بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النور — Surah Nur
آیت نمبر 45
کل آیات: 64
قرآن کریم النور آیت 45
آیت نمبر: 45 — سورۃ النور islamicurdubooks.com ↗
وَ اللّٰہُ خَلَقَ کُلَّ دَآبَّۃٍ مِّنۡ مَّآءٍ ۚ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّمۡشِیۡ عَلٰی بَطۡنِہٖ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّمۡشِیۡ عَلٰی رِجۡلَیۡنِ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّمۡشِیۡ عَلٰۤی اَرۡبَعٍ ؕ یَخۡلُقُ اللّٰہُ مَا یَشَآءُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۴۵﴾
اور اللہ نے ہر جاندار ایک طرح کے پانی سے پیدا کیا، کوئی پیٹ کے بل چل رہا ہے تو کوئی دو ٹانگوں پر اور کوئی چار ٹانگوں پر جو کچھ وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے
تمام کے تمام چلنے پھرنے والے جانداروں کو اللہ تعالیٰ ہی نے پانی سے پیدا کیا ہےان میں سے بعض تو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں، بعض دو پاؤں پر چلتے ہیں۔ بعض چار پاؤں پر چلتے ہیں، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
اور اللہ نے زمین پر ہر چلنے والا پانی سے بنایا تو ان میں کوئی اپنے پیٹ پر چلتا ہے اور ان میں کوئی دو پاؤں پر چلتا ہے اور ان میں کوئی چار پاؤں پر چلتا ہے اللہ بناتا ہے جو چاہے، بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
اور اللہ ہی نے زمین پر چلنے والے ہر جاندار کو (ایک خاص) پانی سے پیدا کیا ہے تو ان میں سے کوئی پیٹ کے بل چلتا ہے۔ اور کوئی دو ٹانگوں پر چلتا ہے اور کوئی چار ٹانگوں پر۔ اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ بےشک اللہ ہر شئے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
اور اللہ نے ہر چلنے والا (جاندار) ایک قسم کے پانی سے پیدا کیا، پھر ان میں سے کوئی وہ ہے جو اپنے پیٹ پر چلتا ہے اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو دو پاؤں پر چلتا ہے اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو چار پر چلتا ہے، اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، یقینا اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ایک ہی پانی اور مختلف اجناس کی پیدائش ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی کامل قدرت اور زبردست سلطنت کا بیان فرماتا ہے کہ ’ اس نے ایک ہی پانی سے طرح طرح کی مخلوق پیدا کر دی ہے۔ سانپ وغیرہ کو دیکھو جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں۔ انسان اور پرند کو دیکھو ان کے دوپاؤں ہوتے ہیں۔ حیوانوں اور چوپاوں کو دیکھو وہ چار پاؤں پر چلتے ہیں، وہ بڑا قادر ہے جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے جو نہیں چاہتا ہرگز نہیں ہوسکتا، وہ قادر کل ہے ‘۔

📖 احسن البیان

45-1جس طرح سانپ، مچھلی اور دیگر حشرات الارض کیڑے مکوڑے ہیں۔ 45-2جیسے انسان اور پرند ہیں 45-3جیسے تمام چوپائے اور دیگر حیوانات ہیں۔ 45-4یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ بعض حیوانات ایسے بھی ہیں جو چار سے بھی زیادہ پاؤں رکھتے ہیں، جیسے کیکڑا، مکڑی اور بہت سے زمینی کیڑے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 45) ➊ { وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ انبیاء کی آیت (۳۰) یہ اس مقام پر توحید کی چوتھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چلنے والا (جان دار) پانی سے پیدا فرمایا، پھر ایک ہی چیز سے پیدا ہونے والے تمام جان دار زندگی کی پہلی حالت ہی میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں، کوئی اپنے پیٹ پر چلتا ہے جیسے سانپ، مچھلی اور بعض قسم کے کیڑے مکوڑے، کوئی دو پاؤں پر چلتا ہے جیسے انسان اور پرندے اور کوئی چار پاؤں پر چلتا ہے جیسے گائے، بھینس، گھوڑے اور دوسرے چوپائے اور درندے۔ ➋ {يَخْلُقُ اللّٰهُ مَا يَشَآءُ:} یعنی کسی جانور کو چاہے تو اس سے زیادہ پاؤں دے دیتا ہے، جیسے کنکھجورا، کیکڑا، مکڑی اور کئی قسم کے کیڑے اور سمندری مخلوق۔ یہ کائنات میں پھیلے ہوئے نور ہدایت ہی کا اظہار ہے، جسے دیکھ کر سعادت مند لوگ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لے آتے ہیں اور اس پر بھی کہ جب اللہ تعالیٰ جو چاہے پیدا فرما سکتا ہے، تو وہ قیامت کے روز دوبارہ زندہ بھی کرے گا۔ چلنے میں جانوروں کی ترتیب بھی قابل توجہ ہے، سب سے پہلے وہ جس کے پاؤں ہی نہیں، ان کے چلنے میں قدرت کا اظہار سب سے زیادہ ہے، پھر دو پاؤں پر چلنا چار پاؤں پر چلنے سے عجیب ہے۔ ➌ { اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ:} یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ جو چاہے پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
← پچھلی آیت (44) پوری سورۃ اگلی آیت (46) →