بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الرعد
سورۃ الرعد — 43 آیات
قرآن کریم Surah 13
الٓـمّٓرٰ ۟ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ ؕ وَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ الۡحَقُّ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ا ل م ر یہ کتاب الٰہی کی آیات ہیں، اور جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ عین حق ہے، مگر (تمہاری قوم کے) اکثر لوگ مان نہیں رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ا ل م رٰ۔ یہ قرآن کی آیتیں ہیں، اور جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتارا جاتا ہے، سب حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں ﻻتے
احمد رضا خان بریلوی
یہ کتاب کی آیتیں ہیں اور وہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا حق ہے مگر اکثر آدمی ایمان نہیں لاتے
علامہ محمد حسین نجفی
الف، لام، میم، را۔ یہ الکتاب (قرآن) کی آیتیں ہیں اور جو کچھ آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے وہ سب بالکل حق ہے لیکن اکثر لوگ (اس پر) ایمان نہیں لاتے۔
عبدالسلام بن محمد
المر۔ یہ کامل کتاب کی آیات ہیں اور جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے اور لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سورتوں کے شروع میں جو حروف مقطعات آتے ہیں ان کی پوری تشریح سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں لکھ آئے ہیں، اور یہ بھی ہم کہہ آئے ہیں کہ جس سورت کے اول میں یہ حروف آئے ہیں وہاں عموماً یہی بیان ہوتا ہے کہ قرآن کلام اللہ ہے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ چنانچہ یہاں بھی ان حروف کے بعد فرمایا ’ یہ کتاب کی یعنی قرآن کی آیتیں ہیں ‘۔ بعض نے کہا مراد کتاب سے توراۃ انجیل ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں۔ پھر اسی پر عطف ڈال کر اور صفتیں اس پاک کتاب کی بیان فرمائیں کہ یہ سراسر حق ہے اور اللہ کی طرف سے تجھ پر اتارا گیا ہے۔ «الْحَقُّ» خبر ہے اس کا مبتدا پہلے بیان ہوا ہے یعنی «الَّذِي أُنزِلَ إِلَيْكَ» لیکن ابن جریر رحمہ اللہ کا پسندیدہ قول یہ ہے کہ واؤ زائد ہے یہ عاطفہ ہے اور صفت کا صفت پر عطف ہے جیسے ہم نے پہلے کہا ہے پھر اسکی شہادت میں شاعر کا قول لائے ہیں۔ پھر فرمایا کہ ’ باوجود حق ہونے کے پھر بھی اکثر لوگ ایمان سے محروم ہیں‘۔ اس سے پہلے گزرا ہے کہ ’ گو تو حرص کرے لیکن اکثر لوگ ایمان قبول کرنے والے نہیں ‘۔ ۱؎ [12-يوسف:103] ‏‏‏‏ یعنی اس کی حقانیت واضح ہے لیکن ان کی ضد، ہٹ دھری اور سرکشی انہیں ایمان کی طرف متوجہ نہ ہونے دے گی۔
یہ قرآن کی آیتیں ہیں، اور جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتارا جاتا ہے، سب حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
(آیت1) ➊ {الٓمّٓرٰ:} یہ حروفِ مقطعات ہیں، ان کی تفصیل سورۂ بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ شعراوی رحمہ اللہ نے یہاں ایک فائدہ ذکر فرمایا ہے کہ قرآن مجید سارا وصل پر مبنی ہے، یعنی ہر لفظ دوسرے سے ملا ہوا ہے، سوائے اس مقام کے جہاں وقف کرنا ہو، جیسا کہ آیت کا آخر وغیرہ، مثلاً اسی سورت کو لے لیں: «{ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ}» اس میں ہر لفظ پر اعراب پڑھیں گے، مگر حروف مقطعات{ ” الٓمّٓرٰ “} کو ملا کر نہیں پڑھیں گے، بلکہ چاروں حرفوں کو الگ الگ پڑھیں گے، کیونکہ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی پڑھایا، پھر آپ نے ایسے ہی پڑھا اور ہم تک تواتر سے ایسے ہی پہنچا۔ ➋ { تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ:} کوئی لفظ جب مطلق بولا جائے تو اس سے کامل فرد مراد ہوتا ہے، مثلاً کہتے ہیں: {”فُلاَنٌ الرَّجُلُ“} یعنی فلاں شخص مرد ہے، مطلب واقعی سچ مچ کامل مرد ہے، بخیل، بزدل، جھوٹا یا لولا لنگڑا نہیں۔ اسی طرح دین و عقائد میں {”اَلْكِتَابُ“} سے مراد کامل کتاب قرآن مجید لیا جاتا ہے۔ نحو میں سیبویہ کی کتاب کو {”اَلْكِتَابُ“} اور شہروں میں سے {”مَدِيْنَةُ النَّبِيِّ صلي الله عليه وسلم “} کو {” اَلْمَدِيْنَةُ “} کہا جاتا ہے۔ ➌ { وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ:} یعنی آپ کی طرف جو کچھ نازل کیا گیا وہی عین حق ہے، مگر اکثر لوگ غوروفکر نہ کرنے کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے۔ اس میں انسانوں کی اکثریت کی رائے کے پرستاروں کے لیے سبق ہے اور ان لوگوں کی تعریف بھی ہے جو ایمان سے بہرہ ور ہیں، وہ قلیل بھی ہو سکتے ہیں کثیر بھی، مگر اکثریت انھی کی ہے جو ایمان کی سعادت سے محروم ہیں۔
اَللّٰہُ الَّذِیۡ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیۡرِ عَمَدٍ تَرَوۡنَہَا ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ وَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ؕ کُلٌّ یَّجۡرِیۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ یُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ یُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ بِلِقَآءِ رَبِّکُمۡ تُوۡقِنُوۡنَ ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو ایسے سہاروں کے بغیر قائم کیا جو تم کو نظر آتے ہو ں، پھر وہ اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہوا، اور اُس نے آفتاب و ماہتاب کو ایک قانون کا پابند بنایا اِس سارے نظام کی ہر چیز ایک وقت مقرر تک کے لیے چل رہی ہے اور اللہ ہی اِس سارے کام کی تدبیر فرما رہا ہے وہ نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے، شاید کہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ وه ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بلند کر رکھا ہے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو۔ پھر وه عرش پر قرار پکڑے ہوئے ہے، اسی نے سورج اور چاند کو ماتحتی میں لگا رکھا ہے۔ ہر ایک میعاد معین پر گشت کر رہا ہے، وہی کام کی تدبیر کرتا ہے وه اپنے نشانات کھول کھول کر بیان کر رہا ہے کہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کر لو
احمد رضا خان بریلوی
اللہ ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بے ستونوں کے کہ تم دیکھو پھر عرش پر استوا فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے اور سورج اور چاند کو مسخر کیا ہر ایک، ایک ٹھہرائے ہوئے وعدہ تک چلتا ہے اللہ کام کی تدبیر فرماتا اور مفصل نشانیاں بتاتا ہے کہیں تم اپنے رب رب کا ملنا یقین کرو
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ وہی تو ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا ہے بغیر ایسے ستونوں کے جو تم کو نظر آتے ہوں پھر وہ عرش (اقتدار) پر متمکن ہوا۔ اور سورج و چاند کو (اپنے قانون قدرت کا) پابند بنایا (چنانچہ) ہر ایک معینہ مدت تک رواں دواں ہے وہی (اس کارخانۂ قدرت کے) ہر کام کا انتظام کر رہا ہے اور اپنی قدرت کی نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہونے کا یقین کرو۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بغیر ستونوں کے، جنھیں تم دیکھتے ہو، پھر وہ عرش پر بلند ہوا اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کیا۔ ہر ایک ایک مقرر وقت کے لیے چل رہا ہے، وہ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے، کھول کھول کر آیات بیان کرتا ہے، تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرلو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کمال قدرت اور عظمت سلطنت ربانی دیکھو کہ بغیر ستونوں کے آسمان کو اس نے بلند بالا اور قائم کر رکھا ہے۔ زمین سے آسمان کو اللہ نے کیسا اونچا کیا اور صرف اپنے حکم سے اسے ٹھرایا۔ جس کی انتہا کوئی نہیں پاتا۔ آسمان دنیا ساری زمین کو اور جو اس کے اردگرد ہے پانی ہوا وغیرہ سب کو احاطہٰ کئے ہوئے ہے اور ہر طرف سے برابر اونچا ہے، زمین سے پانچ سو سال کی راہ پر ہے، ہر جگہ سے اتنا ہی اونچا ہے۔ پھر اس کی اپنی موٹائی اور دل بھی پانچ سو سال کے فاصلے کا ہے، پھر دوسرا آسمان اس آسمان کو بھی گھیرے ہوئے ہے اور پہلے سے دوسرے تک کا فاصلہ وہی پانچ سو سال کا ہے۔ اسی طرح تیسرا پھر چوتھا پھر پانچواں پھر چھٹا پھر ساتواں جیسے فرمان الٰہی ہے آیت «‏‏‏‏اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ» ‏‏‏‏ [ 65- الطلاق: 12 ] ‏‏‏‏ یعنی اللہ نے سات آسمان بیدا کئے ہیں اور اسی کے مثل زمین۔ حدیث شریف میں ہے ساتوں آسمان اور ان میں اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے وہ کرسی کے مقابلے میں ایسا ہے جیسے کہ چٹیل میدان میں کوئی حلقہ ہو اور کرسی عرش کے مقابلے پر بھی ایسی ہی ہے۔ عرش کی قدر اللہ عزوجل کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔

بعض سلف کا بیان ہے کہ عرش سے زمین تک کا فاصلہ پچاس ہزار سال کا ہے۔ عرش سرخ یاقوت کا ہے۔ بعض مفسر کہتے ہیں آسمان کے ستون تو ہیں لیکن دیکھے نہیں جاتے۔ لیکن ایاس بن معاویہ فرماتے ہیں آسمان زمین پر مثل قصبے کے ہے یعنی بغیر ستون کے ہے۔ قرآن کے طرز عبارت کے لائق بھی یہی بات ہے اور آیت «وَيُمْسِكُ السَّمَاءَ أَن تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ» ۱؎ [22-الحج:65] ‏‏‏‏ سے بھی ظاہر ہے پس «تَرَوْنَهَا» اس نفی کی تاکید ہوگی یعنی آسمان بلا ستون اس قد بلند ہے اور تم آپ دیکھ رہے ہو، یہ ہے کمال قدرت۔ امیہ بن ابو الصلت کے اشعار میں ہے، جس کے اشعار کی بابت حدیث میں ہے کہ اس کے اشعار ایمان لائے ہیں اور اس کا دل کفر کرتا ہے اور یہ بھی روایت ہے کہ یہ اشعار زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کے ہیں جن میں ہے «وَأَنْتَ الَّذِي مِنْ فَضْلِ مَنٍّ وَرَحْمَةٍ بَعَثْتَ إِلَى مُوسَى رَسُولًا مُنَادِيَا فَقُلْتَ لَهُ: فَاذْهَبْ وَهَارُونَ فَادْعُوَا إِلَى اللَّهِ فَرْعَونَ الَّذِي كَانَ طَاغِيًا وَقُولَا لَهُ: هَلْ أَنْتَ سَوَّيْتَ هَذِهِ بِلَا وَتِدٍ حَتَّى اطْمَأَنَّتْ كَمَا هِيَا وَقُولَا لَهُ: أَأَنْتَ رَفَعْتَ هَذِهِ بِلَا عَمَدٍ أَرْفِقْ إِذًا بِكَ بَانِيَا؟ وَقُولَا لَهُ: هَلْ أَنْتَ سَوَّيْتَ وَسْطَهَا مُنِيرًا إِذَا مَا جَنَّكَ اللَّيلُ هَادِيًا وَقُولَا لَهُ: مَنْ يُرْسِلُ الشَّمْسَ غُدْوَةً فيُصْبِحَ مَا مَسَّتْ مِنَ الْأَرْضِ ضَاحِيَا؟ وَقُولَا لَهُ: مَنْ يُنْبِتُ الْحَبَّ فِي الثَّرَى فيُصْبِحَ مِنْهُ العُشْبُ يَهْتَزُّ رَابِيَا؟ وَيُخْرِجُ مِنْهُ حَبَّهُ فِي رُءُوسِهِ فَفِي ذَاكَ آيَاتٌ لِمَنْ كَانَ وَاعِيَا» تو اللہ وہ ہے جس نے اپنے فضل و کرم سے اپنے نبی موسیٰ علیہ السلام کو مع ہارون علیہ السلام کے فرعون کی طرف رسول بنا کر بھیجا اور ان سے فرما دیا کہ اس سرکش کو قائل کرنے کے لیے اس سے کہیں کہ اس بلند و بالا بےستون آسمان کو کیا تو نے بنایا ہے؟ اور اس میں سورج چاند ستارے تو نے پیدا کئے ہیں؟ اور مٹی سے دانوں کو اگانے والا پھر ان درختوں میں بالیں پیدا کر کے ان میں دانے پکانے والا کیا تو ہے؟ کیا قدرت کی یہ زبردست نشانیاں ایک گہرے انسان کے لیے اللہ کی ہستی کی دلیل نہیں ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہوا۔ اس کی تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے۔ اور یہ بیان کر دیا گیا ہے کہ جس طرح ہے اسی طرح چھوڑ دی جائے۔ کیفیت، تشبیہ، تعطیل، تمثلیل سے اللہ کی ذات پاک ہے اور برتر و بالا ہے۔ سورج چاند اس کے حکم کے مطابق گردش میں ہیں اور وقت موزوں یعنی قیامت تک برابر اسی طرح لگے رہیں گے۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» ۱؎ [36-يس:38] ‏‏‏‏ ’ سورج اپنی جگہ برابر چل رہا ہے ‘۔ اس کی جگہ سے مراد عرش کے نیچے ہے جو زمین کے تلے سے دوسری طرف سے ملحق ہے یہ اور تمام ستارے یہاں تک پہنچ کر عرش سے اور دور ہو جاتے ہیں کیونکہ صحیح بات جس پر بہت سی دلیلیں ہیں یہی ہے کہ وہ قبہ ہے متصل عالم باقی آسمانوں کی طرح وہ محیط نہیں اس لیے کہ اس کے پائے ہیں اور اس کے اٹھانے والے ہیں اور یہ بات آسمان مستدیر گھومے ہوئے آسمان میں تصور میں نہیں آ سکتی جو بھی غور کرے گا اسے سچ مانے گا۔ آیات و احادیث کا جانچنے والا اسی نتیجے پر پہنچے گا۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»

صرف سورج چاند کا ہی ذکر یہاں اس لیے ہے کہ ساتوں سیاروں میں بڑے اور روشن یہی دو ہیں پس جب کہ یہ دونوں مسخر ہیں تو اور تو بطور اولیٰ مسخر ہوئے۔ جیسے کہ «لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ» ۱؎ [41-الفصلت:37] ‏‏‏‏ سورج چاند کو سجدہ نہ کرو سے مراد اور ستاروں کو بھی سجدہ نہ کرنا ہے۔ پھر اور آیت میں تصریح بھی موجود ہے فرمان ہے «الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍ بِاَمْرِهٖ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:54] ‏‏‏‏ یعنی ’ سورج چاند اور ستارے اس کے حکم سے مسخر ہیں، وہی خلق و امر والا ہے، وہی برکتوں والا ہے وہی رب العالمین ہے ‘۔ وہ اپنی آیتوں کو اپنی وحدانیت کی دلیلوں کو بالتفصیل بیان فرما رہا ہے کہ تم اس کی توحید کے قائل ہو جاؤ اور اسے مان لو کہ وہ تمہیں فنا کر کے پھر زندہ کر دے گا۔
2۔ 1 استوا علی العرش کا مفہوم اس سے قبل بیان ہوچکا ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا عرش پر قرار پکڑنا ہے۔ محدثین کا یہی مسلک ہے وہ اس کی تاویل نہیں کرتے، جیسے بعض دوسرے گروہ اس میں اور دیگر صفات الٰہی میں تاویل کرتے ہیں۔ تاہم محدثین کہتے ہیں کہ اس کی کیفیت نہ بیان کی جاسکتی ہے اور نہ اسے کسی چیز سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ (لیس کمثلہ شیء وہو السمیع البصیر) الشوری 2۔ 2 اس کے ایک معنی یہ ہیں کہ یہ ایک وقت مقرر تک یعنی قیامت تک اللہ کے حکم سے چلتے رہیں گے جیسا کہ فرمایا (والشمس تجری لمستقرلھا ذلک تقدیر العزیز العلیم) یسین۔ اور سورج اپنے ٹھہرنے کے وقت تک چل رہا ہے دوسرے معنی یہ ہیں کہ چاند اور سورج دونوں اپنی اپنی منزلوں پر رواں دواں رہتے ہیں سورج اپنا دورہ ایک سال میں اور چاند ایک ماہ میں مکمل کرلیتا ہے جس طرح فرمایا (والقمر قدرنہ منازل) یسین۔ ہم نے چاند کی منزلیں مقرر کردی ہیں سات بڑے بڑے سیارے ہیں جن میں سے دو چاند اور سورج ہیں یہاں صرف ان دو کا ذکر کیا ہے کیونکہ یہی دو سب سے زیادہ بڑے اور اہم ہیں جب یہ دونوں بھی اللہ کے حکم کے تابع ہیں تو دوسرے سیارے تو بطریق اولی اس کے تابع ہونگے اور جب یہ اللہ کے حکم کے تابع ہیں تو یہ معبود نہیں ہوسکتے معبود تو وہی ہے جس نے ان کو مسخر کیا ہوا ہے اس لیے فرمایا (لَا تَسْجُدُوْا للشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ) 41۔ فصلت:37) حم السجدہ سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے انھیں پیدا کیا اگر تم صرف اس کی عبادت کرنا چاہتے ہو۔ (ۙ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۭ وَالنُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ) 16۔ النحل:12) الاعراف سورج چاند اور تارے سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔
(آیت2) ➊ { اَللّٰهُ الَّذِيْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ:} لفظ {” اَللّٰهُ “} اس پاک ہستی کا ذاتی نام ہے جس نے سب کچھ بنایا اور اسے چلا رہا ہے۔ اس ایک لفظ میں اس کی ساری صفات آجاتی ہیں۔ ایمان اس ہستی کی توحید، اس کے رسولوں کی تصدیق اور اس کے سامنے قیامت کو پیش ہونے کے عقیدے کا نام ہے۔ یہاں سے اللہ تعالیٰ نے انسان کے سامنے آسمان و زمین میں اپنی قدرت کی کچھ نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے، تاکہ وہ توحید و رسالت اور قیامت پر ایمان لے آئے۔ سب سے پہلے آسمان کا ذکر فرمایا، سورۂ نازعات (۲۷) میں فرمایا: ”کیا تمھیں (پہلی بار یا دوبارہ) پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کو؟“ اپنے وجود اور آسمان کے وجود کا مقابلہ کرکے تو دیکھو، اور فرمایا: «{ لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ }» [ المؤمن: ۵۷ ] ”یقینا آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا (کام) ہے۔“ ➋ {بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا:عَمَدٍ “} اسم جمع ہے، جمع نہیں، اس کا مفرد{ ”عَمُوْدٌ“ } یا {”عِمَادٌ“} ہے۔ (شعراوی) اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس قدر وسیع اور عظیم آسمانوں کو کسی بھی قسم کے ستونوں کے بغیر بلند کر دیا، تم خود انھیں دیکھ رہے ہو کہ ان کے نیچے کوئی ستون نہیں، جب کہ تم چھوٹی سے چھوٹی چھت بھی دیواروں یا ستونوں کے بغیر نہیں بنا سکتے۔ محض اپنی قدرت اور بے پناہ قوت کے ساتھ اتنا اونچا بنانے کے بعد وہیں تھام کر رکھنا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے، چنانچہ فرمایا: «{وَ يُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ }» [ الحج: ۶۵ ] ”اور وہ آسمان کو تھام کر رکھتا ہے، اس سے کہ زمین پر گر پڑے مگر اس کے اذن سے۔“ مزید دیکھیے سورۂ فاطر(۴۱) اس صورت میں {” تَرَوْنَهَا “} (تم انھیں دیکھتے ہو) میں ضمیر کا مرجع لفظ {”السَّمٰوٰتِ “} ہو گا اور {” تَرَوْنَهَا “} الگ نیا جملہ ہو گا کہ تم خود آسمانوں کو اس حالت میں دیکھ رہے ہو۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ {”تَرَوْنَهَا “} کو{ ” عَمَدٍ “ } کی صفت قرار دیا جائے، پھر ترجمہ یہ ہو گا کہ اس نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر بلند فرمایا جنھیں تم دیکھتے ہو، گویا ستون ہیں مگر تمھیں نظر نہیں آتے، نہ کہیں نگاہ کے لیے رکاوٹ بنتے ہیں۔ آیت دونوں معنوں کا امکان رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں ممکن ہیں، اس لیے ترجمہ میں بھی دونوں معنوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ علمائے تفسیر میں سے کسی نے پہلے معنی کو ترجیح دی اور کسی نے دوسرے کو۔ امام المفسرین طبری رحمہ اللہ نے فرمایا، حق یہ ہے کہ ہم بھی اسی طرح کہیں جیسے اللہ نے فرمایا۔ (خلاصہ) یعنی پورے علم کے بغیر ایک معنی کو ترجیح نہ دیں۔ (واللہ اعلم) (یہاں طبری کے فیصلے کی پوری عبارت نہایت پُر لطف ہے) کیا معلوم کہ کسی وقت تجزیے سے ثابت ہو جائے کہ فضا میں نظر نہ آنے والی کوئی چیز موجود ہے جس پر آسمان قائم ہیں۔ ➌ { ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ:} قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا عرش پر مستوی ہونا سات جگہ آتا ہے، سورۂ اعراف (۵۴)، یونس (۳)، رعد (۲)، طٰہٰ (۵)، فرقان (۵۹)، سجدہ (۴) اور حدید (۴) اللہ تعالیٰ کے تعلق سے عرش کا ذکر اکیس (۲۱) مرتبہ اور ملکہ سبا کے تعلق سے چار (۴) مرتبہ آیا ہے۔ مستوی علی العرش کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۵۴) اور سورۂ حاقہ (۱۷)۔ ➍ { وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ:} یہاں سے اللہ تعالیٰ نے بندوں پر اپنی چند نہایت واضح نعمتیں ذکر فرمائیں۔ تسخیر کا معنی ہے کسی کو اپنے تابع اور قابو میں کر لینا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو اپنے تابع اور پوری طرح پابند کر رکھا ہے، اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں جس طرح جس کام پر لگا دیا ہے وہ اس سے بال برابر ادھر ادھر نہیں ہوتے۔ جو مدت مقرر کی ہے اس کے عین مطابق مقرر وقت پر چل رہے ہیں، یعنی قیامت تک یا اپنے دورے کے مقرر وقت کے مطابق، نہ ان کی رفتار بدلتی ہے نہ طلوع وغیرہ کے نظام میں فرق آتا ہے۔ سورج اپنا دورہ سال میں پورا کرتا ہے، چاند ایک ماہ میں۔ کسی بھی سیارے یا سورج اور چاند کا آپس میں نہ کوئی ٹکراؤ ہے نہ حادثہ۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی زبردست قدرت و حکمت کی کتنی بڑی نشانی ہے۔ ➎ {يُدَبِّرُ الْاَمْرَ:} کسی کام کی تدبیر کا معنی اسے اس کے سب سے اچھے، مضبوط اور مکمل طریقے پر چلانا ہے۔ مختصر سے عطا کردہ اختیار سے تم جو تدبیریں کرتے ہو ان کا نتیجہ بھی دیکھ لو، کوئی پوری ہوتی ہے کوئی نہیں اور کوئی کسی حادثے کی نذر ہو جاتی ہے اور اس عزیز و حکیم کی تدبیر امور کو دیکھو۔ ➏ { يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ:} اس میں کائنات میں موجود نشانیاں بھی شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسولوں پر نازل شدہ آیات بھی کھول کر بیان کرنا ہے کہ دونوں کس قدر واضح ہیں، جن کے سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ ➐ { لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ:} یعنی ان تمام آیات کی تفصیل کا مقصد تمھیں یہ یقین دلانا ہے کہ ایسی عظیم مخلوقات کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے والے پروردگار کے لیے تمھیں دوبارہ پیدا کرنا کچھ مشکل نہیں اور ہر حال میں تمھیں اس کے سامنے پیش ہونا ہے۔
وَ ہُوَ الَّذِیۡ مَدَّ الۡاَرۡضَ وَ جَعَلَ فِیۡہَا رَوَاسِیَ وَ اَنۡہٰرًا ؕ وَ مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیۡہَا زَوۡجَیۡنِ اثۡنَیۡنِ یُغۡشِی الَّیۡلَ النَّہَارَ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور وہی ہے جس نے یہ زمین پھیلا رکھی ہے، اس میں پہاڑوں کے کھو نٹے گاڑ رکھے ہیں اور دریا بہا دیے ہیں اُسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کیے ہیں، اور وہی دن پر رات طاری کرتا ہے ان ساری چیزوں میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی نے زمین پھیلا کر بچھا دی ہے اور اس میں پہاڑ اور نہریں پیدا کردی ہیں۔ اور اس میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے دوہرے دوہرے پیدا کردیئے ہیں، وه رات کو دن سے چھپا دیتا ہے۔ یقیناً غور وفکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلا اور اس میں لنگر اور نہریں بنائیں، اور زمین ہر قسم کے پھل دو دو طرح کے بنائے رات سے دن کو چھپا لیتا ہے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کو
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں مضبوط پہاڑ بنا دیے اور نہریں جاری کر دیں اور اس میں ہر ایک پھل کے جوڑے دو قسم کے پیدا کر دیئے وہ رات (کی تاریکی) سے دن (کی روشنی) کو ڈھانپ دیتا ہے بے شک ان سب چیزوں میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور ندیاں بنائیں اور اس میں تمام پھلوں میں سے ایک ایک جوڑا دو، دو قسم کا بنایا، وہ رات کو دن پر اوڑھا دیتا ہے، بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عالم سفلی کے انواع و اقسام ٭٭

اوپر کی آیت میں عالم علوی کا بیان تھا، یہاں علم سفلی کا ذکر ہو رہا ہے، زمین کو طول عرض میں پھیلا کر اللہ ہی نے بچھایا ہے۔ اس میں مضبوط پہاڑ بھی اسی کے گاڑے ہوئے ہیں، اس میں دریاؤں اور چشموں کو بھی اسی نے جاری کیا ہے۔ تاکہ مختلف شکل و صورت، مختلف رنگ، مختلف ذائقوں کے پھل پھول کے درخت اس سے سیراب ہوں۔ جوڑا جوڑا میوے اس نے پیدا کئے، کھٹے میٹھے وغیرہ۔ رات دن ایک دوسرے کے پے در پے برابر آتے جاتے رہتے ہیں، ایک کا آنا دوسرے کا جانا ہے پس مکان سکان اور زمان سب میں تصرف اسی قادر مطلق کا ہے۔ اللہ کی ان نشانیوں، حکمتوں، اور دلائل کو جو غور سے دیکھے وہ ہدایت یافتہ ہو سکتا ہے۔ زمین کے ٹکڑے ملے جلے ہوئے ہیں، پھر قدرت کو دیکھے کہ ایک ٹکڑے سے تو پیداوار ہو اور دوسرے سے کچھ نہ ہو۔ ایک کی مٹی سرخ، دوسرے کی سفید، زرد، وہ سیاہ، یہ پتھریلی، وہ نرم، یہ میٹھی، وہ شور۔ ایک ریتلی، ایک صاف، غرض یہ بھی خالق کی قدرت کی نشانی ہے اور بتاتی ہے کہ فاعل، خود مختار، مالک الملک، لا شریک ایک وہی اللہ خالق کل ہے۔ نہ اس کے سوا کوئی معبود، نہ پالنے والا۔ «وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ» کو اگر «جَنَّاتٌ» پر عطف ڈالیں تو پیش سے مرفوع پڑھنا چاہیئے اور «أَعْنَابٍ» پر عطف ڈالیں تو زیر سے مضاف الیہ مان کر مجرور پڑھنا چاہیئے۔ ائمہ کی جماعت کی دونوں قرأتیں ہیں۔ «صِنْوَانٍ» کہتے ہیں ایک درخت جو کئی تنوں اور شاخوں والا ہو جیسے انار اور انجیر اور بعض کھجوریاں۔ «وَغَيْرُ صِنْوَانٍ» جو اس طرح نہ ہو ایک ہی تنا ہو جیسے اور درخت ہوتے ہیں۔ اسی سے انسان کے چچا کو «صُنوُالْاَبْ» کہتے ہیں۔

حدیث میں بھی یہ آیا ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { کیا تمہیں معلوم نہیں کہ انسان کا چچا مثل باپ کے ہوتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:983] ‏‏‏‏ سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ایک جڑ یعنی ایک تنے میں کئی ایک شاخدار درخت کھجور ہوتے ہیں اور ایک تنے پر ایک ہی ہوتا ہے یہی صنوان اور غیر صنوان ہے۔‏‏‏‏“ یہی قول اور بزرگوں کا بھی ہے۔ سب کے لیے پانی ایک ہی ہے یعنی بارش کا لیکن ہر مزے اور پھل میں کمی بیشی میں بے انتہا فرق ہے، کوئی میٹھا ہے، کوئی کھٹا ہے۔ حدیث میں بھی یہ تفسیر ہے ملاحظہ ہو ترمذی شریف۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3118،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ الغرض قسموں اور جنسوں کا اختلاف، شکل صورت کا اختلاف، رنگ کا اختلاف، بو کا اختلاف، مزے کا اختلاف، پتوں کا اختلاف، تروتازگی کا اختلاف، ایک بہت ہی میٹھا، ایک سخت کڑوا، ایک نہایت خوش ذائقہ، ایک بے حد بد مزا، رنگ کسی کا زرد، کسی کا سرخ، کسی کا سفید، کسی کا سیاہ۔ اسی طرح تازگی اور پھل میں بھی اختلاف، حالانکہ غذا کے اعتبار سے سب یکساں ہیں۔ یہ قدرت کی نیرنگیاں ایک ہوشیار شخص کے لیے عبرت ہیں۔ اور فاعل مختار اللہ کی قدرت کا بڑا زبردست پتہ دیتی ہیں کہ جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے۔ عقل مندوں کے لیے یہ آیتیں اور یہ نشانیاں کافی وافی ہیں۔
3۔ 1 زمین میں طول و عرض کا اندازہ بھی عام لوگوں کے لئے مشکل ہے اور بلند وبالا پہاڑوں کے ذریعے سے زمین میں گویا میخیں گاڑی ہیں، نہروں دریاؤں اور چشموں کا ایسا سلسلہ قائم کیا کہ جس سے انسان خود بھی سیراب ہوتے ہیں اور اپنے کھیتوں کو بھی سیراب کرتے ہیں جن سے انواع و اقسام کے غلے اور پھل پیدا ہوتے ہیں، جن کی شکلیں بھی ایک دوسرے سے مختلف اور ذائقے بھی جداگانہ ہوتے ہیں۔ 3۔ 2 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ نر مادہ دونوں بنائے، جیسا کہ موجودہ تحقیقات نے بھی اس کی تصدیق کردی ہے۔ دوسرا مطلب (جوڑے جوڑے کا) یہ ہے میٹھا اور کھٹا، سرد اور گرم، سیاہ اور سفید اور ذائقہ، اس طرح ایک دوسرے سے مختلف اور متضاد قسمیں پیدا کیں۔
(آیت3) ➊ {وَ هُوَ الَّذِيْ مَدَّ الْاَرْضَ …: ” مَدَّ “ } کا معنی پھیلانا ہے۔{ ” رَوَاسِيَ”رَاسِيَةٌ“} کی جمع ہے، {”رَسَا يَرْسُوْ“} کا معنی زمین میں گڑا ہوا ہونا ہے، لفظی معنی زمین میں گڑے ہوئے، مراد پہاڑ ہیں۔ پہلے اوپر کے جہان کا تذکرہ فرمایا، پھر زمین، آسمان، سورج، چاند وغیرہ کا، اب نیچے کے جہان میں اللہ تعالیٰ کی چند قدرتوں کا ذکر ہے کہ زمین ایک کرہ ہونے کے باوجود اتنی وسیع بنائی کہ طول و عرض میں آدمی کی نگاہ اس کی انتہا کو نہیں پاتی، انسان اور حیوان کسی تکلیف کے بغیر اس پر چلتے پھرتے ہیں، انسان عظیم الشان عمارتیں بناتے ہیں۔ زمین کا توازن قائم رکھنے کے لیے اور ہر وقت زلزلے کی کیفیت سے محفوظ رکھنے کے لیے اس میں بہت نیچے تک گڑے ہوئے اور بہت اوپر تک اٹھے ہوئے پہاڑ بنا دیے اور تمھاری زندگی کی بقا کے لیے دریا اور ندی نالے بنا دیے۔ ندی نالوں کا ذکر پہاڑوں کے ساتھ فرمایا، کیونکہ دریا عموماً پہاڑوں ہی سے نکلتے ہیں۔ ➋ { وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ …:} اس جملے میں ایک ایسی حقیقت بیان فرمائی ہے جس کا پوری طرح انکشاف کچھ مدت پہلے ہی ہوا ہے۔ پہلے لوگوں کو صرف چند درختوں کے جوڑا یعنی نر اور مادہ ہونے ہی کا علم تھا جن کے نر درخت الگ اور مادہ الگ ہوتے ہیں، مثلاً کھجور اور پپیتا وغیرہ۔ پھر ثابت ہوا کہ ہر درخت ہی کا پھل نر اور مادہ پھولوں کا بور ملنے سے وجود میں آتا ہے، یعنی ہر پھل میں جوڑا موجود ہے، پھر نر و مادہ دونوں پھول بعض اوقات ایک ہی پودے میں موجود ہوتے ہیں، بلکہ بعض اوقات ایک درخت کے ایک ہی پھول میں نر و مادہ دونوں حصے پائے جاتے ہیں۔ کتنی عظیم قدرتوں کا مالک ہے وہ جس کی صرف ایک تخلیق کی ایک حقیقت جو خود اس نے سیکڑوں برس پہلے بیان فرما دی تھی، اب کہیں انسان اسے کسی حد تک پا سکے ہیں۔ عموماً قدیم مفسرین نے اس کا معنی ہر پھل میں سے دو قسمیں کیا ہے، مثلاً میٹھا اور کھٹا، گرم اور سرد، چھوٹا اور بڑا، سیاہ اور سفید وغیرہ، یہ معنی بھی درست ہے۔ ➌ { يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ:} یہ اس کی قدرت کا اور اپنے بندوں پر رحمت کے ایک اور نمونے کا بیان ہے۔{ ”غَشِيَ يَغْشٰي“} (ع) کا معنی ڈھانپنا ہے۔ {” يُغْشِي “} باب افعال {” أَغْشَي يُغْشِيْ“} سے ہے، معنی ہے کسی چیز کو دوسری چیز کے لیے ڈھانپنے والی بنا دینا۔ رات کو دن پر اڑھا دیتا ہے تو اندھیرا چھا جاتا ہے، اگلی بات خود سمجھ میں آ رہی ہے، اس لیے حذف کر دی، یعنی دن کو رات پر اڑھا دیتا ہے تو روشنی ہو جاتی ہے، دونوں ایک دوسرے کی جگہ آتے رہتے ہیں۔ دونوں کے فوائد کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ قصص (۷۱ تا ۷۳)۔ ➍ {اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ …:} یعنی جو لوگ غورو فکر کرتے ہیں ان کے لیے ان چیزوں میں بہت سے دلائل ہیں کہ وہ اللہ کہ مکان و زمان کی ہر حرکت و سکون اور ہر تبدیلی مکمل طور پر اس کے ہاتھ میں ہے، وہ انسان کو بھی دوبارہ پیدا کر سکتا ہے۔ موضح میں ہے: ”رنگا رنگ چیزیں بنانا نشان ہے کہ اپنی خوشی سے بنایا، اگر ہر چیز خاصیت سے ہوتی تو ایک سی ہوتی۔“ رازی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ قرآن میں جہاں عالم سفلی، یعنی زمین کے دلائل کا ذکر ہے اس کے آخر میں: «{ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۠ }» یا اس کا ہم معنی جملہ لایا گیا ہے، جس سے اشارہ ہے کہ ان چیزوں پر غور وفکر سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ اختلاف طبعی اسباب کے تحت نہیں (یعنی خود بخود ایسا نہیں ہو رہا بلکہ ایک کرنے والا سب کچھ کر رہا ہے)۔
وَ فِی الۡاَرۡضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنۡ اَعۡنَابٍ وَّ زَرۡعٌ وَّ نَخِیۡلٌ صِنۡوَانٌ وَّ غَیۡرُ صِنۡوَانٍ یُّسۡقٰی بِمَآءٍ وَّاحِدٍ ۟ وَ نُفَضِّلُ بَعۡضَہَا عَلٰی بَعۡضٍ فِی الۡاُکُلِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور دیکھو، زمین میں الگ الگ خطے پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے متصل واقع ہیں انگور کے باغ ہیں، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت ہیں جن میں سے کچھ اکہرے ہیں اور کچھ دوہرے سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے مگر مزے میں ہم کسی کو بہتر بنا دیتے ہیں اور کسی کو کمتر ان سب چیزوں میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور زمین میں مختلف ٹکڑے ایک دوسرے سے لگتے لگاتے ہیں اور انگوروں کے باغات ہیں اور کھیت ہیں اور کھجوروں کے درخت ہیں، شاخ دار اور بعض ایسے ہیں جو بے شاخ ہیں سب ایک ہی پانی پلائے جاتے ہیں۔ پھر بھی ہم ایک کو ایک پر پھلوں میں برتری دیتے ہیں اس میں عقل مندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور زمین کے مختلف قطعے ہیں اور ہیں پاس پاس اور باغ ہیں انگوروں کے اور کھیتی اور کھجور کے پیڑ ایک تھالے (تھال) سے اُگے اور الگ الگ سب کو ایک ہی پانی دیا جا تا ہے اور پھلوں میں ہم ایک کو دوسرے سے بہتر کرتے ہیں، بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے
علامہ محمد حسین نجفی
اور خود زمین میں مختلف ٹکڑے آس پاس واقع ہیں (پھر ان میں) انگوروں کے باغ ہیں (غلہ کی) کھیتیاں ہیں اور کھجور کے درخت ہیں کچھ ایسے جو ایک ہی جڑ سے کئی درخت نکلے ہیں اور کچھ وہ جو ایسے نہیں ہیں سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں مگر ہم (ذائقہ میں) بعض کو بعض پر برتری دیتے ہیں۔ یقیناً ان امور میں ان لوگوں کیلئے بڑی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور زمین میں ایک دوسرے سے ملے ہوئے مختلف ٹکڑے ہیں اور انگوروں کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت کئی تنوں والے اور ایک تنے والے، جنھیں ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور ہم ان میں سے بعض کو پھل میں بعض پر فوقیت دیتے ہیں۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عالم سفلی کے انواع و اقسام ٭٭

اوپر کی آیت میں عالم علوی کا بیان تھا، یہاں علم سفلی کا ذکر ہو رہا ہے، زمین کو طول عرض میں پھیلا کر اللہ ہی نے بچھایا ہے۔ اس میں مضبوط پہاڑ بھی اسی کے گاڑے ہوئے ہیں، اس میں دریاؤں اور چشموں کو بھی اسی نے جاری کیا ہے۔ تاکہ مختلف شکل و صورت، مختلف رنگ، مختلف ذائقوں کے پھل پھول کے درخت اس سے سیراب ہوں۔ جوڑا جوڑا میوے اس نے پیدا کئے، کھٹے میٹھے وغیرہ۔ رات دن ایک دوسرے کے پے در پے برابر آتے جاتے رہتے ہیں، ایک کا آنا دوسرے کا جانا ہے پس مکان سکان اور زمان سب میں تصرف اسی قادر مطلق کا ہے۔ اللہ کی ان نشانیوں، حکمتوں، اور دلائل کو جو غور سے دیکھے وہ ہدایت یافتہ ہو سکتا ہے۔ زمین کے ٹکڑے ملے جلے ہوئے ہیں، پھر قدرت کو دیکھے کہ ایک ٹکڑے سے تو پیداوار ہو اور دوسرے سے کچھ نہ ہو۔ ایک کی مٹی سرخ، دوسرے کی سفید، زرد، وہ سیاہ، یہ پتھریلی، وہ نرم، یہ میٹھی، وہ شور۔ ایک ریتلی، ایک صاف، غرض یہ بھی خالق کی قدرت کی نشانی ہے اور بتاتی ہے کہ فاعل، خود مختار، مالک الملک، لا شریک ایک وہی اللہ خالق کل ہے۔ نہ اس کے سوا کوئی معبود، نہ پالنے والا۔ «وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ» کو اگر «جَنَّاتٌ» پر عطف ڈالیں تو پیش سے مرفوع پڑھنا چاہیئے اور «أَعْنَابٍ» پر عطف ڈالیں تو زیر سے مضاف الیہ مان کر مجرور پڑھنا چاہیئے۔ ائمہ کی جماعت کی دونوں قرأتیں ہیں۔ «صِنْوَانٍ» کہتے ہیں ایک درخت جو کئی تنوں اور شاخوں والا ہو جیسے انار اور انجیر اور بعض کھجوریاں۔ «وَغَيْرُ صِنْوَانٍ» جو اس طرح نہ ہو ایک ہی تنا ہو جیسے اور درخت ہوتے ہیں۔ اسی سے انسان کے چچا کو «صُنوُالْاَبْ» کہتے ہیں۔

حدیث میں بھی یہ آیا ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { کیا تمہیں معلوم نہیں کہ انسان کا چچا مثل باپ کے ہوتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:983] ‏‏‏‏ سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ایک جڑ یعنی ایک تنے میں کئی ایک شاخدار درخت کھجور ہوتے ہیں اور ایک تنے پر ایک ہی ہوتا ہے یہی صنوان اور غیر صنوان ہے۔‏‏‏‏“ یہی قول اور بزرگوں کا بھی ہے۔ سب کے لیے پانی ایک ہی ہے یعنی بارش کا لیکن ہر مزے اور پھل میں کمی بیشی میں بے انتہا فرق ہے، کوئی میٹھا ہے، کوئی کھٹا ہے۔ حدیث میں بھی یہ تفسیر ہے ملاحظہ ہو ترمذی شریف۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3118،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ الغرض قسموں اور جنسوں کا اختلاف، شکل صورت کا اختلاف، رنگ کا اختلاف، بو کا اختلاف، مزے کا اختلاف، پتوں کا اختلاف، تروتازگی کا اختلاف، ایک بہت ہی میٹھا، ایک سخت کڑوا، ایک نہایت خوش ذائقہ، ایک بے حد بد مزا، رنگ کسی کا زرد، کسی کا سرخ، کسی کا سفید، کسی کا سیاہ۔ اسی طرح تازگی اور پھل میں بھی اختلاف، حالانکہ غذا کے اعتبار سے سب یکساں ہیں۔ یہ قدرت کی نیرنگیاں ایک ہوشیار شخص کے لیے عبرت ہیں۔ اور فاعل مختار اللہ کی قدرت کا بڑا زبردست پتہ دیتی ہیں کہ جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے۔ عقل مندوں کے لیے یہ آیتیں اور یہ نشانیاں کافی وافی ہیں۔
4۔ 1 متجورات۔ ایک دوسرے کے قریب اور متصل یعنی زمین کا ایک حصہ شاداب اور زرخیز ہے۔ خوب پیداوار دیتا ہے اس کے ساتھ ہی زمین شور ہے، جس میں کسی قسم کی بھی پیدا نہیں ہوتی۔ 4۔ 2 صنوان۔ کے ایک معنی ملے ہوئے اور غیر صنوان۔ کے جداجدا کیے گئے ہیں دوسرا معنی صنوان، ایک درخت، جس کی کئی شاخیں اور تنے ہوں، جیسے انار، انجیر اور بعض کھجوریں۔ 4۔ 3 یعنی زمین بھی ایک، پانی، ہوا بھی ایک۔ لیکن پھل اور غلہ مختلف قسم اور ان کے ذائقے اور شکلیں بھی ایک دوسرے سے مختلف۔
(آیت4) ➊ {وَ فِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ …: ” قِطَعٌ”قِطْعَةٌ“} کی جمع ہے، بمعنی ٹکڑے۔{” مُتَجٰوِرٰتٌ”جِوَارٌ “} (ہمسائیگی) سے باب تفاعل کا اسم فاعل ہے، یعنی ساری زمین ایک جیسی نہیں، کوئی ٹکڑا زرخیز زمین کا ہے کوئی شور کا، کوئی نرم زمین ہے کوئی پتھریلی اور یہ سب قطعے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہیں، اب اسی زمین میں کسی علاقے میں کوئی کھیتی اور پھل پیدا ہوتا ہے کسی میں کوئی، اور اسی میں انگوروں (اور دوسرے پھلوں) کے باغات ہیں (قرآن کا اختصار دیکھیے کہ صرف انگوروں کا ذکر کرکے باقی باغات سننے والے کی سمجھ پر چھوڑ دیے) اور کھیتی ہے (اس میں ہر کھیتی آ گئی) اور کھجوروں کے درخت دو قسم کے ہیں ({” صِنْوَانٌ”صِنْوٌ“} کی جمع ہے، تثنیہ بھی یہی ہے، اس کا اصل معنی مثل ہے، جیسے فرمایا: {”عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيْهِ“} یعنی آدمی کا چچا اس کے باپ کی مثل ہے۔ کھجور کا تنا نیچے سے ایک ہو اور اوپر اس تنے سے کئی تنے نکلیں تو وہ {” صِنْوَانٌ “} ہے اور اگر یہ ایک ہی تنا رہے تو یہ {” غَيْرُ صِنْوَانٍ “} ہے) اس قسم کے دوسرے درخت اس سے خود سمجھ لیں۔ سب ایک ہی پانی سے سیراب کیے جاتے ہیں، پھر اسی زمین اور اسی پانی سے کوئی پھل کڑوا پیدا ہو رہا ہے کوئی میٹھا، کوئی بدمزہ کوئی مزیدار اور کوئی اس سے بھی بڑھ کر لذت والا۔ پھر دیکھیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قُبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيْعِ الْاَرْضِ فَجَاءَ بَنُوْ آدَمَ عَلٰي قَدْرِ الْأَرْضِ جَاءَ مِنْهُمُ الْأَبْيَضُ وَالْأَحْمَرُ وَالْأَسْوَدُ وَبَيْنَ ذٰلِكَ الْخَبِيْثُ وَالطَّيِّبُ وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ وَبَيْنَ ذٰلِكَ ] [ مسند أحمد: 400/4، ح: ۱۹۶۰۱۔ ترمذی: ۲۹۵۵۔ أبوداوٗد: ۴۶۹۳، و صححہ الألبانی ] ”آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے کے لیے پوری روئے زمین سے اللہ تعالیٰ نے ایک مٹھی لی (جس میں سفید، سیاہ، سرخ ہر رنگ اور نرم، سخت، شور، زرخیز ہر قسم کی مٹی آ گئی) اور آدم کی اولاد اسی کے مطابق کوئی سفید، کوئی سرخ، کوئی سیاہ، کوئی اس کے درمیان، کوئی خبیث، کوئی طیب اور کوئی نرم، کوئی سخت پیدا ہوتی ہے اور کوئی اس کے درمیان۔“ ایک ہی زمین، ایک ہی پانی، ایک ہی باپ اور اسی کے نطفے سے بے شماررنگا رنگ انسان پیدا ہوئے۔ ➋ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ:} معلوم ہوا کوئی کمال کاریگر اور پوری قدرت والا مدبر ہے جس کے کرنے سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے، قرآن نے ان دلائل کا ذکر مختلف مقامات پر کیا ہے۔ عقل سے کام لینے والوں کے لیے اس میں بے شمار نشانیاں ہیں اور جو عقل سے کام نہیں لیتے ان کے لیے کوئی نشانی نہیں۔
وَ اِنۡ تَعۡجَبۡ فَعَجَبٌ قَوۡلُہُمۡ ءَ اِذَا کُنَّا تُرٰبًا ءَ اِنَّا لَفِیۡ خَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ۬ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ الۡاَغۡلٰلُ فِیۡۤ اَعۡنَاقِہِمۡ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اب اگر تمہیں تعجب کرنا ہے تو تعجب کے قابل لوگوں کا یہ قول ہے کہ "جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے؟" یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں یہ جہنمی ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر تجھے تعجب ہو تو واقعی ان کا یہ کہنا عجیب ہے کہ کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے۔ تو کیا ہم نئی پیدائش میں ہوں گے؟ یہی وه لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی ہیں جو جہنم کے رہنے والے ہیں جو اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر تم تعجب کرو تو اچنبھا تو ان کے اس کہنے کا ہے کہ کیا ہم مٹی ہو کر پھر نئے بنیں گے وہ ہیں جو اپنے رب سے منکر ہوئے اور وہ ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور وہ دوزخ والے ہیں انھیں اسی میں رہنا،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے مخاطب) اگر تمہیں تعجب کرنا ہے تو تعجب کے قابل ان (کفار) کا یہ قول ہے کہ جب ہم (مر کر) خاک ہو جائیں گے تو کیا ہم از سر نو پیدا ہوں گے؟ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا اور یہ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے اور یہی جہنمی ہیں جو ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر تو تعجب کرے تو ان کا یہ کہنا بہت عجیب ہے کہ کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے تو کیا واقعی ہم یقینا ایک نئی پیدائش میں ہوں گے۔ یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عقل کے اندھے ضدی لوگ ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جھٹلانے کا کوئی تعجب نہ کریں یہ ہیں ہی ایسے اس قدر نشانیاں دیکھتے ہوئے، اللہ کی قدرت کا ہمیشہ مطالعہ کرتے ہوئے، اسے مانتے ہوئے کہ سب کا خالق اللہ ہی ہے پھر بھی قیامت کے منکر ہوتے ہیں حالانکہ اس سے بڑھ کر روز مرہ مشاہدہ کرتے رہتے ہیں کہ کچھ نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ سب کچھ کر دیتا ہے ‘۔ ہر عاقل جان سکتا ہے کہ زمین و آسمان کی پیدائش انسان کی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ اور دوبارہ پیدا کرنا بہ نسبت اول بار پیدا کرنے کے بہت آسان ہے۔ جیسے فرمان ربانی ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:33] ‏‏‏‏ یعنی ’ جس نے آسمان و زمین بغیر تھکے پیدا کر دیا، کیا وہ مردوں کو جلانے پر قادر نہیں؟ بیشک ہے بلکہ ہر چیز اس کی قدرت میں ہے ‘۔ پس یہاں فرماتا ہے کہ ’ اصل یہ کفار ہیں، ان کی گردنوں میں قیامت کے دن طوق ہوں گے اور یہ جہنمی ہیں جو ہمیشہ جہنم میں رہیں گے ‘۔
5۔ 1 یعنی جس ذات نے پہلی مرتبہ پیدا کیا، اس کے لئے دوبارہ اس چیز کا بنانا کوئی مشکل کام نہیں۔ لیکن کفار یہ عجیب بات کہتے ہیں کہ دوبارہ ہم کیسے پیدا کئے جائیں گے۔
(آیت5) ➊ { وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ …: ” فَعَجَبٌ “} میں تنوین تعظیم و تہویل کے لیے ہے، اسی لیے اہل علم نے ترکیب میں اسے نکرہ ہونے کے باوجود مبتدا بنانا جائز رکھا ہے، گویا یہ نکرہ موصوفہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر آپ اتنی نشانیاں دیکھ کر بھی ان کے ایمان نہ لانے پر تعجب کریں تو بہت ہی عجیب بات ان کا دوبارہ نئے سرے سے پیدا ہونے کو ناممکن قرار دینا ہے، حالانکہ جو شخص معمولی علم اور معمولی عقل رکھتا ہے بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ اتنی قدرتوں کے مالک اور پہلی دفعہ انھیں پیدا کرنے والے کے لیے انھیں دوبارہ نئے سرے سے پیدا کرنا کیوں مشکل ہے۔ ➋ { اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ:} یعنی جب انھوں نے آخرت سے انکار کیا تو گویا اللہ کی قدرت سے انکار کیا اور یہ کہا کہ اللہ اتنا عاجز اور بے بس ہے کہ انھیں دوبارہ پیدا کر ہی نہیں سکتا۔ [ اَلْعِیَاذُ بِاللّٰہِ ] ➌ {وَ اُولٰٓىِٕكَ الْاَغْلٰلُ …: ” الْاَغْلٰلُ”غُلٌّ“} کی جمع ہے، لوہے کا کڑا یا زنجیر جو مجرم کے گلے میں ڈال کر اسے باندھا جاتا ہے۔ بعض اوقات اس کے ساتھ ہی ہاتھ بھی گردن کے ساتھ باندھ دیتے ہیں، یہ قید کی سخت ترین صورت ہے۔ یعنی ان کی گردنوں میں وہی آبائی کفر و شرک کے طوق پڑے ہوئے ہیں جو انھیں کفر سے ہلنے نہیں دیتے اور انجام ان کا یہ ہے کہ یہ آگ والے ہیں، ہمیشہ اس میں رہنے والے ہیں۔ بعض مفسرین نے {” اُولٰٓىِٕكَ الْاَغْلٰلُ “} کو بھی آخرت کے انجام میں شامل کیا ہے کہ جہنم میں ان کی گردنوں میں لوہے کے طوق (کڑے) ہوں گے، جن میں پڑی ہوئی زنجیروں سے بندھے ہوں گے۔ آیت کے الفاظ سے تو زیادہ ظاہر معنی یہی معلوم ہوتا ہے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «{ اِذِ الْاَغْلٰلُ فِيْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ يُسْحَبُوْنَ (71) فِي الْحَمِيْمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُوْنَ }» [ المؤمن: ۷۱، ۷۲ ] ”جب طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور زنجیریں، گھسیٹے جا رہے ہوں گے۔ کھولتے پانی میں، پھر وہ آگ میں جھونکے جائیں گے۔“
وَ یَسۡتَعۡجِلُوۡنَکَ بِالسَّیِّئَۃِ قَبۡلَ الۡحَسَنَۃِ وَ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِمُ الۡمَثُلٰتُ ؕ وَ اِنَّ رَبَّکَ لَذُوۡ مَغۡفِرَۃٍ لِّلنَّاسِ عَلٰی ظُلۡمِہِمۡ ۚ وَ اِنَّ رَبَّکَ لَشَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ لوگ بھلائی سے پہلے برائی کے لیے جلدی مچا رہے ہیں حالانکہ ان سے پہلے (جو لوگ اس روش پر چلے ہیں ان پر خدا کے عذاب کی) عبرت ناک مثالیں گزر چکی ہیں حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب لوگوں کی زیادتیوں کے باوجود ان کے ساتھ چشم پوشی سے کام لیتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ تیرا رب سخت سزا دینے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو تجھ سے (سزا کی طلبی میں) جلد کر رہے ہیں راحت سے پہلے ہی، یقیناً ان سے پہلے سزائیں (بطور مثال) گزر چکی ہیں، اور بیشک تیرا رب البتہ بخشنے واﻻ ہے لوگوں کے بے جا ﻇلم پر بھی۔ اور یہ بھی یقینی بات ہے کہ تیرا رب بڑی سخت سزا دینے واﻻ بھی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور تم سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں رحمت سے پہلے اور ان اگلوں کی سزائیں ہوچکیں اور بیشک تمہارا رب تو لوگوں کے ظلم پر بھی انہیں ایک طرح کی معافی دیتا ہے اور بیشک تمہارے رب کا عذاب سخت ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے رسول(ص)) یہ لوگ آپ سے نیکی (مغفرت) سے پہلے برائی (عذاب) کے لئے جلدی کرتے ہیں حالانکہ ان سے پہلے (ایسے لوگوں پر) خدائی سزاؤں کے نمونے گزر چکے ہیں اور آپ کا پروردگار لوگوں کو ان کے ظلم و زیادتی کے باوجود بڑا بخشنے والا ہے اور یقیناً آپ کا پروردگار سخت سزا دینے والا بھی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ تجھ سے بھلائی سے پہلے برائی کو جلدی طلب کرتے ہیں، حالانکہ ان سے پہلے کئی عبرت ناک سزائیں گزر چکیں اور بے شک تیرا رب یقینا لوگوں کے لیے ان کے ظلم کے باوجود بڑی بخشش والا ہے اور بلاشبہ تیرا رب یقینا بہت سخت سزا والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منکرین قیامت ٭٭

یہ منکرین قیامت کہتے ہیں کہ ”اگر سچے ہو تو ہم پر اللہ کا عذاب جلد ہی کیوں نہیں لاتے؟“ کہتے تھے کہ ”اے اپنے آپ پر اللہ کی وحی نازل ہونے کا دعویٰ کرنے والے، ہمارے نزدیک تو تو پاگل ہے۔ اگر بالفرض سچا ہے تو عذاب کے فرشتوں کو کیوں نہیں لاتا؟“ اس کے جواب میں ان سے کہا گیا کہ ’ فرشتے حق کے اور فیصلے کے ساتھ ہی آیا کرتے ہیں، جب وہ وقت آئے گا اس وقت ایمان لانے یا توبہ کرنے یا نیک عمل کرنے کی فرصت و مہلت نہیں ملے گی ‘۔ اسی طرح اور آیت میں ہے «وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَوْلَا أَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَاءَهُمُ الْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ» ۱؎ [29-العنكبوت:53،54] ‏‏‏‏۔ اور جگہ ہے «سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ» ۱؎ [70-المعارج:1] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے کہ «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ» ۱؎ [42-الشورى:18] ‏‏‏‏ ’ بے ایمان اس کی جلدی مچا رہے ہیں اور ایماندار اس سے خوف کھا رہے ہیں اور اسے بر حق جان رہے ہیں ‘۔ اسی طرح اور آیت میں فرمان ہے کہ «وَإِذْ قَالُوا اللَّـهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» ۱؎ [8-الأنفال:32] ‏‏‏‏ ’ وہ کہتے تھے کہ اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور المناک عذاب نازل فرما ‘۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے کفر وانکار کی وجہ سے اللہ کے عذاب کا آنا محال جان کر اس قدر نڈر اور بے خوف ہو گئے تھے کہ عذاب کے اترنے کی آرزو اور طلب کیا کرتے تھے۔ یہاں فرمایا کہ ’ ان سے پہلے کے ایسے لوگوں کی مثالیں ان کے سامنے ہیں کہ کس طرح وہ عذاب کی پکڑ میں آگئے۔ کہہ دو کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا حلم و کرم ہے کہ گناہ دیکھتا ہے اور فوراً نہیں پکڑتا ورنہ روئے زمین پر کسی کو چلتا پھرتا نہ چھوڑے، دن رات خطائیں دیکھتا ہے اور درگزر فرماتا ہے لیکن اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ وہ عذاب پر قدرت نہیں رکھتا۔ اس کے عذاب بھی بڑے خطرناک نہایت سخت اور بہت درد دکھ دینے والے ہیں ‘۔ چنانچہ فرمان ہے «نْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ وَلَا يُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:147] ‏‏‏‏ ’ اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ تمہارا رب وسیع رحمتوں والا ہے لیکن اس کے آئے ہوئے عذاب گنہگاروں پر سے نہیں ہٹائے جا سکتے ‘۔

