بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الرعد — Surah Rad
آیت نمبر 43
کل آیات: 43
قرآن کریم الرعد آیت 43
آیت نمبر: 43 — سورۃ الرعد islamicurdubooks.com ↗
وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَسۡتَ مُرۡسَلًا ؕ قُلۡ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًۢا بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ۙ وَ مَنۡ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ الۡکِتٰبِ ﴿٪۴۳﴾
یہ منکرین کہتے ہیں کہ تم خدا کے بھیجے ہوئے نہیں ہو کہو "میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے اور پھر ہر اُس شخص کی گواہی جو کتاب آسمانی کا علم رکھتا ہے"
یہ کافر کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول نہیں۔ آپ جواب دیجئے کہ مجھ میں اور تم میں اللہ گواہی دینے واﻻ کافی ہے اور وه جس کے پاس کتاب کا علم ہے
اور کافر کہتے ہی تم رسول نہیں، تم فرماؤ اللہ گواہ کافی ہے مجھ میں اور تم میں اور وہ جسے کتاب کا علم ہے
اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ آپ رسول نہیں ہیں کہہ دیجیے کہ میرے اور تمہارے درمیان بطور گواہ اللہ کافی ہے اور وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔
اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا،کہتے ہیں تو کسی طرح رسول نہیں ہے۔ کہہ دے میرے درمیان اور تمھارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے اور وہ شخص بھی جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

رسالت کے منکر ٭٭

’ کافر تجھے جھٹلا رہے ہیں۔ تیری رسالت کے منکر ہیں۔ تو غم نہ کر کہہ دیا کر کہ اللہ کی شہادت کافی ہے۔ تیری نبوت کا وہ خود گواہ ہے، میری تبلیغ پر، تمہاری تکذیب پر، وہ شاہد ہے۔ میری سچائی، تمہاری تکذیب کو وہ دیکھ رہا ہے ‘۔ علم کتاب جس کے پاس ہے اس سے مراد عبداللہ بن سلام ہیں رضی اللہ عنہ۔ یہ قول مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے لیکن بہت غریب قول ہے اس لیے کہ یہ آیت مکہ شریف میں اتری ہے اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تو ہجرت کے بعد مدینے میں مسلمان ہوئے ہیں۔ اس سے زیادہ ظاہر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”یہود و نصاری کے حق گو عالم مراد ہیں ہاں ان میں عبداللہ بن سلام بھی ہیں، سلمان اور تمیم داری وغیرہ رضی اللہ عنہم بھی۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ سے ایک روایت میں مروی ہے کہ اس سے مراد بھی خود اللہ تعالیٰ ہے۔ سعید رحمہ اللہ اس سے انکاری تھے کہ اس سے مراد عبداللہ بن سلام لیے جائیں کیونکہ یہ آیت مکیہ ہے اور آیت کو «مِنْ عِنْدِ اللَّهِ» پڑھتے تھے۔ یہی قرأت مجاہد اور حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے بھی مروی ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی قرأت ہے لیکن وہ حدیث ثابت نہیں۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:5574:ضعیف] ‏‏‏‏ صحیح بات یہی ہے کہ یہ اسم جنس ہے ہر وہ عالم جو اگلی کتاب کا علم ہے اس میں داخل ہے ان کی کتابوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت موجود تھی۔ ان کے نبیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت پیش گوئی کر دی تھی۔ جیسے فرمان رب ذی شان ہے «وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُم بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ» ۱؎ [7-الأعراف:156-157] ‏‏‏‏ یعنی ’ میری رحمت نے تمام چیزوں کو گھیر رکھا ہے میں اسے ان لوگوں کے نام لکھ دوں گا جو متقی ہیں، زکوٰۃ کے ادا کرنے والے ہیں، ہماری آیتوں پر ایمان رکھنے والے ہیں، رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے ہیں، جس کا ذکر اپنی کتاب تورات وانجیل میں موجود پاتے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «أَوَلَمْ يَكُن لَّهُمْ آيَةً أَن يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ» ۱؎ [26-الشعراء:197] ‏‏‏‏ ’ کیا یہ بات بھی ان کے لیے کافی نہیں کہ اس کے حق ہونے کا علم علماء بنی اسرائیل کو بھی ہے ‘۔

ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے کہ { عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے علمائے یہود سے کہا کہ میرا ارادہ ہے کہ اپنے باپ ابراہیم و اسماعیل علیہم السلام کی مسجد میں جا کر عید منائیں، مکے پہنچے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہیں تھے، یہ لوگ جب حج سے لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں تشریف فرما تھے اور لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ یہ بھی مع اپنے ساتھیوں کے کھڑے ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھ کر پوچھا کہ آپ ہی عبداللہ بن سلام ہیں، کہا ہاں فرمایا: { قریب آؤ } جب قریب گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میرا ذکر تورات میں نہیں پاتے؟“، انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے اوصاف میرے سامنے بیان فرمائیے۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو گئے اور حکم دیا کہ کہو آیت «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ اللَّـهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ» ۱؎ [112-الإخلاص:4-1] ‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری سورت پڑھ سنائی۔ ابن سلام نے اسی وقت کلمہ پڑھ لیا، مسلمان ہو گئے، مدینے واپس چلے آئے لیکن اپنے اسلام کو چھپائے رہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینے پہنچے اس وقت آپ کھجور کے ایک درخت پر چڑھے ہوئے کھجوریں اتار رہے تھے جو آپ کو خبر پہنچی اسی وقت درخت سے کود پڑے۔ ماں کہنے لگیں کہ اگر موسیٰ علیہ السلام بھی آ جاتے تو تم درخت سے نہ کودتے۔ کیا بات ہے؟ جواب دیا کہ اماں جی موسیٰ علیہ السلام کی نبوت سے بھی زیادہ خوشی مجھے ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی یہاں تشریف آوری سے ہوئی ہے }۔ ۱؎ [ابو نعیم فی الدلائل:246:ضعیف و باطل] ‏‏‏‏ اس میں انقطاع ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۂ رعد کی تفسیر ختم ہوئی۔

📖 احسن البیان

43۔ 1 پس وہ جانتا ہے کہ میں اس کا سچا رسول اور اس کے پیغام کا داعی ہوں اور تم جھوٹے ہو۔ 43۔ 2 کتاب سے مراد جنس کتاب ہے اور مراد تورات اور انجیل کا علم ہے۔ یعنی اہل کتاب میں سے وہ لوگ جو مسلمان ہوگئے ہیں، جیسے عبد اللہ بن اسلام، سلمان فارسی اور تمیم داری وغیرہم ؓ یعنی یہ بھی جانتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ عرب کے مشرکین اہم معاملات میں اہل کتاب کی طرف رجوع کرتے اور ان سے پوچھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی رہنمائی فرمائی کہ اہل کتاب جانتے ہیں، ان سے تم پوچھ لو۔ بعض کہتے ہیں کہ کتاب سے مراد قرآن ہے اور حاملین علم کتاب، مسلمان ہیں۔ اور بعض نے کتاب سے مراد لوح محفوظ لی ہے۔ یعنی جس کے پاس لوح محفوظ کا علم ہے یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ، مگر پہلا مفہوم زیادہ درست ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت43) ➊ {لَسْتَ مُرْسَلًا:مُرْسَلًا “} کی تنوین کی وجہ سے ترجمہ ”کسی طرح رسول“ کیا گیا ہے۔ ➋ { وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ:} یعنی یہود و نصاریٰ کے علماء جیسے عبد اللہ بن سلام، سلمان فارسی، تمیم داری رضی اللہ عنھم اور ان میں سے دوسرے ایمان لانے والے۔ اہل کتاب کے علماء کی طرف رجوع کا حکم اس لیے دیا کہ مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں عموماً انھی کی طرف رجوع کرتے تھے اور ان کے علماء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور آپ کے متعلق بشارتوں سے آپ کے سچا رسول ہونے کو خوب سمجھتے تھے، جیسے فرمایا: «{ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ }» [ البقرۃ: ۱۴۶] ”وہ آپ کو پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔“ مزید دیکھیے سورۂ اعراف (۱۵۷) اور شعراء (۱۹۷)۔
← پچھلی آیت (42) پوری سورۃ اگلی آیت →