بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الرعد — Surah Rad
آیت نمبر 33
کل آیات: 43
قرآن کریم الرعد آیت 33
آیت نمبر: 33 — سورۃ الرعد islamicurdubooks.com ↗
اَفَمَنۡ ہُوَ قَآئِمٌ عَلٰی کُلِّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ ۚ وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ ؕ قُلۡ سَمُّوۡہُمۡ ؕ اَمۡ تُنَبِّـُٔوۡنَہٗ بِمَا لَا یَعۡلَمُ فِی الۡاَرۡضِ اَمۡ بِظَاہِرٍ مِّنَ الۡقَوۡلِ ؕ بَلۡ زُیِّنَ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مَکۡرُہُمۡ وَ صُدُّوۡا عَنِ السَّبِیۡلِ ؕ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ ﴿۳۳﴾
پھر کیا وہ جو ایک ایک متنفس کی کمائی پر نظر رکھتا ہے (اُس کے مقابلے میں یہ جسارتیں کی جا رہی ہیں کہ) لوگوں نے اُس کے کچھ شریک ٹھیرا رکھے ہیں؟ اے نبیؐ، اِن سے کہو (اگر واقعی وہ خدا کے اپنے بنائے ہوئے شریک ہیں تو) ذرا اُن کے نا م لو کہ وہ کون ہیں؟ کیا تم اللہ کو ایک نئی بات کی خبر دے رہے ہو جسے وہ اپنی زمین میں نہیں جانتا؟ یا تم لوگ بس یونہی جو منہ میں آتا ہے کہہ ڈالتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کیا ہے ان کے لیے اُن کی مکاریاں خوشنما بنا دی گئی ہیں اور وہ راہ راست سے روک دیے گئے ہیں، پھر جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے اُسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے
آیا وه اللہ جو نگہبانی کرنے واﻻ ہے ہر شخص کی، اس کے کئے ہوئے اعمال پر، ان لوگوں نے اللہ کے شریک ٹھہرائے ہیں کہہ دیجئے ذرا ان کے نام تو لو، کیا تم اللہ کو وه باتیں بتاتے ہو جو وه زمین میں جانتا ہی نہیں، یا صرف اوپری اوپری باتیں بتا رہے ہو، بات اصل یہ ہے کہ کفر کرنے والوں کے لئے ان کے مکر سجا دیئے گئے ہیں، اور وه صحیح راه سے روک دیئے گئے ہیں، اور جس کو اللہ گمراه کر دے اس کو راه دکھانے واﻻ کوئی نہیں
تو کیا وہ ہر جان پر اس کے اعمال کی نگہداشت رکھتا ہے اور وہ اللہ کے شریک ٹھہراتے ہیں، تم فرماؤ ان کا نام تو لو یا اسے وہ بتاتے ہو جو اس کے علم میں ساری زمین میں نہیں یا یوں ہی اوپری بات بلکہ کافروں کی نگاہ میں ان کا فریب اچھا ٹھہرا ہے اور راہ سے روکے گئے اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں،
کیا وہ ذات جو ہر نفس کے (نیک و بد) اعمال پر نگران ہے کہ اس نے کیا کمایا ہے؟ (وہ ان کے خود ساختہ معبودوں جیسا ہے؟) ان لوگوں نے اللہ کے کچھ شریک بنا لئے ہیں؟ اے رسول ان سے کہو کہ آخر ان کے نام تو بتاؤ یا تم اس (اللہ) کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جسے وہ (ہمہ دان ہو کر بھی) زمین میں نہیں جانتا کہ کہاں ہے؟ یا یونہی یہ ظاہری الفاظ ہیں (جن کا کوئی مصداق نہیں ہے) بلکہ کافروں کے لئے ان کا مکر و فریب خوشنما بنا دیا گیا ہے اور وہ راہ (راست) سے روک دیئے گئے ہیں اور جسے اللہ گمراہی میں چھوڑ دے (اور اسے ہدایت نہ دے) تو اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے۔
تو کیا وہ جو ہر جان پر اس کا نگران ہے جو اس نے کمایا (کوئی دوسرا اس کے برابر ہوسکتا ہے؟) اور انھوں نے اللہ کے کچھ شریک بنا لیے۔ کہہ دے ان کے نام لو، یا کیا تم اسے اس چیز کی خبر دیتے ہو جسے وہ زمین میں نہیں جانتا، یا ظاہری بات سے (کہہ رہے ہو؟) بلکہ ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، ان کا مکر خوش نما بنا دیا گیا اور وہ سیدھے راستے سے روک دیے گئے اور جسے اللہ گمراہ کر دے پھر اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

