بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 212
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 212
آیت نمبر: 212 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
اِنَّہُمۡ عَنِ السَّمۡعِ لَمَعۡزُوۡلُوۡنَ ﴿۲۱۲﴾ؕ
وہ تو اس کی سماعت تک سے دُور رکھے گئے ہیں
بلکہ وه تو سننے سے بھی محروم کردیے گئے ہیں
وہ تو سننے کی جگہ سے دور کردیے گئے ہیں
وہ تو اس (وحی) کے سننے سے بھی معزول کئے جا چکے ہیں۔
بلاشبہ وہ تو سننے ہی سے الگ کیے ہوئے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

یہ کتاب عزیز ٭٭

’ یہ کتاب عزیز جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا جو حکیم و حمید اللہ کی طرف سے اتری ہے جس کو روح الامین جو قوت وطاقت والے ہیں لے کر آئیں ہیں اسے شیاطین نہیں لائے ‘۔ پھر ان کے نہ لانے پر تین وجوہات بیان کی گئیں، ایک تو یہ کہ وہ اس کے لائق نہیں۔ ان کا کام مخلوق کو بہکانا ہے نہ کہ راہ راست پر لانا۔ «الْأَمْر بِالْمَعْرُوفِ» اور «وَالنَّهْي عَنْ الْمُنْكَر» جو اس کتاب کی شان ہے اس کے سراسر خلاف ہے۔ یہ نور یہ ہدایت ہے یہ برہان ہے اور شیاطین ان تینوں چیزوں سے چڑتے ہیں وہ ظلمت کے دلدادہ اور ضلالت کے ہیرو ہیں۔ وہ جہالت کے شیدا ہیں پس اس کتاب میں اور ان میں تو تباین اور اختلاف ہے۔ کہاں وہ کہاں یہ؟ دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ جہاں اس کے اہل نہیں وہاں ان میں اس کو اٹھانے اور لانے کی طاقت بھی نہیں۔ «لَوْ أَنزَلْنَا هَـٰذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّـهِ وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ» ۱؎ [59-الحشر:21] ‏‏‏‏ یہ تو وہ ذی عزت والا کام ہے کہ ’ اگر کسی بڑے سے بڑے پہاڑ بھی اترے تو اس کو بھی چکنا چور کر دے ‘۔

پھر تیسری وجہ یہ بیان فرمائی کہ ’ وہ تو اس کے نزول کے وقت ہٹادئیے گئے تھے انہیں تو سننا بھی نہیں ملا۔ تمام آسمان پر سخت پہرہ چوکی تھی یہ سننے کے لیے چڑھتے تھے تو ان پر آگ برسائی جاتی تھیں۔ اس کا ایک حرف سن لینا بھی ان کی طاقت سے باہر تھا۔ تاکہ اللہ کا کلام محفوظ طریقے پر اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے مخلوق الٰہی کو پہنچے ‘۔ جیسے سورۃ الجن میں «وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْنَاهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَشُهُبًا وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَن يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدْ لَهُ شِهَابًا رَّصَدًا وَأَنَّا لَا نَدْرِي أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِي الْأَرْضِ أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا» ۱؎ [72-الجن:8-10] ‏‏‏‏ خود جنات کا مقولہ بیان ہوا ہے کہ ’ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے سخت پہر چوکی سے بھرپور پایا اور جگہ جگہ شعلے متعین پائے پہلے تو ہم بیٹھ کراکا دکا بات اڑا لایا کرتے تھے لیکن اب تو کان لگاتے ہی شعلہ لپکتا ہے اور جلا کر بھسم کر دیتا ہے ‘۔

📖 احسن البیان

212-1ان آیات میں قرآن کی، شیطانی دخل اندازیوں سے، محفوظیت کا بیان ہے۔ ایک تو اس لئے کہ شیا طین کا قرآن لے کر نازل ہونا، ان کے لائق نہیں ہے۔ کیونکہ ان کا مقصد شر و فساد اور منکرات کی اشاعت ہے، جب کہ قرآن کا مقصد نیکی کا حکم اور فروغ اور منکرات کا سد باب ہے گویا دونوں ایک دوسرے کی ضد اور باہم منافی ہیں۔ دوسرے یہ کہ شیاطین اس کی طاقت بھی نہیں رکھتے، تیسرے، نزول قرآن کے وقت شیاطین اس کے سننے سے دور اور محروم رکھے گئے، آسمانوں پر ستاروں کو چوکیدار بنادیا گیا تھا اور جو بھی شیطان اوپر جاتا یہ ستارے اس پر بجلی بن کر گرتے اور بھسم کردیتے، اس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کو شیاطین سے بچانے کا خصوصی اہتمام فرمایا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 212) {اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ:} تیسری وجہ یہ کہ اگر بالفرض وہ سن سنا کر لانے کی طاقت بھی رکھتے ہوں تو بارگاہ الٰہی میں ان کا دخل ہی نہیں کہ سن لیں، زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا تھا کہ وہ فرشتوں سے سن کر آگے پہنچا دیں، مگر قرآن کے نزول کے وقت ان پر فرشتوں کی باہمی گفتگو سننے پر بھی پابندی لگا دی گئی، اب وہ سننے کی کوشش کرتے ہیں تو ان پر شہابوں کی بارش ہوتی ہے۔ کوئی ایک آدھ بات چوری سے سن بھی لیں تو سیکڑوں جھوٹوں کی آمیزش کی وجہ سے اس کا اعتبار نہیں رہتا۔ دیکھیے سورۂ جنّ (۸ تا ۱۰) اور صافات (۶ تا ۱۰)۔
← پچھلی آیت (211) پوری سورۃ اگلی آیت (213) →