یہ ایک سورت ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے، اور اسے ہم نے فرض کیا ہے، اور اس میں ہم نے صاف صاف ہدایات نازل کی ہیں، شاید کہ تم سبق لو
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ ہے وه سورت جو ہم نے نازل فرمائی ہے اور مقرر کردی ہے اور جس میں ہم نے کھلی آیتیں (احکام) اتارے ہیں تاکہ تم یاد رکھو
احمد رضا خان بریلوی
یہ ایک سورة ہے کہ ہم نے اتاری اور ہم نے اس کے احکام فرض کیے اور ہم نے اس میں روشن آیتیں نازل فرمائیں کہ تم دھیان کرو،
علامہ محمد حسین نجفی
(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔یہ ایک سورہ ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے اور ہم نے (ہی) اس (کے احکام) کو فرض کیا ہے۔ اور ہم نے ہی اس میں کھلی ہوئی آیتیں نازل کی ہیں۔ تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
عبدالسلام بن محمد
(یہ) ایک عظیم سورت ہے، ہم نے اسے نازل کیا اور ہم نے اسے فرض کیا اور ہم نے اس میں واضح آیات اتاری ہیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسئلہ رجم ٭٭
اس بیان سے کہ ’ ہم نے اس سورت کو نازل فرمایا ہے ‘، اس سورت کی بزرگی اور ضرورت کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اس سے یہ مقصود نہیں کہ اور سورتیں ضروری اور بزرگی والی نہیں۔ «فَرَضْنٰھَا» کے معنی مجاہد و قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بیان کئے ہیں کہ ”حلال و حرام، امر و نہی اور حدود وغیرہ کا اس میں بیان ہے۔“ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اسے ہم نے تم پر اور تمہارے بعد والوں پر مقرر کر دیا ہے۔ اس میں صاف صاف، کھلے کھلے، روشن احکام بیان فرمائے ہیں تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو، احکام الٰہی کو یاد رکھو اور پھر ان پر عمل کرو۔“ پھر زناکاری کی شرعی سزا فرمائی، زنا کار یا تو کنوارا ہوگا یا شادی شدہ ہوگا یعنی وہ جو حریت بلوغت اور عقل کی حالت میں نکاح شرعی کے ساتھ کسی عورت سے ملا ہو۔ اور جمہور علماء کے نزدیک اسے ایک سال کی جلا وطنی بھی دی جائے گی۔ ہاں امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ یہ جلا وطنی امام کی رائے پر ہے اگر وہ چاہے دے چاہے نہ دے۔ جمہور کی دلیل تو بخاری مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ { دو اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ایک نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا بیٹا اس کے ہاں ملازم تھا وہ اس کی بیوی سے زنا کربیٹھا، میں نے اس کے فدیے میں ایک سو بکریاں اور ایک لونڈی دی۔ پھر میں نے علماء سے دریافت کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے بیٹے پر شرعی سزا سو کوڑوں کی ہے اور ایک سال کی جلا وطنی اور اس کی بیوی پر رجم یعنی سنگ ساری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سنو! میں تم میں اللہ کی کتاب کا صحیح فیصلہ کرتا ہوں۔ لونڈی اور بکریاں تو تجھے واپس دلوا دی جائیں گی اور تیرے بچے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور اے انیس تو اس کی بیوی کا بیان لے۔ (یہ انیس رضی اللہ عنہ قبیلہ اسلم کے ایک شخص تھے)۔ اگر وہ اپنی سیاہ کاری کا اقرار کرے تو تو اسے سنگسار کر دینا }۔ چنانچہ اس بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے اقرار کیا اور انہیں رجم کر دیا گیا رضی اللہ عنہا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2314] اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کنوارے پر سو کوڑوں کے ساتھ ہی سال بھر تک کی جلا وطنی بھی ہے اور اگر شادی شدہ ہے تو وہ رجم کر دیا جائے گا۔ چنانچہ موطا مالک میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہا نے اپنے ایک خطبہ میں حمد و ثناء کے بعد فرمایا کہ ”لوگو! اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی کتاب نازل فرمائی۔ اس کتاب اللہ میں رجم کرنے کے حکم کی آیت بھی تھی جسے ہم نے تلاوت کی، یاد کیا، اس پر عمل بھی کیا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی رجم ہوا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رجم کیا۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد کوئی یہ نہ کہنے لگے کہ ہم رجم کو کتاب اللہ میں نہیں پاتے، ایسا نہ ہو کہ وہ اللہ کے اس فریضے کو جسے اللہ نے اپنی کتاب میں اتارا، چھوڑ کر گمراہ ہو جائیں۔ کتاب اللہ میں رجم کا حکم مطلق حق ہے،اس پر جو زنا کرے اور شادی شدہ ہو خواہ مرد ہو، خواہ عورت ہو۔ جب کہ اس کے زنا پر شرعی دلیل ہو یا حمل ہو یا اقرار ہو۔“ ۱؎ [موطا:823/2] یہ حدیث بخاری و مسلم میں اس سے ہی مطول ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2462]
مسند احمد میں ہے کہ ”آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ رجم یعنی سنگساری کا مسئلہ ہم قرآن میں نہیں پاتے، قرآن میں صرف کوڑے مارنے کا حکم ہے۔ یاد رکھو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رجم کیا اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے، قرآن میں جو نہ تھا، عمر (رضی اللہ عنہ) نے لکھ دیا تو میں آیت رجم کو اسی طرح لکھ دیتا، جس طرح نازل ہوئی تھی۔“ ۱؎ [مسند احمد:29/1:صحیح] یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں رجم کا ذکر کیا اور فرمایا ”رجم ضروری ہے وہ اللہ تعالیٰ کی حدوں میں سے ایک حد ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رجم کیا۔ اگر لوگوں کے اس کہنے کا کھٹکا نہ ہوتا کہ عمر (رضی اللہ عنہ) نے کتاب اللہ میں زیادتی کی جو اس میں نہ تھی تو میں کتاب اللہ کے ایک طرف آیت رجم لکھ دیتا۔ عمر بن خطاب عبداللہ بن عوف اور فلاں اور فلاں کی شہادت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور ہم نے بھی رجم کیا۔ یاد رکھو تمہارے بعد ایسے لوگ آنے والے ہیں جو رجم کو اور شفاعت کو اور عذاب قبر کو جھٹلائیں گے، اور اس بات کو بھی کہ کچھ لوگ جہنم سے اس کے بعد نکالے جائیں گے کہ وہ کوئلے ہوں گے۔“ ۱؎ [مسند احمد:23/1:اسنادہ ضعیف] مسند احمد میں ہے کہ امیرالمونین عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”رجم کے حکم کے انکار کرنے کی ہلاکت سے بچنا۔“ ۱؎ [مسند احمد:36/1:صحیح] امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ بھی اسے لائے ہیں اور اسے صحیح کہا ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1431،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ لوگ مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”ہم قرآن میں آیت رجم پڑھتے تھے کہ شادی شدہ مرد یا عورت جب زنا کاری کریں تو انہیں ضرور رجم کردو“ مروان نے کہا کہ تم نے پھر اس آیت کو قرآن میں کیوں نہ لکھا؟ فرمایا سنو! ہم میں جب اس کا ذکر چلا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں تمہاری تشفی کر دیتا ہوں، { ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی ذکر کیا اور رجم کا بیان کیا۔ کسی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم رجم کی آیت لکھ لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، { اب تو میں اسے لکھ نہیں سکتا، یا اسی کے مثل } }۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:7145:] یہ روایت نسائی میں بھی ہے۔ پس ان سب احادیث سے ثابت ہوا کہ رجم کی آیت پہلے لکھی ہوئی تھی پھر تلاوت میں منسوخ ہو گئی اور حکم باقی رہا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی بیوی کے رجم کا حکم دیا، جس نے اپنے ملازم سے بدکاری کرائی تھی۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز رضی اللہ عنہ کو اور ایک غامدیہ عورت کو رجم کرایا۔ ان سب واقعات میں یہ مذکور نہیں کہ رجم سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوڑے بھی لگوائے ہوں۔ بلکہ ان سب صحیح اور صاف احادیث میں صرف رجم کا ذکر ہے کسی میں بھی کوڑوں کا بیان نہیں۔ اسی لیے جمہور علماء اسلام کا یہی مذہب ہے۔ ابوحنیفہ رحمہ اللہ، مالک رحمہ اللہ، شافعی رحمہ اللہ بھی اسی طرف گئے ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے اسے کوڑے مارنے چاہئیں، پھر رجم کرنا چاہیئے تاکہ قرآن و حدیث دونوں پر عمل ہو جائے جیسے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سراجہ لائی گئی جو شادی شدہ عورت تھی اور زناکاری میں آئی تھی تو آپ رضی اللہ عنہ نے جمعرات کے دن تو اسے کوڑے لگوائے اور جمعہ کے دن سنگسار کرا دیا، اور فرمایا کہ ”کتاب اللہ پر عمل کر کے میں نے کوڑے پٹوائے اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کر کے سنگسار کرایا۔“ مسند احمد، سنن اربعہ اور مسلم شریف میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میری بات لے لو، میری بات لے لو، اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے راستہ نکال دیا۔ کنوارا کنواری کے ساتھ زنا کر لے تو سو کوڑے اور سال بھر کی جلا وطنی اور شادی شدہ شادی شدہ کے ساتھ کرے تو رجم }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1690]
پھر فرمایا ’ اللہ کے حکم کے ماتحت اس حد کے جاری کرنے میں تمہیں ان پر ترس اور رحم نہ کھانا چاہیئے ‘۔ دل کا رحم اور چیز ہے اور وہ تو ضرور ہوگا لیکن حد کے جاری کرنے میں امام کا سزا میں کمی کرنا اور سستی کرنا بری چیز ہے۔ جب امام یعنی سلطان کے پاس کوئی ایسا واقعہ جس میں حد ہو، پہنچ جائے، تو اسے چاہیئے کہ حد جاری کرے اور اسے نہ چھوڑے۔ حدیث میں ہے { آپس میں حدود سے درگزر کرو، جو بات مجھ تک پہنچی اور اس میں حد ہو تو وہ تو واجب اور ضروری ہوگئی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4376،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور حدیث میں ہے کہ { حد کا زمین میں قائم ہونا، زمین والوں کیلئے چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے }۔ ۱؎ [سنن نسائی:4909،قال الشيخ الألباني:حسن] یہ بھی قول ہے کہ ترس کھا کر، مار کو نرم نہ کر دو بلکہ درمیانہ طور پر کوڑے لگاؤ، یہ بھی نہ ہو کہ ہڈی توڑ دو۔ تہمت لگانے والے کی حد کے جاری کرنے کے وقت اس کے جسم پر کپڑے ہونے چاہئیں۔ ہاں زانی پر حد کے جاری کرنے کے وقت کپڑے نہ ہوں۔ یہ قول حماد بن ابوسلیمان رحمتہ اللہ کا ہے۔ اسے بیان فرما کر آپ رحمہ اللہ نے یہی جملہ آیت «وَّ لَا تَاۡخُذۡکُمۡ بِہِمَا رَاۡفَۃٌ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ لۡیَشۡہَدۡ عَذَابَہُمَا طَآئِفَۃٌ مِّنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ» ۱؎ [24-النور:2] ، پڑھا تو سعید بن ابی عروبہ نے پوچھا یہ حکم میں ہے؟ کہا ہاں حکم میں ہے اور کوڑوں میں یعنی حد کے قائم کرنے میں اور سخت چوٹ مارنے میں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی لونڈی نے جب زنا کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے پیروں پر اور کمر پر کوڑے مارے تو نافعہ نے اسی آیت کا یہ جملہ تلاوت کیا کہ اللہ کی حد کے جاری کرنے میں تمہیں ترس نہ آنا چاہیئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”کیا تیرے نزدیک میں نے اس پر کوئی ترس کھایا ہے؟ سنو اللہ نے اس کے مار ڈالنے کا حکم نہیں دیا نہ یہ فرمایا ہے کہ اس کے سر پر کوڑے مارے جائیں۔ میں نے اسے طاقت سے کوڑے لگائے ہیں اور پوری سزا دی ہے۔“
پھر فرمایا اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت پر ایمان ہے تو تمہیں اس حکم کی بجا آوری کرنی چاہیئے اور زانیوں پر حدیں قائم کرنے میں پہلو تہی نہ کرنی چاہیئے۔ اور انہیں ضرب بھی شدید مارنی چاہیئے لیکن ہڈی توڑنے والی نہیں تاکہ وہ اپنے اس گناہ سے باز رہیں اور ان کی یہ سزا دوسروں کیلئے بھی عبرت بنے۔ رجم بری چیز نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ { ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بکری کو زبح کرتا ہوں لیکن میرا دل دکھتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس رحم پر بھی تجھے اجر ملے گا } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:26:صحیح] پھر فرماتا ہے ’ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا مجمع ہونا چاہیئے تاکہ سب کے دل میں ڈر بیٹھ جائے اور زانی کی رسوائی بھی ہو تاکہ اور لوگ اس سے رک جائیں ‘۔ اسے اعلانیہ سزا دی جائے، مخفی طور پر مار پیٹ کر نہ چھوڑا جائے۔ ایک شخص اور اس سے زیادہ بھی ہوجائیں تو جماعت ہوگئی اور آیت پر عمل ہوگیا اسی کو لے کر امام محمد کا مذھب ہے کہ ایک شخص بھی طائفہ ہے۔ عطا رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ دو ہونے چاہئیں۔ سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں چار ہوں۔ زہری رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں تین یا تین سے زیادہ۔ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں چار اور اس سے زیادہ کیونکہ زنا میں چار سے کم گواہ نہیں ہیں، چار ہوں یا اس سے زیادہ۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب بھی یہی ہے۔ ربیعہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں پانچ ہوں۔ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک دس۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں ایک جماعت ہو تاکہ نصیحت، عبرت اور سزا ہو۔ نصرت بن علقمہ رحمتہ اللہ کے نزدیک جماعت کی موجودگی کی علت یہ بیان کی ہے کہ وہ ان لوگوں کیلئے جن پر حد جاری کی جا رہی ہے دعا مغفرت و رحمت کریں۔
یہ وہ سورت ہے جو ہم نے نازل فرمائی ہے 1 اور مقرر کردی ہے اور جس میں ہم نے کھلی آیتیں (احکام) اتارے ہیں تاکہ تم یاد رکھو۔
(آیت 1) ➊ { سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا:” سُوْرَةٌ“} پر تنوین تعظیم کے لیے ہے اور یہ مبتدا محذوف {”هٰذِهِ“} کی خبر ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”(یہ) ایک عظیم سورت ہے۔“ ➋ {” اَنْزَلْنٰهَا “} (ہم نے اسے نازل کیا) یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کے اظہار کے لیے اپنا ذکر جمع متکلم کے صیغے (ہم نے) کے ساتھ فرمایا ہے، بلکہ{” اَنْزَلْنٰهَا “ ” فَرَضْنٰهَا “} اور {” اَنْزَلْنَا فِيْهَاۤ “} تینوں میں زور جمع متکلم کے صیغہ ”ہم نے“ پر ہے، یعنی اس کا نازل کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ ”ہم“ ہیں۔ اس لیے اسے کسی بے اختیار واعظ کی بات سمجھ کر ہلکا نہ سمجھ بیٹھنا، بلکہ خوب جان لو کہ اس کا نازل کرنے والا وہ ہے جس کی مٹھی میں ساری کائنات ہے، جو ہر جان دار کی پیشانی پکڑے ہوئے ہے اور تم مر کر بھی اس کی گرفت سے نہیں نکل سکتے۔ ➌ { ” اَنْزَلْنَا “} (نازل کرنے) سے ظاہر ہے کہ اسے اتارنے والا بلندی پر ہے اور اس نے اسے بلند مقام عرش سے اتارا ہے، جیسا کہ خود اس نے فرمایا: «اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى» [ طٰہٰ: ۵ ] ”وہ بے حد رحم والا عرش پر بلند ہوا۔“ ان مفسروں پر افسوس ہوتا ہے جو یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ اللہ تعالیٰ بلندی پر ہے، اس لیے وہ ”ہم نے نازل کیا“ کی بھی تاویل بلکہ تحریف پر اصرار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی جہت میں نہیں، نہ کسی جگہ میں ہے، وہ نہ اوپر ہے نہ نیچے، نہ دائیں ہے نہ بائیں، نہ آگے ہے اور نہ پیچھے۔ پھر وہ کہاں ہے؟ کہتے ہیں کسی جگہ بھی نہیں۔ مگر وہ اس فطری تقاضے کا کیا کریں گے جو ہر انسان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے اپنے ہاتھ اور اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائے۔ ان حضرات میں سے کئی ایسے دیدہ دلیر بزرگ بھی گزرے ہیں اور کئی موجود ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ یہ سوال ہی غلط ہے کہ اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ بلکہ جو شخص یہ سوال کرے کہ اللہ تعالیٰ کہاں ہے وہ کافر ہے۔ ان لوگوں کو یہ خوف بھی نہیں آتا کہ ان کے فتوے کی زد میں کون کون آ رہا ہے۔ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لونڈی کے ایمان کا امتحان لیتے ہوئے دو سوال کیے تھے، ایک یہ کہ اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: ”آسمان میں۔“ دوسرا سوال یہ کیا کہ میں کون ہوں؟ اس نے کہا: ”آپ اللہ کے رسول ہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مومنہ ہے۔“ [ مسلم، المساجد، باب تحریم الکلام في الصلاۃ…: ۵۳۷ ] ➍ { وَ فَرَضْنٰهَا:} یعنی اس سورت میں جو احکام دیے گئے ہیں وہ محض سفارشات نہیں ہیں کہ جی چاہے تو مانو، ورنہ جو جی میں آئے کرتے رہو، بلکہ یہ قطعی احکام ہیں جن پر عمل کرنا ہم نے تم پر اور تمھارے بعد آنے والوں پر فرض کر دیا ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: {” اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا “} سے اس سورت کی عظمت اور اہمیت بیان کرنا مقصود ہے، یہ مقصد نہیں کہ دوسری سورتوں کی یہ شان نہیں ہے۔ ➎ { وَ اَنْزَلْنَا فِيْهَاۤ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ:} یعنی اس سورت میں ہم نے جو احکام و مسائل بیان کیے ہیں ان میں کوئی پیچیدگی یا ابہام نہیں ہے، صاف اور واضح ہدایات ہیں، جن کے متعلق تم یہ عذر نہیں کر سکتے کہ فلاں بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی، تو ہم اس پر عمل کیسے کرتے؟ اس پرُ زور تمہید سے اس سورت میں مذکور احکام کی اہمیت واضح ہو رہی ہے۔ اس کے بعد احکام شروع ہوتے ہیں۔
زانیہ عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو اگر تم اللہ تعالیٰ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو اور ان کو سزا دیتے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود رہے
مولانا محمد جوناگڑھی
زناکار عورت و مرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔ ان پر اللہ کی شریعت کی حد جاری کرتے ہوئے تمہیں ہرگز ترس نہ کھانا چاہیئے، اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو۔ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہونی چاہیئے
احمد رضا خان بریلوی
جو عورت بدکار ہو اور جو مرد تو ان میں ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ اور تمہیں ان پر ترس نہ آئے اللہ کے دین میں اگر تم ایمان لاتے ہو اللہ اور پچھلے دن پر اور چاہیے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ حاضر ہو
علامہ محمد حسین نجفی
زناکار عورت اور زناکار مرد ان دونوں میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے لگاؤ۔ اور اللہ کے دین کے معاملہ میں تمہیں ان پر ترس نہ آئے۔ اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو اور ان دونوں کو سزا دیتے وقت اہلِ ایمان کی ایک جماعت کو موجود رہنا چاہیے۔
عبدالسلام بن محمد
جو زنا کرنے والی عورت ہے اور جو زنا کرنے والا مرد ہے، سو دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور تمھیں ان کے متعلق اللہ کے دین میں کوئی نرمی نہ پکڑے، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور لازم ہے کہ ان کی سزا کے وقت مومنوں کی ایک جماعت موجود ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسئلہ رجم ٭٭
اس بیان سے کہ ’ ہم نے اس سورت کو نازل فرمایا ہے ‘، اس سورت کی بزرگی اور ضرورت کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اس سے یہ مقصود نہیں کہ اور سورتیں ضروری اور بزرگی والی نہیں۔ «فَرَضْنٰھَا» کے معنی مجاہد و قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بیان کئے ہیں کہ ”حلال و حرام، امر و نہی اور حدود وغیرہ کا اس میں بیان ہے۔“ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اسے ہم نے تم پر اور تمہارے بعد والوں پر مقرر کر دیا ہے۔ اس میں صاف صاف، کھلے کھلے، روشن احکام بیان فرمائے ہیں تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو، احکام الٰہی کو یاد رکھو اور پھر ان پر عمل کرو۔“ پھر زناکاری کی شرعی سزا فرمائی، زنا کار یا تو کنوارا ہوگا یا شادی شدہ ہوگا یعنی وہ جو حریت بلوغت اور عقل کی حالت میں نکاح شرعی کے ساتھ کسی عورت سے ملا ہو۔ اور جمہور علماء کے نزدیک اسے ایک سال کی جلا وطنی بھی دی جائے گی۔ ہاں امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ یہ جلا وطنی امام کی رائے پر ہے اگر وہ چاہے دے چاہے نہ دے۔ جمہور کی دلیل تو بخاری مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ { دو اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ایک نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا بیٹا اس کے ہاں ملازم تھا وہ اس کی بیوی سے زنا کربیٹھا، میں نے اس کے فدیے میں ایک سو بکریاں اور ایک لونڈی دی۔ پھر میں نے علماء سے دریافت کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے بیٹے پر شرعی سزا سو کوڑوں کی ہے اور ایک سال کی جلا وطنی اور اس کی بیوی پر رجم یعنی سنگ ساری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سنو! میں تم میں اللہ کی کتاب کا صحیح فیصلہ کرتا ہوں۔ لونڈی اور بکریاں تو تجھے واپس دلوا دی جائیں گی اور تیرے بچے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور اے انیس تو اس کی بیوی کا بیان لے۔ (یہ انیس رضی اللہ عنہ قبیلہ اسلم کے ایک شخص تھے)۔ اگر وہ اپنی سیاہ کاری کا اقرار کرے تو تو اسے سنگسار کر دینا }۔ چنانچہ اس بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے اقرار کیا اور انہیں رجم کر دیا گیا رضی اللہ عنہا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2314] اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کنوارے پر سو کوڑوں کے ساتھ ہی سال بھر تک کی جلا وطنی بھی ہے اور اگر شادی شدہ ہے تو وہ رجم کر دیا جائے گا۔ چنانچہ موطا مالک میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہا نے اپنے ایک خطبہ میں حمد و ثناء کے بعد فرمایا کہ ”لوگو! اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی کتاب نازل فرمائی۔ اس کتاب اللہ میں رجم کرنے کے حکم کی آیت بھی تھی جسے ہم نے تلاوت کی، یاد کیا، اس پر عمل بھی کیا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی رجم ہوا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رجم کیا۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد کوئی یہ نہ کہنے لگے کہ ہم رجم کو کتاب اللہ میں نہیں پاتے، ایسا نہ ہو کہ وہ اللہ کے اس فریضے کو جسے اللہ نے اپنی کتاب میں اتارا، چھوڑ کر گمراہ ہو جائیں۔ کتاب اللہ میں رجم کا حکم مطلق حق ہے،اس پر جو زنا کرے اور شادی شدہ ہو خواہ مرد ہو، خواہ عورت ہو۔ جب کہ اس کے زنا پر شرعی دلیل ہو یا حمل ہو یا اقرار ہو۔“ ۱؎ [موطا:823/2] یہ حدیث بخاری و مسلم میں اس سے ہی مطول ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2462]
مسند احمد میں ہے کہ ”آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ رجم یعنی سنگساری کا مسئلہ ہم قرآن میں نہیں پاتے، قرآن میں صرف کوڑے مارنے کا حکم ہے۔ یاد رکھو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رجم کیا اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے، قرآن میں جو نہ تھا، عمر (رضی اللہ عنہ) نے لکھ دیا تو میں آیت رجم کو اسی طرح لکھ دیتا، جس طرح نازل ہوئی تھی۔“ ۱؎ [مسند احمد:29/1:صحیح] یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں رجم کا ذکر کیا اور فرمایا ”رجم ضروری ہے وہ اللہ تعالیٰ کی حدوں میں سے ایک حد ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رجم کیا۔ اگر لوگوں کے اس کہنے کا کھٹکا نہ ہوتا کہ عمر (رضی اللہ عنہ) نے کتاب اللہ میں زیادتی کی جو اس میں نہ تھی تو میں کتاب اللہ کے ایک طرف آیت رجم لکھ دیتا۔ عمر بن خطاب عبداللہ بن عوف اور فلاں اور فلاں کی شہادت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور ہم نے بھی رجم کیا۔ یاد رکھو تمہارے بعد ایسے لوگ آنے والے ہیں جو رجم کو اور شفاعت کو اور عذاب قبر کو جھٹلائیں گے، اور اس بات کو بھی کہ کچھ لوگ جہنم سے اس کے بعد نکالے جائیں گے کہ وہ کوئلے ہوں گے۔“ ۱؎ [مسند احمد:23/1:اسنادہ ضعیف] مسند احمد میں ہے کہ امیرالمونین عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”رجم کے حکم کے انکار کرنے کی ہلاکت سے بچنا۔“ ۱؎ [مسند احمد:36/1:صحیح] امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ بھی اسے لائے ہیں اور اسے صحیح کہا ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1431،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ لوگ مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”ہم قرآن میں آیت رجم پڑھتے تھے کہ شادی شدہ مرد یا عورت جب زنا کاری کریں تو انہیں ضرور رجم کردو“ مروان نے کہا کہ تم نے پھر اس آیت کو قرآن میں کیوں نہ لکھا؟ فرمایا سنو! ہم میں جب اس کا ذکر چلا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں تمہاری تشفی کر دیتا ہوں، { ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی ذکر کیا اور رجم کا بیان کیا۔ کسی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم رجم کی آیت لکھ لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، { اب تو میں اسے لکھ نہیں سکتا، یا اسی کے مثل } }۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:7145:] یہ روایت نسائی میں بھی ہے۔ پس ان سب احادیث سے ثابت ہوا کہ رجم کی آیت پہلے لکھی ہوئی تھی پھر تلاوت میں منسوخ ہو گئی اور حکم باقی رہا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی بیوی کے رجم کا حکم دیا، جس نے اپنے ملازم سے بدکاری کرائی تھی۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز رضی اللہ عنہ کو اور ایک غامدیہ عورت کو رجم کرایا۔ ان سب واقعات میں یہ مذکور نہیں کہ رجم سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوڑے بھی لگوائے ہوں۔ بلکہ ان سب صحیح اور صاف احادیث میں صرف رجم کا ذکر ہے کسی میں بھی کوڑوں کا بیان نہیں۔ اسی لیے جمہور علماء اسلام کا یہی مذہب ہے۔ ابوحنیفہ رحمہ اللہ، مالک رحمہ اللہ، شافعی رحمہ اللہ بھی اسی طرف گئے ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے اسے کوڑے مارنے چاہئیں، پھر رجم کرنا چاہیئے تاکہ قرآن و حدیث دونوں پر عمل ہو جائے جیسے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سراجہ لائی گئی جو شادی شدہ عورت تھی اور زناکاری میں آئی تھی تو آپ رضی اللہ عنہ نے جمعرات کے دن تو اسے کوڑے لگوائے اور جمعہ کے دن سنگسار کرا دیا، اور فرمایا کہ ”کتاب اللہ پر عمل کر کے میں نے کوڑے پٹوائے اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کر کے سنگسار کرایا۔“ مسند احمد، سنن اربعہ اور مسلم شریف میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میری بات لے لو، میری بات لے لو، اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے راستہ نکال دیا۔ کنوارا کنواری کے ساتھ زنا کر لے تو سو کوڑے اور سال بھر کی جلا وطنی اور شادی شدہ شادی شدہ کے ساتھ کرے تو رجم }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1690]
پھر فرمایا ’ اللہ کے حکم کے ماتحت اس حد کے جاری کرنے میں تمہیں ان پر ترس اور رحم نہ کھانا چاہیئے ‘۔ دل کا رحم اور چیز ہے اور وہ تو ضرور ہوگا لیکن حد کے جاری کرنے میں امام کا سزا میں کمی کرنا اور سستی کرنا بری چیز ہے۔ جب امام یعنی سلطان کے پاس کوئی ایسا واقعہ جس میں حد ہو، پہنچ جائے، تو اسے چاہیئے کہ حد جاری کرے اور اسے نہ چھوڑے۔ حدیث میں ہے { آپس میں حدود سے درگزر کرو، جو بات مجھ تک پہنچی اور اس میں حد ہو تو وہ تو واجب اور ضروری ہوگئی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4376،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور حدیث میں ہے کہ { حد کا زمین میں قائم ہونا، زمین والوں کیلئے چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے }۔ ۱؎ [سنن نسائی:4909،قال الشيخ الألباني:حسن] یہ بھی قول ہے کہ ترس کھا کر، مار کو نرم نہ کر دو بلکہ درمیانہ طور پر کوڑے لگاؤ، یہ بھی نہ ہو کہ ہڈی توڑ دو۔ تہمت لگانے والے کی حد کے جاری کرنے کے وقت اس کے جسم پر کپڑے ہونے چاہئیں۔ ہاں زانی پر حد کے جاری کرنے کے وقت کپڑے نہ ہوں۔ یہ قول حماد بن ابوسلیمان رحمتہ اللہ کا ہے۔ اسے بیان فرما کر آپ رحمہ اللہ نے یہی جملہ آیت «وَّ لَا تَاۡخُذۡکُمۡ بِہِمَا رَاۡفَۃٌ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ لۡیَشۡہَدۡ عَذَابَہُمَا طَآئِفَۃٌ مِّنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ» ۱؎ [24-النور:2] ، پڑھا تو سعید بن ابی عروبہ نے پوچھا یہ حکم میں ہے؟ کہا ہاں حکم میں ہے اور کوڑوں میں یعنی حد کے قائم کرنے میں اور سخت چوٹ مارنے میں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی لونڈی نے جب زنا کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے پیروں پر اور کمر پر کوڑے مارے تو نافعہ نے اسی آیت کا یہ جملہ تلاوت کیا کہ اللہ کی حد کے جاری کرنے میں تمہیں ترس نہ آنا چاہیئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”کیا تیرے نزدیک میں نے اس پر کوئی ترس کھایا ہے؟ سنو اللہ نے اس کے مار ڈالنے کا حکم نہیں دیا نہ یہ فرمایا ہے کہ اس کے سر پر کوڑے مارے جائیں۔ میں نے اسے طاقت سے کوڑے لگائے ہیں اور پوری سزا دی ہے۔“
پھر فرمایا اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت پر ایمان ہے تو تمہیں اس حکم کی بجا آوری کرنی چاہیئے اور زانیوں پر حدیں قائم کرنے میں پہلو تہی نہ کرنی چاہیئے۔ اور انہیں ضرب بھی شدید مارنی چاہیئے لیکن ہڈی توڑنے والی نہیں تاکہ وہ اپنے اس گناہ سے باز رہیں اور ان کی یہ سزا دوسروں کیلئے بھی عبرت بنے۔ رجم بری چیز نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ { ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بکری کو زبح کرتا ہوں لیکن میرا دل دکھتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس رحم پر بھی تجھے اجر ملے گا } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:26:صحیح] پھر فرماتا ہے ’ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا مجمع ہونا چاہیئے تاکہ سب کے دل میں ڈر بیٹھ جائے اور زانی کی رسوائی بھی ہو تاکہ اور لوگ اس سے رک جائیں ‘۔ اسے اعلانیہ سزا دی جائے، مخفی طور پر مار پیٹ کر نہ چھوڑا جائے۔ ایک شخص اور اس سے زیادہ بھی ہوجائیں تو جماعت ہوگئی اور آیت پر عمل ہوگیا اسی کو لے کر امام محمد کا مذھب ہے کہ ایک شخص بھی طائفہ ہے۔ عطا رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ دو ہونے چاہئیں۔ سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں چار ہوں۔ زہری رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں تین یا تین سے زیادہ۔ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں چار اور اس سے زیادہ کیونکہ زنا میں چار سے کم گواہ نہیں ہیں، چار ہوں یا اس سے زیادہ۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب بھی یہی ہے۔ ربیعہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں پانچ ہوں۔ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک دس۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں ایک جماعت ہو تاکہ نصیحت، عبرت اور سزا ہو۔ نصرت بن علقمہ رحمتہ اللہ کے نزدیک جماعت کی موجودگی کی علت یہ بیان کی ہے کہ وہ ان لوگوں کیلئے جن پر حد جاری کی جا رہی ہے دعا مغفرت و رحمت کریں۔
2-1بدکاری کی ابتدائی سزا جو اسلام میں عبوری طور پر بتائی گئی تھی، وہ سورة النساء آیت۔15میں گزر چکی ہے، اس میں کہا گیا تھا کہ اس کے لئے جب تک مستقل سزا مقرر نہ کی جائے، ان بدکار عورتوں کو گھروں میں بند رکھو، پھر جب سورة نور کی یہ آیت نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ فرمایا تھا، اس کے مطابق بدکار مرد و عورت کی مستقل سزا مقرر کردی گئی ہے، وہ تم مجھ سے سیکھ لو، اور وہ ہے کنوارے (غیر شادی شدہ) مرد اور عورت کے لئے سو سو کوڑے اور شادی شدہ مرد اور عورت کو سو سو کوڑے اور سنگساری کے ذریعے مار دینا۔ (صحیح مسلم) پھر آپ نے شادی شدہ زانیوں کے لئے سزا صرف رجم (سنگساری) ہے۔ 2-2اس کا مطلب یہ ہے کہ ترس کھا کر سزا دینے سے گریز مت کرو، ورنہ طبعی طور پر ترس کا آنا، ایمان کے منافی نہیں، منجملہ خواص طبائع انسانی میں سے ہے۔ 2-3تاکہ سزا کا اصل مقصد کہ لوگ اس سے عبرت پکڑیں، زیادہ وسیع پیمانے پر حاصل ہو سکے۔ بدقسمتی سے آج کل برسر عام سزا کو انسانی حقوق کے خلاف باور کرایا جا رہا ہے۔ یہ سراسر جہالت، احکام الٰہی سے بغاوت اور بزم خویش اللہ سے بھی زیادہ انسانوں کا ہمدرد اور خیرخواہ بننا ہے۔ درآنحالیکہ اللہ سے زیادہ رؤف رحیم کوئی نہیں۔
(آیت 2) ➊ {اَلزَّانِيَةُ وَ الزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا …: } سورۂ نساء کی آیات (۱۵، ۱۶) میں اللہ تعالیٰ نے زنا کرنے والی عورتوں کے متعلق چار مردوں کی گواہی کے بعد انھیں گھروں میں بند رکھنے کا حکم دیا، یہاں تک کہ انھیں موت اٹھا لے جائے، یا اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی سبیل پیدا فرما دے۔ اسی طرح زنا کا ارتکاب کرنے والے مرد اور عورت کو توبہ کرنے تک ایذا و تکلیف دینے کا حکم دیا اور یہاں سورۂ نور کی زیر تفسیر آیت میں اللہ تعالیٰ نے کنوارے مرد اور کنواری عورت کی سزا بیان فرمائی۔ جیسا کہ عبادہ ابن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ خُذُوْا عَنِّيْ، خُذُوْا عَنِّيْ، قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِيْلاً، الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَ نَفْيُ سَنَةٍ وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ ] [ مسلم، الحدود، باب حد الزنٰی: ۱۶۹۰ ] ”مجھ سے (دین کے احکام) لے لو، مجھ سے (دین کے احکام) لے لو، اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے لیے سبیل پیدا فرما دی ہے۔ کنوارا، کنواری کے ساتھ (زنا کرے) تو ان کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے اور شادی شدہ، شادی شدہ کے ساتھ (زنا کرے) تو ان کے لیے سو کوڑے اور سنگسار ہے۔“ اس آیت سے بالاتفاق سورۂ نساء کی آیت کا حکم منسوخ ہو گیا۔ ➋ { اَلزَّانِيَةُ وَ الزَّانِيْ:} یہ مبتدا ہے، اس کی خبر {” فَاجْلِدُوْا “} ہے۔ اس پر ”فاء“ اس لیے آئی ہے کہ مبتدا میں شرط کا معنی پایا جاتا ہے، کیونکہ الف لام، {” أَلَّذِيْ “} کے معنی میں ہے، یعنی جو زنا کرنے والی عورت اور جو زنا کرنے والا مرد ہے۔ اس آیت میں مسلم حکام کو حکم ہے کہ جو عورت یا جو مرد بھی زنا کا ارتکاب کرے، خواہ وہ کسی دین یا ملت سے تعلق رکھتا ہو، اگر ان کا مقدمہ تمھارے پاس لایا جائے، جب وہ شادی شدہ نہ ہوں تو دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔ شادی شدہ زانیہ اور زانی کے لیے رجم کا حکم ہے، جیسا کہ گزشتہ فائدہ میں مذکور حدیث میں آیا ہے، مزید تفصیل آگے آئے گی۔ ➌ غیر مسلم ذمی اگر زنا کا ارتکاب کریں اور مسلم حکام کے پاس مقدمہ لایا جائے تو ان کا فیصلہ بھی کتاب و سنت کے مطابق کیا جائے گا، جیسا کہ سورۂ مائدہ (۴۸، ۴۹) میں مذکور ہے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے آپ سے ذکر کیا کہ ان کے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا تَجِدُوْنَ فِي التَّوْرَاةِ فِيْ شَأْنِ الرَّجْمِ؟ ] ”تم تورات میں رجم کے متعلق کیا پاتے ہو؟“ انھوں نے کہا: ”ہم انھیں ذلیل کرتے ہیں اور انھیں کوڑے مارے جاتے ہیں۔“ عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تم نے جھوٹ کہا، تورات میں رجم یقینا موجود ہے۔“ چنانچہ وہ تورات لائے اور اسے کھولا، تو ان میں سے ایک شخص نے رجم کی آیت پر ہاتھ رکھ دیا اور جو اس سے پہلے اور اس کے بعد تھا اسے پڑھ دیا۔ عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: ”ہاتھ اٹھا۔“ اس نے ہاتھ اٹھایا تو اس میں رجم کی آیت موجود تھی، توکہنے لگے: ”اے محمد! اس نے سچ کہا ہے، اس میں رجم کی آیت موجود ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے متعلق حکم دیا اور دونوں کو سنگسار کر دیا گیا۔ [ بخاري، الحدود، باب أحکام أہل الذمۃ و إحصانہم إذا زنوا و رفعوا إلی الإمام: ۶۸۴۱ ] امام بخاری رحمہ اللہ کے باب کے عنوان قائم کرنے سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ اہل ذمہ اگر مقدمہ مسلمانوں کے پاس لائیں تو ان کے لیے بھی زنا کی سزا وہی ہے جو مسلمانوں کے لیے ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں پر بھی رجم کا حکم نافذ فرمایا۔ تفصیل کے لیے فتح الباری ملاحظہ فرمائیں۔ جن روایات میں اس حد کے نفاذ کے لیے اسلام کی شرط آئی ہے، ان میں سے کوئی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند سے ثابت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں ذمی غیر مسلموں کو بے شک اپنے دین پر عمل کرنے کی آزادی ہے، مگر انھیں بے حیائی اور بدکاری پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ➍ { ” اَلزَّانِيَةُ “} کو {” الزَّانِيْ “} سے پہلے لانے میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ عموماً زنا کی ترغیب عورتوں کی طرف سے ہوتی ہے، اگر ان کی طرف سے کوئی اشارہ یا مسکراہٹ یا بے حجابی یا کلام میں دلکشی نہ ہو تو مرد کو اقدام کی جرأت کم ہی ہوتی ہے۔ اسامہ ابن زید رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا تَرَكْتُ بَعْدِيْ فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَی الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ] [ بخاري، النکاح، باب ما یتقي من شؤم المرأۃ: ۵۰۹۶ ] ”میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے زیادہ نقصان پہنچانے والا کوئی فتنہ نہیں چھوڑا۔“ اس کے علاوہ زنا کی قباحت اور اس کی عار عورتوں کے لیے زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ بکارت اور حمل کے مسائل کا سامنا انھی کو ہوتا ہے۔ {” فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا “} اس لیے فرمایا کہ زنا کی ترغیب عورت کی طرف سے ہو یا مرد کی طرف سے، سزا دونوں کو ایک جیسی ملے گی۔ ➎ { فَاجْلِدُوْا: ” جِلْدٌ “} کا معنی چمڑا ہے۔ اس لفظ سے فقہاء نے دو مسائل اخذ کیے ہیں، ایک یہ کہ مارنے کے لیے کوڑا چمڑے کا ہونا چاہیے، جو درمیانہ ہو، نہ بہت سخت نہ بالکل نرم۔ دوسرا یہ کہ ضرب یعنی مار کا اثر جلد تک رہنا چاہیے، ایسی ضرب نہ ہو جس سے گوشت پھٹ جائے، اور یہ کوڑے چہرے اور نازک حصوں کو چھوڑ کر جسم کے الگ الگ حصوں پر مارے جائیں نہ کہ ایک ہی جگہ، اور پوری طاقت سے ہاتھ بلند کرکے نہیں بلکہ ہاتھ کندھے سے بلند کیے بغیر درمیانی ضرب لگائی جائے۔ زمخشری نے فرمایا: {” اَلْجِلْدُ “} کا معنی جلد پر ضرب ہے، چنانچہ{”جَلَدَهُ “} (اس نے اس کی جلد پر مارا) ایسے ہی ہے جیسے {”ظَهَرَهُ“} (اس نے اس کی پشت پر مارا)، {” بَطَنَهُ “} (اس نے اس کے پیٹ پر مارا) اور {”رَأَسَهُ“} (اس نے اس کے سر پر مارا)۔ آج کل حکومتیں جلادوں کے ہاتھوں جس قسم کے کوڑے مرواتی ہیں، جن کے لیے جلادوں کو باقاعدہ مشق کروائی جاتی ہے کہ وہ ایک ہی جگہ پڑیں، پھر ملزم کو ٹکٹکی پر باندھ کر اس کے چوتڑوں پر اس طرح کوڑے برسائے جاتے ہیں کہ جلاد دور سے دوڑتا ہوا آ کر پوری قوت سے کوڑا مارتا ہے، ایک ہی جگہ چند کوڑے لگنے کے بعد گوشت کے ٹکڑے اڑنے لگتے ہیں، حتیٰ کہ بعض اوقات ہڈیاں ننگی ہو جاتی ہیں اور وہ ساری عمر کے لیے روگی بن جاتا ہے۔ اسلام میں ایسے کوڑے مارنے کی وحشیانہ سزا کسی بھی جرم میں مقرر نہیں کی گئی، بلکہ اگر زنا کا ارتکاب ایسے کنوارے شخص سے ہو جو سو کوڑے برداشت نہ کر سکتا ہو تو اس کے لیے رعایت بھی موجود ہے۔ سعید بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ ہمارے محلے میں ایک ناقص اعضا والا کمزور آدمی تھا، اسے دیکھا گیا کہ محلے کی ایک لونڈی سے بدکاری کر رہا تھا۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اس کا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے سو کوڑے مارو۔“ لوگوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! وہ اس سے کمزور ہے، اگر ہم نے اسے سو کوڑے مارے تو وہ مر جائے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَخُذُوْا لَهُ عِثْكَالًا، فِيْهِ مِائَةُ شِمْرَاخٍ، فَاضْرِبُوْهُ ضَرْبَةً وَاحِدَةً ] [ ابن ماجہ، الحدود، باب الکبیر والمریض یجب علیہ الحد: ۲۵۷۴ ] ”پھر کھجور کا ایک خوشہ لو، جس میں سو ٹہنیاں ہوں اور وہ اسے ایک ہی بار مار دو۔“ ➏ { وَ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ …:} کیونکہ بدکاروں پر رحم کرنا سارے اسلامی معاشرے پر ظلم ہے۔ پہلی امتوں پر حدود الٰہی میں نرمی ہی سے تباہی آئی۔حدود اللہ کا احترام اور نفاذ باقی نہ رہے تو قوم اندرونی خلفشار اور جرائم میں مبتلا ہو جاتی ہے اور ان پر وبائیں ٹوٹ پڑتی ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِيْنَ! خَمْسٌ إِذَا ابْتُلِيْتُمْ بِهِنَّ، وَ أَعُوْذُ بِاللّٰهِ أَنْ تُدْرِكُوْهُنَّ: لَمْ تَظْهَرِ الْفَاحِشَةُ فِيْ قَوْمٍ قَطُّ، حَتّٰی يُعْلِنُوْا بِهَا، إِلَّا فَشَا فِيْهِمُ الطَّاعُوْنُ وَالْأَوْجَاعُ الَّتِيْ لَمْ تَكُنْ مَضَتْ فِيْ أَسْلَافِهِمُ الَّذِيْنَ مَضَوْا، وَلَمْ يَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ، إِلَّا أُخِذُوْا بِالسِّنِيْنَ وَ شِدَّةِ الْمَؤُوْنَةِ وَ جَوْرِ السُّلْطَانِ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يَمْنَعُوْا زَكَاةَ أَمْوَالِهِمْ، إِلَّا مُنِعُوا الْقَطْرَ مِنَ السَّمَاءِ، وَ لَوْ لَا الْبَهَائِمُ لَمْ يُمْطَرُوْا وَلَمْ يَنْقُضُوْا عَهْدَ اللّٰهِ وَ عَهْدَ رَسُوْلِهِ، إِلَّا سَلَّطَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ، فَأَخَذُوْا بَعْضَ مَا فِيْ أَيْدِيْهِمْ وَمَا لَمْ تَحْكُمْ أَئِمَّتُهُمْ بِكِتَابِ اللّٰهِ، وَ يَتَخَيَّرُوْا مِمَّا أَنْزَلَ اللّٰهُ، إِلَّا جَعَلَ اللّٰهُ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ ] [ ابن ماجہ، الفتن، باب العقوبات: ۴۰۱۹۔ مستدرک حاکم: 540/4، ح: ۸۶۲۳، و قال صحیح علی شرط مسلم۔ صحیح الترغیب و الترہیب: ۲۱۸۷ ] ”اے مہاجرین کی جماعت! پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ جب تم ان میں مبتلا ہو گئے (تو ان کی سزا ضرور ملے گی) اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم انھیں پاؤ، کسی قوم میں جب بھی فحاشی (بے حیائی و بدکاری) عام ہوتی ہے، جو ان میں علانیہ کی جائے تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان کے پہلے گزرے ہوئے لوگوں میں نہیں ہوتی تھیں اور جو بھی قوم ماپ اور تول میں کمی کرتی ہے انھیں قحط سالیوں، مشقت کی سختی اور بادشاہ کے ظلم کے ساتھ پکڑ لیا جاتا ہے اور کوئی بھی قوم اپنے مالوں کی زکوٰۃ دینا چھوڑ دیتی ہے تو ان کے لیے آسمان سے بارش روک لی جاتی ہے اور اگر چوپائے نہ ہوں تو بارش سرے ہی سے نہ ہو اور جب کوئی قوم اللہ اوراس کے رسول کا عہد توڑتی ہے تو ان پر دوسری قوموں میں سے دشمن مسلط کر دیے جاتے ہیں جو ان کے قبضے سے کئی چیزیں چھین لیتے ہیں اور جن کے امراء اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلے نہیں کرتے اور جو اللہ نے اتارا ہے اسے اختیار نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کی لڑائی آپس میں ڈال دیتا ہے۔“ یہ نتیجہ حدود اللہ کو معطل کرنے کا ہے، جب کہ حدود اللہ قائم کرنے سے بے حساب برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۶۶) اور سورۂ اعراف (۹۶)۔ ➐ { وَ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ:} اس کایہ مطلب نہیں کہ انھیں مارتے وقت تمھارے دل میں ان پر رحم اور شفقت کا کوئی جذبہ پیدا نہ ہو، بلکہ {” فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ “} کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حد نافذ کرنے میں تمھاری طرف سے کوئی نرمی یا ترس رکاوٹ نہ بنے۔ رہا مارتے ہوئے، یا یہ منظر دیکھ کر دل میں رحم و شفقت کا کوئی جذبہ پیدا ہونا تو یہ طبعی بات ہے، اس پر آدمی کا کوئی اختیار نہیں اور نہ اس پر کوئی گناہ ہے۔ گناہ یہ ہے کہ ترس کھا کر حد نافذ نہ کی جائے، یا ترس کھا کر حد نہ لگانے کی سفارش کی جائے، یا اس قدر آہستہ کوڑے مارے جائیں کہ حد کا مقصد ہی فوت ہو جائے۔ قرہ مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: ”یا رسول اللہ! میں بکری ذبح کرتا ہوں تو میں اس پر رحم کرتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَالشَّاةُ إِنْ رَحِمْتَهَا رَحِمَكَ اللّٰهُ، مَرَّتَيْنِ ] [ الأدب المفرد للبخاري: ۳۷۳۔ مسند أحمد: 436/3، ح: ۱۵۵۹۸ ] ”اور بکری پر اگر تو رحم کرے گا تو اللہ تجھ پر رحم کرے گا۔“ یہ الفاظ آپ نے دو مرتبہ فرمائے۔“ ➑ وہ جرم، جس کی حد اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہے، وہ حاکم کے پاس لے جانے سے پہلے آپس میں معاف کیا جا سکتا ہے، حاکم کے پاس مقدمہ پیش ہونے کے بعد نہ سفارش کی اجازت ہے، نہ حاکم کو حد معاف کرنے کا اختیار ہے۔ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ تَعَافَوُا الْحُدُوْدَ فِيْمَا بَيْنَكُمْ فَمَا بَلَغَنِيْ مِنْ حَدٍّ فَقَدْ وَجَبَ ] [أبوداوٗد، الحدود، باب یعفی عن الحدود…: ۴۳۷۶۔ نسائي: ۴۸۹۰، قال الألباني صحیح ] ”حدود کو آپس میں ایک دوسرے کو معاف کر دیا کرو، کیونکہ میرے پاس جو بھی حد آئے گی واجب ہو جائے گی۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ قریش کو مخزومی عورت کے معاملے نے فکر میں ڈال دیا، جس نے چوری کی تھی، کہنے لگے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کون بات کرے؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے اسامہ بن زید کے سوا کون یہ جرأت کرے گا۔“ تو اسامہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَتَشْفَعُ فِيْ حَدٍّ مِنْ حُدُوْدِ اللّٰهِ؟ ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّمَا ضَلَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوْا إِذَا سَرَقَ الشَّرِيْفُ تَرَكُوْهُ، وَ إِذَا سَرَقَ الضَّعِيْفُ فِيْهِمْ أَقَامُوْا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَايْمُ اللّٰهِ! لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعَ مُحَمَّدٌ يَدَهَا ] [ بخاري، الحدود، باب کراھیۃ الشفاعۃ في الحد إذا رفع إلی السلطان: ۶۷۸۸۔ مسلم: ۱۶۸۸ ] ”کیا تم اللہ کی حدوں میں سے ایک حد کے متعلق سفارش کر رہے ہو؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور خطبہ دیا، فرمایا: ”لوگو! تم سے پہلے لوگ اسی لیے گمراہ ہو گئے کہ جب اونچا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کر دیتے۔ اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی چوری کرتی تو یقینا محمد اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔“ ➒ { وَ لْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآىِٕفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ:} اللہ تعالیٰ کی حدود کے دو مقصد ہیں، ایک یہ کہ مجرم کو اس کے جرم کی سزا ملے، دوسرا یہ کہ وہ اس کے لیے اور لوگوں کے لیے عبرت بنے اور وہ اس جرم سے باز رہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَيْدِيَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ وَ اللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» [ المائدۃ: ۳۸ ] ”اور جو چوری کرنے والا ہے اور جو چوری کرنے والی ہے سو دونوں کے ہاتھ کاٹ دو۔ اس کی جزا کے لیے جو ان دونوں نے کمایا، اللہ کی طرف سے عبرت کے لیے اور اللہ سب پر غالب کمال حکمت والا ہے۔“ چور کا کٹا ہوا ہاتھ عبرت کے لیے کافی ہے، یہاں زانی کے لیے حد لگاتے وقت مومنوں کی ایک جماعت موجود ہونے کا حکم دیا، تاکہ باعث عبرت ہو۔ کوڑے مارتے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت کی موجودگی بجائے خود ایک سزا ہے، کیونکہ کوڑوں کی تکلیف تو ختم ہو جاتی ہے مگر رسوائی کا احساس جلدی ختم ہونے والا نہیں۔ اس کے علاوہ لوگوں کے سامنے حد لگانے کی صورت میں اس بات کی گنجائش بھی نہیں رہے گی کہ حد معطل کر دی جائے، یا اس میں کمی یا نرمی کی جائے۔ ➓ شادی شدہ مرد یا شادی شدہ عورت زنا کرے تو اس کی حد رجم ہے جو قرآن، سنت متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ یہ حکم قرآن مجید میں موجود آیات کے ساتھ بھی ثابت ہے اور قرآن کی اس آیت سے بھی ثابت ہے جس کی تلاوت منسوخ ہے، لیکن اس کا حکم باقی ہے۔ قرآن مجید میں موجود آیت کے ذکر سے پہلے یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ پہلے انبیاء اور ان کی امتوں پر نازل شدہ احکام جو قرآن نے ذکر فرمائے ہیں اور قرآن و سنت میں ان کے منسوخ ہونے کا ذکر نہیں کیا گیا، ان پر عمل ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی پوری امت پر فرض ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ انعام میں اٹھارہ (۱۸) پیغمبروں کا نام لیا اور ان کے آباء اور اولاد و اخوان کا ذکر فرمایا، پھر فرمایا: «اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ» [الأنعام: ۹۰ ] ”یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت دی، سو تو ان کی ہدایت کی پیروی کر۔“ رجم کی سزا کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ مائدہ میں تورات کے حوالے سے فرمایا ہے: «وَ كَيْفَ يُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِيْهَا حُكْمُ اللّٰهِ» [ المائدۃ: ۴۳ ] ”اور وہ تجھے کیسے منصف بنائیں گے جب کہ ان کے پاس تورات ہے جس میں اللہ کا حکم ہے۔“ یہ حکم رجم تھا جیسا کہ مذکورہ بالا آیت کے فوائد میں گزر چکا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے موافق فیصلہ فرمایا اور فرمایا: [ اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا أَمْرَكَ إِذْ أَمَاتُوْهُ ] ”اے اللہ! میں پہلا شخص ہوں جس نے تیرا حکم زندہ کیا، جب انھوں نے اسے مردہ کر دیا تھا۔“ مفصل حدیث اس طرح ہے کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کے پاس سے گزرے جس کا منہ کالا کیا ہوا تھا اور اسے کوڑے مارے گئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بلایا اور فرمایا: [ هٰكَذَا تَجِدُوْنَ حَدَّ الزَّانِيْ فِيْ كِتَابِكُمْ؟ قَالُوْا نَعَمْ، فَدَعَا رَجُلًا مِنْ عُلَمَائِهِمْ، فَقَالَ أَنْشُدُكَ بِاللّٰهِ الَّذِيْ أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلٰی مُوْسٰی! أَهٰكَذَا تَجِدُوْنَ حَدَّ الزَّانِيْ فِيْ كِتَابِكُمْ؟ قَالَ لَا، وَلَوْ لَا أَنَّكَ نَشَدْتَنِيْ بِهٰذَا لَمْ أُخْبِرْكَ، نَجِدُهُ الرَّجْمَ، وَلٰكِنَّهُ كَثُرَ فِيْ أَشْرَافِنَا، فَكُنَّا إِذَا أَخَذْنَا الشَّرِيْفَ تَرَكْنَاهُ، وَإِذَا أَخَذْنَا الضَّعِيْفَ، أَقَمْنَا عَلَيْهِ الْحَدَّ، قُلْنَا تَعَالَوْا فَلْنَجْتَمِعْ عَلٰی شَيْءٍ نُقِيْمُهُ عَلَی الشَّرِيْفِ وَالْوَضِيْعِ، فَجَعَلْنَا التَّحْمِيْمَ وَالْجَلْدَ مَكَانَ الرَّجْمِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا أَمْرَكَ إِذْ أَمَاتُوْهُ فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ] [مسلم، الحدود، باب رجم الیہود أہل الذمۃ في الزنٰی: ۱۷۰۰ ] ”کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی حد ایسے ہی پاتے ہو؟“ انھوں نے کہا: ”ہاں!“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علماء میں سے ایک آدمی کو بلایا اور فرمایا: ”میں تمھیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ پر تورات نازل فرمائی، کیا تم اپنی کتاب میں زنا کی حد ایسے ہی پاتے ہو؟“ اس نے کہا: ”نہیں! اور اگر آپ مجھے یہ قسم نہ دیتے تو میں آپ کو نہ بتاتا۔ ہم وہ (حد) رجم ہی پاتے ہیں، لیکن یہ کام (زنا) ہمارے بڑے لوگوں میں عام ہو گیا تو ہم جب بڑے کو پکڑتے تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور کو پکڑتے تو اس پر حد قائم کر دیتے۔ تو ہم نے کہا، آؤ ہم کسی ایسی سزا پر متفق ہو جائیں جو ہم اونچے لوگوں اور کمزور لوگوں سب پر قائم کریں، تو ہم نے رجم کی جگہ منہ کالا کرنا اور کوڑے مارنا مقرر کر دیا۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میں پہلا شخص ہوں جس نے تیرا حکم زندہ کیا جب انھوں نے اسے مردہ کر دیا تھا۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا اور اسے رجم کر دیا گیا۔“ اس حدیث کے بعد سورۂ مائدہ کی آیات (۴۱ تا ۵۰) ملاحظہ فرمائیں، رجم اللہ کا حکم ہونا بالکل واضح ہو جائے گا۔ تورات کے اس حکم رجم کو اللہ کا حکم قرار دے کر اس پر عمل ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے اعضا کے قصاص کا ذکر تورات کے حوالے سے فرمایا۔ قرآن میں اعضا کے قصاص کا اس کے سوا کہیں ذکر نہیں، اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضا کے قصاص کا حکم دیا اور امت اعضا کے قصاص پر متفق ہے، فرمایا: «وَ كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَ الْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ وَ مَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ» [ المائدۃ: ۴۵ ] ”اور اس میں ہم نے ان پر لکھ دیا کہ جان کے بدلے جان ہے اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور سب زخموں میں برابر بدلا ہے، پھر جو اس (قصاص) کا صدقہ کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔“ مائدہ کی آیت (۴۸) میں قرآن کو پہلی کتابوں پر {” مُهَيْمِنًا “} فرمانے سے ایک مقصد یہ بھی ظاہر ہے کہ شادی شدہ زانی کے رجم اور نفس اور اعضا کے قصاص کا مسئلہ اب قرآن کے زیر حفاظت ہے۔ ⓫ قرآن کی وہ آیت جس میں رجم کا صریح حکم تھا اور جس کی تلاوت منسوخ اور حکم باقی ہے، اس کا ذکر امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر نہایت شدّ و مد سے فرمایا، جب آپ کو فکر ہوئی کہ کچھ لوگ قرآن میں رجم کا صریح لفظ نہیں دیکھیں گے تو اس کا انکار کر دیں گے (جیسا کہ خارجیوں نے اور ہمارے زمانے کے کچھ آزاد خیال لوگوں نے کیا ہے) تو اس کے ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر رضی اللہ عنہ اور اپنے عمل کا حوالہ بھی دیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خطبہ مروی ہے، جو انھوں نے اپنے آخری حج سے واپس آ کر مدینہ میں دیا۔ اس میں مذکور ہے کہ انھوں نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ بِالْحَقِّ، وَ أَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ، فَكَانَ مِمَّا أَنْزَلَ اللّٰهُ آيَةُ الرَّجْمِ فَقَرَأْنَاهَا وَ عَقَلْنَاهَا وَ وَعَيْنَاهَا، رَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَ رَجَمْنَا بَعْدَهُ، فَأَخْشَی إِنْ طَالَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ أَنْ يَّقُوْلَ قَائِلٌ، وَاللّٰهِ! مَا نَجِدُ آيَةَ الرَّجْمِ فِيْ كِتَابِ اللّٰهِ، فَيَضِلُّوْا بِتَرْكِ فَرِيْضَةٍ أَنْزَلَهَا اللّٰهُ، وَالرَّجْمُ فِيْ كِتَابِ اللّٰهِ حَقٌّ عَلٰی مَنْ زَنٰی إِذَا أُحْصِنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ، أَوْ كَانَ الْحَبَلُ، أَوِ الْاِعْتِرَافُ] [بخاري، الحدود، باب رجم الحبلٰی من الزنا إذا أحصنت: ۶۸۳۰ ]
زانی نکاح نہ کرے مگر زانیہ کے ساتھ یا مشرکہ کے ساتھ اور زانیہ کے ساتھ نکاح نہ کرے مگر زانی یا مشرک اور یہ حرام کر دیا گیا ہے اہل ایمان پر
مولانا محمد جوناگڑھی
زانی مرد بجز زانیہ یا مشرکہ عورت کے اور سے نکاح نہیں کرتا اور زناکار عورت بھی بجز زانی یا مشرک مرد کے اور سے نکاح نہیں کرتی اور ایمان والوں پر یہ حرام کردیا گیا
احمد رضا خان بریلوی
بدکار مرد نکاح نہ کرے مگر بدکار عورت یا شرک والی سے، اور بدکار عورت سے نکاح نہ کرے مگر بدکار مرد یا مشرک اور یہ کام ایمان والوں پر حرام ہے
علامہ محمد حسین نجفی
زناکار مرد نکاح نہیں کرتا مگر زناکار عورت یا مشرک عورت کے ساتھ اور زناکار عورت نکاح نہیں کرتی مگر زناکار مرد یا مشرک مرد کے ساتھ اور یہ (زنا) اہلِ ایمان پر حرام قرار دے دیا گیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
زانی مرد نکاح نہیں کرے گا مگر کسی زانیہ عورت سے، یا کسی مشرکہ عورت سے، اور زانیہ عورت، اس سے نکاح نہیں کرے گا مگر کوئی زانی یا مشرک۔ اور یہ کام ایمان والوں پر حرام کر دیا گیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زانی اور زانیہ اور اخلاقی مجرم ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ زانی سے زناکاری پر رضامند وہی عورت ہوتی ہے جو بدکار ہو یا مشرکہ ہو کہ وہ اس برے کام کو عیب ہی نہیں سمجھتی۔ ایسی بدکار عورت سے وہی مرد ملتا ہے جو اسی جیسا بدچلن ہو یا مشرک ہو جو اس کی حرمت کا قائل ہی نہ ہو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بہ سند صحیح مروی ہے کہ ”یہاں نکاح سے مراد جماع ہے یعنی زانیہ عورت سے زنا کار یا مشرک مرد ہی زنا کرتا ہے۔“ یہی قول مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، عروہ بن زبر، ضحاک، مکحول، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم اور بہت سے بزرگ مفسرین سے مروی ہے۔ مومنوں پر یہ حرام ہے یعنی زناکاری کرنا اور زانیہ عورتوں سے نکاح کرنا یا عفیفہ اور پاک دامن عورتوں کو ایسے زانیوں کے نکاح میں دینا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”بدکار عورتوں سے نکاح کرنا مسلمانوں پر حرام ہے“ جیسے اور آیت میں ہے «مُحْصَنٰتٍ غَيْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ» ۱؎ [4-النساء:25] یعنی ’ مسلمانوں کو جن عورتوں سے نکاح کرنا چاہیئے ان میں یہ تینوں اوصاف ہونے چاہئیں وہ پاک دامن ہوں، وہ بدکار نہ ہوں، نہ چوری چھپے برے لوگوں سے میل ملاپ کرنے والی ہوں ‘۔ یہی تینوں وصف مردوں میں بھی ہونے کا بیان کیا گیا ہے۔ اسی لیے امام احمد رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ ”نیک اور پاک دامن مسلمان کا نکاح بدکار عورت سے صحیح نہیں ہوتا جب تک کہ وہ توبہ نہ کرلے ہاں بعد از توبہ عقد نکاح درست ہے۔ اسی طرح بھولی بھالی، پاک دامن، عفیفہ عورتوں کا نکاح زانی اور بدکار لوگوں سے منعقد ہی نہیں ہوتا، جب تک وہ سچے دل سے اپنے اس ناپاک فعل سے توبہ نہ کر لے کیونکہ فرمان الٰہی ہے کہ ’ یہ مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے ‘۔ { ایک شخض نے ام مھزول نامی ایک بدکار عورت سے نکاح کر لینے کی اجازت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھ کر سنائی }۔ ۱؎ [مسند احمد:159/2:حسن] ایک اور روایت میں ہے کہ اس کی طلب اجازت پر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [مسند احمد:225/2:صحیح]
ترمذی شریف میں ہے کہ { ایک صحابی جن کا نام سیدنا مرثد بن ابو مرثد رضی اللہ عنہ تھا، یہ مکہ سے مسلمان قیدیوں کو اٹھالایا کرتے تھے اور مدینے پہنچا دیا کرتے تھے۔ عناق نامی ایک بدکار عورت مکے میں رہا کرتی تھی۔ جاہلیت کے زمانے میں ان کا اس عورت سے تعلق تھا۔ سیدنا مرثد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میں ایک قیدی کو لانے کیلئے مکہ شریف گیا، میں ایک باغ کی دیوار کے نیچے پہنچا رات کا وقت تھا چاندنی چٹکی ہوئی تھی۔ اتفاق سے عناق آ پہنچی اور مجھے دیکھ لیا بلکہ پہچان بھی لیا اور آواز دے کر کہا کیا مرثد ہے؟ میں نے کہا ہاں مرثد ہوں۔ اس نے بڑی خوشی ظاہر کی اور مجھ سے کہنے لگی چلو رات میرے ہاں گزارنا۔ میں نے کہا عناق اللہ تعالیٰ نے زناکاری حرام کردی ہے۔ جب وہ مایوس ہوگئی تو اس نے مجھے پکڑوانے کیلئے غل مچانا شروع کیا کہ اے خیمے والو ہوشیار ہو جاؤ دیکھو چور آ گیا ہے۔ یہی ہے جو تمہارے قیدیوں کو چرا کر لے جایا کرتا ہے۔ لوگ جاگ اٹھے اور آٹھ آدمی مجھے پکڑنے کیلئے میرے پیچھے دوڑے۔ میں مٹھیاں بند کر کے خندق کے راستے بھاگا اور ایک غار میں جا چھپا۔ یہ لوگ بھی میرے پیچھے ہی پیچھے غار پر آ پہنچے لیکن میں انہیں نہ ملا۔ یہ وہیں پیشاب کرنے کو بیٹھے واللہ ان کا پیشاب میرے سر پر آ رہا تھا لیکن اللہ نے انہیں اندھا کردیا۔ ان کی نگاہیں مجھ پر نہ پڑیں، ادھر ادھر ڈھونڈ بھال کر واپس چلے گئے۔ میں نے کچھ دیر گزار کر جب یہ یقین کرلیا کہ وہ پھر سوگئے ہوں گے تو یہاں سے نکلا، پھر مکے کی راہ لی اور وہیں پہنچ کر اس مسلمان قیدی کو اپنی کمر پر چڑھایا اور وہاں سے لے بھاگا، چونکہ وہ بھاری بدن کے تھے، میں جب اذخر میں پہنچا تو تھک گیا میں نے انہیں کمر سے اتارا ان کے بندھن کھول دیئے اور آزاد کر دیا۔ } { اب اٹھاتا چلاتا مدینے پہنچ گیا، چونکہ عناق کی محبت میرے دل میں تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ میں اس سے نکاح کر لوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے۔ میں نے دوبارہ یہی سوال کیا پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور یہ آیت اتری، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے مرثد زانیہ سے نکاح زانی یا مشرک ہی کرتا ہے تو اس سے نکاح کا ارادہ چھوڑ دے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3177،قال الشيخ الألباني:حسن] امام ابوداؤد اور نسائی بھی اسے اپنی سنن کی کتاب النکاح میں لائے ہیں۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2051،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابوداؤد وغیرہ میں ہے { زانی جس پر کوڑے لگ چکے ہوں وہ اپنے جیسے سے ہی نکاح کر سکتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2052،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند امام احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { تین قسم کے لوگ ہیں جو جنت میں نہ جائیں گے اور جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے نہ دیکھے گا۔ (١) ماں باپ کا نافرمان۔ (٢) وہ عورتیں جو مردوں کی مشابہت کریں۔ (٣) اور دیوث۔ اور تین قسم کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے نہ دیکھے گا، (١) ماں باپ کا نافرمان (٢) ہمیشہ کا نشے کا عادی (٣) اور اللہ کی راہ میں دے کر احسان جتانے والا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:134/2:حسن] مسند میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تین قسم کے لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کر دی ہے (١) ہمیشہ کا شرابی، (٢) ماں باپ کا نافرمان۔ (٣) اور اپنے گھر والوں میں خباثت کو برقرار رکھنے والا }۔ ۱؎ [مسند احمد:29/2:صحیح بالشواهد] ابوداؤد طیالسی میں ہے { جنت میں کوئی دیوث نہیں جائے گا }۔ ۱؎ [مسند طیالسی:642:ضعیف] ابن ماجہ میں ہے { جو شخص اللہ تعالیٰ سے پاک صاف ہو کر ملنا چاہتا ہے، اسے چاہیئے کہ پاکدامن عورتوں سے نکاح کرے جو لونڈیاں نہ ہوں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:1862،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے۔ دیوث کہتے ہیں بے غیرت شخص کو۔ نسائی میں ہے کہ { ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے اپنی بیوی سے بہت ہی محبت ہے لیکن اس میں یہ عادت ہے کہ کسی ہاتھ کو واپس نہیں لوٹاتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { طلاق دیدے }۔ اس نے کہا مجھے تو صبر نہیں آنے کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر جا اس سے فائدہ اٹھا } }۔ [سنن نسائی:3231،قال الشيخ الألباني:حسن] لیکن یہ حدیث ثابت نہیں اس کا راوی عبدالکریم قوی نہیں۔ دوسرا راوی اس کا ہارون ہے جو اس سے قوی ہے مگر ان کی روایت مرسل ہے اور یہی ٹھیک بھی ہے۔ یہی روایت مسند میں مروی ہے لیکن امام نسائی رحمتہ اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ مسند کرنا خطا ہے اور صواب یہی ہے کہ یہ مرسل ہے۔ یہ حدیث کی اور کتابوں میں ہے اور سندوں سے بھی مروی ہے۔
امام احمد رحمہ اللہ تو اسے منکر کہتے ہیں۔ امام ابن قتیبہ رحمہ اللہ اس کی تاویل کرتے ہیں کہ یہ جو کہا ہے کہ وہ کسی چھونے والے کے ہاتھ کو لوٹاتی نہیں اس سے مراد بے حد سخاوت ہے کہ وہ کسی سائل سے انکار ہی نہیں کرتی۔ لیکن اگر یہی مطلب ہوتا تو حدیث میں بجائے «لَامِسٍ» کے لفظ کے «مُلْتَمِسٍ» کا لفظ ہونا چاہیئے تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کی خصلت ایسی معلوم ہوتی تھی نہ یہ کہ وہ برائی کرتی تھی کیونکہ اگر یہی عیب اس میں ہوتا تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس صحابی رضی اللہ کو اس کے رکھنے کی اجازت نہ دیتے کیونکہ یہ تو دیوثی ہے۔ جس پر سخت وعید آئی ہے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ خاوند کو اس کی عادت ایسی لگی ہو اور اس کا اندیشہ ظاہر کیا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ دیا کہ پھر طلاق دیدو لیکن جب اس نے کہا کہ مجھے اس سے بہت ہی محبت ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسانے کی اجازت دیدی کیونکہ محبت تو موجود ہے۔ اسے ایک خطرے کے صرف وہم پر توڑ دینا ممکن ہے کوئی برائی پیدا کر دے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔ الغرض زانیہ عورتوں سے پاک دامن مسلمانوں کو نکاح کرنا منع ہے ہاں جب وہ توبہ کر لیں تو نکاح حلال ہے۔ چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ ایک ایسی ہی واہی عورت سے میرا برا تعلق تھا، لیکن اب اللہ تعالیٰ نے ہمیں توبہ کی توفیق دی تو میں چاہتا ہوں کہ اس سے نکاح کرلوں لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ زانی ہی زانیہ اور مشرکہ سے نکاح کرتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس آیت کا یہ مطلب نہیں تم اس سے اب نکاح کرسکتے ہو، جاؤ اگر کوئی گناہ ہو تو میرے ذمے۔“ حضرت یحییٰ رحمہ اللہ سے جب یہ ذکر آیا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ”یہ آیت منسوخ ہے اس کے بعد کی آیت «وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَاىِٕكُمْ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ» ۱؎ [24-النور:32] سے۔“ امام ابو ابوعبداللہ محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
3-1اس کے مفہوم میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔
(آیت 3) ➊ { اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوْ مُشْرِكَةً:} یہاں ایک سوال ہے کہ کئی زانی مرد عفیف اور پاک دامن عورتوں سے نکاح کرتے ہیں اور کئی زانیہ عورتوں سے عفیف اور پاک دامن مرد نکاح کر لیتے ہیں، تو اس آیت کا مطلب کیا ہے؟ اس سوال کا جواب بعض مفسرین نے یہ دیا ہے کہ یہاں نکاح سے مراد معروف نکاح نہیں ہے، بلکہ یہ جماع کے معنی میں ہے اور مقصد زنا کی قباحت اور شناعت بیان کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ زانی مرد اپنی ناجائز ہوس کسی زانیہ ہی سے پوری کرے گا جو اس جیسی بدکار ہے، یا کسی مشرکہ سے جو زنا کو حرام نہیں سمجھتی، اسی طرح زانیہ عورت کی ناجائز ہوس وہی مرد پوری کرے گا جو اس جیسا بدکار ہے، یا کوئی مشرک جو زنا کو حرام نہیں سمجھتا اور ایسا کرنا یعنی زنا کرنا مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے۔ طبری نے حسن سند کے ساتھ یہ تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کی ہے اور اسے راجح قرار دیا ہے۔ اس تفسیر کے مطابق آیت سے مراد زنا کی حرمت ہے، نکاح کی حرمت نہیں۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ فاسق و فاجر آدمی، جس کی عادت زنا اور فسق ہے، اسے صالح عورتوں سے نکاح کی رغبت نہیں ہوتی، اسے اپنے جیسی کسی خبیث، فاسق اور بدکار عورت یا اس جیسی مشرکہ عورت ہی سے نکاح کی رغبت ہوتی ہے، اسی طرح علانیہ بدکار اور فاسق عورت سے نکاح کی رغبت صالح مردوں کو نہیں ہوتی بلکہ اس جیسے بدکار مردوں ہی کو ہوتی ہے۔ ان مفسرین کے مطابق یہ حکم اکثر لوگوں کا بیان ہوا ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے نیکی کوئی پرہیز گار آدمی ہی کرتا ہے، حالانکہ بعض اوقات وہ آدمی بھی نیکی کر لیتا ہے جو پرہیز گار نہیں ہوتا۔ اسی طرح زانی بعض اوقات عفیفہ و مومنہ عورت سے نکاح کر لیتا ہے اور زانیہ عورت سے بعض اوقات عفیف و مومن مرد نکاح کر لیتا ہے۔ مشرک مرد اور مشرکہ عورت کی زانی مرد اور زانیہ عورت کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ جس طرح مشرک مرد اور مشرکہ عورت اپنے مالک کو چھوڑ کر دوسروں کے در پر جھکتے ہیں اسی طرح زانی مرد اپنی بیوی کو چھوڑ کر اور زانیہ عورت اپنے شوہر کو چھوڑ کر غیروں سے منہ کالا کرتے ہیں۔ ➋ { وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ:” ذٰلِكَ “} کا اشارہ بعض نے زنا کی طرف قرار دیا ہے، جیسا کہ اوپر گزرا، مگر زیادہ درست یہی ہے کہ یہ اشارہ عقد نکاح کی طرف ہے۔ یعنی یہ جانتے ہوئے کہ فلاں عورت بدکار اور غیر تائب ہے، اس سے نکاح کرنا مومن مردوں کے لیے حرام ہے، اسی طرح اپنی پاک دامن بیٹی کو کسی بدکار شخص کے نکاح میں دینا جو تائب نہ ہو، مومنوں کے لیے حرام ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ۠ وَ الْخَبِيْثُوْنَ لِلْخَبِيْثٰتِ وَ الطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيْنَ وَ الطَّيِّبُوْنَ لِلطَّيِّبٰتِ» [ النور: ۲۶ ] ”گندی عورتیں گندے مردوں کے لیے ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے لیے ہیں اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر بھی مردوں اور عورتوں کے نکاح کے لیے دونوں کے پاک دامن ہونے کی اور بدکار نہ ہونے کی شرط لگائی ہے، چنانچہ فرمایا: «اَلْيَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ وَ طَعَامُ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَاۤ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ وَ لَا مُتَّخِذِيْۤ اَخْدَانٍ» [ المائدۃ: ۵ ] ”آج تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور ان لوگوں کا کھانا تمھارے لیے حلال ہے جنھیں کتاب دی گئی اور تمھارا کھانا ان کے لیے حلال ہے اور مومن عورتوں میں سے پاک دامن عورتیں اور ان لوگوں کی پاک دامن عورتیں جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی، جب تم انھیں ان کے مہر دے دو، اس حال میں کہ تم قید نکاح میں لانے والے ہو، بدکاری کرنے والے نہیں اور نہ چھپی آشنائیں بنانے والے۔“ {” وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ “} کی شان نزول میں مروی حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ بدکار عورتوں یا بدکار مردوں سے، جو تائب نہ ہوں، نکاح حرام ہے۔ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی جسے مرثد بن ابی مرثد (رضی اللہ عنھما) کہا جاتا تھا، وہ مکہ سے قیدی اٹھا کر مدینہ لایا کرتا تھا اور مکہ میں ایک بدکار عورت تھی، جسے عناق کہا جاتا تھا، وہ اس کی دوست تھی۔ مرثد بن ابی مرثد نے مکہ میں قید ایک آدمی سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے اٹھا لے جائے گا۔ اس کا بیان ہے کہ میں مکہ میں آیا اور میں چاندنی رات میں مکہ کی ایک دیوار کے سائے میں تھا کہ عناق آئی، اس نے دیوار کے ساتھ میرے سائے کا ہیولا دیکھا۔ جب وہ میرے پاس پہنچی تو اس نے مجھے پہچان لیا۔ کہنے لگی: ”مرثد ہو؟“ میں نے کہا: ”مرثد ہوں۔“ کہنے لگی: ”مرحباً و اھلاً، آؤ ہمارے پاس رات گزارو۔“ میں نے کہا: ”عناق! اللہ نے زنا حرام کر دیا ہے۔“ اس نے آواز دی، خیموں والو! یہ وہ آدمی ہے جو تمھارے آدمی اٹھا لے جاتا ہے۔ چنانچہ آٹھ آدمی میرے پیچھے لگ گئے اور میں (مکہ کے ایک پہاڑ) خندمہ پر چلنے لگا، حتیٰ کہ اس کی ایک غار تک پہنچ کر اس میں داخل ہو گیا۔ وہ لوگ آئے، حتیٰ کہ میرے سر پر آ کھڑے ہوئے اور انھوں نے پیشاب کیا، تو ان کا پیشاب میرے سر پر گرا، مگر اللہ تعالیٰ نے انھیں مجھ سے اندھا کر دیا۔ پھر وہ واپس چلے گئے، میں بھی دوبارہ اپنے ساتھی کے پاس آیا اور اسے اٹھایا، وہ آدمی بھاری تھا، یہاں تک کہ میں اسے ”اذخر“ تک لے آیا (یعنی مکہ سے باہر جہاں اذخر گھاس تھی)، اس کی بھاری بیڑی کھولی اور اسے اس طرح لے کر چلا کہ میں اسے اٹھاتا تھا اور وہ مجھے تھکا دیتا تھا، حتیٰ کہ میں مدینہ پہنچ گیا۔ تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”یا رسول اللہ! میں عناق سے نکاح کر لوں؟“ میں نے دو مرتبہ یہ بات کہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، مجھے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: «اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوْ مُشْرِكَةً وَّ الزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ» [ النور: ۳ ] تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرثد! زانی نکاح نہیں کرتا مگر کسی زانیہ یا مشرکہ سے اور جو زانیہ یا مشرکہ ہے اس سے نکاح نہیں کرتا مگر جو زانی ہے یا مشرک ہے، اس لیے تو اس (عناق) سے نکاح مت کر۔“ [ ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ النور: ۳۱۷۷۔ نسائي: ۳۲۳۰۔ أبوداوٗد: ۲۰۵۱۔ مستدرک حاکم: 166/2، ح: ۲۷۰۱، و قال الألباني حسن الأسناد ] ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”زانیہ عورت سے نکاح کے متعلق اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور میں تصریح فرمائی ہے کہ وہ حرام ہے اور فرمایا کہ جو اس سے نکاح کرے وہ زانی ہے یا مشرک، کیونکہ یا تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابندی قبول کرے گا اور اس کے وجوب کا عقیدہ رکھے گا یا نہیں۔ اگر وہ اس کے وجوب کا عقیدہ ہی نہ رکھتا ہو تو وہ مشرک ہے اور اگر اس کی پابندی قبول کرتا ہو اور اس کے وجوب کا عقیدہ رکھتا ہو، پھر اس کی خلاف ورزی کرے تو وہ زانی ہے۔ پھر اس کے حرام ہونے کی تصریح فرمائی کہ زانی یا مشرک سے نکاح مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے۔“ اس آیت کے مطابق امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ پاک دامن مرد کا نکاح زانی غیر تائب عورت سے اور پاک دامن عورت کا نکاح زانی غیر تائب مرد سے حرام قرار دیتے ہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے تفسیر سورۂ نور میں اس مسلک کی تائید کرتے ہوئے ان لوگوں کی پُر زور تردید کی جو اس نکاح کو جائز قرار دیتے ہیں۔ ➌ اگر کسی مرد سے زنا سرزد ہو جائے، پھر وہ توبہ کر لے تو اس کا نکاح پاک دامن عورت سے جائز ہے، اسی طرح زانیہ عورت توبہ کر لے تو اس سے عفیف مومن کا نکاح جائز ہے، جیسا کہ کوئی مشرک مرد یا عورت شرک سے توبہ کرکے مسلمان ہو جائیں تو ان کے ساتھ نکاح جائز ہے۔ اس کی دلیل سورۂ فرقان کی آیت (۷۰) اور دوسری بہت سی آیات ہیں۔ ابن ابی حاتم نے اپنی سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ ایک آدمی نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے پوچھا کہ میں ایک عورت کے پاس جاتا تھا اور اس کے ساتھ اس کام کا ارتکاب کرتا تھا جو اللہ نے مجھ پر حرام کیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ اب میرا ارادہ ہے کہ اس سے نکاح کروں تو کچھ لوگوں نے کہا ہے: {” إِنَّ الزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً “} ”زانی نہیں نکاح کرے گا مگر زانیہ سے یا مشرکہ سے۔“ توابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”یہ آیت اس کے متعلق نہیں، تم اس سے نکاح کر لو، جو گناہ ہو گا وہ میرے ذمے رہنے دو۔“ (ابن کثیر، دکتور حکمت بن بشیر نے اس کی سند کو حسن کہا ہے)
اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں، ان کو اسی کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو، اور وہ خود ہی فاسق ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر چار گواه نہ پیش کرسکیں تو انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ یہ فاسق لوگ ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جو پارسا عورتوں کو عیب لگائیں پھر چار گواہ معائنہ کے نہ لائیں تو انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور ان کی گواہی کبھی نہ مانو اور وہی فاسق ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں اور پھر چار گواہ پیش نہ کریں تو انہیں اسّی (۰۸) کوڑے لگاؤ اور کبھی ان کی کوئی گواہی قبول نہ کرو اور یہ لوگ فاسق ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جو پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ نہ لائیں تو انھیں اسی (۸۰) کوڑے مارو اور ان کی کوئی گواہی کبھی قبول نہ کرو اور وہی نافرمان لوگ ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تہمت لگانے والے مجرم ٭٭
جو لوگ کسی عورت پر یا کسی مرد پر زناکاری کی تہمت لگائیں اور ثبوت نہ دے سکیں، تو انہیں اسی کوڑے لگائے جائیں گے، ہاں اگر شہادت پیش کر دیں تو حد سے بچ جائیں گے اور جن پر جرم ثابت ہوا ہے ان پر حد جاری کی جائے گی۔ اگر شہادت نہ پیش کر سکے تو اسی کوڑے بھی لگیں گے اور آئندہ کیلئے ہمیشہ ان کی شہادت غیر مقبول رہے گی اور وہ عادل نہیں بلکہ فاسق سمجھے جائیں گے۔ اس آیت میں جن لوگوں کو مخصوص اور مستثنیٰ کر دیا ہے تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ استثنا صرف فاسق ہونے سے ہے یعنی بعد از توبہ وہ فاسق نہیں رہیں گے، بعض کہتے ہیں نہ فاسق رہیں گے نہ مردود الشہادۃ بلکہ پھر ان کی شہادت بھی لی جائے گی۔ ہاں حد جو ہے وہ توبہ سے کسی طرح ہٹ نہیں سکتی۔ امام مالک، احمد اور شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب تو یہ ہے کہ توبہ سے شہادت کا مردود ہونا اور فسق ہٹ جائے گا۔ سید التابعین سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ اور سلف کی ایک جماعت کا یہی مذہب ہے، لیکن امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں صرف فسق دور ہو جائے گا لیکن شہادت قبول نہیں ہوسکتی۔ بعض اور لوگ بھی یہی کہتے ہیں۔ شعبی اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہ اگر اس نے اس بات کا اقرار کر لیا کہ اسے بہتان باندھا تھا اور پھر توبہ بھی پوری کی تو اس کی شہادت اس کے بعد مقبول ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
4-1اس میں (بہتان تراشی) کی سزا بیان کی گئی ہے کہ جو شخص کسی پاک دامن عورت یا مرد پر زنا کی تہمت لگائے اس طرح جو عورت کسی پاک دامن مرد یا عورت پر زنا کی تہمت لگائے اور بطور ثبوت چار گواہ پیش نہ کرسکے تو اس کے لئے تین حکم بیان کئے گئے ہیں -1 انھیں اسی کوڑے لگائے جائیں -2 ان کی شہادت قبول نہ کی جائے -3 وہ عند اللہ و عندالناس فاسق ہیں۔
(آیت 4) ➊ { وَ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ: ” الْمُحْصَنٰتِ “} سے مراد پاک دامن عورتیں ہیں، کنواری ہوں یا شادی شدہ۔ ان پر تہمت لگانے سے مراد زنا کی تہمت ہے، کیونکہ ”پاک دامن عورتوں“ کا لفظ قرینہ ہے کہ ان پر تہمت پاک دامن نہ ہونے ہی کی ہے۔اس کے علاوہ چار گواہوں کی شہادت بھی دلیل ہے کہ مراد زنا کی تہمت ہے، اگر کوئی شخص کسی پر چوری یا شراب نوشی یا کفر وغیرہ کی تہمت لگائے تو اس پر حد قذف نافذ نہیں کی جائے گی، بلکہ حاکم کی صواب دید کے مطابق تعزیر ہو گی۔ اگرچہ یہاں ذکر پاک دامن عورتوں کا ہے مگر اس میں پاک دامن مرد بھی شامل ہیں، ان پر بہتان لگانے والوں پر بھی یہی حد لاگو ہو گی، کیونکہ جس علت کی بنا پر پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی حد مقرر کی گئی ہے وہی علت پاک دامن مردوں پر تہمت لگانے میں بھی موجود ہے۔ اس لیے پوری امت کا اجماع ہے کہ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی حد پاک دامن مرد پر تہمت لگانے والے پر بھی نافذ کی جائے گی۔ یہاں عورتوں کا ذکر اس لیے ہے کہ ان پر تہمت زیادہ تکلیف دہ اور باعث عار ہوتی ہے اور اس لیے بھی کہ آگے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا پر تہمت کا ذکر آ رہا ہے۔ ➋ جو شخص کسی پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت لگائے اس سے مطالبہ کیا جائے گا کہ اپنے دعوے کے ثبوت کے لیے چار مسلمان عادل مرد گواہ پیش کرے۔ (دیکھیے نساء: ۱۵) دوسرے کسی جرم کے ثبوت کے لیے چار گواہ مقرر نہیں کیے گئے۔ اگر کسی شخص نے کسی کو زنا کرتے ہوئے اپنی آنکھوں سے بھی دیکھا ہے تو اگر اس کے پاس مزید تین گواہ نہیں تو اسے اجازت نہیں کہ اس کا ذکر کرے، بلکہ اسے خاموش رہنے کا حکم ہے، تاکہ وہ گندگی جہاں ہے وہیں تک محدود رہے، معاشرے میں لوگوں کے ناجائز تعلقات کے چرچے نہ ہوں، کیونکہ اس سے بے شمار برائیاں پھیلتی ہیں، ماحول میں زنا کا تذکرہ اسے پھیلانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ کوئی شخص اگر چھپ کر زنا کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا اتنا نقصان نہیں جتنا زنا کی اشاعت (بے حیائی کی بات پھیلانے) سے معاشرے کا نقصان ہوتا ہے۔ ہاں، اگر کوئی شخص اتنی دیدہ دلیری سے زنا کرتا ہے کہ چار مرد اسے عین حالت زنا میں دیکھتے ہیں تو انھیں اجازت ہے کہ اسے حاکم کے پاس لے جائیں، تاکہ وہ اس پر حد نافذ کرکے اس خبیث فعل کی روک تھام کرے۔ ایک طرف زنا کی سخت ترین حد مقرر فرمائی، دوسری طرف لوگوں کی عزتوں کی حفاظت اور ان کی کمزوریوں پر پردے کے لیے حکم دیا کہ جو شخص کسی پاک دامن پر زنا کا الزام لگائے، پھر چار گواہ پیش نہ کرے تو اسے بہتان کی حد لگاؤ۔ بہتان لگانے والا مرد ہو یا عورت، جیسا کہ حسان بن ثابت اور مسطح بن اثاثہ(رضی اللہ عنھما) کے ساتھ حمنہ بنت جحش(رضی اللہ عنھا) پر بھی حد قذف لگائی گئی تھی۔ ➌ جو شخص کسی پاک دامن مسلم مرد یا عورت پر زنا کا الزام لگائے، پھر چار گواہ نہ لا سکے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق تین حکم دیے ہیں، پہلا یہ کہ اسے اسّی (۸۰) کوڑے مارو، دوسرا یہ کہ اس کی کوئی شہادت کبھی قبول نہ کرو اور تیسرا یہ کہ یہی لوگ فاسق (نافرمان) ہیں ({اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ} میں قصرِ قلب ہے)، نہ کہ وہ لوگ جنھیں یہ فاسق ثابت کرنا چاہتے تھے۔
سوائے اُن لوگوں کے جو اس حرکت کے بعد تائب ہو جائیں اور اصلاح کر لیں کہ اللہ ضرور (اُن کے حق میں) غفور و رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہاں جو لوگ اس کے بعد توبہ اور اصلاح کرلیں تو اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ اور مہربانی کرنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
مگر جو اس کے بعد توبہ کرلیں اور سنور جائیں تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
سوائے ان کے جو اس کے بعد توبہ کر لیں اور (اپنی) اصلاح کر لیں۔ تو بےشک اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
مگر جو لوگ اس کے بعد توبہ کریں اور اصلاح کر لیں تو یقینا اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تہمت لگانے والے مجرم ٭٭
جو لوگ کسی عورت پر یا کسی مرد پر زناکاری کی تہمت لگائیں اور ثبوت نہ دے سکیں، تو انہیں اسی کوڑے لگائے جائیں گے، ہاں اگر شہادت پیش کر دیں تو حد سے بچ جائیں گے اور جن پر جرم ثابت ہوا ہے ان پر حد جاری کی جائے گی۔ اگر شہادت نہ پیش کر سکے تو اسی کوڑے بھی لگیں گے اور آئندہ کیلئے ہمیشہ ان کی شہادت غیر مقبول رہے گی اور وہ عادل نہیں بلکہ فاسق سمجھے جائیں گے۔ اس آیت میں جن لوگوں کو مخصوص اور مستثنیٰ کر دیا ہے تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ استثنا صرف فاسق ہونے سے ہے یعنی بعد از توبہ وہ فاسق نہیں رہیں گے، بعض کہتے ہیں نہ فاسق رہیں گے نہ مردود الشہادۃ بلکہ پھر ان کی شہادت بھی لی جائے گی۔ ہاں حد جو ہے وہ توبہ سے کسی طرح ہٹ نہیں سکتی۔ امام مالک، احمد اور شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب تو یہ ہے کہ توبہ سے شہادت کا مردود ہونا اور فسق ہٹ جائے گا۔ سید التابعین سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ اور سلف کی ایک جماعت کا یہی مذہب ہے، لیکن امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں صرف فسق دور ہو جائے گا لیکن شہادت قبول نہیں ہوسکتی۔ بعض اور لوگ بھی یہی کہتے ہیں۔ شعبی اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہ اگر اس نے اس بات کا اقرار کر لیا کہ اسے بہتان باندھا تھا اور پھر توبہ بھی پوری کی تو اس کی شہادت اس کے بعد مقبول ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
5-1توبہ سے کوڑوں کی سزا تو معاف نہیں ہوگی، تائب ہوجائے یا اصرار کرے، یہ سزا تو بہرحال ملے گی البتہ دوسری دو باتیں جو ہیں اس کے بارے میں اختلاف ہے، بعض علماء اس استثنا کو فسق تک محدود رکھتے ہیں۔ یعنی توبہ کے بعد فاسق نہیں رہے گا۔ اور بعض مفسرین دونوں جملوں کو اس میں شامل سمجھتے ہیں، یعنی توبہ کے بعد مقبول الشہادۃ بھی ہوجائے گا۔
(آیت 5){ اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا …:} اس بات پر اتفاق ہے کہ توبہ سے بہتان کی حد معاف نہیں ہو گی، اسی طرح اس پر بھی اتفاق ہے کہ توبہ اور اصلاح کے بعد اس سے فسق کا حکم اٹھ جائے گا، البتہ اس بات میں اختلاف ہے کہ توبہ اور اصلاح کے بعد اس کی شہادت قبول ہو گی یا نہیں۔ طبری رحمہ اللہ نے حسن سند کے ساتھ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کا قول ذکر کیا ہے کہ انھوں نے {” وَ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا “} پڑھا اور فرمایا: ”پھر جو شخص توبہ اور اپنی اصلاح کر لے تو اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق اس کی شہادت قبول کی جائے گی۔“ اگرچہ بعض لوگوں کے مطابق توبہ اور اصلاح کے بعد بھی اس کی شہادت قبول نہیں ہو گی، مگر صحیح بات یہی ہے کہ اگر بہتان لگانے والا توبہ کرے کہ آئندہ میں ایسی بات نہیں کروں گا اور واقعی اپنی اصلاح کر لے اور ایسی کوئی غلطی نہ کرے تو اس کی شہادت قبول کی جائے گی۔ کیونکہ مردود الشہادہ تو وہ فسق کی وجہ سے تھا، جب فسق نہ رہا تو شہادت کیوں قبول نہ ہو۔ اس کے علاوہ یہ کہ توبہ سے تو کفر و شرک بھی معاف ہو جاتا ہے، قذف تو اس سے کہیں کم گناہ ہے۔ رہا لفظ{ ” اَبَدًا “ } (ہمیشہ) تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ تہمت لگانے سے باز نہ آئے، خواہ کتنی ہی مدت گزر جائے، اس کی شہادت مت قبول کرو۔ رہی وہ مدت جس سے اس کی توبہ اور اصلاح ثابت ہو جاتی ہے تو بعض لوگوں نے اس کے لیے ایک سال مدت مقرر کی ہے، مگر یہ بات کتاب و سنت سے ثابت نہیں، اس لیے یہ بات قاضی پر چھوڑ دی جائے گی، اگر اسے کسی بھی مدت میں اس کی توبہ اور اصلاح کا یقین ہو جائے تو وہ اس کی شہادت قبول کر سکتا ہے، کیونکہ یقینا اللہ غفور بھی ہے اور رحیم بھی، وہ توبہ کے بعد بے حد پردہ پوشی بھی کرتا ہے اور رحم بھی۔
اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے اپنے سوا دوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو اُن میں سے ایک شخص کی شہادت (یہ ہے کہ وہ) چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ (اپنے الزام میں) سچا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لائیں اور ان کا کوئی گواه بجز خود ان کی ذات کے نہ ہو تو ایسے لوگوں میں سے ہر ایک کا ﺛبوت یہ ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ وه سچوں میں سے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو اپنی عورتوں کو عیب لگائیں اور ان کے پاس اپنے بیان کے سوا گواہ نہ ہوں تو ایسے کسی کی گواہی یہ ہے کہ چار بار گواہی دے اللہ کے نام سے کہ وہ سچا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو (خاوند) اپنی بیویوں پر تہمت (زنا) لگائیں اور (ثبوت کیلئے) ان کے پاس خود ان کے سوا کوئی گواہ نہ ہو تو ان میں سے کسی کی گواہی اس طرح معتبر ہوگی کہ وہ چار مرتبہ خدا کی قسم کھائے کہ وہ (اپنے دعویٰ میں) سچا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگائیں اور ان کے پاس کوئی گواہ نہ ہوں مگر وہ خود ہی تو ان میں سے ہر ایک کی شہادت اللہ کی قسم کے ساتھ چار شہادتیں ہیں کہ بلاشبہ یقینا وہ سچوں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لعان سے مراد ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ رب العالمین نے ان خاوندوں کیلئے جو اپنی بیویوں کی نسبت ایسی بات کہہ دیں چھٹکارے کی صورت بیان فرمائی ہے کہ جب وہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو لعان کرلیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ امام کے سامنے آ کر وہ اپنا بیان دے جب شہادت نہ پیش کر سکے تو حاکم اسے چار گواہوں کے قائم مقام چار قسمیں دے گا اور یہ قسم کھا کر کہے گا کہ وہ سچا ہے جو بات کہتا ہے وہ حق ہے۔ پانچویں دفعہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت۔ اتنا کہتے ہی امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ کے نزدیک اس کی عورت اس سے بائن ہو جائے گی اور ہمیشہ کیلئے حرام ہو جائے گی۔ یہ مہر ادا کر دے گا اور اس عورت پر زنا ثابت ہو جائے گی۔ لیکن اگر وہ عورت بھی سامنے ملاعنہ کرے تو حد اس پر سے ہٹ جائے گی۔ یہ بھی چار مرتبہ حلفیہ بیان دے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔ اور پانچویں مرتبہ کہے گی کہ اگر وہ سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس نکتہ کو بھی خیال میں رکھئے کہ عورت کیلئے غضب کا لفظ کہا گیا اس لیے کہ عموماً کوئی مرد نہیں چاہتا کہ وہ اپنی بیوی کو خواہ مخواہ تہمت لگائے اور اپنے آپ کو بلکہ اپنے کنبے کو بھی بدنام کرے عموماً وہ سچا ہی ہوتا ہے اور اپنے صدق کی بنا پر ہی وہ معذور سمجھا جاسکتا ہے۔ اس لیے پانچویں مرتبہ میں اس سے یہ کہلوایا گیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب آئے۔ پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو ایسی آسانیاں تم پر نہ ہوتیں بلکہ تم پر مشقت اترتی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرمایا کرتا ہے گو کیسے ہی گناہ ہوں اور گو کسی وقت بھی توبہ ہو وہ حکیم ہے، اپنی شرع میں، اپنے حکموں میں، اپنی ممانعت میں ‘۔ اس آیت کے بارے میں جو روایتیں ہیں وہ بھی سن لیجئے۔“ مسند احمد میں ہے { جب یہ آیت اتری تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو انصار کے سردار ہیں کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ آیت اسی طرح اتاری گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { انصاریو! سنتے نہیں ہو؟ یہ تمہارے سردار کیا کہہ رہے ہیں؟ } انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم درگزر فرمائیے یہ صرف ان کی بڑھی چڑھی غیرت کا باعث ہے اور کچھ نہیں۔ ان کی غیرت کا یہ حال ہے کہ انہیں کوئی بیٹی دینے کی جرأت نہیں کرتا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہا نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو میرا ایمان ہے کہ یہ حق ہے لیکن اگر میں کسی کو اس کے پاؤں پکڑے ہوئے دیکھ لوں تو بھی میں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا یہاں تک کہ میں چار گواہ لاؤں تب تک تو وہ اپنا کام پورا کرلے گا۔ اس بات کو ذرا سی ہی دیر ہوئی ہوگی کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ آئے یہ ان تین شخصوں میں سے جن کی توبہ قبول کی گئی انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے ان کی باتیں سنیں۔ صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت برا معلوم ہوا اور طبیعت پر نہایت ہی شاق گزرا۔
{ سب انصار جمع ہو گئے اور کہنے لگے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے قول کی وجہ سے ہم اس آفت میں مبتلا کئے گئے مگر اس صورت میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کو تہمت کی حد لگائیں اور اس کی شہادت کو مردود ٹھہرائیں۔ ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے واللہ میں سچا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا چھٹکارا کر دے گا۔ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھتا ہوں کہ میرا کلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر بہت گراں گزرا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اللہ کی قسم ہے میں سچا ہوں، اللہ خوب جانتا ہے۔ لیکن چونکہ گواہ پیش نہیں کر سکتے تھے قریب تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حد مارنے کو فرماتے اتنے میں وحی اترنا شروع ہوئی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو دیکھ کر علامت سے پہچان گئے کہ اس وقت وحی نازل ہو رہی ہے۔ جب اترچکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلال رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھ کر فرمایا: { اے ہلال رضی اللہ عنہ خوش ہو جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی اور چھٹی نازل فرمادی }۔ سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» مجھے اللہ رحیم کی ذات سے یہی امید تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلال رضی اللہ عنہ کی بیوی کو بلوایا اور ان دونوں کے سامنے آیت ملاعنہ پڑھ کر سنائی اور فرمایا: { دیکھو آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے سخت ہے }۔ ہلال رضی اللہ عنہ فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بالکل سچا ہوں۔ اس عورت نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ جھوٹ کہہ رہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اچھا لعان کرو۔ تو ہلال کو کہا گیا کہ اس طرح چار قسمیں کھاؤ اور پانچویں دفعہ یوں کہو۔ ہلال رضی اللہ عنہ جب چار بار کہہ چکے اور پانچویں بار کی نوبت آئی تو آپ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ ہلال! اللہ سے ڈر جا، دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں سے بہت ہلکی ہے یہ پانچویں بار تیری زبان سے نکلتے ہی تجھ پر عذاب واجب ہو جائے گا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم اللہ کی جس طرح اللہ نے مجھے دنیا کی سزا سے میری صداقت کی وجہ سے بچایا، اسی طرح آخرت کے عذاب سے بھی میری سچائی کی وجہ سے میرا رب مجھے محفوظ رکھے گا۔ پھر پانچویں دفعہ کے الفاظ بھی زبان سے ادا کر دیئے }۔
{ اب اس عورت سے کہا گیا کہ تو چار دفعہ قسمیں کھا کہ یہ جھوٹا ہے۔ جب وہ چاروں قسمیں کھاچکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پانچویں دفعہ کے اس کلمہ کے کہنے سے روکا اور جس طرح ہلال رضی اللہ عنہ کو سمجھایا گیا تھا اس سے بھی فرمایا تو اسے کچھ خیال پیدا ہوگیا۔ رکی، جھجکی، زبان کو سنبھالا، قریب تھا کہ اپنے قصور کا اقرار کر لے لیکن پھر کہنے لگی میں ہمیشہ کیلئے اپنی قوم کو رسوا نہیں کرنے کی۔ پھر کہہ دیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں جدائی کرا دی اور حکم دیدیا کہ اس سے جو اولاد ہو وہ ہلال رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب نہ کی جائے، نہ اسے حرام کی اولاد کہا جائے۔ جو اس بچے کو حرامی کہے یا اس عورت پر تہمت رکھے، وہ حد لگایا جائے گا، یہ بھی فیصلہ دیا کہ اس کا کوئی نان نفقہ اس کے خاوند پر نہیں کیونکہ جدائی کردی گئی ہے۔ نہ طلاق ہوئی ہے نہ خاوند کا انتقال ہوا ہے اور فرمایا: { دیکھو اگر یہ بچہ سرخ سفید رنگ موٹی پنڈلیوں والا پیدا ہو تو تو اسے ہلال رضی اللہ عنہ کا سمجھنا اور اگر وہ پتلی پنڈلیوں والا سیاہی مائل رنگ کا پیدا ہو تو اس شخص کا سمجھنا جس کے ساتھ اس پر الزام قائم کیا گیا ہے }۔ جب بچہ ہوا تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ اس بری صفت پر تھا جو الزام کی حقانیت کی نشانی تھی۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر یہ مسئلہ قسموں پر طے شدہ نہ ہوتا تو میں اس عورت کو قطعاً حد لگاتا }۔ یہ صاحبزادے بڑے ہو کر مصر کے والی بنے اور ان کی نسبت ان کی ماں کی طرف تھی۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2256،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس حدیث کے اور بھی بہت سے شاہد ہیں۔ بخاری شریف میں بھی یہ حدیث ہے۔ اس میں ہے کہ { شریک بن عماء کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب ہلال رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگے گی }۔ ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص اپنی بیوی کو برے کام پر دیکھ کر گواہ ڈھونڈنے جائے؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ دونوں کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ { اللہ خوب جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی توبہ کرکے اپنے جھوٹ سے ہٹتا ہے؟} اور روایت میں ہے کہ پانچویں دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کہا کہ { اس کا منہ بند کر دو } پھر اسے نصیحت کی، اور فرمایا: { اللہ کی لعنت سے ہرچیز ہلکی ہے }۔ اسی طرح اس عورت کے ساتھ کیا گیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2671]
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”لعان کرنے والے مرد و عورت کی نسبت مجھ سے دریافت کیا گیا کہ کیا ان میں جدائی کرا دی جائے؟ { یہ واقعہ ہے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی امارت کے زمانہ کا، مجھ سے تو اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا تو میں اپنے مکان سے چل کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی منزل پر آیا اور ان سے یہی مسئلہ پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا! ”سبحان اللہ سب سے پہلے یہ بات فلاں بن فلاں نے دریافت کی تھی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شخص اپنی عورت کو کسی برے کام پر پائے تو اگر زبان سے نکالے تو بھی بڑی بے شرمی کی بات ہے اور اگر خاموش رہے تو بھی بڑی بے غیرتی کی خاموشی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن کر خاموش ہو رہے۔ پھر وہ آیا اور کہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں نے جو سوال جناب سے کیا تھا افسوس وہی واقعہ میرے ہاں پیش آیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی یہ آیتیں نازل فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو پاس بلا کر ایک ایک کو الگ الگ نصیحت کی۔ بہت کچھ سمجھایا لیکن ہر ایک نے اپنا سچا ہونا ظاہر کیا پھر دونوں نے آیت کے مطابق قسمیں کھائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں جدائی کرا دی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5312] ایک اور روایت میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایک مجمع شام کے وقت جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری نے کہا جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو اگر وہ اسے مار ڈالے تو تم اسے مار ڈالو گے اور اگر زبان سے نکالے گا تو تم شہادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے اسی کو کوڑے لگاؤ گے اور اگر یہ اندھیر دیکھ کر خاموش ہو کر بیٹھا رہے تو یہ بڑی بے غیرتی اور بڑی بے حیائی ہے۔ واللہ اگر میں صبح تک زندہ رہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی بابت دریافت کروں گا۔ چنانچہ اس نے انہی لفظوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور دعا کی کہ یا اللہ اس کا فیصلہ نازل فرما۔ پس آیت لعان اتری اور سب سے پہلے یہی شخص اس میں مبتلا ہوا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1495] اور روایت میں ہے کہ { سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ذرا جاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت تو کرو کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پائے تو کیا کرے؟ ایسا تو نہیں کہ وہ قتل کرے تو اسے بھی قتل کیا جائے گا؟ چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سوال سے بہت ناراض ہوئے۔ جب عویمر رضی اللہ عنہ عاصم رضی اللہ عنہ سے ملے تو پوچھا کہ کہو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جواب دیا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا تم نے مجھ سے کوئی اچھی خدمت نہیں لی افسوس میرے اس سوال پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیب پکڑا اور برا مانا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا اب اگر میں اسے اپنے گھر لے جاؤں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ تہمت باندھی تھی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اس عورت کو جدا کر دیا۔ پھر تو لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ مقرر ہوگیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:423]
ایک اور روایت میں ہے کہ { یہ عورت حاملہ تھی اور ان کے خاوند نے اس سے انکار کیا کہ یہ حمل ان سے ہوا۔ اس لیے یہ بچہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہوتا رہا پھر منسون طریقہ یوں جاری ہوا کہ یہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اور ماں اس کی وارث ہو گی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:423] ایک مرسل اور غریب حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ { اگر تمہارے ہاں ایسی واردات ہو تو کیا کرو گے؟ } دونوں نے کہا گردن اڑا دیں گے۔ ایسے وقت چشم پوشی وہی کر سکتے ہیں جو دیوث ہوں، اس پر یہ آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [مسند بزار:2237:ضعیف] ایک روایت میں ہے کہ ”سب سے پہلا لعان مسلمانوں میں ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کے درمیان ہوا تھا۔“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 6تا9) ➊ { وَ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ …:} حد قذف کی آیات نازل ہونے کے بعد یہ مسئلہ پیش آیا کہ اگر خاوند اپنی بیوی کو زنا کرتے ہوئے دیکھے اور اس کے پاس گواہ نہ ہوں تو وہ کیا کرے۔ سب سے پہلے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرضی طور پر اس کے متعلق پوچھا، کہنے لگے: [ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِيْ رَجُلاً، أَ أُمْهِلُهُ حَتّٰی آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ قَالَ نَعَمْ ] [ مسلم، کتاب اللعان: 1498/15 ] ”یا رسول اللہ! اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو پاؤں تو کیا اسے چار گواہ لانے تک مہلت دوں؟“ آپ نے فرمایا: ”ہاں!“ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے پوچھا: ”اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو وہ یا تو بات کرے گا تو تم اسے کوڑے مارو گے، یا وہ (اسے) قتل کر دے گا، تو تم اسے قتل کر دو گے، یا خاموش رہے گا تو دلی غیظ پر خاموش رہے گا۔“ آپ نے کہا: [ اللّٰهُمَّ! افْتَحْ ] ”یا اللہ! تو فیصلہ فرما!“ اور دعا کرنے لگے، تو لعان کی آیات اتریں: «وَ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ يَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ … اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ» [ النور: ۶ تا ۹ ] تو وہی آدمی اس آزمائش میں مبتلا ہو گیا۔ چنانچہ وہ اور اس کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے لعان کیا۔ مرد نے اللہ کی چار قسمیں کھائیں کہ وہ یقینا سچوں میں سے ہے، پھر پانچویں دفعہ اس نے لعنت کی کہ اس پر لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو۔ پھر وہ عورت لعنت کرنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہرو!“ مگر وہ نہیں مانی اور اس نے لعان کر دیا۔ جب وہ واپس گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید کہ وہ سیاہ گھونگھریالے بالوں والے بچے کو جنم دے۔“ تو اس نے سیاہ گھونگھریالے بالوں والے بچے ہی کو جنم دیا۔ [ مسلم، کتاب اللعان: ۱۴۹۵ ] سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: ”یا رسول اللہ! یہ بتائیں کہ کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھے تو کیا اسے قتل کر دے، تو تم اسے قتل کر دو گے، یا وہ کیا کرے؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے بارے میں قرآن کی وہ آیات نازل فرمائیں جن میں لعان کا ذکر ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمھارے اور تمھاری بیوی کے متعلق فیصلہ فرما دیا ہے۔“ سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ان دونوں نے لعان کیا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا اور اس نے بیوی سے علیحدگی اختیار کر لی تو یہ سنت ٹھہری کہ لعان کرنے والے میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کر دی جائے گی اور وہ حاملہ تھی تو خاوند نے اس کے حمل کو اپنا تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس لیے وہ ماں کے نام پر پکارا جاتا تھا، پھر میراث میں یہ سنت جاری ہوئی کہ وہ لڑکا اپنی ماں کا وارث بنے گا اور وہ اس کی وارث ہو گی۔“ [ بخاري، التفسیر، باب: «والخامسۃ أن لعنت اللہ علیہ …» : ۴۷۴۶ ] ➋ ان دونوں احادیث میں لعان کے تقریباً سبھی احکام آ گئے ہیں۔ میاں بیوی دونوں میں سے ایک کے یقینا جھوٹا ہونے کے باوجود ان کا معاملہ لعان کے بعد اللہ کے سپرد کیا جائے گا، تاکہ مہلت اور پردہ پوشی سے فائدہ اٹھا کر غلطی والا فریق اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرلے۔ ➌ یاد رہے کہ کسی خاوند کا محض شک کی بنا پر یا بچے کے حلیہ کو اپنے مطابق نہ دیکھ کر بیوی پر زنا کا الزام لگا دینا سخت گناہ ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”یا رسول اللہ! میرے ہاں کالے رنگ کا بچہ پیدا ہوا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھارے پاس کچھ اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے رنگ کیا ہیں؟“ کہا: ”سرخ ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی خاکستری بھی ہے؟“ کہا: ”جی ہاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیسے ہو گیا؟“ کہا: ”شاید اسے کوئی رگ کھینچ کرلے گئی ہو۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو شاید تمھارے اس بیٹے کو بھی کوئی رگ کھینچ کر لے گئی ہو۔“ [ بخاری، الطلاق، باب إذا عرض بنفي الولد: ۵۳۰۵ ]
اور پانچویں بار کہے کہ اُس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ (اپنے الزام میں) جھوٹا ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اگر وه جھوٹوں میں سے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور پانچویں یہ کہ اللہ کی لعنت ہو اس پر اگر جھوٹا ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور پانچویں مرتبہ یوں کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ (اپنے دعویٰ میں) جھوٹا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور پانچویں یہ کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو، اگر وہ جھوٹوں سے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لعان سے مراد ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ رب العالمین نے ان خاوندوں کیلئے جو اپنی بیویوں کی نسبت ایسی بات کہہ دیں چھٹکارے کی صورت بیان فرمائی ہے کہ جب وہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو لعان کرلیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ امام کے سامنے آ کر وہ اپنا بیان دے جب شہادت نہ پیش کر سکے تو حاکم اسے چار گواہوں کے قائم مقام چار قسمیں دے گا اور یہ قسم کھا کر کہے گا کہ وہ سچا ہے جو بات کہتا ہے وہ حق ہے۔ پانچویں دفعہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت۔ اتنا کہتے ہی امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ کے نزدیک اس کی عورت اس سے بائن ہو جائے گی اور ہمیشہ کیلئے حرام ہو جائے گی۔ یہ مہر ادا کر دے گا اور اس عورت پر زنا ثابت ہو جائے گی۔ لیکن اگر وہ عورت بھی سامنے ملاعنہ کرے تو حد اس پر سے ہٹ جائے گی۔ یہ بھی چار مرتبہ حلفیہ بیان دے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔ اور پانچویں مرتبہ کہے گی کہ اگر وہ سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس نکتہ کو بھی خیال میں رکھئے کہ عورت کیلئے غضب کا لفظ کہا گیا اس لیے کہ عموماً کوئی مرد نہیں چاہتا کہ وہ اپنی بیوی کو خواہ مخواہ تہمت لگائے اور اپنے آپ کو بلکہ اپنے کنبے کو بھی بدنام کرے عموماً وہ سچا ہی ہوتا ہے اور اپنے صدق کی بنا پر ہی وہ معذور سمجھا جاسکتا ہے۔ اس لیے پانچویں مرتبہ میں اس سے یہ کہلوایا گیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب آئے۔ پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو ایسی آسانیاں تم پر نہ ہوتیں بلکہ تم پر مشقت اترتی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرمایا کرتا ہے گو کیسے ہی گناہ ہوں اور گو کسی وقت بھی توبہ ہو وہ حکیم ہے، اپنی شرع میں، اپنے حکموں میں، اپنی ممانعت میں ‘۔ اس آیت کے بارے میں جو روایتیں ہیں وہ بھی سن لیجئے۔“ مسند احمد میں ہے { جب یہ آیت اتری تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو انصار کے سردار ہیں کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ آیت اسی طرح اتاری گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { انصاریو! سنتے نہیں ہو؟ یہ تمہارے سردار کیا کہہ رہے ہیں؟ } انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم درگزر فرمائیے یہ صرف ان کی بڑھی چڑھی غیرت کا باعث ہے اور کچھ نہیں۔ ان کی غیرت کا یہ حال ہے کہ انہیں کوئی بیٹی دینے کی جرأت نہیں کرتا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہا نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو میرا ایمان ہے کہ یہ حق ہے لیکن اگر میں کسی کو اس کے پاؤں پکڑے ہوئے دیکھ لوں تو بھی میں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا یہاں تک کہ میں چار گواہ لاؤں تب تک تو وہ اپنا کام پورا کرلے گا۔ اس بات کو ذرا سی ہی دیر ہوئی ہوگی کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ آئے یہ ان تین شخصوں میں سے جن کی توبہ قبول کی گئی انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے ان کی باتیں سنیں۔ صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت برا معلوم ہوا اور طبیعت پر نہایت ہی شاق گزرا۔
{ سب انصار جمع ہو گئے اور کہنے لگے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے قول کی وجہ سے ہم اس آفت میں مبتلا کئے گئے مگر اس صورت میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کو تہمت کی حد لگائیں اور اس کی شہادت کو مردود ٹھہرائیں۔ ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے واللہ میں سچا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا چھٹکارا کر دے گا۔ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھتا ہوں کہ میرا کلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر بہت گراں گزرا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اللہ کی قسم ہے میں سچا ہوں، اللہ خوب جانتا ہے۔ لیکن چونکہ گواہ پیش نہیں کر سکتے تھے قریب تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حد مارنے کو فرماتے اتنے میں وحی اترنا شروع ہوئی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو دیکھ کر علامت سے پہچان گئے کہ اس وقت وحی نازل ہو رہی ہے۔ جب اترچکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلال رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھ کر فرمایا: { اے ہلال رضی اللہ عنہ خوش ہو جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی اور چھٹی نازل فرمادی }۔ سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» مجھے اللہ رحیم کی ذات سے یہی امید تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلال رضی اللہ عنہ کی بیوی کو بلوایا اور ان دونوں کے سامنے آیت ملاعنہ پڑھ کر سنائی اور فرمایا: { دیکھو آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے سخت ہے }۔ ہلال رضی اللہ عنہ فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بالکل سچا ہوں۔ اس عورت نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ جھوٹ کہہ رہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اچھا لعان کرو۔ تو ہلال کو کہا گیا کہ اس طرح چار قسمیں کھاؤ اور پانچویں دفعہ یوں کہو۔ ہلال رضی اللہ عنہ جب چار بار کہہ چکے اور پانچویں بار کی نوبت آئی تو آپ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ ہلال! اللہ سے ڈر جا، دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں سے بہت ہلکی ہے یہ پانچویں بار تیری زبان سے نکلتے ہی تجھ پر عذاب واجب ہو جائے گا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم اللہ کی جس طرح اللہ نے مجھے دنیا کی سزا سے میری صداقت کی وجہ سے بچایا، اسی طرح آخرت کے عذاب سے بھی میری سچائی کی وجہ سے میرا رب مجھے محفوظ رکھے گا۔ پھر پانچویں دفعہ کے الفاظ بھی زبان سے ادا کر دیئے }۔
{ اب اس عورت سے کہا گیا کہ تو چار دفعہ قسمیں کھا کہ یہ جھوٹا ہے۔ جب وہ چاروں قسمیں کھاچکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پانچویں دفعہ کے اس کلمہ کے کہنے سے روکا اور جس طرح ہلال رضی اللہ عنہ کو سمجھایا گیا تھا اس سے بھی فرمایا تو اسے کچھ خیال پیدا ہوگیا۔ رکی، جھجکی، زبان کو سنبھالا، قریب تھا کہ اپنے قصور کا اقرار کر لے لیکن پھر کہنے لگی میں ہمیشہ کیلئے اپنی قوم کو رسوا نہیں کرنے کی۔ پھر کہہ دیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں جدائی کرا دی اور حکم دیدیا کہ اس سے جو اولاد ہو وہ ہلال رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب نہ کی جائے، نہ اسے حرام کی اولاد کہا جائے۔ جو اس بچے کو حرامی کہے یا اس عورت پر تہمت رکھے، وہ حد لگایا جائے گا، یہ بھی فیصلہ دیا کہ اس کا کوئی نان نفقہ اس کے خاوند پر نہیں کیونکہ جدائی کردی گئی ہے۔ نہ طلاق ہوئی ہے نہ خاوند کا انتقال ہوا ہے اور فرمایا: { دیکھو اگر یہ بچہ سرخ سفید رنگ موٹی پنڈلیوں والا پیدا ہو تو تو اسے ہلال رضی اللہ عنہ کا سمجھنا اور اگر وہ پتلی پنڈلیوں والا سیاہی مائل رنگ کا پیدا ہو تو اس شخص کا سمجھنا جس کے ساتھ اس پر الزام قائم کیا گیا ہے }۔ جب بچہ ہوا تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ اس بری صفت پر تھا جو الزام کی حقانیت کی نشانی تھی۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر یہ مسئلہ قسموں پر طے شدہ نہ ہوتا تو میں اس عورت کو قطعاً حد لگاتا }۔ یہ صاحبزادے بڑے ہو کر مصر کے والی بنے اور ان کی نسبت ان کی ماں کی طرف تھی۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2256،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس حدیث کے اور بھی بہت سے شاہد ہیں۔ بخاری شریف میں بھی یہ حدیث ہے۔ اس میں ہے کہ { شریک بن عماء کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب ہلال رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگے گی }۔ ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص اپنی بیوی کو برے کام پر دیکھ کر گواہ ڈھونڈنے جائے؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ دونوں کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ { اللہ خوب جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی توبہ کرکے اپنے جھوٹ سے ہٹتا ہے؟} اور روایت میں ہے کہ پانچویں دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کہا کہ { اس کا منہ بند کر دو } پھر اسے نصیحت کی، اور فرمایا: { اللہ کی لعنت سے ہرچیز ہلکی ہے }۔ اسی طرح اس عورت کے ساتھ کیا گیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2671]
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”لعان کرنے والے مرد و عورت کی نسبت مجھ سے دریافت کیا گیا کہ کیا ان میں جدائی کرا دی جائے؟ { یہ واقعہ ہے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی امارت کے زمانہ کا، مجھ سے تو اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا تو میں اپنے مکان سے چل کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی منزل پر آیا اور ان سے یہی مسئلہ پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا! ”سبحان اللہ سب سے پہلے یہ بات فلاں بن فلاں نے دریافت کی تھی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شخص اپنی عورت کو کسی برے کام پر پائے تو اگر زبان سے نکالے تو بھی بڑی بے شرمی کی بات ہے اور اگر خاموش رہے تو بھی بڑی بے غیرتی کی خاموشی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن کر خاموش ہو رہے۔ پھر وہ آیا اور کہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں نے جو سوال جناب سے کیا تھا افسوس وہی واقعہ میرے ہاں پیش آیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی یہ آیتیں نازل فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو پاس بلا کر ایک ایک کو الگ الگ نصیحت کی۔ بہت کچھ سمجھایا لیکن ہر ایک نے اپنا سچا ہونا ظاہر کیا پھر دونوں نے آیت کے مطابق قسمیں کھائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں جدائی کرا دی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5312] ایک اور روایت میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایک مجمع شام کے وقت جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری نے کہا جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو اگر وہ اسے مار ڈالے تو تم اسے مار ڈالو گے اور اگر زبان سے نکالے گا تو تم شہادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے اسی کو کوڑے لگاؤ گے اور اگر یہ اندھیر دیکھ کر خاموش ہو کر بیٹھا رہے تو یہ بڑی بے غیرتی اور بڑی بے حیائی ہے۔ واللہ اگر میں صبح تک زندہ رہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی بابت دریافت کروں گا۔ چنانچہ اس نے انہی لفظوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور دعا کی کہ یا اللہ اس کا فیصلہ نازل فرما۔ پس آیت لعان اتری اور سب سے پہلے یہی شخص اس میں مبتلا ہوا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1495] اور روایت میں ہے کہ { سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ذرا جاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت تو کرو کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پائے تو کیا کرے؟ ایسا تو نہیں کہ وہ قتل کرے تو اسے بھی قتل کیا جائے گا؟ چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سوال سے بہت ناراض ہوئے۔ جب عویمر رضی اللہ عنہ عاصم رضی اللہ عنہ سے ملے تو پوچھا کہ کہو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جواب دیا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا تم نے مجھ سے کوئی اچھی خدمت نہیں لی افسوس میرے اس سوال پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیب پکڑا اور برا مانا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا اب اگر میں اسے اپنے گھر لے جاؤں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ تہمت باندھی تھی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اس عورت کو جدا کر دیا۔ پھر تو لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ مقرر ہوگیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:423]
ایک اور روایت میں ہے کہ { یہ عورت حاملہ تھی اور ان کے خاوند نے اس سے انکار کیا کہ یہ حمل ان سے ہوا۔ اس لیے یہ بچہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہوتا رہا پھر منسون طریقہ یوں جاری ہوا کہ یہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اور ماں اس کی وارث ہو گی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:423] ایک مرسل اور غریب حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ { اگر تمہارے ہاں ایسی واردات ہو تو کیا کرو گے؟ } دونوں نے کہا گردن اڑا دیں گے۔ ایسے وقت چشم پوشی وہی کر سکتے ہیں جو دیوث ہوں، اس پر یہ آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [مسند بزار:2237:ضعیف] ایک روایت میں ہے کہ ”سب سے پہلا لعان مسلمانوں میں ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کے درمیان ہوا تھا۔“
7-1اس میں لعان کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی مرد نے اپنی بیوی کو اپنی آنکھوں سے کسی غیر کے ساتھ بدکاری کرتے ہوئے دیکھا، جس کا وہ خود عینی گواہ ہے لیکن چونکہ زنا کی حد کے اثبات کے لئے چار مردوں کی عینی گواہی ضروری ہے، اس لئے جب تک وہ اپنے ساتھ مزید تین عینی گواہ پیش نہ کرے، اس کی بیوی پر زنا کی حد نہیں لگ سکتی۔ لیکن اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد ایسی بد چلن بیوی کو برداشت کرنا بھی اس کے لئے ناممکن ہے۔ شریعت نے اس کا حل یہ پیش کیا ہے کہ یہ شخص عدالت میں یا حاکم مجاز کے سامنے چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہے گا کہ وہ اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگانے میں سچا ہوں بچہ یا حمل اس کا نہیں ہے۔ اور پانچویں مرتبہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت۔
اور عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر شہادت دے کہ یہ شخص (اپنے الزام میں) جھوٹا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس عورت سے سزا اس طرح دور ہوسکتی ہے کہ وه چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ یقیناً اس کا مرد جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور عورت سے یوں سزا ٹل جائے گی کہ وہ اللہ کا نام لے کر چار بار گواہی دے کہ مرد جھوٹا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس عورت سے یہ صورت شرعی حد کو ٹال سکتی ہے کہ وہ چار بار اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ وہ (خاوند) جھوٹا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس (عورت) سے سزا کو یہ بات ہٹائے گی کہ وہ اللہ کی قسم کے ساتھ چار شہادتیں دے کہ بلاشبہ یقینا وہ (مرد) جھوٹوں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لعان سے مراد ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ رب العالمین نے ان خاوندوں کیلئے جو اپنی بیویوں کی نسبت ایسی بات کہہ دیں چھٹکارے کی صورت بیان فرمائی ہے کہ جب وہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو لعان کرلیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ امام کے سامنے آ کر وہ اپنا بیان دے جب شہادت نہ پیش کر سکے تو حاکم اسے چار گواہوں کے قائم مقام چار قسمیں دے گا اور یہ قسم کھا کر کہے گا کہ وہ سچا ہے جو بات کہتا ہے وہ حق ہے۔ پانچویں دفعہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت۔ اتنا کہتے ہی امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ کے نزدیک اس کی عورت اس سے بائن ہو جائے گی اور ہمیشہ کیلئے حرام ہو جائے گی۔ یہ مہر ادا کر دے گا اور اس عورت پر زنا ثابت ہو جائے گی۔ لیکن اگر وہ عورت بھی سامنے ملاعنہ کرے تو حد اس پر سے ہٹ جائے گی۔ یہ بھی چار مرتبہ حلفیہ بیان دے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔ اور پانچویں مرتبہ کہے گی کہ اگر وہ سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس نکتہ کو بھی خیال میں رکھئے کہ عورت کیلئے غضب کا لفظ کہا گیا اس لیے کہ عموماً کوئی مرد نہیں چاہتا کہ وہ اپنی بیوی کو خواہ مخواہ تہمت لگائے اور اپنے آپ کو بلکہ اپنے کنبے کو بھی بدنام کرے عموماً وہ سچا ہی ہوتا ہے اور اپنے صدق کی بنا پر ہی وہ معذور سمجھا جاسکتا ہے۔ اس لیے پانچویں مرتبہ میں اس سے یہ کہلوایا گیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب آئے۔ پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو ایسی آسانیاں تم پر نہ ہوتیں بلکہ تم پر مشقت اترتی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرمایا کرتا ہے گو کیسے ہی گناہ ہوں اور گو کسی وقت بھی توبہ ہو وہ حکیم ہے، اپنی شرع میں، اپنے حکموں میں، اپنی ممانعت میں ‘۔ اس آیت کے بارے میں جو روایتیں ہیں وہ بھی سن لیجئے۔“ مسند احمد میں ہے { جب یہ آیت اتری تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو انصار کے سردار ہیں کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ آیت اسی طرح اتاری گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { انصاریو! سنتے نہیں ہو؟ یہ تمہارے سردار کیا کہہ رہے ہیں؟ } انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم درگزر فرمائیے یہ صرف ان کی بڑھی چڑھی غیرت کا باعث ہے اور کچھ نہیں۔ ان کی غیرت کا یہ حال ہے کہ انہیں کوئی بیٹی دینے کی جرأت نہیں کرتا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہا نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو میرا ایمان ہے کہ یہ حق ہے لیکن اگر میں کسی کو اس کے پاؤں پکڑے ہوئے دیکھ لوں تو بھی میں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا یہاں تک کہ میں چار گواہ لاؤں تب تک تو وہ اپنا کام پورا کرلے گا۔ اس بات کو ذرا سی ہی دیر ہوئی ہوگی کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ آئے یہ ان تین شخصوں میں سے جن کی توبہ قبول کی گئی انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے ان کی باتیں سنیں۔ صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت برا معلوم ہوا اور طبیعت پر نہایت ہی شاق گزرا۔
{ سب انصار جمع ہو گئے اور کہنے لگے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے قول کی وجہ سے ہم اس آفت میں مبتلا کئے گئے مگر اس صورت میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کو تہمت کی حد لگائیں اور اس کی شہادت کو مردود ٹھہرائیں۔ ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے واللہ میں سچا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا چھٹکارا کر دے گا۔ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھتا ہوں کہ میرا کلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر بہت گراں گزرا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اللہ کی قسم ہے میں سچا ہوں، اللہ خوب جانتا ہے۔ لیکن چونکہ گواہ پیش نہیں کر سکتے تھے قریب تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حد مارنے کو فرماتے اتنے میں وحی اترنا شروع ہوئی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو دیکھ کر علامت سے پہچان گئے کہ اس وقت وحی نازل ہو رہی ہے۔ جب اترچکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلال رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھ کر فرمایا: { اے ہلال رضی اللہ عنہ خوش ہو جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی اور چھٹی نازل فرمادی }۔ سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» مجھے اللہ رحیم کی ذات سے یہی امید تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلال رضی اللہ عنہ کی بیوی کو بلوایا اور ان دونوں کے سامنے آیت ملاعنہ پڑھ کر سنائی اور فرمایا: { دیکھو آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے سخت ہے }۔ ہلال رضی اللہ عنہ فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بالکل سچا ہوں۔ اس عورت نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ جھوٹ کہہ رہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اچھا لعان کرو۔ تو ہلال کو کہا گیا کہ اس طرح چار قسمیں کھاؤ اور پانچویں دفعہ یوں کہو۔ ہلال رضی اللہ عنہ جب چار بار کہہ چکے اور پانچویں بار کی نوبت آئی تو آپ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ ہلال! اللہ سے ڈر جا، دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں سے بہت ہلکی ہے یہ پانچویں بار تیری زبان سے نکلتے ہی تجھ پر عذاب واجب ہو جائے گا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم اللہ کی جس طرح اللہ نے مجھے دنیا کی سزا سے میری صداقت کی وجہ سے بچایا، اسی طرح آخرت کے عذاب سے بھی میری سچائی کی وجہ سے میرا رب مجھے محفوظ رکھے گا۔ پھر پانچویں دفعہ کے الفاظ بھی زبان سے ادا کر دیئے }۔
{ اب اس عورت سے کہا گیا کہ تو چار دفعہ قسمیں کھا کہ یہ جھوٹا ہے۔ جب وہ چاروں قسمیں کھاچکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پانچویں دفعہ کے اس کلمہ کے کہنے سے روکا اور جس طرح ہلال رضی اللہ عنہ کو سمجھایا گیا تھا اس سے بھی فرمایا تو اسے کچھ خیال پیدا ہوگیا۔ رکی، جھجکی، زبان کو سنبھالا، قریب تھا کہ اپنے قصور کا اقرار کر لے لیکن پھر کہنے لگی میں ہمیشہ کیلئے اپنی قوم کو رسوا نہیں کرنے کی۔ پھر کہہ دیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں جدائی کرا دی اور حکم دیدیا کہ اس سے جو اولاد ہو وہ ہلال رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب نہ کی جائے، نہ اسے حرام کی اولاد کہا جائے۔ جو اس بچے کو حرامی کہے یا اس عورت پر تہمت رکھے، وہ حد لگایا جائے گا، یہ بھی فیصلہ دیا کہ اس کا کوئی نان نفقہ اس کے خاوند پر نہیں کیونکہ جدائی کردی گئی ہے۔ نہ طلاق ہوئی ہے نہ خاوند کا انتقال ہوا ہے اور فرمایا: { دیکھو اگر یہ بچہ سرخ سفید رنگ موٹی پنڈلیوں والا پیدا ہو تو تو اسے ہلال رضی اللہ عنہ کا سمجھنا اور اگر وہ پتلی پنڈلیوں والا سیاہی مائل رنگ کا پیدا ہو تو اس شخص کا سمجھنا جس کے ساتھ اس پر الزام قائم کیا گیا ہے }۔ جب بچہ ہوا تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ اس بری صفت پر تھا جو الزام کی حقانیت کی نشانی تھی۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر یہ مسئلہ قسموں پر طے شدہ نہ ہوتا تو میں اس عورت کو قطعاً حد لگاتا }۔ یہ صاحبزادے بڑے ہو کر مصر کے والی بنے اور ان کی نسبت ان کی ماں کی طرف تھی۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2256،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس حدیث کے اور بھی بہت سے شاہد ہیں۔ بخاری شریف میں بھی یہ حدیث ہے۔ اس میں ہے کہ { شریک بن عماء کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب ہلال رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگے گی }۔ ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص اپنی بیوی کو برے کام پر دیکھ کر گواہ ڈھونڈنے جائے؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ دونوں کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ { اللہ خوب جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی توبہ کرکے اپنے جھوٹ سے ہٹتا ہے؟} اور روایت میں ہے کہ پانچویں دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کہا کہ { اس کا منہ بند کر دو } پھر اسے نصیحت کی، اور فرمایا: { اللہ کی لعنت سے ہرچیز ہلکی ہے }۔ اسی طرح اس عورت کے ساتھ کیا گیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2671]
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”لعان کرنے والے مرد و عورت کی نسبت مجھ سے دریافت کیا گیا کہ کیا ان میں جدائی کرا دی جائے؟ { یہ واقعہ ہے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی امارت کے زمانہ کا، مجھ سے تو اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا تو میں اپنے مکان سے چل کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی منزل پر آیا اور ان سے یہی مسئلہ پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا! ”سبحان اللہ سب سے پہلے یہ بات فلاں بن فلاں نے دریافت کی تھی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شخص اپنی عورت کو کسی برے کام پر پائے تو اگر زبان سے نکالے تو بھی بڑی بے شرمی کی بات ہے اور اگر خاموش رہے تو بھی بڑی بے غیرتی کی خاموشی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن کر خاموش ہو رہے۔ پھر وہ آیا اور کہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں نے جو سوال جناب سے کیا تھا افسوس وہی واقعہ میرے ہاں پیش آیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی یہ آیتیں نازل فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو پاس بلا کر ایک ایک کو الگ الگ نصیحت کی۔ بہت کچھ سمجھایا لیکن ہر ایک نے اپنا سچا ہونا ظاہر کیا پھر دونوں نے آیت کے مطابق قسمیں کھائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں جدائی کرا دی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5312] ایک اور روایت میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایک مجمع شام کے وقت جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری نے کہا جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو اگر وہ اسے مار ڈالے تو تم اسے مار ڈالو گے اور اگر زبان سے نکالے گا تو تم شہادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے اسی کو کوڑے لگاؤ گے اور اگر یہ اندھیر دیکھ کر خاموش ہو کر بیٹھا رہے تو یہ بڑی بے غیرتی اور بڑی بے حیائی ہے۔ واللہ اگر میں صبح تک زندہ رہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی بابت دریافت کروں گا۔ چنانچہ اس نے انہی لفظوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور دعا کی کہ یا اللہ اس کا فیصلہ نازل فرما۔ پس آیت لعان اتری اور سب سے پہلے یہی شخص اس میں مبتلا ہوا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1495] اور روایت میں ہے کہ { سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ذرا جاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت تو کرو کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پائے تو کیا کرے؟ ایسا تو نہیں کہ وہ قتل کرے تو اسے بھی قتل کیا جائے گا؟ چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سوال سے بہت ناراض ہوئے۔ جب عویمر رضی اللہ عنہ عاصم رضی اللہ عنہ سے ملے تو پوچھا کہ کہو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جواب دیا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا تم نے مجھ سے کوئی اچھی خدمت نہیں لی افسوس میرے اس سوال پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیب پکڑا اور برا مانا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا اب اگر میں اسے اپنے گھر لے جاؤں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ تہمت باندھی تھی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اس عورت کو جدا کر دیا۔ پھر تو لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ مقرر ہوگیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:423]
ایک اور روایت میں ہے کہ { یہ عورت حاملہ تھی اور ان کے خاوند نے اس سے انکار کیا کہ یہ حمل ان سے ہوا۔ اس لیے یہ بچہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہوتا رہا پھر منسون طریقہ یوں جاری ہوا کہ یہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اور ماں اس کی وارث ہو گی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:423] ایک مرسل اور غریب حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ { اگر تمہارے ہاں ایسی واردات ہو تو کیا کرو گے؟ } دونوں نے کہا گردن اڑا دیں گے۔ ایسے وقت چشم پوشی وہی کر سکتے ہیں جو دیوث ہوں، اس پر یہ آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [مسند بزار:2237:ضعیف] ایک روایت میں ہے کہ ”سب سے پہلا لعان مسلمانوں میں ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کے درمیان ہوا تھا۔“
اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اُس بندی پر اللہ کا غضب ٹوٹے اگر وہ (اپنے الزام میں) سچا ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور پانچویں دفعہ کہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہو اگر اس کا خاوند سچوں میں سے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور پانچویں یوں کہ عورت پر غضب اللہ کا اگر مرد جھوٹا ہے اور پانچویں یوں کہ عورت پر غضب اللہ کا اگر مرد سچا ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور پانچویں بار یوں قسم کھائے کہ اس پر اللہ کا غضب ہو اگر وہ (مرد) سچا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور پانچویں یہ کہ اس (عورت) پر اللہ کا غضب ہو، اگر وہ (مرد) سچوں سے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لعان سے مراد ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ رب العالمین نے ان خاوندوں کیلئے جو اپنی بیویوں کی نسبت ایسی بات کہہ دیں چھٹکارے کی صورت بیان فرمائی ہے کہ جب وہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو لعان کرلیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ امام کے سامنے آ کر وہ اپنا بیان دے جب شہادت نہ پیش کر سکے تو حاکم اسے چار گواہوں کے قائم مقام چار قسمیں دے گا اور یہ قسم کھا کر کہے گا کہ وہ سچا ہے جو بات کہتا ہے وہ حق ہے۔ پانچویں دفعہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت۔ اتنا کہتے ہی امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ کے نزدیک اس کی عورت اس سے بائن ہو جائے گی اور ہمیشہ کیلئے حرام ہو جائے گی۔ یہ مہر ادا کر دے گا اور اس عورت پر زنا ثابت ہو جائے گی۔ لیکن اگر وہ عورت بھی سامنے ملاعنہ کرے تو حد اس پر سے ہٹ جائے گی۔ یہ بھی چار مرتبہ حلفیہ بیان دے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔ اور پانچویں مرتبہ کہے گی کہ اگر وہ سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس نکتہ کو بھی خیال میں رکھئے کہ عورت کیلئے غضب کا لفظ کہا گیا اس لیے کہ عموماً کوئی مرد نہیں چاہتا کہ وہ اپنی بیوی کو خواہ مخواہ تہمت لگائے اور اپنے آپ کو بلکہ اپنے کنبے کو بھی بدنام کرے عموماً وہ سچا ہی ہوتا ہے اور اپنے صدق کی بنا پر ہی وہ معذور سمجھا جاسکتا ہے۔ اس لیے پانچویں مرتبہ میں اس سے یہ کہلوایا گیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب آئے۔ پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو ایسی آسانیاں تم پر نہ ہوتیں بلکہ تم پر مشقت اترتی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرمایا کرتا ہے گو کیسے ہی گناہ ہوں اور گو کسی وقت بھی توبہ ہو وہ حکیم ہے، اپنی شرع میں، اپنے حکموں میں، اپنی ممانعت میں ‘۔ اس آیت کے بارے میں جو روایتیں ہیں وہ بھی سن لیجئے۔“ مسند احمد میں ہے { جب یہ آیت اتری تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو انصار کے سردار ہیں کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ آیت اسی طرح اتاری گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { انصاریو! سنتے نہیں ہو؟ یہ تمہارے سردار کیا کہہ رہے ہیں؟ } انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم درگزر فرمائیے یہ صرف ان کی بڑھی چڑھی غیرت کا باعث ہے اور کچھ نہیں۔ ان کی غیرت کا یہ حال ہے کہ انہیں کوئی بیٹی دینے کی جرأت نہیں کرتا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہا نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو میرا ایمان ہے کہ یہ حق ہے لیکن اگر میں کسی کو اس کے پاؤں پکڑے ہوئے دیکھ لوں تو بھی میں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا یہاں تک کہ میں چار گواہ لاؤں تب تک تو وہ اپنا کام پورا کرلے گا۔ اس بات کو ذرا سی ہی دیر ہوئی ہوگی کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ آئے یہ ان تین شخصوں میں سے جن کی توبہ قبول کی گئی انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے ان کی باتیں سنیں۔ صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت برا معلوم ہوا اور طبیعت پر نہایت ہی شاق گزرا۔
{ سب انصار جمع ہو گئے اور کہنے لگے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے قول کی وجہ سے ہم اس آفت میں مبتلا کئے گئے مگر اس صورت میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کو تہمت کی حد لگائیں اور اس کی شہادت کو مردود ٹھہرائیں۔ ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے واللہ میں سچا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا چھٹکارا کر دے گا۔ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھتا ہوں کہ میرا کلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر بہت گراں گزرا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اللہ کی قسم ہے میں سچا ہوں، اللہ خوب جانتا ہے۔ لیکن چونکہ گواہ پیش نہیں کر سکتے تھے قریب تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حد مارنے کو فرماتے اتنے میں وحی اترنا شروع ہوئی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو دیکھ کر علامت سے پہچان گئے کہ اس وقت وحی نازل ہو رہی ہے۔ جب اترچکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلال رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھ کر فرمایا: { اے ہلال رضی اللہ عنہ خوش ہو جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی اور چھٹی نازل فرمادی }۔ سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» مجھے اللہ رحیم کی ذات سے یہی امید تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلال رضی اللہ عنہ کی بیوی کو بلوایا اور ان دونوں کے سامنے آیت ملاعنہ پڑھ کر سنائی اور فرمایا: { دیکھو آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے سخت ہے }۔ ہلال رضی اللہ عنہ فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بالکل سچا ہوں۔ اس عورت نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ جھوٹ کہہ رہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اچھا لعان کرو۔ تو ہلال کو کہا گیا کہ اس طرح چار قسمیں کھاؤ اور پانچویں دفعہ یوں کہو۔ ہلال رضی اللہ عنہ جب چار بار کہہ چکے اور پانچویں بار کی نوبت آئی تو آپ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ ہلال! اللہ سے ڈر جا، دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں سے بہت ہلکی ہے یہ پانچویں بار تیری زبان سے نکلتے ہی تجھ پر عذاب واجب ہو جائے گا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم اللہ کی جس طرح اللہ نے مجھے دنیا کی سزا سے میری صداقت کی وجہ سے بچایا، اسی طرح آخرت کے عذاب سے بھی میری سچائی کی وجہ سے میرا رب مجھے محفوظ رکھے گا۔ پھر پانچویں دفعہ کے الفاظ بھی زبان سے ادا کر دیئے }۔
{ اب اس عورت سے کہا گیا کہ تو چار دفعہ قسمیں کھا کہ یہ جھوٹا ہے۔ جب وہ چاروں قسمیں کھاچکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پانچویں دفعہ کے اس کلمہ کے کہنے سے روکا اور جس طرح ہلال رضی اللہ عنہ کو سمجھایا گیا تھا اس سے بھی فرمایا تو اسے کچھ خیال پیدا ہوگیا۔ رکی، جھجکی، زبان کو سنبھالا، قریب تھا کہ اپنے قصور کا اقرار کر لے لیکن پھر کہنے لگی میں ہمیشہ کیلئے اپنی قوم کو رسوا نہیں کرنے کی۔ پھر کہہ دیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں جدائی کرا دی اور حکم دیدیا کہ اس سے جو اولاد ہو وہ ہلال رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب نہ کی جائے، نہ اسے حرام کی اولاد کہا جائے۔ جو اس بچے کو حرامی کہے یا اس عورت پر تہمت رکھے، وہ حد لگایا جائے گا، یہ بھی فیصلہ دیا کہ اس کا کوئی نان نفقہ اس کے خاوند پر نہیں کیونکہ جدائی کردی گئی ہے۔ نہ طلاق ہوئی ہے نہ خاوند کا انتقال ہوا ہے اور فرمایا: { دیکھو اگر یہ بچہ سرخ سفید رنگ موٹی پنڈلیوں والا پیدا ہو تو تو اسے ہلال رضی اللہ عنہ کا سمجھنا اور اگر وہ پتلی پنڈلیوں والا سیاہی مائل رنگ کا پیدا ہو تو اس شخص کا سمجھنا جس کے ساتھ اس پر الزام قائم کیا گیا ہے }۔ جب بچہ ہوا تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ اس بری صفت پر تھا جو الزام کی حقانیت کی نشانی تھی۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر یہ مسئلہ قسموں پر طے شدہ نہ ہوتا تو میں اس عورت کو قطعاً حد لگاتا }۔ یہ صاحبزادے بڑے ہو کر مصر کے والی بنے اور ان کی نسبت ان کی ماں کی طرف تھی۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2256،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس حدیث کے اور بھی بہت سے شاہد ہیں۔ بخاری شریف میں بھی یہ حدیث ہے۔ اس میں ہے کہ { شریک بن عماء کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب ہلال رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگے گی }۔ ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص اپنی بیوی کو برے کام پر دیکھ کر گواہ ڈھونڈنے جائے؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ دونوں کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ { اللہ خوب جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی توبہ کرکے اپنے جھوٹ سے ہٹتا ہے؟} اور روایت میں ہے کہ پانچویں دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کہا کہ { اس کا منہ بند کر دو } پھر اسے نصیحت کی، اور فرمایا: { اللہ کی لعنت سے ہرچیز ہلکی ہے }۔ اسی طرح اس عورت کے ساتھ کیا گیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2671]
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”لعان کرنے والے مرد و عورت کی نسبت مجھ سے دریافت کیا گیا کہ کیا ان میں جدائی کرا دی جائے؟ { یہ واقعہ ہے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی امارت کے زمانہ کا، مجھ سے تو اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا تو میں اپنے مکان سے چل کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی منزل پر آیا اور ان سے یہی مسئلہ پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا! ”سبحان اللہ سب سے پہلے یہ بات فلاں بن فلاں نے دریافت کی تھی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شخص اپنی عورت کو کسی برے کام پر پائے تو اگر زبان سے نکالے تو بھی بڑی بے شرمی کی بات ہے اور اگر خاموش رہے تو بھی بڑی بے غیرتی کی خاموشی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن کر خاموش ہو رہے۔ پھر وہ آیا اور کہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں نے جو سوال جناب سے کیا تھا افسوس وہی واقعہ میرے ہاں پیش آیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی یہ آیتیں نازل فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو پاس بلا کر ایک ایک کو الگ الگ نصیحت کی۔ بہت کچھ سمجھایا لیکن ہر ایک نے اپنا سچا ہونا ظاہر کیا پھر دونوں نے آیت کے مطابق قسمیں کھائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں جدائی کرا دی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5312] ایک اور روایت میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایک مجمع شام کے وقت جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری نے کہا جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو اگر وہ اسے مار ڈالے تو تم اسے مار ڈالو گے اور اگر زبان سے نکالے گا تو تم شہادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے اسی کو کوڑے لگاؤ گے اور اگر یہ اندھیر دیکھ کر خاموش ہو کر بیٹھا رہے تو یہ بڑی بے غیرتی اور بڑی بے حیائی ہے۔ واللہ اگر میں صبح تک زندہ رہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی بابت دریافت کروں گا۔ چنانچہ اس نے انہی لفظوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور دعا کی کہ یا اللہ اس کا فیصلہ نازل فرما۔ پس آیت لعان اتری اور سب سے پہلے یہی شخص اس میں مبتلا ہوا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1495] اور روایت میں ہے کہ { سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ذرا جاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت تو کرو کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پائے تو کیا کرے؟ ایسا تو نہیں کہ وہ قتل کرے تو اسے بھی قتل کیا جائے گا؟ چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سوال سے بہت ناراض ہوئے۔ جب عویمر رضی اللہ عنہ عاصم رضی اللہ عنہ سے ملے تو پوچھا کہ کہو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جواب دیا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا تم نے مجھ سے کوئی اچھی خدمت نہیں لی افسوس میرے اس سوال پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیب پکڑا اور برا مانا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا اب اگر میں اسے اپنے گھر لے جاؤں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ تہمت باندھی تھی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اس عورت کو جدا کر دیا۔ پھر تو لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ مقرر ہوگیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:423]
ایک اور روایت میں ہے کہ { یہ عورت حاملہ تھی اور ان کے خاوند نے اس سے انکار کیا کہ یہ حمل ان سے ہوا۔ اس لیے یہ بچہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہوتا رہا پھر منسون طریقہ یوں جاری ہوا کہ یہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اور ماں اس کی وارث ہو گی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:423] ایک مرسل اور غریب حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ { اگر تمہارے ہاں ایسی واردات ہو تو کیا کرو گے؟ } دونوں نے کہا گردن اڑا دیں گے۔ ایسے وقت چشم پوشی وہی کر سکتے ہیں جو دیوث ہوں، اس پر یہ آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [مسند بزار:2237:ضعیف] ایک روایت میں ہے کہ ”سب سے پہلا لعان مسلمانوں میں ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کے درمیان ہوا تھا۔“
9-1یعنی اگر خاوند کے جواب میں بیوی چار مرتبہ قسم کھا کر یہ کہہ دے کہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اگر اس کا خاوند سچا ہے (اور میں جھوٹی ہوں) تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ تو اس صورت میں وہ زنا کی سزا سے بچ جائی گی اس کے بعد ان دونوں کے درمیان ہمیشہ کے لئے جدائی ہوجائے گی۔ اسے لعان اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں دونوں ہی اپنے آپ کو جھوٹا ہونے کی صورت میں مستحق لعنت قرار دیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایسے بعض واقعات پیش آئے، جن کی تفصیل احادیث میں موجود ہے، وہی واقعات ان آیات کے نزول کا سبب بنے۔
تم لوگوں پر اللہ کا فضل اور اس کا رحم نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا التفات فرمانے والا اور حکیم ہے، تو (بیویوں پر الزام کا معاملہ تمہیں بڑی پیچیدگی میں ڈال دیتا)
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم تم پر نہ ہوتا (تو تم پر مشقت اترتی) اور اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے واﻻ باحکمت ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ توبہ قبول فرماتا حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اگر اللہ کا فضل و کرم اور اس کا رحم نہ ہوتا اور یہ (بات نہ ہوتی) کہ اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا، بڑا حکمت والا ہے (تو اس الزام تراشی کا انجام بڑا دردناک ہوتا)۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، کمال حکمت والا ہے ( تو جھوٹوں کو دنیا ہی میں سزا مل جاتی)۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لعان سے مراد ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ رب العالمین نے ان خاوندوں کیلئے جو اپنی بیویوں کی نسبت ایسی بات کہہ دیں چھٹکارے کی صورت بیان فرمائی ہے کہ جب وہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو لعان کرلیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ امام کے سامنے آ کر وہ اپنا بیان دے جب شہادت نہ پیش کر سکے تو حاکم اسے چار گواہوں کے قائم مقام چار قسمیں دے گا اور یہ قسم کھا کر کہے گا کہ وہ سچا ہے جو بات کہتا ہے وہ حق ہے۔ پانچویں دفعہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت۔ اتنا کہتے ہی امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ کے نزدیک اس کی عورت اس سے بائن ہو جائے گی اور ہمیشہ کیلئے حرام ہو جائے گی۔ یہ مہر ادا کر دے گا اور اس عورت پر زنا ثابت ہو جائے گی۔ لیکن اگر وہ عورت بھی سامنے ملاعنہ کرے تو حد اس پر سے ہٹ جائے گی۔ یہ بھی چار مرتبہ حلفیہ بیان دے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔ اور پانچویں مرتبہ کہے گی کہ اگر وہ سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس نکتہ کو بھی خیال میں رکھئے کہ عورت کیلئے غضب کا لفظ کہا گیا اس لیے کہ عموماً کوئی مرد نہیں چاہتا کہ وہ اپنی بیوی کو خواہ مخواہ تہمت لگائے اور اپنے آپ کو بلکہ اپنے کنبے کو بھی بدنام کرے عموماً وہ سچا ہی ہوتا ہے اور اپنے صدق کی بنا پر ہی وہ معذور سمجھا جاسکتا ہے۔ اس لیے پانچویں مرتبہ میں اس سے یہ کہلوایا گیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب آئے۔ پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو ایسی آسانیاں تم پر نہ ہوتیں بلکہ تم پر مشقت اترتی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرمایا کرتا ہے گو کیسے ہی گناہ ہوں اور گو کسی وقت بھی توبہ ہو وہ حکیم ہے، اپنی شرع میں، اپنے حکموں میں، اپنی ممانعت میں ‘۔ اس آیت کے بارے میں جو روایتیں ہیں وہ بھی سن لیجئے۔“ مسند احمد میں ہے { جب یہ آیت اتری تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو انصار کے سردار ہیں کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ آیت اسی طرح اتاری گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { انصاریو! سنتے نہیں ہو؟ یہ تمہارے سردار کیا کہہ رہے ہیں؟ } انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم درگزر فرمائیے یہ صرف ان کی بڑھی چڑھی غیرت کا باعث ہے اور کچھ نہیں۔ ان کی غیرت کا یہ حال ہے کہ انہیں کوئی بیٹی دینے کی جرأت نہیں کرتا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہا نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو میرا ایمان ہے کہ یہ حق ہے لیکن اگر میں کسی کو اس کے پاؤں پکڑے ہوئے دیکھ لوں تو بھی میں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا یہاں تک کہ میں چار گواہ لاؤں تب تک تو وہ اپنا کام پورا کرلے گا۔ اس بات کو ذرا سی ہی دیر ہوئی ہوگی کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ آئے یہ ان تین شخصوں میں سے جن کی توبہ قبول کی گئی انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے ان کی باتیں سنیں۔ صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت برا معلوم ہوا اور طبیعت پر نہایت ہی شاق گزرا۔
{ سب انصار جمع ہو گئے اور کہنے لگے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے قول کی وجہ سے ہم اس آفت میں مبتلا کئے گئے مگر اس صورت میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کو تہمت کی حد لگائیں اور اس کی شہادت کو مردود ٹھہرائیں۔ ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے واللہ میں سچا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا چھٹکارا کر دے گا۔ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھتا ہوں کہ میرا کلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر بہت گراں گزرا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اللہ کی قسم ہے میں سچا ہوں، اللہ خوب جانتا ہے۔ لیکن چونکہ گواہ پیش نہیں کر سکتے تھے قریب تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حد مارنے کو فرماتے اتنے میں وحی اترنا شروع ہوئی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو دیکھ کر علامت سے پہچان گئے کہ اس وقت وحی نازل ہو رہی ہے۔ جب اترچکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلال رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھ کر فرمایا: { اے ہلال رضی اللہ عنہ خوش ہو جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی اور چھٹی نازل فرمادی }۔ سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» مجھے اللہ رحیم کی ذات سے یہی امید تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلال رضی اللہ عنہ کی بیوی کو بلوایا اور ان دونوں کے سامنے آیت ملاعنہ پڑھ کر سنائی اور فرمایا: { دیکھو آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے سخت ہے }۔ ہلال رضی اللہ عنہ فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بالکل سچا ہوں۔ اس عورت نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ جھوٹ کہہ رہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اچھا لعان کرو۔ تو ہلال کو کہا گیا کہ اس طرح چار قسمیں کھاؤ اور پانچویں دفعہ یوں کہو۔ ہلال رضی اللہ عنہ جب چار بار کہہ چکے اور پانچویں بار کی نوبت آئی تو آپ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ ہلال! اللہ سے ڈر جا، دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں سے بہت ہلکی ہے یہ پانچویں بار تیری زبان سے نکلتے ہی تجھ پر عذاب واجب ہو جائے گا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم اللہ کی جس طرح اللہ نے مجھے دنیا کی سزا سے میری صداقت کی وجہ سے بچایا، اسی طرح آخرت کے عذاب سے بھی میری سچائی کی وجہ سے میرا رب مجھے محفوظ رکھے گا۔ پھر پانچویں دفعہ کے الفاظ بھی زبان سے ادا کر دیئے }۔
{ اب اس عورت سے کہا گیا کہ تو چار دفعہ قسمیں کھا کہ یہ جھوٹا ہے۔ جب وہ چاروں قسمیں کھاچکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پانچویں دفعہ کے اس کلمہ کے کہنے سے روکا اور جس طرح ہلال رضی اللہ عنہ کو سمجھایا گیا تھا اس سے بھی فرمایا تو اسے کچھ خیال پیدا ہوگیا۔ رکی، جھجکی، زبان کو سنبھالا، قریب تھا کہ اپنے قصور کا اقرار کر لے لیکن پھر کہنے لگی میں ہمیشہ کیلئے اپنی قوم کو رسوا نہیں کرنے کی۔ پھر کہہ دیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں جدائی کرا دی اور حکم دیدیا کہ اس سے جو اولاد ہو وہ ہلال رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب نہ کی جائے، نہ اسے حرام کی اولاد کہا جائے۔ جو اس بچے کو حرامی کہے یا اس عورت پر تہمت رکھے، وہ حد لگایا جائے گا، یہ بھی فیصلہ دیا کہ اس کا کوئی نان نفقہ اس کے خاوند پر نہیں کیونکہ جدائی کردی گئی ہے۔ نہ طلاق ہوئی ہے نہ خاوند کا انتقال ہوا ہے اور فرمایا: { دیکھو اگر یہ بچہ سرخ سفید رنگ موٹی پنڈلیوں والا پیدا ہو تو تو اسے ہلال رضی اللہ عنہ کا سمجھنا اور اگر وہ پتلی پنڈلیوں والا سیاہی مائل رنگ کا پیدا ہو تو اس شخص کا سمجھنا جس کے ساتھ اس پر الزام قائم کیا گیا ہے }۔ جب بچہ ہوا تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ اس بری صفت پر تھا جو الزام کی حقانیت کی نشانی تھی۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر یہ مسئلہ قسموں پر طے شدہ نہ ہوتا تو میں اس عورت کو قطعاً حد لگاتا }۔ یہ صاحبزادے بڑے ہو کر مصر کے والی بنے اور ان کی نسبت ان کی ماں کی طرف تھی۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2256،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس حدیث کے اور بھی بہت سے شاہد ہیں۔ بخاری شریف میں بھی یہ حدیث ہے۔ اس میں ہے کہ { شریک بن عماء کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب ہلال رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگے گی }۔ ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص اپنی بیوی کو برے کام پر دیکھ کر گواہ ڈھونڈنے جائے؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ دونوں کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ { اللہ خوب جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی توبہ کرکے اپنے جھوٹ سے ہٹتا ہے؟} اور روایت میں ہے کہ پانچویں دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کہا کہ { اس کا منہ بند کر دو } پھر اسے نصیحت کی، اور فرمایا: { اللہ کی لعنت سے ہرچیز ہلکی ہے }۔ اسی طرح اس عورت کے ساتھ کیا گیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2671]
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”لعان کرنے والے مرد و عورت کی نسبت مجھ سے دریافت کیا گیا کہ کیا ان میں جدائی کرا دی جائے؟ { یہ واقعہ ہے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی امارت کے زمانہ کا، مجھ سے تو اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا تو میں اپنے مکان سے چل کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی منزل پر آیا اور ان سے یہی مسئلہ پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا! ”سبحان اللہ سب سے پہلے یہ بات فلاں بن فلاں نے دریافت کی تھی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شخص اپنی عورت کو کسی برے کام پر پائے تو اگر زبان سے نکالے تو بھی بڑی بے شرمی کی بات ہے اور اگر خاموش رہے تو بھی بڑی بے غیرتی کی خاموشی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن کر خاموش ہو رہے۔ پھر وہ آیا اور کہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں نے جو سوال جناب سے کیا تھا افسوس وہی واقعہ میرے ہاں پیش آیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی یہ آیتیں نازل فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو پاس بلا کر ایک ایک کو الگ الگ نصیحت کی۔ بہت کچھ سمجھایا لیکن ہر ایک نے اپنا سچا ہونا ظاہر کیا پھر دونوں نے آیت کے مطابق قسمیں کھائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں جدائی کرا دی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5312] ایک اور روایت میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایک مجمع شام کے وقت جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری نے کہا جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو اگر وہ اسے مار ڈالے تو تم اسے مار ڈالو گے اور اگر زبان سے نکالے گا تو تم شہادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے اسی کو کوڑے لگاؤ گے اور اگر یہ اندھیر دیکھ کر خاموش ہو کر بیٹھا رہے تو یہ بڑی بے غیرتی اور بڑی بے حیائی ہے۔ واللہ اگر میں صبح تک زندہ رہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی بابت دریافت کروں گا۔ چنانچہ اس نے انہی لفظوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور دعا کی کہ یا اللہ اس کا فیصلہ نازل فرما۔ پس آیت لعان اتری اور سب سے پہلے یہی شخص اس میں مبتلا ہوا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1495] اور روایت میں ہے کہ { سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ذرا جاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت تو کرو کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پائے تو کیا کرے؟ ایسا تو نہیں کہ وہ قتل کرے تو اسے بھی قتل کیا جائے گا؟ چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سوال سے بہت ناراض ہوئے۔ جب عویمر رضی اللہ عنہ عاصم رضی اللہ عنہ سے ملے تو پوچھا کہ کہو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جواب دیا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا تم نے مجھ سے کوئی اچھی خدمت نہیں لی افسوس میرے اس سوال پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیب پکڑا اور برا مانا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا اب اگر میں اسے اپنے گھر لے جاؤں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ تہمت باندھی تھی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اس عورت کو جدا کر دیا۔ پھر تو لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ مقرر ہوگیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:423]
ایک اور روایت میں ہے کہ { یہ عورت حاملہ تھی اور ان کے خاوند نے اس سے انکار کیا کہ یہ حمل ان سے ہوا۔ اس لیے یہ بچہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہوتا رہا پھر منسون طریقہ یوں جاری ہوا کہ یہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اور ماں اس کی وارث ہو گی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:423] ایک مرسل اور غریب حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ { اگر تمہارے ہاں ایسی واردات ہو تو کیا کرو گے؟ } دونوں نے کہا گردن اڑا دیں گے۔ ایسے وقت چشم پوشی وہی کر سکتے ہیں جو دیوث ہوں، اس پر یہ آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [مسند بزار:2237:ضعیف] ایک روایت میں ہے کہ ”سب سے پہلا لعان مسلمانوں میں ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کے درمیان ہوا تھا۔“
10-1تو تم میں سے جھوٹے پر فوراً اللہ کا عذاب نازل ہوجاتا۔ لیکن چونکہ وہ تو رب ہے اور حکیم بھی، اس لئے ایک تو اس نے ستر پوشی کردی، تاکہ اس کے بعد اگر کوئی سچے دل سے توبہ کرلے تو وہ اسے اپنے دامن رحمت میں ڈھانپ لے گا اور حکیم بھی ہے کہ اس نے لعان جیسا مسئلہ بیان کر کے غیور مردوں کے لئے ایک نہایت معقول اور آسان تجویز مہیا کردی۔
(آیت 10){ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ …:} ”اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی…“ اس ”اگر“ کا جواب محذوف ہے، یعنی ”تو پھر تمھارا وہ حال ہوتا جو بیان میں آنا مشکل ہے“ اس لیے یہ جواب محذوف کر دیا ہے۔ اس کی کچھ تفصیل یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ لعان کا حکم نازل نہ کرتا تو خاوند اگر بیوی کو زنا کی حالت میں دیکھتا تو اس کا معاملہ دوسرے لوگوں کی طرح نہیں تھا، جن کے متعلق حکم ہے کہ اگر وہ کسی کو زنا کرتے ہوئے دیکھیں اور وہ چار گواہ نہ لا سکتے ہوں تو خاموش رہیں، کیونکہ اس میں ان کا ذاتی دخل نہیں اور وہ اللہ سے زیادہ غیرت مند نہیں، بخلاف خاوند کے کہ وہ اگر خاموش رہے تو ساری عمر دل کی جلن کے ساتھ خاموش رہے اور دوسروں کی اولاد کو اپنی اولاد تسلیم کرے، طلاق دے تو اس کا نقصان ہے اور اگر الزام لگائے تو چار گواہ لائے، اگر نہ لا سکے، جو بظاہر لانے ممکن نہیں تو بہتان کی حد جھیلے۔ دوسری طرف اگر محض خاوند کے الزام یا قسمیں کھانے سے بیوی کے زنا کا ثبوت ہو جاتا تو عورت کے لیے سخت مصیبت تھی، کیونکہ ممکن ہے وہ سچی ہو۔ اسی طرح اگر عورت کو قسمیں کھانے کی وجہ سے بری سمجھ لیا جاتا تو مرد پر حد قذف واجب ہو جاتی، حالانکہ ممکن ہے وہی سچا ہو۔ اس لیے لعان کا حکم اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اور اس کی رحمت ہے اور اس نے یہ حکم اپنے {” تَوَّابٌ “} اور {” حَكِيْمٌ “} ہونے کی وجہ سے دیا ہے، تاکہ میاں بیوی میں سے جو فریق سچا ہو بلاسبب سزا سے بچ جائے اور جو جھوٹا ہو دنیا میں اس پر پردہ رہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ مہلت سے فائدہ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کی توّابیت کی صفت کی بدولت توبہ کر لے اور اسے توبہ قبول ہونے کی سعادت حاصل ہو جائے۔
جو لوگ یہ بہتان گھڑ لائے ہیں وہ تمہارے ہی اندر کا ایک ٹولہ ہیں اس واقعے کو اپنے حق میں شر نہ سمجھو بلکہ یہ بھی تمہارے لیے خیر ہی ہے جس نے اس میں جتنا حصہ لیا اس نے اتنا ہی گناہ سمیٹا اور جس شخص نے اِس کی ذمہ داری کا بڑا حصہ اپنے سر لیا اس کے لیے تو عذاب عظیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگ یہ بہت بڑا بہتان باندھ ﻻئے ہیں یہ بھی تم میں سے ہی ایک گروه ہے۔ تم اسے اپنے لئے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ ہاں ان میں سے ہر ایک شخص پر اتنا گناه ہے جتنا اس نے کمایا ہے اور ان میں سے جس نے اس کے بہت بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے اس کے لئے عذاب بھی بہت ہی بڑا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو تمہارا پردہ کھول دیتا بیشک وہ کہ یہ بڑا بہتان لائے ہیں تمہیں میں کی ایک جماعت ہے اسے اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے ان میں ہر شخص کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا اور ان میں وہ جس نے سب سے بڑا حصہ لیا اس کے لیے بڑا عذاب ہے
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک جو لوگ جھوٹا بہتان گھڑ کر لائے ہیں وہ تم ہی میں سے ایک گروہ ہے۔ تم اسے اپنے حق میں برا نہ سمجھو۔ بلکہ وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ اس (گروہ) میں سے ہر آدمی کیلئے اتنا حصہ ہے جتنا اس نے گناہ کمایا ہے۔ اور جو ان میں سے اس (گناہ) کے بڑے حصہ کا ذمہ دار ہے اس کیلئے عذاب بھی بہت بڑا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جو یہ بہتان لائے ہیں وہ تمھی سے ایک گروہ ہیں، اسے اپنے لیے برا مت سمجھو، بلکہ یہ تمھارے لیے بہتر ہے۔ ان میں سے ہر آدمی کے لیے گناہ میں سے وہ ہے جو اس نے گناہ کمایا اور ان میں سے جو اس کے بڑے حصے کا ذمہ دار بنا اس کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پاکیزگی کی شہادت ٭٭
اس آیت سے لے کر دسویں آیت تک ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جب کہ منافقین نے آپ رضی اللہ عنہا پر بہتان باندھا تھا جس پر اللہ کو بہ سبب قرابت داری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیرت آئی اور یہ آیتیں نازل فرمائیں تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آبرو پر حرف نہ آئے۔ ان بہتان بازوں کی ایک پارٹی تھی۔ اس لعنتی کام میں سب سے پیش پیش عبداللہ بن ابی بن سلول تھا جو تمام منافقوں کا گرو گھنٹال تھا۔ اس بے ایمان نے ایک ایک کان میں بنا بنا کر اور مصالحہ چڑھ چڑھا کر یہ باتیں خوب گھڑ گھڑ کر پہنچائی تھیں۔ یہاں تک کہ بعض مسلمانوں کی زبان بھی کھلنے لگی تھی اور یہ چہ میگوئیاں قریب قریب مہینے بھر تک چلتی رہیں۔ یہاں تک کہ قرآن کریم کی یہ آیتیں نازل ہوئیں اس واقعے کا پورا بیان صحیح احادیث میں موجود ہے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ سفر میں جانے کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے نام کا قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکلتا اسے اپنے ساتھ لے جاتے۔ چنانچہ ایک غزوے کے موقعہ پر میرا نام نکلا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلی، یہ واقعہ پردے کی آیتیں اترنے کے بعد کا ہے۔ میں اپنے ھودج میں بیٹھی رہتی اور جب قافلہ کہیں اترتا تو میرا ھودج اتار لیا جاتا۔ میں اسی میں بیٹھی رہتی جب قافلہ چلتا یونہی ھودج رکھ دیا جاتا۔ ہم گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوے سے فارغ ہوئے، واپس لوٹے، مدینے کے قریب آ گئے رات کو چلنے کی آواز لگائی گئی میں قضائے حاجت کیلئے نکلی اور لشکر کے پڑاؤ سے دور جا کر میں نے قضائے حاجت کی۔ پھر واپس لوٹی، لشکر گاہ کے قریب آ کر میں نے اپنے گلے کو ٹٹولا تو ہار نہ پایا۔ میں واپس اس کے ڈھونڈنے کیلئے چلی اور تلاش کرتی رہی۔ یہاں یہ ہوا کہ لشکر نے کوچ کردیا جو لوگ میرا ھودج اٹھاتے تھے انہوں نے یہ سمجھ کر کہ میں حسب عادت اندر ہی ہوں۔ ھودج اٹھا کر اوپر رکھ دیا اور چل پڑے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس وقت تک عورتیں نہ کچھ ایسا کھاتی پیتی تھیں نہ وہ بھاری بدن کی بوجھل تھیں۔ تو میرے ھودج کے اٹھانے والوں کو میرے ہونے نہ ہونے کا مطلق پتہ نہ چلا، اور میں اس وقت اوائل عمر کی تو تھی ہی }۔
{ الغرض بہت دیر کے بعد مجھے میرا ہار ملا جب میں یہاں پہنچی تو کسی آدمی کا نام و نشان بھی نہ تھا نہ کوئی پکارنے والا، نہ جواب دینے والا، میں اپنے نشان کے مطابق وہیں پہنچی، جہاں ہمارا اونٹ بٹھایا گیا تھا اور وہیں انتظار میں بیٹھ گئی تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب آگے چل کر میرے نہ ہونے کی خبر پائیں گے تو مجھے تلاش کرنے کیلئے یہیں آئیں گے، مجھے بیٹھے بیٹھے نیند آ گئی۔ اتفاق سے صفوان بن معطل سلمی ذکوانی رضی اللہ عنہ جو لشکر کے پیچھے رہے تھے اور پچھلی رات کو چلے تھے، صبح کی روشنی میں یہاں پہنچ گئے۔ ایک سوتے ہوئے آدمی کو دیکھ کر خیال آنا ہی تھا، غور سے دیکھا تو چونکہ پردے کے حکم سے پہلے مجھے انہوں نے دیکھا ہوا تھا۔ دیکھتے ہی پہچان گئے اور باآواز بلند ان کی زبان سے «إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ۱؎ [2-البقرۃ:157] نکلا ان کی آواز سنتے ہی میری آنکھ کھل گئی اور میں اپنی چادر سے اپنا منہ ڈھانپ کر سنبھل بیٹھی۔ انہوں نے جھٹ اپنے اونٹ کو بٹھایا اور اس کے ہاتھ پر اپنا پاؤں رکھا میں اٹھی اور اونٹ پر سوار ہوگئی۔ انہوں نے اونٹ کو کھڑا کردیا اور بھگاتے ہوئے لے چلے۔ قسم اللہ کی نہ وہ مجھ سے کچھ بولے، نہ میں نے ان سے کوئی کلام کیا نہ سوائے اناللہ کے میں نے ان کے منہ سے کوئی کلمہ سنا۔ دوپہر کے قریب ہم اپنے قافلے سے مل گئے۔ پس اتنی سی بات کا ہلاک ہونے والوں نے بتنگڑ بنا لیا۔ ان کا سب سے بڑا اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والا عبداللہ بن ابی بن سلول تھا }۔
{ مدینے آتے ہی میں بیمار پڑگئی اور مہینے بھر تک بیماری میں گھر ہی میں رہی، نہ میں نے کچھ سنا، نہ کسی نے مجھ سے کہا جو کچھ غل غپاڑہ لوگوں میں ہو رہا تھا، میں اس سے محض بے خبر تھی۔ البتہ میرے جی میں یہ خیال بسا اوقات گزرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہرو محبت میں کمی کی کیا وجہ ہے؟ بیماری میں عام طور پر جو شفقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے ساتھ ہوتی تھی اس بیماری میں وہ بات نہ پاتی تھی۔ مجھے رنج تو بہت تھا مگر کوئی وجہ معلوم نہ تھی۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے سلام کرتے اور دریافت فرماتے { طبیعت کیسی ہے! } اور کوئی بات نہ کرتے اس سے مجھے بڑا صدمہ ہوتا مگر بہتان بازوں کی تہمت سے میں بالکل غافل تھی }۔