اور فرمان ہے کہ «إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [7-الأعراف:167] ‏‏‏‏ ’ تیرا پروردگار جلد عذاب کرنے والا، بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «نَبِّئْ عِبَادِيْٓ اَنِّىْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ» ۱؎ [15-الحجر:50،49] ‏‏‏‏ ’ میرے بندوں کو خبر کر دے کہ میں غفور رحیم ہوں اور میرے عذاب بھی بڑے درد ناک ہیں ‘۔ اسی قسم کی اور بھی بہت سے آیتیں ہیں جن میں امید و بیم، خوف و لالچ ایک ساتھ بیان ہوا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے { اس آیت کے اترنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ کا معاف فرمانا اور درگزر فرمانا نہ ہوتا تو کسی کی زندگی کا لطف باقی نہ رہتا اور اگر اس کا دھمکانا ڈرانا اور سما کرنا نہ ہوتا تو ہر شخص بے پرواہی سے ظلم و زیادتی میں مشغول ہو جاتا“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:12145/7:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن عساکر میں ہے کہ ”حسن بن عثمان ابو حسان راوی رحمہ اللہ نے خواب میں اللہ تعالیٰ عزوجل کا دیدار کیا دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سامنے کھڑے اپنے ایک امتی کی شفاعت کر رہے ہیں جس پر فرمان باری ہوا کہ کیا تجھے اتنا کافی نہیں کہ میں نے سورۃ الرعد میں تجھ پر «وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ» ۱؎ [13-الرعد:6] ‏‏‏‏ نازل فرمائی ہے۔‏‏‏‏“ ابوحسان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔‏‏‏‏“
6۔ 1 یعنی عذاب الٰہی سے قوموں اور بستیوں کی تباہی کی کئی مثالیں پہلے گزر چکی ہیں، اس کے باوجود یہ عذاب جلدی مانگتے ہیں؟ یہ کفار کے جواب میں کہا گیا جو کہتے تھے کہ اے پیغمبر! اگر تو سچا ہے تو عذاب ہم پر لے آ۔ جس سے تو ہمیں ڈراتا رہتا ہے۔ 6۔ 3 یعنی لوگوں کے ظلم و معصیت کے باوجود وہ عذاب میں جلدی نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا ہے اور بعض دفعہ تو اتنی تاخیر کرتا ہے کہ معاملہ قیامت پر چھوڑ دیتا ہے، یہ اس کے حلم و کرم اور عفو و درگزر کا نتیجہ ہے ورنہ وہ فوراً مواخذہ کرنے اور عذاب دینے پر آجائے تو روئے زمین پر کوئی انسان ہی باقی نہ رہے (وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْرًا 45؀) 35۔ فاطر:45) اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر ان کے اعمال کے سبب پکڑ دھکڑ فرمانے لگتا تو روئے زمین پر ایک تنفس کو نہ چھوڑتا ' 6۔ 3 یہ اللہ کی دوسری صفت کا بیان ہے تاکہ انسان صرف ایک ہی پہلو پر نظر نہ رکھے اس کے دوسرے پہلو کو بھی دیکھتا رہے کیونکہ ایک ہی رخ اور ایک ہی پہلو کو مسلسل دیکھنے رہنے سے بہت سی چیزیں اوجھل رہ جاتی ہیں اسی لیے قرآن کریم میں جہاں اللہ کی صفت رحیمی وغفوری کا بیان ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کی دوسری صفت قہاری و جباری کا بیان بھی ملتا ہے جیسا کہ یہاں بھی ہے تاکہ رجاء امید اور خوف دونوں پہلو سامنے رہیں کیونکہ اگر امید ہی امید سامنے رہے تو انسان معصیت الہی پر دلیر ہوجاتا ہے اور اگر خوف ہی خوف ہر وقت دل ودماغ پر مسلط رہے تو اللہ کی رحمت سے مایوسی ہوجاتی ہے اور دونوں ہی باتیں غلط اور انسان کے لیے تباہ کن ہیں اسی لیے کہا جاتا ہے الایمان بین الخوف والرجاء ایمان خوف اور مبید کے درمیان ہے یعنی دونوں باتوں کے درمیان اعتدال و توازن کا نام ایمان ہے انسان اللہ کے عذاب کے خوف سے بےپروا ہو اور نہ اس کی رحمت سے مایوس۔ اس مضمون کے ملاحظہ کے لیے دیکھئے سورة الانعام۔ سورة الاعراف۔ سورة الحجر
(آیت6) ➊ {وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ …:” اَلسَّيِّئَةُ “} سے مراد بری حالت مثلاً عذاب اور {” الْحَسَنَةِ “} سے مراد اچھی حالت مثلاً عافیت اور خوش حالی ہے۔ {” الْمَثُلٰتُ “} کی واحد{ ” مَثُلَةٌ “} بروزن {” سَمُرَةٌ “} ہے، معنی ہے سخت سزا اور رسوا کن عذاب، جو انسان پر اترے اور اسے دوسروں کے لیے برے کاموں سے باز رکھنے کے لیے مثال اور عبرت بن جائے۔ {”اِسْتِعْجَالٌ“ } کسی چیز کا وقت آنے سے پہلے اسے لانے کا مطالبہ کرنا، یعنی ان کی سرکشی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ جھٹلانے اور مذاق اڑانے کے لیے تندرستی اور عافیت کے بجائے پہلے عذاب لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مشرکین کے اس قسم کے مطالبوں کا قرآن میں کئی جگہ ذکر ہے، مثلاً سورۂ انفال (۳۲)، سورۂ عنکبوت (۵۳، ۵۴) اور سورۂ نمل (۴۶) ان آیات کا ترجمہ و تفسیر پڑھ لیں۔ ➋ {وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ: } جن میں ان کے لیے عبرت کا کافی سامان موجود ہے۔ موضح میں ہے کہ پہلے ہو چکیں ہیں کہاوتیں، یعنی ایسے عذاب آئے ہیں کہ ان کی کہاوتیں چلی ہیں۔ ➌ {وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ:مَغْفِرَةٍ “} پر تنوین تعظیم کے لیے ہے، یعنی اللہ اتنی بڑی مغفرت والا ہے کہ لوگوں کے ظلم پر گرفت کرے تو زمین پر کوئی جان دار باقی نہ رہے، فرمایا: «{ وَ لَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا يَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا يَسْتَقْدِمُوْنَ}» [ النحل: ۶۱] ”اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم کی وجہ سے پکڑے تو اس کے اوپر کوئی چلنے والا نہ چھوڑے اور لیکن وہ انھیں ایک مقرر وقت تک ڈھیل دیتا ہے، پھر جب ان کا وقت آ جاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہتے ہیں اور نہ آگے بڑھتے ہیں۔“ اور دیکھیے سورۂ فاطر کی آخری آیت۔ وہ مہلت ہی دیے جاتا ہے کہ شاید باز آ جائیں، توبہ کر لیں اور اس کا عذاب بھی نہایت سخت ہے۔ معلوم ہوا کہ سلامتی اور امن کی راہ امید اور خوف میں اعتدال ہے، انسان اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی امید بھی رکھے اور اس کے عذاب سے ڈرتا بھی رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے عفو و درگزر کی امید نہ ہو تو کسی شخص کی زندگی خوش گوار نہ ہو اور اگر اس کے عذاب کا ڈر نہ ہو تو ہر شخص بے کھٹکے گناہ کرتا رہے۔
وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُنۡذِرٌ وَّ لِکُلِّ قَوۡمٍ ہَادٍ ٪﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ لوگ جنہوں نے تمہاری با ت ماننے سے انکار کر دیا ہے، کہتے ہیں کہ "اِس شخص پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری؟ تم تو محض خبردار کر دینے والے ہو، اور ہر قوم کے لیے ایک رہنما ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی (معجزه) کیوں نہیں اتاری گئی۔ بات یہ ہے کہ آپ تو صرف آگاه کرنے والے ہیں۔ اور ہر قوم کے لئے ہادی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کا فر کہتے ہیں ان پر ان کی طرف سے کوئی نشانی کیو ں نہیں اتری تم تو ڈر سنانے والے ہو اور ہر قوم کے ہادی
علامہ محمد حسین نجفی
اور کافر لوگ کہتے ہیں ان (پیغمبر اسلام(ص)) پر ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی (ہماری مرضی کے مطابق) کیوں نہیں اتاری جاتی؟ حالانکہ تم تو بس (اللہ کے عذاب سے) ڈرانے والے ہو اور ہر قوم کے لئے ایک راہنما ہوتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کہتے ہیں اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی ؟ توُ تو صرف ایک ڈرانے والا ہے اور ہر قوم کے لیے ایک راستہ بتانے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اعتراض برائے اعتراض ٭٭

کافر لوگ ازروئے اعتراض کہا کرتے تھے کہ جس طرح اگلے پیغمبر معجزے لے کر آئے، یہ پیغمبر کیوں نہیں لائے؟ مثلاً صفا پہاڑ سونے کا بنا دیتے یا مثلاً عرب کے پہاڑ یہاں سے ہٹ جاتے اور یہاں سبزہ اور نہریں ہو جاتیں۔ پس ان کے جواب میں اور جگہ ہے کہ «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا» ۱؎ [17-الاسراء:59] ‏‏‏‏ ’ ہم یہ معجزے بھی دکھا دیتے مگر اگلوں کی طرح ان کی جھٹلانے پر پھر اگلوں جیسے ہی عذاب ان پر آ جاتے۔ تو ان کی باتوں سے مغموم ومتفکر نہ ہو جایا کر، تیرے ذمے تو صرف تبلیغ ہی ہے تو ہادی نہیں، ان کے نہ ماننے سے تیری پکڑ نہ ہو گی ‘۔ «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» ۱؎ [2-البقرہ:272] ‏‏‏‏ ’ ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، یہ تیرے بس کی بات نہیں ہر قوم کے لیے رہبر اور داعی ہے ‘۔ یا یہ مطلب ہے کہ ’ ہادی میں ہوں تو تو ڈرانے والا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ» ۱؎ [35-فاطر:24] ‏‏‏‏ ’ ہر امت میں ڈرانے والا گزرا ہے ‘ اور مراد یہاں ہادی سے پیغمبر ہے۔ پس پیشوا رہبر ہر گروہ میں ہوتا ہے، جس کے علم وعمل سے دوسرے راہ پا سکیں، اس امت کے پیشوا نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ایک نہایت ہی منکر واہی روایت میں ہے کہ { اس آیت کے اترنے کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینہ پر ہاتھ رکھ کے فرمایا: { منذر تو میں ہوں } اور علی رضی اللہ عنہ کے کندھے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: { اے علی! تو ہادی ہے، میرے بعد ہدایات پانے والے تجھ سے ہدایت پائیں گے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:20161:قال الشيخ الألباني:موضوع] ‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”اس جگہ ہادی سے مراد قریش کا ایک شخص ہے۔‏‏‏‏“ جنید کہتے ہیں وہ علی رضی اللہ عنہ خود ہیں۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہادی ہونے کی روایت کی ہے لیکن اس میں سخت نکارت ہے۔
7۔ 1 ہر نبی کو اللہ نے حالات و ضروریات اور اپنی مشیت و مصلحت کے مطابق کچھ نشانیاں اور معجزات عطا فرمائے لیکن کافر اپنے حسب منشا معجزات کے طالب ہوتے رہے ہیں۔ جیسے کفار مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے کہ کوہ صفا کو سونے کا بنادیا جائے یا پہاڑوں کی جگہ نہریں اور چشمے جاری ہوجائیں، وغیرہ وغیرہ جب ان کی خواہش کے مطابق معجزہ صادر کر کے نہ دکھایا جاتا تو کہتے کہ اس پر کوئی نشان (معجزہ) نازل کیوں نہیں کیا گیا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اے پیغمبر! تیرا کام صرف تبلیغ ہے۔ وہ تو کرتا رہ کوئی مانے نہ مانے، اس سے تجھے کوئی غرض نہیں، اس لئے کہ ہدایت دینا یہ ہمارا کام ہے۔ تیرا کام راستہ دکھانا ہے، اس راستے پر چلا دینا، یہ تیرا کام نہیں، ہمارا کام ہے۔ 7۔ 2 یعنی ہر قوم کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہادی ضرور بھیجا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ قوموں نے ہدایت کا راستہ اپنایا یا نہیں اپنایا۔ لیکن سیدھے راستے کی نشان دہی کرنے کے لئے پیغمبر ہر قوم کے اندر ضرور آیا۔ (وان من امۃ الا خلا فیھا نذیر) فاطر۔ ہر امت میں ایک نذیر ضرور آیا ہے۔
(آیت7) ➊ {وَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ …:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کی ایک اور کمینگی کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ یہ کفار تمام انبیاء کی آیات (معجزوں) سے بڑی آیت (بڑا معجزہ یعنی قرآن مجید) دیکھنے کے باوجود کہہ رہے ہیں کہ اس پر کوئی آیت (معجزہ) نازل کیوں نہیں ہوئی۔ ان کے مطالبوں کی مثال دیکھنی ہو تو دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۹۰ تا ۹۳) آیت یعنی نشانی دو قسم کی ہوتی ہے، ایک تنزیلی یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اترنے والے احکام و آیات اور دوسری تکوینی یعنی جن کا مقابلہ کرنے سے ساری کائنات عاجز ہو۔ قرآن میں دونوں خوبیاں ہیں، اس میں ہدایت کی آیات بھی ہیں اور ساری دنیا کو پہلے پوری کتاب، پھر اس جیسی دس سورتیں اور پھر صرف ایک سورت جیسی سورت لانے کا چیلنج قیامت تک کے لیے ہے، جس کا جواب کافر آج تک نہیں دے سکے، کفار کی خست دیکھو پھر بھی کہہ رہے ہیں کہ اس پر کوئی نشانی کیوں نہیں اتری۔ ➋ {اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ:} نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبشر بھی تھے اور منذر بھی، مگر یہاں آپ کی صفت صرف منذر بیان فرمائی، کیونکہ ذکر کفار کا ہے۔ {” مُنْذِرٌ “} اور {” هَادٍ “ } پر تنوین تعظیم کی ہے، یعنی اللہ پر ایمان نہ لانے والوں کے لیے دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرانے والے کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر قوم کے لیے ایک عظیم رہنما ہوتا ہے۔ آپ کا کام کرشمے دکھانا نہیں بلکہ آپ کی ذمہ داری لوگوں کو کفر کے برے انجام سے ڈرانا ہے، اس لیے آپ کرشمے دکھانے والے نہیں بلکہ صرف ایک عظیم ہادی، یعنی ڈرانے اور آگاہ کرنے والے ہیں۔ ({” اِنَّمَاۤ “} کے ساتھ یہ حصر اضافی ہے، یعنی معجزہ دکھانے والے کے بجائے منذر ہیں، یہ نہیں کہ آپ منذر کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں) پھر قوموں کو رہنما کی ضرورت ہوتی ہے اور آپ عظیم رہنما بھی ہیں، لہٰذا ان کے بے جا مطالبے سے پریشان نہ ہوں۔ مستدرک حاکم(۳؍140، ح: ۴۶۴۶) میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علی رضی اللہ عنہ نے اس آیت «{ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ}» کے ضمن میں فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منذر ہیں اور میں ہادی ہوں۔“ مگر یہ روایت صحیح نہیں ہے، پھر خلافت بلا فصل پر اس سے استدلال بھی غلط ہے، جیسا کہ ظاہر ہے، حقیقت یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اللہ کی طرف سے منذر ہیں اور وہی ہادی ہیں، پھر وہ لوگ جنھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم اور دین یعنی خالص کتاب و سنت کو (نہ کہ لوگوں کی رائے اور قیاس کو) دعوت و جہاد کے ذریعے آگے پہنچایا، پہنچا رہے ہیں اور پہنچاتے رہیں گے، مثلاً خلفائے اربعہ، صحابہ کرام، مجاہدین اسلام، محدثین اور عادل قاضی اور خلفاء (اللہ سب پر راضی ہو) سب آپ کے خلف صدق ہیں۔
اَللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تَحۡمِلُ کُلُّ اُنۡثٰی وَ مَا تَغِیۡضُ الۡاَرۡحَامُ وَ مَا تَزۡدَادُ ؕ وَ کُلُّ شَیۡءٍ عِنۡدَہٗ بِمِقۡدَارٍ ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے ہر چیز کے لیے اُس کے ہاں ایک مقدار مقر رہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ماده اپنے شکم میں جو کچھ رکھتی ہے اسے اللہ بخوبی جانتا ہے اور پیٹ کا گھٹنا بڑھنا بھی، ہر چیز اس کے پاس اندازے سے ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ جانتا ہے جو کچھ کسی مادہ کے پیٹ میں ہے اور پیٹ جو کچھ گھٹتے بڑھتے ہیں اور ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ ہی جانتا ہے کہ ہر عورت (اپنے پیٹ میں) کیا اٹھائے پھرتی ہے؟ اور اس کو بھی (جانتا ہے) جو کچھ رحموں میں کمی یا بیشی ہوتی رہتی ہے اور اس کے نزدیک ہر چیز کی ایک مقدار مقرر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ جانتا ہے جو ہر مادہ اٹھائے ہوئے ہے اور جو کچھ رحم کم کرتے ہیں اور جو زیادہ کرتے ہیں اور ہر چیز اس کے ہاں ایک اندازے سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
علم الہٰی ٭٭

اللہ کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، تمام جاندار مادہ حیوان ہوں یا انسان، ان کے پیٹ کے بچوں کا، ان کے حمل کا، اللہ کو علم ہے کہ «وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ» ۱؎ [31-لقمان:34] ‏‏‏‏ ’ پیٹ میں کیا ہے؟ اسے اللہ بخوبی جانتا ہے ‘ یعنی مرد ہے یا عورت؟ اچھا ہے یا برا؟ نیک ہے یا بد؟ عمر والا ہے یا بےعمر کا؟ چنانچہ ارشاد ہے «هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنشَأَكُم مِّنَ الْأَرْضِ وَإِذْ أَنتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ» ۱؎ [53-النجم:32] ‏‏‏‏ ’ وہ بخوبی جانتا ہے جب کہ تمہیں زمین سے پیدا کرتا ہے اور جب کہ تم ماں کے پیٹ میں چھپے ہوئے ہوتے ہو ‘، الخ۔ اور فرمان ہے «يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰث» ۱؎ [39-الزمر:6] ‏‏‏‏ ’ وہ تمہیں تمہاری ماں کے پیٹ میں پیدا کرتا ہے ایک کے بعد دوسری پیدائش میں تین تین اندھیروں میں ‘۔ ارشاد ہے «وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّـهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» ۱؎ [23-المؤمنون:12-14] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے نطفے کو خون بستہ کیا، خون بستہ کو لوتھڑا گوشت کا کیا۔ لوتھڑے کو ہڈی کی شکل میں کر دیا۔ پھر ہڈی کو گوشت چڑھایا، پھر آخری اور پیدائش میں پیدا کیا پس بہترین خالق با برکت ہے ‘۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { تم میں سے ہر ایک کی پیدائش چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں جمع ہوتی رہتی ہے، پھر اتنے ہی دنوں تک وہ بصورت خون بستہ رہتا ہے پھر اتنے ہی دنوں تک وہ بصورت خون بستہ رہتا ہے پھر اتنے ہی دنوں تک وہ گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ خالق کا ایک فرشے کو بھیجتا ہے، جسے چار باتوں کے لکھ لینے کا حکم ہوتا ہے، اس کا رزق عمر عمل اور نیک بد ہونا لکھ لیتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6594] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { وہ پوچھتا ہے کہ اے اللہ مرد ہو گا یا عورت؟ شقیق ہو گا یا سعید؟ روزی کیا ہے؟ عمر کتنی ہے؟ اللہ تعالیٰ بتلاتا ہے اور وہ لکھ لیتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3333] ‏‏‏‏ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں بجز اللہ تعالیٰ علیم وخبیر کے اور کوئی نہیں جانتا کل کی بات اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ پیٹ میں کیا بڑھتا ہے اور کیا گھٹتا ہے کوئی نہیں جانتا۔ بارش کب برسے گی اس کا علم بہی کسی کو نہیں کون شخص کہاں مرے گا اسے بھی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ قیامت کب قائم ہوگی اس کا علم بھی اللہ ہی کو ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4697] ‏‏‏‏

پیٹ میں کیا گھٹتا ہے اس سے مراد حمل کا ساقط ہو جانا ہے اور رحم میں کیا بڑھ رہا ہے کیسے پورا ہو رہا ہے، یہ بھی اللہ کو بخوبی علم رہتا ہے۔ دیکھ لو کوئی عورت دس مہینے لیتی ہے کوئی نو۔ کسی کا حمل گھٹتا ہے، کسی کا بڑھتا ہے۔ نو ماہ سے گھٹنا، نو سے بڑھ جانا اللہ کے علم میں ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”میں دو سال ماں کے پیٹ میں رہا جب پیدا ہوا تو میرے اگلے دو دانت نکل آئے تھے۔‏‏‏‏“ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ ”حمل کی انتہائی مدت دو سال کی ہوتی ہے۔‏‏‏‏“ کمی سے مراد بعض کے نزدیک ایام حمل میں خون کا آنا اور زیادتی سے مراد نو ماہ سے زیادہ حمل کا ٹھہرا رہنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نو سے پہلے جب عورت خون کو دیکھے تو نو سے زیادہ ہو جاتے ہیں مثل ایام حیض کے۔ خون کے گرنے سے بچہ اچھا ہو جاتا ہے اور نہ گرے تو بچہ پورا پاٹھا اور بڑا ہوتا ہے۔ مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں بالکل بے غم، بے کھٹکے اور باآرام ہوتا ہے۔ اس کی ماں کے حیض کا خون اس کی غذا ہوتا ہے، جو بے طلب آرام اسے پہنچتا رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ ماں کو ان دنوں حیض نہیں آتا۔ پھر جب بچہ پیدا ہوتا ہے زمین پر آتے ہی روتا چلاتا ہے، اس انجان جگہ سے اسے وحشت ہوتی ہے، جب اس کی نال کٹ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی روزی ماں کے سینے میں پہنچا دیتا ہے اور اب بھی بے طلب، بے جستجو، بے رنج و غم، بے فکری کے ساتھ اسے روزی ملتی رہتی ہے۔ پھر ذرا بڑا ہوتا ہے اپنے ہاتھوں کھانے پینے لگتا ہے۔ لیکن بالغ ہوتے ہی روزی کے لیے ہائے ہائے کرنے لگتا ہے۔ موت اور قتل تک سے روزی حاصل ہونے کا امکان ہو تو پس وپیش نہیں کرتا۔ افسوس اے ابن آدم تجھ پر حیرت ہے جس نے تجھے تیری ماں کے پیٹ میں روزی دی، جس نے تجھے تیری ماں کی گود میں روزی دی جس نے تجھے بچے سے بالغ بنانے تک روزی دی۔ اب تو بالغ اور عقلمند ہو کر یہ کہنے لگا کہ ہائے کہاں سے کھاؤں گا؟ موت ہو یا قتل ہو؟ پھر آپ رحمہ اللہ نے یہی آیت پڑھی۔ ہر چیز اس کے پاس اندازے کے ساتھ موجود ہے رزق اجل سب مقرر شدہ ہے۔

{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی صاحبہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آدمی بھیجا کہ میرا بچہ آخری حالت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریف لانا میرے لیے خوشی کا باعث ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جاؤ ان سے کہہ دو کہ جو اللہ لے لے وہ اسی کا ہے، جو دے رکھے وہ بھی اسی کا ہے، ہر چیز کیا صحیح اندازہ اسی کے پاس ہے، ان سے کہہ دو کو صبر کریں اور اللہ سے ثواب کی امید رکھیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1284] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کو بھی جانتا ہے جو بندوں سے پوشیدہ ہے اور اسے بھی جو بندوں پر ظاہر ہے، اس سے کچھ بھی مخفی نہیں۔ وہ سب سے بڑا،وہ ہر ایک سے بلند ہے ہر چیز اس کے علم میں ہے ساری مخلوق اس کے سامنے عاجز ہے، تمام سر اس کے سامنے جھکے ہوئے ہیں تمام بندے اس کے سامنے عاجز لاچار اور محض بے بس ہیں۔
8۔ 1 رحم مادر میں کیا ہے، نر یا مادہ، خوبصورت یا بد صورت، نیک ہے یا بد، طویل العمر ہے یا قصیر العمر؟ یہ سب باتیں صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ 8۔ 2 اس سے مراد حمل مدت ہے جو عام طور پر 9 مہینے ہوتی ہے لیکن گھٹتی بڑھتی بھی ہے، کسی وقت یہ مدت 10 مہینے اور کسی وقت 7، 8 مہینے ہوجاتی ہے، اس کا علم بھی اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ 8۔ 3 یعنی کسی کی زندگی کتنی ہے؟ اسے رزق سے کتنا حصہ ملے گا؟ اس کا پورا اندازہ اللہ کو ہے۔
(آیت8) ➊ {اَللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى …: ” تَغِيْضُ”غَاضَ يَغِيْضُ“} سے ہے اور یہ {”نَقَصَ يَنْقُصُ“} کا ہم معنی ہے۔ لازم اور متعدی دونوں معنوں میں آتا ہے، یعنی کم ہونا، کم کرنا۔ اسی طرح {” تَزْدَادُ “} باب افتعال {”زَادَ يَزِيْدُ“} کی طرح ہے، معنی ہے زیادہ ہونا اور زیادہ کرنا۔ یعنی حمل قرار پانے سے لے کر بچہ پیدا ہونے تک ہر چیز کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے اور ارحام (بچہ دانیوں) کا یہ علم اللہ تعالیٰ کی خاص صفات میں سے ہے، یعنی اس بات کا علم کہ مذکر ہے یا مؤنث، خوب صورت ہے یا بد صورت، بدبخت ہے یا نیک بخت، لمبی عمر والا ہے یا کم عمر۔ مزید دیکھیے سورۂ نجم (۳۲)، زمر (۶) اور مومنون (۱۲ تا ۱۴)۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ: «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَ يَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَ مَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا وَ مَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» ] ”غیب کی کنجیاں پانچ ہیں (جنھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا)۔“ (پھر سورۂ لقمان کی آخری آیت میں مذکور چیزیں بیان فرمائیں)۔ [ بخاری، التفسیر، باب: «وعندہ مفاتح الغیب …» : ۴۶۲۷] مزید وضاحت کے لیے سورۂ لقمان کی آخری آیت کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ الٹرا ساؤنڈ کی حقیقت بھی وہیں ملاحظہ فرمائیں۔ ➋ {وَ مَا تَغِيْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ:} اور جو رحم کم کرتے ہیں یا زیادہ کرتے ہیں، یعنی بچہ ضائع ہو جاتا ہے یا نامکمل پیدا ہوتا ہے یا مدتِ ولادت میں اضافہ یا کمی ہوتی ہے کہ بعض کے ہاں چھ یا نو ماہ بعد، بعض کے ہاں دس ماہ یا اس سے بھی زیادہ مدت کے بعد بچہ پیدا ہوتا ہے۔ ➌ {وَ كُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ:} اللہ تعالیٰ کو ازل سے ابد تک ہر چیز کا علم ہے، اس نے ہر چیز کے متعلق پہلے ہی سب کچھ طے کر کے لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے اور یہی تقدیر ہے۔ اس پر ایمان نہ ہو تو آدمی مسلمان نہیں ہوتا، فرمایا: «{ اِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ }» [ القمر: ۴۹ ] ”بے شک ہم نے جو بھی چیز ہے، ہم نے اسے ایک اندازے کے ساتھ پیدا کیا ہے۔“ یعنی وہی جانتا ہے کہ کون سی چیز کتنی ہو گی اور کیسے ہو گی، اس اندازے میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔
عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ الۡکَبِیۡرُ الۡمُتَعَالِ ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ پوشیدہ اور ظاہر، ہر چیز کا عالم ہے وہ بزرگ ہے اور ہر حال میں بالا تر رہنے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ﻇاہر وپوشیده کا وه عالم ہے (سب سے) بڑا اور (سب سے) بلند وباﻻ
احمد رضا خان بریلوی
ہر چھپے اور کھلے کا جاننے والا سب سے بڑا بلندی والا
علامہ محمد حسین نجفی
وہ ہر پوشیدہ اور ظاہر سب چیزوں کا جاننے والا ہے وہ بزرگ ہے (اور) عالی شان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ غیب اور حاضر کو جاننے والا، بہت بڑا، نہایت بلند ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
علم الہٰی ٭٭

اللہ کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، تمام جاندار مادہ حیوان ہوں یا انسان، ان کے پیٹ کے بچوں کا، ان کے حمل کا، اللہ کو علم ہے کہ «وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ» ۱؎ [31-لقمان:34] ‏‏‏‏ ’ پیٹ میں کیا ہے؟ اسے اللہ بخوبی جانتا ہے ‘ یعنی مرد ہے یا عورت؟ اچھا ہے یا برا؟ نیک ہے یا بد؟ عمر والا ہے یا بےعمر کا؟ چنانچہ ارشاد ہے «هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنشَأَكُم مِّنَ الْأَرْضِ وَإِذْ أَنتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ» ۱؎ [53-النجم:32] ‏‏‏‏ ’ وہ بخوبی جانتا ہے جب کہ تمہیں زمین سے پیدا کرتا ہے اور جب کہ تم ماں کے پیٹ میں چھپے ہوئے ہوتے ہو ‘، الخ۔ اور فرمان ہے «يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰث» ۱؎ [39-الزمر:6] ‏‏‏‏ ’ وہ تمہیں تمہاری ماں کے پیٹ میں پیدا کرتا ہے ایک کے بعد دوسری پیدائش میں تین تین اندھیروں میں ‘۔ ارشاد ہے «وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّـهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» ۱؎ [23-المؤمنون:12-14] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے نطفے کو خون بستہ کیا، خون بستہ کو لوتھڑا گوشت کا کیا۔ لوتھڑے کو ہڈی کی شکل میں کر دیا۔ پھر ہڈی کو گوشت چڑھایا، پھر آخری اور پیدائش میں پیدا کیا پس بہترین خالق با برکت ہے ‘۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { تم میں سے ہر ایک کی پیدائش چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں جمع ہوتی رہتی ہے، پھر اتنے ہی دنوں تک وہ بصورت خون بستہ رہتا ہے پھر اتنے ہی دنوں تک وہ بصورت خون بستہ رہتا ہے پھر اتنے ہی دنوں تک وہ گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ خالق کا ایک فرشے کو بھیجتا ہے، جسے چار باتوں کے لکھ لینے کا حکم ہوتا ہے، اس کا رزق عمر عمل اور نیک بد ہونا لکھ لیتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6594] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { وہ پوچھتا ہے کہ اے اللہ مرد ہو گا یا عورت؟ شقیق ہو گا یا سعید؟ روزی کیا ہے؟ عمر کتنی ہے؟ اللہ تعالیٰ بتلاتا ہے اور وہ لکھ لیتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3333] ‏‏‏‏ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں بجز اللہ تعالیٰ علیم وخبیر کے اور کوئی نہیں جانتا کل کی بات اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ پیٹ میں کیا بڑھتا ہے اور کیا گھٹتا ہے کوئی نہیں جانتا۔ بارش کب برسے گی اس کا علم بہی کسی کو نہیں کون شخص کہاں مرے گا اسے بھی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ قیامت کب قائم ہوگی اس کا علم بھی اللہ ہی کو ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4697] ‏‏‏‏

پیٹ میں کیا گھٹتا ہے اس سے مراد حمل کا ساقط ہو جانا ہے اور رحم میں کیا بڑھ رہا ہے کیسے پورا ہو رہا ہے، یہ بھی اللہ کو بخوبی علم رہتا ہے۔ دیکھ لو کوئی عورت دس مہینے لیتی ہے کوئی نو۔ کسی کا حمل گھٹتا ہے، کسی کا بڑھتا ہے۔ نو ماہ سے گھٹنا، نو سے بڑھ جانا اللہ کے علم میں ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”میں دو سال ماں کے پیٹ میں رہا جب پیدا ہوا تو میرے اگلے دو دانت نکل آئے تھے۔‏‏‏‏“ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ ”حمل کی انتہائی مدت دو سال کی ہوتی ہے۔‏‏‏‏“ کمی سے مراد بعض کے نزدیک ایام حمل میں خون کا آنا اور زیادتی سے مراد نو ماہ سے زیادہ حمل کا ٹھہرا رہنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نو سے پہلے جب عورت خون کو دیکھے تو نو سے زیادہ ہو جاتے ہیں مثل ایام حیض کے۔ خون کے گرنے سے بچہ اچھا ہو جاتا ہے اور نہ گرے تو بچہ پورا پاٹھا اور بڑا ہوتا ہے۔ مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں بالکل بے غم، بے کھٹکے اور باآرام ہوتا ہے۔ اس کی ماں کے حیض کا خون اس کی غذا ہوتا ہے، جو بے طلب آرام اسے پہنچتا رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ ماں کو ان دنوں حیض نہیں آتا۔ پھر جب بچہ پیدا ہوتا ہے زمین پر آتے ہی روتا چلاتا ہے، اس انجان جگہ سے اسے وحشت ہوتی ہے، جب اس کی نال کٹ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی روزی ماں کے سینے میں پہنچا دیتا ہے اور اب بھی بے طلب، بے جستجو، بے رنج و غم، بے فکری کے ساتھ اسے روزی ملتی رہتی ہے۔ پھر ذرا بڑا ہوتا ہے اپنے ہاتھوں کھانے پینے لگتا ہے۔ لیکن بالغ ہوتے ہی روزی کے لیے ہائے ہائے کرنے لگتا ہے۔ موت اور قتل تک سے روزی حاصل ہونے کا امکان ہو تو پس وپیش نہیں کرتا۔ افسوس اے ابن آدم تجھ پر حیرت ہے جس نے تجھے تیری ماں کے پیٹ میں روزی دی، جس نے تجھے تیری ماں کی گود میں روزی دی جس نے تجھے بچے سے بالغ بنانے تک روزی دی۔ اب تو بالغ اور عقلمند ہو کر یہ کہنے لگا کہ ہائے کہاں سے کھاؤں گا؟ موت ہو یا قتل ہو؟ پھر آپ رحمہ اللہ نے یہی آیت پڑھی۔ ہر چیز اس کے پاس اندازے کے ساتھ موجود ہے رزق اجل سب مقرر شدہ ہے۔

{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی صاحبہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آدمی بھیجا کہ میرا بچہ آخری حالت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریف لانا میرے لیے خوشی کا باعث ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جاؤ ان سے کہہ دو کہ جو اللہ لے لے وہ اسی کا ہے، جو دے رکھے وہ بھی اسی کا ہے، ہر چیز کیا صحیح اندازہ اسی کے پاس ہے، ان سے کہہ دو کو صبر کریں اور اللہ سے ثواب کی امید رکھیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1284] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کو بھی جانتا ہے جو بندوں سے پوشیدہ ہے اور اسے بھی جو بندوں پر ظاہر ہے، اس سے کچھ بھی مخفی نہیں۔ وہ سب سے بڑا،وہ ہر ایک سے بلند ہے ہر چیز اس کے علم میں ہے ساری مخلوق اس کے سامنے عاجز ہے، تمام سر اس کے سامنے جھکے ہوئے ہیں تمام بندے اس کے سامنے عاجز لاچار اور محض بے بس ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت9){عٰلِمُ الْغَيْبِ …:” الْكَبِيْرُ “} میں بھی مبالغہ ہے اور {” الْمُتَعَالِ “} (جو اصل میں {”عَلَا يَعْلُوْ“ } کے باب تفاعل سے {”مُتَعَالِوٌ“} تھا) میں حروف زیادہ ہونے سے معنی میں مبالغہ مراد ہے۔ {”مُتَعَالِوٌ“} کی ”واؤ“ کو ”یاء“ سے بدلا تو {”مُتَعَالِيٌ“} ہوا، پھر ”یاء“ کو آیات کے آخری الفاظ (جنھیں اصطلاح میں فاصلہ، فواصل کہتے ہیں) کی موافقت اور تخفیف کے لیے حذف کر دیا گیا۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت اور اس کی کبریائی اور بلندی کا بے حد و حساب ہونا بیان ہوا ہے، جو درحقیقت پچھلی بات ہی کی تاکید ہے۔ {” الْغَيْبِ “} مصدر ہے، بمعنی اسم فاعل، یعنی غائب جو حواس اور بدیہ عقل سے غائب ہو۔ {” الشَّهَادَةِ “} مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، یعنی جو شاہد و حاضر ہے۔ اسم فاعل کو مصدر کی صورت میں لانے سے مبالغہ مقصود ہے، جیسے {”زَيْدٌ عَادِلٌ“} کے بجائے {”زَيْدٌ عَدْلٌ“} کہتے ہیں۔
سَوَآءٌ مِّنۡکُمۡ مَّنۡ اَسَرَّ الۡقَوۡلَ وَ مَنۡ جَہَرَ بِہٖ وَ مَنۡ ہُوَ مُسۡتَخۡفٍۭ بِالَّیۡلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّہَارِ ﴿۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم میں سے کوئی شخص خواہ زور سے با ت کرے یا آہستہ، اور کوئی رات کی تاریکی میں چھپا ہوا ہو یا دن کی روشنی میں چل رہا ہو، اس کے لیے سب یکساں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
تم میں سے کسی کا اپنی بات کو چھپا کر کہنا اور بﺂواز بلند اسے کہنا اور جو رات کو چھپا ہوا ہو اور جو دن میں چل رہا ہو، سب اللہ پر برابر ویکساں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
برابر ہیں جو تم میں بات آہستہ کہے اور جو آواز سے اور جو رات میں چھپا ہے اور جو دن میں راہ چلتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
تم میں سے کوئی چپکے سے کوئی بات کرے یا اونچی آواز میں کرے اور جو رات کے وقت چھپا رہتا ہے یا دن کے وقت (صاف ظاہر) چلتا ہے اس کے علم میں سب یکساں (برابر) ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
برابر ہے تم میں سے جو بات چھپا کر کرے اور جو اسے بلند آواز سے کرے اور وہ جو رات کو بالکل چھپا ہوا ہے اور (جو) دن کو ظاہر پھرنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب پہ محیط علم ٭٭

اللہ کا علم تمام مخلوق کو گھیرے ہوئے ہے۔ «وَإِن تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَإِنَّهُ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى» ۱؎ [20-طه:7] ‏‏‏‏ ’ کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں، پست اور بلند ہر آواز وہ سنتا ہے چھپا کھلا سب جانتا ہے ‘۔ «وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ» ۱؎ [27-النمل:25] ‏‏‏‏ ’ تم چھپاؤ یا کھولو اس سے مخفی نہیں ‘۔ { صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں { وہ اللہ پاک ہے جس کے سننے نے تمام آوازوں کو گھیرا ہوا ہے، قسم اللہ کی اپنے خاوند کی شکایت لے کر آنے والی عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کانا پھوسی کی کہ میں پاس ہی گھر میں بیٹھی ہوئی تھی لیکن میں پوری طرح نہ سن سکی لیکن اللہ تعالیٰ نے آیتیں «قَدْ سَمِعَ اللَّـهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّـهِ وَاللَّـهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ» ۱؎ [58-المجادلہ:1] ‏‏‏‏ اتاریں یعنی ’ اس عورت کی یہ تمام سرگوشی اللہ تعالیٰ سن رہا تھا ‘ } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7386قبل الحدیث] ‏‏‏‏ وہ سمیع وبصیر ہے، جو اپنے گھر کے تہ خانے میں راتوں کے اندھیرے میں چھپا ہوا ہو وہ اور جو دن کے وقت کھلم کھلا آباد راستوں میں چلا جا رہا ہو وہ علم اللہ میں برابر ہیں۔ جیسے آیت «اَلَآ اِنَّھُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ لِيَسْتَخْفُوْا مِنْهُ اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ اِنَّهٗ عَلِيْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ» ۱؎ [11-ھود:5] ‏‏‏‏ میں فرمایا ہے۔

اور آیت «وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ» ۱؎ [10-یونس:61] ‏‏‏‏ میں ارشاد ہوا ہے کہ ’ تمہارے کسی کام کے وقت ہم ادھر ادھر نہیں ہوتے، کوئی ذرہ ہماری معلومات سے خارج نہیں ‘۔ اللہ کے فرشتے بطور نگہبان اور چوکیدار کے بندوں کے اردگرد مقرر ہیں، جو انہیں آفتوں سے اور تکلیفوں سے بچاتے رہتے ہیں جیسے کہ اعمال پر نگہبان فرشتوں کی اور جماعت ہے، جو باری باری پے در پے آتے جاتے رہتے ہیں، رات کے الگ دن کے الگ۔ اور جیسے کہ دو فرشتے انسان کے دائیں بائیں اعمال لکھنے پر مقرر ہیں، داہنے والا نیکیاں لکھتا ہے بائیں جانب والا بدیاں لکھتا ہے۔ اسی طرح دو فرشتے اس کے آگے پیچھے ہیں جو اس کی حفاظت وحراست کرتے رہتے ہیں۔ پس ہر انسان ہر وقت چار فرشتوں میں رہتا ہے، دو کاتب اعمال دائیں بائیں دو نگہبانی کرنے والے آگے پیچھے، پھر رات کے الگ دن کے الگ۔ چنانچہ حدیث میں ہے { تم میں فرشتے پے در پے آتے جاتے رہتے ہیں، رات کے اور دن کے ان کا میل صبح اور عصر کی نماز میں ہوتا ہے رات گزارنے والے آسمان پر چڑھ جاتے ہیں۔ باوجود علم کے اللہ تبارک وتعالیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑا؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم گئے تو انہیں نماز میں پایا اور آئے تو نماز میں چھوڑ آئے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:555] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { تمہارے ساتھ وہ ہیں جو سوا پاخانے اور جماع کے وقت کے تم سے علیحدہ نہیں ہوتے۔ پس تمہیں ان کا لحاظ، ان کی شرم، ان کا اکرام اور ان کی عزت کرنی چاہیئے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2800،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

پس جب اللہ کو کوئی نقصان بندے کو پہنچانا منظور ہوتا ہے، بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما محافظ فرشتے اس کام کو ہو جانے دیتے ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں ہر بندے کے ساتھ اللہ کی طرف سے موکل ہے جو اسے سوتے جاگتے جنات سے انسان سے زہریلے جانوروں اور تمام آفتوں سے بچاتا رہتا ہے ہر چیز کو روک دیتا ہے مگر وہ جسے اللہ پہنچانا چاہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ دنیا کے بادشاہوں امیروں وغیرہ کا ذکر ہے جو پہرے چوکی میں رہتے ہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”سلطان اللہ کی نگہبانی میں ہوتا ہے «اَمْرِ الله» سے یعنی مشرکین اور ظاہرین سے۔‏‏‏‏“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ممکن ہے غرض اس قول سے یہ ہو کہ جیسے بادشاہوں امیروں کی چوکیداری سپاہی کرتے ہیں اسی طرح بندے کے چوکیدار اللہ کی طرف سے مقرر شدہ فرشتے ہوتے ہیں۔

ایک غریب روایت میں تفسیر ابن جریر میں وارد ہوا ہے کہ { سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ”فرمائیے بندے کے ساتھ کتنے فرشتے ہوتے ہیں“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ایک تو دائیں جانب نیکیوں کا لکھنے والا جو بائیں جانب والے پر امیر ہے جب تو کوئی نیکی کرتا ہے وہ ایک کی بجائے دس لکھ لی جاتی ہیں جب تو کوئی برائی کرے تو بائیں جانب والا دائیں والے سے اس کے لکھنے کی اجازت طلب کرتا ہے وہ کہتا ہے ذرا ٹھر جاؤ شاید یہ توبہ واستغفار کر لے تین مرتبہ وہ اجازت مانگتا ہے تب تک بھی اگر اس نے توبہ نہ کی تو یہ نیکی کا فرشتہ اس سے کہتا ہے اب لکھ لے اللہ ہمیں اس سے بچائے یہ تو بڑا برا ساتھی ہے۔ اسے اللہ کا لحاظ نہیں یہ اس سے نہیں شرماتا } }۔ { اللہ کا فرمان ہے کہ «مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ» [50-ق:18] ‏‏‏‏ ’ انسان جو بات زبان پر لاتا ہے اس پر نگہبان متعین اور مہیا ہیں ‘، اور دو فرشتے تیرے آگے پیچھے ہیں فرمان الٰہی ہے «لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِّن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ» [13-الرعد:11] ‏‏‏‏ الخ، ’ اور ایک فرشتہ تیرے ماتھے کا بال تھامے ہوئے ہے جب تو اللہ کے لیے تواضع اور فروتنی کرتا ہے وہ تجھے پست اور عاجز کر دیتا ہے اور دو فرشتے تیرے ہونٹوں پر ہیں، جو درود تو مجھ پر پڑھتا ہے اس کی وہ حفاظت کرتے ہیں۔ ایک فرشتہ تیرے منہ پر کھڑا ہے کہ کوئی سانپ وعیر جیسی چیز تیرے حلق میں نہ چلی جائے اور دو فرشتے تیری آنکھوں پر ہیں ‘ }۔ { پس یہ دس فرشتے ہر بنی آدم کے ساتھ ہیں پھر دن کے الگ ہیں۔ اور رات کے الگ ہیں یوں ہر شخص کے ساتھ بیس فرشتے منجانب اللہ موکل ہیں۔ ادھر بہکانے کے لیے دن بھر تو ابلیس کی ڈیوٹی رہتی ہے اور رات کو اس کی اولاد کی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:30211/16:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { تم میں سے ہر ایک کے ساتھ جن ساتھی ہے اور فرشتہ ساتھی ہے لوگوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی؟ فرمایا: { ہاں لیکن اللہ نے اس پر میری مدد کی ہے، وہ مجھے بھلائی کے سوا کچھ نہیں کہتا } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2814] ‏‏‏‏ یہ فرشتے بحکم رب اس کی نگہبانی رکھتے ہیں۔ بعض قرأتوں میں «مِنْ أَمْرِ اللَّهِ» کے بدلے «بِاَمْرِ اللَّهِ» ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اگر ابن آدم کے لیے ہر نرم وسخت کھل جائے تو البتہ ہر چیز اسے خود نظر آنے لگے۔ اور اگر اللہ کی طرف سے یہ محافظ فرشتے مقرر نہ ہوں جو کھانے پینے اور شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں تو واللہ تم تو اچک لیے جاؤ۔ ابوامامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر آدمی کے ساتھ محافظ فرشتہ ہے، جو تقدیری امور کے سوا اور تمام بلاؤں کو اس سے دفعہ کرتا رہتا ہے۔

ایک شخص قبیلہ مراد کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا انہیں نماز میں مشغول دیکھا تو کہا کہ قبیلہ مراد کے آدمی آپ رضی اللہ عنہ کے قتل کا ارادہ کر چکے ہیں، آپ رضی اللہ عنہ پہرہ چوکی مقرر کر لیجئے۔ آپ نے فرمایا ”ہر شخص کے ساتھ دو فرشتے اس کے محافظ مقرر ہیں بغیر تقدیر کے لکھے کے کسی برائی کو انسان تک پہنچنے نہیں دیتے سنو اجل ایک مضبوط قلعہ ہے اور عمدہ ڈھال ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔‏‏‏‏“ جیسے حدیث شریف میں ہے { لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یہ جھاڑ پھونک جو ہم کرتے ہیں کیا اس سے اللہ کی مقرر کی ہوئی تقدیر ٹل جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ خود اللہ کی مقرر کردہ ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2065،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک کی طرف وحی الٰہی ہوئی کہ اپنی قوم سے کہہ دے کہ جس بستی والے اور جس گھر والے اللہ کی اطاعت گزاری کرتے کرتے اللہ کی معصیت کرنے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی راحت کی چیزوں کو ان سے دور کر کے انہیں وہ چیزیں پہنچاتا ہے جو انہیں تکلیف دینے والی ہوں }۔ اس کی تصدیق قرآن کی آیت «اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ وَاِذَآ اَرَاد اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ وَمَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ» ۱؎ [13-الرعد:11] ‏‏‏‏ سے بھی ہوتی ہے۔ امام ابن ابی شیبہ کی کتاب صفۃ العرش میں یہ روایت مرفوعاً بھی آئی ہے۔ عمیر بن عبدالملک کہتے ہیں کہ کوفے کے منبر پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ سنایا جس میں فرمایا کہ ”اگر میں چپ رہتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بات شروع کرتے اور جب میں پوچھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے جواب دیتے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ مجھے قسم ہے اپنی عزت وجلال کی اپنی بلندی کی جو عرش پر ہے کہ جس بستی کے جس گھر کے لوگ میری نافرمانیوں میں مبتلا ہوں پھر انہیں چھوڑ کر میرے فرمانبرداری میں لگ جائیں تو میں بھی اپنے عذاب اور دکھ ان سے ہٹا کر اپنی رحمت اور سکھ انہیں عطا فرماتا ہوں ‘ }۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں ایک راوی غیر معروف ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت10) ➊ {سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ …:} یہ اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت کی ایک اور تاکید ہے، یعنی تمھارا کوئی آدمی چھپا کر بات کرے یا بلند آواز سے اللہ کے نزدیک دونوں برابر ہیں، وہ دونوں کو یکساں سنتا ہے، جبکہ تم اور ساری مخلوق چھپی بات کو تو سن ہی نہیں سکتے، البتہ بلند آواز سے کی ہوئی ایک شخص کی بات تم سن اور سمجھ سکتے ہو، مگر جب چار چھ آدمی اونچی آواز میں بولنا شروع کر دیں تو کسی کے پلے کچھ نہیں پڑے گا، اب اللہ تعالیٰ کے علم کا اندازہ کر لو کہ اس کے ہاں یہ سب برابر ہیں، وہ ایک ہی وقت میں سب کی سنتا اور سمجھتا اور سب کی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ ➋ {” مُسْتَخْفٍۭ “ ” خَفِيَ يَخْفَي “} (چھپنا) کے باب استفعال سے اسم فاعل برائے مبالغہ ہے، بالکل چھپنے والا۔ {” بِالَّيْلِ “} رات کو، کیونکہ رات کی تاریکی چھپنے میں مزید مدد دیتی ہے۔ {” سَارِبٌۢ “} یعنی ظاہر، {” سَرَبَ فِي الْاَرْضِ اَيْ ذَهَبَ فِيْ طَرِيْقِهٖ“} وہ اپنے راستے میں گیا، یعنی گھر کے کسی کمرے یا کونے کے بجائے راستے یا گلی بازار میں پھرنے والا اور وہ بھی دن کو ہر ایک کے سامنے ہوتا ہے۔ دن کا ذکر خصوصاً اس لیے کیا کہ وہ ہر چیز کو خوب ظاہر کر دیتا ہے۔ اس لیے بعض اہل علم نے {” سَارِبٌۢ “} کا معنی گلیوں میں پھرنے والا، یعنی بالکل ظاہر کیا ہے۔ یعنی یہ سب اس کے علم میں برابر ہیں۔
لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ مِنۡ خَلۡفِہٖ یَحۡفَظُوۡنَہٗ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰہُ بِقَوۡمٍ سُوۡٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَہٗ ۚ وَ مَا لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ وَّالٍ ﴿۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہر شخص کے آگے اور پیچھے اس کے مقرر کیے ہوئے نگراں لگے ہوئے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی اور جب اللہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کر لے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی، نہ اللہ کے مقابلے میں ایسی قوم کا کوئی حامی و مدد گار ہو سکتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کے پہرے دار انسان کے آگے پیچھے مقرر ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔ کسی قوم کی حالت اللہ تعالیٰ نہیں بدلتا جب تک کہ وه خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کی سزا کا اراده کر لیتا ہے تو وه بدﻻ نہیں کرتا اور سوائے اس کے کوئی بھی ان کا کارساز نہیں
احمد رضا خان بریلوی
آدمی کے لیے بدلی والے فرشتے ہیں اس کے آگے پیچھے کہ بحکم خدا اس کی حفاظت کرتے ہیں بیشک اللہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں، اور جب کسی قوم سے برائی چاہے تو وہ پھر نہیں سکتی، اور اس کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
انسان کے آگے اور پیچھے (خدا کے مقرر کردہ) نگہبان ہیں جو اللہ کے حکم سے باری باری اس کی حفاظت کرتے ہیں بے شک اللہ کسی قوم کی اس حالت کو نہیں بدلتا جو اس کی ہے جب تک قوم خود اپنی حالت کو نہ بدلے اور جب خدا کسی قوم کو (اس کے عمل کی پاداش میں) کوئی تکلیف پہنچانا چاہتا ہے تو وہ ٹل نہیں سکتی (پہنچ کر ہی رہتی ہے)۔ اور نہ ہی اللہ کے سوا ان کا کوئی حامی و مددگار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس کے لیے اس کے آگے اور اس کے پیچھے یکے بعد دیگرے آنے والے کئی پہرے دار ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ بے شک اللہ نہیں بدلتا جو کسی قوم میں ہے، یہاں تک کہ وہ اسے بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کر لے تو اسے ہٹانے کی کوئی صورت نہیں اور اس کے علاوہ ان کا کوئی مددگار نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب پہ محیط علم ٭٭

اللہ کا علم تمام مخلوق کو گھیرے ہوئے ہے۔ «وَإِن تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَإِنَّهُ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى» ۱؎ [20-طه:7] ‏‏‏‏ ’ کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں، پست اور بلند ہر آواز وہ سنتا ہے چھپا کھلا سب جانتا ہے ‘۔ «وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ» ۱؎ [27-النمل:25] ‏‏‏‏ ’ تم چھپاؤ یا کھولو اس سے مخفی نہیں ‘۔ { صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں { وہ اللہ پاک ہے جس کے سننے نے تمام آوازوں کو گھیرا ہوا ہے، قسم اللہ کی اپنے خاوند کی شکایت لے کر آنے والی عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کانا پھوسی کی کہ میں پاس ہی گھر میں بیٹھی ہوئی تھی لیکن میں پوری طرح نہ سن سکی لیکن اللہ تعالیٰ نے آیتیں «قَدْ سَمِعَ اللَّـهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّـهِ وَاللَّـهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ» ۱؎ [58-المجادلہ:1] ‏‏‏‏ اتاریں یعنی ’ اس عورت کی یہ تمام سرگوشی اللہ تعالیٰ سن رہا تھا ‘ } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7386قبل الحدیث] ‏‏‏‏ وہ سمیع وبصیر ہے، جو اپنے گھر کے تہ خانے میں راتوں کے اندھیرے میں چھپا ہوا ہو وہ اور جو دن کے وقت کھلم کھلا آباد راستوں میں چلا جا رہا ہو وہ علم اللہ میں برابر ہیں۔ جیسے آیت «اَلَآ اِنَّھُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ لِيَسْتَخْفُوْا مِنْهُ اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ اِنَّهٗ عَلِيْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ» ۱؎ [11-ھود:5] ‏‏‏‏ میں فرمایا ہے۔

اور آیت «وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ» ۱؎ [10-یونس:61] ‏‏‏‏ میں ارشاد ہوا ہے کہ ’ تمہارے کسی کام کے وقت ہم ادھر ادھر نہیں ہوتے، کوئی ذرہ ہماری معلومات سے خارج نہیں ‘۔ اللہ کے فرشتے بطور نگہبان اور چوکیدار کے بندوں کے اردگرد مقرر ہیں، جو انہیں آفتوں سے اور تکلیفوں سے بچاتے رہتے ہیں جیسے کہ اعمال پر نگہبان فرشتوں کی اور جماعت ہے، جو باری باری پے در پے آتے جاتے رہتے ہیں، رات کے الگ دن کے الگ۔ اور جیسے کہ دو فرشتے انسان کے دائیں بائیں اعمال لکھنے پر مقرر ہیں، داہنے والا نیکیاں لکھتا ہے بائیں جانب والا بدیاں لکھتا ہے۔ اسی طرح دو فرشتے اس کے آگے پیچھے ہیں جو اس کی حفاظت وحراست کرتے رہتے ہیں۔ پس ہر انسان ہر وقت چار فرشتوں میں رہتا ہے، دو کاتب اعمال دائیں بائیں دو نگہبانی کرنے والے آگے پیچھے، پھر رات کے الگ دن کے الگ۔ چنانچہ حدیث میں ہے { تم میں فرشتے پے در پے آتے جاتے رہتے ہیں، رات کے اور دن کے ان کا میل صبح اور عصر کی نماز میں ہوتا ہے رات گزارنے والے آسمان پر چڑھ جاتے ہیں۔ باوجود علم کے اللہ تبارک وتعالیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑا؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم گئے تو انہیں نماز میں پایا اور آئے تو نماز میں چھوڑ آئے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:555] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { تمہارے ساتھ وہ ہیں جو سوا پاخانے اور جماع کے وقت کے تم سے علیحدہ نہیں ہوتے۔ پس تمہیں ان کا لحاظ، ان کی شرم، ان کا اکرام اور ان کی عزت کرنی چاہیئے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2800،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

پس جب اللہ کو کوئی نقصان بندے کو پہنچانا منظور ہوتا ہے، بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما محافظ فرشتے اس کام کو ہو جانے دیتے ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں ہر بندے کے ساتھ اللہ کی طرف سے موکل ہے جو اسے سوتے جاگتے جنات سے انسان سے زہریلے جانوروں اور تمام آفتوں سے بچاتا رہتا ہے ہر چیز کو روک دیتا ہے مگر وہ جسے اللہ پہنچانا چاہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ دنیا کے بادشاہوں امیروں وغیرہ کا ذکر ہے جو پہرے چوکی میں رہتے ہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”سلطان اللہ کی نگہبانی میں ہوتا ہے «اَمْرِ الله» سے یعنی مشرکین اور ظاہرین سے۔‏‏‏‏“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ممکن ہے غرض اس قول سے یہ ہو کہ جیسے بادشاہوں امیروں کی چوکیداری سپاہی کرتے ہیں اسی طرح بندے کے چوکیدار اللہ کی طرف سے مقرر شدہ فرشتے ہوتے ہیں۔

ایک غریب روایت میں تفسیر ابن جریر میں وارد ہوا ہے کہ { سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ”فرمائیے بندے کے ساتھ کتنے فرشتے ہوتے ہیں“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ایک تو دائیں جانب نیکیوں کا لکھنے والا جو بائیں جانب والے پر امیر ہے جب تو کوئی نیکی کرتا ہے وہ ایک کی بجائے دس لکھ لی جاتی ہیں جب تو کوئی برائی کرے تو بائیں جانب والا دائیں والے سے اس کے لکھنے کی اجازت طلب کرتا ہے وہ کہتا ہے ذرا ٹھر جاؤ شاید یہ توبہ واستغفار کر لے تین مرتبہ وہ اجازت مانگتا ہے تب تک بھی اگر اس نے توبہ نہ کی تو یہ نیکی کا فرشتہ اس سے کہتا ہے اب لکھ لے اللہ ہمیں اس سے بچائے یہ تو بڑا برا ساتھی ہے۔ اسے اللہ کا لحاظ نہیں یہ اس سے نہیں شرماتا } }۔ { اللہ کا فرمان ہے کہ «مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ» [50-ق:18] ‏‏‏‏ ’ انسان جو بات زبان پر لاتا ہے اس پر نگہبان متعین اور مہیا ہیں ‘، اور دو فرشتے تیرے آگے پیچھے ہیں فرمان الٰہی ہے «لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِّن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ» [13-الرعد:11] ‏‏‏‏ الخ، ’ اور ایک فرشتہ تیرے ماتھے کا بال تھامے ہوئے ہے جب تو اللہ کے لیے تواضع اور فروتنی کرتا ہے وہ تجھے پست اور عاجز کر دیتا ہے اور دو فرشتے تیرے ہونٹوں پر ہیں، جو درود تو مجھ پر پڑھتا ہے اس کی وہ حفاظت کرتے ہیں۔ ایک فرشتہ تیرے منہ پر کھڑا ہے کہ کوئی سانپ وعیر جیسی چیز تیرے حلق میں نہ چلی جائے اور دو فرشتے تیری آنکھوں پر ہیں ‘ }۔ { پس یہ دس فرشتے ہر بنی آدم کے ساتھ ہیں پھر دن کے الگ ہیں۔ اور رات کے الگ ہیں یوں ہر شخص کے ساتھ بیس فرشتے منجانب اللہ موکل ہیں۔ ادھر بہکانے کے لیے دن بھر تو ابلیس کی ڈیوٹی رہتی ہے اور رات کو اس کی اولاد کی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:30211/16:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { تم میں سے ہر ایک کے ساتھ جن ساتھی ہے اور فرشتہ ساتھی ہے لوگوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی؟ فرمایا: { ہاں لیکن اللہ نے اس پر میری مدد کی ہے، وہ مجھے بھلائی کے سوا کچھ نہیں کہتا } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2814] ‏‏‏‏ یہ فرشتے بحکم رب اس کی نگہبانی رکھتے ہیں۔ بعض قرأتوں میں «مِنْ أَمْرِ اللَّهِ» کے بدلے «بِاَمْرِ اللَّهِ» ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اگر ابن آدم کے لیے ہر نرم وسخت کھل جائے تو البتہ ہر چیز اسے خود نظر آنے لگے۔ اور اگر اللہ کی طرف سے یہ محافظ فرشتے مقرر نہ ہوں جو کھانے پینے اور شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں تو واللہ تم تو اچک لیے جاؤ۔ ابوامامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر آدمی کے ساتھ محافظ فرشتہ ہے، جو تقدیری امور کے سوا اور تمام بلاؤں کو اس سے دفعہ کرتا رہتا ہے۔

