بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النور — Surah Nur
آیت نمبر 41
کل آیات: 64
قرآن کریم النور آیت 41
آیت نمبر: 41 — سورۃ النور islamicurdubooks.com ↗
اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُسَبِّحُ لَہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ الطَّیۡرُ صٰٓفّٰتٍ ؕ کُلٌّ قَدۡ عَلِمَ صَلَاتَہٗ وَ تَسۡبِیۡحَہٗ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِمَا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۴۱﴾
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پر پھیلا ئے اڑ رہے ہیں؟ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے، اور یہ سب جو کچھ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین کی کل مخلوق اور پر پھیلائے اڑنے والے کل پرند اللہ کی تسبیح میں مشغول ہیں۔ ہر ایک کی نماز اور تسبیح اسے معلوم ہے، لوگ جو کچھ کریں اس سے اللہ بخوبی واقف ہے
کیا تم نے نہ دیکھا کہ اللہ کی تسبیح کرتے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پرندے پر پھیلائے سب نے جان رکھی ہے اپنی نماز اور اپنی تسبیح، اور اللہ ان کے کاموں کو جانتا ہے،
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ کی تسبیح کرتے ہیں اور پر پھیلائے ہوئے پرندے بھی ہر ایک اپنی اپنی (مخصوص) نماز و تسبیح کو جانتا ہے۔
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ، اس کی تسبیح کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پرندے پر پھیلائے ہوئے، ہر ایک نے یقینا اپنی نماز اور اپنی تسبیح جان لی ہے اور اللہ اسے خوب جاننے والا ہے جو وہ کرتے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ہر ایک تسبیح خوان ہے ٭٭

کل کے کل انسان، جنات، فرشتے اور حیوان یہاں تک کہ جمادات بھی اللہ کی تسبیح کے بیان میں مشغول ہیں۔ ایک اور جگہ ہے کہ «تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا» ۱؎ [17-الإسراء:44] ‏‏‏‏ ’ ساتوں آسمان اور سب زمینیں اور ان میں جو ہیں سب اللہ کی پاکیزگی کی بیان میں مشغول ہیں ‘۔ اپنے پروں سے اڑنے والے پرند بھی اپنے رب کی عبادت اور پاکیزگی کے بیان میں مشغول ہیں۔ ان سب کو جو جو تسبیح لائق تھی اللہ نے انہیں سکھا دی ہے، سب کو اپنی عبادت کے مختلف جداگانہ طریقے سکھا دئے ہیں اور اللہ پر کوئی کام مخفی نہیں، وہ عالم کل ہے۔ حاکم، متصرف، مالک، مختار کل، معبود حقیقی، آسمان و زمین کا بادشاہ صرف وہی ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کے حکموں کو کوئی ٹالنے والا نہیں۔ قیامت کے دن سب کو اسی کے سامنے حاضر ہونا ہے، وہ جو چاہے گا اپنی مخلوقات میں حکم فرمائے گا۔ برے لوگ برا بدلہ پائیں گے۔ نیک نیکیوں کا پھل حاصل کریں گے۔ خالق مالک وہی ہے، دنیا اور آخرت کا حاکم حقیقی وہی ہے اور اسی کی ذات لائق حمد و ثنا ہے۔

