بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الرعد — Surah Rad
آیت نمبر 22
کل آیات: 43
قرآن کریم الرعد آیت 22
آیت نمبر: 22 — سورۃ الرعد islamicurdubooks.com ↗
وَ الَّذِیۡنَ صَبَرُوا ابۡتِغَآءَ وَجۡہِ رَبِّہِمۡ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً وَّ یَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عُقۡبَی الدَّارِ ﴿ۙ۲۲﴾
اُن کا حال یہ ہوتا ہے کہ اپنے رب کی رضا کے لیے صبر سے کام لیتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے علانیہ اور پوشیدہ خرچ کرتے ہیں، اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں آخرت کا گھر انہی لوگوں کے لیے ہے
اور وه اپنے رب کی رضا مندی کی طلب کے لئے صبر کرتے ہیں، اور نمازوں کو برابر قائم رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اسے چھپے کھلے خرچ کرتے ہیں اور برائی کو بھی بھلائی سے ٹالتے ہیں، ان ہی کے لئے عاقبت کا گھر ہے
اور وہ جنہوں نے صبر کیا اپنے رب کی رضا چاہنے کو اور نماز قائم رکھی اور ہمارے دیئے سے ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر کچھ خرچ کیا اور برائی کے بدلے بھلائی کرکے ٹالتے ہیں انہیں کے لیے پچھلے گھر کا نفع ہے،
اور جو اپنے پروردگار کی خوشنودی کی طلب میں صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے اعلانیہ اور پوشیدہ طور پر( ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں اور جو برائی کو بھلائی سے دور کرتے ہیں عاقبت کا گھر انہی کیلئے ہے۔
اور وہ جنھوں نے اپنے رب کا چہرہ طلب کرنے کے لیے صبر کیا اور نماز قائم کی اور ہم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کیا اور برائی کو نیکی کے ساتھ ہٹاتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے اس گھر کا اچھا انجام ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

منافق کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭

ان بزرگوں کی نیک صفتیں بیان ہو رہی ہیں اور ان کے بھلے انجام کی خبر دی جا رہی ہے جو آخرت میں جنت کے مالک بنیں گے اور یہاں بھی جو نیک انجام ہیں۔ وہ منافقوں کی طرح نہیں ہوتے کہ عہد شکنی، غداری اور بے وفائی کریں۔ یہ منافق کی خصلت ہے کہ وعدہ کر کے توڑ دیں۔ جھگڑوں میں گالیاں بکیں، باتوں میں جھوٹ بولیں، امانت میں خیانت کریں۔ صلہ رحمی کا، رشتہ داروں سے سلوک کرنے کا، فقیر محتاج کو دینے کا، بھلی باتوں کے نباہ نے کا، جو حکم الٰہی ہے یہ اس کے عامل ہیں۔ رب کا خوف دل میں رکھتے ہوئے فرمان الٰہی سمجھ کر نیکیاں کرتے ہیں، بدیاں چھوڑتے ہیں۔ آخرت کے حساب سے ڈرتے ہیں، اسی لیے برائیوں سے بچتے ہیں، نیکیوں کی رغبت کرتے ہیں۔ اعتدال کا راستہ نہیں چھوڑتے۔ ہر حال میں فرمان الٰہی کا لحاظ رکھتے ہیں۔ گو نفس حرام کاموں اور اللہ کی نافرمانیوں کی طرف جانا چاہے لیکن یہ اسے روک لیتے ہیں اور ثواب آخرت یاد دلا کر مرضی مولا رضائے رب کے طالب ہو کر نافرمانیوں سے باز رہتے ہیں۔ نماز کی پوری حفاظت کرتے ہیں۔ رکوع، سجدہ، قعدہ، خشوع خضوع شرعی طور بجا لاتے ہیں۔ جنہیں دینا اللہ نے فرمایا ہے، انہیں اللہ کی دی ہوئی چیزیں دیتے رہتے ہیں۔ فقراء، محتاج، مساکین اپنے ہوں یا غیر ہوں۔ ان کی برکتوں سے محروم نہیں رہتے۔ چھپے کھلے، دن رات، وقت بے وقت، برابر راہ للہ خرچ کرتے رہتے ہیں۔ قباحت کو احسان سے، برائی کو بھلائی سے، دشمنی کو دوستی سے ٹال دیتے ہیں۔ دوسرا سرکشی کرے یہ نرمی کرتے ہیں۔ دوسرا سر چڑھے یہ سر جھکا دیتے ہے۔ دوسروں کے ظلم سہ لیتے ہیں اور خود نیک سلوک کرتے ہیں۔ تعلیم قرآن ہے آیت «ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ» ۱؎ [41-فصلت:34،35] ‏‏‏‏ ’ بہت اچھے طریقے سے ٹال دو تو دشمن بھی گاڑھا دوست بن جائے گا۔ صبر کرنے والے، صاحب نصیب ہی اس مرتبے کو پاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے اچھا انجام ہے ‘۔