عالم خیر و شر ٭٭

اللہ تعالیٰ ہر انسان کے اعمال کا محافظ ہے ہر ایک کے اعمال کو جانتا ہے، ہر نفس پر نگہبان ہے، ہر عامل کے خیر و شر کے علم سے باخبر ہے۔ کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں، کوئی کام اس کی بے خبری میں نہیں ہوتا۔ ہر حالت کا اسے علم ہے ہر عمل پر وہ موجود ہے «وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا» ۱؎ [6-الأنعام:59] ‏‏‏‏ ’ ہر پتے کے جھڑنے کا اسے علم ہے ‘۔ «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [11-ھود:6] ‏‏‏‏ ’ ہر جاندار کی روزی اللہ کے ذمے ہے ہر ایک کے ٹھکانے کا اسے علم ہے ہر بات اس کی کتاب میں لکھی ہوئی ہے ‘، «يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى» ۱؎ [20-طه:7] ‏‏‏‏ ’ ظاہر وباطن ہر بات کو وہ جانتا ہے ‘ «وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِن قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ» ۱؎ [10-یونس:61] ‏‏‏‏ ’ تم جہاں ہو وہاں اللہ تمہارے ساتھ ہے تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے ان صفتوں والا اللہ کیا تمہارے ان جھوٹے معبودوں جیسا ہے؟ جو نہ سنیں، نہ دیکھیں، نہ اپنے لیے کسی چیز کے مالک، نہ کسی اور کے نفع نقصان کا انہیں اختیار ‘۔ اس جواب کو حذف کر دیا کیونکہ دلالت کلام موجود ہے۔ اور وہ فرمان الٰہی «وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظَاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مَكْرُهُمْ وَصُدُّوا عَنِ السَّبِيلِ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ» ۱؎ [13-الرعد:33] ‏‏‏‏ ہے، ’ انہوں نے اللہ کے ساتھ اوروں کو شریک ٹھہرایا اور ان کی عبادت کرنے لگے تم ذرا ان کے نام تو بتاؤ ان کے حالات تو بیان کرو تاکہ دنیا جان لے کہ وہ محض بے حقیقت ہیں کیا تم زمین کی جن چیزوں کی خبر اللہ کو دے رہے ہو جنہیں وہ نہیں جانتا یعنی جن کا وجود ہی نہیں ‘۔

اس لیے کہ اگر وجود ہوتا تو علم الٰہی سے باہر نہ ہوتا کیونکہ اس پر کوئی مخفی سے مخفی چیز بھی حقیقتاً مخفی نہیں یا صرف اٹکل پچو باتیں بنا رہے ہو؟ «إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّـهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ وَلَقَدْ جَاءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَىٰ» ۱؎ [53-النجم:23] ‏‏‏‏ ’ فضول گپ مار رہے ہو تم نے آپ ان کے نام گھڑ لیے، تم نے ہی انہیں نفع نقصان کا مالک قرار دیا اور تم نے ہی ان کی پوجا پاٹ شروع کر دی۔ یہی تمہارے بڑے کرتے رہے ‘۔ نہ تو تمہارے ہاتھ میں کوئی ربانی دلیل ہے نہ اور کوئی ٹھوس دلیل یہ تو صرف وہم پرستی اور خواہش پروری ہے۔ ہدایت اللہ کی طرف سے نازل ہو چکی ہے۔ کفار کا مکر انہیں بھلے رنگ میں دکھائی دے رہا ہے وہ اپنے کفر پر اور اپنے شرک پر ہی ناز کر رہے ہیں دن رات اسی میں مشغول ہیں اور اسی کی طرف اوروں کو بلا رہے ہیں۔ جیسے فرمایا «وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَاءَ فَزَيَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِيْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِيْنَ» ۱؎ [41۔ فصلت:25] ‏‏‏‏، ’ ان کے شیطانوں نے ان کی بےڈھنگیاں ان کے سامنے دلکش بنا دی ہیں یہ راہ اللہ سے طریقہ ہدی سے روک دیئے گئے ہیں ‘۔ «وَصُدُّوا» ایک قرأت اس کی «وَصَدُّوْا» بھی ہے یعنی انہوں نے اسے اچھا جان کر پھر اوروں کو اس میں پھانسنا شروع کر دیا اور راہ رسول سے لوگوں کو روکنے لگے رب کے گمراہ کئے ہوئے لوگوں کو کون راہ دکھا سکے؟ جیسے فرمایا «وَمَن يُرِدِ اللَّـهُ فِتْنَتَهُ فَلَن تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّـهِ شَيْئًا» ۱؎ [5-المائدہ:41] ‏‏‏‏ ’ جسے اللہ فتنے میں ڈالنا چاہے تو اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ بھی تو اختیار نہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «إِن تَحْرِصْ عَلَىٰ هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي مَن يُضِلُّ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ» ۱؎ [16-النحل:37] ‏‏‏‏ ’ گو تو ان کی ہدایت کا لالچی ہو لیکن اللہ ان گمراہوں کو راہ دکھانا نہیں چاہتا پھر کون ہے جو ان کی مدد کرے ‘۔

📖 احسن البیان

33۔ 1 یہاں اس کا جواب محذوف ہے یعنی کیا رب العزت اور وہ معبودان باطل برابر ہوسکتے ہیں جن کی عبادت کرتے ہیں، جو کسی کو نفع پہنچانے پر، نہ دیکھتے ہیں اور نہ عقل وشعور سے بہرہ ور ہیں۔ 33۔ 2 یعنی ہمیں بھی تو بتاؤ تاکہ انھیں پہچان سکیں اس لئے کہ ان کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہے۔ اس لئے آگے فرمایا، کیا تم اللہ کو وہ باتیں بتاتے ہو جو وہ زمین میں جانتا ہی نہیں، یعنی ان کا وجود ہی نہیں۔ اس لئے کہ اگر زمین میں ان کا وجود ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے علم میں ضرور ہوتا، اس پر تو کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ 33۔ 3 یہاں ظاہر ظن کے معنی میں ہے یعنی یا یہ صرف ان کی ظنی باتیں ہیں، مطلب یہ ہے کہ تم ان بتوں کی عبادت اس گمان پر کرتے ہو کہ یہ نفع نقصان پہنچا سکتے ہیں اور تم ان کے نام بھی معبود رکھے ہوئے ہیں، حالانکہ، یہ تمہارے اور تمہارے باپوں کے رکھے ہوئے نام ہیں، جن کی کوئی دلیل اللہ نے نہیں اتاری۔ یہ صرف گمان اور خواہش نفس کی پیروی کرتے ہیں (النجم۔ 23) 33۔ 4 مکر سے مراد، ان کے وہ غلط عقائد و اعمال ہیں جن میں شیطان نے ان کو پھنسا رکھا ہے، شیطان نے گمراہیوں پر بھی حسین غلاف چڑھا رکھے ہیں۔ 33۔ 5 جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا، (وَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَـيْـــــًٔـا) 5۔ المائدہ:41)۔ جس کو اللہ گمراہ کرنے کا ارادہ کرلے تو اللہ اس کے لئے کچھ اختیار نہیں رکھتا، اور فرمایا۔ (اِنْ تَحْرِصْ عَلٰي هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ يُّضِلُّ وَمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ) 16۔ النحل:37)۔ اگر تم ان کی ہدایت کی خواہش رکھتے ہو تو (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ اسے ہدایت نہیں دیتا جسے وہ گمراہ کرتا ہے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت33) ➊ {اَفَمَنْ هُوَ قَآىِٕمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ:} یہاں پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے ثبوت اور شرک کے رد کا بیان فرمایا ہے۔ {” قَآىِٕمٌ “} سے مراد یہاں نگران اور محافظ ہے۔ {” اَفَمَنْ هُوَ قَآىِٕمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ “} مبتدا ہے، اس کی خبر محذوف ہے اور وہ ہے {” كَمَنْ لَيْسَ كَذٰلِكَ “} اور یہ حذف شدہ خبر کلام کے پہلے اور پچھلے حصے سے خود بخود سمجھ میں آ رہی ہے۔ یعنی کیا وہ معبود برحق جو ہر جان کا ہر لمحہ اور ہر حالت کا نگران اور محافظ ہے اور اس کے ہر عمل سے، نیک ہو یا بد، پوری طرح واقف ہے، وہ تمھارے ان جھوٹے معبودوں کی طرح ہے جو سرے سے اس وصف سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس وصف کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۵۹)، ہود (۶) اور آیت الکرسی وغیرہ۔ ➋ {وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ قُلْ سَمُّوْهُمْ:} اس سے پہلے جملے میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ضمیر{ ” هُوَ “} کے ساتھ تھا، یہاں ضمیر کے بجائے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ان کے شرک کی قباحت ظاہر کی کہ کتنے ظالم ہیں کہ انھوں نے{ ”الله“ } کے شریک بنا لیے، جس کا کوئی شریک ہو ہی نہیں سکتا۔ فرمایا ان شریک بنانے والوں سے کہو ذرا ان شریکوں کے نام تو بتاؤ، انھیں سامنے تو لاؤ۔ اگر تم بالفرض نام لے بھی دو، تو ایسی ہستیوں کا نام لو گے جو محض خیالی ہیں، حقیقت میں ان کا کوئی وجود ہی نہیں، وہ خود اپنے وجود اور بقا میں دوسروں کی محتاج ہیں، نہ اپنے نفع نقصان کا اختیار رکھتی ہیں نہ کسی دوسرے کا، ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتیں۔ پھر ان کا نام اللہ کے شریک کے طور پر لینا کس قدر نادانی اور جہالت کی بات ہے۔ ➌ { اَمْ تُنَبِّـُٔوْنَهٗ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْاَرْضِ:} یا تم اسے اس چیز کی خبر دیتے ہو جسے وہ زمین میں نہیں جانتا، حالانکہ اسے زمین کے چپے چپے کی خبر ہے، تو اگر ان شرکاء کا کہیں وجود ہوتا تو وہ انھیں ضرور جانتا۔ اس تفسیر کی رو سے{ ” لَا يَعْلَمُ “ } میں{ ”هُوَ“ } کی ضمیر اللہ تعالیٰ کے لیے ہو گی اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ {” لَا يَعْلَمُ “} میں ضمیر {” مَا“} کے لیے ہو اور مطلب یہ ہو کہ کیا اللہ تعالیٰ کو ان بے جان بتوں کے معبود ہونے کی خبر دیتے ہو جن کو ذرا بھی علم نہیں ہے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں، اس سے مقصود تو زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبودوں کی نفی کرنا ہے، لہٰذا {” فِي الْاَرْضِ “} کی قید محض اس لیے لگائی ہے کہ کفار یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ کے یہ شریک زمین میں ہیں۔ (روح، ابن کثیر) ➍ {اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ:} یا ظاہری بات ہے، جو تم صرف منہ سے کہہ رہے ہو، دل سے تمھیں بھی یقین نہیں کہ کوئی اللہ کا شریک ہے، کیونکہ اگر غور وفکر کرو تو انسانی فطرت بھی اللہ کا کوئی شریک ہونا تسلیم نہیں کرتی۔ ➎ { بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ:} مکر سے مراد کفر اور اس کے لیے باطل دلیلیں گھڑنا اور لوگوں کو دھوکا دے کر مشرک بنانا ہے۔ ”خوش نما بنا دیا گیا“ خوش نما بنانے والی کئی چیزیں ہیں، اس لیے فعل مجہول استعمال کیا گیا، مثلاً: 1 ان کے اعمالِ بد کی نحوست 2 نفسانی خواہشات 3 شیطان 4 ان کے فسق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے دلوں پر لگنے والی مہر، غرض بہت سی چیزیں ان کے کفر کو خوش نما بنانے کا باعث بنیں۔ ➏ {وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِيْلِ …: ” مِنْ هَادٍ “} یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی قسمت میں ہدایت نہیں لکھی۔ اب ایسے لوگ سیدھی راہ پر کیسے آ سکتے ہیں۔
← پچھلی آیت (32) پوری سورۃ اگلی آیت (34) →