{ اب سنئے اس وقت تک گھروں میں بیت الخلاء نہیں ہوتے تھے اور عرب کی قدیم عادت کے مطابق ہم لوگ میدان میں قضائے حاجت کیلئے جایا کرتے تھے۔ عورتیں عموماً رات کو جایا کرتی تھیں۔ گھروں میں بیت الخلاء بنانے سے عام طور پر نفرت تھی، حسب عادت میں، ام مسطح بنت ابی رہم بن عبدالمطلب بن عبدالمناف رضی اللہ عنہا کے ساتھ قضائے حاجت کیلئے چلی۔ اس وقت میں بہت ہی کمزور ہو رہی تھی یہ ام مسطح رضی اللہ عنہا میرے والد صاحب رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں ان کی والدہ صخر بن عامر کی لڑکی تھیں، ان کے لڑکے کا نام مسطح بن اثاثہ بن عباد بن عبدالمطلب تھا۔ جب ہم واپس آنے لگے تو ام مسطح رضی اللہ عنہا کا پاؤں چادر کے دامن میں الجھا اور بےساختہ ان کے منہ سے نکل گیا کہ مسطح غارت ہو۔ مجھے بہت برا لگا اور میں نے کہا کہ تم نے بہت برا کلمہ بولا، توبہ کرو، تم اسے گالی دیتی ہو، جس نے جنگ بدر میں شرکت کی۔ اس وقت ام مسطح رضی اللہ عنہا نے کہا بھولی بیوی آپ کو کیا معلوم؟ میں نے کہا کیا بات ہے؟ انہوں نے فرمایا وہ بھی ان لوگوں میں سے ہے جو آپ رضی اللہ عنہا کو بدنام کرتے پھرتے ہیں۔ مجھے سخت حیرت ہوئی میں ان کے سر ہوگئی کہ کم از کم مجھ سے سارا واقعہ تو کہو۔ اب انہوں نے بہتان باز لوگوں کی تمام کارستانیاں مجھے سنائیں۔ میرے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے، رنج و غم کا پہاڑ مجھ پر ٹوٹ پڑا، مارے صدمے کے میں تو اور بیمار ہو گئی۔ بیمار تو پہلے سے ہی تھی، اس خبر نے تو نڈھال کر دیا، جوں توں کر کے گھر پہنچی۔ اب صرف یہ خیال تھا میں اپنے میکے جا کر اور اچھی طرح معلوم تو کر لوں کہ کیا واقعی میری نسبت ایسی افواہ پھیلائی گئی ہے؟ اور کیا کیا مشہور کیا جا رہا ہے؟ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، سلام کیا اور دریافت فرمایا کہ { کیا حال ہے؟ } میں نے کہا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو اپنے والد صاحب کے ہاں ہو آؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دیدی، میں یہاں آئی، اپنی والدہ سے پوچھا کہ اماں جان لوگوں میں کیا باتیں پھیل رہی ہیں؟ انہوں نے فرمایا بیٹی یہ تو نہایت معمولی بات ہے تم اتنا اپنا دل بھاری نہ کرو، کسی شخص کی اچھی بیوی جو اسے محبوب ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں وہاں ایسی باتوں کا کھڑا ہونا تو لازمی امر ہے۔ میں نے کہا سبحان اللہ کیا واقعی لوگ میری نسبت ایسی افواہیں اڑا رہے ہیں؟ اب تو مجھے غم و رنج نے اس قدر گھیرا کہ بیان سے باہر ہے۔ اس وقت سے جو رونا شروع ہوا واللہ ایک دم بھر کیلئے میرے آنسو نہیں تھمے، میں سر ڈال کر روتی رہتی۔ کس کا کھانا پینا، کس کا سونا بیٹھنا، کہاں کی بات چیت، غم و رنج اور رونا ہے اور میں ہوں۔ ساری رات اسی حالت میں گزری کہ آنسو کی لڑی نہ تھمی دن کو بھی یہی حال رہا }۔
{ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بلوایا، وحی میں دیر ہوئی، اللہ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی بات معلوم نہ ہوئی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں حضرات سے مشورہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے الگ کر دیں یا کیا؟ اسامہ رضی اللہ عنہ نے تو صاف کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کی اہل پر کوئی برائی نہیں جانتے۔ ہمارے دل ان کی عفت، عزت اور شرافت کی گواہی دینے کیلئے حاضر ہیں۔ ہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی تنگی نہیں، عورتیں ان کے سوا بھی بہت ہیں۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کی خادمہ سے پوچھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحیح واقعہ معلوم ہوسکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت گھر کی خادمہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو بلوایا اور ان سے فرمایا کہ { عائشہ رضی اللہ عنہا کی کوئی بات شک و شبہ والی کبھی بھی دیکھی ہو تو بتاؤ }۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے کہا اللہ کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ معبوث فرمایا ہے میں نے ان سے کوئی بات کبھی اس قسم کی نہیں دیکھی۔ ہاں صرف یہ بات ہے کہ کم عمری کی وجہ سے ایسا ہو جاتا ہے کہ کبھی کبھی گندھا ہوا آٹا یونہی رکھا رہتا ہے اور سوجاتی ہیں تو بکری آکر کھاجاتی ہے، اس کے سوا میں نے ان کا کوئی قصور کبھی نہیں دیکھا۔ چونکہ کوئی ثبوت اس واقعہ کا نہ ملا اس لیے اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور مجمع سے مخاطب ہو کر فرمایا: { کون ہے؟ جو مجھے اس شخص کی ایذاؤں سے بچائے جس نے مجھے ایذائیں پہنچاتے پہنچاتے اب تو میری گھر والیوں میں بھی ایذائیں پہنچانا شروع کردی ہیں۔ واللہ میں جہاں تک جانتا ہوں مجھے اپنی گھر والیوں میں سوائے بھلائی کے کوئی چیز معلوم نہیں، جس شخص کا نام یہ لوگ لے رہے ہیں، میری دانست تو اس کے متعلق بھی سوائے بھلائی کے اور کچھ نہیں وہ میرے ساتھ ہی گھر میں آتا تھا }۔
{ یہ سنتے ہی سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہوں اگر وہ قبیلہ اوس کا شخض ہے تو ابھی ہم اس کی گردن تن سے الگ کرتے ہیں اور اگر وہ ہمارے خزرج بھائیوں سے ہے تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو حکم دیں ہمیں اس کی تعمیل میں کوئی عذر نہ ہوگا۔ یہ سن کر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے یہ قبیلہ خزرج کے سردار تھے۔ تھے تو یہ بڑے نیک بخت مگر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے نہ تو تو اسے قتل کرے گا نہ اس کے قتل پر تو قادر ہے اگر وہ تیرے قبیلے کا ہوتا تو تو اس کا قتل کیا جانا کبھی پسند نہ کرتا۔ یہ سن کر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے یہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہوتے تھے کہنے لگے اے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تم جھوٹ کہتے ہو، ہم اسے ضرور مار ڈالیں گے آپ منافق آدمی ہیں کہ منافقوں کی طرف داری کر رہے ہیں۔ اب ان کی طرف سے ان کا قبیلہ اور ان کی طرف سے ان کا قبیلہ ایک دوسرے کے مقابلے پر آ گیا اور قریب تھا کہ اوس و خزرج کے یہ دونوں قبیلے آپس میں لڑ پڑیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر سے ہی انہیں سمجھانا اور چپ کرانا شروع کیا یہاں تک کہ دونوں طرف خاموشی ہوگئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی چپکے ہو رہے یہ تو تھا وہاں کا واقعہ۔ میرا حال یہ تھا کہ یہ سارا دن بھی رونے میں ہی گزرا۔ میرے اس رونے نے میرے ماں باپ کے بھی ہوش گم کر دیئے تھے، وہ سمجھ بیٹھے تھے کہ یہ رونا میرا کلیجہ پھاڑ دے گا۔ دونوں حیرت زدہ مغموم بیٹھے ہوئے تھے اور مجھے رونے کے سوا اور کوئی کام ہی نہ تھا اتنے میں انصار کی ایک عورت آئیں اور وہ بھی میرے ساتھ رونے لگی ہم یونہی بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشیرف لائے اور سلام کر کے میرے پاس بیٹھ گئے۔ قسم اللہ کی جب سے یہ بہتان بازی ہوئی تھی آج تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس کبھی نہیں بیٹھے تھے۔ مہینہ بھر گزر گیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی حالت تھی۔ کوئی وحی نہیں آئی تھی کہ فیصلہ ہو سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھتے ہی اول تو تشہد پڑھا پھر امابعد فرما کر فرمایا کہ { اے عائشہ! تیری نسبت مجھے یہ خبر پہنچی ہے۔ اگر تو واقعی پاک دامن ہے تو اللہ تعالیٰ تیری پاکیزگی ظاہر فرما دے گا اور اگر فی الحقیقت تو کسی گناہ میں آلودہ ہوگئی ہے تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کر اور توبہ کر، بندہ جب گناہ کر کے اپنے گناہ کے اقرار کے ساتھ اللہ کی طرف جھکتا ہے اور اس سے معافی طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا فرما کر خاموش ہوگئے یہ سنتے ہی میرا رونا دھونا سب جاتا رہا۔ آنسو تھم گئے یہاں تک کہ میری آنکھوں میں آنسو کا ایک قطرہ بھی باقی نہ رہا۔
{ میں نے اول تو اپنے والد سے درخواست کی کہ میری طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ رضی اللہ عنہ ہی جواب دیجئیے لیکن انہوں نے فرمایا کہ واللہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا جواب دوں؟ اب میں نے اپنی والدہ کی طرف دیکھا اور ان سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیجئیے لیکن انہوں نے بھی یہی کہا کہ میں نہیں سمجھ سکتی کہ میں کیا جواب دوں؟ آخر میں نے خود ہی جواب دینا شروع کیا۔ میری عمر کچھ ایسی بڑی تو نہ تھی اور نہ مجھے زیادہ قرآن حفظ تھا۔ میں نے کہا، آپ سب نے ایک بات سنی، اسے آپ نے دل میں بٹھا لیا اور گویا سچ سمجھ لیا۔ اب اگر میں کہوں گی کہ میں اس سے بالکل بری ہوں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں بالکل بے گناہ ہوں تو تم ابھی مان لو گے۔ میری اور تمہاری مثال تو بالکل ابو یوسف علیہ السلام کا یہ قول ہے آیت «فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّـهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ» ۱؎ [12-يوسف:18] پس صبر ہی اچھا ہے جس میں شکایت کا نام ہی نہ ہو اور تم جو باتیں بناتے ہو ان میں اللہ ہی میری مدد کرے، اتنا کہہ کر میں نے کروٹ پھیر لی اور اپنے بستر پر لیٹ گئی۔ اللہ کی قسم مجھے یقین تھا کہ چونکہ میں پاک ہوں اللہ تعالیٰ میری برأت اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور معلوم کرا دے گا لیکن یہ تو میرے شان و گمان میں بھی نہ تھا کہ میرے بارے میں قرآن کی آیتیں نازل ہوں۔ میں اپنے آپ کو اس سے بہت کم تر جانتی تھی کہ میرے بارے میں کلام اللہ کی آیتیں اتریں۔ ہاں مجھے زیادہ سے زیادہ یہ خیال ہوتا تھا کہ ممکن ہے خواب میں اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میری برأت دکھا دے۔ واللہ ابھی تو نہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے ہٹے تھے اور نہ گھر والوں میں سے کوئی گھر سے باہر نکلا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونی شروع ہوگئی۔ اور چہرہ پر وہی آثار ظاہر ہوئے جو وحی کے وقت ہوتے تھے اور پیشانی سے پسینے کی پاک بوندیں ٹپکنے لگیں۔ سخت جاڑوں میں بھی وحی کے نزول کی یہی کیفیت ہوا کرتی تھی، جب وحی اتر چکی تو ہم نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ ہنسی سے شگفتہ ہو رہا ہے۔ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھ کر فرمایا: { عائشہ خوش ہو جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہاری برأت نازل فرما دی }۔ اسی وقت میری والدہ نے فرمایا بچی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑی ہو جاؤ۔ میں نے جواب دیا کہ واللہ نہ تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑی ہوں گی اور نہ سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کی تعریف کروں گی اسی نے میری برأت اور پاکیزگی نازل فرمائی ہے۔ پس آیت «إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ» ۱؎ [24-النور:11] سے لے کر دس آیتوں تک نازل ہوئیں۔
{ ان آیتوں کے اترنے کے بعد اور میری پاک دامنی ثابت ہوچکنے کے بعد اس شر کے پھیلانے میں مسطح بن اثاثہ بھی شریک تھے اور انہیں میرے والد صاحب ان کی محتاجی اور ان کی قرابت داری کی وجہ سے ہمیشہ کچھ دیتے رہتے تھے۔ اب انہوں نے کہا جب اس شخص نے میری بیٹی پر تہمت باندھنے میں حصہ لیا تو اب میں اس کے ساتھ کچھ بھی سلوک نہ کروں گا۔ اس پر آیت «وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّـهُ لَكُمْ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [24-النور:22] ، نازل ہوئی یعنی ’ تم میں سے جو لوگ بزرگی اور وسعت والے ہیں، انہیں نہ چاہیئے کہ قرابت داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ کے مہاجروں سے سلوک نہ کرنے کی قسم کھا بیٹھیں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ یہ بخشش والا اور مہربانی والا اللہ تمہیں بخش دے؟ ‘ اسی وقت اس کے جواب میں صدیق اکبر رضی اللہ عنہا نے فرمایا قسم اللہ کی میں تو اللہ کی بخشش کا خواہاں ہوں۔ چنانچہ اسی وقت مسطح رضی اللہ عنہ کا وظیفہ جاری کردیا اور فرما دیا کہ واللہ اب عمر بھر تک اس میں کمی یا کوتاہی نہ کروں گا۔ میرے اس واقعہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ تھیں دریافت فرمایا تھا۔ یہی بیوی صاحبہ تھیں جو حضور کی تمام بیویوں میں میرے مقابلے کی تھیں لیکن یہ اپنی پرہیزگاری اور دین داری کی وجہ سے صاف بچ گئیں اور جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو سوائے بہتری کے عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں اور کچھ نہیں جانتی۔ میں اپنے کانوں کو اور اپنی نگاہ کو محفوظ رکھتی ہوں۔ گو انہیں ان کی بہن حمنہ بنت جحش نے بہت کچھ بہلاوے بھی دیئے بلکہ لڑ پڑیں لیکن انہوں نے اپنی زبان سے میری برائی کا کوئی کلمہ نہیں نکالا۔ ہاں ان کی بہن نے تو زبان کھول دی اور میرے بارے میں ہلاک ہونے والوں میں شامل ہو گئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2661] یہ روایت بخاری مسلم وغیرہ حدیث کی بہت سی کتابوں میں ہے۔
ایک سند سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس خطبے میں یہ بھی فرمایا تھا کہ { جس شخص کی طرف منسوب کرتے ہیں، وہ سفر حضر میں میرے ساتھ رہا میری عدم موجودگی میں کبھی میرے گھر نہیں آیا } اس میں ہے کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں جو صاحب کھڑے ہوئے انہی کے قبیلے میں ام مسطح رضی اللہ عنہا تھیں۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اسی خطبہ کے دن کے بعد رات کو میں ام مسطح کے ساتھ نکلی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ ایک مرتبہ یہ پھسلیں اور انہوں نے اپنے بیٹے مسطح رضی اللہ عنہ کو کوسا، میں نے منع کیا پھر پھسلیں، پھر کوسا، میں نے پھر روکا۔ پھر الجھیں، پھر کوسا تو میں نے انہیں ڈانٹنا شروع کیا۔ اس میں ہے کہ اسی وقت سے مجھے بخار چڑھ آیا۔ اس میں ہے کہ میری والدہ کے گھر پہنچانے کیلئے میرے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غلام کر دیا تھا۔ میں جب وہاں پہنچی تو میرے والد اوپر کے گھر میں تھے۔ تلاوت قرآن میں مشغول تھے اور والدہ نیچے کے مکان میں تھیں۔ مجھے دیکھتے ہی میری والدہ نے دریافت فرمایا! آج کیسے آنا ہوا؟ تو میں نے تمام بپتا کہہ سنائی لیکن میں نے دیکھا کہ انہیں یہ بات نہ کوئی انوکھی بات معلوم ہوئی نہ اتنا صدمہ اور رنج ہوا جس کی توقع مجھے تھی۔
اس میں ہے کہ میں نے والدہ سے پوچھا کیا میرے والد صاحب کو بھی اس کا علم ہے؟ انہوں نے کہا ہاں میں نے کہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک بھی یہ بات پہنچی ہے؟ جواب دیا کہ ہاں۔ اب تو مجھے پھوٹ پھوٹ کر رونا آنے لگا یہاں تک کہ میری آواز اوپر میرے والد صاحب کے کان میں بھی پہنچی وہ جلدی سے نیچے آئے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ میری والدہ نے کہا کہ انہیں اس تہمت کا علم ہو گیا ہے جو ان پر لگائی گئی ہے، یہ سن کر اور میری حالت دیکھ کر میرے والد صاحب رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں بھی آنسو بھر آئے اور مجھ سے کہنے لگے بیٹی میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ ابھی اپنے گھر لوٹ جاؤ۔ چنانچہ میں واپس چلی گئی۔ یہاں میرے پیچھے گھر کی خادمہ سے بھی میری بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور لوگوں کی موجودگی میں دریافت فرمایا۔ جس پر اس نے جواب دیا کہ میں عائشہ میں کوئی برائی نہیں دیکھتی بجز اس کے کہ وہ آٹا گندھا ہوا چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوتی ہیں، بے خبری سے سو جاتی ہیں۔ بسا اوقات آٹا بکریاں کھا جاتی ہیں۔ بلکہ اسے بعض لوگوں نے بہت ڈانٹا ڈپٹا بھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سچ سچ بات جو ہو بتا دے اس پر بہت سختی کی لیکن اس نے کہا واللہ ایک سنار خالص سونے میں جس طرح کوئی عیب کسی طرح تپا تپا کر بھی بتا نہیں سکتا۔ اسی طرح میں صدیقہ رضی اللہ عنہا پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتی۔ جب اس شخص کو یہ اطلاع پہنچی جنہیں بدنام کیا جا رہا تھا تو اس نے کہا قسم اللہ کی میں نے تو آج تک کسی عورت کا بازو کبھی کھولا ہی نہیں۔ بالآخر یہ اللہ کی راہ میں شہید ہوئے (رضی اللہ عنہ)۔
اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس عصر کی نماز کے بعد تشریف لائے تھے۔ اس وقت میری ماں اور میرے باپ میرے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے تھے۔ اور وہ انصاریہ عورت جو آئی تھیں وہ دروازے پر بیٹھی ہوئی تھیں اس میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نصیحت شروع کی اور مجھ سے حقیقت حال دریافت کی تو میں نے کہا ہائے کیسی بے شرمی کی بات ہے؟ اس عورت کا بھی تو خیال نہیں؟ اس میں ہے کہ میں نے بھی اللہ کی حمد و ثناء کے بعد جواب دیا تھا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ میں نے اس وقت ہر چند یعقوب علیہ السلام کا نام تلاش کیا لیکن واللہ وہ زبان پر نہ چڑھا، اسلئے میں نے ابو یوسف کہہ دیا۔ اس میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے اترنے کے بعد مجھے خوشخبری سنائی واللہ اس وقت میرا غم بھرا غصہ بہت ہی بڑھ گیا تھا۔ میں نے اپنے ماں باپ سے بھی کہا تھا کہ میں اس معاملے میں تمہاری بھی شکر گزار نہیں۔ تم سب نے ایک بات سنی لیکن نہ تم نے انکار کیا نہ تمہیں ذرا غیرت آئی۔ اس میں ہے کہ اس قصے کو زبان پر لانے والے حمنہ بنت حجش، مسطح، حسان بن ثبات اور عبداللہ بن ابی منافق تھے۔ یہ سب کا سرغنہ تھا اور یہی زیادہ تر لگاتا بجھاتا تھا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4757]
اور حدیث میں ہے کہ { میرے عذر کی یہ آیتیں اترنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مردوں اور ایک عورت کو تہمت کی حد لگائی یعنی حسان بن ثابت، مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہم کو }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4474،قال الشيخ الألباني:حسن] ایک روایت میں ہے کہ { جب ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو اپنے اوپر تہمت لگنے کا علم ہوا اور یہ بھی پتہ چلا کہ اس کا علم آپ رضی اللہ عنہا کے والد اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہو چکا ہے تو آپ رضی اللہ عنہا بے ہوش ہو کر گر پڑیں۔ جب ذرا ہوش میں آئیں تو سارا جسم تپ رہا تھا اور زور کا بخار چڑھا ہوا تھا اور کانپ رہی تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کی والدہ نے اسی وقت لحاف اوڑھا دیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے پوچھا { یہ کیا حال ہے؟ } میں نے کہا جاڑے سے بخار چڑھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { شاید اس خبر کو سن کر یہ حال ہو گیا ہوگا؟} جب آپ رضی اللہ عنہا کے عذر کی آیتیں اتریں اور آپ رضی اللہ عنہا نے انہیں سن کر فرمایا کہ ”یہ اللہ کے فضل سے ہے نہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضل سے۔“ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کہتی ہو؟ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”ہاں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3388]
اب آیتوں کا مطلب سنئے جو لوگ جھوٹ بہتان گھڑی ہوئی بات لے آئے اور وہ ہیں بھی زیادہ اسے تم اے آل ابی بکر رضی اللہ عنہ اپنے لیے برا نہ سمجھو بلکہ انجام کے لحاظ سے دین و دنیا میں وہ تمہارے لیے بھلا ہے۔ دنیا میں تمہاری صداقت ثابت ہوگی، آخرت میں بلند مراتب ملیں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت قرآن کریم میں نازل ہوگی، جس کے آس پاس بھی باطل نہیں آسکتا۔ یہی وجہ تھی کہ جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اماں صاحبہ رضی اللہ عنہا کے پاس ان کے آخری وقت آئے تو فرمانے لگے ”ام المؤمنین رضی اللہ عنہا آپ خوش ہو جائیے کہ آپ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ رہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم محبت سے پیش آتے رہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کے سوا کسی اور باکرہ سے نکاح نہیں کیا اور آپ رضی اللہ عنہا کی برأت آسمان سے نازل ہوئی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4753] ایک مرتبہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہم اپنے اوصاف حمیدہ کا ذکر کرنے لگیں تو ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”میرا نکاح آسمان سے اترا“، اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”میری پاکیزگی کی شہادت قرآن میں آسمان سے اتری جب کہ صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ مجھے اپنی سواری پر بٹھا لائے
11-1اِ فَک سے مراد وہ واقع افک ہے جس میں منافقین نے حضرت عائشہ ؓ کے دامن عفت و عزت کو داغ دار کرنا چاہا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حضرت عائشہ کی حرمت میں آیت نازل فرما کر ان کی پاک دامنی اور عفت کو واضح تر کردیا۔ اِفْک کے معنی ہیں کسی چیز کو الٹا دینا۔ اس واقع میں بھی چونکہ منافقین نے معاملے کو الٹا کردیا تھا یعنی حضرت عائشہ تو ثنا تعریف کی مستحق تھیں، عالی نسب اور رفعت کردار کی مالک تھیں نہ کہ قذف کی۔ لیکن ظالموں نے اس پیکر عفت کو اس کے برعکس طعن اور بہتان تراشی کا ہدف بنا لیا۔ 11-2ایک گروہ اور جماعت کو عَصْبَۃ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کی تقویت اور عصیبت کا باعث ہوتے ہیں۔ 11-3کیونکہ اس سے ایک تو تمہیں کرب اور صدمے کے سبب ثواب عظیم ملے گا، دوسرے آسمانوں سے حضرت عائشہ کی حرمت میں ان کی عظمت شان اور ان کے خاندان کا شرف و فضل نمایاں تر ہوگیا، علاوہ ازیں اہل ایمان کے لئے اس میں عبرت و نصیحت کے اور کئی پہلو ہیں۔ 11-4اس سے مراد عبد اللہ بن ابی منافق ہے جو اس سازش کا سرغنہ تھا۔
(آیت 11) ➊ {اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ: ”اَلْإِفْكُ“} کا لفظی معنی الٹا کرنا ہوتا ہے، مراد ایسا بہتان ہے جو حقیقت کے بالکل خلاف ہو۔ اس سے مراد وہ بہتان ہے جو منافقین نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا پر لگایا تھا، دو تین مخلص مسلمان بھی سادہ دلی کی وجہ سے ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ اس کی تفصیل خود عائشہ رضی اللہ عنھا سے سنیے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ آپ جب سفر پر جاتے تو اپنی بیویوں کے نام قرعہ ڈالتے، جس بیوی کے نام قرعہ نکلتا اسے آپ اپنے ساتھ لے جاتے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غزوہ (بنو المصطلق) میں قرعہ ڈالا جو میرے نام نکلا، تو میں آپ کے ساتھ روانہ ہو گئی۔ یہ واقعہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد کا ہے۔ میں ایک ہودے میں سوار رہتی اور جب اترتی تو ہودے سمیت اتاری جاتی۔ ہم اسی طرح سفر کرتے رہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس غزوہ سے فارغ ہوئے اور سفر سے لوٹے تو ہم لوگ مدینہ کے نزدیک آ پہنچے، آپ نے ایک رات کوچ کا اعلان کیا۔ یہ اعلان سن کر میں اٹھی اور پیدل چل کر لشکر سے پار نکل گئی، جب حاجت سے فارغ ہوئی اور لشکر کی طرف آنے لگی تو مجھے معلوم ہوا کہ ”اظفار“ کے نگینوں کا ہار (جو میرے گلے میں تھا) ٹوٹ کر گر گیا ہے۔ میں اسے ڈھونڈنے لگی اور اسے ڈھونڈنے میں دیر لگ گئی۔ اتنے میں وہ لوگ جو میرا ہودہ اٹھا کر اونٹ پر لادا کرتے تھے، انھوں نے ہودہ اٹھایا اور میرے اونٹ پر لاد دیا۔ وہ یہ سمجھتے رہے کہ میں ہودہ میں موجود ہوں، کیونکہ اس زمانہ میں عورتیں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں، پُر گوشت اور بھاری بھر کم نہ ہوتی تھیں اور تھوڑا سا کھانا کھایا کرتی تھیں۔ لہٰذا ان لوگوں نے جب ہودہ اٹھایا تو انھیں اس کے ہلکے پن کا کوئی خیال نہ آیا، علاوہ ازیں میں ان دنوں ایک کم سن لڑکی تھی۔ خیر وہ ہودہ اونٹ پر لاد کر چل دیے۔ لشکر کے روانہ ہونے کے بعد میرا ہار مجھے مل گیا اور میں اسی ٹھکانے کی طرف چلی گئی جہاں رات کو اترے تھے، دیکھا تو وہاں نہ کوئی پکارنے والا ہے اور نہ جواب دینے والا (مطلب سب جا چکے تھے)، میں نے ارادہ کیا کہ اپنے ٹھکانے پر چلی جاؤں، کیونکہ میرا خیال تھا کہ جب وہ لوگ مجھے نہ پائیں گے تو اسی جگہ تلاش کرنے آئیں گے۔ میں وہاں بیٹھی رہی، نیند نے غلبہ کیا اور میں سو گئی۔ لشکر کے پیچھے پیچھے (گرے پڑے سامان کی خبر رکھنے کے لیے) صفوان بن معطل السلمی الذکوانی مقرر تھے۔ وہ رات چلے اور صبح میرے ٹھکانے کے قریب پہنچے اور دور سے کسی انسان کو سوتے ہوئے دیکھا، پھر میرے قریب آئے تو مجھے پہچان لیا، کیونکہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے انھوں نے مجھے دیکھا تھا، جب انھوں نے مجھے پہچان کر {”إِنَّا لِلّٰهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ“} پڑھا تو میں بیدار ہو گئی اور اپنی چادر سے چہرہ ڈھانپ لیا۔ اللہ کی قسم! انھوں نے نہ مجھ سے کوئی بات کی اور نہ میں نے {”إِنَّا لِلّٰهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ“} کے سوا کوئی بات سنی۔ انھوں نے اپنی سواری بٹھائی اور اس کے اگلے پاؤں کو پاؤں سے دبائے رکھا تو میں اس پر سوار ہو گئی۔ وہ آگے سے اونٹنی کی مہار پکڑ کر پیدل چلتے رہے، یہاں تک کہ ہم لشکر سے اس وقت جا ملے جب وہ عین دوپہر کو گرمی کی شدت کی وجہ سے پڑاؤ کیے ہوئے تھے۔ تو جن کی قسمت میں تباہی لکھی تھی وہ تباہ ہوئے۔ اس تہمت کا ذمہ دار عبد اللہ بن ابی ابن سلول تھا۔ خیر ہم لوگ مدینہ پہنچے، وہاں پہنچ کر میں بیمار ہو گئی اور مہینا بھر بیمار رہی۔ لوگ تہمت لگانے والوں کی باتوں کا چرچا کرتے رہے اور مجھے خبر تک نہ ہوئی، البتہ ایک بات سے مجھے شک سا پڑتا تھا، وہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ مہربانی جو بیماری کی حالت میں مجھ پر ہوا کرتی تھی وہ اس بیماری میں مجھے نظر نہیں آئی۔ بس یہ تھا کہ آپ میرے پاس آتے تو سلام کہتے، پھر فرماتے: ”کیا حال ہے؟“ اور چلے جاتے، اس سے مجھے شک پڑتا، مگر مجھے کسی بات کی خبر نہ تھی۔ بیماری سے کچھ افاقہ ہوا تو میں کمزور ہو گئی، ابھی کمزور ہی تھی کہ ”مناصع“ کی طرف گئی۔ مسطح کی ماں (عاتکہ) میرے ساتھ تھی۔ ہم لوگ ہر رات کو وہاں رفع حاجت کے لیے جایا کرتے تھے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب ہم اپنے گھروں کے نزدیک بیت الخلا نہیں بناتے تھے، بلکہ اگلے زمانہ کے عربوں کی طرح رفع حاجت کے لیے باہر جایا کرتے تھے۔ کیونکہ گھروں کے قریب بیت الخلا بنانے سے اس کی بدبو ہمیں تکلیف دیتی۔ خیر میں اور مسطح کی ماں جو ابو رہم بن عبد مناف کی بیٹی تھی اور اس کی ماں صخر بن عامر کی بیٹی اور ابوبکر صدیق کی خالہ تھی، اس کا بیٹا مسطح تھا، رفع حاجت سے فراغت کے بعد ہم دونوں گھر کو آ رہی تھیں کہ مسطح کی ماں کا پاؤں چادر میں الجھ کر پھسلا تو وہ کہنے لگی: ”مسطح ہلاک ہو۔“ میں نے اسے کہا: ”تم نے بہت بری بات کہی، کیا تم اس شخص کو کوستی ہو جو بدر میں شریک تھا؟“ وہ کہنے لگی: ”اے بھولی لڑکی! کیا تم نے وہ نہیں سنا جو اس نے کہا ہے؟“ میں نے کہا: ”اس نے کیا کہا ہے؟“ تب اس نے تہمت لگانے والوں کی باتیں مجھ سے بیان کیں تو میری بیماری میں مزید اضافہ ہو گیا۔ جب میں گھر پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے اور سلام کرکے پوچھا: ”اب کیسی ہو؟“ میں نے کہا: ”کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں والدین کے پاس جاؤں؟“ میرا ارادہ اس وقت یہ تھا کہ ان سے خبر کی تحقیق کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔ میں اپنے والدین کے پاس آ گئی تو میں نے اپنی ماں سے کہا: ”امی! لوگ (میرے بارے میں) کیا باتیں کر رہے ہیں؟“ اس نے کہا: ”بیٹی! اتنا رنج نہ کرو، اللہ کی قسم! اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی مرد کے پاس کوئی خوبصورت عورت ہوتی ہے اور وہ اس سے محبت کرتا ہے اور اس کی سوکنیں بھی ہوں تو وہ بہت کچھ کرتی رہتی ہیں۔“ میں نے کہا: ”سبحان اللہ! لوگوں نے اس کا چرچا بھی کر دیا۔“ چنانچہ میں وہ ساری رات روتی رہی، صبح ہو گئی مگر میرے آنسو تھمتے ہی نہ تھے، نہ آنکھوں میں نیند کا سرمہ تک آتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب اور اسامہ بن زید(رضی اللہ عنھما) کو بلایا، کیونکہ وحی اترنے میں دیر ہو رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے اپنی اہلیہ سے علیحدگی کے متعلق مشورہ چاہتے تھے۔ چنانچہ اسامہ بن زید نے تو آپ کو اس کے مطابق مشورہ دیا جو وہ جانتے تھے کہ عائشہ ایسی ناپاک باتوں سے پاک ہے اور اس کے مطابق کہا جو ان کے دل میں آپ کے گھر والوں کی محبت تھی۔ انھوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! وہ آپ کی اہلیہ ہے اور ہم خیر کے سوا کچھ نہیں جانتے۔“ علی(رضی اللہ عنہ) نے کہا: ”یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ پر کوئی تنگی نہیں کی اور عورتیں اس کے علاوہ بھی بہت ہیں اور اگر آپ بریرہ سے پوچھیں تو وہ آپ کو ٹھیک ٹھیک بتا دے گی۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ(رضی اللہ عنھا) کو بلایا اور اس سے پوچھا: ”کیا تم نے کوئی ایسی بات دیکھی ہے کہ عائشہ کے متعلق تمھیں کچھ شک ہو؟“ بریرہ(رضی اللہ عنھا) کہنے لگیں: ”اللہ کی قسم، جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں نے اس میں کوئی بات نہیں دیکھی جسے میں اس کا عیب سمجھوں، زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ وہ نو عمر لڑکی ہے، گھر والوں کا گندھا ہوا آٹا رکھ کر سو جاتی ہے اور بکری آ کر اسے کھا جاتی ہے۔‘ ‘(اس کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ دینے کے لیے) کھڑے ہوئے اور اس دن عبد اللہ بن ابی کے خلاف مدد مانگی، فرمایا: [ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِيْنَ! مَنْ يَعْذِرُنِيْ مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنِيْ أَذَاهُ فِيْ أَهْلِ بَيْتِيْ؟ فَوَ اللّٰهِ! مَا عَلِمْتُ عَلٰی أَهْلِيْ إِلَّا خَيْرًا، وَ لَقَدْ ذَكَرُوْا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا، وَمَا كَانَ يَدْخُلُ عَلٰی أَهْلِيْ إِلَّا مَعِيَ ] ”مسلمانو! اس آدمی کے خلاف کون میری حمایت کرتا ہے جس کی تکلیف مجھے میرے گھر والوں کے متعلق پہنچی ہے، اللہ کی قسم! میں نے اپنے اہل خانہ میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں دیکھا اور ان لوگوں نے ایک ایسے آدمی کا ذکر کیا ہے جس میں خیر کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا اور وہ میرے گھر کبھی اکیلا نہیں بلکہ میرے ساتھ ہی آتا ہے۔“ یہ سن کر سعد بن معاذ انصاری (اوس قبیلے کے سردار) کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: ”میں اس کے مقابل آپ کی مدد کرتا ہوں، اگر وہ اوس قبیلے سے ہے تو میں اس کی گردن اڑاتا ہوں اور اگر ہمارے بھائیوں خزرج قبیلے سے ہے تو آپ جو حکم دیں گے ہم بجا لائیں گے۔“ یہ بات سن کر سعد بن عبادہ، جو خزرج قبیلے کے سردار تھے، کھڑے ہوئے، وہ اس سے پہلے نیک آدمی تھے، مگر قومی حمیّت نے انھیں بھڑ کا دیا، انھوں نے سعد بن معاذ سے کہا: ”اللہ کی قسم! تم نے جھوٹ کہا، اللہ کی قسم! نہ تم اسے قتل کرو گے اور نہ ہی قتل کر سکتے ہو۔“ اتنے میں اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ جو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے چچا کے بیٹے تھے، کھڑے ہوئے اور انھوں نے سعد بن عبادہ سے کہا: ”تم جھوٹ کہہ رہے ہو، اللہ کی قسم! ہم اسے ضرور قتل کریں گے، کیونکہ تم منافق ہو، منافقوں کی طرف داری کرتے ہوئے، ان کی طرف سے جھگڑتے ہو۔“ اس پر اوس اور خزرج دونوں قبیلوں کے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور قریب تھا کہ آپس میں لڑ پڑیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی منبر ہی پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں سمجھاتے اور ٹھنڈا کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ خاموش ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی خاموش ہو گئے۔عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں وہ سارا دن روتی رہی، نہ میرے آنسو تھمتے تھے نہ آنکھوں میں نیند کا سرمہ تک پڑتا تھا۔ (والد نے مجھے گھر واپس جانے کا حکم دیا اور میں گھر چلی گئی) میرے والدین صبح میرے پاس ا ٓ گئے، میں دو رات اور ایک دن سے مسلسل رو رہی تھی، اس عرصہ میں مجھے نہ نیند آئی تھی اور نہ آنسو تھمتے تھے، والدین کو گمان ہوتا تھا کہ رو رو کر میرا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ پھر ایسا ہوا کہ میرے والدین میرے پاس بیٹھے تھے اور میں رو رہی تھی کہ ایک انصاری عورت نے اندر آنے کی اجازت مانگی، میں نے اجازت دے دی تو وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ کر رونے لگی۔ ہم اس حال میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ نے سلام کہا اور بیٹھ گئے۔ اس سے پہلے جب سے مجھ پر تہمت لگی تھی آپ میرے پاس نہیں بیٹھے تھے۔ آپ ایک مہینا انتظار کرتے رہے، مگر وحی نہیں آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر خطبہ پڑھا، پھر فرمایا: [ أَمَّا بَعْدُ، يَا عَائِشَةُ! فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِيْ عَنْكِ كَذَا وَ كَذَا، فَإِنْ كُنْتِ بَرِيْئَةً فَسَيُبَرِّئْكِ اللّٰهُ، وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللّٰهَ وَتُوبِيْ إِلَيْهِ، فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ بِذَنْبِهِ ثُمَّ تَابَ إِلَي اللّٰهِ تَابَ اللّٰهُ عَلَيْهِ ] ”اما بعد! عائشہ! مجھے تمھارے بارے میں یہ بات پہنچی ہے، اگر تو بے گناہ ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے ضرور بری کر دے گا اور اگر تو کسی گناہ سے آلودہ ہوئی ہے تو اللہ سے معافی مانگ اور توبہ کر، کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا اقرار کرکے توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔“ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات ختم کی تو میرے آنسو سوکھ گئے، حتیٰ کہ مجھے ان کا ایک قطرہ بھی محسوس نہیں ہوتا تھا، میں نے اپنے والد سے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کہا ہے اس کا جواب دیں۔“ انھوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھے معلوم نہیں میں کیا کہوں۔“ پھر میں نے اپنی ماں سے کہا: ”آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیں۔“ انھوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھے معلوم نہیں میں کیا کہوں۔“ آخر میں خود ہی جواب دینے لگی، میں نو عمر لڑکی تھی، قرآن میں نے زیادہ نہیں پڑھا تھا، میں نے کہا: [ إِنِّيْ وَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَقَدْ سَمِعْتُمْ هٰذَا الْحَدِيْثَ حَتَّی اسْتَقَرَّ فِيْ أَنْفُسِكُمْ وَ صَدَّقْتُمْ بِهِ، فَلَئِنْ قُلْتُ لَكُمْ: إِنِّيْ بَرِيْئَةٌ، وَاللّٰهُ يَعْلَمُ أَنّيْ بَرِيْئَةٌ، لَا تُصَدِّقُوْنَنِيْ بِذٰلِكَ، وَلَئِنِ اعْتَرَفْتُ لَكُمْ بِأَمْرٍ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ أَنِّيْ مِنْهُ بَرِيْئَةٌ لَتُصَدِّقُنِّيْ، وَاللّٰهِ مَا أَجِدُ لَكُمْ مَثَلًا إِلَّا قَوْلَ أَبِيْ يُوْسُفَ قَالَ: «{ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ }» [يوسف: ۱۸] ] ”اللہ کی قسم! میں جانتی ہوں کہ آپ لوگوں نے یہ بات سنی ہے، حتیٰ کہ آپ کے دل میں جم گئی ہے اور آپ نے اسے سچا سمجھ لیا ہے، اب اگر میں آپ سے کہوں کہ میں بے گناہ ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں بے گناہ ہوں، تو تم مجھے اس میں سچا نہیں سمجھو گے اور اگر میں کسی بات کا اعتراف کر لوں، جب کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں تو آپ مجھے سچا سمجھیں گے۔ اللہ کی قسم! میں اپنی اور تمھاری مثال ایسی ہی سمجھتی ہوں جیسے یوسف کے باپ نے کہا تھا: ”سو (میرا کام) اچھا صبر ہے اور اللہ ہی ہے جس سے اس پر مدد مانگی جاتی ہے، جو تم بیان کرتے ہو۔“ پھر میں نے کروٹ بدل لی اور بستر پر لیٹ گئی۔ میں اس وقت جانتی تھی کہ میں بے گناہ ہوں اور اللہ تعالیٰ ضرور میری بے گناہی کی وجہ سے مجھے بری کر دے گا، لیکن اللہ کی قسم! مجھے یہ گمان تک نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں ایسی وحی نازل کرنے والا ہے جس کی تلاوت کی جائے گی اور میرے دل میں میری شان اس سے کہیں کم تر تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں ایسی بات فرمائے گا جس کی تلاوت کی جایا کرے گی۔ مجھے تو یہ امید تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند میں خواب دیکھیں گے، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ مجھے پاک قرار دے گا۔ تو اللہ کی قسم! ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے نہ تھے، نہ ہی گھر والوں میں سے کوئی باہر گیا تھا کہ آپ پر وحی نازل ہونے لگی اور آپ پر وہ سختی ہونے لگی جو اس موقع پر ہوا کرتی تھی، یہاں تک کہ آپ سے موتیوں کی طرح پسینا ٹپکنے لگا، حالانکہ وہ سردی کا دن تھا۔ ایسا اس کلام کے بوجھ کی وجہ سے ہوتا تھا جو آپ پر نازل ہوتا تھا۔ جب وہ حالت ختم ہوئی تو آپ خوش تھے اور ہنس رہے تھے۔ پھر پہلی بات جو آپ نے کہی یہ تھی: [ يَا عَائِشَةُ! أَمَّا اللّٰهُ عَزَّ وَ جَلَّ فَقَدْ بَرَّأَكِ ] ”عائشہ! اللہ عز و جل نے تمھیں بری کر دیا۔“ میری والدہ نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اٹھو (اور شکریہ ادا کرو)۔“ میں نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں آپ کی طرف نہیں اٹھوں گی اور اللہ کے سوا کسی کا شکریہ ادا نہیں کروں گی۔“ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: «اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ … وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» [ النور: ۱۱ تا ۲۰ ] جب اللہ تعالیٰ نے میری براء ت میں یہ آیات نازل فرمائیں تو ابوبکر صدیق(رضی اللہ عنہ) نے، جو محتاجی اور قرابت کی وجہ سے مسطح پر خرچ کیا کرتے تھے، کہا: ”اللہ کی قسم! میں مسطح پر کبھی کچھ خرچ نہیں کروں گا، کیونکہ اس نے عائشہ کے متعلق ایسی باتیں کی ہیں۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وَ لَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ يُّؤْتُوْۤا اُولِي الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِيْنَ وَ الْمُهٰجِرِيْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ لْيَعْفُوْا وَ لْيَصْفَحُوْا اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [ النور: ۲۲ ] ”اور تم میں سے فضیلت اور وسعت والے اس بات سے قسم نہ کھا لیں کہ قرابت والوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دیں اور لازم ہے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخشے اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔“ یہ آیت سن کر ابوبکر نے کہا: ”کیوں نہیں؟ اللہ کی قسم! مجھے پسند ہے کہ اللہ مجھے بخش دے۔“ اور وہ مسطح پر جو خرچ کیا کرتے تھے دوبارہ کرنے لگے اور کہا: ”اللہ کی قسم! میں کبھی یہ معمول بند نہیں کروں گا۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس تہمت کے زمانہ میں) زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا سے میرے بارے میں پوچھا کرتے تھے کہ زینب تمھیں کیا معلوم ہے، یا تم نے کیا دیکھا ہے؟ تو وہ یہی کہتی کہ میں اپنے کان اور آنکھ کی خوب احتیاط رکھتی ہوں، مجھے تو اس کے اچھا ہونے کے سوا کچھ معلوم نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے زینب ہی میرا مقابلہ کرتی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس کی پرہیز گاری کی وجہ سے اسے بچا لیا اور اس کی بہن حمنہ اس کی خاطر لڑنے لگی۔ تو جس طرح دوسرے تہمت لگانے والے تباہ ہوئے وہ بھی تباہ ہوئی۔“ [ بخاري، التفسیر، باب: «لو لا إذ سمعتموہ ظن المؤمنون…» : ۴۷۵۰ ] ➋ { اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ …:} ایک ذہن کے لوگوں کے گروہ اور جماعت کو {”عُصْبَةٌ“} اور {” عِصَابَةٌ“} کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ ایک دوسرے کی تقویت کا باعث ہوتے ہیں اور {” عَصَبَ يَعْصِبُ “} (ض) کا معنی باندھنا اور مضبوط کرنا ہے، یعنی جو لوگ یہ عظیم بہتان اپنے پاس سے بنا کر لائے ہیں ان کا شمار مسلمانوں میں ہوتا ہے، اس لیے ان سے معاملہ کرتے وقت ان کے ساتھ غیر مسلموں والا سلوک نہ کرو، کیونکہ یہ تمھی میں سے ہیں، ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ ان کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں اور بات باہمی فساد تک جا پہنچے۔ جیسا کہ تجربے سے یہ بات ثابت بھی ہو گئی ہے کہ جب آپ نے عبد اللہ بن ابی کے مقابلے میں مدد کے لیے کہا تو قریب تھا کہ لوگ لڑ پڑتے، اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انھیں ٹھنڈا نہ کرتے۔ اس لیے اللہ سبحانہ نے یہ کہہ کر کہ ”جو لوگ یہ بہتان لائے ہیں تمھی میں سے ایک گروہ ہیں“ ان کا بہتان اور جھوٹ بھی واضح فرمایا اور زیادہ تعاقب سے بھی منع فرما دیا۔ ➌ { لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ:} یہ بات مخلص مسلمانوں کے اطمینان کے لیے فرمائی، جنھیں اس بہتان سے صدمہ پہنچا تھا، خصوصاً جن کا اس واقعہ سے براہ راست تعلق تھا، مثلاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر صدیق، عائشہ، ان کی والدہ اور صفوان بن معطل رضی اللہ عنھم۔ فرمایا، تم اس واقعہ کو اپنے لیے برا مت سمجھو، بلکہ یہ تمھارے لیے کئی لحاظ سے بہتر ہے: (1) اس واقعہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، عائشہ، ان کے والدین اور صفوان بن معطل رضی اللہ عنھم کو جو رنج و غم پہنچا اور مسلسل ایک ماہ تک وہ شدید کرب میں مبتلا رہے، اس کرب پر صبر اور بہتان لگانے والوں سے درگزر کا یقینا اللہ کے ہاں بہت اجر ہے، فرمایا: «اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ» [ الزمر: ۱۰ ] ”صرف صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر کسی شمار کے بغیر دیا جائے گا۔“ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اشارے سے تمام بہتان لگانے والوں کی گردنیں تن سے جدا ہو سکتی تھیں۔ اس اجر کے علاوہ براء ت کی آیات نازل ہونے پر ان تمام حضرات کو اتنی ہی خوشی ہوئی جتنا صدمہ پہنچا تھا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آیات اترنے پر ہنس رہے تھے، اسی طرح عائشہ، ان کے والدین، صفوان بن معطل رضی اللہ عنھم اور تمام مسلمانوں کو درجہ بدرجہ خوشی ہوئی۔ (2) ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا کو اس واقعہ سے جو عزت ملی امت مسلمہ میں سے کسی کو حاصل نہ ہو سکی کہ ان کی بریت کے لیے قرآن مجید اترا، جو قیامت تک تمام دنیا میں پڑھا جاتا رہے گا اور قرآن نے ان کی جو براء ت بیان فرمائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اور آپ کی وفات کے بعد ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا کی پاکیزہ زندگی اس کی سچی شہادت ہے کہ وہ ہر بہتان سے پاک ہیں۔ اس سے قرآن کا اعجاز بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس کی کوئی پیش گوئی غلط ثابت نہ ہوئی ہے، نہ ہو گی۔ (3) اس واقعہ میں یہ بھی خیر ہے کہ بہتان لگانے والے مخلص مسلمانوں پر حد لگنے سے وہ گناہ سے پاک ہو گئے اور منافقین کا نفاق ظاہر ہو گیا، جس سے آئندہ ان کے نقصانات سے بچنا آسان ہو گیا۔ (4) اس واقعہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی نیک نفسی اور پاک طینتی بھی ثابت ہوتی ہے کہ مسلسل ایک ماہ کے پروپیگنڈے کے باوجود مخلص مسلمانوں میں سے صرف تین آدمی حسان بن ثابت، مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنھم اس پروپیگنڈے کا شکار ہوئے، باقی تمام صحابہ اس بدگمانی سے پوری طرح محفوظ رہے۔ ازواج مطہرات میں سے کسی نے عائشہ رضی اللہ عنھا کی بدنامی میں حصہ نہیں لیا، حتیٰ کہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا نے، جو عائشہ رضی اللہ عنھا کی برابر کی چوٹ تھیں، سوکن ہونے کے باوجود قسم کھا کر عائشہ رضی اللہ عنھا کے پاک ہونے کی شہادت دی۔ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کا واقعہ بھی، جو آگے آ رہا ہے، صحابہ کے کریم النفس اور پاک طینت ہونے کا زبردست ثبوت ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا بہتان لگانے کے باوجود مسطح سے حسن سلوک ان کی خشیتِ الٰہی اور صبر کا بہترین نمونہ ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا کا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بہتان کے باوجود حسن سلوک اور ان کی عزت افزائی کرنا ان کے عالی نفس ہونے کی دلیل ہے۔ (5) اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب نہیں تھے، ورنہ آپ ایک ماہ تک مسلسل کرب میں مبتلا نہ رہتے۔ اس سے اس غلو کی جڑ کٹ گئی جس میں اس سے پہلے یہود و نصاریٰ مبتلا ہوئے اور جس میں بعض نادان مسلمان بھی مبتلا ہیں۔ (6) اس واقعہ کے نتیجہ میں زنا اور قذف کی حد نازل ہوئی اور قیامت تک کے لیے مسلمان مردوں اور عورتوں کی عصمت و عفت بہتان طرازوں سے محفوظ کر دی گئی اور مسلم معاشرے میں بے حیائی کی اشاعت کا پوری طرح سد باب کر دیا گیا۔ ➍ { لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ:} یعنی جس شخص نے اس فتنے میں جتنا حصہ لیا اسی قدر گناہ گار ہوا اور سزا کا مستحق ہوا۔ کسی نے اپنے پاس سے بہتان باندھ کر طوفان اٹھایا، کسی نے بہتان باندھنے والے کی زبانی موافقت کی، کوئی سن کر ہنس دیا، کسی نے خاموشی سے سن لیا، حالانکہ اسے انکار کرنا چاہیے تھا اور کسی نے سنتے ہی کہہ دیا کہ یہ صاف جھوٹ ہے، یہ بات کہنے والوں کو اللہ نے پسند فرمایا، باقی سب کو تھوڑا بہت الزام دیا۔ ➎ { وَ الَّذ
جس وقت تم لوگوں نے اسے سنا تھا اُسی وقت کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے آپ سے نیک گمان کیا اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح بہتان ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اسے سنتے ہی مومن مردوں عورتوں نے اپنے حق میں نیک گمانی کیوں نہ کی اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ تو کھلم کھلا صریح بہتان ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیوں نہ ہوا ہوا جب تم نے اسے سنا تھا کہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنوں پر نیک گمان کیا ہوتا اور کہتے یہ کھلا بہتان ہے
علامہ محمد حسین نجفی
ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم لوگوں نے یہ (بہتان) سنا تھا تو مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں اپنوں کے حق میں نیک گمان کرتے اور کہتے کہ یہ تو ایک کھلا ہوا بہتان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیوں نہ جب تم نے اسے سنا تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے نفسوں میں اچھا گمان کیا اور کہا کہ یہ صریح بہتان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اخلاق و آداب کی تعلیم ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تبارک و تعالیٰ مومنوں کو ادب سکھاتا ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں جو کلمات منہ سے نکالے وہ ان کی شایان شان نہ تھے بلکہ انہیں چاہیئے تھا کہ یہ کلام سنتے ہی اپنی شرعی ماں کے ساتھ کم از کم وہ خیال کرتے جو اپنے نفسوں کے ساتھ کرتے، جب کہ وہ اپنے آپ کو بھی ایسے کام کے لائق نہ پاتے تو شان ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کو اس سے بہت اعلیٰ اور بالا جانتے۔ ایک واقعہ بھی بالکل اسی طرح کا ہوا تھا، ابوایوب خالد بن زید انصاری رضی اللہ عنہ سے ان کی بیوی صاحبہ ام ایوب رضی اللہ عنہا نے کہا کہ کیا آپ نے وہ بھی سنا جو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت کہا جا رہا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں اور یہ یقیناً جھوٹ ہے۔ ام ایوب تم ہی بتاؤ کیا تم کبھی ایسا کر سکتی ہو؟“ انہوں نے کہا کہ ”نعوذ باللہ ناممکن۔“ آپ نے فرمایا ”پس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تو تم سے کہیں افضل اور بہتر ہیں۔“ پس جب آیتیں اتریں تو پہلے تو بہتان بازوں کا ذکر ہوا۔ یعنی حسان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا پھر ان آیتوں میں ذکر ہوا، سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا کی اس بات چیت کا جو اوپر مذکور ہوئی۔ یہ بھی ایک قول ہے کہ یہ مقولہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا تھا۔ الغرض مومنوں کو صاف باطن رہنا چاہیئے اور اچھے خیال کرنے چاہئیں بلکہ زبان سے بھی ایسے واقعہ کی تردید اور تکذیب کردینی چاہیئے۔ اس لیے کہ جو کچھ واقعہ گزرا اس میں شک شبہ کی گنجائش بھی نہ تھی۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کھلم کھلا سواری پر سوار دن دیہاڑے بھرے لشکر میں پہنچی ہیں، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں اگر اللہ نہ کرے خاکم بدہن کوئی بھی ایسی بات ہوتی تو یہ اس طرح کھلے بندوں عام مجمع میں نہ آتے بلکہ خفیہ اور پوشیدہ طور پر شامل ہو جاتے جو کسی کو کانوں کان خبر تک نہ پہنچے۔ پس صاف ظاہر ہے کہ بہتان بازوں کی زبان نے جو قصہ گھڑا وہ محض جھوٹ بہتان اور افترا ہے۔ جس سے انہوں نے اپنے ایمان اور اپنی عزت کو غارت کیا۔ پھر فرمایا کہ ’ ان بہتان بازوں نے جو کچھ کہا اپنی سچائی پر چار گواہ واقعہ کے کیوں پیش نہیں کئے؟ اور جب کہ یہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو شرعاً اللہ کے نزدیک وہ جھوٹے ہیں، فاسق و فاجر ہیں ‘۔
12-1یہاں سے تربیت کے ان پہلوؤں کو نمایاں کیا جا رہا ہے جو اس واقعے میں مضمر ہیں۔ ان میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اہل ایمان ایک جان کی طرح ہیں، جب حضرت عائشہ پر تہمت طرازی کی گئی تو تم نے اپنے اوپر قیاس کرتے ہوئے فورا! اس کی تردید کیوں نہ کی اور اسے بہتان صریح کیوں قرار نہیں دیا؟
(آیت 12) ➊ { لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَيْرًا:} بظاہر یوں کہنا چاہیے تھا کہ ”کیوں نہ جب تم نے اسے سنا تو تم نے اپنے نفسوں میں اچھا گمان کیا“ اس کے بجائے فرمایا: ”کیوں نہ جب تم نے اسے سنا تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے نفسوں میں اچھا گمان کیا“ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس تہمت کو سچا سمجھنے والے مرد اور عورتیں دونوں تھے، اس لیے دونوں کو متنبہ کرنے کے لیے خاص طور پر ان کے مومن ہونے کا ذکر فرمایا کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ کسی تہمت کی وجہ سے کسی مومن کے متعلق اپنے دل میں برا گمان نہ آنے دیا جائے۔ ➋ اس آیت کے تین مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ ایسا کیوں نہ ہوا کہ اس بہتان کو سن کر اپنے دلوں میں (عائشہ رضی اللہ عنھا کے متعلق) اچھا گمان کرتے اور کہہ دیتے کہ یہ صریح بہتان ہے۔ دوسرا مطلب یہ کہ ایسا کیوں نہ ہوا کہ اس بہتان کو سن کر مومن مرد اور مومن عورتیں اپنے بارے میں اچھا گمان کرتے۔ یعنی تم اپنے متعلق سوچتے کہ اگر تم اپنی ماں، بہن یا بیٹی کے ساتھ اکیلے ہوتے تو کبھی یہ حرکت کرتے۔ تو تم نے یہ کیسے گمان کر لیا کہ صفوان(رضی اللہ عنہ) اپنی اور تمام مومنوں کی ماں کے ساتھ ایسا خیال بھی کرے گا، بلکہ کیا تمھارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ کسی قافلے سے بچھڑی ہوئی کوئی خاتون مل جائے تو اس کے ساتھ ایسی خسیس حرکت کرو۔ یہ وہی شخص سوچ سکتا ہے جس میں ایمان نہ ہو اور انتہائی گندے ذہن کا مالک ہو، وہ دوسرے کو بھی ایسا ہی گندا سمجھے گا جیسا خود گندا ہے۔ پاک باز شخص دوسرے کے متعلق بھی پاک بازی ہی کا گمان کرے گا۔ تیسرا معنی یہ ہے کہ {” بِاَنْفُسِهِمْ “} سے مراد دوسرے مومن ہیں، کیونکہ تمام مومن ایک جان کی مانند ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ }» [ النساء: ۲۹ ] ”اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔“ اور فرمایا: «{ فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ }» [ النور: ۶۱ ] ”اپنے آپ کو سلام کہو۔“ اور فرمایا: «{ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ }» [ الحجرات: ۱۱ ] ”اور اپنے آپ پر عیب نہ لگاؤ۔“ مراد کسی دوسرے کو قتل کرنا اور ایک دوسرے کو سلام کہنا اور کسی دوسرے پر عیب لگانا ہے۔ یعنی ایسا کیوں نہ ہوا کہ مومن مرد اور مومن عورتیں اپنے بارے میں یعنی دوسرے مومنوں کے بارے میں اچھا گمان کرتے، کیونکہ وہ اور دوسرے مومن ایک ہی ہیں۔ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ تَرَی الْمُؤْمِنِيْنَ فِيْ تَرَاحُمِهِمْ وَ تَوَادِّهِمْ وَ تَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكٰی عُضْوًا تَدَاعٰی لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمّٰی] [بخاري، الأدب، باب رحمۃ الناس والبھائم: ۶۰۱۱ ] ”تم مومنوں کو ایک دوسرے پر رحم، ایک دوسرے کے ساتھ دوستی اور ایک دوسرے پر شفقت کے معاملہ میں ایک جسم کی طرح دیکھو گے کہ جب اس کا ایک عضو بیمار ہو تو اس کی خاطر سارا جسم بخار اور بیداری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔“ ➌ { وَ قَالُوْا هٰذَااِفْكٌ مُّبِيْنٌ:} صاف جھوٹ اور صریح بہتان اس لیے کہ جو کچھ ہوا اس میں شک کی گنجائش ہی نہ تھی، ام المومنین رضی اللہ عنھا دن کے وقت عین دوپہر کی روشنی میں صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کی سواری پر آ رہی ہیں۔ صفوان مہار پکڑے ہوئے ہیں، پورا لشکر آپ کو دیکھ رہا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس موجود ہیں۔ اگر (بالفرض) شک والی کوئی بات ہوتی تو وہ چھپ چھپا کر آتے، اکٹھے آنے کی جرأت نہ کرتے اور دن کے بجائے رات کو آتے، جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے بھائی رات کو آئے تھے، فرمایا: «وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً يَّبْكُوْنَ» [ یوسف: ۱۶ ] ”اور وہ اپنے باپ کے پاس اندھیرا پڑے روتے ہوئے آئے۔“ اس لیے یہ بات واضح تھی کہ ام المومنین رضی اللہ عنھا پر جو الزام لگایا گیا صاف جھوٹ اور صریح بہتان ہے اور ایمان والے ہر مرد اور عورت کو یہی کہنا لازم ہے۔
وہ لوگ (اپنے الزام کے ثبوت میں) چار گواہ کیوں نہ لائے؟اب کہ وہ گواہ نہیں لائے ہیں، اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
وه اس پر چار گواه کیوں نہ ﻻئے؟ اور جب گواه نہیں ﻻئے تو یہ بہتان باز لوگ یقیناً اللہ کے نزدیک محض جھوٹے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے، تو جب گواہ نہ لائے تو وہی اللہ کے نزدیک جھوٹے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ اس پر چار گواہ کیوں نہیں لائے؟ سو جب یہ لوگ گواہ نہیں لائے تو یہ اللہ کے نزدیک جھوٹے ہی ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے، تو جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اخلاق و آداب کی تعلیم ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تبارک و تعالیٰ مومنوں کو ادب سکھاتا ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں جو کلمات منہ سے نکالے وہ ان کی شایان شان نہ تھے بلکہ انہیں چاہیئے تھا کہ یہ کلام سنتے ہی اپنی شرعی ماں کے ساتھ کم از کم وہ خیال کرتے جو اپنے نفسوں کے ساتھ کرتے، جب کہ وہ اپنے آپ کو بھی ایسے کام کے لائق نہ پاتے تو شان ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کو اس سے بہت اعلیٰ اور بالا جانتے۔ ایک واقعہ بھی بالکل اسی طرح کا ہوا تھا، ابوایوب خالد بن زید انصاری رضی اللہ عنہ سے ان کی بیوی صاحبہ ام ایوب رضی اللہ عنہا نے کہا کہ کیا آپ نے وہ بھی سنا جو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت کہا جا رہا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں اور یہ یقیناً جھوٹ ہے۔ ام ایوب تم ہی بتاؤ کیا تم کبھی ایسا کر سکتی ہو؟“ انہوں نے کہا کہ ”نعوذ باللہ ناممکن۔“ آپ نے فرمایا ”پس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تو تم سے کہیں افضل اور بہتر ہیں۔“ پس جب آیتیں اتریں تو پہلے تو بہتان بازوں کا ذکر ہوا۔ یعنی حسان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا پھر ان آیتوں میں ذکر ہوا، سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا کی اس بات چیت کا جو اوپر مذکور ہوئی۔ یہ بھی ایک قول ہے کہ یہ مقولہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا تھا۔ الغرض مومنوں کو صاف باطن رہنا چاہیئے اور اچھے خیال کرنے چاہئیں بلکہ زبان سے بھی ایسے واقعہ کی تردید اور تکذیب کردینی چاہیئے۔ اس لیے کہ جو کچھ واقعہ گزرا اس میں شک شبہ کی گنجائش بھی نہ تھی۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کھلم کھلا سواری پر سوار دن دیہاڑے بھرے لشکر میں پہنچی ہیں، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں اگر اللہ نہ کرے خاکم بدہن کوئی بھی ایسی بات ہوتی تو یہ اس طرح کھلے بندوں عام مجمع میں نہ آتے بلکہ خفیہ اور پوشیدہ طور پر شامل ہو جاتے جو کسی کو کانوں کان خبر تک نہ پہنچے۔ پس صاف ظاہر ہے کہ بہتان بازوں کی زبان نے جو قصہ گھڑا وہ محض جھوٹ بہتان اور افترا ہے۔ جس سے انہوں نے اپنے ایمان اور اپنی عزت کو غارت کیا۔ پھر فرمایا کہ ’ ان بہتان بازوں نے جو کچھ کہا اپنی سچائی پر چار گواہ واقعہ کے کیوں پیش نہیں کئے؟ اور جب کہ یہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو شرعاً اللہ کے نزدیک وہ جھوٹے ہیں، فاسق و فاجر ہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 13){ لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَيْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ …:} ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا پر بہتان لگانے والوں کے متعلق فرمایا کہ وہ اس دعویٰ پر چار گواہ کیوں نہیں لائے، تو جب وہ اس کے گواہ نہیں لائے تو وہی اللہ کے ہاں کامل جھوٹے ہیں۔ ابن عاشور نے اس کی تفسیر اس طرح فرمائی ہے: ”مطلب یہ ہے کہ جو شخص دیکھے بغیر کوئی خبر دے اسے لازم ہے کہ وہ مشاہدہ کرنے والے کا حوالہ دے اور وہ مشاہدہ کرنے والے اتنی تعداد میں ہونے ضروری ہیں کہ اس قسم کے واقعہ میں اتنی تعداد سے سچ کا یقین حاصل ہو جائے۔ (یہ تعداد زنا کے لیے کم از کم چار ہے) اب ان لوگوں نے جو اُمّ المومنین پر تہمت باندھی تو ان میں سے کسی نے بھی نہ دیکھا اور نہ اتنی تعداد میں دیکھنے والے پیش کیے جس سے کسی پر زنا کا جرم ثابت ہوتا ہے، بلکہ محض خیال اور گمان سے تہمت لگا دی، اس لیے اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيْثِ ] [ بخاري، الأدب، باب: «یأیھا الذین آمنوا اجتنبوا…» : ۶۰۶۶ ] ”(برے) گمان سے بچو، کیونکہ (برا) گمان سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے۔“ {” فَاُولٰٓىِٕكَ “} کی تاکید {” هُمْ “} کے ساتھ کرنے اور خبر {” الْكٰذِبُوْنَ “} پر الف لام لانے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا، جس سے مراد ان کے جھوٹا ہونے میں مبالغہ ہے۔ گویا وہ اتنے کامل جھوٹے ہیں کہ ان کے مقابلے میں کوئی اور جھوٹا ہے ہی نہیں۔ ”اللہ کے ہاں جھوٹے“ سے مقصود ان کے حقیقی جھوٹا ہونے کا بیان ہے، کیونکہ اللہ کا علم کبھی خلاف واقعہ نہیں ہو سکتا۔ رہا یہ مسئلہ کہ کوئی شخص اگر چار گواہ زنا کے ثبوت کے لیے پیش نہ کر سکے تو ممکن ہے وہ سچ ہی کہہ رہا ہو، مگر شرعی فیصلہ ظاہر کے مطابق ہو گا اور اسے جھوٹا قرار دے کر اس پر قذف کی حد نافذ کی جائے گی، تو اس آیت کا یہ مطلب نہیں (اگرچہ دوسرے دلائل سے یہ بات درست ہے)۔“ [ التحریر والتنویر ]
اگر تم لوگوں پر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور رحم و کرم نہ ہوتا تو جن باتوں میں تم پڑ گئے تھے ان کی پاداش میں بڑا عذاب تمہیں آ لیتا
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم تم پر دنیا اور آخرت میں نہ ہوتا تو یقیناً تم نے جس بات کے چرچے شروع کر رکھے تھے اس بارے میں تمہیں بہت بڑا عذاب پہنچتا
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر دنیا اور آخرت میں نہ ہو تی تو جس چرچے میں تم پڑے اس پر تمہیں بڑا عذاب پہنچتا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر تم پر دنیا و آخرت میں خدا کا فضل و کرم اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس بات میں تم پڑ گئے تھے (اور اس کا چرچا کیا تھا) تمہیں سخت عذاب پہنچتا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر دنیا اور آخرت میں تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو یقینا اس بات کی وجہ سے جس میں تم مشغول ہوئے، تم پر بہت بڑا عذاب پہنچتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کا فصل نہ ہوتا تو عذاب آ جاتا ٭٭
فرمان ہے کہ ’ اے وہ لوگوں جنہوں نے صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بابت اپنی زبانوں کو بری حرکت دی اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا کہ وہ دنیا میں تمہاری توبہ کو قبول کرلے اور آخرت میں تمہیں تمہارے ایمان کی وجہ سے معاف فرما دے تو جس بہتان میں تم نے اپنی زبانیں ہلائیں اس میں تمہیں بڑا بھاری عذاب ہوتا ‘۔ یہ آیت ان لوگوں کے حق میں ہے جن کے دلوں میں ایمان تھا لیکن رواداری میں کچھ کہہ گئے تھے جیسے مسطع حسان، حمنہ رضی اللہ عنہم۔ لیکن جن کے دل ایمان سے خالی تھے جو اس طوفان کے اٹھانے والے تھے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول وغیرہ منافقین یہ لوگ اس حکم میں نہیں تھے، کیونکہ نہ اس کے پاس ایمان تھا نہ عمل صالح۔ یہ بھی یاد رہے کہ جس بدی پر جو وعید ہے وہ اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب توبہ نہ ہو اور اس کے مقابلہ میں اس جیسی یا اس سے بڑی نیکی نہ ہو۔ جب کہ تم اس بات کو پھیلا رہے تھے، اس سے سن کر اس سے کہی اور اس نے سن کر دوسرے سے کہی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:کتاب التفسیر سورۃ النور] ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی قرأت میں «إِذْ تَلِقُونَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ» ہے یعنی ’ جب کہ تم اس جھوٹ کی اشاعت کر رہے تھے ‘۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4752] پہلی قرأت جمہور کی ہے، اور یہ قرأت ان کی ہے جنہیں اس آیت کا زیادہ علم تھا، اور تم وہ بات زبان سے نکالتے تھے، جس کا تمہیں علم نہ تھا۔ تم گو اس کلام کو ہلکا سمجھتے رہے، لیکن دراصل اللہ کے نزدیک وہ بڑا بھاری کلام تھا۔ کسی مسلمان عورت کی نسبت ایسی تہمت جرم عظیم ہے۔ پھر اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا کے اوپر ایسا کلمہ، سمجھ لو کہ کتنا بڑا کبیرا گناہ ہوا؟ اسی لیے رب کی غیرت اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے جوش میں آئی اور اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرما کر خاتم الانبیاء سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا کی پاکیزگی ثابت فرمائی۔ ہر نبی علیہ السلام کی بیوی کو اللہ تعالیٰ نے اس بے حیائی سے دور رکھا ہے پس کیسے ممکن تھا کہ کہ تمام نبیوں کی بیویوں سے افضل اور ان کی سردار۔ تمام نبیوں سے افضل اور تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی اس میں آلودہ ہوں۔ «حَاشَا وَكَلَّا» ۔ پس تم گو اس کلام کو بے وقعت سمجھو لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ { انسان بعض مرتبہ اللہ کی ناراضگی کا کوئی کلمہ کہہ کر گزرتا ہے، جس کی کوئی وقعت اس کے نزدیک نہیں ہوتی لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم کے اتنے نیچے طبقے میں پہنچ جاتا ہے کہ جتنی نیچی زمین آسمان سے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ نیچا ہوتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6477]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 14) {وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ …:} یعنی اگر دنیا میں تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا کہ اس نے تمھیں دنیا میں بے شمار نعمتیں دی ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ گناہ پر فوراً مؤاخذہ کے بجائے وہ مہلت دیتا ہے اور اگر آخرت میں اس کا فضل نہ ہوتا کہ وہ توبہ قبول کرتا ہے اور گناہ بخش دیتا ہے، تو تم جس کام (بہتان) میں مشغول ہوئے تھے اس کی وجہ سے تمھیں بہت بڑا عذاب ا ٓلیتا۔
(ذرا غور تو کرو، اُس وقت تم کیسی سخت غلطی کر رہے تھے) جبکہ تمہاری ایک زبان سے دوسری زبان اس جھوٹ کو لیتی جا رہی تھی اور تم اپنے منہ سے وہ کچھ کہے جا رہے تھے جس کے متعلق تمہیں کوئی علم نہ تھا تم اسے ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے، حالانکہ اللہ کے نزدیک یہ بڑی بات تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
جب کہ تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل کرنے لگے اور اپنے منھ سے وه بات نکالنے لگے جس کی تمہیں مطلق خبر نہ تھی، گو تم اسے ہلکی بات سمجھتے رہے لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک وه بہت بڑی بات تھی
احمد رضا خان بریلوی
جب تم ایسی بات اپنی زبانوں پر ایک دوسرے سے سن کر لاتے تھے اور اپنے منہ سے وہ نکالتے تھے جس کا تمہیں علم نہیں اور اسے سہل سمجھتے تھے اور وہ اللہ کے نزدیک بڑی بات ہے
علامہ محمد حسین نجفی
جب تم لوگ اس (بہتان) کو ایک دوسرے کی زبان سے نقل کر رہے تھے اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا خود تمہیں علم نہیں تھا۔ اور تم اسے ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے۔ حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بہت بڑی بات تھی۔
عبدالسلام بن محمد
جب تم اسے ایک دوسرے سے اپنی زبانوں کے ساتھ لے رہے تھے اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں کچھ علم نہیں اور تم اسے معمولی سمجھتے تھے، حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی تھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کا فصل نہ ہوتا تو عذاب آ جاتا ٭٭
فرمان ہے کہ ’ اے وہ لوگوں جنہوں نے صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بابت اپنی زبانوں کو بری حرکت دی اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا کہ وہ دنیا میں تمہاری توبہ کو قبول کرلے اور آخرت میں تمہیں تمہارے ایمان کی وجہ سے معاف فرما دے تو جس بہتان میں تم نے اپنی زبانیں ہلائیں اس میں تمہیں بڑا بھاری عذاب ہوتا ‘۔ یہ آیت ان لوگوں کے حق میں ہے جن کے دلوں میں ایمان تھا لیکن رواداری میں کچھ کہہ گئے تھے جیسے مسطع حسان، حمنہ رضی اللہ عنہم۔ لیکن جن کے دل ایمان سے خالی تھے جو اس طوفان کے اٹھانے والے تھے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول وغیرہ منافقین یہ لوگ اس حکم میں نہیں تھے، کیونکہ نہ اس کے پاس ایمان تھا نہ عمل صالح۔ یہ بھی یاد رہے کہ جس بدی پر جو وعید ہے وہ اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب توبہ نہ ہو اور اس کے مقابلہ میں اس جیسی یا اس سے بڑی نیکی نہ ہو۔ جب کہ تم اس بات کو پھیلا رہے تھے، اس سے سن کر اس سے کہی اور اس نے سن کر دوسرے سے کہی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:کتاب التفسیر سورۃ النور] ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی قرأت میں «إِذْ تَلِقُونَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ» ہے یعنی ’ جب کہ تم اس جھوٹ کی اشاعت کر رہے تھے ‘۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4752] پہلی قرأت جمہور کی ہے، اور یہ قرأت ان کی ہے جنہیں اس آیت کا زیادہ علم تھا، اور تم وہ بات زبان سے نکالتے تھے، جس کا تمہیں علم نہ تھا۔ تم گو اس کلام کو ہلکا سمجھتے رہے، لیکن دراصل اللہ کے نزدیک وہ بڑا بھاری کلام تھا۔ کسی مسلمان عورت کی نسبت ایسی تہمت جرم عظیم ہے۔ پھر اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا کے اوپر ایسا کلمہ، سمجھ لو کہ کتنا بڑا کبیرا گناہ ہوا؟ اسی لیے رب کی غیرت اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے جوش میں آئی اور اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرما کر خاتم الانبیاء سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا کی پاکیزگی ثابت فرمائی۔ ہر نبی علیہ السلام کی بیوی کو اللہ تعالیٰ نے اس بے حیائی سے دور رکھا ہے پس کیسے ممکن تھا کہ کہ تمام نبیوں کی بیویوں سے افضل اور ان کی سردار۔ تمام نبیوں سے افضل اور تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی اس میں آلودہ ہوں۔ «حَاشَا وَكَلَّا» ۔ پس تم گو اس کلام کو بے وقعت سمجھو لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ { انسان بعض مرتبہ اللہ کی ناراضگی کا کوئی کلمہ کہہ کر گزرتا ہے، جس کی کوئی وقعت اس کے نزدیک نہیں ہوتی لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم کے اتنے نیچے طبقے میں پہنچ جاتا ہے کہ جتنی نیچی زمین آسمان سے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ نیچا ہوتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6477]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 15) ➊ { اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ: ” تَلَقّٰي يَتَلَقّٰي“} (تفعّل) کسی سے کوئی چیز لینا، جیسے فرمایا: «{ فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ }» [البقرۃ: ۳۷ ] ”پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ لیے۔“ یعنی جب تم اس بہتان کو ایک دوسرے سے لے کر آگے بیان کرتے تھے کہ میں نے فلاں سے یوں سنا، فلاں نے یہ کہا وغیرہ۔ ➋ { وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ:} یعنی یہ صرف تمھارے مونہوں کی بات تھی، نہ تمھارے دل میں اس کا یقین تھا نہ سننے والے کو یقین ہو سکتا تھا، جیسا کہ منافقین کے متعلق فرمایا: «{ يَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَيْسَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ }» [ آل عمران: ۱۶۷ ] ”اپنے مونہوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں۔“ ➌ { مَا لَيْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ: ” عِلْمٌ “} پر تنوین تنکیر کے لیے ہے، یعنی تم اپنے مونہوں سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں کچھ علم نہ تھا۔ ➍ { وَ تَحْسَبُوْنَهٗ هَيِّنًا:} تم اسے معمولی سمجھتے تھے، جس کی دلیل یہ ہے کہ تم اسے ایک دوسرے سے لے کر آگے بیان کرتے تھے، یا کم از کم اس پر خاموش رہتے تھے، کیونکہ اگر تم اسے معمولی نہ سمجھتے تو سختی سے اس کا انکار کرتے اور ایسی بات کرنے والے کو ٹوکتے۔ ➎ { وَ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِيْمٌ:} حالانکہ بہتان کسی پر بھی ہو، اللہ کے ہاں بہت بڑا گناہ ہے، تو جب وہ ام المومنین پر ہو، جو خاتم الانبیاء، سید المرسلین اور سید ولد آدم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہے تو کتنا بڑا گناہ ہو گا۔ رازی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں تین گناہوں کا مرتکب قرار دیا اور اس پر عذاب عظیم کے خطرے سے آگاہ فرمایا۔ پہلا گناہ یہ کہ ایک دوسرے سے سن کر اسے پھیلانا برائی کی اشاعت ہے، جو بہت بڑا گناہ ہے۔ دوسرا گناہ وہ بات کرنا ہے جس کا علم نہیں، اس سے معلوم ہوا کہ وہی بات کرنی چاہیے جس کا علم ہو، ایسی بات کرنا جس کے سچا ہونے کا علم نہ ہو اسی طرح حرام ہے جیسے وہ بات کرنا حرام ہے جس کے جھوٹا ہونے کا علم ہو، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ }» [ بني إسرائیل: ۳۶ ] ”اور اس چیز کا پیچھا نہ کر جس کا تجھے کوئی علم نہیں۔“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كَفٰي بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُّحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ ] [ مسلم، المقدمۃ: ۵ ] ”آدمی کو جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر بات جو سنے آگے بیان کر دے۔“ تیسرا گناہ یہ کہ وہ اسے معمولی سمجھتے تھے، حالانکہ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ ➏ اس آیت سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کے کسی گناہ کو معمولی سمجھنے سے وہ معمولی نہیں ہوتا، بلکہ عین ممکن ہے کہ وہ اس کی دنیا و آخرت کی بربادی کا باعث بن جائے، جب وہ اسے معمولی سمجھ کر بار بار اس کا ارتکاب کرتا رہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللّٰهِ لَا يُلْقِيْ لَهَا بَالًا يَرْفَعُ اللّٰهُ بِهَا دَرَجَاتٍ وَ إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللّٰهِ لَا يُلْقِيْ لَهَا بَالًا يَهْوِيْ بِهَا فِيْ جَهَنَّمَ ] [ بخاري، الرقاق، باب حفظ اللسان: ۶۴۷۸ ] ”بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی بات کرتا ہے، جس کی طرف وہ خیال بھی نہیں کرتا، لیکن اللہ تعالیٰ اس بات کے ساتھ اسے بہت سے درجے بلند کر دیتا ہے اور بندہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی بات کرتا ہے، جس کی طرف وہ خیال بھی نہیں کرتا، لیکن اس کے ساتھ وہ جہنم میں گر جاتا ہے۔“
کیوں نہ اُسے سنتے ہی تم نے کہہ دیا کہ "ہمیں ایسی بات زبان سے نکالنا زیب نہیں دیتا، سبحان اللہ، یہ تو ایک بہتان عظیم ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
تم نے ایسی بات کو سنتے ہی کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں ایسی بات منھ سے نکالنی بھی ﻻئق نہیں۔ یا اللہ! تو پاک ہے، یہ تو بہت بڑا بہتان ہے اور تہمت ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کیوں نہ ہوا جب تم نے سنا تھا کہا ہوتا کہ ہمیں نہیں پہنچتا کہ ایسی بات کہیں الہٰی پاکی ہے تجھے یہ بڑا بہتان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ (افواہ) سنی تھی تو کہہ دیتے کہ ہمارے لئے زیبا نہیں ہے کہ یہ بات منہ سے نکالیں۔ سبحان اللہ! یہ تو بڑا بہتان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کیوں نہ جب تم نے اسے سنا تو کہا ہمارا حق نہیں ہے کہ ہم اس کے ساتھ کلام کریں، تو پاک ہے، یہ بہت بڑا بہتان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہلے تحقیق کرو پھر بولو ٭٭
پہلے تو نیک گمانی کا حکم دیا۔ یہاں دوسرا حکم دے رہا ہے کہ ’ بھلے لوگوں کی شان میں کوئی برائی کا کلمہ بغیر تحقیق ہرگز نہ نکلنا چاہیئے، برے خیالات، گندے الزامات اور شیطانی وسوسوں سے دور رہنا چاہیئے۔ کبھی ایسے کلمات زبان سے نہ نکالنے چاہیں، گو دل میں کوئی ایسا وسوسہ شیطانی پیدا بھی ہو تو زبان قابو میں رکھنی چاہیئے ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں سے درگزر فرما لیا ہے، جب تک وہ زبان سے نہ کہیں یا عمل میں نہ لائیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2528] تمہیں چاہیئے تھا کہ ایسے بے ہودہ کلام کو سنتے ہی کہہ دیتے کہ ہم ایسی لغویات سے اپنی زبان نہیں بگاڑتے۔ ہم سے یہ بے ادبی نہیں ہو سکتی کہ اللہ کے خلیل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ کی نسبت کوئی ایسی لغویات کہیں، اللہ کی ذات پاک ہے۔ دیکھو خبردار آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ ہو ورنہ ایمان کے ضبط ہونے کا اندیشہ ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص ایمان سے ہی کورا ہو تو وہ تو بے ادب، گستاخ اور بھلے لوگوں کی اہانت کرنے والا ہوتا ہی ہے۔ احکام شرعیہ کو اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے کھول کھول کر بیان فرما رہا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں سے واقف ہے۔ اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔
16-1دوسری بات اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہ بتلائی کہ اس بہتان پر انہوں نے ایک گواہ پیش نہیں کیا۔ جبکہ اس کے لئے چار گواہ ضروری تھے، اس کے باوجود تم نے ان بہتان تراشیوں کو جھوٹا نہیں کہا یہی وجہ ہے کہ ان آیات کے نزول کے بعد حسان، مسطح اور حمنہ بنت حجش ؓ کو حد قذف لگائی گئی (مسند احمد، جلد۔-6 عبد اللہ بن ابی کو سزا اس لئے نہیں دی گئی کہ اس کے لئے آخرت کے عذاب عظیم کو ہی کافی سمجھ لیا گیا اور مومنوں کو سزا دے کر دنیا ہی میں پاک کردیا گیا۔ دوسرے اس کے پیچھے ایک پورا جتھہ تھا، اس کو سزا دینے کی صورت میں کچھ ایسے خطرات تھے کہ جن سے نمٹنا اس وقت مسلمانوں کے لئے مشکل تھا، اس لئے مصلتًا اس سزا دینے سے گریز کیا گیا (فتح القدیر)
(آیت 16){ وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ …:} اس سے پہلے آیت (۱۳) میں یہ ادب سکھایا تھا کہ جب اچھے لوگوں کے بارے میں کوئی نامناسب بات سنی جائے تو ان کے متعلق اچھا گمان رکھنا لازم ہے۔ اب اس کے متعلق دوسرا ادب بیان فرمایا کہ اگر کوشش کے باوجود کوئی وسوسہ یا خیال دل میں آ جائے تو اسے زبان پر ہر گز نہ لائے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: [ إِنَّ اللّٰهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِيْ عَمَّا وَسْوَسَتْ أَوْ حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَكَلَّمْ ] [ بخاري، الأیمان والنذور، باب إذا حنث ناسیا …: ۶۶۶۴، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے ان باتوں سے درگزر فرمایا ہے جو وہ اپنے دل میں کریں، جب تک وہ اسے قول یا عمل میں نہ لائیں۔“ یعنی جب تم نے یہ بات سنی تو بجائے اس کے کہ اس پر خاموش رہتے، یا اس پر یقین کرتے، یا اسے آگے پھیلاتے، تم نے سنتے ہی یہ کیوں نہ کہا کہ ہمارا حق نہیں کہ ہم یہ بات زبان پر لائیں، بلکہ ایسی بات سے اپنی شدید نفرت کے اظہار کے لیے ساتھ ہی یہ بھی کہنا تھا: «سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيْمٌ» تو پاک ہے کہ تیرے نبی کی بیوی بدکاری کے ارتکاب سے آلودہ ہو، یہ بہت بڑا بہتان ہے۔ کیونکہ ممکن ہی نہیں کہ نبی کی بیوی بدکار ہو، وہ کافر تو ہو سکتی ہے، بدکار نہیں، کیونکہ انبیاء کفار کی طرف مبعوث ہوتے ہیں تو ضروری ہے کہ جو چیز کفار کے نزدیک قابل نفرت ہو وہ اس سے پاک ہوں اور ظاہر ہے کہ عورت کی بدکاری ان کے نزدیک بھی قابل نفرت ہے۔
اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ کرنا اگر تم مومن ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی بھی ایسا کام نہ کرنا اگر تم سچے مومن ہو
احمد رضا خان بریلوی
اللہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ اب کبھی ایسا نہ کہنا اگر ایمان رکھتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ تم مؤمن ہو تو آئندہ کبھی اس قسم کی بات نہ کرنا۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ تمھیں نصیحت کرتا ہے اس سے کہ دوبارہ کبھی ایسا کام کرو، اگر تم مومن ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہلے تحقیق کرو پھر بولو ٭٭
پہلے تو نیک گمانی کا حکم دیا۔ یہاں دوسرا حکم دے رہا ہے کہ ’ بھلے لوگوں کی شان میں کوئی برائی کا کلمہ بغیر تحقیق ہرگز نہ نکلنا چاہیئے، برے خیالات، گندے الزامات اور شیطانی وسوسوں سے دور رہنا چاہیئے۔ کبھی ایسے کلمات زبان سے نہ نکالنے چاہیں، گو دل میں کوئی ایسا وسوسہ شیطانی پیدا بھی ہو تو زبان قابو میں رکھنی چاہیئے ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں سے درگزر فرما لیا ہے، جب تک وہ زبان سے نہ کہیں یا عمل میں نہ لائیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2528] تمہیں چاہیئے تھا کہ ایسے بے ہودہ کلام کو سنتے ہی کہہ دیتے کہ ہم ایسی لغویات سے اپنی زبان نہیں بگاڑتے۔ ہم سے یہ بے ادبی نہیں ہو سکتی کہ اللہ کے خلیل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ کی نسبت کوئی ایسی لغویات کہیں، اللہ کی ذات پاک ہے۔ دیکھو خبردار آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ ہو ورنہ ایمان کے ضبط ہونے کا اندیشہ ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص ایمان سے ہی کورا ہو تو وہ تو بے ادب، گستاخ اور بھلے لوگوں کی اہانت کرنے والا ہوتا ہی ہے۔ احکام شرعیہ کو اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے کھول کھول کر بیان فرما رہا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں سے واقف ہے۔ اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 17){ يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ …:” يَعِظُكُمْ“} کے ضمن میں {” يَنْهَاكُمْ“} کا معنی موجود ہے، یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں اس سے منع کرتا ہے کہ دوبارہ کبھی ایسا کام کرو، اگر تم مومن ہو، یعنی یہ کام ایمان کے منافی ہے جس کا تم دعویٰ کرتے ہو۔
اللہ تمہیں صاف صاف ہدایات دیتا ہے اور وہ علیم و حکیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے اپنی آیتیں بیان فرما رہا ہے، اور اللہ تعالیٰ علم و حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ تمہارے لیے آیتیں صاف بیان فرماتا ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ تمہارے لئے (اپنی) آیتیں کھول کر بیان کرتا ہے۔ اور اللہ بڑا جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ تمھارے لیے آیات کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہلے تحقیق کرو پھر بولو ٭٭
پہلے تو نیک گمانی کا حکم دیا۔ یہاں دوسرا حکم دے رہا ہے کہ ’ بھلے لوگوں کی شان میں کوئی برائی کا کلمہ بغیر تحقیق ہرگز نہ نکلنا چاہیئے، برے خیالات، گندے الزامات اور شیطانی وسوسوں سے دور رہنا چاہیئے۔ کبھی ایسے کلمات زبان سے نہ نکالنے چاہیں، گو دل میں کوئی ایسا وسوسہ شیطانی پیدا بھی ہو تو زبان قابو میں رکھنی چاہیئے ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں سے درگزر فرما لیا ہے، جب تک وہ زبان سے نہ کہیں یا عمل میں نہ لائیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2528] تمہیں چاہیئے تھا کہ ایسے بے ہودہ کلام کو سنتے ہی کہہ دیتے کہ ہم ایسی لغویات سے اپنی زبان نہیں بگاڑتے۔ ہم سے یہ بے ادبی نہیں ہو سکتی کہ اللہ کے خلیل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ کی نسبت کوئی ایسی لغویات کہیں، اللہ کی ذات پاک ہے۔ دیکھو خبردار آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ ہو ورنہ ایمان کے ضبط ہونے کا اندیشہ ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص ایمان سے ہی کورا ہو تو وہ تو بے ادب، گستاخ اور بھلے لوگوں کی اہانت کرنے والا ہوتا ہی ہے۔ احکام شرعیہ کو اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے کھول کھول کر بیان فرما رہا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں سے واقف ہے۔ اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 18){ وَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ …:} آیات کو کھول کر بیان کرنے کے ساتھ علیم و حکیم کی مناسبت ظاہر ہے۔
جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں، اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگ مسلمانوں میں بےحیائی پھیلانے کے آرزومند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے
احمد رضا خان بریلوی
وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں برا چرچا پھیلے ان کے لیے دردناک عذاب ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ چاہتے ہیں کہ اہلِ ایمان میں بے حیائی و برائی کی اشاعت ہو (اور اس کا چرچا ہو) ان کیلئے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک جو لوگ پسند کرتے ہیں کہ ان لوگوں میں بے حیائی پھیلے جو ایمان لائے ہیں، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
برائی کی تشہیر نہ کرو ٭٭
یہ تیسری تنبیہ ہے کہ جو شخص کوئی ایسی بات سنے، اسے اس کا پھیلانا حرام ہے جو ایسی بری خبروں کو اڑاتے پھیرتے ہیں۔ دنیوی سزا یعنی حد بھی لگے گی اور اخروی سزا یعنی عذاب جہنم بھی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ عالم ہے، تم بے علم ہو، پس تمہیں اللہ کی طرف تمام امور لوٹانے چاہئیں۔ حدیث شریف میں ہے { بندگان اللہ کو ایذاء نہ دو، انہیں عار نہ دلاؤ۔ ان کی خفیہ باتوں کی ٹوہ میں نہ لگے رہو۔ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیوب ٹٹولے گا، اللہ اس کے عیبوں کے پیچھے پڑ جائے گا اور اسے یہاں تک رسوا کرے گا کہ اس کے گھر والے بھی اسے بری نظر سے دیکھنے لگیں گے }۔ ۱؎ [مسند احمد:279/5:صحیح لغیره]
19 ا فَاحِشَۃ، کے معنی بےحیائی ہیں اور قرآن نے بدکاری کو بھی فاحشہ قرار دیا ہے، (بنی اسرائیل) اور یہاں بدکاری کی ایک جھوٹی خبر کی اشاعت کو بھی اللہ تعالیٰ نے بےحیائی سے تعبیر فرمایا ہے اور اسے دنیا و آخرت میں عذاب الیم کا باعث قرار دیا ہے۔
(آیت 19) ➊ { اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ …: ” الْفَاحِشَةُ “} انتہائی برے کام کو کہتے ہیں، یہ لفظ زنا پر بھی بولا جاتا ہے اور اس کی تہمت اور چرچے پر بھی۔ یعنی جو لوگ ایمان والوں میں بے حیائی اور بدکاری کا تذکرہ پھیلانا چاہتے ہیں اور پاک دامن مسلمانوں پر تہمتیں تراش کر مجلسوں میں ان کا چرچا کرتے ہیں، جس کے سننے سے زنا سے نفرت ختم ہوتی ہے، بلکہ ایسی باتوں میں دلچسپی کے نتیجے میں یہ برائی مزید پھیلتی ہے اور اس کا ذکر کرنے والے اور اسے خاموشی سے سن کر تہمت تراشنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنے والے، عفیف مسلمانوں کے گوشت سے لذت اٹھاتے ہیں۔ ان کے لیے دنیا میں عذابِ الیم ہے کہ تہمت لگانے والوں کو درّے پڑتے ہیں اور وہ مردود الشہادہ اور فاسق ٹھہرتے اور ان کا اور ان کے مجلس نشینوں کا نفاق اور فسق مسلمانوں کے سامنے بے نقاب ہو جاتا ہے، جس سے وہ مسلم معاشرے میں بے اعتبار ٹھہرتے ہیں اور آخرت کے عذاب کے المناک ہونے کی کوئی حد ہی نہیں۔ ➋ آج کل تمام دنیا کے کفار اور ان کے مددگار مسلم حکمرانوں کی پوری کوشش ہے کہ ریڈیو، اخبارات، ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ، سکول و کالج کی تعلیم، غرض ہر طریقے سے مسلم معاشروں میں زنا اور اس کا تذکرہ عام ہو۔ ایک آدھ ملک کے سوا کسی ملک میں نہ زنا کی حد نافذ ہے نہ بہتان کی۔ نتیجہ اس کا دشمنوں کے خوف، قتل و غارت، بدامنی، وباؤں اور نئی سے نئی بیماریوں کے عذابِ الیم کی صورت میں سب کے سامنے ہے اور قیامت کا عذابِ الیم ابھی باقی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) ➌ { وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ:} یعنی زنا کی حد اور بہتان کی حد جو اللہ نے مقرر فرمائی ہے اور ایمان والوں میں بے حیائی پھیلانے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں جو عذابِ الیم رکھا ہے، سو اس کی وجہ یہ ہے کہ ”اللہ تعالیٰ ہر بات جانتا ہے“، اسے ان گناہوں کے خوفناک نتائج کا بھی علم ہے اور یہ بھی کہ انھیں کیسے روکا جا سکتا ہے۔ ”اور تم نہیں جانتے“ لہٰذا تم اپنی عقل سے جو بھی قاعدہ و قانون مقرر کرو گے وہ تمھاری لاعلمی کی وجہ سے کبھی بھی مسلمانوں کی پاک دامنی اور ان کی عزت و آبرو کی حفاظت کا ضامن نہیں بن سکتا۔
اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا شفیق و رحیم ہے (تو یہ چیز جو ابھی تمہارے اندر پھیلائی گئی تھی بدترین نتائج دکھا دیتی)
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ بڑی شفقت رکھنے واﻻ مہربان ہے۔ (تو تم پر عذاب اتر جاتا)
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ تم پر نہایت مہربان مہروالا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر تم پر اللہ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ بڑا شفقت والا، بڑا رحم کرنے والا ہے (تو تم دیکھ لیتے کہ اس بہتان تراشی کا کیا انجام ہوتا)۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ بے حد مہربان، نہایت رحم والا ہے (تو تہمت لگانے والوں پر فوراًعذاب آ جاتا)۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیطانی راہوں پر مت چلو ٭٭
