بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النور — Surah Nur
آیت نمبر 31
کل آیات: 64
قرآن کریم النور آیت 31
آیت نمبر: 31 — سورۃ النور islamicurdubooks.com ↗
وَ قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنٰتِ یَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِہِنَّ وَ یَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَہُنَّ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ لۡیَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوۡبِہِنَّ ۪ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا لِبُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اٰبَآئِہِنَّ اَوۡ اٰبَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اَبۡنَآئِہِنَّ اَوۡ اَبۡنَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اِخۡوَانِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ اِخۡوَانِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ اَخَوٰتِہِنَّ اَوۡ نِسَآئِہِنَّ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُنَّ اَوِ التّٰبِعِیۡنَ غَیۡرِ اُولِی الۡاِرۡبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفۡلِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یَظۡہَرُوۡا عَلٰی عَوۡرٰتِ النِّسَآءِ ۪ وَ لَا یَضۡرِبۡنَ بِاَرۡجُلِہِنَّ لِیُعۡلَمَ مَا یُخۡفِیۡنَ مِنۡ زِیۡنَتِہِنَّ ؕ وَ تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۳۱﴾
اور اے نبیؐ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اُس کے جو خود ظاہر ہو جائے، اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں وہ اپنا بناؤ سنگھار نہ ظاہر کریں مگر اِن لوگوں کے سامنے: شوہر، باپ، شوہروں کے باپ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے، اپنے میل جول کی عورتیں، ا پنے مملوک، وہ زیردست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں، اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں وہ ا پنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہو اس کا لوگوں کو علم ہو جائے اے مومنو، تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے
مسلمان عورتوں سے کہو کہ وه بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ﻇاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو ﻇاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں، اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ﻇاہر نہ کریں، سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں۔ اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیده زینت معلوم ہوجائے، اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ
اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور وہ دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں، اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹوں یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے یا اپنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی ملک ہوں یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگھار اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو! سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ،
اور (اے رسول(ص)) آپ مؤمن عورتوں سے کہہ دیجئے! کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاطت کریں اور اپنی زینت و آرائش کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہو اور چاہیے کہ وہ اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنی زیبائش و آرائش ظاہر نہ کریں سوائے اپنے شوہروں کے، یا اپنے باپ داداؤں کے، یا اپنے شوہروں کے باپ داداؤں کے، یا اپنے بیٹوں کے یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے، یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے (ہم مذہب) عورتوں کے یا اپنے غلاموں یا لونڈیوں کے یا اپنے نوکروں چاکروں کے جو جنسی خواہش نہ رکھتے ہوں۔ یا ان بچوں کے جو ابھی عورتوں کی پردہ والی باتوں سے واقف نہیں ہیں اور وہ اپنے پاؤں (زمین پر) اس طرح نہ ماریں کہ جس سے ان کی وہ زیبائش و آرائش معلوم ہو جائے جسے وہ چھپائے ہوئے ہیں۔ اے اہل ایمان! تم سب مل کر اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو۔ تاکہ تم فلاح پاؤ۔
