لوگ ہیں۔ وہ وہ باتیں بکا کرتے ہیں جنہیں کسی نے کبھی کیا نہ ہو۔ اسی لیے علماء نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ اگر کسی شاعر نے نے اپنے شعر میں کسی ایسے گناہ کا اقرار کیا ہو جس پر حد شرع واجب ہوتی ہو تو آیا وہ حد اس پر جاری کی جائے گی یا نہیں؟ دونوں طرف علماء گئے۔ واقعی وہ فخر و غرور کے ساتھ ایسی باتیں بک دیتے ہیں کہ میں نے یہ کیا اور وہ کیا حالانکہ نہ کچھ کیا ہو اور نہ ہی کر سکتے ہوں۔ امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا نے اپنی خلافت کے زمانے میں نعمان بن عدی بن فضلہ کو بصرے کے شہر یسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ وہ شاعر تھے ایک مرتبہ اپنے شعروں میں کہا کہ ”کیا حسینوں کو یہ اطلاع نہیں ہوئی کہ ان کا محبوب یسان میں ہے جہاں ہر وقت شیشے کے گلاسوں میں دور شراب چل رہا ہے اور گاؤں کی بھولی لڑکیوں نے گانے اور ان کے رقص وسرور مہیا ہیں ہاں اگر میرے کسی دوست سے ہو سکے تو اس بڑے اور بھرے ہوئے جام مجھے پلائے لیکن ان سے چھوٹے جام مجھے سخت ناپسند ہیں۔“ اللہ کرے امیر المؤمنین کو یہ خبر نہ پہنچے ورنہ برا مانیں گے اور سزادیں گے۔ یہ اشعار سچ مچ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئے آپ رضی اللہ عنہ سخت ناراض ہوئے اور اسی وقت آدمی بھیجا کہ میں نے تجھے تیرے عہدے سے معزول کیا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خط بھیجا جس میں بسم اللہ کے بعد حم کی تین آیتیں «حم تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ» ۱؎ [40-غافر:1-3] تک لکھ کر پھر تحریر فرمایا کہ ”تیرے اشعار سے مجھے سخت رنج ہوا۔ میں تجھے تیرے عہدے سے معزول کرتا ہوں۔“ چنانچہ اس خط کو پڑھتے ہی نعمان دربار خلافت میں حاضر ہوئے اور با ادب عرض کیا کہ امیر المؤمنین واللہ نہ میں نے کبھی شراب پی نہ ناچ رنگ وگانا بجانا دیکھا، نہ سنا۔ یہ تو صرف شاعرانہ ترنگ تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہی میرا خیال ہے لیکن میری تو ہمت نہیں پڑتی کہ ایسے فحش گو شاعر کو کوئی عہدہ دوں۔“ پس معلوم ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک بھی شاعر اپنے شعروں میں کسی جرم کے اعلان پر اگرچہ وہ قابل حد ہو تو حد نہیں لگائی جائے گی اس لیے کہ وہ جو کہتے ہیں سو کرتے نہیں ہاں وہ قابل ملامت اور لائق سرزنش ضرور ہیں۔
چنانچہ حدیث میں ہے کہ { پیٹ کو لہو پیپ سے بھر لینا اشعار سے بھرلینے سے بد تر ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2258] مطلب یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو شاعر ہیں، نہ ساحر، نہ کاہن، نہ مفتری ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہر حال ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان عیوب سے برأت کا بہت بڑا عادل گواہ ہے جیسے فرمان ہے کہ «وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْآنٌ مُّبِينٌ» ۱؎ [36-يس:69] ’ تو ہم نے انہیں شعر گوئی سکھائی ہے نہ اس کے لائق ہے یہ تو صرف نصیحت اور قرآن مبین ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [69-الحاقة:40-43] ’ یہ رسول اللہ کا قول ہے کسی شاعر کا نہیں تم میں ایمان کی کمی ہے یہ کسی کاہن کا قول نہیں۔ تم میں نصیحت ماننے کا مادہ کم ہے یہ تو رب العلمین کی اتاری ہوئی کتاب ہے ‘۔ اس سورت میں بھی یہی فرمایا گیا کہ ’ یہ رب العلمین کی طرف سے اتری ہے۔ روح الامین نے تیرے دل پر نازل فرمائی ہے عربی زبان میں ہے اس لیے کہ تو لوگوں کو آگاہ کر دے اسے شیاطین لے کر نہیں آئے نہ یہ ان کے لائق ہے نہ ان کی بس کی بات ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ کر دئیے گئے ہیں ‘۔ جو جھوٹے مفتری اور بد کردار ہوتے ہیں ان کے پاس شیاطین آتے ہیں جو اچٹتی باتیں سن سنا کر ان کے کانوں میں آ کر ڈال جاتے ہیں۔ محض جھوٹ بولنے والے یہ خود ہوتے ہیں شاعروں کی پشت پناہی اوباشوں کا کام ہے وہ تو ہر وادی میں سرگرداں ہوتے ہیں زبانی باتیں بناتیں ہیں عمل سے کورے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جو فرمان ہے اس کا شان نزول یہ ہے کہ { اس سے اگلی آیت جس میں شاعروں کی مذمت ہے جب اتری تو دربار رسول کے شعراء حسان بن ثابت، عبداللہ بن رواحہ، کعب بن مالک رضی اللہ عنہم روتے ہوئے دربار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعروں کی تو یہ گت بنی اور ہم بھی شاعر ہیں اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دوسری آیت تلاوت فرمائی کہ ’ ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے تم ہو ذکر اللہ بکثرت کرنے والے تم ہو مظلوم ہو کر بدلہ لینے والے تم ہو پس تم ان سے مستثنٰی ہو ‘ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26848:ضعیف] ۔
ایک روایت میں کعب رضی اللہ عنہ کا نام ہے ایک روایت میں صرف عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اس شکایت پر کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعر تو میں بھی ہوں۔“ اس دوسری آیت کا نازل ہونا مروی ہے لیکن یہ قابل نظر، اس لیے کہ یہ سورت مکیہ ہے شعراء انصار جتنے بھی تھے وہ سب مدینے میں تھے پھر ان کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا یقیناً محل غور ہو گا اور جو حدیثیں بیان ہوئیں وہ مرسل ہیں اس وجہ سے اعتماد نہیں ہوسکتا ہے یہ آیت بے شک استثناء کے بارے میں ہے اور صرف یہی انصاری شعراء رضی اللہ عنہم ہی نہیں بلکہ اگر کسی شاعر نے اپنی جاہلیت کے زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی اشعار کہے ہوں اور پھر مسلمان ہو جائے توبہ کر لے اور اس کے مقابلے میں ذکر اللہ بکثرت کرے وہ بیشک اس برائی سے الگ ہے۔ حسنات سیئات کو دور کر دیتی ہے جب کہ اس نے مسلمان کو اور دین حق کو برا کہا تھا وہ برا تھا لیکن جب اس نے ان کی مدح کی تو برائی بھلائی سے بدل گئی۔ جیسے عبداللہ بن زبعری رضی اللہ عنہ نے اسلام سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو بیان کی تھی لیکن اسلام کے بعد بڑی مدح بیان کی اور اپنے اشعار میں اس ہجو کا عذر بھی بیان کرتے ہوئے کہا۔ میں اس وقت شیطانی پنجہ میں پھنسا ہوا تھا۔ اسی طرح ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب باوجود آپ کا چچا زاد بھائی ہونے کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانی دشمن تھا اور بہت ہجو کیا کرتا تھا جب مسلمان ہوئے تو ایسے مسلمان ہوئے کہ دنیا بھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب انہیں کوئی نہ تھا۔ اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح کیا کرتے تھے اور بہت ہی عقیدت ومحبت رکھتے تھے۔ (رضی اللہ عنہ)
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ابوسفیان صخر بن حرب جب مسلمان ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا مجھے تین چیزیں عطا فرمائیے ایک تو یہ کہ میرے لڑکے معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیجئیے۔ دوسرے مجھے کافروں سے جہاد کے لیے بھیجیے اور میرے ساتھ کوئی لشکر دیجئیے تاکہ جس طرح کفر میں مسلمانوں سے لڑا کرتا تھا اب اسلام میں کافروں کی خبرلوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں باتیں قبول فرمائیں ایک تیسری درخواست بھی کی جو قبول کی گئی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2501] پس ایسے لوگ اس آیت کے حکم سے اس دوسری آیت سے الگ کرلئے گئے۔ ذکر اللہ خواہ وہ اپنے شعروں میں بکثرت کریں خواہ اور طرح اپنے کلام میں یقیناً وہ اگلے گناہوں کا بدلہ اور کفارہ ہے۔ ’ اپنی مظلومی کا بدلہ لیتے ہیں ‘۔ یعنی کافروں کی ہجو کا جواب دیتے ہیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا { ان کفار کی ہجو کرو جبرائیل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3213] { کعب بن مالک رضی اللہ عنہ شاعر نے جب شعراء کی برائی قرآن میں سنی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم ان میں نہیں ہو مومن تو جس طرح اپنی جان سے جہاد کرتا ہے اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے۔ واللہ تم لوگوں کے اشعار تو انہیں مجاہدین کے تیروں کی طرح چھید ڈالتے ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:387/6:صحیح] پھر فرمایا ’ ظالموں کو اپنا انجام ابھی معلوم ہو جائے گا۔ انہیں عذر معذرت بھی کچھ کام نہ آئیگی ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ظالم سے بچو اس سے میدان قیامت میں اندھیروں میں رہ جاؤ گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2578] آیت عام ہے خواہ شاعر ہوں خواہ شاعر نہ ہوں سب شامل ہیں۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ایک نصرانی کے جنازے کو جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو اس قدر روتے کہ ہچکی بندھ جاتی۔ روم میں جب فضالہ بن عبید تشریف لے گئے اس وقت ایک صاحب نماز پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا ”اس سے مراد بیت اللہ کی بربادی کرنے والے ہیں“، کہا گیا کہ ”اس سے مراد اہل مکہ ہیں“، یہ بھی مروی ہے کہ ”مراد مشرک ہیں۔“ حقیقت یہ ہے کہ آیت عام ہے سب پر مشتمل ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے والد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی وصیت صرف دو سطروں میں لکھی۔ جو یہ تھی « «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» » یہ ہے وصیت ابوبکر بن ابی قحافہ کی۔ اس وقت کی جب کہ وہ دنیا چھوڑ رہے تھے۔ جس وقت کافر بھی مومن ہو جاتا، فاجر بھی توبہ کر لیتا تب کاذب کو بھی سچا سمجھتا ہے میں تم پر اپنا خلیفہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بنا جا رہا ہوں۔ اگر وہ عدل کرے تو بہت اچھا اور میرا گمان بھی ان کے ساتھ یہی ہے اور اگر وہ ظلم کرے اور کوئی تبدیلی کر دے تو میں غیب نہیں جانتا۔ ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ کس لوٹنے کی جگہ وہ لوٹتے ہیں }۔ ۱؎ [ضعیف] سورۃ الشعراء کی تفسیر بحمد اللہ ختم ہوئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 224) {وَ الشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَ: ” الْغَاوٗنَ “ ”غَوٰي يَغْوِيْ“} (ض) سے اسم فاعل کی جمع ہے، گمراہ لوگ۔ کفارِمکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کاہن کے علاوہ شاعر ہونے کا الزام بھی لگاتے تھے، اس لیے آپ سے کہانت کی نفی کے بعد شاعر ہونے کی نفی بھی فرمائی۔ مزید دیکھیے سورۂ یٰس (۶۹) اور حاقہ (۴۰ تا ۴۳) ان آیات میں شعراء کی تین خصوصیات بیان فرمائیں جن سے صاف ظاہر ہے کہ شعراء اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں اور شعر اور قرآن مجید میں مشرق و مغرب کا فرق ہے۔ پہلی خصوصیت یہ کہ شعراء کے پیچھے گمراہ، بھٹکے ہوئے اور اوباش قسم کے لوگ لگتے ہیں، پھر جن کے پیچھے لگنے والے گمراہ ہوں خود ان کے گمراہ ہونے میں کیا کمی ہو گی؟ عرب کے سب سے بڑے شاعر ”امرء القیس“ نے جس بے حیائی اور فحاشی کی اشاعت اپنے شعروں میں کی ہے اس کی مثال نہیں ملتی، یہاں تک کہ اہل عرب بھی اسے اپنا سب سے بڑا شاعر ماننے کے باوجود {”اَلْمَلِكُ الضَّلِيْلُ “} (رند بادشاہ) کہتے تھے۔ شاعروں کا محبوب موضوع عشق بازی، شراب نوشی اور بازاری عورتوں یا کسی کی معصوم بہو وبیٹی کے حسن و جمال کا تذکرہ ہے، یا شہوت بھڑکانے والی فحش باتیں۔ وہ کسی کی بے جا مدح کرتے ہیں اور کسی کی ناجائز مذمت، اس لیے ان کے ساتھی بھی اسی قبیل کے لوگ ہوتے ہیں۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی انتہائی سچے، پاکباز، شریف اور مہذب تھے۔ ایسے شخص کو شاعر وہی شخص کہہ سکتا ہے جو جھوٹ بولنے میں حیا کی ساری حدیں پار کر گیا ہو۔
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ شاعر ایک ایک بیابان میں سر ٹکراتے پھرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا تم نے نہ دیکھا کہ وہ ہر نالے میں سرگرداں پھرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ ہر وادی میں حیران و سرگرداں پھرا کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سر مارتے پھرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیاطین اور جادوگر ٭٭
مشرکین کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اس کو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر جھوٹ بولنے والے ہوں۔ بدکردار اور گناہگار ہوں۔ ایسے کاہنوں اور بدکرداروں اور جھوٹے لوگوں کے پاس جنات اور شیاطین پہنچتے ہیں کیونکہ وہ بھی جھوٹے اور بداعمال ہیں۔ اچٹتی ہوئی کوئی ایک آدھ بات سنی سنائی پہنچاتے ہیں اور وہ ایک جو آسمان سے چھپے چھپائے سن لی تو سو جھوٹ اس میں ملا کر کاہنوں کے کان میں ڈالدی۔ انہوں نے اپنی طرف سے پھر بہت سی باتیں شامل کر کے لوگوں میں ڈینگیں مار دیں۔ اب ایک آدھ بات تو سچی نکلی لیکن لوگوں نے ان کی اور سو جھوٹی باتیں بھی سچی مان لیں اور تباہ ہوئے۔ بخاری شریف میں ہے کہ { لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ کوئی چیز نہیں ہیں }۔ لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی تو ان کی کوئی بات کھری بھی نکل آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں یہ وہی بات ہوتی ہے جو جنات آسمان سے اڑا لاتے ہیں اور ان کے کان میں کہہ کر جاتے ہیں پھر اس کے ساتھ جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر کہہ دیتے ہیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5762] صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ { جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے با ادب اپنے پر جھکا دیتے ہیں۔ ایسی آواز آتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر بجائی جاتی ہو جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوتی ہے تو آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ رب کا کیا حکم صادر ہوا ہے؟ دوسرے جواب دیتے ہیں کہ رب نے یہ فرمایا اور وہ عالی شان اور بہت بڑی کبرائی والا ہے۔ کبھی کبھی امر الٰہی سے چوری چھپے سننے والے کسی جن کے کان میں بھنک پڑجاتی ہے جو اس طرح ایک پر ایک پر ہو کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ راوی حدیث سیدنا سفیان نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیلا کر اس پر دوسرا ہاتھ اس طرح رکھ کر انہیں ہلا کر بتایا کہ اس طرح۔ اب اوپر والا نیچے والے کو اور وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتلا دیتا ہے یہاں تک کہ جادوگر اور کاہن کو وہ پہنچادیتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات پہنچاتے اس سے پہلے شعلہ پہنچ جاتا ہے اور کبھی اس کے پہلے ہی وہ پہنچا دیتے ہیں اس میں کاہن وجادوگر اپنے سوجھوٹ شامل کر کے مشہور کرتا ہے چونکہ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ سب باتوں کو ہی سچا سمجھنے لگتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4800] ان تمام احایث کا بیان آیت «حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ» ۱؎ [34-سبأ:23] کی تفسیر میں آئے گا۔ ان شاءاللہ۔
بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ { فرشتے آسمانی امر کی بات چیت بادلوں پر کرتے ہیں جسے شیطان سن کر کاہنوں اور وہ ایک سچ میں سو جھوٹ ملاتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3288] پھر فرمایا کہ ’ کافر شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے ہیں ‘۔ عرب کے شاعروں کا دستور تھا کسی کی مذمت اور ہجو میں کچھ کہہ ڈالتے تھے لوگوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہو جاتی تھی اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگتی تھی۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ عرج میں جا رہے تھے راستے میں ایک شاعر شعر خوانی کرتے ہوئے ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس شیطان کو پکڑ لو } یا فرمایا: { روکو! تم میں سے کوئی شخص خون اور پیپ سے اپنا پیٹ بھرلے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے اپنا پیٹ بھرے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2259] انہیں ہر جنگل کی ٹھوکریں کھاتے کسی نے نہیں دیکھا؟ ہر لغو میں یہ گھس جاتے ہیں۔ کلام کے ہر فن میں بولتے ہیں۔ کبھی کسی کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ کبھی کسی کی مذمت میں آسمان و زمین سر پر اٹھاتے ہیں جھوٹی خوشامد جھوٹی برائیاں گھڑی ہوئی بدیاں ان کے حصے میں آئی ہیں۔ یہ زبان کے بھانڈ ہوتے ہیں لیکن کام کے کاہل ایک انصاری اور ایک دوسری قوم کے شخص نے ہجو کا مقابلہ کیا جس میں دنوں کے قوم کے بڑے بڑے لوگ بھی ان کے ساتھ ہوگئے۔ پس اس آیت میں یہی ہے کہ ان کا ساتھ دینے والے گمراہ لوگ ہیں۔ وہ وہ باتیں بکا کرتے ہیں جنہیں کسی نے کبھی کیا نہ ہو۔ اسی لیے علماء نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ اگر کسی شاعر نے نے اپنے شعر میں کسی ایسے گناہ کا اقرار کیا ہو جس پر حد شرع واجب ہوتی ہو تو آیا وہ حد اس پر جاری کی جائے گی یا نہیں؟ دونوں طرف علماء گئے۔ واقعی وہ فخر و غرور کے ساتھ ایسی باتیں بک دیتے ہیں کہ میں نے یہ کیا اور وہ کیا حالانکہ نہ کچھ کیا ہو اور نہ ہی کر سکتے ہوں۔ امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا نے اپنی خلافت کے زمانے میں نعمان بن عدی بن فضلہ کو بصرے کے شہر یسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ وہ شاعر تھے ایک مرتبہ اپنے شعروں میں کہا کہ ”کیا حسینوں کو یہ اطلاع نہیں ہوئی کہ ان کا محبوب یسان میں ہے جہاں ہر وقت شیشے کے گلاسوں میں دور شراب چل رہا ہے اور گاؤں کی بھولی لڑکیوں نے گانے اور ان کے رقص وسرور مہیا ہیں ہاں اگر میرے کسی دوست سے ہو سکے تو اس بڑے اور بھرے ہوئے جام مجھے پلائے لیکن ان سے چھوٹے جام مجھے سخت ناپسند ہیں۔“ اللہ کرے امیر المؤمنین کو یہ خبر نہ پہنچے ورنہ برا مانیں گے اور سزادیں گے۔ یہ اشعار سچ مچ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئے آپ رضی اللہ عنہ سخت ناراض ہوئے اور اسی وقت آدمی بھیجا کہ میں نے تجھے تیرے عہدے سے معزول کیا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خط بھیجا جس میں بسم اللہ کے بعد حم کی تین آیتیں «حم تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ» ۱؎ [40-غافر:1-3] تک لکھ کر پھر تحریر فرمایا کہ ”تیرے اشعار سے مجھے سخت رنج ہوا۔ میں تجھے تیرے عہدے سے معزول کرتا ہوں۔“ چنانچہ اس خط کو پڑھتے ہی نعمان دربار خلافت میں حاضر ہوئے اور با ادب عرض کیا کہ امیر المؤمنین واللہ نہ میں نے کبھی شراب پی نہ ناچ رنگ وگانا بجانا دیکھا، نہ سنا۔ یہ تو صرف شاعرانہ ترنگ تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہی میرا خیال ہے لیکن میری تو ہمت نہیں پڑتی کہ ایسے فحش گو شاعر کو کوئی عہدہ دوں۔“ پس معلوم ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک بھی شاعر اپنے شعروں میں کسی جرم کے اعلان پر اگرچہ وہ قابل حد ہو تو حد نہیں لگائی جائے گی اس لیے کہ وہ جو کہتے ہیں سو کرتے نہیں ہاں وہ قابل ملامت اور لائق سرزنش ضرور ہیں۔
چنانچہ حدیث میں ہے کہ { پیٹ کو لہو پیپ سے بھر لینا اشعار سے بھرلینے سے بد تر ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2258] مطلب یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو شاعر ہیں، نہ ساحر، نہ کاہن، نہ مفتری ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہر حال ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان عیوب سے برأت کا بہت بڑا عادل گواہ ہے جیسے فرمان ہے کہ «وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْآنٌ مُّبِينٌ» ۱؎ [36-يس:69] ’ تو ہم نے انہیں شعر گوئی سکھائی ہے نہ اس کے لائق ہے یہ تو صرف نصیحت اور قرآن مبین ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [69-الحاقة:40-43] ’ یہ رسول اللہ کا قول ہے کسی شاعر کا نہیں تم میں ایمان کی کمی ہے یہ کسی کاہن کا قول نہیں۔ تم میں نصیحت ماننے کا مادہ کم ہے یہ تو رب العلمین کی اتاری ہوئی کتاب ہے ‘۔ اس سورت میں بھی یہی فرمایا گیا کہ ’ یہ رب العلمین کی طرف سے اتری ہے۔ روح الامین نے تیرے دل پر نازل فرمائی ہے عربی زبان میں ہے اس لیے کہ تو لوگوں کو آگاہ کر دے اسے شیاطین لے کر نہیں آئے نہ یہ ان کے لائق ہے نہ ان کی بس کی بات ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ کر دئیے گئے ہیں ‘۔ جو جھوٹے مفتری اور بد کردار ہوتے ہیں ان کے پاس شیاطین آتے ہیں جو اچٹتی باتیں سن سنا کر ان کے کانوں میں آ کر ڈال جاتے ہیں۔ محض جھوٹ بولنے والے یہ خود ہوتے ہیں شاعروں کی پشت پناہی اوباشوں کا کام ہے وہ تو ہر وادی میں سرگرداں ہوتے ہیں زبانی باتیں بناتیں ہیں عمل سے کورے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جو فرمان ہے اس کا شان نزول یہ ہے کہ { اس سے اگلی آیت جس میں شاعروں کی مذمت ہے جب اتری تو دربار رسول کے شعراء حسان بن ثابت، عبداللہ بن رواحہ، کعب بن مالک رضی اللہ عنہم روتے ہوئے دربار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعروں کی تو یہ گت بنی اور ہم بھی شاعر ہیں اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دوسری آیت تلاوت فرمائی کہ ’ ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے تم ہو ذکر اللہ بکثرت کرنے والے تم ہو مظلوم ہو کر بدلہ لینے والے تم ہو پس تم ان سے مستثنٰی ہو ‘ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26848:ضعیف] ۔
ایک روایت میں کعب رضی اللہ عنہ کا نام ہے ایک روایت میں صرف عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اس شکایت پر کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعر تو میں بھی ہوں۔“ اس دوسری آیت کا نازل ہونا مروی ہے لیکن یہ قابل نظر، اس لیے کہ یہ سورت مکیہ ہے شعراء انصار جتنے بھی تھے وہ سب مدینے میں تھے پھر ان کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا یقیناً محل غور ہو گا اور جو حدیثیں بیان ہوئیں وہ مرسل ہیں اس وجہ سے اعتماد نہیں ہوسکتا ہے یہ آیت بے شک استثناء کے بارے میں ہے اور صرف یہی انصاری شعراء رضی اللہ عنہم ہی نہیں بلکہ اگر کسی شاعر نے اپنی جاہلیت کے زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی اشعار کہے ہوں اور پھر مسلمان ہو جائے توبہ کر لے اور اس کے مقابلے میں ذکر اللہ بکثرت کرے وہ بیشک اس برائی سے الگ ہے۔ حسنات سیئات کو دور کر دیتی ہے جب کہ اس نے مسلمان کو اور دین حق کو برا کہا تھا وہ برا تھا لیکن جب اس نے ان کی مدح کی تو برائی بھلائی سے بدل گئی۔ جیسے عبداللہ بن زبعری رضی اللہ عنہ نے اسلام سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو بیان کی تھی لیکن اسلام کے بعد بڑی مدح بیان کی اور اپنے اشعار میں اس ہجو کا عذر بھی بیان کرتے ہوئے کہا۔ میں اس وقت شیطانی پنجہ میں پھنسا ہوا تھا۔ اسی طرح ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب باوجود آپ کا چچا زاد بھائی ہونے کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانی دشمن تھا اور بہت ہجو کیا کرتا تھا جب مسلمان ہوئے تو ایسے مسلمان ہوئے کہ دنیا بھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب انہیں کوئی نہ تھا۔ اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح کیا کرتے تھے اور بہت ہی عقیدت ومحبت رکھتے تھے۔ (رضی اللہ عنہ)
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ابوسفیان صخر بن حرب جب مسلمان ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا مجھے تین چیزیں عطا فرمائیے ایک تو یہ کہ میرے لڑکے معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیجئیے۔ دوسرے مجھے کافروں سے جہاد کے لیے بھیجیے اور میرے ساتھ کوئی لشکر دیجئیے تاکہ جس طرح کفر میں مسلمانوں سے لڑا کرتا تھا اب اسلام میں کافروں کی خبرلوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں باتیں قبول فرمائیں ایک تیسری درخواست بھی کی جو قبول کی گئی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2501] پس ایسے لوگ اس آیت کے حکم سے اس دوسری آیت سے الگ کرلئے گئے۔ ذکر اللہ خواہ وہ اپنے شعروں میں بکثرت کریں خواہ اور طرح اپنے کلام میں یقیناً وہ اگلے گناہوں کا بدلہ اور کفارہ ہے۔ ’ اپنی مظلومی کا بدلہ لیتے ہیں ‘۔ یعنی کافروں کی ہجو کا جواب دیتے ہیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا { ان کفار کی ہجو کرو جبرائیل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3213] { کعب بن مالک رضی اللہ عنہ شاعر نے جب شعراء کی برائی قرآن میں سنی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم ان میں نہیں ہو مومن تو جس طرح اپنی جان سے جہاد کرتا ہے اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے۔ واللہ تم لوگوں کے اشعار تو انہیں مجاہدین کے تیروں کی طرح چھید ڈالتے ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:387/6:صحیح] پھر فرمایا ’ ظالموں کو اپنا انجام ابھی معلوم ہو جائے گا۔ انہیں عذر معذرت بھی کچھ کام نہ آئیگی ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ظالم سے بچو اس سے میدان قیامت میں اندھیروں میں رہ جاؤ گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2578] آیت عام ہے خواہ شاعر ہوں خواہ شاعر نہ ہوں سب شامل ہیں۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ایک نصرانی کے جنازے کو جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو اس قدر روتے کہ ہچکی بندھ جاتی۔ روم میں جب فضالہ بن عبید تشریف لے گئے اس وقت ایک صاحب نماز پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا ”اس سے مراد بیت اللہ کی بربادی کرنے والے ہیں“، کہا گیا کہ ”اس سے مراد اہل مکہ ہیں“، یہ بھی مروی ہے کہ ”مراد مشرک ہیں۔“ حقیقت یہ ہے کہ آیت عام ہے سب پر مشتمل ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے والد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی وصیت صرف دو سطروں میں لکھی۔ جو یہ تھی « «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» » یہ ہے وصیت ابوبکر بن ابی قحافہ کی۔ اس وقت کی جب کہ وہ دنیا چھوڑ رہے تھے۔ جس وقت کافر بھی مومن ہو جاتا، فاجر بھی توبہ کر لیتا تب کاذب کو بھی سچا سمجھتا ہے میں تم پر اپنا خلیفہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بنا جا رہا ہوں۔ اگر وہ عدل کرے تو بہت اچھا اور میرا گمان بھی ان کے ساتھ یہی ہے اور اگر وہ ظلم کرے اور کوئی تبدیلی کر دے تو میں غیب نہیں جانتا۔ ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ کس لوٹنے کی جگہ وہ لوٹتے ہیں }۔ ۱؎ [ضعیف] سورۃ الشعراء کی تفسیر بحمد اللہ ختم ہوئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 225) {اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِيْ كُلِّ وَادٍ يَّهِيْمُوْنَ:} یہ شاعروں کی دوسری خصوصیت ہے جو یہاں بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ جب انھیں کوئی خیال آتا ہے اسے اچھوتے انداز میں شعر کے قالب میں ڈھال دیتے ہیں، انھیں اس سے غرض نہیں کہ وہ رحمانی ہے یا شیطانی، روحانی ہے یا نفسانی، اس سے خیر کے جذبات پیدا ہوں گے یا شر کے۔ کبھی کسی کی تعریف کرکے اسے آسمان پر چڑھا دیتے ہیں اور کبھی کسی کی ہجو اور مذمت کرکے اسے آسمان سے زمین پر پٹخ دیتے ہیں۔ ایک شعر سے معلوم ہو گا کہ شاعر ولی ہے جب کہ دوسرے شعر سے پتا چلے گا کہ وہ شیطان ہے۔ ایک ہی سانس میں وہ نیکی اور بدی دونوں کی باتیں بے تکلف کہہ دے گا، لیکن کہے گا ایسے مؤثر اور دلکش انداز میں کہ سننے والے ان دونوں سے متاثر ہو جائیں گے، لیکن نفس انسانی کو چونکہ نیکی کے بجائے بدی کی باتیں ہی عموماً مرغوب ہوتی ہیں، اس لیے شاعر کے چھوڑے ہوئے بدی والے اثرات و نقوش تو قائم رہتے ہیں، مگر نیکی کے اثرات غائب ہو جاتے ہیں اور اس طرح ان کا کلام {” وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا “} کا مصداق بن جاتا ہے۔ (تفسیر مدنی)
مشرکین کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اس کو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر جھوٹ بولنے والے ہوں۔ بدکردار اور گناہگار ہوں۔ ایسے کاہنوں اور بدکرداروں اور جھوٹے لوگوں کے پاس جنات اور شیاطین پہنچتے ہیں کیونکہ وہ بھی جھوٹے اور بداعمال ہیں۔ اچٹتی ہوئی کوئی ایک آدھ بات سنی سنائی پہنچاتے ہیں اور وہ ایک جو آسمان سے چھپے چھپائے سن لی تو سو جھوٹ اس میں ملا کر کاہنوں کے کان میں ڈالدی۔ انہوں نے اپنی طرف سے پھر بہت سی باتیں شامل کر کے لوگوں میں ڈینگیں مار دیں۔ اب ایک آدھ بات تو سچی نکلی لیکن لوگوں نے ان کی اور سو جھوٹی باتیں بھی سچی مان لیں اور تباہ ہوئے۔ بخاری شریف میں ہے کہ { لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ کوئی چیز نہیں ہیں }۔ لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی تو ان کی کوئی بات کھری بھی نکل آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں یہ وہی بات ہوتی ہے جو جنات آسمان سے اڑا لاتے ہیں اور ان کے کان میں کہہ کر جاتے ہیں پھر اس کے ساتھ جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر کہہ دیتے ہیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5762] صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ { جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے با ادب اپنے پر جھکا دیتے ہیں۔ ایسی آواز آتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر بجائی جاتی ہو جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوتی ہے تو آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ رب کا کیا حکم صادر ہوا ہے؟ دوسرے جواب دیتے ہیں کہ رب نے یہ فرمایا اور وہ عالی شان اور بہت بڑی کبرائی والا ہے۔ کبھی کبھی امر الٰہی سے چوری چھپے سننے والے کسی جن کے کان میں بھنک پڑجاتی ہے جو اس طرح ایک پر ایک پر ہو کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ راوی حدیث سیدنا سفیان نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیلا کر اس پر دوسرا ہاتھ اس طرح رکھ کر انہیں ہلا کر بتایا کہ اس طرح۔ اب اوپر والا نیچے والے کو اور وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتلا دیتا ہے یہاں تک کہ جادوگر اور کاہن کو وہ پہنچادیتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات پہنچاتے اس سے پہلے شعلہ پہنچ جاتا ہے اور کبھی اس کے پہلے ہی وہ پہنچا دیتے ہیں اس میں کاہن وجادوگر اپنے سوجھوٹ شامل کر کے مشہور کرتا ہے چونکہ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ سب باتوں کو ہی سچا سمجھنے لگتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4800] ان تمام احایث کا بیان آیت «حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ» ۱؎ [34-سبأ:23] کی تفسیر میں آئے گا۔ ان شاءاللہ۔
بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ { فرشتے آسمانی امر کی بات چیت بادلوں پر کرتے ہیں جسے شیطان سن کر کاہنوں اور وہ ایک سچ میں سو جھوٹ ملاتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3288] پھر فرمایا کہ ’ کافر شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے ہیں ‘۔ عرب کے شاعروں کا دستور تھا کسی کی مذمت اور ہجو میں کچھ کہہ ڈالتے تھے لوگوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہو جاتی تھی اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگتی تھی۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ عرج میں جا رہے تھے راستے میں ایک شاعر شعر خوانی کرتے ہوئے ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس شیطان کو پکڑ لو } یا فرمایا: { روکو! تم میں سے کوئی شخص خون اور پیپ سے اپنا پیٹ بھرلے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے اپنا پیٹ بھرے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2259] انہیں ہر جنگل کی ٹھوکریں کھاتے کسی نے نہیں دیکھا؟ ہر لغو میں یہ گھس جاتے ہیں۔ کلام کے ہر فن میں بولتے ہیں۔ کبھی کسی کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ کبھی کسی کی مذمت میں آسمان و زمین سر پر اٹھاتے ہیں جھوٹی خوشامد جھوٹی برائیاں گھڑی ہوئی بدیاں ان کے حصے میں آئی ہیں۔ یہ زبان کے بھانڈ ہوتے ہیں لیکن کام کے کاہل ایک انصاری اور ایک دوسری قوم کے شخص نے ہجو کا مقابلہ کیا جس میں دنوں کے قوم کے بڑے بڑے لوگ بھی ان کے ساتھ ہوگئے۔ پس اس آیت میں یہی ہے کہ ان کا ساتھ دینے والے گمراہ لوگ ہیں۔ وہ وہ باتیں بکا کرتے ہیں جنہیں کسی نے کبھی کیا نہ ہو۔ اسی لیے علماء نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ اگر کسی شاعر نے نے اپنے شعر میں کسی ایسے گناہ کا اقرار کیا ہو جس پر حد شرع واجب ہوتی ہو تو آیا وہ حد اس پر جاری کی جائے گی یا نہیں؟ دونوں طرف علماء گئے۔ واقعی وہ فخر و غرور کے ساتھ ایسی باتیں بک دیتے ہیں کہ میں نے یہ کیا اور وہ کیا حالانکہ نہ کچھ کیا ہو اور نہ ہی کر سکتے ہوں۔ امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا نے اپنی خلافت کے زمانے میں نعمان بن عدی بن فضلہ کو بصرے کے شہر یسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ وہ شاعر تھے ایک مرتبہ اپنے شعروں میں کہا کہ ”کیا حسینوں کو یہ اطلاع نہیں ہوئی کہ ان کا محبوب یسان میں ہے جہاں ہر وقت شیشے کے گلاسوں میں دور شراب چل رہا ہے اور گاؤں کی بھولی لڑکیوں نے گانے اور ان کے رقص وسرور مہیا ہیں ہاں اگر میرے کسی دوست سے ہو سکے تو اس بڑے اور بھرے ہوئے جام مجھے پلائے لیکن ان سے چھوٹے جام مجھے سخت ناپسند ہیں۔“ اللہ کرے امیر المؤمنین کو یہ خبر نہ پہنچے ورنہ برا مانیں گے اور سزادیں گے۔ یہ اشعار سچ مچ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئے آپ رضی اللہ عنہ سخت ناراض ہوئے اور اسی وقت آدمی بھیجا کہ میں نے تجھے تیرے عہدے سے معزول کیا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خط بھیجا جس میں بسم اللہ کے بعد حم کی تین آیتیں «حم تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ» ۱؎ [40-غافر:1-3] تک لکھ کر پھر تحریر فرمایا کہ ”تیرے اشعار سے مجھے سخت رنج ہوا۔ میں تجھے تیرے عہدے سے معزول کرتا ہوں۔“ چنانچہ اس خط کو پڑھتے ہی نعمان دربار خلافت میں حاضر ہوئے اور با ادب عرض کیا کہ امیر المؤمنین واللہ نہ میں نے کبھی شراب پی نہ ناچ رنگ وگانا بجانا دیکھا، نہ سنا۔ یہ تو صرف شاعرانہ ترنگ تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہی میرا خیال ہے لیکن میری تو ہمت نہیں پڑتی کہ ایسے فحش گو شاعر کو کوئی عہدہ دوں۔“ پس معلوم ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک بھی شاعر اپنے شعروں میں کسی جرم کے اعلان پر اگرچہ وہ قابل حد ہو تو حد نہیں لگائی جائے گی اس لیے کہ وہ جو کہتے ہیں سو کرتے نہیں ہاں وہ قابل ملامت اور لائق سرزنش ضرور ہیں۔