ایک شخص قبیلہ مراد کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا انہیں نماز میں مشغول دیکھا تو کہا کہ قبیلہ مراد کے آدمی آپ رضی اللہ عنہ کے قتل کا ارادہ کر چکے ہیں، آپ رضی اللہ عنہ پہرہ چوکی مقرر کر لیجئے۔ آپ نے فرمایا ”ہر شخص کے ساتھ دو فرشتے اس کے محافظ مقرر ہیں بغیر تقدیر کے لکھے کے کسی برائی کو انسان تک پہنچنے نہیں دیتے سنو اجل ایک مضبوط قلعہ ہے اور عمدہ ڈھال ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔‏‏‏‏“ جیسے حدیث شریف میں ہے { لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یہ جھاڑ پھونک جو ہم کرتے ہیں کیا اس سے اللہ کی مقرر کی ہوئی تقدیر ٹل جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ خود اللہ کی مقرر کردہ ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2065،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک کی طرف وحی الٰہی ہوئی کہ اپنی قوم سے کہہ دے کہ جس بستی والے اور جس گھر والے اللہ کی اطاعت گزاری کرتے کرتے اللہ کی معصیت کرنے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی راحت کی چیزوں کو ان سے دور کر کے انہیں وہ چیزیں پہنچاتا ہے جو انہیں تکلیف دینے والی ہوں }۔ اس کی تصدیق قرآن کی آیت «اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ وَاِذَآ اَرَاد اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ وَمَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ» ۱؎ [13-الرعد:11] ‏‏‏‏ سے بھی ہوتی ہے۔ امام ابن ابی شیبہ کی کتاب صفۃ العرش میں یہ روایت مرفوعاً بھی آئی ہے۔ عمیر بن عبدالملک کہتے ہیں کہ کوفے کے منبر پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ سنایا جس میں فرمایا کہ ”اگر میں چپ رہتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بات شروع کرتے اور جب میں پوچھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے جواب دیتے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ مجھے قسم ہے اپنی عزت وجلال کی اپنی بلندی کی جو عرش پر ہے کہ جس بستی کے جس گھر کے لوگ میری نافرمانیوں میں مبتلا ہوں پھر انہیں چھوڑ کر میرے فرمانبرداری میں لگ جائیں تو میں بھی اپنے عذاب اور دکھ ان سے ہٹا کر اپنی رحمت اور سکھ انہیں عطا فرماتا ہوں ‘ }۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں ایک راوی غیر معروف ہے۔
11۔ 1 معقبات،، معقبۃ۔ کی جمع ہے ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے، مراد فرشتے ہیں جو باری باری ایک دوسرے کے بعد آتے ہیں۔ دن کے فرشتے جاتے ہیں تو شام کے آجاتے ہیں شام کے جاتے ہیں تو دن کے آجاتے ہیں۔ 11۔ 2 اس کی تشریح کے لئے دیکھئے سورة انفال آیت 53 کا حاشیہ۔
(آیت11) ➊ {لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ …: ” مُعَقِّبٰتٌ “} (باری باری ایک دوسرے کے بعد آنے والے) یہ ملائکہ کی صفت ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی نگرانی و حفاظت کا جو انتظام کر رکھا ہے اس کی ایک جھلک دکھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس نے ہر انسان پر کتنے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں، کیونکہ دو فرشتے تو نیک و بدعمل لکھنے والے دائیں اور بائیں ہیں۔ (ق: ۱۷، ۱۸) حفاظت کرنے والوں کی تعداد یہاں بیان نہیں فرمائی جو چاروں طرف سے انسان کی ہر آفت و مصیبت سے حفاظت کرتے ہیں، سوائے اس مصیبت کے جو اللہ نے اس کے لیے لکھی ہے۔ فرشتوں کی ایک اور قسم کے متعلق عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ وَقَدْ وُكِّلَ بِهٖ قَرِيْنُهٗ مِنَ الْجِنِّ، وَ قَرِیْنُہُ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ قَالُوْا وَ إِيَّاكَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ وَإِيَّايَ إِلاَّ أَنَّ اللّٰهَ أَعَانَنِيْ عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ فَلاَ يَأْمُرُنِيْ إِلاَّ بِخَيْرٍ ] [مسلم، صفات المنافقین، باب تحریش الشیطان…: ۲۸۱۴ ] ”تم میں سے جو بھی شخص ہے اس کے ساتھ اس کا ایک قرین (ساتھ رہنے والا) جنوں سے مقرر کیا گیا ہے اور ایک قرین فرشتوں سے۔“ لوگوں نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! آپ کے ساتھ بھی (جن مقرر ہے)؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ہاں) میرے ساتھ بھی، مگر اللہ نے اس کے مقابلے میں میری مدد فرمائی ہے تو وہ تابع ہو گیا ہے، سو وہ مجھے خیر کے سوا کوئی حکم نہیں دیتا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ باری والے فرشتے صبح اور عصر کے وقت تبدیل ہوتے ہیں، ان وقتوں میں آنے اور جانے والوں کی ملاقات ان دونوں نمازوں میں ہوتی ہے۔ [ بخاري، مواقیت الصلاۃ، باب فضل صلاۃ العصر: ۵۵۵۔ مسلم: ۶۳۲ ] اس حقیقت کے اظہار کا مقصد یہ ہے کہ انسان ہر آن اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہتا ہے اور اس کی کوئی حرکت اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں۔ ➋ {اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ …: } یعنی جب تک نیکی کے بجائے برائی اور اطاعت کے بجائے نافرمانی نہ کرنے لگیں، البتہ جب وہ ایسا کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ ان سے اپنی نعمت چھین لیتا ہے اور ان پر اپنا عذاب نازل کرتا ہے۔ یہی بات اللہ تعالیٰ نے آلِ فرعون کی مثال کے ساتھ سورۂ انفال (۵۳، ۵۴) میں بیان فرمائی۔ مزید مثال کے لیے دیکھیے سورۂ نحل (۱۱۲) اور سبا (۱۵ تا ۱۷) واضح رہے کہ یہاں قوموں کی تباہی کا قانون بیان کیا گیا ہے، افراد کا نہیں۔ کسی قوم کی اچھی یا بری حالت کا تعین اسی لحاظ سے کیا جائے گا کہ آیا اس میں اچھے لوگوں کا غلبہ ہے یا برے لوگوں کا؟ رہے افراد تو ضروری نہیں کہ ایک شخص گناہ کرے تبھی اس پر عذاب نازل ہو، بلکہ ایک بے گناہ شخص دوسروں کے گناہ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جیسا کہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ میں نے پوچھا: [ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَنَهْلِكُ وَفِيْنَا الصَّالِحُوْنَ، قَالَ نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ ] [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قصۃ یأجوج و مأجوج: ۳۳۴۶ ] ”اے اللہ کے رسول! کیا نیک لوگوں کے ہم میں موجود ہونے کے باوجود ہم ہلاک ہو جائیں گے؟“ فرمایا: ”ہاں! جب خباثت (گناہ) زیادہ ہو جائے۔“ ➌ {وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا …: } ہم چاہے کتنی سائنسی تدبیریں اور حفاظت کا بندوبست کر لیں، یا کسی پیر، بزرگ، بت یا جن یا فرشتے کی پناہ پکڑ لیں، اللہ تعالیٰ کے ارادے کے مقابلے میں کسی کی کچھ پیش نہیں جاتی۔
ہُوَ الَّذِیۡ یُرِیۡکُمُ الۡبَرۡقَ خَوۡفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنۡشِیُٔ السَّحَابَ الثِّقَالَ ﴿ۚ۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہی ہے جو تمہارے سامنے بجلیاں چمکاتا ہے جنہیں دیکھ کر تمہیں اندیشے بھی لاحق ہوتے ہیں اور امیدیں بھی بندھتی ہیں وہی ہے جو پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھاتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه اللہ ہی ہے جو تمہیں بجلی کی چمک ڈرانے اور امید دﻻنے کے لئے دکھاتا ہے اور بھاری بادلوں کو پیدا کرتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہی ہے تمہیں بجلی دکھاتا ہے ڈر کو اور امید کو اور بھاری بدلیاں اٹھاتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ وہی (خدا) ہے جو ڈرانے اور امید دلانے کے لئے بجلی (کی چمک) دکھاتا ہے اور (دوش ہوا پر) بوجھل بادل پیدا کرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہی ہے جو تمھیں بجلی دکھاتا ہے، ڈرانے اور امید دلانے کے لیے اور بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بجلی کر گرج ٭٭

بجلی بھی اس کے حکم میں ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک سائل کے جواب میں کہا تھا کہ برق پانی ہے۔ مسافر اسے دیکھ کر اپنی ایذاء اور مشقت کے خوف سے گھبراتا ہے اور مقیم برکت ونفع کی امید پر رزق کی زیادتی کا لالچ کرتا ہے، وہی بوجھل بادلوں کو پیدا کرتا ہے جو بوجہ پانی کے بوجھ کے زمین کے قریب آ جاتے ہیں۔ پس ان میں بوجھ پانی کا ہوتا ہے۔ پھر فرمایا کہ کڑک بھی اس کی تسبیح و تعریف کرتی ہے۔ ایک اور جگہ ہے کہ «وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ» ۱؎ [17-الإسراء:44] ‏‏‏‏ ’ ہر چیز اللہ کی تسبیح وحمد کرتی ہے ‘۔ ایک حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ بادل پیدا کرتا ہے جو اچھی طرح بولتے ہیں اور ہنستے ہیں }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1665:صحیح] ‏‏‏‏ ممکن ہے بولنے سے مراد گرجنا اور ہنسنے سے مراد بجلی کا ظاہر ہونا ہے۔ سعد بن ابراہیم کہتے ہیں اللہ تعالیٰ بارش بھیجتا ہے اس سے اچھی بولی اور اس سے اچھی ہنسی والا کوئی اور نہیں۔ اس کی ہنسی بجلی ہے اور اس کی گفتگو گرج ہے۔ محمد بن مسلم کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ برق ایک فرشتہ ہے جس کے چار منہ ہیں ایک انسان جیسا ایک بیل جیسا ایک گدھے جیسا، ایک شیر جیسا، وہ جب دم ہلاتا ہے تو بجلی ظاہر ہوتی ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گرج کڑک کو سن کر یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ لَا تَقْتُلنَا بِغَضَبِك وَلَا تُهْلِكنَا بِعَذَابِك وَعَافِنَا قَبْل ذَلِكَ» }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3450،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں یہ دعا ہے «سُبْحَان مَنْ يُسَبِّح الرَّعْد بِحَمْدِهِ» ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ گرج سن کر پڑھتے «سُبْحَان مَنْ سَبَّحْت لَهُ» ابن ابی زکریا فرماتے ہیں جو شخص گرج کڑک سن کر کہے دعا «سُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ» اس پر بجلی نہیں گرے گی۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ گرج کڑک کی آواز سن کر باتیں چھوڑ دیتے اور فرماتے «سُبْحَان الَّذِي يُسَبِّح الرَّعْد بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَة مِنْ خِيفَته» اور فرماتے کہ اس آیت میں اور اس آواز میں زمین والوں کے لیے بہت تنزیر و عبرت ہے۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { تمہارا رب العزت فرماتا ہے ’ اگر میرے بندے میری پوری اطاعت کرتے تو راتوں کو بارشیں برساتا اور دن کو سورج چڑھاتا اور انہیں گرج کی آواز تک نہ سناتا ‘ }۔ ۱؎ [مسند احمد:359/2:ضعیف] ‏‏‏‏

طبرانی میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { گرج سن کر اللہ کا ذکر کرو۔ کیونکہ ذکر کرنے والوں پر کڑا کا نہیں گرتا } }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11371:ضعیف] ‏‏‏‏ وہ بجلی بھیجتا ہے جس پر چاہے اس پر گراتا ہے۔ اسی لیے آخر زمانے میں بکثرت بجلیاں گریں گی۔ مسند کی حدیث میں ہے کہ { قیامت کے قریب بجلی بکثرت گرے گی یہاں تک کہ ایک شخص اپنی قوم سے آ کر پوچھے گا کہ صبح کس پر بجلی گری؟ وہ کہیں گے فلاں فلاں پر }۔ ۱؎ [مسند احمد:64/3:ضعیف] ‏‏‏‏ ابو یعلیٰ راوی ہیں { نبی کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک مغرور سردار کے بلانے کو بھیجا اس نے کہا کون رسول اللہ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم )؟ اللہ سونے کا ہے یا چاندی کا؟ یا پیتل کا؟ قاصد واپس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا کہ دیکھئیے میں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہی کہا تھا کہ وہ متکبر، مغرور شخص ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نہ بلوائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { دوبارہ جاؤ اور اس سے یہی کہو }، اس نے جا کر پھر بلایا لیکن اس ملعون نے یہی جواب اس مرتبہ بھی دیا۔ قاصد نے واپس آ کر پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ بھیجا اب کی مرتبہ بھی اس نے پیغام سن کر وہی جواب دینا شروع کیا کہ ایک بادل اس کے سر پر آگیا کڑکا اور اس میں سے بجلی گری اور اس کے سر سے کھوپڑی اڑا لی گئی۔ اس کے بعد یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:125/13:حسن] ‏‏‏‏

ایک روایت میں ہے کہ { ایک یہودی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ تانبے کا ہے یا موتی کا یا یاقوت کا ابھی اس کا سوال پورا نہ ہوا تھا جو بجلی گری اور وہ تباہ ہو گیا اور یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:20266/16:مرسل] ‏‏‏‏ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مذکور ہے کہ { ایک شخص نے قرآن کو جھٹلایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے انکار کیا اسی وقت آسمان سے بجلی گری اور وہ ہلاک ہو گیا اور یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:20271:حسن] ‏‏‏‏ اس آیت کے شان نزول میں عامر بن طفیل اور ازبد بن ربیعہ کا قصہ بھی بیان ہوتا ہے، یہ دونوں سرداران عرب مدینے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیں گے لیکن اس شرط پر کہ ہمیں آدھوں آدھ کا شریک کرلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے مایوس کر دیا تو عامر ملعون نے کہا واللہ میں سارے عرب کے میدان کو لشکروں سے بھر دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تو جھوٹا ہے، اللہ تجھے یہ وقت ہی نہیں دے گا }۔ پھر یہ دونوں مدینے میں ٹھہرے رہے کہ موقعہ پا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غفلت میں قتل کر دیں چنانچہ ایک دن انہیں موقع مل گیا ایک نے تو آپ کو سامنے سے باتوں میں لگا لیا دوسرا تلوار تو لے پیچھے سے آ گیا لیکن اس حافظ حقیقی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شرارت سے بچا لیا۔ اب یہاں سے نامراد ہو کر چلے اور اپنے جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے کے لیے عرب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابھارنے لگے اسی حال میں اربد پر آسمان سے بجلی گری اور اس کا کام تو تمام ہو گیا عامر طاعون کی گلٹی سے پکڑا گیا اور اسی میں بلک بلک کر جان دی اور اسی جیسوں کے بارے میں یہ آیت اتری کہ اللہ تعالیٰ جس پر چاہے بجلی گراتا ہے۔ اربد کے بھائی لیبد نے اپنے بھائی کے اس واقعہ کو اشعار میں خوب بیان کیا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ عامر نے کہا کہ اگر میں مسلمان ہو جاؤں تو مجھے کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو سب مسلمانوں کا حال وہی تیرا حال }۔ اس نے کہا پھر تو میں مسلمان نہیں ہوتا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امر کا والی میں بنوں تو میں دین قبول کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ امر خلافت نہ تیرے لیے ہے نہ تیری قوم کے لیے ہاں ہمارا لشکر تیری مدد پر ہوگا }۔ اس نے کہا اس کی مجھے ضرورت نہیں اب بھی نجدی لشکر میری پشت پناہی پر ہے مجھے تو کچے پکے کا مالک کر دیں تو میں دین اسلام قبول کرلوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں }۔ یہ دونوں آپ کے پاس سے چلے گئے۔ عامر کہنے لگا واللہ میں مدینے کو چاروں طرف لشکروں سے محصور کرلوں گا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تیرا یہ ارادہ پورا نہیں ہونے دے گا }۔ اب ان دونوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ایک تو صلی اللہ علیہ وسلم کو باتوں میں لگائے دوسرا تلوار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تمام کردے۔ پھر ان میں سے لڑے گا کون؟ زیادہ سے زیادہ دیت دے کر پیچھا چھٹ جائے گا۔ اب یہ دونوں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ عامر نے کہا ذرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر یہاں آئیے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، اس کے ساتھ چلے، ایک دیوار تلے وہ باتیں کرنے لگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر پشت کی جانب پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حالت دیکھی اور وہاں سے لوٹ کر چلے آئے۔ اب یہ دونوں مدینے سے چلے حرہ راقم میں آ کر ٹھرے لیکن سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر رضی اللہ عنہم وہاں پہنچے اور انہیں وہاں سے نکالا۔ راقم میں پہنچے ہی تھے جو اربد پر بجلی گری اس کا تو وہیں ڈھیر ہو گیا۔ عامر یہاں سے بھاگ چلا لیکن دریح میں پہنچا تھا جو اسے طاعون کی گلٹی نکلی۔ بنو سلول قبیلے کی ایک عورت کے ہاں یہ ٹھہرا۔ وہ کبھی کبھی اپنی گردن کی گلٹی کو دباتا اور تعجب سے کہتا یہ تو ایسی ہے جیسے اونٹ کی گلٹی ہوتی ہے، افسوس میں سلولیہ عورت کے گھر پر مروں گا۔ کیا اچھا ہوتا کہ میں اپنے گھر ہوتا۔ آخر اس سے نہ رہا گیا، گھوڑا منگوایا، سوار ہوا اور چل دیا لیکن راستے ہی میں ہلاک ہو گیا۔ پس ان کے بارے میں یہ آیتیں «اللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ سَوَاءٌ مِّنكُم مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَن جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِّن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ وَإِذَا أَرَادَ اللَّـهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَالٍ» ۱؎ [13-الرعد:8-11] ‏‏‏‏ نازل ہوئیں ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا ذکر بھی ہے پھر اربد پر بجلی گرنے کا ذکر ہے۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:10760:ضعیف] ‏‏‏‏ اور فرمایا ہے کہ ’ یہ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ اس کی عظمت وتوحید کو نہیں مانتے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے مخالفوں اور منکروں کو سخت سزا اور ناقابل برداشت عذاب کرنے والا ہے ‘۔ پس یہ آیت مثل آیت «وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَاهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ» ۱؎ [27-النمل:51،50] ‏‏‏‏ کے ہے یعنی ’ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح کہ انہیں معلوم نہ ہو سکا۔ اب تو خود دیکھ لے کہ ان کے مکر کا انجام کیا ہوا؟ ہم نے انہیں اور ان کی قوم کو غارت کر دیا۔ اللہ سخت پکڑ کرنے والا ہے۔ بہت قوی ہے، پوری قوت وطاقت والا ہے ‘۔
12۔ 1 جس سے راہ گیر مسافر ڈرتے ہیں اور گھروں میں مقیم کسان اور کاشت کار اس کی برکت و منفعت کی امید رکھتے ہیں۔ 12۔ 2 بھاری بادلوں سے مراد، وہ بادل ہیں جس میں بارش کا پانی ہوتا ہے۔
(آیت12){هُوَ الَّذِيْ يُرِيْكُمُ الْبَرْقَ …:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے ایسے نشان بیان فرمائے ہیں جو بیک وقت امید اور ڈر کے حامل ہیں، جو رحمت کا پیش خیمہ بھی بن سکتے ہیں اور موجب زحمت بھی۔ مثلاً جب بجلی چمکتی ہے تو امید بندھتی ہے کہ بارش ہو گی مگر ڈر بھی لگتا ہے کہ کہیں تباہی کا موجب نہ بن جائے، بادل دیکھ کر رحمت کی بارش کی امید بندھ جاتی ہے مگر ساتھ ہی یہ فکر بھی دامن گیر رہتی ہے کہ کہیں سیلاب نہ آ جائے۔ پس انسان کو چاہیے کہ اللہ کی رحمت کا امید وار رہے اور اس کے عذاب سے بھی ڈرتا رہے۔
وَ یُسَبِّحُ الرَّعۡدُ بِحَمۡدِہٖ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ مِنۡ خِیۡفَتِہٖ ۚ وَ یُرۡسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیۡبُ بِہَا مَنۡ یَّشَآءُ وَ ہُمۡ یُجَادِلُوۡنَ فِی اللّٰہِ ۚ وَ ہُوَ شَدِیۡدُ الۡمِحَالِ ﴿ؕ۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بادلوں کی گرج اس کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتی ہے اور فرشتے اس کی ہیبت سے لرزتے ہوئے اُس کی تسبیح کرتے ہیں وہ کڑکتی ہوئی بجلیوں کو بھیجتا ہے اور (بسا اوقات) اُنہیں جس پر چاہتا ہے عین اس حالت میں گرا دیتا ہے جبکہ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑ رہے ہوتے ہیں فی الواقع اس کی چال بڑی زبردست ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
گرج اس کی تسبیح وتعریف کرتی ہے اور فرشتے بھی، اس کے خوف سے۔ وہی آسمان سے بجلیاں گراتا ہے اور جس پر چاہتا ہے اس پر ڈالتا ہے کفار اللہ کی بابت لڑ جھگڑ رہے ہیں اور اللہ سخت قوت والا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور گر ج اسے سراہتی ہوئی اس کی پاکی بولتی ہے اور فرشتے اس کے ڈر سے اور کڑک بھیجتا ہے تو اسے ڈالتا ہے جس پر چاہے اور وہ اللہ میں جھگڑتے ہوتے ہیں اور اس کی پکڑ سخت ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بادل کی گرج اور فرشتے بھی اس کے خوف سے اس کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ آسمانی بجلیاں گراتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان کی زد میں لاتا ہے درآنحالیکہ وہ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑ رہے ہوتے ہیں جبکہ وہ بڑا زبردست قوت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور (بادل کی) گرج اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف سے۔ اور وہ کڑکنے والی بجلیاں بھیجتا ہے، پھر انھیں ڈال دیتا ہے جس پر چاہتا ہے، جب کہ وہ اللہ کے بارے میں جھگڑ رہے ہوتے ہیں اور وہ بہت سخت قوت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بجلی کر گرج ٭٭

بجلی بھی اس کے حکم میں ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک سائل کے جواب میں کہا تھا کہ برق پانی ہے۔ مسافر اسے دیکھ کر اپنی ایذاء اور مشقت کے خوف سے گھبراتا ہے اور مقیم برکت ونفع کی امید پر رزق کی زیادتی کا لالچ کرتا ہے، وہی بوجھل بادلوں کو پیدا کرتا ہے جو بوجہ پانی کے بوجھ کے زمین کے قریب آ جاتے ہیں۔ پس ان میں بوجھ پانی کا ہوتا ہے۔ پھر فرمایا کہ کڑک بھی اس کی تسبیح و تعریف کرتی ہے۔ ایک اور جگہ ہے کہ «وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ» ۱؎ [17-الإسراء:44] ‏‏‏‏ ’ ہر چیز اللہ کی تسبیح وحمد کرتی ہے ‘۔ ایک حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ بادل پیدا کرتا ہے جو اچھی طرح بولتے ہیں اور ہنستے ہیں }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1665:صحیح] ‏‏‏‏ ممکن ہے بولنے سے مراد گرجنا اور ہنسنے سے مراد بجلی کا ظاہر ہونا ہے۔ سعد بن ابراہیم کہتے ہیں اللہ تعالیٰ بارش بھیجتا ہے اس سے اچھی بولی اور اس سے اچھی ہنسی والا کوئی اور نہیں۔ اس کی ہنسی بجلی ہے اور اس کی گفتگو گرج ہے۔ محمد بن مسلم کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ برق ایک فرشتہ ہے جس کے چار منہ ہیں ایک انسان جیسا ایک بیل جیسا ایک گدھے جیسا، ایک شیر جیسا، وہ جب دم ہلاتا ہے تو بجلی ظاہر ہوتی ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گرج کڑک کو سن کر یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ لَا تَقْتُلنَا بِغَضَبِك وَلَا تُهْلِكنَا بِعَذَابِك وَعَافِنَا قَبْل ذَلِكَ» }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3450،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں یہ دعا ہے «سُبْحَان مَنْ يُسَبِّح الرَّعْد بِحَمْدِهِ» ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ گرج سن کر پڑھتے «سُبْحَان مَنْ سَبَّحْت لَهُ» ابن ابی زکریا فرماتے ہیں جو شخص گرج کڑک سن کر کہے دعا «سُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ» اس پر بجلی نہیں گرے گی۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ گرج کڑک کی آواز سن کر باتیں چھوڑ دیتے اور فرماتے «سُبْحَان الَّذِي يُسَبِّح الرَّعْد بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَة مِنْ خِيفَته» اور فرماتے کہ اس آیت میں اور اس آواز میں زمین والوں کے لیے بہت تنزیر و عبرت ہے۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { تمہارا رب العزت فرماتا ہے ’ اگر میرے بندے میری پوری اطاعت کرتے تو راتوں کو بارشیں برساتا اور دن کو سورج چڑھاتا اور انہیں گرج کی آواز تک نہ سناتا ‘ }۔ ۱؎ [مسند احمد:359/2:ضعیف] ‏‏‏‏

طبرانی میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { گرج سن کر اللہ کا ذکر کرو۔ کیونکہ ذکر کرنے والوں پر کڑا کا نہیں گرتا } }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11371:ضعیف] ‏‏‏‏ وہ بجلی بھیجتا ہے جس پر چاہے اس پر گراتا ہے۔ اسی لیے آخر زمانے میں بکثرت بجلیاں گریں گی۔ مسند کی حدیث میں ہے کہ { قیامت کے قریب بجلی بکثرت گرے گی یہاں تک کہ ایک شخص اپنی قوم سے آ کر پوچھے گا کہ صبح کس پر بجلی گری؟ وہ کہیں گے فلاں فلاں پر }۔ ۱؎ [مسند احمد:64/3:ضعیف] ‏‏‏‏ ابو یعلیٰ راوی ہیں { نبی کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک مغرور سردار کے بلانے کو بھیجا اس نے کہا کون رسول اللہ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم )؟ اللہ سونے کا ہے یا چاندی کا؟ یا پیتل کا؟ قاصد واپس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا کہ دیکھئیے میں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہی کہا تھا کہ وہ متکبر، مغرور شخص ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نہ بلوائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { دوبارہ جاؤ اور اس سے یہی کہو }، اس نے جا کر پھر بلایا لیکن اس ملعون نے یہی جواب اس مرتبہ بھی دیا۔ قاصد نے واپس آ کر پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ بھیجا اب کی مرتبہ بھی اس نے پیغام سن کر وہی جواب دینا شروع کیا کہ ایک بادل اس کے سر پر آگیا کڑکا اور اس میں سے بجلی گری اور اس کے سر سے کھوپڑی اڑا لی گئی۔ اس کے بعد یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:125/13:حسن] ‏‏‏‏

ایک روایت میں ہے کہ { ایک یہودی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ تانبے کا ہے یا موتی کا یا یاقوت کا ابھی اس کا سوال پورا نہ ہوا تھا جو بجلی گری اور وہ تباہ ہو گیا اور یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:20266/16:مرسل] ‏‏‏‏ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مذکور ہے کہ { ایک شخص نے قرآن کو جھٹلایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے انکار کیا اسی وقت آسمان سے بجلی گری اور وہ ہلاک ہو گیا اور یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:20271:حسن] ‏‏‏‏ اس آیت کے شان نزول میں عامر بن طفیل اور ازبد بن ربیعہ کا قصہ بھی بیان ہوتا ہے، یہ دونوں سرداران عرب مدینے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیں گے لیکن اس شرط پر کہ ہمیں آدھوں آدھ کا شریک کرلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے مایوس کر دیا تو عامر ملعون نے کہا واللہ میں سارے عرب کے میدان کو لشکروں سے بھر دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تو جھوٹا ہے، اللہ تجھے یہ وقت ہی نہیں دے گا }۔ پھر یہ دونوں مدینے میں ٹھہرے رہے کہ موقعہ پا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غفلت میں قتل کر دیں چنانچہ ایک دن انہیں موقع مل گیا ایک نے تو آپ کو سامنے سے باتوں میں لگا لیا دوسرا تلوار تو لے پیچھے سے آ گیا لیکن اس حافظ حقیقی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شرارت سے بچا لیا۔ اب یہاں سے نامراد ہو کر چلے اور اپنے جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے کے لیے عرب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابھارنے لگے اسی حال میں اربد پر آسمان سے بجلی گری اور اس کا کام تو تمام ہو گیا عامر طاعون کی گلٹی سے پکڑا گیا اور اسی میں بلک بلک کر جان دی اور اسی جیسوں کے بارے میں یہ آیت اتری کہ اللہ تعالیٰ جس پر چاہے بجلی گراتا ہے۔ اربد کے بھائی لیبد نے اپنے بھائی کے اس واقعہ کو اشعار میں خوب بیان کیا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ عامر نے کہا کہ اگر میں مسلمان ہو جاؤں تو مجھے کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو سب مسلمانوں کا حال وہی تیرا حال }۔ اس نے کہا پھر تو میں مسلمان نہیں ہوتا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امر کا والی میں بنوں تو میں دین قبول کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ امر خلافت نہ تیرے لیے ہے نہ تیری قوم کے لیے ہاں ہمارا لشکر تیری مدد پر ہوگا }۔ اس نے کہا اس کی مجھے ضرورت نہیں اب بھی نجدی لشکر میری پشت پناہی پر ہے مجھے تو کچے پکے کا مالک کر دیں تو میں دین اسلام قبول کرلوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں }۔ یہ دونوں آپ کے پاس سے چلے گئے۔ عامر کہنے لگا واللہ میں مدینے کو چاروں طرف لشکروں سے محصور کرلوں گا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تیرا یہ ارادہ پورا نہیں ہونے دے گا }۔ اب ان دونوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ایک تو صلی اللہ علیہ وسلم کو باتوں میں لگائے دوسرا تلوار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تمام کردے۔ پھر ان میں سے لڑے گا کون؟ زیادہ سے زیادہ دیت دے کر پیچھا چھٹ جائے گا۔ اب یہ دونوں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ عامر نے کہا ذرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر یہاں آئیے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، اس کے ساتھ چلے، ایک دیوار تلے وہ باتیں کرنے لگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر پشت کی جانب پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حالت دیکھی اور وہاں سے لوٹ کر چلے آئے۔ اب یہ دونوں مدینے سے چلے حرہ راقم میں آ کر ٹھرے لیکن سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر رضی اللہ عنہم وہاں پہنچے اور انہیں وہاں سے نکالا۔ راقم میں پہنچے ہی تھے جو اربد پر بجلی گری اس کا تو وہیں ڈھیر ہو گیا۔ عامر یہاں سے بھاگ چلا لیکن دریح میں پہنچا تھا جو اسے طاعون کی گلٹی نکلی۔ بنو سلول قبیلے کی ایک عورت کے ہاں یہ ٹھہرا۔ وہ کبھی کبھی اپنی گردن کی گلٹی کو دباتا اور تعجب سے کہتا یہ تو ایسی ہے جیسے اونٹ کی گلٹی ہوتی ہے، افسوس میں سلولیہ عورت کے گھر پر مروں گا۔ کیا اچھا ہوتا کہ میں اپنے گھر ہوتا۔ آخر اس سے نہ رہا گیا، گھوڑا منگوایا، سوار ہوا اور چل دیا لیکن راستے ہی میں ہلاک ہو گیا۔ پس ان کے بارے میں یہ آیتیں «اللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ سَوَاءٌ مِّنكُم مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَن جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِّن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ وَإِذَا أَرَادَ اللَّـهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَالٍ» ۱؎ [13-الرعد:8-11] ‏‏‏‏ نازل ہوئیں ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا ذکر بھی ہے پھر اربد پر بجلی گرنے کا ذکر ہے۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:10760:ضعیف] ‏‏‏‏ اور فرمایا ہے کہ ’ یہ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ اس کی عظمت وتوحید کو نہیں مانتے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے مخالفوں اور منکروں کو سخت سزا اور ناقابل برداشت عذاب کرنے والا ہے ‘۔ پس یہ آیت مثل آیت «وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَاهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ» ۱؎ [27-النمل:51،50] ‏‏‏‏ کے ہے یعنی ’ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح کہ انہیں معلوم نہ ہو سکا۔ اب تو خود دیکھ لے کہ ان کے مکر کا انجام کیا ہوا؟ ہم نے انہیں اور ان کی قوم کو غارت کر دیا۔ اللہ سخت پکڑ کرنے والا ہے۔ بہت قوی ہے، پوری قوت وطاقت والا ہے ‘۔
13۔ 1 جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّاُ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ) (بنی اسریئیل۔ 44) ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ 13۔ 2 یعنی اس کے ذریعے جس کو چاہتا ہے، ہلاک کر ڈالتا ہے۔ 13۔ 3 محال۔ کے معنی قوت مواخذہ اور تدبیر وغیرہ کے کیے گئے ہیں یعنی وہ بڑی قوت والا، نہایت مواخذہ کرنے والا اور تدبیر کرنے والا ہے۔
(آیت13) ➊ {وَ يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ …: ” الرَّعْدُ “} یعنی بادل کی گرج، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال قدرت، جلال اور عظمت کے بیان کے لیے بادل کی گرج، گرنے والی بجلیوں اور ان کی کڑک کا ذکر فرمایا۔ یہ اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر کمی اور ہر عیب سے پاک اور ہر کمال اور ہر خوبی کا مالک ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف کی وجہ سے تسبیح و تحمید کرتے ہیں، بلکہ کائنات کی ہر چیز کا یہی وظیفہ ہے، فرمایا: «{ وَ اِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ}» [ بنی إسرائیل: ۴۴ ] ”اور کوئی بھی چیز نہیں مگر اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور لیکن تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔“ قرآن مجید میں کئی چیزوں کا صاحب احساس ہونا اور بولنا مذکور ہے، جنھیں ہم بے زبان سمجھتے ہیں۔ سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں چیونٹی کی بات اور سلیمان علیہ السلام کا اسے سمجھنا، اسی طرح ہدہد سے ان کی گفتگو سورۂ نمل میں مذکور ہے۔ سورۂ بقرہ میں پتھروں کا اللہ کے خوف سے گرنا، پھٹ جانا اور ان سے پانی بہ نکلنا مذکور ہے۔ جہنم اور جنت کی گفتگو قرآن وحدیث میں آئی ہے اور اب تو سائنس نے نباتات میں شعور و احساس تجربے سے ثابت کیا ہے۔ کفار کے مرنے پر آسمان و زمین کا نہ رونا سورۂ دخان (۲۹) میں ہے۔ پرندوں اور پہاڑوں کا داؤد علیہ السلام کے ساتھ مل کر صبح و شام تسبیح کا ذکر کرنا سورۂ ص (۱۸، ۱۹) میں ہے۔ {” الرَّعْدُ “} کے متعلق چند احادیث معروف ہیں۔ ایک لمبی روایت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے، جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا: {” الرَّعْدُ “} فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے جو بادل پر مقرر ہے، اس کے ہاتھ میں آگ کا کوڑا ہے، جس کے ساتھ وہ بادل کو ہانکتا ہے اور جو آواز اس سے سنائی دیتی ہے وہ اس کے بادل کو ہانکنے کی آواز ہے، جب وہ اسے ہانکتا ہے یہاں تک کہ وہ اس جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں وہ اسے حکم دیتا ہے۔“ یہ حدیث ترمذی (۳۱۱۷)، مسند احمد (۱؍۲۷۴، ح: ۲۴۸۷) اور سنن کبریٰ للنسائی (۶؍۳۳۶، ح: ۹۰۷۲) وغیرہ میں ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے سلسلہ صحیحہ (۴؍۴۹۱، ح: ۱۸۷۲) میں ذکر فرمایا ہے اور لمبی بحث کے بعد فرمایا ہے کہ میرے نزدیک یہ حدیث کم از کم حسن ضرور ہے۔ البتہ مسند احمد کی تخریج میں شعیب ارنؤوط نے ابن عباس رضی اللہ عنھما کی اس لمبی حدیث کو حسن کہا ہے، مگر اس کے اس رعد والے حصے کو منکر کہا ہے۔ (واللہ اعلم) اگر کوئی کہے کہ سائنس تو اسے بادل کے ٹکڑوں کی رگڑ کا نتیجہ قرار دیتی ہے تو اسے کہیں کہ یہ بات حدیث کے خلاف نہیں، وہ رگڑ بھی تو کسی کے حکم سے بادلوں کے چلنے کے نتیجے ہی میں پیدا ہوتی ہے۔ کائنات کی کوئی بھی چیز خود بخود نہیں چل رہی۔ قبیلہ بنو غفار کے ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنْشِئُ السَّحَابَ فَيَنْطِقُ أَحْسَنَ النُّطْقِ وَيَضْحَكُ أَحْسَنَ الضَّحْكِ ] [ السلسلۃ الصحیحۃ: 409/2، ح: ۱۶۶۵ ] ”اللہ تعالیٰ بادل کو پیدا کرتا ہے تو وہ بولتا ہے، بہترین بولنا اور ہنستا ہے، بہترین ہنسنا۔“ شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیحہ میں اسے مسند احمد اور کئی کتب حدیث کے حوالے سے ذکر کرکے اس کی سند کو صحیح کہا اور شعیب ارنؤوط نے بھی مسند احمد (۳۹؍۹۱، ۹۲، ح: ۲۳۶۸۶) میں اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ گرج اور چمک بادل ہی کی گفتگو اور اسی کا ہنسنا ہے۔ رہی یہ بات کہ ”رعد“ فرشتے کی آواز ہے یا بادل کی گفتگو، تو حقیقت یہ ہے کہ دونوں باتیں ہی درست ہیں، ان میں کوئی تضاد نہیں۔ ➋ {وَ يُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ …:} مفردات راغب میں ہے کہ ”صاعقہ“ تین معنوں میں آتا ہے: (1) موت، جیسے: «{فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِي الْاَرْضِ }» [ الزمر: ۶۸ ] (2) عذاب، جیسے: «{ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ }» [ حٰمٓ السجدۃ: ۱۳ ] (3) آگ، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ يُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ }» ‏‏‏‏ [ الرعد: ۱۳ ] کیونکہ صاعقہ کا معنی فضا میں پیدا ہونے والی نہایت سخت آواز (بجلی کی کڑک) ہے، پھر اس کے نتیجے میں مذکورہ تین چیزوں میں سے کوئی بھی چیز واقع ہو سکتی ہے، گویا حقیقت میں صاعقہ ایک ہی چیز ہے، باقی اس کے اثرات ہیں۔ صاعقہ کے ساتھ نکلنے والی بجلی کی چمک نہایت تیز ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کڑکنے والی بجلیوں کو بھیجتا ہے، پھر جن پر چاہتا ہے بجلی گرا دیتا ہے، جبکہ وہ بے فکر ہو کر اللہ تعالیٰ کے متعلق جھگڑ رہے ہوتے ہیں۔ ➌ {وَ هُمْ يُجَادِلُوْنَ فِي اللّٰهِ:} یعنی اتنی نشانیاں دیکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑتے ہیں، کبھی اس کے کمال علم و قدرت اور اکیلے معبود ہونے کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ دوبارہ زندہ کیسے کرے گا اور کبھی اس کے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور کبھی اس کے عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں۔ ➍ { وَ هُوَ شَدِيْدُ الْمِحَالِ:} امام راغب نے {” الْمِحَالِ “} کا مادہ {” مَحْلٌ “} بتایا ہے اور {” شَدِيْدُ الْمِحَالِ “} کا معنی کیا ہے: {”شَدِيْدُ الْأَخْذِ بِالْعُقُوْبَةِ“ } یعنی وہ سزا دینے میں سخت گرفت والا ہے۔ امام راغب ہی نے بعض اہل علم کا قول لکھا ہے کہ اس کا مادہ {”حَوْلٌ“} ہے، بمعنی {” قُوَّةٌ “} یعنی وہ بہت سخت قوت والا ہے۔ اس صورت میں میم زائد ہے۔
لَہٗ دَعۡوَۃُ الۡحَقِّ ؕ وَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ لَا یَسۡتَجِیۡبُوۡنَ لَہُمۡ بِشَیۡءٍ اِلَّا کَبَاسِطِ کَفَّیۡہِ اِلَی الۡمَآءِ لِیَبۡلُغَ فَاہُ وَ مَا ہُوَ بِبَالِغِہٖ ؕ وَ مَا دُعَآءُ الۡکٰفِرِیۡنَ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ ﴿۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اسی کو پکارنا برحق ہے رہیں وہ دوسری ہستیاں جنہیں اس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں، وہ اُن کی دعاؤں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں اُنہیں پکارنا تو ایسا ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر اُس سے درخواست کرے کہ تو میرے منہ تک پہنچ جا، حالانکہ پانی اُس تک پہنچنے والا نہیں بس اِسی طرح کافروں کی دعائیں بھی کچھ نہیں ہیں مگر ایک تیر بے ہدف!
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی کو پکارنا حق ہے۔ جو لوگ اوروں کو اس کے سوا پکارتے ہیں وه ان (کی پکار) کا کچھ بھی جواب نہیں دیتے مگر جیسے کوئی شخص اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے ہوئے ہو کہ اس کے منھ میں پڑ جائے حاﻻنکہ وه پانی اس کے منھ میں پہنچنے واﻻ نہیں، ان منکروں کی جتنی پکار ہے سب گمراہی میں ہے
احمد رضا خان بریلوی
اسی کا پکارنا سچا ہے اور اُس کے سوا جن کو پکارتے ہیں وہ ان کی کچھ بھی نہیں سنتے مگر اس کی طرح جو پانی کے سامنے اپنی ہتھیلیاں پھیلائے بیٹھا ہے کہ اس کے منہ میں پہنچ جائے اور وہ ہرگز نہ پہنچے گا، اور کافروں کی ہر دعا بھٹکتی پھرتی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(تکلیف کے وقت) اسی کو پکارنا برحق ہے اور اسے چھوڑ کر جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ انہیں کچھ بھی جواب نہیں دے سکتے ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی (پیاسا) اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے کہ وہ (پانی) اس کے منہ تک پہنچ جائے حالانکہ وہ اس تک پہنچنے والا نہیں ہے اور کافروں کی دعا و پکار گمراہی میں بھٹکتی پھرتی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
برحق پکارنا صرف اسی کے لیے ہے اور جن کو وہ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی دعا کچھ بھی قبول نہیں کرتے، مگراس شخص کی طرح جو اپنی دونوں ہتھیلیاں پانی کی طرف پھیلانے والا ہے، تاکہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے، حالانکہ وہ اس تک ہرگز پہنچنے والا نہیں اور نہیں ہے کافروں کا پکارنا مگر سراسر بے سود۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دعوت حق ٭٭

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اللہ کے لیے دعوت حق ہے، اس سے مراد توحید ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:364/7:] ‏‏‏‏ محمد بن منکدر کہتے ہیں مراد «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» ہے۔ پھر مشرکوں کافروں کی مثال بیان ہوئی کہ ’ جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلائے ہوئے ہو کہ اس کے منہ میں خودبخود پہنچ جائے تو ایسا نہیں ہونے کا۔ اسی طرح یہ کفار جنہیں پکارتے ہیں اور جن سے امیدیں رکھتے ہیں، وہ ان کی امیدیں پوری نہیں کرنے کے ‘۔ اور یہ مطلب بھی ہے کہ ’ جیسے کوئی اپنی مٹھیوں میں پانی بند کرلے تو وہ رہنے کا نہیں ‘۔ پس باسط قابض کے معنی میں ہے۔ عربی شعر میں «فَإِنِّي وَإيَّاكُمْ وَشَوْقًا إِلَيْكُمُ كَقَابِضِ مَاءٍ لَمْ تَسْقِهِ أَنَامِلُهُ» «فَأَصْبَحْتُ ممَّا كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهَا» «مِنَ الوُدِّ مِثْلَ الْقَابِضِ الْمَاءَ بِالْيَدِ» بھی «قَابِضِ الْمَاءَ» آیا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:364/7:] ‏‏‏‏ پس جیسے پانی مٹھی میں روکنے والا اور جیسے پانی کی طرف ہاتھ پھیلانے والا پانی سے محروم ہے، ایسے ہی یہ مشرک اللہ کے سوا دوسروں کو گو پکاریں لیکن رہیں گے محروم ہی دین دنیا کا کوئی فائدہ انہیں نہ پہنچے گا۔ ان کی پکار بےسود ہے۔
14۔ 1 یعنی خوف اور امید کے وقت اسی ایک اللہ کو پکارنا صحیح ہے کیونکہ وہی ہر ایک کی پکار سنتا ہے اور قبول فرماتا ہے یا دعوت۔ عبادت کے معنی میں ہے یعنی، اسی کی عبادت حق اور صحیح ہے اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں، کیونکہ کائنات کا خالق، مالک اور مدبر صرف وہی ہے اس لئے عبادت صرف اسی کا حق ہے۔ 14۔ 2 یعنی جو اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو مدد کے لئے پکارتا ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص دور سے پانی کی طرف اپنی دونوں ہتھلیاں پھیلا کر پانی سے کہے کہ میرے منہ تک آجا، ظاہر بات ہے کہ پانی جامد چیز ہے، اسے پتہ ہی نہیں کہ ہتھیلیاں پھیلانے والے کی حاجت کیا ہے، اور نہ اسے پتہ ہے کہ وہ مجھ سے اپنے منہ تک پہنچنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اور نہ اس میں یہ قدرت ہے کہ اپنی جگہ سے حرکت کر کے اس کے ہاتھ یا منہ تک پہنچ جائے اسی طرح یہ مشرک اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انھیں نہ یہ پتہ ہے کہ کوئی انھیں پکار رہا ہے اور اس کی فلاں حاجت ہے اور نہ اس حاجت روائی کی ان میں قدرت ہی ہے۔ 14۔ 3 اور بےفائدہ بھی ہے، کیونکہ اس سے ان کو کئی نفع نہیں ہوگا۔
(آیت14) ➊ {لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ:} یہاں موصوف اپنی صفت کی طرف مضاف ہے، یعنی سچا اور برحق پکارنا صرف اسی کو پکارنا ہے، دوسرے کسی کو بھی پکارنا باطل ہے۔ کیونکہ دور و نزدیک سے ہر ایک کی پکار سنتا بھی وہی ہے، ہر ایک کے احوال سے واقف بھی وہی ہے اور ہر ایک کی حاجت پوری کرنے کی قدرت بھی صرف وہی رکھتا ہے، کسی اور میں ان صفات میں سے کوئی صفت بھی نہیں۔ ➋ {وَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ …: ” يَدْعُوْنَ “} کی ضمیر مشرکین کے لیے ہے، یعنی اللہ کے سوا کسی کو بھی پکارنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے تاکہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے، اب پانی نہ اس کی بات سنتا ہے، نہ سمجھتا ہے اور نہ یہ طاقت رکھتا ہے کہ خود بخود اس کے منہ تک پہنچ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر ان خود ساختہ خداؤں کی بے بضاعتی اور بے بسی بڑی تفصیل سے بیان فرمائی۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۹۱ تا ۱۹۸)، سبا (۲۲)، فاطر (۱۳، ۱۴)، احقاف (۵) اور حج (۷۳) قارئین سے درخواست ہے کہ وہ یہ مقامات نکال کر ترجمہ ضرور پڑھیں، ان شاء اللہ توحید کی ٹھنڈک دل میں محسوس کریں گے۔ ➌ { وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ:} یعنی کافروں کا غیر اللہ کو پکارنا سراسر بے سود ہے، جس سے کچھ حاصل نہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”کافر جن کو پکارتے ہیں بعض محض خیال ہیں، بعض جن اور بعض ایسی چیزیں ہیں کہ ان میں کچھ خواص ہیں، لیکن وہ اپنے خواص کی مالک نہیں، پھر ان کے پکارنے سے کیا حاصل۔ جیسے آگ یا پانی اور شاید ستارے بھی اسی قسم میں ہوں، یہ اس کی مثال فرمائی۔“ (موضح) اس کی مختصر سی تفصیل سمجھ لیں کہ فرشتے ہر وقت ہمارے ساتھ ہیں، سنتے بھی ہیں، طاقت بھی رکھتے ہیں مگر وہ اللہ کے اذن کے بغیر کچھ بھی نہ کر سکتے ہیں اور نہ کرتے ہیں۔ تو انھیں پکارنا ایسے ہی ہے جیسے پانی کو اشارے سے یا زبان سے کہا جائے کہ وہ منہ میں آ جائے، حالانکہ اس میں یہ قدرت ہی نہیں اور بالفرض ہو بھی تو وہ یہ اختیار نہیں رکھتا۔
وَ لِلّٰہِ یَسۡجُدُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّ کَرۡہًا وَّ ظِلٰلُہُمۡ بِالۡغُدُوِّ وَ الۡاٰصَالِ ﴿ٛ۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ تو اللہ ہی ہے جس کو زمین و آسمان کی ہر چیز طوعاً و کرہاً سجدہ کر رہی ہے اور سب چیزوں کے سائے صبح و شام اُس کے آگے جھکتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ ہی کے لئے زمین اور آسمانوں کی سب مخلوق خوشی اور ناخوشی سے سجده کرتی ہے اور ان کے سائے بھی صبح وشام
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں خوشی سے خواہ مجبوری سے اور ان کی پرچھائیاں ہر صبح و شام السجدة ۔۲
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو آسمانوں اور زمینوں میں ہیں وہ سب خوشی یا ناخوشی سے اللہ کو ہی سجدہ کر رہے ہیں اور ان کے سائے بھی صبح و شام (اسی کو سجدہ کناں ہیں)۔
عبدالسلام بن محمد
اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے اللہ ہی کو سجدہ کر رہا ہے، خوشی اور ناخوشی سے اور ان کے سائے بھی پہلے اور پچھلے پہر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عظمت وسطوت الہٰی ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی عظمت وسلطنت کو بیان فرما رہا ہے کہ ’ ہر چیز اس کے سامنے پست ہے اور ہر ایک اس کی سرکار میں اپنی عاجزی کا اظہار کرتی ہے۔ مومن خوشی سے اور کافر بزور اس کے سامنے سجدہ میں ہے۔ ان کی پرچھائیں صبح شام اس کے سامنے جھکتی رہتی ہے ‘۔ «اصال» جمع ہے «اصیل» کی۔ اور آیت میں بھی اس کا بیان ہوا ہے۔ فرمان ہے آیت «اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ» ۱؎ [16-النحل:48] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ تمام مخلوق اللہ کے سامنے دائیں بائیں جھک کر اللہ کو سجدہ کرتے ہیں اور اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں ‘۔
15۔ 1 اس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت وقدرت کا بیان ہے کہ ہر چیز پر اس کا غلبہ ہے اور ہر چیز اس کے ما تحت اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہے، چاہے مومنوں کی طرح خوشی سے کریں یا مشرکوں کی طرح ناخوشی سے۔ اور ان کے سائے بھی صبح و شام سجدہ کرتے ہیں۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا۔ (اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۗىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ) 16۔ النحل:48) سورة النحل کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے جو چیز بھی پیدا کی ہے ان کے سائے داہنے اور بائیں سے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے ڈھلتے ہیں اور وہ عاجزی کرتے ہیں اس سجدے کی کیفیت کیا ہے؟ یہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے یا دوسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ کافر سمیت تمام مخلوق اللہ کے حکم کے تابع ہے کسی میں اسی سے سرتابی کی مجال نہیں اللہ تعالیٰ کسی کو صحت دے بیمار کرے غنی کر دے یا فقیر بنا دے زندگی دے یا موت سے ہمکنار کرے ان تکوینی احکام میں کسی کافر کو بھی مجال انکار نہیں۔
(آیت15) ➊ {وَ لِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ …:} سجدے کا معنی ہے جسم کے سب سے اونچے اور باعزت حصے کو کسی کے سامنے نیچے سے نیچا لے جا کر اس کے سامنے اپنی انتہائی عاجزی کا اظہار کرنا۔ تو کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے سامنے اسی طرح اپنی عاجزی اور بے بسی کا اظہار کر رہی ہے۔ اس میں مسلمان اور کافر کا کوئی فرق نہیں، ہاں انسان کو تھوڑا سا اختیار جنت یا جہنم کے راستے پر چلنے کا دیا ہے، اس کے علاوہ اللہ کے سامنے نہ چاہتے ہوئے بھی ہر طرح سجدہ ریز ہے اور اللہ تعالیٰ کے اختیار کے مقابلے میں اپنے آپ پر اس کا اختیار ایک فی صد کیا ایک فی ہزار بھی نہیں، اگر کسی کو شک ہے تو ذرا اپنا سانس روک کر دکھائے، بھوک پیاس روک لے، پیشاب یا پاخانہ روک لے، بیماری آئے تو ڈٹ جائے کہ میں بیمار نہیں ہوتا، بڑھاپے کو آنے سے اور بالوں کو سفید ہونے سے روک دے، حرکت قلب بند ہو جائے تو اسے چلا کر دکھائے، گردے فیل ہو جائیں تو چالو کرکے دکھائے، ایک ٹانگ اٹھا سکتا ہے دوسری بھی اٹھا کر دکھائے، موت کے فرشتے کے سامنے اکڑ جائے، غرض ہر عاقل و غیر عاقل اور ان کے سائے خوشی و ناخوشی سے اللہ ہی کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ پھر ایسے بے بس سے فریاد کرنا، کسی کو داتا، کسی کو دستگیر، کسی کو غریب نواز، کسی کو مشکل کشا کہنا کتنی بڑی حماقت ہے۔ یہاں سورۂ حج کی آیت (۱۸) کا ترجمہ و تفسیر بھی ملاحظہ فرما لیں۔ ➋ { وَ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ: } یعنی ان کے سایوں کا گھٹنا اور بڑھنا بھی اسی کے ارادہ و مشیت سے ہے۔ پہلے اور پچھلے پہر کا ذکر اس لیے کیا کہ ان وقتوں میں زمین پر ہر چیز کا سایہ نمایاں ہوتا ہے اور عبادت کے لحاظ سے یہ دونوں عمدہ وقت ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اور پرچھائیاں صبح و شام کے وقت زمین پر پسر (پھیل) جاتی ہیں، یہی ان کا سجدہ ہے۔“ (موضح)
قُلۡ مَنۡ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ قُلِ اللّٰہُ ؕ قُلۡ اَفَاتَّخَذۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ لَا یَمۡلِکُوۡنَ لِاَنۡفُسِہِمۡ نَفۡعًا وَّ لَا ضَرًّا ؕ قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ۬ۙ اَمۡ ہَلۡ تَسۡتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوۡرُ ۬ۚ اَمۡ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ خَلَقُوۡا کَخَلۡقِہٖ فَتَشَابَہَ الۡخَلۡقُ عَلَیۡہِمۡ ؕ قُلِ اللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُوَ الۡوَاحِدُ الۡقَہَّارُ ﴿۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن سے پوچھو، آسمان و زمین کا رب کون ہے؟ کہو، اللہ پھر ان سے کہو کہ جب حقیقت یہ ہے تو کیا تم نے اُسے چھوڑ کر ایسے معبودوں کو اپنا کارساز ٹھیرا لیا جو خود اپنے لیے بھی کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے؟ کہو، کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوا کرتا ہے؟ کیا روشنی اور تاریکیاں یکساں ہوتی ہیں؟ اور اگر ایسا نہیں تو کیا اِن ٹھیرائے ہوئے شریکوں نے بھی اللہ کی طرح کچھ پیدا کیا ہے کہ اُس کی وجہ سے اِن پر تخلیق کا معاملہ مشتبہ ہو گیا؟ کہو، ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے اور وہ یکتا ہے، سب پر غالب!
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے؟ کہہ دیجئے! اللہ۔ کہہ دیجئے! کیا تم پھر بھی اس کے سوا اوروں کو حمایتی بنا رہے ہو جو خود اپنی جان کے بھی بھلے برے کا اختیار نہیں رکھتے۔ کہہ دیجئے کہ کیا اندھا اور بینا برابر ہو سکتا ہے؟ یا کیا اندھیریاں اور روشنی برابر ہو سکتی ہے۔ کیا جنہیں یہ اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہیں انہوں نے بھی اللہ کی طرح مخلوق پیدا کی ہے کہ ان کی نظر میں پیدائش مشتبہ ہوگئی ہو، کہہ دیجئے کہ صرف اللہ ہی تمام چیزوں کا خالق ہے وه اکیلا ہے اور زبردست غالب ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ کون رب ہے آسمانوں اور زمین کا، تم خود ہی فرما ؤ اللہ تم فرما ؤ تو کیا اس کے سوا تم نے وہ حمایتی بنائے ہیں جو اپنا بھلا برا نہیں کرسکتے ہیں تم فرما ؤ کیا برابر ہوجائیں گے اندھا اور انکھیارا (بینا) یا کیا برابر ہوجائیں گی اندھیریاں اور اجالا کیا اللہ کے لیے ایسے شریک ٹھہراتے ہیں جنہوں نے اللہ کی طرح کچھ بنایا تو انہیں ان کا اور اس کا بنانا ایک سا معلوم ہوا تم فرما ؤ اللہ ہر چیز کا بنانے والا ہے اور وہ اکیلا سب پر غالب ہے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول) ان سے کہو (پوچھو) آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے؟ (خود ہی) بتائیے کہ اللہ (نیز) ان سے کہو۔ کیا تم نے اللہ کو چھوڑ کر کچھ کارساز بنا لئے ہیں؟ جو اپنے نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے کہہ دیجئے کہ کیا اندھا اور آنکھوں والا دونوں برابر ہیں اور کیا نور و ظلمت (اندھیرا اور اجالا) یکساں ہیں؟ کیا ان لوگوں نے اللہ کے کچھ ایسے شریک بنائے ہیں جنہوں نے اللہ کی طرح کچھ مخلوق خلق کی ہے؟ جس کی وجہ سے تخلیق کا یہ معاملہ ان پر مشتبہ ہوگیا ہے؟ کہہ دیجیئے کہ ہر چیز کا خالق اللہ ہی ہے وہ یگانہ ہے اور سب پر غالب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ آسمانوں اور زمین کا رب کون ہے؟ کہہ دے اللہ۔ کہہ پھر کیا تم نے اس کے سوا کچھ کارساز بنا رکھے ہیں جو اپنی جانوں کے لیے نہ کسی نفع کے مالک ہیں اور نہ نقصان کے؟ کہہ دے کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہوتے ہیں؟ یا کیا اندھیرے اور روشنی برابر ہوتے ہیں؟ یا انھوںنے اللہ کے لیے کچھ شریک بنا لیے ہیں جنھوں نے اس کے پیدا کرنے کی طرح پیدا کیا ہے، تو پیدائش ان پر گڈمڈ ہو گئی ہے؟ کہہ دے اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی ایک ہے، نہایت زبردست ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اندھیرا اور روشنی ٭٭

اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں۔ یہ مشرکین بھی اس کے قائل ہیں کہ زمین و آسمان کا رب اور مدبر اللہ ہی ہے۔ اس کے باوجود دوسرے اولیاء کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ وہ سب عاجز بندے ہیں۔ ان کے تو کیا، خود اپنے بھی نفع نقصان کا انہیں کوئی اختیار نہیں۔ پس یہ اور اللہ کے عابد یکساں نہیں ہو سکتے۔ یہ تو اندھیروں میں ہیں اور بندہ رب نور میں ہے۔ جتنا فرق اندھے میں اور دیکھنے والے میں ہے، جتنا فرق اندھیروں اور روشنی میں ہے اتنا ہی فرق ان دونوں میں ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ کیا ان مشرکین کے مقرر کردہ شریک اللہ ان کے نزدیک کسی چیز کے خالق ہیں؟ کہ ان پر تمیز مشکل ہوگئی کہ کس چیز کا خالق اللہ ہے؟ اور کس چیز کے خالق ان کے معبود ہیں؟ حالانکہ ایسا نہیں اللہ کے مشابہ اس جیسا اس کے برابر کا اور اس کی مثل کا کوئی نہیں ‘۔ وہ وزیر سے، شریک سے، اولاد سے، بیوی سے، پاک ہے اور ان سب سے اس کی ذات بلند و بالا ہے۔ یہ تو مشرکین کی پوری بیوقوفی ہے کہ اپنے چھوٹے معبودوں کو اللہ کا پیدا کیا ہوا، اس کی مملوک سمجھتے ہوئے پھر بھی ان کی پوجا پاٹ میں لگے ہوئے ہیں۔ لبیک پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”یا اللہ ہم حاضر ہوئے تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ شریک کہ وہ خود تیری ملکیت میں ہے اور جس چیز کا وہ مالک ہے، وہ بھی دراصل تیری ہی ملکیت ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح مسلم:1185] ‏‏‏‏