اور مومن عورتوں سے کہہ دے اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو اس میں سے ظاہر ہو جائے اور اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں کے لیے، یا اپنے باپوں، یا اپنے خاوندوں کے باپوں، یا اپنے بیٹوں، یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں، یا اپنے بھائیوں، یا اپنے بھتیجوں، یا اپنے بھانجوں، یا اپنی عورتوں (کے لیے)، یا (ان کے لیے) جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں، یا تابع رہنے والے مردوں کے لیے جو شہوت والے نہیں، یا ان لڑکوں کے لیے جو عورتوں کی پردے کی باتوں سے واقف نہیں ہوئے اور اپنے پائوں (زمین پر) نہ ماریں، تاکہ ان کی وہ زینت معلوم ہو جو وہ چھپاتی ہیں اور تم سب اللہ کی طرف توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مومنہ عورتوں کو تاکید ٭٭

یہاں اللہ تعالیٰ مومنہ عورتوں کو چند حکم دیتا ہے تاکہ ان کے باغیرت مردوں کو تسکین ہو اور جاہلیت کی بری رسمیں نکل جائیں۔ مروی ہے کہ اسماء بنت مرثد رضی اللہ عنہا کا مکان بنوحارثہ کے محلے میں تھا، ان کے پاس عورتیں آتی تھیں اور دستور کے مطابق اپنے پیروں کے زیور، سینے اور بال کھولے آیا کرتی تھیں۔ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا یہ کیسی بری بات ہے؟ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ پس حکم ہوتا ہے کہ ’ مسلمان عورتوں کو بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھنی چاہئیں۔ سوا اپنے خاوند کے کسی کو بہ نظر شہوت نہ دیکھنا چاہیئے ‘۔ اجنبی مردوں کی طرف تو دیکھنا ہی حرام ہے خواہ شہوت سے ہو خواہ بغیر شہوت کے۔ ابوداؤد اور ترمذی میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیٹھی تھیں کہ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، یہ واقعہ پردے کی آیتیں اترنے کے بعد کا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ { پردہ کرلو }۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! وہ تو نابینا ہیں، نہ ہمیں دیکھیں گے، نہ پہچانیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم تو نابینا نہیں ہو کہ اس کو نہ دیکھو؟ } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4112،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ہاں بعض علماء نے بے شہوت نظر کرنا حرام نہیں کہا۔ ان کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ { عید والے دن حبشی لوگوں نے مسجد میں ہتھیاروں کے کرتب شروع کئے اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا آپ رضی اللہ عنہا دیکھ ہی رہی تھیں یہاں تک کہ جی بھر گیا اور تھک کر چلی گئیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:455] ‏‏‏‏ عورتوں کو بھی اپنی عصمت کا بچاؤ چاہیئے، بدکاری سے دور رہیں، اپنا آپ کسی کو نا دکھائیں۔ اجنبی غیر مردوں کے سامنے اپنی زینت کی کسی چیز کو ظاہر نہ کریں ہاں جس کاچھپانا ممکن ہی نہ ہو، اس کی اور بات ہے جیسے چادر اور اوپر کا کپڑا وغیرہ جنکا پوشیدہ رکھنا عورتوں کے لیے ناممکنات سے ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد چہرہ، پہنچوں تک کے ہاتھ اور انگوٹھی ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ یہی زینت کے وہ محل ہیں، جن کے ظاہر کرنے سے شریعت نے ممانعت کر دی ہے۔