یعنی اگر اللہ کا فضل و کرم، لطف و رحم نہ ہوتا تو اس وقت کوئی اور ہی بات ہو جاتی مگر اس نے توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرمالی۔ پاک ہونے والوں کو بذریعہ حد شرعی کے پاک کردیا۔ شیطانی طریقوں پر شیطانی راہوں میں نہ چلو، اس کی باتیں نہ مانو۔ وہ تو برائی کا، بدی کا، بدکاری کا، بے حیائی کا حکم دیتا ہے۔ پس تمہیں اس کی باتیں ماننے سے پرہیز کرنا چاہیئے۔ اس کے عمل سے بچنا چاہیئے اس کے وسوسوں سے دور رہنا چاہے۔ اللہ کی ہر نافرمانی میں قدم شیطان کی پیروی ہے۔ ایک شخص نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”میں نے فلاں چیز کھانے کی قسم کھالی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ شیطان کا بہکاوا ہے، اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور اسے کھا لو۔“ ایک شخص نے شعبی رحمہ اللہ سے کہا کہ میں نے اپنے بچے کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، ”یہ شیطانی حرکت ہے، ایسا نہ کرو، اس کے بدلے ایک بھیڑ ذبح کرو۔“
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ”ایک مرتبہ میرے اور میری بیوی کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔ وہ بگڑ کر کہنے لگیں کہ ایک دن وہ یہودیہ ہے اور ایک دن نصرانیہ ہے اور اس کے تمام غلام آزاد ہیں، اگر تو اپنی بیوی کو طلاق نہ دے۔ میں نے آ کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ شیطانی حرکت ہے۔“ سیدہ زینب بن ام سلمہ رضی اللہ عنہا جو اس وقت سب سے زیادہ دینی سمجھ رکھنے والی عورت تھیں، انہوں نے بھی یہی فتوی دیا اور عاصم بن عمرو رضی اللہ عنہ کی بیوی نے بھی یہی بتایا۔ پھر فرماتا ہے ’ اگر اللہ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو تم میں سے ایک بھی اپنے آپ کو شرک و کفر، برائی اور بدی سے نہ بچا سکتا۔ یہ رب کا احسان ہے کہ وہ تمہیں توبہ کی توفیق دتیا ہے پھر تم پر مہربانی سے رجوع کرتا ہے اور تمہیں پاک صاف بنا دیتا ہے۔ اللہ جسے چاہے پاک کرتا ہے اور جسے چاہے ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا، ان کے احوال کو جاننے والا ہے۔ ہدایت یاب اور گمراہ سب اس کی نگاہ میں ہیں اور اس میں بھی اس حکیم مطلق کی بے پایاں حکمت ہے ‘۔
20-1جواب محذوف ہے، تو پھر اللہ کا عذاب تمہیں اپنی گرفت میں لے لیتا۔ یہ محض اس کا فضل اور شفقت و رحمت ہے کہ اس نے تمہارے اس جرم عظیم کو معاف فرما دیا۔
(آیت 20){ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ …:} اس کا جواب محذوف ہے ”تو تمھیں توبہ کا موقع ہی نہ ملتا اور فوراً اللہ کا عذاب تمھیں اپنی گرفت میں لے لیتا، یہ محض اس کا فضل و رحمت اور اس کا رؤف و رحیم ہونا ہے کہ اس نے تمھیں توبہ کا موقع دیا اور حد کے ذریعے سے تمھیں پاک کرنے کا اہتمام فرمایا۔“
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو اس کی پیروی کوئی کرے گا تو وہ اسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی شخص پاک نہ ہوسکتا مگر اللہ ہی جسے چاہتا ہے پاک کر دیتا ہے، اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ایمان والو! شیطان کے قدم بقدم نہ چلو۔ جو شخص شیطانی قدموں کی پیروی کرے تو وه تو بےحیائی اور برے کاموں کا ہی حکم کرے گا۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی کبھی بھی پاک صاف نہ ہوتا۔ لیکن اللہ تعالی جسے پاک کرنا چاہے، کر دیتا ہے۔ اور اللہ سب سننے واﻻ سب جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو تم اس کا مزہ چکھتے اے ایمان والو! شیطان کے قدموں پر نہ چلو، اور جو شیطان کے قدموں پر چلے تو وہ تو بے حیائی اور بری ہی بات بتائے گا اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم میں کوئی بھی کبھی ستھرا نہ ہوسکتا ہاں اللہ ستھرا کردیتا ہے جسے چاہے اور اللہ سنتا جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ اور جو کوئی شیطان کے نقش قدم پر چلتا ہے تو وہ اسے بے حیائی اور ہر طرح کی برائی کا حکم دیتا ہے اور اگر تم پر خدا کا فضل و کرم اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی پاک و صاف نہ ہوتا۔ لیکن اللہ جسے چاہتا ہے اسے پاک و صاف کر دیتا ہے اور اللہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو اور جو شیطان کے قدموں کے پیچھے چلے تو وہ تو بے حیائی اور برائی کا حکم دیتا ہے اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی پاک نہ ہوتا اور لیکن اللہ جسے چاہتا ہے پاک کرتا ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیطانی راہوں پر مت چلو ٭٭
یعنی اگر اللہ کا فضل و کرم، لطف و رحم نہ ہوتا تو اس وقت کوئی اور ہی بات ہو جاتی مگر اس نے توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرمالی۔ پاک ہونے والوں کو بذریعہ حد شرعی کے پاک کردیا۔ شیطانی طریقوں پر شیطانی راہوں میں نہ چلو، اس کی باتیں نہ مانو۔ وہ تو برائی کا، بدی کا، بدکاری کا، بے حیائی کا حکم دیتا ہے۔ پس تمہیں اس کی باتیں ماننے سے پرہیز کرنا چاہیئے۔ اس کے عمل سے بچنا چاہیئے اس کے وسوسوں سے دور رہنا چاہے۔ اللہ کی ہر نافرمانی میں قدم شیطان کی پیروی ہے۔ ایک شخص نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”میں نے فلاں چیز کھانے کی قسم کھالی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ شیطان کا بہکاوا ہے، اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور اسے کھا لو۔“ ایک شخص نے شعبی رحمہ اللہ سے کہا کہ میں نے اپنے بچے کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، ”یہ شیطانی حرکت ہے، ایسا نہ کرو، اس کے بدلے ایک بھیڑ ذبح کرو۔“
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ”ایک مرتبہ میرے اور میری بیوی کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔ وہ بگڑ کر کہنے لگیں کہ ایک دن وہ یہودیہ ہے اور ایک دن نصرانیہ ہے اور اس کے تمام غلام آزاد ہیں، اگر تو اپنی بیوی کو طلاق نہ دے۔ میں نے آ کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ شیطانی حرکت ہے۔“ سیدہ زینب بن ام سلمہ رضی اللہ عنہا جو اس وقت سب سے زیادہ دینی سمجھ رکھنے والی عورت تھیں، انہوں نے بھی یہی فتوی دیا اور عاصم بن عمرو رضی اللہ عنہ کی بیوی نے بھی یہی بتایا۔ پھر فرماتا ہے ’ اگر اللہ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو تم میں سے ایک بھی اپنے آپ کو شرک و کفر، برائی اور بدی سے نہ بچا سکتا۔ یہ رب کا احسان ہے کہ وہ تمہیں توبہ کی توفیق دتیا ہے پھر تم پر مہربانی سے رجوع کرتا ہے اور تمہیں پاک صاف بنا دیتا ہے۔ اللہ جسے چاہے پاک کرتا ہے اور جسے چاہے ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا، ان کے احوال کو جاننے والا ہے۔ ہدایت یاب اور گمراہ سب اس کی نگاہ میں ہیں اور اس میں بھی اس حکیم مطلق کی بے پایاں حکمت ہے ‘۔
21-1اس مقام پر شیطان کی پیروی سے ممانعت کے بعد یہ فرمانا کہ اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی پاک صاف نہ ہوتا، اس سے یہ مقصد معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ مذکورہ واقعہ افک میں ملوث ہونے سے بچ گئے، یہ محض اللہ کا فضل و کرم ہے جو ان پر ہوا، ورنہ وہ بھی اسی رو میں بہہ جاتے، جس میں بعض مسلمان بہہ گئے تھے۔ اس لئے شیطان کے داؤ اور فریب سے بچنے کے لئے ایک تو ہر وقت اللہ سے مدد طلب کرتے اور اس کی طرف رجوع کرتے رہو اور دوسرے جو لوگ اپنے نفس کی کمزوری سے شیطان کے فریب کا شکار ہوگئے ہیں، ان کو زیادہ ہدف ملامت مت بناؤ، بلکہ خیر خواہانہ طریقے سے ان کی اصلاح کی کوشش کرو۔
(آیت 21) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ…: ” خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ “} كی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۱۶۸) اور {” بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ “} کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نحل کی آیت (۹۰) پہلے فرمایا: «{ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ }» پھر {” الشَّيْطٰنِ “} کے لیے ضمیر لا کر {”وَ مَنْ يَّتَّبِعْ خُطُوَاتِهِ“} کہنے کے بجائے دوبارہ نام لے کر فرمایا: «وَ مَنْ يَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ» مراد توجہ دلانا ہے کہ آدمی سوچے کہ میں کس کی پیروی کر رہا ہوں۔ ➋ { وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ …:} اس آیت سے معلوم ہوا کہ کوئی بھی شخص کسی طرح بھی اپنے آپ کو پاک نہیں رکھ سکتا، نہ پاک کر سکتا ہے۔ اگر انسان کو اس کی حالت پر چھوڑ دیا جائے تو کوئی انسان بھی پاک نہ رہ سکے، کیونکہ شیطان اور اس کے لشکر اسے گمراہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ”فحشاء“ اور ”منکر“ کو خوش نما بنا کر اس کے سامنے پیش کرتے رہتے ہیں، نفس امارہ ان کی طرف مائل ہے اور ان کا حکم دیتا ہے۔انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے، یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہی ہے جس کی بدولت کوئی شخص گناہوں سے پاک رہتا ہے، یا گناہ کے بعد توبہ کے ساتھ پاک ہوتا ہے۔ اس مفہوم کی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ نساء (۱۶، ۱۷) اور سورۂ نجم (۳۲)۔ ➌ اس مقام پر ان الفاظ سے مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ مذکورہ واقعۂ افک میں ملوث ہونے سے بچ گئے، یہ محض اللہ کا فضل و کرم ہے جو ان پر ہوا، ورنہ وہ بھی اسی رو میں بہ جاتے جس میں بعض مسلمان بہ گئے تھے۔ اس لیے شیطان کے مکر و فریب سے بچنے کے لیے ایک تو ہر وقت اللہ سے مدد طلب کرتے رہو اور اس کی طرف رجوع کرتے رہو اور دوسرے جو لوگ اپنے نفس کی کمزوری سے شیطان کے فریب کا شکار ہو گئے ان کو زیادہ ہدف ملامت نہ بناؤ، بلکہ خیر خواہانہ طریقے سے ان کی اصلاح کرو۔ ➍ { وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَآءُ وَ اللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے پاک کرتا ہے، مگر اس کی مشیت اندھی نہیں، بلکہ وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ اپنے اس علم ہی کی وجہ سے جسے پاک کرنے کے لائق جانتا ہے پاک کر دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ }» [ القصص: ۵۶ ] ”بے شک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔“
تم میں سے جو لوگ صاحب فضل اور صاحب مقدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھا بیٹھیں کہ اپنے رشتہ دار، مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے انہیں معاف کر دینا چاہیے اور درگزر کرنا چاہیے کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے؟ اور اللہ کی صفت یہ ہے کہ وہ غفور اور رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تم میں سے جو بزرگی اور کشادگی والے ہیں انہیں اپنے قرابت داروں اور مسکینوں اور مہاجروں کو فی سبیل اللہ دینے سے قسم نہ کھا لینی چاہیئے، بلکہ معاف کردینا اور درگزر کرلینا چاہیئے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے قصور معاف فرما دے؟ اللہ قصوروں کو معاف فرمانے واﻻ مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور قسم نہ کھائیں وہ جو تم میں فضیلت والے اور گنجائش والے ہیں قرابت والوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے کی، اور چاہیے کہ معاف کریں اور درگزریں، کیا تم اسے دوست نہیں رکھتے کہ اللہ تمہاری بخشش کرے، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ تم میں سے مال و دولت اور وسعت والے ہیں وہ قسم نہ کھائیں کہ وہ قرابتداروں، مسکینوں اور راہِ خدا میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے۔ چاہئے کہ یہ لوگ معاف کر دیں اور درگزر کریں۔ کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں بخش دے؟ اور اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تم میں سے فضیلت اور وسعت والے اس بات سے قسم نہ کھا لیں کہ قرابت والوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دیں اور لازم ہے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخشے اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دولت مند افراد سے خطاب ٭٭
تم میں سے جو کشادہ روزی والے، صاحب مقدرت ہیں، صدقہ اور احسان کرنے والے ہیں انہیں اس بات کی قسم نہ کھانی چاہیئے کہ وہ اپنے قرابت داروں، مسکینوں، مہاجروں کو کچھ دیں گے ہی نہیں۔ اس طرح انہیں متوجہ فرما کر پھر اور نرم کرنے کے لیے فرمایا کہ ’ ان کی طرف سے کوئی قصور بھی سرزد ہوگیا ہو تو انہیں معاف کر دینا چاہیئے۔ ان سے کوئی ایذاء یا برائی پہنچی ہو تو ان سے درگزر کر لینا چاہیئے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا حکم و کرم اور لطف رحم ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو بھلائی کا ہی حکم دیتا ہے ‘۔
یہ آیت سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے جب کہ آپ رضی اللہ عنہ نے سیدنا مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی قسم کا سلوک کرنے کی قسم کھا لی تھی کیونکہ بہتان سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا میں یہ بھی شامل تھے۔ جیسے کہ پہلے کی آیتوں کی تفسیر میں یہ واقعہ گزر چکا ہے تو جب حقیقت اللہ تعالیٰ نے ظاہر کر دی، ام المؤمنین رضی اللہ عنہا بری ہو گئیں، مسلمانوں کے دل روشن ہوگئے، مومنوں کی توبہ قبول ہوگئی، تہمت رکھنے والوں میں سے بعض کو حد شرعی لگ چکی، تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو سیدنا مسطح رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ فرمایا جو آپ رضی اللہ عنہ کی خالہ صاحبہ کے فرزند تھے اور مسکین شخص تھے۔ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ ہی ان کی پرورش کرتے رہتے تھے، یہ مہاجر تھے لیکن اس بارے میں اتفاقیہ زبان کھل گئی تھی۔ انہیں تہمت کی حد لگائی گئی تھی۔ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کی سخاوت مشہور تھی، کیا اپنے کیا غیر سب کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کا حسن سلوک عام تھا۔ آیت کے یہ خصوصی الفاظ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کے کان میں پڑے کہ ’ کیا تم بخشش الٰہی کے طالب نہیں ہو؟ ‘ آپ رضی اللہ عنہ کی زبان سے بےساختہ نکل گیا کہ ”ہاں قسم ہے اللہ کی ہماری تو عین چاہت ہے کہ اللہ ہمیں بخشے“، اور اسی وقت سے سیدنا مسطح رضی اللہ عنہ کو جو کچھ دیا کرتے تھے، جاری کر دیا۔ گویا ان آیتوں میں ہمیں تلقین ہوئی کہ جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ ہماری تقصیریں معاف ہو جائیں، ہمیں چاہیئے کہ دوسروں کی تقصیروں سے بھی درگزر کر لیا کریں۔ یہ بھی خیال میں رہے کہ جس طرح آپ نے پہلے یہ فرمایا تھا کہ واللہ میں اس کے ساتھ کبھی بھی سلوک نہ کروں گا۔ اب عہد کیا کہ واللہ میں اس سے کبھی بھی اس کا مقررہ روزینہ نہ روکوں گا۔ سچ ہے صدیق صدیق ہی تھے رضی اللہ عنہ۔
22-1حضرت مسطح، جو واقعہ افک میں ملوث ہوگئے تھے، فقرائے مہاجرین میں سے تھے، رشتے میں حضرت ابوبکر صدیق کے خالہ زاد تھے، اسی لئے ابوبکر ان کے کفیل اور معاش کے ذمے دار تھے، جب یہ بھی حضرت عائشہ ' کے خلاف مہم میں شریک ہوگئے تو ابوبکر صدیق کو سخت صدمہ پہنچا، جو ایک فطری عمل تھا چناچہ نزول براءت کے بعد غصہ میں انہوں نے قسم کھالی کہ وہ آئندہ مسطح کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔ ابوبکر صدیق کی یہ قسم، جو اگرچہ انسانی فطرت کے مطابق ہی تھی، تاہم مقام صدیق تم اس سے بلند تر کردار کا متقاضی تھا، اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں آئی اور یہ آیت نازل فرمائی، جس میں بڑے پیار سے ان کی اس عاجلانہ بشری اقدام پر انھیں متنبہ فرمایا کہ تم سے بھی غلطیاں ہوتی رہتی ہیں اور تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری غلطیاں معاف فرماتا رہے۔ تو پھر تم بھی دوسروں کے ساتھ اسی طرح معافی اور درگزر کا معاملہ کیوں نہیں کرتے؟ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری غلطیاں معاف فرما دے؟ یہاں انداز بیان اتنا موثر تھا کہ اسے سنتے ہی ابوبکر صدیق بےساختہ پکار اٹھے ' کیوں نہیں اے ہمارے رب! ہم ضرور یہ چاہتے ہیں کہ تو ہمیں معاف فرما دے ' اس کے بعد انہوں نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کر کے حسب سابق مسطح کی مالی سرپرستی شروع فرما دی (فتح القدیر)، ابن کثیر)
(آیت 22) ➊ {وَ لَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ …: ” وَ لَا يَاْتَلِ “ ” أَلِيَّةٌ “} (بروزن {فَعِيْلَةٌ،} بمعنی قسم) میں سے باب افتعال {”اِئْتَلٰي يَأْتَلِيْ“} میں سے نہی غائب ہے۔ سورۂ بقرہ کی آیت (۲۲۶): «{ لِلَّذِيْنَ يُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآىِٕهِمْ }» میں {” يُؤْلُوْنَ “} باب افعال میں سے ہے۔ سورۂ نور کی آیت (۱۱) میں صحیح بخاری کی حدیث (۴۷۵۰) گزر چکی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنھا پر بہتان لگانے والوں میں مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خالہ زاد بہن کے بیٹے تھے (بعض نے انھیں خالہ زاد بھی کہا ہے)، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے قرابت اور ان کے فقر کی وجہ سے ان کا وظیفہ مقرر کر رکھا تھا، جب مسطح نے یہ بات کی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہ وظیفہ بند کر دیا، لیکن جب یہ آیت اتری اور اس میں یہ الفاظ آئے: «{ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ }» ”کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخشے؟“ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا، کیونکہ نہیں، میں تو پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے۔ چنانچہ انھوں نے وہ وظیفہ دوبارہ جاری کر دیا اور کہا، میں اس میں کبھی کمی نہیں کروں گا۔ ➋ پچھلی آیت میں فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے پاک کرتا ہے تو اگر اہلِ افک اس گناہ میں مبتلا ہوئے ہیں اور تم اس سے محفوظ رہے ہو تو اس میں تمھارا کچھ کمال نہیں، یہ محض اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے، اس لیے جب بہتان لگانے والے تائب ہو چکے، انھیں اس کی سزا بھی مل چکی تو ان کی غلطی ہی پر نظر نہ رکھو، بلکہ ان سے حُسن سلوک کے اسباب پر بھی نگاہ رکھو، جن میں سے ہر سبب کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو تمھیں برتری اور وسعت دی ہے اس میں سے انھیں بھی دیتے رہو۔ ان حُسن سلوک کے اسباب میں سے ایک سبب قرابت دار ہونا ہے، دوسرا مسکین اور تیسرا مہاجر فی سبیل اللہ ہونا ہے۔ تینوں سبب جمع ہیں تو ان کا حق انھیں بالاولیٰ دینا چاہیے۔ ➌ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مرتد ہونے کے سوا دوسرے گناہوں سے کسی شخص کے اعمال صالحہ بالکل ختم نہیں ہو جاتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بہتان لگانے کے باوجود اہل افک میں سے مہاجرین کی ہجرت کی قدر افزائی فرمائی ہے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔ ➍ {وَ لْيَعْفُوْا وَ لْيَصْفَحُوْا:” وَ لْيَعْفُوْا “ ”عَفَا يَعْفُوْ“} کا معنی مٹانا ہے، کہا جاتا ہے: {”عَفَتِ الرِّيْحُ الْأَثَرَ“} ”ہوا نے قدموں کا نشان مٹا دیا۔“ یعنی ان کی لغزش کا خیال دل سے مٹا دیں اور اس پر پردہ ڈال دیں۔ {” وَ لْيَصْفَحُوْا “} بعض اہل علم نے فرمایا کہ یہ {”صَفْحَةُ الْعُنُقِ“} (گردن کا کنارہ) سے مشتق ہے، یعنی ان کے برے سلوک سے اس طرح درگزر کرو جیسے تم نے ان سے گردن کا کنارا پھیر لیا ہے۔ عفو و درگزر کا یہ حکم سورۂ آل عمران (۱۳۴)، نساء (۱۴۹)، حجر (۸۵)، شوریٰ (۴۳) اور دیگر کئی آیات میں آیا ہے۔ (اضواء البیان) ➎ { اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ:} اس کی شان نزول اوپر بیان ہو چکی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ گناہ گار مسلم کو معاف کرنا اور اس سے درگزر کرنا گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے۔ تم بخشو گے تو اللہ تعالیٰ تمھیں بخشے گا، تم درگزر کر وگے تو اللہ تعالیٰ تم سے درگزر فرمائے گا، جیسا عمل کرو گے ویسی جزا پاؤ گے۔ ➏ یہ آیت دلیل ہے کہ نیکی نہ کرنے کی قسم کھانا جائز نہیں، ایسی قسم کا کفارہ دے کر وہ نیکی کر لینی چاہیے۔ اسی طرح اگر قسم کا پورا نہ کرنا بہتر ہو تو اس کا بھی کفارہ دے کر بہتر کام کرنا چاہیے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ حَلَفَ عَلٰی يَمِيْنٍ فَرَأَی غَيْرَهَا خَيْرًا مِّنْهَا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَّمِيْنِهِ وَلْيَفْعَلْ ] [ ترمذي، النذور والأیمان، باب ما جاء في الکفارۃ قبل الحنث: ۱۵۳۰، و قال الألباني صحیح ] ”جو شخص کسی کام پر قسم کھائے، پھر اس کے علاوہ کو بہتر سمجھے تو اسے چاہیے کہ اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور (بہتر کام) کر لے۔“
جو لوگ پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر تہمتیں لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی باایمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وه دنیا وآخرت میں ملعون ہیں اور ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جو عیب لگاتے ہیں انجان پارسا ایمان والیوں کو ان پر لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے
علامہ محمد حسین نجفی
جو لوگ پاکدامن، بے خبر اور ایماندار عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے اور ان کیلئے بہت بڑا عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جو پاک دامن، بے خبر مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں لعنت کیے گئے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گستاخ پر اللہ کی لعنت ٭٭
جب کہ عام مسلمان عورتوں پر طوفان اٹھانے والوں کی سزا یہ ہے تو انبیاء علیہم السلام کی بیویوں پر جو مسلمانوں کی مائیں ہیں، بہتان باندھنے والوں کی سزا کیا ہوگی؟ اور خصوصا اس بیوی پر جو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں رضی اللہ عنہا۔ علماء کرام کا اس پر اجماع ہے کہ ان آیتوں کے نزول کے بعد بھی جو شخص ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کو اس الزام سے یاد کرے، وہ کافر ہے کیونکہ اس نے قرآن پاک کے خلاف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے بارے میں صحیح قول یہی ہے کہ وہ بھی مثل صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ فرماتا ہے کہ ’ ایسے موذی بہتان پرداز دنیا اور آخرت میں لعنت اللہ کے مستحق ہیں ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا» ۱؎ [33-الأحزاب:57] ، یعنی ’ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لیے رسواکرنے والے عذاب تیار ہیں ‘۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ یہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ مخصوص ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں۔ سعید بن جبیر، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ نقل کیا ہے لیکن پھر جو تفصیل وار روایت لائے ہیں اس میں آپ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگنے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آنے اور اس آیت کے نازل ہونے کا ذکر ہے لیکن آپ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اس حکم کے مخصوص ہونے کا ذکر نہیں۔ پس سبب نزول گو خاص ہو لیکن حکم عام رہتا ہے۔ ممکن ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ کے قول کا بھی یہی مطلب ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ کل ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کا تو یہ حکم ہے لیکن اور مومنہ عورتوں کا یہ حکم نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس آیت سے تو مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» ہیں کہ اہل نفاق جو اس تہمت میں تھے، سب راندہ درگاہ ہوئے، لعنتی ٹھہرے اور غضب اللہ کے مستحق بن گئے۔ اس کے بعد عام مومنہ عورتوں پر بدکاری کا بہتان باندھنے والوں کے حکم میں آیت «وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَةً وَّلَا تَــقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا وَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [24-النور:5، 4] ، اتری پس انہیں کوڑے لگیں گے۔ اگر انہوں نے توبہ کی توبہ تو قبول ہے لیکن گواہی ان کی ہمیشہ تک غیر معبتر رہے گی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سورۃ النور کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ”یہ آیت توحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے بارے میں اتری ہے، ان بہتان بازوں کی توبہ بھی قبول نہیں۔ اس آیت میں ابہام ہے، اور چار گواہ نہ لاسکنے کی آیت عام ایماندار عورتوں پر تہمت لگانے والوں کے حق میں ہے، ان کی توبہ مقبول ہے“، یہ سن کر اکثر لوگوں کا ارادہ ہوا کہ آپ کی پیشانی چوم لیں۔ کیونکہ آپ نے نہایت ہی عمدہ تفسیر کی تھی۔ ابہام سے مراد یہ ہے کہ ہر پاک دامن عورت کی شان میں حرمت تہمت عام ہے، اور ایسے سب لوگ ملعون ہیں۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر ایک بہتان باز اس حکم میں شامل ہے لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بطور اولیٰ ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی عموم ہی کو پسند فرماتے ہیں اور یہی صحیح بھی ہے اور عموم کی تائید میں یہ حدیث بھی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سات گناہوں سے بچو جو مہلک ہیں }۔ پوچھا گیا وہ کیا ہیں؟ فرمایا: { اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کسی کو بلا وجہ مار ڈالنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جہاد سے بھاگنا، پاک دامن بھولی مومنہ پر تہمت لگانا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2766] اور حدیث میں ہے { پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانے والے کی سو سال کی نیکیاں غارت ہیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:3023:ضعیف]
اعضاء کی گواہی ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”جب مشرکین دیکھیں گے کہ جنت میں سوائے نمازوں کے اور کوئی نہیں بھیجا جاتا تو وہ کہیں گے آؤ ہم بھی انکار کردیں چنانچہ اپنے شرک کا یہ انکار کردیں گے۔ اسی وقت ان کے منہ پر مہر لگ جائے گی اور ہاتھ پاؤں گواہی دینے لگیں گے اور اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے۔“ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { کافروں کے سامنے جب ان کی بداعمالیاں پیش کی جائیں گی تو وہ انکار کر جائیں گے اور اپنی بے گناہی بیان کرنے لگیں گے تو کہا جائے گا یہ ہیں تمہارے پڑوسی یہ تمہارے خلاف شہادت دے رہے ہیں۔ یہ کہیں گے یہ سب جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا کہ اچھا خود تمہارے کنبے کے قبیلے کے لوگ موجود ہیں۔ یہ کہہ دیں گے یہ بھی جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا۔ اچھا تم قسمیں کھاؤ، یہ قسمیں کھا لیں گے پھر اللہ انہیں گونگا کر دے گا اور خود ان کے ہاتھ پاؤں ان کی بداعمالیوں کی گواہی دیں گے۔ پھر انہیں جہنم میں بھیج دیا جائے گا } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:25888:ضعیف] سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئے اور فرمانے لگے، { جانتے ہو میں کیوں ہنسا؟ } ہم نے کہا اللہ ہی جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بندہ قیامت کے دن اپنے رب سے جو حجت بازی کرے گا اس پر یہ کہے گا کہ اللہ کیا تو نے مجھے ظلم سے نہیں روکا تھا؟ اللہ فرمائے گا ’ ہاں ‘۔ تو یہ کہے گا، بس آج جو گواہ میں سچا مانوں، اسی کی شہادت میرے بارے میں معتبر مانی جائے۔ اور وہ گواہ سوا میرے اور کوئی نہیں۔ اللہ فرمائے گا، ’ اچھا یونہی سہی تو ہی اپنا گواہ رہ ‘، اب منہ پر مہر لگ جائے گی اور اعضاء سے سوال ہوگا تو وہ سارے عقدے کھول دیں گے۔ اس وقت بندہ کہے گا، تم غارت ہو جاؤ، تمہیں بربادی آئے تمہاری طرف سے ہی تو میں لڑ جھگڑ رہا تھا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2969]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے تھے ”اے ابن آدم تو خود اپنی بد اعمالیوں کا گواہ ہے، تیرے کل جسم کے اعضاء تیرے خلاف بولیں گے، ان کا خیال رکھ اللہ سے پوشیدگی اور ظاہری میں ڈرتا رہ۔ اس کے سامنے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، اندھیرا اس کے سامنے روشنی کی مانند ہے۔ چھپا ہوا اس کے سامنے کھلا ہوا ہے۔ اللہ کے ساتھ نیک گمانی کی حالت میں مرو۔ اللہ ہی کے ساتھ ہماری قوتیں ہیں۔“ یہاں دین سے مراد حساب ہے۔ جمہور کی قرأت میں حق کا زبر ہے کیونکہ وہ دین کی صفت ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ نے «الْحَقَّ» پڑھا ہے کہ یہ لغت ہے لفظ اللہ کی۔ ابی بن کعب کے مصحف میں «يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّهُ الْحَقُّ دِينَهُمْ» بعض سلف سے پڑھنا مروی ہے۔ ’ اس وقت جان لیں گے کہ اللہ کے وعدے وعید حق ہیں۔ اس کا حساب عدل والا ہے ظلم سے دور ہے ‘۔
23-1بعض مفسرین نے اس آیت کو حضرت عائشہ ؓ اور دیگر ازواج مطہرات ؓ عنہن کے ساتھ خاص قرار دیا ہے کہ اس آیت میں بطور خاص ان پر تہمت لگانے کی سزا بیان کی گئی ہے اور وہ یہ کہ ان کے لئے توبہ نہیں ہے۔ اور بعض مفسرین نے اسے عام ہی رکھا ہے اور اس میں وہی حد قذف بیان کی گئی ہے، جو پہلے گزر چکی ہے۔ اگر تہمت لگانے والا مسلمان ہے تو لعنت کا مطلب ہوگا کہ وہ قابل حد ہے اور مسلمان کے لئے نفرت اور بعد کا مستحق اور اگر کافر ہے، تو مفہوم واضح ہی ہے کہ وہ دنیا و آخرت میں ملعون یعنی رحمت الٰہی سے محروم ہے۔
(آیت 23) ➊ {اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ …: ” الْغٰفِلٰتِ “} (بے خبر) سے مراد وہ سیدھی سادی شریف عورتیں ہیں جن کے دل پاک ہیں اور ان کے دل میں بدچلنی کا بھولے سے بھی خیال نہیں آتا، ان میں سے کسی پر تہمت لگانا کبیرہ گناہ اور لعنت کا باعث ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اِجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوْبِقَاتِ، قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَمَا هُنَّ؟ قَالَ الشِّرْكُ بِاللّٰهِ وَالسِّحْرُ وَ قَتْلُ النَّفْسِ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَ أَكْلُ الرِّبَا وَ أَكْلُ مَالِ الْيَتِيْمِ وَالتَّوَلِّيْ يَوْمَ الزَّحْفِ وَ قَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلاَتِ ] [ بخاري، الحدود، باب رمي المحصنات: ۶۸۵۷ ] ”سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے بچو۔“ صحابہ نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! وہ ہلاک کرنے والی چیزیں کیا ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک، جادو، اس جان کو قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے دن بھاگ جانا اور پاک دامن مومن و غافل عورتوں پر تہمت لگانا۔“ یہاں جب عام پاک دامن غافل و مومن عورتوں پر تہمت لگانا لعنت کا باعث ہے تو امہات المومنین خصوصاً عائشہ رضی اللہ عنھا کے بارے میں بدزبانی کرنے والے کا کیا حال ہو گا، جن کی براء ت خود اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی۔ اب ان پر تہمت لگانے والا صرف تہمت کا مجرم نہیں بلکہ قرآن کو جھٹلانے کا بھی مجرم ہے اور قرآن کو جھٹلانے والا کافر ہے۔ ➋ یہاں پاک دامن غافل و مومن عورتوں پر بہتان کی جتنی شدید وعید آئی ہے وہ عموماً کفار ہی کے لیے ہے کہ دنیا و آخرت میں ان پر لعنت ہے اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے، جو جہنم ہی ہو سکتا ہے اور قیامت کے دن ان کے اعضا ان کے خلاف گواہی دیں گے، جو کفار کے ساتھ کیا جانے والا معاملہ ہے، جیسا کہ سورۂ حٰم سجدہ (۱۹ تا ۲۳) میں ہے، اس لیے اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ {” اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ … “} سے مراد عبد اللہ بن ابی اور اس کے منافق ساتھی ہیں اور {” الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ “} سے مراد امہات المومنین خصوصاً عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھن ہیں۔ {” اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ “} سے لے کر تمام آیات کے تسلسل سے یہ معنی درست معلوم ہوتا ہے، مگر آیت کے الفاظ عام ہونے کی وجہ سے (کہ جو لوگ بھی پاک دامن غافل و مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں، وہ عورتیں جو بھی ہوں، ان کے لیے یہ وعید ہے) اگر مراد عام ہو کہ ہر تہمت لگانے والے کے لیے یہ وعید ہے تو اس سے مراد وہ تہمت لگانے والے ہوں گے جو تہمت لگانے کو حلال سمجھتے ہیں، یا جنھوں نے توبہ نہیں کی، کیونکہ اس سے پہلی آیات میں توبہ کرنے والوں کے ساتھ حسن سلوک کا اور ان کی سابقہ نیکیاں پیشِ نظر رکھنے کا حکم ہے۔ اس آیت میں یہ بھی اشارہ ہے کہ قذف سے توبہ نہ کرنے والوں کی موت کفر پر ہونے کا خطرہ ہے۔ اللہ سب مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔ ➌ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ یہ ساری وعید پاک دامن غافل و مومن عورتوں پر بہتان کی آئی ہے، مردوں پر بہتان کا ذکر کیوں نہیں فرمایا؟ جواب اس کا یہ ہے کہ {” الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ “} پر بہتان عموماً کسی مومن مرد کے ساتھ ہی لگایا جائے گا، اس لیے اسے الگ سے ذکر نہیں کیا گیا۔
وہ اس دن کو بھول نہ جائیں جبکہ ان کی اپنی زبانیں اور ان کے اپنے ہاتھ پاؤں ان کے کرتوتوں کی گواہی دیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
جب کہ ان کے مقابلے میں ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے
احمد رضا خان بریلوی
جس دن ان پر گواہی دیں گے ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں جو کچھ کرتے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ ان کے اعمال کے متعلق جو وہ کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف اس کی شہادت دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گستاخ پر اللہ کی لعنت ٭٭
جب کہ عام مسلمان عورتوں پر طوفان اٹھانے والوں کی سزا یہ ہے تو انبیاء علیہم السلام کی بیویوں پر جو مسلمانوں کی مائیں ہیں، بہتان باندھنے والوں کی سزا کیا ہوگی؟ اور خصوصا اس بیوی پر جو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں رضی اللہ عنہا۔ علماء کرام کا اس پر اجماع ہے کہ ان آیتوں کے نزول کے بعد بھی جو شخص ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کو اس الزام سے یاد کرے، وہ کافر ہے کیونکہ اس نے قرآن پاک کے خلاف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے بارے میں صحیح قول یہی ہے کہ وہ بھی مثل صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ فرماتا ہے کہ ’ ایسے موذی بہتان پرداز دنیا اور آخرت میں لعنت اللہ کے مستحق ہیں ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا» ۱؎ [33-الأحزاب:57] ، یعنی ’ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لیے رسواکرنے والے عذاب تیار ہیں ‘۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ یہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ مخصوص ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں۔ سعید بن جبیر، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ نقل کیا ہے لیکن پھر جو تفصیل وار روایت لائے ہیں اس میں آپ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگنے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آنے اور اس آیت کے نازل ہونے کا ذکر ہے لیکن آپ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اس حکم کے مخصوص ہونے کا ذکر نہیں۔ پس سبب نزول گو خاص ہو لیکن حکم عام رہتا ہے۔ ممکن ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ کے قول کا بھی یہی مطلب ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ کل ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کا تو یہ حکم ہے لیکن اور مومنہ عورتوں کا یہ حکم نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس آیت سے تو مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» ہیں کہ اہل نفاق جو اس تہمت میں تھے، سب راندہ درگاہ ہوئے، لعنتی ٹھہرے اور غضب اللہ کے مستحق بن گئے۔ اس کے بعد عام مومنہ عورتوں پر بدکاری کا بہتان باندھنے والوں کے حکم میں آیت «وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَةً وَّلَا تَــقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا وَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [24-النور:5، 4] ، اتری پس انہیں کوڑے لگیں گے۔ اگر انہوں نے توبہ کی توبہ تو قبول ہے لیکن گواہی ان کی ہمیشہ تک غیر معبتر رہے گی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سورۃ النور کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ”یہ آیت توحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے بارے میں اتری ہے، ان بہتان بازوں کی توبہ بھی قبول نہیں۔ اس آیت میں ابہام ہے، اور چار گواہ نہ لاسکنے کی آیت عام ایماندار عورتوں پر تہمت لگانے والوں کے حق میں ہے، ان کی توبہ مقبول ہے“، یہ سن کر اکثر لوگوں کا ارادہ ہوا کہ آپ کی پیشانی چوم لیں۔ کیونکہ آپ نے نہایت ہی عمدہ تفسیر کی تھی۔ ابہام سے مراد یہ ہے کہ ہر پاک دامن عورت کی شان میں حرمت تہمت عام ہے، اور ایسے سب لوگ ملعون ہیں۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر ایک بہتان باز اس حکم میں شامل ہے لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بطور اولیٰ ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی عموم ہی کو پسند فرماتے ہیں اور یہی صحیح بھی ہے اور عموم کی تائید میں یہ حدیث بھی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سات گناہوں سے بچو جو مہلک ہیں }۔ پوچھا گیا وہ کیا ہیں؟ فرمایا: { اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کسی کو بلا وجہ مار ڈالنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جہاد سے بھاگنا، پاک دامن بھولی مومنہ پر تہمت لگانا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2766] اور حدیث میں ہے { پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانے والے کی سو سال کی نیکیاں غارت ہیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:3023:ضعیف]
اعضاء کی گواہی ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”جب مشرکین دیکھیں گے کہ جنت میں سوائے نمازوں کے اور کوئی نہیں بھیجا جاتا تو وہ کہیں گے آؤ ہم بھی انکار کردیں چنانچہ اپنے شرک کا یہ انکار کردیں گے۔ اسی وقت ان کے منہ پر مہر لگ جائے گی اور ہاتھ پاؤں گواہی دینے لگیں گے اور اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے۔“ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { کافروں کے سامنے جب ان کی بداعمالیاں پیش کی جائیں گی تو وہ انکار کر جائیں گے اور اپنی بے گناہی بیان کرنے لگیں گے تو کہا جائے گا یہ ہیں تمہارے پڑوسی یہ تمہارے خلاف شہادت دے رہے ہیں۔ یہ کہیں گے یہ سب جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا کہ اچھا خود تمہارے کنبے کے قبیلے کے لوگ موجود ہیں۔ یہ کہہ دیں گے یہ بھی جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا۔ اچھا تم قسمیں کھاؤ، یہ قسمیں کھا لیں گے پھر اللہ انہیں گونگا کر دے گا اور خود ان کے ہاتھ پاؤں ان کی بداعمالیوں کی گواہی دیں گے۔ پھر انہیں جہنم میں بھیج دیا جائے گا } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:25888:ضعیف] سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئے اور فرمانے لگے، { جانتے ہو میں کیوں ہنسا؟ } ہم نے کہا اللہ ہی جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بندہ قیامت کے دن اپنے رب سے جو حجت بازی کرے گا اس پر یہ کہے گا کہ اللہ کیا تو نے مجھے ظلم سے نہیں روکا تھا؟ اللہ فرمائے گا ’ ہاں ‘۔ تو یہ کہے گا، بس آج جو گواہ میں سچا مانوں، اسی کی شہادت میرے بارے میں معتبر مانی جائے۔ اور وہ گواہ سوا میرے اور کوئی نہیں۔ اللہ فرمائے گا، ’ اچھا یونہی سہی تو ہی اپنا گواہ رہ ‘، اب منہ پر مہر لگ جائے گی اور اعضاء سے سوال ہوگا تو وہ سارے عقدے کھول دیں گے۔ اس وقت بندہ کہے گا، تم غارت ہو جاؤ، تمہیں بربادی آئے تمہاری طرف سے ہی تو میں لڑ جھگڑ رہا تھا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2969]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے تھے ”اے ابن آدم تو خود اپنی بد اعمالیوں کا گواہ ہے، تیرے کل جسم کے اعضاء تیرے خلاف بولیں گے، ان کا خیال رکھ اللہ سے پوشیدگی اور ظاہری میں ڈرتا رہ۔ اس کے سامنے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، اندھیرا اس کے سامنے روشنی کی مانند ہے۔ چھپا ہوا اس کے سامنے کھلا ہوا ہے۔ اللہ کے ساتھ نیک گمانی کی حالت میں مرو۔ اللہ ہی کے ساتھ ہماری قوتیں ہیں۔“ یہاں دین سے مراد حساب ہے۔ جمہور کی قرأت میں حق کا زبر ہے کیونکہ وہ دین کی صفت ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ نے «الْحَقَّ» پڑھا ہے کہ یہ لغت ہے لفظ اللہ کی۔ ابی بن کعب کے مصحف میں «يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّهُ الْحَقُّ دِينَهُمْ» بعض سلف سے پڑھنا مروی ہے۔ ’ اس وقت جان لیں گے کہ اللہ کے وعدے وعید حق ہیں۔ اس کا حساب عدل والا ہے ظلم سے دور ہے ‘۔
24-1جیسا کہ قرآن کریم میں دوسرے مقامات پر بھی اور احادیث میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔
(آیت 24) ➊ { يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ …:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یٰسٓ (۶۵) اور سورۂ حٰم السجدہ (۱۹ تا ۲۱) یعنی ان کے یہ اعضا ان کے خلاف تہمت لگانے اور دوسرے برے اعمال کی گواہی دیں گے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [ كُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَضَحِكَ فَقَالَ هَلْ تَدْرُوْنَ مِمَّا أَضْحَكُ؟ قَالَ قُلْنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهُ أَعْلَمُ، قَالَ مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ، يَقُوْلُ يَا رَبِّ! أَلَمْ تُجِرْنِيْ مِنَ الظُّلْمِ؟ قَالَ يَقُوْلُ بَلٰی، قَالَ فَيَقُوْلُ فَإِنِّيْ لَا أُجِيْزُ عَلٰی نَفْسِيْ إِلَّا شَاهِدًا مِنِّيْ، قَالَ فَيَقُوْلُ كَفٰی بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيْدًا، وَ بِالْكِرَامِ الْكَاتِبِيْنَ شُهُوْدًا، قَالَ: فَيُخْتَمُ عَلٰی فِيْهِ، فَيُقَالُ لِأَرْكَانِهِ انْطِقِيْ، قَالَ فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِهِ، قَالَ ثُمَّ يُخَلّٰی بَيْنَهُ وَ بَيْنَ الْكَلَامِ، قَالَ فَيَقُوْلُ بُعْدًا لَكُنَّ وَ سُحْقًا، فَعَنْكُنَّ كُنْتُ أُنَاضِلُ] [مسلم، الزھد، باب الدنیا سجن للمؤمن …: ۲۹۶۹ ] ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو میں کس بات پر ہنسا ہوں؟“ ہم نے کہا: ”اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔“ فرمایا: ”بندے کی اپنے رب کے ساتھ گفتگو پر، وہ کہے گا: ”اے میرے رب! کیا تو نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی؟“ اللہ فرمائے گا: ”کیوں نہیں!“ تو وہ کہے گا: ”پھر میں اپنی ذات پر اپنے سوا کسی گواہ کو نہیں مانتا۔“ اللہ فرمائے گا: ”آج تجھ پر تو خود ہی کافی گواہ ہے اور کراماً کاتبین گواہ کافی ہیں۔“ چنانچہ اس کے منہ پر مہر کر دی جائے گی اور اس کے اعضا سے کہا جائے گا، بولو! چنانچہ وہ بول کر اس کے اعمال بتائیں گے۔ پھر اسے بات کرنے کی اجازت دی جائے گی تو وہ اپنے اعضا سے کہے گا: ”تمھارے لیے دوری اور ہلاکت ہو، میں تمھاری طرف ہی سے تو دفاع کر رہا تھا۔“ ➋ زبان اگرچہ دنیا میں بھی بولتی ہے مگر یہاں بندے کی مرضی کے مطابق بولتی ہے، کیونکہ اسے اللہ کا حکم یہی ہے، وہاں اللہ کی مرضی کے مطابق اصل حقیقت کے مطابق بولے گی، کیونکہ اسے یہی حکم ہو گا۔ ➌ اگرچہ جسم کے اور اعضا بھی بولیں گے، جیسا کہ سورۂ حٰم السجدہ (۲۰، ۲۱) میں چمڑوں کے بولنے کا ذکر ہے، تاہم یہاں زبان، ہاتھ اور پاؤں کا خاص طور پر ذکر اس لیے فرمایا کہ ان اعضا کا تہمت تراشی میں زیادہ دخل ہے، زبان کی بات، ہاتھوں کے اشارے اور پاؤں کی دوڑ دھوپ تہمت کی تکمیل کرتی ہے۔ ➍ زبان گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جس رب کے حکم سے اس میں کلام کی قوت پیدا ہوئی ہے اسی کے حکم سے جسم کے ہر حصے میں یہ قوت پیدا ہو جائے گی۔ اس لیے ہاتھ، پاؤں اور چمڑوں کے کلام پر تعجب نہیں ہونا چاہیے، فرمایا: «{ اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيْـًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ }» [ یٰسٓ: ۸۲ ] ”اس کا حکم تو، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، اس کے سوا نہیں ہوتا کہ اسے کہتا ہے ”ہو جا“ تو وہ ہو جاتی ہے۔“ آج کل پلاسٹک کی سی ڈی اور کیسٹ سے آواز نکلتی ہے اور کسی کو تعجب نہیں ہوتا۔
اس دن اللہ وہ بدلہ انہیں بھرپور دے گا جس کے وہ مستحق ہیں اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ ہی حق ہے سچ کو سچ کر دکھانے والا
مولانا محمد جوناگڑھی
اس دن اللہ تعالیٰ انہیں پورا پورا بدلہ حق و انصاف کے ساتھ دے گا اور وه جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے (اور وہی) ﻇاہر کرنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اس دن اللہ انہیں ان کی سچی سزا پوری دے گا اور جان لیں گے کہ اللہ ہی صریح حق ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اس دن اللہ انہیں پورا پورا بدلہ دے گا جس کے وہ حقدار ہیں اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ ہی حق ہے جو نمایاں ہے (اور حق کا ظاہر کرنے والا ہے)۔
عبدالسلام بن محمد
اس دن اللہ انھیں ان کا صحیح بدلہ پورا پورا دے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ ہی حق ہے، جو ظاہر کرنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گستاخ پر اللہ کی لعنت ٭٭
جب کہ عام مسلمان عورتوں پر طوفان اٹھانے والوں کی سزا یہ ہے تو انبیاء علیہم السلام کی بیویوں پر جو مسلمانوں کی مائیں ہیں، بہتان باندھنے والوں کی سزا کیا ہوگی؟ اور خصوصا اس بیوی پر جو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں رضی اللہ عنہا۔ علماء کرام کا اس پر اجماع ہے کہ ان آیتوں کے نزول کے بعد بھی جو شخص ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کو اس الزام سے یاد کرے، وہ کافر ہے کیونکہ اس نے قرآن پاک کے خلاف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے بارے میں صحیح قول یہی ہے کہ وہ بھی مثل صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ فرماتا ہے کہ ’ ایسے موذی بہتان پرداز دنیا اور آخرت میں لعنت اللہ کے مستحق ہیں ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا» ۱؎ [33-الأحزاب:57] ، یعنی ’ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لیے رسواکرنے والے عذاب تیار ہیں ‘۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ یہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ مخصوص ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں۔ سعید بن جبیر، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ نقل کیا ہے لیکن پھر جو تفصیل وار روایت لائے ہیں اس میں آپ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگنے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آنے اور اس آیت کے نازل ہونے کا ذکر ہے لیکن آپ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اس حکم کے مخصوص ہونے کا ذکر نہیں۔ پس سبب نزول گو خاص ہو لیکن حکم عام رہتا ہے۔ ممکن ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ کے قول کا بھی یہی مطلب ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ کل ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کا تو یہ حکم ہے لیکن اور مومنہ عورتوں کا یہ حکم نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس آیت سے تو مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» ہیں کہ اہل نفاق جو اس تہمت میں تھے، سب راندہ درگاہ ہوئے، لعنتی ٹھہرے اور غضب اللہ کے مستحق بن گئے۔ اس کے بعد عام مومنہ عورتوں پر بدکاری کا بہتان باندھنے والوں کے حکم میں آیت «وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَةً وَّلَا تَــقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا وَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [24-النور:5، 4] ، اتری پس انہیں کوڑے لگیں گے۔ اگر انہوں نے توبہ کی توبہ تو قبول ہے لیکن گواہی ان کی ہمیشہ تک غیر معبتر رہے گی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سورۃ النور کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ”یہ آیت توحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے بارے میں اتری ہے، ان بہتان بازوں کی توبہ بھی قبول نہیں۔ اس آیت میں ابہام ہے، اور چار گواہ نہ لاسکنے کی آیت عام ایماندار عورتوں پر تہمت لگانے والوں کے حق میں ہے، ان کی توبہ مقبول ہے“، یہ سن کر اکثر لوگوں کا ارادہ ہوا کہ آپ کی پیشانی چوم لیں۔ کیونکہ آپ نے نہایت ہی عمدہ تفسیر کی تھی۔ ابہام سے مراد یہ ہے کہ ہر پاک دامن عورت کی شان میں حرمت تہمت عام ہے، اور ایسے سب لوگ ملعون ہیں۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر ایک بہتان باز اس حکم میں شامل ہے لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بطور اولیٰ ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی عموم ہی کو پسند فرماتے ہیں اور یہی صحیح بھی ہے اور عموم کی تائید میں یہ حدیث بھی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سات گناہوں سے بچو جو مہلک ہیں }۔ پوچھا گیا وہ کیا ہیں؟ فرمایا: { اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کسی کو بلا وجہ مار ڈالنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جہاد سے بھاگنا، پاک دامن بھولی مومنہ پر تہمت لگانا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2766] اور حدیث میں ہے { پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانے والے کی سو سال کی نیکیاں غارت ہیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:3023:ضعیف]
اعضاء کی گواہی ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”جب مشرکین دیکھیں گے کہ جنت میں سوائے نمازوں کے اور کوئی نہیں بھیجا جاتا تو وہ کہیں گے آؤ ہم بھی انکار کردیں چنانچہ اپنے شرک کا یہ انکار کردیں گے۔ اسی وقت ان کے منہ پر مہر لگ جائے گی اور ہاتھ پاؤں گواہی دینے لگیں گے اور اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے۔“ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { کافروں کے سامنے جب ان کی بداعمالیاں پیش کی جائیں گی تو وہ انکار کر جائیں گے اور اپنی بے گناہی بیان کرنے لگیں گے تو کہا جائے گا یہ ہیں تمہارے پڑوسی یہ تمہارے خلاف شہادت دے رہے ہیں۔ یہ کہیں گے یہ سب جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا کہ اچھا خود تمہارے کنبے کے قبیلے کے لوگ موجود ہیں۔ یہ کہہ دیں گے یہ بھی جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا۔ اچھا تم قسمیں کھاؤ، یہ قسمیں کھا لیں گے پھر اللہ انہیں گونگا کر دے گا اور خود ان کے ہاتھ پاؤں ان کی بداعمالیوں کی گواہی دیں گے۔ پھر انہیں جہنم میں بھیج دیا جائے گا } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:25888:ضعیف] سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئے اور فرمانے لگے، { جانتے ہو میں کیوں ہنسا؟ } ہم نے کہا اللہ ہی جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بندہ قیامت کے دن اپنے رب سے جو حجت بازی کرے گا اس پر یہ کہے گا کہ اللہ کیا تو نے مجھے ظلم سے نہیں روکا تھا؟ اللہ فرمائے گا ’ ہاں ‘۔ تو یہ کہے گا، بس آج جو گواہ میں سچا مانوں، اسی کی شہادت میرے بارے میں معتبر مانی جائے۔ اور وہ گواہ سوا میرے اور کوئی نہیں۔ اللہ فرمائے گا، ’ اچھا یونہی سہی تو ہی اپنا گواہ رہ ‘، اب منہ پر مہر لگ جائے گی اور اعضاء سے سوال ہوگا تو وہ سارے عقدے کھول دیں گے۔ اس وقت بندہ کہے گا، تم غارت ہو جاؤ، تمہیں بربادی آئے تمہاری طرف سے ہی تو میں لڑ جھگڑ رہا تھا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2969]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے تھے ”اے ابن آدم تو خود اپنی بد اعمالیوں کا گواہ ہے، تیرے کل جسم کے اعضاء تیرے خلاف بولیں گے، ان کا خیال رکھ اللہ سے پوشیدگی اور ظاہری میں ڈرتا رہ۔ اس کے سامنے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، اندھیرا اس کے سامنے روشنی کی مانند ہے۔ چھپا ہوا اس کے سامنے کھلا ہوا ہے۔ اللہ کے ساتھ نیک گمانی کی حالت میں مرو۔ اللہ ہی کے ساتھ ہماری قوتیں ہیں۔“ یہاں دین سے مراد حساب ہے۔ جمہور کی قرأت میں حق کا زبر ہے کیونکہ وہ دین کی صفت ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ نے «الْحَقَّ» پڑھا ہے کہ یہ لغت ہے لفظ اللہ کی۔ ابی بن کعب کے مصحف میں «يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّهُ الْحَقُّ دِينَهُمْ» بعض سلف سے پڑھنا مروی ہے۔ ’ اس وقت جان لیں گے کہ اللہ کے وعدے وعید حق ہیں۔ اس کا حساب عدل والا ہے ظلم سے دور ہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 25) ➊ { يَوْمَىِٕذٍ يُّوَفِّيْهِمُ اللّٰهُ دِيْنَهُمُ الْحَقَّ …: ” دِيْنَهُمْ “} سے مراد جزا ہے، کیونکہ وہی پوری دی جائے گی۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ ثُمَّ يُجْزٰىهُ الْجَزَآءَ الْاَوْفٰى }» [ النجم: ۴۱ ] ”پھر اسے اس کا بدلا دیا جائے گا، پورا بدلا۔“ ➋ { وَ يَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِيْنُ:} اللہ تعالیٰ کی صفت {” الْحَقُّ “} کے دو معنی ہیں، ایک معنی ”ثابت“ ہے، کیونکہ اس کی ذات ہمیشہ سے ہے، نہ اس پر پہلے عدم ہے اور نہ اس پر کبھی فنا ہے، دوسری کسی چیز میں یہ صفت نہیں پائی جاتی ہے۔ لفظ {” اللّٰهَ “} اور اس کی خبر {” الْحَقُّ “} پر الف لام آنے سے اور ان دونوں کے درمیان {” هُوَ “} لانے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا، یعنی حق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، باقی سب باطل ہیں، کیونکہ حق کے مقابلے میں باطل ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا الشَّاعِرُ كَلِمَةُ لَبِيْدٍ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللّٰهَ بَاطِلُ ] [بخاري، مناقب الأنصار، باب أیام الجاھلیۃ:۳۸۴۱ ] ”سب سے سچی بات جو شاعر نے کہی ہے، وہ لبید کی بات ہے کہ سن لو! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔“ ”حق“ کا دوسرا معنی عدل و انصاف ہے، مراد {”ذُو الْحَقِّ أَيْ ذُو الْعَدْلِ“} ہے، یعنی عدل و انصاف والا ہے، جیسے {”زَيْدٌ عَدْلٌ“} بول کر مراد {”ذُوالْعَدْلِ“} لیتے ہیں۔ یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بہتان لگانے والوں کو ان کا صحیح بدلا دے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو حق فیصلہ کرنے والا ہے، سچ کو سچ ظاہر کرنے والا ہے۔ کیونکہ دوسرے حاکم حق فیصلہ کریں بھی تو اس میں خطا اور کوتاہی کا امکان رہتا ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ ہی ایک ایسی ذات ہے جس کا ہر فیصلہ حق ہے۔ ➌ اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ {” اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ …“} سے مراد کفار و منافقین ہی ہیں، کیونکہ مومن کو تو دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کے {” الْحَقُّ الْمُبِيْنُ “} ہونے کا علم ہے، اس لیے اگر اس سے بہتان کی غلطی سرزد ہو جائے تو وہ اللہ کے خوف سے توبہ کر لیتا ہے، جبکہ کافر اور منافق اس حقیقت کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے بہتان باندھنے پر جمے رہتے ہیں، انھیں قیامت کو اللہ تعالیٰ کے {” الْحَقُّ الْمُبِيْنُ “} ہونے کا علم ہو گا۔
خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ان کا دامن پاک ہے اُن باتوں سے جو بنانے والے بناتے ہیں، ان کے لیے مغفرت ہے اور رزق کریم
مولانا محمد جوناگڑھی
خبیﺚ عورتیں خبیﺚ مردوں کے ﻻئق ہیں اور خبیﺚ مرد خبیﺚ عورتوں کے ﻻئق ہیں اور پاک عورتیں پاک مردوں کے ﻻئق ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے ﻻئق ہیں۔ ایسے پاک لوگوں کے متعلق جو کچھ بکواس (بہتان باز) کر رہے ہیں وه ان سے بالکل بری ہیں، ان کے لئے بخشش ہے اور عزت والی روزی
احمد رضا خان بریلوی
گندیاں گندوں کے لیے اور گندے گندیوں کے لیے اور ستھریاں ستھروں کے لیے اور ستھرے ستھریوں کے لیے وہ پاک ہیں ان باتوں سے جو یہ کہہ رہے ہیں، ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے
علامہ محمد حسین نجفی
ناپاک باتیں، ناپاک لوگوں کے لئے (زیبا) ہیں اور ناپاک آدمی ناپاک باتوں کیلئے موزوں (مناسب) ہیں اور اچھی اور ستھری باتیں اچھے آدمیوں کیلئے (مناسب) ہیں۔ اور اچھے اور ستھرے آدمی اچھی اور ستھتری باتوں کے (لائق) ہیں اور یہ ان باتوں سے بری الذمہ ہیں جو لوگ (ان کے بارے میں) کہتے ہیں ان کیلئے مغفرت ہے اور باعزت روزی۔
عبدالسلام بن محمد
گندی عورتیں گندے مردوں کے لیے ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے لیے ہیں اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں۔ یہ لوگ اس سے بری کیے ہوئے ہیں جو وہ کہتے ہیں، ان کے لیے بڑی بخشش اور باعزت روزی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بھلی بات کے حق دار بھلے لوگ ہی ہیں ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”ایسی بری بات برے لوگوں کے لیے ہے، بھلی بات کے حقدار بھلے لوگ ہوتے ہیں۔“ یعنی اہل نفاق نے سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر جو تہمت باندھی اور ان کی شان میں جو بد الفاظی کی اس کے لائق وہی ہیں اس لیے کہ وہی بد ہیں اور خبیث ہیں۔ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا چونکہ پاک ہیں اس لیے وہ پاک کلموں کے لائق ہیں وہ ناپاک بہتان سے بری ہیں۔ یہ آیت بھی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ آیت کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو ہر طرح سے طیب ہیں، ناممکن ہے کہ ان کے نکاح میں اللہ کسی ایسی عورت کو دے جو خبیثہ ہو۔ خبیثہ عورتیں تو خبیث مردوں کے لیے ہوتی ہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ ’ یہ لوگ ان تمام تہمتوں سے پاک ہیں جو دشمنان اللہ باندھ رہے ہیں۔ انہیں ان کی بدکلامیوں سے جو رنج وایذاء پہنچی وہ بھی ان کے لیے باعث مغفرت گناہ بن جائے گی۔ اور یہ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں، جنت عدن میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہیں گی ‘۔
ایک مرتبہ اسیر بن جابر، عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہنے لگے آج تو میں نے ولید بن عقبہ سے ایک نہایت ہی عمدہ بات سنی تو عبداللہ نے فرمایا ”ٹھیک ہے مومن کے دل میں پاک بات اترتی ہے اور وہ اس کے سینے میں آ جاتی ہے پھر وہ اسے زبان سے بیان کرتا ہے، وہ بات چونکہ بھلی ہوتی ہے، بھلے سننے والے اسے اپنے دل میں بٹھالیتے ہیں اور اسی طرح بری بات برے لوگوں کے دلوں سے سینوں تک اور وہاں سے زبانوں تک آتی ہے، برے لوگ اسے سنتے ہیں اور اپنے دل میں بٹھالیتے ہیں۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ { جو شخص بہت سی باتیں سنے، پھر ان میں جو سب سے خراب ہو اسے بیان کرے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص کسی بکریوں والے سے ایک بکری مانگے وہ اسے کہے کہ جا اس ریوڑ میں سے تجھے جو پسند ہو لے لے۔ یہ جائے اور ریوڑ کے کتے کا کان پکڑ کر لے جائے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4172، قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور حدیث میں ہے { حکمت کا کلمہ مومن کی گم گشتہ دولت ہے جہاں سے پائے لے لے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4169، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
26-1اس کا ایک مفہوم تو یہی بیان کیا گیا ہے جو ترجمے سے واضح ہے۔ اس صورت میں یہ ہم معنی آیت ہوگی، اور خبیثات اور خبیثیوں سے زانی مرد و عورت اور طیبات اور رفیون سے مراد پاک دامن عورت اور مرد ہونگے۔ دوسرے معنی اس کے ہیں کہ ناپاک باتیں ناپاک مردوں کے لئے اور ناپاک مرد ناپاک باتوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ باتیں پاکیزہ مردوں کے لئے اور پاکیزہ مرد پاکیزہ باتوں کے لئے ہیں اور مطلب یہ ہوگا کہ ناپاک باتیں وہی مرد عورت کرتے ہیں جو ناپاک ہیں اور پاکیزہ باتیں کرنا پاکیزہ مردوں اور عورتوں کا شیوہ ہے۔ اس میں اشارہ ہے۔ اس بات کی طرف کہ حضرت عائشہ پر ناپاکی کا الزام عائد کرنے والے ناپاک اور ان سے اس کی براءت کرنے والے پاک ہیں۔ 26-2اس سے مراد جنت کی روزی ہے جو اہل ایمان کو نصیب ہوگی۔
(آیت 26) ➊ { اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ…:} اس آیت میں یہ نفسیاتی حقیقت بیان کی گئی ہے کہ خبیث (گندے) مردوں کا نبھاؤ خبیث عورتوں سے اور پاکیزہ مردوں کا نبھاؤ پاکیزہ عورتوں ہی سے ہو سکتا ہے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک مرد خود تو بڑا پاکیزہ ہے مگر وہ ایک خبیث عورت سے برسوں نبھاؤ کرتا چلا جائے۔ مقصود عائشہ رضی اللہ عنھا کی پاکیزگی کا بیان ہے کہ ان میں خباثت کا ادنیٰ شائبہ بھی ہوتا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو ازل سے ابد تک پاکیزہ ہستیوں کے سردار تھے، ان کے ساتھ نہایت محبت و اطمینان سے برسوں نبھاؤ کرتے چلے جاتے؟ بعض مفسرین نے {” اَلْخَبِيْثٰتُ “} سے مراد گندے اقوال و افعال اور {” الطَّيِّبٰتُ “} سے مراد پاکیزہ اقوال و افعال لیے ہیں، یعنی کوئی آدمی جیسا خود ہوتا ہے ویسے ہی وہ اعمال کرتا ہے اور ویسے ہی اقوال زبان پر لاتا ہے۔ اب چونکہ عائشہ رضی اللہ عنھا پاک تھیں، ان کی سیرت اور ان کے اقوال و افعال بھی پاک تھے اور یہ منافق خود گندے تھے، اس لیے ان سے ایسے ہی گندے اقوال و افعال کی توقع تھی۔ ➋ {اُولٰٓىِٕكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا يَقُوْلُوْنَ:} یعنی طیّب مرد اور طیّب عورتیں ان باتوں سے صاف بری کیے ہوئے ہیں جو خبیث مرد اور خبیث عورتیں کہتے ہیں۔ {” مُبَرَّءُوْنَ “} اسم مفعول کا صیغہ ہے ”بری کیے ہوئے۔“ اس میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا کی واشگاف الفاظ میں براء ت کا ذکر ہے۔ یعنی اہل ایمان میں سے جو یہ سنتا ہے وہ {” سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيْمٌ “} کہہ کر انھیں پاک قرار دیتا ہے اور رب تعالیٰ بھی {” اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ “} کے ساتھ ان کی براء ت کا اعلان فرماتے ہیں۔ {” مِمَّا يَقُوْلُوْنَ “} یعنی بہتان تراشوں کی صرف منہ کی باتیں ہیں، ان کی حقیقت کچھ نہیں۔ ➌ { لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِيْمٌ: ” مَغْفِرَةٌ “} پر تنوینِ تعظیم کی وجہ سے ”بڑی بخشش“ ترجمہ کیا گیا ہے، یعنی خبیث لوگوں کے برا کہنے سے وہ برے نہیں ہو جاتے، بلکہ ان کی تہمتوں کی وجہ سے انھیں جو رنج پہنچتا ہے اور وہ اس پر صبر کرتے ہیں تو یہ چیز ان کی خطاؤں اور لغزشوں کی بخشش کا ذریعہ بنتی ہے اور مفسد لوگ جس قدر انھیں ذلیل کرنا چاہتے ہیں اسی قدر انھیں عزت کی روزی ملتی ہے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، عائشہ، ان کے والدین اور صفوان رضی اللہ عنھم سب کے لیے جنت کی بشارت ہے، جو حقیقی رزق کریم ہے، کیونکہ اس بہتان سے ان سب کی عزت و آبرو پر حملہ ہوا اور سب کو نہایت رنج پہنچا۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ گھر والوں کی رضا نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج لو، یہ طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے توقع ہے کہ تم اس کا خیال رکھو گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو، یہی تمہارے لئے سراسر بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک اجازت نہ لے لو اور ان کے ساکنوں پر سلام نہ کرلو یہ تمہارے لیے بہتر ہے کہ تم دھیان کرو،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو۔ جب تک کہ اجازت نہ لے لو۔ اور گھر والوں پر سلام نہ کرو۔ یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ تاکہ نصیحت حاصل کرو۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں داخل نہ ہو، یہاں تک کہ انس حاصل کر لو اور ان کے رہنے والوں کو سلام کہو۔ یہ تمھارے لیے بہتر ہے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شرعی آداب ٭٭
شرعی ادب بیان ہو رہا ہے کہ ’ کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت مانگو، جب اجازت ملے، جاؤ پہلے سلام کرو، اگر پہلی دفعہ کی اجازت طلبی پر جواب نہ ملے تو پھر اجازت مانگو۔ تین مرتبہ اجازت چاہو اگر پھر بھی اجازت نہ ملے تو لوٹ جاؤ ‘۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ تین دفعہ اجازت مانگی، جب کوئی نہ بولا تو آپ رضی اللہ عنہ واپس لوٹ گئے۔ تھوڑی دیر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا! دیکھو عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ آنا چاہتے ہیں، انہیں بلا لو لوگ گئے، دیکھا تو وہ چلے گئے ہیں۔ واپس آ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خبر دی۔ دوبارہ جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہا نے پوچھا آپ رضی اللہ عنہ واپس کیوں چلے گئے تھے؟ جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ { تین دفعہ اجازت چاہنے کے بعد بھی اگر اجازت نہ ملے تو واپس لوٹ جاؤ }۔
27-1گزشتہ آیات میں زنا اور قذف اور ان کی حدوں کا بیان گزرا، اب اللہ تعالیٰ گھروں میں داخل ہونے کے آداب بیان فرما رہا ہے تاکہ مرد و عورت کے درمیان اختلاط نہ ہو جو عام طور زنا یا قذف کا سبب بنتا ہے۔ اَسْتِیْنَاس کے معنی ہیں، معلوم کرنا، یعنی جب تک تمہیں یہ معلوم نہ ہوجائے کہ اندر کون ہے اور اس نے تمہیں اندر داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے، اس وقت تک داخل نہ ہو۔ آیت میں داخل ہونے کی اجازت طلب کرنے کا ذکر پہلے اور سلام کرنے کا ذکر بعد میں ہے۔ لیکن حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے سلام کرتے اور پھر داخل ہونے کی اجازت طلب کرتے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بھی تھا کہ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت طلب فرماتے اگر کوئی جواب نہیں آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ آتے۔ اور یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ اجازت طلبی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے کے دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے، تاکہ ایک دم سامنا نہ ہوجائے جس بےپردگی کا امکان رہتا ہے (ملاحظہ ہو صحیح بخاری) اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے پر کھڑے ہو کر اندر جھانکنے سے بھی نہایت سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے حتیٰ کہ اگر کسی شخص نے جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑ دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر کوئی گناہ نہیں (البخاری) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو بھی ناپسند فرمایا کہ جب اندر سے صاحب بیت پوچھے، کون ہے؟ تو اس کے جواب میں " میں "" میں " کہا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نام لے کر اپنا تعارف کرائے (صحیح بخاری) 27-2یعنی عمل کرو، مطلب یہ ہے کہ اجازت طلبی اور سلام کرنے کے بعد گھر کے اندر داخل ہونا، دونوں کے لئے اچانک داخل ہونے سے بہتر ہے۔
(آیت 27) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتًا …:} سورت کے شروع سے زنا اور بہتان کی حد اور ان کی مذمت کا بیان آ رہا ہے، اب ان احکام کا ذکر شروع ہوتا ہے جن سے مردوں اور عورتوں کے ایسے میل جول کی روک تھام ہوتی ہے جو زنا اور بہتان کا سبب بنتا ہے۔ ان احکام میں گھروں میں داخلے کی اجازت، نظر کی حفاظت، پردے اور نکاح کی تاکید اور قحبہ گری سے ممانعت جیسے آداب شامل ہیں۔ ➋ { غَيْرَ بُيُوْتِكُمْ:} یعنی صرف اپنے گھروں میں داخلے کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں، جہاں آدمی اکیلا رہتا ہو، یا بیوی کے ساتھ رہتا ہو۔ اگرچہ افضل یہی ہے کہ وہاں داخلے سے پہلے بھی کسی طرح گھر والوں کو اپنی آمد سے آگاہ کر دیا جائے، ممکن ہے وہ ایسی حالت میں ہوں جس میں خاوند کا دیکھنا انھیں پسند نہ ہو۔ چنانچہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب بیان کرتی ہیں: [ كَانَ عَبْدُ اللّٰهِ إِذَا جَاءَ مِنْ حَاجَةٍ فَانْتَهٰی إِلَی الْبَابِ تَنَحْنَحَ وَ بَزَقَ كَرَاهَةَ أَنْ يَّهْجُمَ مِنَّا عَلٰی أَمْرٍ يَكْرَهُهُ ] [ ابن جریر: ۲۶۱۳۱ ] ”عبد اللہ(رضی اللہ عنہ) جب کسی کام سے فارغ ہو کر گھر آتے تو دروازے پر آ کر کھانستے اور تھوکتے کہ کہیں ان کی نظر ہماری کسی ایسی چیز پر نہ پڑ جائے جو انھیں نا پسند ہو۔“ ابن کثیر نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِذَا أَطَالَ أَحَدُكُمُ الْغَيْبَةَ فَلَا يَطْرُقْ أَهْلَهُ لَيْلًا ] [ بخاري، النکاح، باب لا یطرق أھلہ…: ۵۲۴۴ ] ”جب تم میں سے کوئی شخص زیادہ عرصہ گھر سے غائب رہے تو گھر والوں کے پاس رات کے وقت نہ آئے۔“ مسلم میں یہ الفاظ زائد ہیں: [ نَهٰی رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ أَنْ يَّطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا يَتَخَوَّنُهُمْ أَوْ يَلْتَمِسُ عَثَرَاتِهِمْ ] [ مسلم، الإمارۃ، باب کراھیۃ الطروق…: 715/184، قبل ح: ۱۹۲۹ ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (زیادہ عرصہ گھر سے غائب رہنے والے شخص کو) منع فرمایا کہ وہ گھر والوں کی خیانت یا ان کی غلطی کی تلاش کے لیے رات کو (اچانک) ان کے پاس آئے۔“ ➌ {” حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا “} کا لفظی ترجمہ ہے ”یہاں تک کہ تم انس حاصل کر لو۔“ اس لیے اس میں نہ صرف اجازت حاصل کرنے کا مفہوم شامل ہے، بلکہ یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ تم معلوم کر لو کہ گھر میں کوئی ہے بھی یا نہیں اور ہے تو اسے تمھارا آنا ناگوار تو نہیں ہے؟ ➍ اجازت مانگنے کا طریقہ، بنو عامر کا ایک آدمی آیا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، کہنے لگا: ”کیا میں اندر آ جاؤں؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خادم سے کہا: ”اس کے پاس جاؤ اور اسے اجازت مانگنے کا طریقہ سکھاؤ کہ وہ اس طرح کہے: [ اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَ أَدْخُلُ؟ ] ”السلام علیکم، کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟“ اس آدمی نے یہ بات سن لی اور کہا: [اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَ أَدْخُلُ؟] تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی اور وہ داخل ہو گیا۔“ [ أبوداوٗد، الأدب، باب کیف الاستئذان؟: ۵۱۷۷ ] کَلَدہ بن حنبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ کے پاس سیدھا چلا آیا، میں نے نہ سلام کہا (اور نہ اجازت مانگی)، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اِرْجِعْ فَقُلْ اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ ] [ أبوداوٗد، الأدب، باب کیف الاستئذان؟: ۵۱۷۶، صححہ الألباني ] ”واپس جاؤ اور کہو السلام علیکم۔“ ➎ اجازت زیادہ سے زیادہ تین مرتبہ مانگے، اگر اجازت نہ ملے تو واپس چلا جائے۔ [ دیکھیے بخاري، الاستئذان، باب التسلیم و الاستئذان ثلاثا: ۶۲۴۵، عن أبي موسٰی رضی اللہ عنہ ] ➏ دروازہ کھٹکھٹانے یا سلام کہنے پر اگر گھر والے پوچھیں، کون ہے تو اپنا نام بتائے۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قرض کے سلسلے میں حاضر ہوا، جو میرے والد کے ذمے تھا، میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: [ مَنْ ذَا؟ فَقُلْتُ أَنَا، فَقَالَ أَنَا أَنَا ] ”کون ہے؟“ میں نے کہا: ”میں ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں، میں۔“ گویا آپ نے اسے ناپسند فرمایا۔ [ بخاري، الاستئذان، باب إذا قال من ذا؟ فقال أنا: ۶۲۵۰ ] ➐ ہزیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ایک آدمی آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے سامنے کھڑا ہو کر اجازت مانگنے لگا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ هٰكَذَا عَنْكَ أَوْ هٰكَذَا، فَإِنَّمَا الْاِسْتِئْذَانُ مِنَ النَّظَرِ ] [ أبوداوٗد، الأدب، باب کیف الاستئذان؟: ۵۱۷۴، صححہ الألباني ] ”اس طرف ہو جاؤ یا اس طرف، کیونکہ دیکھنے ہی کی وجہ سے اجازت مانگی جاتی ہے۔“ ➑ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَوِ اطَّلَعَ فِيْ بَيْتِكَ أَحَدٌ وَ لَمْ تَأْذَنْ لَهُ خَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ ] [ بخاري، الدیات، باب من أخذ حقہ…: ۶۸۸۸ ] ”اگر کوئی آدمی تیرے گھر میں جھانکے، جبکہ تو نے اجازت نہ دی ہو اور تو کنکری پھینک کر اس کی آنکھ پھوڑ دے تو تجھ پر کچھ گناہ نہ ہو گا۔“ ایسی صورت میں آنکھ پھوڑنے پر نہ قصاص ہے، نہ دیت۔ ➒ { ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ …:} یعنی ان آداب میں دونوں طرف کا فائدہ ہے، اجازت مانگنے والے کا بھی اور گھر والوں کا بھی۔ (ابن کثیر) {” لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ “} تاکہ تم نصیحت حاصل کرو کہ جس طرح تمھیں دوسروں کا بلااجازت آ گھسنا برا محسوس ہوتا ہے، اسی طرح دوسروں کو تمھارا بلااجازت در آنا بھی برا محسوس ہوتا ہے۔ افسوس کہ مسلمانوں نے اجازت مانگنے کے حکم پر عمل کرنا چھوڑ دیا۔ (الا ما شاء اللہ) رشتہ داروں، ہمسایوں بلکہ اجنبیوں تک کے گھروں میں آنے جانے کے لیے اجازت کی ضرورت ہی نہیں رہی، اس پر مزید عام بے پردگی اور بے لباسی سے بدتر لباس ہے، جس سے مسلم معاشرے میں بے حیائی کا سیلاب آ رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں بدکاری، بدگمانی، تہمت تراشی، رقابت، قتل و غارت اور دوسری برائیاں پھیل رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی حدود اور اپنے احکام پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
پھر اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو داخل نہ ہو جب تک کہ تم کو اجازت نہ دے دی جائے، اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جاؤ تو واپس ہو جاؤ، یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر وہاں تمہیں کوئی بھی نہ مل سکے تو پھر اجازت ملے بغیر اندر نہ جاؤ۔ اگر تم سے لوٹ جانے کو کہا جائے تو تم لوٹ ہی جاؤ، یہی بات تمہارے لئے پاکیزه ہے، جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
پھر اگر ان میں کسی کو نہ پاؤ جب بھی بے ما لکوں کی اجازت کے ان میں نہ جاؤ اور اگر تم سے کہا جائے واپس جاؤ تو واپس ہو یہ تمہارے لیے بہت ستھرا ہے، اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر اگر ان (گھروں) میں کسی (آدمی) کو نہ پاؤ تو ان میں داخل نہ ہو جب تک کہ تمہیں اجازت نہ مل جائے اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جاؤ تو واپس چلے جاؤ یہ (طریقہ کار) تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ ہے۔ اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اگر تم ان میں کسی کو نہ پائو تو ان میں داخل نہ ہو، یہاں تک کہ تمھیں اجازت دی جائے اور اگر تم سے کہا جائے واپس چلے جائو تو واپس ہوجائو، یہ تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہے اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو، اسے خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
{ میں نے تین بار اجازت چاہی جب جواب نہ آیا تو میں اس حدیث پر عمل کرکے واپس لوٹ گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس پر کسی گواہ کو پیش کرو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔“ آپ رضی اللہ عنہ وہاں سے اٹھ کر انصار کے ایک مجمع میں پہنچے اور سارا واقعہ ان سے بیان کیا اور فرمایا کہ ”تم میں سے کسی نے اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم سنا ہو تو میرے ساتھ چل کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہہ دے۔“ انصار نے کہا یہ مسئلہ تو عام ہے بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ہم سب نے سنا ہے ہم اپنے سب سے نوعمر لڑکے کو تیرے ساتھ کر دیتے ہیں، یہی گواہی دے آئیں گے۔ چنانچہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ گئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے جا کر کہا کہ میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سنا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ اس وقت افسوس کرنے لگے کہ بازاروں کے لین دین نے مجھے اس مسئلہ سے غافل رکھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2026]
{ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے اجازت مانگی۔ فرمایا: { السلام علیکم ورحمۃ اللہ! } سعد رضی اللہ عنہ نے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تو کہہ دیا لیکن ایسی آواز سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ سنیں۔ چنانچہ تین بار یہی ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلام کرتے، آپ رضی اللہ عنہ جواب دیتے لیکن اس طرح کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سنیں نہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس لوٹ چلے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لپکے ہوئے آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی تمام آوازیں میرے کانوں میں پہنچ رہی تھیں۔ میں نے ہر سلام کا جواب بھی دیا لیکن اس خیال سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں بہت ساری لوں اور زیادہ برکت حاصل کروں کہ جواب اس طرح نہ دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی دے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلئے! تشریف رکھئے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گئے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کشمش لا کر رکھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمائیں اور فارغ ہو کر فرمانے لگے { تمہارا کھانا نیک لوگوں نے کھایا۔ فرشتے تم پر رحمت بھیج رہے ہیں، تمہارے ہاں روزے داروں نے روزہ کھولا }۔ ۱؎ [مسند احمد:138/3:حسن]
اور روایت میں ہے کہ { جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے آہستہ جواب دیا تو ان کے لڑکے سیدنا قیس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت کیوں نہیں دیتے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا خاموش رہو دیکھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ سلام کہیں گے، ہمیں دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ملے گی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ یہاں جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے زعفران یا ورس سے رنگی ہوئی ایک چادر پیش کی، جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جسم مبارک پر لپیٹ لی، پھر ہاتھ اٹھا کر سعد رضی اللہ عنہ کے لیے دعا کی کہ { اے اللہ سعد بن عبادہ کی آل پر اپنے درود و رحمت نازل فرما }۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں کھانا تناول فرمایا جب واپس جانے کا ارادہ کیا تو سعد رضی اللہ عنہا اپنے گدھے پر پالان کس لائے۔ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے لیے پیش کیا اور اپنے لڑکے قیس رضی اللہ عنہ سے کہا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جاؤ۔ یہ ساتھ چلے مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: { قیس آؤ تم بھی سوار ہو جاؤ }۔ انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے تو یہ نہ ہو سکے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { دو باتوں میں سے ایک تمہیں ضرور کرنی ہوگی یا تو میرے ساتھ اس جانور پر سوار ہو جاؤ یا واپس چلے جاؤ }، قیس رضی اللہ عنہ نے واپس جانا منظور کر لیا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5185،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
یہ یاد رہے کہ اجازت مانگنے والا گھر کے دروازے کے بالمقابل کھڑا نہ رہے بلکہ دائیں بائیں قدرے کھسک کے کھڑا رہے۔ کیونکہ ابوداؤد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے ہاں جاتے تو اس کے دروازے کے بالکل سامنے کھڑے نہ ہوتے بلکہ ادھر یا ادھر قدرے دور ہو کر زور سے سلام کہتے اس وقت تک دروازوں پر پردے بھی نہیں ہوتے تھے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5186،قال الشيخ الألباني:صحیح] { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان کے دروازے کے سامنے ہی کھڑے ہو کر ایک شخص نے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تعلیم دی کہ { نظر نہ پڑے اسی لیے تو اجازت مقرر کی گئی ہے۔ پھر دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر آواز دینے کے کیا معنی؟ یا تو ذرا سا ادھر ہو جاؤ یا ادھر } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5174،قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک اور حدیث میں ہے کہ { اگر کوئی تیرے گھر میں تیری اجازت کے بغیر جھانکنے لگے اور تو اسے کنکر مارے جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تجھے کوئی گناہ نہ ہوگا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6902]
{ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اپنے والد مرحوم کے قرضے کی ادائیگی کے فکر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، دروازہ پر دستک دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا { کون صاحب ہیں؟ } جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں میں } گویا آپ نے ناپسند فرمایا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6250] کیونکہ ”میں“ کہنے سے یہ تو معلوم نہیں ہوسکتا کون ہے جب تک کے نام یا مشہور کنیت نہ بتائی جائے ”میں“ تو ہر شخص اپنے لیے کہہ سکتا ہے۔ پس اجازت طلبی کا اصلی مقصود حاصل نہیں ہو سکتا۔ «الِاسْتِئْذَانُ» ، «الِاسْتِئْنَاسُ» ایک ہی بات ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے «تَسْتَأْنِسُوا» کاتبوں کی غلطی ہے۔ «تَسْتَأْذِنُوا» لکھنا چاہیئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ہی قرأت تھی اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی بھی۔ لیکن یہ بہت غریب ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اپنے مصحف میں «حَتَّى تُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا وَتَسْتَأْذِنُوا» ہے۔ صفوان بن امیہ جب مسلمان ہوگئے تو ایک مرتبہ کلدہ بن حنبل کو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ آپ اس وقت وادی کے اونچے حصے میں تھے یہ سلام کئے بغیر اور اجازت لیے بغیر ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لوٹ جاؤ، اور کہو السلام علیکم کیا میں آؤں؟ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5176،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور حدیث میں ہے { قبیلہ بنو عامر کا ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آیا اور کہنے لگا میں اندر آ جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے غلام سے فرمایا: { جاؤ اور اسے اجازت مانگنے کا طریقہ سکھاؤ کہ پہلے تو سلام کرے پھر دریافت کرے }۔ اس شخص نے یہ سن لیا اور اسی طرح سلام کر کے اجازت چاہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور وہ اندر گئے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5177،قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک اور حدیث میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خادمہ سے فرمایا تھا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:25917:مرسل] اور حدیث میں ہے { کلام سے پہلے سلام ہونا چاہیئے }۔ یہ حدیث ضعیف ہے، ترمذی میں موجود ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2699،قال الشيخ الألباني:حسن] سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر آ رہے تھے لیکن دھوپ کی تاب نہ لا سکے تو ایک قریشی کی جھونپڑی کے پاس پہنچ کر فرمایا السلام علیکم کیا میں اندر آ جاؤں اس نے کہا سلامتی سے آ جاؤ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر یہی کہا اس نے پھر یہی جواب دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے پاؤں جل رہے تھے کبھی اس قدم پر سہارا لیتے، کبھی اس قدم پر، فرمایا یوں کہو کہ آ جاؤ، اب آپ رضی اللہ عنہ اندر تشریف لے گئے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چار عورتیں گئیں، اجازت چاہی کہ کیا ہم آ جائیں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”نہیں! تم میں جو اجازت کا طریقہ جانتی ہو اسے کہو کہ وہ اجازت لے۔“ تو ایک عورت نے پہلے سلام کیا، پھر اجازت مانگی، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی، پھر یہی آیت پڑھ کر سنائی۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اپنی ماں اور بہنوں کے پاس بھی جانا ہو تو ضرور اجازت لے لیا کرو۔“ { انصار کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں بعض دفعہ گھر میں اس حالت میں ہوتی ہوں کہ اس وقت اگر میرے باپ بھی آجائیں یا میرا اپنا لڑکا بھی اس وقت آ جائے تو مجھے برا معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہ حالت ایسی نہیں ہوتی کہ اس وقت کسی کی بھی نگاہ مجھ پر پڑے تو میں ناخوش نہ ہوؤں۔ اور گھر والوں میں سے کوئی آہی جاتا ہے اس وقت یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:25921:ضعیف] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”تین آیتیں ہیں کہ لوگوں نے ان پر عمل چھوڑ رکھا ہے ایک تو یہ کہ اللہ فرماتا ہے ’ تم میں سے سب سے زیادہ بزرگی والا وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ کا خوف رکھتا ہو ‘۔ اور لوگوں کا خیال یہ ہے کہ سب سے بڑا وہ ہے جو سب سے زیادہ امیر ہو، اور ادب کی آیتیں بھی لوگ چھوڑ بیٹھتے ہیں۔“ عطار حمۃ اللہ علیہ نے پوچھا۔ میرے گھر میں میری یتیم بہنیں ہیں جو ایک ہی گھر میں رہتی ہیں اور میں ہی انہیں پالتا ہوں کیا ان کے پاس جانے کے لیے بھی مجھے اجازت کی ضرورت ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں ضرور اجازت طلب کیا کرو“، میں نے دوبارہ یہی سوال کیا کہ شاید کوئی رخصت کا پہلو نکل آئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”کیا تم انہیں ننگا دیکھنا پسند کرو گے؟“ میں نے کہا نہیں فرمایا ”پھر ضرور اجازت مانگا کرو۔“ میں نے یہی سوال دوہرایا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”کیا تو اللہ کا حکم مانے گا یا نہیں؟“ میں نے کہا ہاں مانوں گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”پھر بغیر اطلاع ہرگز ان کے پاس بھی نہ جاؤ۔“ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں محرمات ابدیہ پر ان کی عریانی کی حالت میں نظر پڑ جائے اس سے زیادہ برائی میرے نزدیک اور کوئی نہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اپنی ماں کے پاس بھی گھر میں بغیر اطلاع کے نہ جاؤ۔ عطا رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ بیوی کے پاس بھی بغیر اجازت کے نہ جائے؟ فرمایا ”یہاں اجازت کی ضرورت نہیں۔“ یہ قول بھی محمول ہے اس پر کہ اس سے اجازت مانگنے کی ضرورت نہیں لیکن تاہم اطلاع ضرور ہونی چاہیئے ممکن ہے وہ اس وقت ایسی حالت میں ہو کہ وہ نہیں چاہتی کہ خاوند بھی اس حالت میں اسے دیکھے۔