قرآن نے اور جگہ ان کا مقولہ بیان فرمایا ہے کہ «مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى» ۱؎ [39-الزمر:3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم تو ان کی عبادت صرف اس لالچ میں کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں ‘۔ ان کے اس اعتقاد کی رگ گردن توڑتے ہوئے ارشاد ربانی ہوا کہ «وَلَا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ عِندَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ» ۱؎ [34-سبأ:23] ‏‏‏‏ ’ اس کے پاس کوئی بھی اس کی اجازت بغیر لب نہیں ہلا سکتا۔ آسمانوں کے فرشتے بھی شفاعت اس کی اجازت بغیر کر نہیں سکتے ‘۔ سورۃ مریم میں فرمایا «إِن كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» ۱؎ [19-مريم:93-95] ‏‏‏‏ ’ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اللہ کے سامنے غلام بن کر آنے والی ہے، سب اس کی نگاہ میں اور اس کی گنتی میں ہیں اور ہر ایک تنہا تنہا اس کے سامنے قیامت کے دن حاضری دینے والا ہے ‘۔ پس جبکہ سب کے سب بندے اور غلام ہونے کی حیثیت میں یکساں ہیں پھر ایک کا دوسرے کی عبادت کرنا بڑی حماقت اور کھلی بے انصافی نہیں تو اور کیا ہے؟ پھر اس نے رسولوں کا سلسلہ شروع دنیا سے جاری رکھا۔ ہر ایک نے لوگوں کو سبق یہ دیا کہ اللہ ایک ہی عبادت کے لائق ہے۔ اس کے سوا کوئی اور عبادت کے لائق نہیں لیکن انہوں نے نہ اپنے اقرار کا پاس کیا نہ رسولوں کی متفقہ تعلیم کا لحاظ کیا، بلکہ مخالفت کی، رسولوں کو جھٹلایا تو کلمہ عذاب ان پر صادق آ گیا۔ «وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:49] ‏‏‏‏ ’ یہ رب کا ظلم نہیں ‘۔
16۔ 1 یہاں تو پیغمبر کی زبان سے اقرار ہے۔ لیکن قرآن کے دوسرے مقامات سے واضح ہے کہ مشرکین کا جواب بھی یہی ہوتا تھا۔ 16۔ 2 یعنی جب تمہیں اقرار و اعتراف ہے کہ آسمان و زمین کا رب اللہ ہے جو تمام اختیارات کا بلا شرکت غیر مالک ہے پھر تم اسے چھوڑ کر ایسوں کو کیوں دوست اور حمائتی سمجھتے ہو جو اپنی بابت بھی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ 16۔ 3 یعنی جس طرح اندھا اور بینا برابر نہیں ہوسکتے اسی طرح موحد اور مشرک برابر نہیں ہوسکتے اس لئے کہ موحد توحید کی بصیرت سے معمور ہے جب کہ مشرک اس سے محروم ہے۔ موحد کی آنکھیں ہیں، وہ توحید کا نور دیکھتا ہے اور مشرک کو یہ نور توحید نظر نہیں آتا، اس لئے وہ اندھا ہے۔ اسی طرح، جس طرح اندھیریاں اور روشنی برابر نہیں ہوسکتی۔ ایک اللہ کا پجاری، جس کا دل نورانیت سے بھرا ہوا ہے، اور ایک مشرک، جو جہالت و توہمات کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہے، برابر نہیں ہوسکتے۔ 16۔ 4 یعنی ایسی بات نہیں ہے کہ یہ کسی شبے کا شکار ہوگئے ہوں بلکہ یہ مانتے ہیں کہ ہر چیز کا خالق صرف اور صرف اللہ ہی ہے۔
(آیت16) ➊ {قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …:} یعنی اگر ایسا ہوتا کہ دنیا میں کچھ چیزیں تو اللہ نے پیدا کی ہوتیں اور کچھ دوسروں نے، یا بعض کی پرورش اور روزی کا سامان کرنے والا رب اللہ تعالیٰ ہوتا اور بعض کا کوئی دوسرا، یا کسی نفع نقصان کا مالک اللہ تعالیٰ ہوتا اور کسی کا مالک دوسرا، تب تو ان مشرکوں کے شرک کی کوئی بنیاد ہو سکتی تھی کہ یہ بھی خالق ہونے کی وجہ سے مستحق عبادت ہیں، مگر جب یہ خود مانتے ہیں کہ زمین و آسمان کی ہر چیز پیدا کرنے والا اللہ اور صرف اللہ ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک قرار دیں۔ ➋ { قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَ الْبَصِيْرُ …:} یہ مشرک اور موحد کی مثال ہے، کیونکہ موحد دیکھنے والی آنکھ، سوچنے والا دل رکھتا ہے، جبکہ مشرک بصارت اور بصیرت دونوں سے خالی سر ا سر اندھا ہے۔ موحد نور توحید سے روشن ہوتا ہے، جبکہ مشرک ایک نہیں ہزاروں اندھیروں میں ہے۔ نور کو واحد اور ظلمات کو جمع لائے، کیونکہ ہدایت اور سیدھا راستہ ایک اور گمراہی کے راستے بے شمار ہیں۔ ➌ {وَ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ:} وہی ہے جو ایک ہے، سب پر غالب ہے، کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتۡ اَوۡدِیَۃٌۢ بِقَدَرِہَا فَاحۡتَمَلَ السَّیۡلُ زَبَدًا رَّابِیًا ؕ وَ مِمَّا یُوۡقِدُوۡنَ عَلَیۡہِ فِی النَّارِ ابۡتِغَآءَ حِلۡیَۃٍ اَوۡ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثۡلُہٗ ؕ کَذٰلِکَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡحَقَّ وَ الۡبَاطِلَ ۬ؕ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذۡہَبُ جُفَآءً ۚ وَ اَمَّا مَا یَنۡفَعُ النَّاسَ فَیَمۡکُثُ فِی الۡاَرۡضِ ؕ کَذٰلِکَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡاَمۡثَالَ ﴿ؕ۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور ہر ندی نالہ اپنے ظرف کے مطابق اسے لے کر چل نکلا پھر جب سیلاب اٹھا تو سطح پر جھاگ بھی آ گئے اور ویسے ہی جھاگ اُن دھاتوں پر بھی اٹھتے ہیں جنہیں زیور اور برتن وغیرہ بنانے کے لیے لوگ پگھلایا کرتے ہیں اِسی مثال سے اللہ حق اور باطل کے معاملے کو واضح کرتا ہے جو جھاگ ہے وہ اڑ جایا کرتا ہے اور جو چیز انسانوں کے لیے نافع ہے وہ زمین میں ٹھیر جاتی ہے اس طرح اللہ مثالوں سے اپنی بات سمجھاتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی نے آسمان سے پانی برسایا پھر اپنی اپنی وسعت کے مطابق نالے بہہ نکلے۔ پھر پانی کے ریلے نے اوپر چڑھے جھاگ کو اٹھا لیا، اور اس چیز میں بھی جس کو آگ میں ڈال کر تپاتے ہیں زیور یا ساز وسامان کے لئے اسی طرح کے جھاگ ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ حق وباطل کی مثال بیان فرماتا ہے، اب جھاگ تو ناکاره ہو کر چلا جاتا ہے لیکن جو لوگوں کو نفع دینے والی چیز ہے وه زمین میں ٹھہری رہتی ہے، اللہ تعالیٰ اسی طرح مثالیں بیان فرماتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اس نے آسمان سے پانی اتارا تو نالے اپنے اپنے لائق بہہ نکلے تو پانی کی رو اس پر ابھرے ہوئے جھاگ اٹھا لائی، اور جس پر آگ دہکاتے ہیں گہنا یا اور اسباب بنانے کو اس سے بھی ویسے ہی جھاگ اٹھتے ہیں اللہ بتاتا ہے کہ حق و باطل کی یہی مثال ہے، تو جھاگ تو پھک (جل) کر دور ہوجاتا ہے، اور وہ جو لوگوں کے کام آئے زمین میں رہتا ہے اللہ یوں ہی مثالیں بیان فرماتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اسی (اللہ) نے آسمان سے پانی برسایا جس سے ندی نالے اپنی مقدار کے مطابق بہنے لگے اور (میل کچیل سے جھاگ اٹھا تو) سیلاب کی رو نے اس ابھرے ہوئے جھاگ کو اٹھا لیا اور جن چیزوں (دھاتوں) کو لوگ زیور یا کوئی اور چیز (برتن وغیرہ) بنانے کے لیے آگ کے اندر تپاتے ہیں ان سے بھی ایسا ہی جھاگ اٹھتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ حق و باطل کی مثال بیان کرتا ہے پس جو جھاگ ہے وہ تو رائیگاں چلا جاتا ہے اور جو چیز (پانی اور دھات) لوگوں کو فائدہ پہنچاتی ہے وہ زمین میں باقی رہ جاتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ سمجھانے کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے آسمان سے کچھ پانی اتارا تو کئی نالے اپنی اپنی وسعت کے مطابق بہ نکلے، پھر اس ریلے نے ابھرا ہوا جھاگ اٹھا لیا۔ اور جن چیزوں کو کوئی زیور یا سامان بنانے کی غرض سے آگ پر تپاتے ہیں ان سے بھی اسی طرح کا جھاگ (ابھرتا) ہے۔ اسی طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے، پھر جو جھاگ ہے سو بے کار چلا جاتا ہے اور رہی وہ چیز جو لوگوں کو نفع دیتی ہے، سو زمین میں رہ جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ مثالیں بیان کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
باطل بےثبات ہے ٭٭

حق وباطل کے فرق، حق کی پائیداری اور باطل کی بے ثباتی کی یہ دو مثالیں بیان فرمائیں۔ ارشاد ہوا کہ ’ اللہ تعالیٰ بادلوں سے مینہ برساتا ہے، چشموں دریاؤں نالیوں وغیرہ کے ذریعے برسات کا پانی بہنے لگتا ہے۔ کسی میں کم، کسی میں زیادہ، کوئی چھوٹی، کوئی بڑی۔ یہ دلوں کی مثال ہے اور ان کے تفاوت کی۔ کوئی آسمانی علم بہت زیادہ حاصل کرتا ہے کوئی کم۔ پھر پانی کی اس رو پر جھاگ تیرنے لگتا ہے ‘۔ ایک مثال تو یہ ہوئی۔ دوسری مثال سونے چاندی لوہے تانبے کی ہے کہ ’ اسے آگ میں تپایا جاتا ہے سونے چاندی زیور کے لیے لوہا تانبا برتن بھانڈے وغیرہ کے لیے ان میں بھی جھاگ ہوتے ہیں تو جیسے ان دونوں چیزوں کے جھاگ مٹ جاتے ہیں، اسی طرح باطل جو کبھی حق پر چھا جاتا ہے، آخر چھٹ جاتا ہے اور حق نتھر آتا ہے ‘۔ جیسے پانی نتھر کر صاف ہو کر رہ جاتا ہے اور جیسے چاندی سونا وغیرہ تپا کر کھوٹ سے الگ کر لیے جاتے ہیں۔ اب سونے چاندی پانی وغیرہ سے تو دنیا نفع اٹھاتی رہتی ہے اور ان پر جو کھوٹ اور جھاگ آ گیا تھا، اس کا نام و نشان بھی نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے سمجھانے کے لیے کتنی صاف صاف مثالیں بیان فرما رہا ہے کہ سوچیں سمجھیں۔ جیسے فرمایا ہے کہ «وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ» ۱؎ [29-العنکبوت:43] ‏‏‏‏ ’ ہم یہ مثالیں لوگوں کے سامنے بیان فرماتے ہیں لیکن اسے علماء خوب سمجھتے ہیں ‘۔ بعض سلف کی سمجھ میں جو کوئی مثال نہیں آتی تھی تو وہ رونے لگتے تھے کیونکہ انہیں نہ سمجھنا علم سے خالی لوگوں کا وصف ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”پہلی مثال میں بیان ہے ان لوگوں کا جن کے دل یقین کے ساتھ علم الٰہی کے حامل ہوتے ہیں اور بعض دل وہ بھی ہیں، جن میں رشک باقی رہ جاتا ہے پس شک کے ساتھ کا علم بےسود ہوتا ہے۔ یقین پورا فائدہ دیتا ہے۔‏‏‏‏“ ابد سے مراد شک ہے جو کمتر چیز ہے، یقین کار آمد چیز ہے، جو باقی رہنے والی ہے۔ جیسے زیور جو آگ میں تپایا جاتا ہے تو کھوٹ جل جاتا ہے اور کھری چیز رہ جاتی ہے، اسی طرح اللہ کے ہاں یقین مقبول ہے شک مردود ہے۔ پس جس طرح پانی رہ گیا اور پینے وغیرہ کے کام آیا اور جس طرح سونا چاندی اصلی رہ گیا اور اس کے سازو سامان بنے، اسی طرح نیک اور خالص اعمال عامل کو نفع دیتے ہیں اور باقی رہتے ہیں۔ ہدایت وحق پر جو عامل رہے، وہ نفع پاتا ہے۔ جیسے لوہے کی چھری تلوار بغیر تپائے بن نہیں سکتی۔ اسی طرح باطل، شک اور ریاکاری والے اعمال اللہ کے ہاں کار آمد نہیں ہو سکتے۔ قیامت کے دن باطل ضائع ہو جائے گا۔ اور اہل حق کو حق نفع دے گا۔

سورۃ البقرہ کے شروع میں منافقوں کی دو مثالیں اللہ رب العزت نے بیان فرمائیں «مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [2-البقرة:17] ‏‏‏‏ ’ ان کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جس نے (‏‏‏‏شبِ تاریک میں)‏‏‏‏‏‏‏‏ آگ جلائی ‘۔ «‏‏‏‏أَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِيهِ ظُلُمَاتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ» ۱؎ [2-البقرة:19] ‏‏‏‏ ’ یا ان کی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے (‏‏‏‏برس رہا ہو) ‘۔ ایک پانی کی ایک آگ کی۔ سورۃ النور میں کافروں کی دو مثالیں بیان فرمائیں۔ «وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً» ۱؎ [24-النور:39] ‏‏‏‏ ایک سراب یعنی ریت کی، دوسری «أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُّجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ سَحَابٌ» ۱؎ [24-النور:40] ‏‏‏‏ ’ سمندر کی تہہ کے اندھیروں کی ‘۔ ریت کا میدان موسم گرما میں دور سے بالکل لہریں لیتا ہوا دریا کا پانی معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { قیامت کے دن یہودیوں سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا مانگتے ہو؟ کہیں گے پیاسے ہو رہے ہیں، پانی چاہیئے تو ان سے کہا جائے گا کہ پھر جاتے کیوں نہیں ہو؟ چنانچہ جہنم انہیں ایسی نظر آئے گی جیسے دنیا میں ریتیلے میدان }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:183] ‏‏‏‏ دوسری آیت میں فرمایا «أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُّجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ سَحَابٌ» ۱؎ [24-النور:40] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { جس ہدایت وعلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے اس کی مثال اس بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی۔ زمین کے ایک حصہ نے تو پانی کو قبول کیا، گھاس چارہ بکثرت آ گیا۔ بعض زمین جاذب تھی، اس نے پانی کو روک لیا پس اللہ نے اس سے بھی لوگوں کو نفع پہنچایا۔ پانی ان کے پینے کے، پلانے کے، کھیت کے کام آیا اور جو ٹکڑا زمین کا سنگلاخ اور سخت تھا نہ اس میں پانی ٹھہرا نہ وہاں کچھ پیداوار ہوئی۔ پس یہ اس کی مثال ہے جس نے دین میں سمجھ حاصل کی اور میری بعثت سے اللہ نے اسے فائدہ پہنچایا اس نے خود علم سیکھا دوسروں کو سکھایا اور مثال ہے اس کی جس نے اس کے لیے سر بھی نہ اٹھایا اور نہ اللہ کی وہ ہدایت قبول کی جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں۔ پس وہ سنگلاخ زمین کی مثل ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:79] ‏‏‏‏ ایک اور حدیث میں ہے { میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ جلائی جب آگ نے اپنے آس پاس کی چیزیں روشن کر دیں تو پتنگے اور پروانے وغیرہ کیڑے اس میں گر گر کر جان دینے لگے وہ انہیں ہر چند روکتا ہے لیکن بس پھر بھی وہ برابر گر رہے ہیں بالکل یہی مثال میری اور تمہاری ہے کہ میں تمہاری کمر پکڑ پکڑ کر تمہیں روکتا ہوں اور کہہ رہا ہوں کہ آگ سے پرے ہٹو لیکن تم میری نہیں سنتے، نہیں مانتے، مجھ سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گرے چلے جاتے ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3426] ‏‏‏‏ پس حدیث میں بھی پانی اور آگ کی دونوں مثالیں آ چکی ہیں۔
17۔ 1 بقدرھا وسعت کے مطابق کا مطلب ہے نالے یعنی وادی دو پہاڑوں کے درمیان کی جگہ تنگ ہو تو کم پانی کشادہ ہو تو زیادہ پانی اٹھاتی ہے یعنی نزول قرآن کو جو ہدایت اور بیان کا جاع ہے بارش کے نزول سے تشبیہ دی ہے اس لیے کہ قرآن کا نفع بھی بارش کے نفع کی طرح عام ہے اور وادیوں کو تشبیہ دی ہے دلوں کے ساتھ اس لیے کہ وادیوں نالوں میں پانی جا کر ٹھرتا ہے جس طرح قرآن کا اور ایمان مومنوں کے دلوں میں قرار پکڑتا ہے۔ 17۔ 1 اس جھاگ سے جب پانی اوپر آجاتا ہے اور جو ناکارہ ہو ختم ہوجاتا ہے اور ہوائیں جسے اڑا لے جاتی ہیں کفر مراد ہے، جو جھاگ ہی کی طرح اڑ جانے والا اور ختم ہوجانے والا ہے۔ 17۔ 2 یہ دوسری شکل ہے کہ تانبے پیتل، سیسے یا سونے چاندی کو زیور یا سامان وغیرہ بنانے کے لئے آگ میں تپایا جاتا ہے تو اس پر بھی جھاگ کی شکل میں اوپر آجاتا ہے۔ پھر یہ جھاگ دیکھتے دیکھتے ختم ہوجاتا ہے اور دھات اصلی شکل میں باقی رہ جاتا ہے۔ 17۔ 3 یعی جب حق اور باطل کا آپس میں اجتماع اور ٹکراؤ ہوتا ہے تو باطل کو اسی طرح اثبات اور دوام نہیں ہوتا، جس طرح سیلابی ریلے کا جھاگ پانی کے ساتھ، دھاتوں کا جھاگ، جن کو آگ میں تپایا جاتا ہے دھاتوں کے ساتھ باقی نہیں رہتا بلکہ ناکارہ اور ختم ہوجاتا ہے۔ 17۔ 4 یعنی اس سے کوئی نفع نہیں ہوتا، کیونکہ جھاگ پانی یا دھات کے باقی رہتا ہی نہیں بلکہ آہستہ آہستہ بیٹھ جاتا ہے یا ہوائیں اسے اڑا لے جاتی ہیں۔ باطل کی مثال بھی جھاگ ہی کی طرح ہے۔ 17۔ 5 یعنی پانی اور سونا، چاندی، تانبا، پیتل وغیرۃ یہ چیزیں باقی رہتی ہیں جن سے لوگ فائدہ اٹھاتے اور فیض یاب ہوتے ہیں، اسی طرح حق باقی رہتا ہے جس کے وجود کو بھی زوال نہیں اور جس کا نفع بھی دائمی ہے۔ 17۔ 6 یعنی بات کو سمجھانے اور ذہن نشین کرانے کے لئے مثالیں بیان فرماتا ہے، جیسے یہیں دو مثالیں بیان فرمائیں اور اسی طرح سورة بقرہ کے آغاز میں منافقین کے لئے مثالیں بیان فرمائیں۔ اسی طرح سورة نور، آیات 39، 40 میں کافروں کے لئے دو مثالیں بیان فرمائیں۔ اور احادیث میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مثالوں کے ذریعے سے لوگوں کو بہت سی باتیں سمجھائیں۔ تفصیل کے لیے دیکھئے تفسیر ابن کثیر
(آیت17) ➊ { اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً …: ” اَوْدِيَةٌ“} (نالے) وادی کی جمع ہے جو اصل میں پانی بہنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ دو پہاڑوں کے درمیان خالی جگہ کو بھی کہہ لیتے ہیں، کبھی راستے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، کیونکہ پہاڑوں میں عموماً راستے پہاڑی نالوں کے کناروں کے ساتھ چلتے ہیں۔ {” زَبَدًا “} وہ کوڑا کرکٹ اور جھاگ جو پانی کی تیز رفتاری کے باعث اس کی سطح پر ابھر آتا ہے، یا ہانڈی کے اوپر ابھر آتا ہے۔{ ” رَابِيًا “ ” رَبَا يَرْبُوْ رَبْوًا “} (ن) سے اسم فاعل ہے، بمعنی بڑھنے والا، ابھرنے والا۔ {”حِلْيَةٍ “} سونے چاندی وغیر کا زیور جس سے انسان زینت حاصل کرتا ہے۔ {” جُفَآءً “} نالہ یا ہانڈی جو خس و خاشاک یا جھاگ وغیرہ کناروں پر پھینک دیتے ہیں، اسے {” جُفَآءً “} کہتے ہیں۔ شوکانی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ دو مثالیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کی بیان فرمائی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ باطل بعض اوقات حق کے اوپر غالب آ جائے، مگر آخر کار اللہ تعالیٰ اسے مٹا دیتا ہے اور بے قدر و قیمت بنا دیتا ہے، حسن انجام حق اور اہل حق ہی کا ہوتا ہے۔ جیسا کہ جھاگ اور خس و خاشاک بے شک پانی کو ڈھانپ لیتے ہیں، مگر آخر کار پانی انھیں کناروں پر پھینک کر بے کار کر دیتا ہے اور خالص پانی سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح سونا چاندی اور دوسری دھاتوں کو پگھلایا جائے تو ان کا میل کچیل بھی اوپر آ جاتا ہے مگر آخر کار کچھ اتار کر پھینک دیا جاتا ہے اور کچھ جل جاتا ہے۔ غرض، سارا میل کچیل بے کار جاتا ہے اور لوگوں کے لیے نفع مند دھات خالص حالت میں باقی رہ جاتی ہے، جیسے سونا اور چاندی، جس سے وہ زیور بناتے ہیں، یا لوہا، تانبا اور پیتل وغیرہ جس سے برتن، اسلحہ اور دوسرا سامان بنتا ہے۔ استاذ محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ان دونوں مثالوں میں حق (قرآن) کو پانی سے تشبیہ دی ہے اور نالوں سے مراد انسانوں کے دل ہیں جو اپنے اپنے ظرف و استعداد کے مطابق حق سے فیض حاصل کرتے ہیں، یا حق وہ زیور ہے جس سے نفوسِ انسانی آراستہ ہوتے ہیں اور لوگ معاش و معاد میں اس سے انواع و اقسام کے منافع اور فوائد حاصل کرتے ہیں۔ باطل کی مثال جھاگ کی سی ہے جو حق سے کشمکش کے موقع پر وقتی طور پر ابھر کر اوپر آ جاتا ہے مگر آخر کار مٹ جاتا ہے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَثَلُ مَا بَعَثَنِيَ اللّٰهُ مِنَ الْهُدَی وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ الْغَيْثِ الْكَثِيْرِ أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَ مِنْهَا نَقِيَّةٌ، قَبِلَتِ الْمَاءَ، فَأَنْبَتَتِ الْكَلَأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيْرَ وَكَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ، فَنَفَعَ اللّٰهُ بِهَا النَّاسَ فَشَرِبُوْا وَسَقَوْا وَزَرَعُوْا، وَأَصَابَ مِنْهَا طَائِفَةً أُخْرَی، إِنَّمَا هِيَ قِيْعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلَأً فَذٰلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ وَنَفَعَهُ مَا بَعَثَنِيَ اللّٰهُ بِهِ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذٰلِكَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَی اللّٰهِ الَّذِيْ أُرْسِلْتُ بِهِ ] [ بخاری، العلم، باب فضل من علم و علّم: ۷۹ ] ”اللہ تعالیٰ نے مجھے جو علم اور ہدایت دے کر بھیجا ہے اس کی مثال بہت زیادہ بارش کی ہے جو ایک زمین پر برسی۔ اس زمین کا ایک حصہ بہت عمدہ (زرخیز) تھا، اس نے پانی قبول کیا (جذب کر لیا)، پھر بہت سی گھاس اور چارا اگایا اور اس کے کچھ حصے سخت زمین کے گڑھے تھے جنھوں نے پانی روک لیا تو اللہ نے اس کے ساتھ لوگوں کو نفع پہنچایا، چنانچہ انھوں نے پیا اور پلایا اور کھیتی باڑی کی اور اس کے بعض حصے چٹیل میدان تھے جو نہ پانی روکتے تھے اور نہ گھاس اگاتے تھے، تو یہ اس شخص کی مثال ہے جس نے اللہ کے دین کی سمجھ حاصل کی اور اسے اس (علم و ہدایت) نے نفع دیا جسے دے کر مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا اور اس شخص کی مثال جس نے اس کی طرف نہ سر اٹھایا اور نہ اللہ کی وہ ہدایت قبول کی جو دے کر مجھے بھیجا گیا (ان تینوں میں سے آخری مثال کافر کی ہے)۔“ ➋ {كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ:} یعنی بات سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ اسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے جیسے یہاں دو مثالیں بیان فرمائیں، ایک صحرائی اور پہاڑی لوگوں کو پیش آنے والی (نالوں کی) اور ایک شہری لوگوں کو پیش آنے والی (دھاتوں کی)۔ اسی طرح سورۂ بقرہ کے شروع میں منافقین کی دو مثالیں اور سورۂ نور (۳۹، ۴۰) میں کافروں کی دو مثالیں بیان فرمائیں۔ غرض قرآن و حدیث میں بہت سی مثالیں دے کر سمجھایا گیا ہے۔
لِلَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّہِمُ الۡحُسۡنٰی ؕؔ وَ الَّذِیۡنَ لَمۡ یَسۡتَجِیۡبُوۡا لَہٗ لَوۡ اَنَّ لَہُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا وَّ مِثۡلَہٗ مَعَہٗ لَافۡتَدَوۡا بِہٖ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ سُوۡٓءُ الۡحِسَابِ ۬ۙ وَ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿٪۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت قبول کر لی ہے اُن کے لیے بھلائی ہے اور جنہوں نے اسے قبول نہ کیا وہ اگر زمین کی ساری دولت کے بھی مالک ہوں اور اتنی ہی اور فراہم کر لیں تو وہ خدا کی پکڑ سے بچنے کے لیے اس سب کو فدیہ میں دے ڈالنے پر تیا ر ہو جائیں گے یہ وہ لوگ ہیں جن سے بری طرح حساب لیا جائے گا اور اُن کا ٹھکانہ جہنم ہے، بہت ہی برا ٹھکانا
مولانا محمد جوناگڑھی
جن لوگوں نے اپنے رب کے حکم کی بجا آوری کی ان کے لئے بھلائی ہے اور جن لوگوں نے اس کی حکم برداری نہ کی اگر ان کے لئے زمین میں جو کچھ ہے سب کچھ ہو اور اسی کے ساتھ ویسا ہی اور بھی ہو تو وه سب کچھ اپنے بدلے میں دے دیں۔ یہی ہیں جن کے لئے برا حساب ہے اور جن کا ٹھکانہ جہنم ہے جو بہت بری جگہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا انہیں کے لیے بھلائی ہے اور جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا اگر زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اور اس جیسا اور ان کی ملِک میں ہوتا تو اپنی جان چھڑانے کو دے دیتے یہی ہیں جن کا برُ ا حساب ہوگا اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور کیا ہی بُرا بچھونا،
علامہ محمد حسین نجفی
جن لوگوں نے اپنے پروردگار کی دعوت پر لبیک کہا (اسے قبول کیا) ان کے لئے بھلائی (ہی بھلائی) ہے اور جنہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ تو اگر ان کو روئے زمین کی سب دولت مل جائے اور اس کے ساتھ اتنی ہی اور ان کے اختیار میں آجائے تو یہ لوگ اسے اپنے بدلے (عذاب سے بچنے کے لیے) بطور فدیہ دے دیں۔ یہی لوگ ہیں جن کا سخت حساب ہوگا۔ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور (وہ) کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جن لوگوں نے اپنے رب کی بات قبول کر لی انھی کے لیے بھلائی ہے اور جنھوں نے اس کی بات قبول نہ کی اگر ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اتنا اور ہو تو وہ ضرور اسے فدیہ میں دے دیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے برا حساب ہے اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ برا بچھونا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ذوالقرنین ٭٭

نیکوں بدوں کا انجام بیان ہو رہا ہے، ’ اللہ رسول کو ماننے والے، احکام کے پابند، خبروں پر یقین رکھنے والے تو نیک بدلہ پائیں گے ‘۔ ذوالقرنین رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ «قَالَ أَمَّا مَن ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهُ ثُمَّ يُرَدُّ إِلَىٰ رَبِّهِ فَيُعَذِّبُهُ عَذَابًا نُّكْرًا وَأَمَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُ جَزَاءً الْحُسْنَىٰ وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنَا يُسْرًا» ۱؎ [18-الكهف:87،88] ‏‏‏‏ ’ ظلم کرنے والے کو ہم بھی سزا دیں گے اور اللہ کے ہاں بھی سخت عذاب دیا جائے گا اور ایماندار اور نیک اعمال لوگ بہترین بدلہ پائیں گے اور ہم بھی ان سے نرمی کی باتیں کریں گے ‘۔ اور آیت میں فرمان ربی ہے «لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ» ۱؎ [10-یونس:26] ‏‏‏‏ ’ نیکوں کے لیے نیک بدلہ ہے اور زیادتی بھی ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ جو لوگ اللہ کی باتیں نہیں مانتے یہ قیامت کے دن ایسے عذابوں کو دیکھیں گے کہ اگر ان کے پاس ساری زمین بھر کر سونا ہو تو وہ اپنے فدیے میں دینے کے لیے تیار ہو جائیں بلکہ اس جتنا اور بھی ‘۔ مگر قیامت کے روز نہ فدیہ ہوگا، نہ بدلہ، نہ عوض، نہ معاوضہ۔ ان سے سخت بازپرس ہو گی ایک ایک چھلکے اور ایک ایک دانے کا حساب لیا جائے گا حساب میں پورے نہ اتریں گے تو عذاب ہو گا۔ جہنم ان کا ٹھکانا ہو گا جو بدترین جگہ ہو گی۔
18۔ 1 یہ مضمون اس سے قبل بھی دو تین جگہ گزر چکا ہے۔ 18۔ 2 کیونکہ ان سے ہر چھوٹے بڑے عمل کا حساب لیا جائے گا اور ان کا معاملہ (جس سے حساب میں جرح کی گئی اس کا بچنا مشکل ہوگا، وہ عذاب سے دو چار ہو کر ہی رہے گا) آئینہ دار ہوگا۔ اسی لئے آگے فرمایا اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔
(آیت18) ➊ { لِلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا …: ” الْحُسْنٰى”اَلْاَحْسَنُ“ } کی مؤنث ہے، بمعنی سب سے اچھی، جیسے{ ” حَسَنٌ“ } اور {”اَحْسَنُ“ } ہے، اسی طرح {” حَسَنَةٌ “} اور {”حُسْنٰي“} ہے، اس کا موصوف محذوف ہے، یعنی رب کی بات قبول کرنے والوں کے لیے سب سے اچھی جزا، یعنی جنت ہے۔ {” وَ الَّذِيْنَ لَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهٗ “} مبتدا ہے اور{ ” لَوْ اَنَّ لَهُمْ “} پورا جملہ شرطیہ اس کی خبر ہے، مطلب یہ ہے کہ جو لوگ حق سے عناد رکھتے ہیں قیامت کے دن ان پر جو مصیبت آئے گی وہ اس سے رہائی کے لیے اس قدر مال و دولت کی بھی پروا نہیں کریں گے اور فدیہ میں دینے کو تیار ہو جائیں گے۔ ➋ { اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ:} یہ اس کے مقابلے میں ہے جو فرمایا تھا کہ اپنے رب کی بات قبول کرنے والوں کے لیے بھلائی (بہترین بدلہ) ہے، یعنی یہ دعوت قبول نہ کرنے والوں کا بہت برا حساب ہو گا، انھیں کسی قسم کی معافی نہیں دی جائے گی اور ان کے ایک ایک گناہ پر بری طرح محاسبہ ہو گا۔ یہی مناقشہ فی الحساب ہے۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ حُوْسِبَ عُذِّبَ، قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ أَوَ لَيْسَ يَقُوْلُ اللّٰهُ تَعَالٰی: «فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا» [الإنشقاق: ۸] قَالَتْ، فَقَالَ إِنَّمَا ذٰلِكَ الْعَرْضُ، وَلَكِنْ مَنْ نُوْقِشَ الْحِسَابَ يَهْلِكْ ] [ بخاري، العلم، باب من سمع شیئًا فراجع …: ۱۰۳ ] ”جس کا حساب کیا گیا اسے عذاب دیا جائے گا۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ اس پر میں نے عرض کیا: ”اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا: «{ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا }» یعنی جسے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا گیا اس کا حساب آسان ہو گا (مطلب یہ ہے کہ یہاں حساب کے باوجود عذاب نہیں ہو گا تو اس کا مطلب کیا ہے)؟“ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ صرف پیش کیا جانا ہے اور لیکن جس سے مناقشہ ہوا (یعنی ایک ایک چیز کی پڑتال ہوئی) وہ ہلاک ہو جائے گا۔“ ➌ { وَ بِئْسَ الْمِهَادُ:} مہد اور مہاد اصل میں بچے کے لیے تیار کر دہ جگہ کو کہتے ہیں، گود ہو یا بچھونا، اسی طرح ہر اچھی طرح آرام کے لیے بنائی ہوئی جگہ کو مہاد کہتے ہیں۔ آپ سوچیں کہ بچے کو آرام کے لیے آگ پر لٹا دیا جائے تو اس کا کیا حال ہو گا؟ اسی طرح اللہ کی دعوت قبول نہ کرنے والے کی آرام گاہ جہنم ہو گی۔ [ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْھَا ]
اَفَمَنۡ یَّعۡلَمُ اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ الۡحَقُّ کَمَنۡ ہُوَ اَعۡمٰی ؕ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿ۙ۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ شخص جو تمہارے رب کی اِس کتاب کو جو اس نے تم پر نازل کی ہے حق جانتا ہے، اور وہ شخص جو اس حقیقت کی طرف سے اندھا ہے، دونوں یکساں ہو جائیں؟ نصیحت تو دانش مند لوگ ہی قبول کیا کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا وه ایک شخص جو یہ علم رکھتا ہو کہ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے جو اتارا گیا ہے وه حق ہے، اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھا ہو نصیحت تو وہی قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہوں
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا وہ جانتا ہے جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا حق ہے وہ اس جیسا ہوگا جو اندھا ہے نصیحت وہی مانتے ہیں جنہیں عقل ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے (رسول(ص)) کیا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے وہ اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جو بالکل اندھا ہے؟ نصیحت تو بس وہی قبول کرتے ہیں جو دانشمند ہوتے ہیں (اور وہی اس بات کو سمجھ سکتے ہیں)۔
عبدالسلام بن محمد
پھر کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کچھ تیرے رب کی جانب سے تیری طرف اتارا گیا وہی حق ہے، اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے ؟ نصیحت تو عقلوں والے ہی قبول کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایک موازنہ ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ’ ایک وہ شخص جو اللہ کے کلام کو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب اترا سراسر حق مانا ہو، سب پر ایمان رکھتا ہو، ایک کو دوسرے کی تصدیق کرنے والا اور موافقت کرنے والا جانا ہو، سب خبروں کو سچ جانتا ہو، سب حکموں کو مانتا ہو، سب برائیوں کو جانتا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا قائل ہو ‘۔ اور آیت میں ہے «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا» ۱؎ [6-الأنعام:115] ‏‏‏‏ ’ اور تمہارے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں ‘۔ ’ اور دوسرا وہ شخص جو نابینا ہو، بھلائی کو سمجھتا ہی نہیں اور اگر سمجھ بھی لے تو مانتا نہ ہو، نہ سچا جانتا ہو، یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ «لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ» ۱؎ [59-الحشر:20] ‏‏‏‏ ’ دوزخی اور جنتی برابر نہیں، جنتی خوش نصیب ہیں ‘، یہی فرمان یہاں ہے کہ ’ یہ دونوں برابر نہیں ‘۔ بات یہ ہے کہ بھلی سمجھ سمجھداروں کی ہی ہوتی ہے۔
19۔ 1 یعنی ایک وہ شخص جو قرآن کی حقانیت و صداقت پر یقین رکھتا ہو اور دوسرا اندھا ہو یعنی اسے قرآن کی صداقت میں شک ہوگیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ استفہام انکار کے لیے ہے یعنی یہ دونوں اسی طرح برابر نہیں ہوسکتے جس طرح جھاگ اور پانی یا سونا تانبا اور اس کی میل کچیل برابر نہیں ہو سکتے 19۔ 2 یعنی جن کے پاس قلب سلیم اور عقل صحیح نہ ہو اور جنہوں نے اپنے دلوں کو گناہوں کے زنگ سے آلودہ اور اپنی عقلوں کو خراب کرلیا ہو، وہ اس قرآن سے نصیحت حاصل نہیں کرسکتے۔
(آیت19){ اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ …: } یہاں یہ کہنے کے بجائے کہ کیا وہ شخص جو جانتا ہے اس شخص کی طرح ہے جو نہیں جانتا، یوں فرمایا کہ اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے؟ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اللہ کی طرف سے آنے والی نشانیاں آنکھوں سے نظر آ رہی ہیں، جو ان کا علم اور یقین نہیں رکھتا درحقیقت وہ اندھا ہے اور اس کا یہ اندھا پن قیامت کو اچھی طرح ظاہر ہو جائے گا۔ دیکھیے سورۂ طہ (۱۲۴ تا ۱۲۶) یہ مومن اور کافر کی مثال ہے۔{” اُولُوا”ذُوْ“} کی جمع ہے، بمعنی والے۔ {” الْاَلْبَابِ “} { ”لُبٌّ“} کی جمع ہے، ہر چیز میں سے جو خالص ہو، خالص عقل جو ہر قسم کی آلائشوں سے پاک ہو۔ (مفردات) اس لیے ترجمہ ”عقل والوں“ کے بجائے ”عقلوں والے“ کیا ہے۔ مراد یہ ہے کہ نصیحت صرف خالص اور پاکیزہ عقل والے حاصل کرتے ہیں، الٹے دماغ والے نہیں۔
الَّذِیۡنَ یُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِ اللّٰہِ وَ لَا یَنۡقُضُوۡنَ الۡمِیۡثَاقَ ﴿ۙ۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُن کا طرز عمل یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں، اُسے مضبوط باندھنے کے بعد توڑ نہیں ڈالتے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو اللہ کے عہد (وپیمان) کو پورا کرتے ہیں اور قول وقرار کو توڑتے نہیں
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو اللہ کا عہد پورا کرتے ہیں اور قول باندھ کر پھرتے نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
وہ جو اللہ سے کئے ہوئے عہد وپیمان کو پورا کرتے ہیں اور عہد شکنی نہیں کرتے۔
عبدالسلام بن محمد
جو اللہ کا عہد پورا کرتے ہیں اور پختہ عہد کو نہیں توڑتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافق کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭

ان بزرگوں کی نیک صفتیں بیان ہو رہی ہیں اور ان کے بھلے انجام کی خبر دی جا رہی ہے جو آخرت میں جنت کے مالک بنیں گے اور یہاں بھی جو نیک انجام ہیں۔ وہ منافقوں کی طرح نہیں ہوتے کہ عہد شکنی، غداری اور بے وفائی کریں۔ یہ منافق کی خصلت ہے کہ وعدہ کر کے توڑ دیں۔ جھگڑوں میں گالیاں بکیں، باتوں میں جھوٹ بولیں، امانت میں خیانت کریں۔ صلہ رحمی کا، رشتہ داروں سے سلوک کرنے کا، فقیر محتاج کو دینے کا، بھلی باتوں کے نباہ نے کا، جو حکم الٰہی ہے یہ اس کے عامل ہیں۔ رب کا خوف دل میں رکھتے ہوئے فرمان الٰہی سمجھ کر نیکیاں کرتے ہیں، بدیاں چھوڑتے ہیں۔ آخرت کے حساب سے ڈرتے ہیں، اسی لیے برائیوں سے بچتے ہیں، نیکیوں کی رغبت کرتے ہیں۔ اعتدال کا راستہ نہیں چھوڑتے۔ ہر حال میں فرمان الٰہی کا لحاظ رکھتے ہیں۔ گو نفس حرام کاموں اور اللہ کی نافرمانیوں کی طرف جانا چاہے لیکن یہ اسے روک لیتے ہیں اور ثواب آخرت یاد دلا کر مرضی مولا رضائے رب کے طالب ہو کر نافرمانیوں سے باز رہتے ہیں۔ نماز کی پوری حفاظت کرتے ہیں۔ رکوع، سجدہ، قعدہ، خشوع خضوع شرعی طور بجا لاتے ہیں۔ جنہیں دینا اللہ نے فرمایا ہے، انہیں اللہ کی دی ہوئی چیزیں دیتے رہتے ہیں۔ فقراء، محتاج، مساکین اپنے ہوں یا غیر ہوں۔ ان کی برکتوں سے محروم نہیں رہتے۔ چھپے کھلے، دن رات، وقت بے وقت، برابر راہ للہ خرچ کرتے رہتے ہیں۔ قباحت کو احسان سے، برائی کو بھلائی سے، دشمنی کو دوستی سے ٹال دیتے ہیں۔ دوسرا سرکشی کرے یہ نرمی کرتے ہیں۔ دوسرا سر چڑھے یہ سر جھکا دیتے ہے۔ دوسروں کے ظلم سہ لیتے ہیں اور خود نیک سلوک کرتے ہیں۔ تعلیم قرآن ہے آیت «ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ» ۱؎ [41-فصلت:34،35] ‏‏‏‏ ’ بہت اچھے طریقے سے ٹال دو تو دشمن بھی گاڑھا دوست بن جائے گا۔ صبر کرنے والے، صاحب نصیب ہی اس مرتبے کو پاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے اچھا انجام ہے ‘۔
20۔ 1 یہ اہل دانش کی صفات بیان کی جا رہی ہیں، اللہ کے عہد سے مراد، اس کے احکام (اوامرو نواہی) ہیں جنہیں بجا لاتے ہیں۔ یا وہ عہد ہے، جو عَھْدِ الَسْت کہلاتا ہے، جس کی تفصیل سورة اعراف میں گزر چکی ہے۔ 20۔ 2 اس سے مراد وہ باہمی معاہدے اور وعدے ہیں جو وہ آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہیں یا وہ جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہیں۔
(آیت20){الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ …:} ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے عقلوں والوں کی چند صفات بیان فرمائیں۔ ان میں سب سے پہلی صفت اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے عہد توحید کو پورا کرنا ہے، جیسا کہ سورۂ اعراف (۱۷۲) میں ہے۔{ ” وَ لَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ “} سے ہر اس عہد کو توڑنے سے اجتناب کرنا مراد ہے جسے پورا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ پہلے خاص اپنے عہد کے بعد اب عام عہد کا ذکر فرمایا۔ ان منافقین کی طرح نہیں جن میں سے کوئی جب عہد کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے، جب جھگڑتا ہے تو بدکلامی پر اتر آتا ہے، جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور جب اسے کوئی امانت سونپی جاتی ہے تو خیانت کرتا ہے۔
وَ الَّذِیۡنَ یَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ وَ یَخَافُوۡنَ سُوۡٓءَ الۡحِسَابِ ﴿ؕ۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُن کی روش یہ ہوتی ہے کہ اللہ نے جن جن روابط کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے انہیں برقرار رکھتے ہیں، اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ کہیں ان سے بری طرح حساب نہ لیا جائے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے وه اسے جوڑتے ہیں اور وه اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور حساب کی سختی کا اندیشہ رکھتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ کہ جوڑتے ہیں اسے جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور حساب کی بُرائی سے اندیشہ رکھتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو ان رشتوں کو جوڑے رکھتے ہیں جن کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا ہے (صلہ رحمی کرتے ہیں) اور اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور سخت حساب سے خائف و ترساں رہتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ جو اس چیز کو ملاتے ہیں جس کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے کہ اسے ملایا جائے اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور برے حساب کا خوف رکھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافق کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭

ان بزرگوں کی نیک صفتیں بیان ہو رہی ہیں اور ان کے بھلے انجام کی خبر دی جا رہی ہے جو آخرت میں جنت کے مالک بنیں گے اور یہاں بھی جو نیک انجام ہیں۔ وہ منافقوں کی طرح نہیں ہوتے کہ عہد شکنی، غداری اور بے وفائی کریں۔ یہ منافق کی خصلت ہے کہ وعدہ کر کے توڑ دیں۔ جھگڑوں میں گالیاں بکیں، باتوں میں جھوٹ بولیں، امانت میں خیانت کریں۔ صلہ رحمی کا، رشتہ داروں سے سلوک کرنے کا، فقیر محتاج کو دینے کا، بھلی باتوں کے نباہ نے کا، جو حکم الٰہی ہے یہ اس کے عامل ہیں۔ رب کا خوف دل میں رکھتے ہوئے فرمان الٰہی سمجھ کر نیکیاں کرتے ہیں، بدیاں چھوڑتے ہیں۔ آخرت کے حساب سے ڈرتے ہیں، اسی لیے برائیوں سے بچتے ہیں، نیکیوں کی رغبت کرتے ہیں۔ اعتدال کا راستہ نہیں چھوڑتے۔ ہر حال میں فرمان الٰہی کا لحاظ رکھتے ہیں۔ گو نفس حرام کاموں اور اللہ کی نافرمانیوں کی طرف جانا چاہے لیکن یہ اسے روک لیتے ہیں اور ثواب آخرت یاد دلا کر مرضی مولا رضائے رب کے طالب ہو کر نافرمانیوں سے باز رہتے ہیں۔ نماز کی پوری حفاظت کرتے ہیں۔ رکوع، سجدہ، قعدہ، خشوع خضوع شرعی طور بجا لاتے ہیں۔ جنہیں دینا اللہ نے فرمایا ہے، انہیں اللہ کی دی ہوئی چیزیں دیتے رہتے ہیں۔ فقراء، محتاج، مساکین اپنے ہوں یا غیر ہوں۔ ان کی برکتوں سے محروم نہیں رہتے۔ چھپے کھلے، دن رات، وقت بے وقت، برابر راہ للہ خرچ کرتے رہتے ہیں۔ قباحت کو احسان سے، برائی کو بھلائی سے، دشمنی کو دوستی سے ٹال دیتے ہیں۔ دوسرا سرکشی کرے یہ نرمی کرتے ہیں۔ دوسرا سر چڑھے یہ سر جھکا دیتے ہے۔ دوسروں کے ظلم سہ لیتے ہیں اور خود نیک سلوک کرتے ہیں۔ تعلیم قرآن ہے آیت «ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ» ۱؎ [41-فصلت:34،35] ‏‏‏‏ ’ بہت اچھے طریقے سے ٹال دو تو دشمن بھی گاڑھا دوست بن جائے گا۔ صبر کرنے والے، صاحب نصیب ہی اس مرتبے کو پاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے اچھا انجام ہے ‘۔
21۔ 1 یعنی رشتوں اور قرابتوں کو توڑتے نہیں ہیں، بلکہ ان کو جوڑتے اور صلہ رحمی کرتے ہیں۔
(آیت21) ➊ {وَ الَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ يُّوْصَلَ:} یعنی صلہ رحمی کرتے ہیں، رشتوں کو نزدیک کے ہوں یا دور کے، ان کے مراتب کے مطابق ملاتے ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ اللہ عزو جل، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، عام مسلمانوں، ہمسایوں، رشتہ داروں، دوستوں، یتیموں، بیواؤں، الغرض ہر ایک کا حق پہچانتے اور ادا کرتے ہیں۔ ➋ { وَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ …:} اس کے عائد کردہ فرائض کو بجا لاتے اور اس کے منع کردہ گناہوں سے بچتے ہیں۔ راغب نے کہا: ”خشیت ایسا خوف ہے جس کے ساتھ تعظیم ملی ہوئی ہو، اکثر اس کا باعث علم ہوتا ہے۔“ جیسے فرمایا: «{ اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا }» [ فاطر: ۲۸ ] ”اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف جاننے والے ہی ڈرتے ہیں۔“ خوف سے مراد کوئی بھی ڈر ہے، بعض نے کہا، دونوں (خشیت اور خوف) ہم معنی ہیں، فرق اغلبی ہے، کلی نہیں۔ (آلوسی) ➌ { وَ يَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِ:} لہٰذا وہ اس وقت سے پہلے ہی اپنا محاسبہ کرتے رہتے ہیں۔ {” سُوْٓءَ الْحِسَابِ “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ رعد کی آیت (۱۸) کی تفسیر۔
وَ الَّذِیۡنَ صَبَرُوا ابۡتِغَآءَ وَجۡہِ رَبِّہِمۡ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً وَّ یَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عُقۡبَی الدَّارِ ﴿ۙ۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُن کا حال یہ ہوتا ہے کہ اپنے رب کی رضا کے لیے صبر سے کام لیتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے علانیہ اور پوشیدہ خرچ کرتے ہیں، اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں آخرت کا گھر انہی لوگوں کے لیے ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وه اپنے رب کی رضا مندی کی طلب کے لئے صبر کرتے ہیں، اور نمازوں کو برابر قائم رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اسے چھپے کھلے خرچ کرتے ہیں اور برائی کو بھی بھلائی سے ٹالتے ہیں، ان ہی کے لئے عاقبت کا گھر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جنہوں نے صبر کیا اپنے رب کی رضا چاہنے کو اور نماز قائم رکھی اور ہمارے دیئے سے ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر کچھ خرچ کیا اور برائی کے بدلے بھلائی کرکے ٹالتے ہیں انہیں کے لیے پچھلے گھر کا نفع ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو اپنے پروردگار کی خوشنودی کی طلب میں صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے اعلانیہ اور پوشیدہ طور پر( ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں اور جو برائی کو بھلائی سے دور کرتے ہیں عاقبت کا گھر انہی کیلئے ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ جنھوں نے اپنے رب کا چہرہ طلب کرنے کے لیے صبر کیا اور نماز قائم کی اور ہم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کیا اور برائی کو نیکی کے ساتھ ہٹاتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے اس گھر کا اچھا انجام ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافق کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭

ان بزرگوں کی نیک صفتیں بیان ہو رہی ہیں اور ان کے بھلے انجام کی خبر دی جا رہی ہے جو آخرت میں جنت کے مالک بنیں گے اور یہاں بھی جو نیک انجام ہیں۔ وہ منافقوں کی طرح نہیں ہوتے کہ عہد شکنی، غداری اور بے وفائی کریں۔ یہ منافق کی خصلت ہے کہ وعدہ کر کے توڑ دیں۔ جھگڑوں میں گالیاں بکیں، باتوں میں جھوٹ بولیں، امانت میں خیانت کریں۔ صلہ رحمی کا، رشتہ داروں سے سلوک کرنے کا، فقیر محتاج کو دینے کا، بھلی باتوں کے نباہ نے کا، جو حکم الٰہی ہے یہ اس کے عامل ہیں۔ رب کا خوف دل میں رکھتے ہوئے فرمان الٰہی سمجھ کر نیکیاں کرتے ہیں، بدیاں چھوڑتے ہیں۔ آخرت کے حساب سے ڈرتے ہیں، اسی لیے برائیوں سے بچتے ہیں، نیکیوں کی رغبت کرتے ہیں۔ اعتدال کا راستہ نہیں چھوڑتے۔ ہر حال میں فرمان الٰہی کا لحاظ رکھتے ہیں۔ گو نفس حرام کاموں اور اللہ کی نافرمانیوں کی طرف جانا چاہے لیکن یہ اسے روک لیتے ہیں اور ثواب آخرت یاد دلا کر مرضی مولا رضائے رب کے طالب ہو کر نافرمانیوں سے باز رہتے ہیں۔ نماز کی پوری حفاظت کرتے ہیں۔ رکوع، سجدہ، قعدہ، خشوع خضوع شرعی طور بجا لاتے ہیں۔ جنہیں دینا اللہ نے فرمایا ہے، انہیں اللہ کی دی ہوئی چیزیں دیتے رہتے ہیں۔ فقراء، محتاج، مساکین اپنے ہوں یا غیر ہوں۔ ان کی برکتوں سے محروم نہیں رہتے۔ چھپے کھلے، دن رات، وقت بے وقت، برابر راہ للہ خرچ کرتے رہتے ہیں۔ قباحت کو احسان سے، برائی کو بھلائی سے، دشمنی کو دوستی سے ٹال دیتے ہیں۔ دوسرا سرکشی کرے یہ نرمی کرتے ہیں۔ دوسرا سر چڑھے یہ سر جھکا دیتے ہے۔ دوسروں کے ظلم سہ لیتے ہیں اور خود نیک سلوک کرتے ہیں۔ تعلیم قرآن ہے آیت «ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ» ۱؎ [41-فصلت:34،35] ‏‏‏‏ ’ بہت اچھے طریقے سے ٹال دو تو دشمن بھی گاڑھا دوست بن جائے گا۔ صبر کرنے والے، صاحب نصیب ہی اس مرتبے کو پاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے اچھا انجام ہے ‘۔
22۔ 1 اللہ کی نافرمانی اور گناہوں سے بچتے ہیں۔ یہ صبر کی ایک قسم ہے۔ تکلیفوں اور آزمائشوں پر صبر کرتے ہیں، یہ دوسری قسم ہے۔ اہل دانش دونوں قسم کا صبر کرتے ہیں۔ 22۔ 2 ان کی حدود و مواقیت، خشوع و خضوع اور اعتدال ارکان کے ساتھ۔ نہ کہ اپنے من مانے طریقے سے۔ 22۔ 3 یعنی جہاں جہاں اور جب بھی، خرچ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے، اپنوں اور بیگانوں میں اور خفیہ اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں۔ 22۔ 4 یعنی ان کے ساتھ کوئی برائی سے پیش آتا ہے تو وہ اس کا جواب اچھائی سے دیتے ہیں، یا عفو و درگزر اور صبر جمیل سے کام لیتے ہیں۔ جس طرح دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' (اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ) 41۔ حم السجدۃ:34۔ برائی کا جواب ایسے طریقے سے دو جو اچھا ہو (اگر تم ایسا کرو گے) تو وہ شخص جو تمہارا دشمن ہے، ایسا ہوجائے گا گویا وہ تمہارا گہرا دوست ہے '۔ 22۔ 5 یعنی جو اعلٰی اخلاق کے حامل اور مزکورہ خوبیوں سے متصف ہوں گے، ان کے لئے عاقبت کا گھر ہے۔
(آیت22) ➊ {وَ الَّذِيْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ:} یعنی ہر اس مقام پر جہاں صبر قابل تعریف ہے وہ محض اللہ کے چہرے کی خاطر صبر کرتے ہیں، تاکہ وہ راضی ہو جائے۔ نہ ریا (دکھاوے) کے لیے، نہ سُمعہ (شہرت) کے لیے کہ لوگ کہیں واہ کیا صابر شخص ہے۔ صبر کا معنی روکنا، باندھنا ہے۔ اپنے آپ کو اللہ کے احکام کی پابندی پر قائم رکھنا{ ”صَبْرٌ عَلَي الطَّاعَةِ“} ہے، اس کی نافرمانی سے رکنا {” صَبْرٌ عَنِ الْمَعْصِيَةِ “} ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی مصیبت، مثلاً بیماری، فاقہ، خوف یا اموات وغیرہ پر اپنے آپ کو جزع فزع سے روکنا اور اسے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی تقدیر سمجھ کر کسی شکوہ و شکایت کے بغیر برداشت کرنا {”صَبْرٌ عَلَي الْمُصِيْبَةِ“} ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خاطر صبر کی یہ تمام صورتیں {” اُولُوا الْاَلْبَابِ “ } کی صفت ہیں۔ ➋ {وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ:} اس کی تفسیر کے لیے سورۂ بقرہ کی آیت (۳) ملاحظہ فرمائیں۔ ➌ { وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِيَةً:} فرض زکوٰۃ علانیہ دینا افضل ہے، تاکہ کفر کی تہمت سے بچے، نفل صدقہ دوسروں کو ترغیب دلانے کے لیے علانیہ ہو اور ریا سے پاک ہو تو بہت ہی اچھا ہے، مگر علانیہ صدقے میں ریا کا امکان ہے، اس لیے پوشیدہ صدقے کا جواب ہی نہیں ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۷۱) قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا سایہ پانے والوں میں سے ایک وہ بھی ہے جو دائیں ہاتھ سے صدقہ کرے تو بائیں کو خبر بھی نہ ہو۔ [ بخاري، الأذان، باب من جلس فی المسجد…: ۶۶۰ ] ➍ {وَ يَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ: ”دَرَءَ يَدْرَءُ دَرْءً “} (ف) ہٹانا، دفع کرنا، دور کرنا، یعنی {” اُولُوا الْاَلْبَابِ “} کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ برائی کو نیکی کے ساتھ ہٹاتے ہیں، یعنی برائی کا جواب بھلائی سے دیتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ لَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّيِّئَةُاِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَ بَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ (34) وَ مَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَ مَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ }» [ حٰمٓ السجدۃ: ۳۴، ۳۵ ] ”اور نہ نیکی برابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔ (برائی کو) اس (طریقے) سے ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہو گا جیسے وہ دلی دوست ہے۔ اور یہ چیز نہیں دی جاتی مگر انھی کو جو صبر کریں اور یہ نہیں دی جاتی مگر اسی کو جو بہت بڑے نصیب والا ہے۔“ یہ طریقہ ذاتی عداوتوں اور زیادتیوں کے جواب کا ہے کہ زیادتی کے جواب میں صبر کرے اور معاف کر دے۔ رہا اللہ کے دین پر زیادتی اور اللہ کے احکام کے مقابلے میں سرکشی اور عناد کا جواب بہترین طریقے سے دینا تو اس کی صورت دوسری ہے۔ وہاں برائی کو نیکی کے ساتھ ہٹانے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی کافر یا اللہ کا باغی دین پر زیادتی کر رہا ہو تو آپ اسے برداشت کریں اور صبر کریں، بلکہ اس برائی کو بہترین طریقے سے ہٹانا نہ اسے آزاد چھوڑنا ہے نہ معاف کرنا، بلکہ یہاں اسے ہٹانے کا بہترین طریقہ وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا اور اس کا حکم دیا کہ جو شخص تم میں سے کوئی منکر (برائی) دیکھے اسے ہاتھ سے روک دے، اگر اس کام کی قوت نہیں تو زبان سے روکے اور اگر اتنی بھی قوت نہیں تو (کم از کم) اسے دل میں برا سمجھے۔ [ مسلم، الإیمان، باب بیان کون النہی …: ۴۹ ] یہاں سب سے اچھا طریقہ ({بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ}) جہاد فی سبیل اللہ ہے اور اس کا نتیجہ بھی یہی ہے کہ یک لخت ہی جانی دشمن دلی دوست بن جاتے ہیں۔ دیکھیے ثمامہ بن اثال، ہندہ، عکرمہ بن ابی جہل، خالد بن ولید رضی اللہ عنھم اور عرب کے وہ سردار جو کسی صورت ایمان قبول کرنے والے نظر نہ آتے تھے، جہاد کی نیکی کی برکت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثار دوست بن گئے۔ ”برائی کو نیکی کے ساتھ ہٹاتے ہیں“ کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ وہ نیک عمل کرکے برے عمل کو مٹا دیتے ہیں، جیسے فرمایا: «{ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ }» [ ھود: ۱۱۴ ] ”بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔“ اور ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِذَا عَمِلْتَ سَيِّئَةً فَأَتْبِعْهَا حَسَنَةً تَمْحُهَا] [أحمد: 169/5، ح: ۲۱۵۴۳، صحیح ] ”جب تم کوئی برائی کرو تو اس کے بعد کوئی نیکی کرو، وہ اسے مٹا دے گی۔“ اور فرمایا: [ وَ إِذَا عَمِلْتَ سَيِّئَةً فَاعْمَلْ بِجَنْبِهَا حَسَنَةً السِّرُّ بِالسِّرِّ وَالْعَلاَنِيَةُ بِالْعَلاَنِيَةِ] [سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 462/3، ح: ۱۴۷۵ ] ”جب تم کوئی برائی کرو تو اس کے ساتھ ہی نیکی کر لو، وہ اسے مٹا دے گی، پوشیدہ برائی کو پوشیدہ نیکی کے ساتھ اور علانیہ برائی کو علانیہ نیکی کے ساتھ مٹاؤ۔“ ➎ { اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ:عُقْبَى “ ” عَاقِبَةٌ “} کی طرح مصدر ہے، وہ چیز جو کسی چیز کے پیچھے آئے، عام طور پر یہ لفظ اچھے انجام کے معنی میں آتا ہے۔{ ” الدَّارِ “} میں الف لام عہد کا ہے، یہ گھر یعنی دنیا، یعنی ان صفات والوں کے لیے دنیا کے گھر کے بعد کا انجام بہت اچھا ہے۔
جَنّٰتُ عَدۡنٍ یَّدۡخُلُوۡنَہَا وَ مَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآئِہِمۡ وَ اَزۡوَاجِہِمۡ وَ ذُرِّیّٰتِہِمۡ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یَدۡخُلُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ کُلِّ بَابٍ ﴿ۚ۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یعنی ایسے باغ جو اُن کی ابدی قیام گاہ ہوں گے وہ خود بھی ان میں داخل ہوں گے اور ان کے آباؤ اجداد اور اُن کی بیویوں اور اُن کی اولاد میں سے جو جو صالح ہیں وہ بھی اُن کے ساتھ وہاں جائیں گے ملائکہ ہر طرف سے اُن کے استقبال کے لیے آئیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہمیشہ رہنے کے باغات جہاں یہ خود جائیں گے اور ان کے باپ دادوں اور بیویوں اور اوﻻدوں میں سے بھی جو نیکو کار ہوں گے، ان کے پاس فرشتے ہر ہر دروازے سے آئیں گے
احمد رضا خان بریلوی
بسنے کے باغ جن میں وہ داخل ہوں گے اور جو لائق ہوں ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں اور فرشتے ہر دروازے سے ان پر یہ کہتے آئیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
یعنی ہمیشگی کے باغ ہیں۔ جن میں وہ خود بھی داخل ہوں گے۔ اور ان کے آباء و اجداد، بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح اور نیکوکار ہوں گے۔ وہ بھی (ان کے ہمراہ داخل ہوں گے) اور فرشتے ہر دروازہ سے ان کے پاس آئیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
ہمیشگی کے باغات، جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے باپ دادوں اور ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں میں سے جو نیک ہوئے اور فرشتے ہر دروازے میں سے ان پر داخل ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بروج و بالا خانے ٭٭

وہ اچھا انجام اور بہترین گھر جنت ہے جو ہمیشگی والی اور پائیدار ہے۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت کے ایک محل کا نام عدن ہے جس میں بروج اور بالاخانے ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں، ہر دروازے پر پانچ ہزار فرشتے ہیں۔ وہ محل مخصوص ہے نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کے لیے۔ ضحاک رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ جنت کا شہر ہے جس میں انبیاء ہوں گے شہداء ہوں گے اور ہدایت کے ائمہ ہوں گے۔ ان کے آس پاس اور لوگ ہوں گے اور ان کے اردگرد اور جنتیں ہیں وہاں یہ اپنے اور چہیتوں کو بھی اپنے ساتھ دیکھیں گے۔ ان کے بڑے باپ دادے، ان کے چھوٹے بیٹے پوتے، ان کے جوڑے جو بھی ایماندار اور نیکو کار تھے ان کے پاس ہوں گے اور راحتوں سے مسرور ہوں گے جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی۔ یہاں تک کہ اگر کسی کے عمل اس درجہ بلند تک پہنچنے کے قابل نہ بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے درجے بڑھا دے گا جیسے «وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ» ۱؎ [52-الطور:21] ‏‏‏‏ ’ جن ایمانداروں کی اولاد ان کی پیروی ایمان میں کرتی ہے ہم انہیں بھی ان کے ساتھ ملا دیتے ہیں ان کے پاس مبارک باد اور سلام کے لیے ہر ہر دروازے سے ہر وقت فرشتے آتے رہتے ہیں یہ بھی اللہ کا انعام ہے تاکہ یہ ہر وقت خوش رہیں اور بشارتیں سنتے رہیں ‘۔ نبیوں، صدیقوں، شہیدوں کا پڑوس، فرشتوں کا سلام اور جنت الفردوس مقام۔ مسند کی حدیث میں ہے { جانتے بھی ہو کہ سب سے پہلے جنت میں کون جائیں گے؟ لوگوں نے کہا اللہ کو علم ہے اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ فرمایا: سب سے پہلے جنتی مساکین مہاجرین ہیں جو دنیا کی لذتوں سے دور تھے جو تکلیفوں میں مبتلا تھے جن کی امنگیں دلوں میں ہی رہ گئیں اور قضاء آگئی۔ رحمت کے فرشتوں کو حکم الٰہی ہوگا کہ ’ جاؤ انہیں مبارک باد دو ‘ فرشتے کہیں گے ”اللہ ہم تیرے آسمانوں کے رہنے والے تیری بہترین مخلوق ہیں کیا تو ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم جا کر انہیں سلام کریں اور انہیں مبارک باد پیش کریں“ جناب باری جواب دے گا ’ یہ میرے وہ بندے ہیں جنہوں نے صرف میری عبادت کی میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا دنیوی راحتوں سے محروم رہے مصیبتوں میں مبتلا رہے کوئی مراد پوری ہونے نہ پائی اور یہ صابر و شاکر رہے ‘،اب تو فرشتے جلدی جلدی بصد شوق ان کی طرف دوڑیں گے ادھر ادھر کے ہر ایک دروازے سے گھسیں گے اور سلام کر کے مبارک پیش کریں گے }۔ ۱؎ [مسند احمد:168/2:صحیح] ‏‏‏‏ طبرانی میں ہے کہ { سب سے پہلے جنت میں جانے والے تین قسم کے لوگ ہیں فقراء مہاجرین جو مصیبتوں میں مبتلا رہے، جب انہیں حکم ملا بجا لاتے رہے، انہیں ضرورتیں بادشاہوں سے ہوتی تھیں لیکن مرتے دم تک پوری نہ ہوئیں۔ جنت کو بروز قیامت اللہ تعالیٰ اپنے سامنے بلائے گا وہ بنی سنوری اپنی تمام نعمتوں اور تازگیوں کے ساتھ حاضر ہوگی اس وقت ندا ہوگی کہ ’ میرے وہ بندے جو میری راہ میں جہاد کرتے تھے، میری راہ میں ستائے جاتے تھے، میری راہ میں لڑتے بھڑتے تھے وہ کہاں ہیں؟ آؤ بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں چلے جاؤ ‘۔ اس وقت فرشتے اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے اور عرض کریں گے کہ پروردگار ہم تو صبح شام تیری تسبیح وتقدیس میں لگے رہے یہ کون ہیں جنہیں ہم پر بھی تو نے فضیلت عطا فرمائی؟ اللہ رب العزت فرمائے گا ’ یہ میرے وہ بندے ہیں جنہوں نے میری راہ میں جہاد کیا میری راہ میں تکلیفیں برداشت کیں ‘۔ اب تو فرشتے جلدی کر کے ان کے پاس ہر ایک دروازے سے جا پہنچیں گے سلام کریں گے اور مبارک بادیاں پیش کریں گے کہ تمہیں تمہارے صبر کا بدلہ کتنا اچھا ملا }۔ ۱؎ [مسند احمد:168/2:صحیح] ‏‏‏‏

ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”مومن جنت میں اپنے تخت پر با آرام نہایت شان سے تکیہ لگائے بیٹھا ہوا ہوگا خادموں کی قطاریں ادھر ادھر کھڑی ہوں گی جو دروازے والے خادم سے فرشتہ اجازت مانگے گا وہ یکے بعد دیگرے پوچھے گا یہاں تک کہ مومن سے پوچھا جائے گا۔ مومن اجازت دے گا کہ اسے آنے دو یونہی ایک دوسرے کو پیغام پہنچائے گا اور آخری خادم فرشتے کو اجازت دے گا اور دروازہ کھول دے گا۔ وہ آئے گا اور سلام کرے گا اور چلا جائے گا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:377/7:] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال کے آخر پر شہداء کی قبروں پر آتے اور کہتے «سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ» ۱؎ [13-الرعد:24] ‏‏‏‏ اور اسی طرح ابوبکر عمر عثمان بھی رضی اللہ عنہم بھی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:20344:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏اس کی سند ٹھیک نہیں)‏‏‏‏‏‏‏‏۔
23۔ 1 عدن کے معنی ہیں اقامت۔ یعنی ہمیشہ رہنے والے باغات۔ 23۔ 2 یعنی اس طرح نیک قرابت داروں کو آپس میں جمع کر دے گا تاکہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں حتٰی کہ ادنٰی درجے کے جنتی کو اعلٰی درجہ عطا فرما دے گا تاکہ وہ اپنے قرابت دار کے ساتھ جمع ہوجائے۔ فرمایا (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ 21؀) 52۔ الطور:21) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی تو ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ ان کی اولاد کو اور ان کے عملوں سے ہم کچھ گھٹائیں گے نہیں، اس سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ نیک رشتے داروں کو اللہ تعالیٰ جنت میں جمع فرما دے گا، وہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کسی کے پاس ایمان اور عمل صالح کی پونجی نہیں ہوگی، تو وہ جنت میں نہیں جائے گا، چاہے اس کے دوسرے نہایت قریبی رشتے دار جنت میں چلے گئے ہوں۔ کیونکہ جنت میں داخلہ حسب نسب کی بنیاد پر نہیں، ایمان و عمل کی بنیاد پر ہوگا۔ (من بطاء بہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ) صحیح مسلم۔ جسے اس کا عمل پیچھے چھوڑ گیا اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھائے گا۔
(آیت23) ➊ { جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا۠ …: } یہ {” عُقْبَى الدَّارِ “} سے بدل الکل ہے، یعنی وہ اچھا انجام ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے اور جنت میں داخل ہونے کے لائق ان کے باپ دادا، بیویاں اور اولادیں بھی ان کے ساتھ جنت عدن میں داخل ہوں گی۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ {”عَدْنٍ“} جنت میں ایک مقام ہے، اس صورت میں ترجمہ ہو گا ”عدن کے باغات“ اور اس صورت میں یہ {” عُقْبَى الدَّارِ “} سے بدل البعض ہو گا۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس آیت پر فرمایا، یعنی انھیں اور ان کے پیاروں کو جنت میں اکٹھا کر دیا جائے گا، خواہ باپ ہوں یا گھر والے یا اولاد جو مومن ہونے کی وجہ سے جنت میں داخلے کے لائق ہوں گے، تاکہ ان کی آنکھیں ان کے ساتھ ٹھنڈی ہوں، یہاں تک کہ نیچے درجے والے کو اونچے درجے والے کی طرف بلند کر دیا جائے گا، بغیر اس کے کہ اونچے درجے والے کا درجہ کم کیا جائے، محض اللہ تعالیٰ کے امتنان اور احسان کی وجہ سے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ }» [ الطور: ۲۱ ] ”اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد کسی بھی درجے کے ایمان کے ساتھ ان کے پیچھے چلی، ہم ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ان سے ان کے عمل میں کچھ کمی نہ کریں گے۔“ ➋ {وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ …:} جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آکر انھیں مبارک باد اور خوش خبریاں دیں گے۔
سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَی الدَّارِ ﴿ؕ۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُن سے کہیں گے کہ "تم پر سلامتی ہے، تم نے دنیا میں جس طرح صبر سے کام لیا اُس کی بدولت آج تم اِس کے مستحق ہوئے ہو" پس کیا ہی خوب ہے یہ آخرت کا گھر!
مولانا محمد جوناگڑھی
کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو، صبر کے بدلے، کیا ہی اچھا (بدلہ) ہے اس دار آخرت کا
احمد رضا خان بریلوی
سلامتی ہو تم پر تمہارے صبر کا بدلہ تو پچھلا گھر کیا ہی خوب ملا،
علامہ محمد حسین نجفی
(اور کہیں گے) سلام علیکم اس دار آخرت کا انجام کیسا اچھا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
سلام ہو تم پر اس کے بدلے جو تم نے صبر کیا۔ سو اچھا ہے اس گھر کا انجام۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بروج و بالا خانے ٭٭

وہ اچھا انجام اور بہترین گھر جنت ہے جو ہمیشگی والی اور پائیدار ہے۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت کے ایک محل کا نام عدن ہے جس میں بروج اور بالاخانے ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں، ہر دروازے پر پانچ ہزار فرشتے ہیں۔ وہ محل مخصوص ہے نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کے لیے۔ ضحاک رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ جنت کا شہر ہے جس میں انبیاء ہوں گے شہداء ہوں گے اور ہدایت کے ائمہ ہوں گے۔ ان کے آس پاس اور لوگ ہوں گے اور ان کے اردگرد اور جنتیں ہیں وہاں یہ اپنے اور چہیتوں کو بھی اپنے ساتھ دیکھیں گے۔ ان کے بڑے باپ دادے، ان کے چھوٹے بیٹے پوتے، ان کے جوڑے جو بھی ایماندار اور نیکو کار تھے ان کے پاس ہوں گے اور راحتوں سے مسرور ہوں گے جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی۔ یہاں تک کہ اگر کسی کے عمل اس درجہ بلند تک پہنچنے کے قابل نہ بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے درجے بڑھا دے گا جیسے «وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ» ۱؎ [52-الطور:21] ‏‏‏‏ ’ جن ایمانداروں کی اولاد ان کی پیروی ایمان میں کرتی ہے ہم انہیں بھی ان کے ساتھ ملا دیتے ہیں ان کے پاس مبارک باد اور سلام کے لیے ہر ہر دروازے سے ہر وقت فرشتے آتے رہتے ہیں یہ بھی اللہ کا انعام ہے تاکہ یہ ہر وقت خوش رہیں اور بشارتیں سنتے رہیں ‘۔ نبیوں، صدیقوں، شہیدوں کا پڑوس، فرشتوں کا سلام اور جنت الفردوس مقام۔ مسند کی حدیث میں ہے { جانتے بھی ہو کہ سب سے پہلے جنت میں کون جائیں گے؟ لوگوں نے کہا اللہ کو علم ہے اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ فرمایا: سب سے پہلے جنتی مساکین مہاجرین ہیں جو دنیا کی لذتوں سے دور تھے جو تکلیفوں میں مبتلا تھے جن کی امنگیں دلوں میں ہی رہ گئیں اور قضاء آگئی۔ رحمت کے فرشتوں کو حکم الٰہی ہوگا کہ ’ جاؤ انہیں مبارک باد دو ‘ فرشتے کہیں گے ”اللہ ہم تیرے آسمانوں کے رہنے والے تیری بہترین مخلوق ہیں کیا تو ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم جا کر انہیں سلام کریں اور انہیں مبارک باد پیش کریں“ جناب باری جواب دے گا ’ یہ میرے وہ بندے ہیں جنہوں نے صرف میری عبادت کی میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا دنیوی راحتوں سے محروم رہے مصیبتوں میں مبتلا رہے کوئی مراد پوری ہونے نہ پائی اور یہ صابر و شاکر رہے ‘،اب تو فرشتے جلدی جلدی بصد شوق ان کی طرف دوڑیں گے ادھر ادھر کے ہر ایک دروازے سے گھسیں گے اور سلام کر کے مبارک پیش کریں گے }۔ ۱؎ [مسند احمد:168/2:صحیح] ‏‏‏‏ طبرانی میں ہے کہ { سب سے پہلے جنت میں جانے والے تین قسم کے لوگ ہیں فقراء مہاجرین جو مصیبتوں میں مبتلا رہے، جب انہیں حکم ملا بجا لاتے رہے، انہیں ضرورتیں بادشاہوں سے ہوتی تھیں لیکن مرتے دم تک پوری نہ ہوئیں۔ جنت کو بروز قیامت اللہ تعالیٰ اپنے سامنے بلائے گا وہ بنی سنوری اپنی تمام نعمتوں اور تازگیوں کے ساتھ حاضر ہوگی اس وقت ندا ہوگی کہ ’ میرے وہ بندے جو میری راہ میں جہاد کرتے تھے، میری راہ میں ستائے جاتے تھے، میری راہ میں لڑتے بھڑتے تھے وہ کہاں ہیں؟ آؤ بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں چلے جاؤ ‘۔ اس وقت فرشتے اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے اور عرض کریں گے کہ پروردگار ہم تو صبح شام تیری تسبیح وتقدیس میں لگے رہے یہ کون ہیں جنہیں ہم پر بھی تو نے فضیلت عطا فرمائی؟ اللہ رب العزت فرمائے گا ’ یہ میرے وہ بندے ہیں جنہوں نے میری راہ میں جہاد کیا میری راہ میں تکلیفیں برداشت کیں ‘۔ اب تو فرشتے جلدی کر کے ان کے پاس ہر ایک دروازے سے جا پہنچیں گے سلام کریں گے اور مبارک بادیاں پیش کریں گے کہ تمہیں تمہارے صبر کا بدلہ کتنا اچھا ملا }۔ ۱؎ [مسند احمد:168/2:صحیح] ‏‏‏‏

ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”مومن جنت میں اپنے تخت پر با آرام نہایت شان سے تکیہ لگائے بیٹھا ہوا ہوگا خادموں کی قطاریں ادھر ادھر کھڑی ہوں گی جو دروازے والے خادم سے فرشتہ اجازت مانگے گا وہ یکے بعد دیگرے پوچھے گا یہاں تک کہ مومن سے پوچھا جائے گا۔ مومن اجازت دے گا کہ اسے آنے دو یونہی ایک دوسرے کو پیغام پہنچائے گا اور آخری خادم فرشتے کو اجازت دے گا اور دروازہ کھول دے گا۔ وہ آئے گا اور سلام کرے گا اور چلا جائے گا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:377/7:] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال کے آخر پر شہداء کی قبروں پر آتے اور کہتے «سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ» ۱؎ [13-الرعد:24] ‏‏‏‏ اور اسی طرح ابوبکر عمر عثمان بھی رضی اللہ عنہم بھی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:20344:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏اس کی سند ٹھیک نہیں)‏‏‏‏‏‏‏‏۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت24) ➊ { سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ:سَلٰمٌ “} کا مطلب ہے کہ اب تم ہر مصیبت، رنج و غم اور پریشانی سے محفوظ ہو گئے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس کی مناسبت سے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما کی حدیث نقل فرمائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ هَلْ تَدْرُوْنَ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ خَلْقِ اللّٰهِ؟ قَالُوْا اَللّٰهُ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ، قَالَ أَوَّلُ مَنْ يَّدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ خَلْقِ اللّٰهِ الْفُقَرَاءُ الْمُهَاجِرُوْنَ الَّذِيْنَ تُسَدُّ بِهِمُ الثُّغُوْرُ وَيُتَّقٰی بِهِمُ الْمَكَارِهُ، وَ يَمُوْتُ أَحَدُهُمْ وَ حَاجَتُهُ فِيْ صَدْرِهِ، لاَ يَسْتَطِيْعُ لَهَا قَضَاءً، فَيَقُوْلُ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ مَلاَئِكَتِهِ إئْتُوْهُمْ فَحَيُّوْهُمْ فَتَقُوْلُ الْمَلاَئِكَةُ نَحْنُ سُكَّانُ سَمَائِكَ وَ خَيْرَتُكَ مِنْ خَلْقِكَ، أَفَتَأْمُرُنَا أَنْ نَّأْتِيَ هٰؤُلاَءِ فَنُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ؟ قَالَ إِنَّهُمْ كَانُوْا عِبَادًا يَعْبُدُوْنِيْ، لاَ يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْئًا، وَ تُسَدُّ بِهِمُ الثُّغُوْرُ وَ يُتَّقَی بِهِمُ الْمَكَارِهُ، وَ يَمُوْتُ أَحَدُهُمْ وَ حَاجَتُهُ فِيْ صَدْرِهِ، لاَ يَسْتَطِيْعُ لَهَا قَضَاءً، قَالَ فَتَأْتِيْهِمُ الْمَلاَئِكَةُ عِنْدَ ذٰلِكَ، فَيَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَابٍ: «سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ» ‏‏‏‏ ] [ مسند أحمد: 168/2، ح: ۶۵۷۸۔ ابن حبان: ۷۴۲۱۔ قال شعیب الأرنؤط و إسنادہ جید ] ”کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کی مخلوق میں سے جنت میں سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟“ لوگوں نے کہا: ”اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔“ فرمایا: ”اللہ کی مخلوق میں سے جنت میں سب سے پہلے فقراء اور مہاجرین داخل ہوں گے، جن کے ذریعے سے سرحدیں محفوظ کی جاتی تھیں اور ناپسندیدہ حالات سے بچا جاتا تھا اور ان میں سے کوئی فوت ہوتا تو اس کی دلی خواہش اس کے سینے ہی میں باقی ہوتی تھی، وہ اسے پورا نہیں کر سکتا تھا تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں میں سے جنھیں چاہے گا حکم دے گا کہ ان کے پاس جاؤ اور انھیں سلام کرو۔ فرشتے کہیں گے: ”ہم تیرے آسمان کے رہنے والے اور تیری مخلوق میں سے تیرے چنے ہوئے ہیں، کیا تو ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم ان کے پاس جائیں اور انھیں سلام پیش کریں۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”یہ میرے بندے تھے، میری بندگی کرتے تھے، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتے تھے، ان کے ساتھ سرحدیں محفوظ رکھی جاتی تھیں اور ان کے ذریعے سے ناپسندیدہ حالات سے بچا جاتا تھا، ان میں سے کوئی فوت ہوتا تو اس حال میں کہ اس کی دلی خواہش اس کے سینے ہی میں ہوتی، وہ اسے پورا نہیں کر سکتا تھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چنانچہ فرشتے اس وقت ان کے پاس آئیں گے اور ہر دروازے سے ان کے پاس داخل ہوں گے (اور کہیں گے): ”سلام ہو تم پر اس کے بدلے جو تم نے صبر کیا، سو اچھا ہے اس گھر کا انجام۔“ ➋ { بِمَا صَبَرْتُمْ …:} معلوم ہوا ایمان قبول کرنے کے بعد ہر حکم بجا لانے پر ہمیشگی، ہر برائی سے اجتناب، اللہ کی ہر تقدیر پر قناعت کرتے ہوئے ہر مصیبت و راحت میں اللہ تعالیٰ پر خوش رہنا، غرض دین کی ہر بات پر استقامت کی بنیاد صبر ہی ہے اور اس کی جزا کا بھی کوئی حساب نہیں، فرمایا: «{ اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ }» [ الزمر: ۱۰ ] ”صرف صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر بغیر حساب دیا جائے گا۔“
وَ الَّذِیۡنَ یَنۡقُضُوۡنَ عَہۡدَ اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مِیۡثَاقِہٖ وَ یَقۡطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَ یُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ۙ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ اللَّعۡنَۃُ وَ لَہُمۡ سُوۡٓءُ الدَّارِ ﴿۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں، جو اُن رابطوں کو کاٹتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، اور جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، وہ لعنت کے مستحق ہیں اور ان کے لیے آخرت میں بہت برا ٹھکانا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو اللہ کے عہد کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن چیزوں کےجوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے انہیں توڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ان کے لئے لعنتیں ہیں اور ان کے لئے برا گھر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو اللہ کا عہد اس کے پکے ہونے کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور اُن کا نصیبہ بُرا گھر
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ اللہ کے عہد و پیمان کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑتے ہیں اور جن رشتوں کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو توڑتے ہیں اور جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں یہ وہ ہیں جن کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے برا گھر (جہنم) ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو اسے پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور اس چیز کو کاٹ دیتے ہیں جس کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے کہ اسے ملایا جائے اور زمین میں فساد کرتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے لعنت ہے اور انھی کے لیے اس گھر کی خرابی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومنین کی صفات ٭٭

مومنوں کی صفتیں اوپر بیان ہوئیں کہ ’ وہ وعدے کے پورے، رشتوں ناتوں کے ملانے والے ہوتے ہیں ‘۔ پھر ان کا اجر بیان ہوا کہ ’ وہ جنتوں کے مالک بینں گے ‘۔ اب یہاں ان بدنصیبوں کا ذکر ہو رہا ہے جو ان کے خلاف خصائل رکھتے تھے نہ اللہ کے وعدوں کا لحاظ کرتے تھے نہ صلہ رحمی اور احکام الٰہی کی پابندی کا خیال رکھتے تھے یہ لعنتی گروہ ہے اور برے انجام والا ہے۔ حدیث میں ہے { منافق کی تین نشانیاں ہیں باتوں میں جھوٹ بولنا، وعدوں کا خلاف کرنا، امانت میں خیانت کرنا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33] ‏‏‏‏ ایک حدیث میں ہے { جھگڑوں میں گالیاں بکنا } ۱؎ [صحیح بخاری:34] ‏‏‏‏ اس قسم کے لوگ رحمت الٰہی سے دور ہیں ان کا انجام برا ہے یہ جہنمی گروہ ہے۔ یہ چھ خصلتیں ہوئیں جو منافقین سے اپنے غلبہ کے وقت ظاہر ہوتی ہیں باتوں میں جھوٹ، وعدہ خلافی، امانت میں خیانت، اللہ کے عہد کو توڑ دینا اللہ کے ملانے کے حکم کی چیزوں کو نہ ملانا۔ ملک میں فساد پھیلانا، اور یہ دبے ہوئے ہوتے ہیں تب بھی جھوٹ وعدہ خلافی اور خیانت کرتے ہیں۔
25۔ 1 یہ نیکوں کے ساتھ بروں کا حشر بیان فرما دیا تاکہ انسان اس حشر سے بچنے کی کوشش کرے۔
(آیت25){وَ الَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ …:} قرآن مجید نے اپنے اسلوب کے مطابق کہ وہ ایمان کے ساتھ کفر، نیکی کے ساتھ بدی، جنت کے ساتھ جہنم کا ذکر کرتا ہے، عہد وفا کرنے والوں کی صفات اور ان کے اچھے انجام کے بعد عہد توڑنے والوں کی صفات بد اور ان کا برا انجام ذکر فرمایا ہے۔
اَللّٰہُ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ ؕ وَ فَرِحُوۡا بِالۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا فِی الۡاٰخِرَۃِ اِلَّا مَتَاعٌ ﴿٪۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ جس کو چاہتا ہے رزق کی فراخی بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ نپا تلا رزق دیتا ہے یہ لوگ دنیوی زندگی میں مگن ہیں، حالانکہ د نیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک متاع قلیل کے سوا کچھ بھی نہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ جس کی روزی چاہتا ہے بڑھاتا ہے اور گھٹاتا ہے یہ تو دنیا کی زندگی میں مست ہو گئے۔ حاﻻنکہ دنیا آخرت کے مقابلے میں نہایت (حقیر) پونجی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ جس کے لیے چاہے رزق کشادہ اور تنگ کرتا ہے، اور کا فر دنیا کی زندگی پر اترا گئے (نازاں ہوئے) اور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابل نہیں مگر کچھ دن برت لینا،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ جس کے رزق کو چاہتا ہے کشادہ کر دیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے اور یہ (کافر) لوگ دنیوی زندگی سے خوش ہیں حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کی زندگی کے مقابلہ میں صرف ناپائیدار فائدہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ رزق فراخ کر دیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کردیتا ہے اور وہ دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے، حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلہ میں تھوڑے سے سامان کے سوا کچھ نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسئلہ رزق ٭٭

اللہ جس کی روزی میں کشادگی دینا چاہے قادر ہے، جسے تنگ روزی دینا چاہے قادر ہے، یہ سب کچھ حکمت وعدل سے ہو رہا ہے۔ کافروں کو دنیا پر ہی سہارا ہوگیا۔ یہ آخرت سے غافل ہو گئے سمجھنے لگے کہ یہاں رزق کی فراوانی حقیقی اور بھلی چیز ہے حالانکہ دراصل یہ مہلت ہے اور آہستہ پکڑ کی شروع ہے لیکن انہیں کوئی تمیز نہیں۔ «قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا» ۱؎ [4-النساء:77] ‏‏‏‏ ’ مومنوں کو جو آخرت ملنے والی ہے اس کے مقابل تو یہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں یہ نہایت ناپائیدار اور حقیر چیز ہے آخرت بہت بڑی اور بہتر چیز۔ لیکن عموماً لوگ دینا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمہ کی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ اسے کوئی سمندر میں ڈبو لے اور دیکھے کہ اس میں کتنا پانی آتا ہے؟ جتنا یہ پانی سمندر کے مقابلے پر ہے اتنی ہی دنیا آخرت کے مقابلے میں ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2858] ‏‏‏‏ { ایک چھوٹے چھوٹے کانوں والی بکری کے مرے ہوئے بچے کو راستے میں پڑا ہوا دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جیسا یہ ان لوگوں کے نزدیک ہے جن کا یہ تھا اس سے بھی زیادہ بے کار اور ناچیز اللہ کے سامنے ساری دنیا ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:29570] ‏‏‏‏
26۔ 1 جب کافروں اور مشرکوں کے لئے یہ کہا کہ ان کے لئے برا گھر ہے، تو ذہن میں یہ اشکال آ سکتا ہے کہ دنیا میں تو انھیں ہر طرح کی آسائشیں اور سہولتیں مہیا ہیں۔ اس کے ازالے کے لئے فرمایا کہ دنیاوی اسباب اور رزق کی کمی بیشی یہ اللہ کے اختیار میں ہے وہ اپنی حکمت و مشیت، جس کو صرف وہی جانتا ہے، کے مطابق کسی کو زیادہ دیتا ہے کسی کو کم رزق کی فروانی، اس بات کی دلیل ؛ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہے اور کمی کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہے۔ 26۔ 2 کسی کو اگر دنیا کا مال زیادہ مل رہا ہے، باوجودیکہ وہ اللہ کا نافرمان ہے تو یہ مقام فرحت و مسرت نہیں، کیونکہ یہ استدراج ہے، مہلت ہے پتہ نہیں کب یہ مہلت ختم ہوجائے اور اللہ کی پکڑ کے شکنجے میں آجائے۔ 26۔ 3 حدیث میں آتا ہے کہ دنیا کی حیثیت، آخرت کے مقابلے میں اس طرح ہے جیسے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈال کر نکالے، تو دیکھے سمندر کے پانی کے مقابلے میں اس کی انگلی میں کتنا پانی آیا ہے؟ (صحیح بخاری) ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر بکری کے ایک مردہ بچے کے پاس سے ہوا، تو اسے دیکھ کر آپ نے فرمایا، اللہ کی قسم دنیا، اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ حقیر ہے جتنا یہ مردہ، اپنے مالکوں کے نزدیک اس وقت حقیر تھا جب انہوں نے اسے پھینکا (صحیح مسلم)
(آیت26) ➊ { اَللّٰهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ …:} بہت سے لوگوں کی گمراہی کا سبب یہ شبہ بن جاتا ہے کہ اللہ کے نافرمان دنیا میں خوش حال کیوں ہیں؟ اس کا جواب دیا، یعنی دنیا میں رزق کی فراوانی یا تنگی کوئی معیار نہیں ہے، جس کے لحاظ سے کسی شخص کے اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ یا غیر پسندیدہ ہونے کا فیصلہ کیا جائے، بسا اوقات وہ کافر کو خوب سامانِ عیش دیتا ہے اور مومن پر تنگ دستی وارد کرتا ہے، تاکہ دونوں کی آزمائش کی جائے، مومن اپنے صبر و شکر کی وجہ سے آخرت میں بلند درجات پاتا ہے اور کافر ناکام رہتا ہے، اس لیے آخرت میں اس کا ٹھکانا برا ہوتا ہے، لہٰذا گمراہ لوگوں کی بداعمالیوں کے باوجود ان کے عیش و عشرت سے کسی کو دھوکا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ محض مہلت ہے جو کافر کو دنیا میں دی جاتی ہے۔ (روح المعانی) ➋ { وَ فَرِحُوْا بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا …: ” مَتَاعٌ “} کی تنوین تقلیل وتحقیر کے لیے ہے، یعنی معمولی، تھوڑا سا بے قدر و قیمت سامان، یعنی کفار دنیا کی زندگی کی آسائشوں پر پھول رہے ہیں، حالانکہ یہ آخرت کے مقابلے میں محض معمولی اور بے حقیقت تھوڑی دیر کا سامان ہے۔ مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَاللّٰهِ! مَا الدُّنْيَا فِيْ الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ هٰذِهِ ــ وَأَشَارَ يَحْيَی بِالسَّبَّابَةِ ــ فِي الْيَمِّ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ بِمَ تَرْجِعُ ] [مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب فناء الدنیا…: ۲۸۵۸ ] ”اللہ کی قسم! دنیا آخرت کے مقابلے میں اس مثال کے سوا کچھ نہیں کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی یہ انگلی۔“ اور راوی یحییٰ نے شہادت کی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا ”سمندر میں ڈالے، پھر دیکھے کہ وہ کیا چیز لے کر واپس آتی ہے۔“ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ نَامَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰی حَصِيْرٍ فَقَامَ وَقَدْ أَثَّرَ فِيْ جَنْبِهِ، فَقُلْنَا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! لَوِ اتَّخَذْنَا لَكَ وِطَاءً، فَقَالَ مَا لِيْ وَ لِلدُّنْيَا، مَا أَنَا فِي الدُّنْيَا إِلاَّ كَرَاكِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ، ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا ] [ ترمذی، الزھد، باب حدیث ما الدنیا إلا کراکب استظل: ۲۳۷۷ ] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی پر سوئے، اٹھے تو چٹائی نے آپ کے پہلو پر اپنے نشان لگا دیے تھے۔ ہم نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! اگر ہم آپ کے لیے نرم بستر بنا دیں تو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا اور دنیا کا کیا تعلق! میں تو دنیا میں محض اس سوار کی طرح ہوں جس نے ایک درخت کے سائے میں آرام کیا، پھر اسے چھوڑ کر آگے چل دیا۔“
وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ قُلۡ اِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ اَنَابَ ﴿ۖۚ۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ لوگ جنہوں نے (رسالت محمدیؐ کو ماننے سے) انکار کر دیا ہے کہتے ہیں "اِس شخص پر اِس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری" کہو، اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کو دکھاتا ہے جو اُس کی طرف رجوع کرے
مولانا محمد جوناگڑھی
کافر کہتے ہیں کہ اس پر کوئی نشانی (معجزه) کیوں نازل نہیں کیا گیا؟ جواب دے دیجئے کہ جسے اللہ گمراه کرنا چاہے کر دیتا ہے اور جو اس کی طرف جھکے اسے راستہ دکھا دیتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کافر کہتے ان پر کوئی نشانی ان کے رب کی طرف سے کیوں نہ اتری، تم فرماؤ بیشک اللہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اور اپنی راہ اسے دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع لائے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ (اگر یہ نبی برحق ہیں) تو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر (ہماری پسند کی) کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی؟ کہہ دیجیئے! اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اسے ہدایت کرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جن لوگوں نے کفر کیا کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی۔ کہہ دے بے شک اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اپنی طرف اسے راستہ دیتا ہے جو رجوع کرے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کے اعتراض ٭٭

مشرکین کا ایک اعتراض بیان ہو رہا ہے کہ ’ اگلے نبیوں کی طرح یہ ہمیں ہمارا کہا ہوا کوئی معجزہ کیوں نہیں دکھاتا؟ ‘ اس کی پوری بحث کئی بار گزر چکی کہ اللہ کو قدرت تو ہے لیکن اگر پھر بھی یہ ٹس سے مس نہ ہوئے تو انہیں نیست و نابود کر دیا جائے گا۔ حدیث میں ہے کہ { اللہ کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آئی کہ ’ ان کی چاہت کے مطابق میں صفا پہاڑ کو سونے کا کر دیتا ہوں، زمین عرب میں میٹھے دریاؤں کی ریل پیل کر دیتا ہوں، پہاڑی زمین کو زراعتی زمین سے بدل دیتا ہوں لیکن پھر بھی اگر یہ ایمان نہ لائے تو انہیں وہ سزا دوں گا جو کسی کو نہ ہوتی ہو۔ اگر چاہوں تو یہ کر دوں اور اگر چاہوں تو ان کے لیے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھلا رہنے دوں ‘، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری صورت پسند فرمائی }۔ ۱؎ [مسند احمد:242/1:صحیح] ‏‏‏‏ سچ ہے ہدایت ضلالت اللہ کے ہاتھ ہے وہ کسی معجزے کے دیکھنے پر موقوف نہیں، «وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» ۱؎ [10-یونس:101] ‏‏‏‏ ’ بے ایمانوں کے لیے نشانات اور ڈراوے سب بےسود ہیں ‘۔ «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-یونس:96-97] ‏‏‏‏ ’ جن پر کلمہ عذاب صادق ہو چکا ہے وہ تمام تر نشانات دیکھ کر بھی مان کر نہ دیں گے ہاں عذابوں کو دیکھ تو پورے ایماندار بن جائیں گے لیکن وہ محض بے کار چیز ہے ‘۔ فرماتا ہے «وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» ۱؎ [ 6-الأنعام: 111 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ اگر ہم ان پر فرشتے اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے اور ہر چھپی چیز ان کے سامنے ظاہر کر دیتے تب بھی انہیں ایمان نصیب نہ ہوتا۔ ہاں اگر اللہ چاہے تو اور بات ہے لیکن ان میں اکثر جاہل ہیں ‘۔ جو اللہ کی طرف جھکے اس سے مدد چاہے اس کی طرف عاجزی کرے وہ راہ یافتہ ہو جاتا ہے۔ جن کے دلوں میں ایمان جم گیا ہے جن کے دل اللہ کی طرف جھکتے ہیں، اس کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں، راضی خوشی ہو جاتے ہیں اور فی الواقع ذکر اللہ اطمینان دل کی چیز بھی ہے۔ ایمانداروں اور نیک کاروں کے لیے خوشی، نیک فالی اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ ان کا انجام اچھا ہے، یہ مستحق مبارک باد ہیں یہ بھلائی کو سمیٹنے والے ہیں ان کا لوٹنا بہتر ہے، ان کا مال نیک ہے۔

مروی ہے کہ طوبٰی سے مراد ملک حبش ہے اور نام ہے جنت کا اور اس سے مراد جنت ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جنت کی جب پیدائش ہو چکی اس وقت جناب باری نے یہی فرمایا تھا۔‏‏‏‏“ کہتے ہیں کہ ”جنت میں ایک درخت کا نام بھی طوبی ہے کہ ساری جنت میں اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں، ہر گھر میں اس کی شاخ موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے، لولو کے دانے سے پیدا کیا ہے اور بحکم الٰہی یہ بڑھا اور پھیلا ہے۔ اس کی جڑوں سے جنتی شہد، شراب، پانی اور دودھ کی نہریں جاری ہوتی ہیں۔‏‏‏‏“ ایک مرفوع حدیث میں ہے { طوبی نامی جنت کا ایک درخت ہے سو سال کے راستے کا۔ اسی کے خوشوں سے جنتیوں کے لباس نکلتے ہیں }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1241،] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اسے مبارک ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں اسے بھی مبارک ہو۔ اور اسے دوگنا مبارک ہو جس نے مجھے نہ دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا }۔ ایک شخص نے پوچھا طوبیٰ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جنتی درخت ہے جو سو سال کی راہ تک پھیلا ہوا ہے جنتیوں کے لباس اس کی شاخوں سے نکلتے ہیں } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1241،] ‏‏‏‏ بخاری مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جنت میں ایک درخت ہے کہ سوار ایک سو سال تک اس کے سائے میں چلتا رہے گا لیکن وہ ختم نہ ہو گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6552] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ چال بھی تیز اور سواری بھی تیز چلنے والی } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6553] ‏‏‏‏ صحیح بخاری شریف میں آیت «وَظِلٍّ مَّمْدُودٍ» ۱؎ [56-الواقعة:30] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں بھی یہی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4881] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { ستر یا سو سال اس کا نام شجرۃ الخلد ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:455/2:صحیح دون الجملة] ‏‏‏‏ { سدرۃ المنتہیٰ کے ذکر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے { اس کی شاخ کے سائے تلے ایک سو سال تک سوار چلتا رہے گا اور سو سو سوار اس کی ایک ایک شاخ تلے ٹھہر سکتے ہیں۔ اس میں سونے کی ٹڈیاں ہیں، اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں کے برابر ہیں } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:4541،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر جنتی کو طوبیٰ کے پاس لے جائیں گے اور اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس شاخ کو چاہے پسند کرے۔ سفید، سرخ، زرد سیاہ جو نہایت خوبصورت نرم اور اچھی ہوں گی } }۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:112/4:ضعیف] ‏‏‏‏

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”طوبٰی کو حکم ہوگا کہ ’ میرے بندوں کے لیے بہترین چیزیں ٹپکا ‘۔ تو اس میں سے گھوڑے اور اونٹ برسنے لگیں گے، سجے سجائے اور زین لگام وغیرہ کسے کسائے عمدہ بہترین لباس وغیرہ۔‏‏‏‏“ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس جگہ ایک عجیب وغریب اثر وارد کیا ہے۔ رہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جنت میں ایک درخت ہے جس کا نام طوبیٰ ہے جس کے سائے تلے سوار سو سال تک چلتا رہے گا لیکن راستہ ختم نہ ہوگا۔ اس کی تروتازگی کھلے ہوئے چمن کی طرح ہے اس کے پتے بہترین اور عمدہ ہیں اس کے خوشے عنبریں ہیں اس کے کنکر یاقوت ہیں اس کی مٹی کافور ہے اس کا گارا مشک ہے اس کی جڑ سے شراب، دودھ، اور شہد کی نہریں بہتی ہیں۔ اس کے نیچے جنتیوں کی مجلسیں ہوں گی، یہ بیٹھے ہوئے ہوں گے جو ان کے پاس فرشتے اونٹنیاں لے کر آیئں گے۔ جن کی زنجریں سونے کی ہوں گی، جن پر یاقوت کے پالان ہوں گے جن پر سونا جڑاؤ ہو رہا ہو گا جن پر ریشمی جھولیں ہوں گی۔ وہ اونٹنیاں ان کے سامنے پیش کریں گے اور کہیں گے کہ یہ سواریاں تمہیں بھجوائی گئی ہیں اور دربار الٰہی میں تمہارا بلاوا ہے، یہ ان پر سوار ہوں گے، وہ پرندوں کی پرواز سے بھی تیز رفتار ہوں گی۔ جنتی ایک دوسرے سے مل کر چلیں گے وہ خودبخود ہٹ جائیں گے کہ کسی کو اپنے ساتھی سے الگ نہ ہونا پڑے یونہی رحمن و رحیم رب کے پاس پہنچیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے چہرے سے پردے ہٹا دے گا یہ اپنے رب کے چہرہ کو دیکھیں گے اور کہیں گے «اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَام وَمِنْك السَّلَام وَحُقَّ لَك الْجَلَال وَالْإِكْرَام» ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ رب العزت فرمائے گا ’ «أَنَا السَّلَام وَمِنِّي السَّلَام وَعَلَيْكُمْ» تم پر میری رحمت ثابت ہو چکی اور محبت بھی ‘۔ میرے ان بندوں کو مرحبا ہو جو بن دیکھے مجھ سے ڈرتے رہے میری فرماں برداری کرتے رہے جنتی کہیں گے باری تعالیٰ نہ تو ہم سے تیری عبادت کا حق ادا ہوا نہ تیری پوری قدر ہوئی ہمیں اجازت دے کہ تیرے سامنے سجدہ کریں اللہ فرمائے گا ’ یہ محنت کی جگہ نہیں نہ عبادت کی یہ تو نعمتوں راحتوں اور مالا مال ہونے کی جگہ ہے۔ عبادتوں کی تکلیف جاتی رہی مزے لوٹنے کے دن آ گئے جو چاہو مانگو، پاؤ گے۔ تم میں سے جو شخص جو مانگے میں اسے دوں گا ‘۔ پس یہ مانگیں گے کم سے کم سوال والا کہے گا کہ اللہ تو نے دنیا میں جو پیدا کیا تھا جس میں تیرے بندے ہائے وائے کر رہے تھے۔ میں چاہتا ہوں کہ شروع دنیا سے ختم دنیا تک دنیا میں جتنا کچھ تھا مجھے عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ تو نے تو کچھ نہ مانگا اپنے مرتبے سے بہت کم چیز مانگی، اچھا ہم نے دی۔ میری بخشش اور دین میں کیا کمی ہے؟ ‘ پھر فرمائے گا ’ جن چیزوں تک میرے ان بندوں کے خیالات کی رسائی بھی نہیں وہ انہیں دو ‘ چنانچہ دی جائیں گی یہاں تک کہ ان کی خواہشیں پوری ہو جائیں گی۔ ان چیزوں میں جو انہیں یہاں ملیں گی تیز رو گھوڑے ہوں گے ہر چار پر یاقوتی تخت ہو گا ہر تخت پر سونے کا ایک ڈیرا ہو گا ہر ڈیرے میں جنتی فرش ہو گا جن پر بڑی بڑی آنکھوں والی دو دو حوریں ہوں گی جو دو دو حلے پہنے ہوئے ہوں گی جن میں جنت کے تمام رنگ ہوں گے اور تمام خوشبوئیں۔ ان خیموں کے باہر سے ان کے چہرے ایسے چمکتے ہوں گے گویا وہ باہر بیٹھی ہیں ان کی پنڈلی کے اندر کا گودا باہر سے نظر آ رہا ہو گا جیسے سرخ یاقوت میں ڈورا پرویا ہوا ہو اور وہ اوپر سے نظر آ رہا ہو۔‏‏‏‏“

”ہر ایک دوسری پر اپنی فضیلت ایسی جانتی ہوگی جیسی فضیلت سورج کی پتھر پر اس طرح جنتی کی نگاہ میں بھی دونوں ایسی ہی ہوں گی۔ یہ ان کے پاس جائے گا اور ان سے بوس وکنار میں مشغول ہو جائے گا۔ وہ دونوں اسے دیکھ کر کہیں گی واللہ ہمارے تو خیال میں بھی نہ تھا کہ اللہ تم جیسا خاوند ہمیں دے گا۔ اب بحکم الٰہی اسی طرح صف بندی کے ساتھ سواریوں پر یہ واپس ہوں گے اور اپنی منزلوں میں پہنچیں گے۔ دیکھو تو سہی کہ رب وہاب نے انہیں کیا کیا نعمتیں عطا فرما رکھی ہیں؟ وہاں بلند درجہ لوگوں میں اونچے اونچے بالا خانوں میں جو نرے موتی کے بنے ہوئے ہوں گے جن کے دروازے سونے کے ہوں گے، جن کے منبر نور کے ہوں گے جن کی چمک سورج سے بالا تر ہو گی۔ اعلیٰ علیین میں ان کے محل ہوں گے۔ یاقوت کے بنے ہوئے۔ نورانی۔ جن کے نور سے آنکھوں کی روشنی جاتی رہے لیکن اللہ تعالیٰ ان کی آنکھیں ایسی نہ کر دے گا۔ جو محلات یاقوت سرخ کے ہوں گے ان میں سبز ریشمی فرش ہوں گے اور جو زمرد و یاقوت کے ہوں گے ان کے فرش سرخ مخمل کے ہوں گے۔ جو زمرد اور سونے کے جڑاؤ کے ہوں گے ان تختوں کے پائے جواہر کے ہوں گے، ان پر چھتیں لولو کی ہوں گی، ان کے برج مرجان کے ہوں گے۔ ان کے پہنچنے سے پہلے ہی رحمانی تحفے وہاں پہنچ چکے ہوں گے۔ سفید یاقوتی گھوڑے غلمان لیے کھڑے ہوں گے جن کا سامان چاندی کا جڑاؤ ہوگا۔ ان کے تخت پر اعلیٰ ریشمی نرم و دبیز فرش بچھے ہوئے ہوں گے یہ ان سواریوں پر سوار ہو کر بے تک لف جنت میں جائیں گے دیکھیں گے کہ ان کے گھروں کے پاس نورانی ممبروں پر فرشتے ان کے استقبال کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں وہ ان کا شاندار استقبال کریں گے۔، مبارک باد دیں گے، مصافحہ کریں گے، پھر یہ اپنے گھروں میں داخل ہوں گے۔ انعامات الٰہی وہاں موجود پائیں گے، اپنے محلات کے پاس وہ جنتیں ہری بھری پائیں گے اور جو پھلی پھولی جن میں دو چشمے پوری روانی سے جاری ہوں گے اور ہر قسم کے جوڑ دار میوے ہوں گے اور خیموں میں پاک دامن بھولی بھالی پردہ نشین حوریں ہوں گی۔ جب یہ یہاں پہنچ کر راحت و آرام میں ہوں گے اس وقت اللہ رب العزت فرمائے گا ’ میرے پیارے بندو تم نے میرے وعدے سچے پائے؟ کیا تم میرے ثوابوں سے خوش ہو گئے؟ ‘ وہ کہیں گے ”اللہ ہم خوب خوش ہو گئے؟ بہت ہی راضی رضامند ہیں دل سے راضی ہیں کلی کلی کھلی ہوئی ہے تو بھی ہم سے خوش رہ۔‏‏‏‏“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اگر میری رضا مندی نہ ہوتی تو میں اپنے اس مہمان خانے میں تمہیں کیسے داخل ہونے دیتا؟ اپنا دیدار کیسے کراتا؟ میرے فرشتے تم سے مصافحہ کیوں کرتے؟ تم خوش رہو باآرام رہو تمہیں مبارک ہو تم پھلو پھولو اور سکھ چین اٹھاؤ میرے یہ انعامات گھٹنے اور ختم ہونے والے نہیں ‘۔

”اس وقت وہ کہیں گے اللہ ہی کی ذات سزاوار تعریف ہے جس نے ہم سے غم و رنج کو دور کر دیا اور ایسے مقام پر پہنچایا کہ جہاں ہمیں کوئی تکلیف کوئی مشقت نہیں یہ اسی کا فضل ہے وہ بڑا ہی بخشنے والا اور قدر دان ہے۔‏‏‏‏“ یہ سیاق غریب ہے اور یہ اثر عجیب ہے ہاں اس کے بعض شواہد بھی موجود ہیں۔ چنانچہ صحیحین میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ اس بندے سے جو سب سے اخیر میں جنت میں جائے گا فرمائے گا مانگ جو مانگتا جائے گا اور اللہ کریم دیتا جائے گا یہاں تک کہ اس کا سوال پوار ہو جائے گا اور پائے گا۔ اب اس کے سامنے کوئی خواہش باقی نہیں رہے گی تو اب اللہ تعالیٰ خود اسے یاد دلائے گا کہ یہ مانگ یہ مانگ یہ مانگے گا اور پائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ سب میں نے تجھے دیا اور اتنا ہی اور بھی دس مرتبہ عطا فرمایا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7437] ‏‏‏‏ صحیح مسلم شریف کی قدسی حدیث میں ہے کہ { اے میرے بندو تمہارے اگلے پچھلے انسان جنات سب ایک میدان میں کھڑے ہو جائیں اور مجھ سے دعائیں کریں اور مانگیں میں ہر ایک کے تمام سوالات پورے کروں گا لیکن میرے ملک میں اتنی بھی کمی نہ آئے گی جتنی کسی سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے سمندر کے پانی میں آئے }، الخ۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2577] ‏‏‏‏ خالد بن معدان کہتے ہیں جنت کے ایک درخت کا نام طوبیٰ ہے اس میں تھن ہیں جن سے جنتیوں کے بچے دودھ پیتے ہیں کچے گرے ہوئے بچے جنت کی نہروں میں ہیں قیامت کے قائم ہونے تک پھر چالیس سال کے بن کر اپنے ماں باپ کے ساتھ جنت میں رہیں گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت27) ➊ {وَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا …:} ایسی نشانی کیوں نہیں اتری جسے دیکھ کر ہم اسے اللہ کا رسول مان لینے پر مجبور ہو جاتے، مثلاً دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۹۰ تا ۹۳) میں ان کی فرمائشیں۔ ➋ { قُلْ اِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنْ يَّشَآءُ …:} یعنی نشانی کے اترنے سے کچھ نہیں ہوتا، کیونکہ تمھارے اب تک ایمان نہ لانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ تم نے کوئی نشانی نہیں دیکھی، نشانیاں تو بے حد و حساب موجود ہیں، مگر پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کمال حکمت والا ہے اور اپنی رحمت کا خود مالک ہے، جسے چاہے اپنی حکمت کی بنا پر اپنی رحمت و ہدایت سے محروم، یعنی گمراہ رکھے اور جسے چاہے اپنی رحمت و ہدایت سے نواز دے۔ دوسری بات یہ کہ تم اللہ کے راستے کی طرف آتے ہی نہیں، اگر تمھاری سیدھے راستے کی طرف آنے کی خواہش اور جستجو ہوتی تو تم صرف قرآن کی نشانی کو دیکھ کر راہ حق کو پا لیتے، کیونکہ یہ کتاب واضح دلائل سے لبریز ہے۔ اب اگر تم اپنی خواہشات اور شیطان ہی کے پیچھے چلتے جاؤ اور اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف لوٹ کر آنے کی رغبت ہی نہ رکھو تو تمھیں اللہ کے راستے پر چلنا کیسے نصیب ہو، وہ تو اپنی طرف آنے کے راستے پر چلنے کی توفیق انھی کو دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع رکھیں اور لوٹ کر آنا چاہیں۔
اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ تَطۡمَئِنُّ قُلُوۡبُہُمۡ بِذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ ﴿ؕ۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ایسے ہی لوگ ہیں وہ جنہوں نے (اِس نبی کی دعوت کو) مان لیا اور اُن کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے خبردار رہو! اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگ ایمان ﻻئے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں، سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے
علامہ محمد حسین نجفی
یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور جن کے دل یادِ خدا سے مطمئن ہوتے ہیں یاد رکھو ذکرِ الٰہی سے ہی دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے اطمینان پاتے ہیں ۔ سن لو! اللہ کی یاد ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کے اعتراض ٭٭

مشرکین کا ایک اعتراض بیان ہو رہا ہے کہ ’ اگلے نبیوں کی طرح یہ ہمیں ہمارا کہا ہوا کوئی معجزہ کیوں نہیں دکھاتا؟ ‘ اس کی پوری بحث کئی بار گزر چکی کہ اللہ کو قدرت تو ہے لیکن اگر پھر بھی یہ ٹس سے مس نہ ہوئے تو انہیں نیست و نابود کر دیا جائے گا۔ حدیث میں ہے کہ { اللہ کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آئی کہ ’ ان کی چاہت کے مطابق میں صفا پہاڑ کو سونے کا کر دیتا ہوں، زمین عرب میں میٹھے دریاؤں کی ریل پیل کر دیتا ہوں، پہاڑی زمین کو زراعتی زمین سے بدل دیتا ہوں لیکن پھر بھی اگر یہ ایمان نہ لائے تو انہیں وہ سزا دوں گا جو کسی کو نہ ہوتی ہو۔ اگر چاہوں تو یہ کر دوں اور اگر چاہوں تو ان کے لیے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھلا رہنے دوں ‘، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری صورت پسند فرمائی }۔ ۱؎ [مسند احمد:242/1:صحیح] ‏‏‏‏ سچ ہے ہدایت ضلالت اللہ کے ہاتھ ہے وہ کسی معجزے کے دیکھنے پر موقوف نہیں، «وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» ۱؎ [10-یونس:101] ‏‏‏‏ ’ بے ایمانوں کے لیے نشانات اور ڈراوے سب بےسود ہیں ‘۔ «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-یونس:96-97] ‏‏‏‏ ’ جن پر کلمہ عذاب صادق ہو چکا ہے وہ تمام تر نشانات دیکھ کر بھی مان کر نہ دیں گے ہاں عذابوں کو دیکھ تو پورے ایماندار بن جائیں گے لیکن وہ محض بے کار چیز ہے ‘۔ فرماتا ہے «وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» ۱؎ [ 6-الأنعام: 111 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ اگر ہم ان پر فرشتے اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے اور ہر چھپی چیز ان کے سامنے ظاہر کر دیتے تب بھی انہیں ایمان نصیب نہ ہوتا۔ ہاں اگر اللہ چاہے تو اور بات ہے لیکن ان میں اکثر جاہل ہیں ‘۔ جو اللہ کی طرف جھکے اس سے مدد چاہے اس کی طرف عاجزی کرے وہ راہ یافتہ ہو جاتا ہے۔ جن کے دلوں میں ایمان جم گیا ہے جن کے دل اللہ کی طرف جھکتے ہیں، اس کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں، راضی خوشی ہو جاتے ہیں اور فی الواقع ذکر اللہ اطمینان دل کی چیز بھی ہے۔ ایمانداروں اور نیک کاروں کے لیے خوشی، نیک فالی اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ ان کا انجام اچھا ہے، یہ مستحق مبارک باد ہیں یہ بھلائی کو سمیٹنے والے ہیں ان کا لوٹنا بہتر ہے، ان کا مال نیک ہے۔

مروی ہے کہ طوبٰی سے مراد ملک حبش ہے اور نام ہے جنت کا اور اس سے مراد جنت ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جنت کی جب پیدائش ہو چکی اس وقت جناب باری نے یہی فرمایا تھا۔‏‏‏‏“ کہتے ہیں کہ ”جنت میں ایک درخت کا نام بھی طوبی ہے کہ ساری جنت میں اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں، ہر گھر میں اس کی شاخ موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے، لولو کے دانے سے پیدا کیا ہے اور بحکم الٰہی یہ بڑھا اور پھیلا ہے۔ اس کی جڑوں سے جنتی شہد، شراب، پانی اور دودھ کی نہریں جاری ہوتی ہیں۔‏‏‏‏“ ایک مرفوع حدیث میں ہے { طوبی نامی جنت کا ایک درخت ہے سو سال کے راستے کا۔ اسی کے خوشوں سے جنتیوں کے لباس نکلتے ہیں }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1241،] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اسے مبارک ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں اسے بھی مبارک ہو۔ اور اسے دوگنا مبارک ہو جس نے مجھے نہ دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا }۔ ایک شخص نے پوچھا طوبیٰ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جنتی درخت ہے جو سو سال کی راہ تک پھیلا ہوا ہے جنتیوں کے لباس اس کی شاخوں سے نکلتے ہیں } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1241،] ‏‏‏‏ بخاری مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جنت میں ایک درخت ہے کہ سوار ایک سو سال تک اس کے سائے میں چلتا رہے گا لیکن وہ ختم نہ ہو گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6552] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ چال بھی تیز اور سواری بھی تیز چلنے والی } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6553] ‏‏‏‏ صحیح بخاری شریف میں آیت «وَظِلٍّ مَّمْدُودٍ» ۱؎ [56-الواقعة:30] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں بھی یہی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4881] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { ستر یا سو سال اس کا نام شجرۃ الخلد ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:455/2:صحیح دون الجملة] ‏‏‏‏ { سدرۃ المنتہیٰ کے ذکر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے { اس کی شاخ کے سائے تلے ایک سو سال تک سوار چلتا رہے گا اور سو سو سوار اس کی ایک ایک شاخ تلے ٹھہر سکتے ہیں۔ اس میں سونے کی ٹڈیاں ہیں، اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں کے برابر ہیں } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:4541،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر جنتی کو طوبیٰ کے پاس لے جائیں گے اور اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس شاخ کو چاہے پسند کرے۔ سفید، سرخ، زرد سیاہ جو نہایت خوبصورت نرم اور اچھی ہوں گی } }۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:112/4:ضعیف] ‏‏‏‏

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”طوبٰی کو حکم ہوگا کہ ’ میرے بندوں کے لیے بہترین چیزیں ٹپکا ‘۔ تو اس میں سے گھوڑے اور اونٹ برسنے لگیں گے، سجے سجائے اور زین لگام وغیرہ کسے کسائے عمدہ بہترین لباس وغیرہ۔‏‏‏‏“ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس جگہ ایک عجیب وغریب اثر وارد کیا ہے۔ رہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جنت میں ایک درخت ہے جس کا نام طوبیٰ ہے جس کے سائے تلے سوار سو سال تک چلتا رہے گا لیکن راستہ ختم نہ ہوگا۔ اس کی تروتازگی کھلے ہوئے چمن کی طرح ہے اس کے پتے بہترین اور عمدہ ہیں اس کے خوشے عنبریں ہیں اس کے کنکر یاقوت ہیں اس کی مٹی کافور ہے اس کا گارا مشک ہے اس کی جڑ سے شراب، دودھ، اور شہد کی نہریں بہتی ہیں۔ اس کے نیچے جنتیوں کی مجلسیں ہوں گی، یہ بیٹھے ہوئے ہوں گے جو ان کے پاس فرشتے اونٹنیاں لے کر آیئں گے۔ جن کی زنجریں سونے کی ہوں گی، جن پر یاقوت کے پالان ہوں گے جن پر سونا جڑاؤ ہو رہا ہو گا جن پر ریشمی جھولیں ہوں گی۔ وہ اونٹنیاں ان کے سامنے پیش کریں گے اور کہیں گے کہ یہ سواریاں تمہیں بھجوائی گئی ہیں اور دربار الٰہی میں تمہارا بلاوا ہے، یہ ان پر سوار ہوں گے، وہ پرندوں کی پرواز سے بھی تیز رفتار ہوں گی۔ جنتی ایک دوسرے سے مل کر چلیں گے وہ خودبخود ہٹ جائیں گے کہ کسی کو اپنے ساتھی سے الگ نہ ہونا پڑے یونہی رحمن و رحیم رب کے پاس پہنچیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے چہرے سے پردے ہٹا دے گا یہ اپنے رب کے چہرہ کو دیکھیں گے اور کہیں گے «اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَام وَمِنْك السَّلَام وَحُقَّ لَك الْجَلَال وَالْإِكْرَام» ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ رب العزت فرمائے گا ’ «أَنَا السَّلَام وَمِنِّي السَّلَام وَعَلَيْكُمْ» تم پر میری رحمت ثابت ہو چکی اور محبت بھی ‘۔ میرے ان بندوں کو مرحبا ہو جو بن دیکھے مجھ سے ڈرتے رہے میری فرماں برداری کرتے رہے جنتی کہیں گے باری تعالیٰ نہ تو ہم سے تیری عبادت کا حق ادا ہوا نہ تیری پوری قدر ہوئی ہمیں اجازت دے کہ تیرے سامنے سجدہ کریں اللہ فرمائے گا ’ یہ محنت کی جگہ نہیں نہ عبادت کی یہ تو نعمتوں راحتوں اور مالا مال ہونے کی جگہ ہے۔ عبادتوں کی تکلیف جاتی رہی مزے لوٹنے کے دن آ گئے جو چاہو مانگو، پاؤ گے۔ تم میں سے جو شخص جو مانگے میں اسے دوں گا ‘۔ پس یہ مانگیں گے کم سے کم سوال والا کہے گا کہ اللہ تو نے دنیا میں جو پیدا کیا تھا جس میں تیرے بندے ہائے وائے کر رہے تھے۔ میں چاہتا ہوں کہ شروع دنیا سے ختم دنیا تک دنیا میں جتنا کچھ تھا مجھے عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ تو نے تو کچھ نہ مانگا اپنے مرتبے سے بہت کم چیز مانگی، اچھا ہم نے دی۔ میری بخشش اور دین میں کیا کمی ہے؟ ‘ پھر فرمائے گا ’ جن چیزوں تک میرے ان بندوں کے خیالات کی رسائی بھی نہیں وہ انہیں دو ‘ چنانچہ دی جائیں گی یہاں تک کہ ان کی خواہشیں پوری ہو جائیں گی۔ ان چیزوں میں جو انہیں یہاں ملیں گی تیز رو گھوڑے ہوں گے ہر چار پر یاقوتی تخت ہو گا ہر تخت پر سونے کا ایک ڈیرا ہو گا ہر ڈیرے میں جنتی فرش ہو گا جن پر بڑی بڑی آنکھوں والی دو دو حوریں ہوں گی جو دو دو حلے پہنے ہوئے ہوں گی جن میں جنت کے تمام رنگ ہوں گے اور تمام خوشبوئیں۔ ان خیموں کے باہر سے ان کے چہرے ایسے چمکتے ہوں گے گویا وہ باہر بیٹھی ہیں ان کی پنڈلی کے اندر کا گودا باہر سے نظر آ رہا ہو گا جیسے سرخ یاقوت میں ڈورا پرویا ہوا ہو اور وہ اوپر سے نظر آ رہا ہو۔‏‏‏‏“

”ہر ایک دوسری پر اپنی فضیلت ایسی جانتی ہوگی جیسی فضیلت سورج کی پتھر پر اس طرح جنتی کی نگاہ میں بھی دونوں ایسی ہی ہوں گی۔ یہ ان کے پاس جائے گا اور ان سے بوس وکنار میں مشغول ہو جائے گا۔ وہ دونوں اسے دیکھ کر کہیں گی واللہ ہمارے تو خیال میں بھی نہ تھا کہ اللہ تم جیسا خاوند ہمیں دے گا۔ اب بحکم الٰہی اسی طرح صف بندی کے ساتھ سواریوں پر یہ واپس ہوں گے اور اپنی منزلوں میں پہنچیں گے۔ دیکھو تو سہی کہ رب وہاب نے انہیں کیا کیا نعمتیں عطا فرما رکھی ہیں؟ وہاں بلند درجہ لوگوں میں اونچے اونچے بالا خانوں میں جو نرے موتی کے بنے ہوئے ہوں گے جن کے دروازے سونے کے ہوں گے، جن کے منبر نور کے ہوں گے جن کی چمک سورج سے بالا تر ہو گی۔ اعلیٰ علیین میں ان کے محل ہوں گے۔ یاقوت کے بنے ہوئے۔ نورانی۔ جن کے نور سے آنکھوں کی روشنی جاتی رہے لیکن اللہ تعالیٰ ان کی آنکھیں ایسی نہ کر دے گا۔ جو محلات یاقوت سرخ کے ہوں گے ان میں سبز ریشمی فرش ہوں گے اور جو زمرد و یاقوت کے ہوں گے ان کے فرش سرخ مخمل کے ہوں گے۔ جو زمرد اور سونے کے جڑاؤ کے ہوں گے ان تختوں کے پائے جواہر کے ہوں گے، ان پر چھتیں لولو کی ہوں گی، ان کے برج مرجان کے ہوں گے۔ ان کے پہنچنے سے پہلے ہی رحمانی تحفے وہاں پہنچ چکے ہوں گے۔ سفید یاقوتی گھوڑے غلمان لیے کھڑے ہوں گے جن کا سامان چاندی کا جڑاؤ ہوگا۔ ان کے تخت پر اعلیٰ ریشمی نرم و دبیز فرش بچھے ہوئے ہوں گے یہ ان سواریوں پر سوار ہو کر بے تک لف جنت میں جائیں گے دیکھیں گے کہ ان کے گھروں کے پاس نورانی ممبروں پر فرشتے ان کے استقبال کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں وہ ان کا شاندار استقبال کریں گے۔، مبارک باد دیں گے، مصافحہ کریں گے، پھر یہ اپنے گھروں میں داخل ہوں گے۔ انعامات الٰہی وہاں موجود پائیں گے، اپنے محلات کے پاس وہ جنتیں ہری بھری پائیں گے اور جو پھلی پھولی جن میں دو چشمے پوری روانی سے جاری ہوں گے اور ہر قسم کے جوڑ دار میوے ہوں گے اور خیموں میں پاک دامن بھولی بھالی پردہ نشین حوریں ہوں گی۔ جب یہ یہاں پہنچ کر راحت و آرام میں ہوں گے اس وقت اللہ رب العزت فرمائے گا ’ میرے پیارے بندو تم نے میرے وعدے سچے پائے؟ کیا تم میرے ثوابوں سے خوش ہو گئے؟ ‘ وہ کہیں گے ”اللہ ہم خوب خوش ہو گئے؟ بہت ہی راضی رضامند ہیں دل سے راضی ہیں کلی کلی کھلی ہوئی ہے تو بھی ہم سے خوش رہ۔‏‏‏‏“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اگر میری رضا مندی نہ ہوتی تو میں اپنے اس مہمان خانے میں تمہیں کیسے داخل ہونے دیتا؟ اپنا دیدار کیسے کراتا؟ میرے فرشتے تم سے مصافحہ کیوں کرتے؟ تم خوش رہو باآرام رہو تمہیں مبارک ہو تم پھلو پھولو اور سکھ چین اٹھاؤ میرے یہ انعامات گھٹنے اور ختم ہونے والے نہیں ‘۔