جب کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں یعنی بالیاں ہار پاؤں کا زیور وغیرہ۔‏‏‏‏“ فرماتے ہیں ”زینت دو طرح کی ہے ایک تو وہ جسے خاوند ہی دیکھے جیسے انگوٹھی اور کنگن اور دوسری زینت وہ جسے غیر بھی دیکھیں جیسے اوپر کا کپڑا۔‏‏‏‏“ زہری رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”اسی آیت میں جن رشتہ داروں کا ذکر ہے ان کے سامنے تو کنگن دوپٹہ بالیاں کھل جائیں تو حرج نہیں لیکن اور لوگوں کے سامنے صرف انگوٹھیاں ظاہر ہو جائیں تو پکڑ نہیں“، اور روایت میں انگوٹھیوں کے ساتھ ہی پیر کے خلخال کا بھی ذکر ہے۔ ہوسکتا ہے کہ «مَا ظَهَرَ مِنْهَا» کی تفیسر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے منہ اور پہنچوں سے کی ہو۔ جیسے ابوداؤد میں ہے کہ { اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں کپڑے باریک پہنے ہوئے تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیر لیا اور فرمایا: { جب عورت بلوغت کو پہنچ جائے تو سوا اس کے اور اس کے یعنی چہرہ کے اور پہنچوں کے اس کا کوئی عضو دکھانا ٹھیک نہیں } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4104،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن یہ مرسل ہے۔ خالد بن دریک رحمۃاللہ علیہ اسے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں اور ان کا ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے ملاقات کرنا ثابت نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

عورتوں کو چاہیئے کہ اپنے دوپٹوں سے یا اور کپڑے سے بکل مار لیں تاکہ سینہ اور گلے کا زیور چھپا رہے۔ جاہلیت میں اس کا بھی رواج نہ تھا۔ عورتیں اپنے سینوں پر کچھ نہیں ڈالتیں تھیں بسا اوقات گردن اور بال چوٹی بالیاں وغیرہ صاف نظر آتی تھیں۔ ایک اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:59] ‏‏‏‏ ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے، اپنی بیٹیوں سے اور مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئیے کہ اپنی چادریں اپنے اوپر لٹکا لیا کریں تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں ‘۔ «خُمُرُ» «خِمَارٍ» کی جمع ہے «خِمَارٍ» کہتے ہیں ہر اس چیز کو جو ڈھانپ لے۔ چونکہ دوپٹہ سر کو ڈھانپ لیتا ہے اس لیے اسے بھی «خِمَارٍ» کہتے ہیں۔ پس عورتوں کو چاہے کہ اپنی اوڑھنی سے یا کسی اور کپڑے سے اپنا گلا اور سینہ بھی چھپائے رکھیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اللہ تعالیٰ ان عورتوں پر رحم فرمائے جنہوں نے شروع شروع ہجرت کی تھی کہ جب یہ آیت اتری انہوں نے اپنی چادروں کو پھاڑ کر دوپٹے بنائے۔ بعض نے اپنے تہمد کے کنارے کاٹ کر ان سے سر ڈھک لیا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4858] ‏‏‏‏ ایک مرتبہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس عورتوں نے قریش عورتوں کی فضیلت بیان کرنی شروع کی تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”ان کی فضیلت کی قائل میں بھی ہوں لیکن واللہ میں نے انصار کی عورتوں سے افضل عورتیں نہیں دیکھیں، ان کے دلوں میں جو کتاب اللہ کی تصدیق اور اس پر کامل ایمان ہے، وہ بیشک قابل قدر ہے۔‏‏‏‏“

سورۃ النور کی آیت «وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ» ۱؎ [24-النور:31] ‏‏‏‏ إلخ، جب نازل ہوئی اور ان کے مردوں نے گھر میں جا کر یہ آیت انہیں سنائی، اسی وقت ان عورتوں نے اس پر عمل کر لیا اور صبح کی نماز میں وہ آئیں تو سب کے سروں پر دوپٹے موجود تھے۔ گویا ڈول رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد ان مردوں کا بیان فرمایا جن کے سامنے عورت ہوسکتی ہے اور بغیر بناؤ سنگھار کے ان کے سامنے شرم وحیاء کے ساتھ آ جا سکتی ہے گو بعض ظاہری زینت کی چیزوں پر بھی ان کی نظر پڑ جائے۔ سوائے خاوند کے کہ اس کے سامنے تو عورت اپنا پورا سنگھار زیب زینت کرے۔ گو چچا اور ماموں بھی ذی محرم ہیں لیکن ان کا نام یہاں اس لیے نہیں لیا گیا کہ ممکن ہے وہ اپنے بیٹوں کے سامنے ان کے محاسن بیان کریں۔ اس لیے ان کے سامنے بغیر دوپٹے کے نہ آنا چاہیئے۔ پھر فرمایا تمہاری عورتیں یعنی مسلمان عورتوں کے سامنے بھی اس زینت کے اظہار میں کوئی حرج نہیں۔ اہل ذمہ کی عورتوں کے سامنے اس لیے رخصت نہیں دی گئی کہ بہت ممکن ہے وہ اپنے مردوں میں ان کی خوبصورتی اور زینت کا ذکر کریں۔ گو مومن عورتوں سے بھی یہ خوف ہے مگر شریعت نے چونکہ اسے حرام قرار دیا ہے اس لیے مسلمان عورتیں تو ایسا نہ کریں گی لیکن ذمی کافروں کی عورتوں کو اس سے کون سی چیز روک سکتی ہے؟ بخاری مسلم میں ہے کہ { کسی عورت کو جائز نہیں کہ دوسری عورت سے مل کر اس کے اوصاف اپنے خاوند کے سامنے اس طرح بیان کرے کہ گویا وہ اسے دیکھ رہا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5240] ‏‏‏‏

امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ”مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض مسلمان عورتیں حمام میں جاتی ہیں، ان کے ساتھ مشرکہ عورتیں بھی ہوتی ہیں۔ سنو کسی مسلمان عورت کو حلال نہیں کہ وہ اپنا جسم کسی غیر مسلمہ عورت کو دکھائے۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ بھی آیت «أَوْ نِسَائِهِنَّ» ۱؎ [سورۃ النور:31] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں فرماتے ہیں ”مراد اس سے مسلمان عورتیں ہیں تو ان کے سامنے وہ زینت ظاہر کر سکتی ہے جو اپنے ذی محرم رشتے داروں کے سامنے ظاہر کر سکتی ہے۔ یعنی گلا بالیاں اور ہار۔ پس مسلمان عورت کو ننگے سر کسی مشرکہ عورت کے سامنے ہونا جائز نہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ جب صحابہ بیت المقدس پہنچے تو ان کی بیویوں کے لیے دایہ یہودیہ اور نصرانیہ عورتیں ہی تھیں۔ پس اگر یہ ثابت ہو جائے تو محمول ہو گا ضرورت پر یا ان عورتوں کی ذلت پر۔ پھر اس میں غیر ضروری جسم کا کھلنا بھی نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ہاں مشرکہ عورتوں میں جو لونڈیاں باندیاں ہوں وہ اس حکم سے خارج ہیں۔ بعض کہتے ہیں غلاموں کا بھی یہی حکم ہے۔

ابوداؤد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس انہیں دینے کے لیے ایک غلام لے کر آئے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اسے دیکھ کر اپنے آپ کو اپنے دوپٹے میں چھپانے لگیں۔ لیکن چونکہ کپڑا چھوٹا تھا، سر ڈھانپتی تھیں تو پیر کھل جاتے تھے اور پیر ڈھانپتی تھیں تو سرکھل جاتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا: { بیٹی کیوں تکلیف کرتی ہو میں تو تمہارا والد ہوں اور یہ تمہارا غلام ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4106،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن عساکر کی روایت میں ہے کہ اس غلام کا نام عبداللہ بن مسعدہ تھا۔ یہ فزاری تھے۔ سخت سیاہ فام۔ سیدہ فاطمۃالزھرا رضی اللہ عنہا نے انہیں پرورش کرکے آزاد کر دیا تھا۔ صفین کی جنگ میں یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بہت مخالف تھے۔

مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا: { تم میں سے جس کسی کا مکاتب غلام ہو جس سے یہ شرط ہوگئی ہو کہ اتنا روپیہ دیدے تو تو آزاد، پھر اس کے پاس اتنی رقم بھی جمع ہوگئی ہو تو چاہیئے کہ اس سے پردہ کرے }}۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3928،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر بیان فرمایا کہ نوکر چاکر کام کاج کرنے والے ان مردوں کے سامنے جو مردانگی نہیں رکھتے عورتوں کی خواہش جنہیں نہیں۔ اس مطلب کے ہی وہ نہیں، ان کا حکم بھی ذی محرم مردوں کا ہے یعنی ان کے سامنے بھی اپنی زینت کے اظہار میں مضائقہ نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سست ہو گئے ہیں عورتوں کے کام کے ہی نہیں۔ لیکن وہ مخنث اور ہیجڑے جو بدزبان اور برائی کے پھیلانے والے ہوتے ہیں ان کا یہ حکم نہیں۔ جیسے کہ بخاری مسلم وغیرہ میں ہے کہ { ایک ایسا ہی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آیا تھا چونکہ اسے اسی آیت کے ماتحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے سمجھا اسے منع نہ کیا تھا۔ اتفاق سے اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے، اس وقت وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا بھائی عبداللہ سے کہہ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ جب طائف کو فتح کرائے گا تو میں تجھے غیلان کی لڑائی دکھاؤں گا کہ آتے ہوئے اس کے پیٹ پر چار شکنیں پڑتی ہیں اور واپس جاتے ہوئے آٹھ نظر آتی ہیں۔ اسے سنتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { خبردار ایسے لوگوں کو ہرگز نہ آنے دیا کرو۔ اس سے پردہ کر لو }}۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4324] ‏‏‏‏ چنانچہ اسے مدینے سے نکال دیا گیا۔ بیداء میں یہ رہنے لگا وہاں سے جمعہ کے روز آ جاتا اور لوگوں سے کھانے پینے کو کچھ لے جاتا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4107،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ چھوٹے بچوں کے سامنے ہونے کی اجازت ہے جو اب تک عورتوں کے مخصوص اوصاف سے واقف نہ ہوں۔ عورتوں پر ان کی للچائی ہوئی نظریں نہ پڑتی ہوں۔ ہاں جب وہ اس عمر کو پہنچ جائیں کہ ان میں تمیز آ جائے۔ عورتوں کی خوبیاں ان کی نگاہوں میں جچنے لگیں، خوبصورت بدصورت کا فرق معلوم کر لیں۔ پھر ان سے بھی پردہ ہے گو وہ پورے جوان نہ بھی ہوئے ہوں۔

بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لوگو! عورتوں کے پاس جانے سے بچو } پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ دیور جیٹھ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ تو موت ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5232] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ عورتیں اپنے پیروں کو زمین پر زور زور سے مار مار کر نہ چلیں ‘ جاہلیت میں اکثر ایسا ہوتا تھا کہ وہ زور سے پاؤں زمین پر رکھ کر چلتی تھیں تاکہ پیر کا زیور بجے۔ اسلام نے اس سے منع فرما دیا۔ پس عورت کو ہر ایک ایسی حرکت منع ہے جس سے اس کا کوئی چھپا ہوا سنگھار کھل سکے۔ پس اسے گھر سے عطر اور خوشبو لگا کر باہر نکلنا بھی ممنوع ہے۔ ترمذی میں ہے کہ { ہر آنکھ زانیہ ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2786،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے کہ { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ایک عورت خوشبو سے مہکتی ہوئی ملی۔ آپ نے اس سے پوچھا کیا تو مسجد سے آ رہی ہے؟ اس نے کہا ہاں فرمایا کیا تم نے خوشبو لگائی ہے؟ اس نے کہا ہاں! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں نے اپنے حبیب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { جو عورت اس مسجد میں آنے کے لیے خوشبو لگائے، اس کی نماز نا مقبول ہے جب کہ وہ لوٹ کر جنابت کی طرح غسل نہ کر لے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4174،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏‏‏‏ ترمذی میں ہے کہ { اپنی زینت کو غیر جگہ ظاہر کرنے والی عورت کی مثال قیامت کے اس اندھیرے جیسی ہے جس میں نور نہ ہو }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1167،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں عورتوں کو راستے میں ملے جلے چلتے ہوئے دیکھ کر فرمایا: { عورتو! تم ادھر ادھر ہو جاؤ، تمہیں بیچ راہ میں نہ چلنا چاہیئے }۔ یہ سن کر عورتیں دیوار سے لگ کر چلنے لگیں یہاں تک کہ ان کے کپڑے دیواروں سے رگڑتے تھے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5272،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ اے مومنو! میری بات پر عمل کرو، ان نیک صفتوں کو لے لو، جاہلیت کی بدخصلتوں سے رک جاؤ۔ پوری فلاح اور نجات اور کامیابی اسی کے لیے ہے جو اللہ کا فرمانبردار ہو، اس کے منع کردہ کاموں سے رک جاتا ہو، اللہ ہی سے ہم مدد چاہتے ہیں ‘۔

