بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النور — Surah Nur
آیت نمبر 43
کل آیات: 64
قرآن کریم النور آیت 43
آیت نمبر: 43 — سورۃ النور islamicurdubooks.com ↗
اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُزۡجِیۡ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیۡنَہٗ ثُمَّ یَجۡعَلُہٗ رُکَامًا فَتَرَی الۡوَدۡقَ یَخۡرُجُ مِنۡ خِلٰلِہٖ ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ جِبَالٍ فِیۡہَا مِنۡۢ بَرَدٍ فَیُصِیۡبُ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَصۡرِفُہٗ عَنۡ مَّنۡ یَّشَآءُ ؕ یَکَادُ سَنَا بَرۡقِہٖ یَذۡہَبُ بِالۡاَبۡصَارِ ﴿ؕ۴۳﴾
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے، پھر اس کے ٹکڑوں کو باہم جوڑتا ہے، پھر اسے سمیٹ کر ایک کثیف ابر بنا دیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے خول میں سے بارش کے قطرے ٹپکتے چلے آتے ہیں اور وہ آسمان سے، اُن پہاڑوں کی بدولت جو اس میں بلند ہیں، اولے برساتا ہے، پھر جسے چاہتا ہے ان کا نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان سے بچا لیتا ہے اُس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو خیرہ کیے دیتی ہے
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کو چلاتا ہے، پھر انہیں ملاتا ہے پھر انہیں تہہ بہ تہہ کر دیتا ہے، پھر آپ دیکھتے ہیں کہ ان کے درمیان میں سے مینہ برستا ہے۔ وہی آسمان کی جانب سے اولوں کے پہاڑ میں سے اولے برساتا ہے، پھر جنہیں چاہے ان کے پاس انہیں برسائے اور جن سے چاہے ان سے انہیں ہٹا دے۔ بادل ہی سے نکلنے والی بجلی کی چمک ایسی ہوتی ہے کہ گویا اب آنکھوں کی روشنی لے چلی
کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نرم نرم چلاتا ہے بادل کو پھر انہیں آپس میں مِلاتا ہے پھر انہیں تہہ پر تہہ کردیتا ہے تو تُو دیکھے کہ اس کے بیچ میں سے مینہ نکلتا ہے اور اتارتا ہے آسمان سے اس میں جو برف کے پہاڑ ہیں ان میں سے کچھ اولے پھر ڈالنا ہے انہیں جس پر چاہے اور پھیردیتا ہے انہیں جس سے چاہے قریب ہے کہ اس کی بجلی کی چمک آنکھ لے جائے
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے۔ پھر اس کے ٹکڑوں کو باہم ملاتا ہے۔ پھر اسے تہہ بہ تہہ کر دیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے درمیان سے بارش نکلواتا ہے اور وہ (اللہ) آسمان سے پہاڑوں کی شکل کے بادلوں سے برف یعنی اولے برساتا ہے پھر ان کو جس پر چاہتا ہے گرا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ہٹا دیتا ہے قریب ہے کہ اس کی بجلی کی چمک آنکھوں (کی بینائی) کو لے جائے۔
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ بادل کو چلاتا ہے، پھر اسے آپس میں ملاتا ہے، پھر اسے تہ بہ تہ کر دیتا ہے، پھر تو بارش کو دیکھتا ہے کہ اس کے درمیان سے نکل رہی ہے اور وہ آسمان سے ان پہاڑوں میں سے جو اس میں ہیں، کچھ اولے اتارتا ہے، پھر انھیں جس کے پاس چاہتا ہے پہنچا دیتا ہے اور انھیں جس سے چاہتا ہے پھیر دیتا ہے۔ قریب ہے کہ اس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو لے جائے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بادل مرحلہ وار ٭٭

پتلے دھوئیں جیسے بادل اول اول تو قدرت الٰہی سے اٹھتے ہیں پھر مل جل کر وہ جسیم ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے اوپر جم جاتے ہیں پھر ان میں سے بارش برستی ہے۔ ہوائیں چلتی ہیں، زمین کو قابل بناتی ہیں، پھر ابر کو اٹھاتی ہیں، پھر انہیں ملاتی ہیں، پھر وہ پانی سے بھر جاتے ہیں، پھر برس پڑتے ہیں۔ پھر آسمان سے اولوں کو برسانے کا ذکر ہے اس جملے میں پہلا «مِنِ» ابتداء غایت کا ہے، دوسرا تبعیض کا ہے، تیسرا بیان جنس کا ہے۔ یہ اس تفسیر کی بنا پر ہے کہ آیت کے معنی یہ کئے جائیں کہ اولوں کے پہاڑ آسمان پر ہیں۔ اور جن کے نزدیک یہاں پہاڑ کا لفظ ابر کے لیے بطور کنایہ ہے ان کے نزدیک «مِنِ» ثانیہ بھی ابتداء غایت کے لیے ہے لیکن وہ پہلے کا بدل ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس کے بعد کے جملے کا یہ مطلب ہے کہ بارش اور اولے جہاں اللہ برسانا چاہے، وہاں اس کی رحمت سے برستے ہیں اور جہاں نہ چاہے نہیں برستے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اولوں سے جن کی چاہے، کھیتیاں اور باغات خراب کر دیتا ہے اور جن پر مہربانی فرمائے انہیں بچالیتا ہے۔ پھر بجلی کی چمک کی قوت بیان ہو رہی ہے کہ قریب ہے وہ آنکھوں کی روشنی کھودے۔ دن رات کا تصرف بھی اسی کے قبضے میں ہے، جب چاہتا ہے دن کو چھوٹا اور رات کو بڑی کر دیتا ہے اور جب چاہتا ہے رات کو بڑی کر کے دن کو چھوٹا کر دیتا ہے۔ یہ تمام نشانیاں ہیں جو قدرت قادر کو ظاہر کرتی ہیں، اللہ کی عظمت کو آ شکارا کرتی ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لِآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ» ۱؎ [3-آل عمران:190] ‏‏‏‏ ’ آسمان و زمین کی پیدائش، رات دن کے اختلاف میں عقلمندوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 43) ➊ {اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُزْجِيْ سَحَابًا …: ” أَزْجٰي يُزْجِيْ “} نرمی کے ساتھ چلانا، ہانکنا، دھکیلنا۔ {” ألَّفَ يُؤَلِّفُ“} دو یا زیادہ چیزوں کو جوڑنا۔ بادل کو جوڑنے سے مراد اس کے ٹکڑوں کو جوڑنا ہے۔ {”رَكْمٌ“ } کہتے ہیں ایک چیز کو دوسری کے اوپر رکھنا۔{ ”رُكَامًا “} تہ بہ تہ۔ {”خِلاَلٌ“ ”خَلَلٌ“} کی جمع ہے، جیسے: {”جِبَالٌ“ ”جَبَلٌ“} کی جمع ہے۔ {”خَلَلٌ“} کا معنی شگاف، دراڑ اور سوراخ ہے۔ ➋ ہوائیں کئی کام سر انجام دیتی ہیں، اللہ تعالیٰ پہلے ہوائیں بھیجتا ہے، وہ زمین پر جھاڑو پھیر کر خوب صفائی کر دیتی ہیں، پھر مزید ہوائیں بھیجتا ہے، وہ بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں، تیسری ہوائیں بادلوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر تہ بہ تہ کر دیتی ہیں، پھر چوتھی ہوائیں انھیں برسانا شروع کر دیتی ہیں۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۵۷)، روم (۴۸) اور فاطر (۹)۔ یہ توحید کی دوسری دلیل ہے، یعنی اللہ تعالیٰ بادلوں کو چلاتا ہے، پھر انھیں جوڑ کر تہ بہ تہ کر دیتا ہے، پھر یہ بھی اس کا احسان ہے کہ تہ بہ تہ بادلوں میں موجود پانی کے ذخیرے کو قطروں کی صورت میں زمین پر گراتا ہے، جس سے مردہ زمین زندہ ہو جاتی ہے اور انسانوں، حیوانوں اور پودوں کو زندگی ملتی ہے۔ اگر وہ سیکڑوں ہزاروں مربع میل میں پھیلے ہوئے بادلوں کا کروڑوں اربوں ٹن پانی ایک ہی وقت میں زمین پر گرا دے تو نہ کوئی جان دار اس بوجھ کو برداشت کر سکے، نہ کوئی پودا اور نہ کوئی مکان باقی رہ جائے جس میں کوئی شخص سکونت اختیار کر سکے۔ ➌ { وَ يُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِيْهَا مِنْۢ بَرَدٍ:بَرَدٍ “} ”اولے۔“ زمین سے جیسے جیسے بلندی کی طرف جائیں ٹھنڈک بڑھتی چلی جاتی ہے اور بعض اوقات اللہ کے حکم سے بادل برف کے پہاڑوں کی صورت اختیار کر جاتے ہیں۔ اب یہ اللہ کا فضل ہے کہ برف کے ان پہاڑوں میں سے تودوں کی شکل میں برف گرانے کے بجائے وہ اسے اولوں کی شکل میں گراتا ہے، جس سے کم از کم نقصان ہوتا ہے اور یہ بھی اس کی قدرت کا ثبوت ہے کہ وہی سمندر ہے، وہی سورج ہے جس کی تپش سے پانی بخارات بن کر اٹھتا ہے، وہی زمین ہے جس پر برستا ہے، زمین کے ہر قطعے کا سمندر سے اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا پہلے تھا، پہاڑ جن سے ٹکرا کر سائنسدان بارش برسنے کا ذکر کرتے ہیں، وہ بھی اسی جگہ ہیں، سارے اسباب یکساں ہونے کے باوجود ہمیشہ ہر جگہ ایک جیسی نہ بارش ہوتی ہے، نہ اولے پڑتے ہیں۔ کسی جگہ اگر کبھی خوش حالی لانے والی بارش ہے تو کبھی وہاں قحط مسلط کرنے والی خشکی ہے، کبھی غرق کر دینے والا سیلاب ہے اور کبھی اولوں کی صورت میں تباہی و بربادی ہے، یہ سب کچھ اللہ مالک الملک کی توحید، اس کی قدرت اور اس کے اختیار کی دلیل ہے۔ ➍ { فَيُصِيْبُ بِهٖ مَنْ يَّشَآءُ وَ يَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ يَّشَآءُ:} اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیار کا ذکر فرمایا ہے کہ وہ ان اولوں کو جس پر برسانا چاہتا ہے برسا دیتا ہے اور جس سے ہٹانا چاہتا ہے ہٹا دیتا ہے، محکمہ موسمیات کے اندازے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ ➎ {يَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ يَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِ:سَنَا “} بروزن {” عَصَا “} چمک، روشنی اور {” سَنَاءٌ“} بروزن {”جَلاَءٌ“} بلندی اور رفعت شان۔ آیت کا یہ جملہ اس جملے کی طرح ہے جس میں فرمایا: «{ يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ }» [ البقرۃ: ۲۰ ] مزید دیکھیے سورۂ رعد (۱۲، ۱۳)۔
← پچھلی آیت (42) پوری سورۃ اگلی آیت (44) →