”اس وقت وہ کہیں گے اللہ ہی کی ذات سزاوار تعریف ہے جس نے ہم سے غم و رنج کو دور کر دیا اور ایسے مقام پر پہنچایا کہ جہاں ہمیں کوئی تکلیف کوئی مشقت نہیں یہ اسی کا فضل ہے وہ بڑا ہی بخشنے والا اور قدر دان ہے۔‏‏‏‏“ یہ سیاق غریب ہے اور یہ اثر عجیب ہے ہاں اس کے بعض شواہد بھی موجود ہیں۔ چنانچہ صحیحین میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ اس بندے سے جو سب سے اخیر میں جنت میں جائے گا فرمائے گا مانگ جو مانگتا جائے گا اور اللہ کریم دیتا جائے گا یہاں تک کہ اس کا سوال پوار ہو جائے گا اور پائے گا۔ اب اس کے سامنے کوئی خواہش باقی نہیں رہے گی تو اب اللہ تعالیٰ خود اسے یاد دلائے گا کہ یہ مانگ یہ مانگ یہ مانگے گا اور پائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ سب میں نے تجھے دیا اور اتنا ہی اور بھی دس مرتبہ عطا فرمایا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7437] ‏‏‏‏ صحیح مسلم شریف کی قدسی حدیث میں ہے کہ { اے میرے بندو تمہارے اگلے پچھلے انسان جنات سب ایک میدان میں کھڑے ہو جائیں اور مجھ سے دعائیں کریں اور مانگیں میں ہر ایک کے تمام سوالات پورے کروں گا لیکن میرے ملک میں اتنی بھی کمی نہ آئے گی جتنی کسی سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے سمندر کے پانی میں آئے }، الخ۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2577] ‏‏‏‏ خالد بن معدان کہتے ہیں جنت کے ایک درخت کا نام طوبیٰ ہے اس میں تھن ہیں جن سے جنتیوں کے بچے دودھ پیتے ہیں کچے گرے ہوئے بچے جنت کی نہروں میں ہیں قیامت کے قائم ہونے تک پھر چالیس سال کے بن کر اپنے ماں باپ کے ساتھ جنت میں رہیں گے۔
28۔ 1 اللہ کا ذکر سے مراد، اس کی توحید کا بیان ہے، جس سے مشرکوں کے دلوں میں وسوسہ پیدا ہوجاتا ہے، یا اس کی عبادت، تلاوت قرآن، نوافل اور دعا و مناجات ہے جو اہل ایمان کے دلوں کی خوراک ہے یا اس کے احکام و فرامین کی اطاعت و بجا آوری ہے، جس کے بغیر اہل ایمان وتقویٰ بےقرار رہتے ہیں۔
(آیت28){اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُهُمْ …:} یہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں کی صفت ہے، ذکر کا معنی نصیحت بھی ہے اور یاد کرنا بھی۔ اس لحاظ سے آیت کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ انھی کو اپنی طرف ہدایت دیتا ہے جو ایمان لاتے ہیں اور ان کے دل کو وحی الٰہی سے ملنے والی نصیحت سے پوری تسلی ہو جاتی ہے، اس کے سوا انھیں کہیں سے تسلی نہیں ہوتی، کوئی دوسرا اپنے خیال میں کیسی اچھی بات کیوں نہ کہے انھیں اس پر یقین نہیں ہوتا، کیونکہ وہ بھی ان جیسا انسان ہے، اس کی بات درست بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی، اس لیے اس پر انھیں اطمینان نہیں ہوتا، صرف اللہ کی بات ایسی ہے جو غلط نہیں ہوتی، اس لیے اسی پر ان کے دل کو یقین و اطمینان ہوتا ہے۔ {”ذكر الله“} یعنی اللہ کی نصیحت صرف رسول پر نازل ہوئی، قرآن کی صورت میں بھی اور حدیث کی صورت میں بھی، پھر اس کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ تعالیٰ نے خود اٹھایا، فرمایا: «{اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ }» [ الحجر: ۹ ] ”بے شک ہم نے ہی یہ نصیحت نازل کی ہے اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔“ کافر اس نعمت سے محروم ہیں۔ خلاصہ یہ کہ ہدایت کی نعمت صرف اسی کو ملتی ہے جو اس کے لیے اللہ کی طرف رجوع کرے، ایمان لائے اور وحی الٰہی سے اسے پوری تسلی حاصل ہو جائے۔ کوئی شخص اگر ایمان کا دعویٰ کرے مگر اسے قرآن و حدیث کے بجائے تسلی کسی اور کی بات سے ہوتی ہو تو وہ بدنصیب بھی ہدایت الٰہی سے محروم ہے۔ {”ذكر الله“} کا دوسرا معنی یاد الٰہی ہے۔ مولانا محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یہ ایمان کے خالص اور پختہ ہونے کی علامت ہے کہ ذہن خواہ کتنی ہی فکروں میں الجھا ہوا ہو لیکن جوں ہی نماز شروع کرے یا اللہ کو یاد کرے تو تمام فکر بھول جائیں اور انسان حقیقی اطمینان قلب سے بہرہ ور ہو جائے۔“ یہاں اگرچہ دونوں معنوں کی گنجائش ہے مگر پہلا معنی زیادہ مناسب ہے، کیونکہ کافر نشانی مانگ رہے ہیں جبکہ سب سے بڑی نشانی قرآن موجود ہے۔ اہل ایمان کو اسی سے اطمینان ہو جاتا ہے، جبکہ کافر بدنصیب شک ہی میں مارا جاتا ہے اور مزید معجزے مانگتا رہتا ہے۔
اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوۡبٰی لَہُمۡ وَ حُسۡنُ مَاٰبٍ ﴿۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر جن لوگوں نے دعوت حق کو مانا اور نیک عمل کیے وہ خوش نصیب ہیں اور ان کے لیے اچھا انجام ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگ ایمان ﻻئے اور جنہوں نے نیک کام بھی کئے ان کے لئے خوشحالی ہے اور بہترین ٹھکانا
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کو خوشی ہے اور اچھا انجام
علامہ محمد حسین نجفی
جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ان کے لئے خوش حالی اور خوش انجامی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے خوش حالی اور اچھا ٹھکانا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کے اعتراض ٭٭

مشرکین کا ایک اعتراض بیان ہو رہا ہے کہ ’ اگلے نبیوں کی طرح یہ ہمیں ہمارا کہا ہوا کوئی معجزہ کیوں نہیں دکھاتا؟ ‘ اس کی پوری بحث کئی بار گزر چکی کہ اللہ کو قدرت تو ہے لیکن اگر پھر بھی یہ ٹس سے مس نہ ہوئے تو انہیں نیست و نابود کر دیا جائے گا۔ حدیث میں ہے کہ { اللہ کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آئی کہ ’ ان کی چاہت کے مطابق میں صفا پہاڑ کو سونے کا کر دیتا ہوں، زمین عرب میں میٹھے دریاؤں کی ریل پیل کر دیتا ہوں، پہاڑی زمین کو زراعتی زمین سے بدل دیتا ہوں لیکن پھر بھی اگر یہ ایمان نہ لائے تو انہیں وہ سزا دوں گا جو کسی کو نہ ہوتی ہو۔ اگر چاہوں تو یہ کر دوں اور اگر چاہوں تو ان کے لیے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھلا رہنے دوں ‘، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری صورت پسند فرمائی }۔ ۱؎ [مسند احمد:242/1:صحیح] ‏‏‏‏ سچ ہے ہدایت ضلالت اللہ کے ہاتھ ہے وہ کسی معجزے کے دیکھنے پر موقوف نہیں، «وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» ۱؎ [10-یونس:101] ‏‏‏‏ ’ بے ایمانوں کے لیے نشانات اور ڈراوے سب بےسود ہیں ‘۔ «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-یونس:96-97] ‏‏‏‏ ’ جن پر کلمہ عذاب صادق ہو چکا ہے وہ تمام تر نشانات دیکھ کر بھی مان کر نہ دیں گے ہاں عذابوں کو دیکھ تو پورے ایماندار بن جائیں گے لیکن وہ محض بے کار چیز ہے ‘۔ فرماتا ہے «وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» ۱؎ [ 6-الأنعام: 111 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ اگر ہم ان پر فرشتے اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے اور ہر چھپی چیز ان کے سامنے ظاہر کر دیتے تب بھی انہیں ایمان نصیب نہ ہوتا۔ ہاں اگر اللہ چاہے تو اور بات ہے لیکن ان میں اکثر جاہل ہیں ‘۔ جو اللہ کی طرف جھکے اس سے مدد چاہے اس کی طرف عاجزی کرے وہ راہ یافتہ ہو جاتا ہے۔ جن کے دلوں میں ایمان جم گیا ہے جن کے دل اللہ کی طرف جھکتے ہیں، اس کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں، راضی خوشی ہو جاتے ہیں اور فی الواقع ذکر اللہ اطمینان دل کی چیز بھی ہے۔ ایمانداروں اور نیک کاروں کے لیے خوشی، نیک فالی اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ ان کا انجام اچھا ہے، یہ مستحق مبارک باد ہیں یہ بھلائی کو سمیٹنے والے ہیں ان کا لوٹنا بہتر ہے، ان کا مال نیک ہے۔

مروی ہے کہ طوبٰی سے مراد ملک حبش ہے اور نام ہے جنت کا اور اس سے مراد جنت ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جنت کی جب پیدائش ہو چکی اس وقت جناب باری نے یہی فرمایا تھا۔‏‏‏‏“ کہتے ہیں کہ ”جنت میں ایک درخت کا نام بھی طوبی ہے کہ ساری جنت میں اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں، ہر گھر میں اس کی شاخ موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے، لولو کے دانے سے پیدا کیا ہے اور بحکم الٰہی یہ بڑھا اور پھیلا ہے۔ اس کی جڑوں سے جنتی شہد، شراب، پانی اور دودھ کی نہریں جاری ہوتی ہیں۔‏‏‏‏“ ایک مرفوع حدیث میں ہے { طوبی نامی جنت کا ایک درخت ہے سو سال کے راستے کا۔ اسی کے خوشوں سے جنتیوں کے لباس نکلتے ہیں }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1241،] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اسے مبارک ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں اسے بھی مبارک ہو۔ اور اسے دوگنا مبارک ہو جس نے مجھے نہ دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا }۔ ایک شخص نے پوچھا طوبیٰ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جنتی درخت ہے جو سو سال کی راہ تک پھیلا ہوا ہے جنتیوں کے لباس اس کی شاخوں سے نکلتے ہیں } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1241،] ‏‏‏‏ بخاری مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جنت میں ایک درخت ہے کہ سوار ایک سو سال تک اس کے سائے میں چلتا رہے گا لیکن وہ ختم نہ ہو گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6552] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ چال بھی تیز اور سواری بھی تیز چلنے والی } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6553] ‏‏‏‏ صحیح بخاری شریف میں آیت «وَظِلٍّ مَّمْدُودٍ» ۱؎ [56-الواقعة:30] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں بھی یہی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4881] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { ستر یا سو سال اس کا نام شجرۃ الخلد ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:455/2:صحیح دون الجملة] ‏‏‏‏ { سدرۃ المنتہیٰ کے ذکر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے { اس کی شاخ کے سائے تلے ایک سو سال تک سوار چلتا رہے گا اور سو سو سوار اس کی ایک ایک شاخ تلے ٹھہر سکتے ہیں۔ اس میں سونے کی ٹڈیاں ہیں، اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں کے برابر ہیں } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:4541،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر جنتی کو طوبیٰ کے پاس لے جائیں گے اور اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس شاخ کو چاہے پسند کرے۔ سفید، سرخ، زرد سیاہ جو نہایت خوبصورت نرم اور اچھی ہوں گی } }۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:112/4:ضعیف] ‏‏‏‏

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”طوبٰی کو حکم ہوگا کہ ’ میرے بندوں کے لیے بہترین چیزیں ٹپکا ‘۔ تو اس میں سے گھوڑے اور اونٹ برسنے لگیں گے، سجے سجائے اور زین لگام وغیرہ کسے کسائے عمدہ بہترین لباس وغیرہ۔‏‏‏‏“ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس جگہ ایک عجیب وغریب اثر وارد کیا ہے۔ رہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جنت میں ایک درخت ہے جس کا نام طوبیٰ ہے جس کے سائے تلے سوار سو سال تک چلتا رہے گا لیکن راستہ ختم نہ ہوگا۔ اس کی تروتازگی کھلے ہوئے چمن کی طرح ہے اس کے پتے بہترین اور عمدہ ہیں اس کے خوشے عنبریں ہیں اس کے کنکر یاقوت ہیں اس کی مٹی کافور ہے اس کا گارا مشک ہے اس کی جڑ سے شراب، دودھ، اور شہد کی نہریں بہتی ہیں۔ اس کے نیچے جنتیوں کی مجلسیں ہوں گی، یہ بیٹھے ہوئے ہوں گے جو ان کے پاس فرشتے اونٹنیاں لے کر آیئں گے۔ جن کی زنجریں سونے کی ہوں گی، جن پر یاقوت کے پالان ہوں گے جن پر سونا جڑاؤ ہو رہا ہو گا جن پر ریشمی جھولیں ہوں گی۔ وہ اونٹنیاں ان کے سامنے پیش کریں گے اور کہیں گے کہ یہ سواریاں تمہیں بھجوائی گئی ہیں اور دربار الٰہی میں تمہارا بلاوا ہے، یہ ان پر سوار ہوں گے، وہ پرندوں کی پرواز سے بھی تیز رفتار ہوں گی۔ جنتی ایک دوسرے سے مل کر چلیں گے وہ خودبخود ہٹ جائیں گے کہ کسی کو اپنے ساتھی سے الگ نہ ہونا پڑے یونہی رحمن و رحیم رب کے پاس پہنچیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے چہرے سے پردے ہٹا دے گا یہ اپنے رب کے چہرہ کو دیکھیں گے اور کہیں گے «اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَام وَمِنْك السَّلَام وَحُقَّ لَك الْجَلَال وَالْإِكْرَام» ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ رب العزت فرمائے گا ’ «أَنَا السَّلَام وَمِنِّي السَّلَام وَعَلَيْكُمْ» تم پر میری رحمت ثابت ہو چکی اور محبت بھی ‘۔ میرے ان بندوں کو مرحبا ہو جو بن دیکھے مجھ سے ڈرتے رہے میری فرماں برداری کرتے رہے جنتی کہیں گے باری تعالیٰ نہ تو ہم سے تیری عبادت کا حق ادا ہوا نہ تیری پوری قدر ہوئی ہمیں اجازت دے کہ تیرے سامنے سجدہ کریں اللہ فرمائے گا ’ یہ محنت کی جگہ نہیں نہ عبادت کی یہ تو نعمتوں راحتوں اور مالا مال ہونے کی جگہ ہے۔ عبادتوں کی تکلیف جاتی رہی مزے لوٹنے کے دن آ گئے جو چاہو مانگو، پاؤ گے۔ تم میں سے جو شخص جو مانگے میں اسے دوں گا ‘۔ پس یہ مانگیں گے کم سے کم سوال والا کہے گا کہ اللہ تو نے دنیا میں جو پیدا کیا تھا جس میں تیرے بندے ہائے وائے کر رہے تھے۔ میں چاہتا ہوں کہ شروع دنیا سے ختم دنیا تک دنیا میں جتنا کچھ تھا مجھے عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ تو نے تو کچھ نہ مانگا اپنے مرتبے سے بہت کم چیز مانگی، اچھا ہم نے دی۔ میری بخشش اور دین میں کیا کمی ہے؟ ‘ پھر فرمائے گا ’ جن چیزوں تک میرے ان بندوں کے خیالات کی رسائی بھی نہیں وہ انہیں دو ‘ چنانچہ دی جائیں گی یہاں تک کہ ان کی خواہشیں پوری ہو جائیں گی۔ ان چیزوں میں جو انہیں یہاں ملیں گی تیز رو گھوڑے ہوں گے ہر چار پر یاقوتی تخت ہو گا ہر تخت پر سونے کا ایک ڈیرا ہو گا ہر ڈیرے میں جنتی فرش ہو گا جن پر بڑی بڑی آنکھوں والی دو دو حوریں ہوں گی جو دو دو حلے پہنے ہوئے ہوں گی جن میں جنت کے تمام رنگ ہوں گے اور تمام خوشبوئیں۔ ان خیموں کے باہر سے ان کے چہرے ایسے چمکتے ہوں گے گویا وہ باہر بیٹھی ہیں ان کی پنڈلی کے اندر کا گودا باہر سے نظر آ رہا ہو گا جیسے سرخ یاقوت میں ڈورا پرویا ہوا ہو اور وہ اوپر سے نظر آ رہا ہو۔‏‏‏‏“

”ہر ایک دوسری پر اپنی فضیلت ایسی جانتی ہوگی جیسی فضیلت سورج کی پتھر پر اس طرح جنتی کی نگاہ میں بھی دونوں ایسی ہی ہوں گی۔ یہ ان کے پاس جائے گا اور ان سے بوس وکنار میں مشغول ہو جائے گا۔ وہ دونوں اسے دیکھ کر کہیں گی واللہ ہمارے تو خیال میں بھی نہ تھا کہ اللہ تم جیسا خاوند ہمیں دے گا۔ اب بحکم الٰہی اسی طرح صف بندی کے ساتھ سواریوں پر یہ واپس ہوں گے اور اپنی منزلوں میں پہنچیں گے۔ دیکھو تو سہی کہ رب وہاب نے انہیں کیا کیا نعمتیں عطا فرما رکھی ہیں؟ وہاں بلند درجہ لوگوں میں اونچے اونچے بالا خانوں میں جو نرے موتی کے بنے ہوئے ہوں گے جن کے دروازے سونے کے ہوں گے، جن کے منبر نور کے ہوں گے جن کی چمک سورج سے بالا تر ہو گی۔ اعلیٰ علیین میں ان کے محل ہوں گے۔ یاقوت کے بنے ہوئے۔ نورانی۔ جن کے نور سے آنکھوں کی روشنی جاتی رہے لیکن اللہ تعالیٰ ان کی آنکھیں ایسی نہ کر دے گا۔ جو محلات یاقوت سرخ کے ہوں گے ان میں سبز ریشمی فرش ہوں گے اور جو زمرد و یاقوت کے ہوں گے ان کے فرش سرخ مخمل کے ہوں گے۔ جو زمرد اور سونے کے جڑاؤ کے ہوں گے ان تختوں کے پائے جواہر کے ہوں گے، ان پر چھتیں لولو کی ہوں گی، ان کے برج مرجان کے ہوں گے۔ ان کے پہنچنے سے پہلے ہی رحمانی تحفے وہاں پہنچ چکے ہوں گے۔ سفید یاقوتی گھوڑے غلمان لیے کھڑے ہوں گے جن کا سامان چاندی کا جڑاؤ ہوگا۔ ان کے تخت پر اعلیٰ ریشمی نرم و دبیز فرش بچھے ہوئے ہوں گے یہ ان سواریوں پر سوار ہو کر بے تک لف جنت میں جائیں گے دیکھیں گے کہ ان کے گھروں کے پاس نورانی ممبروں پر فرشتے ان کے استقبال کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں وہ ان کا شاندار استقبال کریں گے۔، مبارک باد دیں گے، مصافحہ کریں گے، پھر یہ اپنے گھروں میں داخل ہوں گے۔ انعامات الٰہی وہاں موجود پائیں گے، اپنے محلات کے پاس وہ جنتیں ہری بھری پائیں گے اور جو پھلی پھولی جن میں دو چشمے پوری روانی سے جاری ہوں گے اور ہر قسم کے جوڑ دار میوے ہوں گے اور خیموں میں پاک دامن بھولی بھالی پردہ نشین حوریں ہوں گی۔ جب یہ یہاں پہنچ کر راحت و آرام میں ہوں گے اس وقت اللہ رب العزت فرمائے گا ’ میرے پیارے بندو تم نے میرے وعدے سچے پائے؟ کیا تم میرے ثوابوں سے خوش ہو گئے؟ ‘ وہ کہیں گے ”اللہ ہم خوب خوش ہو گئے؟ بہت ہی راضی رضامند ہیں دل سے راضی ہیں کلی کلی کھلی ہوئی ہے تو بھی ہم سے خوش رہ۔‏‏‏‏“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اگر میری رضا مندی نہ ہوتی تو میں اپنے اس مہمان خانے میں تمہیں کیسے داخل ہونے دیتا؟ اپنا دیدار کیسے کراتا؟ میرے فرشتے تم سے مصافحہ کیوں کرتے؟ تم خوش رہو باآرام رہو تمہیں مبارک ہو تم پھلو پھولو اور سکھ چین اٹھاؤ میرے یہ انعامات گھٹنے اور ختم ہونے والے نہیں ‘۔

”اس وقت وہ کہیں گے اللہ ہی کی ذات سزاوار تعریف ہے جس نے ہم سے غم و رنج کو دور کر دیا اور ایسے مقام پر پہنچایا کہ جہاں ہمیں کوئی تکلیف کوئی مشقت نہیں یہ اسی کا فضل ہے وہ بڑا ہی بخشنے والا اور قدر دان ہے۔‏‏‏‏“ یہ سیاق غریب ہے اور یہ اثر عجیب ہے ہاں اس کے بعض شواہد بھی موجود ہیں۔ چنانچہ صحیحین میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ اس بندے سے جو سب سے اخیر میں جنت میں جائے گا فرمائے گا مانگ جو مانگتا جائے گا اور اللہ کریم دیتا جائے گا یہاں تک کہ اس کا سوال پوار ہو جائے گا اور پائے گا۔ اب اس کے سامنے کوئی خواہش باقی نہیں رہے گی تو اب اللہ تعالیٰ خود اسے یاد دلائے گا کہ یہ مانگ یہ مانگ یہ مانگے گا اور پائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ سب میں نے تجھے دیا اور اتنا ہی اور بھی دس مرتبہ عطا فرمایا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7437] ‏‏‏‏ صحیح مسلم شریف کی قدسی حدیث میں ہے کہ { اے میرے بندو تمہارے اگلے پچھلے انسان جنات سب ایک میدان میں کھڑے ہو جائیں اور مجھ سے دعائیں کریں اور مانگیں میں ہر ایک کے تمام سوالات پورے کروں گا لیکن میرے ملک میں اتنی بھی کمی نہ آئے گی جتنی کسی سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے سمندر کے پانی میں آئے }، الخ۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2577] ‏‏‏‏ خالد بن معدان کہتے ہیں جنت کے ایک درخت کا نام طوبیٰ ہے اس میں تھن ہیں جن سے جنتیوں کے بچے دودھ پیتے ہیں کچے گرے ہوئے بچے جنت کی نہروں میں ہیں قیامت کے قائم ہونے تک پھر چالیس سال کے بن کر اپنے ماں باپ کے ساتھ جنت میں رہیں گے۔
29۔ 1 طُوْبٰی کے مختلف معانی بیان کئے گئے ہیں مثلاً خیر، حسنٰی، کرامت، رشک، جنت میں مخصوص درخت یا مخصوص مقام وغیرہ مفہوم سب کا ایک ہی ہے یعنی جنت میں اچھا مقام اور اس کی نعمتیں اور لذتیں۔
(آیت29) {طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ:طُوْبٰى “} اصل میں{ ”طَابَ يَطِيْبُ“} (اچھا اور عمدہ ہونا) سے {”طُيْبٰي“} تھا، مصدر بروزن {”بُشْرٰي“ } بمعنی خوشی، مبارک باد۔ {” مَاٰبٍ”اٰبَ يَؤُوْبُ أَوْبًا“} کا معنی ہے لوٹنا اور {” مَاٰبٍ “} کا معنی لوٹ کر جانے کی جگہ، ٹھکانا، یعنی ایمان اور عمل صالح کی برکت سے عمدہ ترین زندگی حاصل ہوتی ہے اور آخری ٹھکانا بھی بہترین ملے گا، جیسا کہ فرمایا: «{مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً وَ لَنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ}» [ النحل: ۹۷ ] ”جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقینا ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے، پاکیزہ زندگی اور یقینا ہم انھیں ان کا اجر ضرور بدلے میں دیں گے، ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ کیا کرتے تھے۔“ مسند احمد کی ایک حدیث میں جو عتبہ بن عبد السلمی سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کے ایک درخت کا نام بھی طوبیٰ بتایا ہے۔ [ مسند أحمد: 183/4، ح: ۱۷۶۶۰، وقال شعیب الأرنؤوط إسنادہ قابل للتحسین ]
کَذٰلِکَ اَرۡسَلۡنٰکَ فِیۡۤ اُمَّۃٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہَاۤ اُمَمٌ لِّتَتۡلُوَا۠ عَلَیۡہِمُ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ وَ ہُمۡ یَکۡفُرُوۡنَ بِالرَّحۡمٰنِ ؕ قُلۡ ہُوَ رَبِّیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ وَ اِلَیۡہِ مَتَابِ ﴿۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے محمدؐ، اِسی شان سے ہم نے تم کو رسول بنا کر بھیجا ہے، ایک ایسی قوم میں جس سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکی ہیں، تاکہ تم اِن لوگوں کو وہ پیغام سناؤ جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے، اِس حال میں کہ یہ اپنے نہایت مہربان خدا کے کافر بنے ہوئے ہیں اِن سے کہو کہ وہی میرا رب ہے، اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہی میرا ملجا و ماویٰ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی طرح ہم نے آپ کو اس امت میں بھیجا ہے جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں کہ آپ انہیں ہماری طرف سے جو وحی آپ پر اتری ہے پڑھ کر سنایئے یہ اللہ رحمٰن کے منکر ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ میرا پالنے واﻻ تو وہی ہے اس کے سوا درحقیقت کوئی بھی ﻻئق عبادت نہیں، اسی کے اوپر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی جانب میرا رجوع ہے
احمد رضا خان بریلوی
اسی طرح ہم نے تم کو اس امت میں بھیجا جس سے پہلے امتیں ہو گزریں کہ تم انہیں پڑھ کر سناؤ جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی اور وہ رحمن کے منکر ہورہے ہیں تم فرماؤ وہ میرا رب ہے اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میری رجوع ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اسی طرح ہم نے آپ کو ایک ایسی قوم میں رسول بنا کر بھیجا جس سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکی ہیں تاکہ آپ انہیں وہ (کلام و پیغام) پڑھ کر سنائیں جو ہم نے بطور وحی آپ پر اتارا ہے حالانکہ وہ لوگ اپنے مہربان خدا کا انکار کر رہے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے! وہی میرا پروردگار ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی طرف بازگشت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اسی طرح ہم نے تجھے ایسی امت میں بھیجا جس سے پہلے کئی امتیں گزر چکیں، تاکہ تو انھیں وہ وحی پڑھ کر سنائے جو ہم نے تیری طرف بھیجی ہے، اس حال میں کہ وہ اس بے حد مہربان سے کفر کر رہے ہیں۔ کہہ دے وہی میرا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسا کیا اور اسی کی طرف میرا لوٹنا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ’ جیسے اس امت کی طرف ہم نے تجھے بھیجا کہ تو انہیں کلام الٰہی پڑھ کر سنائے، اسی طرح تجھ سے پہلے اور رسولوں کو ان اگلی امتوں کی طرف بھیجا تھا انہوں نے بھی پیغام الٰہی اپنی اپنی امتوں کو پہنچایا مگر انہوں نے جھٹلایا اسی طرح تو بھی جھٹلایا گیا تو تجھے تنگ دل نہ ہونا چاہیئے۔ ہاں ان جھٹلانے والوں کو ان کا انجام دیکھنا چاہیئے جو ان سے پہلے تھے کہ عذاب الٰہی نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا پس تیری تکذیب تو ان کی تکذیب سے بھی ہمارے نزدیک زیادہ ناپسند ہے۔ اب یہ دیکھ لیں کہ ان پر کیسے عذاب برستے ہیں؟ ‘ یہی فرمان آیت «تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» ۱؎ [16-النحل:63] ‏‏‏‏ میں اور آیت «وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:34] ‏‏‏‏ میں ہے کہ ’ دیکھ لے ہم نے اپنے والوں کی کس طرح امداد فرمائی؟ اور انہیں کیسے غالب کیا؟ تیری قوم کو دیکھ کر رحمن سے کفر کر رہی ہے۔ وہ اللہ کے وصف اور نام کو مانتی ہی نہیں ‘۔ حدیبیہ کا صلح نامہ لکھتے وقت اس پر بضد ہو گئے کہ ہم آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» نہیں لکھنے دیں گے۔ ہم نہیں جانتے کہ رحمن اور رحیم کیا ہے؟ پوری حدیث بخاری میں موجود ہے۔ قرآن میں ہے «قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰى وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:110] ‏‏‏‏، ’ اللہ کہہ کر اسے پکارو یا رحمن کہہ کر جس نام سے پکارو وہ تمام بہترین ناموں والا ہے ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ کے نزدیک عبداللہ اور عبدالرحمٰن نہایت پیارے نام ہیں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2132] ‏‏‏‏ فرمایا ’ جس سے تم کفر کر رہے ہو میں تو اسے مانتا ہوں وہی میرا پروردگار ہے میرے بھروسے اسی کے ساتھ ہیں اسی کی جانب میری تمام تر توجہ اور رجوع اور دل کا میل اس کے سوا کوئی ان باتوں کا مستحق نہیں ‘۔
30۔ 1 جس طرح ہم نے آپ کو تبلیغ رسالت کے لئے بھیجا ہے، اسی طرح آپ سے پہلی امتوں میں بھی رسول بھیجے تھے، ان کی بھی اسی طرح تکذیب کی گئی جس طرح آپ کی کی گئی اور جس طرح تکذیب کے نتیجے میں وہ قومیں عذاب الٰہی سے دو چار ہوئیں، انھیں بھی اس انجام سے بےفکر نہیں رہنا چاہیے۔ 30۔ 2 مشرکین مکہ رحمٰن کے لفظ سے بڑا بدکتے تھے، صلح حدیبیہ کے موقع پر بھی جب بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے الفاظ لکھے گئے تو انہوں نے کہا یہ رحمٰن رحیم کیا ہے؟ ہم نہیں جانتے۔ (ابن کثیر) 30۔ 3 یعنی رحمٰن، میرا وہ رب ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
(آیت30) ➊ {كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِيْۤ اُمَّةٍ:} امت دو قسم کی ہوتی ہے، ایک وہ لوگ جن کی طرف رسول بھیجا جائے، وہ مسلمان ہوں یا کافر، جیسے قوم ثمود کا ہر مسلم و کافر صالح علیہ السلام کی امت تھا اور عاد کا ہر فرد ہود علیہ السلام کی امت میں سے تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد قیامت تک ہر مسلم و کافر، یہودی، نصرانی، ہندو اور دہریہ، غرض ہر شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے ہے، اسے امتِ دعوت کہا جاتا ہے، پھر جو لوگ رسول کی دعوت کو قبول کر لیں وہ امتِ اجابت کہلاتے ہیں، اس آیت میں امتِ دعوت مراد ہے۔ ➋ { قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ:} یعنی نہ آپ پہلے رسول ہیں نہ آپ کی امتِ دعوت کوئی پہلی امت ہے۔ اس سے مقصود آپ کی امت کو پہلی جھٹلانے والی امتوں کے انجام بد سے ڈرانا ہے۔ ➌ { لِتَتْلُوَاۡ عَلَيْهِمُ الَّذِيْۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ:} یعنی آپ کو بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ انھیں وہ آیات و احکام پڑھ کر سنائیں جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیے۔ {” عَلَيْهِمُ “ } سے اولین مراد قریش مکہ ہیں اور پھر بعد میں قیامت تک آنے والے تمام لوگ بھی، جیسا کہ فرمایا: «{ هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَ يُزَكِّيْهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ (2) وَ اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ}» [ الجمعۃ: ۲، ۳ ] ”وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں ایک رسول انھی میں سے بھیجا، جو ان کے سامنے اس کی آیات پڑھتا ہے اور انھیں پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، حالانکہ بلاشبہ وہ اس سے پہلے یقینا کھلی گمراہی میں تھے۔ اور ان میں سے کچھ اور لوگوں میں بھی (آپ کو بھیجا) جو ابھی تک ان سے نہیں ملے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔“ ”جو ابھی تک ان سے نہیں ملے“ سے مراد قیامت تک کے لوگ ہیں۔ ➍ { وَ هُمْ يَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ:} یعنی اللہ نے اپنی رحمت سے ان لوگوں پر کرم فرمایا کہ آپ کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا، مگر ان کی ناشکری کا حال یہ ہے کہ اس کا حق پہچاننے سے منکر ہو گئے ہیں۔ کفار مکہ اللہ کے خالق ہونے کا تو اقرار کرتے تھے، مگر اس کے ”رحمان“ ہونے کے منکر تھے، بلکہ جب اللہ تعالیٰ کے رحمان ہونے اور اسے اس نام سے پکارنے کی دعوت دی جاتی تو اس سے چڑتے اور کہتے: «{ وَ مَا الرَّحْمٰنُ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا }» [ الفرقان: ۶۰ ] ”رحمان کیا چیز ہے؟ کیا ہم اسے سجدہ کریں جس کے لیے تو ہمیں حکم دیتا ہے اور یہ بات انھیں بدکنے میں بڑھا دیتی ہے۔“ نیز حدیبیہ کے صلح نامہ پر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے {”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“} لکھوانا چاہا تو کفار کے نمائندے سہیل بن عمرو نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں رحمان کو نہیں جانتا کہ وہ کون ہے، آپ {”بِاسْمِكَ اللّٰهُمَّ“} لکھوائیے۔“ [ بخاری، الشروط، باب الشروط في الجہاد …: ۲۷۳۱، ۲۷۳۲ ] {” الرَّحْمٰنُ “} اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ہے اور اسم اللہ کے بعد سب سے محترم نام ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ أَحَبَّ أَسْمَائِكُمْ إِلَی اللّٰهِ عَبْدُ اللّٰهِ وَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ ] [ مسلم، الآداب، باب النھي عن التکني بأبی القاسم…: ۲۱۳۲ ] ”اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے پیارے نام عبد اللہ اور عبد الرحمان ہیں۔“
وَ لَوۡ اَنَّ قُرۡاٰنًا سُیِّرَتۡ بِہِ الۡجِبَالُ اَوۡ قُطِّعَتۡ بِہِ الۡاَرۡضُ اَوۡ کُلِّمَ بِہِ الۡمَوۡتٰی ؕ بَلۡ لِّلّٰہِ الۡاَمۡرُ جَمِیۡعًا ؕ اَفَلَمۡ یَایۡـَٔسِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ لَّوۡ یَشَآءُ اللّٰہُ لَہَدَی النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا تُصِیۡبُہُمۡ بِمَا صَنَعُوۡا قَارِعَۃٌ اَوۡ تَحُلُّ قَرِیۡبًا مِّنۡ دَارِہِمۡ حَتّٰی یَاۡتِیَ وَعۡدُ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ ﴿٪۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور کیا ہو جاتا اگر کوئی ایسا قرآن اتار دیا جاتا جس کے زور سے پہاڑ چلنے لگتے، یا زمین شق ہو جاتی، یا مُردے قبروں سے نکل کر بولنے لگتے؟ (اس طرح کی نشانیاں دکھا دینا کچھ مشکل نہیں ہے) بلکہ سارا اختیار ہی اللہ کے ہاتھ میں ہے پھر کیا اہل ایمان (ابھی تک کفار کی طلب کے جواب میں کسی نشانی کے ظہور کی آس لگا ئے بیٹھے ہیں اور وہ یہ جان کر) مایوس نہیں ہو گئے کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا؟ جن لوگوں نے خدا کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کر ر کھا ہے اُن پر ان کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہتی ہے، یا ان کے گھر کے قریب کہیں نازل ہوتی ہے یہ سلسلہ چلتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آن پورا ہو یقیناً اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر (بالفرض) کسی قرآن (آسمانی کتاب) کے ذریعے پہاڑ چلا دیئے جاتے یا زمین ٹکڑے ٹکڑے کر دی جاتی یا مردوں سے باتیں کرا دی جاتیں (پھر بھی وه ایمان نہ ﻻتے)، بات یہ ہے کہ سب کام اللہ کے ہاتھ میں ہے، تو کیا ایمان والوں کو اس بات پر دل جمعی نہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمام لوگوں کو ہدایت دے دے۔ کفار کو تو ان کے کفر کے بدلے ہمیشہ ہی کوئی نہ کوئی سخت سزا پہنچتی رہے گی یا ان کے مکانوں کے قریب نازل ہوتی رہے گی تاوقتیکہ وعدہٴ الٰہی آپہنچے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ وعده خلافی نہیں کرتا
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر کوئی ایسا قرآن آتا جس سے پہاڑ ٹل جاتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردے باتیں کرتے جب بھی یہ کافر نہ مانتے بلکہ سب کام اللہ ہی کے اختیار ميں ہیں تو کیا مسلمان اس سے نا امید نہ ہوئے کہ اللہ چاہتا تو سب آدمیوں کو ہدایت کردیتا اور کافروں کو ہمیشہ کے لیے یہ سخت دھمک (ہلادینے والی مصیبت) پہنچتی رہے گی یا ان کے گھروں کے نزدیک اترے گی یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آئے بیشک اللہ وعدہ خلاف نہیں کرتا
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر کوئی ایسا قرآن ہوتا جس کے ذریعہ سے پہاڑ چلنے لگتے، یا زمین (کی مسافتیں) جلدی طے ہو جاتیں یا مردوں سے کلام کیا جا سکتا (تو وہ یہی قرآن ہوتا مگر وہ پھر بھی ایمان نہ لاتے) بلکہ یہ سب کام اللہ کے اختیار میں ہیں۔ کیا ایمان لانے والے اس بات سے مایوس نہیں ہوگئے اگر خدا (زبردستی) چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت کر دیتا! اور کافروں پر ان کے کرتوتوں کی پاداش میں کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہے گی۔ یا ان کے گھروں کے آس پاس آتی رہے گی۔ یہاں تک کہ اللہ کے وعدہ کے (ظہور) کا وقت آجائے بے شک اللہ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
عبدالسلام بن محمد
اور واقعی اگر کوئی ایسا قرآن ہوتا جس کے ذریعے پہاڑ چلائے جاتے، یا اس کے ذریعے زمین قطع کی جاتی، یا اس کے ذریعے مُردوں سے کلام کیا جاتا۔ بلکہ کام سارے کا سارا اللہ کے اختیار میں ہے، تو کیا جو لوگ ایمان لائے ہیں مایوس نہیں ہوگئے کہ اگر اللہ چاہے تو یقینا سب کے سب لوگوں کو ہدایت دے دے، اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ہمیشہ اس حال میں رہیں گے کہ انھیں اس کی وجہ سے جو انھوں نے کیا، کوئی نہ کوئی سخت مصیبت پہنچتی رہے گی، یا ان کے گھر کے قریب اترتی رہے گی، یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آجائے۔ بے شک اللہ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن حکیم کی صفات جلیلہ ٭٭

اللہ تعالیٰ اس پاک کتاب قرآن کریم کی تعریفیں بیان فرما رہا ہے اگر ’ سابقہ کتابوں میں کسی کتاب کے ساتھ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جانے والے اور زمین پھٹ جانے والی اور مردے جی اٹھنے والے ہوتے تو یہ قرآن جو تمام سابقہ کتابوں سے بڑھ چڑھ کر ہے ان سب سے زیادہ اس بات کا اہل تھا اس میں تو وہ معجز بیانی ہے کہ سارے جنات وانسان مل کر بھی اس جیسی ایک سورت نہ بنا کر لا سکے۔ یہ مشرکین اس کے بھی منکر ہیں تو معاملہ سپرد رب کرو۔ وہ مالک کل کہ، تمام کاموں کا مرجع وہی ہے، وہ جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے، جو نہیں چاہتا ہرگز نہیں ہوتا۔ اس کے بھٹکائے ہوئے کی رہبری اور اس کے راہ دکھائے ہوئے کی گمراہی کسی کے بس میں نہیں ‘۔ یہ یاد رہے کہ قرآن کا اطلاق اگلی الہامی کتابوں پر بھی ہوتا ہے اس لیے کہ وہ سب سے مشتق ہے۔

مسند میں ہے { داؤد علیہ السلام پر قرآن اس قدر آسان کردیا گیا تھا کہ ان کے حکم سے سواری کسی جاتی اس کے تیار ہونے سے پہلے ہی وہ قرآن کو ختم کر لیتے، سوا اپنے ہاتھ کی کمائی کے وہ اور کچھ نہ کھاتے تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3417] ‏‏‏‏ پس مراد یہاں قرآن سے زبور ہے۔ ’ کیا ایماندار اب تک اس سے مایوس نہیں ہوئے کہ تمام مخلوق ایمان نہیں لائے گی۔ کیا وہ مشیت الٰہی کے خلاف کچھ کر سکتے ہیں۔ رب کی یہ منشا ہی نہیں اگر ہوتی تو روئے زمین کے لوگ مسلمان ہو جاتے۔ بھلا اس قرآن کے بعد کس معجزے کی ضرورت دنیا کو رہ گئی؟ اس سے بہتر واضح، اس سے صاف، اس سے زیادہ دلوں میں گھر کرنے والا اور کون سا کلام ہوگا؟ اسے تو اگر بڑے سے بڑے پہاڑ پر اتارا جاتا تو وہ بھی خشیت الٰہی سے چکنا چور ہو جاتا ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر نبی کو ایسی چیز ملی کہ لوگ اس پر ایمان لائیں۔ میری ایسی چیز اللہ کی یہ وحی ہے پس مجھے امید ہے کہ سب نبیوں سے زیادہ تابعداروں والا میں ہو جاؤں گا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4981] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے معجزے ان کے ساتھ ہی چلے گئے اور میرا یہ معجزہ جیتا جاگتا رہتی دنیا تک رہے گا، نہ اس کے عجائبات ختم ہوں نہ یہ کثرت تلاوت سے پرانا ہو نہ اس سے علماء کا پیٹ بھر جائے۔ یہ فضل ہے دل لگی نہیں۔ جو سرکش اسے چھوڑ دے گا اللہ اسے توڑ دے گا جو اس کے سوا اور میں ہدایت تلاش کرے گا اسے اللہ گمراہ کردے گا۔

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { کافروں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں کے پہاڑ یہاں سے ہٹوا دیں اور یہاں کی زمین زراعت کے قابل ہو جائے اور جس طرح سیلمان علیہ السلام زمین کی کھدائی ہوا سے کراتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی کرا دیجئیے یا جس طرح عیسیٰ علیہ السلام مردوں کو زندہ کر دیتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی کر دیجئیے اس پر یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:20398:ضعیف] ‏‏‏‏ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”اگر کسی قرآن کے ساتھ یہ امور ظاہر ہوتے تو اس تمہارے قرآن کے ساتھ بھی ہوتے سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے لیکن وہ ایسا نہیں کرتا تاکہ تم سب کو آزما لے اپنے اختیار سے ایمان لاؤ یا نہ لاؤ۔ کیا ایمان والے نہیں جانتے؟ «يَيْأَسِ» کے بدلے دوسری جگہ «يَتَبَيَّنِ» بھی ہے، ایماندار ان کی ہدایت سے مایوس ہو چکے تھے۔ ہاں اللہ کے اختیار میں کسی کا بس نہیں وہ اگر چاہے تمام مخلوق کو ہدایت پر کھڑا کر دے۔ یہ کفار برابر دیکھ رہے ہیں کہ ان کے جھٹلانے کی وجہ سے اللہ کے عذاب برابر ان پر برستے رہتے ہیں یا ان کے آس پاس آ جاتے ہیں پھر بھی یہ نصیحت حاصل نہیں کرتے؟ جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [46۔ الأحقاف:27] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے تمہارے آس پاس کی بہت سی بستیوں کو ان کی بد کرداریوں کی وجہ سے غارت و برباد کر دیا اور طرح طرح سے اپنی نشانیاں ظاہر فرمائیں کہ لوگ برائیوں سے باز رہیں ‘۔

اور آیت میں ہے «أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا أَفَهُمُ الْغَالِبُونَبِ» ۱؎ [21-الأنبياء:44] ‏‏‏‏ ’ کیا وہ نہیں دیکھ رہے کہ ہم زمین کو گھٹاتے چلے آ رہے ہیں کیا اب بھی اپنا ہی غلبہ مانتے چلے جائیں گے؟ ‘ «تَحُلُّ» کا فاعل «قَارِعَةٌ» ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:391/7:] ‏‏‏‏ یہی ظاہر اور مطابق روانی عبارت ہے لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «قَارِعَةٌ» پہنچے یعنی چھوٹا سا لشکر اسلامی یا تو خود ان کے شہر کے قریب اتر پڑے یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تک کہ وعدہ ربانی آ پہنچے اس سے مراد فتح مکہ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ «قَارِعَةٌ» سے مراد آسمانی عذاب ہے اور آس پاس اترنے سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے لشکروں سمیت ان کی حدود میں پہنچ جانا ہے اور ان سے جہاد کرنا ہے۔ ان سب کا قول ہے کہ یہاں وعدہ الٰہی سے مراد فتح مکہ ہے۔ لیکن حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔ اللہ کا وعدہ اپنے رسولوں کی نصرت وامداد کا ہے وہ کبھی ٹلنے والا نہیں انہیں اور ان کے تابعداروں کو ضرور بلندی نصیب ہو گی۔ جیسے فرمان ہے «فَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّـهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ ذُو انتِقَامٍ» ۱؎ [14-ابراھیم:47] ‏‏‏‏ ’ یہ غلط گمان ہرگز نہ کرو کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے۔ اللہ غالب ہے اور بدلہ لینے والا ‘۔
31۔ 1 امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ہر آسمانی کتاب کو قرآن کہا جاتا ہے، جس طرح ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت داؤد ؑ، جانور کو تیار کرنے کا حکم دیتے اور اتنی دیر میں ایک مرتبہ قرآن کا ورد کرلیتے ' (صحیح بخاری) یہاں ظاہر بات ہے قرآن سے مراد زبور ہے۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ اگر پہلے کوئی آسمانی کتاب ایسی نازل ہوئی ہوتی کہ جسے سن کر پہاڑ رواں دواں ہوجاتے یا زمین کی مسافت طے ہوجاتی یا مردے بول اٹھتے تو قرآن کریم کے اندر یہ خصوصیت بدرجہ اولیٰ موجود ہوتی، کیونکہ یہ اعجاز و بلاغت میں پچھلی کتابوں سے فائق ہے۔ اور بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اگر اس قرآن کے ذریعے سے معجزات ظاہر ہوتے، تب بھی کفار ایمان نہ لاتے، کیونکہ ایمان لانا نہ لانا یہ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے، معجزوں پر نہیں۔ اسی لئے فرمایا، سب کام اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ 31۔ 2 جو ان کے مشاہدے یا علم میں ضرور آئے گا تاکہ وہ عبرت پکڑ سکیں۔ 31۔ 3 یعنی قیامت واقعہ ہوجائے، یا اہل اسلام کو قطعی فتح و غلبہ حاصل ہوجائے۔
(آیت31) ➊ {وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ …: ” قُرْاٰنًا “} نکرہ ہے، کوئی قرآن، یعنی پڑھی جانے والی کوئی کتاب۔ {”لَوْ “} شرطیہ ہے، اس کا جواب محذوف ہے، جو آیت کے سیاق و سباق سے خود بخود معلوم ہو رہا ہے اور قرآن مجید کے دوسرے مقامات پر موجود بھی ہے۔ تفاسیر میں دو جواب مذکور ہیں اور دونوں درست ہیں، ایک تو یہ کہ اگر واقعی کوئی ایسا قرآن ہوتا جس کے ذریعے سے پہاڑ چلائے جاتے، یا اس کے ذریعے سے زمین قطع کی جاتی، یا اس کے ذریعے سے مُردوں سے کلام کیا جاتا تو پھر بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے، کیونکہ یہ ضد اور عناد کی وجہ سے انکار کر رہے ہیں۔ ان تین چیزوں کا خصوصاً ذکر اس لیے کیا کہ قرآن مجید کے معجزے کے بعد، جس کے چیلنج کے مقابلے میں سب لاجواب ہو چکے تھے، اب وہ لوگ خصوصاً انھی تین چیزوں کے دکھانے کا مطالبہ کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب لاجواب ہونے کے باوجود یہ لوگ اس قرآن پر ایمان نہیں لائے تو اگر کوئی ایسا قرآن بھی آ جائے جس سے ان کے مطالبے پورے ہوں، پھر بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے، کیونکہ تمام کام تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور یہ لوگ جب عناد کی وجہ سے اس قرآن پر ایمان نہ لا کر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا نشانہ بن چکے ہیں، جو سب معجزوں سے بڑا معجزہ ہے، تو اپنے مطلوبہ معجزے دیکھ لینے کے بعد بھی اللہ کی ناراضگی کی وجہ سے ان کو ایمان لانے کی توفیق کیسے ملے گی اور کہاں سے ملے گی۔ جب کوئی جان بوجھ کر آنکھیں ہی بند کر لے تو کوئی اسے کس طرح دکھا سکتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَيْهِمُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُوْنَ }» [ الأنعام: ۱۱۱ ] ”اور اگر واقعی ہم ان کی طرف فرشتے اتار دیتے اور ان سے مُردے گفتگو کرتے اور ہم ہر چیز ان کے پاس سامنے لا جمع کرتے توبھی وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لے آتے مگر یہ کہ اللہ چاہے اور لیکن ان کے اکثر جہالت برتتے ہیں۔“ اس آیت سے {” لَوْ “ } کا جواب صراحت کے ساتھ معلوم ہو رہا ہے۔ دوسرا جواب اس {” لَوْ “} کا یہ ہے کہ ان صفات کا حامل اگر کوئی قرآن ہوتا تو وہ یہی قرآن تھا، جیسا کہ فرمایا: «{ لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَيْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ }» [ الحشر: ۲۱ ] ”اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو یقینا تو اسے اللہ کے ڈر سے پست ہونے والا، ٹکڑے ٹکڑے ہونے والا دیکھتا۔“اس میں اس قرآن کی عظمت کا بیان ہے کہ تم جو مطالبے کر رہے ہو قرآن کے لیے ان میں سے کوئی بھی پورا کرنا مشکل نہیں، مگر سارا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور ایسا کرنا اس کی حکمت کے خلاف ہے، کیونکہ اس کے بعد ایمان نہ لانے کی صورت میں تمھیں عذاب سے ملیامیٹ کر دیا جاتا، جیسا کہ پہلی امتوں کے ساتھ ہوا۔ ➋ {اَفَلَمْ يَايْـَٔسِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا:} مفسرین نے {” اَفَلَمْ يَايْـَٔسِ “} کے دو معنی لکھے ہیں، ایک معنی ہے کہ{” أَفَلَمْ يَعْلَمْ “} کہ کیا وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں انھیں معلوم نہیں ہوا کہ جن نشانیوں کا یہ لوگ مطالبہ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے دکھانے پر قادر ہے، کیونکہ اسے ہر چیز کا اختیار ہے، مگر اس توقع پر ان نشانیوں کا دکھانا بے سود ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ لوگ اتنے سرکش اور ضدی ہیں کہ یہ نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے اور {” اَفَلَمْ يَايْـَٔسِ “} کا دوسرا معنی یہ ہے کہ کیا ابھی مسلمان ان کے ایمان لانے سے مایوس نہیں ہوئے، حالانکہ وہ جانتے ہیں…۔ ➌ {اَنْ لَّوْ يَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيْعًا:} یعنی ہدایت تو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے جو ان نشانات کے دکھائے بغیر بھی ہو سکتی ہے۔ (شوکانی) ➍ {وَ لَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا …:} یعنی یہ کفار مکہ نشانیوں کو دیکھ کر مان لینے والے نہیں ہیں۔ یہ مانیں گے تو اس طرح کہ ان کے کرتوتوں کی سزا میں آئے دن کوئی نہ کوئی آفت ان پر نازل ہوتی رہے، جیسے قتل، قید، قحط یا بیماری وغیرہ۔ چنانچہ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”لیکن کافر مسلمان یوں ہوں گے کہ ان پر آفت پڑتی رہے گی، ان پر پڑے یا ہمسائے پر، جب تک سارے عرب ایمان میں آ جائیں۔ وہ آفت یہی تھی جہاد مسلمانوں کے ہاتھ سے۔“ (موضح) ➎ { اَوْ تَحُلُّ قَرِيْبًا مِّنْ دَارِهِمْ:} یعنی وہ آفت ان کے آس پاس والوں پر اترے گی اور وہ ان کا حال دیکھ کر عبرت حاصل کریں گے۔ ➏ { اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ:} چنانچہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوا، قریش میں سے بعض لوگ مارے گئے اور بعض قید ہوئے، یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ پورا ہوا، یعنی مکہ فتح ہوا۔
وَ لَقَدِ اسۡتُہۡزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَاَمۡلَیۡتُ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ثُمَّ اَخَذۡتُہُمۡ ۟ فَکَیۡفَ کَانَ عِقَابِ ﴿۳۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے، مگر میں نے ہمیشہ منکر ین کو ڈھیل دی اور آخر کار ان کو پکڑ لیا، پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً آپ سے پہلے کے پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا تھا اور میں نے بھی کافروں کو ڈھیل دی تھی پھر انہیں پکڑ لیا تھا، پس میرا عذاب کیسا رہا؟
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک تم سے اگلے رسولوں سے بھی ہنسی کی گئی تو میں نے کافروں کو کچھ دنوں ڈھیل دی پھر انہیں پکڑا تو میرا عذاب کیسا تھا،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) آپ سے پہلے بھی بہت سے پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا ہے مگر میں نے کافروں کو (کچھ مدت تک) ڈھیل دی پھر میں نے انہیں پکڑ لیا۔ تو (دیکھو) میرا عذاب کیسا تھا؟
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا تجھ سے پہلے کئی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو میں نے ان لوگوں کو مہلت دی جنھوں نے کفر کیا، پھر میں نے انھیں پکڑ لیا تو میرا عذاب کیسا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سچائی کا مذاق اڑانا آج بھی جاری ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کے غلط رویہ سے رنج وفکر نہ کریں آپ سے پہلے کے پیغمبروں کا بھی یونہی مذاق اڑایا گیا تھا میں نے ان کافروں کو بھی کچھ دیر تو ڈھیل دی تھی آخر بری طرح پکڑ لیا تھا اور نام و نشان تک مٹا دیا تھا۔ تجھے معلوم ہے کہ کس کیفیت سے میرے عذاب ان پر آئے؟ اور ان کا انجام کیسا کچھ ہوا؟ ‘ جیسے فرمان ہے «وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَمْلَيْتُ لَهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ أَخَذْتُهَا وَإِلَيَّ الْمَصِيرُ» ۱؎ [22-الحج:48] ‏‏‏‏ ’ بہت سی بستیاں ہیں جو ظلم کے باوجود ایک عرصہ سے دنیا میں مہلت لیے رہیں لیکن آخرش اپنی بداعمالیوں کی پاداش میں عذابوں کا شکار ہوئیں ‘۔ بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو وہ حیران رہ جاتا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» ۱؎ [11۔ ھود:102] ‏‏‏‏، کی تلاوت کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4686] ‏‏‏‏
32۔ 1 حدیث میں آتا ہے ' (ان اللہ لیملی للظالم حتی اذا اخذہ لم یفلتہ) اللہ ظالم کو مہلت دیئے جاتا ہے حتٰی کہ جب اسے پکڑتا ہے تو پھر چھوڑتا نہیں ' اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ) (11۔ ہود:12) اسی طرح تیرے رب کی پکڑ ہے جب وہ ظلم کی مرتکب بستیوں کو پکڑتا ہے۔ یقینا اس کی پکڑ بہت ہی الم ناک اور سخت ہے۔ (صحیح بخاری)۔
(آیت32){وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ …:” عِقَابِ “} اصل میں {”عِقَابِيْ“} تھا۔ آیات کی موافقت کے لیے یاء حذف کر کے کسرہ رہنے دیا گیا۔ {”أَمْلَيْتُ“} باب افعال (ناقص واوی) بمعنی مہلت دینا، اس سے مقصود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے کہ آپ ان کافروں کے ٹھٹھا مذاق کرنے اور ناجائز اور ناممکن مطالبات کرنے سے بد دل نہ ہوں، پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ نوح علیہ السلام کشتی بنا رہے تھے تو ہر گزرنے والا ان سے ٹھٹھا کرتا۔ [ ہود: ۳۸ ] شعیب علیہ السلام سے ان کی قوم نے کہا: ”ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو۔“ [ الشعراء: ۱۸۷ ] ہود علیہ السلام کی قوم نے کہا: ”ہم یقینا تجھے بے وقوفی میں مبتلا دیکھ رہے ہیں۔“ [ الأعراف: ۶۶ ] فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کو {” مُهِيْنٌ “} (حقیر) کہا اور زبان کی لکنت کا طعنہ دیا۔ [ الزخرف: ۵۲ ] فرمایا، اس کے باوجود میں نے کفار کو مہلت دی، تاکہ ان کا عذر ختم ہو جائے، پھر میں نے انھیں پکڑ لیا تو آپ بھی ان کی حرکتوں سے دل گرفتہ نہ ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ لَيُمْلِيْ لِلظَّالِمِ حَتّٰی إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ ] ”اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے، یہاں تک کہ جب اسے پکڑتا ہے تو اسے چھوڑتا نہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «{ وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِيَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ }» [ ھود: ۱۰۲ ] ”اور تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، جب وہ بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کرنے والی ہوتی ہیں، بے شک اس کی پکڑ بڑی دردناک، بہت سخت ہے۔“ [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «و کذٰلک أخذ ربک إذا أخذ القریٰ…» ‏‏‏‏: ۴۶۸۶، عن أبي موسٰی رضی اللہ عنہ۔ مسلم: ۲۵۸۳ ]
اَفَمَنۡ ہُوَ قَآئِمٌ عَلٰی کُلِّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ ۚ وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ ؕ قُلۡ سَمُّوۡہُمۡ ؕ اَمۡ تُنَبِّـُٔوۡنَہٗ بِمَا لَا یَعۡلَمُ فِی الۡاَرۡضِ اَمۡ بِظَاہِرٍ مِّنَ الۡقَوۡلِ ؕ بَلۡ زُیِّنَ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مَکۡرُہُمۡ وَ صُدُّوۡا عَنِ السَّبِیۡلِ ؕ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ ﴿۳۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر کیا وہ جو ایک ایک متنفس کی کمائی پر نظر رکھتا ہے (اُس کے مقابلے میں یہ جسارتیں کی جا رہی ہیں کہ) لوگوں نے اُس کے کچھ شریک ٹھیرا رکھے ہیں؟ اے نبیؐ، اِن سے کہو (اگر واقعی وہ خدا کے اپنے بنائے ہوئے شریک ہیں تو) ذرا اُن کے نا م لو کہ وہ کون ہیں؟ کیا تم اللہ کو ایک نئی بات کی خبر دے رہے ہو جسے وہ اپنی زمین میں نہیں جانتا؟ یا تم لوگ بس یونہی جو منہ میں آتا ہے کہہ ڈالتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کیا ہے ان کے لیے اُن کی مکاریاں خوشنما بنا دی گئی ہیں اور وہ راہ راست سے روک دیے گئے ہیں، پھر جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے اُسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آیا وه اللہ جو نگہبانی کرنے واﻻ ہے ہر شخص کی، اس کے کئے ہوئے اعمال پر، ان لوگوں نے اللہ کے شریک ٹھہرائے ہیں کہہ دیجئے ذرا ان کے نام تو لو، کیا تم اللہ کو وه باتیں بتاتے ہو جو وه زمین میں جانتا ہی نہیں، یا صرف اوپری اوپری باتیں بتا رہے ہو، بات اصل یہ ہے کہ کفر کرنے والوں کے لئے ان کے مکر سجا دیئے گئے ہیں، اور وه صحیح راه سے روک دیئے گئے ہیں، اور جس کو اللہ گمراه کر دے اس کو راه دکھانے واﻻ کوئی نہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا وہ ہر جان پر اس کے اعمال کی نگہداشت رکھتا ہے اور وہ اللہ کے شریک ٹھہراتے ہیں، تم فرماؤ ان کا نام تو لو یا اسے وہ بتاتے ہو جو اس کے علم میں ساری زمین میں نہیں یا یوں ہی اوپری بات بلکہ کافروں کی نگاہ میں ان کا فریب اچھا ٹھہرا ہے اور راہ سے روکے گئے اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا وہ ذات جو ہر نفس کے (نیک و بد) اعمال پر نگران ہے کہ اس نے کیا کمایا ہے؟ (وہ ان کے خود ساختہ معبودوں جیسا ہے؟) ان لوگوں نے اللہ کے کچھ شریک بنا لئے ہیں؟ اے رسول ان سے کہو کہ آخر ان کے نام تو بتاؤ یا تم اس (اللہ) کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جسے وہ (ہمہ دان ہو کر بھی) زمین میں نہیں جانتا کہ کہاں ہے؟ یا یونہی یہ ظاہری الفاظ ہیں (جن کا کوئی مصداق نہیں ہے) بلکہ کافروں کے لئے ان کا مکر و فریب خوشنما بنا دیا گیا ہے اور وہ راہ (راست) سے روک دیئے گئے ہیں اور جسے اللہ گمراہی میں چھوڑ دے (اور اسے ہدایت نہ دے) تو اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو کیا وہ جو ہر جان پر اس کا نگران ہے جو اس نے کمایا (کوئی دوسرا اس کے برابر ہوسکتا ہے؟) اور انھوں نے اللہ کے کچھ شریک بنا لیے۔ کہہ دے ان کے نام لو، یا کیا تم اسے اس چیز کی خبر دیتے ہو جسے وہ زمین میں نہیں جانتا، یا ظاہری بات سے (کہہ رہے ہو؟) بلکہ ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، ان کا مکر خوش نما بنا دیا گیا اور وہ سیدھے راستے سے روک دیے گئے اور جسے اللہ گمراہ کر دے پھر اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عالم خیر و شر ٭٭