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”میرے خاوند عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب میرے پاس گھر میں آتے تو کھنکار کر آتے۔ کبھی بلند آواز سے دروازے کے باہر کسی سے باتیں کرنے لگتے تاکہ گھر والوں کو آپ رضی اللہ عنہ کی اطلاع ہو جائے۔“ چنانچہ مجاہد رحمہ اللہ نے «تَسْتَأْنِسُوا» کے معنی بھی یہی کئے ہیں کہ کھنکار دے یا جوتیوں کی آہٹ سنا دے۔ ایک حدیث میں ہے کہ { سفر سے رات کے وقت بغیر اطلاع گھر آجانے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ کیونکہ اس سے گویا گھر والوں کی خیانت کا پوشیدہ طور پر ٹٹولنا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1801] { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک سفر سے صبح کے وقت آئے تو حکم دیا کہ { بستی کے پاس لوگ اتریں تاکہ مدینے میں خبر مشہور ہو جائے، شام کو اپنے گھروں میں جانا، اس لیے کہ اس اثناء میں عورتیں اپنی صفائی ستھرائی کر لیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5245] اور حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا سلام تو ہم جانتے ہیں لیکن «اسْتِئْنَاسُ» کا طریقہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { «سُبْحَانَ اللَّهِ» یا «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» یا «اﷲ اَکْبَر» بلند آواز سے کہہ دینا یا کھنکار دینا جس سے گھر والے معلوم کر لیں کہ فلاں آ رہا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3707،قال الشيخ الألباني:ضعیف] قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”تین بار کی اجازت اس لیے مقرر ہے کی ہے کہ پہلی دفعہ میں تو گھر والے معلوم کر لیں کہ فلاں ہے۔ دوسری دفعہ میں وہ سنبھل جائیں اور ہوشیار ہو جائیں۔ تیسری مرتبہ میں اگر وہ چاہیں اجازت دیں چاہیں منع کردیں۔ جب اجازت نہ ملے پھر دروازے پر ٹھہرا رہنا برا ہے، لوگوں کو اپنے کام اور اشغال ایسے ضروری ہوتے ہیں کہ وہ اس وقت اجازت نہیں دے سکتے۔“ مقاتل میں حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے میں دستور نہ تھا، ایک دوسرے سے ملتے تھے لیکن سلام نہ کرتے تھے۔ کسی کے ہاں جاتے تھے تو اجازت نہیں لیتے تھے یونہی جا دھمکے پھر کہہ دیا کہ میں آ گیا ہوں۔ تو بسا اوقات یہ گھر والے پر گراں گزرتا۔ ایسا بھی ہوتا کہ وہ اپنے گھر میں کبھی ایسے حال میں ہوتا ہے کہ اس میں اس کا آنا بہت برا لگتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ تمام برے دستور اچھے آداب سکھا کر بدل دئیے۔ اسی لیے فرمایا کہ ’ یہی طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ اس میں مکان والے کو آنے والے کو دونوں کو راحت ہے۔ یہ چیزیں تمہاری نصیحت اور خیر خواہی کی ہیں۔ اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو بے اجازت اندر نہ جاؤ۔ کیونکہ یہ دوسرے کی ملک میں تصرف کرنا ہے جو ناجائز ہے۔ مالک مکان کو حق ہے اگر وہ چاہے اجازت دے، چاہے روک دے۔ اگر تمہیں کہا جائے، لوٹ جاؤ تو تمہیں واپس چلا جانا چاہے۔ اس میں برا ماننے کی بات نہیں بلکہ یہ تو بڑا ہی پیارا طریقہ ہے ‘۔ بعض مہاجرین رضی اللہ عنہم اجمعین افسوس کیا کرتے تھے کہ ہمیں اپنی پوری عمر میں اس وقت آیت پر عمل کرنے کا موقعہ نہیں ملا کہ کوئی ہم سے کہتا لوٹ جاؤ اور ہم اس آیت کے ماتحت وہاں سے واپس ہو جاتے، اجازت نہ ملنے پر دروازے پر ٹھہرے رہنا بھی منع فرما دیا۔ اللہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے۔ یہ آیت اگلی آیت سے مخصوص ہے اس میں ان گھروں میں بلا اجازت جانے کی رخصت ہے جہاں کوئی نہ ہو اور وہاں اس کا کوئی سامان وغیرہ ہو۔ جیسے کہ مہمان خانہ وغیرہ۔ یہاں جب پہلی مربتہ اجازت مل گئی پھر ہربار کی اجازت ضروری نہیں۔ تو گویا یہ آیت پہلی آیت سے استثنا ہے۔ اسی طرح کی ایسے تاجروں کے گودام مسافر خانے وغیرہ۔ اور اول بات زیادہ ظاہر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ زید کہتے ہیں مراد اس سے بیت الشعر ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 28) ➊ { فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِيْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا:} یعنی اگر گھر میں کوئی موجود نہ ہو تو اس سے تمھارے لیے بغیر اجازت وہاں داخلہ جائز نہیں ہو جاتا۔ ہر آدمی جس طرح اپنی ذاتی حالتوں میں سے بعض حالتوں پر کسی کا مطلع ہونا پسند نہیں کرتا اسی طرح وہ اپنی بعض چیزوں پر بھی کسی کے مطلع ہونے کو پسند نہیں کرتا اور عین ممکن ہے کہ بلااجازت گھس جانے سے تم پر چوری یا خیانت کا الزام لگ جائے اور جھگڑا پیدا ہو جائے۔ ہاں، اگر اس نے اجازت دے رکھی ہو کہ میں گھر میں نہ ہوں تو تم آ جاؤ تو وہاں جانے میں کوئی حرج نہیں۔ ➋ { وَ اِنْ قِيْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا:} یعنی اگر تمھیں واپس جانے کے لیے کہا جائے تو واپس ہو جاؤ، نہ غصہ کرو، نہ کبر کی وجہ سے تنگی یا بے عزتی محسو س کرو، کیونکہ گھر والے نے تمھارا کوئی ایسا حق نہیں روکا جو اس پر واجب ہو، وہ اجازت کا اختیار رکھتا ہے، چاہے دے یا نہ دے، لوگوں کے اپنے اپنے حالات ہوتے ہیں، کسی کو کیا خبر کہ کوئی کس حال میں ہے۔ ➌ { هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ:} یعنی تمھارا واپس آ جانا تمھارے لیے زیادہ عزت اور پاکیزگی کا باعث ہے، کیونکہ اس طرح تم کسی کے دروازے پر کھڑے رہنے کی بے قدری سے بچ جاؤ گے، واپس چلے آنے سے صاحب خانہ کے دل میں تمھاری حیا ہو گی اور سب سے بڑھ کر اللہ کی طرف سے اجر ہے۔ ➍ { وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ:} اس میں جاسوسی یا کسی بری نیت سے کسی گھر میں داخل ہونے پر وعید ہے۔ ➎ طبری نے بعض مہاجرین سے نقل کیا ہے کہ میری ساری عمر یہ آرزو رہی ہے کہ میں کسی کے گھر جاؤں اور اندر سے مجھے یہ جواب ملے کہ واپس چلے جاؤ اور میں واپس چلا آؤں، تاکہ مجھے اس آیت پر کم از کم ایک مرتبہ تو عمل کرنے کی سعادت نصیب ہو جائے۔
البتہ تمہارے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ ایسے گھروں میں داخل ہو جاؤ جو کسی کے رہنے کی جگہ نہ ہوں اور جن میں تمہارے فائدے (یا کام) کی کوئی چیز ہو، تم جو کچھ ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو سب کی اللہ کو خبر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہاں غیر آباد گھروں میں جہاں تمہارا کوئی فائده یا اسباب ہو، جانے میں تم پر کوئی گناه نہیں۔ تم جو کچھ بھی ﻇاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان گھروں میں جاؤ جو خاص کسی کی سکونت کے نہیں اور ان کے برتنے کا تمہیں اختیار ہے، اور اللہ جانتا ہے جوتم ظاہر کرتے ہو، اور جو تم چھپاتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
(ہاں البتہ) ایسے گھروں میں داخل ہونے میں تمہارے لئے کوئی مضائقہ نہیں ہے جن میں کوئی رہائش نہیں رکھتا۔ جبکہ ان میں تمہارا کچھ سامان ہو اور اللہ اسے بھی خوب جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور اسے بھی جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
تم پر کوئی گناہ نہیں کہ ان گھروں میں داخل ہو جن میں رہائش نہیں کی گئی، جن میں تمھارے فائدے کی کوئی چیز ہو اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
{ میں نے تین بار اجازت چاہی جب جواب نہ آیا تو میں اس حدیث پر عمل کرکے واپس لوٹ گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس پر کسی گواہ کو پیش کرو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔“ آپ رضی اللہ عنہ وہاں سے اٹھ کر انصار کے ایک مجمع میں پہنچے اور سارا واقعہ ان سے بیان کیا اور فرمایا کہ ”تم میں سے کسی نے اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم سنا ہو تو میرے ساتھ چل کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہہ دے۔“ انصار نے کہا یہ مسئلہ تو عام ہے بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ہم سب نے سنا ہے ہم اپنے سب سے نوعمر لڑکے کو تیرے ساتھ کر دیتے ہیں، یہی گواہی دے آئیں گے۔ چنانچہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ گئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے جا کر کہا کہ میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سنا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ اس وقت افسوس کرنے لگے کہ بازاروں کے لین دین نے مجھے اس مسئلہ سے غافل رکھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2026]
{ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے اجازت مانگی۔ فرمایا: { السلام علیکم ورحمۃ اللہ! } سعد رضی اللہ عنہ نے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تو کہہ دیا لیکن ایسی آواز سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ سنیں۔ چنانچہ تین بار یہی ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلام کرتے، آپ رضی اللہ عنہ جواب دیتے لیکن اس طرح کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سنیں نہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس لوٹ چلے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لپکے ہوئے آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی تمام آوازیں میرے کانوں میں پہنچ رہی تھیں۔ میں نے ہر سلام کا جواب بھی دیا لیکن اس خیال سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں بہت ساری لوں اور زیادہ برکت حاصل کروں کہ جواب اس طرح نہ دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی دے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلئے! تشریف رکھئے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گئے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کشمش لا کر رکھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمائیں اور فارغ ہو کر فرمانے لگے { تمہارا کھانا نیک لوگوں نے کھایا۔ فرشتے تم پر رحمت بھیج رہے ہیں، تمہارے ہاں روزے داروں نے روزہ کھولا }۔ ۱؎ [مسند احمد:138/3:حسن]
اور روایت میں ہے کہ { جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے آہستہ جواب دیا تو ان کے لڑکے سیدنا قیس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت کیوں نہیں دیتے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا خاموش رہو دیکھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ سلام کہیں گے، ہمیں دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ملے گی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ یہاں جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے زعفران یا ورس سے رنگی ہوئی ایک چادر پیش کی، جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جسم مبارک پر لپیٹ لی، پھر ہاتھ اٹھا کر سعد رضی اللہ عنہ کے لیے دعا کی کہ { اے اللہ سعد بن عبادہ کی آل پر اپنے درود و رحمت نازل فرما }۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں کھانا تناول فرمایا جب واپس جانے کا ارادہ کیا تو سعد رضی اللہ عنہا اپنے گدھے پر پالان کس لائے۔ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے لیے پیش کیا اور اپنے لڑکے قیس رضی اللہ عنہ سے کہا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جاؤ۔ یہ ساتھ چلے مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: { قیس آؤ تم بھی سوار ہو جاؤ }۔ انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے تو یہ نہ ہو سکے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { دو باتوں میں سے ایک تمہیں ضرور کرنی ہوگی یا تو میرے ساتھ اس جانور پر سوار ہو جاؤ یا واپس چلے جاؤ }، قیس رضی اللہ عنہ نے واپس جانا منظور کر لیا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5185،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
یہ یاد رہے کہ اجازت مانگنے والا گھر کے دروازے کے بالمقابل کھڑا نہ رہے بلکہ دائیں بائیں قدرے کھسک کے کھڑا رہے۔ کیونکہ ابوداؤد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے ہاں جاتے تو اس کے دروازے کے بالکل سامنے کھڑے نہ ہوتے بلکہ ادھر یا ادھر قدرے دور ہو کر زور سے سلام کہتے اس وقت تک دروازوں پر پردے بھی نہیں ہوتے تھے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5186،قال الشيخ الألباني:صحیح] { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان کے دروازے کے سامنے ہی کھڑے ہو کر ایک شخص نے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تعلیم دی کہ { نظر نہ پڑے اسی لیے تو اجازت مقرر کی گئی ہے۔ پھر دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر آواز دینے کے کیا معنی؟ یا تو ذرا سا ادھر ہو جاؤ یا ادھر } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5174،قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک اور حدیث میں ہے کہ { اگر کوئی تیرے گھر میں تیری اجازت کے بغیر جھانکنے لگے اور تو اسے کنکر مارے جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تجھے کوئی گناہ نہ ہوگا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6902]
{ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اپنے والد مرحوم کے قرضے کی ادائیگی کے فکر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، دروازہ پر دستک دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا { کون صاحب ہیں؟ } جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں میں } گویا آپ نے ناپسند فرمایا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6250] کیونکہ ”میں“ کہنے سے یہ تو معلوم نہیں ہوسکتا کون ہے جب تک کے نام یا مشہور کنیت نہ بتائی جائے ”میں“ تو ہر شخص اپنے لیے کہہ سکتا ہے۔ پس اجازت طلبی کا اصلی مقصود حاصل نہیں ہو سکتا۔ «الِاسْتِئْذَانُ» ، «الِاسْتِئْنَاسُ» ایک ہی بات ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے «تَسْتَأْنِسُوا» کاتبوں کی غلطی ہے۔ «تَسْتَأْذِنُوا» لکھنا چاہیئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ہی قرأت تھی اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی بھی۔ لیکن یہ بہت غریب ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اپنے مصحف میں «حَتَّى تُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا وَتَسْتَأْذِنُوا» ہے۔ صفوان بن امیہ جب مسلمان ہوگئے تو ایک مرتبہ کلدہ بن حنبل کو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ آپ اس وقت وادی کے اونچے حصے میں تھے یہ سلام کئے بغیر اور اجازت لیے بغیر ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لوٹ جاؤ، اور کہو السلام علیکم کیا میں آؤں؟ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5176،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور حدیث میں ہے { قبیلہ بنو عامر کا ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آیا اور کہنے لگا میں اندر آ جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے غلام سے فرمایا: { جاؤ اور اسے اجازت مانگنے کا طریقہ سکھاؤ کہ پہلے تو سلام کرے پھر دریافت کرے }۔ اس شخص نے یہ سن لیا اور اسی طرح سلام کر کے اجازت چاہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور وہ اندر گئے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5177،قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک اور حدیث میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خادمہ سے فرمایا تھا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:25917:مرسل] اور حدیث میں ہے { کلام سے پہلے سلام ہونا چاہیئے }۔ یہ حدیث ضعیف ہے، ترمذی میں موجود ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2699،قال الشيخ الألباني:حسن] سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر آ رہے تھے لیکن دھوپ کی تاب نہ لا سکے تو ایک قریشی کی جھونپڑی کے پاس پہنچ کر فرمایا السلام علیکم کیا میں اندر آ جاؤں اس نے کہا سلامتی سے آ جاؤ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر یہی کہا اس نے پھر یہی جواب دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے پاؤں جل رہے تھے کبھی اس قدم پر سہارا لیتے، کبھی اس قدم پر، فرمایا یوں کہو کہ آ جاؤ، اب آپ رضی اللہ عنہ اندر تشریف لے گئے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چار عورتیں گئیں، اجازت چاہی کہ کیا ہم آ جائیں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”نہیں! تم میں جو اجازت کا طریقہ جانتی ہو اسے کہو کہ وہ اجازت لے۔“ تو ایک عورت نے پہلے سلام کیا، پھر اجازت مانگی، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی، پھر یہی آیت پڑھ کر سنائی۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اپنی ماں اور بہنوں کے پاس بھی جانا ہو تو ضرور اجازت لے لیا کرو۔“ { انصار کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں بعض دفعہ گھر میں اس حالت میں ہوتی ہوں کہ اس وقت اگر میرے باپ بھی آجائیں یا میرا اپنا لڑکا بھی اس وقت آ جائے تو مجھے برا معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہ حالت ایسی نہیں ہوتی کہ اس وقت کسی کی بھی نگاہ مجھ پر پڑے تو میں ناخوش نہ ہوؤں۔ اور گھر والوں میں سے کوئی آہی جاتا ہے اس وقت یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:25921:ضعیف] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”تین آیتیں ہیں کہ لوگوں نے ان پر عمل چھوڑ رکھا ہے ایک تو یہ کہ اللہ فرماتا ہے ’ تم میں سے سب سے زیادہ بزرگی والا وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ کا خوف رکھتا ہو ‘۔ اور لوگوں کا خیال یہ ہے کہ سب سے بڑا وہ ہے جو سب سے زیادہ امیر ہو، اور ادب کی آیتیں بھی لوگ چھوڑ بیٹھتے ہیں۔“ عطار حمۃ اللہ علیہ نے پوچھا۔ میرے گھر میں میری یتیم بہنیں ہیں جو ایک ہی گھر میں رہتی ہیں اور میں ہی انہیں پالتا ہوں کیا ان کے پاس جانے کے لیے بھی مجھے اجازت کی ضرورت ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں ضرور اجازت طلب کیا کرو“، میں نے دوبارہ یہی سوال کیا کہ شاید کوئی رخصت کا پہلو نکل آئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”کیا تم انہیں ننگا دیکھنا پسند کرو گے؟“ میں نے کہا نہیں فرمایا ”پھر ضرور اجازت مانگا کرو۔“ میں نے یہی سوال دوہرایا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”کیا تو اللہ کا حکم مانے گا یا نہیں؟“ میں نے کہا ہاں مانوں گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”پھر بغیر اطلاع ہرگز ان کے پاس بھی نہ جاؤ۔“ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں محرمات ابدیہ پر ان کی عریانی کی حالت میں نظر پڑ جائے اس سے زیادہ برائی میرے نزدیک اور کوئی نہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اپنی ماں کے پاس بھی گھر میں بغیر اطلاع کے نہ جاؤ۔ عطا رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ بیوی کے پاس بھی بغیر اجازت کے نہ جائے؟ فرمایا ”یہاں اجازت کی ضرورت نہیں۔“ یہ قول بھی محمول ہے اس پر کہ اس سے اجازت مانگنے کی ضرورت نہیں لیکن تاہم اطلاع ضرور ہونی چاہیئے ممکن ہے وہ اس وقت ایسی حالت میں ہو کہ وہ نہیں چاہتی کہ خاوند بھی اس حالت میں اسے دیکھے۔
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”میرے خاوند عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب میرے پاس گھر میں آتے تو کھنکار کر آتے۔ کبھی بلند آواز سے دروازے کے باہر کسی سے باتیں کرنے لگتے تاکہ گھر والوں کو آپ رضی اللہ عنہ کی اطلاع ہو جائے۔“ چنانچہ مجاہد رحمہ اللہ نے «تَسْتَأْنِسُوا» کے معنی بھی یہی کئے ہیں کہ کھنکار دے یا جوتیوں کی آہٹ سنا دے۔ ایک حدیث میں ہے کہ { سفر سے رات کے وقت بغیر اطلاع گھر آجانے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ کیونکہ اس سے گویا گھر والوں کی خیانت کا پوشیدہ طور پر ٹٹولنا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1801] { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک سفر سے صبح کے وقت آئے تو حکم دیا کہ { بستی کے پاس لوگ اتریں تاکہ مدینے میں خبر مشہور ہو جائے، شام کو اپنے گھروں میں جانا، اس لیے کہ اس اثناء میں عورتیں اپنی صفائی ستھرائی کر لیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5245] اور حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا سلام تو ہم جانتے ہیں لیکن «اسْتِئْنَاسُ» کا طریقہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { «سُبْحَانَ اللَّهِ» یا «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» یا «اﷲ اَکْبَر» بلند آواز سے کہہ دینا یا کھنکار دینا جس سے گھر والے معلوم کر لیں کہ فلاں آ رہا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3707،قال الشيخ الألباني:ضعیف] قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”تین بار کی اجازت اس لیے مقرر ہے کی ہے کہ پہلی دفعہ میں تو گھر والے معلوم کر لیں کہ فلاں ہے۔ دوسری دفعہ میں وہ سنبھل جائیں اور ہوشیار ہو جائیں۔ تیسری مرتبہ میں اگر وہ چاہیں اجازت دیں چاہیں منع کردیں۔ جب اجازت نہ ملے پھر دروازے پر ٹھہرا رہنا برا ہے، لوگوں کو اپنے کام اور اشغال ایسے ضروری ہوتے ہیں کہ وہ اس وقت اجازت نہیں دے سکتے۔“ مقاتل میں حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے میں دستور نہ تھا، ایک دوسرے سے ملتے تھے لیکن سلام نہ کرتے تھے۔ کسی کے ہاں جاتے تھے تو اجازت نہیں لیتے تھے یونہی جا دھمکے پھر کہہ دیا کہ میں آ گیا ہوں۔ تو بسا اوقات یہ گھر والے پر گراں گزرتا۔ ایسا بھی ہوتا کہ وہ اپنے گھر میں کبھی ایسے حال میں ہوتا ہے کہ اس میں اس کا آنا بہت برا لگتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ تمام برے دستور اچھے آداب سکھا کر بدل دئیے۔ اسی لیے فرمایا کہ ’ یہی طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ اس میں مکان والے کو آنے والے کو دونوں کو راحت ہے۔ یہ چیزیں تمہاری نصیحت اور خیر خواہی کی ہیں۔ اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو بے اجازت اندر نہ جاؤ۔ کیونکہ یہ دوسرے کی ملک میں تصرف کرنا ہے جو ناجائز ہے۔ مالک مکان کو حق ہے اگر وہ چاہے اجازت دے، چاہے روک دے۔ اگر تمہیں کہا جائے، لوٹ جاؤ تو تمہیں واپس چلا جانا چاہے۔ اس میں برا ماننے کی بات نہیں بلکہ یہ تو بڑا ہی پیارا طریقہ ہے ‘۔ بعض مہاجرین رضی اللہ عنہم اجمعین افسوس کیا کرتے تھے کہ ہمیں اپنی پوری عمر میں اس وقت آیت پر عمل کرنے کا موقعہ نہیں ملا کہ کوئی ہم سے کہتا لوٹ جاؤ اور ہم اس آیت کے ماتحت وہاں سے واپس ہو جاتے، اجازت نہ ملنے پر دروازے پر ٹھہرے رہنا بھی منع فرما دیا۔ اللہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے۔ یہ آیت اگلی آیت سے مخصوص ہے اس میں ان گھروں میں بلا اجازت جانے کی رخصت ہے جہاں کوئی نہ ہو اور وہاں اس کا کوئی سامان وغیرہ ہو۔ جیسے کہ مہمان خانہ وغیرہ۔ یہاں جب پہلی مربتہ اجازت مل گئی پھر ہربار کی اجازت ضروری نہیں۔ تو گویا یہ آیت پہلی آیت سے استثنا ہے۔ اسی طرح کی ایسے تاجروں کے گودام مسافر خانے وغیرہ۔ اور اول بات زیادہ ظاہر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ زید کہتے ہیں مراد اس سے بیت الشعر ہے۔
29-1اس سے مراد کون سے گھر ہیں، جن میں بغیر اجازت لئے داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ گھر ہیں، جو بطور خاص مہمانوں کے لئے الگ تیار یا مخصوص کردیئے گئے ہوں۔ ان میں صاحب خانہ کی پہلی مرتبہ اجازت کافی ہے، بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد سرائے ہیں جو مسافروں کے لئے ہی ہوتی ہیں یا تجارتی گھر ہیں، یعنی جن میں تمہارا فائدہ ہو۔
(آیت 29) ➊ {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ مَسْكُوْنَةٍ …:} یعنی ایسے مکان جو کسی کے رہنے کی جگہیں نہ ہوں اور ان سے تمھارا کوئی فائدہ یا کوئی ضرورت وابستہ ہو اور وہ ہر خاص و عام کے لیے کھلے ہوں تو ان کے اندر بلااجازت داخل ہونے میں تم پر کوئی گناہ نہیں، جیسے اسٹیشن، بسوں کے اڈے، مساجد، کھانے پینے اور رہائش کے ہوٹل، مسافر خانے، دکانیں اور وہ مہمان خانے جن میں جانے کی ایک دفعہ اجازت مل چکی ہو۔ اسی طرح وہ مکانات جو بے آباد، ویران اور اجڑے پڑے ہوں ان کے اندر آرام کر لینا، سایہ حاصل کرنا اور رات گزارنا وغیرہ جائز ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن مکانوں میں آدمی کا کوئی فائدہ، مقصد یا ضرورت نہ ہو وہاں نہیں جانا چاہیے۔ ➋ { وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ:} یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے ظاہر اور پوشیدہ اعمال جانتا ہے، اسے خوب معلوم ہے کہ کسی جگہ جانے میں تمھاری نیت کیا ہے۔
اے نبیؐ، مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ اُن کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اُس سے باخبر رہتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاﻇت رکھیں۔ یہی ان کے لئے پاکیزگی ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالیٰ سب سے خبردار ہے
احمد رضا خان بریلوی
مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے، بیشک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) آپ مؤمن مردوں سے کہہ دیجئے! کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ (طریقہ) ان کیلئے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے۔ بےشک لوگ جو کچھ کیا کرتے ہیں اللہ اس سے خوب واقف ہے۔
عبدالسلام بن محمد
مومن مردوں سے کہہ دے اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔ بے شک اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو وہ کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حرام چیزوں پر نگاہ نہ ڈالو ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ ’ جن چیزوں کا دیکھنا میں نے حرام کر دیا ہے ان پر نگاہیں نہ ڈالو، حرام چیزوں سے آنکھیں نیچی کر لو ‘۔ اگر بالفرض نظر پڑ جائے تو بھی دوبارہ یا نظر بھر کر نہ دیکھو۔ صحیح مسلم میں ہے { سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک نگاہ پڑ جانے کی بابت پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اپنی نگاہ فوراً ہٹا لو } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2159] نیچی نگاہ کرنا یا ادھر ادھر دیکھنے لگ جانا اللہ کی حرام کردہ چیز کو نہ دیکھنا آیت کا مقصود ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { علی رضی اللہ عنہ نظر پر نظر نہ جماؤ، اچانک جو پڑگئی وہ تو معاف ہے قصداً معاف نہیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2149،قال الشيخ الألباني:حسن] { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا { راستوں پر بیٹھنے سے بچو }۔ لوگوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کام کاج کے لیے وہ تو ضروری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اچھا تو راستوں کا حق ادا کرتے رہو }۔ انہوں نے کہا وہ کیا؟ فرمایا: { نیچی نگاہ رکھنا، کسی کو ایذاء نہ دینا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کی تعلیم کرنا، بری باتوں سے روکنا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6229] { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { چھ چیزوں کے تم ضامن ہو جاؤ میں تمہارے لیے جنت کا ضامن ہوتا ہوں، بات کرتے ہوئے جھوٹ نہ بولو، امانت میں خیانت نہ کرو، وعدہ خلافی نہ کرو، نظر نیچی رکھو، ہاتھوں کو ظلم سے بچائے رکھو، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو } }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:8018:ضعیف]
صحیح بخاری میں ہے { جو شخص زبان اور شرمگاہ کو اللہ کے فرمان کے ماتحت رکھے، میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6474] عبیدہ کا قول ہے کہ جس چیز کا نتیجہ نافرمانی رب ہو، وہ کبیرہ گناہ ہے چونکہ نگاہ پڑنے کے بعد دل میں فساد کھڑا ہوتا ہے، اس لیے شرمگاہ کو بچانے کے لیے نظریں نیچی رکھنے کا فرمان ہوا۔ نظر بھی ابلیس کے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔ پس زنا سے بچنا بھی ضروری ہے اور نگاہ نیچی رکھنا بھی ضروری ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو مگر اپنی بیویوں اور لونڈیوں سے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4017،قال الشيخ الألباني:صحیح] محرمات کو نہ دیکھنے سے دل پاک ہوتا ہے اور دین صاف ہوتا ہے۔ جو لوگ اپنی نگاہ حرام چیزوں پر نہیں ڈالتے۔ اللہ ان کی آنکھوں میں نور بھر دیتا ہے، اور ان کے دل بھی نورانی کر دیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جس کی نظر کسی عورت کے حسن و جمال پر پڑ جائے پھر وہ اپنی نگاہ ہٹالے۔ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایک ایسی عبادت اسے عطا فرماتا ہے جس کی لذت وہ اپنے دل میں پاتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:264/5:ضعیف] اس حدیث کی سندیں تو ضعیف ہیں مگر یہ رغبت دلانے کے بارے میں ہے، اور ایسی احادیث میں سند کی اتنی زیادہ دیکھ بھال نہیں ہوتی۔ طبرانی میں ہے کہ { یا تو تم اپنی نگاہیں نیچی رکھو گے اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو گے اور اپنے منہ سیدھے رکھو گے یا اللہ تعالیٰ تمہاری صورتیں بدل دے گا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:7840:ضعیف] «اَعَاذَنَا اللهُ مِنْ کُلِ ّ عَذَابِهِ» فرماتے ہیں، { نظر ابلیسی تیروں میں سے ایک تیر ہے جو شخص اللہ کے خوف سے اپنی نگاہ روک رکھے، اللہ اس کے دل میں ایسا نور ایمان پیدا کردیتا ہے کہ اسے مزہ آنے لگتا ہے }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:10363:ضعیف] لوگوں کا کوئی عمل اللہ سے پوشیدہ نہیں ہے وہ آنکھوں کی خیانت دل کے بھیدوں کو جانتا ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ابن آدم کے ذمے اس کا زنا کا حصہ لکھ دیا گیا ہے جسے وہ لامحالہ پالے گا، آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے، کانوں کا زنا سننا ہے۔، ہاتھوں کا زنا تھامنا ہے، پیروں کا زنا چلنا ہے، دل خواہش تمنا اور آرزو کرتا ہے، پھر شرمگاہ تو سب کو سچا کر دیتی ہے یا سب کو جھوٹا بنا دیتی ہے }۔ [صحیح بخاری:6243]
اکثر سلف لڑکوں کو گھورا گھاری سے بھی منع کرتے تھے۔ اکثر ائمہ صوفیہ نے اس بارے میں بہت کچھ سختی کی ہے۔ اہل علم کی جماعت نے اس کو مطلق حرام کہا ہے اور بعض نے اسے کبیرہ گناہ فرمایا ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر آنکھ قیامت کے دن روئے گی مگر وہ آنکھ جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کے دیکھنے سے بند رہے اور وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں جاگتی رہے اور وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے رودے، گو اس میں سے آنسو صرف مکھی کے سر کے برابر ہی نکلا ہو }۔ ۱؎ [ابو نعیم فی الحلية:163/3:ضعیف]
30-1جب کسی کے گھر میں داخل ہونے کے لئے اجازت لینے کو ضروری قرار دیا تو اس کے ساتھ ہی (آنکھوں کو پست رکھنے یا بند رکھنے) کا حکم دے دیا تاکہ اجازت طلب کرنے والا بھی بالخصوص اپنی نگاہوں پر کنٹرول رکھے۔ 30-2یعنی ناجائز استعمال سے اس کو بچائیں یا انھیں اس طرح چھپا کر رکھیں کہ ان پر کسی کی نظر نہ پڑے۔ اس کے یہ دونوں مفہوم صحیح ہیں کیونکہ دونوں ہی مطلوب ہیں۔ علاوہ ازیں نظروں کی حفاظت کا ذکر کیا کیونکہ اس میں بےاحتیاطی ہی، غفلت کا سبب بنتی ہے۔
(آیت 30) ➊ {قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ: ”غَضَّ طَرْفَهُ، خَفَضَهُ“} ”اس نے اپنی آنکھ نیچی کر لی۔“ دوسرا معنی ہے {”نَقَصَ وَ وَضَعَ مِنْ قَدْرِهِ“} ”اس نے فلاں کی قدر کم کی۔“ (قاموس) زنا اور بہتان سے محفوظ رکھنے کے لیے گھروں میں داخلے کے آداب بیان فرمانے کے بعد نظر کی حفاظت کا حکم دیا، کیونکہ آدمی کے دل کا دروازہ یہی ہے اور تمام شہوانی فتنوں کا آغاز عموماً یہیں سے ہوتا ہے۔ احمد شوقی نے کہا ہے: {”نَظْرَةٌ فَابْتِسَامَةٌ فَسَلَامٌ فَكَلَامٌ فَمَوْعِدٌ فَلِقَاءٌ“} ”نظر ملتی ہے، پھر مسکراہٹ، پھر سلام، پھر گفتگو، پھر وعدہ اور پھر ملاقات تک بات جا پہنچتی ہے۔“ ➋ اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے {” يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} کے ساتھ براہ راست مخاطب فرمایا ہے، جیسا کہ {” لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ “} اور {” لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ بُيُوْتِكُمْ “} سے پہلے ہے، یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا: ”مومن مردوں سے کہہ دے“ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ نظر کا معاملہ نہایت خطرناک ہے اور اسے روکنا نہایت مشکل کام ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے شہنشاہانہ جلال کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ مومن مردوں سے کہہ دے اور مومن عورتوں سے کہہ دے۔ (البقاعی) (واللہ اعلم) ➌ {” قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ “} میں{” مِنْ “} تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”مومن مردوں سے کہہ دے اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں۔“ اللہ تعالیٰ کا حکم یہ نہیں کہ کسی چیز کو بھی نظر بھر کر نہ دیکھو، راستہ چلتے ہوئے بھی نگاہ مت اٹھاؤ، بلکہ حکم کچھ نگاہیں نیچی رکھنے کا ہے اور مراد ان چیزوں سے نگاہ نیچی رکھنا ہے جن کی طرف نگاہ بھر کر دیکھنا اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے، مثلاً اپنی بیوی اور محرم رشتوں کے سوا عورتوں کو دیکھنا، کسی ڈاڑھی کے بغیر لڑکے کو شہوت کی نظر سے دیکھنا، یا کسی کا خط یا وہ چیز دیکھنا جسے وہ چھپانا چاہتا ہے وغیرہ۔ ➍ { يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ:} بلا ارادہ پڑنے والی پہلی نظر معاف ہے، گناہ اس نظر پر ہے جو جان بوجھ کر ڈالی جائے۔ نظر کا ذکر خصوصاً فرمایا، کیونکہ عموماً زنا کی ابتدا اس سے ہوتی ہے، ورنہ زنا سارے حواس ہی سے ہوتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهُ كَتَبَ عَلَی ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَ ذٰلِكَ لَا مَحَالَةَ فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ وَ زِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ وَالنَّفْسُ تَتَمَنّٰی وَ تَشْتَهِيْ وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذٰلِكَ كُلَّهُ وَ يُكَذِّبُهُ ] [ بخاري، الاستئذان، باب زنا الجوارح دون الفرج: ۶۲۴۳ ] ”اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا ہے، جسے وہ لامحالہ حاصل کرے گا، چنانچہ آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے اور نفس تمنا اور خواہش کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب کر دیتی ہے۔“ جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک نظر کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی نظر ہٹا لوں۔“ [ مسلم، الآداب، باب نظر الفجائۃ: ۲۱۵۹ ] البتہ ضرورت کے لیے غیر محرم عورت کو دیکھ سکتا ہے، مثلاً اس سے نکاح کا ارادہ ہو، یا طبی ضرورت ہو، یا کسی حادثہ کی وجہ سے ضرورت پڑ جائے۔ اللہ نے فرمایا: «{ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَيْهِ }» [ الأنعام: ۱۱۹ ] ”حالانکہ بلاشبہ اس نے تمھارے لیے وہ چیزیں کھول کر بیان کر دی ہیں جو اس نے تم پر حرام کی ہیں، مگر جس کی طرف تم مجبور کر دیے جاؤ۔“ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلٰی عَوْرَةِ الرَّجُلِ وَلَا الْمَرْأَةُ إِلٰی عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ وَ لَا يُفْضِی الرَّجُلُ إِلَی الرَّجُلِ فِيْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَلَا تُفْضِی الْمَرْأَةُ إِلَی الْمَرْأَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ] [مسلم، الحیض، باب تحریم النظر إلی العورات: ۳۳۸ ] ”کوئی مرد دوسرے مرد کی شرم گاہ نہ دیکھے، نہ ہی کوئی عورت کسی عورت کی شرم گاہ دیکھے۔ نہ کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے۔“ ➎ مرد کے لیے اپنی بیوی یا لونڈی کے جسم کا ہر حصہ دیکھنا جائز ہے، اسی طرح بیوی کے لیے اپنے خاوند کے جسم کا اور لونڈی کے لیے اپنے مالک کے جسم کا ہر حصہ دیکھنا جائز ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ }» [ البقرۃ: ۱۸۷ ] ”وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔“ ظاہر ہے کہ لباس سے جسم کا کوئی حصہ پوشیدہ نہیں رہتا۔ ابن ماجہ (۶۶۲) میں عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی حدیث کہ میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرم گاہ نہیں دیکھی، سند کے لحاظ سے ثابت نہیں، کیونکہ عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت کرنے والا راوی مجہول ہے۔ اس کے برعکس عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: ”میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، ہمارے ہاتھ اس میں باری باری آتے جاتے تھے۔“ ایک روایت میں ہے: ”ہم جنبی ہوتے تھے۔“ [ بخاري، الغسل، باب ھل یدخل الجنب یدہ…: ۲۶۱، ۲۶۳ ] ➏ { وَ يَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ:}يہاں {”مِنْ“} استعمال نہیں فرمایا کہ اپنی کچھ شرم گاہوں کی حفاظت کریں، بلکہ فرمایا، اپنی شرم گاہوں کی مکمل حفاظت کریں، کیونکہ نظر سے مکمل بچاؤ ممکن نہ تھا۔ ➐ { اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ:} وہ اس حکم پر عمل کرنے والوں کو جزا دے گا اور عمل نہ کرنے والوں کو سزا دے گا، خواہ ان کی نیکی یا بدی سے کوئی آگاہ ہو یا آگاہ نہ ہو، جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح واقف ہے۔ فرمایا: «{ يَعْلَمُ خَآىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ وَ مَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ }» [ المؤمن: ۱۹ ] ”وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور اسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔“
اور اے نبیؐ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اُس کے جو خود ظاہر ہو جائے، اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں وہ اپنا بناؤ سنگھار نہ ظاہر کریں مگر اِن لوگوں کے سامنے: شوہر، باپ، شوہروں کے باپ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے، اپنے میل جول کی عورتیں، ا پنے مملوک، وہ زیردست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں، اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں وہ ا پنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہو اس کا لوگوں کو علم ہو جائے اے مومنو، تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے
مولانا محمد جوناگڑھی
مسلمان عورتوں سے کہو کہ وه بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ﻇاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو ﻇاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں، اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ﻇاہر نہ کریں، سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں۔ اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیده زینت معلوم ہوجائے، اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ
احمد رضا خان بریلوی
اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور وہ دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں، اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹوں یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے یا اپنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی ملک ہوں یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگھار اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو! سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے رسول(ص)) آپ مؤمن عورتوں سے کہہ دیجئے! کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاطت کریں اور اپنی زینت و آرائش کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہو اور چاہیے کہ وہ اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنی زیبائش و آرائش ظاہر نہ کریں سوائے اپنے شوہروں کے، یا اپنے باپ داداؤں کے، یا اپنے شوہروں کے باپ داداؤں کے، یا اپنے بیٹوں کے یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے، یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے (ہم مذہب) عورتوں کے یا اپنے غلاموں یا لونڈیوں کے یا اپنے نوکروں چاکروں کے جو جنسی خواہش نہ رکھتے ہوں۔ یا ان بچوں کے جو ابھی عورتوں کی پردہ والی باتوں سے واقف نہیں ہیں اور وہ اپنے پاؤں (زمین پر) اس طرح نہ ماریں کہ جس سے ان کی وہ زیبائش و آرائش معلوم ہو جائے جسے وہ چھپائے ہوئے ہیں۔ اے اہل ایمان! تم سب مل کر اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو۔ تاکہ تم فلاح پاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اور مومن عورتوں سے کہہ دے اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو اس میں سے ظاہر ہو جائے اور اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں کے لیے، یا اپنے باپوں، یا اپنے خاوندوں کے باپوں، یا اپنے بیٹوں، یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں، یا اپنے بھائیوں، یا اپنے بھتیجوں، یا اپنے بھانجوں، یا اپنی عورتوں (کے لیے)، یا (ان کے لیے) جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں، یا تابع رہنے والے مردوں کے لیے جو شہوت والے نہیں، یا ان لڑکوں کے لیے جو عورتوں کی پردے کی باتوں سے واقف نہیں ہوئے اور اپنے پائوں (زمین پر) نہ ماریں، تاکہ ان کی وہ زینت معلوم ہو جو وہ چھپاتی ہیں اور تم سب اللہ کی طرف توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومنہ عورتوں کو تاکید ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ مومنہ عورتوں کو چند حکم دیتا ہے تاکہ ان کے باغیرت مردوں کو تسکین ہو اور جاہلیت کی بری رسمیں نکل جائیں۔ مروی ہے کہ اسماء بنت مرثد رضی اللہ عنہا کا مکان بنوحارثہ کے محلے میں تھا، ان کے پاس عورتیں آتی تھیں اور دستور کے مطابق اپنے پیروں کے زیور، سینے اور بال کھولے آیا کرتی تھیں۔ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا یہ کیسی بری بات ہے؟ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ پس حکم ہوتا ہے کہ ’ مسلمان عورتوں کو بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھنی چاہئیں۔ سوا اپنے خاوند کے کسی کو بہ نظر شہوت نہ دیکھنا چاہیئے ‘۔ اجنبی مردوں کی طرف تو دیکھنا ہی حرام ہے خواہ شہوت سے ہو خواہ بغیر شہوت کے۔ ابوداؤد اور ترمذی میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیٹھی تھیں کہ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، یہ واقعہ پردے کی آیتیں اترنے کے بعد کا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ { پردہ کرلو }۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! وہ تو نابینا ہیں، نہ ہمیں دیکھیں گے، نہ پہچانیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم تو نابینا نہیں ہو کہ اس کو نہ دیکھو؟ } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4112،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ہاں بعض علماء نے بے شہوت نظر کرنا حرام نہیں کہا۔ ان کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ { عید والے دن حبشی لوگوں نے مسجد میں ہتھیاروں کے کرتب شروع کئے اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا آپ رضی اللہ عنہا دیکھ ہی رہی تھیں یہاں تک کہ جی بھر گیا اور تھک کر چلی گئیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:455] عورتوں کو بھی اپنی عصمت کا بچاؤ چاہیئے، بدکاری سے دور رہیں، اپنا آپ کسی کو نا دکھائیں۔ اجنبی غیر مردوں کے سامنے اپنی زینت کی کسی چیز کو ظاہر نہ کریں ہاں جس کاچھپانا ممکن ہی نہ ہو، اس کی اور بات ہے جیسے چادر اور اوپر کا کپڑا وغیرہ جنکا پوشیدہ رکھنا عورتوں کے لیے ناممکنات سے ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد چہرہ، پہنچوں تک کے ہاتھ اور انگوٹھی ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ یہی زینت کے وہ محل ہیں، جن کے ظاہر کرنے سے شریعت نے ممانعت کر دی ہے۔
جب کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں یعنی بالیاں ہار پاؤں کا زیور وغیرہ۔“ فرماتے ہیں ”زینت دو طرح کی ہے ایک تو وہ جسے خاوند ہی دیکھے جیسے انگوٹھی اور کنگن اور دوسری زینت وہ جسے غیر بھی دیکھیں جیسے اوپر کا کپڑا۔“ زہری رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”اسی آیت میں جن رشتہ داروں کا ذکر ہے ان کے سامنے تو کنگن دوپٹہ بالیاں کھل جائیں تو حرج نہیں لیکن اور لوگوں کے سامنے صرف انگوٹھیاں ظاہر ہو جائیں تو پکڑ نہیں“، اور روایت میں انگوٹھیوں کے ساتھ ہی پیر کے خلخال کا بھی ذکر ہے۔ ہوسکتا ہے کہ «مَا ظَهَرَ مِنْهَا» کی تفیسر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے منہ اور پہنچوں سے کی ہو۔ جیسے ابوداؤد میں ہے کہ { اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں کپڑے باریک پہنے ہوئے تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیر لیا اور فرمایا: { جب عورت بلوغت کو پہنچ جائے تو سوا اس کے اور اس کے یعنی چہرہ کے اور پہنچوں کے اس کا کوئی عضو دکھانا ٹھیک نہیں } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4104،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن یہ مرسل ہے۔ خالد بن دریک رحمۃاللہ علیہ اسے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں اور ان کا ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے ملاقات کرنا ثابت نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
عورتوں کو چاہیئے کہ اپنے دوپٹوں سے یا اور کپڑے سے بکل مار لیں تاکہ سینہ اور گلے کا زیور چھپا رہے۔ جاہلیت میں اس کا بھی رواج نہ تھا۔ عورتیں اپنے سینوں پر کچھ نہیں ڈالتیں تھیں بسا اوقات گردن اور بال چوٹی بالیاں وغیرہ صاف نظر آتی تھیں۔ ایک اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:59] ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے، اپنی بیٹیوں سے اور مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئیے کہ اپنی چادریں اپنے اوپر لٹکا لیا کریں تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں ‘۔ «خُمُرُ» «خِمَارٍ» کی جمع ہے «خِمَارٍ» کہتے ہیں ہر اس چیز کو جو ڈھانپ لے۔ چونکہ دوپٹہ سر کو ڈھانپ لیتا ہے اس لیے اسے بھی «خِمَارٍ» کہتے ہیں۔ پس عورتوں کو چاہے کہ اپنی اوڑھنی سے یا کسی اور کپڑے سے اپنا گلا اور سینہ بھی چھپائے رکھیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اللہ تعالیٰ ان عورتوں پر رحم فرمائے جنہوں نے شروع شروع ہجرت کی تھی کہ جب یہ آیت اتری انہوں نے اپنی چادروں کو پھاڑ کر دوپٹے بنائے۔ بعض نے اپنے تہمد کے کنارے کاٹ کر ان سے سر ڈھک لیا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4858] ایک مرتبہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس عورتوں نے قریش عورتوں کی فضیلت بیان کرنی شروع کی تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”ان کی فضیلت کی قائل میں بھی ہوں لیکن واللہ میں نے انصار کی عورتوں سے افضل عورتیں نہیں دیکھیں، ان کے دلوں میں جو کتاب اللہ کی تصدیق اور اس پر کامل ایمان ہے، وہ بیشک قابل قدر ہے۔“
سورۃ النور کی آیت «وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ» ۱؎ [24-النور:31] إلخ، جب نازل ہوئی اور ان کے مردوں نے گھر میں جا کر یہ آیت انہیں سنائی، اسی وقت ان عورتوں نے اس پر عمل کر لیا اور صبح کی نماز میں وہ آئیں تو سب کے سروں پر دوپٹے موجود تھے۔ گویا ڈول رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد ان مردوں کا بیان فرمایا جن کے سامنے عورت ہوسکتی ہے اور بغیر بناؤ سنگھار کے ان کے سامنے شرم وحیاء کے ساتھ آ جا سکتی ہے گو بعض ظاہری زینت کی چیزوں پر بھی ان کی نظر پڑ جائے۔ سوائے خاوند کے کہ اس کے سامنے تو عورت اپنا پورا سنگھار زیب زینت کرے۔ گو چچا اور ماموں بھی ذی محرم ہیں لیکن ان کا نام یہاں اس لیے نہیں لیا گیا کہ ممکن ہے وہ اپنے بیٹوں کے سامنے ان کے محاسن بیان کریں۔ اس لیے ان کے سامنے بغیر دوپٹے کے نہ آنا چاہیئے۔ پھر فرمایا تمہاری عورتیں یعنی مسلمان عورتوں کے سامنے بھی اس زینت کے اظہار میں کوئی حرج نہیں۔ اہل ذمہ کی عورتوں کے سامنے اس لیے رخصت نہیں دی گئی کہ بہت ممکن ہے وہ اپنے مردوں میں ان کی خوبصورتی اور زینت کا ذکر کریں۔ گو مومن عورتوں سے بھی یہ خوف ہے مگر شریعت نے چونکہ اسے حرام قرار دیا ہے اس لیے مسلمان عورتیں تو ایسا نہ کریں گی لیکن ذمی کافروں کی عورتوں کو اس سے کون سی چیز روک سکتی ہے؟ بخاری مسلم میں ہے کہ { کسی عورت کو جائز نہیں کہ دوسری عورت سے مل کر اس کے اوصاف اپنے خاوند کے سامنے اس طرح بیان کرے کہ گویا وہ اسے دیکھ رہا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5240]
امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ”مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض مسلمان عورتیں حمام میں جاتی ہیں، ان کے ساتھ مشرکہ عورتیں بھی ہوتی ہیں۔ سنو کسی مسلمان عورت کو حلال نہیں کہ وہ اپنا جسم کسی غیر مسلمہ عورت کو دکھائے۔“ مجاہد رحمہ اللہ بھی آیت «أَوْ نِسَائِهِنَّ» ۱؎ [سورۃ النور:31] کی تفسیر میں فرماتے ہیں ”مراد اس سے مسلمان عورتیں ہیں تو ان کے سامنے وہ زینت ظاہر کر سکتی ہے جو اپنے ذی محرم رشتے داروں کے سامنے ظاہر کر سکتی ہے۔ یعنی گلا بالیاں اور ہار۔ پس مسلمان عورت کو ننگے سر کسی مشرکہ عورت کے سامنے ہونا جائز نہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ جب صحابہ بیت المقدس پہنچے تو ان کی بیویوں کے لیے دایہ یہودیہ اور نصرانیہ عورتیں ہی تھیں۔ پس اگر یہ ثابت ہو جائے تو محمول ہو گا ضرورت پر یا ان عورتوں کی ذلت پر۔ پھر اس میں غیر ضروری جسم کا کھلنا بھی نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ہاں مشرکہ عورتوں میں جو لونڈیاں باندیاں ہوں وہ اس حکم سے خارج ہیں۔ بعض کہتے ہیں غلاموں کا بھی یہی حکم ہے۔
ابوداؤد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس انہیں دینے کے لیے ایک غلام لے کر آئے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اسے دیکھ کر اپنے آپ کو اپنے دوپٹے میں چھپانے لگیں۔ لیکن چونکہ کپڑا چھوٹا تھا، سر ڈھانپتی تھیں تو پیر کھل جاتے تھے اور پیر ڈھانپتی تھیں تو سرکھل جاتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا: { بیٹی کیوں تکلیف کرتی ہو میں تو تمہارا والد ہوں اور یہ تمہارا غلام ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4106،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن عساکر کی روایت میں ہے کہ اس غلام کا نام عبداللہ بن مسعدہ تھا۔ یہ فزاری تھے۔ سخت سیاہ فام۔ سیدہ فاطمۃالزھرا رضی اللہ عنہا نے انہیں پرورش کرکے آزاد کر دیا تھا۔ صفین کی جنگ میں یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بہت مخالف تھے۔
مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا: { تم میں سے جس کسی کا مکاتب غلام ہو جس سے یہ شرط ہوگئی ہو کہ اتنا روپیہ دیدے تو تو آزاد، پھر اس کے پاس اتنی رقم بھی جمع ہوگئی ہو تو چاہیئے کہ اس سے پردہ کرے }}۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3928،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر بیان فرمایا کہ نوکر چاکر کام کاج کرنے والے ان مردوں کے سامنے جو مردانگی نہیں رکھتے عورتوں کی خواہش جنہیں نہیں۔ اس مطلب کے ہی وہ نہیں، ان کا حکم بھی ذی محرم مردوں کا ہے یعنی ان کے سامنے بھی اپنی زینت کے اظہار میں مضائقہ نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سست ہو گئے ہیں عورتوں کے کام کے ہی نہیں۔ لیکن وہ مخنث اور ہیجڑے جو بدزبان اور برائی کے پھیلانے والے ہوتے ہیں ان کا یہ حکم نہیں۔ جیسے کہ بخاری مسلم وغیرہ میں ہے کہ { ایک ایسا ہی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آیا تھا چونکہ اسے اسی آیت کے ماتحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے سمجھا اسے منع نہ کیا تھا۔ اتفاق سے اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے، اس وقت وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا بھائی عبداللہ سے کہہ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ جب طائف کو فتح کرائے گا تو میں تجھے غیلان کی لڑائی دکھاؤں گا کہ آتے ہوئے اس کے پیٹ پر چار شکنیں پڑتی ہیں اور واپس جاتے ہوئے آٹھ نظر آتی ہیں۔ اسے سنتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { خبردار ایسے لوگوں کو ہرگز نہ آنے دیا کرو۔ اس سے پردہ کر لو }}۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4324] چنانچہ اسے مدینے سے نکال دیا گیا۔ بیداء میں یہ رہنے لگا وہاں سے جمعہ کے روز آ جاتا اور لوگوں سے کھانے پینے کو کچھ لے جاتا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4107،قال الشيخ الألباني:صحیح] چھوٹے بچوں کے سامنے ہونے کی اجازت ہے جو اب تک عورتوں کے مخصوص اوصاف سے واقف نہ ہوں۔ عورتوں پر ان کی للچائی ہوئی نظریں نہ پڑتی ہوں۔ ہاں جب وہ اس عمر کو پہنچ جائیں کہ ان میں تمیز آ جائے۔ عورتوں کی خوبیاں ان کی نگاہوں میں جچنے لگیں، خوبصورت بدصورت کا فرق معلوم کر لیں۔ پھر ان سے بھی پردہ ہے گو وہ پورے جوان نہ بھی ہوئے ہوں۔
بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لوگو! عورتوں کے پاس جانے سے بچو } پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ دیور جیٹھ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ تو موت ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5232] پھر فرمایا کہ ’ عورتیں اپنے پیروں کو زمین پر زور زور سے مار مار کر نہ چلیں ‘ جاہلیت میں اکثر ایسا ہوتا تھا کہ وہ زور سے پاؤں زمین پر رکھ کر چلتی تھیں تاکہ پیر کا زیور بجے۔ اسلام نے اس سے منع فرما دیا۔ پس عورت کو ہر ایک ایسی حرکت منع ہے جس سے اس کا کوئی چھپا ہوا سنگھار کھل سکے۔ پس اسے گھر سے عطر اور خوشبو لگا کر باہر نکلنا بھی ممنوع ہے۔ ترمذی میں ہے کہ { ہر آنکھ زانیہ ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2786،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابوداؤد میں ہے کہ { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ایک عورت خوشبو سے مہکتی ہوئی ملی۔ آپ نے اس سے پوچھا کیا تو مسجد سے آ رہی ہے؟ اس نے کہا ہاں فرمایا کیا تم نے خوشبو لگائی ہے؟ اس نے کہا ہاں! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں نے اپنے حبیب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { جو عورت اس مسجد میں آنے کے لیے خوشبو لگائے، اس کی نماز نا مقبول ہے جب کہ وہ لوٹ کر جنابت کی طرح غسل نہ کر لے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4174،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ترمذی میں ہے کہ { اپنی زینت کو غیر جگہ ظاہر کرنے والی عورت کی مثال قیامت کے اس اندھیرے جیسی ہے جس میں نور نہ ہو }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1167،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابوداؤد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں عورتوں کو راستے میں ملے جلے چلتے ہوئے دیکھ کر فرمایا: { عورتو! تم ادھر ادھر ہو جاؤ، تمہیں بیچ راہ میں نہ چلنا چاہیئے }۔ یہ سن کر عورتیں دیوار سے لگ کر چلنے لگیں یہاں تک کہ ان کے کپڑے دیواروں سے رگڑتے تھے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5272،قال الشيخ الألباني:حسن] پھر فرماتا ہے کہ ’ اے مومنو! میری بات پر عمل کرو، ان نیک صفتوں کو لے لو، جاہلیت کی بدخصلتوں سے رک جاؤ۔ پوری فلاح اور نجات اور کامیابی اسی کے لیے ہے جو اللہ کا فرمانبردار ہو، اس کے منع کردہ کاموں سے رک جاتا ہو، اللہ ہی سے ہم مدد چاہتے ہیں ‘۔
31-1یہاں پردے کے احکام میں توبہ کا حکم دینے میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ان احکام کی خلاف ورزی بھیتم کرتے رہے ہو، وہ چونکہ اسلام سے قبل کی باتیں ہیں، اس لئے اگر تم نے سچے دل سے توبہ کرلی اور ان احکام مذکورہ کے مطابق پردے کا صحیح اہتمام کرلیا تو لازمی کامیابی اور دنیا اور آخرت کی سعادت تمہارا مقدر ہے۔
(آیت 31) ➊ { وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ …:} عورتوں کو بھی اسی طرح اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم فرمایا جیسے مردوں کو یہ حکم دیا، مگر عورتوں پر مردوں کو نہ دیکھنے کی اتنی سختی نہیں جتنی مردوں پر عورتوں کے دیکھنے کے بارے میں ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنی چادر کے ساتھ مجھے پردے میں لیے ہو ئے تھے اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی، وہ (برچھوں کے ساتھ) کھیل رہے تھے، یہاں تک کہ میں ہی اکتا جاتی، تو ایک نو عمر لڑکی کا اندازہ کر لو جو کھیل دیکھنے کی شوقین ہو۔“ [ بخاري، النکاح، باب نظر المرأۃ إلی الحبش…: ۵۲۳۶ ] یعنی اندازہ لگا لو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے کتنی دیر کھڑے رہے ہوں گے۔ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنھا کو ان کے خاوند نے تیسری طلاق دے دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا: ”ام شریک کے گھر رہ کر عدت گزارو۔“ پھر فرمایا: ”اس عورت کے پاس میرے صحابہ کثرت سے آتے ہیں (کیونکہ وہ مال دار اور بہت مہمان نواز خاتون تھی)، اس لیے تم ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزارو، کیونکہ وہ نابینا آدمی ہے، تم اپنے کپڑے بھی نیچے رکھ سکو گی۔“ [ مسلم، الطلاق، باب المطلقۃ البائن لا نفقۃ لھا: 1480/38 ] ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر شہوانی خیال نہ ہو تو عورتیں مردوں کو دیکھ سکتی ہیں۔ پردے کا حکم عورتوں کو ہے، تاکہ مرد انھیں نہ دیکھیں، مردوں کو نہیں کہ عورتیں انھیں نہ دیکھیں۔ البتہ اگر شہوت کے ساتھ ہو تو عورتوں کو بھی مردوں کی طرف دیکھنا حرام ہے، جیسا کہ آیت سے ظاہر ہے۔ ➋ سنن ابی داؤد اور بعض دوسری کتب احادیث میں ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میمونہ رضی اللہ عنھا بھی تھیں تو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے اور یہ واقعہ ہمیں حجاب کا حکم ہونے کے بعد کا ہے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے حجاب کرو۔“ ہم نے کہا: ”یا رسول اللہ! کیا یہ نابینا نہیں کہ نہ ہمیں دیکھتا ہے، نہ ہمیں پہچانتا ہے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَ فَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا؟ أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ! ] [ أبوداوٗد، اللباس، باب في قولہ عزوجل: «و قل للمؤمنات …» : ۴۱۱۲ ] ”تو کیا تم بھی اندھی ہو؟ کیا تم اسے نہیں دیکھتیں!“ اس حدیث سے عورتوں کا آنکھوں والے مردوں کو ہی نہیں نابینا مردوں کو دیکھنا بھی منع ثابت ہوتا ہے، مگر امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اس کی توجیہ یہ فرمائی ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کی خصوصیت ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنھا کو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر عدت گزارنے کا حکم دیا تھا۔ ہمارے ایک شیخ اس کی یہ توجیہ فرماتے تھے کہ نابینا آدمی اپنے ستر کا خیال نہیں رکھ سکتا، نہ اسے اپنا ستر کھلنے کا پتا چل سکتا ہے، اس لیے اس سے حجاب کا حکم دیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ روایت ثابت ہی نہیں، چنانچہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اس میں ایک راوی نبہان مولیٰ ام سلمہ ہے، اسے تقریب میں ”مقبول“ کہا گیا ہے اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تقریب کے مقدمہ میں خود فرمایا ہے کہ جس راوی کے متعلق وہ مقبول کہیں، اگر کسی حدیث میں اس کی متابعت ہو تو وہ مقبول ہے، ورنہ ”لین الحدیث“ ہے۔ اس لیے یہ روایت ضعیف ہے۔ [ ہدایۃ المستنیر بتخریج ابن کثیر ] ➌ { وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا:} چونکہ مردوں کے لیے عورتوں سے بڑا فتنہ کوئی نہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا تَرَكْتُ بَعْدِيْ فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَی الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ] [بخاري، النکاح، باب ما یتقي من شؤم المرأۃ…: ۵۰۹۶، عن أسامۃ بن زید رضی اللہ عنھما ] ”میں نے اپنے بعد مردوں پر کوئی فتنہ عورتوں سے زیادہ نقصان پہنچانے والا نہیں چھوڑا۔“ اس لیے اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کے علاوہ اپنی زینت چھپانے کا بھی حکم دیا، چنانچہ فرمایا کہ مومن عورتوں سے کہہ دے کہ (ان کے ایمان کا تقاضا ہے کہ) اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو اس میں سے ظاہر ہو جائے۔ زینت کا معنی جمال اور حسن ہے۔ یہ دو قسم کی ہے، ایک فطری حسن و جمال اور دوسری جو بناؤ سنگار، زیبائش و آرائش اور زیور وغیرہ سے حاصل ہوتی ہے۔ لباس بھی زینت ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ }» [ الأعراف: ۳۱ ] ”ہر نماز کے وقت اپنی زینت لے لو۔“ اس میں زینت کا معنی لباس ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ عورتیں اپنی کوئی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو خود ظاہر ہو جائے، یعنی انھیں اپنے بدن اور اس کے بناؤ سنگار میں سے کوئی چیز ظاہر کرنا جائز نہیں مگر وہ کپڑے جنھیں چھپایا جا ہی نہیں سکتا، یا وہ زینت جو کسی کام یا حرکت کی وجہ سے بے اختیار ظاہر ہو جائے۔ {”الصحيح المسبور من التفسير بالمأثور“} میں ہے: ”طبری نے صحیح اسانید کے ساتھ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: {” «وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا» قَالَ هِيَ الثِّيَابُ“} یعنی اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے کہ ”وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو اس میں سے ظاہر ہو جائے“ اس سے مراد کپڑے ہیں۔“ حاکم نے اسے روایت کیا اور اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ (مستدرک حاکم: ۲؍۳۹۷، ح: ۳۴۹۹) اور طبرانی (۹۱۱۶) نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ ہیثمی نے مجمع الزوائد (۷؍۸۲) میں فرمایا: ”طبرانی نے اسے کئی اسانید کے ساتھ مطول اور مختصر روایت کیا ہے، جن میں سے ایک سند کے راوی صحیحین (بخاری و مسلم) کے راوی ہیں۔“ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ {” اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا “} سے مراد چہرہ اور ہتھیلیاں ہیں، بلکہ انھوں نے اس کے ساتھ بالیاں، کنگن، انگوٹھی، سرمہ اور منہدی بھی شامل کر دی ہے اور یہ کہا ہے کہ عورتوں کا چہرہ اور ہتھیلیاں مع زیور و آرائش وہ زینت ہے جو عورتوں کے لیے اپنوں اور بیگانوں سب کے سامنے ظاہر کرنا جائز ہے۔ یہ لوگ دلیل کے طور پر ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول پیش کرتے ہیں کہ {” اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا “} سے مراد چہرہ اور ہتھیلیاں ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ یہ لوگ نہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول پورا پیش کرتے ہیں اور نہ پردے کے متعلق ان کے دوسرے اقوال پیش نظر رکھتے ہیں۔ چہرے کے پردے کے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنھما کا موقف طبری نے مشہور حسن سند (علی بن ابی طلحہ عن ابن عباس) کے ساتھ بیان کیا ہے، لطف یہ ہے کہ {” اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا “} کی تفسیر جو چہرے کے پردے کے منکر ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نا مکمل بیان کرتے ہیں، وہ بھی اسی سند کے ساتھ مروی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «{ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ۠ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا }» [ الأحزاب: ۵۹ ] (اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے آپ پر لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انھیں تکلیف نہ پہنچائی جائے اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: [ أَمَرَ اللّٰهُ نِسَاءَ الْمُؤْمِنِيْنَ إِذَا خَرَجْنَ مِنْ بُيُوْتِهِنَّ فِيْ حَاجَةٍ أَنْ يُّغَطِّيْنَ وُجُوْهَهُنَّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِنَّ بِالْجَلَابِيْبِ وَ يُبْدِيْنَ عَيْنًا وَاحِدَةً ] [ طبري:۲۸۸۸۰] ”اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی کام کے لیے گھروں سے باہر نکلیں تو اپنے چہروں کو اپنے سروں کے اوپر سے بڑی چادروں کے ساتھ ڈھانپ لیں اور ایک آنکھ کھلی رکھیں۔“ ایسا شخص جو گھر سے باہر نکلتے ہوئے مومن عورتوں کے لیے صرف ایک آنکھ کھلی رکھنے کو اللہ کا حکم قرار دیتا ہے وہ عورتوں کے لیے چہرے اور ہاتھوں کو اپنوں اور بیگانوں کے سامنے کھلا رکھنے کی اجازت کیسے دے سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنھم کے موقف میں کوئی اختلاف نہیں۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے {” اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا “} کی تفسیر اجنبیوں کے اعتبار سے فرمائی ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنھما نے{ ” اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا “ } کی تفسیر اپنے لوگوں کے اعتبار سے فرمائی ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ ہے کہ اجنبیوں کے سامنے ظاہری کپڑوں کے سوا کوئی زینت ظاہر نہ کریں اور ابن عباس رضی اللہ عنھما کا مطلب یہ ہے کہ ”زینت ظاہرہ“ (چہرہ اور ہاتھ) خاوند کے علاوہ اپنے محرموں کے سامنے بھی ظاہر کر سکتی ہیں، جس میں سرمہ، منہدی، بالیاں، کنگن، ہار سب کچھ شامل ہے۔ ان محرموں کا بیان آگے فرما دیا: «{ وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىِٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىِٕهِنَّ۠ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِيْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِيْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآىِٕهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ }» [ النور: ۳۱ ] البتہ زینت باطنہ (پیٹ، سینہ، ران اور مخفی حصے) صرف خاوند کے سامنے ظاہر کر سکتی ہیں۔ اب آپ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی ” اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا “ کی مکمل تفسیر پڑھیں، جس کا صرف شروع کا حصہ بیان کیا جاتا ہے۔ طبری نے (علی بن ابی طلحہ عن ابن عباس سے) حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ آیت: «{ وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا }» کے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [ وَالزِّيْنَةُ الظَّاهِرَةُ: الْوَجْهُ وَ كُحْلُ الْعَيْنِ وَ خِضَابُ الْكَفِّ وَ الْخَاتَمُ، فَهٰذِهِ تَظْهَرُ فِيْ بَيْتِهَا لِمَنْ دَخَلَ مِنَ النَّاسِ عَلَيْهَا ] [ طبري: ۲۶۱۷۰ ] ”زینت ظاہرہ سے مراد چہرہ، آنکھ کا سرمہ، ہتھیلی کی منہدی اور انگوٹھی ہے، چنانچہ وہ یہ چیزیں اپنے گھر میں ان لوگوں کے سامنے ظاہر کر سکتی ہے جو اس کے پاس اندر آتے ہیں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنھما پر اس سے بڑا ظلم کیا ہو گا کہ وہ یہ زینت گھر کے اندر اپنے لوگوں کے سامنے ظاہر کرنے کی بات کر رہے ہیں اور یہ حضرات سرمہ و منہدی، گلے کے ہار اور کنگن اور انگوٹھی سمیت چہرے اور ہتھیلیوں کو اپنوں اور بیگانوں سب کے سامنے کھلا رکھنے کو ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول قرار دے رہے ہیں۔ [ فَیَا لِلْعَجَبِ وَلِضَیْعَۃِ الْأَدَبِ ] ➍ اب قرآن مجید اور احادیث و آثار سے چہرے کے پردے کے چند دلائل بیان کیے جاتے ہیں: (1) سب سے پہلے زیر تفسیر آیت ہی کو دیکھیں، اس میں {” وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا “} کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «{ وَ لْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ }» ”اور اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں“ گریبان پر پہلے ہی قمیص کا کپڑا موجود ہوتا ہے، اس کے باوجود اس پر اوڑھنی کا حکم دیا ہے، اب چہرے کے پردے کے منکر خود ہی غور فرمائیں کہ عورت کے حسن و جمال کے اصل مرکز چہرے کو مع سرمہ و زیور تو کھلا رکھنے کی اجازت دے دی گئی جو مرد کے لیے سراسر فتنہ ہے اور سینہ جس پر قمیص بھی تھی اسے مزید اوڑھنی کے ساتھ ڈھانکنے کا حکم دیا گیا۔ (2) طبری نے اپنی حسن سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ کے طریق سے ابن عباس رضی اللہ عنھما کا ایک قول نقل کیا ہے جو اللہ کے فرمان {” اَوِ التّٰبِعِيْنَ غَيْرِ اُولِي الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ “} کے متعلق ہے، ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں: [ فَهٰذَا الرَّجُلُ يَتْبَعُ الْقَوْمَ وَهُوَ مُغَفَّلٌ فِيْ عَقْلِهِ لَا يَكْتَرِثُ لِلنِّسَاءِ وَلَا يَشْتَهِيْهِنَّ فَالزِّيْنَةُ الَّتِيْ تُبْدِيْهَا لِهٰؤُلَاءِ قُرْطَاهَا وَ قِلَادَتُهَا وَ سِوَارُهَا وَ أَمَّا خَلْخَالُهَا وَ مِعْضَدَاهَا وَ نَحْرُهَا وَ شَعْرُهَا فَإِنَّهَا لَا تُبْدِيْهِ إِلَّا لِزَوْجِهَا ] [ طبري: ۲۶۱۹۴ ] ”تو یہ وہ آدمی ہے جو کچھ لوگوں کے ساتھ رہتا ہے اور وہ عقل کا بدھو ہے، نہ اسے عورتوں کی پروا ہے نہ ان سے کوئی جنسی حاجت، تو وہ زینت جو ان لوگوں کے سامنے کھول سکتی ہے وہ اس کی بالیاں، ہار اور کنگن ہیں، رہی اس کی پازیب، بازو، سینہ اور بال تو وہ صرف خاوند کے سامنے کھول سکتی ہے۔“ (3) {” وَ لَا يَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِيْنَ مِنْ زِيْنَتِهِنَّ “} میں پاؤں کو زور سے زمین پر مارنے سے منع کیا کہ مردوں کو ان کے زیور کی آواز سے شہوانی خیال پیدا نہ ہو۔ اب ایک عورت جو معلوم نہیں جوان ہے یا بوڑھی، خوبصورت ہے یا بدصورت، اس کی پازیب کی آواز دلوں میں خرابی پیدا کرتی ہے اور اسے چھپائے رکھنے کا حکم ہے، تو چہرہ جس پر کسی عورت کے خوبصورت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ ہوتا ہے، وہ کھلا رکھنا کیسے جائز ہو گیا؟ (4) «{ ٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا }» [ الأحزاب: ۵۹ ] ”اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے آپ پر لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انھیں تکلیف نہ پہنچائی جائے۔“ اس آیت کی تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنھما سے اوپر گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب کسی کام کے لیے گھروں سے باہر نکلیں تو اپنے چہروں کو اپنے سروں کے اوپر سے بڑی چادروں کے ساتھ ڈھانپ لیں اور ایک آنکھ کھلی رکھیں (اگر راستہ وغیرہ دیکھنے کی ضرورت ہو، ورنہ وہ بھی نہیں)۔ اس آیت سے استدلال کی مزید تفصیل کے لیے سورۂ احزاب ملاحظہ فرمائیں۔ (5) «{ وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِيْ لَا يَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ يَّضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِيْنَةٍ وَ اَنْ يَّسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَّهُنَّ وَ اللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ }» [ النور: ۶۰ ] ”اور عورتوں میں سے بیٹھ رہنے والیاں، جو نکاح کی امید نہیں رکھتیں، سو ان پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے کپڑے اتار دیں، جب کہ وہ کسی قسم کی زینت ظاہر کرنے والی نہ ہوں اور یہ بات کہ (اس سے بھی) بچیں ان کے لیے زیادہ اچھی ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔“ استدلال کی تفصیل کے لیے اس آیت کی تفسیر دیکھیے۔ (6) «{ لَا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ فِيْۤ اٰبَآىِٕهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآىِٕهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآىِٕهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ وَ اتَّقِيْنَ اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدًا }» [ الأحزاب:۵۵ ] ”ان (عورتوں) پر کوئی گناہ نہیں اپنے باپوں (کے سامنے آنے) میں اور نہ اپنے بیٹوں کے اور نہ اپنے بھائیوں کے اور نہ اپنے بھتیجوں کے اور نہ اپنے بھانجوں کے اور نہ اپنی عورتوں کے اور نہ ان (کے سامنے آنے) میں جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ ہیں اور (اے عورتو!) اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح شاہد ہے۔“ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو اجنبیوں سے حجاب کا حکم دیا تو وضاحت فرما دی کہ ان اقارب سے حجاب نہیں، جیسا کہ سورۂ نور کی آیت (۳۱): «وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىِٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىِٕهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِيْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِيْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآىِٕهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِيْنَ غَيْرِ اُولِي الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِيْنَ لَمْ يَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ» میں وضاحت فرمائی ہے، جب ان اقارب سے پردہ نہ کرنے میں گناہ نہیں تو معلوم ہوا کہ اجنبیوں سے پردہ نہ کرنے میں گناہ ہے۔“ (7) احادیث سے بھی عورتوں کے لیے پردے کا حکم ثابت ہے، یہاں چند احادیث درج کی جاتی ہیں، اس سے پہلے صحیح بخاری میں سے عائشہ رضی اللہ عنھا کی لمبی حدیث بیان ہو چکی ہے، جس میں وہ فرماتی ہیں کہ صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ لشکر کے پیچھے تھے، وہ صبح کے وقت جب اس جگہ پہنچے جہاں میں لیٹی ہوئی تھی، تو اس نے ایک سویا ہوا انسان دیکھا، پھر جب وہ میرے پاس آئے، تو اس نے مجھے پہچان لیا، کیونکہ وہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے مجھے دیکھ چکے تھے، تو میں نے اپنی بڑی چادر کے ساتھ اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔ [ بخاري: ۲۶۶۱ ] یہ حدیث صاف دلیل ہے کہ اگر حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے انھوں نے ام المومنین کو نہ دیکھا ہوتا تو وہ کبھی نہ پہچان سکتے، کیونکہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد انھیں دیکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ (8) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عورتوں کو عید کے لیے نکلنے کا حکم دیا تو انھوں نے کہا: [ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِحْدَانَا لَيْسَ لَهَا جِلْبَابٌ، قَالَ لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا ] [ بخاري، الصلاۃ، باب وجوب الصلاۃ في الثیاب: ۳۵۱ ] ”یا رسول اللہ! ہم میں سے کسی کے پاس بڑی چادر نہیں ہوتی؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی بہن اسے پہننے کے لیے کوئی اپنی بڑی چادر دے دے۔“ اگر پردہ فرض نہ ہوتا تو ان کے سوال کا جواب تھا کہ دوپٹا ہی کافی ہے، بڑی چادر کی ضرورت نہیں۔ (9) عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: ”اونٹوں کے سوار ہمارے پاس سے گزرتے، جب کہ ہم احرام کی حالت میں ہوتیں، تو جب وہ ہمارے برابر آتے تو ہم میں سے ہر ایک اپنی بڑی چادر سر سے چہرے پر لٹکا لیتی، جب گزر جاتے تو ہم اسے ہٹا دیتیں۔“ [ أبوداوٗد، المناسک، باب في المحرمۃ تغطي وجھھا: ۱۸۳۳ ] عبد المحسن العباد نے ابوداؤد کی شرح میں فرمایا: ”اس حدیث میں ایک راوی پر کلام کیا گیا ہے، اسی لیے البانی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف ابی داؤد میں ذکر کیا ہے، لیکن انھوں نے ”مشکوٰۃ“ میں اسے ”حسن“ کہا ہے اور ”حجاب المرأۃ المسلمۃ“ میں بھی حسن کہا ہے اور اسماء رضی اللہ عنھا سے ایک صحیح سند کے ساتھ اس کا شاہد بھی ہے، چنانچہ یہ حدیث اپنے شواہد کی وجہ سے صحیح ہے۔“ تو احرام کی حالت میں، جب نقاب پہننا منع ہے، اگر پردہ واجب نہ ہوتا تو وہ چہرے پر چادریں کیوں لٹکاتیں؟ ➎ اب ان لوگوں کے دلائل ملاحظہ فرمائیں جو چہرے اور ہتھیلیوں کے پردے کو واجب نہیں مانتے، ان کی سب سے بڑی دلیل قرآن مجید کے الفاظ {” اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا “} کی ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی تفسیر ہے کہ اس سے مراد چہرہ اور ہتھیلیاں ہیں اور صحابی کی تفسیر حجت ہے۔ابن عباس رضی اللہ عنھما کا پورا قول اور اس کی وضاحت اوپر گزر چکی ہے، ابن عباس رضی اللہ عنھما نے محرم رشتہ داروں کے سامنے چہرہ اور ہاتھ کھولنے کی بات فرمائی ہے نہ کہ اجنبیوں کے سامنے اور اگر کسی کو اصرار ہو کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سب لوگوں کے سامنے عورت کا چہرہ اور ہتھیلیاں کھلی رکھنے کے قائل ہیں، تو یاد رہے کہ کسی صحابی کی تفسیر اسی وقت حجت ہوگی جب دوسرے کسی صحابی نے اس کے خلاف تفسیر نہ کی ہو۔ یہاں ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اجنبیوں کے سامنے صرف کپڑوں کا ظاہر ہو جانا جائز رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کا حکم ہے: «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ» [ النساء: ۵۹ ] ”پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ۔“ یعنی تنازع کے وقت کسی کی بات بھی حجت نہیں رہتی، اس وقت صرف اللہ اور اس کے رسول کی بات حجت ہوتی ہے اور قرآن و سنت کی رو سے غیر محرم مردوں سے چہرے اور ہاتھوں کا پردہ واجب ہے، جیسا کہ آپ اس سے پہلے پڑھ چکے ہیں۔ ان حضرات کی دوسری دلیل عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی سنن ابی داؤد کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سالی اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنھما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور انھوں نے باریک کپڑے پہنے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے رخ پھیر لیا اور فرمایا: [ يَا أَسْمَاءُ! إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِيْضَ لَمْ يَصْلُحْ لَهَا أَنْ يُّرَی مِنْهَا إِلَّا هٰذَا وَ هٰذَا ] [ أبوداوٗد، اللباس، باب فیما تبدی المرأۃ من زینتھا: ۴۱۰۴ ] ”اسماء! عورت جب بلوغت کو پہنچ جائے تو (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ) اس کے سوا اور اس کے سوا اس کی کوئی چیز نظر آنا درست نہیں۔“ اس حدیث سے عورت کا غیر محرم کے سامنے چہرہ اور ہتھیلیاں ظاہر کرنا جائز ثابت ہوا۔ اس دلیل کے متعلق عبد المحسن العباد نے ابوداؤد کی شرح میں فرمایا ہے: ”یہ حدیث صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس میں انقطاع ہے (خود امام ابوداؤد نے فرمایا ہے کہ خالد بن دریک نے عائشہ رضی اللہ عنھا سے نہیں سنا) اور اس میں سعید بن بشیر ضعیف ہے، پھر اس میں ولید کی تدلیس ہے اور اس کے متن میں بھی نکارت ہے، کیونکہ یہ بات بہت بعید ہے کہ اسماء بڑی عمر میں باریک کپڑوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئیں، کیونکہ ہجرت کے وقت ان کی عمر ستائیس برس تھی۔“ محمد بن صالح بن عثیمین نے بھی ”رسالۃ ا
تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں، اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں، ان کے نکاح کر دو اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے اُن کو غنی کر دے گا، اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تم میں سے جو مرد عورت بےنکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو اور اپنے نیک بخت غلام اور لونڈیوں کا بھی۔ اگر وه مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا۔ اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور نکاح کردو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا اگر وہ فقیر ہوں تو اللہ انہیں غنی کردے گا اپنے فضل کے سبب اور اللہ وسعت والا علم والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور تم میں جو (مرد و زن) بے نکاح ہیں ان کا نکاح کرو۔ نیز اپنے غلاموں اور کنیزوں میں سے بھی جو (نکاح کے) قابل ہوں۔ ان کا بھی نکاح کرو۔ اگر وہ غریب و نادار ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل و کرم سے مالدار بنا دے گا۔ اور اللہ بڑی وسعت والا، بڑا علم والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنے میں سے بے نکاح مردوں، عورتوں کا نکاح کر دو اور اپنے غلاموں اور اپنی لونڈیوں سے جو نیک ہیں ان کا بھی، اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ انھیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا اور اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نکاح اور شرم و حیا کی تعلیم ٭٭
اس میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے احکام بیان فرما دئیے ہیں اولاً نکاح کا۔ علماء کی جماعت کا خیال ہے کہ جو شخص نکاح کی قدرت رکھتا ہو اس پر نکاح کرنا واجب ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ { اے نوجوانو! تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتا ہو، اسے نکاح کر لینا چاہیئے۔ نکاح نظر کو نیچی رکھنے والا شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے طاقت نہ ہو وہ لازمی طور پر روزے رکھے، یہی اس کے لیے خصی ہونا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1905] سنن میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { زیادہ اولاد جن سے ہونے کی امید ہو ان سے نکاح کرو تاکہ نسل بڑھے میں تمہارے ساتھ اور امتوں میں فخر کرنے والا ہوں } }۔ ایک روایت میں ہے { یہاں تک کہ کچے گرے ہوئے بچے کی گنتی کے ساتھ بھی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2050، قال الشيخ الألباني:صحیح] «أَيَامَى» جمع ہے «أَيِّمٍ» کی۔ جوہری رحمہ اللہ کہتے ہیں اہل لغت کے نزدیک بے بیوی کا مرد اور بے خاوند کی عورت کو «أَيِّمٍ» کہتے ہیں، خواہ وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ہو۔ پھر مزید رغبت دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ اگر وہ مسکین بھی ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل و کرم سے مالدار بنا دے گا۔ خواہ وہ آزاد ہوں خواہ غلام ہوں ‘۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”تم نکاح کے بارے میں اللہ کا حکم مانو، وہ تم سے اپناوعدہ پورا کرے گا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”امیری کو نکاح میں طلب کرو۔“ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { تین قسم کے لوگوں کی مدد کا اللہ کے ذمے حق ہے۔ نکاح کرنے والا جو حرام کاری سے بچنے کی نیت سے نکاح کرے۔ وہ لکھت لکھ دینے والا غلام جس کا ارادہ ادائیگی کا ہو، وہ غازی جو اللہ کی راہ میں نکلا ہو } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1655،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اسی کی تایئد میں وہ روایت ہے جس میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا نکاح ایک عورت سے کرا دیا، جس کے پاس سوائے تہبند کے اور کچھ نہ تھا یہاں تک کہ لوہے کی انگوٹھی بھی اس کے پاس سے نہیں نکلی تھی اس فقیری اور مفلسی کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح کر دیا اور مہر یہ ٹھہرایا کہ جو قرآن اسے یاد ہے، اپنی بیوی کو یاد کرا دے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5057] یہ اسی بنا پر کہ نظریں اللہ کے فضل و کرم پر تھیں کہ وہ مالک انہیں وسعت دے گا اور اتنی روزی پہنچائے گا کہ اسے اور اس کی بیوی کو کفالت ہو۔ ایک حدیث اکثر لوگ وارد کیا کرتے ہیں کہ فقیری میں بھی نکاح کیا کرو اللہ تمہیں غنی کر دے گا میری نگاہ سے تو یہ حدیث نہیں گزری۔ نہ کسی قوی سند سے نہ ضعیف سند سے۔ اور نہ ہمیں ایسی لاپتہ روایت کے اس مضمون میں کوئی ضرورت ہے کیونکہ قرآن کی اس آیت اور ان احادیث میں یہ چیز موجود ہے، «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ پھر حکم دیا کہ ’ جنہیں نکاح کا مقدور نہیں وہ حرام کاری سے بچیں ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اے جوان لوگو! تم میں سے جو نکاح کی وسعت رکھتے ہوں، وہ نکاح کر لیں یہ نگاہ نیچی کرنے والا، شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے اس کی طاقت نہ ہو وہ اپنے ذمے روزوں کا رکھنا ضروری کر لے یہی اس کے لیے خصی ہونا ہے } }۔ یہ آیت مطلق ہے اور سورۃ نساء کی آیت اس سے خاص ہے یعنی یہ فرمان آیت «وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلًا أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ» ۱؎ [4-النساء:25] پس لونڈیوں سے نکاح کرنے سے صبر کرنا بہتر ہے۔ اس لیے کہ اس صورت میں اولاد پر غلامی کا حرف آتا ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جو مرد کسی عورت کو دیکھے اور اس کے دل میں خواہش پیدا ہو اسے چاہیئے کہ اگر اس کی بیوی موجود ہو تو اس کے پاس چلا جائے ورنہ اللہ کی مخلوق میں نظریں ڈالے اور صبر کرے یہاں تک کہ اللہ اسے غنی کر دے۔“
اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے فرماتا ہے جو غلاموں کے مالک ہیں کہ ’ اگر ان کے غلام ان سے اپنی آزادگی کی بابت کوئی تحریر کرنی چاہیں تو وہ انکار نہ کریں، غلام اپنی کمائی سے وہ مال جمع کر کے اپنے آقا کو دیدے گا اور آزاد ہو جائے گا ‘۔ اکثر علماء فرماتے ہیں یہ حکم ضروری نہیں فرض و واجب نہیں بلکہ بطور استحباب کے اور خیر خواہی کے ہے۔ آقا کو اختیار ہے کہ غلام جب کوئی ہنر جانتا ہو اور وہ کہے کہ مجھ سے اسی قدر روپیہ لے لو اور مجھے آزاد کر دو تو اسے اختیار ہے خواہ اس قسم کا غلام اس سے اپنی آزادگی کی بابت تحریر چاہے وہ اس کی بات کو قبول کر لے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں، انس رضی اللہ عنہ کا غلام سیرین نے جو مالدار تھا ان سے درخواست کی کہ مجھ سے میری آزادی کی کتابت کرلو۔ انس رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا، دربار فاروقی رضی اللہ عنہ میں مقدمہ گیا، آپ رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور ان کے نہ ماننے پر کوڑے لگوائے اور یہی آیت تلاوت فرمائی یہاں تک کہ انہوں نے تحریر لکھوا دی۔ [ بخاری ]
عطاء رحمہ اللہ سے دونوں قول مروی ہیں۔ امام شافعی رحمۃاللہ علیہ کا قول یہی تھا لیکن نیا قول یہ ہے کہ واجب نہیں۔ کیونکہ حدیث میں ہے { مسلمان کا مال بغیر اس کی دلی خوشی کے حلال نہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:72/5:ضعیف] امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ واجب نہیں۔ میں نے نہیں سنا کہ کسی امام نے کسی آقا کو مجبور کیا ہو کہ وہ اپنے غلام کی آزادگی کی تحریر کر دے، اللہ کا یہ حکم بطور اجازت کے ہے نہ کہ بطور وجوب کے۔ یہی قول امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ کے نزدیک مختار قول وجوب کا ہے۔ خیر سے مراد امانت داری، سچائی، مال اور مال کے حاصل کرنے پر قدرت وغیرہ ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اگر تم اپنے غلاموں میں جو تم سے مکاتب کرنا چاہیں، مال کے کمانے کی صلاحیت دیکھو تو ان کی اس خواہش کو پوری کرو ورنہ نہیں کیونکہ اس صورت میں وہ لوگوں پر اپنا بوجھ ڈالیں گے } }۔ ۱؎ [المراسیل لابی داود:162:مرسل و ضعیف] یعنی ان سے سوال کریں گے اور رقم پوری کرنا چاہیں گے۔ اس کے بعد فرمایا ہے کہ ’ انہیں اپنے مال میں سے کچھ دو ‘۔ یعنی جو رقم ٹھہر چکی ہے، اس میں سے کچھ معاف کر دو، چوتھائی یا تہائی یا آدھا یا کچھ حصہ۔
یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ مال زکوٰۃ سے ان کی مدد کرو آقا بھی اور دوسرے مسلمان بھی اسے مال زکوٰۃ دیں تاکہ وہ مقرر رقم پوری کر کے آزاد ہو جائے۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ جن تین قسم کے لوگوں کی مدد اللہ پر برحق ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے لیکن پہلا قول زیادہ مشہور ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام ابوامیہ نے مکاتبہ کیا تھا جب وہ اپنی رقم کی پہلی قسط لے کر آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جاؤ اپنی اس رقم میں دوسروں سے بھی مدد طلب کرو اس نے جواب دیا کہ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ آپ آخری قسط تک تو مجھے ہی محنت کرنے دیجئیے۔ فرمایا نہیں مجھے ڈر ہے کہ کہیں اللہ کے اس فرمان کو ہم چھوڑ نہ بیٹھیں کہ انہیں اللہ کا وہ مال دو جو اس نے تمہیں دے رکھا ہے۔ پس یہ پہلی قسطیں تھیں جو اسلام میں ادا کی گئیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ شروع شروع میں آپ رضی اللہ عنہ نہ کچھ دیتے تھے نہ معاف فرماتے تھے کیونکہ خیال ہوتا تھا کہ ایسا نہ ہو آخر میں یہ رقم پوری نہ کرسکے تو میرا دیا ہوا مجھے ہی واپس آ جائے۔ ہاں آخری قسطیں ہوتیں تو جو چاہتے اپنی طرف سے معاف کر دیتے۔ ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ { چوتھائی چھوڑ دو }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:397/2:موقوف] لیکن صحیح یہی ہے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اپنی لونڈیوں سے زبردستی بدکاریاں نہ کراؤ ‘۔ جاہلیت کے بدترین طریقوں میں ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ اپنی لونڈیوں کو مجبور کرتے تھے کہ وہ زناکاری کرائیں اور وہ رقم اپنے مالکوں کو دیں۔ اسلام نے آ کر اس بد رسم کو توڑا۔ منقول ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول منافق کے بارے میں اتری ہے، وہ ایسا ہی کرتا تھا تاکہ روپیہ بھی ملے اور لونڈی زادوں سے شان ریاست بھی بڑھے۔ اس کی لونڈی کا نام معاذہ تھا۔ اور روایت میں ہے اس کا نام مسیکہ تھا۔ اور یہ بدکاری سے انکار کرتی تھی۔ جاہلیت میں تو یہ کام چلتا رہا یہاں تک اسے ناجائز اولاد بھی ہوئی لیکن اسلام لانے کے بعد اس نے انکار کر دیا، اس پر اس منافق نے اسے زدوکوب کیا، پس یہ آیت اتری۔ مروی ہے کہ بدر کا ایک قریشی قیدی عبداللہ بن ابی کے پاس تھا وہ چاہتا تھا کہ اس کی لونڈی سے ملے، لونڈی بوجہ اسلام کے حرام کاری سے بچتی تھی۔ عبداللہ کی خواہش تھی کہ یہ اس قریشی سے ملے، اس لیے اسے مجبور کرتا تھا اور مارتا پیٹتا تھا، پس یہ آیت اتری۔
اور روایت میں ہے کہ یہ سردار منافقین اپنی اس لونڈی کو اپنے مہمانوں کی خاطر تواضع کے لیے بھیج دیا کرتا تھا۔ اسلام کے بعد اس لونڈی سے جب یہ ارادہ کیا گیا تو اس نے انکار کر دیا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے اپنی یہ مصیبت بیان کی۔ صدیق رضی اللہ عنہ نے دربار محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ بات پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس لونڈی کو اس کے ہاں نہ بھیجو۔ اس نے لوگوں میں غل مچانا شروع کیا کہ دیکھو محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری لونڈیوں کو چھین لیتا ہے اس پر یہ آسمانی حکم اترا۔ ایک روایت میں ہے کہ مسیکہ اور معاذ دو لونڈیاں دو شخصوں کی تھیں، جو ان سے بدکاری کراتے تھے۔ اسلام کے بعد مسیکہ اور اس کی ماں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی، اس پر یہ آیت اتری۔ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ ’ اگر وہ لونڈیاں پاک دامنی کا ارادہ کریں ‘ اس سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ اگر ان کا ارادہ یہ نہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں کیونکہ اس وقت واقعہ یہی تھا اس لیے یوں فرمایا گیا۔ پس اکثریت اور غلبہ کے طور پر یہ فرمایا گیا ہے کوئی قید اور شرط نہیں ہے۔ اس سے غرض ان کی یہ تھی کہ مال حاصل ہو، اولادیں ہوں جو لونڈیاں غلام بنیں۔ حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگانے کی اجرت، بدکاری کی اجرت، کاہن کی اجرت سے منع فرما دیا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1568] ایک اور روایت میں ہے { زنا کی خرچی اور پچھنے لگانے والی کی قیمت اور کتے کی قیمت خبیث ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1568]
پھر فرماتا ہے ’ جو شخص ان لونڈیوں پر جبر کرے تو انہیں تو اللہ بوجہ ان کی مجبوری بخش دے گا اور ان مالکوں کو جنہوں نے ان پر دباؤ زور زبردستی ڈالی تھی انہیں پکڑ لے گا، اس صورت میں یہی گنہگار رہیں گے ‘۔ بلکہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «رَحِيمٌ» کے بعد «وَإِثْمُهُنَّ عَلَى مَنْ أَكْرَهَهُنَّ» ہے۔ یعنی ’ اس حالت میں جبر اور زبردستی کرنے والوں پر گناہ ہے ‘۔ مرفوع حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے میری امت کی خطا سے، بھول سے اور جن کاموں پر وہ مجبور کر دئیے جائیں، ان پر زبردستی کی جائے ان سے درگزر فرما لیا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:2043،قال الشيخ الألباني:صحیح] ان احکام کو تفصیل وار بیان کرنے کے بعد بیان ہوتا ہے کہ ’ ہم نے اپنے کلام قرآن کریم کی یہ روشن و واضح آیات تمہارے سامنے بیان فرما دیں۔ اگلے لوگوں کے واقعات بھی تمہارے سامنے آچکے کہ ان کی مخالفت حق کا انجام کیا اور کیسا ہوا؟ وہ ایک افسانہ بنا دئے گئے اور آنے والوں کے لیے عبرتناک واقعہ بنا دیئے گئے کہ متقی ان سے عبرت حاصل کریں اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچیں ‘۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے، ”قرآن میں تمہارے اختلاف کے فیصلے موجود ہیں، تم سے پہلے زمانہ کے لوگوں کی خبریں موجود ہیں، بعد میں ہونے والے امور کے احوال کا بیان ہے۔ یہ مفصل ہے بکواس نہیں اسے جو بھی بے پرواہی سے چھوڑے گا، اسے اللہ برباد کر دے گا اور جو اس کے سوا دوسری کتاب میں ہدایت تلاش کرے گا اسے اللہ گمراہ کر دے گا۔“ ۱؎ [سنن ترمذي:2906،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
32-1آیت میں خطاب اولیاء سے ہے کہ نکاح کردو، یہ نہیں فرمایا کہ نکاح کرلو، کہ مخاطب نکاح کرنے والے مرد و عورت ہوتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عورت ولی کی اجازت اور رضامندی کے بغیر از خود اپنا نکاح نہیں کرسکتی، جس کی تائید احادیث سے بھی ہوتی ہے۔ اس طرح امر کے صیغے سے بعض نے ثبوت کیا ہے کہ نکاح کرنا واجب ہے، جب کہ اسے جائز اور پسندیدہ قرار دیا ہے۔ تاہم استطاعت رکھنے والے کے لئے یہ سنت مؤکدہ بلکہ بعض حالات میں واجب ہے اور اس سے بچنے کی سخت وعید ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس نے میری سنت سے انکار کیا، وہ مجھ سے نہیں۔ 32-2یہاں صالحیت سے مراد ایمان ہے، اس میں اختلاف ہے کہ مالک اپنے غلام اور لونڈیوں کو نکاح کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں یا نہیں بعض نفرت کے قائل ہیں، بعض نہیں۔ تاہم اندیشہ ضرر کی صورت میں شرعاً مجبور کرنا جائز ہے۔ بصورت دیگر غیر مشروع (الیسر التفاسیر) 32-3یعنی محض غربت اور تنگ دستی نکاح میں مانع نہیں ہونی چاہیے ممکن ہے نکاح کے بعد اللہ ان کی تنگ دستی کو اپنے فضل سے وسعت ورزق میں بدل دے۔ حدیث میں آتا ہے تین شخص ہیں جن کی اللہ ضرور مدد فرماتا ہے-1 نکاح کرنے والا جو پاکدامنی کی نیت سے نکاح کرتا ہے-2 مکاتب غلام، جو ادائیگی کی نیت رکھتا ہے-3 اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا۔
(آیت 32) ➊ {وَ اَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ: ” الْاَيَامٰى “ ”آمَ يَئِيْمُ أَيْمًا“} ({بَاعَ يَبِيْعُ}) سے{ ”أَيِّمٌ“ } (بروزن {فَیْعِلٌ، كَسَيِّدٍ})کی جمع ہے، یعنی وہ عورت جس کا خاوند نہ ہو، کنواری ہو یا بیوہ یا مطلقہ اور وہ مرد جس کی بیوی نہ ہو، کنوارا ہو یا ثیب۔ زمخشری کے مطابق {”أَيَامٰي“} کا وزن {”أَفَاعِلُ“} ہے، کیونکہ یہ {” أَيِّمٌ“} کی جمع ہے، جو {”فَيْعِلٌ“} کے وزن پر ہے اور {”فَيْعِلٌ“} کی جمع {”فَعَالٰي“} نہیں آتی۔ اس لیے {”أَيَامٰي“} کا اصل {” أَيَايِمُ“} ہے، جس میں قلب کرکے میم کو یاء کی جگہ پہلے کر دیا گیا، کیونکہ الف کے بعد یاء پڑھنے میں ثقل ہے، پھر میم کو تخفیف کے لیے فتحہ دے دیا گیا اور یاء کو الف سے بدل کر {”أَيَامٰي“} کر دیا۔ ابن مالک اور کئی علماء کے مطابق یہ خلاف قیاس {” فَعَالٰي“} کے وزن پر ہے، سیبویہ کے کلام کا ظاہر بھی یہی ہے۔ (التحریر والتنویر) ➋ نگاہیں نیچی رکھنے اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کے حکم کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ جنسی جبلت کو معطل کر دو اور ترک دنیا کرکے راہب اور جوگی بن جاؤ، کیونکہ یہ فطرت کا مقابلہ ہے اور جو شخص فطرت کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرے گا پادریوں اور ننوں (راہبات) کی طرح بری طرح شکست کھائے گا، بلکہ حکم دیا کہ اپنے مجرد مردوں اور عورتوں کا نکاح کرو اور حلال طریقے سے اپنی خواہش اور لذت کی تکمیل کرو، یہ تمھاری پاک دامنی اور نگاہ نیچی رکھنے کا ذریعہ ہے اور امت مسلمہ کی تعداد بڑھانے کا بھی۔ ➌ { ” الْاَيَامٰى مِنْكُمْ “} سے مراد مسلم آزاد مجرد مرد اور عورتیں ہیں، کیونکہ غلاموں کا ذکر بعد میں آ رہا ہے اور غیر مسلم {” مِنْكُمْ “} نہیں بلکہ {”مِنْ غَيْرِكُمْ “} ہیں۔ رہی یہ بات کہ یہ حکم کس کو ہے؟ تو عورت کا نکاح اس کے اولیاء کی ذمہ داری ہے، ان کی اجازت کے بغیر عورت کو نکاح کی اجازت نہیں۔ اگر کسی عورت کا ولی نہ ہو یا وہ ولایت کا اہل نہ رہے کہ اس کا نکاح کرنے کے بجائے نکاح کی راہ میں کسی معقول وجہ کے بغیر رکاوٹ بنا رہے تو حاکم وقت اس کا ولی ہے اور اسے حکم ہے کہ اس کا نکاح کرے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيْهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَالْمَهْرُ لَهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا فَإِنْ تَشَاجَرُوْا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ ] [أبوداوٗد، النکاح، باب في الولي: ۲۰۸۳ ] ”جو عورت اپنے اولیاء کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے۔“ تین دفعہ فرمایا، پھر فرمایا: ”اگر شوہر اس عورت سے صحبت کر لے تو اسے مہر دینا پڑے گا، اس سے فائدہ حاصل کرنے کی وجہ سے اور اگر وہ اولیاء آپس میں جھگڑ پڑیں تو جس کا کوئی ولی نہ ہو سلطان اس کا ولی ہے۔“ رہے مرد تو ان کا نکاح کسی ولی کی اجازت پر موقوف نہیں، مگر ظاہر ہے کہ بچے کے جوان ہونے پر اس کے والدین یا رشتہ دار جو اس کی کفالت کر رہے ہیں، اگر اس کے نکاح کی کوشش اور اس میں تعاون نہ کریں تو اس کے لیے نکاح بہت مشکل ہے، اس لیے انھیں حکم ہے کہ اپنے بچوں کا جوان ہونے پر جتنی جلدی ممکن ہو نکاح کر دیں۔ {” اَنْكِحُوْا “} (نکاح کر دو) کا لفظ عام ہونے کی وجہ سے اس کے مخاطب حکومت و عوام تمام مسلمان بھی ہیں کہ مردوں اور عورتوں کے نکاح میں وہ جس قدر بھی تعاون کر سکتے ہوں ان کا نکاح کروا دیں۔ جب دوسروں کا نکاح کروانے کا حکم ہے تو خود اپنا نکاح کروانا تو بدرجہ اولیٰ ضروری ہو گا۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے، جوان تھے اور کوئی چیز نہ پاتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: [ يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ! مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَائَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ] [ بخاري، النکاح، باب من لم یستطع البائۃ فلیصم: ۵۰۶۶، ۵۰۶۵ ] ”اے جوانو کی جماعت! تم میں سے جو نکاح کر سکتا ہو وہ نکاح کرلے، کیونکہ وہ نظر کو بہت نیچا کرنے والا اور شرم گاہ کو بہت محفوظ رکھنے والا ہے اور جو نکاح کا سامان نہ پائے وہ روزے کو لازم پکڑے، کیونکہ وہ اس کے لیے (شہوت) کچلنے کا باعث ہے۔“ ➍ { وَ الصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآىِٕكُمْ:” الصّٰلِحِيْنَ “} سے مراد دین کی صلاحیت (نیکی) بھی ہو سکتی ہے، اس صورت میں غلام یا لونڈی میں سے صالح وہ ہو گا جو فاجر اور زانی نہ ہو۔ اس کے مالک کو اس کی نیکی کے انعام اور مزید نیکی کی ترغیب دلانے کے لیے اس کا نکاح کر دینا چاہیے۔ رہا زانی تو وہ کیونکہ صالح نہیں فاسد ہے، اس لیے اس کا نکاح جائز نہیں، جب تک توبہ کرکے صالح نہ بن جائے۔ گویا یہ سورت کے آغاز میں مذکور حکم {” اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوْ مُشْرِكَةً وَّ الزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ “} کی تائید ہے۔ غلاموں میں خاص طور پر یہ شرط لگانے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اکثر یہ بیماری اس طبقے میں ہوتی ہے، کیونکہ وہ اس شرف سے محروم ہوتے ہیں جو معاشرے میں کسی آزاد مرد یا عورت کو اپنی عزت کی حفاظت پر مجبور کرتا ہے۔ (سعدی) اس لیے اہل علم نے یوسف علیہ السلام کے زنا سے بچنے کو عفت کا کمال قرار دیا ہے، کیونکہ دنیاوی لحاظ سے انھیں زنا سے روکنے والی کوئی چیز موجود نہیں تھی، حتیٰ کہ ان کے پاس حرّیت بھی نہیں تھی۔ (تفصیل سورۂ یوسف میں ملاحظہ فرمائیں) {” الصّٰلِحِيْنَ “} سے مراد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ لونڈی یا غلام جو نکاح کی صلاحیت رکھتے ہوں اور انھیں اس کی ضرورت ہو۔ اس کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ اگر غلام یا لونڈی کو نکاح کی حاجت نہ ہو تو مالک کو اس کے نکاح کا حکم نہیں اور {” الصّٰلِحِيْنَ “} کے دونوں معنی مراد لیے جائیں تو کچھ بعید نہیں۔ (سعدی) ➎ { اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ:} عام طور پر غربت کو مرد کے نکاح کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جاتا ہے کہ جب اس کے پاس کچھ ہے ہی نہیں تو بیوی کو کہاں سے کھلائے گا، اس لیے غریب کو کوئی رشتہ نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس خیال کی تردید کی اور فرمایا کہ تم مجرد لوگوں کا نکاح کر دو، اگر وہ فقیر ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں غنی کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ کے پاس غیب سے غنی کر دینے کا اختیار ہے اور اسباب کے لحاظ سے بھی بیوی آنے کے بعد وہ کمائی کے لیے زیادہ جدو جہد کرے گا۔ کھانا تو پہلے وہ خود بھی کھاتا ہے، اگر مزید کمائی نہ بھی کرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ایک کا کھانا دو کے لیے کافی ہوتا ہے۔ [ دیکھیے، بخاری: ۵۳۹۲ ] پہلے یہ اکیلا کمائی کرتا تھا، بیوی آنے کے بعد اس کی کمائی کی استعداد دو گنا ہی نہیں بلکہ مشہور عام قول کے مطابق گیارہ گنا ہو جائے گی۔ بیوی اس کا ہاتھ بٹائے گی، ہو سکتا ہے کہ بیوی کو اللہ تعالیٰ نے کوئی ہنر عطا کر رکھا ہو، یا وہ بہتر مشورے دے کر خاوند کی بہترین مشیر ثابت ہو، یا بیوی کے رشتہ داروں کے تعاون سے حالت بدل جائے۔ علاوہ ازیں اولاد ہونے کے بعد عین ممکن ہے کہ وہ اتنی کمائی کریں کہ پورا کنبہ ہی اغنیاء میں شامل ہو جائے۔ اس کے برعکس کسی غنی کو لڑکی دے تو ہو سکتا ہے کسی آزمائش میں وہ فقیر ہو جائے۔ اللہ نے فرمایا: «{ قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (26) تُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ وَ تُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ}» [ آل عمران: ۲۶، ۲۷ ] ”کہہ دے اے اللہ! بادشاہی کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دیتا ہے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لیتا ہے اور جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کر دیتا ہے، تیرے ہی ہاتھ میں ہر بھلائی ہے، بے شک تو ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ تو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور تو دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور تو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور تو مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور تو جسے چاہے کسی حساب کے بغیر رزق دیتا ہے۔“ یہ سب کچھ عام مشاہدے میں آتا رہتا ہے۔ دولت دھوپ چھاؤں کی طرح آج یہاں ہے تو کل وہاں، بلکہ دولت کا معنی ہی گھومنا ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی کا نکاح بھی کر دیا تھا جس کے پاس ایک چادر کے سوا کچھ نہیں تھا، حتیٰ کہ لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں تھی۔ (دیکھیے بخاری: ۵۰۲۹) یہ خیال ہی نہیں فرمایا کہ یہ بیوی کو کہاں سے کھلائے گا۔ اس لیے اہل علم نے دولت مند بننے کے اسباب میں سے نکاح کو بھی ایک سبب قرار دیا ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”بعض لوگ ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فقیری میں بھی نکاح کیا کرو، اللہ تمھیں غنی کر دے گا۔“ میری نگاہ سے تو یہ روایت نہیں گزری، نہ کسی قوی سند سے، نہ ضعیف سند سے اور نہ ہمیں اس مضمون کے لیے ایسی بے اصل روایت کی کوئی ضرورت ہے، کیونکہ قرآن کی یہ آیت اور (لوہے کی انگوٹھی تک نہ رکھنے والے سے نکاح والی) حدیث اس کے لیے کافی ہے۔ (وللہ الحمد)“ (ابن کثیر) ایسی ہی ایک روایت عام مشہور ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فقر کی شکایت لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نکاح کر لو۔“ اس نے نکاح کر لیا مگر غربت بدستور مسلط رہی، وہ پھر شکایت لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر نکاح کا حکم دیا۔ اس نے دوسرا نکاح کر لیا، پھر بھی وہی حال رہا تو وہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر نکاح کا حکم دیا۔ تیسرے نکاح پر بھی غربت دور نہ ہوئی تو اس نے پھر آ کر شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوتھے نکاح کا حکم دیا، اس نے اس پر عمل کیا تو اس کی غربت دور ہو گئی۔ میں نے یہ روایت بہت تلاش کی مگر کسی معتبر کتاب میں نہیں ملی اور نہ یہ روایت نقل کرنے والے کسی صاحب نے اس کا حوالہ دیا ہے۔ ایسی باتوں کا بے سروپا ہونا خود اس کے مضمون سے ظاہر ہوتا ہے۔ ایسے فقیر کو یکے بعد دیگرے چار بیویاں ملتے چلے جانے کی کوئی مثال مشکل ہی سے ملے گی۔ ➏ { وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ:} واؤ عطف سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا عطف پہلے جملے پر ہے جو {” يُغْنِيَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ “} سے خود بخود سمجھ میں آنے کی وجہ سے حذف کر دیا گیا ہے اور یہ اختصار قرآن کی بلاغت کا اعجاز ہے۔ گویا محذوف جملے کو ظاہر کیا جائے تو عبارت یوں ہو گی: {” أَنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهِ فَاللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِيْمٍ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ“} یہاں {” وَاسِعٌ “ } اور {”عَلِيْمٌ“} صفات لانے کی مناسبت یہ ہے کہ اللہ وسعت والا ہے، اس کے ہاں کوئی کمی نہیں، وہ جسے چاہے، خواہ وہ کتنا کنگال کیوں نہ ہو، اسے غنی کر دیتا ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا ہے، اسے معلوم ہے کہ کسے غنی کرنا ہے اور کس طرح اور کن اسباب کے ذریعے سے غنی کرنا ہے۔ (بقاعی)
اور جو نکاح کا موقع نہ پائیں انہیں چاہیے کہ عفت مآبی اختیار کریں، یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے اُن کو غنی کر دے اور تمہارے مملوکوں میں سے جو مکاتبت کی درخواست کریں ان سے مکاتبت کر لو اگر تمہیں معلوم ہو کہ ان کے اندر بھلائی ہے، اور ان کو اُس مال میں سے دو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے اور اپنی لونڈیوں کو ا پنے دنیوی فائدوں کی خاطر قحبہ گری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ خود پاکدامن رہنا چاہتی ہوں، اور جو کوئی اُن کو مجبور کرے تو اِس جبر کے بعد اللہ اُن کے لیے غفور و رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان لوگوں کو پاک دامن رہنا چاہیئے جو اپنا نکاح کرنے کا مقدور نہیں رکھتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے مالدار بنا دے، تمہارے غلاموں میں جو کوئی کچھ تمہیں دے کر آزادی کی تحریر کرانی چاہے تو تم ایسی تحریر انہیں کردیا کرو اگر تم کو ان میں کوئی بھلائی نظر آتی ہو۔ اور اللہ نے جو مال تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے انہیں بھی دو، تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو اور جو انہیں مجبور کردے تو اللہ تعالیٰ ان پر جبر کے بعد بخشش دینے واﻻ اور مہربانی کرنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور چاہیے کہ بچے رہیں وہ جو نکاح کا مقدور نہیں رکھتے یہاں تک کہ اللہ مقدور والا کردے اپنے فضل سے اور تمہارے ہاتھ کی مِلک باندی غلاموں میں سے جو یہ چاہیں کہ کچھ مال کمانے کی شرط پر انہیں آزادی لکھ دو تو لکھ دو اگر ان میں کچھ بھلائی جانو اور اس پر ان کی مدد کرو اللہ کے مال سے جو تم کو دیا اور مجبور نہ کرو اپنی کنیزوں کو بدکاری پر جب کہ وہ بچنا چاہیں تاکہ تم دنیوی زندگی کا کچھ مال چاہو اور جو انہیں مجبور کرے گا تو بیشک اللہ بعد اس کے کہ وہ مجبوری ہی کی حالت پر رہیں بخشنے والا مہربان ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ نکاح کرنے کی قدرت نہیں رکھتے انہیں چاہیے کہ عفت اور ضبط نفس سے کام لیں۔ یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے اور تمہارے مملوکہ غلاموں اور کنیزوں میں سے جو مکاتب بننے کے خواہشمند ہوں۔ تو اگر تمہیں ان میں کوئی بھلائی معلوم ہو تو ان سے مکاتبہ کرلو۔ اور تم اللہ کے مال میں سے انہیں عطا کرو اور اپنی جوان کنیزوں کو محض دنیوی رنگ کا کچھ سامان حاصل کرنے کیلئے بدکاری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں اگر کوئی انہیں مجبور کرے تو بیشک ان کو مجبور کرنے کے بعد بھی اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور حرام سے بہت بچیں وہ لوگ جو نکاح کا کوئی سامان نہیں پاتے، یہاں تک کہ اللہ انھیں اپنے فضل سے غنی کر دے اور وہ لوگ جو مکاتبت ( آزادی کی تحریر) طلب کرتے ہیں، ان میں سے جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ ہیں تو ان سے مکاتبت کر لو، اگر ان میں کچھ بھلائی معلوم کرو اور انھیں اللہ کے مال میں سے دو جو اس نے تمھیں دیا ہے، اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو، اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں، تاکہ تم دنیا کی زندگی کا سامان طلب کرو اور جو انھیں مجبور کرے گا تو یقینا اللہ ان کے مجبور کیے جانے کے بعد بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نکاح اور شرم و حیا کی تعلیم ٭٭
اس میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے احکام بیان فرما دئیے ہیں اولاً نکاح کا۔ علماء کی جماعت کا خیال ہے کہ جو شخص نکاح کی قدرت رکھتا ہو اس پر نکاح کرنا واجب ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ { اے نوجوانو! تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتا ہو، اسے نکاح کر لینا چاہیئے۔ نکاح نظر کو نیچی رکھنے والا شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے طاقت نہ ہو وہ لازمی طور پر روزے رکھے، یہی اس کے لیے خصی ہونا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1905] سنن میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { زیادہ اولاد جن سے ہونے کی امید ہو ان سے نکاح کرو تاکہ نسل بڑھے میں تمہارے ساتھ اور امتوں میں فخر کرنے والا ہوں } }۔ ایک روایت میں ہے { یہاں تک کہ کچے گرے ہوئے بچے کی گنتی کے ساتھ بھی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2050، قال الشيخ الألباني:صحیح] «أَيَامَى» جمع ہے «أَيِّمٍ» کی۔ جوہری رحمہ اللہ کہتے ہیں اہل لغت کے نزدیک بے بیوی کا مرد اور بے خاوند کی عورت کو «أَيِّمٍ» کہتے ہیں، خواہ وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ہو۔ پھر مزید رغبت دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ اگر وہ مسکین بھی ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل و کرم سے مالدار بنا دے گا۔ خواہ وہ آزاد ہوں خواہ غلام ہوں ‘۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”تم نکاح کے بارے میں اللہ کا حکم مانو، وہ تم سے اپناوعدہ پورا کرے گا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”امیری کو نکاح میں طلب کرو۔“ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { تین قسم کے لوگوں کی مدد کا اللہ کے ذمے حق ہے۔ نکاح کرنے والا جو حرام کاری سے بچنے کی نیت سے نکاح کرے۔ وہ لکھت لکھ دینے والا غلام جس کا ارادہ ادائیگی کا ہو، وہ غازی جو اللہ کی راہ میں نکلا ہو } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1655،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اسی کی تایئد میں وہ روایت ہے جس میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا نکاح ایک عورت سے کرا دیا، جس کے پاس سوائے تہبند کے اور کچھ نہ تھا یہاں تک کہ لوہے کی انگوٹھی بھی اس کے پاس سے نہیں نکلی تھی اس فقیری اور مفلسی کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح کر دیا اور مہر یہ ٹھہرایا کہ جو قرآن اسے یاد ہے، اپنی بیوی کو یاد کرا دے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5057] یہ اسی بنا پر کہ نظریں اللہ کے فضل و کرم پر تھیں کہ وہ مالک انہیں وسعت دے گا اور اتنی روزی پہنچائے گا کہ اسے اور اس کی بیوی کو کفالت ہو۔ ایک حدیث اکثر لوگ وارد کیا کرتے ہیں کہ فقیری میں بھی نکاح کیا کرو اللہ تمہیں غنی کر دے گا میری نگاہ سے تو یہ حدیث نہیں گزری۔ نہ کسی قوی سند سے نہ ضعیف سند سے۔ اور نہ ہمیں ایسی لاپتہ روایت کے اس مضمون میں کوئی ضرورت ہے کیونکہ قرآن کی اس آیت اور ان احادیث میں یہ چیز موجود ہے، «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ پھر حکم دیا کہ ’ جنہیں نکاح کا مقدور نہیں وہ حرام کاری سے بچیں ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اے جوان لوگو! تم میں سے جو نکاح کی وسعت رکھتے ہوں، وہ نکاح کر لیں یہ نگاہ نیچی کرنے والا، شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے اس کی طاقت نہ ہو وہ اپنے ذمے روزوں کا رکھنا ضروری کر لے یہی اس کے لیے خصی ہونا ہے } }۔ یہ آیت مطلق ہے اور سورۃ نساء کی آیت اس سے خاص ہے یعنی یہ فرمان آیت «وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلًا أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ» ۱؎ [4-النساء:25] پس لونڈیوں سے نکاح کرنے سے صبر کرنا بہتر ہے۔ اس لیے کہ اس صورت میں اولاد پر غلامی کا حرف آتا ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جو مرد کسی عورت کو دیکھے اور اس کے دل میں خواہش پیدا ہو اسے چاہیئے کہ اگر اس کی بیوی موجود ہو تو اس کے پاس چلا جائے ورنہ اللہ کی مخلوق میں نظریں ڈالے اور صبر کرے یہاں تک کہ اللہ اسے غنی کر دے۔“
اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے فرماتا ہے جو غلاموں کے مالک ہیں کہ ’ اگر ان کے غلام ان سے اپنی آزادگی کی بابت کوئی تحریر کرنی چاہیں تو وہ انکار نہ کریں، غلام اپنی کمائی سے وہ مال جمع کر کے اپنے آقا کو دیدے گا اور آزاد ہو جائے گا ‘۔ اکثر علماء فرماتے ہیں یہ حکم ضروری نہیں فرض و واجب نہیں بلکہ بطور استحباب کے اور خیر خواہی کے ہے۔ آقا کو اختیار ہے کہ غلام جب کوئی ہنر جانتا ہو اور وہ کہے کہ مجھ سے اسی قدر روپیہ لے لو اور مجھے آزاد کر دو تو اسے اختیار ہے خواہ اس قسم کا غلام اس سے اپنی آزادگی کی بابت تحریر چاہے وہ اس کی بات کو قبول کر لے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں، انس رضی اللہ عنہ کا غلام سیرین نے جو مالدار تھا ان سے درخواست کی کہ مجھ سے میری آزادی کی کتابت کرلو۔ انس رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا، دربار فاروقی رضی اللہ عنہ میں مقدمہ گیا، آپ رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور ان کے نہ ماننے پر کوڑے لگوائے اور یہی آیت تلاوت فرمائی یہاں تک کہ انہوں نے تحریر لکھوا دی۔ [ بخاری ]
عطاء رحمہ اللہ سے دونوں قول مروی ہیں۔ امام شافعی رحمۃاللہ علیہ کا قول یہی تھا لیکن نیا قول یہ ہے کہ واجب نہیں۔ کیونکہ حدیث میں ہے { مسلمان کا مال بغیر اس کی دلی خوشی کے حلال نہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:72/5:ضعیف] امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ واجب نہیں۔ میں نے نہیں سنا کہ کسی امام نے کسی آقا کو مجبور کیا ہو کہ وہ اپنے غلام کی آزادگی کی تحریر کر دے، اللہ کا یہ حکم بطور اجازت کے ہے نہ کہ بطور وجوب کے۔ یہی قول امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ کے نزدیک مختار قول وجوب کا ہے۔ خیر سے مراد امانت داری، سچائی، مال اور مال کے حاصل کرنے پر قدرت وغیرہ ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اگر تم اپنے غلاموں میں جو تم سے مکاتب کرنا چاہیں، مال کے کمانے کی صلاحیت دیکھو تو ان کی اس خواہش کو پوری کرو ورنہ نہیں کیونکہ اس صورت میں وہ لوگوں پر اپنا بوجھ ڈالیں گے } }۔ ۱؎ [المراسیل لابی داود:162:مرسل و ضعیف] یعنی ان سے سوال کریں گے اور رقم پوری کرنا چاہیں گے۔ اس کے بعد فرمایا ہے کہ ’ انہیں اپنے مال میں سے کچھ دو ‘۔ یعنی جو رقم ٹھہر چکی ہے، اس میں سے کچھ معاف کر دو، چوتھائی یا تہائی یا آدھا یا کچھ حصہ۔
یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ مال زکوٰۃ سے ان کی مدد کرو آقا بھی اور دوسرے مسلمان بھی اسے مال زکوٰۃ دیں تاکہ وہ مقرر رقم پوری کر کے آزاد ہو جائے۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ جن تین قسم کے لوگوں کی مدد اللہ پر برحق ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے لیکن پہلا قول زیادہ مشہور ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام ابوامیہ نے مکاتبہ کیا تھا جب وہ اپنی رقم کی پہلی قسط لے کر آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جاؤ اپنی اس رقم میں دوسروں سے بھی مدد طلب کرو اس نے جواب دیا کہ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ آپ آخری قسط تک تو مجھے ہی محنت کرنے دیجئیے۔ فرمایا نہیں مجھے ڈر ہے کہ کہیں اللہ کے اس فرمان کو ہم چھوڑ نہ بیٹھیں کہ انہیں اللہ کا وہ مال دو جو اس نے تمہیں دے رکھا ہے۔ پس یہ پہلی قسطیں تھیں جو اسلام میں ادا کی گئیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ شروع شروع میں آپ رضی اللہ عنہ نہ کچھ دیتے تھے نہ معاف فرماتے تھے کیونکہ خیال ہوتا تھا کہ ایسا نہ ہو آخر میں یہ رقم پوری نہ کرسکے تو میرا دیا ہوا مجھے ہی واپس آ جائے۔ ہاں آخری قسطیں ہوتیں تو جو چاہتے اپنی طرف سے معاف کر دیتے۔ ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ { چوتھائی چھوڑ دو }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:397/2:موقوف] لیکن صحیح یہی ہے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اپنی لونڈیوں سے زبردستی بدکاریاں نہ کراؤ ‘۔ جاہلیت کے بدترین طریقوں میں ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ اپنی لونڈیوں کو مجبور کرتے تھے کہ وہ زناکاری کرائیں اور وہ رقم اپنے مالکوں کو دیں۔ اسلام نے آ کر اس بد رسم کو توڑا۔ منقول ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول منافق کے بارے میں اتری ہے، وہ ایسا ہی کرتا تھا تاکہ روپیہ بھی ملے اور لونڈی زادوں سے شان ریاست بھی بڑھے۔ اس کی لونڈی کا نام معاذہ تھا۔ اور روایت میں ہے اس کا نام مسیکہ تھا۔ اور یہ بدکاری سے انکار کرتی تھی۔ جاہلیت میں تو یہ کام چلتا رہا یہاں تک اسے ناجائز اولاد بھی ہوئی لیکن اسلام لانے کے بعد اس نے انکار کر دیا، اس پر اس منافق نے اسے زدوکوب کیا، پس یہ آیت اتری۔ مروی ہے کہ بدر کا ایک قریشی قیدی عبداللہ بن ابی کے پاس تھا وہ چاہتا تھا کہ اس کی لونڈی سے ملے، لونڈی بوجہ اسلام کے حرام کاری سے بچتی تھی۔ عبداللہ کی خواہش تھی کہ یہ اس قریشی سے ملے، اس لیے اسے مجبور کرتا تھا اور مارتا پیٹتا تھا، پس یہ آیت اتری۔
اور روایت میں ہے کہ یہ سردار منافقین اپنی اس لونڈی کو اپنے مہمانوں کی خاطر تواضع کے لیے بھیج دیا کرتا تھا۔ اسلام کے بعد اس لونڈی سے جب یہ ارادہ کیا گیا تو اس نے انکار کر دیا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے اپنی یہ مصیبت بیان کی۔ صدیق رضی اللہ عنہ نے دربار محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ بات پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس لونڈی کو اس کے ہاں نہ بھیجو۔ اس نے لوگوں میں غل مچانا شروع کیا کہ دیکھو محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری لونڈیوں کو چھین لیتا ہے اس پر یہ آسمانی حکم اترا۔ ایک روایت میں ہے کہ مسیکہ اور معاذ دو لونڈیاں دو شخصوں کی تھیں، جو ان سے بدکاری کراتے تھے۔ اسلام کے بعد مسیکہ اور اس کی ماں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی، اس پر یہ آیت اتری۔ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ ’ اگر وہ لونڈیاں پاک دامنی کا ارادہ کریں ‘ اس سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ اگر ان کا ارادہ یہ نہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں کیونکہ اس وقت واقعہ یہی تھا اس لیے یوں فرمایا گیا۔ پس اکثریت اور غلبہ کے طور پر یہ فرمایا گیا ہے کوئی قید اور شرط نہیں ہے۔ اس سے غرض ان کی یہ تھی کہ مال حاصل ہو، اولادیں ہوں جو لونڈیاں غلام بنیں۔ حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگانے کی اجرت، بدکاری کی اجرت، کاہن کی اجرت سے منع فرما دیا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1568] ایک اور روایت میں ہے { زنا کی خرچی اور پچھنے لگانے والی کی قیمت اور کتے کی قیمت خبیث ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1568]
پھر فرماتا ہے ’ جو شخص ان لونڈیوں پر جبر کرے تو انہیں تو اللہ بوجہ ان کی مجبوری بخش دے گا اور ان مالکوں کو جنہوں نے ان پر دباؤ زور زبردستی ڈالی تھی انہیں پکڑ لے گا، اس صورت میں یہی گنہگار رہیں گے ‘۔ بلکہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «رَحِيمٌ» کے بعد «وَإِثْمُهُنَّ عَلَى مَنْ أَكْرَهَهُنَّ» ہے۔ یعنی ’ اس حالت میں جبر اور زبردستی کرنے والوں پر گناہ ہے ‘۔ مرفوع حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے میری امت کی خطا سے، بھول سے اور جن کاموں پر وہ مجبور کر دئیے جائیں، ان پر زبردستی کی جائے ان سے درگزر فرما لیا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:2043،قال الشيخ الألباني:صحیح] ان احکام کو تفصیل وار بیان کرنے کے بعد بیان ہوتا ہے کہ ’ ہم نے اپنے کلام قرآن کریم کی یہ روشن و واضح آیات تمہارے سامنے بیان فرما دیں۔ اگلے لوگوں کے واقعات بھی تمہارے سامنے آچکے کہ ان کی مخالفت حق کا انجام کیا اور کیسا ہوا؟ وہ ایک افسانہ بنا دئے گئے اور آنے والوں کے لیے عبرتناک واقعہ بنا دیئے گئے کہ متقی ان سے عبرت حاصل کریں اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچیں ‘۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے، ”قرآن میں تمہارے اختلاف کے فیصلے موجود ہیں، تم سے پہلے زمانہ کے لوگوں کی خبریں موجود ہیں، بعد میں ہونے والے امور کے احوال کا بیان ہے۔ یہ مفصل ہے بکواس نہیں اسے جو بھی بے پرواہی سے چھوڑے گا، اسے اللہ برباد کر دے گا اور جو اس کے سوا دوسری کتاب میں ہدایت تلاش کرے گا اسے اللہ گمراہ کر دے گا۔“ ۱؎ [سنن ترمذي:2906،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 33) ➊ {وَ لْيَسْتَعْفِفِ الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ نِكَاحًا: ”عَفَّ يَعِفُّ عَفَافًا وَ عِفَّةً“} اس چیز سے باز رہنا جو حلال نہ ہو یا جمیل نہ ہو۔ {”اِسْتَعَفَّ“} اور {” تَعَفَّفَ“} کا بھی یہی معنی ہے۔ (القاموس) {” وَ لْيَسْتَعْفِفِ “} میں حروف کے اضافے کی وجہ سے معنی میں اضافہ ہو گیا، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور حرام سے بہت بچیں۔“ یعنی جو لوگ کسی وجہ سے نکاح نہ کر سکیں، مثلاً رشتہ نہ ملے، یا مہر میسر نہ ہو، یا غلام کو اس کا مالک نکاح کی اجازت نہ دے، یا کسی اور وجہ سے حالات سازگار نہ ہوں تو وہ حرام سے بچنے کی بہت زیادہ کوشش کریں، یعنی زنا، قوم لوط کے عمل اور استمنا بالید وغیرہ سے باز رہیں۔ اس کوشش میں نگاہ نیچی رکھنا، بلااجازت دوسروں کے گھروں میں نہ جانا اور خیالات کو پاکیزہ رکھنا وغیرہ آداب شامل ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کی اس منہ زور قوت یعنی شہوت کی آفات سے محفوظ رہنے کے لیے نکاح کا حکم دیا اور جسے نکاح میسر نہ ہو اسے زیادہ سے زیادہ نفلی روزے رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”یہ اس کے لیے (شہوت) کچلنے کا باعث ہو گا۔“ [ دیکھیے بخاري: ۱۹۰۵ ] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہوت کو روزے کے ساتھ کچلنے کا حکم دیا، کیونکہ اس سے شہوت کمزور ہونے کے علاوہ ضبط نفس کی عادت بھی پڑتی ہے۔ بعض اوقات خیال ہوتا ہے کہ روزے سے تو شہوت قوی ہوئی ہے، یہ خیال فرض روزوں یا کبھی کبھار روزے کی حد تک تو صحیح ہے، کیونکہ جب صحت بہتر ہوتی ہے تو ہر قوت مضبوط ہوتی ہے، مگر مسلسل روزے رکھنے کا نتیجہ وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا اور آپ کے تجویز کر دہ نسخے میں ضبط نفس کی عادت بھی ہے اور کوئی نقصان بھی نہیں، کیونکہ روزے چھوڑنے سے وہ قوت پھر بحال ہو جائے گی جو افزائش نسل اور زمین کی رونق کا ذریعہ ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص مسلسل دھنیا، یا کافور، یا پوٹاشیم برومائید، یا ایسی دوائیں استعمال کرے جن سے شہوت ختم ہو جائے تو اس کا نتیجہ نہایت نقصان دہ نکلتا ہے، کیونکہ دوائیں چھوڑنے کے باوجود بعض اوقات وہ قوت دوبارہ بحال ہی نہیں ہوتی، یہ ایک قسم کا خصی ہونا ہے، جو حرام ہے۔ ➋ { حَتّٰى يُغْنِيَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ:} اس میں پاک دامن رہنے والوں کے لیے وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں غنی کرے گا اور ان کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا۔ مومن کا اللہ کے وعدے پر یقین اس کے لیے انتظار کی مشقت کو آسان بنا دیتا ہے۔ (سعدی) عرفی اگر بگریہ میسر شدے وصال صد سال می تو اں بتمنا گریستن ”عرفی! اگر رونے سے وصل کی دولت میسر ہو سکتی تو تمنا میں سو سال بھی رویا جا سکتا ہے۔“ ➌ {وَ الَّذِيْنَ يَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ …: ” الْكِتٰبَ “} باب مفاعلہ کا مصدر ہے، جیسے {”قَاتَلَ يُقَاتِلُ مُقَاتَلَةً وَ قِتَالًا“} ہے، یعنی غلام اور اس کے مالک کے درمیان آزادی کی تحریر کہ غلام اتنی رقم قسطوں میں فلاں مدت تک ادا کرے گا تو اسے آزادی مل جائے گی، اسے {”اَلْكِتَابُ“، ”اَلْكِتَابَةُ“ } یا {”اَلْمُكَاتَبَةُ “} کہتے ہیں۔ پچھلی آیت میں مالکوں کو اپنے صالح غلاموں اور لونڈیوں کا نکاح کرنے کا حکم دیا۔ ان کے نکاح میں دو بڑی رکاوٹیں ہو سکتی تھیں، ایک یہ کہ مالک انھیں نکاح کی اجازت نہ دے، دوسری یہ کہ وہ خود نکاح سے اجتناب کریں، کیونکہ غلام ہوتے ہوئے ان کے جتنے بچے پیدا ہوں گے، وہ ان کی طرح ان کے مالک کے غلام ہوں گے۔ ان دونوں رکاوٹوں کا حل یہ تھا کہ وہ آزادی حاصل کرنے کی کوشش کریں اور اس کے لیے مالک کے ساتھ مکاتبت کر لیں۔ اللہ تعالیٰ نے مالکوں کو مکاتبت کا تقاضا کرنے والے لونڈی اور غلاموں کے ساتھ مکاتبت کرنے کا حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مکاتبت کا تقاضا کرنے والے غلاموں کے ساتھ مکاتبت سے انکار جائز نہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ امر وجوب کے لیے ہوتا ہے، اگر اس کے خلاف کوئی قرینہ نہ ہو۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں یہی آیت: «{ وَ الَّذِيْنَ يَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ …}» درج کرنے کے بعد لکھا ہے کہ ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء (تابعی کبیر) سے کہا: ”کیا مجھ پر واجب ہے کہ میں اپنے غلام سے مکاتبت کروں، جب مجھے معلوم ہو کہ اس کے پاس مال ہے؟“ تو انھوں نے فرمایا: ”میں تو اسے واجب ہی سمجھتا ہوں۔“ عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے عطاء سے پوچھا: ”کیا آپ یہ بات کسی سے نقل کرتے ہیں؟“ انھوں نے فرمایا: ”نہیں“ پھر انھوں نے مجھے بتایا کہ انھیں موسیٰ بن انس نے بیان کیا کہ (مشہور امام محمد بن سیرین کے والد) سیرین نے انس رضی اللہ عنہ سے مکاتبت کا تقاضا کیا اور وہ بہت مال والا تھا، انس رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا تو سیرین، عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا، انھوں نے فرمایا: ”اس سے مکاتبت کرو۔“ انس رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھتے ہوئے انھیں درّے کے ساتھ مارا: «{ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِيْهِمْ خَيْرًا }» تو انس رضی اللہ عنہ نے اس سے مکاتبت کر لی۔ [ بخاري، المکاتب، باب المکاتب و نجومہ …، قبل ح: ۲۵۶۰ ] اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی مالک غلام کے ساتھ مکاتبت کرنے سے انکار کر دے تو غلام عدالت میں جا سکتا ہے اور حاکم مالک کو مکاتبت پر مجبور کرے گا، جیسا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے درّے کے ساتھ مارنے سے ثابت ہوتا ہے۔ ➍ { اِنْ عَلِمْتُمْ فِيْهِمْ خَيْرًا:} بعض اہل علم نے خیر سے مراد مال لیا ہے، مگر ظاہر ہے کہ اس صورت میں {”إِنْ عَلِمْتُمْ لَهُمْ خَيْرًا“} ہونا چاہیے تھا، یعنی اگر تم ان کے پاس خیر کا علم رکھتے ہو، جبکہ یہاں الفاظ یہ ہیں کہ اگر تم ان میں خیر کا علم رکھتے ہو۔ اس لیے خیر کا مطلب یہ ہے کہ ان میں اتنی استعداد اور قوت و امانت ہو کہ وہ کمائی کرکے اپنی قیمت ادا کر سکتے ہوں، مکاتبت کو کچھ عرصہ کام سے جان چھڑانے کا بہانہ نہ بنا رہے ہوں اور آزاد ہونے کے بعد چوری یا خیانت کے بغیر اپنی روزی کما سکتے ہوں، تاکہ آزاد ہو کر گدائی نہ کرتے پھریں اور مسلم معاشرے پر بوجھ نہ بنیں۔ خیر میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ نیک اور پاک باز ہوں، تاکہ آزاد ہو کر بدکاری اور چوری ڈاکے کا ارتکاب نہ کرتے پھریں۔ بعض اہلِ علم کا کہنا ہے کہ مالک کے لیے مکاتبت کا تقاضا قبول کرنا مستحب ہے، واجب نہیں، کیونکہ یہ فیصلہ اس نے کرنا ہے کہ اس میں خیر ہے یا نہیں، پھر غلام اس کا مال ہے جو زبردستی اس سے لینا جائز نہیں۔ مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے مکاتبت قبول کرنے کا حکم دیا ہے تو اس غلام کا حکم عام مال والا نہیں ہو سکتا اور غلام کو حق حاصل ہے کہ اگر مالک خواہ مخواہ اس میں خیر نہ ہو نے کا بہانہ بنا کر مکاتبت سے انکار کرتا ہے تو وہ اسلامی عدالت میں چلا جائے، جو سارے حالات کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے گی کہ مالک کی بات درست ہے یا محض بہانہ ہے، جیسا کہ سیرین رحمہ اللہ کے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جانے سے ظاہر ہے۔ ➎ { وَ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِيْۤ اٰتٰىكُمْ:} یہ حکم مکاتب کے مالک کو بھی ہے کہ وہ طے شدہ رقم کا ایک حصہ اسے چھوڑ دے، یا جو کچھ اس سے لیا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ واپس کر دے اور عام مسلمانوں کو بھی کہ ایسے غلاموں کو مال دے کر انھیں آزادی حاصل کرنے میں تعاون کریں۔ تعاون کی ترغیب کے لیے ارشاد ہے کہ تم جو مال انھیں دو گے وہ اللہ ہی کا عطا کردہ ہے اور اللہ تعالیٰ تمھیں حکم دے رہا ہے کہ اس کے دیے ہوئے مال میں سے انھیں دو، کیونکہ ایسے غلاموں کی مدد اس نے اپنے آپ پر حق قرار دی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَی اللّٰهِ عَزَّ وَ جَلَّ عَوْنُهُمُ الْمُكَاتَبُ الَّذِيْ يُرِيْدُ الْأَدَاءَ وَالنَّاكِحُ الَّذِيْ يُرِيْدُ الْعَفَافَ وَالْمُجَاهِدُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ] [ نسائي، النکاح، باب معونۃ اللہ الناکح الذي یرید العفاف: ۳۲۲۰۔ ترمذي: ۱۶۵۵، قال الترمذي والألباني حسن ] ”تین آدمیوں کی مدد اللہ پر حق ہے، وہ مکاتب جو ادائیگی کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ نکاح کرنے والا جو حرام سے بچنے کا ارادہ رکھتا ہے اور مجاہد فی سبیل اللہ۔“ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے مصارف میں غلاموں کی آزادی کو باقاعدہ ایک مصرف مقرر فرمایا ہے، فرمایا: «{ وَ فِی الرِّقَابِ }» [ التوبۃ: ۶۰ ] یعنی گردنوں کو غلامی سے آزاد کرانے میں زکوٰۃ خرچ کی جائے۔ اس لیے اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیت المال میں سے مکاتب غلاموں کی رہائی کے لیے رقم خرچ کرے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک {” فَكُّ رَقَبَةٍ “} (گردن چھڑانا) عمل صالح کی دشوار گھاٹی کو عبور کرنے کا حصہ ہے۔ دیکھیے سورۂ بلد (۱۳)۔ مکاتب اپنی رہائی کے لیے لوگوں اور حکومت سے مالی امداد کی درخواست کر سکتا ہے، جیسا کہ بریرہ رضی اللہ عنھا نے اپنی مکاتبت میں امداد کے لیے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا سے درخواست کی اور انھوں نے پوری رقم یک مشت ادا کرکے انھیں خرید لیا اور آزاد کر دیا۔ [ دیکھیے بخاري: ۲۱۶۸ ] ➏ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ عہد نبوی میں غلام تین قسم کے تھے، ایک وہ جو اصل میں آزاد تھے، لیکن کسی نے اغوا کر کے یا زبردستی غلام بنا لیا، دوسرے وہ جو نسل در نسل غلام چلے آتے تھے اور تیسرے وہ جو جنگ میں گرفتار کرکے لونڈی یا غلام بنائے جاتے تھے۔ ان غلاموں کی خرید و فروخت ہوتی تھی اور مالک ان کی محنت کو اپنی آمدنی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ جس کے پاس جتنے زیادہ غلام ہوتے وہ اتنا ہی صاحب حیثیت سمجھا جاتا۔ اسلام نے جو غلام موجود تھے ان کی آزادی کے لیے ہر ممکن صورت اختیار فرمائی، مگر غلامی کو اس طرح ممنوع قرار نہیں دیا جس طرح شراب یا سود کو ممنوع قرار دیا اور نہ تمام غلام آزاد کرنے کا جبری حکم صادر فرمایا، بلکہ غلام آزاد کرنے کی ترغیب دی، اس کا ثواب بیان فرمایا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: [ مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللّٰهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنَ النَّارِ حَتّٰی يُعْتِقَ فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ ] [ ترمذي، النذور و الأیمان، باب ما جاء في ثواب من أعتق رقبۃ: ۱۵۴۱، قال الترمذي حسن صحیح وقال الألباني صحیح ] ”جو شخص کوئی مومن گردن آزاد کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کا ایک عضو آزاد کرے گا، یہاں تک کہ اس کی شرم گاہ کے بدلے اس کی شرم گاہ کو آزاد کرے گا۔“ کئی کاموں کا کفارہ گردن آزاد کرنا مقرر فرمایا، مثلاً قسم، ظہار، قتلِ خطا اور فرض روزے کی حالت میں جماع کے کفارے میں ترجیح غلام آزاد کرنے کو دی۔ اس کے باوجود غلامی کو ممنوع اس لیے قرار نہیں دیا کہ قیامت تک جنگیں ہوتی رہیں گی اور قیدی بنتے رہیں گے۔ ایسے مواقع پر ایک غیر مسلم حکومت کے فوجی مفتوح قوم کی عورتوں پر جس طرح کی دست درازیاں کرتے اور ظلم و ستم ڈھاتے ہیں وہ ڈھکی چھپی بات نہیں۔ گزشتہ دونوں عالمگیر جنگوں میں بے بس قیدی عورتوں میں سے ایک ایک عورت سے جس طرح کئی کئی فوجیوں نے اپنی ہوس پوری کی اور جس درندگی کا ثبوت دیا وہ ان نام نہاد مہذب بھیڑیوں کے ماتھے پر لعنت کا بدترین داغ ہے۔ ان بیچاریوں کی صحت یا عزت یا اولاد کا ذمہ دار بننے کے لیے کوئی تیار نہیں ہوتا، جب کہ ہر ایک اپنی ہوس پوری کرنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرتا ہے۔ اسلام نے ایسی فحاشی اور درندگی کو حرام قرار دیا اور لونڈیاں بنانے کی پاکیزہ راہ کھولی، جس میں اسیر عورت ایک شخص کی لونڈی ہوتی ہے، صرف اس کے لیے اس سے بیوی کی طرح فائدہ اٹھانا جائز ہوتا ہے۔ اس سے پیدا ہونے والی اولاد بیوی سے پیدا ہونے والی اولاد کی طرح باپ کی وارث ہوتی ہے اور بچوں کی ماں بن جانے کی صورت میں وہ مالک کی وفات کے بعد خود بخود آزاد ہو جاتی ہے۔ اس کے وارث اسے آزاد کروانا چاہیں تو کسی حکومت سے معاملہ کرنے کے بجائے اس کے مالک سے لین دین کرکے آسانی کے ساتھ آزاد کروا سکتے ہیں۔ غرض اسلام کا غلامی کی اجازت دینا مردوں اور عورتوں کی پاکیزگی اور عفت کا ضامن ہے۔ کفار نے غلامی کو سر ے سے ممنوع قرار دے کر قیدی بننے والے مردوں اور عورتوں پر کوئی احسان نہیں کیا، بلکہ ظلم و ستم اور بدکاری و درندگی کا دروازہ کھولا ہے اور یہی کفر کا نتیجہ ہے، جب کہ اسلام عدل، رحم، پاکیزگی اور پاک دامنی کا ضامن ہے اور غلاموں اور لونڈیوں کی سہولت اور آسائش کا اہتمام کرتا ہے اور ہر ممکن طریقے سے انھیں آزادی دلانے کے راستے کھولتا ہے۔ ➐ {وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَيٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ …: ” الْبِغَآءِ “} کا معنی زنا ہے، مگر یہ لفظ صرف عورت کے زنا پر بولا جاتا ہے، کہا جاتا ہے: {”بَغَتْ، تَبْغِيْ بِغَاءً، فَهِيَ بَغِيٌّ وَ لِلْجَمَاعَةِ بَغَايَا۔“} {”فَتَيَاتٌ“ ” فَتَاةٌ “} کی جمع ہے، معنی اس کا جوان لڑکی ہے، جیسا کہ {”فَتًي“} کا معنی جوان لڑکا ہے۔ عام طور پر غلام اور لونڈی پر {”عَبْدٌ“} اور {”أَمَةٌ“} کا لفظ بولا جاتا ہے، جیسا کہ پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ اَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآىِٕكُمْ }» اس لیے غلام اور لونڈی پر {”عَبْدٌ“} اور {”أَمَةٌ“} کا لفظ بولنا جائز ہے، مگر بہتر یہ ہے کہ غلام کے لیے {”فَتًي“} اور لونڈی کے لیے {”فَتَاةٌ“} کا لفظ بولا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ عَبْدِيْ وَلَا أَمَتِيْ، وَلْيَقُلْ فَتَايَ وَفَتَاتِيْ وَغُلاَمِيْ ] [ بخاری، العتق، باب کراھیۃ التطاول علی الرقیق: ۲۵۵۲، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”تم میں سے کوئی شخص {”عَبْدِيْ“} اور {”أَمَتِيْ“} نہ کہے، بلکہ {”فَتَايَ“، ”فَتَاتِيْ“} اور{ ”غُلَامِيْ“ } کہے۔“ یہاں لونڈیوں کے لیے {”إِمَائَكُمْ“} کے بجائے {” فَتَيٰتِكُمْ “} کا لفظ استعمال کرنے میں ان لونڈیوں کی فتوت (جواں مردی) کا بیان مقصود ہے کہ وہ لونڈیاں ہو کر بھی پاک دامن رہنا چاہتی ہیں۔ (بقاعی) یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو، اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں۔“ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ پاک دامن نہ رہنا چاہیں تو انھیں بدکاری پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ اہل علم نے اس کا دو طرح سے جواب دیا ہے، ایک یہ کہ بدکاری پر مجبور اسی کو کیا جاتا ہے جو پاک دامن رہنا چاہے، جو پاک دامن رہنا ہی نہ چاہے اسے بدکاری پر مجبور کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے کہ کہا جائے اسے بدکاری پر مجبور نہ کرو۔ دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ لفظ {” اِنْ “ } (اگر) یہاں شرط کے لیے نہیں بلکہ اس واقعہ کے بیان کے لیے ہے جس پر یہ آیت اتری۔ واقعہ یہ تھا کہ عبدا للہ بن ابی اور اس قسم کے بدقماش اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور کرتے تھے، جب کہ وہ پاک دامن رہنا چاہتی تھیں۔ چنانچہ جابر بن عبدا للہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن ابی ابن سلول کی ایک لونڈی کا نام مُسیکہ تھا اور دوسری کا نام امیمہ تھا، وہ انھیں بدکاری پر مجبور کرتا تھا، ان دونوں نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَيٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَاوَ مَنْ يُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [ مسلم، التفسیر، باب في قولہ تعالٰی: «ولا تكرهوا فتياتكم علي البغاء» : 3029/27 ] اس کی ایک مثال یہ آیت ہے: «{ وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ يَّفْتِنَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا }» [ النساء: ۱۰۱ ] ”اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ نماز کچھ کم کر لو، اگر ڈرو کہ تمھیں وہ لوگ فتنے میں ڈال دیں گے جنھوں نے کفر کیا۔“ یہاں خوف کا ذکر شرط کے لیے نہیں بلکہ اس واقعہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہے جس موقع پر یہ آیت اتری تھی۔ یہ دوسرا جواب پہلے کی بہ نسبت زیادہ صحیح ہے، کیونکہ لونڈیاں پاک دامن نہ بھی رہنا چاہیں تو ضروری نہیں کہ وہ اس شخص سے زنا پر بھی راضی ہوں جس پر ان کا مالک انھیں مجبور کر رہا ہے۔ ➑ { لِتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا:} اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر دنیا کا مال طلب کرنا مقصود نہ ہو تو لونڈیوں سے زنا کروایا جا سکتا ہے، بلکہ یہ بھی بیان واقعہ کے لیے ہے کہ یہ کام کرنے والوں کا مقصد دنیا کے سازو سامان کی طلب تھا۔ چنانچہ صحیح مسلم ہی کی ایک روایت میں ہے کہ عبد اللہ بن ابی اپنی ایک لونڈی سے کہا کرتا تھا کہ جاؤ اور ہمارے لیے کچھ تلاش کرکے لاؤ، تو اس پر یہ آیت اتری۔ [ دیکھیے مسلم: ۳۰۲۹ ] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کی بدکاری کی کمائی سے منع فرمایا، ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کی آمدنی اور کاہن کی شیرینی سے منع فرمایا۔“ [ بخاري، البیوع، باب ثمن الکلب: ۲۲۳۷ ] ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا يَحِلُّ ثَمَنُ الْكَلْبِ وَلَا حُلْوَانُ الْكَاهِنِ وَلَا مَهْرُ الْبَغِيِّ ] [ نسائي، الصید والذبائح، باب النھي عن ثمن الکلب: ۴۲۹۸ ] ”نہ کتے کی قیمت حلال ہے، نہ کاہن کی شیرینی اور نہ زانیہ کی آمدنی۔“ ➒ { وَ مَنْ يُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ:} زنا ایک ایسا فعل ہے کہ مجبور ہو کر کرنے سے بھی نفس کی لذت کا دخل اس میں ہو ہی جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لونڈیوں کو مجبور کیے جانے کے بعد ان کی گناہ میں شرکت پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے لیے غفور و رحیم ہے، ان کا گناہ مجبور کرنے والوں پر ہے۔ علی بن ابی طلحہ کی روایت سے ابن عباس رضی اللہ عنھما کی تفسیر یہی ہے اور یہی ظاہر بھی ہے اور راجح بھی۔ تفسیر سعدی میں ہے: ”اس آیت میں لونڈیوں کو زنا پر مجبور کرنے والوں کو توبہ کی دعوت دی گئی ہے کہ وہ بھی اگر توبہ کریں تو اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کرنے کے گناہ کے بعد بھی غفور و رحیم ہے، اس لیے انھیں چاہیے کہ اللہ کی جناب میں توبہ کریں اور آئندہ اس جرم سے باز آ جائیں۔“ اس آیت کے علاوہ اللہ کی رحمت کی ایک جھلک اس آیت میں بھی دکھائی دیتی ہے: «{ اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ }» [ البروج: ۱۰ ] ”یقینا وہ لوگ جنھوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو آزمائش میں ڈالا، پھر انھوں نے توبہ نہیں کی تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لیے جلنے کا عذاب ہے۔“ کوئی حد ہے اللہ تعالیٰ کی صفت مغفرت و رحمت کی کہ اس کے دوستوں کو آگ میں جلا کر تماشا دیکھنے والوں کے لیے بھی جہنم کے عذاب کی وعید تب ہے جب انھوں نے توبہ نہ کی ہو۔
ہم نے صاف صاف ہدایت دینے والی آیات تمہارے پاس بھیج دی ہیں، اور ان قوموں کی عبر ت ناک مثالیں بھی ہم تمہارے سامنے پیش کر چکے ہیں جو تم سے پہلے ہو گزری ہیں، اور وہ نصیحتیں ہم نے کر دی ہیں جو ڈرنے والوں کے لیے ہوتی ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے تمہاری طرف کھلی اور روشن آیتیں اتار دی ہیں اور ان لوگوں کی کہاوتیں جو تم سے پہلے گزرچکے ہیں اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے اتاریں تمہاری طرف روشن آیتیں اور کچھ ان لوگوں کا بیان جو تم سے پہلے ہو گزرے اور ڈر والوں کے لیے نصیحت،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک ہم نے تم لوگوں کی طرف واضح آیتیں نازل کی ہیں اور تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی مثالیں بھی اور پرہیزگاروں کیلئے پند و نصیحت بھی۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تمھاری طرف کھول کر بیان کرنے والی آیات اور ان لوگوں کا کچھ حال جو تم سے پہلے گزرے اور متقی لوگوں کے لیے عظیم نصیحت نازل کی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نکاح اور شرم و حیا کی تعلیم ٭٭
اس میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے احکام بیان فرما دئیے ہیں اولاً نکاح کا۔ علماء کی جماعت کا خیال ہے کہ جو شخص نکاح کی قدرت رکھتا ہو اس پر نکاح کرنا واجب ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ { اے نوجوانو! تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتا ہو، اسے نکاح کر لینا چاہیئے۔ نکاح نظر کو نیچی رکھنے والا شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے طاقت نہ ہو وہ لازمی طور پر روزے رکھے، یہی اس کے لیے خصی ہونا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1905] سنن میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { زیادہ اولاد جن سے ہونے کی امید ہو ان سے نکاح کرو تاکہ نسل بڑھے میں تمہارے ساتھ اور امتوں میں فخر کرنے والا ہوں } }۔ ایک روایت میں ہے { یہاں تک کہ کچے گرے ہوئے بچے کی گنتی کے ساتھ بھی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2050، قال الشيخ الألباني:صحیح] «أَيَامَى» جمع ہے «أَيِّمٍ» کی۔ جوہری رحمہ اللہ کہتے ہیں اہل لغت کے نزدیک بے بیوی کا مرد اور بے خاوند کی عورت کو «أَيِّمٍ» کہتے ہیں، خواہ وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ہو۔ پھر مزید رغبت دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ اگر وہ مسکین بھی ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل و کرم سے مالدار بنا دے گا۔ خواہ وہ آزاد ہوں خواہ غلام ہوں ‘۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”تم نکاح کے بارے میں اللہ کا حکم مانو، وہ تم سے اپناوعدہ پورا کرے گا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”امیری کو نکاح میں طلب کرو۔“ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { تین قسم کے لوگوں کی مدد کا اللہ کے ذمے حق ہے۔ نکاح کرنے والا جو حرام کاری سے بچنے کی نیت سے نکاح کرے۔ وہ لکھت لکھ دینے والا غلام جس کا ارادہ ادائیگی کا ہو، وہ غازی جو اللہ کی راہ میں نکلا ہو } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1655،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اسی کی تایئد میں وہ روایت ہے جس میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا نکاح ایک عورت سے کرا دیا، جس کے پاس سوائے تہبند کے اور کچھ نہ تھا یہاں تک کہ لوہے کی انگوٹھی بھی اس کے پاس سے نہیں نکلی تھی اس فقیری اور مفلسی کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح کر دیا اور مہر یہ ٹھہرایا کہ جو قرآن اسے یاد ہے، اپنی بیوی کو یاد کرا دے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5057] یہ اسی بنا پر کہ نظریں اللہ کے فضل و کرم پر تھیں کہ وہ مالک انہیں وسعت دے گا اور اتنی روزی پہنچائے گا کہ اسے اور اس کی بیوی کو کفالت ہو۔ ایک حدیث اکثر لوگ وارد کیا کرتے ہیں کہ فقیری میں بھی نکاح کیا کرو اللہ تمہیں غنی کر دے گا میری نگاہ سے تو یہ حدیث نہیں گزری۔ نہ کسی قوی سند سے نہ ضعیف سند سے۔ اور نہ ہمیں ایسی لاپتہ روایت کے اس مضمون میں کوئی ضرورت ہے کیونکہ قرآن کی اس آیت اور ان احادیث میں یہ چیز موجود ہے، «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ پھر حکم دیا کہ ’ جنہیں نکاح کا مقدور نہیں وہ حرام کاری سے بچیں ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اے جوان لوگو! تم میں سے جو نکاح کی وسعت رکھتے ہوں، وہ نکاح کر لیں یہ نگاہ نیچی کرنے والا، شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے اس کی طاقت نہ ہو وہ اپنے ذمے روزوں کا رکھنا ضروری کر لے یہی اس کے لیے خصی ہونا ہے } }۔ یہ آیت مطلق ہے اور سورۃ نساء کی آیت اس سے خاص ہے یعنی یہ فرمان آیت «وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلًا أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ» ۱؎ [4-النساء:25] پس لونڈیوں سے نکاح کرنے سے صبر کرنا بہتر ہے۔ اس لیے کہ اس صورت میں اولاد پر غلامی کا حرف آتا ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جو مرد کسی عورت کو دیکھے اور اس کے دل میں خواہش پیدا ہو اسے چاہیئے کہ اگر اس کی بیوی موجود ہو تو اس کے پاس چلا جائے ورنہ اللہ کی مخلوق میں نظریں ڈالے اور صبر کرے یہاں تک کہ اللہ اسے غنی کر دے۔“
اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے فرماتا ہے جو غلاموں کے مالک ہیں کہ ’ اگر ان کے غلام ان سے اپنی آزادگی کی بابت کوئی تحریر کرنی چاہیں تو وہ انکار نہ کریں، غلام اپنی کمائی سے وہ مال جمع کر کے اپنے آقا کو دیدے گا اور آزاد ہو جائے گا ‘۔ اکثر علماء فرماتے ہیں یہ حکم ضروری نہیں فرض و واجب نہیں بلکہ بطور استحباب کے اور خیر خواہی کے ہے۔ آقا کو اختیار ہے کہ غلام جب کوئی ہنر جانتا ہو اور وہ کہے کہ مجھ سے اسی قدر روپیہ لے لو اور مجھے آزاد کر دو تو اسے اختیار ہے خواہ اس قسم کا غلام اس سے اپنی آزادگی کی بابت تحریر چاہے وہ اس کی بات کو قبول کر لے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں، انس رضی اللہ عنہ کا غلام سیرین نے جو مالدار تھا ان سے درخواست کی کہ مجھ سے میری آزادی کی کتابت کرلو۔ انس رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا، دربار فاروقی رضی اللہ عنہ میں مقدمہ گیا، آپ رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور ان کے نہ ماننے پر کوڑے لگوائے اور یہی آیت تلاوت فرمائی یہاں تک کہ انہوں نے تحریر لکھوا دی۔ [ بخاری ]
عطاء رحمہ اللہ سے دونوں قول مروی ہیں۔ امام شافعی رحمۃاللہ علیہ کا قول یہی تھا لیکن نیا قول یہ ہے کہ واجب نہیں۔ کیونکہ حدیث میں ہے { مسلمان کا مال بغیر اس کی دلی خوشی کے حلال نہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:72/5:ضعیف] امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ واجب نہیں۔ میں نے نہیں سنا کہ کسی امام نے کسی آقا کو مجبور کیا ہو کہ وہ اپنے غلام کی آزادگی کی تحریر کر دے، اللہ کا یہ حکم بطور اجازت کے ہے نہ کہ بطور وجوب کے۔ یہی قول امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ کے نزدیک مختار قول وجوب کا ہے۔ خیر سے مراد امانت داری، سچائی، مال اور مال کے حاصل کرنے پر قدرت وغیرہ ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اگر تم اپنے غلاموں میں جو تم سے مکاتب کرنا چاہیں، مال کے کمانے کی صلاحیت دیکھو تو ان کی اس خواہش کو پوری کرو ورنہ نہیں کیونکہ اس صورت میں وہ لوگوں پر اپنا بوجھ ڈالیں گے } }۔ ۱؎ [المراسیل لابی داود:162:مرسل و ضعیف] یعنی ان سے سوال کریں گے اور رقم پوری کرنا چاہیں گے۔ اس کے بعد فرمایا ہے کہ ’ انہیں اپنے مال میں سے کچھ دو ‘۔ یعنی جو رقم ٹھہر چکی ہے، اس میں سے کچھ معاف کر دو، چوتھائی یا تہائی یا آدھا یا کچھ حصہ۔
یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ مال زکوٰۃ سے ان کی مدد کرو آقا بھی اور دوسرے مسلمان بھی اسے مال زکوٰۃ دیں تاکہ وہ مقرر رقم پوری کر کے آزاد ہو جائے۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ جن تین قسم کے لوگوں کی مدد اللہ پر برحق ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے لیکن پہلا قول زیادہ مشہور ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام ابوامیہ نے مکاتبہ کیا تھا جب وہ اپنی رقم کی پہلی قسط لے کر آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جاؤ اپنی اس رقم میں دوسروں سے بھی مدد طلب کرو اس نے جواب دیا کہ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ آپ آخری قسط تک تو مجھے ہی محنت کرنے دیجئیے۔ فرمایا نہیں مجھے ڈر ہے کہ کہیں اللہ کے اس فرمان کو ہم چھوڑ نہ بیٹھیں کہ انہیں اللہ کا وہ مال دو جو اس نے تمہیں دے رکھا ہے۔ پس یہ پہلی قسطیں تھیں جو اسلام میں ادا کی گئیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ شروع شروع میں آپ رضی اللہ عنہ نہ کچھ دیتے تھے نہ معاف فرماتے تھے کیونکہ خیال ہوتا تھا کہ ایسا نہ ہو آخر میں یہ رقم پوری نہ کرسکے تو میرا دیا ہوا مجھے ہی واپس آ جائے۔ ہاں آخری قسطیں ہوتیں تو جو چاہتے اپنی طرف سے معاف کر دیتے۔ ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ { چوتھائی چھوڑ دو }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:397/2:موقوف] لیکن صحیح یہی ہے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اپنی لونڈیوں سے زبردستی بدکاریاں نہ کراؤ ‘۔ جاہلیت کے بدترین طریقوں میں ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ اپنی لونڈیوں کو مجبور کرتے تھے کہ وہ زناکاری کرائیں اور وہ رقم اپنے مالکوں کو دیں۔ اسلام نے آ کر اس بد رسم کو توڑا۔ منقول ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول منافق کے بارے میں اتری ہے، وہ ایسا ہی کرتا تھا تاکہ روپیہ بھی ملے اور لونڈی زادوں سے شان ریاست بھی بڑھے۔ اس کی لونڈی کا نام معاذہ تھا۔ اور روایت میں ہے اس کا نام مسیکہ تھا۔ اور یہ بدکاری سے انکار کرتی تھی۔ جاہلیت میں تو یہ کام چلتا رہا یہاں تک اسے ناجائز اولاد بھی ہوئی لیکن اسلام لانے کے بعد اس نے انکار کر دیا، اس پر اس منافق نے اسے زدوکوب کیا، پس یہ آیت اتری۔ مروی ہے کہ بدر کا ایک قریشی قیدی عبداللہ بن ابی کے پاس تھا وہ چاہتا تھا کہ اس کی لونڈی سے ملے، لونڈی بوجہ اسلام کے حرام کاری سے بچتی تھی۔ عبداللہ کی خواہش تھی کہ یہ اس قریشی سے ملے، اس لیے اسے مجبور کرتا تھا اور مارتا پیٹتا تھا، پس یہ آیت اتری۔
اور روایت میں ہے کہ یہ سردار منافقین اپنی اس لونڈی کو اپنے مہمانوں کی خاطر تواضع کے لیے بھیج دیا کرتا تھا۔ اسلام کے بعد اس لونڈی سے جب یہ ارادہ کیا گیا تو اس نے انکار کر دیا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے اپنی یہ مصیبت بیان کی۔ صدیق رضی اللہ عنہ نے دربار محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ بات پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس لونڈی کو اس کے ہاں نہ بھیجو۔ اس نے لوگوں میں غل مچانا شروع کیا کہ دیکھو محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری لونڈیوں کو چھین لیتا ہے اس پر یہ آسمانی حکم اترا۔ ایک روایت میں ہے کہ مسیکہ اور معاذ دو لونڈیاں دو شخصوں کی تھیں، جو ان سے بدکاری کراتے تھے۔ اسلام کے بعد مسیکہ اور اس کی ماں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی، اس پر یہ آیت اتری۔ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ ’ اگر وہ لونڈیاں پاک دامنی کا ارادہ کریں ‘ اس سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ اگر ان کا ارادہ یہ نہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں کیونکہ اس وقت واقعہ یہی تھا اس لیے یوں فرمایا گیا۔ پس اکثریت اور غلبہ کے طور پر یہ فرمایا گیا ہے کوئی قید اور شرط نہیں ہے۔ اس سے غرض ان کی یہ تھی کہ مال حاصل ہو، اولادیں ہوں جو لونڈیاں غلام بنیں۔ حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگانے کی اجرت، بدکاری کی اجرت، کاہن کی اجرت سے منع فرما دیا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1568] ایک اور روایت میں ہے { زنا کی خرچی اور پچھنے لگانے والی کی قیمت اور کتے کی قیمت خبیث ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1568]
پھر فرماتا ہے ’ جو شخص ان لونڈیوں پر جبر کرے تو انہیں تو اللہ بوجہ ان کی مجبوری بخش دے گا اور ان مالکوں کو جنہوں نے ان پر دباؤ زور زبردستی ڈالی تھی انہیں پکڑ لے گا، اس صورت میں یہی گنہگار رہیں گے ‘۔ بلکہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «رَحِيمٌ» کے بعد «وَإِثْمُهُنَّ عَلَى مَنْ أَكْرَهَهُنَّ» ہے۔ یعنی ’ اس حالت میں جبر اور زبردستی کرنے والوں پر گناہ ہے ‘۔ مرفوع حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے میری امت کی خطا سے، بھول سے اور جن کاموں پر وہ مجبور کر دئیے جائیں، ان پر زبردستی کی جائے ان سے درگزر فرما لیا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:2043،قال الشيخ الألباني:صحیح] ان احکام کو تفصیل وار بیان کرنے کے بعد بیان ہوتا ہے کہ ’ ہم نے اپنے کلام قرآن کریم کی یہ روشن و واضح آیات تمہارے سامنے بیان فرما دیں۔ اگلے لوگوں کے واقعات بھی تمہارے سامنے آچکے کہ ان کی مخالفت حق کا انجام کیا اور کیسا ہوا؟ وہ ایک افسانہ بنا دئے گئے اور آنے والوں کے لیے عبرتناک واقعہ بنا دیئے گئے کہ متقی ان سے عبرت حاصل کریں اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچیں ‘۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے، ”قرآن میں تمہارے اختلاف کے فیصلے موجود ہیں، تم سے پہلے زمانہ کے لوگوں کی خبریں موجود ہیں، بعد میں ہونے والے امور کے احوال کا بیان ہے۔ یہ مفصل ہے بکواس نہیں اسے جو بھی بے پرواہی سے چھوڑے گا، اسے اللہ برباد کر دے گا اور جو اس کے سوا دوسری کتاب میں ہدایت تلاش کرے گا اسے اللہ گمراہ کر دے گا۔“ ۱؎ [سنن ترمذي:2906،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 34) ➊ {وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ: ” مُبَيِّنٰتٍ “} باب تفعیل سے اسم فاعل {”مُبَيِّنَةٌ“} کی جمع ہے، یہ باب لازم و متعدی دونوں میں آتا ہے، یہاں دونوں معنی اکٹھے بھی مراد ہو سکتے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات واضح اور آسانی سے سمجھ میں آنے والی بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکام و فرامین کو خوب واضح کرنے والی بھی ہیں۔ ان آیات سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی تمام آیات ہیں، اگرچہ سب سے پہلے اس سورت میں مذکور آیات و احکام مراد ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِيْهَاۤ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ }» [ النور: ۱ ] ”(یہ) ایک عظیم سورت ہے، ہم نے اسے نازل کیا اور ہم نے اسے فرض کیا اور ہم نے اس میں واضح آیات اتاری ہیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔“ ➋ { وَ مَثَلًا مِّنَ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ: ”أَيْ وَ أَنْزَلْنَا مَثَلًا مِنَ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ۔“ ” مَثَلًا “} کا معنی ہے ضرب المثل، وہ چیز جو دوسری چیز کے مشابہ ہو، کسی کا حال جو دوسرے کے حال سے ملتا جلتا ہو، کسی چیز کی صفت اور قصہ عجیبہ، یعنی ہم نے تمھاری طرف کھول کر بیان کرنے والی آیات نازل کی ہیں اور پہلے لوگوں کے کچھ احوال نازل کیے ہیں جو تمھارے احوال سے ملتے جلتے ہیں۔ اس میں وہ احکام و حدود بھی شامل ہیں جو امت مسلمہ کی طرح پہلی امتوں پر فرض کیے گئے تھے، مثلاً زنا کی حد، قصاص، فحاشی کی اشاعت کی روک تھام وغیرہ اور پہلی امتوں کے وہ حالات و واقعات جو اس امت کے احوال سے ملتے جلتے ہیں، مثلاً عائشہ رضی اللہ عنھا پر بہتان کا واقعہ اور مریم علیھا السلام پر یہودیوں کے بہتان اور یوسف علیہ السلام پر عزیزِ مصر کی بیوی کے بہتان کا واقعہ ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ تینوں واقعات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کی پاک دامنی قیامت تک کے لیے قرآن میں ثبت فرما دی اور بہتان لگانے والوں کا جھوٹ ہمیشہ کے لیے واضح کر دیا۔ ➌ { وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ۠: ” أَيْ وَ أَنْزَلْنَا مَوْعِظَةً “} یعنی ہم نے ڈرنے والوں اور نافرمانی سے بچنے والوں کے لیے عظیم نصیحت نازل فرمائی، کیونکہ جسے اللہ کا خوف نہیں اسے ان آیات سے کچھ حاصل نہیں۔
اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے (کائنات میں) اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق میں چراغ رکھا ہوا ہو، چراغ ایک فانوس میں ہو، فانوس کا حال یہ ہو کہ جیسے موتی کی طرح چمکتا ہوا تارا، اور وہ چراغ زیتون کے ایک ایسے مبارک درخت کے تیل سے روشن کیا جاتا ہو جو شرقی ہو نہ غربی، جس کا تیل آپ ہی آپ بھڑکا پڑتا ہو چاہے آگ اس کو نہ لگے، (اِس طرح) روشنی پر روشنی (بڑھنے کے تمام اسباب جمع ہو گئے ہوں) اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی فرماتا ہے، وہ لوگوں کو مثالوں سے بات سمجھاتا ہے، وہ ہر چیز سے خوب واقف ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا، اس کے نور کی مثال مثل ایک طاق کے ہے جس میں چراغ ہو اور چراغ شیشہ کی قندیل میں ہو اور شیشہ مثل چمکتے ہوئے روشن ستارے کے ہو وه چراغ ایک بابرکت درخت زیتون کے تیل سے جلایا جاتا ہو جو درخت نہ مشرقی ہے نہ مغربی خود وه تیل قریب ہے کہ آپ ہی روشنی دینے لگے اگرچہ اسے آگ نہ بھی چھوئے، نور پر نور ہے، اللہ تعالیٰ اپنے نور کی طرف رہنمائی کرتا ہے جسے چاہے، لوگوں (کے سمجھانے) کو یہ مثالیں اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کے حال سے بخوبی واقف ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ نور ہے آسمانوں اور زمینوں کا، اس کے نور کی مثال ایسی جیسے ایک طاق کہ اس میں چراغ ہے وہ چراغ ایک فانوس میں ہے وہ فانوس گویا ایک ستارہ ہے موتی سا چمکتا روشن ہوتا ہے برکت والے پیڑ زیتون سے جو نہ پورب کا نہ پچھم کا قریب ہے کہ اس کا تیل بھڑک اٹھے اگرچہ اسے آگ نہ چھوئے نور پر نور ہے اللہ اپنے نور کی راہ بتاتا ہے جسے چاہتا ہے، اور اللہ مثالیں بیان فرماتا ہے لوگوں کے لیے، اور اللہ سب کچھ جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال یہ ہے جیسے ایک طاق میں چراغ رکھا ہوا ہو (اور) چراغ شیشہ کی قندیل میں ہو۔ اور (وہ) قندیل گویا موتی کی طرح چمکتا ہوا ایک ستارہ ہے (اور وہ چراغ) زیتون کے بابرکت درخت (کے تیل) سے روشن کیا جاتا ہے۔ جو نہ شرقی ہے نہ غربی قریب ہے کہ اس کا تیل خود بخود بھڑک اٹھے اگرچہ آگ نے اسے چھوا بھی نہ ہو۔ یہ نور بالائے نور ہے۔ اللہ جس کو چاہتا ہے اپنے نور کی طرف ہدایت فرماتا ہے۔ اور اللہ لوگوں کیلئے مثالیں بیان کرتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز کا بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے، جس میں ایک چراغ ہے، وہ چراغ ایک فانوس میں ہے، وہ فانوس گویا چمکتا ہوا تارا ہے، وہ (چراغ) ایک مبارک درخت زیتون سے روشن کیا جاتا ہے، جو نہ شرقی ہے اور نہ غربی۔ اس کا تیل قریب ہے کہ روشن ہو جائے، خواہ اسے آگ نے نہ چھوا ہو۔ نور پر نور ہے، اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مدبر کائنات نور ہی نور ہے ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اللہ ہادی ہے، آسمان والوں اور زمین والوں کا، وہی ان دونوں میں سورج چاند اور ستاروں کی تدبیر کرتا ہے۔“ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اللہ کا نور ہدایت ہے۔“ ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس کے نور کی مثال یعنی اس کا نور رکھنے والے مومن کی مثال جن کے سینے میں ایمان و قرآن ہے، اس کی مثال اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔ اولاً اپنے نور کا ذکر کیا پھر مومن کی نورانیت کا کہ اللہ پر ایمان رکھنے والے کے نور کی مثال“ بلکہ ابی رضی اللہ عنہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے آیت «مَثَلُ نُورِ مَنْ آمَنَ بِهِ» سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اس طرح پڑھنا بھی مروی ہے «نُورِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ» ۔ بعض کی قرأت میں «اللَّهُ نَوَّرَ» ہے یعنی ’ اس نے آسمان و زمین کو نورانی بنا دیا ہے ‘۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسی کے نور سے آسمان و زمین روشن ہیں۔
سیرت محمد بن اسحاق میں ہے کہ { جس دن اہل طائف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت ایذاء پہنچائی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں فرمایا تھا «" أُعُوذُ بِنُورِ وَجْهِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ الظُّلُمَاتُ، وَصَلُحَ عَلَيْهِ أَمْرُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، أَنْ يَحِلَّ بِيَ غَضَبُكَ أَوْ يَنْزِلَ بِي سَخَطُكَ، لَكَ الْعُتْبَى حَتَّى تَرْضَى، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ» اس دعا میں ہے کہ { تیرے چہرے کے اس نور کی پناہ میں آ رہا ہوں جو اندھیروں کو روشن کر دیتا ہے اور جس پر دنیا آخرت کی صلاحیت موقوف ہے } } الخ۔ ۱؎ [السيرة النبوية:420/1] بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تب یہ فرماتے کہ «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِنْ فِيهِنَّ» { اللہ تیرے ہی لیے ہے سب تعریف سزاوار ہے تو آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کا نورہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1120] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”تمہارے رب کے ہاں رات اور دن نہیں، اس کے چہرے کے نور کی وجہ سے اس کے عرش کا نور ہے۔“
«نُورِهِ» کی ضمیر کا مرجع بعض کے نزدیک تو لفظ اللہ ہی ہے یعنی اللہ کی ہدایت جو مومن کے دل میں ہے اس کی مثال یہ ہے اور بعض کے نزدیک مومن ہے جس پر سیاق کلام کی دلالت ہے یعنی مومن کے دل کے نور کی مثال مثل طاق کے ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ایک شخص ہے جو اپنے رب کی دلیل اور ساتھ ہی شہادت لیے ہوئے ہے پس مومن کے دل کی صفائی کو بلور کے فانوس سے مشابہت دی اور پھر قرآن اور شریعت سے جو مدد اسے ملتی رہتی ہے اس کی زیتون کے اس تیل سے تشبیہ دی جو خود صاف شفاف چمکیلا اور روشن ہے۔ پس طاق اور طاق میں چراغ اور وہ بھی روشن چراغ۔ یہودیوں نے اعتراضاً کہا تھا کہ اللہ کانور آسمانوں کے پار کیسے ہوتا ہے؟ تو مثال دے کر سمجھایا گیا کہ جیسے فانوس کے شیشے سے روشنی۔ پس فرمایا کہ ’ اللہ آسمان زمین کا نور ہے ‘۔ «مِشْكَاةٍ» کے معنی گھر کے طاق کے ہیں یہ مثال اللہ نے اپنی فرمانبرداری کی دی ہے اور اپنی اطاعت کو نور فرمایا ہے پھر اس کے اور بھی بہت سے نام ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، حبشہ کی لغت میں اسے طاق کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں ایسا طاق جس میں کوئی اور سوراخ وغیرہ نہ ہو۔ فرماتے ہیں اسی میں قندیل رکھی جاتی ہے۔ پہلا قول زیادہ قوی ہے یعنی قندیل رکھنے کی جگہ۔ چنانچہ قرآن میں بھی ہے کہ اس میں چراغ ہے۔ پس «مِصْبَاحٌ» سے مراد نور ہے یعنی قرآن اور ایمان جو مسلمان کے دل میں ہوتا ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں چراغ مراد ہے۔
پھر فرمایا ’ یہ روشنی جس میں بہت ہی خوبصورتی ہے، یہ صاف قندیل میں ہے ‘، یہ مومن کے دل کی مثال ہے۔ پھر وہ قندیل ایسی ہے جیسے موتی جیسا چمکیلا روشن ستارہ۔ اس کی دوسری قرأت «دِرِّيءٌ» اور «دُرِّيءٌ» بھی ہے۔ یہ ماخوذ ہے «دَرْءِ» سے جس کے معنی دفع کے ہیں۔ مطلب چمکدار اور روشن ستارہ ٹوٹتا ہے اس وقت وہ بہت روشن ہوتا ہے اور جو ستارے غیر معروف ہیں انہیں بھی عرب «دَرَارِيَّ» کہتے ہیں۔ مطلب چمکدار اور روشن ستارہ ہے جو خوب ظاہر ہو اور بڑا ہو۔ پھر اس چراغ میں تیل بھی مبارک درخت زیتون کا ہو۔ «زَيْتُونَةٍ» کا لفظ بدل ہے یا عطف بیان ہے۔ پھر وہ زیتون کا درخت بھی نہ مشرقی ہے کہ اول دن سے اس پر دھوپ آ جائے۔ اور نہ مغربی ہے کہ غروب سورج سے پہلے اس پر سے سایہ ہٹ جائے بلکہ وسط جگہ میں ہے۔ صبح سے شام تک سورج کی صاف روشنی میں رہے۔
پس اس کا تیل بھی بہت صاف، چمکدار اور معتدل ہوتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ وہ درخت میدان میں ہے کوئی درخت، پہاڑ، غار یا کوئی اور چیز اسے چھپائے ہوئے نہیں ہے۔ اس وجہ سے اس درخت کا تیل بہت صاف ہوتا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”صبح سے شام تک کھلی ہوا اور صاف دھوپ اسے پہنچتی رہتی ہے کیونکہ وہ کھلے میدان میں درمیان کی جگہ ہے۔ اسی وجہ سے اس کا تیل بہت پاک صاف اور روشن چمکدار ہوتا ہے اور اسے نہ مشرقی کہہ سکتے ہیں نہ مغربی۔ ایسا درخت بہت سرسبز اور کھلا ہوتا ہے پس جیسے یہ درخت آفتوں سے بچا ہوا ہوتا ہے، اسی طرح مومن فتنوں سے محفوظ ہوتا ہے اگر کسی فتنے کی آزمائش میں پڑتا بھی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدم رکھتا ہے۔“ پس اسے چار صفتیں قدرت دے دیتی ہے [١] بات میں سچ [٢] حکم میں عدل [٣] بلا پر صبر [٤] نعمت پر شکر پھر وہ اور تمام انسانوں میں ایسا ہوتا ہے جیسے کوئی زندہ جو مردوں میں ہو۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر یہ درخت دنیا میں زمین پر ہوتا تو ضرور تھا کہ مشرقی ہوتا یا مغربی لیکن یہ تو نور الٰہی کی مثال ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”یہ مثال ہے نیک مرد کی جو نہ یہودی ہے نہ نصرانی۔“ ان سب اقوال میں بہترین قول پہلا ہے کہ وہ درمیانہ زمین میں ہے کہ صبح سے شام تک بے روک ہوا اور دھوپ پہنچتی ہے کیونکہ چاروں طرف سے کوئی آڑ نہیں تو لامحالہ ایسے درخت کا تیل بہت زیادہ صاف ہوگا اور لطیف اور چمکدار ہوگا۔
اسی لیے فرمایا کہ خود وہ تیل اتنا لطیف ہے کہ گویا بغیر جلائے روشنی دے۔ نور پر نور ہے۔ یعنی ایمان کانور پھر اس پر نیک اعمال کا نور۔ خود زیتون کا تیل روشن پھر وہ جل رہا ہے اور روشنی دے رہا ہے پس اسے پانچ نور حاصل ہو جاتے ہیں اس کا کلام نور ہے اس کا عمل نور ہے۔ اس کا آنا نور اس کا جانا نور ہے اور اس کا آخری ٹھکانا نورہے یعنی جنت۔ کعب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ مثال ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اس قدر ظاہر ہے کہ گو آپ صلی اللہ علیہ وسلم زبانی نہ بھی فرمائیں تاہم لوگوں پر ظاہر ہو جائے۔ جیسے یہ زیتون کہ بغیر روشن کئے روشن ہے۔ تو دونوں یہاں جمع ہیں ایک زیتون کا ایک آگ کا۔ ان کے مجموعے سے روشنی حاصل ہوتی ہوئی۔ اسی طرح نور قرآن نور ایمان جمع ہو جاتے ہیں اور مومن کا دل روشن ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے پسند فرمائے، اپنی ہدایت کی راہ لگا دیتا ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو ایک اندھیرے میں پیدا کیا پھر اس دن ان پر اپنا نور ڈالا جیسے وہ نور پہنچا اس نے راہ پائی اور جو محروم رہا وہ گمراہ ہوا۔ اس لیے کہتا ہوں کہ قلم اللہ کے علم کے مطابق چل کر خشک ہو گیا }۔ [سنن ترمذي:2642،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اللہ تعالیٰ نے مومن کے دل کی ہدایت کی مثال نور سے دے کر پھر فرمایا کہ ’ اللہ یہ مثالیں لوگوں کے سمجھنے کے لئے بیان فرما رہا ہے، اس کے علم میں بھی کوئی اس جیسا نہیں، وہ ہدایت وضلالت کے ہر مستحق کو بخوبی جانتا ہے ‘۔ مسند کی ایک حدیث میں ہے { دلوں کی چار قسمیں ہیں ایک تو صاف اور روشن، ایک غلاف دار اور بندھا ہوا، ایک الٹا اور اور اوندھا، ایک پھرا ہوا الٹا سیدھا۔ پہلا دل تو مومن کا دل ہے جو نورانی ہوتا ہے۔ اور دوسرا دل کافر کا دل ہے اور تیسرا دل منافق کا دل ہے کہ اس نے جانا پھر انجان ہو گیا۔ پہچان لیا پھر منکر ہو گیا۔ چوتھا دل وہ دل ہے جس میں ایمان بھی ہے اور نفاق بھی ہے۔ ایمان کی مثال تو اس میں ترکاری کے درخت کی مانند ہے کہ اچھا پانی اسے بڑھا دیتا ہے اور اس میں نفاق کی مثال دمثل پھوڑے کے ہے کہ خون پیپ اسے ابھاردیتا ہے }۔ اب ان میں سے جو غالب آ گیا وہ اس دل پر چھا جاتا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:17/3:ضعیف]
35-1یعنی اگر اللہ نہ ہوتا تو آسمان میں نور ہوتا نہ زمین میں، نہ آسمان و زمین میں کسی کو ہدایت نصیب ہوتی۔ پس وہ اللہ تعالیٰ ہی آسمان و زمین کو روشن کرنے والا ہے اس کی کتاب نور ہے، اس کا رسول (بحیثیت صفات کے) نور ہے۔ یعنی ان دونوں کے ذریعے سے زندگی کی تاریکیوں میں رہنمائی اور روشنی حاصل کی جاتی ہے، جس طرح چراغ اور بلب سے انسان روشنی حاصل کرتا ہے۔ حدیث سے بھی اللہ کا نور ہونا ثابت ہے، پس اللہ، اس کی ذات نور ہے، اس کا حجاب نور ہے اور ہر ظاہری اور معنوی نور کا خالق، اس کا عطا کرنے والا اور اس کی طرف ہدایت کرنے والا صرف ایک اللہ ہے۔ 35-2نور سے مراد ایمان و اسلام ہے، یعنی اللہ تعالیٰ جن کے اندر ایمان کی رغبت اور اس کی طلب دیکھتا ہے، ان کی اس نور کی طرف رہنمائی فرما دیتا ہے، جس سے دین و دنیا کی سعادتوں کے دروازے ان کے لئے کھل جاتے ہیں۔ 35-3جس طرح اللہ نے مثال بیان فرمائی، جس میں اس نے ایمان کو اور اپنے مومن بندے کے دل میں اس کے راسخ ہونے اور بندوں کے احوال قلوب کا علم رکھنے کو واضح فرمایا کہ کون ہدایت کا اہل ہے اور کون نہیں۔