📖 احسن البیان

22۔ 1 اللہ کی نافرمانی اور گناہوں سے بچتے ہیں۔ یہ صبر کی ایک قسم ہے۔ تکلیفوں اور آزمائشوں پر صبر کرتے ہیں، یہ دوسری قسم ہے۔ اہل دانش دونوں قسم کا صبر کرتے ہیں۔ 22۔ 2 ان کی حدود و مواقیت، خشوع و خضوع اور اعتدال ارکان کے ساتھ۔ نہ کہ اپنے من مانے طریقے سے۔ 22۔ 3 یعنی جہاں جہاں اور جب بھی، خرچ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے، اپنوں اور بیگانوں میں اور خفیہ اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں۔ 22۔ 4 یعنی ان کے ساتھ کوئی برائی سے پیش آتا ہے تو وہ اس کا جواب اچھائی سے دیتے ہیں، یا عفو و درگزر اور صبر جمیل سے کام لیتے ہیں۔ جس طرح دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' (اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ) 41۔ حم السجدۃ:34۔ برائی کا جواب ایسے طریقے سے دو جو اچھا ہو (اگر تم ایسا کرو گے) تو وہ شخص جو تمہارا دشمن ہے، ایسا ہوجائے گا گویا وہ تمہارا گہرا دوست ہے '۔ 22۔ 5 یعنی جو اعلٰی اخلاق کے حامل اور مزکورہ خوبیوں سے متصف ہوں گے، ان کے لئے عاقبت کا گھر ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت22) ➊ {وَ الَّذِيْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ:} یعنی ہر اس مقام پر جہاں صبر قابل تعریف ہے وہ محض اللہ کے چہرے کی خاطر صبر کرتے ہیں، تاکہ وہ راضی ہو جائے۔ نہ ریا (دکھاوے) کے لیے، نہ سُمعہ (شہرت) کے لیے کہ لوگ کہیں واہ کیا صابر شخص ہے۔ صبر کا معنی روکنا، باندھنا ہے۔ اپنے آپ کو اللہ کے احکام کی پابندی پر قائم رکھنا{ ”صَبْرٌ عَلَي الطَّاعَةِ“} ہے، اس کی نافرمانی سے رکنا {” صَبْرٌ عَنِ الْمَعْصِيَةِ “} ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی مصیبت، مثلاً بیماری، فاقہ، خوف یا اموات وغیرہ پر اپنے آپ کو جزع فزع سے روکنا اور اسے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی تقدیر سمجھ کر کسی شکوہ و شکایت کے بغیر برداشت کرنا {”صَبْرٌ عَلَي الْمُصِيْبَةِ“} ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خاطر صبر کی یہ تمام صورتیں {” اُولُوا الْاَلْبَابِ “ } کی صفت ہیں۔ ➋ {وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ:} اس کی تفسیر کے لیے سورۂ بقرہ کی آیت (۳) ملاحظہ فرمائیں۔ ➌ { وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِيَةً:} فرض زکوٰۃ علانیہ دینا افضل ہے، تاکہ کفر کی تہمت سے بچے، نفل صدقہ دوسروں کو ترغیب دلانے کے لیے علانیہ ہو اور ریا سے پاک ہو تو بہت ہی اچھا ہے، مگر علانیہ صدقے میں ریا کا امکان ہے، اس لیے پوشیدہ صدقے کا جواب ہی نہیں ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۷۱) قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا سایہ پانے والوں میں سے ایک وہ بھی ہے جو دائیں ہاتھ سے صدقہ کرے تو بائیں کو خبر بھی نہ ہو۔ [ بخاري، الأذان، باب من جلس فی المسجد…: ۶۶۰ ] ➍ {وَ يَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ: ”دَرَءَ يَدْرَءُ دَرْءً “} (ف) ہٹانا، دفع کرنا، دور کرنا، یعنی {” اُولُوا الْاَلْبَابِ “} کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ برائی کو نیکی کے ساتھ ہٹاتے ہیں، یعنی برائی کا جواب بھلائی سے دیتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ لَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّيِّئَةُاِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَ بَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ (34) وَ مَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَ مَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ }» [ حٰمٓ السجدۃ: ۳۴، ۳۵ ] ”اور نہ نیکی برابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔ (برائی کو) اس (طریقے) سے ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہو گا جیسے وہ دلی دوست ہے۔ اور یہ چیز نہیں دی جاتی مگر انھی کو جو صبر کریں اور یہ نہیں دی جاتی مگر اسی کو جو بہت بڑے نصیب والا ہے۔“ یہ طریقہ ذاتی عداوتوں اور زیادتیوں کے جواب کا ہے کہ زیادتی کے جواب میں صبر کرے اور معاف کر دے۔ رہا اللہ کے دین پر زیادتی اور اللہ کے احکام کے مقابلے میں سرکشی اور عناد کا جواب بہترین طریقے سے دینا تو اس کی صورت دوسری ہے۔ وہاں برائی کو نیکی کے ساتھ ہٹانے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی کافر یا اللہ کا باغی دین پر زیادتی کر رہا ہو تو آپ اسے برداشت کریں اور صبر کریں، بلکہ اس برائی کو بہترین طریقے سے ہٹانا نہ اسے آزاد چھوڑنا ہے نہ معاف کرنا، بلکہ یہاں اسے ہٹانے کا بہترین طریقہ وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا اور اس کا حکم دیا کہ جو شخص تم میں سے کوئی منکر (برائی) دیکھے اسے ہاتھ سے روک دے، اگر اس کام کی قوت نہیں تو زبان سے روکے اور اگر اتنی بھی قوت نہیں تو (کم از کم) اسے دل میں برا سمجھے۔ [ مسلم، الإیمان، باب بیان کون النہی …: ۴۹ ] یہاں سب سے اچھا طریقہ ({بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ}) جہاد فی سبیل اللہ ہے اور اس کا نتیجہ بھی یہی ہے کہ یک لخت ہی جانی دشمن دلی دوست بن جاتے ہیں۔ دیکھیے ثمامہ بن اثال، ہندہ، عکرمہ بن ابی جہل، خالد بن ولید رضی اللہ عنھم اور عرب کے وہ سردار جو کسی صورت ایمان قبول کرنے والے نظر نہ آتے تھے، جہاد کی نیکی کی برکت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثار دوست بن گئے۔ ”برائی کو نیکی کے ساتھ ہٹاتے ہیں“ کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ وہ نیک عمل کرکے برے عمل کو مٹا دیتے ہیں، جیسے فرمایا: «{ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ }» [ ھود: ۱۱۴ ] ”بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔“ اور ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِذَا عَمِلْتَ سَيِّئَةً فَأَتْبِعْهَا حَسَنَةً تَمْحُهَا] [أحمد: 169/5، ح: ۲۱۵۴۳، صحیح ] ”جب تم کوئی برائی کرو تو اس کے بعد کوئی نیکی کرو، وہ اسے مٹا دے گی۔“ اور فرمایا: [ وَ إِذَا عَمِلْتَ سَيِّئَةً فَاعْمَلْ بِجَنْبِهَا حَسَنَةً السِّرُّ بِالسِّرِّ وَالْعَلاَنِيَةُ بِالْعَلاَنِيَةِ] [سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 462/3، ح: ۱۴۷۵ ] ”جب تم کوئی برائی کرو تو اس کے ساتھ ہی نیکی کر لو، وہ اسے مٹا دے گی، پوشیدہ برائی کو پوشیدہ نیکی کے ساتھ اور علانیہ برائی کو علانیہ نیکی کے ساتھ مٹاؤ۔“ ➎ { اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ:عُقْبَى “ ” عَاقِبَةٌ “} کی طرح مصدر ہے، وہ چیز جو کسی چیز کے پیچھے آئے، عام طور پر یہ لفظ اچھے انجام کے معنی میں آتا ہے۔{ ” الدَّارِ “} میں الف لام عہد کا ہے، یہ گھر یعنی دنیا، یعنی ان صفات والوں کے لیے دنیا کے گھر کے بعد کا انجام بہت اچھا ہے۔
← پچھلی آیت (21) پوری سورۃ اگلی آیت (23) →