چنانچہ حدیث میں ہے کہ { پیٹ کو لہو پیپ سے بھر لینا اشعار سے بھرلینے سے بد تر ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2258] مطلب یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو شاعر ہیں، نہ ساحر، نہ کاہن، نہ مفتری ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہر حال ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان عیوب سے برأت کا بہت بڑا عادل گواہ ہے جیسے فرمان ہے کہ «وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْآنٌ مُّبِينٌ» ۱؎ [36-يس:69] ’ تو ہم نے انہیں شعر گوئی سکھائی ہے نہ اس کے لائق ہے یہ تو صرف نصیحت اور قرآن مبین ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [69-الحاقة:40-43] ’ یہ رسول اللہ کا قول ہے کسی شاعر کا نہیں تم میں ایمان کی کمی ہے یہ کسی کاہن کا قول نہیں۔ تم میں نصیحت ماننے کا مادہ کم ہے یہ تو رب العلمین کی اتاری ہوئی کتاب ہے ‘۔ اس سورت میں بھی یہی فرمایا گیا کہ ’ یہ رب العلمین کی طرف سے اتری ہے۔ روح الامین نے تیرے دل پر نازل فرمائی ہے عربی زبان میں ہے اس لیے کہ تو لوگوں کو آگاہ کر دے اسے شیاطین لے کر نہیں آئے نہ یہ ان کے لائق ہے نہ ان کی بس کی بات ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ کر دئیے گئے ہیں ‘۔ جو جھوٹے مفتری اور بد کردار ہوتے ہیں ان کے پاس شیاطین آتے ہیں جو اچٹتی باتیں سن سنا کر ان کے کانوں میں آ کر ڈال جاتے ہیں۔ محض جھوٹ بولنے والے یہ خود ہوتے ہیں شاعروں کی پشت پناہی اوباشوں کا کام ہے وہ تو ہر وادی میں سرگرداں ہوتے ہیں زبانی باتیں بناتیں ہیں عمل سے کورے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جو فرمان ہے اس کا شان نزول یہ ہے کہ { اس سے اگلی آیت جس میں شاعروں کی مذمت ہے جب اتری تو دربار رسول کے شعراء حسان بن ثابت، عبداللہ بن رواحہ، کعب بن مالک رضی اللہ عنہم روتے ہوئے دربار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعروں کی تو یہ گت بنی اور ہم بھی شاعر ہیں اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دوسری آیت تلاوت فرمائی کہ ’ ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے تم ہو ذکر اللہ بکثرت کرنے والے تم ہو مظلوم ہو کر بدلہ لینے والے تم ہو پس تم ان سے مستثنٰی ہو ‘ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26848:ضعیف] ۔
ایک روایت میں کعب رضی اللہ عنہ کا نام ہے ایک روایت میں صرف عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اس شکایت پر کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعر تو میں بھی ہوں۔“ اس دوسری آیت کا نازل ہونا مروی ہے لیکن یہ قابل نظر، اس لیے کہ یہ سورت مکیہ ہے شعراء انصار جتنے بھی تھے وہ سب مدینے میں تھے پھر ان کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا یقیناً محل غور ہو گا اور جو حدیثیں بیان ہوئیں وہ مرسل ہیں اس وجہ سے اعتماد نہیں ہوسکتا ہے یہ آیت بے شک استثناء کے بارے میں ہے اور صرف یہی انصاری شعراء رضی اللہ عنہم ہی نہیں بلکہ اگر کسی شاعر نے اپنی جاہلیت کے زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی اشعار کہے ہوں اور پھر مسلمان ہو جائے توبہ کر لے اور اس کے مقابلے میں ذکر اللہ بکثرت کرے وہ بیشک اس برائی سے الگ ہے۔ حسنات سیئات کو دور کر دیتی ہے جب کہ اس نے مسلمان کو اور دین حق کو برا کہا تھا وہ برا تھا لیکن جب اس نے ان کی مدح کی تو برائی بھلائی سے بدل گئی۔ جیسے عبداللہ بن زبعری رضی اللہ عنہ نے اسلام سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو بیان کی تھی لیکن اسلام کے بعد بڑی مدح بیان کی اور اپنے اشعار میں اس ہجو کا عذر بھی بیان کرتے ہوئے کہا۔ میں اس وقت شیطانی پنجہ میں پھنسا ہوا تھا۔ اسی طرح ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب باوجود آپ کا چچا زاد بھائی ہونے کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانی دشمن تھا اور بہت ہجو کیا کرتا تھا جب مسلمان ہوئے تو ایسے مسلمان ہوئے کہ دنیا بھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب انہیں کوئی نہ تھا۔ اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح کیا کرتے تھے اور بہت ہی عقیدت ومحبت رکھتے تھے۔ (رضی اللہ عنہ)
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ابوسفیان صخر بن حرب جب مسلمان ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا مجھے تین چیزیں عطا فرمائیے ایک تو یہ کہ میرے لڑکے معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیجئیے۔ دوسرے مجھے کافروں سے جہاد کے لیے بھیجیے اور میرے ساتھ کوئی لشکر دیجئیے تاکہ جس طرح کفر میں مسلمانوں سے لڑا کرتا تھا اب اسلام میں کافروں کی خبرلوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں باتیں قبول فرمائیں ایک تیسری درخواست بھی کی جو قبول کی گئی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2501] پس ایسے لوگ اس آیت کے حکم سے اس دوسری آیت سے الگ کرلئے گئے۔ ذکر اللہ خواہ وہ اپنے شعروں میں بکثرت کریں خواہ اور طرح اپنے کلام میں یقیناً وہ اگلے گناہوں کا بدلہ اور کفارہ ہے۔ ’ اپنی مظلومی کا بدلہ لیتے ہیں ‘۔ یعنی کافروں کی ہجو کا جواب دیتے ہیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا { ان کفار کی ہجو کرو جبرائیل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3213] { کعب بن مالک رضی اللہ عنہ شاعر نے جب شعراء کی برائی قرآن میں سنی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم ان میں نہیں ہو مومن تو جس طرح اپنی جان سے جہاد کرتا ہے اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے۔ واللہ تم لوگوں کے اشعار تو انہیں مجاہدین کے تیروں کی طرح چھید ڈالتے ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:387/6:صحیح] پھر فرمایا ’ ظالموں کو اپنا انجام ابھی معلوم ہو جائے گا۔ انہیں عذر معذرت بھی کچھ کام نہ آئیگی ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ظالم سے بچو اس سے میدان قیامت میں اندھیروں میں رہ جاؤ گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2578] آیت عام ہے خواہ شاعر ہوں خواہ شاعر نہ ہوں سب شامل ہیں۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ایک نصرانی کے جنازے کو جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو اس قدر روتے کہ ہچکی بندھ جاتی۔ روم میں جب فضالہ بن عبید تشریف لے گئے اس وقت ایک صاحب نماز پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا ”اس سے مراد بیت اللہ کی بربادی کرنے والے ہیں“، کہا گیا کہ ”اس سے مراد اہل مکہ ہیں“، یہ بھی مروی ہے کہ ”مراد مشرک ہیں۔“ حقیقت یہ ہے کہ آیت عام ہے سب پر مشتمل ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے والد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی وصیت صرف دو سطروں میں لکھی۔ جو یہ تھی « «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» » یہ ہے وصیت ابوبکر بن ابی قحافہ کی۔ اس وقت کی جب کہ وہ دنیا چھوڑ رہے تھے۔ جس وقت کافر بھی مومن ہو جاتا، فاجر بھی توبہ کر لیتا تب کاذب کو بھی سچا سمجھتا ہے میں تم پر اپنا خلیفہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بنا جا رہا ہوں۔ اگر وہ عدل کرے تو بہت اچھا اور میرا گمان بھی ان کے ساتھ یہی ہے اور اگر وہ ظلم کرے اور کوئی تبدیلی کر دے تو میں غیب نہیں جانتا۔ ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ کس لوٹنے کی جگہ وہ لوٹتے ہیں }۔ ۱؎ [ضعیف] سورۃ الشعراء کی تفسیر بحمد اللہ ختم ہوئی۔
