بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النور — Surah Nur
آیت نمبر 44
کل آیات: 64
قرآن کریم النور آیت 44
آیت نمبر: 44 — سورۃ النور islamicurdubooks.com ↗
یُقَلِّبُ اللّٰہُ الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَعِبۡرَۃً لِّاُولِی الۡاَبۡصَارِ ﴿۴۴﴾
رات اور دن کا الٹ پھیر وہی کر رہا ہے اِس میں ایک سبق ہے آنکھوں والوں کے لیے
اللہ تعالیٰ ہی دن اور رات کو ردوبدل کرتا رہتا ہے آنکھوں والوں کے لیے تو اس میں یقیناً بڑی بڑی عبرتیں ہیں
اللہ بدلی کرتا ہے رات اور دن کی بیشک اس میں سمجھنے کا مقام ہے نگاہ والوں کو،
اللہ رات دن کو ادلتا بدلتا رہتا ہے۔ بےشک اس میں آنکھوں والوں کیلئے (سامان) عبرت ہے۔
اللہ رات اور دن کو ادل بدل کرتا ہے، بے شک اس میں آنکھوں والوں کے لیے یقینا بڑی عبرت ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بادل مرحلہ وار ٭٭

پتلے دھوئیں جیسے بادل اول اول تو قدرت الٰہی سے اٹھتے ہیں پھر مل جل کر وہ جسیم ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے اوپر جم جاتے ہیں پھر ان میں سے بارش برستی ہے۔ ہوائیں چلتی ہیں، زمین کو قابل بناتی ہیں، پھر ابر کو اٹھاتی ہیں، پھر انہیں ملاتی ہیں، پھر وہ پانی سے بھر جاتے ہیں، پھر برس پڑتے ہیں۔ پھر آسمان سے اولوں کو برسانے کا ذکر ہے اس جملے میں پہلا «مِنِ» ابتداء غایت کا ہے، دوسرا تبعیض کا ہے، تیسرا بیان جنس کا ہے۔ یہ اس تفسیر کی بنا پر ہے کہ آیت کے معنی یہ کئے جائیں کہ اولوں کے پہاڑ آسمان پر ہیں۔ اور جن کے نزدیک یہاں پہاڑ کا لفظ ابر کے لیے بطور کنایہ ہے ان کے نزدیک «مِنِ» ثانیہ بھی ابتداء غایت کے لیے ہے لیکن وہ پہلے کا بدل ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس کے بعد کے جملے کا یہ مطلب ہے کہ بارش اور اولے جہاں اللہ برسانا چاہے، وہاں اس کی رحمت سے برستے ہیں اور جہاں نہ چاہے نہیں برستے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اولوں سے جن کی چاہے، کھیتیاں اور باغات خراب کر دیتا ہے اور جن پر مہربانی فرمائے انہیں بچالیتا ہے۔ پھر بجلی کی چمک کی قوت بیان ہو رہی ہے کہ قریب ہے وہ آنکھوں کی روشنی کھودے۔ دن رات کا تصرف بھی اسی کے قبضے میں ہے، جب چاہتا ہے دن کو چھوٹا اور رات کو بڑی کر دیتا ہے اور جب چاہتا ہے رات کو بڑی کر کے دن کو چھوٹا کر دیتا ہے۔ یہ تمام نشانیاں ہیں جو قدرت قادر کو ظاہر کرتی ہیں، اللہ کی عظمت کو آ شکارا کرتی ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لِآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ» ۱؎ [3-آل عمران:190] ‏‏‏‏ ’ آسمان و زمین کی پیدائش، رات دن کے اختلاف میں عقلمندوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں ‘۔

📖 احسن البیان

44-1یعنی کبھی دن بڑے، راتیں چھوٹی اور کبھی اس کے برعکس۔ یا کبھی دن کی روشنی، کو بادلوں کی تاریکیوں سے اور رات کے اندھیروں کو چاند کی روشنی سے بدل دیتا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 44){ يُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّيْلَ وَ النَّهَارَ …:} یہ اس بات کی تیسری دلیل ہے کہ اس کائنات کا مالک و مختار اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے اور اس کی ہدایت کی روشنی زمین و آسمان میں ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے، چنانچہ فرمایا، اللہ تعالیٰ رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے، نہ ہمیشہ دن رہتا ہے نہ رات۔ دیکھیے قصص (۷۱ تا ۷۳) پھر کبھی رات چھوٹی ہوتی ہے کبھی دن۔ دیکھیے لقمان (۲۹) واضح رہے کہ زمین پر زندہ رہنے کے جتنے اسباب موجود ہیں رات دن کے اسی الٹ پھیر کی بدولت ہیں، اگر ہمیشہ رات رہتی یا ہمیشہ دن رہتا تو کوئی چیز پیدا نہ ہو سکتی، یہ سب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا بنایا ہوا نظام ہے۔ رات دن کو یا اس نظام کو برا بھلا کہنے والا درحقیقت اللہ تعالیٰ کو برا بھلا کہتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ قَالَ اللّٰهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالٰي يُؤْذِيْنِي ابْنُ آدَمَ، يَقُوْلُ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ! فَلَا يَقُوْلَنَّ أَحَدُكُمْ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ! فَإِنِّيْ أَنَا الدَّهْرُ، أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَ نَهَارَهُ، فَإِذَا شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا ] [ مسلم، الألفاظ من الأدب وغیرھا، باب النہي عن سب الدھر: 2246/3 ] ”اللہ عز و جل فرماتا ہے، ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے، کہتا ہے، ہائے زمانے کی کم بختی! سو تم میں سے کوئی ہرگز یوں نہ کہے، ہائے زمانے کی کم بختی! اس لیے کہ میں ہی زمانہ ہوں، میں رات دن کو بدل بدل کر لاتا ہوں اور میں جب چاہوں گا دونوں کو سمیٹ لوں گا۔“
← پچھلی آیت (43) پوری سورۃ اگلی آیت (45) →