اللہ تعالیٰ ہر انسان کے اعمال کا محافظ ہے ہر ایک کے اعمال کو جانتا ہے، ہر نفس پر نگہبان ہے، ہر عامل کے خیر و شر کے علم سے باخبر ہے۔ کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں، کوئی کام اس کی بے خبری میں نہیں ہوتا۔ ہر حالت کا اسے علم ہے ہر عمل پر وہ موجود ہے «وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا» ۱؎ [6-الأنعام:59] ‏‏‏‏ ’ ہر پتے کے جھڑنے کا اسے علم ہے ‘۔ «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [11-ھود:6] ‏‏‏‏ ’ ہر جاندار کی روزی اللہ کے ذمے ہے ہر ایک کے ٹھکانے کا اسے علم ہے ہر بات اس کی کتاب میں لکھی ہوئی ہے ‘، «يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى» ۱؎ [20-طه:7] ‏‏‏‏ ’ ظاہر وباطن ہر بات کو وہ جانتا ہے ‘ «وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِن قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ» ۱؎ [10-یونس:61] ‏‏‏‏ ’ تم جہاں ہو وہاں اللہ تمہارے ساتھ ہے تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے ان صفتوں والا اللہ کیا تمہارے ان جھوٹے معبودوں جیسا ہے؟ جو نہ سنیں، نہ دیکھیں، نہ اپنے لیے کسی چیز کے مالک، نہ کسی اور کے نفع نقصان کا انہیں اختیار ‘۔ اس جواب کو حذف کر دیا کیونکہ دلالت کلام موجود ہے۔ اور وہ فرمان الٰہی «وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظَاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مَكْرُهُمْ وَصُدُّوا عَنِ السَّبِيلِ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ» ۱؎ [13-الرعد:33] ‏‏‏‏ ہے، ’ انہوں نے اللہ کے ساتھ اوروں کو شریک ٹھہرایا اور ان کی عبادت کرنے لگے تم ذرا ان کے نام تو بتاؤ ان کے حالات تو بیان کرو تاکہ دنیا جان لے کہ وہ محض بے حقیقت ہیں کیا تم زمین کی جن چیزوں کی خبر اللہ کو دے رہے ہو جنہیں وہ نہیں جانتا یعنی جن کا وجود ہی نہیں ‘۔

اس لیے کہ اگر وجود ہوتا تو علم الٰہی سے باہر نہ ہوتا کیونکہ اس پر کوئی مخفی سے مخفی چیز بھی حقیقتاً مخفی نہیں یا صرف اٹکل پچو باتیں بنا رہے ہو؟ «إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّـهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ وَلَقَدْ جَاءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَىٰ» ۱؎ [53-النجم:23] ‏‏‏‏ ’ فضول گپ مار رہے ہو تم نے آپ ان کے نام گھڑ لیے، تم نے ہی انہیں نفع نقصان کا مالک قرار دیا اور تم نے ہی ان کی پوجا پاٹ شروع کر دی۔ یہی تمہارے بڑے کرتے رہے ‘۔ نہ تو تمہارے ہاتھ میں کوئی ربانی دلیل ہے نہ اور کوئی ٹھوس دلیل یہ تو صرف وہم پرستی اور خواہش پروری ہے۔ ہدایت اللہ کی طرف سے نازل ہو چکی ہے۔ کفار کا مکر انہیں بھلے رنگ میں دکھائی دے رہا ہے وہ اپنے کفر پر اور اپنے شرک پر ہی ناز کر رہے ہیں دن رات اسی میں مشغول ہیں اور اسی کی طرف اوروں کو بلا رہے ہیں۔ جیسے فرمایا «وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَاءَ فَزَيَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِيْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِيْنَ» ۱؎ [41۔ فصلت:25] ‏‏‏‏، ’ ان کے شیطانوں نے ان کی بےڈھنگیاں ان کے سامنے دلکش بنا دی ہیں یہ راہ اللہ سے طریقہ ہدی سے روک دیئے گئے ہیں ‘۔ «وَصُدُّوا» ایک قرأت اس کی «وَصَدُّوْا» بھی ہے یعنی انہوں نے اسے اچھا جان کر پھر اوروں کو اس میں پھانسنا شروع کر دیا اور راہ رسول سے لوگوں کو روکنے لگے رب کے گمراہ کئے ہوئے لوگوں کو کون راہ دکھا سکے؟ جیسے فرمایا «وَمَن يُرِدِ اللَّـهُ فِتْنَتَهُ فَلَن تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّـهِ شَيْئًا» ۱؎ [5-المائدہ:41] ‏‏‏‏ ’ جسے اللہ فتنے میں ڈالنا چاہے تو اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ بھی تو اختیار نہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «إِن تَحْرِصْ عَلَىٰ هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي مَن يُضِلُّ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ» ۱؎ [16-النحل:37] ‏‏‏‏ ’ گو تو ان کی ہدایت کا لالچی ہو لیکن اللہ ان گمراہوں کو راہ دکھانا نہیں چاہتا پھر کون ہے جو ان کی مدد کرے ‘۔
33۔ 1 یہاں اس کا جواب محذوف ہے یعنی کیا رب العزت اور وہ معبودان باطل برابر ہوسکتے ہیں جن کی عبادت کرتے ہیں، جو کسی کو نفع پہنچانے پر، نہ دیکھتے ہیں اور نہ عقل وشعور سے بہرہ ور ہیں۔ 33۔ 2 یعنی ہمیں بھی تو بتاؤ تاکہ انھیں پہچان سکیں اس لئے کہ ان کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہے۔ اس لئے آگے فرمایا، کیا تم اللہ کو وہ باتیں بتاتے ہو جو وہ زمین میں جانتا ہی نہیں، یعنی ان کا وجود ہی نہیں۔ اس لئے کہ اگر زمین میں ان کا وجود ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے علم میں ضرور ہوتا، اس پر تو کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ 33۔ 3 یہاں ظاہر ظن کے معنی میں ہے یعنی یا یہ صرف ان کی ظنی باتیں ہیں، مطلب یہ ہے کہ تم ان بتوں کی عبادت اس گمان پر کرتے ہو کہ یہ نفع نقصان پہنچا سکتے ہیں اور تم ان کے نام بھی معبود رکھے ہوئے ہیں، حالانکہ، یہ تمہارے اور تمہارے باپوں کے رکھے ہوئے نام ہیں، جن کی کوئی دلیل اللہ نے نہیں اتاری۔ یہ صرف گمان اور خواہش نفس کی پیروی کرتے ہیں (النجم۔ 23) 33۔ 4 مکر سے مراد، ان کے وہ غلط عقائد و اعمال ہیں جن میں شیطان نے ان کو پھنسا رکھا ہے، شیطان نے گمراہیوں پر بھی حسین غلاف چڑھا رکھے ہیں۔ 33۔ 5 جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا، (وَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَـيْـــــًٔـا) 5۔ المائدہ:41)۔ جس کو اللہ گمراہ کرنے کا ارادہ کرلے تو اللہ اس کے لئے کچھ اختیار نہیں رکھتا، اور فرمایا۔ (اِنْ تَحْرِصْ عَلٰي هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ يُّضِلُّ وَمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ) 16۔ النحل:37)۔ اگر تم ان کی ہدایت کی خواہش رکھتے ہو تو (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ اسے ہدایت نہیں دیتا جسے وہ گمراہ کرتا ہے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔
(آیت33) ➊ {اَفَمَنْ هُوَ قَآىِٕمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ:} یہاں پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے ثبوت اور شرک کے رد کا بیان فرمایا ہے۔ {” قَآىِٕمٌ “} سے مراد یہاں نگران اور محافظ ہے۔ {” اَفَمَنْ هُوَ قَآىِٕمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ “} مبتدا ہے، اس کی خبر محذوف ہے اور وہ ہے {” كَمَنْ لَيْسَ كَذٰلِكَ “} اور یہ حذف شدہ خبر کلام کے پہلے اور پچھلے حصے سے خود بخود سمجھ میں آ رہی ہے۔ یعنی کیا وہ معبود برحق جو ہر جان کا ہر لمحہ اور ہر حالت کا نگران اور محافظ ہے اور اس کے ہر عمل سے، نیک ہو یا بد، پوری طرح واقف ہے، وہ تمھارے ان جھوٹے معبودوں کی طرح ہے جو سرے سے اس وصف سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس وصف کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۵۹)، ہود (۶) اور آیت الکرسی وغیرہ۔ ➋ {وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ قُلْ سَمُّوْهُمْ:} اس سے پہلے جملے میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ضمیر{ ” هُوَ “} کے ساتھ تھا، یہاں ضمیر کے بجائے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ان کے شرک کی قباحت ظاہر کی کہ کتنے ظالم ہیں کہ انھوں نے{ ”الله“ } کے شریک بنا لیے، جس کا کوئی شریک ہو ہی نہیں سکتا۔ فرمایا ان شریک بنانے والوں سے کہو ذرا ان شریکوں کے نام تو بتاؤ، انھیں سامنے تو لاؤ۔ اگر تم بالفرض نام لے بھی دو، تو ایسی ہستیوں کا نام لو گے جو محض خیالی ہیں، حقیقت میں ان کا کوئی وجود ہی نہیں، وہ خود اپنے وجود اور بقا میں دوسروں کی محتاج ہیں، نہ اپنے نفع نقصان کا اختیار رکھتی ہیں نہ کسی دوسرے کا، ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتیں۔ پھر ان کا نام اللہ کے شریک کے طور پر لینا کس قدر نادانی اور جہالت کی بات ہے۔ ➌ { اَمْ تُنَبِّـُٔوْنَهٗ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْاَرْضِ:} یا تم اسے اس چیز کی خبر دیتے ہو جسے وہ زمین میں نہیں جانتا، حالانکہ اسے زمین کے چپے چپے کی خبر ہے، تو اگر ان شرکاء کا کہیں وجود ہوتا تو وہ انھیں ضرور جانتا۔ اس تفسیر کی رو سے{ ” لَا يَعْلَمُ “ } میں{ ”هُوَ“ } کی ضمیر اللہ تعالیٰ کے لیے ہو گی اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ {” لَا يَعْلَمُ “} میں ضمیر {” مَا“} کے لیے ہو اور مطلب یہ ہو کہ کیا اللہ تعالیٰ کو ان بے جان بتوں کے معبود ہونے کی خبر دیتے ہو جن کو ذرا بھی علم نہیں ہے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں، اس سے مقصود تو زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبودوں کی نفی کرنا ہے، لہٰذا {” فِي الْاَرْضِ “} کی قید محض اس لیے لگائی ہے کہ کفار یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ کے یہ شریک زمین میں ہیں۔ (روح، ابن کثیر) ➍ {اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ:} یا ظاہری بات ہے، جو تم صرف منہ سے کہہ رہے ہو، دل سے تمھیں بھی یقین نہیں کہ کوئی اللہ کا شریک ہے، کیونکہ اگر غور وفکر کرو تو انسانی فطرت بھی اللہ کا کوئی شریک ہونا تسلیم نہیں کرتی۔ ➎ { بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ:} مکر سے مراد کفر اور اس کے لیے باطل دلیلیں گھڑنا اور لوگوں کو دھوکا دے کر مشرک بنانا ہے۔ ”خوش نما بنا دیا گیا“ خوش نما بنانے والی کئی چیزیں ہیں، اس لیے فعل مجہول استعمال کیا گیا، مثلاً: 1 ان کے اعمالِ بد کی نحوست 2 نفسانی خواہشات 3 شیطان 4 ان کے فسق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے دلوں پر لگنے والی مہر، غرض بہت سی چیزیں ان کے کفر کو خوش نما بنانے کا باعث بنیں۔ ➏ {وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِيْلِ …: ” مِنْ هَادٍ “} یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی قسمت میں ہدایت نہیں لکھی۔ اب ایسے لوگ سیدھی راہ پر کیسے آ سکتے ہیں۔
لَہُمۡ عَذَابٌ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَشَقُّ ۚ وَ مَا لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّاقٍ ﴿۳۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ایسے لوگوں کے لیے دنیا کی زندگی ہی میں عذاب ہے، اور آخرت کا عذاب اُس سے بھی زیادہ سخت ہے کوئی ایسا نہیں جو اُنہیں خدا سے بچانے والا ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے، اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی زیاده سخت ہے، انہیں اللہ کے غضب سے بچانے واﻻ کوئی بھی نہیں
احمد رضا خان بریلوی
انہیں دنیا کے جیتے عذاب ہوگا اور بیشک آخرت کا عذاب سب سے سخت اور انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو اور بھی زیادہ سخت ہے اور کوئی نہیں ہے جو انہیں اللہ (کی گرفت) سے بچائے۔
عبدالسلام بن محمد
ان کے لیے ایک عذاب دنیا کی زندگی میں ہے اور یقینا آخرت کا عذاب زیادہ سخت ہے اور انھیں اللہ سے کوئی بھی بچانے والا نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافر موت مانگیں گے ٭٭

کفار کی سزا اور نیک کاروں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کافروں کا کفر و شرک بیان فرما کر ان کی سزا بیان فرمائی کہ ’ وہ مومنوں کے ہاتھوں قتل و غارت ہوں گے، اس کے ساتھ ہی آخرت کے سخت تر عذابوں میں گرفتار ہوں گے جو اس دنیا کی سزا سے درجہا بدتر ہیں ‘۔ { ملا عنہ کرنے والے میاں بیوی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ { دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہی ہلکا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1493] ‏‏‏‏ یہاں کا عذاب فانی وہاں کا باقی اور اس آگ کا عذاب جو یہاں کی آگ سے ستر حصے زیادہ تیز ہے پھر قید وہ جو تصور میں بھی نہ آ سکے۔ جیسے فرمان ہے «فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ» ۱؎ [89۔الفجر:26،25] ‏‏‏‏، ’ آج اس عذاب جیسے نہ کسی کے عذاب نہ اس جیسی کسی کی قید و بند ‘۔ فرمان ہے «بَلْ كَذَّبُوا بِالسَّاعَةِ وَأَعْتَدْنَا لِمَن كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيرًا إِذَا رَأَتْهُم مِّن مَّكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغَيُّظًا وَزَفِيرًا وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِينَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُورًا لَّا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا قُلْ أَذَٰلِكَ خَيْرٌ أَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ كَانَتْ لَهُمْ جَزَاءً وَمَصِيرًا» » ‏‏‏‏ ۱؎ [25-الفرقان:11-15] ‏‏‏‏، ’ قیامت کے منکروں کے لیے ہم نے آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے دور سے ہی انہیں دیکھتے ہی شور و غل شروع کر دے گی وہاں کے تنگ و تاریک مکانات میں جب یہ جکڑے ہوئے ڈالے جائیں گے تو ہائے وائے کرتے ہوئے موت مانگنے لگیں گے۔ ایک ہی موت کیا مانگتے ہو بہت سے موتیں مانگو۔ اب بتاؤ کہ یہ ٹھیک ہے یا جنت خلد ٹھیک ہے جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے کہ وہ ان کا بدلہ ہے اور ان کا ہمیشہ رہنے کا ٹھکانا ‘۔ پھر نیکوں کا انجام بیان فرماتا ہے کہ «مَّثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ فِيهَا أَنْهَارٌ مِّن مَّاءٍ غَيْرِ آسِنٍ وَأَنْهَارٌ مِّن لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ وَأَنْهَارٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ وَأَنْهَارٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى وَلَهُمْ فِيهَا مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَمَغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ» ۱؎ [47-محمد:15] ‏‏‏‏ ’ ان سے جن جنتوں کا وعدہ ہے اس کی ایک صفت تو یہ ہے کہ اس کے چاروں طرف نہریں جاری ہیں جہاں چاہیں پانی لے جائیں پانی نہ بگڑنے والا پھر دودھ کی نہریں ہیں اور دودھ بہی ایسا جس کا مزہ کبھی نہ بگڑے اور شراب کی نہریں ہیں جس میں صرف لذت ہے۔ نہ بدمزگی، نہ بے ہودہ نشہ، اور صاف شہد کی نہریں ہیں اور ہر قسم کے پھل ہیں اور ساتھ ہی رب کی رحمت مالک معرفت اس کے پھل ہمیشگی والے اس کی کھانے پینے کی چیزیں کبھی فنا ہونے والی نہیں۔ (‏‏‏‏کیا یہ پرہیزگار) ان کی طرح (‏‏‏‏ہو سکتے) ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور جن کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا ‘۔

{ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف کی نماز پڑھی تھی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پچھلے پاؤں پیچھے کو ہٹنے لگے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں میں نے جنت کو دیکھا تھا اور چاہا تھا کہ ایک خوشہ توڑ لوں اگر لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1052] ‏‏‏‏ ابو یعلیٰ میں ہے کہ { ایک دن ظہر کی نماز میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناگاہ آگے بڑھے اور ہم بھی بڑھے پھر ہم نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گویا کوئی چیز لینے کا ارادہ کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہٹ آئے۔ نماز کے خاتمہ کے بعد ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! آج تو ہم نے آپ کو ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا کہ آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں میرے سامنے جنت پیش کی گئی جو تروتازگی سے مہک رہی تھی میں نے چاہا کہ اس میں سے ایک خوشہ انگور کا توڑ لاؤں لیکن میرے اور اس کے درمیان آڑ کر دی گئی اگر میں اسے توڑ لاتا تو تمام دنیا پوری دنیا تک اسے کھاتی رہتی اور پھر بھی ذار سا بھی کم نہ ہوتا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:352/3:ضعیف] ‏‏‏‏ { ایک دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا جنت میں انگور ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے کہا کتنے بڑے خوشے ہوں گئے؟ فرمایا: ”اتنے بڑے کہ اگر کوئی کالا کوا مہینہ بھر اڑتا رہے تو بھی اس خوشے سے آگے نہ نکل سکے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:183/4:اسنادہ قابل التحسین] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { جنتی جب کوئی پھل توڑیں گے اسی وقت اس کی جگہ دوسرا لگ جائے گا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:1449:قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جنتی خوب کھائیں پئیں گے لیکن نہ تھوک آئے گی نہ ناک آئے گی نہ پیشاب نہ پاخانہ مشک جیسی خوشبو والا پسینہ آئے گا اور اسی سے کھانا ہضم ہو جائے گا۔ جیسے سانس بے تکلف چلتا ہے اس طرح تسبیح و تقدیس الہام کی جائے گی“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2835] ‏‏‏‏

{ ایک اہل کتاب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنتی کھائیں پئیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ ہر شخص کو کھانے پینے، جماع اور شہوت کی اتنی قوت دی جائے گی جتنی یہاں سو آدمیوں کو مل کر ہو۔‏‏‏‏“ اس نے کہا اچھا تو جو کھائے گا پئے گا اسے پیشاب پاخانے کی بھی حاجت لگے گی پھر جنت میں گندگی کیسی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ پسینے کے راستے سب ہضم ہو جائے گا اور وہ پسینہ مشک بو ہوگا“ }۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:11478:صحیح] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں کہ { جس پرندے کی طرف کھانے کے ارادے سے جنتی نظر ڈالے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا اس کے سامنے گر پڑے گا } ۱؎ [مسند بزار:3532:ضعیف] ‏‏‏‏ بعض روایتوں میں ہے کہ پھر وہ اسی طرح بحکم الٰہی زندہ ہو کر اڑ جائے گا۔ قرآن میں ہے «وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلَالُهَا وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيلًا» ۱؎ [76-الإنسان:14] ‏‏‏‏ ’ وہاں بکثرت میوے ہوں گے کہ نہ کٹیں نہ، ٹوٹیں نہ ختم ہوں نہ گھٹیں سایے جھکے ہوئے شاخین نیچی۔ سائے بھی دائمی ہوں گے ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا لَّهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَنُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِيلًا» ۱؎ [4-النساء:57] ‏‏‏‏ ’ ایماندار نیک کر دار بہتی نہروں والی جنتوں میں جائیں گے وہاں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور بہترین لمبے چوڑے سائے ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جنت کے ایک درخت کے سائے تلے تیز سواری والا سوار سو سال تک تیز دوڑتا ہوا جائے لیکن پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوگا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6553] ‏‏‏‏ قرآن میں ہے «وَظِلٍّ مَّمْدُودٍ» ۱؎ [56-الواقعہ:30] ‏‏‏‏ ’ سائے ہیں پھیلے اور بڑھے ہوئے ‘۔

عموماً قرآن کریم میں جنت اور دوزخ کا ذکر ایک ساتھ آتا ہے تاکہ لوگوں کو جنت کا شوق ہو اور دوزخ سے ڈر لگے یہاں بھی جنت کا اور وہاں کی چند نعمتوں کا ذکر فرما کر فرمایا کہ ’ یہ ہے انجام پرہیزگار اور تقویٰ شعار لوگوں کا اور کافروں کا انجام جہنم ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ «لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۚ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ» ۱؎ [59-الحشر:20] ‏‏‏‏ ’ جہنمی اور جنتی برابر نہیں جنتی با مراد ہیں ‘۔ خطیب دمشق بلال بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اے بندگان رب کیا تمہارے کسی عمل کی قبولیت کا یا کسی گناہ کی معافی کا کوئی پروانہ تم میں سے کسی کو ملا؟ کیا تم سے کسی کو ملا؟ «أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:115] ‏‏‏‏ ’ کیا تم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ تم بے کار پیدا کئے گئے ہو؟ ‘ اور تم اللہ کے بس میں آنے والے نہیں ہو؟ واللہ اگر اطاعت ربانی کا بدلہ دنیا میں ہی ملتا تو تم تمام نیکیوں پر جم جاتے۔ کیا تم دنیا پر ہی فریفتہ ہو گئے ہو؟ کیا اسی کے پیچھے مر مٹو گے؟ کیا تمہیں جنت کی رغبت نہیں جس کے پھل اور جس کے سائے ہمیشہ رہنے والے ہیں۔‏‏‏‏“ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏
34۔ 1 اس سے مراد قتل اور اسیری ہے جو مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں ان کافروں کے حصے آتی ہے۔ 34۔ 2 جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی لعنت ملامت کرنے والے جوڑے سے فرمایا تھا ' (ان عذاب الدنیا اھون من عذاب الاخرۃ) صحیح مسلم دنیا کا عذاب، آخرت سے بہت ہلکا ہے ' علاوہ ازیں دنیا کا عذاب (جیسا کچھ اور جتنا کچھ بھی ہو) عارضی اور فانی ہے اور آخرت کا عذاب دائمی ہے، اسے زوال و فنا نہیں، مذید برآں جہنم کی آگ، دنیا کی آگ کی نسبت 69 گنا تیز ہے، اور اس طرح دوسری چیزیں ہیں۔ اس لئے عذاب کے سخت ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔
(آیت34) {لَهُمْ عَذَابٌ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا …:} یعنی دنیا ہی میں بعض اوقات آسمانی آفات، بیماریوں، فاقوں اور مختلف مصیبتوں کے ذریعے سے عذاب ہو گا اور بعض اوقات مجاہدین اسلام کے ہاتھوں قید، قتل یا ذلیل ہوں گے اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت ہے۔ اس کی ایک جھلک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ نَارُكُمْ هٰذِهِ الَّتِيْ يُوْقِدُ ابْنُ آدَمَ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِيْنَ جُزْءًا مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَكُلُّهَا مِثْلُ حَرِّهَا ] [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب جہنم أعاذنا اللّٰہ منہا: ۲۸۴۳، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”تمھاری یہ آگ جو ابن آدم جلاتا ہے، جہنم کی گرمی کے ستر (۷۰) حصوں میں سے ایک حصہ ہے… سب کی گرمی اس کی مثل ہے۔“ اور آخرت کے عذاب کے بہت زیادہ سخت ہونے کا سب سے بڑا باعث یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ فجر (۲۵، ۲۶) اور سورۂ فرقان (۱۱ تا ۱۵)۔
مَثَلُ الۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَ ؕ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ؕ اُکُلُہَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّہَا ؕ تِلۡکَ عُقۡبَی الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا ٭ۖ وَّ عُقۡبَی الۡکٰفِرِیۡنَ النَّارُ ﴿۳۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
خدا ترس انسانوں کے لیے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کا سایہ لازوال یہ انجام ہے متقی لوگوں کا اور منکرین حق کا انجام یہ ہے کہ ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس جنت کی صفت، جس کا وعده پرہیزگاروں کو دیا گیا ہے یہ ہے کہ اس کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اس کا میوه ہمیشگی واﻻ ہے اور اس کا سایہ بھی۔ یہ ہے انجام پرہیزگاروں کا، اور کافروں کا انجام کار دوزخ ہے
احمد رضا خان بریلوی
احوال اس جنت کا کہ ڈر والوں کے لیے جس کا وعدہ ہے، اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس کے میوے ہمیشہ اور اس کا سایہ ڈر والوں کا تو یہ انجام ہے اور کافروں کا انجام آ گ،
علامہ محمد حسین نجفی
جس جنت کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت یہ ہے کہ اس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کا سایہ بھی (لازوال) ہے یہ پرہیزگاروں کا انجام ہے اور کافروں کا انجام آتشِ دوزخ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس جنت کی صفت جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس کے نیچے سے نہریں بہ رہی ہیں، اس کا پھل ہمیشہ رہنے والا ہے اور اس کا سایہ بھی۔ یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو متقی بنے اور کافروں کا انجام آگ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافر موت مانگیں گے ٭٭

کفار کی سزا اور نیک کاروں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کافروں کا کفر و شرک بیان فرما کر ان کی سزا بیان فرمائی کہ ’ وہ مومنوں کے ہاتھوں قتل و غارت ہوں گے، اس کے ساتھ ہی آخرت کے سخت تر عذابوں میں گرفتار ہوں گے جو اس دنیا کی سزا سے درجہا بدتر ہیں ‘۔ { ملا عنہ کرنے والے میاں بیوی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ { دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہی ہلکا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1493] ‏‏‏‏ یہاں کا عذاب فانی وہاں کا باقی اور اس آگ کا عذاب جو یہاں کی آگ سے ستر حصے زیادہ تیز ہے پھر قید وہ جو تصور میں بھی نہ آ سکے۔ جیسے فرمان ہے «فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ» ۱؎ [89۔الفجر:26،25] ‏‏‏‏، ’ آج اس عذاب جیسے نہ کسی کے عذاب نہ اس جیسی کسی کی قید و بند ‘۔ فرمان ہے «بَلْ كَذَّبُوا بِالسَّاعَةِ وَأَعْتَدْنَا لِمَن كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيرًا إِذَا رَأَتْهُم مِّن مَّكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغَيُّظًا وَزَفِيرًا وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِينَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُورًا لَّا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا قُلْ أَذَٰلِكَ خَيْرٌ أَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ كَانَتْ لَهُمْ جَزَاءً وَمَصِيرًا» » ‏‏‏‏ ۱؎ [25-الفرقان:11-15] ‏‏‏‏، ’ قیامت کے منکروں کے لیے ہم نے آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے دور سے ہی انہیں دیکھتے ہی شور و غل شروع کر دے گی وہاں کے تنگ و تاریک مکانات میں جب یہ جکڑے ہوئے ڈالے جائیں گے تو ہائے وائے کرتے ہوئے موت مانگنے لگیں گے۔ ایک ہی موت کیا مانگتے ہو بہت سے موتیں مانگو۔ اب بتاؤ کہ یہ ٹھیک ہے یا جنت خلد ٹھیک ہے جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے کہ وہ ان کا بدلہ ہے اور ان کا ہمیشہ رہنے کا ٹھکانا ‘۔ پھر نیکوں کا انجام بیان فرماتا ہے کہ «مَّثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ فِيهَا أَنْهَارٌ مِّن مَّاءٍ غَيْرِ آسِنٍ وَأَنْهَارٌ مِّن لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ وَأَنْهَارٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ وَأَنْهَارٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى وَلَهُمْ فِيهَا مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَمَغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ» ۱؎ [47-محمد:15] ‏‏‏‏ ’ ان سے جن جنتوں کا وعدہ ہے اس کی ایک صفت تو یہ ہے کہ اس کے چاروں طرف نہریں جاری ہیں جہاں چاہیں پانی لے جائیں پانی نہ بگڑنے والا پھر دودھ کی نہریں ہیں اور دودھ بہی ایسا جس کا مزہ کبھی نہ بگڑے اور شراب کی نہریں ہیں جس میں صرف لذت ہے۔ نہ بدمزگی، نہ بے ہودہ نشہ، اور صاف شہد کی نہریں ہیں اور ہر قسم کے پھل ہیں اور ساتھ ہی رب کی رحمت مالک معرفت اس کے پھل ہمیشگی والے اس کی کھانے پینے کی چیزیں کبھی فنا ہونے والی نہیں۔ (‏‏‏‏کیا یہ پرہیزگار) ان کی طرح (‏‏‏‏ہو سکتے) ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور جن کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا ‘۔

{ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف کی نماز پڑھی تھی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پچھلے پاؤں پیچھے کو ہٹنے لگے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں میں نے جنت کو دیکھا تھا اور چاہا تھا کہ ایک خوشہ توڑ لوں اگر لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1052] ‏‏‏‏ ابو یعلیٰ میں ہے کہ { ایک دن ظہر کی نماز میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناگاہ آگے بڑھے اور ہم بھی بڑھے پھر ہم نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گویا کوئی چیز لینے کا ارادہ کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہٹ آئے۔ نماز کے خاتمہ کے بعد ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! آج تو ہم نے آپ کو ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا کہ آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں میرے سامنے جنت پیش کی گئی جو تروتازگی سے مہک رہی تھی میں نے چاہا کہ اس میں سے ایک خوشہ انگور کا توڑ لاؤں لیکن میرے اور اس کے درمیان آڑ کر دی گئی اگر میں اسے توڑ لاتا تو تمام دنیا پوری دنیا تک اسے کھاتی رہتی اور پھر بھی ذار سا بھی کم نہ ہوتا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:352/3:ضعیف] ‏‏‏‏ { ایک دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا جنت میں انگور ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے کہا کتنے بڑے خوشے ہوں گئے؟ فرمایا: ”اتنے بڑے کہ اگر کوئی کالا کوا مہینہ بھر اڑتا رہے تو بھی اس خوشے سے آگے نہ نکل سکے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:183/4:اسنادہ قابل التحسین] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { جنتی جب کوئی پھل توڑیں گے اسی وقت اس کی جگہ دوسرا لگ جائے گا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:1449:قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جنتی خوب کھائیں پئیں گے لیکن نہ تھوک آئے گی نہ ناک آئے گی نہ پیشاب نہ پاخانہ مشک جیسی خوشبو والا پسینہ آئے گا اور اسی سے کھانا ہضم ہو جائے گا۔ جیسے سانس بے تکلف چلتا ہے اس طرح تسبیح و تقدیس الہام کی جائے گی“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2835] ‏‏‏‏

{ ایک اہل کتاب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنتی کھائیں پئیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ ہر شخص کو کھانے پینے، جماع اور شہوت کی اتنی قوت دی جائے گی جتنی یہاں سو آدمیوں کو مل کر ہو۔‏‏‏‏“ اس نے کہا اچھا تو جو کھائے گا پئے گا اسے پیشاب پاخانے کی بھی حاجت لگے گی پھر جنت میں گندگی کیسی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ پسینے کے راستے سب ہضم ہو جائے گا اور وہ پسینہ مشک بو ہوگا“ }۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:11478:صحیح] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں کہ { جس پرندے کی طرف کھانے کے ارادے سے جنتی نظر ڈالے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا اس کے سامنے گر پڑے گا } ۱؎ [مسند بزار:3532:ضعیف] ‏‏‏‏ بعض روایتوں میں ہے کہ پھر وہ اسی طرح بحکم الٰہی زندہ ہو کر اڑ جائے گا۔ قرآن میں ہے «وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلَالُهَا وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيلًا» ۱؎ [76-الإنسان:14] ‏‏‏‏ ’ وہاں بکثرت میوے ہوں گے کہ نہ کٹیں نہ، ٹوٹیں نہ ختم ہوں نہ گھٹیں سایے جھکے ہوئے شاخین نیچی۔ سائے بھی دائمی ہوں گے ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا لَّهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَنُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِيلًا» ۱؎ [4-النساء:57] ‏‏‏‏ ’ ایماندار نیک کر دار بہتی نہروں والی جنتوں میں جائیں گے وہاں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور بہترین لمبے چوڑے سائے ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جنت کے ایک درخت کے سائے تلے تیز سواری والا سوار سو سال تک تیز دوڑتا ہوا جائے لیکن پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوگا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6553] ‏‏‏‏ قرآن میں ہے «وَظِلٍّ مَّمْدُودٍ» ۱؎ [56-الواقعہ:30] ‏‏‏‏ ’ سائے ہیں پھیلے اور بڑھے ہوئے ‘۔

عموماً قرآن کریم میں جنت اور دوزخ کا ذکر ایک ساتھ آتا ہے تاکہ لوگوں کو جنت کا شوق ہو اور دوزخ سے ڈر لگے یہاں بھی جنت کا اور وہاں کی چند نعمتوں کا ذکر فرما کر فرمایا کہ ’ یہ ہے انجام پرہیزگار اور تقویٰ شعار لوگوں کا اور کافروں کا انجام جہنم ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ «لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۚ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ» ۱؎ [59-الحشر:20] ‏‏‏‏ ’ جہنمی اور جنتی برابر نہیں جنتی با مراد ہیں ‘۔ خطیب دمشق بلال بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اے بندگان رب کیا تمہارے کسی عمل کی قبولیت کا یا کسی گناہ کی معافی کا کوئی پروانہ تم میں سے کسی کو ملا؟ کیا تم سے کسی کو ملا؟ «أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:115] ‏‏‏‏ ’ کیا تم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ تم بے کار پیدا کئے گئے ہو؟ ‘ اور تم اللہ کے بس میں آنے والے نہیں ہو؟ واللہ اگر اطاعت ربانی کا بدلہ دنیا میں ہی ملتا تو تم تمام نیکیوں پر جم جاتے۔ کیا تم دنیا پر ہی فریفتہ ہو گئے ہو؟ کیا اسی کے پیچھے مر مٹو گے؟ کیا تمہیں جنت کی رغبت نہیں جس کے پھل اور جس کے سائے ہمیشہ رہنے والے ہیں۔‏‏‏‏“ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏
35۔ 1 اہل کفار کے انجام بد کے ساتھ اہل ایمان کا حسن انجام بیان فرما دیا تاکہ جنت کے حصول میں رغبت اور شوق پیدا ہو، اس مقام پر امام ابن کثیر نے جنت کی نعمتوں، لذتوں اور ان کی خصوصی کیفیات پر مشتمل احادیث بیان فرمائی ہیں۔ جنہیں وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔
(آیت35){ مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ …: ” مَثَلُ “} کا معنی یہاں صفت یا حال ہے، اہل جہنم کے ذکر کے بعد متقی لوگوں کو ملنے والی جنت کا حال اور اس کی صفت بیان فرمائی کہ اس کے درختوں اور مکانوں کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، اس کا پھل دائمی ہے، یہ نہیں کہ کبھی ہو اور کبھی نہ ہو، اسی طرح اس کا سایہ بھی دائمی ہے، اس کے پھل نہ ختم ہوں گے، نہ کسی جنتی کو ان سے کوئی رکاوٹ ہو گی۔ (دیکھیے واقعہ: ۳۳) جنت کی نہروں کی صفت کے لیے سورۂ محمد (۱۵) اور سائے کی حالت کے لیے سورۂ دہر (۱۴)، نساء (۵۷) اور طٰہٰ (۱۱۸، ۱۱۹) ملاحظہ فرمائیں۔ مزید تفصیل کے لیے اس مقام پر تفسیر ابن کثیر اور کتب احادیث میں جنت اور جہنم کے احوال کے ابواب ملاحظہ فرمائیں۔
وَ الَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مِنَ الۡاَحۡزَابِ مَنۡ یُّنۡکِرُ بَعۡضَہٗ ؕ قُلۡ اِنَّمَاۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰہَ وَ لَاۤ اُشۡرِکَ بِہٖ ؕ اِلَیۡہِ اَدۡعُوۡا وَ اِلَیۡہِ مَاٰبِ ﴿۳۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے نبیؐ، جن لوگوں کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ اِس کتاب سے جو ہم نے تم پر نازل کی ہے، خوش ہیں اور مختلف گروہوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے تم صاف کہہ دو کہ "مجھے تو صرف اللہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور اس سے منع کیا گیا ہے کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک ٹھیراؤں لہٰذا میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وه تو جو کچھ آپ پر اتارا جاتا ہے اس سے خوش ہوتے ہیں اور دوسرے فرقے اس کی بعض باتوں کے منکر ہیں۔ آپ اعلان کر دیجئے کہ مجھے تو صرف یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ شریک نہ کروں، میں اسی کی طرف بلا رہا ہوں اور اسی کی جانب میرا لوٹنا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جن کو ہم نے کتاب دی وہ اس پر خوش ہوتے جو تمہاری طرف اترا اور ان گروہوں میں کچھ وہ ہیں کہ اس کے بعض سے منکر ہیں، تم فرماؤ مجھے تو یہی حکم ہے کہ اللہ کی بندگی کروں اور اس کا شریک نہ ٹھہراؤں، ميں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے پھرنا
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے رسول) جن کو ہم نے (پہلے) کتاب دی ہے وہ اس (کتاب) سے خوش ہوتے ہیں جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے اور ان جماعتوں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس کتاب کے بعض حصوں کا انکار کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ مجھے تو صرف یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤں میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میری بازگشت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب دی ہے، وہ اس پر خوش ہوتے ہیں جو تیری طرف اتارا گیا ہے اور کچھ گروہ وہ ہیں جو اس کے بعض کا انکار کرتے ہیں۔ کہہ دے مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میںاللہ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائوں۔ میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرا لوٹنا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شاداں و فرحاں لوگ ٭٭

’ جو لوگ اس سے پہلے کتاب دئیے گئے ہیں اور وہ اس کے عامل ہیں وہ تو تجھ پر اس قرآن کے اترنے سے شاداں و فرحاں ہو رہے ہیں کیونکہ خود ان کی کتابوں میں اس کی بشارت اور اس کی صداقت موجود ہے ‘۔ جیسے آیت «اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ» ۱؎ [2-البقرة:211] ‏‏‏‏ میں ہے کہ ’ اگلی کتابوں کو اچھی طور سے پڑھنے اس آخری کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی خبر ہے اور وہ اس وعدے کو پوار دیکھ کر خوشی سے مان لیتے ہیں ‘۔ «قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا» ۱؎ [17-الإسراء:107،108] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کے وعدے غلط نکلیں اس کے فرمان صحیح ثابت نہ ہوں پس وہ شادماں ہوتے ہوئے اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑتے ہیں ‘۔ ’ ہاں ان جماعتوں میں ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے ‘، غرض بعض اہل کتاب مسلمان ہیں بعض نہیں، ’ تو اے نبی (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) اعلان کر دے کہ مجھے صرف اللہ واحد کی عبادت کا حکم ملا ہوا ہے کہ دوسرے کی شرکت کے بغیر صرف اسی کی عبادت اس کی ہی توحید کے ساتھ کروں یہی حکم مجھ سے پہلے کے تمام نبیوں اور رسولوں کو ملا تھا، اسی راہ کی طرف اسی الٰہی عبادت کی طرف میں تمام دنیا کو دعوت دیتا ہوں۔ اسی اللہ کی طرف سب کو بلاتا ہوں اور اسی اللہ کی طرف میرا لوٹنا ہے ‘۔ ’ جس طرح ہم نے تم سے پہلے نبی بھیجے ان پر اپنی کتابیں نازل فرمائیں اسی طرح یہ قرآن جو محکم اور مضبوط ہے عربی زبان میں جو تیری اور تیری قوم کی زبان ہے اس قرآن کو ہم نے تجھ پر نازل فرمایا۔ یہ بھی تجھ پر خاص احسان ہے کہ اس واضح اظہار مفصل اور محکم کتاب کے ساتھ تجھے ہم نے نوازا کہ نہ اس کے آگے سے باطل آ سکے نہ اس کے پیچھے سے آ کر اس میں مل سکے یہ حکیم و حمید اللہ کی طرف سے اتری ہے ‘۔ ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیرے پاس الہامی علم آسمانی وحی آ چکی ہے اب بھی اگر تو نے ان کی خواہش کی ماتحتی کی تو یاد رکھ کہ اللہ کے عذابوں سے تجھے کوئی بھی نہ بچا سکے گا۔ نہ کوئی تیری حمایت پر کھڑا ہوگا ‘۔ سنت نبویہ اور طریقہ محمدیہ کے علم کے بعد جو گمراہی والوں کے راستوں کو اختیار کریں ان علماء کے لیے اس آیت میں زبردست وعید ہے۔
36۔ 1 اس سے مراد مسلمان ہیں اور مطلب ہے جو قرآن کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔ 36۔ 2 یعنی قرآن کے صدق کے دلائل و شواہد دیکھ کر مذید خوش ہوتے ہیں۔ 36۔ 3 اس سے مراد یہود و نصاریٰ اور کفار و مشرکین ہیں۔ بعض کے نزدیک کتاب سے مراد تورات و انجیل ہے، ان میں سے جو مسلمان ہوئے، وہ خوش ہوتے ہیں اور انکار کرنے والے وہ یہود و انصاریٰ ہیں جو مسلمان نہیں ہوئے۔
(آیت36) ➊ {وَ الَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ …: ” الْكِتٰبَ “} سے مراد یا تو پہلی کتابیں ہیں، یعنی تورات و انجیل، مطلب یہ ہوگا کہ پہلی کتب میں چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے رسول ہونے کے بہت سے شواہد اور بشارتیں موجود ہیں، اس لیے جن لوگوں کو وہ کتابیں دی گئی ہیں وہ آپ کی طرف اترنے والی آیات پر خوش ہوتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ عنکبوت (۴۷) اور آل عمران (۱۱۳) کیونکہ وہ آپ کو پہچان کر ایمان لا چکے ہیں، ہاں ان کے کئی گروہ قرآن کی بعض چیزوں کا انکار کرتے ہیں، کیونکہ وہ ان کی ان باتوں کا رد کرتا ہے جو انھوں نے اپنے پاس سے داخل کر لی تھیں، یا ان میں تبدیلی اور تحریف کر دی تھی، مثلاً یہود کاعزیر علیہ السلام اور نصاریٰ کا مسیح علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دینا اور وہ باتیں ظاہر کرنا ہے جو وہ چھپاتے تھے، مثلاً رجم کی حد، سود کی حرمت، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات وغیرہ، لہٰذا وہ پہچاننے کے باوجود عناد کی وجہ سے ان باتوں کا انکار کرتے اور اپنے کفر پر اڑے ہوئے تھے۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۳۰، ۳۱) یا پھر{ ” الْكِتٰبَ “ } سے مراد قرآن مجید ہے اور ”جن لوگوں کو یہ کتاب دی“ سے مراد مسلمان ہیں کہ وہ آپ پر اترنے والی آیات پر دل سے خوش ہوتے ہیں اور {”الْأَحْزَابِ“} سے مراد عرب کے وہ جاہل اور ضدی لوگ ہیں جنھوں نے قرآن کی بعض باتیں اپنی مرضی کے خلاف ہونے کی وجہ سے نہ مانیں اور مسلمان نہ ہوئے۔ یہ لوگ خوش ہونے کے بجائے ناراض اور سیخ پا ہوتے ہیں۔ ➋ {قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ …:} تو جو شخص نہیں مانتا وہ گویا اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت سے انکار کرتا ہے۔ ➌ { وَ اِلَيْهِ مَاٰبِ:مَاٰبِ “} یہ {” اٰبَ يَؤُوْبُ “} (ن، اجوف واوی) سے مصدر میمی ہے، اصل{ ” مَاٰبِيْ “} تھا، یعنی میرا لوٹنا، ” یاء “ حذف کر کے کسرہ اس پر دلالت کے لیے باقی رکھا ہے۔
وَ کَذٰلِکَ اَنۡزَلۡنٰہُ حُکۡمًا عَرَبِیًّا ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَہۡوَآءَہُمۡ بَعۡدَ مَا جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ ۙ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ ﴿٪۳۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِسی ہدایت کے ساتھ ہم نے یہ فرمان عربی تم پر نازل کیا ہے اب اگر تم نے اِس علم کے باوجود جو تمہارے پاس آ چکا ہے لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی تمہارا حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کی پکڑسے تم کو بچا سکتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان کا فرمان اتارا ہے۔ اگر آپ نے ان کی خواہشوں کی پیروی کر لی اس کے بعد کہ آپ کے پاس علم آچکا ہے تو اللہ (کے عذابوں) سے آپ کو کوئی حمایتی ملے گا اور نہ بچانے واﻻ
احمد رضا خان بریلوی
اور اسی طرح ہم نے اسے عربی فیصلہ اتارا اور اے سننے والے! اگر تو ان کی خواہشوں پر چلے گا بعد اس کے کہ تجھے علم آچکا تو اللہ کے آگے نہ تیرا کوئی حمایتی ہوگا نہ بچانے والا،
علامہ محمد حسین نجفی
اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی فرمان کی شکل میں نازل کیا ہے اور اگر آپ اپنے پاس علم (قرآن) کے آجانے کے بعد بھی انکی خواہشات کی پیروی کریں گے تو اللہ کے مقابلہ میں آپ کا نہ کوئی سرپرست و کارساز ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسی طرح ہم نے اسے عربی فرمان بنا کر اتارا ہے اور یقینا اگر تو نے ان کی خواہشات کی پیروی کی، اس کے بعد جو تیرے پاس علم آچکا تو اللہ کے مقابلے میں نہ تیرا کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شاداں و فرحاں لوگ ٭٭

’ جو لوگ اس سے پہلے کتاب دئیے گئے ہیں اور وہ اس کے عامل ہیں وہ تو تجھ پر اس قرآن کے اترنے سے شاداں و فرحاں ہو رہے ہیں کیونکہ خود ان کی کتابوں میں اس کی بشارت اور اس کی صداقت موجود ہے ‘۔ جیسے آیت «اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ» ۱؎ [2-البقرة:211] ‏‏‏‏ میں ہے کہ ’ اگلی کتابوں کو اچھی طور سے پڑھنے اس آخری کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی خبر ہے اور وہ اس وعدے کو پوار دیکھ کر خوشی سے مان لیتے ہیں ‘۔ «قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا» ۱؎ [17-الإسراء:107،108] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کے وعدے غلط نکلیں اس کے فرمان صحیح ثابت نہ ہوں پس وہ شادماں ہوتے ہوئے اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑتے ہیں ‘۔ ’ ہاں ان جماعتوں میں ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے ‘، غرض بعض اہل کتاب مسلمان ہیں بعض نہیں، ’ تو اے نبی (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) اعلان کر دے کہ مجھے صرف اللہ واحد کی عبادت کا حکم ملا ہوا ہے کہ دوسرے کی شرکت کے بغیر صرف اسی کی عبادت اس کی ہی توحید کے ساتھ کروں یہی حکم مجھ سے پہلے کے تمام نبیوں اور رسولوں کو ملا تھا، اسی راہ کی طرف اسی الٰہی عبادت کی طرف میں تمام دنیا کو دعوت دیتا ہوں۔ اسی اللہ کی طرف سب کو بلاتا ہوں اور اسی اللہ کی طرف میرا لوٹنا ہے ‘۔ ’ جس طرح ہم نے تم سے پہلے نبی بھیجے ان پر اپنی کتابیں نازل فرمائیں اسی طرح یہ قرآن جو محکم اور مضبوط ہے عربی زبان میں جو تیری اور تیری قوم کی زبان ہے اس قرآن کو ہم نے تجھ پر نازل فرمایا۔ یہ بھی تجھ پر خاص احسان ہے کہ اس واضح اظہار مفصل اور محکم کتاب کے ساتھ تجھے ہم نے نوازا کہ نہ اس کے آگے سے باطل آ سکے نہ اس کے پیچھے سے آ کر اس میں مل سکے یہ حکیم و حمید اللہ کی طرف سے اتری ہے ‘۔ ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیرے پاس الہامی علم آسمانی وحی آ چکی ہے اب بھی اگر تو نے ان کی خواہش کی ماتحتی کی تو یاد رکھ کہ اللہ کے عذابوں سے تجھے کوئی بھی نہ بچا سکے گا۔ نہ کوئی تیری حمایت پر کھڑا ہوگا ‘۔ سنت نبویہ اور طریقہ محمدیہ کے علم کے بعد جو گمراہی والوں کے راستوں کو اختیار کریں ان علماء کے لیے اس آیت میں زبردست وعید ہے۔
37۔ 1 یعنی جس طرح آپ سے پہلے رسولوں پر کتابیں مقامی زبانوں میں نازل کیں، اسی طرح آپ پر قرآن ہم نے عربی زبان میں اتارا، اس لئے کہ آپ کے مخاطب اولین اہل عرب ہیں، جو صرف عربی زبان ہی جانتے ہیں۔ اگر قرآن کسی اور زبان میں نازل ہوتا تو ان کی سمجھ سے بالا ہوتا اور قبول ہدایت میں ان کے لئے عذر بن جاتا۔ ہم نے قرآن کو عربی میں اتار کر یہ عذر بھی دور کردیا۔ 37۔ 2 اس سے مراد اہل کتاب کی بعض وہ خواہشیں ہیں جو وہ چاہتے تھے کہ پیغمبر آخر الزماں انھیں اختیار کریں۔ مثلاً بیت المقدس کو ہمیشہ کے لئے قبلہ بنائے رکھنا اور ان کے معتقدات کی مخالفت نہ کرنا وغیرہ۔ 37۔ 3 اس سے مراد علم ہے جو وحی کے ذریعے سے آپ کو عطا کیا گیا، جس میں اہل کتاب کے معتقدات کی حقیقت بھی آپ پر واضح کردی گئی۔ 37۔ 4 یہ دراصل امت کے اہل علم کو تنبیہ ہے کہ وہ دنیا کے عارضی مفادات کی خاطر قرآن و حدیث کے واضح احکام کے مقابلے میں لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ لگیں، اگر وہ ایسا کریں گے تو انھیں اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔
(آیت37) ➊ {وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِيًّا:} یعنی جس طرح پہلے انبیاء کی طرف کتابیں اتریں اسی طرح ہم نے آپ پر یہ قرآن اتارا اور جس طرح ہر نبی پر اس کی قوم کی زبان میں وحی اور کتاب نازل کی اسی طرح عربوں پر بھی انھی کی زبان میں کتاب اتاری، کسی دوسری زبان میں نہیں، تاکہ وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم تو یہ زبان جانتے ہی نہیں۔ {” اَنْزَلْنٰهُ “} (ہم نے اسے اتارا) سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید اور وحی الٰہی اوپر کی جانب سے آئی ہیں۔ اس سے ان لوگوں کا صاف رد ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کے لیے اوپر کی جانب ہونے یا عرش پر ہونے کو تسلیم نہیں کرتے، بلکہ کبھی کہتے ہیں کہ وہ لامکان ہے، یعنی کہیں بھی نہیں اور کبھی کہتے ہیں وہ ہر جگہ ہے، حالانکہ قرآن نے کئی جگہ صراحت فرما دی ہے کہ وہ اوپر کی جانب ہے اور عرش پر ہے، فرمایا: «{قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَآءِ }» [ البقرۃ: ۱۴۴ ] ”یقینا ہم تیرے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف پھرنا دیکھ رہے ہیں۔“ اور فرمایا: «{ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ }» [ الأعراف: ۵۴ ] ”پھر وہ عرش پر بلند ہوا۔“ اور دیگر متعدد آیات۔ پھر آپ کے مخاطب اگرچہ قیامت تک کے تمام جن و انس ہیں، تاہم سب سے اول مخاطب عرب تھے۔ اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا کی رہنمائی کے لیے ان کا اور ان کی زبان کا انتخاب ان کی فطری خوبیوں اور ان کی زبان کی جامعیت، فصاحت و بلاغت، حسنِ ادا، آسان ہونے اور دوسری خوبیوں کی وجہ سے فرمایا اور اسے اہل عرب پر احسان قرار دیا: «{ وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ وَ سَوْفَ تُسْـَٔلُوْنَ }» [الزخرف: ۴۴ ] ”اور بے شک وہ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے نصیحت (یا شہرت کا باعث) ہے اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔“ پھر اس قرآن نے عربی زبان کو ایسا محفوظ کیا کہ صدیاں گزر جانے کے باوجود عربی زبان اصل صورت میں موجود ہے، جبکہ دوسری تمام زبانیں کچھ عرصہ بعد بدل جاتی ہیں، حتیٰ کہ پہلے لفظ بالکل ہی متروک ہو جاتے ہیں، جیسا کہ انگریزی وغیرہ کا حال ہے۔ خود عربی کو دیکھ لیجیے کہ قرآن کی وجہ سے فصیح عربی محفوظ ہے، مگر عام لوگوں کی عربی بھی مختلف علاقوں اور مختلف ادوار کے لحاظ سے اتنی مختلف ہے کہ ایک علاقے کا عرب دوسرے علاقے کی عامی زبان نہیں سمجھتا۔ البتہ اصل عربی کو قرآن نے صدیوں سے اصل صورت میں باندھ رکھا ہے، وہ دنیا بھر میں ایک ہی ہے۔ ➋ {وَ لَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ …:} یہ خطاب بظاہر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن مراد ہر وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب اور اس کے غصے سے ڈرنے والا ہے اور اس میں وعید ہے ان علماء کے لیے جو جانتے بوجھتے سنت کی راہ چھوڑ کر بدعت و ضلالت اور قرآن و حدیث چھوڑ کر اقوالِ رجال کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ (ابن کثیر)
وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلًا مِّنۡ قَبۡلِکَ وَ جَعَلۡنَا لَہُمۡ اَزۡوَاجًا وَّ ذُرِّیَّۃً ؕ وَ مَا کَانَ لِرَسُوۡلٍ اَنۡ یَّاۡتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَابٌ ﴿۳۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم سے پہلے بھی ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور اُن کو ہم نے بیوی بچوں والا ہی بنایا تھا اور کسی رسول کی بھی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی نشانی خود لا دکھاتا ہر دور کے لیے ایک کتاب ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ہم نے ان سب کو بیوی بچوں واﻻ بنایا تھا، کسی رسول سے نہیں ہو سکتا کہ کوئی نشانی بغیر اللہ کی اجازت کے لے آئے۔ ہر مقرره وعدے کی ایک لکھت ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے اور ان کے لیے بیبیاں اور بچے کیے اور کسی رسول کا کام نہیں کہ کوئی نشانی لے آئے مگر اللہ کے حکم سے، ہر وعدہ کی ایک لکھت ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور بے شک ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے ہیں اور ان کے لئے بیوی بچے قرار دیئے اور کسی رسول کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی معجزہ پیش کرے ہر وقت کے لیے ایک کتاب (نوشتہ) ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے کئی رسول تجھ سے پہلے بھیجے اور ان کے لیے بیویاں اور بچے بنائے اور کسی رسول کے لیے ممکن نہ تھا کہ وہ کوئی نشانی لے آتا، مگر اللہ کے اذن سے۔ ہر وقت کے لیے ایک کتاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر کام کا وقت مقرر ہے ٭٭

ارشاد ہے کہ ’ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم باوجود انسان ہونے کے رسول اللہ ہیں۔ ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے تمام رسول بھی انسان ہی تھے، کھانا کھاتے تھے، بازاروں میں چلتے پھرتے تھے بیوی، بچوں والے تھے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ اے اشرف الرسل آپ لوگوں سے کہہ دیجئیے کہ «قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ» ۱؎ [18-الكهف:110] ‏‏‏‏ ’ میں بھی تم جیسا ہی ایک انسان ہوں میری طرف وحی الٰہی کی جاتی ہے ‘۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نفلی روزے رکھتا بھی ہوں اور نہیں بھی رکھتا راتوں کو تہجد بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں گوشت بھی کھاتا ہوں اور عورتوں سے بھی ملتا ہوں جو شخص میرے طریقے سے منہ موڑ لے وہ میرا نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5063] ‏‏‏‏ مسند احمد میں { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ چار چیزیں تمام انبیاء علیہم السلام کا طریقہ رہیں خوشبو لگانا، نکاح کرنا، مسواک کرنا اور مہندی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1080،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ معجزے ظاہر کرنا کسی نبی علیہ السلام کے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ عزوجل کے قبضے کی چیز ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، جو ارادہ کرتا ہے حکم دیتا ہے ہر ایک بات مقررہ وقت اور معلوم مدت کتاب میں لکھی ہوئی ہے، ہر شے کی ایک مقدار معین ہے ‘۔ «أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّ ذَٰلِكَ فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرٌ» ۱؎ [22-الحج:70] ‏‏‏‏ ’ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا اللہ کو علم ہے سب کچھ کتاب میں لکھا موجود ہے یہ تو اللہ پر بہت ہی آسان ہے ‘۔ ہر کتاب کی جو آسمان سے اتری ہے اس کی ایک اجل ہے اور ایک مدت مقرر ہے ان میں سے جسے چاہتا ہے منسوخ کر دیتا ہے جسے چاہتا ہے باقی رکھتا ہے۔ پس اس قرآن سے جو اس نے اپنے رسول صلوات اللہ وسلامہ علیہ پر نازل فرمایا ہے تمام اگلی کتابیں منسوخ ہو گئیں۔ اللہ تعالیٰ جو چاہے مٹائے جو چاہے باقی رکھے سال بھر کے امور مقرر کر دئے لیکن اختیار سے باہر نہیں جو چاہا باقی رکھا جو چاہا بدل دیا۔ سوائے شقاوت، سعادت، حیات و ممات کے، کہ ان سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے ان میں تغیر نہیں ہونا۔

منصور کہتے ہیں ”میں نے مجاہد رحمہ اللہ سے پوچھا کہ ہم میں سے کسی کا یہ دعا کرنا کیسا ہے کہ الٰہی اگر میرا نام نیکوں میں ہے تو باقی رکھ اور اگر بدوں میں ہے تو اسے ہٹا دے اور نیکوں میں کر دے۔‏‏‏‏“ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”یہ تو اچھی دعا ہے“، سال بھر کے بعد پھر ملاقات ہوئی یا کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا تھا تو میں نے ان سے یہی بات دریافت کی آپ رحمہ اللہ نے «إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ» ۱؎ [44-الدخان:3،4] ‏‏‏‏ سے دو آیتوں کی تلاوت کی اور فرمایا ”لیلۃ القدر میں سال بھر کی روزیاں، تکلیفیں مقرر ہو جاتی ہیں۔ پھر جو اللہ چاہے مقدم مؤخر کرتا ہے، ہاں سعادت شقاوت کی کتاب نہیں بدلتی۔‏‏‏‏“ شفیق بن سلمہ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے ”اے اللہ! اگر تو نے ہمیں بدبختوں میں لکھا ہے تو اسے مٹا دے اور ہماری گنتی نیکوں میں لکھ لے اور اگر تو نے ہمیں نیک لوگوں میں لکھا ہے تو اسے باقی رکھ تو جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے باقی رکھے اصل کتاب تیرے ہی پاس ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہوئے روتے روتے یہ دعا پڑھا کرتے تھے «اللَّهُمَّ إِنْ كُنْت كَتَبْت عَلَيَّ شِقْوَة أَوْ ذَنْبًا فَامْحُهُ فَإِنَّك تَمْحُو مَا تَشَاء وَتُثْبِت وَعِنْدك أُمّ الْكِتَاب فَاجْعَلْهُ سَعَادَة وَمَغْفِرَة» ”اے اللہ اگر تو نے مجھ پر برائی اور گناہ لکھ رکھے ہیں تو انہیں مٹا دے تو جسے چاہے مٹاتا ہے اور باقی رکھتا ہے ام الکتاب تیرے پاس ہی ہے تو اسے سعادت اور رحمت کر دے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی یہی دعا کیا کرتے تھے۔ کعب رحمہ اللہ نے امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر ایک آیت کتاب اللہ میں نہ ہوتی تو میں قیامت تک جو امور ہونے والے ہیں سب آپ رضی اللہ عنہ کو بتا دیتا۔ پوچھا کہ وہ کون سی آیت ہے آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔‏‏‏‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:401/7:ضعیف و کذب] ‏‏‏‏ ان تمام اقوال کا مطلب یہ ہے کہ تقدیر کی الٹ پلٹ اللہ کے اختیار کی چیز ہے۔ چنانچہ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { بعض گناہوں کی وجہ سے انسان اپنی روزی سے محروم کر دیا جاتا ہے اور تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز بدل نہیں سکتی اور عمر کی زیادتی کرنے والی بجز نیکی کے کوئی چیز نہیں }۔ نسائی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4022:قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ‏‏‏‏ اور صحیح حدیث میں ہے کہ { صلہ رحمی عمر بڑھاتی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5986] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { دعا اور قضاء دونوں کی مڈبھیڑ آسمان و زمین کے درمیان ہوتی ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:486] ‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اللہ عزوجل کے پاس لوح محفوظ ہے جو پانچ سو سال کے راستے کی چیز ہے سفید موتی کی ہے یاقوت کے دو پٹھوں کے درمیان۔ تریسٹھ بار اللہ تعالیٰ اس پر توجہ فرماتا ہے۔ جو چاہتا ہے مٹاتا ہے جو چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے ام الکتاب اسی کے پاس ہے۔‏‏‏‏“

