بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الرعد — Surah Rad
آیت نمبر 13
کل آیات: 43
قرآن کریم الرعد آیت 13
آیت نمبر: 13 — سورۃ الرعد islamicurdubooks.com ↗
وَ یُسَبِّحُ الرَّعۡدُ بِحَمۡدِہٖ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ مِنۡ خِیۡفَتِہٖ ۚ وَ یُرۡسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیۡبُ بِہَا مَنۡ یَّشَآءُ وَ ہُمۡ یُجَادِلُوۡنَ فِی اللّٰہِ ۚ وَ ہُوَ شَدِیۡدُ الۡمِحَالِ ﴿ؕ۱۳﴾
بادلوں کی گرج اس کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتی ہے اور فرشتے اس کی ہیبت سے لرزتے ہوئے اُس کی تسبیح کرتے ہیں وہ کڑکتی ہوئی بجلیوں کو بھیجتا ہے اور (بسا اوقات) اُنہیں جس پر چاہتا ہے عین اس حالت میں گرا دیتا ہے جبکہ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑ رہے ہوتے ہیں فی الواقع اس کی چال بڑی زبردست ہے
گرج اس کی تسبیح وتعریف کرتی ہے اور فرشتے بھی، اس کے خوف سے۔ وہی آسمان سے بجلیاں گراتا ہے اور جس پر چاہتا ہے اس پر ڈالتا ہے کفار اللہ کی بابت لڑ جھگڑ رہے ہیں اور اللہ سخت قوت والا ہے
اور گر ج اسے سراہتی ہوئی اس کی پاکی بولتی ہے اور فرشتے اس کے ڈر سے اور کڑک بھیجتا ہے تو اسے ڈالتا ہے جس پر چاہے اور وہ اللہ میں جھگڑتے ہوتے ہیں اور اس کی پکڑ سخت ہے،
بادل کی گرج اور فرشتے بھی اس کے خوف سے اس کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ آسمانی بجلیاں گراتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان کی زد میں لاتا ہے درآنحالیکہ وہ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑ رہے ہوتے ہیں جبکہ وہ بڑا زبردست قوت والا ہے۔
اور (بادل کی) گرج اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف سے۔ اور وہ کڑکنے والی بجلیاں بھیجتا ہے، پھر انھیں ڈال دیتا ہے جس پر چاہتا ہے، جب کہ وہ اللہ کے بارے میں جھگڑ رہے ہوتے ہیں اور وہ بہت سخت قوت والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بجلی کر گرج ٭٭

بجلی بھی اس کے حکم میں ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک سائل کے جواب میں کہا تھا کہ برق پانی ہے۔ مسافر اسے دیکھ کر اپنی ایذاء اور مشقت کے خوف سے گھبراتا ہے اور مقیم برکت ونفع کی امید پر رزق کی زیادتی کا لالچ کرتا ہے، وہی بوجھل بادلوں کو پیدا کرتا ہے جو بوجہ پانی کے بوجھ کے زمین کے قریب آ جاتے ہیں۔ پس ان میں بوجھ پانی کا ہوتا ہے۔ پھر فرمایا کہ کڑک بھی اس کی تسبیح و تعریف کرتی ہے۔ ایک اور جگہ ہے کہ «وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ» ۱؎ [17-الإسراء:44] ‏‏‏‏ ’ ہر چیز اللہ کی تسبیح وحمد کرتی ہے ‘۔ ایک حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ بادل پیدا کرتا ہے جو اچھی طرح بولتے ہیں اور ہنستے ہیں }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1665:صحیح] ‏‏‏‏ ممکن ہے بولنے سے مراد گرجنا اور ہنسنے سے مراد بجلی کا ظاہر ہونا ہے۔ سعد بن ابراہیم کہتے ہیں اللہ تعالیٰ بارش بھیجتا ہے اس سے اچھی بولی اور اس سے اچھی ہنسی والا کوئی اور نہیں۔ اس کی ہنسی بجلی ہے اور اس کی گفتگو گرج ہے۔ محمد بن مسلم کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ برق ایک فرشتہ ہے جس کے چار منہ ہیں ایک انسان جیسا ایک بیل جیسا ایک گدھے جیسا، ایک شیر جیسا، وہ جب دم ہلاتا ہے تو بجلی ظاہر ہوتی ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گرج کڑک کو سن کر یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ لَا تَقْتُلنَا بِغَضَبِك وَلَا تُهْلِكنَا بِعَذَابِك وَعَافِنَا قَبْل ذَلِكَ» }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3450،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں یہ دعا ہے «سُبْحَان مَنْ يُسَبِّح الرَّعْد بِحَمْدِهِ» ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ گرج سن کر پڑھتے «سُبْحَان مَنْ سَبَّحْت لَهُ» ابن ابی زکریا فرماتے ہیں جو شخص گرج کڑک سن کر کہے دعا «سُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ» اس پر بجلی نہیں گرے گی۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ گرج کڑک کی آواز سن کر باتیں چھوڑ دیتے اور فرماتے «سُبْحَان الَّذِي يُسَبِّح الرَّعْد بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَة مِنْ خِيفَته» اور فرماتے کہ اس آیت میں اور اس آواز میں زمین والوں کے لیے بہت تنزیر و عبرت ہے۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { تمہارا رب العزت فرماتا ہے ’ اگر میرے بندے میری پوری اطاعت کرتے تو راتوں کو بارشیں برساتا اور دن کو سورج چڑھاتا اور انہیں گرج کی آواز تک نہ سناتا ‘ }۔ ۱؎ [مسند احمد:359/2:ضعیف] ‏‏‏‏

طبرانی میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { گرج سن کر اللہ کا ذکر کرو۔ کیونکہ ذکر کرنے والوں پر کڑا کا نہیں گرتا } }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11371:ضعیف] ‏‏‏‏ وہ بجلی بھیجتا ہے جس پر چاہے اس پر گراتا ہے۔ اسی لیے آخر زمانے میں بکثرت بجلیاں گریں گی۔ مسند کی حدیث میں ہے کہ { قیامت کے قریب بجلی بکثرت گرے گی یہاں تک کہ ایک شخص اپنی قوم سے آ کر پوچھے گا کہ صبح کس پر بجلی گری؟ وہ کہیں گے فلاں فلاں پر }۔ ۱؎ [مسند احمد:64/3:ضعیف] ‏‏‏‏ ابو یعلیٰ راوی ہیں { نبی کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک مغرور سردار کے بلانے کو بھیجا اس نے کہا کون رسول اللہ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم )؟ اللہ سونے کا ہے یا چاندی کا؟ یا پیتل کا؟ قاصد واپس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا کہ دیکھئیے میں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہی کہا تھا کہ وہ متکبر، مغرور شخص ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نہ بلوائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { دوبارہ جاؤ اور اس سے یہی کہو }، اس نے جا کر پھر بلایا لیکن اس ملعون نے یہی جواب اس مرتبہ بھی دیا۔ قاصد نے واپس آ کر پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ بھیجا اب کی مرتبہ بھی اس نے پیغام سن کر وہی جواب دینا شروع کیا کہ ایک بادل اس کے سر پر آگیا کڑکا اور اس میں سے بجلی گری اور اس کے سر سے کھوپڑی اڑا لی گئی۔ اس کے بعد یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:125/13:حسن] ‏‏‏‏

ایک روایت میں ہے کہ { ایک یہودی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ تانبے کا ہے یا موتی کا یا یاقوت کا ابھی اس کا سوال پورا نہ ہوا تھا جو بجلی گری اور وہ تباہ ہو گیا اور یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:20266/16:مرسل] ‏‏‏‏ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مذکور ہے کہ { ایک شخص نے قرآن کو جھٹلایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے انکار کیا اسی وقت آسمان سے بجلی گری اور وہ ہلاک ہو گیا اور یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:20271:حسن] ‏‏‏‏ اس آیت کے شان نزول میں عامر بن طفیل اور ازبد بن ربیعہ کا قصہ بھی بیان ہوتا ہے، یہ دونوں سرداران عرب مدینے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیں گے لیکن اس شرط پر کہ ہمیں آدھوں آدھ کا شریک کرلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے مایوس کر دیا تو عامر ملعون نے کہا واللہ میں سارے عرب کے میدان کو لشکروں سے بھر دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تو جھوٹا ہے، اللہ تجھے یہ وقت ہی نہیں دے گا }۔ پھر یہ دونوں مدینے میں ٹھہرے رہے کہ موقعہ پا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غفلت میں قتل کر دیں چنانچہ ایک دن انہیں موقع مل گیا ایک نے تو آپ کو سامنے سے باتوں میں لگا لیا دوسرا تلوار تو لے پیچھے سے آ گیا لیکن اس حافظ حقیقی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شرارت سے بچا لیا۔ اب یہاں سے نامراد ہو کر چلے اور اپنے جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے کے لیے عرب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابھارنے لگے اسی حال میں اربد پر آسمان سے بجلی گری اور اس کا کام تو تمام ہو گیا عامر طاعون کی گلٹی سے پکڑا گیا اور اسی میں بلک بلک کر جان دی اور اسی جیسوں کے بارے میں یہ آیت اتری کہ اللہ تعالیٰ جس پر چاہے بجلی گراتا ہے۔ اربد کے بھائی لیبد نے اپنے بھائی کے اس واقعہ کو اشعار میں خوب بیان کیا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ عامر نے کہا کہ اگر میں مسلمان ہو جاؤں تو مجھے کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو سب مسلمانوں کا حال وہی تیرا حال }۔ اس نے کہا پھر تو میں مسلمان نہیں ہوتا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امر کا والی میں بنوں تو میں دین قبول کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ امر خلافت نہ تیرے لیے ہے نہ تیری قوم کے لیے ہاں ہمارا لشکر تیری مدد پر ہوگا }۔ اس نے کہا اس کی مجھے ضرورت نہیں اب بھی نجدی لشکر میری پشت پناہی پر ہے مجھے تو کچے پکے کا مالک کر دیں تو میں دین اسلام قبول کرلوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں }۔ یہ دونوں آپ کے پاس سے چلے گئے۔ عامر کہنے لگا واللہ میں مدینے کو چاروں طرف لشکروں سے محصور کرلوں گا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تیرا یہ ارادہ پورا نہیں ہونے دے گا }۔ اب ان دونوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ایک تو صلی اللہ علیہ وسلم کو باتوں میں لگائے دوسرا تلوار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تمام کردے۔ پھر ان میں سے لڑے گا کون؟ زیادہ سے زیادہ دیت دے کر پیچھا چھٹ جائے گا۔ اب یہ دونوں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ عامر نے کہا ذرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر یہاں آئیے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، اس کے ساتھ چلے، ایک دیوار تلے وہ باتیں کرنے لگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر پشت کی جانب پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حالت دیکھی اور وہاں سے لوٹ کر چلے آئے۔ اب یہ دونوں مدینے سے چلے حرہ راقم میں آ کر ٹھرے لیکن سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر رضی اللہ عنہم وہاں پہنچے اور انہیں وہاں سے نکالا۔ راقم میں پہنچے ہی تھے جو اربد پر بجلی گری اس کا تو وہیں ڈھیر ہو گیا۔ عامر یہاں سے بھاگ چلا لیکن دریح میں پہنچا تھا جو اسے طاعون کی گلٹی نکلی۔ بنو سلول قبیلے کی ایک عورت کے ہاں یہ ٹھہرا۔ وہ کبھی کبھی اپنی گردن کی گلٹی کو دباتا اور تعجب سے کہتا یہ تو ایسی ہے جیسے اونٹ کی گلٹی ہوتی ہے، افسوس میں سلولیہ عورت کے گھر پر مروں گا۔ کیا اچھا ہوتا کہ میں اپنے گھر ہوتا۔ آخر اس سے نہ رہا گیا، گھوڑا منگوایا، سوار ہوا اور چل دیا لیکن راستے ہی میں ہلاک ہو گیا۔ پس ان کے بارے میں یہ آیتیں «اللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ سَوَاءٌ مِّنكُم مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَن جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِّن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ وَإِذَا أَرَادَ اللَّـهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَالٍ» ۱؎ [13-الرعد:8-11] ‏‏‏‏ نازل ہوئیں ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا ذکر بھی ہے پھر اربد پر بجلی گرنے کا ذکر ہے۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:10760:ضعیف] ‏‏‏‏ اور فرمایا ہے کہ ’ یہ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ اس کی عظمت وتوحید کو نہیں مانتے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے مخالفوں اور منکروں کو سخت سزا اور ناقابل برداشت عذاب کرنے والا ہے ‘۔ پس یہ آیت مثل آیت «وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَاهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ» ۱؎ [27-النمل:51،50] ‏‏‏‏ کے ہے یعنی ’ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح کہ انہیں معلوم نہ ہو سکا۔ اب تو خود دیکھ لے کہ ان کے مکر کا انجام کیا ہوا؟ ہم نے انہیں اور ان کی قوم کو غارت کر دیا۔ اللہ سخت پکڑ کرنے والا ہے۔ بہت قوی ہے، پوری قوت وطاقت والا ہے ‘۔

📖 احسن البیان

13۔ 1 جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّاُ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ) (بنی اسریئیل۔ 44) ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ 13۔ 2 یعنی اس کے ذریعے جس کو چاہتا ہے، ہلاک کر ڈالتا ہے۔ 13۔ 3 محال۔ کے معنی قوت مواخذہ اور تدبیر وغیرہ کے کیے گئے ہیں یعنی وہ بڑی قوت والا، نہایت مواخذہ کرنے والا اور تدبیر کرنے والا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت13) ➊ {وَ يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ …: ” الرَّعْدُ “} یعنی بادل کی گرج، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال قدرت، جلال اور عظمت کے بیان کے لیے بادل کی گرج، گرنے والی بجلیوں اور ان کی کڑک کا ذکر فرمایا۔ یہ اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر کمی اور ہر عیب سے پاک اور ہر کمال اور ہر خوبی کا مالک ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف کی وجہ سے تسبیح و تحمید کرتے ہیں، بلکہ کائنات کی ہر چیز کا یہی وظیفہ ہے، فرمایا: «{ وَ اِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ}» [ بنی إسرائیل: ۴۴ ] ”اور کوئی بھی چیز نہیں مگر اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور لیکن تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔“ قرآن مجید میں کئی چیزوں کا صاحب احساس ہونا اور بولنا مذکور ہے، جنھیں ہم بے زبان سمجھتے ہیں۔ سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں چیونٹی کی بات اور سلیمان علیہ السلام کا اسے سمجھنا، اسی طرح ہدہد سے ان کی گفتگو سورۂ نمل میں مذکور ہے۔ سورۂ بقرہ میں پتھروں کا اللہ کے خوف سے گرنا، پھٹ جانا اور ان سے پانی بہ نکلنا مذکور ہے۔ جہنم اور جنت کی گفتگو قرآن وحدیث میں آئی ہے اور اب تو سائنس نے نباتات میں شعور و احساس تجربے سے ثابت کیا ہے۔ کفار کے مرنے پر آسمان و زمین کا نہ رونا سورۂ دخان (۲۹) میں ہے۔ پرندوں اور پہاڑوں کا داؤد علیہ السلام کے ساتھ مل کر صبح و شام تسبیح کا ذکر کرنا سورۂ ص (۱۸، ۱۹) میں ہے۔ {” الرَّعْدُ “} کے متعلق چند احادیث معروف ہیں۔ ایک لمبی روایت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے، جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا: {” الرَّعْدُ “} فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے جو بادل پر مقرر ہے، اس کے ہاتھ میں آگ کا کوڑا ہے، جس کے ساتھ وہ بادل کو ہانکتا ہے اور جو آواز اس سے سنائی دیتی ہے وہ اس کے بادل کو ہانکنے کی آواز ہے، جب وہ اسے ہانکتا ہے یہاں تک کہ وہ اس جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں وہ اسے حکم دیتا ہے۔