بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الرعد — Surah Rad
آیت نمبر 32
کل آیات: 43
قرآن کریم الرعد آیت 32
آیت نمبر: 32 — سورۃ الرعد islamicurdubooks.com ↗
وَ لَقَدِ اسۡتُہۡزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَاَمۡلَیۡتُ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ثُمَّ اَخَذۡتُہُمۡ ۟ فَکَیۡفَ کَانَ عِقَابِ ﴿۳۲﴾
تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے، مگر میں نے ہمیشہ منکر ین کو ڈھیل دی اور آخر کار ان کو پکڑ لیا، پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی
یقیناً آپ سے پہلے کے پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا تھا اور میں نے بھی کافروں کو ڈھیل دی تھی پھر انہیں پکڑ لیا تھا، پس میرا عذاب کیسا رہا؟
اور بیشک تم سے اگلے رسولوں سے بھی ہنسی کی گئی تو میں نے کافروں کو کچھ دنوں ڈھیل دی پھر انہیں پکڑا تو میرا عذاب کیسا تھا،
(اے رسول(ص)) آپ سے پہلے بھی بہت سے پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا ہے مگر میں نے کافروں کو (کچھ مدت تک) ڈھیل دی پھر میں نے انہیں پکڑ لیا۔ تو (دیکھو) میرا عذاب کیسا تھا؟
اور بلاشبہ یقینا تجھ سے پہلے کئی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو میں نے ان لوگوں کو مہلت دی جنھوں نے کفر کیا، پھر میں نے انھیں پکڑ لیا تو میرا عذاب کیسا تھا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

سچائی کا مذاق اڑانا آج بھی جاری ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کے غلط رویہ سے رنج وفکر نہ کریں آپ سے پہلے کے پیغمبروں کا بھی یونہی مذاق اڑایا گیا تھا میں نے ان کافروں کو بھی کچھ دیر تو ڈھیل دی تھی آخر بری طرح پکڑ لیا تھا اور نام و نشان تک مٹا دیا تھا۔ تجھے معلوم ہے کہ کس کیفیت سے میرے عذاب ان پر آئے؟ اور ان کا انجام کیسا کچھ ہوا؟ ‘ جیسے فرمان ہے «وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَمْلَيْتُ لَهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ أَخَذْتُهَا وَإِلَيَّ الْمَصِيرُ» ۱؎ [22-الحج:48] ‏‏‏‏ ’ بہت سی بستیاں ہیں جو ظلم کے باوجود ایک عرصہ سے دنیا میں مہلت لیے رہیں لیکن آخرش اپنی بداعمالیوں کی پاداش میں عذابوں کا شکار ہوئیں ‘۔ بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو وہ حیران رہ جاتا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» ۱؎ [11۔ ھود:102] ‏‏‏‏، کی تلاوت کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4686] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

32۔ 1 حدیث میں آتا ہے ' (ان اللہ لیملی للظالم حتی اذا اخذہ لم یفلتہ) اللہ ظالم کو مہلت دیئے جاتا ہے حتٰی کہ جب اسے پکڑتا ہے تو پھر چھوڑتا نہیں ' اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ) (11۔ ہود:12) اسی طرح تیرے رب کی پکڑ ہے جب وہ ظلم کی مرتکب بستیوں کو پکڑتا ہے۔ یقینا اس کی پکڑ بہت ہی الم ناک اور سخت ہے۔ (صحیح بخاری)۔

📖 القرآن الکریم

(آیت32){وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ …:” عِقَابِ “} اصل میں {”عِقَابِيْ“} تھا۔ آیات کی موافقت کے لیے یاء حذف کر کے کسرہ رہنے دیا گیا۔ {”أَمْلَيْتُ“} باب افعال (ناقص واوی) بمعنی مہلت دینا، اس سے مقصود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے کہ آپ ان کافروں کے ٹھٹھا مذاق کرنے اور ناجائز اور ناممکن مطالبات کرنے سے بد دل نہ ہوں، پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ نوح علیہ السلام کشتی بنا رہے تھے تو ہر گزرنے والا ان سے ٹھٹھا کرتا۔ [ ہود: ۳۸ ] شعیب علیہ السلام سے ان کی قوم نے کہا: ”ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو۔“ [ الشعراء: ۱۸۷ ] ہود علیہ السلام کی قوم نے کہا: ”ہم یقینا تجھے بے وقوفی میں مبتلا دیکھ رہے ہیں۔“ [ الأعراف: ۶۶ ] فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کو {” مُهِيْنٌ “} (حقیر) کہا اور زبان کی لکنت کا طعنہ دیا۔ [ الزخرف: ۵۲ ] فرمایا، اس کے باوجود میں نے کفار کو مہلت دی، تاکہ ان کا عذر ختم ہو جائے، پھر میں نے انھیں پکڑ لیا تو آپ بھی ان کی حرکتوں سے دل گرفتہ نہ ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ لَيُمْلِيْ لِلظَّالِمِ حَتّٰی إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ ] ”اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے، یہاں تک کہ جب اسے پکڑتا ہے تو اسے چھوڑتا نہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «{ وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِيَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ }» [ ھود: ۱۰۲ ] ”اور تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، جب وہ بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کرنے والی ہوتی ہیں، بے شک اس کی پکڑ بڑی دردناک، بہت سخت ہے۔“ [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «و کذٰلک أخذ ربک إذا أخذ القریٰ…» ‏‏‏‏: ۴۶۸۶، عن أبي موسٰی رضی اللہ عنہ۔ مسلم: ۲۵۸۳ ]
← پچھلی آیت (31) پوری سورۃ اگلی آیت (33) →