بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الرعد — Surah Rad
آیت نمبر 25
کل آیات: 43
قرآن کریم الرعد آیت 25
آیت نمبر: 25 — سورۃ الرعد islamicurdubooks.com ↗
وَ الَّذِیۡنَ یَنۡقُضُوۡنَ عَہۡدَ اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مِیۡثَاقِہٖ وَ یَقۡطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَ یُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ۙ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ اللَّعۡنَۃُ وَ لَہُمۡ سُوۡٓءُ الدَّارِ ﴿۲۵﴾
رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں، جو اُن رابطوں کو کاٹتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، اور جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، وہ لعنت کے مستحق ہیں اور ان کے لیے آخرت میں بہت برا ٹھکانا ہے
اور جو اللہ کے عہد کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن چیزوں کےجوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے انہیں توڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ان کے لئے لعنتیں ہیں اور ان کے لئے برا گھر ہے
اور وہ جو اللہ کا عہد اس کے پکے ہونے کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور اُن کا نصیبہ بُرا گھر
اور جو لوگ اللہ کے عہد و پیمان کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑتے ہیں اور جن رشتوں کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو توڑتے ہیں اور جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں یہ وہ ہیں جن کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے برا گھر (جہنم) ہے۔
اور وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو اسے پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور اس چیز کو کاٹ دیتے ہیں جس کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے کہ اسے ملایا جائے اور زمین میں فساد کرتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے لعنت ہے اور انھی کے لیے اس گھر کی خرابی ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مومنین کی صفات ٭٭

مومنوں کی صفتیں اوپر بیان ہوئیں کہ ’ وہ وعدے کے پورے، رشتوں ناتوں کے ملانے والے ہوتے ہیں ‘۔ پھر ان کا اجر بیان ہوا کہ ’ وہ جنتوں کے مالک بینں گے ‘۔ اب یہاں ان بدنصیبوں کا ذکر ہو رہا ہے جو ان کے خلاف خصائل رکھتے تھے نہ اللہ کے وعدوں کا لحاظ کرتے تھے نہ صلہ رحمی اور احکام الٰہی کی پابندی کا خیال رکھتے تھے یہ لعنتی گروہ ہے اور برے انجام والا ہے۔ حدیث میں ہے { منافق کی تین نشانیاں ہیں باتوں میں جھوٹ بولنا، وعدوں کا خلاف کرنا، امانت میں خیانت کرنا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33] ‏‏‏‏ ایک حدیث میں ہے { جھگڑوں میں گالیاں بکنا } ۱؎ [صحیح بخاری:34] ‏‏‏‏ اس قسم کے لوگ رحمت الٰہی سے دور ہیں ان کا انجام برا ہے یہ جہنمی گروہ ہے۔ یہ چھ خصلتیں ہوئیں جو منافقین سے اپنے غلبہ کے وقت ظاہر ہوتی ہیں باتوں میں جھوٹ، وعدہ خلافی، امانت میں خیانت، اللہ کے عہد کو توڑ دینا اللہ کے ملانے کے حکم کی چیزوں کو نہ ملانا۔ ملک میں فساد پھیلانا، اور یہ دبے ہوئے ہوتے ہیں تب بھی جھوٹ وعدہ خلافی اور خیانت کرتے ہیں۔

📖 احسن البیان

25۔ 1 یہ نیکوں کے ساتھ بروں کا حشر بیان فرما دیا تاکہ انسان اس حشر سے بچنے کی کوشش کرے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت25){وَ الَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ …:} قرآن مجید نے اپنے اسلوب کے مطابق کہ وہ ایمان کے ساتھ کفر، نیکی کے ساتھ بدی، جنت کے ساتھ جہنم کا ذکر کرتا ہے، عہد وفا کرنے والوں کی صفات اور ان کے اچھے انجام کے بعد عہد توڑنے والوں کی صفات بد اور ان کا برا انجام ذکر فرمایا ہے۔
← پچھلی آیت (24) پوری سورۃ اگلی آیت (26) →