📖 احسن البیان

41-1یعنی اہل زمین و اہل آسمان، جس طرح اللہ کی اطاعت اور اس کی تسبیح کرتے ہیں، سب اس کے علم میں ہے، یہ گویا انسانوں اور جنوں کو تنبیہ ہے کہ تمہیں اللہ نے شعور اور ارادے کی آزادی دی ہے تو تمہیں تو دوسری مخلوقات سے زیادہ اللہ کی تسبیح وتحمید اور اس کی اطاعت کرنی چاہیئے۔ لیکن معاملہ اس کے برعکس ہے۔ دیگر مخلوقات تو تسبیح الٰہی میں مصروف ہیں۔ لیکن شعور اور ارادہ سے بہرہ ور مخلوق اس میں کوتاہی کا ارتکاب کرتی ہے۔ جس پر یقینا وہ اللہ کی گرفت کی مستحق ہوگی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 41) ➊ { اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} اس سے پہلی آیات میں یہ بتایا کہ آسمانوں اور زمین کو حسی اور معنوی نور سے روشن کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، ساتھ ہی مومنوں کے دلوں کے نور ایمان سے منور ہونے اور کفار کے دلوں کے تاریکیوں میں غوطے کھانے کی مثالیں بیان فرمائیں، اب آسمانوں اور زمین میں پھیلے ہوئے اس نور (توحید) کی طرف رہنمائی کرنے والے چند دلائل بیان فرمائے۔ ➋ { اَلَمْ تَرَ:} یہ بات تو صاف ظاہر ہے کہ زمین و آسمان میں موجود ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی نے بھی نہیں دیکھا، اس لیے یہاں {” اَلَمْ تَرَ “} سے مراد یہ نہیں کہ ”کیا تو نے نہیں دیکھا “ بلکہ مراد ہے {”أَلَمْ تَعْلَمْ“} یعنی کیا تجھے معلوم نہیں؟ جیسا کہ فرمایا: { اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ } [ الفیل: ۱ ] اس میں مخاطب اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں تو آپ پیدا ہی اس واقعہ کے بعد ہوئے ہیں، آپ کے اسے دیکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر ہر شخص اس کا مخاطب ہے تو ہر شخص کا اس واقعہ کو دیکھنا ممکن ہی نہیں، اس لیے وہاں بھی معنی {”أَلَمْ تَعْلَمْ“} ہے۔ دراصل اس لفظ سے پوچھنا نہیں بلکہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ کیا تمھیں یہ بات معلوم نہیں، اگر معلوم نہیں ہے تو اب جان لو، اور {” اَلَمْ تَرَ “} کا لفظ اس لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے بتانے سے حاصل ہونے والا علم خود دیکھنے سے حاصل ہونے والے علم کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ یقینی ہے۔ (شعراوی) ➌ یعنی کیا تمھیں معلوم نہیں کہ زمین و آسمان میں جو بھی موجود ہیں، یعنی جن، انسان، فرشتے، جانور، اڑتے ہوئے پرندے، حتیٰ کہ نباتات اور جمادات سب شہادت دیتے ہیں کہ ہمیں پیدا کرنے والا اور ساری کائنات کو کسی خرابی کے بغیر نہایت حُسن و خوبی سے چلانے والا ہر نقص اور ہر شریک سے پاک ہے۔ تو جب ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے تو انسان پر تو سب سے بڑھ کر اس کی تسبیح کرنا اور اس کی توحید کی شہادت دینا لازم ہے۔ کائنات کی ہر چیز کی یہ تسبیح زبان حال ہی سے نہیں زبان قال سے یعنی بول کر بھی ہے۔ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۴۴) اور سورۂ رعد (۱۳)۔ ➍ { وَ الطَّيْرُ صٰٓفّٰتٍ:} زمین و آسمان میں موجود ہر چیز کی تسبیح کے بعد پرندوں کی تسبیح کا الگ ذکر فرمایا، کیونکہ وہ اڑتے وقت نہ زمین پر ہوتے ہیں نہ آسمان میں، بلکہ ان کے درمیان معلق ہوتے ہیں، یہ پرندے بھی اللہ کے ہر نقص سے پاک ہونے کی گواہی دے رہے ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ ملک (۱۹)۔ ➎ { كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِيْحَهٗ:} اس سے معلوم ہوا کہ ان کی یہ تسبیح اتفاقی طور پر بے سوچے سمجھے نہیں، بلکہ سمجھ کر اور علم کی بنا پر ہے، جو اللہ تعالیٰ نے انھیں سکھایا اور ان کی طرف الہام کیا ہے۔ ➏ { وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ:} یعنی اللہ تعالیٰ ان کی تسبیح اور بندگی کو اور ان کے ہر عمل کو خوب جاننے والا ہے۔
← پچھلی آیت (40) پوری سورۃ اگلی آیت (42) →