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ { رات کی تین ساعتیں باقی رہنے پر دفتر کھولا جاتا ہے پہلی ساعت میں اس دفتر پر نظر ڈالی جاتی ہے جسے اس کے سوا کوئی اور نہیں دیکھتا پس جو چاہتا ہے مٹاتا ہے جو چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:2502:ضعیف] ‏‏‏‏ کلبی فرماتے ہیں ”روزی کو بڑھانا گھٹانا عمر کو بڑھانا گھٹانا اس سے مراد ہے“، ان سے پوچھا گیا کہ آپ سے یہ بات کس نے بیان کی؟ فرمایا ”ابوصالح نے ان سے جابر بن عبداللہ بن رباب نے ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ پھر ان سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو جواب دیا کہ ”جمعرات کے دن سب باتیں لکھی جاتی ہیں ان میں سے جو باتیں جزا سزا سے خالی ہوں نکال دی جاتی ہیں جیسے تیرا یہ قول کہ میں نے کھایا، میں نے پیا، میں آیا، میں گیا وغیرہ جو سچی باتیں ہیں اور ثواب عذاب کی چیزیں نہیں اور باقی جو ثواب عذاب کی چیزیں ہیں وہ رکھ لی جاتی ہیں۔‏‏‏‏“ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”جو کتابیں ہیں ایک میں کمی زیادتی ہوتی ہے اور اللہ کے پاس ہے اصل کتاب وہی ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:20487:ضعیف] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں ”مراد اس سے وہ شخص ہے جو ایک زمانے تک تو اللہ کی اطاعت میں لگا رہتا ہے پھر معصیت میں لگ جاتا ہے اور اسی پر مرتا ہے پس اس کی نیکی محو ہو جاتی ہے اور جس کے لیے ثابت رہتی ہے۔‏‏‏‏“ یہ وہ ہے جو اس وقت تو نافرمانیوں میں مشغول ہے لیکن اللہ کی طرف سے، اس کے لیے فرمانبرداری پہلے سے مقرر ہو چکی ہے۔ پس آخری وقت وہ خیر پر لگ جاتا ہے اور طاعت الٰہی میں مرتا ہے۔ یہ ہے جس کے لیے فرمانبرداری پہلے سے مقرر ہو چکی ہے۔ پس آخری وقت وہ خیر پر لگ جاتا ہے اور طاعت الٰہی میں مرتا ہے۔ یہ ہے جس کے لیے ثابت رہتی ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”جسے چاہے بخشے جسے چاہے نہ بخشے“، اور آیت میں ہے «فَيَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ۱؎ [2-البقرة:284] ‏‏‏‏ ’ وہ جسے چاہے مغفرت کرے اور جسے چاہے عذاب دے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”جو چاہتا ہے منسوخ کرتا ہے جو چاہتا ہے تبدیل نہیں کرتا ناسخ کا اختیار اسی کے پاس ہے اور اول بدل بھی۔‏‏‏‏“ بقول قتادہ رحمہ اللہ یہ آیت مثل آیت «مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ۱؎ [2-البقرة:106] ‏‏‏‏، کے ہے یعنی ’ جو چاہے منسوخ کر دے جو چاہے باقی اور جاری رکھے ‘۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جب اس سے پہلے کی آیت اتری کہ ’ کوئی رسول بغیر اللہ کے فرمان کے کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتا ‘ تو قریش کے کافروں نے کہا پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم بالکل بے بس ہیں کام سے تو فراغت حاصل ہو چکی ہے پس انہیں ڈرانے کے لیے یہ آیت اتری کہ ’ ہم جو چاہیں تجدید کر دیں ‘ ہر رمضان میں تجدید ہوتی ہے پھر اللہ جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے جو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے روزی بھی تکلیف بھی دیتا ہے اور تقسیم بھی۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جس کی اجل آ جائے چل بستا ہے نہ آئی ہو رہ جاتا ہے یہاں تک کہ اپنے دن پورے کر لے۔‏‏‏‏“ ابن جریر رحمہ اللہ اسی قول کو پسند فرماتے ہیں۔ حلال حرام اس کے پاس ہے کتاب کا خلاصہ اور جڑ اسی کے ہاتھ ہے کتاب خود رب العٰلمین کے پاس ہی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کعب رضی اللہ عنہ سے ام الکتاب کی بابت دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”اللہ نے مخلوق کو اور مخلوق کے اعمال کو جان لیا۔‏‏‏‏“ پھر کہا کہ ”کتاب کی صورت میں ہو جائے ہو گیا۔‏‏‏‏“ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ام الکتاب سے مراد ذکر ہے۔‏‏‏‏“
38۔ 1 یعنی آپ سمیت جتنے بھی رسول اور نبی آئے، سب بشر ہی تھے، جن کا اپنا خاندان اور قبیلہ تھا اور بیوی بچے تھے وہ فرشتے تھے نہ انسانی شکل میں کوئی نوری مخلوق بلکہ جنس بشر ہی میں سے تھے کیونکہ اگر وہ فرشتے ہوتے تو انسانوں کے لیے ان سے مانوس ہونا اور ان کے قریب ہونا ناممکن تھا جس سے ان کو بھیجنے کا اصل مقصد ہی فوت ہوجاتا اور اگر وہ فرشتے بشری جامے میں آتے تو دنیا میں نہ ان کا خاندان اور قبیلہ ہوتا اور نہ ان کے بیوی بچے ہوتے جس سے یہ معلوم ہوا کہ تمام انبیاء بحثییت جنس کے بشر ہی تھے بشری شکل میں فرشتے یا کوئی نوری مخلوق نہیں تھے مزکورہ آیت میں ازواجا سے رہبانیت کی تردید اور ذریۃ سے خاندانی منصوبہ بندی کی تردید بھی ہوتی ہے کیونکہ ذریۃ جمع ہے کم از کم تین ہوں گے 38۔ 2 یعنی معجزات کا صدور، رسولوں کے اختیار میں نہیں کہ جب ان سے مطالبہ کیا جائے تو وہ صادر کر کے دکھا دیں بلکہ یہ اللہ کے اختیار میں ہے وہ اپنی حکمت و مشیت کے مطابق فیصلہ کرتا ہے کہ معجزے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کس طرح اور کب دکھایا جائے۔ 38۔ 3 یعنی اللہ نے جس چیز کا وعدہ کیا، اس کا ایک وقت مقرر ہے، اس وقت پر یہ واقع ہو کر رہے گا اس لئے اللہ کا وعدہ خلاف نہیں ہوتا۔ ہر وہ امر، جسے اللہ نے لکھ رکھا ہے، اس کا ایک وقت مقرر ہے، یعنی معاملہ، کفار کے ارادے اور منشاء پر نہیں بلکہ صرف اور صرف اللہ کی مشیت پر موقوف ہے۔
(آیت38) ➊ {وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ …: } نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر مشرکین یہ بھی اعتراض کرتے کہ یہ عجیب پیغمبر ہیں کہ دوسرے انسانوں کی طرح نکاح کرتے ہیں، ان کی اولاد بھی ہے، حالانکہ پیغمبر کو ان باتوں سے کیا واسطہ؟! بلکہ انھیں اس پر بھی اعتراض تھا کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ (دیکھیے فرقان: ۷) اس آیت میں اسی اعتراض کا جواب ہے کہ نبوت عورتوں سے نکاح کے منافی نہیں، آپ سے پہلے جتنے بھی اللہ کے پیغمبر ہو گزرے ہیں وہ سب بشر ہی تھے اور ان میں اکثریت ان پیغمبروں کی ہے جو بیوی بچے رکھتے تھے۔ وہ سب کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ (دیکھیے فرقان:۲۰) تمھیں ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام کی اولاد ہونے پر فخر ہے تو کیا تم ان کی شادی کے بغیر ہی پیدا ہو گئے ہو؟! اسی طرح بنی اسرائیل اور ان کے انبیاء کو دیکھ لو۔ سلیمان علیہ السلام کی بیویوں اور لونڈیوں کی تعداد کی طرف دھیان کرو! غرض تمھارا یہ اعتراض سرے سے ہے ہی لغو۔ ہمارے زمانے میں بھی کئی لوگ انھی لوگوں کو اللہ والے، ولی اور بزرگ سمجھتے ہیں جو نہ شادی کریں، نہ کمائی، راہب بن کر دین کی دعوت اور جہاد کے بجائے گوشہ نشینی اور خود محنت کرکے کھانے کے بجائے دوسروں کی کمائی پر زندگی بسر کریں، حالانکہ اسلام میں یہ کام حرام ہیں۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [جَاءَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ إِلٰی بُيُوْتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُوْنَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أُخْبِرُوْا كَأَنَّهُمْ تَقَالُّوْهَا فَقَالُوْا وَأَيْنَ نَحْنُ مِنَ النِّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَفَرَ اللّٰهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ أَمَّا أَنَا فَأَنَا أُصَلِّی اللَّيْلَ أَبَدًا، وَقَالَ آخَرُ أَنَا أَصُوْمُ الدَّهْرَ وَلَا أُفْطِرُ، وَقَالَ آخَرُ أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلاَ أَتَزَوَّجُ أَبَدًا، فَجَاءَ إِلَيْهِمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتُمُ الَّذِيْنَ قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا؟ أَمَا وَاللّٰهِ! إِنِّيْ لَأَخْشَاكُمْ لِلّٰهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ، لٰكِنِّيْ أَصُوْمُ وَأُفْطِرُ، وَأُصَلِّيْ وَ أَرْقُدُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَيْسَ مِنِّيْ ] [ بخاری، النکاح، باب الترغیب في النکاح: ۵۰۶۳۔ مسلم: ۱۴۰۱ ] ”تین آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے گھروں کی طرف آئے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے متعلق پوچھ رہے تھے۔ جب انھیں بتایا گیا تو گویا انھوں نے اسے کم سمجھا، کہنے لگے: ”ہماری نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا نسبت؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے پہلے اور پچھلے سب گناہ معاف فرما دیے ہیں۔“ چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا: ”میں ہمیشہ ساری رات نماز پڑھوں گا۔“ دوسرے نے کہا: ”میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، کبھی روزے کے بغیر نہیں رہوں گا۔“ تیسرے نے کہا: ”میں عورتوں سے علیحدہ رہوں گا، کبھی نکاح نہیں کروں گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے (انھیں بلوایا) اور فرمایا: ”تم لوگوں نے یہ یہ باتیں کی ہیں، یاد رکھو! اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ کی خشیت والا ہوں اور تم سب سے زیادہ اللہ کے تقویٰ والا ہوں، لیکن میں روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا اور نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، تو جو میرے طریقے سے بے رغبتی کرے گا وہ مجھ سے نہیں۔“ ➋ {وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ يَّاْتِيَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ:} مخالفین کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اگر یہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) واقعی اللہ کے سچے پیغمبر ہیں تو ہماری طلب کے مطابق معجزے اور نشانیاں کیوں نہیں لاتے۔ ان کے جواب میں فرمایا کہ پہلے پیغمبر جتنے معجزے لائے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکم سے لائے ہیں، اب اگر اللہ کا حکم ہو گا تو وہ اپنے اس پیغمبر سے بھی معجزے ظاہر کر دے گا، ورنہ پیغمبر میں از خود یہ ہمت کہاں ہے کہ اپنی مرضی سے جو معجزہ چاہے ظاہر کر دے۔ یہی حال اولیاء کی کرامتوں کا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کرامت دکھلانے پر قادر نہیں ہوتے۔ یہاں آیت سے مراد قرآن کی آیت بھی ہو سکتی ہے جس میں ان کی مرضی کے مطابق کوئی حکم نازل ہو جائے۔ (ابن کثیر) ➌ { لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ:} یعنی ہر وقت کے لیے ایک لکھا ہوا فیصلہ ہے جو اس وقت ہو کر رہے گا۔
یَمۡحُوا اللّٰہُ مَا یَشَآءُ وَ یُثۡبِتُ ۚۖ وَ عِنۡدَہٗۤ اُمُّ الۡکِتٰبِ ﴿۳۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ جو کچھ چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے، ام الکتاب اُسی کے پاس ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ﺛابت رکھے، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ جو چاہے مٹاتا اور ثابت کرتا ہے اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ جو چاہتا ہے وہ (لکھا ہوا) مٹا دیتا ہے اور (جو چاہتا ہے) برقرار رکھتا ہے اور اس کے پاس ام الکتاب (اصل کتاب یعنی لوح محفوظ) ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ مٹا دیتا ہے جو چاہتا ہے اور ثابت رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر کام کا وقت مقرر ہے ٭٭

ارشاد ہے کہ ’ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم باوجود انسان ہونے کے رسول اللہ ہیں۔ ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے تمام رسول بھی انسان ہی تھے، کھانا کھاتے تھے، بازاروں میں چلتے پھرتے تھے بیوی، بچوں والے تھے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ اے اشرف الرسل آپ لوگوں سے کہہ دیجئیے کہ «قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ» ۱؎ [18-الكهف:110] ‏‏‏‏ ’ میں بھی تم جیسا ہی ایک انسان ہوں میری طرف وحی الٰہی کی جاتی ہے ‘۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نفلی روزے رکھتا بھی ہوں اور نہیں بھی رکھتا راتوں کو تہجد بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں گوشت بھی کھاتا ہوں اور عورتوں سے بھی ملتا ہوں جو شخص میرے طریقے سے منہ موڑ لے وہ میرا نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5063] ‏‏‏‏ مسند احمد میں { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ چار چیزیں تمام انبیاء علیہم السلام کا طریقہ رہیں خوشبو لگانا، نکاح کرنا، مسواک کرنا اور مہندی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1080،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ معجزے ظاہر کرنا کسی نبی علیہ السلام کے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ عزوجل کے قبضے کی چیز ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، جو ارادہ کرتا ہے حکم دیتا ہے ہر ایک بات مقررہ وقت اور معلوم مدت کتاب میں لکھی ہوئی ہے، ہر شے کی ایک مقدار معین ہے ‘۔ «أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّ ذَٰلِكَ فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرٌ» ۱؎ [22-الحج:70] ‏‏‏‏ ’ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا اللہ کو علم ہے سب کچھ کتاب میں لکھا موجود ہے یہ تو اللہ پر بہت ہی آسان ہے ‘۔ ہر کتاب کی جو آسمان سے اتری ہے اس کی ایک اجل ہے اور ایک مدت مقرر ہے ان میں سے جسے چاہتا ہے منسوخ کر دیتا ہے جسے چاہتا ہے باقی رکھتا ہے۔ پس اس قرآن سے جو اس نے اپنے رسول صلوات اللہ وسلامہ علیہ پر نازل فرمایا ہے تمام اگلی کتابیں منسوخ ہو گئیں۔ اللہ تعالیٰ جو چاہے مٹائے جو چاہے باقی رکھے سال بھر کے امور مقرر کر دئے لیکن اختیار سے باہر نہیں جو چاہا باقی رکھا جو چاہا بدل دیا۔ سوائے شقاوت، سعادت، حیات و ممات کے، کہ ان سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے ان میں تغیر نہیں ہونا۔

منصور کہتے ہیں ”میں نے مجاہد رحمہ اللہ سے پوچھا کہ ہم میں سے کسی کا یہ دعا کرنا کیسا ہے کہ الٰہی اگر میرا نام نیکوں میں ہے تو باقی رکھ اور اگر بدوں میں ہے تو اسے ہٹا دے اور نیکوں میں کر دے۔‏‏‏‏“ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”یہ تو اچھی دعا ہے“، سال بھر کے بعد پھر ملاقات ہوئی یا کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا تھا تو میں نے ان سے یہی بات دریافت کی آپ رحمہ اللہ نے «إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ» ۱؎ [44-الدخان:3،4] ‏‏‏‏ سے دو آیتوں کی تلاوت کی اور فرمایا ”لیلۃ القدر میں سال بھر کی روزیاں، تکلیفیں مقرر ہو جاتی ہیں۔ پھر جو اللہ چاہے مقدم مؤخر کرتا ہے، ہاں سعادت شقاوت کی کتاب نہیں بدلتی۔‏‏‏‏“ شفیق بن سلمہ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے ”اے اللہ! اگر تو نے ہمیں بدبختوں میں لکھا ہے تو اسے مٹا دے اور ہماری گنتی نیکوں میں لکھ لے اور اگر تو نے ہمیں نیک لوگوں میں لکھا ہے تو اسے باقی رکھ تو جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے باقی رکھے اصل کتاب تیرے ہی پاس ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہوئے روتے روتے یہ دعا پڑھا کرتے تھے «اللَّهُمَّ إِنْ كُنْت كَتَبْت عَلَيَّ شِقْوَة أَوْ ذَنْبًا فَامْحُهُ فَإِنَّك تَمْحُو مَا تَشَاء وَتُثْبِت وَعِنْدك أُمّ الْكِتَاب فَاجْعَلْهُ سَعَادَة وَمَغْفِرَة» ”اے اللہ اگر تو نے مجھ پر برائی اور گناہ لکھ رکھے ہیں تو انہیں مٹا دے تو جسے چاہے مٹاتا ہے اور باقی رکھتا ہے ام الکتاب تیرے پاس ہی ہے تو اسے سعادت اور رحمت کر دے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی یہی دعا کیا کرتے تھے۔ کعب رحمہ اللہ نے امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر ایک آیت کتاب اللہ میں نہ ہوتی تو میں قیامت تک جو امور ہونے والے ہیں سب آپ رضی اللہ عنہ کو بتا دیتا۔ پوچھا کہ وہ کون سی آیت ہے آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔‏‏‏‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:401/7:ضعیف و کذب] ‏‏‏‏ ان تمام اقوال کا مطلب یہ ہے کہ تقدیر کی الٹ پلٹ اللہ کے اختیار کی چیز ہے۔ چنانچہ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { بعض گناہوں کی وجہ سے انسان اپنی روزی سے محروم کر دیا جاتا ہے اور تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز بدل نہیں سکتی اور عمر کی زیادتی کرنے والی بجز نیکی کے کوئی چیز نہیں }۔ نسائی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4022:قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ‏‏‏‏ اور صحیح حدیث میں ہے کہ { صلہ رحمی عمر بڑھاتی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5986] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { دعا اور قضاء دونوں کی مڈبھیڑ آسمان و زمین کے درمیان ہوتی ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:486] ‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اللہ عزوجل کے پاس لوح محفوظ ہے جو پانچ سو سال کے راستے کی چیز ہے سفید موتی کی ہے یاقوت کے دو پٹھوں کے درمیان۔ تریسٹھ بار اللہ تعالیٰ اس پر توجہ فرماتا ہے۔ جو چاہتا ہے مٹاتا ہے جو چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے ام الکتاب اسی کے پاس ہے۔‏‏‏‏“

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ { رات کی تین ساعتیں باقی رہنے پر دفتر کھولا جاتا ہے پہلی ساعت میں اس دفتر پر نظر ڈالی جاتی ہے جسے اس کے سوا کوئی اور نہیں دیکھتا پس جو چاہتا ہے مٹاتا ہے جو چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:2502:ضعیف] ‏‏‏‏ کلبی فرماتے ہیں ”روزی کو بڑھانا گھٹانا عمر کو بڑھانا گھٹانا اس سے مراد ہے“، ان سے پوچھا گیا کہ آپ سے یہ بات کس نے بیان کی؟ فرمایا ”ابوصالح نے ان سے جابر بن عبداللہ بن رباب نے ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ پھر ان سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو جواب دیا کہ ”جمعرات کے دن سب باتیں لکھی جاتی ہیں ان میں سے جو باتیں جزا سزا سے خالی ہوں نکال دی جاتی ہیں جیسے تیرا یہ قول کہ میں نے کھایا، میں نے پیا، میں آیا، میں گیا وغیرہ جو سچی باتیں ہیں اور ثواب عذاب کی چیزیں نہیں اور باقی جو ثواب عذاب کی چیزیں ہیں وہ رکھ لی جاتی ہیں۔‏‏‏‏“ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”جو کتابیں ہیں ایک میں کمی زیادتی ہوتی ہے اور اللہ کے پاس ہے اصل کتاب وہی ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:20487:ضعیف] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں ”مراد اس سے وہ شخص ہے جو ایک زمانے تک تو اللہ کی اطاعت میں لگا رہتا ہے پھر معصیت میں لگ جاتا ہے اور اسی پر مرتا ہے پس اس کی نیکی محو ہو جاتی ہے اور جس کے لیے ثابت رہتی ہے۔‏‏‏‏“ یہ وہ ہے جو اس وقت تو نافرمانیوں میں مشغول ہے لیکن اللہ کی طرف سے، اس کے لیے فرمانبرداری پہلے سے مقرر ہو چکی ہے۔ پس آخری وقت وہ خیر پر لگ جاتا ہے اور طاعت الٰہی میں مرتا ہے۔ یہ ہے جس کے لیے فرمانبرداری پہلے سے مقرر ہو چکی ہے۔ پس آخری وقت وہ خیر پر لگ جاتا ہے اور طاعت الٰہی میں مرتا ہے۔ یہ ہے جس کے لیے ثابت رہتی ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”جسے چاہے بخشے جسے چاہے نہ بخشے“، اور آیت میں ہے «فَيَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ۱؎ [2-البقرة:284] ‏‏‏‏ ’ وہ جسے چاہے مغفرت کرے اور جسے چاہے عذاب دے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”جو چاہتا ہے منسوخ کرتا ہے جو چاہتا ہے تبدیل نہیں کرتا ناسخ کا اختیار اسی کے پاس ہے اور اول بدل بھی۔‏‏‏‏“ بقول قتادہ رحمہ اللہ یہ آیت مثل آیت «مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ۱؎ [2-البقرة:106] ‏‏‏‏، کے ہے یعنی ’ جو چاہے منسوخ کر دے جو چاہے باقی اور جاری رکھے ‘۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جب اس سے پہلے کی آیت اتری کہ ’ کوئی رسول بغیر اللہ کے فرمان کے کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتا ‘ تو قریش کے کافروں نے کہا پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم بالکل بے بس ہیں کام سے تو فراغت حاصل ہو چکی ہے پس انہیں ڈرانے کے لیے یہ آیت اتری کہ ’ ہم جو چاہیں تجدید کر دیں ‘ ہر رمضان میں تجدید ہوتی ہے پھر اللہ جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے جو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے روزی بھی تکلیف بھی دیتا ہے اور تقسیم بھی۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جس کی اجل آ جائے چل بستا ہے نہ آئی ہو رہ جاتا ہے یہاں تک کہ اپنے دن پورے کر لے۔‏‏‏‏“ ابن جریر رحمہ اللہ اسی قول کو پسند فرماتے ہیں۔ حلال حرام اس کے پاس ہے کتاب کا خلاصہ اور جڑ اسی کے ہاتھ ہے کتاب خود رب العٰلمین کے پاس ہی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کعب رضی اللہ عنہ سے ام الکتاب کی بابت دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”اللہ نے مخلوق کو اور مخلوق کے اعمال کو جان لیا۔‏‏‏‏“ پھر کہا کہ ”کتاب کی صورت میں ہو جائے ہو گیا۔‏‏‏‏“ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ام الکتاب سے مراد ذکر ہے۔‏‏‏‏“
39۔ 1 اس کے ایک معنی تو یہ ہیں وہ جس حکم کو چاہے منسوخ کردے اور جسے چاہے باقی رکھے۔ دوسرے معنی یہ ہیں اس نے جو تقدیر لکھ رکھی ہے، اس میں محو و اثبات کرتا رہتا ہے، اس کے پاس لوح محفوط ہے۔ اس کی تائید بعض احادیث و آثار سے ہوتی ہے۔ مثلاً ایک حدیث میں آتا ہے کہ ' آدمی گناہوں کی وجہ سے رزق سے محروم کردیا جاتا ہے، دعا سے تقدیر بدل جاتی ہے اور صلہ رحمی سے عمر میں اضافہ ہوتا ہے (مسند احمد جلد۔ 5 ص۔ 277) بعض صحابہ سے یہ دعا منقول ہے (اللَّھُمَّ اِنْ کُنْتَ کَتَبْتَّنَا اٰشْقِیَاءَ فَامْحُنَا وَاَکْتُبْنَا سُعَدَاءَ وَاِنَّ کُنْتَ کَتَبْتَنَا سُعَدَاءَ فَائُبِسْتُنَا فَاِنَّکَ تَمْحُوْ مَا تَشَآءُ وَ تُثْبْتُ وَ عِنْدَکَ اُ مُّ الْکِتَابِ) حضرت عمر ؓ سے منقول ہے کہ وہ دوران طواف روتے ہوئے یہ دعا پڑھتے ـ' اللھم ان کنت کتبت علی شقوۃ او ذنبا فامحہ فانک تمحو ما تشاء وتثبت وعندک ام الکتاب فاجعلہ سعادۃ ومغفرۃ۔ ابن کثیر۔ اے اللہ اگر تو نے مجھ پر بدبختی اور گناہ لکھا ہے تو اسے مٹا دے، اس لئے کہ تو جو چاہے مٹائے اور جو چاہے باقی رکھے، تیرے پاس ہی لوح محفوظ ہے، پس تو بدبختی کو سعادت اور مغفرت سے بدل دے (ابن کثیر) اس مفہم پر یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ حدیث میں تو آتا ہے جف القلم بما ہو کائن۔ صحیح بخاری۔ جو کچھ ہونے والا ہے قلم اسے لکھ کر خشک ہوچکا ہے اس کا جواب یہ دیا گیا کہ یہ محو واثبات بھی منجملہ قضاء و تقدیر ہی کے ہے۔ فتح القدیر۔
(آیت39){يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَآءُ وَ يُثْبِتُ …:} بظاہر یہ آیت اس حدیث کے خلاف ہے:ـ [ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا أَنْتَ لَاقٍ ] [بخاری، النکاح، باب ما یکرہ من التبتل والخصاء: ۵۰۷۶ ] ”جس چیز یا حال کو تم ملنے والے ہو قلم اس کے ساتھ خشک ہو چکا ہے۔“ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو فیصلہ ہو چکا وہ اب مٹنے والا نہیں، اس سوال کے حل کے لیے اس آیت کی تفسیر اہل علم نے دو طرح سے کی ہے، ایک تو یہ کہ جس طرح معجزہ اور کرامت اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے، کسی دوسرے کا اس میں کچھ دخل نہیں، اسی طرح کسی حکم کو باقی رکھنا یا اسے منسوخ کر دینا بھی اسی کے اختیار میں ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے جس میں یہ بھی لکھا ہے کہ کون سا حکم کب تک باقی رکھنا ہے اور کون سا حکم منسوخ کرنا ہے اور کب کرنا ہے۔ گویا یہ یہود پر رد ہے جو نسخ کے قائل نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ میں بھی ان پر رد فرمایا: «{ مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا }» [ البقرۃ: ۱۰۶ ] یعنی جو بھی آیت ہم منسوخ کرتے ہیں یا اسے بھلا دیتے ہیں اس سے بہتر یا اس جیسی اور لے آتے ہیں اور یہ سب باقی رکھنا یا منسوخ کرنا (محو و اثبات) ام الکتاب میں درج ہے، جو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ سورۂ بقرہ کی آیت (۱۰۶) کی تفسیر بھی ملاحظہ فرما لیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ جب تک چاہتا ہے ایک رسول کے احکام پر عمل قائم رکھتا ہے، پھر جس وقت چاہتا ہے بعد میں آنے والے رسول کے احکام پر عمل فرض کر دیتا ہے اور پہلے پر عمل ختم کر دیتا ہے۔ {” يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَآءُ وَ يُثْبِتُ “} میں یہ بھی شامل ہے کہ کسی بندے کے نامۂ اعمال میں کوئی بھی نیک یا بدعمل اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو باقی رکھتا ہے، چاہتا ہے تو مٹا دیتا ہے اور یہ نہیں کہ پہلے اسے علم نہیں تھا کہ میں نے کیا ثابت رکھنا ہے اور کیا مٹانا ہے، بلکہ اصل کتاب اسی کے پاس ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ تقدیر کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، اسے قضائے مبرم کہتے ہیں اور یہ وہی ہے جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: [ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا أَنْتَ لَاقٍ ] [ بخاری، النکاح، باب ما یکرہ من التبتل والخصاء: ۵۰۷۶ ] ”تم جس چیز یا حال کو ملنے والے ہو اس کے ساتھ قلم خشک ہو چکا ہے۔“ اور ایک تقدیر وہ ہے جس میں تبدیلی ہوتی ہے، اسے تقدیر معلق کہتے ہیں اور وہ بھی اللہ کے علم میں ہے۔ چنانچہ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”دنیا میں ہر چیز اسباب سے ہے، بعض اسباب ظاہر ہیں اور بعض چھپے ہیں۔ اسباب کی تاثیر کا ایک اندازہ مقرر ہے، جب اللہ چاہے ان کی تاثیر اندازے سے کم یا زیادہ کر دے اور جب چاہے ویسی ہی رکھے۔ آدمی کبھی کنکر سے مرتا ہے اورگولی سے بچتا ہے اور ایک اندازہ ہر چیز کا اللہ کے علم میں ہے، وہ ہر گز نہیں بدلتا۔ اندازے کو تقدیر کہتے ہیں، یہ دو تقدیریں ہوئیں، ایک بدلتی ہے (تقدیر تاثیر اسباب) اور ایک نہیں بدلتی (یعنی علمِ الٰہی)۔“ (موضح) شیخ ناصر الدین البانی نے سلسلہ الاحادیث الضعیفہ (۵۴۴۸) میں فرمایا: ”قرطبی نے بھی اپنی تفسیر ”الجامع (۵؍۳۳۲)“ میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے، وہ لکھتے ہیں: ”اور عقیدہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے (قضا) میں تبدیلی نہیں ہوتی اور یہ محو و اثبات بھی ان چیزوں میں شامل ہے جن کا فیصلہ پہلے ہو چکا ہے اور یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ قضا میں سے کچھ چیزیں وہ ہیں جو لازماً ہو کر رہنی ہیں، یہ وہ ہیں جو ثابت (مبرم) ہیں اور کچھ وہ ہیں جن میں بعض اسباب سے تبدیلی ہو جاتی ہے، یہ محو (مٹائی ہوئی) ہیں۔ (واللہ اعلم) غزنوی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میرے نزدیک یہ ہے کہ لوح محفوظ میں جو کچھ ہے وہ غیب سے نکل چکا ہے، کیونکہ بعض فرشتے بھی اس سے واقف ہیں، اس لیے وہ تبدیل ہو سکتا ہے، کیونکہ مخلوق کا اللہ تعالیٰ کے پورے علم سے واقف ہونا محال ہے اور اس کے علم میں اشیاء کی جو تقدیر اور طے شدہ بات ہے وہ کبھی نہیں بدلتی۔“ (سلسلہ ضعیفہ کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ غزنوی سے مراد عالی بن ابراہیم بن اسماعیل ہیں جن کا لقب ”تاج الشریعہ“ ہے، یہ ایک حنفی فقیہ مفسر ہیں، ان کی کتاب تفسیر التفسیر ہے جو بہت عمدہ ہے، جیسا کہ کئی علماء نے فرمایا ہے، ۵۸۲ ھ میں فوت ہوئے۔ الاعلام) خلاصہ یہ کہ اس ”محو و اثبات“ کا اس ”بدا“ کے غلط عقیدے سے کوئی تعلق نہیں جو بعض گمراہ لوگوں نے اختیار کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ تم کوئی کام کرو، پھر اس کا غلط ہونا تمھیں معلوم ہو تو اسے بدل دو۔ اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا حرام ہے، کیونکہ وہ پہلے ہی جانتا ہے کہ کیا درست ہے اور کیا غلط ہے۔ اس تفصیل سے اللہ کے فیصلے کے بدل نہ سکنے کے عقیدے اور ان تمام احادیث و اقوال صحابہ کے متعلق اشکال ختم ہو جاتا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات تقدیر بدل سکتی ہے، خصوصاً دعا سے، مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: [ لاَ يَرُدُّ الْقَضَاءَ إِلاَّ الدُّعَاءُ وَلَا يَزِيْدُ فِي الْعُمُرِ إِلَّا الْبِرُّ ] [ ترمذی، القدر، باب ما جاء لا یرد القدر إلا الدعاء: ۲۱۳۹۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 153/1، ح: ۱۵۴ ] ”تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز نہیں ٹالتی اور عمر کو نیکی کے سوا کوئی چیز زیادہ نہیں کرتی۔“ اسی طرح بعض صحابہ کی دعائیں کہ یا اللہ! اگر تو نے مجھے شقی لکھا ہے تو اسے بدل کر سعید لکھ دے۔
وَ اِنۡ مَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الۡبَلٰغُ وَ عَلَیۡنَا الۡحِسَابُ ﴿۴۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اے نبیؐ، جس برے انجام کی دھمکی ہم اِن لوگوں کو دے رہے ہیں اُس کوئی حصہ خواہ ہم تمہارے جیتے جی دکھا دیں یا اس کے ظہور میں آنے سے پہلے ہم تمہیں اٹھا لیں، بہر حال تمہارا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان سے کیے ہوئے وعدوں میں سے کوئی اگر ہم آپ کو دکھا دیں یا آپ کو ہم فوت کر لیں تو آپ پر تو صرف پہنچا دینا ہی ہے۔ حساب تو ہمارے ذمہ ہی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر ہمیں تمہیں دکھا د یں کوئی وعدہ جو انہیں دیا جاتا ہے یا پہلے ہی اپنے پاس بلائیں تو بہرحال تم پر تو ضرور پہنچانا ہے اور حساب لینا ہمارا ذمہ
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر ہم آپ کو کچھ وہ باتیں آنکھوں سے دکھا دیں جن کا ہم ان (کفار) سے وعدہ وعید کر رہے ہیں یا ہم (ان کے ظاہر ہونے سے پہلے) آپ کو اٹھا لیں بہرحال (ہمارا پیغام) پہنچانا آپ کا کام ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر کبھی ہم واقعی تجھے اس کا کچھ حصہ دکھا دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں، یا واقعی تجھے اٹھا لیں تو تیرے ذمے صرف پہنچا دینا ہے اور ہمارے ذمے حساب لینا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد ٭٭

’ تیرے دشمنوں پر جو ہمارے عذاب آنے والے ہیں وہ ہم تیری زندگی میں لائیں تو اور تیرے انتقال کے بعد لائے تو تجھے کیا؟ ‘ «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ إِلَّا مَن تَوَلَّىٰ وَكَفَرَ فَيُعَذِّبُهُ اللَّـهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَ إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُم» ۱؎ [88-الغاشية:21-26] ‏‏‏‏ ’ تیرا کام تو صرف ہمارے پیغام پہنچا دینا ہے وہ تو کر چکا۔ ان کا حساب ان کا بدلہ ہمارے ہاتھ ہے۔ تو صرف انہیں نصیحت کر دے تو ان پر کوئی داروغہ اور نگہبان نہیں۔ جو منہ پھیرے گا اور کفر کرے گا اسے اللہ ہی بڑی سزاؤں میں داخل کر دے گا ان کا لوٹنا تو ہماری طرف ہی ہے اور ان کا حساب بھی ہمارے ذمے ہے ‘۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو تیرے قبضے میں دیتے آ رہے ہیں؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ آباد اور عالی شان محل کھنڈر اور ویرانے بنتے جا رہے ہیں؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ مسلمان کافروں کو دباتے چلے آ رہے کیا وہ نہیں دیکھتے کہ برکتیں اٹھتی جا رہی ہیں خرابیاں آتی جا رہی ہیں؟ لوگ مرتے جا رہے ہیں زمین اجڑتی جا رہی ہے؟ خود زمین ہی اگر تنگ ہوتی جاتی تو تو انسان کو چھپڑ ڈالنا بھی محال ہو جاتا مقصد انسان کا اور درختوں کا کم ہوتے رہنا ہے۔ مراد اس سے زمین کی تنگی نہیں بلکہ لوگوں کی موت ہے علماء فقہاء اور بھلے لوگوں کی موت بھی زمین کی بربادی ہے۔ عرب شاعر کہتا ہے «الْأَرْضُ تَحْيَا إِذَا مَا عَاشَ عَالِمُهَا مَتَى يَمُتْ عَالِمٌ مِنْهَا يَمُتْ طَرَف» «كَالْأَرْضِ تَحْيَا إِذَا مَا الْغَيْثُ حَلَّ بِهَا وَإِنْ أَبَى عَادَ فِي أَكْنَافِهَا التَّلَفُ» یعنی جہاں کہیں جو عالم دین ہے وہاں کی زمین کی زندگی اسی سے ہے۔ اس کی موت اس زمین کی ویرانی اور خرابی ہے۔ جیسے کہ بارش جس زمین پر برسے لہلہانے لگتی ہے اور اگر نہ برسے تو سوکھنے اور بنجر ہونے لگتی ہے۔ پس آیت میں مراد اسلام کا شرک پر غالب آنا ہے، ایک کے بعد ایک بستی کو تابع کرنا ہے۔ جیسے فرمایا آیت «وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُم مِّنَ الْقُرَىٰ» ۱؎ [46-الأحقاف:27] ‏‏‏‏ الخ، یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا بھی پسندیدہ ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت40) {وَ اِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ …: ” مَا “} شرط کے معنی کی تاکید کے لیے ہے جو {” اِنْ “} کا مفہوم ہے۔ اس لیے ترجمہ کیا ہے ”اور اگر کبھی ہم واقعی تجھے دکھا دیں۔“ یہاں {” نُرِيَنَّكَ “} کا معنی آنکھوں سے دکھانا ہے، دل سے یا گمان اور خیال سے نہیں۔ شرط میں مذکور {” نُرِيَنَّكَ “} اور {” اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ۠ “} دونوں کا جواب محذوف ہے، یعنی ضروری نہیں کہ دنیا میں انھیں دی جانے والی سزا ہم آپ کی زندگی ہی میں آپ کو دکھا کر دیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کی وفات کے بعد ان کی سزا کا وقت آئے، اگر ہم آپ کو آنکھوں سے ان کی کچھ دنیوی سزا دکھا دیں تو یہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کے سینوں اور آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہو گا اور اگر پہلے فوت کر لیں تب بھی آپ فکر نہ کریں، کیونکہ آپ کا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے۔ رہا ان کے اعمال پر محاسبہ اور مؤاخذہ تو وہ ہمارے ذمے ہے۔ اس آیت میں اشارہ ہے کہ کچھ وعدے تو آپ کی زندگی میں پورے ہوں گے اور کچھ آپ کی وفات کے بعد۔ باغبان پودے لگاتا ہے، کچھ اس کی زندگی میں پھل دے دیتے ہیں اور کچھ کئی سالوں کے بعد آنے والی نسل کو پھل دیتے ہیں، لہٰذا آپ کو اس کے لیے جلدی نہیں کرنی چاہیے اور انھیں بے فکر اور غافل نہیں رہنا چاہیے۔
اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّا نَاۡتِی الۡاَرۡضَ نَنۡقُصُہَا مِنۡ اَطۡرَافِہَا ؕ وَ اللّٰہُ یَحۡکُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُکۡمِہٖ ؕ وَ ہُوَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۴۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم اِس سرزمین پر چلے آ رہے ہیں اور اس کا دائرہ ہر طرف سے تنگ کرتے چلے آتے ہیں؟ اللہ حکومت کر رہا ہے، کوئی اس کے فیصلوں پر نظر ثانی کرنے و الا نہیں ہے، اور اُسے حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا وه نہیں دیکھتے؟ کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں، اللہ حکم کرتا ہے کوئی اس کے احکام پیچھے ڈالنے واﻻ نہیں، وه جلد حساب لینے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا انہیں نہیں سوجھتا کہ ہر طرف سے ان کی آبادی گھٹاتے آرہے ہیں اور اللہ حکم فرماتا ہے اس کا حکم پیچھے ڈالنے والا کوئی نہیں اور اسے حساب لیتے دیر نہیں لگتی،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے اطراف و جوانب سے برابر گھٹاتے چلے آتے ہیں اللہ ہی حکم دینے والا (اور فیصلہ کرنے والا) ہے اس کے حکم کو کوئی ٹالنے والا نہیں ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کی طرف آتے ہیں، اسے اس کے کناروں سے کم کرتے آتے ہیں اور اللہ فیصلہ فرماتا ہے، اس کے فیصلے پر کوئی نظر ثانی کرنے والا نہیں اور وہ جلد حساب لینے والا ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد ٭٭

’ تیرے دشمنوں پر جو ہمارے عذاب آنے والے ہیں وہ ہم تیری زندگی میں لائیں تو اور تیرے انتقال کے بعد لائے تو تجھے کیا؟ ‘ «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ إِلَّا مَن تَوَلَّىٰ وَكَفَرَ فَيُعَذِّبُهُ اللَّـهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَ إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُم» ۱؎ [88-الغاشية:21-26] ‏‏‏‏ ’ تیرا کام تو صرف ہمارے پیغام پہنچا دینا ہے وہ تو کر چکا۔ ان کا حساب ان کا بدلہ ہمارے ہاتھ ہے۔ تو صرف انہیں نصیحت کر دے تو ان پر کوئی داروغہ اور نگہبان نہیں۔ جو منہ پھیرے گا اور کفر کرے گا اسے اللہ ہی بڑی سزاؤں میں داخل کر دے گا ان کا لوٹنا تو ہماری طرف ہی ہے اور ان کا حساب بھی ہمارے ذمے ہے ‘۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو تیرے قبضے میں دیتے آ رہے ہیں؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ آباد اور عالی شان محل کھنڈر اور ویرانے بنتے جا رہے ہیں؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ مسلمان کافروں کو دباتے چلے آ رہے کیا وہ نہیں دیکھتے کہ برکتیں اٹھتی جا رہی ہیں خرابیاں آتی جا رہی ہیں؟ لوگ مرتے جا رہے ہیں زمین اجڑتی جا رہی ہے؟ خود زمین ہی اگر تنگ ہوتی جاتی تو تو انسان کو چھپڑ ڈالنا بھی محال ہو جاتا مقصد انسان کا اور درختوں کا کم ہوتے رہنا ہے۔ مراد اس سے زمین کی تنگی نہیں بلکہ لوگوں کی موت ہے علماء فقہاء اور بھلے لوگوں کی موت بھی زمین کی بربادی ہے۔ عرب شاعر کہتا ہے «الْأَرْضُ تَحْيَا إِذَا مَا عَاشَ عَالِمُهَا مَتَى يَمُتْ عَالِمٌ مِنْهَا يَمُتْ طَرَف» «كَالْأَرْضِ تَحْيَا إِذَا مَا الْغَيْثُ حَلَّ بِهَا وَإِنْ أَبَى عَادَ فِي أَكْنَافِهَا التَّلَفُ» یعنی جہاں کہیں جو عالم دین ہے وہاں کی زمین کی زندگی اسی سے ہے۔ اس کی موت اس زمین کی ویرانی اور خرابی ہے۔ جیسے کہ بارش جس زمین پر برسے لہلہانے لگتی ہے اور اگر نہ برسے تو سوکھنے اور بنجر ہونے لگتی ہے۔ پس آیت میں مراد اسلام کا شرک پر غالب آنا ہے، ایک کے بعد ایک بستی کو تابع کرنا ہے۔ جیسے فرمایا آیت «وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُم مِّنَ الْقُرَىٰ» ۱؎ [46-الأحقاف:27] ‏‏‏‏ الخ، یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا بھی پسندیدہ ہے۔
41۔ 1 یعنی عرب کی سرزمین مشرکین پر بتدریج تنگ ہو رہی ہے اور اسلام کو غلبہ عروج حاصل ہو رہا ہے۔ 41۔ 2 یعنی کوئی اللہ کے حکموں کو رد نہیں کرسکتا۔
(آیت41) ➊ { اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّا نَاْتِي الْاَرْضَ …: } یہ کفار کے لیے وعید اور مسلمانوں کے لیے خوش خبری ہے، یعنی کیا ان کفار نے نہیں دیکھا کہ ہم ان کی زمین کو اس کے کناروں سے کم کرتے چلے آ رہے ہیں، ان کے شہر اور علاقے یکے بعد دیگرے مسلمانوں کے قبضے میں آتے جا رہے ہیں، ایک وقت آ رہا ہے کہ انھیں زمین کے مرکز ام القریٰ یعنی مکہ سے بھی بے دخل ہونا پڑے گا۔ چونکہ مکہ میں مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا، اس لیے بعض مفسرین نے اس سورت کو مدنی قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی پیش قدمی کو اپنی پیش قدمی قرار دیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی کا دین آگے بڑھ رہا تھا اور مسلمانوں کا آگے بڑھنا صرف اللہ ہی کی مدد سے تھا، ورنہ وہ کفار کی متحدہ قوتوں کے سامنے اکیلے اپنی طاقت سے کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے مسلمانوں کی پیش قدمی کو {” اَنَّا نَاْتِي “} (اپنے آنے) کے الفاظ کے ساتھ بیان کرنے میں اللہ تعالیٰ کی ہیبت و جلال کا جو اظہار ہو رہا ہے وہ اللہ کے کلام ہی کی خصوصیت ہے، جیسے فرمایا: «{ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْيَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُوْنَ }» [ النحل: ۲۶ ] ”(یعنی ان کفار سے پہلے لوگوں نے سازشیں کیں) تو اللہ ان کی عمارت کو بنیادوں سے آیا، پس ان پر ان کے اوپر سے چھت گر پڑی اور ان پر وہاں سے عذاب آیا کہ وہ سوچتے نہ تھے۔“ یہی وہ حقیقت ہے جس کا اظہار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا اور مروہ پر کھڑے ہو کر ان الفاظ میں کیا: [ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَ نَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ ] [ مسلم، الحج، باب حجۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ۱۲۱۸ ] ”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے ہی نے تمام جماعتوں کو شکست دی۔“ کفار پر تعجب ہے کہ یہ دیکھ کر بھی کہ دن بدن اسلام کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے اور کفر و شرک سمٹ رہا ہے، یہ لوگ اسلام نہیں لاتے۔ اللہ تعالیٰ کی بشارت کے مطابق پھر وہ وقت آیا کہ مشرق اور مغرب کے آخر تک اسلام کا علم لہرانے لگا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق ہر صورت وہ وقت آنے والا ہے جو مقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرماتے تھے: [لاَ يَبْقَی عَلَی ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلاَ وَبَرٍ إِلاَّ أَدْخَلَهٗ اللّٰهُ كَلِمَةَ الْإِسْلاَمِ بِعِزِّ عَزِيْزٍ أَوْ ذُلِّ ذَلِيْلٍ إِمَّا يُعِزُّهُمُ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ فَيَجْعَلُهُمْ مِنْ أَهْلِهَا أَوْ يُذِلُّهُمْ فَيَدِيْنُوْنَ لَهَا ] [ أحمد: 4/6، ح: ۲۳۸۷۶ وصححہ الألبانی ] ”زمین کی پشت پر اینٹوں یا بالوں کا بنا ہوا کوئی گھر (یا خیمہ) باقی نہیں رہے گا، مگر اللہ تعالیٰ اس میں کلمۂ اسلام کو داخل کر دے گا، عزت والوں کو عزت بخش کر اور ذلیل کو ذلت دے کر، یا تو انھیں عزت دے گا اور انھیں یہ کلمہ پڑھنے والوں میں داخل کر دے گا، یا انھیں ذلیل کرے گا اور وہ اس کے محکوم بن جائیں گے۔“ مزید دیکھیے سورۂ انبیاء (۴۴)۔ ➋ { وَ اللّٰهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ:} کیونکہ اس کے فیصلے پر نظر ثانی کرکے اسے وہی بدل سکتا ہے جو اس پر غالب ہو، جب کہ ایسی کسی ہستی کا کہیں وجود ہی نہیں۔ ➌ { وَ هُوَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ:} یعنی اس کے حساب لینے کا وقت نہایت تیزی کے ساتھ آ رہا ہے، حتیٰ کہ اس کے آنے پر مجرم قسمیں کھا کر کہیں گے کہ ہم دنیا میں صرف ایک گھڑی رہے ہیں۔ (روم: ۵۵) دوسرا مطلب یہ ہے کہ اسے حساب لینے میں ذرہ برابر دیر نہیں لگتی بلکہ قیامت کے دن پل بھر میں سارا حساب سامنے آ جائے گا۔
وَ قَدۡ مَکَرَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَلِلّٰہِ الۡمَکۡرُ جَمِیۡعًا ؕ یَعۡلَمُ مَا تَکۡسِبُ کُلُّ نَفۡسٍ ؕ وَ سَیَعۡلَمُ الۡکُفّٰرُ لِمَنۡ عُقۡبَی الدَّارِ ﴿۴۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں وہ بھی بڑی بڑی چالیں چل چکے ہیں، مگر اصل فیصلہ کن چال تو پوری کی پوری اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جانتا ہے کہ کون کیا کچھ کمائی کر رہا ہے، اور عنقریب یہ منکرین حق دیکھ لیں گے کہ انجام کس کا بخیر ہوتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان سے پہلے لوگوں نے بھی اپنی مکاری میں کمی نہ کی تھی، لیکن تمام تدبیریں اللہ ہی کی ہیں، جو شخص جو کچھ کر رہا ہے اللہ کے علم میں ہے۔ کافروں کو ابھی معلوم ہو جائے گا کہ (اس) جہان کی جزا کس کے لئے ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
اور ان سے اگلے فریب کرچکے ہیں تو ساری خفیہ تدبیر کا مالک تو اللہ ہی ہے جانتا ہے جو کچھ کوئی جان کمائے اور اب جاننا چاہتے ہیں کافر، کسے ملتا ہے پچھلا گھر
علامہ محمد حسین نجفی
جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں انہوں نے بڑی مخفی تدبیریں کیں سو ہر قسم کی تدبیریں اور ترکیبیں اللہ ہی کے قبضۂ قدرت میں ہیں وہی جانتا ہے کہ ہر شخص کیا کمائی کر رہا ہے اور بہت جلد کافروں کو معلوم ہو جائے گا کہ اس گھر کا انجام (بخیر) کس کا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ ان لوگوں نے تدبیریں کیں جو ان سے پہلے تھے، سو اصل تدبیر تو سب اللہ ہی کی ہے، وہ جانتا ہے جو کچھ ہر شخص کر رہا ہے اور عنقریب کفار جان لیں گے کہ اس گھر کا اچھا انجام کس کے لیے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کے شرمناک کارنامے ٭٭

اگلے کافروں نے بھی اپنے نبیوں کے ساتھ مکر کیا، انہیں نکالنا چاہا، اللہ نے ان کے مکر کا بدلہ لیا۔ انجام کار پرہیزگاروں کا ہی بھلا ہوا۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کافروں کی کارستانی بیان ہو چکی ہے کہ «وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّـهُ وَاللَّـهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ» ۱؎ [8-الانفال:30] ‏‏‏‏ ’ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قید کرنے یا قتل کرنے یا دیس سے نکال دینے کا مشورہ کر رہے تھے وہ گھات میں تھے اور اللہ ان کی گھات میں تھا۔ بھلا اللہ سے زیادہ اچھی پوشیدہ تدبیر کس کی ہو سکتی ہے؟ ‘ «وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَاهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُوا إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ» ۱؎ [27-النمل:52-50] ‏‏‏‏ ’ ان کے مکر پر ہم نے بھی یہی کیا اور یہ بے خبر رہے۔ دیکھ لے کہ ان کے مکر کا انجام کیا ہوا؟ یہی کہ ہم نے انہیں غارت کر دیا اور ان کی ساری قوم کو برباد کر دیا ان کے ظلم کی شہادت دینے والے ان کی غیر آباد بستیوں کے کھنڈرات ابھی موجود ہیں ‘۔ ہر ایک کے ہر ایک عمل سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے، پوشیدہ عمل دل کے خوف اس پر ظاہر ہیں ہر عامل کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ «الْكُفَّارُ» کی دوسری قرأت «الْكَافِرِ» بھی ہے۔ ان کافروں کو ابھی معلوم ہو جائے گا کہ انجام کار کس کا اچھا رہتا ہے، ان کا یا مسلمانوں کا؟ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ حق والوں کو ہی غالب رکھا ہے انجام کے اعتبار سے یہی اچھے رہتے ہیں دنیا آخرت انہی کی سنورتی ہے۔
42۔ 1 یعنی مشرکین مکہ سے قبل بھی لوگ رسولوں کے مقابلے میں مکر کرتے رہے ہیں، لیکن اللہ کی تدبیر کے مقابلے میں ان کی کوئی تدبیر اور حیلہ کارگر نہیں ہوا، اسی طرح آئندہ بھی ان کا کوئی مکر اللہ کی مشیت کے سامنے نہیں ٹھر سکے گا۔ 42۔ 2 وہ اس کے مطابق جزا اور سزا دے گا، نیک کو اس کی نیکی کی جزا دیتا ہے اور بد کو اس کی بد کی سزا دیتا ہے۔
(آیت42){وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ …:} یعنی ان سے پہلے کفار نے بھی اپنے رسولوں کو ستانے اور اسلام کو نیچا دکھانے کی بہت تدبیریں کیں، یہ کوئی نئی بات آپ ہی کو پیش نہیں آ رہی، پھر کوئی تدبیر اللہ کی مشیت کے بغیر کچھ بھی نہیں کر سکتی، کیونکہ اختیار ہر چیز کا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ سو اگر ان کی کوئی تدبیر کامیاب ہوئی تو وہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہی کا تقاضا تھا، لہٰذا آپ پریشان نہ ہوں۔ ان کافروں کو بھی بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ اس دنیا کے گھر کا اچھا انجام کس کے حق میں ہوتا ہے۔
وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَسۡتَ مُرۡسَلًا ؕ قُلۡ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًۢا بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ۙ وَ مَنۡ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ الۡکِتٰبِ ﴿٪۴۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ منکرین کہتے ہیں کہ تم خدا کے بھیجے ہوئے نہیں ہو کہو "میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے اور پھر ہر اُس شخص کی گواہی جو کتاب آسمانی کا علم رکھتا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ کافر کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول نہیں۔ آپ جواب دیجئے کہ مجھ میں اور تم میں اللہ گواہی دینے واﻻ کافی ہے اور وه جس کے پاس کتاب کا علم ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کافر کہتے ہی تم رسول نہیں، تم فرماؤ اللہ گواہ کافی ہے مجھ میں اور تم میں اور وہ جسے کتاب کا علم ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ آپ رسول نہیں ہیں کہہ دیجیے کہ میرے اور تمہارے درمیان بطور گواہ اللہ کافی ہے اور وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا،کہتے ہیں تو کسی طرح رسول نہیں ہے۔ کہہ دے میرے درمیان اور تمھارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے اور وہ شخص بھی جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رسالت کے منکر ٭٭

’ کافر تجھے جھٹلا رہے ہیں۔ تیری رسالت کے منکر ہیں۔ تو غم نہ کر کہہ دیا کر کہ اللہ کی شہادت کافی ہے۔ تیری نبوت کا وہ خود گواہ ہے، میری تبلیغ پر، تمہاری تکذیب پر، وہ شاہد ہے۔ میری سچائی، تمہاری تکذیب کو وہ دیکھ رہا ہے ‘۔ علم کتاب جس کے پاس ہے اس سے مراد عبداللہ بن سلام ہیں رضی اللہ عنہ۔ یہ قول مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے لیکن بہت غریب قول ہے اس لیے کہ یہ آیت مکہ شریف میں اتری ہے اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تو ہجرت کے بعد مدینے میں مسلمان ہوئے ہیں۔ اس سے زیادہ ظاہر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”یہود و نصاری کے حق گو عالم مراد ہیں ہاں ان میں عبداللہ بن سلام بھی ہیں، سلمان اور تمیم داری وغیرہ رضی اللہ عنہم بھی۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ سے ایک روایت میں مروی ہے کہ اس سے مراد بھی خود اللہ تعالیٰ ہے۔ سعید رحمہ اللہ اس سے انکاری تھے کہ اس سے مراد عبداللہ بن سلام لیے جائیں کیونکہ یہ آیت مکیہ ہے اور آیت کو «مِنْ عِنْدِ اللَّهِ» پڑھتے تھے۔ یہی قرأت مجاہد اور حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے بھی مروی ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی قرأت ہے لیکن وہ حدیث ثابت نہیں۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:5574:ضعیف] ‏‏‏‏ صحیح بات یہی ہے کہ یہ اسم جنس ہے ہر وہ عالم جو اگلی کتاب کا علم ہے اس میں داخل ہے ان کی کتابوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت موجود تھی۔ ان کے نبیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت پیش گوئی کر دی تھی۔ جیسے فرمان رب ذی شان ہے «وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُم بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ» ۱؎ [7-الأعراف:156-157] ‏‏‏‏ یعنی ’ میری رحمت نے تمام چیزوں کو گھیر رکھا ہے میں اسے ان لوگوں کے نام لکھ دوں گا جو متقی ہیں، زکوٰۃ کے ادا کرنے والے ہیں، ہماری آیتوں پر ایمان رکھنے والے ہیں، رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے ہیں، جس کا ذکر اپنی کتاب تورات وانجیل میں موجود پاتے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «أَوَلَمْ يَكُن لَّهُمْ آيَةً أَن يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ» ۱؎ [26-الشعراء:197] ‏‏‏‏ ’ کیا یہ بات بھی ان کے لیے کافی نہیں کہ اس کے حق ہونے کا علم علماء بنی اسرائیل کو بھی ہے ‘۔

ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے کہ { عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے علمائے یہود سے کہا کہ میرا ارادہ ہے کہ اپنے باپ ابراہیم و اسماعیل علیہم السلام کی مسجد میں جا کر عید منائیں، مکے پہنچے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہیں تھے، یہ لوگ جب حج سے لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں تشریف فرما تھے اور لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ یہ بھی مع اپنے ساتھیوں کے کھڑے ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھ کر پوچھا کہ آپ ہی عبداللہ بن سلام ہیں، کہا ہاں فرمایا: { قریب آؤ } جب قریب گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میرا ذکر تورات میں نہیں پاتے؟“، انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے اوصاف میرے سامنے بیان فرمائیے۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو گئے اور حکم دیا کہ کہو آیت «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ اللَّـهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ» ۱؎ [112-الإخلاص:4-1] ‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری سورت پڑھ سنائی۔ ابن سلام نے اسی وقت کلمہ پڑھ لیا، مسلمان ہو گئے، مدینے واپس چلے آئے لیکن اپنے اسلام کو چھپائے رہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینے پہنچے اس وقت آپ کھجور کے ایک درخت پر چڑھے ہوئے کھجوریں اتار رہے تھے جو آپ کو خبر پہنچی اسی وقت درخت سے کود پڑے۔ ماں کہنے لگیں کہ اگر موسیٰ علیہ السلام بھی آ جاتے تو تم درخت سے نہ کودتے۔ کیا بات ہے؟ جواب دیا کہ اماں جی موسیٰ علیہ السلام کی نبوت سے بھی زیادہ خوشی مجھے ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی یہاں تشریف آوری سے ہوئی ہے }۔ ۱؎ [ابو نعیم فی الدلائل:246:ضعیف و باطل] ‏‏‏‏ اس میں انقطاع ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۂ رعد کی تفسیر ختم ہوئی۔
43۔ 1 پس وہ جانتا ہے کہ میں اس کا سچا رسول اور اس کے پیغام کا داعی ہوں اور تم جھوٹے ہو۔ 43۔ 2 کتاب سے مراد جنس کتاب ہے اور مراد تورات اور انجیل کا علم ہے۔ یعنی اہل کتاب میں سے وہ لوگ جو مسلمان ہوگئے ہیں، جیسے عبد اللہ بن اسلام، سلمان فارسی اور تمیم داری وغیرہم ؓ یعنی یہ بھی جانتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ عرب کے مشرکین اہم معاملات میں اہل کتاب کی طرف رجوع کرتے اور ان سے پوچھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی رہنمائی فرمائی کہ اہل کتاب جانتے ہیں، ان سے تم پوچھ لو۔ بعض کہتے ہیں کہ کتاب سے مراد قرآن ہے اور حاملین علم کتاب، مسلمان ہیں۔ اور بعض نے کتاب سے مراد لوح محفوظ لی ہے۔ یعنی جس کے پاس لوح محفوظ کا علم ہے یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ، مگر پہلا مفہوم زیادہ درست ہے۔
(آیت43) ➊ {لَسْتَ مُرْسَلًا:مُرْسَلًا “} کی تنوین کی وجہ سے ترجمہ ”کسی طرح رسول“ کیا گیا ہے۔ ➋ { وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ:} یعنی یہود و نصاریٰ کے علماء جیسے عبد اللہ بن سلام، سلمان فارسی، تمیم داری رضی اللہ عنھم اور ان میں سے دوسرے ایمان لانے والے۔ اہل کتاب کے علماء کی طرف رجوع کا حکم اس لیے دیا کہ مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں عموماً انھی کی طرف رجوع کرتے تھے اور ان کے علماء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور آپ کے متعلق بشارتوں سے آپ کے سچا رسول ہونے کو خوب سمجھتے تھے، جیسے فرمایا: «{ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ }» [ البقرۃ: ۱۴۶] ”وہ آپ کو پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔“ مزید دیکھیے سورۂ اعراف (۱۵۷) اور شعراء (۱۹۷)۔