(آیت 35) ➊ {اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} ”اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے“ یعنی آسمان و زمین جو روشن ہیں تو اللہ کے نور ہی سے روشن ہیں۔ وہ نہ ہو توکچھ بھی نہ ہو۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یعنی اللہ سے رونق اور بستی ہے زمین اور آسمان کی۔ اس کی مدد نہ ہو تو سب ویران ہو جائیں۔“ یاد رہے، یہاں اللہ کے آسمان و زمین کا نور ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نور آسمان و زمین کا نور ہے اور اسے روشن کرنے والا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس آیت میں مذکور نور کی مثال بیان کی گئی ہے، جب کہ اللہ کی کوئی مثال ہے ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ }» [ الشورٰی: ۱۱ ] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔“ دوسری دلیل یہ کہ اس آیت میں اس نور کا ذکر ہے جس سے آسمان و زمین روشن ہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نور حجاب کے پیچھے ہے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں کھڑے ہو کر پانچ باتیں بیان فرمائیں، آپ نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِيْ لَهُ أَنْ يَّنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَ يَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ وَ عَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّوْرُ، لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَی إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ] [مسلم، الإیمان، باب في قولہ علیہ السلام ”إن اللہ لا ینام“ …:۱۷۹ ] ”اللہ عزوجل سوتا نہیں اور اس کے لائق ہی نہیں کہ وہ سوئے، وہ ترازو کو نیچا کرتا ہے اور اسے اونچا کرتا ہے، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس کی طرف اوپر لے جایا جاتا ہے اور اس کا حجاب نور ہے، اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کی شعاعیں اس کی مخلوق میں سے ہر اس چیز کو جلا دیں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے۔“ ➋ اس آیت میں {” نُوْرُ “} کا معنی {”ذُوْ نُوْرٍ“} ہے، یعنی روشن کرنے والا، جیسا کہ {”زَيْدٌ عَدْلٌ“} کا معنی یہ نہیں کہ زید عدل و انصاف ہے، بلکہ اس کا معنی ہے کہ زید عدل و انصاف والا ہے۔ بعض مفسرین نے یہی مفہوم ان الفاظ میں ادا فرمایا: {” اَللّٰهُ نَوَّرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ “} یعنی اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو روشن فرمایا۔ (نقلہ ابن کثیر عن ضحاک) آسمانوں اور زمین سے سارا جہان مراد ہے، یعنی کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ نور سے روشن ہے۔ یہ نور حسی بھی ہے اور معنوی بھی۔ حسی کی کئی قسمیں ہیں، ایک وہ نور جو خود روشن ہے اور دوسروں کو روشن کرتا ہے، جیسے سورج، چاند، ستارے، بجلی، آگ، ہر قسم کے چراغ، جگنو اور ہر وہ حیوان یا درخت جس سے روشنی نکلتی ہے، یہ سب اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔ ایک وہ نور ہے جو اللہ تعالیٰ نے حسن یا توانائی کی کسی نہ کسی شکل میں کائنات کے ہر ذرّے میں ودیعت کر رکھا ہے، مثلاً چہرے کا حسن چہرے کا نور کہلاتا ہے، گھر کے افراد گھر کا نور ہوتے ہیں، گلے کا نور آواز کی صورت میں روشنی بکھیرتا ہے، زبان کا نور بولنے سے ظاہر ہوتا ہے، ہر عضو کی توانائی اس کا نور ہے۔ سمندر، پہاڑ، درخت، صحرا غرض ہر چیز کا حسن و جمال اور ان کے منافع اللہ کا نور ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے ان میں ودیعت کر رکھا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کا پیدا کردہ ہے۔ نور کی ایک قسم ہر عضو کی وہ استعداد ہے جس سے حیوان یا انسان کائنات میں پھیلے ہوئے نور کا ادراک کرتا ہے، مثلاً آنکھ میں بینائی کا نور ہے، یہ نہ ہو تو نہ سورج چاند یا کوئی روشنی نظر آئے، نہ اس سے روشن کائنات کے ذرّے ذرّے میں پھیلا ہوا حسن نظر آئے، اس لیے نابینے آدمی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی آنکھوں میں نور نہیں۔ کان کا نور اس کے سننے کی قوت ہے۔ اسی طرح چھونے، چکھنے، سونگھنے کی قوتیں ان اعضا کا نور ہیں جن میں یہ رکھی گئی ہیں۔ اسی طرح بھوک پیاس، جنسی اشتہا، غرض بے شمار استعدادات ہیں جو اپنے اپنے متعلقہ عضو کا نور ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے کیا خوب خلاصہ نکالا ہے جو اوپر گزرا کہ اللہ سے رونق اور بستی ہے زمین و آسمان کی، اس کی مدد نہ ہو تو سب ویران ہو جائیں۔ معنوی نور کی بھی کئی قسمیں ہیں، ایک اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے جس سے ضلالت کے اندھیرے ختم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا یہ نور پیغمبروں کے ذریعے سے نازل فرمایا، اللہ نے فرمایا: «{ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ نُوْرًا مُّبِيْنًا }» [ النساء: ۱۷۴ ] ”اے لوگو! بلاشبہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے واضح دلیل آئی ہے اور ہم نے تمھاری طرف ایک واضح نور نازل کیا ہے۔“ اور فرمایا: { هُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ لِّيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ } [ الحدید: ۹ ] ”وہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیات اتارتا ہے، تاکہ تمھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم پر یقینا بے حد نرمی کرنے والا نہایت مہربان ہے۔“ اور فرمایا: «{ اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ }» [ البقرۃ: ۲۵۷ ] ”اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے، وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔“ اور فرمایا: «{ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِيْنٌ }» [ المائدۃ: ۱۵ ] ”بے شک تمھارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور واضح کتاب آئی ہے۔“ مزید دیکھے سورۂ انعام (۱۲۲) اور سورۂ شوریٰ (۵۲)۔ اس معنوی نور کی دوسری قسم حق کو پہچاننے اور قبول کرنے کی وہ استعداد ہے جو مومن کے دل میں ہوتی ہے، جو شروع ہی سے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے دل میں رکھ دی ہے، مگر بعض اوقات وہ ماحول کے اثر یا اپنی بدعملی کی وجہ سے اس سے محروم ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ إِلَّا يُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيْمَةُ بَهِيْمَةً جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّوْنَ فِيْهَا مِنْ جَدْعَاءَ؟ ] [بخاري، تفسیر سورۃ الروم، باب لا تبدیل لخلق اللہ: ۴۷۷۵، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں، یا نصرانی بنا دیتے ہیں یا مجوسی بنا دیتے ہیں، جیسے چوپایہ پیدا ہوتا ہے تو پورے اعضا والا ہوتا ہے، کیا تم ان میں سے کوئی کان کٹا یا ناک کٹا دیکھتے ہو (یعنی اس کا کان یا ناک بعد میں لوگ کاٹتے ہیں)۔“ ہدایت کا یہ نور اگر کسی دل میں نہ ہو تو جتنے بھی انبیاء آ جائیں یا جتنی بھی آیات الٰہی نازل ہوں دل کے اندھے کو ان سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا اور اگر یہ نور آنکھوں یا کانوں میں نہ ہو تو تمام معجزے اور ہر وعظ و نصیحت بے کار ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا }» [ الأعراف: ۱۷۹ ] ”ان کے دل ہیں جن کے ساتھ وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن کے ساتھ وہ سنتے نہیں۔“ مطلب ساری آیت کا یہ ہے کہ کائنات کی ساری رونق اور آبادی اللہ تعالیٰ کے فیض سے ہے، وہ نہ ہو تو کچھ بھی نہ رہ جائے، نور کے تمام ذرائع مثلاً سورج چاند وغیرہ، ان سے روشن ہونے والی کائنات اور ان کا ادراک کرنے والا نور اسی کا پیدا کردہ ہے، اسی طرح ایمان کا نور بھی اسی کا عطا کردہ ہے، اسی نے وحی بھیجی، پیغمبر بھیجے، کتابیں نازل کیں اور دلوں میں انھیں قبول کرنے کا نور رکھا۔ ➌ { ” اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ “} میں اگرچہ حسی و معنوی تمام نور داخل ہیں اور سب ہی اللہ کے عطا کردہ ہیں، مگر زیرِ تفسیر آیت میں مراد ہدایت کا نور ہے کہ وہ صرف اللہ کی عطا ہے، اس کا ایک قرینہ اس سے پہلی آیت ہے، جس میں {” اٰيٰتٍ مُبَيِّنٰتٍ“} اور گزشتہ اقوام کے کچھ حالات اور متقین کے لیے نصیحت نازل کرنے کا ذکر ہے اور ایک قرینہ خود اس آیت میں موجود ہے کہ {” يَهْدِي اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَآءُ “} اور تیسرا قرینہ اس سلسلہ کلام کی آخری آیت کا اختتام ہے، فرمایا: «{ وَ مَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ }» [ النور: ۴۰ ] ”اور وہ شخص جس کے لیے اللہ کوئی نور نہ بنائے تو اس کے لیے کوئی بھی نور نہیں۔“ اس لیے ترجمان القرآن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ یہ تفسیر آئی ہے کہ انھوں نے فرمایا: {” «اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ» يَقُوْلُ:اللّٰهُ سُبْحَانَهُ هَادِيْ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ“} [ طبري: ۲۶۲۹۲ ] ”اللہ تعالیٰ کے فرمان {” اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ “} کا معنی یہ ہے کہ اللہ سبحانہ آسمانوں اور زمین والوں کو ہدایت دینے والا ہے۔“ شیخ المفسرین طبری نے یہی تفسیر اختیار کی ہے اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے یہ تفسیر ذکر کرکے اسے قائم رکھا ہے، مگر ساتھ ہی فرمایا ہے کہ یہ تفسیر نور کی دوسری انواع کو اس کی تفسیر میں داخل کرنے سے مانع نہیں ہے۔ (تفسیر سورۃ النور از ابن تیمیہ) ابن کثیر نے بھی یہی تفسیر فرمائی ہے۔ قرآن مجید کی دوسری آیات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، جیسے فرمایا: «{ اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ }» [ الزمر: ۲۲ ] ”تو کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے سو وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر ہے۔“ ➍ {مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحٌ…: ” مِشْكَاةٌ “} دیوار میں طاق جو دیوار کے آر پار نہ ہو، {” زُجَاجَةٍ “} شیشے کا فانوس۔ {” دُرِّيٌّ “ ”دُرٌّ“ } کے ساتھ یاء نسبت لگانے سے {” دُرِّيٌّ “} بن گیا، موتی کی طرح چمکتا ہوا۔ {” لَا شَرْقِيَّةٍ وَّ لَا غَرْبِيَّةٍ “} کے الفاظ سے زیتون کے اس تیل کی عمدگی اور شفافیت بیان کرنا مقصود ہے۔ اہلِ علم سے اس کی دو تفسیریں آئی ہیں، ایک یہ کہ وہ تیل زیتون کے ایسے درخت سے حاصل ہوا ہے جو نہ مشرقی ہے کہ اس کے مغرب میں کوئی پہاڑ یا اوٹ ہو، جس کی وجہ سے اس پر صرف دن کے پہلے پہر کی دھوپ پڑتی ہو اور نہ مغربی ہے کہ اس کے مشرق میں کوئی پہاڑ یا اوٹ ہو جس کی وجہ سے اس پر صرف دن کے پچھلے پہر کی دھوپ پڑتی ہو، بلکہ وہ درخت کھلی جگہ میں ہے جس پر سارا دن سورج کی دھوپ پڑتی ہے، ایسے درخت کا تیل زیادہ صاف اور عمدہ ہوتا ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ زیتون کا وہ درخت نہ مشرق کی جانب ہے نہ مغرب کی طرف، بلکہ دوسرے درختوں کے عین درمیان واقع ہے، جس پر صرف جنوب کی طرف سے سورج کی دھوپ پڑتی ہے۔ درختوں کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے وہ سورج کی مسلسل تپش سے محفوظ رہتا ہے، جس سے اس کے پھل کی رطوبت پوری طرح محفوظ رہتی ہے۔ دونوں تفسیریں سلف سے مروی ہیں، دوسری تفسیر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے معتبر سند کے ساتھ طبری نے نقل فرمائی ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”اور زیتون نہ شرق کا نہ غرب کا، یعنی باغ کے بیچ کا، نہ صبح کی دھوپ کھاوے نہ شام کی، خوب ہرا اور چکنا رہے۔“ ➎ { ” مَثَلُ نُوْرِهٖ “} یعنی ”اس کے نور کی مثال“ سے مراد کس کے نور کی مثال ہے اور مثال کس طرح ہے؟ میں نے جتنی تفسیریں دیکھی ہیں سب سے واضح تفسیر ترجمان القرآن ابن عباس رضی اللہ عنھما کی ہے، جو طبری نے علی بن ابی طلحہ عن ابن عباس رضی اللہ عنھا کی معتبر سند کے ساتھ نقل کی ہے، وہ فرماتے ہیں: [ «{ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ }» قَالَ مَثَلُ هَدَاهُ فِيْ قَلْبِ الْمُؤْمِنِ كَمَا يَكَادُ الزَّيْتُ الصَّافِيْ يُضِيْءُ قَبْلَ أَنْ تَمَسَّهُ النَّارُ فَإِذَا مَسَّتْهُ النَّارُ ازْدَادَ ضَوْئًا عَلٰجی ضَوْءٍ كَذٰلِكَ يَكُوْنُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ يَعْمَلُ بِالْهُدٰی قَبْلَ أَنْ يَّأْتِيَهُ الْعِلْمُ فَإِذَا جَاءَهُ الْعِلْمُ ازْدَادَ هُدًی عَلٰی هُدًی وَ نُوْرًا عَلٰی نُوْرٍ ] [ طبري: ۲۶۳۱۳ ] ”اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے“ فرمایا: ”مومن کے دل میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی مثال اس طرح ہے جیسے صاف زیتون کا تیل، قریب ہوتا ہے کہ اس سے پہلے ہی روشن ہو جائے کہ اسے آگ چھوئے، پھر جب اسے آگ چھوتی ہے تو وہ روشنی پر روشنی میں بڑھ جاتا ہے، ایسے ہی مومن کا دل ہے کہ اس سے پہلے ہی ہدایت پر عمل کرنے والا ہوتا ہے کہ اس کے پاس علم آئے، پھر جب اس کے پاس علم آتا ہے تو وہ ہدایت پر ہدایت میں بڑھ جاتا ہے اور نور پر نور میں بڑھ جاتا ہے۔“ ➏ آیت میں مومن کے دل میں اللہ کی ہدایت کے نور کو مثال دے کر زیادہ سے زیادہ روشن بیان کرنا مقصود ہے، اس کے لیے اسے ایسے چراغ کی روشنی کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو آیت کے نزول کے وقت رات کے اندھیرے میں روشنی کے لیے انسانی استعمال میں آنے والی سب سے روشن چیز تھی اور اس کی روشنی کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے جو اسباب و ذرائع ہو سکتے تھے وہ بھی ساتھ ذکر فرمائے۔ سب سے پہلے یہ کہ وہ چراغ ایک طاق میں ہے، طاق میں ہونے کی وجہ سے اس کی شعائیں مجتمع ہو کر زیادہ روشنی کا باعث بنتی ہیں، اگر وہ کسی کھلی جگہ میں ہوتا تو اس کی شعائیں بکھر جاتیں۔ دوسری چیز اس کی روشنی کو بڑھانے والی یہ ہے کہ وہ چراغ شیشے کے ایک فانوس میں ہے، جس سے وہ ہوا کے تھپیڑوں سے محفوظ ہے اور فانوس کی وجہ سے اس کی روشنی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ تیسری چیز یہ کہ وہ فانوس عام شیشے کا بنا ہوا نہیں کہ روشنی میں معمولی اضافے کا باعث ہو، بلکہ اتنا شفاف اور چمک دار ہے جیسے کوئی چمکتا ہوا تارا ہو۔ چوتھی چیز یہ ہے کہ وہ چراغ کسی عام تیل سے روشن نہیں کیا جا رہا، بلکہ تیل کی تمام قسموں میں سے جو تیل سب سے شفاف، سب سے زیادہ روشنی دینے والا اور سب سے کم دھواں دینے والا ہے وہ اس کے ساتھ روشن کیا جا رہا ہے، جو روغن زیتون ہے۔ پانچویں چیز یہ ہے کہ زیتون کا وہ تیل ردی یا خراب قسم کا نہیں کہ ایسے پھلوں سے نکالا گیا ہو جو نکمے اور خشک ہوں، بلکہ ایسے درخت کے پھلوں سے نکالا گیا ہے جو نہایت سر سبز و شاداب ہے اور جس کے پھل صاف روغن سے بھرپور ہیں۔ چھٹی چیز یہ کہ وہ تیل اتنا شفاف ہے کہ آگ لگائے بغیر بھی ایسے دکھائی دیتا ہے کہ ابھی اس سے روشنی پھوٹنے لگے گی۔ نور پر نور یعنی نور کو جس طرح بھی بڑھایا جا سکتا ہے اسی طرح اسے زیادہ سے زیادہ روشن کیا گیا ہے۔ اس میں جس کو تشبیہ دی گئی ہے وہ مومن کے دل میں اللہ کی ہدایت کا نور ہے اور جس کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے وہ ایسے چراغ کی روشنی ہے جس میں ہر اس طریقے سے اضافہ کیا گیا ہے جس سے اضافہ ہو سکتا ہے، یعنی تشبیہ ایک چیز سے نہیں بلکہ اس چراغ کی مجموعی صورت سے ہے، اسے تشبیہ تمثیل کہتے ہیں۔ اس میں مشبّہ کی ایک ایک چیز کی تشبیہ مشبّہ بہ کی ایک ایک چیز کے ساتھ نہیں دی جاتی، بلکہ مشبّہ کی مجموعی صورت کی تشبیہ مشبّہ بہ کی مجموعی صورت کے ساتھ دی جاتی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی تفسیر کا انداز یہی ہے، البتہ بعض اہلِ علم نے مشبّہ کے اجزا کو مشبّہ بہ کے ایک ایک جز سے تشبیہ دی ہے۔ چنانچہ طبری (۲۶۳۱۰) نے معتبر سند کے ساتھ ابو العالیہ سے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی تفسیر نقل فرمائی ہے، ان کے مطابق طاق سے مراد مومن کا سینہ ہے، فانوس سے مراد مومن کا دل ہے، چراغ وہ ایمان اور قرآن ہے جو مومن کے دل میں ہے۔ ستارے کی طرح چراغ کے روشن ہونے سے مراد مومن کے دل کا نور ایمان سے منور ہونا ہے۔ شجرہ مبارکہ سے اس چراغ کے روشن ہونے سے مراد اس کا اللہ وحدہ کے لیے اخلاص اور اس کی عبادت سے روشن ہونا ہے۔ {” لَا شَرْقِيَّةٍ وَّ لَا غَرْبِيَّةٍ “} سے مراد ایسے درخت سے تشبیہ ہے جو گھنے درختوں کے درمیان گھرا ہوا ہے، چنانچہ وہ نہایت سبز اور چکنا ہے، اسے شدید دھوپ نہیں پہنچتی، نہ سورج کے طلوع ہوتے وقت نہ غروب ہوتے وقت، اسی طرح مومن کا دل اس سے محفوظ ہے کہ اسے مختلف حالات نقصان پہنچائیں، اگر وہ ایسے انقلابات کی زد میں آتا بھی ہے تو اللہ اسے ثابت رکھتا ہے۔ یہ بھی ایک جلیل القدر صحابی کی تفسیر ہے، جو سید القراء تھے۔ {” نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ “} یعنی وہ نور تہ بہ تہ ہے اور اسے قوت دینے والی اور زیادہ روشن کرنے والی کوئی چیز باقی نہیں رہی جس نے اسے مزید روشن نہ کیا ہو۔ ➐ { يَهْدِي اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَآءُ:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ جب اللہ کے نورِ ہدایت سے آسمان و زمین روشن ہیں، تو کافر اس سے کیوں محروم ہیں اور عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کی اظہر من الشمس براء ت کے باوجود ان پر بہتان لگانے والے اس سے اندھے کیوں رہے؟ فرمایا، اللہ اس نور کا مالک ہے، وہ اپنی چیز جسے چاہے دے، جسے چاہے نہ دے، اگر وہ کسی کو بھی نہ دے تو ظالم نہیں، مگر یہ اس کا کرم ہے کہ جو ہدایت کے قابل ہو اسے ضرور ہدایت دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ }» [ القصص: ۵۶ ] ”بے شک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔“ ➑ { وَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ:} یعنی اللہ تعالیٰ لوگوں کی ہدایت کے لیے حسب حال مثالیں بیان کرتا ہے۔ قرآن مجید میں تقریباً ہر اہم مسئلے کے ساتھ کوئی نہ کوئی مثال بیان ہوئی ہے، کیوں کہ اس سے بات خوب ذہن نشین ہو جاتی ہے۔ ➒ { وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ:} اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے، جس میں سے یہ بھی ہے کہ کس بات کے لیے کون سی مثال موزوں ہے اور ہدایت کے لائق کون ہے اور کون نہیں۔
(اُس کے نور کی طرف ہدایت پانے والے) اُن گھروں میں پائے جاتے ہیں جنہیں بلند کرنے کا، اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے اذن دیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان گھروں میں جن کے بلند کرنے، اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے وہاں صبح وشام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ان گھروں میں جنہیں بلند کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور ان میں اس کا نام لیا جاتا ہے، اللہ کی تسبیح کرتے ہیں ان میں صبح اور شام
علامہ محمد حسین نجفی
(یہ ہدایت پانے والے) ایسے گھروں میں ہیں جن کے بارے میں اللہ نے حکم دیا ہے کہ انہیں بلند کیا جائے اور ان میں خدا کا نام لیا جائے ان میں ایسے لوگ صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
ان عظیم گھروں میں جن کے بارے میں اللہ نے حکم دیا ہے کہ وہ بلند کیے جائیں اور ان میں اس کا نام یاد کیا جائے، اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ان میں صبح و شام۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومن کے دل سے مماثلت ٭٭
مومن کے دل کی اور اس میں جو ہدایت وعلم ہے اس کی مثال اوپر والی آیت میں اس روشن چراغ سے دی تھی جو شیشہ کی ہانڈی میں ہو اور صاف زیتون کے روشن تیل سے جل رہا ہے۔ اس لیئے یہاں اس کی عبادت کی جاتی ہے اور اس کی توحید بیان کی جاتی ہے۔ جن کی نگہبانی اور پاک صاف رکھنے کا اور بے ہودہ اقوال و افعال سے بچانے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ ” «أَنْ تُرْفَعَ» کے معنی اس میں بیہودگی نہ کرنے کے ہیں۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے یہی مسجدیں ہیں جن کی تعمیر، آبادی، ادب اور پاکیزگی کا حکم اللہ نے دیا ہے۔“ کعب رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے کہ زمین پر مسجدیں میرا گھر ہیں، جو بھی باوضو میرے گھر پر میری ملاقات کے لیے آئے گا، میں اس کی عزت کرونگا ہر اس شخص پر جس سے ملنے کے لیے کوئی اس کے گھر آئے حق ہے کہ وہ اس کی تکریم کرے [ تفسیر ابن ابی حاتم ] مسجدوں کے بنانے اور ان کا ادب احترام کرنے انہیں خوشبودار اور پاک صاف رکھنے کے بارے میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں جنہیں بحمد اللہ میں نے ایک مستقل کتاب میں لکھا ہے یہاں بھی ان میں سے تھوڑی بہت وارد کرتا ہوں، اللہ مدد کرے اسی پر بھروسہ اور توکل ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اسی جیسا گھر جنت میں بناتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:450] { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { نام اللہ کے ذکر کئے جانے کے لیے جو شخص مسجد بنائے اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے }}۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:735،قال الشيخ الألباني:صحیح] { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں اور پاک صاف اور خوشبودار رکھی جائیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:455،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے ”لوگوں کے لیے مسجدیں بناؤ جہاں انہیں جگہ ملے لیکن سرخ یا زردرنگ سے بچو تاکہ لوگ فتنے میں نہ پڑیں۔“ [صحیح بخاری تعلیقا:کتاب الصلواۃ:باب:بنیان المسجد] ایک ضعیف سند سے مروی ہے کہ { جب تک کسی قوم نے اپنی مسجدوں کو ٹیپ ٹاپ والا، نقش و نگار اور رنگ روغن والا نہ بنایا ان کے اعلام برے نہیں ہوئے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:741، قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے۔ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے مسجدوں کو بلند و بالا اور پختہ بنانے کا حکم نہیں دیا گیا }۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ راوی حدیث فرماتے ہیں کہ ”تم یقیناً مسجدوں کو مزین، منقش اور رنگ دار کرو گے جیسے کہ یہودونصاری نے کیا۔“ [سنن ابوداود:448، قال الشيخ الألباني:صحیح] { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ لوگ مسجدوں کے بارے میں آپس میں ایک دوسرے پر فخر و غرور نہ کرنے لگیں } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:449،قال الشيخ الألباني:صحیح] { ایک شخص مسجد میں اپنے اونٹ کو ڈھونڈتا ہوا آیا اور کہنے لگا ہے کوئی جو مجھے میرے سرخ رنگ کے اونٹ کا پتہ دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی کہ { اللہ کرے تجھے نہ ملے۔ مسجدیں تو جس مطلب کے لیے بنائی گئی ہیں، اسی کام کے لیے ہیں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:569] { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدوں میں خرید و فروخت، تجارت کرنے سے اور وہاں اشعار کے گائے جانے سے منع فرما دیا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1079،قال الشيخ الألباني:صحیح]
فرمان ہے کہ { جسے مسجد میں خرید و فروخت کرتے ہوئے دیکھو تو کہو کہ اللہ تیری تجارت میں نفع نہ دے اور جب کسی کو گمشدہ جانور مسجد میں تلاش کرتا ہوا پاؤ تو کہو کہ اللہ کرے نہ ملے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1321،قال الشيخ الألباني:صحیح] { بہت سی باتیں مسجد کے لائق نہیں، مسجد کو راستہ نہ بنایا جائے، نہ تیر پھیلائے جائیں نہ کچا گوشت لایا جائے، نہ یہاں حد ماری جائے، نہ یہاں باتیں اور قصے کہے جائیں نہ اسے بازار بنایا جائے }۔ [سنن ابن ماجه:748،قال الشيخ الألباني:ضعیف و صحت منه الخصلة الاولى]
فرمان ہے کہ { ہماری مسجدوں سے اپنے بچوں کو، دیوانوں کو، خرید و فروخت کو، لڑائی جھگڑے کو اور بلند آواز سے بولنے کو اور حد جاری کرنے کو اور تلواروں کے ننگی کرنے کو روکو۔ ان کے دروازوں پر وضو وغیرہ کی جگہ بناؤ اور جمعہ کے دن انہیں خوشبو سے مہکا دو }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:750،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے۔ بعض علماء نے بلا ضرورت کے مسجدوں کو گزرگاہ بنانا مکروہ کہا ہے۔ ایک اثر میں ہے کہ جو شخص بغیر نماز پڑھے مسجد سے گزر جائے، فرشتے اس پر تعجب کرتے ہیں۔ ہتھیاروں اور تیروں سے جو منع فرمایا یہ اس لیے کہ مسلمان وہاں بکثرت جمع ہوتے ہیں ایسان نہ ہو کہ کسی کے لگ جائے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ { تیر یا نیزہ لے کر گزرے تو اسے چاہیئے کہ اس کا پھل اپنے ہاتھ میں رکھے تاکہ کسی کو ایذاء نہ پہنچے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:452] کچا گوشت لانا اس لیے منع ہے کہ خوف ہے اس میں سے خون نہ ٹپکے جیسے کہ حائضہ عورت کو بھی اسی وجہ سے مسجد میں آنے کی ممانعت کر دی گئی ہے۔ مسجد میں حد لگانا اور قصاص لینا اس لیے منع کیا گیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شخص مسجد کو نجس نہ کر دے۔ بازار بنانا اس لیے منع ہے کہ وہ خرید و فروخت کی جگہ ہے اور مسجد میں یہ دونوں باتیں منع ہیں۔ کیونکہ مسجدیں ذکر اللہ اور نماز کی جگہ ہیں۔ جیسے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی سے فرمایا تھا، جس نے مسجد کے گوشے میں پیشاب کر دیا تھا کہ { مسجدیں اس لیے نہیں بنیں، بلکہ وہ اللہ کے ذکر اور نماز کی جگہ ہے }۔ پھر اس کے پیشاب پر ایک بڑا ڈول پانی کا بہانے کا حکم دیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6025] دوسری حدیث میں ہے { اپنے بچوں کو اپنی مسجدوں سے روکو } ۱؎ [سنن ابن ماجه:750،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس لیے کہ کھیل کود ہی ان کا کام ہے اور مسجد میں یہ مناسب نہیں۔ چنانچہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہا جب کسی بچے کو مسجد میں کھیلتا ہوا دیکھ لیتے تو اسے کوڑے سے پیٹتے اور عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں کسی کو نہ رہنے دیتے۔ دیوانوں کو بھی مسجدوں سے روکا گیا کیونکہ وہ بےعقل ہوتے ہیں اور لوگوں کے مذاق کا ذریعہ ہوتے ہیں اور مسجد اس تماشے کے لائق نہیں۔ اور یہ بھی ہے کہ ان کی نجاست وغیرہ کا خوف ہے۔ بیع و شرا سے روکا گیا کیونکہ وہ ذکر اللہ سے مانع ہے۔ جھگڑوں کی مصالحتیٰ مجلس منعقد کرنے سے اس لیے منع کر دیا گیا کہ اس میں آوازیں بلند ہوتی ہیں ایسے الفاظ بھی نکل جاتے ہیں جو آداب مسجد کے خلاف ہیں۔
اکثر علماء کا قول ہے کہ فیصلے مسجد میں نہ کئے جائیں اسی لیے اس جملے کے بعد بلند آواز سے منع فرمایا۔ سائب بن یزید کندی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں ”میں مسجد میں کھڑا تھا کہ اچانک مجھ پر کسی نے کنکر پھینکا، میں نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے مجھ سے فرمانے لگے، جاؤ ان دونوں شخصوں کو میرے پاس لاؤ، جب میں آپ کے پاس انہیں لایا تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا۔ تم کون ہو؟ یا پوچھا کہ ”تم کہاں کے ہو“؟ انہوں نے کہ ”ہم طائف کے رہنے والے ہیں۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اگر تم یہاں رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں سخت سزا دیتا تم مسجد نبوی میں اونچی اونچی آوازوں سے بول رہے ہو“؟ ۱؎ [صحیح بخاری:470] ایک شخص کی اونچی آواز سن کر جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا۔ ”جانتا بھی ہے تو کہاں ہے؟۔“ [ نسائی ] اور مسجد کے دروازوں پر وضو کرنے والے اور پاکیزگی حاصل کرنے کی جگہ بنانے کا حکم دیا۔ مسجد نبوی کے قریب ہی کنویں تھے جن میں سے پانی کھینچ کر پیتے تھے اور وضو اور پاکیزگی حاصل کرتے تھے۔ اور جمعہ کے دن اسے خوشبودار کرنے کا حکم ہوا ہے کیونکہ اس دن لوگ بکثر جمع ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ ہر جمعہ کے دن مسجد نبوی کو مہکایا کرتے تھے۔ بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جماعت کی نماز انسان کی اکیلی نماز پر جو گھر میں یا دوکان پر پڑھی جائے، پچیس درجے زیادہ ثواب رکھتی ہے، یہ اس لیے کہ جب وہ اچھی طرح سے وضو کرکے صرف نماز کے ارادے سے چلتا ہے تو ہر ایک قدم کے اٹھانے پر اس کا ایک درجہ بڑھتا ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے اور جب نماز پڑھ چکتا ہے پھر جت تک وہ اپنی نماز کی جگہ رہے، فرشتے اس پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اے اللہ اس پر اپنی رحمت نازل فرما اور اس پر رحم کر۔ اور جب تک جماعت کے انتظار میں رہے نماز کا ثواب ملتا رہتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:477] دارقطنی میں ہے { مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے سوا نہیں ہوتی }۔ ۱؎ [دارقطنی:420/1:موقوف]
سنن میں ہے { اندھیروں میں مسجد جانے والوں کو خوشخبری سنا دو کہ انہیں قیامت کے دن پورا پورا نور ملے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:561،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ بھی مستحب ہے کہ مسجد میں جانے والا پہلے اپنا داہنا قدم رکھے اور یہ دعا پڑھے۔ بخاری شریف میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں آتے یہ کہتے «أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ، وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ، وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ، مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ۔ فرمان ہے کہ جب کوئی شخص یہ پڑھتا ہے شیطان کہتا ہے میرے شر سے یہ تمام دن محفوظ ہو گیا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:466،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ { تم میں سے کوئی مسجد میں جانا چاہے یہ دعا پڑھے «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» ”اے اللہ میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے“ اور جب مسجد سے باہر جائے تو یہ کہے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ» ”اے اللہ! میں تیرے فضل کا طالب ہوں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:713] ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ { جب تم میں سے کوئی مسجد میں جائے تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے پھر دعا «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» پڑھے اور جب مسجد سے نکلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیج کر دعا «اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» پڑھے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:773،قال الشيخ الألباني:صحیح] ترمذی وغیرہ میں ہے کہ { جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آتے تو درود پڑھ کر دعا «اللَّهُمَّ، اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» پڑھتے اور جب مسجد سے نکلتے تو درود کے بعد دعا «اللَّهُمَّ، اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ» پڑھتے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:314،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس حدیث کی سند متصل نہیں۔ الغرض یہ اور ان جیسی اور بہت سی حدیثیں اس آیت کے متعلق ہیں جو مسجد اور احکام مسجد کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ اور آیت میں ہے «يَابَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ» ۱؎ [7-الأعراف:31] ’ تم ہر مسجد میں اپنا منہ سیدھا رکھو ‘۔ «وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» ۱؎ [7-الأعراف:29] ’ اور خلوص کے ساتھ صرف اللہ کو پکارو ‘۔ ایک اور آیت میں ہے کہ «وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا» ۱؎ [72-الجن:18] ’ مسجدیں اللہ ہی کی ہیں۔ اس کا نام ان میں لیا جائے ‘ یعنی کتاب اللہ کی تلاوت کی جائے۔ ’ صبح شام وہاں اس اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں ‘ «آصَالُ» جمع ہے «أَصِيلٍ» کی، شام کے وقت کو «أَصِيلٍ» کہتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جہاں کہیں قرآن میں «تَسْبِيحٍ» کا لفظ ہے وہاں مراد نماز ہے۔“ پس یہاں مراد صبح کی اور عصر کی نماز ہے۔ پہلے پہلے یہی دو نمازیں فرض ہوئی تھیں پس وہی یاد دلائی گئیں۔ ایک قرأت میں «يُسَبِّحُ» ہے اور اس قرأت پر «وَالْآصَالِ» پر پورا وقف ہے اور «رِجَالٌ» سے پھر دوسری بات شروع ہے گویا کہ وہ مفسر ہے فاعل محذوف کے لیے۔ تو گویا کہا گیا کہ وہاں تسبیح کون کرتے ہیں؟ تو جواب دیا گیا کہ ایسے لوگ اور «يُسَبِّحُ» کی قرأت پر «رِجَالٌ» فاعل ہے تو وقف فاعل کے بیان کے بعد چاہیئے۔ کہتے ہیں «رِجَالٌ» اشارہ ہے ان کے بہترین مقاصد اور ان کی پاک نیتوں اور اعلی کاموں کی طرف یہ اللہ کے گھروں کے آباد رکھنے والے ہیں۔ اس کی عبادت کی جگہیں ان سے زینت پاتی ہیں، توحید اور شکر گزری کرنے والے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ» ۱؎ [33-الأحزاب:23] ، یعنی ’ مومنوں میں ایسے بھی مرد ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کئے تھے انہیں پورے کر دکھایا ‘۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عورت کی اپنے گھر کی نماز اس کی اپنے صحن کی نماز سے افضل ہے، اور اس کی اپنی اس کوٹھری کی نماز اس کے اپنے گھر کی نماز سے افضل ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:570،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے { عورتوں کی بہترین مسجد گھر کے اندر کا کونا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:297/6:حسن بالشواهد] مسند احمد میں ہے کہ { ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرنا بہت پسند کرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ مجھے بھی معلوم ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تیری اپنے گھر کی نماز صحن کی نماز سے اور حجرے کی نماز گھر کی نماز سے اور گھر کی کوٹھڑی کی نماز حجرے کی نماز سے افضل ہے۔ اور محلے کی مسجد سے افضل گھر کی نماز ہے اور محلے کی مسجد کی نماز میری مسجد کی نماز سے افضل ہے }۔ یہ سن کر مائی صاحبہ نے اپنے گھر کے بالکل انتہائی حصے میں ایک جگہ کو بطور مسجد کے مقرر کر لیا اور آخری گھڑی تک وہیں نماز پڑھتی رہیں }۔ رضی اللہ عنہا۔ ۱؎ [مسند احمد:371/6:حسن] ہاں البتہ عورتوں کے لیے بھی مسجد میں مردوں کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ضرور ہے۔ بشرطیکہ مردوں پر اپنی زینت ظاہر نہ ہونے دیں اور نہ خوشبو لگا کر نکلیں۔ صحیح حدیث میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:900] ابوداؤد میں ہے کہ { عورتوں کے لیے ان کے گھر افضل ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:567،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور حدیث میں ہے کہ { وہ خوشبو استعمال کرکے نہ نکلیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:565،قال الشيخ الألباني:صحیح بالشواهد]
صحیح مسلم شریف میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا: { جب تم میں سے کوئی مسجد آنا چاہے تو خوشبو کو ہاتھ بھی نہ لگائے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:443] بخاری و مسلم میں ہے کہ ”مسلمان عورتیں صبح کی نماز میں آتی تھیں پھر وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی چلی جاتی تھیں اور بوجہ رات کے اندھیرے کی وجہ سے وہ پہچانی نہیں جاتی تھیں۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:372] ام المؤمنین سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”عورتوں نے یہ جو نئی نئی باتیں نکالیں ہیں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں کو پالیتے تو انہیں مسجدوں میں آنے سے روک دیتے جیسے کہ بنو اسرائیل کی عورتیں روک دی گئیں۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:869]
ایسے لوگ جنہیں خرید و فروخت یاد الٰہی سے نہیں روکتی۔ جیسے ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» ۱؎ [63-المنافقون:9] ’ ایمان والو، مال و اولاد تمہیں ذکر اللہ سے غافل نہ کر دے ‘۔ سورۃ الجمعہ میں ہے کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّـهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ» ۱؎ [62-الجمعة:9] ’ جمعہ کی اذان سن کر ذکر اللہ کی طرف چل پڑو اور تجارت چھوڑ دو ‘۔ مطلب یہ ہے کہ ان نیک لوگوں کو دنیا اور متاع آخرت اور ذکر اللہ سے غافل نہ کر سکتی، انہیں آخرت اور آخرت کی نعمتوں پر یقین کامل ہے اور انہیں ہمیشہ رہنے والا سمجھتے ہیں اور یہاں کی چیزوں کو فانی جانتے ہیں اس لیے انہیں چھوڑ کر اس طرف توجہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو، اس کی محبت کو، اس کے احکام کو مقدم کرتے ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ تجارت پیشہ حضرات کو اذان سن کر اپنے کام کاج چھوڑ کر مسجد کی طرف جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا ”یہ لوگ انہی میں سے ہیں۔“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے۔
ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”میں سوداگری یا تجارت کروں اگرچہ اس میں مجھے ہر دن تین سو اشرفیاں ملتی ہوں لیکن میں نمازوں کے وقت یہ سب چھوڑ کر ضرور چلا جاؤں گا۔“ میرا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ تجارت کرنا حرام ہے بلکہ یہ ہے کہ ہم میں یہ وصف ہونا چاہیئے، جو اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔ سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ نماز کے لیے جا رہے تھے، دیکھا کہ مدینہ شریف کے سوداگر اپنی اپنی دوکانوں پر کپڑے ڈھک کر نماز کے لیے گئے ہوئے ہیں اور کوئی بھی دوکان پر موجود نہیں تو یہی آیت پڑھی اور فرمایا ”یہ انہی میں سے ہیں جن کی تعریف جناب باری نے فرمائی ہے۔“ اس بات کا سلف میں یہاں تک خیال تھا کہ ترازو اٹھائے تول رہے ہیں اور اذان کان میں پڑی تو ترازو رکھ دی اور مسجد کی طرف چل دئے فرض نماز باجماعت مسجد میں ادا کرنے کا انہیں عشق تھا۔ وہ نماز کے اوقات کی ارکان اور آداب کی حفاظت کے ساتھ نمازوں کے پابند تھے۔ یہ اس لیے کہ دلوں میں خوف الٰہی تھا قیامت کا آنا برحق جانتے تھے اس دن کی خوفناکی سے واقف تھے کہ سخت تر گھبراہٹ اور کامل پریشانی اور بے حد الجھن کی وجہ سے آنکھیں پتھرا جائیں گی، دل اڑ جائیں گے، کلیجے دہل جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا فَوَقَاهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا» ۱؎ [76-الإنسان:8-12] ’ میرے نیک بندے میری محبت کی بنا پر مسکینوں یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہیں محض اللہ کی رضاجوئی کے لیے کھلا رہے ہیں، ہمارا مقصد تم سے شکریہ طلب کرنے یا بدلہ لینے کا نہیں۔ ہمیں تو اپنے پروردگار سے اس دن کا ڈر ہے جب کہ لوگ مارے رنج و غم کے منہ بسورے ہوئے اور تیوریاں بدلے ہوئے ہوں گے۔ پس اللہ ہی انہیں اس دن کی مصیبتوں سے نجات دے گا اور انہیں تروتازگی بشاشت، ہنسی خوشی اور راحت و آرام سے ملا دے گا۔ اور ان کے صبر کے بدلے انہیں جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا ‘۔
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ ان کی نیکیاں مقبول ہیں، برائیاں معاف ہیں ان کے ایک ایک عمل کا بہترین بدلہ مع زیادتی اور اللہ کے فضل کے انہیں ضرور ملنا ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:40] ’ اللہ تعالیٰ بقدر ایک ذرے کے بھی ظلم نہیں کرتا ‘۔ اور آیت میں ہے «مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا» [6-الأنعام:160] ’ نیکی دس گناہ کر دی جاتی ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» ۱؎ [2-البقرة:245] ’ جو اللہ کو اچھا قرض دے گا، اسے اللہ تعالیٰ بڑھا چڑھا کر زیادہ سے زیادہ کرکے دے گا ‘۔ فرمان ہے آیت «يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاءُ» ۱؎ [2-البقرة:261] ’ وہ بڑھا دیتا ہے جس کے لیے چاہے ‘۔ یہاں فرمان ہے ’ وہ جسے چاہے بے حساب دیتا ہے ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہا کے پاس ایک مرتبہ دودھ لایا گیا، آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی مجلس کے ساتھیوں میں سے ہر ایک کو پلانا چاہا مگر سب روزے سے تھے۔ اس لیے آپ رضی اللہ عنہ ہی کے پاس پھر برتن آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت «يَخَافُونَ» سے پڑھی اور پی لیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { قیامت کے دن جب کہ اول آخر سب جمع ہونگے، اللہ تعالیٰ ایک منادی کو حکم دے گا جو باآواز بلند ندا کرے گا جسے تمام اہل محشر سنیں گے کہ آج سب کو معلوم ہو جائے گا کہ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ بزرگ کون ہے؟ پھر فرمائے گا ’ وہ لوگ کھڑے ہو جائیں گے جنہیں لین دین اور تجارت ذکر اللہ سے روکتا نہ تھا ‘،طپس وہ کھڑے ہو جائیں گے اور وہ بہت ہی کم ہوں گے سب سے پہلے انہیں حساب سے فارغ کیا جائے گا }۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:95/5] آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ان کی نیکیوں کا اجر یعنی جنت بھی انہیں ملے گی اور مزید فضل الٰہی یہ ہو گا کہ جن لوگوں نے ان کے ساتھ احسان کئے ہوں گے اور وہ مستحق شفاعت ہونگے ان سب کی شفاعت کا منصب انہیں حاصل ہو جائے گا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:10462:ضعیف]
36-1جب اللہ تعالیٰ نے قلب مومن کو اور اس میں جو ایمان و ہدایت اور علم ہے، اس کو ایسے چراغ سے تشبیہ دی جو شیشے کی قندیل میں ہو اور جو صاف اور شفاف تیل سے روشن ہو۔ تو اب اس کا محل بیان کیا جا رہا ہے کہ یہ قندیل ایسے گھروں میں ہیں، جن کی بابت حکم دیا گیا ہے کہ انھیں بلند کیا جائے اور ان میں اللہ کا ذکر کیا جائے مراد مسجدیں ہیں، جو اللہ کو زمین کے حصوں میں سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ بلندی سے مراد سنگ و خشت کی بلندی نہیں ہے بلکہ اس میں مسجدوں کو گندگی، لغویات اور غیر مناسب اقوال و افعال سے پاک رکھنا بھی شامل ہے۔ ورنہ محض مسجدوں کی عمارتوں کو عالی شان اور فلک بوس بنادینا مطلوب نہیں ہے بلکہ احادیث میں مسجدوں کو زر و نگار اور زیادہ آراستہ و پیراستہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اور ایک حدیث میں تو اسے قرب قیامت کی علامات میں بتلایا گیا ہے۔ 36-2تسبیح سے مراد نماز ہے، یعنی اہل ایمان، جن کے دل میں ایمان اور ہدایت کے نور سے روشن ہوتے ہیں، صبح شام مسجدوں میں اللہ کی رضا کے لئے نماز پڑھتے اور اس کی عبادت کرتے ہیں۔
(آیت 36) ➊ {فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ: ” بُيُوْتٍ “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”ان عظیم گھروں میں“ کیا گیا ہے۔ {” اَذِنَ “} کا لفظ اجازت اور حکم دونوں معنوں میں آتا ہے، یہاں مراد حکم ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ }» [ النساء: ۶۴ ] ”اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی فرماں برداری کی جائے۔“ ➋ {” فِيْ بُيُوْتٍ “} جار مجرور کس کے متعلق ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ پچھلی آیت میں کئی الفاظ ہیں جن میں سے کسی کے بھی متعلق کر دیں تو معنی درست ہوتا ہے، مثلاً {” نُوْرٌ، كَمِشْكٰوةٍ، مِصْبَاحٌ، اَلزُّجَاجَةُ “} اور {” يُوْقَدُ “} یعنی وہ نور ہدایت ایسے عظیم گھروں میں ملتا ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ابن کثیر فرماتے ہیں: ”جب اللہ تعالیٰ نے مومن کے دل کی اور اس میں موجود علم اور ہدایت کی مثال ایسے چراغ کے ساتھ دی جو شفاف فانوس میں ہے اور نہایت عمدہ تیل کے ساتھ روشن کیا جا رہا ہے، تو اس کی جگہ بیان فرمائی کہ وہ جگہ زمین کے تمام قطعوں میں سے اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب قطعہ اللہ کی مسجدیں ہیں، جن میں اس کی عبادت ہوتی ہے اور اس کی توحید کا اعلان ہوتا ہے۔“ ➌ {” اَنْ تُرْفَعَ “} کا لفظی معنی ہے ”کہ وہ (گھر) بلند کیے جائیں “ مگر یہاں بلند کرنے سے مراد یہ نہیں کہ ان کی عمارت زیادہ سے زیادہ اونچی بنائی جائے، کیونکہ اگر یہ مطلب ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما انھیں کھجور کے تنوں اور ٹہنیوں سے نہ بناتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہ فرماتے: [ مَا أُمِرْتُ بِتَشْيِيْدِ الْمَسَاجِدِ ] [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب في بناء المساجد: ۴۴۸، قال الألباني صحیح، عن ابن عباس رضی اللہ عنھما ] ”مجھے مساجد کو اونچا بنانے یا چونا گچ بنانے کا حکم نہیں دیا گیا۔“ اس سے مراد ان کی تعظیم و تکریم ہے۔ طبری نے معتبر سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ سے ابن عباس رضی اللہ عنھما کی تفسیر نقل فرمائی ہے: {” «فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ» وَهِيَ الْمَسَاجِدُ تُكْرَمُ وَ نُهِيَ عَنِ اللَّغْوِ فِيْهَا “} [ طبري: ۲۶۳۳۶ ] ”اس آیت میں {” بُيُوْتٍ “ } سے مراد مساجد ہیں، ان کی تکریم و تعظیم کی جائے اور ان میں لغو کاموں سے منع کیا گیا۔“ ابن عباس رضی اللہ عنھما کے اس قول سے معلوم ہوا کہ {” بُيُوْتٍ “} سے مراد مساجد ہیں اور انھیں بلند کرنے سے مراد ان کی تکریم اور ان میں لغو کاموں سے بچنا ہے۔ ”رفع مساجد“ یعنی مسجدوں کی تعظیم و تکریم میں انھیں ہر محلے میں بنانا، ان میں جھاڑو پھیرنا، انھیں نجاست اور گندگی سے پاک رکھنا، انھیں خوشبو دار رکھنا، تحیۃ المسجد پڑھے بغیر ان میں نہ بیٹھنا، ان میں تھوکنے سے، غلط اور شرکیہ اشعار پڑھنے سے، بے ہودہ باتوں اور شوروغل سے بچنا، گم شدہ چیز کا ان میں اعلان نہ کرنا اور ان میں خرید و فروخت نہ کرنا، سب کچھ شامل ہے۔ علاوہ ازیں حائضہ اور جنبی کو مسجد میں داخلے سے ممانعت، بدبودار چیز کھا کر مسجد میں آنے کی ممانعت، مسجد کو راستے کے طور پر استعمال کرنے کی ممانعت اور مساجد میں حدود اللہ قائم کرنے سے ممانعت بھی ان کی نظافت اور تکریم ہی کی وجہ سے ہے۔ ان میں داخل ہوتے وقت دایاں پاؤں اور نکلتے وقت بایاں پاؤں پہلے رکھنا ان کی تکریم کا حصہ ہے۔ اسی طرح ان میں داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ سے رحمت کی درخواست اور شیطان مردود سے پناہ کی طلب اور نکلتے وقت اللہ کے فضل کی درخواست واضح علامت ہے کہ بندہ کسی عام جگہ میں داخل یا اس سے خارج نہیں ہو رہا، بلکہ ایک نہایت عظمت والے مقام میں داخل ہو رہا ہے، یا اس سے نکل رہا ہے۔ ان تمام باتوں کی تفصیل آیات و احادیث میں موجود ہے اور تھوڑی سے توجہ سے بآسانی دیکھی جا سکتی ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں اس کا خاصا حصہ مذکور ہے۔ ➍ { وَ يُذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ:} مساجد میں اللہ کا نام یاد کرنے میں فرض اور نفل سب نمازیں شامل ہیں، اسی طرح اس میں قرآن مجید کی تلاوت، اللہ کی تسبیح، اس کی حمد، لا الٰہ الا اللہ اور دوسرے تمام اذکار شامل ہیں۔ علم کا سیکھنا سکھانا، اس کا باہم مذاکرہ، اعتکاف اور دوسری تمام عبادات شامل ہیں جو مساجد میں ادا کی جاتی ہیں۔ ➎ {يُسَبِّحُ لَهٗ فِيْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ: ” بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ “} کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف کی آیت (۲۰۵) یعنی ان مساجد میں بڑی شان والے مرد خلوص کے ساتھ اللہ کے لیے صبح و شام تسبیح بیان کرتے ہیں۔ تسبیح میں اگرچہ سب اذکار آ جاتے ہیں اور عموماً اذکار روزانہ صبح و شام ہی کیے جاتے ہیں، مگر ترجمان القرآن ابن عباس رضی اللہ عنھما نے اس کی تفسیر فرض نماز کے ساتھ فرمائی ہے۔ چنانچہ طبری نے معتبر سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ کے طریق سے ابن عباس رضی اللہ عنھما کی تفسیر بیان فرمائی ہے، انھوں نے فرمایا: {” يُسَبِّحُ لَهٗ فِيْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ “} کا مطلب یہ ہے کہ بڑی شان والے وہ مرد پہلے اور پچھلے پہر ان میں اللہ کے لیے نماز پڑھتے ہیں۔ {”غُدُوٌّ“} سے مراد صبح کی نماز ہے اور {”آصَالٌ“} سے مراد عصر کی نماز ہے۔ یہ دونوں نمازیں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے فرض فرمائیں، اس لیے اس نے پسند فرمایا کہ ان نمازوں کا ذکر کرے اور ان کے ساتھ اپنی عبادت کا ذکر کرے۔“ [ طبري: ۲۶۳۵۱ ] قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی تسبیح بول کر نماز مراد لی گئی ہے، دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۱۳۰)، سورۂ ق (۳۹، ۴۰) اور سورۂ طور (۴۹) بعض مفسرین نے {” الْاٰصَالِ “} سے چاروں نمازیں مراد لی ہیں۔ بغوی نے فرمایا: ”کیونکہ {” الْاٰصَالِ “} میں وہ چاروں آ جاتی ہیں۔“ {”صَيْلٌ“ } کا لفظ سورج ڈھلنے سے لے کر فجر سے پہلے تک بھی بولا جاتا ہے، اگرچہ الفاظ کے لحاظ سے یہ تفسیر درست ہے، تاہم شان نزول کو مدنظر رکھیں تو ابن عباس رضی اللہ عنھما کی تفسیر راجح ہے۔
اُن میں ایسے لوگ صبح و شام اُس کی تسبیح کرتے ہیں جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت نماز و ادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کر دیتی وہ اُس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل الٹنے اور دیدے پتھرا جانے کی نوبت آ جائے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
ایسے لوگ جنہیں تجارت اور خرید وفروخت اللہ کے ذکر سے اور نماز کے قائم کرنے اور زکوٰة ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن بہت سے دل اور بہت سی آنکھیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی
احمد رضا خان بریلوی
وہ مرد جنہیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا اور نہ خرید و فروخت اللہ کی یاد اور نماز برپا رکھنے اور زکوٰة دینے سے ڈرتے ہیں اس دن سے جس میں الٹ جائیں گے دل اور آنکھیں
علامہ محمد حسین نجفی
جنہیں کوئی تجارت اور (خرید) فروخت اللہ کی یاد سے نماز پڑھنے سے اور زکوٰۃ دینے سے غافل نہیں کرتی (کیونکہ) وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اور نگاہیں الٹ پلٹ ہو جائیں گی۔
عبدالسلام بن محمد
وہ بڑی شان والے مرد جنھیں اللہ کے ذکر سے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے سے نہ کوئی تجارت غافل کرتی ہے اور نہ کوئی خرید و فروخت، وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اور آنکھیں الٹ جائیں گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومن کے دل سے مماثلت ٭٭
مومن کے دل کی اور اس میں جو ہدایت وعلم ہے اس کی مثال اوپر والی آیت میں اس روشن چراغ سے دی تھی جو شیشہ کی ہانڈی میں ہو اور صاف زیتون کے روشن تیل سے جل رہا ہے۔ اس لیئے یہاں اس کی عبادت کی جاتی ہے اور اس کی توحید بیان کی جاتی ہے۔ جن کی نگہبانی اور پاک صاف رکھنے کا اور بے ہودہ اقوال و افعال سے بچانے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ ” «أَنْ تُرْفَعَ» کے معنی اس میں بیہودگی نہ کرنے کے ہیں۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے یہی مسجدیں ہیں جن کی تعمیر، آبادی، ادب اور پاکیزگی کا حکم اللہ نے دیا ہے۔“ کعب رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے کہ زمین پر مسجدیں میرا گھر ہیں، جو بھی باوضو میرے گھر پر میری ملاقات کے لیے آئے گا، میں اس کی عزت کرونگا ہر اس شخص پر جس سے ملنے کے لیے کوئی اس کے گھر آئے حق ہے کہ وہ اس کی تکریم کرے [ تفسیر ابن ابی حاتم ] مسجدوں کے بنانے اور ان کا ادب احترام کرنے انہیں خوشبودار اور پاک صاف رکھنے کے بارے میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں جنہیں بحمد اللہ میں نے ایک مستقل کتاب میں لکھا ہے یہاں بھی ان میں سے تھوڑی بہت وارد کرتا ہوں، اللہ مدد کرے اسی پر بھروسہ اور توکل ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اسی جیسا گھر جنت میں بناتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:450] { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { نام اللہ کے ذکر کئے جانے کے لیے جو شخص مسجد بنائے اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے }}۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:735،قال الشيخ الألباني:صحیح] { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں اور پاک صاف اور خوشبودار رکھی جائیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:455،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے ”لوگوں کے لیے مسجدیں بناؤ جہاں انہیں جگہ ملے لیکن سرخ یا زردرنگ سے بچو تاکہ لوگ فتنے میں نہ پڑیں۔“ [صحیح بخاری تعلیقا:کتاب الصلواۃ:باب:بنیان المسجد] ایک ضعیف سند سے مروی ہے کہ { جب تک کسی قوم نے اپنی مسجدوں کو ٹیپ ٹاپ والا، نقش و نگار اور رنگ روغن والا نہ بنایا ان کے اعلام برے نہیں ہوئے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:741، قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے۔ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے مسجدوں کو بلند و بالا اور پختہ بنانے کا حکم نہیں دیا گیا }۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ راوی حدیث فرماتے ہیں کہ ”تم یقیناً مسجدوں کو مزین، منقش اور رنگ دار کرو گے جیسے کہ یہودونصاری نے کیا۔“ [سنن ابوداود:448، قال الشيخ الألباني:صحیح] { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ لوگ مسجدوں کے بارے میں آپس میں ایک دوسرے پر فخر و غرور نہ کرنے لگیں } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:449،قال الشيخ الألباني:صحیح] { ایک شخص مسجد میں اپنے اونٹ کو ڈھونڈتا ہوا آیا اور کہنے لگا ہے کوئی جو مجھے میرے سرخ رنگ کے اونٹ کا پتہ دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی کہ { اللہ کرے تجھے نہ ملے۔ مسجدیں تو جس مطلب کے لیے بنائی گئی ہیں، اسی کام کے لیے ہیں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:569] { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدوں میں خرید و فروخت، تجارت کرنے سے اور وہاں اشعار کے گائے جانے سے منع فرما دیا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1079،قال الشيخ الألباني:صحیح]
فرمان ہے کہ { جسے مسجد میں خرید و فروخت کرتے ہوئے دیکھو تو کہو کہ اللہ تیری تجارت میں نفع نہ دے اور جب کسی کو گمشدہ جانور مسجد میں تلاش کرتا ہوا پاؤ تو کہو کہ اللہ کرے نہ ملے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1321،قال الشيخ الألباني:صحیح] { بہت سی باتیں مسجد کے لائق نہیں، مسجد کو راستہ نہ بنایا جائے، نہ تیر پھیلائے جائیں نہ کچا گوشت لایا جائے، نہ یہاں حد ماری جائے، نہ یہاں باتیں اور قصے کہے جائیں نہ اسے بازار بنایا جائے }۔ [سنن ابن ماجه:748،قال الشيخ الألباني:ضعیف و صحت منه الخصلة الاولى]
فرمان ہے کہ { ہماری مسجدوں سے اپنے بچوں کو، دیوانوں کو، خرید و فروخت کو، لڑائی جھگڑے کو اور بلند آواز سے بولنے کو اور حد جاری کرنے کو اور تلواروں کے ننگی کرنے کو روکو۔ ان کے دروازوں پر وضو وغیرہ کی جگہ بناؤ اور جمعہ کے دن انہیں خوشبو سے مہکا دو }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:750،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے۔ بعض علماء نے بلا ضرورت کے مسجدوں کو گزرگاہ بنانا مکروہ کہا ہے۔ ایک اثر میں ہے کہ جو شخص بغیر نماز پڑھے مسجد سے گزر جائے، فرشتے اس پر تعجب کرتے ہیں۔ ہتھیاروں اور تیروں سے جو منع فرمایا یہ اس لیے کہ مسلمان وہاں بکثرت جمع ہوتے ہیں ایسان نہ ہو کہ کسی کے لگ جائے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ { تیر یا نیزہ لے کر گزرے تو اسے چاہیئے کہ اس کا پھل اپنے ہاتھ میں رکھے تاکہ کسی کو ایذاء نہ پہنچے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:452] کچا گوشت لانا اس لیے منع ہے کہ خوف ہے اس میں سے خون نہ ٹپکے جیسے کہ حائضہ عورت کو بھی اسی وجہ سے مسجد میں آنے کی ممانعت کر دی گئی ہے۔ مسجد میں حد لگانا اور قصاص لینا اس لیے منع کیا گیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شخص مسجد کو نجس نہ کر دے۔ بازار بنانا اس لیے منع ہے کہ وہ خرید و فروخت کی جگہ ہے اور مسجد میں یہ دونوں باتیں منع ہیں۔ کیونکہ مسجدیں ذکر اللہ اور نماز کی جگہ ہیں۔ جیسے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی سے فرمایا تھا، جس نے مسجد کے گوشے میں پیشاب کر دیا تھا کہ { مسجدیں اس لیے نہیں بنیں، بلکہ وہ اللہ کے ذکر اور نماز کی جگہ ہے }۔ پھر اس کے پیشاب پر ایک بڑا ڈول پانی کا بہانے کا حکم دیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6025] دوسری حدیث میں ہے { اپنے بچوں کو اپنی مسجدوں سے روکو } ۱؎ [سنن ابن ماجه:750،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس لیے کہ کھیل کود ہی ان کا کام ہے اور مسجد میں یہ مناسب نہیں۔ چنانچہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہا جب کسی بچے کو مسجد میں کھیلتا ہوا دیکھ لیتے تو اسے کوڑے سے پیٹتے اور عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں کسی کو نہ رہنے دیتے۔ دیوانوں کو بھی مسجدوں سے روکا گیا کیونکہ وہ بےعقل ہوتے ہیں اور لوگوں کے مذاق کا ذریعہ ہوتے ہیں اور مسجد اس تماشے کے لائق نہیں۔ اور یہ بھی ہے کہ ان کی نجاست وغیرہ کا خوف ہے۔ بیع و شرا سے روکا گیا کیونکہ وہ ذکر اللہ سے مانع ہے۔ جھگڑوں کی مصالحتیٰ مجلس منعقد کرنے سے اس لیے منع کر دیا گیا کہ اس میں آوازیں بلند ہوتی ہیں ایسے الفاظ بھی نکل جاتے ہیں جو آداب مسجد کے خلاف ہیں۔
اکثر علماء کا قول ہے کہ فیصلے مسجد میں نہ کئے جائیں اسی لیے اس جملے کے بعد بلند آواز سے منع فرمایا۔ سائب بن یزید کندی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں ”میں مسجد میں کھڑا تھا کہ اچانک مجھ پر کسی نے کنکر پھینکا، میں نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے مجھ سے فرمانے لگے، جاؤ ان دونوں شخصوں کو میرے پاس لاؤ، جب میں آپ کے پاس انہیں لایا تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا۔ تم کون ہو؟ یا پوچھا کہ ”تم کہاں کے ہو“؟ انہوں نے کہ ”ہم طائف کے رہنے والے ہیں۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اگر تم یہاں رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں سخت سزا دیتا تم مسجد نبوی میں اونچی اونچی آوازوں سے بول رہے ہو“؟ ۱؎ [صحیح بخاری:470] ایک شخص کی اونچی آواز سن کر جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا۔ ”جانتا بھی ہے تو کہاں ہے؟۔“ [ نسائی ] اور مسجد کے دروازوں پر وضو کرنے والے اور پاکیزگی حاصل کرنے کی جگہ بنانے کا حکم دیا۔ مسجد نبوی کے قریب ہی کنویں تھے جن میں سے پانی کھینچ کر پیتے تھے اور وضو اور پاکیزگی حاصل کرتے تھے۔ اور جمعہ کے دن اسے خوشبودار کرنے کا حکم ہوا ہے کیونکہ اس دن لوگ بکثر جمع ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ ہر جمعہ کے دن مسجد نبوی کو مہکایا کرتے تھے۔ بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جماعت کی نماز انسان کی اکیلی نماز پر جو گھر میں یا دوکان پر پڑھی جائے، پچیس درجے زیادہ ثواب رکھتی ہے، یہ اس لیے کہ جب وہ اچھی طرح سے وضو کرکے صرف نماز کے ارادے سے چلتا ہے تو ہر ایک قدم کے اٹھانے پر اس کا ایک درجہ بڑھتا ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے اور جب نماز پڑھ چکتا ہے پھر جت تک وہ اپنی نماز کی جگہ رہے، فرشتے اس پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اے اللہ اس پر اپنی رحمت نازل فرما اور اس پر رحم کر۔ اور جب تک جماعت کے انتظار میں رہے نماز کا ثواب ملتا رہتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:477] دارقطنی میں ہے { مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے سوا نہیں ہوتی }۔ ۱؎ [دارقطنی:420/1:موقوف]
سنن میں ہے { اندھیروں میں مسجد جانے والوں کو خوشخبری سنا دو کہ انہیں قیامت کے دن پورا پورا نور ملے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:561،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ بھی مستحب ہے کہ مسجد میں جانے والا پہلے اپنا داہنا قدم رکھے اور یہ دعا پڑھے۔ بخاری شریف میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں آتے یہ کہتے «أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ، وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ، وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ، مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ۔ فرمان ہے کہ جب کوئی شخص یہ پڑھتا ہے شیطان کہتا ہے میرے شر سے یہ تمام دن محفوظ ہو گیا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:466،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ { تم میں سے کوئی مسجد میں جانا چاہے یہ دعا پڑھے «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» ”اے اللہ میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے“ اور جب مسجد سے باہر جائے تو یہ کہے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ» ”اے اللہ! میں تیرے فضل کا طالب ہوں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:713] ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ { جب تم میں سے کوئی مسجد میں جائے تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے پھر دعا «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» پڑھے اور جب مسجد سے نکلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیج کر دعا «اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» پڑھے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:773،قال الشيخ الألباني:صحیح] ترمذی وغیرہ میں ہے کہ { جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آتے تو درود پڑھ کر دعا «اللَّهُمَّ، اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» پڑھتے اور جب مسجد سے نکلتے تو درود کے بعد دعا «اللَّهُمَّ، اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ» پڑھتے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:314،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس حدیث کی سند متصل نہیں۔ الغرض یہ اور ان جیسی اور بہت سی حدیثیں اس آیت کے متعلق ہیں جو مسجد اور احکام مسجد کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ اور آیت میں ہے «يَابَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ» ۱؎ [7-الأعراف:31] ’ تم ہر مسجد میں اپنا منہ سیدھا رکھو ‘۔ «وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» ۱؎ [7-الأعراف:29] ’ اور خلوص کے ساتھ صرف اللہ کو پکارو ‘۔ ایک اور آیت میں ہے کہ «وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا» ۱؎ [72-الجن:18] ’ مسجدیں اللہ ہی کی ہیں۔ اس کا نام ان میں لیا جائے ‘ یعنی کتاب اللہ کی تلاوت کی جائے۔ ’ صبح شام وہاں اس اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں ‘ «آصَالُ» جمع ہے «أَصِيلٍ» کی، شام کے وقت کو «أَصِيلٍ» کہتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جہاں کہیں قرآن میں «تَسْبِيحٍ» کا لفظ ہے وہاں مراد نماز ہے۔“ پس یہاں مراد صبح کی اور عصر کی نماز ہے۔ پہلے پہلے یہی دو نمازیں فرض ہوئی تھیں پس وہی یاد دلائی گئیں۔ ایک قرأت میں «يُسَبِّحُ» ہے اور اس قرأت پر «وَالْآصَالِ» پر پورا وقف ہے اور «رِجَالٌ» سے پھر دوسری بات شروع ہے گویا کہ وہ مفسر ہے فاعل محذوف کے لیے۔ تو گویا کہا گیا کہ وہاں تسبیح کون کرتے ہیں؟ تو جواب دیا گیا کہ ایسے لوگ اور «يُسَبِّحُ» کی قرأت پر «رِجَالٌ» فاعل ہے تو وقف فاعل کے بیان کے بعد چاہیئے۔ کہتے ہیں «رِجَالٌ» اشارہ ہے ان کے بہترین مقاصد اور ان کی پاک نیتوں اور اعلی کاموں کی طرف یہ اللہ کے گھروں کے آباد رکھنے والے ہیں۔ اس کی عبادت کی جگہیں ان سے زینت پاتی ہیں، توحید اور شکر گزری کرنے والے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ» ۱؎ [33-الأحزاب:23] ، یعنی ’ مومنوں میں ایسے بھی مرد ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کئے تھے انہیں پورے کر دکھایا ‘۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عورت کی اپنے گھر کی نماز اس کی اپنے صحن کی نماز سے افضل ہے، اور اس کی اپنی اس کوٹھری کی نماز اس کے اپنے گھر کی نماز سے افضل ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:570،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے { عورتوں کی بہترین مسجد گھر کے اندر کا کونا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:297/6:حسن بالشواهد] مسند احمد میں ہے کہ { ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرنا بہت پسند کرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ مجھے بھی معلوم ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تیری اپنے گھر کی نماز صحن کی نماز سے اور حجرے کی نماز گھر کی نماز سے اور گھر کی کوٹھڑی کی نماز حجرے کی نماز سے افضل ہے۔ اور محلے کی مسجد سے افضل گھر کی نماز ہے اور محلے کی مسجد کی نماز میری مسجد کی نماز سے افضل ہے }۔ یہ سن کر مائی صاحبہ نے اپنے گھر کے بالکل انتہائی حصے میں ایک جگہ کو بطور مسجد کے مقرر کر لیا اور آخری گھڑی تک وہیں نماز پڑھتی رہیں }۔ رضی اللہ عنہا۔ ۱؎ [مسند احمد:371/6:حسن] ہاں البتہ عورتوں کے لیے بھی مسجد میں مردوں کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ضرور ہے۔ بشرطیکہ مردوں پر اپنی زینت ظاہر نہ ہونے دیں اور نہ خوشبو لگا کر نکلیں۔ صحیح حدیث میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:900] ابوداؤد میں ہے کہ { عورتوں کے لیے ان کے گھر افضل ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:567،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور حدیث میں ہے کہ { وہ خوشبو استعمال کرکے نہ نکلیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:565،قال الشيخ الألباني:صحیح بالشواهد]
صحیح مسلم شریف میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا: { جب تم میں سے کوئی مسجد آنا چاہے تو خوشبو کو ہاتھ بھی نہ لگائے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:443] بخاری و مسلم میں ہے کہ ”مسلمان عورتیں صبح کی نماز میں آتی تھیں پھر وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی چلی جاتی تھیں اور بوجہ رات کے اندھیرے کی وجہ سے وہ پہچانی نہیں جاتی تھیں۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:372] ام المؤمنین سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”عورتوں نے یہ جو نئی نئی باتیں نکالیں ہیں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں کو پالیتے تو انہیں مسجدوں میں آنے سے روک دیتے جیسے کہ بنو اسرائیل کی عورتیں روک دی گئیں۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:869]
ایسے لوگ جنہیں خرید و فروخت یاد الٰہی سے نہیں روکتی۔ جیسے ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» ۱؎ [63-المنافقون:9] ’ ایمان والو، مال و اولاد تمہیں ذکر اللہ سے غافل نہ کر دے ‘۔ سورۃ الجمعہ میں ہے کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّـهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ» ۱؎ [62-الجمعة:9] ’ جمعہ کی اذان سن کر ذکر اللہ کی طرف چل پڑو اور تجارت چھوڑ دو ‘۔ مطلب یہ ہے کہ ان نیک لوگوں کو دنیا اور متاع آخرت اور ذکر اللہ سے غافل نہ کر سکتی، انہیں آخرت اور آخرت کی نعمتوں پر یقین کامل ہے اور انہیں ہمیشہ رہنے والا سمجھتے ہیں اور یہاں کی چیزوں کو فانی جانتے ہیں اس لیے انہیں چھوڑ کر اس طرف توجہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو، اس کی محبت کو، اس کے احکام کو مقدم کرتے ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ تجارت پیشہ حضرات کو اذان سن کر اپنے کام کاج چھوڑ کر مسجد کی طرف جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا ”یہ لوگ انہی میں سے ہیں۔“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے۔
ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”میں سوداگری یا تجارت کروں اگرچہ اس میں مجھے ہر دن تین سو اشرفیاں ملتی ہوں لیکن میں نمازوں کے وقت یہ سب چھوڑ کر ضرور چلا جاؤں گا۔“ میرا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ تجارت کرنا حرام ہے بلکہ یہ ہے کہ ہم میں یہ وصف ہونا چاہیئے، جو اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔ سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ نماز کے لیے جا رہے تھے، دیکھا کہ مدینہ شریف کے سوداگر اپنی اپنی دوکانوں پر کپڑے ڈھک کر نماز کے لیے گئے ہوئے ہیں اور کوئی بھی دوکان پر موجود نہیں تو یہی آیت پڑھی اور فرمایا ”یہ انہی میں سے ہیں جن کی تعریف جناب باری نے فرمائی ہے۔“ اس بات کا سلف میں یہاں تک خیال تھا کہ ترازو اٹھائے تول رہے ہیں اور اذان کان میں پڑی تو ترازو رکھ دی اور مسجد کی طرف چل دئے فرض نماز باجماعت مسجد میں ادا کرنے کا انہیں عشق تھا۔ وہ نماز کے اوقات کی ارکان اور آداب کی حفاظت کے ساتھ نمازوں کے پابند تھے۔ یہ اس لیے کہ دلوں میں خوف الٰہی تھا قیامت کا آنا برحق جانتے تھے اس دن کی خوفناکی سے واقف تھے کہ سخت تر گھبراہٹ اور کامل پریشانی اور بے حد الجھن کی وجہ سے آنکھیں پتھرا جائیں گی، دل اڑ جائیں گے، کلیجے دہل جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا فَوَقَاهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا» ۱؎ [76-الإنسان:8-12] ’ میرے نیک بندے میری محبت کی بنا پر مسکینوں یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہیں محض اللہ کی رضاجوئی کے لیے کھلا رہے ہیں، ہمارا مقصد تم سے شکریہ طلب کرنے یا بدلہ لینے کا نہیں۔ ہمیں تو اپنے پروردگار سے اس دن کا ڈر ہے جب کہ لوگ مارے رنج و غم کے منہ بسورے ہوئے اور تیوریاں بدلے ہوئے ہوں گے۔ پس اللہ ہی انہیں اس دن کی مصیبتوں سے نجات دے گا اور انہیں تروتازگی بشاشت، ہنسی خوشی اور راحت و آرام سے ملا دے گا۔ اور ان کے صبر کے بدلے انہیں جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا ‘۔
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ ان کی نیکیاں مقبول ہیں، برائیاں معاف ہیں ان کے ایک ایک عمل کا بہترین بدلہ مع زیادتی اور اللہ کے فضل کے انہیں ضرور ملنا ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:40] ’ اللہ تعالیٰ بقدر ایک ذرے کے بھی ظلم نہیں کرتا ‘۔ اور آیت میں ہے «مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا» [6-الأنعام:160] ’ نیکی دس گناہ کر دی جاتی ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» ۱؎ [2-البقرة:245] ’ جو اللہ کو اچھا قرض دے گا، اسے اللہ تعالیٰ بڑھا چڑھا کر زیادہ سے زیادہ کرکے دے گا ‘۔ فرمان ہے آیت «يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاءُ» ۱؎ [2-البقرة:261] ’ وہ بڑھا دیتا ہے جس کے لیے چاہے ‘۔ یہاں فرمان ہے ’ وہ جسے چاہے بے حساب دیتا ہے ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہا کے پاس ایک مرتبہ دودھ لایا گیا، آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی مجلس کے ساتھیوں میں سے ہر ایک کو پلانا چاہا مگر سب روزے سے تھے۔ اس لیے آپ رضی اللہ عنہ ہی کے پاس پھر برتن آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت «يَخَافُونَ» سے پڑھی اور پی لیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { قیامت کے دن جب کہ اول آخر سب جمع ہونگے، اللہ تعالیٰ ایک منادی کو حکم دے گا جو باآواز بلند ندا کرے گا جسے تمام اہل محشر سنیں گے کہ آج سب کو معلوم ہو جائے گا کہ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ بزرگ کون ہے؟ پھر فرمائے گا ’ وہ لوگ کھڑے ہو جائیں گے جنہیں لین دین اور تجارت ذکر اللہ سے روکتا نہ تھا ‘،طپس وہ کھڑے ہو جائیں گے اور وہ بہت ہی کم ہوں گے سب سے پہلے انہیں حساب سے فارغ کیا جائے گا }۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:95/5] آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ان کی نیکیوں کا اجر یعنی جنت بھی انہیں ملے گی اور مزید فضل الٰہی یہ ہو گا کہ جن لوگوں نے ان کے ساتھ احسان کئے ہوں گے اور وہ مستحق شفاعت ہونگے ان سب کی شفاعت کا منصب انہیں حاصل ہو جائے گا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:10462:ضعیف]
37-1یعنی شدت خوف اور ہولناکی کی وجہ سے جس طرح دوسرے مقام پر ہے ' ان کو قیامت والے دن سے ڈراؤ، جس دن دل، گلوں کے پاس آجائیں گے، غم بھرے ہوئے '۔ ابتداً دلوں کی یہ کیفیت سب کی ہی ہوگی، مومن کی بھی اور کافر کی بھی۔
(آیت 37) ➊ { رِجَالٌ لَّا تُلْهِيْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَيْعٌ …: ” رِجَالٌ “} پر تنوین تفخیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی شان والے مرد“ کیا گیا ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ ”تجارت“ کے بعد ”بیع“ کو ذکر کرنے کی کیا ضرورت ہے، جب کہ بیع بھی تجارت ہی ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ تجارت ایک وسیع عمل ہے، جس میں مختلف اشیاء خریدنے کے لیے سفر کرنا، انھیں مناسب مقام سے مناسب وقت پر مناسب قیمت کے ساتھ خریدنا، انھیں محفوظ کرکے رکھنا، پھر بیچنے کے لیے مناسب موقع کی تلاش میں رہنا، اس کے لیے دکان پر بیٹھنا، گاہک کا انتظار کرنا اور مناسب وقت پر فروخت کر دینا سب کچھ شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمانے کے بعد کہ ان عظیم مردوں کو اللہ کے ذکر اور اقامتِ صلاۃ اور ادائے زکوٰۃ سے تجارت میں درکار کوئی عمل غافل نہیں کرتا، تجارت کے تمام کاموں میں سے خاص اس کام کا ذکر فرمایا جو تجارت کی ساری محنت کا نتیجہ ہے اور وہ ہے بیع، یہ لفظ بیچنے اور خریدنے دونوں پر بولا جاتا ہے، یعنی اللہ کے ان بندوں کو تجارت میں درکار کوئی کام اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کرتا، حتیٰ کہ خرید و فروخت کا عمل، جو تجارت کی ساری محنت کا نتیجہ ہے اور جس سے نفع حاصل ہوتا ہے، وہ بھی انھیں اللہ کے ذکر سے نہیں روکتا۔ اذان ہونے پر خواہ کوئی چیز بک رہی ہو یا خریدی جا رہی ہو اور خواہ کتنا نفع حاصل ہو رہا ہو وہ دنیا کے اس نفع کو لات مار کر اللہ کے گھر میں حاضر ہو جاتے ہیں۔ ➋ {عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ:} اللہ کے ذکر سے مراد دل میں اسے یاد رکھنا اور زبان سے اس کا ذکر دونوں مراد ہیں، یعنی وہ تجارت کے کسی موقع پر حتیٰ کہ خرید و فروخت کے وقت بھی اللہ تعالیٰ کو نہیں بھولتے، نہ کسی سودے میں ایسا کام کرتے ہیں جس سے اس نے منع فرما دیا ہے اور ان کی زبان پر ہر وقت اللہ کا ذکر ہی رہتا ہے۔ وہ بات بات پر الحمد للہ، سبحان اللہ، ماشاء اللہ وغیرہ کہتے ہیں اور خاموشی کی حالت میں بھی ان کی زبان اللہ کے ذکر سے تر رہتی ہے، وہ اس حکم پر کاربند رہتے ہیں: [ لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ ] [ ترمذي، الدعوات، باب ما جاء في فضل الذکر: ۳۳۷۵ ] ”تیری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رہے۔“ اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم: «{ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِيْرًا }» [ الأحزاب: ۴۱ ] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کو یاد کرو، بہت یاد کرنا۔“ ➌ { وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِيْتَآءِ الزَّكٰوةِ:} نماز کی اقامت میں اسے وقت پر ادا کرنا اور اس کے تمام ارکان کو صحیح طریقے سے ادا کرنا سب کچھ شامل ہے، یعنی کوئی تجارت یا خرید و فروخت اللہ کے ذکر اور اقامت صلاۃ اور ادائے زکوٰۃ میں ان کے لیے غفلت کا باعث نہیں بنتی۔ ➍ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اسلام کی تعلیم یہ نہیں ہے کہ دنیا کا کاروبار چھوڑ کر اللہ اللہ کرتے رہو، یہ تو رہبانیت ہے جس کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے نہیں دی۔ اللہ کے تمام جلیل القدر پیغمبر محنت کے ساتھ کمائی کرتے تھے، آدم علیہ السلام مویشی پالنے، کھیتی باڑی، صنعت و حرفت اور ضرورت کے سارے کام خود کرتے تھے۔ زکریا علیہ السلام نجار تھے، داؤد علیہ السلام زرہیں بناتے تھے۔ تمام پیغمبروں نے بکریاں چرائی ہیں، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے اجرت پر بکریاں چرائی ہیں، تجارت بھی کی ہے، آخر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کا رزق آپ کے نیزے کے سائے تلے رکھ دیا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا بھی یہی حال تھا، کوئی مویشی پالتا تھا، کوئی کاشت کار تھا، کوئی صنعت کار، کوئی تجارت کرتا تھا، کوئی مزدوری، البتہ جہادمیں سبھی شامل تھے، جو رزق کا سب سے باعزت ذریعہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایتائے زکوٰۃ (زکوٰۃ دینے) کے حکم میں بھی کسب حلال کی ترغیب ہے کہ مال نہیں کمائے گا تو زکوٰۃ کس سے دے گا۔ اسی لیے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقے کی اپیل کرتے تو بعض صحابہ بوجھ اٹھا کر اور بعض رات بھر ڈول کھینچ کر جو کچھ کماتے پیش کر دیتے۔ دیکھیے سورۂ توبہ کی آیت (۷۹) کی تفسیر۔ امتِ مسلمہ کی بدنصیبی کا آغاز اس دن سے ہوا جب ان لوگوں کو اولیاء اللہ قرار دے دیا گیا جنھوں نے جہاد کرنا تو دور، حلال کمانا بھی چھوڑ دیا اور اللہ پر توکّل کے نام پر لوگوں کے لقموں پر پلنا شروع کر دیا۔ ان کے ترک دنیا اور خود ساختہ زہد سے متاثر ہو کر لوگ ان پر اپنا مال نچھاور کرنے لگے کہ ان بزرگوں کے طفیل ہم بھی کچھ کیے کرائے بغیر بخشے جائیں گے۔ جب یہ حضرات لوگوں کی نظروں میں نیکی کا معیار بن گئے تو کفار کو مسلمانوں پر چڑھ دوڑنے کا موقع مل گیا۔ مسلمانوں کی نگاہوں میں ان اعلیٰ ترین لوگوں نے تجارت، صنعت، زراعت، حرب و ضرب سب کچھ چھوڑا تو عوام اور حکمرانوں کی نظر میں بھی یہ کام دنیا پرستی ٹھہرے۔ نتیجہ وہ غلامی ہے جس کا عذاب امتِ مسلمہ جھیل رہی ہے۔ جب تک یہ امت روزانہ ہزار ہزار رکعت پڑھنے والے، دنیا ترک کرکے مساجد کو چھوڑ کر خانقاہوں کو آباد کرنے والے، کسی معشوق یا شیخ کے تصور میں عمر گزارنے والے، دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے والے عزت مآب راہبوں کی حقیقت کو نہیں سمجھے گی اور خیر القرون کے صحابہ و تابعین کے عمل کی طرف نہیں پلٹے گی، تو کوئی طاقت انھیں ذلت و رسوائی سے نہیں نکال سکتی۔ ➎ اللہ تعالیٰ کو مطلوب یہ ہے کہ اس کے بندے دنیا کے سب جائز کام کریں، مگر وہ کام ان کے لیے اس کی یاد اور اس کے احکام کی بجا آوری میں رکاوٹ نہ بنیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے {”كِتَابُ الْبُيُوْعِ، بَابُ التِّجَارَةِ فِي الْبَزِّ وَ غَيْرِهِ“} (کپڑے وغیرہ کی تجارت کے باب) میں آیت: «{ رِجَالٌ لَّا تُلْهِيْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ }» نقل فرمانے کے بعد جلیل القدر تابعی قتادہ کا قول نقل فرمایا ہے، جس میں انھوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا حال بیان فرمایا ہے، وہ فرماتے ہیں: [ كَانَ الْقَوْمُ يَتَبَايَعُوْنَ وَ يَتَّجِرُوْنَ وَلٰكِنَّهُمْ إِذَا نَابَهُمْ حَقٌّ مِنْ حُقُوْقِ اللّٰهِ لَمْ تُلْهِهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ حَتّٰہ يُؤَدُّوْهُ إِلَی اللّٰهِ] [بخاري، بعد ح: ۲۰۵۹ ] ”وہ لوگ خرید و فروخت کرتے اور تجارت کرتے تھے، لیکن جب ان کے سامنے اللہ کے حقوق میں سے کوئی حق آ جاتا تو کوئی تجارت یا کوئی خرید و فروخت انھیں اللہ کے اس حق کی ادائیگی سے غافل نہیں کرتی تھی۔“ ➏ یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ کے گھروں میں تسبیح کرنے والوں میں سے یہاں صرف مردوں کا ذکر فرمایا، تو کیا عورتیں مسجد میں نہیں جا سکتیں؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں ان لوگوں کی مردانگی کا ذکر ہے جو تجارت اور خرید و فروخت چھوڑ کر مسجدوں میں جماعت کے ساتھ آ ملتے ہیں اور ظاہر ہے یہ کام مردوں کا ہے، عورتوں کا نہیں۔ (رازی) رہا عورتوں کا مسجد میں آنا تو یہ بات معروف ہے کہ وہ مسجد نبوی میں جماعت کے ساتھ شریک ہوتی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں مسجدوں میں آنے کی اجازت دی اور روکنے سے منع فرمایا۔ ابن عمر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں: ”عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیوی صبح اور عشاء کی نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھتی تھی (عمر رضی اللہ عنہ اسے ناپسند کرتے اور غیرت کھاتے تھے) اسے کسی نے کہا: ”تم کیوں نکلتی ہو، جب کہ تمھیں معلوم ہے کہ عمر اسے ناپسند کرتے ہیں اور غیرت کھاتے ہیں؟“ اس نے کہا: ”انھیں کیا مانع ہے کہ مجھے (جانے سے) روک دیں؟“ تو اس نے کہا، انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مانع ہے: [ لَا تَمْنَعُوْا إِمَاءَ اللّٰهِ مَسَاجِدَ اللّٰهِ ] [ بخاري، الجمعۃ، باب: ۹۰۰ ] ”اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے منع مت کرو۔“ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے گھر میں نماز پڑھنے کو افضل قرار دیا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا تَمْنَعُوْا نِسَاءَكُمُ الْمَسَاجِدَ وَ بُيُوْتُهُنَّ خَيْرٌ لَّهُنَّ ] [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب ما جاء في خروج النساء إلی المسجد: ۵۶۷ ] ”اپنی عورتوں کو مسجدوں سے مت روکو اور ان کے گھر ان کے لیے زیادہ اچھے ہیں۔“ ➐ { يَخَافُوْنَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُ:} یعنی ان مردوں کا اللہ کے گھروں میں ذکر و تسبیح کرنا اس دن کے خوف کی وجہ سے ہے جب دل اور آنکھیں الٹ جائیں گی، یعنی دل اور آنکھیں خوف اور گھبراہٹ کی شدت سے اپنی معمول کی جگہ چھوڑ دیں گی، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِيْنَ }» [ المؤمن: ۱۸ ] ”اور انھیں قریب آنے والی گھڑی سے ڈرا جب دل گلوں کے پاس غم سے بھرے ہوں گے۔“ اور فرمایا: «{ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيْهِ الْاَبْصَارُ }» [ إبراھیم: ۴۲ ] ”وہ تو انھیں صرف اس دن کے لیے مہلت دے رہا ہے جس میں آنکھیں کھلی رہ جائیں گی۔“
(اور وہ یہ سب کچھ اس لیے کرتے ہیں) تاکہ اللہ ان کے بہترین اعمال کی جزا اُن کو دے اور مزید اپنے فضل سے نوازے، اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس ارادے سے کہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلے دے بلکہ اپنے فضل سے اور کچھ زیادتی عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے بےشمار روزیاں دیتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تاکہ اللہ انہیں بدلہ دے ان کے سب سے بہتر کام کام اور اپنے فضل سے انہیں انعام زیادہ دے، اور اللہ روزی دیتا ہے جسے چاہے بے گنتی،
علامہ محمد حسین نجفی
تاکہ اللہ ان کو ان کے بہترین اعمال کی جزا دے اور اپنے فضل سے مزید نوازے اور اللہ جسے چاہتا ہے اسے بے حساب رزق عطا کرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ اللہ انھیںاس کا بہترین بدلہ دے جو انھوں نے کیا اور انھیں اپنے فضل سے زیادہ دے اور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومن کے دل سے مماثلت ٭٭
مومن کے دل کی اور اس میں جو ہدایت وعلم ہے اس کی مثال اوپر والی آیت میں اس روشن چراغ سے دی تھی جو شیشہ کی ہانڈی میں ہو اور صاف زیتون کے روشن تیل سے جل رہا ہے۔ اس لیئے یہاں اس کی عبادت کی جاتی ہے اور اس کی توحید بیان کی جاتی ہے۔ جن کی نگہبانی اور پاک صاف رکھنے کا اور بے ہودہ اقوال و افعال سے بچانے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ ” «أَنْ تُرْفَعَ» کے معنی اس میں بیہودگی نہ کرنے کے ہیں۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے یہی مسجدیں ہیں جن کی تعمیر، آبادی، ادب اور پاکیزگی کا حکم اللہ نے دیا ہے۔“ کعب رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے کہ زمین پر مسجدیں میرا گھر ہیں، جو بھی باوضو میرے گھر پر میری ملاقات کے لیے آئے گا، میں اس کی عزت کرونگا ہر اس شخص پر جس سے ملنے کے لیے کوئی اس کے گھر آئے حق ہے کہ وہ اس کی تکریم کرے [ تفسیر ابن ابی حاتم ] مسجدوں کے بنانے اور ان کا ادب احترام کرنے انہیں خوشبودار اور پاک صاف رکھنے کے بارے میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں جنہیں بحمد اللہ میں نے ایک مستقل کتاب میں لکھا ہے یہاں بھی ان میں سے تھوڑی بہت وارد کرتا ہوں، اللہ مدد کرے اسی پر بھروسہ اور توکل ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اسی جیسا گھر جنت میں بناتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:450] { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { نام اللہ کے ذکر کئے جانے کے لیے جو شخص مسجد بنائے اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے }}۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:735،قال الشيخ الألباني:صحیح] { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں اور پاک صاف اور خوشبودار رکھی جائیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:455،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے ”لوگوں کے لیے مسجدیں بناؤ جہاں انہیں جگہ ملے لیکن سرخ یا زردرنگ سے بچو تاکہ لوگ فتنے میں نہ پڑیں۔“ [صحیح بخاری تعلیقا:کتاب الصلواۃ:باب:بنیان المسجد] ایک ضعیف سند سے مروی ہے کہ { جب تک کسی قوم نے اپنی مسجدوں کو ٹیپ ٹاپ والا، نقش و نگار اور رنگ روغن والا نہ بنایا ان کے اعلام برے نہیں ہوئے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:741، قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے۔ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے مسجدوں کو بلند و بالا اور پختہ بنانے کا حکم نہیں دیا گیا }۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ راوی حدیث فرماتے ہیں کہ ”تم یقیناً مسجدوں کو مزین، منقش اور رنگ دار کرو گے جیسے کہ یہودونصاری نے کیا۔“ [سنن ابوداود:448، قال الشيخ الألباني:صحیح] { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ لوگ مسجدوں کے بارے میں آپس میں ایک دوسرے پر فخر و غرور نہ کرنے لگیں } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:449،قال الشيخ الألباني:صحیح] { ایک شخص مسجد میں اپنے اونٹ کو ڈھونڈتا ہوا آیا اور کہنے لگا ہے کوئی جو مجھے میرے سرخ رنگ کے اونٹ کا پتہ دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی کہ { اللہ کرے تجھے نہ ملے۔ مسجدیں تو جس مطلب کے لیے بنائی گئی ہیں، اسی کام کے لیے ہیں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:569] { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدوں میں خرید و فروخت، تجارت کرنے سے اور وہاں اشعار کے گائے جانے سے منع فرما دیا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1079،قال الشيخ الألباني:صحیح]
