بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 205
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 205
آیت نمبر: 205 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
اَفَرَءَیۡتَ اِنۡ مَّتَّعۡنٰہُمۡ سِنِیۡنَ ﴿۲۰۵﴾ۙ
تم نے کچھ غور کیا، اگر ہم انہیں برسوں تک عیش کرنے کی مُہلت بھی دے دیں
اچھا یہ بھی بتاؤ کہ اگر ہم نے انہیں کئی سال بھی فائده اٹھانے دیا
بھلا دیکھو تو اگر کچھ برس ہم انہیں برتنے دیں
کیا تم دیکھتے ہو کہ اگر ہم انہیں کئی سال تک فائدہ اٹھانے کا موقع دیں۔
پس کیا تو نے دیکھا اگر ہم انھیں کئی سال فائدہ دیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

کفر و انکار ٭٭

تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بے سود ہو گا ان پر لعنت برس چکی ہو گی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بے خبری میں ہی آ جائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بے سود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہو جاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لا حاصل۔

فرعون ہی کو دیکھئیے موسیٰ علیہ السلام نے اس کے لیے بد دعا کی «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-يونس:88،89] ‏‏‏‏ جو قبول ہوئی عذاب کو دیکھ کر ڈوبتے ہوئے کہنے لگا کہ ”اب میں مسلمان ہوتا ہوں لیکن جواب ملا کہ ’ یہ ایمان بےسود ہے ‘۔ اسی طرح ایک اور آیت میں «وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدْوًا حَتَّىٰ إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [10-يونس:90-91] ‏‏‏‏ ہے کہ ’ ہمارا عذاب دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا ‘۔ پھر ان کی ایک اور بدبختی بیان ہو رہی ہے کہ ’ وہ اپنے نبیوں سے کہتے تھے اگر سچے ہو تو عذاب اللہ لاؤ۔ اگرچہ ہم انہیں مہلت دیں اور کچھ دنوں تک کچھ مدت تک انہیں عذاب سے بچائے رکھیں۔ پھر ان کے پاس ہمارا مقررہ عذاب آجائے۔ ان کا حال ان کی نعمتیں ان کی جاہ وحشمت غرض کوئی چیز انہیں ذرا سابھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اس وقت تک یہی معلوم ہو گا کہ شاید ایک صبح یا ایک شام ہی دنیا میں رہے ‘۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «يَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَةٍ وَمَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌ بِمَا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:96] ‏‏‏‏، ’ ان میں سے ہر ایک کی چاہت ہے کہ وہ ہزار ہزار سال جئے لیکن اتنی عمر بھی اللہ کے عذاب ہٹا نہیں سکتی ‘۔ یہی یہاں بھی فرمایا کہ ’ اسباب ان کے کچھ کام نہ آئیں گے الٹا عذاب میں مبتلا ہوتے وقت ان کی تمام طاقتیں اور اسباب یونہی رکھے رکھے رہ جائیں گے ‘۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { کافر کو قیامت کے دن لایا جائے گا، پھر آگ میں ایک غوطہٰ دلا کر پوچھا جائے گا کہ تو نے کبھی راحت بھی اٹھائی ہے تو کہے گا کہ اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور ایک اس شخص کو لایا جائے گا جس نے پوری عمر واقعی کوئی راحت چکھی ہی نہ ہو۔ اسے جنت کی ہوا کھلا کر لایا جائے گا اور سوال ہو گا کہ کیا تو نے عمر بھر کبھی کوئی برائی دیکھی ہے؟ تو وہ کہے گا اے اللہ تیری ذات پاک کی قسم میں نے کبھی کوئی زحمت نہیں اٹھائی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2807] ‏‏‏‏ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عموماً یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ ”جب تو اپنی مراد کو پہنچ گیا تو گویا تو نے کبھی کسی تکلیف کا نام بھی نہیں سنا۔‏‏‏‏“

اللہ عزوجل اس کے بعد اپنے عدل کی خبر دیتا ہے کہ ’ کبھی اس نے حجت ختم ہونے سے پہلے کبھی کسی امت کو ختم نہیں کیا ‘۔ رسولوں کو بھیجتا، کتابیں اتارتا ہے، خبریں دیتا ہے، ہوشیار کرتا ہے پھر نہ ماننے والوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ پس فرمایا کہ ’ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم نے کسی امت پر عذاب بھیج دئے ہوں ‘۔ ڈرانے والے بھیج کر نصیحت کر کے عذر ہٹا کر پھر نہ مانے پر عذاب ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا ’ تیرا رب کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان کی بستیوں کی صدر بستی میں کسی رسول کو نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 205تا207) ➊ {اَفَرَءَيْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِيْنَ …:} ان کا عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرنے سے ظاہر ہے کہ وہ اس کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے اور بہت دیر تک زندہ رہنے کی امید رکھتے ہیں، اسی لیے وہ اسے جلدی طلب کرتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ فرمایا، یہ بتاؤ کہ اگر ہم ان کی توقع کے مطابق کچھ سال انھیں زندہ رہنے اور فائدہ اٹھانے کا موقع دے دیں، پھر ان پر عذاب آئے یا موت ہی آ جائے جس کے بعد عذاب ہی عذاب ہے، تو جتنے سال انھیں زندہ رہنے کا اور زندگی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جاتا رہا وہ عذاب سے بچانے میں ان کے کس کام آئے گا؟ (دیکھیے بقرہ: ۹۶) وہ گزرا ہوا سارا عرصہ تو ایک ساعت سے زیادہ معلوم نہیں ہو گا۔ (دیکھیے روم: ۵۵) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق دنیا کے سب سے خوش حال کافر کو جہنم کا ایک غوطہ دلانے کے بعد پوچھا جائے گا کہ تو نے کبھی خیر دیکھی ہے تو وہ قسم اٹھا کر کہے گا کہ نہیں۔ [ دیکھیے مسلم، صفات المنافقین، باب صبغ أنعم أھل الدنیا في النار: ۲۸۰۷، عن أنس رضی اللہ عنہ ] تفسیر کبیر میں ہے کہ میمون بن مہران طواف میں حسن بصری سے ملے اور نصیحت کی درخواست کی تو انھوں نے صرف اس آیت کی تلاوت کر دی، تو میمون نے کہا، آپ نے نصیحت کی اور کمال کی نصیحت کی۔ ➋ { ” سِنِيْنَ “} جمع مذکر سالم نکرہ قلت کے لیے استعمال ہوا ہے، یعنی جتنی لمبی زندگی بھی مل جائے وہ چند سال ہی ہیں، کیونکہ گزر جانے والی چیز قلیل ہی ہوتی ہے۔
← پچھلی آیت (204) پوری سورۃ اگلی آیت (206) →