“ یہ حدیث ترمذی (۳۱۱۷)، مسند احمد (۱؍۲۷۴، ح: ۲۴۸۷) اور سنن کبریٰ للنسائی (۶؍۳۳۶، ح: ۹۰۷۲) وغیرہ میں ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے سلسلہ صحیحہ (۴؍۴۹۱، ح: ۱۸۷۲) میں ذکر فرمایا ہے اور لمبی بحث کے بعد فرمایا ہے کہ میرے نزدیک یہ حدیث کم از کم حسن ضرور ہے۔ البتہ مسند احمد کی تخریج میں شعیب ارنؤوط نے ابن عباس رضی اللہ عنھما کی اس لمبی حدیث کو حسن کہا ہے، مگر اس کے اس رعد والے حصے کو منکر کہا ہے۔ (واللہ اعلم) اگر کوئی کہے کہ سائنس تو اسے بادل کے ٹکڑوں کی رگڑ کا نتیجہ قرار دیتی ہے تو اسے کہیں کہ یہ بات حدیث کے خلاف نہیں، وہ رگڑ بھی تو کسی کے حکم سے بادلوں کے چلنے کے نتیجے ہی میں پیدا ہوتی ہے۔ کائنات کی کوئی بھی چیز خود بخود نہیں چل رہی۔ قبیلہ بنو غفار کے ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنْشِئُ السَّحَابَ فَيَنْطِقُ أَحْسَنَ النُّطْقِ وَيَضْحَكُ أَحْسَنَ الضَّحْكِ ] [ السلسلۃ الصحیحۃ: 409/2، ح: ۱۶۶۵ ] ”اللہ تعالیٰ بادل کو پیدا کرتا ہے تو وہ بولتا ہے، بہترین بولنا اور ہنستا ہے، بہترین ہنسنا۔“ شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیحہ میں اسے مسند احمد اور کئی کتب حدیث کے حوالے سے ذکر کرکے اس کی سند کو صحیح کہا اور شعیب ارنؤوط نے بھی مسند احمد (۳۹؍۹۱، ۹۲، ح: ۲۳۶۸۶) میں اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ گرج اور چمک بادل ہی کی گفتگو اور اسی کا ہنسنا ہے۔ رہی یہ بات کہ ”رعد“ فرشتے کی آواز ہے یا بادل کی گفتگو، تو حقیقت یہ ہے کہ دونوں باتیں ہی درست ہیں، ان میں کوئی تضاد نہیں۔ ➋ {وَ يُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ …:} مفردات راغب میں ہے کہ ”صاعقہ“ تین معنوں میں آتا ہے: (1) موت، جیسے: «{فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِي الْاَرْضِ }» [ الزمر: ۶۸ ] (2) عذاب، جیسے: «{ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ }» [ حٰمٓ السجدۃ: ۱۳ ] (3) آگ، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ يُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ }» ‏‏‏‏ [ الرعد: ۱۳ ] کیونکہ صاعقہ کا معنی فضا میں پیدا ہونے والی نہایت سخت آواز (بجلی کی کڑک) ہے، پھر اس کے نتیجے میں مذکورہ تین چیزوں میں سے کوئی بھی چیز واقع ہو سکتی ہے، گویا حقیقت میں صاعقہ ایک ہی چیز ہے، باقی اس کے اثرات ہیں۔ صاعقہ کے ساتھ نکلنے والی بجلی کی چمک نہایت تیز ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کڑکنے والی بجلیوں کو بھیجتا ہے، پھر جن پر چاہتا ہے بجلی گرا دیتا ہے، جبکہ وہ بے فکر ہو کر اللہ تعالیٰ کے متعلق جھگڑ رہے ہوتے ہیں۔ ➌ {وَ هُمْ يُجَادِلُوْنَ فِي اللّٰهِ:} یعنی اتنی نشانیاں دیکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑتے ہیں، کبھی اس کے کمال علم و قدرت اور اکیلے معبود ہونے کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ دوبارہ زندہ کیسے کرے گا اور کبھی اس کے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور کبھی اس کے عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں۔ ➍ { وَ هُوَ شَدِيْدُ الْمِحَالِ:} امام راغب نے {” الْمِحَالِ “} کا مادہ {” مَحْلٌ “} بتایا ہے اور {” شَدِيْدُ الْمِحَالِ “} کا معنی کیا ہے: {”شَدِيْدُ الْأَخْذِ بِالْعُقُوْبَةِ“ } یعنی وہ سزا دینے میں سخت گرفت والا ہے۔ امام راغب ہی نے بعض اہل علم کا قول لکھا ہے کہ اس کا مادہ {”حَوْلٌ“} ہے، بمعنی {” قُوَّةٌ “} یعنی وہ بہت سخت قوت والا ہے۔ اس صورت میں میم زائد ہے۔
← پچھلی آیت (12) پوری سورۃ اگلی آیت (14) →