226-1شاعروں کی اکثریت چونکہ ایسی ہوتی ہے کہ وہ اصول کی بجائے، ذاتی پسند و ناپسند کے مطابق اظہار رائے کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں غلو اور مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں اور شاعرانہ تخیلات میں کبھی ادھر اور کبھی ادھر بھٹکتے ہیں، اس لئے فرمایا کہ ان کے پیچھے لگنے والے بھی گمراہ ہیں، اسی قسم کے اشعار کے لئے حدیث میں بھی فرمایا گیا ہے کہ ' پیٹ کو لہو پیپ سے بھر جانا، جو اسے خراب کر دے، شعر سے بھر جانے سے بہتر ہے ' (ترمذی و مسلم وغیرہ)
(آیت 226) {وَ اَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ مَا لَا يَفْعَلُوْنَ:} یہ شاعروں کی تیسری خصوصیت ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طرزِ عمل کی عین ضد تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جاننے والا ہر شخص جانتا تھا کہ آپ جو کہتے ہیں وہی کرتے ہیں، دوست دشمن سب کا اتفاق تھا کہ آپ کے قول و فعل میں تضاد نہیں، جب کہ شاعروں کے متعلق ہر شخص جانتا ہے کہ ان کے کہنے کی باتیں اور ہوتی ہیں، کرنے کی اور۔ شعر پڑھو تو معلوم ہو گا کہ شیر سے زیادہ بہادر ہیں مگر پرلے درجے کے بزدل ہوں گے، سخاوت کا مضمون ایسا باندھیں گے کہ آدمی سمجھے ان سے بڑا سخی کوئی نہیں جب کہ واقع میں سخت کنجوس ہوں گے، زہد و قناعت اور خود داری کا بلند بانگ دعویٰ کریں گے جب کہ حرص و طمع میں ذلت کی آخری حد کو پار کر رہے ہوں گے۔ مرزا غالب نے اپنا حال خود ہی بیان کر دیا ہے: یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالب تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا حالی نے مسدس میں اپنے زمانے کے شاعروں کا خوب نقشہ کھینچا ہے. برا شعر کہنے کی گر کچھ سزا ہے تو وہ محکمہ جس کا قاضی خدا ہے گنہ گار واں چھوٹ جائیں گے سارے عبث جھوٹ بکنا اگر ناروا ہے مقرر جہاں نیک و بد کی سزا ہے جہنم کو بھر دیں گے شاعر ہمارے ان اشعار میں حالی نے شاعروں کی مذمت کرتے ہوئے دوسرے تمام گناہ گاروں کو جہنم سے آزادی کا پروانہ دے دیا، یہ اس شاعری ہی کا نتیجہ ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے مذمت فرمائی ہے۔اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَأَنْ يَّمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَيْحًا يَرِيْهِ خَيْرٌ مِّنْ أَنْ يَّمْتَلِئَ شِعْرًا ] [ مسلم، الشعر، باب في إنشاد الأشعار…:۲۲۵۷، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”(تم میں سے) کسی آدمی کا اندرون (سینہ، پیٹ) پیپ سے بھر جائے جو اسے گلا دے، تو وہ اس سے بہتر ہے کہ شعر سے بھرے۔“ اندرون (سینہ، پیٹ) شعر سے بھرنے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن و حدیث کے بجائے اشعار آدمی پر غالب ہوں۔ ورنہ اچھے اشعار یاد کرنے اور سننے سنانے میں کوئی حرج نہیں۔ عمرو بن شرید اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْءٌ؟ قُلْتُ نَعَمْ، قَالَ هِيْهِ فَأَنْشَدْتُّهُ بَيْتًا، فَقَالَ هِيْهِ ثُمَّ أَنْشَدْتُّهُ بَيْتًا فَقَالَ هِيْهِ حَتّٰی أَنْشَدْتُّهُ مِائَةَ بَيْتٍ ] [مسلم، الشعر، باب في إنشاد الأشعار…:۲۲۵۵ ] ”تمھیں امیہ بن صلت کے کچھ اشعار یاد ہیں؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں!“ آپ نے فرمایا: ”سناؤ۔“ میں نے ایک شعر سنایا، آپ نے فرمایا: ”اور سناؤ۔“ میں نے ایک شعر اور سنایا، آپ نے فرمایا: ”اور سناؤ۔“ حتیٰ کہ میں نے آپ کو سو شعر سنائے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: [ إِذَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ فَابْتَغُوْهُ فِي الشِّعْرِ فَإِنَّهُ دِيْوَانُ الْعَرَبِ ] [مستدرک حاکم: 499/2، ح: ۳۸۴۵، قال الحاکم صحیح و وافقہ الذھبي ] ”جب تم سے قرآن کی کوئی چیز مخفی رہے (کسی لفظ کا مطلب سمجھ میں نہ آئے) تو اسے شعر میں تلاش کرو، کیونکہ وہ عرب کا دیوان ہے (یعنی ان کے گزشتہ علوم کا مجموعہ ہے)۔“ ابن حبان (۷۳۷۷) کے حاشیہ میں اس کے محقق نے یہ روایت بیہقی کی ”الاسماء والصفات“ کے حوالے سے نقل کر کے اس کی دو سندوں کو حسن کہا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا تفسیرِ قرآن میں اشعار عرب سے استشہاد معروف ہے۔
بجز اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا اور جب ان پر ظلم کیا گیا تو صرف بدلہ لے لیا، اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
سوائے ان کے جو ایمان ﻻئے اور نیک عمل کیے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اپنی مظلومی کے بعد انتقام لیا، جنہوں نے ﻇلم کیا ہے وه بھی ابھی جان لیں گے کہ کس کروٹ الٹتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
مگر وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور بکثرت اللہ کی یاد کی اور بدلہ لیا بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوا اور اب جاننا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور بکثرت اللہ کا ذکر کیا اور بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوا انہوں نے بدلہ لیا اور جن لوگوں نے ظلم کیا انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس جگہ لوٹ کر جا رہے ہیں؟
عبدالسلام بن محمد
مگر وہ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور اللہ کو بہت یاد کیا اور انتقام لیا، اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا اور عنقریب وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا، جان لیں گے کہ وہ لوٹنے کی کون سی جگہ لوٹ کر جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیاطین اور جادوگر ٭٭
مشرکین کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اس کو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر جھوٹ بولنے والے ہوں۔ بدکردار اور گناہگار ہوں۔ ایسے کاہنوں اور بدکرداروں اور جھوٹے لوگوں کے پاس جنات اور شیاطین پہنچتے ہیں کیونکہ وہ بھی جھوٹے اور بداعمال ہیں۔ اچٹتی ہوئی کوئی ایک آدھ بات سنی سنائی پہنچاتے ہیں اور وہ ایک جو آسمان سے چھپے چھپائے سن لی تو سو جھوٹ اس میں ملا کر کاہنوں کے کان میں ڈالدی۔ انہوں نے اپنی طرف سے پھر بہت سی باتیں شامل کر کے لوگوں میں ڈینگیں مار دیں۔ اب ایک آدھ بات تو سچی نکلی لیکن لوگوں نے ان کی اور سو جھوٹی باتیں بھی سچی مان لیں اور تباہ ہوئے۔ بخاری شریف میں ہے کہ { لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ کوئی چیز نہیں ہیں }۔ لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی تو ان کی کوئی بات کھری بھی نکل آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں یہ وہی بات ہوتی ہے جو جنات آسمان سے اڑا لاتے ہیں اور ان کے کان میں کہہ کر جاتے ہیں پھر اس کے ساتھ جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر کہہ دیتے ہیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5762] صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ { جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے با ادب اپنے پر جھکا دیتے ہیں۔ ایسی آواز آتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر بجائی جاتی ہو جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوتی ہے تو آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ رب کا کیا حکم صادر ہوا ہے؟ دوسرے جواب دیتے ہیں کہ رب نے یہ فرمایا اور وہ عالی شان اور بہت بڑی کبرائی والا ہے۔ کبھی کبھی امر الٰہی سے چوری چھپے سننے والے کسی جن کے کان میں بھنک پڑجاتی ہے جو اس طرح ایک پر ایک پر ہو کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ راوی حدیث سیدنا سفیان نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیلا کر اس پر دوسرا ہاتھ اس طرح رکھ کر انہیں ہلا کر بتایا کہ اس طرح۔ اب اوپر والا نیچے والے کو اور وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتلا دیتا ہے یہاں تک کہ جادوگر اور کاہن کو وہ پہنچادیتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات پہنچاتے اس سے پہلے شعلہ پہنچ جاتا ہے اور کبھی اس کے پہلے ہی وہ پہنچا دیتے ہیں اس میں کاہن وجادوگر اپنے سوجھوٹ شامل کر کے مشہور کرتا ہے چونکہ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ سب باتوں کو ہی سچا سمجھنے لگتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4800] ان تمام احایث کا بیان آیت «حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ» ۱؎ [34-سبأ:23] کی تفسیر میں آئے گا۔ ان شاءاللہ۔
بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ { فرشتے آسمانی امر کی بات چیت بادلوں پر کرتے ہیں جسے شیطان سن کر کاہنوں اور وہ ایک سچ میں سو جھوٹ ملاتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3288] پھر فرمایا کہ ’ کافر شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے ہیں ‘۔ عرب کے شاعروں کا دستور تھا کسی کی مذمت اور ہجو میں کچھ کہہ ڈالتے تھے لوگوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہو جاتی تھی اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگتی تھی۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ عرج میں جا رہے تھے راستے میں ایک شاعر شعر خوانی کرتے ہوئے ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس شیطان کو پکڑ لو } یا فرمایا: { روکو! تم میں سے کوئی شخص خون اور پیپ سے اپنا پیٹ بھرلے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے اپنا پیٹ بھرے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2259] انہیں ہر جنگل کی ٹھوکریں کھاتے کسی نے نہیں دیکھا؟ ہر لغو میں یہ گھس جاتے ہیں۔ کلام کے ہر فن میں بولتے ہیں۔ کبھی کسی کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ کبھی کسی کی مذمت میں آسمان و زمین سر پر اٹھاتے ہیں جھوٹی خوشامد جھوٹی برائیاں گھڑی ہوئی بدیاں ان کے حصے میں آئی ہیں۔ یہ زبان کے بھانڈ ہوتے ہیں لیکن کام کے کاہل ایک انصاری اور ایک دوسری قوم کے شخص نے ہجو کا مقابلہ کیا جس میں دنوں کے قوم کے بڑے بڑے لوگ بھی ان کے ساتھ ہوگئے۔ پس اس آیت میں یہی ہے کہ ان کا ساتھ دینے والے گمراہ لوگ ہیں۔ وہ وہ باتیں بکا کرتے ہیں جنہیں کسی نے کبھی کیا نہ ہو۔ اسی لیے علماء نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ اگر کسی شاعر نے نے اپنے شعر میں کسی ایسے گناہ کا اقرار کیا ہو جس پر حد شرع واجب ہوتی ہو تو آیا وہ حد اس پر جاری کی جائے گی یا نہیں؟ دونوں طرف علماء گئے۔ واقعی وہ فخر و غرور کے ساتھ ایسی باتیں بک دیتے ہیں کہ میں نے یہ کیا اور وہ کیا حالانکہ نہ کچھ کیا ہو اور نہ ہی کر سکتے ہوں۔ امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا نے اپنی خلافت کے زمانے میں نعمان بن عدی بن فضلہ کو بصرے کے شہر یسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ وہ شاعر تھے ایک مرتبہ اپنے شعروں میں کہا کہ ”کیا حسینوں کو یہ اطلاع نہیں ہوئی کہ ان کا محبوب یسان میں ہے جہاں ہر وقت شیشے کے گلاسوں میں دور شراب چل رہا ہے اور گاؤں کی بھولی لڑکیوں نے گانے اور ان کے رقص وسرور مہیا ہیں ہاں اگر میرے کسی دوست سے ہو سکے تو اس بڑے اور بھرے ہوئے جام مجھے پلائے لیکن ان سے چھوٹے جام مجھے سخت ناپسند ہیں۔“ اللہ کرے امیر المؤمنین کو یہ خبر نہ پہنچے ورنہ برا مانیں گے اور سزادیں گے۔ یہ اشعار سچ مچ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئے آپ رضی اللہ عنہ سخت ناراض ہوئے اور اسی وقت آدمی بھیجا کہ میں نے تجھے تیرے عہدے سے معزول کیا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خط بھیجا جس میں بسم اللہ کے بعد حم کی تین آیتیں «حم تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ» ۱؎ [40-غافر:1-3] تک لکھ کر پھر تحریر فرمایا کہ ”تیرے اشعار سے مجھے سخت رنج ہوا۔ میں تجھے تیرے عہدے سے معزول کرتا ہوں۔“ چنانچہ اس خط کو پڑھتے ہی نعمان دربار خلافت میں حاضر ہوئے اور با ادب عرض کیا کہ امیر المؤمنین واللہ نہ میں نے کبھی شراب پی نہ ناچ رنگ وگانا بجانا دیکھا، نہ سنا۔ یہ تو صرف شاعرانہ ترنگ تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہی میرا خیال ہے لیکن میری تو ہمت نہیں پڑتی کہ ایسے فحش گو شاعر کو کوئی عہدہ دوں۔“ پس معلوم ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک بھی شاعر اپنے شعروں میں کسی جرم کے اعلان پر اگرچہ وہ قابل حد ہو تو حد نہیں لگائی جائے گی اس لیے کہ وہ جو کہتے ہیں سو کرتے نہیں ہاں وہ قابل ملامت اور لائق سرزنش ضرور ہیں۔
چنانچہ حدیث میں ہے کہ { پیٹ کو لہو پیپ سے بھر لینا اشعار سے بھرلینے سے بد تر ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2258] مطلب یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو شاعر ہیں، نہ ساحر، نہ کاہن، نہ مفتری ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہر حال ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان عیوب سے برأت کا بہت بڑا عادل گواہ ہے جیسے فرمان ہے کہ «وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْآنٌ مُّبِينٌ» ۱؎ [36-يس:69] ’ تو ہم نے انہیں شعر گوئی سکھائی ہے نہ اس کے لائق ہے یہ تو صرف نصیحت اور قرآن مبین ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [69-الحاقة:40-43] ’ یہ رسول اللہ کا قول ہے کسی شاعر کا نہیں تم میں ایمان کی کمی ہے یہ کسی کاہن کا قول نہیں۔ تم میں نصیحت ماننے کا مادہ کم ہے یہ تو رب العلمین کی اتاری ہوئی کتاب ہے ‘۔ اس سورت میں بھی یہی فرمایا گیا کہ ’ یہ رب العلمین کی طرف سے اتری ہے۔ روح الامین نے تیرے دل پر نازل فرمائی ہے عربی زبان میں ہے اس لیے کہ تو لوگوں کو آگاہ کر دے اسے شیاطین لے کر نہیں آئے نہ یہ ان کے لائق ہے نہ ان کی بس کی بات ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ کر دئیے گئے ہیں ‘۔ جو جھوٹے مفتری اور بد کردار ہوتے ہیں ان کے پاس شیاطین آتے ہیں جو اچٹتی باتیں سن سنا کر ان کے کانوں میں آ کر ڈال جاتے ہیں۔ محض جھوٹ بولنے والے یہ خود ہوتے ہیں شاعروں کی پشت پناہی اوباشوں کا کام ہے وہ تو ہر وادی میں سرگرداں ہوتے ہیں زبانی باتیں بناتیں ہیں عمل سے کورے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جو فرمان ہے اس کا شان نزول یہ ہے کہ { اس سے اگلی آیت جس میں شاعروں کی مذمت ہے جب اتری تو دربار رسول کے شعراء حسان بن ثابت، عبداللہ بن رواحہ، کعب بن مالک رضی اللہ عنہم روتے ہوئے دربار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعروں کی تو یہ گت بنی اور ہم بھی شاعر ہیں اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دوسری آیت تلاوت فرمائی کہ ’ ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے تم ہو ذکر اللہ بکثرت کرنے والے تم ہو مظلوم ہو کر بدلہ لینے والے تم ہو پس تم ان سے مستثنٰی ہو ‘ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26848:ضعیف] ۔
ایک روایت میں کعب رضی اللہ عنہ کا نام ہے ایک روایت میں صرف عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اس شکایت پر کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعر تو میں بھی ہوں۔“ اس دوسری آیت کا نازل ہونا مروی ہے لیکن یہ قابل نظر، اس لیے کہ یہ سورت مکیہ ہے شعراء انصار جتنے بھی تھے وہ سب مدینے میں تھے پھر ان کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا یقیناً محل غور ہو گا اور جو حدیثیں بیان ہوئیں وہ مرسل ہیں اس وجہ سے اعتماد نہیں ہوسکتا ہے یہ آیت بے شک استثناء کے بارے میں ہے اور صرف یہی انصاری شعراء رضی اللہ عنہم ہی نہیں بلکہ اگر کسی شاعر نے اپنی جاہلیت کے زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی اشعار کہے ہوں اور پھر مسلمان ہو جائے توبہ کر لے اور اس کے مقابلے میں ذکر اللہ بکثرت کرے وہ بیشک اس برائی سے الگ ہے۔ حسنات سیئات کو دور کر دیتی ہے جب کہ اس نے مسلمان کو اور دین حق کو برا کہا تھا وہ برا تھا لیکن جب اس نے ان کی مدح کی تو برائی بھلائی سے بدل گئی۔ جیسے عبداللہ بن زبعری رضی اللہ عنہ نے اسلام سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو بیان کی تھی لیکن اسلام کے بعد بڑی مدح بیان کی اور اپنے اشعار میں اس ہجو کا عذر بھی بیان کرتے ہوئے کہا۔ میں اس وقت شیطانی پنجہ میں پھنسا ہوا تھا۔ اسی طرح ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب باوجود آپ کا چچا زاد بھائی ہونے کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانی دشمن تھا اور بہت ہجو کیا کرتا تھا جب مسلمان ہوئے تو ایسے مسلمان ہوئے کہ دنیا بھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب انہیں کوئی نہ تھا۔ اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح کیا کرتے تھے اور بہت ہی عقیدت ومحبت رکھتے تھے۔ (رضی اللہ عنہ)