فرمان ہے کہ { جسے مسجد میں خرید و فروخت کرتے ہوئے دیکھو تو کہو کہ اللہ تیری تجارت میں نفع نہ دے اور جب کسی کو گمشدہ جانور مسجد میں تلاش کرتا ہوا پاؤ تو کہو کہ اللہ کرے نہ ملے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1321،قال الشيخ الألباني:صحیح] { بہت سی باتیں مسجد کے لائق نہیں، مسجد کو راستہ نہ بنایا جائے، نہ تیر پھیلائے جائیں نہ کچا گوشت لایا جائے، نہ یہاں حد ماری جائے، نہ یہاں باتیں اور قصے کہے جائیں نہ اسے بازار بنایا جائے }۔ [سنن ابن ماجه:748،قال الشيخ الألباني:ضعیف و صحت منه الخصلة الاولى]
فرمان ہے کہ { ہماری مسجدوں سے اپنے بچوں کو، دیوانوں کو، خرید و فروخت کو، لڑائی جھگڑے کو اور بلند آواز سے بولنے کو اور حد جاری کرنے کو اور تلواروں کے ننگی کرنے کو روکو۔ ان کے دروازوں پر وضو وغیرہ کی جگہ بناؤ اور جمعہ کے دن انہیں خوشبو سے مہکا دو }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:750،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے۔ بعض علماء نے بلا ضرورت کے مسجدوں کو گزرگاہ بنانا مکروہ کہا ہے۔ ایک اثر میں ہے کہ جو شخص بغیر نماز پڑھے مسجد سے گزر جائے، فرشتے اس پر تعجب کرتے ہیں۔ ہتھیاروں اور تیروں سے جو منع فرمایا یہ اس لیے کہ مسلمان وہاں بکثرت جمع ہوتے ہیں ایسان نہ ہو کہ کسی کے لگ جائے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ { تیر یا نیزہ لے کر گزرے تو اسے چاہیئے کہ اس کا پھل اپنے ہاتھ میں رکھے تاکہ کسی کو ایذاء نہ پہنچے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:452] کچا گوشت لانا اس لیے منع ہے کہ خوف ہے اس میں سے خون نہ ٹپکے جیسے کہ حائضہ عورت کو بھی اسی وجہ سے مسجد میں آنے کی ممانعت کر دی گئی ہے۔ مسجد میں حد لگانا اور قصاص لینا اس لیے منع کیا گیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شخص مسجد کو نجس نہ کر دے۔ بازار بنانا اس لیے منع ہے کہ وہ خرید و فروخت کی جگہ ہے اور مسجد میں یہ دونوں باتیں منع ہیں۔ کیونکہ مسجدیں ذکر اللہ اور نماز کی جگہ ہیں۔ جیسے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی سے فرمایا تھا، جس نے مسجد کے گوشے میں پیشاب کر دیا تھا کہ { مسجدیں اس لیے نہیں بنیں، بلکہ وہ اللہ کے ذکر اور نماز کی جگہ ہے }۔ پھر اس کے پیشاب پر ایک بڑا ڈول پانی کا بہانے کا حکم دیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6025] دوسری حدیث میں ہے { اپنے بچوں کو اپنی مسجدوں سے روکو } ۱؎ [سنن ابن ماجه:750،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس لیے کہ کھیل کود ہی ان کا کام ہے اور مسجد میں یہ مناسب نہیں۔ چنانچہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہا جب کسی بچے کو مسجد میں کھیلتا ہوا دیکھ لیتے تو اسے کوڑے سے پیٹتے اور عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں کسی کو نہ رہنے دیتے۔ دیوانوں کو بھی مسجدوں سے روکا گیا کیونکہ وہ بےعقل ہوتے ہیں اور لوگوں کے مذاق کا ذریعہ ہوتے ہیں اور مسجد اس تماشے کے لائق نہیں۔ اور یہ بھی ہے کہ ان کی نجاست وغیرہ کا خوف ہے۔ بیع و شرا سے روکا گیا کیونکہ وہ ذکر اللہ سے مانع ہے۔ جھگڑوں کی مصالحتیٰ مجلس منعقد کرنے سے اس لیے منع کر دیا گیا کہ اس میں آوازیں بلند ہوتی ہیں ایسے الفاظ بھی نکل جاتے ہیں جو آداب مسجد کے خلاف ہیں۔
اکثر علماء کا قول ہے کہ فیصلے مسجد میں نہ کئے جائیں اسی لیے اس جملے کے بعد بلند آواز سے منع فرمایا۔ سائب بن یزید کندی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں ”میں مسجد میں کھڑا تھا کہ اچانک مجھ پر کسی نے کنکر پھینکا، میں نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے مجھ سے فرمانے لگے، جاؤ ان دونوں شخصوں کو میرے پاس لاؤ، جب میں آپ کے پاس انہیں لایا تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا۔ تم کون ہو؟ یا پوچھا کہ ”تم کہاں کے ہو“؟ انہوں نے کہ ”ہم طائف کے رہنے والے ہیں۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اگر تم یہاں رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں سخت سزا دیتا تم مسجد نبوی میں اونچی اونچی آوازوں سے بول رہے ہو“؟ ۱؎ [صحیح بخاری:470] ایک شخص کی اونچی آواز سن کر جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا۔ ”جانتا بھی ہے تو کہاں ہے؟۔“ [ نسائی ] اور مسجد کے دروازوں پر وضو کرنے والے اور پاکیزگی حاصل کرنے کی جگہ بنانے کا حکم دیا۔ مسجد نبوی کے قریب ہی کنویں تھے جن میں سے پانی کھینچ کر پیتے تھے اور وضو اور پاکیزگی حاصل کرتے تھے۔ اور جمعہ کے دن اسے خوشبودار کرنے کا حکم ہوا ہے کیونکہ اس دن لوگ بکثر جمع ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ ہر جمعہ کے دن مسجد نبوی کو مہکایا کرتے تھے۔ بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جماعت کی نماز انسان کی اکیلی نماز پر جو گھر میں یا دوکان پر پڑھی جائے، پچیس درجے زیادہ ثواب رکھتی ہے، یہ اس لیے کہ جب وہ اچھی طرح سے وضو کرکے صرف نماز کے ارادے سے چلتا ہے تو ہر ایک قدم کے اٹھانے پر اس کا ایک درجہ بڑھتا ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے اور جب نماز پڑھ چکتا ہے پھر جت تک وہ اپنی نماز کی جگہ رہے، فرشتے اس پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اے اللہ اس پر اپنی رحمت نازل فرما اور اس پر رحم کر۔ اور جب تک جماعت کے انتظار میں رہے نماز کا ثواب ملتا رہتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:477] دارقطنی میں ہے { مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے سوا نہیں ہوتی }۔ ۱؎ [دارقطنی:420/1:موقوف]
سنن میں ہے { اندھیروں میں مسجد جانے والوں کو خوشخبری سنا دو کہ انہیں قیامت کے دن پورا پورا نور ملے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:561،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ بھی مستحب ہے کہ مسجد میں جانے والا پہلے اپنا داہنا قدم رکھے اور یہ دعا پڑھے۔ بخاری شریف میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں آتے یہ کہتے «أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ، وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ، وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ، مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ۔ فرمان ہے کہ جب کوئی شخص یہ پڑھتا ہے شیطان کہتا ہے میرے شر سے یہ تمام دن محفوظ ہو گیا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:466،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ { تم میں سے کوئی مسجد میں جانا چاہے یہ دعا پڑھے «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» ”اے اللہ میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے“ اور جب مسجد سے باہر جائے تو یہ کہے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ» ”اے اللہ! میں تیرے فضل کا طالب ہوں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:713] ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ { جب تم میں سے کوئی مسجد میں جائے تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے پھر دعا «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» پڑھے اور جب مسجد سے نکلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیج کر دعا «اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» پڑھے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:773،قال الشيخ الألباني:صحیح] ترمذی وغیرہ میں ہے کہ { جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آتے تو درود پڑھ کر دعا «اللَّهُمَّ، اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» پڑھتے اور جب مسجد سے نکلتے تو درود کے بعد دعا «اللَّهُمَّ، اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ» پڑھتے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:314،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس حدیث کی سند متصل نہیں۔ الغرض یہ اور ان جیسی اور بہت سی حدیثیں اس آیت کے متعلق ہیں جو مسجد اور احکام مسجد کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ اور آیت میں ہے «يَابَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ» ۱؎ [7-الأعراف:31] ’ تم ہر مسجد میں اپنا منہ سیدھا رکھو ‘۔ «وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» ۱؎ [7-الأعراف:29] ’ اور خلوص کے ساتھ صرف اللہ کو پکارو ‘۔ ایک اور آیت میں ہے کہ «وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا» ۱؎ [72-الجن:18] ’ مسجدیں اللہ ہی کی ہیں۔ اس کا نام ان میں لیا جائے ‘ یعنی کتاب اللہ کی تلاوت کی جائے۔ ’ صبح شام وہاں اس اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں ‘ «آصَالُ» جمع ہے «أَصِيلٍ» کی، شام کے وقت کو «أَصِيلٍ» کہتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جہاں کہیں قرآن میں «تَسْبِيحٍ» کا لفظ ہے وہاں مراد نماز ہے۔“ پس یہاں مراد صبح کی اور عصر کی نماز ہے۔ پہلے پہلے یہی دو نمازیں فرض ہوئی تھیں پس وہی یاد دلائی گئیں۔ ایک قرأت میں «يُسَبِّحُ» ہے اور اس قرأت پر «وَالْآصَالِ» پر پورا وقف ہے اور «رِجَالٌ» سے پھر دوسری بات شروع ہے گویا کہ وہ مفسر ہے فاعل محذوف کے لیے۔ تو گویا کہا گیا کہ وہاں تسبیح کون کرتے ہیں؟ تو جواب دیا گیا کہ ایسے لوگ اور «يُسَبِّحُ» کی قرأت پر «رِجَالٌ» فاعل ہے تو وقف فاعل کے بیان کے بعد چاہیئے۔ کہتے ہیں «رِجَالٌ» اشارہ ہے ان کے بہترین مقاصد اور ان کی پاک نیتوں اور اعلی کاموں کی طرف یہ اللہ کے گھروں کے آباد رکھنے والے ہیں۔ اس کی عبادت کی جگہیں ان سے زینت پاتی ہیں، توحید اور شکر گزری کرنے والے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ» ۱؎ [33-الأحزاب:23] ، یعنی ’ مومنوں میں ایسے بھی مرد ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کئے تھے انہیں پورے کر دکھایا ‘۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عورت کی اپنے گھر کی نماز اس کی اپنے صحن کی نماز سے افضل ہے، اور اس کی اپنی اس کوٹھری کی نماز اس کے اپنے گھر کی نماز سے افضل ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:570،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے { عورتوں کی بہترین مسجد گھر کے اندر کا کونا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:297/6:حسن بالشواهد] مسند احمد میں ہے کہ { ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرنا بہت پسند کرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ مجھے بھی معلوم ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تیری اپنے گھر کی نماز صحن کی نماز سے اور حجرے کی نماز گھر کی نماز سے اور گھر کی کوٹھڑی کی نماز حجرے کی نماز سے افضل ہے۔ اور محلے کی مسجد سے افضل گھر کی نماز ہے اور محلے کی مسجد کی نماز میری مسجد کی نماز سے افضل ہے }۔ یہ سن کر مائی صاحبہ نے اپنے گھر کے بالکل انتہائی حصے میں ایک جگہ کو بطور مسجد کے مقرر کر لیا اور آخری گھڑی تک وہیں نماز پڑھتی رہیں }۔ رضی اللہ عنہا۔ ۱؎ [مسند احمد:371/6:حسن] ہاں البتہ عورتوں کے لیے بھی مسجد میں مردوں کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ضرور ہے۔ بشرطیکہ مردوں پر اپنی زینت ظاہر نہ ہونے دیں اور نہ خوشبو لگا کر نکلیں۔ صحیح حدیث میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:900] ابوداؤد میں ہے کہ { عورتوں کے لیے ان کے گھر افضل ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:567،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور حدیث میں ہے کہ { وہ خوشبو استعمال کرکے نہ نکلیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:565،قال الشيخ الألباني:صحیح بالشواهد]
صحیح مسلم شریف میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا: { جب تم میں سے کوئی مسجد آنا چاہے تو خوشبو کو ہاتھ بھی نہ لگائے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:443] بخاری و مسلم میں ہے کہ ”مسلمان عورتیں صبح کی نماز میں آتی تھیں پھر وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی چلی جاتی تھیں اور بوجہ رات کے اندھیرے کی وجہ سے وہ پہچانی نہیں جاتی تھیں۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:372] ام المؤمنین سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”عورتوں نے یہ جو نئی نئی باتیں نکالیں ہیں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں کو پالیتے تو انہیں مسجدوں میں آنے سے روک دیتے جیسے کہ بنو اسرائیل کی عورتیں روک دی گئیں۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:869]
ایسے لوگ جنہیں خرید و فروخت یاد الٰہی سے نہیں روکتی۔ جیسے ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» ۱؎ [63-المنافقون:9] ’ ایمان والو، مال و اولاد تمہیں ذکر اللہ سے غافل نہ کر دے ‘۔ سورۃ الجمعہ میں ہے کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّـهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ» ۱؎ [62-الجمعة:9] ’ جمعہ کی اذان سن کر ذکر اللہ کی طرف چل پڑو اور تجارت چھوڑ دو ‘۔ مطلب یہ ہے کہ ان نیک لوگوں کو دنیا اور متاع آخرت اور ذکر اللہ سے غافل نہ کر سکتی، انہیں آخرت اور آخرت کی نعمتوں پر یقین کامل ہے اور انہیں ہمیشہ رہنے والا سمجھتے ہیں اور یہاں کی چیزوں کو فانی جانتے ہیں اس لیے انہیں چھوڑ کر اس طرف توجہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو، اس کی محبت کو، اس کے احکام کو مقدم کرتے ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ تجارت پیشہ حضرات کو اذان سن کر اپنے کام کاج چھوڑ کر مسجد کی طرف جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا ”یہ لوگ انہی میں سے ہیں۔“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے۔
ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”میں سوداگری یا تجارت کروں اگرچہ اس میں مجھے ہر دن تین سو اشرفیاں ملتی ہوں لیکن میں نمازوں کے وقت یہ سب چھوڑ کر ضرور چلا جاؤں گا۔“ میرا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ تجارت کرنا حرام ہے بلکہ یہ ہے کہ ہم میں یہ وصف ہونا چاہیئے، جو اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔ سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ نماز کے لیے جا رہے تھے، دیکھا کہ مدینہ شریف کے سوداگر اپنی اپنی دوکانوں پر کپڑے ڈھک کر نماز کے لیے گئے ہوئے ہیں اور کوئی بھی دوکان پر موجود نہیں تو یہی آیت پڑھی اور فرمایا ”یہ انہی میں سے ہیں جن کی تعریف جناب باری نے فرمائی ہے۔“ اس بات کا سلف میں یہاں تک خیال تھا کہ ترازو اٹھائے تول رہے ہیں اور اذان کان میں پڑی تو ترازو رکھ دی اور مسجد کی طرف چل دئے فرض نماز باجماعت مسجد میں ادا کرنے کا انہیں عشق تھا۔ وہ نماز کے اوقات کی ارکان اور آداب کی حفاظت کے ساتھ نمازوں کے پابند تھے۔ یہ اس لیے کہ دلوں میں خوف الٰہی تھا قیامت کا آنا برحق جانتے تھے اس دن کی خوفناکی سے واقف تھے کہ سخت تر گھبراہٹ اور کامل پریشانی اور بے حد الجھن کی وجہ سے آنکھیں پتھرا جائیں گی، دل اڑ جائیں گے، کلیجے دہل جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا فَوَقَاهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا» ۱؎ [76-الإنسان:8-12] ’ میرے نیک بندے میری محبت کی بنا پر مسکینوں یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہیں محض اللہ کی رضاجوئی کے لیے کھلا رہے ہیں، ہمارا مقصد تم سے شکریہ طلب کرنے یا بدلہ لینے کا نہیں۔ ہمیں تو اپنے پروردگار سے اس دن کا ڈر ہے جب کہ لوگ مارے رنج و غم کے منہ بسورے ہوئے اور تیوریاں بدلے ہوئے ہوں گے۔ پس اللہ ہی انہیں اس دن کی مصیبتوں سے نجات دے گا اور انہیں تروتازگی بشاشت، ہنسی خوشی اور راحت و آرام سے ملا دے گا۔ اور ان کے صبر کے بدلے انہیں جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا ‘۔
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ ان کی نیکیاں مقبول ہیں، برائیاں معاف ہیں ان کے ایک ایک عمل کا بہترین بدلہ مع زیادتی اور اللہ کے فضل کے انہیں ضرور ملنا ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:40] ’ اللہ تعالیٰ بقدر ایک ذرے کے بھی ظلم نہیں کرتا ‘۔ اور آیت میں ہے «مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا» [6-الأنعام:160] ’ نیکی دس گناہ کر دی جاتی ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» ۱؎ [2-البقرة:245] ’ جو اللہ کو اچھا قرض دے گا، اسے اللہ تعالیٰ بڑھا چڑھا کر زیادہ سے زیادہ کرکے دے گا ‘۔ فرمان ہے آیت «يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاءُ» ۱؎ [2-البقرة:261] ’ وہ بڑھا دیتا ہے جس کے لیے چاہے ‘۔ یہاں فرمان ہے ’ وہ جسے چاہے بے حساب دیتا ہے ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہا کے پاس ایک مرتبہ دودھ لایا گیا، آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی مجلس کے ساتھیوں میں سے ہر ایک کو پلانا چاہا مگر سب روزے سے تھے۔ اس لیے آپ رضی اللہ عنہ ہی کے پاس پھر برتن آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت «يَخَافُونَ» سے پڑھی اور پی لیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { قیامت کے دن جب کہ اول آخر سب جمع ہونگے، اللہ تعالیٰ ایک منادی کو حکم دے گا جو باآواز بلند ندا کرے گا جسے تمام اہل محشر سنیں گے کہ آج سب کو معلوم ہو جائے گا کہ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ بزرگ کون ہے؟ پھر فرمائے گا ’ وہ لوگ کھڑے ہو جائیں گے جنہیں لین دین اور تجارت ذکر اللہ سے روکتا نہ تھا ‘،طپس وہ کھڑے ہو جائیں گے اور وہ بہت ہی کم ہوں گے سب سے پہلے انہیں حساب سے فارغ کیا جائے گا }۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:95/5] آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ان کی نیکیوں کا اجر یعنی جنت بھی انہیں ملے گی اور مزید فضل الٰہی یہ ہو گا کہ جن لوگوں نے ان کے ساتھ احسان کئے ہوں گے اور وہ مستحق شفاعت ہونگے ان سب کی شفاعت کا منصب انہیں حاصل ہو جائے گا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:10462:ضعیف]
38-1قیامت والے دن اہل ایمان کو ان کی نیکیوں کا بدلہ (کئی کئی گنا) کی صورت میں دیا جائے گا اور بہت سوں کو بےحساب ہی جنت میں داخل کردیا جائے گا اور وہاں رزق کی فروانی جس کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔
(آیت 38) {لِيَجْزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا:} اس کا ترجمہ یہ ہو سکتا ہے: {” أَيْ ثَوَابَ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا “} کہ اللہ تعالیٰ انھیں ان بہترین اعمال کا ثواب دے جو انھوں نے کیے، اور یہ بھی: {” أَيْ أَحْسَنَ جَزَاءٍ مَا عَمِلُوْا “} کہ اللہ تعالیٰ انھیں ان اعمال کا بہترین بدلا دے جو انھوں نے کیے۔ دوسرا معنی یہاں زیادہ مناسب ہے، کیونکہ آگے فرمایا: «{ وَ اللّٰهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ }» ”اور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔“
(اس کے برعکس) جنہوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشت بے آب میں سراب کہ پیاسا اُس کو پانی سمجھے ہوئے تھا، مگر جب وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا، بلکہ وہاں اس نے اللہ کو موجود پایا، جس نے اس کا پورا پورا حساب چکا دیا، اور اللہ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کافروں کے اعمال مثل اس چمکتی ہوئی ریت کے ہیں جو چٹیل میدان میں ہو جسے پیاسا شخص دور سے پانی سمجھتا ہے لیکن جب اس کے پاس پہنچتا ہے تو اسے کچھ بھی نہیں پاتا، ہاں اللہ کو اپنے پاس پاتا ہے جو اس کا حساب پورا پورا چکا دیتا ہے۔ اللہ بہت جلد حساب کردینے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جو کافر ہوئے ان کے کام ایسے ہیں جیسے دھوپ میں چمکتا ریتا کسی جنگل میں کہ پیاسا اسے پانی سمجھے، یہاں تک جب اس کے پاس آیا تو اسے کچھ نہ پایا اور اللہ کو اپنے قریب پایا تو اس نے اس کا حساب پورا بھردیا، اور اللہ جلد حساب کرلیتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے اعمال سراب کی مانند ہیں جو ایک چٹیل میدان میں ہو۔ جسے آدمی پانی خیال کرتا ہے یہاں تک کہ جب اس کے پاس جاتا ہے تو اسے کچھ نہیں پاتا بلکہ وہاں اللہ کو موجود پاتا ہے۔ جس نے اس کا پورا پورا حساب چکا دیا۔ اور اللہ بہت جلدی حساب لینے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان کے اعمال کسی چٹیل میدان میں ایک سراب کی طرح ہیں، جسے سخت پیاساآدمی پانی خیال کرتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کے پاس آتا ہے تو اسے کچھ بھی نہیں پاتا اور اللہ کو اپنے پاس پاتا ہے تو وہ اسے اس کا حساب پورا چکا دیتا ہے اور اللہ بہت جلد حساب کرنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دو قسم کے کافر ٭٭
یہ دو مثالیں ہیں اور دو قسم کے کافروں کی ہیں۔ جیسے سورۃ البقرہ کی شروع میں دو مثالیں دو قسم کی منافقوں کی بیان ہوئی ہیں۔ ایک آگ کی ایک پانی کی۔ اور جیسے کہ سورۃ الرعد میں ہدایت وعلم کی جو انسان کے دل میں جگہ پکڑ جائے۔ ایسی ہی دو مثالیں ایک آگ کی ایک پانی کی بیان ہوئی ہیں۔ دونوں سورتوں میں ان آیتوں کی تفسیر کامل گزر چکی ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» یہاں پہلی مثال تو ان کافروں کی ہے جو کفر کی طرف دوسروں کو بھی بلاتے ہیں، اور اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے ہیں حالانکہ وہ سخت گمراہ ہیں۔ ان کی تو ایسی مثال ہے جیسے کسی پیاسے کو جنگل میں دور سے ریت کا چمکتا ہوا تودہ دکھائی دیتا ہے اور وہ اسے پانی کا موج دریا سمجھ بیٹھتا ہے۔ «قِيعَةُ» جمع ہے «قَاعٍ» کی جیسے «جَارٍ» کی جمع «جِيرَةٍ» اور «قَاعُ» واحد بھی ہوتا ہے اور جمع «قِيعَانِ» ہوتی ہے جیسے «جَارٍ» کی جمع «جِيرَانٌ» ہے۔ معنی اس کے چٹیل وسیع پھیلے ہوئے میدان کے ہیں۔ ایسے ہی میدانوں میں سراب نظر آیا کرتے ہیں۔ دوپہر کے وقت بالکل یہی معلوم ہوتا ہے کہ پانی کا وسیع دریا لہریں لے رہا ہے۔ جنگل میں جو پیاسا ہو، پانی کی تلاش میں اس کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور اسے پانی سمجھ کر جان توڑ کوشش کرکے وہاں تک پہنچتا ہے لیکن حیرت وحسرت سے اپنا منہ لپیٹ لیتا ہے۔ دیکھتا ہے کہ وہاں پانی کا قطرہ چھوڑ نام و نشان بھی نہیں۔ اسی طرح یہ کفار ہیں کہ اپنے دل میں سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم نے بہت کچھ اعمال کئے ہیں، بہت سی بھلائیاں جمع کر لی ہیں لیکن قیامت کے دن دیکھیں گے کہ ایک نیکی بھی ان کے پاس نہیں یا تو ان کی بدنیتی سے وہ غارت ہو چکی ہے یا شرع کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے برباد ہو گئی ہے۔ غرض ان کے یہاں پہنچنے سے پہلے ان کے کام جہنم رسید ہو چکے ہیں، یہاں یہ بالکل خالی ہاتھ رہ گئے ہیں۔
حساب کے موقعہ پر اللہ خود موجود ہے اور ایک ایک عمل کا حساب لے رہا ہے اور کوئی عمل ان کا قابل ثواب نہیں نکلتا۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ { یہودیوں سے قیامت کے دن سوال ہوگا کہ تم دنیا میں کس کی عبادت کرتے رہے؟ وہ جواب دیں گے کہ اللہ کے بیٹے عزیر کی۔ کہا جائے گا کہ جھوٹے ہو اللہ کا کوئی بیٹا نہیں۔ اچھا بتاؤ اب کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے اے اللہ ہم بہت پیاسے ہو رہے ہیں، ہمیں پانی پلوایا جائے تو ان سے کہا جائے گا کہ دیکھو وہ کیا نظر آ رہا ہے؟ تم وہاں کیوں نہیں جاتے؟ اب انہیں دور سے جہنم ایسی نظر آئے گی جیسے دنیا میں سراب ہوتا ہے جس پر جاری پانی کا دھوکہ ہوتا ہے یہ وہاں جائیں گے اور دوزخ میں ڈال دئیے جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4581] یہ مثال تو تھی جہل مرکب والوں کی۔ اب جہل بسیط والوں کی مثال سنئے جو کورے مقلد تھے، اپنی گرہ کی عقل مطلق نہیں رکھتے تھے۔ مندرجہ بالا مثال والے ائمہ کفر کی تقلید کرتے تھے اور آنکھیں بند کرکے ان کی آواز پر لگے ہوئے تھے کہ ان کی مثال گہرے سمندر کی تہہ کے اندھیروں جیسی ہے جسے اوپر سے تہہ بہ تہہ موجوں نے ڈھانپ رکھا ہو اور پھر اوپر سے ابر ڈھانکے ہوئے ہوں۔ یعنی اندھیرے پر اندھیرا ہو۔ یہاں تک کہ ہاتھ کو ہاتھ بھی سجھائی نہ دیتا ہو۔ یہی حال ان سفلے جاہل کافروں کا ہے کہ نرے مقلد ہیں۔ یہاں تک کہ جس کی تقلید کر رہے ہیں لیکن معلوم نہیں کہ وہ انہیں کہاں لے جا رہا ہے؟ چنانچہ مثالاً کہا جاتا ہے کہ کسی جاہل سے پوچھا گیا کہاں جا رہا ہے؟ اس نے کہا ان کے ساتھ جا رہا ہوں۔ پوچھنے والے نے پھر دریافت کیا کہ یہ کہاں جار ہے ہیں؟ اس نے کہا مجھے تو معلوم نہیں۔ پس جیسے اس سمندر پر موجیں اٹھ رہی ہیں، اسی طرح کافر کے دل پر، اس کے کانوں پر، اس کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [2-البقرة:7] ’ اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر لگا دی ہے ‘۔
ایک اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے «اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــهَهٗ هَوٰىهُ وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰي عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰي سَمْعِهٖ وَقَلْبِهٖ وَجَعَلَ عَلٰي بَصَرِهٖ غِشٰوَة» ۱؎ [45-الجاثية:23] ، ’ تو نے انہیں دیکھا؟ جنہوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے اور اللہ نے انہیں علم پر بہکا دیا ہے اور ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے ‘۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ایسے لوگ پانچ اندھیروں میں ہوتے ہیں [١] کلام [٢] عمل [٣] جانا [٤] آنا [٥] اور انجام سب اندھیروں میں ہیں۔ جسے اللہ اپنے نور کی طرف ہدایت نہ کرے وہ نورانیت سے خالی رہ جاتا ہے۔ جہالت میں مبتلا رہ کر ہلاکت میں پڑ جاتا ہے۔“ جیسے فرمایا آیت «مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ وَيَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:186] ’ جسے اللہ گمراہ کرے اس کے لیے کوئی ہادی نہیں ہوتا ‘۔ یہ اس کے مقابل ہے جو مومنوں کی مثال کے بیان میں فرمایا تھا کہ «يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ» ’ اللہ اپنے نور کی ہدایت کرتا ہے جسے چاہے ‘۔ اللہ تعالیٰ عظیم وکریم سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں میں نور پیدا کر دے اور ہمارے دائیں بائیں بھی نور عطا فرمائے اور ہمارے نور کو بڑھا دے اور اسے بہت بڑا اور زیادہ کرے۔ آمین۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 39){ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ…: ”سَرَابٌ“} چٹیل میدان یا ریگستانی صحرا میں دوپہر کے وقت سورج کی روشنی کی وجہ سے دور سے ایسا نظر آتا ہے جیسے پانی لہریں مار رہا ہو، اسے ”سراب“ کہتے ہیں، جو محض نظر کا دھوکا ہوتا ہے۔ {”قِيْعَةٌ“} اور {” قَاعٍ“} دونوں کا معنی چٹیل میدان ہے۔ {” الظَّمْاٰنُ “ ”فَعْلَانُ“} کے وزن پر مبالغے کا صیغہ ہے، معنی ہے سخت پیاسا۔ اس سے پہلے اہل ایمان کے دل میں ہدایت کے نور کی مثال بیان فرمائی، اب کفار کے اعمال کے لیے دو مثالیں بیان فرمائی ہیں، جیسا کہ سورۂ بقرہ میں منافقین کے لیے آگ اور پانی کی مثال بیان فرمائی اور سورۂ رعد میں اس ہدایت اور علم کی جو دلوں میں جاگزین ہو جاتے ہیں، دو مثالیں بیان فرمائیں، ایک پانی کی اور دوسری آگ کی۔ یہاں کفار کے اعمال کی دو مثالیں لفظ {” اَوْ “} کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔ بعض اہلِ علم نے سراب والی مثال کی وضاحت اس طرح فرمائی ہے کہ کافر دو قسم کے ہیں، ایک وہ جو اپنے گمان کے مطابق کچھ اچھے کام کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مرنے کے بعد کام آئیں گے، جیسا کہ بیت اللہ کی خدمت، حاجیوں کو پانی پلانا، صدقہ و خیرات وغیرہ کرنا، حالانکہ ان کا کوئی بھی کام، اگرچہ وہ بظاہر اچھا ہی ہو، پھر بھی کفر کی شامت سے اللہ کے ہاں قبول و معتبر نہیں۔ ان لوگوں کو ان کے اچھے اعمال کی جزا دنیا ہی میں دے دی جاتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اَذْهَبْتُمْ طَيِّبٰتِكُمْ فِيْ حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا }» [ الأحقاف: ۲۰ ] ”تم اپنی نیکیاں اپنی دنیا کی زندگی میں لے جا چکے اور تم ان سے فائدہ اٹھا چکے۔“ آخرت میں ان کے اعمال {” هَبَاءً مَّنْثُوْرًا “} (بکھرا ہوا غبار) کر دیے جائیں گے۔ (دیکھیے فرقان: ۲۳) دوسری جگہ ان کے اعمال کی مثال اس راکھ سے بیان فرمائی جس پر آندھی والے دن میں سخت ہوا چلی ہو۔ دیکھیے سورۂ ابراہیم (۱۸)۔ زیر تفسیر آیت میں فرمایا کہ جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ان کے اعمال کی مثال اس طرح ہے جیسے دوپہر کے وقت ایک سخت پیاسے شخص کو دور سے پانی دکھائی دے، جو دراصل سراب ہو، وہ سخت پیاس کی وجہ سے اسے پانی سمجھ کر وہاں پہنچے، تو وہاں پانی وغیرہ کچھ نہ ہو، بلکہ وہاں اس سے حساب کا تقاضا کرنے والے ہوں جو اسے پکڑ کر اپنے حساب میں باندھ لیں۔ اسی طرح کافر اپنے گمان میں اپنے اچھے کاموں کو قیامت کے دن فائدہ پہنچانے والے گمان کرتا ہے، مگر قیامت کے دن وہ سراب کی طرح بے حقیقت ہو جائیں گے اور جزا ملنے کے بجائے اسے اللہ تعالیٰ سے سابقہ پیش آئے گا، جو اس سے اپنا حساب پورا لے گا۔ {” وَ اللّٰهُ سَرِيْعُ الْحِسَابِ “} یعنی اللہ بہت جلد حساب کرنے والا ہے، کیونکہ دوسرے لوگوں کو ہر چیز کا علم نہیں، نہ ان میں سے کوئی ایک وقت میں ایک سے زیادہ کا حساب لے سکتا ہے، اس لیے ان کے حساب میں تاخیر ہو جاتی ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کو پہلی پچھلی ہر چیز کا مکمل علم ہے، وہ کسی لکھنے پڑھنے کا محتاج نہیں اور وہ ایک لمحے میں ساری کائنات کا حساب بھی لے سکتا ہے، اس لیے وہ {” سَرِيْعُ الْحِسَابِ “} ہے۔ اسے حساب میں کچھ دیر نہیں لگتی۔ دوسری قسم کے کافر وہ ہیں جنھیں آخرت کی فکر ہی نہیں کہ اس کی وجہ سے وہ کوئی اچھا کام کریں، وہ سر سے پاؤں تک دنیا کی لذتوں میں غرق ہیں اور کفر و ضلالت، ظلم و جہل، خواہش پرستی اور اللہ کی نافرمانی میں غوطے کھا رہے ہیں۔ ان کی مثال آگے بیان فرمائی کہ ان کے پاس روشنی کی اتنی چمک بھی نہیں جتنی سراب پر دھوکا کھانے والے کو نظر آتی تھی۔ یہ لوگ خالص اندھیروں اور تہ بہ تہ ظلمات میں بندہیں، روشنی کی کوئی شعاع کسی طرف سے ان تک نہیں پہنچتی۔
یا پھر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا، کہ اوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے، اُس پر ایک اور موج، اور اس کے اوپر بادل، تاریکی پر تاریکی مسلط ہے، آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھنے پائے جسے اللہ نور نہ بخشے اُس کے لیے پھر کوئی نور نہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یا مثل ان اندھیروں کے ہے جو نہایت گہرے سمندر کی تہہ میں ہوں جسے اوپر تلے کی موجوں نے ڈھانﭗ رکھا ہو، پھر اوپر سے بادل چھائے ہوئے ہوں۔ الغرض اندھیریاں ہیں جو اوپر تلے پےدرپے ہیں۔ جب اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی قریب ہے کہ نہ دیکھ سکے، اور (بات یہ ہے کہ) جسے اللہ تعالیٰ ہی نور نہ دے اس کے پاس کوئی روشنی نہیں ہوتی
احمد رضا خان بریلوی
یا جیسے اندھیریاں کسی کنڈے کے (گہرائی والے) دریا میں اس کے اوپر موج مو ج کے اوپر اور موج اس کے اوپر بادل، اندھیرے ہیں ایک پر ایک جب اپنا ہاتھ نکالے تو سوجھائی دیتا معلوم نہ ہو اور جسے اللہ نور نہ دے اس کے لیے کہیں نور نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
یا پھر ان کی مثال ایسی ہے جیسے گہرے سمندر میں اندھیرا۔ کہ اسے ایک موج ڈھانپ لے پھر اس (موج) کے اوپر ایک اور موج ہو۔ اور پھر اس کے اوپر بادل ہو۔ الغرض اندھیروں پر اندھیرا کہ اگر کوئی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے دیکھ نہ پائے اور جسے اللہ نور (ہدایت) نہ دے تو اس کے لئے کوئی نور نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یا ان اندھیروں کی طرح جو نہایت گہرے سمندر میں ہوں، جسے ایک موج ڈھانپ رہی ہو، جس کے اوپر ایک اور موج ہو، جس کے اوپر ایک بادل ہو، کئی اندھیرے ہوں، جن میں سے بعض بعض کے اوپر ہوں، جب اپنا ہاتھ نکالے تو قریب نہیں کہ اسے دیکھے اور وہ شخص جس کے لیے اللہ کوئی نور نہ بنائے تو اس کے لیے کوئی بھی نور نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دو قسم کے کافر ٭٭
یہ دو مثالیں ہیں اور دو قسم کے کافروں کی ہیں۔ جیسے سورۃ البقرہ کی شروع میں دو مثالیں دو قسم کی منافقوں کی بیان ہوئی ہیں۔ ایک آگ کی ایک پانی کی۔ اور جیسے کہ سورۃ الرعد میں ہدایت وعلم کی جو انسان کے دل میں جگہ پکڑ جائے۔ ایسی ہی دو مثالیں ایک آگ کی ایک پانی کی بیان ہوئی ہیں۔ دونوں سورتوں میں ان آیتوں کی تفسیر کامل گزر چکی ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» یہاں پہلی مثال تو ان کافروں کی ہے جو کفر کی طرف دوسروں کو بھی بلاتے ہیں، اور اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے ہیں حالانکہ وہ سخت گمراہ ہیں۔ ان کی تو ایسی مثال ہے جیسے کسی پیاسے کو جنگل میں دور سے ریت کا چمکتا ہوا تودہ دکھائی دیتا ہے اور وہ اسے پانی کا موج دریا سمجھ بیٹھتا ہے۔ «قِيعَةُ» جمع ہے «قَاعٍ» کی جیسے «جَارٍ» کی جمع «جِيرَةٍ» اور «قَاعُ» واحد بھی ہوتا ہے اور جمع «قِيعَانِ» ہوتی ہے جیسے «جَارٍ» کی جمع «جِيرَانٌ» ہے۔ معنی اس کے چٹیل وسیع پھیلے ہوئے میدان کے ہیں۔ ایسے ہی میدانوں میں سراب نظر آیا کرتے ہیں۔ دوپہر کے وقت بالکل یہی معلوم ہوتا ہے کہ پانی کا وسیع دریا لہریں لے رہا ہے۔ جنگل میں جو پیاسا ہو، پانی کی تلاش میں اس کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور اسے پانی سمجھ کر جان توڑ کوشش کرکے وہاں تک پہنچتا ہے لیکن حیرت وحسرت سے اپنا منہ لپیٹ لیتا ہے۔ دیکھتا ہے کہ وہاں پانی کا قطرہ چھوڑ نام و نشان بھی نہیں۔ اسی طرح یہ کفار ہیں کہ اپنے دل میں سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم نے بہت کچھ اعمال کئے ہیں، بہت سی بھلائیاں جمع کر لی ہیں لیکن قیامت کے دن دیکھیں گے کہ ایک نیکی بھی ان کے پاس نہیں یا تو ان کی بدنیتی سے وہ غارت ہو چکی ہے یا شرع کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے برباد ہو گئی ہے۔ غرض ان کے یہاں پہنچنے سے پہلے ان کے کام جہنم رسید ہو چکے ہیں، یہاں یہ بالکل خالی ہاتھ رہ گئے ہیں۔
حساب کے موقعہ پر اللہ خود موجود ہے اور ایک ایک عمل کا حساب لے رہا ہے اور کوئی عمل ان کا قابل ثواب نہیں نکلتا۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ { یہودیوں سے قیامت کے دن سوال ہوگا کہ تم دنیا میں کس کی عبادت کرتے رہے؟ وہ جواب دیں گے کہ اللہ کے بیٹے عزیر کی۔ کہا جائے گا کہ جھوٹے ہو اللہ کا کوئی بیٹا نہیں۔ اچھا بتاؤ اب کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے اے اللہ ہم بہت پیاسے ہو رہے ہیں، ہمیں پانی پلوایا جائے تو ان سے کہا جائے گا کہ دیکھو وہ کیا نظر آ رہا ہے؟ تم وہاں کیوں نہیں جاتے؟ اب انہیں دور سے جہنم ایسی نظر آئے گی جیسے دنیا میں سراب ہوتا ہے جس پر جاری پانی کا دھوکہ ہوتا ہے یہ وہاں جائیں گے اور دوزخ میں ڈال دئیے جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4581] یہ مثال تو تھی جہل مرکب والوں کی۔ اب جہل بسیط والوں کی مثال سنئے جو کورے مقلد تھے، اپنی گرہ کی عقل مطلق نہیں رکھتے تھے۔ مندرجہ بالا مثال والے ائمہ کفر کی تقلید کرتے تھے اور آنکھیں بند کرکے ان کی آواز پر لگے ہوئے تھے کہ ان کی مثال گہرے سمندر کی تہہ کے اندھیروں جیسی ہے جسے اوپر سے تہہ بہ تہہ موجوں نے ڈھانپ رکھا ہو اور پھر اوپر سے ابر ڈھانکے ہوئے ہوں۔ یعنی اندھیرے پر اندھیرا ہو۔ یہاں تک کہ ہاتھ کو ہاتھ بھی سجھائی نہ دیتا ہو۔ یہی حال ان سفلے جاہل کافروں کا ہے کہ نرے مقلد ہیں۔ یہاں تک کہ جس کی تقلید کر رہے ہیں لیکن معلوم نہیں کہ وہ انہیں کہاں لے جا رہا ہے؟ چنانچہ مثالاً کہا جاتا ہے کہ کسی جاہل سے پوچھا گیا کہاں جا رہا ہے؟ اس نے کہا ان کے ساتھ جا رہا ہوں۔ پوچھنے والے نے پھر دریافت کیا کہ یہ کہاں جار ہے ہیں؟ اس نے کہا مجھے تو معلوم نہیں۔ پس جیسے اس سمندر پر موجیں اٹھ رہی ہیں، اسی طرح کافر کے دل پر، اس کے کانوں پر، اس کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [2-البقرة:7] ’ اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر لگا دی ہے ‘۔
ایک اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے «اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــهَهٗ هَوٰىهُ وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰي عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰي سَمْعِهٖ وَقَلْبِهٖ وَجَعَلَ عَلٰي بَصَرِهٖ غِشٰوَة» ۱؎ [45-الجاثية:23] ، ’ تو نے انہیں دیکھا؟ جنہوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے اور اللہ نے انہیں علم پر بہکا دیا ہے اور ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے ‘۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ایسے لوگ پانچ اندھیروں میں ہوتے ہیں [١] کلام [٢] عمل [٣] جانا [٤] آنا [٥] اور انجام سب اندھیروں میں ہیں۔ جسے اللہ اپنے نور کی طرف ہدایت نہ کرے وہ نورانیت سے خالی رہ جاتا ہے۔ جہالت میں مبتلا رہ کر ہلاکت میں پڑ جاتا ہے۔“ جیسے فرمایا آیت «مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ وَيَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:186] ’ جسے اللہ گمراہ کرے اس کے لیے کوئی ہادی نہیں ہوتا ‘۔ یہ اس کے مقابل ہے جو مومنوں کی مثال کے بیان میں فرمایا تھا کہ «يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ» ’ اللہ اپنے نور کی ہدایت کرتا ہے جسے چاہے ‘۔ اللہ تعالیٰ عظیم وکریم سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں میں نور پیدا کر دے اور ہمارے دائیں بائیں بھی نور عطا فرمائے اور ہمارے نور کو بڑھا دے اور اسے بہت بڑا اور زیادہ کرے۔ آمین۔
40-1یعنی دنیا میں ایمان و اسلام کی روشنی نصیب نہیں ہوتی اور آخرت میں بھی اہل ایمان کو ملنے والے نور سے وہ محروم رہیں گے۔
(آیت 40) ➊ {اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّجِّيٍّ …: ” لُجِّيٍّ “} میں یاء نسبت کی ہے اور یہ{”لُجٌّ“} کی طرف منسوب ہے، جو {”لُجَّةٌ“} کی جمع ہے، جس کا معنی ہے بہت بڑا اور گہرا پانی۔ {” بَحْرٍ لُّجِّيٍّ “} کا معنی ہو گا ”نہایت گہرے پانیوں والا سمندر۔“ اس مثال کی وضاحت یہ ہے کہ گہرے پانیوں والے سمندر کی گہرائی پانی کی موٹائی کی وجہ سے نہایت تاریک ہوتی ہے۔ جدید تحقیقات بھی یہی ہیں کہ سمندر کی گہرائی میں ایک حد کے بعد روشنی کا گزر بالکل نہیں ہوتا، پھر جب اس پر تہ بہ تہ موجیں ہوں تو تاریکی اور بڑھ جاتی ہے اور جب ان موجوں کے اوپر بادل بھی ہوں تو تاریکی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے، تو جو شخص ایسے سمندر کی گہرائی میں ہو وہ اتنی تہ بہ تہ تاریکیوں میں ہو گا کہ اپنے ہاتھ کو دیکھنا چاہے تو قریب نہیں کہ دیکھ پائے، حالانکہ آدمی اپنے جسم کا جو حصہ آنکھوں کے سب سے زیادہ قریب لے جا کر دیکھ سکتا ہے وہ اس کا ہاتھ ہے۔ ➋ آیت میں کافر کے عمل کی ایسے شخص کے ساتھ تشبیہ کی کیفیت اہلِ علم نے کئی طرح بیان فرمائی ہے، طبری نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے معتبر سند کے ساتھ نقل فرمایا ہے کہ انھوں نے فرمایا: ”کافر پانچ ظلمتوں میں پھرتا رہتا ہے، چنانچہ اس کا کلام ظلمت ہے، اس کا عمل ظلمت ہے، وہ ظلمت میں داخل ہوتا ہے اور ظلمت ہی میں سے نکلتا ہے اور قیامت کے دن آگ کی طرف جاتے ہوئے اس کا لوٹنا بھی ظلمتوں میں ہو گا۔“ (طبری: ۲۶۳۷۱) یہ سید القراء کی تفسیر ہے، بعض اہلِ علم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تین طرح کی ظلمتیں بیان فرمائی ہیں، سمندر کی ظلمت، امواج کی ظلمت اور بادلوں کی ظلمت۔ اسی طرح کافر بھی تین ظلمتوں میں گرفتار ہے، عقیدے کی ظلمت، قول کی ظلمت اور عمل کی ظلمت۔“ رازی نے اسے حسن کی طرف منسوب کیا ہے۔ بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ ان ظلمتوں سے مراد دل پر، آنکھوں پر اور کانوں پر پڑے ہوئے پردے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ }» [ البقرۃ: ۷ ] ”اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی اور ان کی نگاہوں پر بھاری پردہ ہے۔“ بعض نے فرمایا، تاریک دل تاریک سینے میں ہے جو تاریک جسم میں ہے۔ ایک وجہ تشبیہ یہ ہے کہ کافر حق بات نہیں جانتا اور اسے یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ وہ نہیں جانتا اور وہ سمجھتا یہ ہے کہ وہ جانتا ہے۔ یہ تینوں مراتب ان تین ظلمتوں کے مشابہ ہیں۔ (رازی) ایک وجہ تشبیہ یہ ہے کہ کافر کے اعمال کو اس شخص کی مجموعی حالت کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو سمندر، اس کی امواج اور بادلوں کی تاریکیوں میں گھرا ہوا ہے۔ اسے تشبیہ تمثیل کہتے ہیں اور اس میں مشبّہ کی ایک ایک چیز کی مشبّہ بہ کی ایک ایک چیز کے ساتھ مشابہت تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ توجیہ تکلف سے خالی ہونے کی وجہ سے بہت اچھی ہے۔ ➌ { وَ مَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ:} اس سے پہلے آیت (۳۵) میں مومن کے متعلق فرمایا تھا: «{ يَهْدِي اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَآءُ }» ”اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے۔“ اب کافر کے متعلق فرمایا: «{ وَ مَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ }» جسے اللہ تعالیٰ (اس کی استعداد کی خرابی کی وجہ سے) نورِ ہدایت نہ دے اسے کہیں سے بھی کوئی نور نہیں مل سکتا۔ یا اللہ! تو اپنے خاص فضل و کرم سے ہمیں اپنا نور ہدایت عطا فرما اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن کے متعلق تو نے فرمایا ہے: «{ يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ بِاَيْمَانِهِمْ }» [ الحدید: ۱۲ ] ”جس دن تو ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو دیکھے گا ان کی روشنی ان کے آگے اور ان کی دائیں طرفوں میں دوڑ رہی ہو گی۔“
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پر پھیلا ئے اڑ رہے ہیں؟ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے، اور یہ سب جو کچھ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین کی کل مخلوق اور پر پھیلائے اڑنے والے کل پرند اللہ کی تسبیح میں مشغول ہیں۔ ہر ایک کی نماز اور تسبیح اسے معلوم ہے، لوگ جو کچھ کریں اس سے اللہ بخوبی واقف ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا تم نے نہ دیکھا کہ اللہ کی تسبیح کرتے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پرندے پر پھیلائے سب نے جان رکھی ہے اپنی نماز اور اپنی تسبیح، اور اللہ ان کے کاموں کو جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ کی تسبیح کرتے ہیں اور پر پھیلائے ہوئے پرندے بھی ہر ایک اپنی اپنی (مخصوص) نماز و تسبیح کو جانتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ، اس کی تسبیح کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پرندے پر پھیلائے ہوئے، ہر ایک نے یقینا اپنی نماز اور اپنی تسبیح جان لی ہے اور اللہ اسے خوب جاننے والا ہے جو وہ کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر ایک تسبیح خوان ہے ٭٭
کل کے کل انسان، جنات، فرشتے اور حیوان یہاں تک کہ جمادات بھی اللہ کی تسبیح کے بیان میں مشغول ہیں۔ ایک اور جگہ ہے کہ «تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا» ۱؎ [17-الإسراء:44] ’ ساتوں آسمان اور سب زمینیں اور ان میں جو ہیں سب اللہ کی پاکیزگی کی بیان میں مشغول ہیں ‘۔ اپنے پروں سے اڑنے والے پرند بھی اپنے رب کی عبادت اور پاکیزگی کے بیان میں مشغول ہیں۔ ان سب کو جو جو تسبیح لائق تھی اللہ نے انہیں سکھا دی ہے، سب کو اپنی عبادت کے مختلف جداگانہ طریقے سکھا دئے ہیں اور اللہ پر کوئی کام مخفی نہیں، وہ عالم کل ہے۔ حاکم، متصرف، مالک، مختار کل، معبود حقیقی، آسمان و زمین کا بادشاہ صرف وہی ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کے حکموں کو کوئی ٹالنے والا نہیں۔ قیامت کے دن سب کو اسی کے سامنے حاضر ہونا ہے، وہ جو چاہے گا اپنی مخلوقات میں حکم فرمائے گا۔ برے لوگ برا بدلہ پائیں گے۔ نیک نیکیوں کا پھل حاصل کریں گے۔ خالق مالک وہی ہے، دنیا اور آخرت کا حاکم حقیقی وہی ہے اور اسی کی ذات لائق حمد و ثنا ہے۔
41-1یعنی اہل زمین و اہل آسمان، جس طرح اللہ کی اطاعت اور اس کی تسبیح کرتے ہیں، سب اس کے علم میں ہے، یہ گویا انسانوں اور جنوں کو تنبیہ ہے کہ تمہیں اللہ نے شعور اور ارادے کی آزادی دی ہے تو تمہیں تو دوسری مخلوقات سے زیادہ اللہ کی تسبیح وتحمید اور اس کی اطاعت کرنی چاہیئے۔ لیکن معاملہ اس کے برعکس ہے۔ دیگر مخلوقات تو تسبیح الٰہی میں مصروف ہیں۔ لیکن شعور اور ارادہ سے بہرہ ور مخلوق اس میں کوتاہی کا ارتکاب کرتی ہے۔ جس پر یقینا وہ اللہ کی گرفت کی مستحق ہوگی۔
(آیت 41) ➊ { اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} اس سے پہلی آیات میں یہ بتایا کہ آسمانوں اور زمین کو حسی اور معنوی نور سے روشن کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، ساتھ ہی مومنوں کے دلوں کے نور ایمان سے منور ہونے اور کفار کے دلوں کے تاریکیوں میں غوطے کھانے کی مثالیں بیان فرمائیں، اب آسمانوں اور زمین میں پھیلے ہوئے اس نور (توحید) کی طرف رہنمائی کرنے والے چند دلائل بیان فرمائے۔ ➋ { اَلَمْ تَرَ:} یہ بات تو صاف ظاہر ہے کہ زمین و آسمان میں موجود ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی نے بھی نہیں دیکھا، اس لیے یہاں {” اَلَمْ تَرَ “} سے مراد یہ نہیں کہ ”کیا تو نے نہیں دیکھا “ بلکہ مراد ہے {”أَلَمْ تَعْلَمْ“} یعنی کیا تجھے معلوم نہیں؟ جیسا کہ فرمایا: { اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ } [ الفیل: ۱ ] اس میں مخاطب اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں تو آپ پیدا ہی اس واقعہ کے بعد ہوئے ہیں، آپ کے اسے دیکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر ہر شخص اس کا مخاطب ہے تو ہر شخص کا اس واقعہ کو دیکھنا ممکن ہی نہیں، اس لیے وہاں بھی معنی {”أَلَمْ تَعْلَمْ“} ہے۔ دراصل اس لفظ سے پوچھنا نہیں بلکہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ کیا تمھیں یہ بات معلوم نہیں، اگر معلوم نہیں ہے تو اب جان لو، اور {” اَلَمْ تَرَ “} کا لفظ اس لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے بتانے سے حاصل ہونے والا علم خود دیکھنے سے حاصل ہونے والے علم کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ یقینی ہے۔ (شعراوی) ➌ یعنی کیا تمھیں معلوم نہیں کہ زمین و آسمان میں جو بھی موجود ہیں، یعنی جن، انسان، فرشتے، جانور، اڑتے ہوئے پرندے، حتیٰ کہ نباتات اور جمادات سب شہادت دیتے ہیں کہ ہمیں پیدا کرنے والا اور ساری کائنات کو کسی خرابی کے بغیر نہایت حُسن و خوبی سے چلانے والا ہر نقص اور ہر شریک سے پاک ہے۔ تو جب ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے تو انسان پر تو سب سے بڑھ کر اس کی تسبیح کرنا اور اس کی توحید کی شہادت دینا لازم ہے۔ کائنات کی ہر چیز کی یہ تسبیح زبان حال ہی سے نہیں زبان قال سے یعنی بول کر بھی ہے۔ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۴۴) اور سورۂ رعد (۱۳)۔ ➍ { وَ الطَّيْرُ صٰٓفّٰتٍ:} زمین و آسمان میں موجود ہر چیز کی تسبیح کے بعد پرندوں کی تسبیح کا الگ ذکر فرمایا، کیونکہ وہ اڑتے وقت نہ زمین پر ہوتے ہیں نہ آسمان میں، بلکہ ان کے درمیان معلق ہوتے ہیں، یہ پرندے بھی اللہ کے ہر نقص سے پاک ہونے کی گواہی دے رہے ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ ملک (۱۹)۔ ➎ { كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِيْحَهٗ:} اس سے معلوم ہوا کہ ان کی یہ تسبیح اتفاقی طور پر بے سوچے سمجھے نہیں، بلکہ سمجھ کر اور علم کی بنا پر ہے، جو اللہ تعالیٰ نے انھیں سکھایا اور ان کی طرف الہام کیا ہے۔ ➏ { وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ:} یعنی اللہ تعالیٰ ان کی تسبیح اور بندگی کو اور ان کے ہر عمل کو خوب جاننے والا ہے۔
آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور اللہ ہی کی طرف پھر جانا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کیلئے ہے اور اللہ ہی کی طرف (سب کی) بازگشت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر ایک تسبیح خوان ہے ٭٭
کل کے کل انسان، جنات، فرشتے اور حیوان یہاں تک کہ جمادات بھی اللہ کی تسبیح کے بیان میں مشغول ہیں۔ ایک اور جگہ ہے کہ «تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا» ۱؎ [17-الإسراء:44] ’ ساتوں آسمان اور سب زمینیں اور ان میں جو ہیں سب اللہ کی پاکیزگی کی بیان میں مشغول ہیں ‘۔ اپنے پروں سے اڑنے والے پرند بھی اپنے رب کی عبادت اور پاکیزگی کے بیان میں مشغول ہیں۔ ان سب کو جو جو تسبیح لائق تھی اللہ نے انہیں سکھا دی ہے، سب کو اپنی عبادت کے مختلف جداگانہ طریقے سکھا دئے ہیں اور اللہ پر کوئی کام مخفی نہیں، وہ عالم کل ہے۔ حاکم، متصرف، مالک، مختار کل، معبود حقیقی، آسمان و زمین کا بادشاہ صرف وہی ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کے حکموں کو کوئی ٹالنے والا نہیں۔ قیامت کے دن سب کو اسی کے سامنے حاضر ہونا ہے، وہ جو چاہے گا اپنی مخلوقات میں حکم فرمائے گا۔ برے لوگ برا بدلہ پائیں گے۔ نیک نیکیوں کا پھل حاصل کریں گے۔ خالق مالک وہی ہے، دنیا اور آخرت کا حاکم حقیقی وہی ہے اور اسی کی ذات لائق حمد و ثنا ہے۔
42-1پس وہی اصل حاکم ہے، جس کے حکم کا کوئی تعاقب کرنے والا نہیں اور وہی معبود برحق ہے، جس کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں۔ اس کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے، جہاں ہر ایک کے بارے میں عدل و انصاف کے مطابق فیصلہ فرمائے گا۔
(آیت 42){ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …:} آسمان و زمین یعنی پوری کائنات میں حقیقی بادشاہی صرف اللہ کی ہے، اسی نے سب کو پیدا فرمایا، زندگی کا سارا سلسلہ وہی چلا رہا ہے اور سب کی واپسی بھی آخر کار اسی کی طرف ہے۔ نہ دنیا میں اس کی سلطنت میں کسی کا دخل ہے نہ آخرت میں اس کے سوا کسی کا کوئی دخل ہو گا۔ جب زمین و آسمان اور دنیا و آخرت میں سارا اختیار اسی کا ہے تو پھر دوسرے کی عبادت کیوں ہو!
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے، پھر اس کے ٹکڑوں کو باہم جوڑتا ہے، پھر اسے سمیٹ کر ایک کثیف ابر بنا دیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے خول میں سے بارش کے قطرے ٹپکتے چلے آتے ہیں اور وہ آسمان سے، اُن پہاڑوں کی بدولت جو اس میں بلند ہیں، اولے برساتا ہے، پھر جسے چاہتا ہے ان کا نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان سے بچا لیتا ہے اُس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو خیرہ کیے دیتی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کو چلاتا ہے، پھر انہیں ملاتا ہے پھر انہیں تہہ بہ تہہ کر دیتا ہے، پھر آپ دیکھتے ہیں کہ ان کے درمیان میں سے مینہ برستا ہے۔ وہی آسمان کی جانب سے اولوں کے پہاڑ میں سے اولے برساتا ہے، پھر جنہیں چاہے ان کے پاس انہیں برسائے اور جن سے چاہے ان سے انہیں ہٹا دے۔ بادل ہی سے نکلنے والی بجلی کی چمک ایسی ہوتی ہے کہ گویا اب آنکھوں کی روشنی لے چلی
احمد رضا خان بریلوی
کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نرم نرم چلاتا ہے بادل کو پھر انہیں آپس میں مِلاتا ہے پھر انہیں تہہ پر تہہ کردیتا ہے تو تُو دیکھے کہ اس کے بیچ میں سے مینہ نکلتا ہے اور اتارتا ہے آسمان سے اس میں جو برف کے پہاڑ ہیں ان میں سے کچھ اولے پھر ڈالنا ہے انہیں جس پر چاہے اور پھیردیتا ہے انہیں جس سے چاہے قریب ہے کہ اس کی بجلی کی چمک آنکھ لے جائے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے۔ پھر اس کے ٹکڑوں کو باہم ملاتا ہے۔ پھر اسے تہہ بہ تہہ کر دیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے درمیان سے بارش نکلواتا ہے اور وہ (اللہ) آسمان سے پہاڑوں کی شکل کے بادلوں سے برف یعنی اولے برساتا ہے پھر ان کو جس پر چاہتا ہے گرا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ہٹا دیتا ہے قریب ہے کہ اس کی بجلی کی چمک آنکھوں (کی بینائی) کو لے جائے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ بادل کو چلاتا ہے، پھر اسے آپس میں ملاتا ہے، پھر اسے تہ بہ تہ کر دیتا ہے، پھر تو بارش کو دیکھتا ہے کہ اس کے درمیان سے نکل رہی ہے اور وہ آسمان سے ان پہاڑوں میں سے جو اس میں ہیں، کچھ اولے اتارتا ہے، پھر انھیں جس کے پاس چاہتا ہے پہنچا دیتا ہے اور انھیں جس سے چاہتا ہے پھیر دیتا ہے۔ قریب ہے کہ اس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو لے جائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بادل مرحلہ وار ٭٭
پتلے دھوئیں جیسے بادل اول اول تو قدرت الٰہی سے اٹھتے ہیں پھر مل جل کر وہ جسیم ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے اوپر جم جاتے ہیں پھر ان میں سے بارش برستی ہے۔ ہوائیں چلتی ہیں، زمین کو قابل بناتی ہیں، پھر ابر کو اٹھاتی ہیں، پھر انہیں ملاتی ہیں، پھر وہ پانی سے بھر جاتے ہیں، پھر برس پڑتے ہیں۔ پھر آسمان سے اولوں کو برسانے کا ذکر ہے اس جملے میں پہلا «مِنِ» ابتداء غایت کا ہے، دوسرا تبعیض کا ہے، تیسرا بیان جنس کا ہے۔ یہ اس تفسیر کی بنا پر ہے کہ آیت کے معنی یہ کئے جائیں کہ اولوں کے پہاڑ آسمان پر ہیں۔ اور جن کے نزدیک یہاں پہاڑ کا لفظ ابر کے لیے بطور کنایہ ہے ان کے نزدیک «مِنِ» ثانیہ بھی ابتداء غایت کے لیے ہے لیکن وہ پہلے کا بدل ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس کے بعد کے جملے کا یہ مطلب ہے کہ بارش اور اولے جہاں اللہ برسانا چاہے، وہاں اس کی رحمت سے برستے ہیں اور جہاں نہ چاہے نہیں برستے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اولوں سے جن کی چاہے، کھیتیاں اور باغات خراب کر دیتا ہے اور جن پر مہربانی فرمائے انہیں بچالیتا ہے۔ پھر بجلی کی چمک کی قوت بیان ہو رہی ہے کہ قریب ہے وہ آنکھوں کی روشنی کھودے۔ دن رات کا تصرف بھی اسی کے قبضے میں ہے، جب چاہتا ہے دن کو چھوٹا اور رات کو بڑی کر دیتا ہے اور جب چاہتا ہے رات کو بڑی کر کے دن کو چھوٹا کر دیتا ہے۔ یہ تمام نشانیاں ہیں جو قدرت قادر کو ظاہر کرتی ہیں، اللہ کی عظمت کو آ شکارا کرتی ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لِآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ» ۱؎ [3-آل عمران:190] ’ آسمان و زمین کی پیدائش، رات دن کے اختلاف میں عقلمندوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 43) ➊ {اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُزْجِيْ سَحَابًا …: ” أَزْجٰي يُزْجِيْ “} نرمی کے ساتھ چلانا، ہانکنا، دھکیلنا۔ {” ألَّفَ يُؤَلِّفُ“} دو یا زیادہ چیزوں کو جوڑنا۔ بادل کو جوڑنے سے مراد اس کے ٹکڑوں کو جوڑنا ہے۔ {”رَكْمٌ“ } کہتے ہیں ایک چیز کو دوسری کے اوپر رکھنا۔{ ”رُكَامًا “} تہ بہ تہ۔ {”خِلاَلٌ“ ”خَلَلٌ“} کی جمع ہے، جیسے: {”جِبَالٌ“ ”جَبَلٌ“} کی جمع ہے۔ {”خَلَلٌ“} کا معنی شگاف، دراڑ اور سوراخ ہے۔ ➋ ہوائیں کئی کام سر انجام دیتی ہیں، اللہ تعالیٰ پہلے ہوائیں بھیجتا ہے، وہ زمین پر جھاڑو پھیر کر خوب صفائی کر دیتی ہیں، پھر مزید ہوائیں بھیجتا ہے، وہ بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں، تیسری ہوائیں بادلوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر تہ بہ تہ کر دیتی ہیں، پھر چوتھی ہوائیں انھیں برسانا شروع کر دیتی ہیں۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۵۷)، روم (۴۸) اور فاطر (۹)۔ یہ توحید کی دوسری دلیل ہے، یعنی اللہ تعالیٰ بادلوں کو چلاتا ہے، پھر انھیں جوڑ کر تہ بہ تہ کر دیتا ہے، پھر یہ بھی اس کا احسان ہے کہ تہ بہ تہ بادلوں میں موجود پانی کے ذخیرے کو قطروں کی صورت میں زمین پر گراتا ہے، جس سے مردہ زمین زندہ ہو جاتی ہے اور انسانوں، حیوانوں اور پودوں کو زندگی ملتی ہے۔ اگر وہ سیکڑوں ہزاروں مربع میل میں پھیلے ہوئے بادلوں کا کروڑوں اربوں ٹن پانی ایک ہی وقت میں زمین پر گرا دے تو نہ کوئی جان دار اس بوجھ کو برداشت کر سکے، نہ کوئی پودا اور نہ کوئی مکان باقی رہ جائے جس میں کوئی شخص سکونت اختیار کر سکے۔ ➌ { وَ يُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِيْهَا مِنْۢ بَرَدٍ: ” بَرَدٍ “} ”اولے۔“ زمین سے جیسے جیسے بلندی کی طرف جائیں ٹھنڈک بڑھتی چلی جاتی ہے اور بعض اوقات اللہ کے حکم سے بادل برف کے پہاڑوں کی صورت اختیار کر جاتے ہیں۔ اب یہ اللہ کا فضل ہے کہ برف کے ان پہاڑوں میں سے تودوں کی شکل میں برف گرانے کے بجائے وہ اسے اولوں کی شکل میں گراتا ہے، جس سے کم از کم نقصان ہوتا ہے اور یہ بھی اس کی قدرت کا ثبوت ہے کہ وہی سمندر ہے، وہی سورج ہے جس کی تپش سے پانی بخارات بن کر اٹھتا ہے، وہی زمین ہے جس پر برستا ہے، زمین کے ہر قطعے کا سمندر سے اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا پہلے تھا، پہاڑ جن سے ٹکرا کر سائنسدان بارش برسنے کا ذکر کرتے ہیں، وہ بھی اسی جگہ ہیں، سارے اسباب یکساں ہونے کے باوجود ہمیشہ ہر جگہ ایک جیسی نہ بارش ہوتی ہے، نہ اولے پڑتے ہیں۔ کسی جگہ اگر کبھی خوش حالی لانے والی بارش ہے تو کبھی وہاں قحط مسلط کرنے والی خشکی ہے، کبھی غرق کر دینے والا سیلاب ہے اور کبھی اولوں کی صورت میں تباہی و بربادی ہے، یہ سب کچھ اللہ مالک الملک کی توحید، اس کی قدرت اور اس کے اختیار کی دلیل ہے۔ ➍ { فَيُصِيْبُ بِهٖ مَنْ يَّشَآءُ وَ يَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ يَّشَآءُ:} اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیار کا ذکر فرمایا ہے کہ وہ ان اولوں کو جس پر برسانا چاہتا ہے برسا دیتا ہے اور جس سے ہٹانا چاہتا ہے ہٹا دیتا ہے، محکمہ موسمیات کے اندازے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ ➎ {يَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ يَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِ: ” سَنَا “} بروزن {” عَصَا “} چمک، روشنی اور {” سَنَاءٌ“} بروزن {”جَلاَءٌ“} بلندی اور رفعت شان۔ آیت کا یہ جملہ اس جملے کی طرح ہے جس میں فرمایا: «{ يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ }» [ البقرۃ: ۲۰ ] مزید دیکھیے سورۂ رعد (۱۲، ۱۳)۔
رات اور دن کا الٹ پھیر وہی کر رہا ہے اِس میں ایک سبق ہے آنکھوں والوں کے لیے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ ہی دن اور رات کو ردوبدل کرتا رہتا ہے آنکھوں والوں کے لیے تو اس میں یقیناً بڑی بڑی عبرتیں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اللہ بدلی کرتا ہے رات اور دن کی بیشک اس میں سمجھنے کا مقام ہے نگاہ والوں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ رات دن کو ادلتا بدلتا رہتا ہے۔ بےشک اس میں آنکھوں والوں کیلئے (سامان) عبرت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ رات اور دن کو ادل بدل کرتا ہے، بے شک اس میں آنکھوں والوں کے لیے یقینا بڑی عبرت ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بادل مرحلہ وار ٭٭
پتلے دھوئیں جیسے بادل اول اول تو قدرت الٰہی سے اٹھتے ہیں پھر مل جل کر وہ جسیم ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے اوپر جم جاتے ہیں پھر ان میں سے بارش برستی ہے۔ ہوائیں چلتی ہیں، زمین کو قابل بناتی ہیں، پھر ابر کو اٹھاتی ہیں، پھر انہیں ملاتی ہیں، پھر وہ پانی سے بھر جاتے ہیں، پھر برس پڑتے ہیں۔ پھر آسمان سے اولوں کو برسانے کا ذکر ہے اس جملے میں پہلا «مِنِ» ابتداء غایت کا ہے، دوسرا تبعیض کا ہے، تیسرا بیان جنس کا ہے۔ یہ اس تفسیر کی بنا پر ہے کہ آیت کے معنی یہ کئے جائیں کہ اولوں کے پہاڑ آسمان پر ہیں۔ اور جن کے نزدیک یہاں پہاڑ کا لفظ ابر کے لیے بطور کنایہ ہے ان کے نزدیک «مِنِ» ثانیہ بھی ابتداء غایت کے لیے ہے لیکن وہ پہلے کا بدل ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس کے بعد کے جملے کا یہ مطلب ہے کہ بارش اور اولے جہاں اللہ برسانا چاہے، وہاں اس کی رحمت سے برستے ہیں اور جہاں نہ چاہے نہیں برستے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اولوں سے جن کی چاہے، کھیتیاں اور باغات خراب کر دیتا ہے اور جن پر مہربانی فرمائے انہیں بچالیتا ہے۔ پھر بجلی کی چمک کی قوت بیان ہو رہی ہے کہ قریب ہے وہ آنکھوں کی روشنی کھودے۔ دن رات کا تصرف بھی اسی کے قبضے میں ہے، جب چاہتا ہے دن کو چھوٹا اور رات کو بڑی کر دیتا ہے اور جب چاہتا ہے رات کو بڑی کر کے دن کو چھوٹا کر دیتا ہے۔ یہ تمام نشانیاں ہیں جو قدرت قادر کو ظاہر کرتی ہیں، اللہ کی عظمت کو آ شکارا کرتی ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لِآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ» ۱؎ [3-آل عمران:190] ’ آسمان و زمین کی پیدائش، رات دن کے اختلاف میں عقلمندوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں ‘۔
44-1یعنی کبھی دن بڑے، راتیں چھوٹی اور کبھی اس کے برعکس۔ یا کبھی دن کی روشنی، کو بادلوں کی تاریکیوں سے اور رات کے اندھیروں کو چاند کی روشنی سے بدل دیتا ہے۔
(آیت 44){ يُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّيْلَ وَ النَّهَارَ …:} یہ اس بات کی تیسری دلیل ہے کہ اس کائنات کا مالک و مختار اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے اور اس کی ہدایت کی روشنی زمین و آسمان میں ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے، چنانچہ فرمایا، اللہ تعالیٰ رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے، نہ ہمیشہ دن رہتا ہے نہ رات۔ دیکھیے قصص (۷۱ تا ۷۳) پھر کبھی رات چھوٹی ہوتی ہے کبھی دن۔ دیکھیے لقمان (۲۹) واضح رہے کہ زمین پر زندہ رہنے کے جتنے اسباب موجود ہیں رات دن کے اسی الٹ پھیر کی بدولت ہیں، اگر ہمیشہ رات رہتی یا ہمیشہ دن رہتا تو کوئی چیز پیدا نہ ہو سکتی، یہ سب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا بنایا ہوا نظام ہے۔ رات دن کو یا اس نظام کو برا بھلا کہنے والا درحقیقت اللہ تعالیٰ کو برا بھلا کہتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ قَالَ اللّٰهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالٰي يُؤْذِيْنِي ابْنُ آدَمَ، يَقُوْلُ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ! فَلَا يَقُوْلَنَّ أَحَدُكُمْ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ! فَإِنِّيْ أَنَا الدَّهْرُ، أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَ نَهَارَهُ، فَإِذَا شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا ] [ مسلم، الألفاظ من الأدب وغیرھا، باب النہي عن سب الدھر: 2246/3 ] ”اللہ عز و جل فرماتا ہے، ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے، کہتا ہے، ہائے زمانے کی کم بختی! سو تم میں سے کوئی ہرگز یوں نہ کہے، ہائے زمانے کی کم بختی! اس لیے کہ میں ہی زمانہ ہوں، میں رات دن کو بدل بدل کر لاتا ہوں اور میں جب چاہوں گا دونوں کو سمیٹ لوں گا۔“
اور اللہ نے ہر جاندار ایک طرح کے پانی سے پیدا کیا، کوئی پیٹ کے بل چل رہا ہے تو کوئی دو ٹانگوں پر اور کوئی چار ٹانگوں پر جو کچھ وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تمام کے تمام چلنے پھرنے والے جانداروں کو اللہ تعالیٰ ہی نے پانی سے پیدا کیا ہےان میں سے بعض تو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں، بعض دو پاؤں پر چلتے ہیں۔ بعض چار پاؤں پر چلتے ہیں، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ نے زمین پر ہر چلنے والا پانی سے بنایا تو ان میں کوئی اپنے پیٹ پر چلتا ہے اور ان میں کوئی دو پاؤں پر چلتا ہے اور ان میں کوئی چار پاؤں پر چلتا ہے اللہ بناتا ہے جو چاہے، بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ ہی نے زمین پر چلنے والے ہر جاندار کو (ایک خاص) پانی سے پیدا کیا ہے تو ان میں سے کوئی پیٹ کے بل چلتا ہے۔ اور کوئی دو ٹانگوں پر چلتا ہے اور کوئی چار ٹانگوں پر۔ اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ بےشک اللہ ہر شئے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ نے ہر چلنے والا (جاندار) ایک قسم کے پانی سے پیدا کیا، پھر ان میں سے کوئی وہ ہے جو اپنے پیٹ پر چلتا ہے اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو دو پاؤں پر چلتا ہے اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو چار پر چلتا ہے، اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، یقینا اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایک ہی پانی اور مختلف اجناس کی پیدائش ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی کامل قدرت اور زبردست سلطنت کا بیان فرماتا ہے کہ ’ اس نے ایک ہی پانی سے طرح طرح کی مخلوق پیدا کر دی ہے۔ سانپ وغیرہ کو دیکھو جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں۔ انسان اور پرند کو دیکھو ان کے دوپاؤں ہوتے ہیں۔ حیوانوں اور چوپاوں کو دیکھو وہ چار پاؤں پر چلتے ہیں، وہ بڑا قادر ہے جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے جو نہیں چاہتا ہرگز نہیں ہوسکتا، وہ قادر کل ہے ‘۔
45-1جس طرح سانپ، مچھلی اور دیگر حشرات الارض کیڑے مکوڑے ہیں۔ 45-2جیسے انسان اور پرند ہیں 45-3جیسے تمام چوپائے اور دیگر حیوانات ہیں۔ 45-4یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ بعض حیوانات ایسے بھی ہیں جو چار سے بھی زیادہ پاؤں رکھتے ہیں، جیسے کیکڑا، مکڑی اور بہت سے زمینی کیڑے۔
(آیت 45) ➊ { وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ انبیاء کی آیت (۳۰) یہ اس مقام پر توحید کی چوتھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چلنے والا (جان دار) پانی سے پیدا فرمایا، پھر ایک ہی چیز سے پیدا ہونے والے تمام جان دار زندگی کی پہلی حالت ہی میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں، کوئی اپنے پیٹ پر چلتا ہے جیسے سانپ، مچھلی اور بعض قسم کے کیڑے مکوڑے، کوئی دو پاؤں پر چلتا ہے جیسے انسان اور پرندے اور کوئی چار پاؤں پر چلتا ہے جیسے گائے، بھینس، گھوڑے اور دوسرے چوپائے اور درندے۔ ➋ {يَخْلُقُ اللّٰهُ مَا يَشَآءُ:} یعنی کسی جانور کو چاہے تو اس سے زیادہ پاؤں دے دیتا ہے، جیسے کنکھجورا، کیکڑا، مکڑی اور کئی قسم کے کیڑے اور سمندری مخلوق۔ یہ کائنات میں پھیلے ہوئے نور ہدایت ہی کا اظہار ہے، جسے دیکھ کر سعادت مند لوگ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لے آتے ہیں اور اس پر بھی کہ جب اللہ تعالیٰ جو چاہے پیدا فرما سکتا ہے، تو وہ قیامت کے روز دوبارہ زندہ بھی کرے گا۔ چلنے میں جانوروں کی ترتیب بھی قابل توجہ ہے، سب سے پہلے وہ جس کے پاؤں ہی نہیں، ان کے چلنے میں قدرت کا اظہار سب سے زیادہ ہے، پھر دو پاؤں پر چلنا چار پاؤں پر چلنے سے عجیب ہے۔ ➌ { اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ:} یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ جو چاہے پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
ہم نے صاف صاف حقیقت بتانے والی آیات نازل کر دی ہیں، آگے صراط مستقیم کی طرف ہدایت اللہ ہی جسے چاہتا ہے دیتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بلاشک و شبہ ہم نے روشن اور واضح آیتیں اتار دی ہیں اللہ تعالیٰ جسے چاہے سیدھی راه دکھا دیتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے اتاریں صاف بیان کرنے والی آیتیں اور اللہ جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے
علامہ محمد حسین نجفی
یقیناً ہم نے حقیقت واضح کرنے والی آیتیں نازل کر دی ہیں اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کر دیتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقینا ہم نے کھول کر بیان کرنے والی آیات نازل کر دی ہیں اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہ حکمت بھرے احکام، یہ روشن، اس قرآن کریم میں اللہ ہی نے بیان فرمائی ہیں۔ عقلمندوں کو ان کے سمجھنے کی توفیق دی ہے، رب جسے چاہے اپنی سیدھی راہ پر لگائے۔
46-1اللہ تعالیٰ اسے نظر صحیح اور قالب صادق عطا فرما دیتا ہے جس سے اس کے لئے ہدایت کا راستہ کھل جاتا ہے۔ صراط مستقیم سے مراد یہی ہدایت کا راستہ ہے جس میں کوئی کجی نہیں، اسے اختیار کر کے انسان اپنی منزل مقصود جنت تک پہنچ جاتا ہے۔
(آیت 46) ➊ { لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ:} دیکھیے اسی سورت کی آیت (۳۴) کی تفسیر۔ ➋ { وَ اللّٰهُ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ:} دیکھیے اسی سورت کی آیت (۳۵) کی تفسیر۔ ➌ یہ آیت آئندہ آیات کی تمہید ہے، جن میں منافقین کا ذکر فرمایا ہے کہ یقینا ہم نے تو کھول کر بیان کرنے والی عظیم الشان آیات نازل کی ہیں، مگر ان کے ذریعے سے صراطِ مستقیم کی ہدایت دینا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ آگے کچھ ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا جنھیں ہدایت دینا اللہ کی مشیت نہیں ہے۔
یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور رسولؐ پر اور ہم نے اطاعت قبول کی، مگر اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ (اطاعت سے) منہ موڑ جاتا ہے ایسے لوگ ہرگز مومن نہیں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ اور رسول پر ایمان ﻻئے اور فرماں بردار ہوئے، پھر ان میں سے ایک فرقہ اس کے بعد بھی پھر جاتا ہے۔ یہ ایمان والے ہیں (ہی) نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ اور رسول پر اور حکم مانا پھر کچھ ان میں کے اس کے بعد پھر جاتے ہیں اور وہ مسلمان نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان لائے ہیں۔ اور ہم نے اطاعت بھی کی۔ مگر اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ منہ پھر لیتا ہے اور ایسے لوگ (ہرگز) مؤمن نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ کہتے ہیں ہم اللہ پر اور رسول پر ایمان لائے اور ہم نے حکم مان لیا، پھر ان میں سے ایک گروہ اس کے بعد پھر جاتا ہے اور یہ لوگ ہرگز مومن نہیں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافق کی زبان اور ، دل ٭٭
منافقوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ’ زبان تو ایمان واطاعت کا اقرار کرتے ہیں لیکن دل سے اس کے خلاف ہیں، عمل کچھ ہے قول کچھ ہے، اس لیے کہ دراصل ایماندار نہیں ‘۔ حدیث میں ہے کہ { جو شخص بادشاہ کے سامنے بلوایا جائے اور وہ نہ جائے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے }۔ جب انہیں ہدایت کی طرف بلایا جاتا ہے، قرآن و حدیث کے ماننے کو کہا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر لیتے ہیں اور تکبر کرنے لگتے ہیں۔ جیسے آیت «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَن يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًا» ۱؎ [4-النساء:60،61] تک کی آیتوں میں بیان گزر چکا ہے۔ ہاں اگر انہیں شرعی فیصلے میں اپنا نفع نظر آتا ہو تو لمبے لمبے کلمے پڑھتے ہوئے، گردن ہلاتے ہوئے ہنسی خوش چلے آئیں گے اور جب معلوم ہو جائے کہ شرعی فیصلہ ان کی طبعی خواہش کے خلاف ہے، دنیوں مفاد کے خلاف ہے تو حق کی طرف مڑ کر دیکھیں گے بھی نہیں۔ پس ایسے لوگ پکے کافر ہیں۔ اس لیے کہ تین حال سے خالی نہیں یا تو یہ کہ ان کے دلوں میں ہی بے ایمانی گھر کرگئی ہے یا انہیں اللہ کے دین کی حقانیت میں شکوک ہیں یاخوف ہے کہ کہیں اللہ اور رسول ان کا حق نہ مارلیں، ان پر ظلم وستم کریں گے اور یہ تینوں صورتیں کفر کی ہیں۔ اللہ ان میں سے ہر ایک کو جانتا ہے جو جیسا باطن میں ہے اس کے پاس وہ ظاہر ہے۔
دراصل یہی لوگ جابر ہیں، ظالم ہیں، اللہ اور رسول اللہ اس سے پاک ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایسے کافر جو ظاہر میں مسلمان تھے، بہت سے تھے، انہیں جب اپنا مطلب قرآن و حدیث میں نکلتا نظر آتا تو خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے جھگڑے پیش کرتے اور جب انہیں دوسروں سے مطلب براری نظر آتی تو سرکار محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں آنے سے صاف انکار کر جاتے۔ پس یہ آیت اتری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جن دو شخصوں میں کوئی جھگڑا ہو اور وہ اسلامی حکم کے مطابق فیصلے کی طرف بلایا جائے اور وہ اس سے انکار کرے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:6939:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
47-1یہ منافقین کا بیان ہے جو زبان سے اسلام کا اظہار کرتے تھے لیکن دلوں میں کفر وعناد تھا یعنی اعتقاد صحیح سے محروم تھے۔ اس لئے زبان سے اظہار ایمان کے باوجود ان کے ایمان کی نفی کی گئی۔
(آیت 47){ وَ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا:} اس جملے کا {” وَ اللّٰهُ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ “} پر عطف ہے، گویا اللہ تعالیٰ اب ان لوگوں کا ذکر کر رہے ہیں جنھیں ہدایت دینا اللہ تعالیٰ نے نہیں چاہا، یہ وہ لوگ ہیں جو ظاہر تو اسلام کرتے ہیں لیکن دل میں کفر چھپائے ہوئے ہیں، یہ منافق لوگ ہیں۔ اس آیت کا مضمون سورۂ نساء کی آیات (۶۰ تا ۶۵) سے ملتا جلتا ہے، ان کی تفسیر پر نظر ڈال لیں۔
جب ان کو بلایا جاتا ہے اللہ اور رسول کی طرف، تاکہ رسول ان کے آپس کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق کترا جاتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جب یہ اس بات کی طرف بلائے جاتے ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول ان کے جھگڑے چکا دے تو بھی ان کی ایک جماعت منھ موڑنے والی بن جاتی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب بلائے جائیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف کہ رسول ان میں فیصلہ فرمائے تو جبھی ان کا ایک فریق منہ پھیر جاتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب انہیں خدا اور رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول ان کے درمیان فیصلہ کر دیں تو ایک دم ان میں سے ایک گروہ روگردان ہو جاتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں، تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو اچانک ان میں سے کچھ لوگ منہ موڑنے والے ہوتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافق کی زبان اور ، دل ٭٭
منافقوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ’ زبان تو ایمان واطاعت کا اقرار کرتے ہیں لیکن دل سے اس کے خلاف ہیں، عمل کچھ ہے قول کچھ ہے، اس لیے کہ دراصل ایماندار نہیں ‘۔ حدیث میں ہے کہ { جو شخص بادشاہ کے سامنے بلوایا جائے اور وہ نہ جائے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے }۔ جب انہیں ہدایت کی طرف بلایا جاتا ہے، قرآن و حدیث کے ماننے کو کہا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر لیتے ہیں اور تکبر کرنے لگتے ہیں۔ جیسے آیت «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَن يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًا» ۱؎ [4-النساء:60،61] تک کی آیتوں میں بیان گزر چکا ہے۔ ہاں اگر انہیں شرعی فیصلے میں اپنا نفع نظر آتا ہو تو لمبے لمبے کلمے پڑھتے ہوئے، گردن ہلاتے ہوئے ہنسی خوش چلے آئیں گے اور جب معلوم ہو جائے کہ شرعی فیصلہ ان کی طبعی خواہش کے خلاف ہے، دنیوں مفاد کے خلاف ہے تو حق کی طرف مڑ کر دیکھیں گے بھی نہیں۔ پس ایسے لوگ پکے کافر ہیں۔ اس لیے کہ تین حال سے خالی نہیں یا تو یہ کہ ان کے دلوں میں ہی بے ایمانی گھر کرگئی ہے یا انہیں اللہ کے دین کی حقانیت میں شکوک ہیں یاخوف ہے کہ کہیں اللہ اور رسول ان کا حق نہ مارلیں، ان پر ظلم وستم کریں گے اور یہ تینوں صورتیں کفر کی ہیں۔ اللہ ان میں سے ہر ایک کو جانتا ہے جو جیسا باطن میں ہے اس کے پاس وہ ظاہر ہے۔
دراصل یہی لوگ جابر ہیں، ظالم ہیں، اللہ اور رسول اللہ اس سے پاک ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایسے کافر جو ظاہر میں مسلمان تھے، بہت سے تھے، انہیں جب اپنا مطلب قرآن و حدیث میں نکلتا نظر آتا تو خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے جھگڑے پیش کرتے اور جب انہیں دوسروں سے مطلب براری نظر آتی تو سرکار محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں آنے سے صاف انکار کر جاتے۔ پس یہ آیت اتری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جن دو شخصوں میں کوئی جھگڑا ہو اور وہ اسلامی حکم کے مطابق فیصلے کی طرف بلایا جائے اور وہ اس سے انکار کرے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:6939:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 48){ وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ …:} واضح رہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جانے کا معاملہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تک ہی نہیں تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی سنت کی طرف جو دعوت دی جاتی ہے وہ اصل میں آپ ہی کی طرف دعوت ہوتی ہے، اس سے منہ موڑنے والے کا حکم بھی وہی ہے جو اس آیت میں منافقین کے گروہ کا بیان ہوا ہے۔
البتہ اگر حق ان کی موافقت میں ہو تو رسول کے پاس بڑے اطاعت کیش بن کر آ جاتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہاں اگر ان ہی کو حق پہنچتا ہو تو مطیع وفرماں بردار ہو کر اس کی طرف چلے آتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر ان میں ڈگری ہو (ان کے حق میں فیصلہ ہو) تو اس کی طرف آئیں مانتے ہوئے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر حق ان کے موافق ہو (اس میں ان کا فائدہ) تو پھر سر تسلیم خم کئے اس (رسول) کی طرف آجاتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر ان کے لیے حق ہو تو مطیع ہو کر اس کی طرف چلے آتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر سچے مومنوں کی شان بیان ہوتی ہے کہ ’ وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی تیسری چیز کو داخل دین نہیں سمجھتے۔ وہ تو قرآن و حدیث سنتے ہی، اس کی دعوت کی ندا کان میں پڑتے ہی صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا یہ کامیاب، بامراد اور نجات یافتہ لوگ ہیں ‘۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ جو بدری صحابی ہیں، انصاری ہیں، انصاروں کے ایک سردار ہیں، انہوں نے اپنے بھتیجے جنادہ بن امیہ سے بوقت انتقال فرمایا کہ ”آؤ مجھ سے سن لو کہ تمہارے ذمے کیا ہے؟ سننا اور ماننا سختی میں بھی آسانی میں بھی، خوشی میں بھی ناخوشی میں بھی، اس وقت بھی جب کہ تیرا حق دوسرے کو دیا جا رہا ہو، اپنی زبان کو عدل اور سچائی کے ساتھ سیدھی رکھ۔ کام کے اہل لوگوں سے کام کو نہ چھین، ہاں اگر کسی کھلی نافرمانی کا وہ حکم دیں تو نہ ماننا۔ کتاب اللہ کے خلاف کوئی بھی کہے ہرگز نہ ماننا۔ کتاب اللہ کی پیروی میں لگے رہنا۔“ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اسلام بغیر اللہ کی اطاعت کے نہیں اور بہتری جو کچھ ہے وہ جماعت کی، اللہ کی، اس کے رسول کی، خلیفۃ المسلمین کی اور عام مسلمانوں کی خیر خواہی میں ہے۔“ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اسلام کا مضبوط کڑا، اللہ کی وحدانیت کی گواہی، نماز کی پابندی، زکوٰۃ کی ادائیگی اور مسلمانوں کے بادشاہ کی اطاعت ہے۔“ جو احادیث و آثار کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے بارے میں اور مسلمان بادشاہوں کی ماننے کے بارے میں مروی ہیں وہ اس کثرت سے ہیں کہ سب یہاں کسی طرح بیان ہو ہی نہیں سکتیں۔ جو شخص اللہ اور رسول کا نافرمان بن جائے جو حکم ملے بجا لائے جس چیز سے روک دیں رک جائے جو گناہ ہو جائے اس سے خوف کھاتا رہے آئندہ کے لیے اس سے بچتا رہے ایسے لوگ تمام بھلائیوں کو سمیٹنے والے اور تمام برائیوں سے بچ جانے والے ہیں۔ دنیا اور آخرت میں وہ نجات یافتہ ہیں۔
49-1کیونکہ انھیں یقین ہوتا ہے کہ عدالت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو فیصلہ صادر ہوگا، اس میں کسی کی رو رعایت نہیں ہوگی، اس لئے وہاں اپنا مقدمہ لے جانے سے ہی گریز کرتے ہیں۔ ہاں اگر وہ جانتے ہیں کہ مقدمے میں وہ حق پر ہیں اور ان ہی کے حق میں فیصلہ ہونے کا غالب امکان ہے تو پھر خوشی خوشی وہاں آتے ہیں۔
(آیت 49){وَ اِنْ يَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ …: ” مُذْعِنِيْنَ “ ”أَيْ مُنْقَادِيْنَ“} مطیع ہونے والے، یعنی جب دیکھتے ہیں کہ شریعت کے مطابق فیصلے میں ان کا فائدہ ہے، تب تو بڑے فرماں بردار بن کر آتے ہیں اور ایمان کے لمبے چوڑے دعوے کرتے ہیں ورنہ دبک کر بیٹھ جاتے ہیں اور شریعت کے احکامات میں کیڑے نکالنا شروع کر دیتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ شریعت کی اس طرح کی پیروی اللہ تعالیٰ کی نظر میں کوئی وزن نہیں رکھتی، کیونکہ یہ شریعت کی پیروی نہیں بلکہ نفس کی پیروی ہے۔ (ابن کثیر)
کیا ان کے دلوں کو (منافقت کا) روگ لگا ہوا ہے؟ یا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں؟ یا ان کو یہ خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم کرے گا؟ اصل بات یہ ہے کہ ظالم تو یہ لوگ خود ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے؟ یا یہ شک وشبہ میں پڑے ہوئے ہیں؟ یا انہیں اس بات کا ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ان کی حق تلفی نہ کریں؟ بات یہ ہے کہ یہ لوگ خود ہی بڑے ﻇالم ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا شک رکھتے ہیں کیا یہ ڈرتے ہیں کہ اللہ و رسول ان پر ظلم کریں گے بلکہ خود ہی ظالم ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
ان کے دلوں میں (نفاق وغیرہ) کی کوئی بیماری ہے یا (اسلام کے متعلق) شک میں مبتلا ہیں یا پھر ڈرتے ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول ان کے ساتھ زیادتی کریں گے؟ (نہیں) بلکہ یہ لوگ خود ظلم و زیادتی کرنے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کیا ان کے دلوں میں کوئی مرض ہے، یا وہ شک میں پڑگئے ہیں، یا ڈرتے ہیں کہ ان پر اللہ اوراس کا رسول ظلم کریں گے؟ بلکہ وہ خود ہی ظالم ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر سچے مومنوں کی شان بیان ہوتی ہے کہ ’ وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی تیسری چیز کو داخل دین نہیں سمجھتے۔ وہ تو قرآن و حدیث سنتے ہی، اس کی دعوت کی ندا کان میں پڑتے ہی صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا یہ کامیاب، بامراد اور نجات یافتہ لوگ ہیں ‘۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ جو بدری صحابی ہیں، انصاری ہیں، انصاروں کے ایک سردار ہیں، انہوں نے اپنے بھتیجے جنادہ بن امیہ سے بوقت انتقال فرمایا کہ ”آؤ مجھ سے سن لو کہ تمہارے ذمے کیا ہے؟ سننا اور ماننا سختی میں بھی آسانی میں بھی، خوشی میں بھی ناخوشی میں بھی، اس وقت بھی جب کہ تیرا حق دوسرے کو دیا جا رہا ہو، اپنی زبان کو عدل اور سچائی کے ساتھ سیدھی رکھ۔ کام کے اہل لوگوں سے کام کو نہ چھین، ہاں اگر کسی کھلی نافرمانی کا وہ حکم دیں تو نہ ماننا۔ کتاب اللہ کے خلاف کوئی بھی کہے ہرگز نہ ماننا۔ کتاب اللہ کی پیروی میں لگے رہنا۔“ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اسلام بغیر اللہ کی اطاعت کے نہیں اور بہتری جو کچھ ہے وہ جماعت کی، اللہ کی، اس کے رسول کی، خلیفۃ المسلمین کی اور عام مسلمانوں کی خیر خواہی میں ہے۔“ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اسلام کا مضبوط کڑا، اللہ کی وحدانیت کی گواہی، نماز کی پابندی، زکوٰۃ کی ادائیگی اور مسلمانوں کے بادشاہ کی اطاعت ہے۔“ جو احادیث و آثار کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے بارے میں اور مسلمان بادشاہوں کی ماننے کے بارے میں مروی ہیں وہ اس کثرت سے ہیں کہ سب یہاں کسی طرح بیان ہو ہی نہیں سکتیں۔ جو شخص اللہ اور رسول کا نافرمان بن جائے جو حکم ملے بجا لائے جس چیز سے روک دیں رک جائے جو گناہ ہو جائے اس سے خوف کھاتا رہے آئندہ کے لیے اس سے بچتا رہے ایسے لوگ تمام بھلائیوں کو سمیٹنے والے اور تمام برائیوں سے بچ جانے والے ہیں۔ دنیا اور آخرت میں وہ نجات یافتہ ہیں۔
50-1جب فیصلہ ان کے خلاف ہونے کا امکان ہوتا ہے تو اس سے اعراض و گریز کی وجہ بیان کی جا رہی ہے کہ یا تو ان کے دلوں میں کفر و نفاق کا روگ ہے یا انھیں نبوت محمدی میں شک ہے یا انھیں اس بات کا اندیشہ ہے کہ ان پر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ظلم کرے گا، حالانکہ ان کی طرف سے ظلم کا کوئی امکان ہی نہیں بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ خود ہی ظالم ہیں۔
(آیت 50){ اَفِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا …: ”حَافَ يَحِيْفُ حَيْفًا “} ظلم کرنا، یعنی آخر یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں فیصلہ لے جانے سے کیوں کتراتے ہیں؟ آیا اس لیے کہ ان کے دلوں میں کفر و نفاق کی بیماری ہے، یا اس لیے کہ انھیں پیغمبر کے سچا ہونے میں شک ہے، یا اس لیے کہ انھیں فکر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ لے جائیں گے تو ہم پر ظلم کیا جائے گا؟ ظاہر ہے کہ نہ تو انھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں شک ہے اور نہ انھیں یہ خوف ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غلط فیصلہ کرکے ان پر ظلم کریں گے (کیونکہ ایسا نہ پہلے کبھی ہوا نہ ہو گا) تو پھر بات یہی رہ جاتی ہے کہ ان کے دلوں ہی میں بیماری ہے، ظالم اور قصور وار یہ خود ہیں، یعنی جس شخص کا ان کے ذمے حق ہے اس کو دبانا چاہتے ہیں۔ (جامع البیان، فتح القدیر) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”دل میں روگ یہ کہ اللہ اور رسول کو سچ جانا لیکن حرص نہیں چھوڑتی کہ کہے پر چلیں، جیسے بیمار چاہتا ہے کہ چلے مگر پاؤں نہیں اٹھتے۔“ (موضح) اس سے معلوم ہوا کہ جو قاضی کتاب و سنت کے مطابق فیصلہ کرتا ہو اس کے سمن کو قبول کرنا واجب ہے اور اس سے کترانا اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے سے منہ موڑنا ہے، مگر جو قاضی کتاب و سنت سے بے خبر ہو اور اس نے کسی عالم و مجتہد کے آراء و اجتہادات کو جمع کر رکھا ہو اور اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہو تو اس کے پاس مقدمہ لے جانا اور اس کے سمن کو قبول کرنا ضروری نہیں، اس لیے کہ اس رائے پر عمل کرنا اس مجتہد کے لیے جائز تھا جس کی طرف وہ رائے منسوب ہے اور وہ بھی اس وقت تک جب تک اسے کتاب و سنت کا فیصلہ نہ پہنچا تھا، مگر کسی دوسرے کے لیے اس پر آنکھیں بند کرکے عمل کرنا اور اس کے مطابق لوگوں کے مقدمات کے فیصلے کرنا صحیح نہیں۔ (شوکانی)