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ابوسفیان صخر بن حرب جب مسلمان ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا مجھے تین چیزیں عطا فرمائیے ایک تو یہ کہ میرے لڑکے معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیجئیے۔ دوسرے مجھے کافروں سے جہاد کے لیے بھیجیے اور میرے ساتھ کوئی لشکر دیجئیے تاکہ جس طرح کفر میں مسلمانوں سے لڑا کرتا تھا اب اسلام میں کافروں کی خبرلوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں باتیں قبول فرمائیں ایک تیسری درخواست بھی کی جو قبول کی گئی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2501] پس ایسے لوگ اس آیت کے حکم سے اس دوسری آیت سے الگ کرلئے گئے۔ ذکر اللہ خواہ وہ اپنے شعروں میں بکثرت کریں خواہ اور طرح اپنے کلام میں یقیناً وہ اگلے گناہوں کا بدلہ اور کفارہ ہے۔ ’ اپنی مظلومی کا بدلہ لیتے ہیں ‘۔ یعنی کافروں کی ہجو کا جواب دیتے ہیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا { ان کفار کی ہجو کرو جبرائیل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3213] { کعب بن مالک رضی اللہ عنہ شاعر نے جب شعراء کی برائی قرآن میں سنی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم ان میں نہیں ہو مومن تو جس طرح اپنی جان سے جہاد کرتا ہے اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے۔ واللہ تم لوگوں کے اشعار تو انہیں مجاہدین کے تیروں کی طرح چھید ڈالتے ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:387/6:صحیح] پھر فرمایا ’ ظالموں کو اپنا انجام ابھی معلوم ہو جائے گا۔ انہیں عذر معذرت بھی کچھ کام نہ آئیگی ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ظالم سے بچو اس سے میدان قیامت میں اندھیروں میں رہ جاؤ گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2578] آیت عام ہے خواہ شاعر ہوں خواہ شاعر نہ ہوں سب شامل ہیں۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ایک نصرانی کے جنازے کو جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو اس قدر روتے کہ ہچکی بندھ جاتی۔ روم میں جب فضالہ بن عبید تشریف لے گئے اس وقت ایک صاحب نماز پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا ”اس سے مراد بیت اللہ کی بربادی کرنے والے ہیں“، کہا گیا کہ ”اس سے مراد اہل مکہ ہیں“، یہ بھی مروی ہے کہ ”مراد مشرک ہیں۔“ حقیقت یہ ہے کہ آیت عام ہے سب پر مشتمل ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے والد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی وصیت صرف دو سطروں میں لکھی۔ جو یہ تھی « «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» » یہ ہے وصیت ابوبکر بن ابی قحافہ کی۔ اس وقت کی جب کہ وہ دنیا چھوڑ رہے تھے۔ جس وقت کافر بھی مومن ہو جاتا، فاجر بھی توبہ کر لیتا تب کاذب کو بھی سچا سمجھتا ہے میں تم پر اپنا خلیفہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بنا جا رہا ہوں۔ اگر وہ عدل کرے تو بہت اچھا اور میرا گمان بھی ان کے ساتھ یہی ہے اور اگر وہ ظلم کرے اور کوئی تبدیلی کر دے تو میں غیب نہیں جانتا۔ ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ کس لوٹنے کی جگہ وہ لوٹتے ہیں }۔ ۱؎ [ضعیف] سورۃ الشعراء کی تفسیر بحمد اللہ ختم ہوئی۔
227-1اس سے ان شاعروں کو مستشنٰی فرما دیا گیا، جن کی شاعری صداقت اور حقائق پر مبنی ہے اور استثنا ایسے الفاظ سے فرمایا جن سے واضح ہوجاتا ہے کہ ایماندار، عمل صلح پر کاربند اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والا شاعر، جس میں جھوٹ، غلو اور افراط اور تفریط ہو، کر ہی نہیں سکتا۔ یہ ان ہی لوگوں کا کام ہے جو مومنانہ صفات سے عاری ہوں۔ 227-2یعنی ایسے مومن شاعر، ان کافر شعرا کا جواب دیتے ہیں، جس میں انہوں نے مسلمانوں کی (برائی) کی ہو۔ جس طرح حضرت حسان بن ثابت کافروں کی شاعری کا جواب دیا کرتے تھے اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کو فرماتے کہ ' ان (کافروں) کی ہجو بیان کرو، جبرائیل ؑ بھی تمہارے ساتھ ہیں (صحیح بخاری) 227-3یعنی کون سی جگہ وہ لوٹتے ہیں؟ اور وہ جہنم ہے۔ اس میں ظالموں کے لئے سخت وعید ہے۔ جس طرح حدیث میں بھی فرمایا گیا ہے ' تم ظلم سے بچو! اس لئے کہ ظلم قیامت والے دن اندھیروں کا باعث ہوگا (صحیح مسلم)
(آیت 227) ➊ {اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ …:} شعراء کی مذمت کے بعد ان میں سے ایسے لوگوں کو مستثنیٰ فرمایا جن میں چار اوصاف پائے جائیں، پہلا وصف یہ کہ وہ مومن ہوں۔ دوسرا یہ کہ وہ صالح اعمال کے حامل ہوں، فاسق و فاجر اور بدکار نہ ہوں۔ تیسرا یہ کہ اللہ کو کثرت سے یاد کرتے ہوں، اپنی عام زندگی میں بھی اور اپنے اشعار میں بھی۔ ایسا نہ ہو کہ زبانی تسبیح و تہلیل اور اذکار پر تو بہت زور ہو مگر اشعار میں اللہ کی یاد کے بجائے عشق و ہوس اور فضول باتوں کا تذکرہ ہو۔ چوتھا وصف یہ کہ وہ اپنے کلام سے ظالموں کے مقابلے میں حق کی حمایت کا کام لیتے ہوں اور کفار و مشرکین اسلام، مسلمانوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو بد زبانی کریں ان کا دندان شکن جواب دیں۔ ایسے موقع پر وہ زبان سے وہ کام لیتے ہیں جو میدان جنگ میں مجاہد تیر و تلوار سے لیتا ہے۔ اس مقصد کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود شعرائے اسلام کی ہمت افزائی فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اُهْجُوْا قُرَيْشًا فَإِنَّهُ أَشَدُّ عَلَيْهَا مِنْ رَشْقٍ بِالنَّبْلِ ] [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب فضائل حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ: ۲۴۹۰ ] ”قریش کی ہجو کرو، کیونکہ وہ ان پر تیروں کے چھیدنے سے بھی سخت ہے۔“ اور اس حدیث کے آخر میں ہے، عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ حسان رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے: [ إِنَّ رُوْحَ الْقُدُسِ لَا يَزَالُ يُؤَيِّدُكَ مَا نَافَحْتَ عَنِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ ] ”روح القدس تیری مدد کرتا رہتا ہے جب تک تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتا رہے۔“ اور فرماتی ہیں کہ میں نے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ هَجَاهُمْ حَسَّانُ فَشَفٰی وَ اشْتَفٰی] [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب فضائل حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ: ۲۴۹۰ ] ”حسان نے ان کی ہجو کی اور شفا دی اور شفا پائی۔“ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یا رسول اللہ! آپ کی شعر کے بارے میں کیا رائے ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ لَكَأَنَّمَا تَنْضَحُوْنَهُمْ بِالنَّبْلِ ] [صحیح ابن حبان: ۴۷۰۷، قال المحقق إسنادہ علی شرط الشیخین ] ”مومن اپنی تلوار اور اپنی زبان کے ساتھ جہاد کرتا ہے، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! گویا تم انھیں تیروں کے ساتھ چھیدتے ہو۔“ آیت سے ظاہر ہے کہ شعر کی دو حالتیں ہیں، ایک وہ جس کی مذمت آئی ہے، دوسری وہ جس کی اجازت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً ] [ ابن ماجہ، الأدب، باب الشعر: ۳۷۵۵، و قال الألباني صحیح ] ”بعض شعر حکمت سے بھرے ہوتے ہیں۔“ عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ الشِّعْرُ بِمَنْزِلَةِ الْكَلَامِ حَسَنُهُ كَحَسَنِ الْكَلَامِ وَ قَبِيْحُهُ كَقَبِيْحِ الْكَلَامِ ] [ سنن الدار قطني: 274/5، ح: ۴۳۰۸ ] ”شعر کلام کی طرح ہے، سو اس میں سے جو اچھا ہے وہ اچھے کلام کی طرح ہے اور جو اس میں سے برا ہے وہ برے کلام کی طرح ہے۔“ ➋ { وَ سَيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْۤا …:} ظلم کرنے والوں سے مراد وہ کفار و مشرکین ہیں جنھوں نے ایمان قبول نہ کرکے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور ضد اور ہٹ دھرمی سے اسلام کو نیچا دکھانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساحر، کاہن اور شاعر کہہ کر جھٹلاتے رہے۔ فرمایا، یہ لوگ جلد ہی جان لیں گے کہ ان کا کیا انجام ہونے والا ہے آخرت میں اور دنیا میں بھی۔ ان الفاظ میں کفار کے لیے بہت سخت وعید ہے۔ [ اَللّٰھُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْأُمُوْرِ کُلِّھَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْیَا وَ عَذَابِ الْآخِرَۃِ ]