📖 احسن البیان

31-1یہاں پردے کے احکام میں توبہ کا حکم دینے میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ان احکام کی خلاف ورزی بھیتم کرتے رہے ہو، وہ چونکہ اسلام سے قبل کی باتیں ہیں، اس لئے اگر تم نے سچے دل سے توبہ کرلی اور ان احکام مذکورہ کے مطابق پردے کا صحیح اہتمام کرلیا تو لازمی کامیابی اور دنیا اور آخرت کی سعادت تمہارا مقدر ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 31) ➊ { وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ …:} عورتوں کو بھی اسی طرح اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم فرمایا جیسے مردوں کو یہ حکم دیا، مگر عورتوں پر مردوں کو نہ دیکھنے کی اتنی سختی نہیں جتنی مردوں پر عورتوں کے دیکھنے کے بارے میں ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنی چادر کے ساتھ مجھے پردے میں لیے ہو ئے تھے اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی، وہ (برچھوں کے ساتھ) کھیل رہے تھے، یہاں تک کہ میں ہی اکتا جاتی، تو ایک نو عمر لڑکی کا اندازہ کر لو جو کھیل دیکھنے کی شوقین ہو۔“ [ بخاري، النکاح، باب نظر المرأۃ إلی الحبش…: ۵۲۳۶ ] یعنی اندازہ لگا لو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے کتنی دیر کھڑے رہے ہوں گے۔ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنھا کو ان کے خاوند نے تیسری طلاق دے دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا: ”ام شریک کے گھر رہ کر عدت گزارو۔“ پھر فرمایا: ”اس عورت کے پاس میرے صحابہ کثرت سے آتے ہیں (کیونکہ وہ مال دار اور بہت مہمان نواز خاتون تھی)، اس لیے تم ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزارو، کیونکہ وہ نابینا آدمی ہے، تم اپنے کپڑے بھی نیچے رکھ سکو گی۔“ [ مسلم، الطلاق، باب المطلقۃ البائن لا نفقۃ لھا: 1480/38 ] ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر شہوانی خیال نہ ہو تو عورتیں مردوں کو دیکھ سکتی ہیں۔ پردے کا حکم عورتوں کو ہے، تاکہ مرد انھیں نہ دیکھیں، مردوں کو نہیں کہ عورتیں انھیں نہ دیکھیں۔ البتہ اگر شہوت کے ساتھ ہو تو عورتوں کو بھی مردوں کی طرف دیکھنا حرام ہے، جیسا کہ آیت سے ظاہر ہے۔ ➋ سنن ابی داؤد اور بعض دوسری کتب احادیث میں ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میمونہ رضی اللہ عنھا بھی تھیں تو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے اور یہ واقعہ ہمیں حجاب کا حکم ہونے کے بعد کا ہے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے حجاب کرو۔“ ہم نے کہا: ”یا رسول اللہ! کیا یہ نابینا نہیں کہ نہ ہمیں دیکھتا ہے، نہ ہمیں پہچانتا ہے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَ فَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا؟ أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ! ] [ أبوداوٗد، اللباس، باب في قولہ عزوجل: «و قل للمؤمنات …» ‏‏‏‏: ۴۱۱۲ ] ”تو کیا تم بھی اندھی ہو؟ کیا تم اسے نہیں دیکھتیں!“ اس حدیث سے عورتوں کا آنکھوں والے مردوں کو ہی نہیں نابینا مردوں کو دیکھنا بھی منع ثابت ہوتا ہے، مگر امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اس کی توجیہ یہ فرمائی ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کی خصوصیت ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنھا کو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر عدت گزارنے کا حکم دیا تھا۔ ہمارے ایک شیخ اس کی یہ توجیہ فرماتے تھے کہ نابینا آدمی اپنے ستر کا خیال نہیں رکھ سکتا، نہ اسے اپنا ستر کھلنے کا پتا چل سکتا ہے، اس لیے اس سے حجاب کا حکم دیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ روایت ثابت ہی نہیں، چنانچہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اس میں ایک راوی نبہان مولیٰ ام سلمہ ہے، اسے تقریب میں ”مقبول“ کہا گیا ہے اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تقریب کے مقدمہ میں خود فرمایا ہے کہ جس راوی کے متعلق وہ مقبول کہیں، اگر کسی حدیث میں اس کی متابعت ہو تو وہ مقبول ہے، ورنہ ”لین الحدیث“ ہے۔ اس لیے یہ روایت ضعیف ہے۔ [ ہدایۃ المستنیر بتخریج ابن کثیر ] ➌ { وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا:} چونکہ مردوں کے لیے عورتوں سے بڑا فتنہ کوئی نہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا تَرَكْتُ بَعْدِيْ فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَی الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ] [بخاري، النکاح، باب ما یتقي من شؤم المرأۃ…: ۵۰۹۶، عن أسامۃ بن زید رضی اللہ عنھما ] ”میں نے اپنے بعد مردوں پر کوئی فتنہ عورتوں سے زیادہ نقصان پہنچانے والا نہیں چھوڑا۔“ اس لیے اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کے علاوہ اپنی زینت چھپانے کا بھی حکم دیا، چنانچہ فرمایا کہ مومن عورتوں سے کہہ دے کہ (ان کے ایمان کا تقاضا ہے کہ) اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو اس میں سے ظاہر ہو جائے۔ زینت کا معنی جمال اور حسن ہے۔ یہ دو قسم کی ہے، ایک فطری حسن و جمال اور دوسری جو بناؤ سنگار، زیبائش و آرائش اور زیور وغیرہ سے حاصل ہوتی ہے۔ لباس بھی زینت ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ }» [ الأعراف: ۳۱ ] ”ہر نماز کے وقت اپنی زینت لے لو۔“ اس میں زینت کا معنی لباس ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ عورتیں اپنی کوئی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو خود ظاہر ہو جائے، یعنی انھیں اپنے بدن اور اس کے بناؤ سنگار میں سے کوئی چیز ظاہر کرنا جائز نہیں مگر وہ کپڑے جنھیں چھپایا جا ہی نہیں سکتا، یا وہ زینت جو کسی کام یا حرکت کی وجہ سے بے اختیار ظاہر ہو جائے۔ {”الصحيح المسبور من التفسير بالمأثور“} میں ہے: ”طبری نے صحیح اسانید کے ساتھ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: {” «‏‏‏‏وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا» قَالَ هِيَ الثِّيَابُ“} یعنی اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے کہ ”وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو اس میں سے ظاہر ہو جائے“ اس سے مراد کپڑے ہیں۔“ حاکم نے اسے روایت کیا اور اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ (مستدرک حاکم: ۲؍۳۹۷، ح: ۳۴۹۹) اور طبرانی (۹۱۱۶) نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ ہیثمی نے مجمع الزوائد (۷؍۸۲) میں فرمایا: ”طبرانی نے اسے کئی اسانید کے ساتھ مطول اور مختصر روایت کیا ہے، جن میں سے ایک سند کے راوی صحیحین (بخاری و مسلم) کے راوی ہیں۔“ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ {” اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا “} سے مراد چہرہ اور ہتھیلیاں ہیں، بلکہ انھوں نے اس کے ساتھ بالیاں، کنگن، انگوٹھی، سرمہ اور منہدی بھی شامل کر دی ہے اور یہ کہا ہے کہ عورتوں کا چہرہ اور ہتھیلیاں مع زیور و آرائش وہ زینت ہے جو عورتوں کے لیے اپنوں اور بیگانوں سب کے سامنے ظاہر کرنا جائز ہے۔ یہ لوگ دلیل کے طور پر ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول پیش کرتے ہیں کہ {” اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا “} سے مراد چہرہ اور ہتھیلیاں ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ یہ لوگ نہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول پورا پیش کرتے ہیں اور نہ پردے کے متعلق ان کے دوسرے اقوال پیش نظر رکھتے ہیں۔ چہرے کے پردے کے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنھما کا موقف طبری نے مشہور حسن سند (علی بن ابی طلحہ عن ابن عباس) کے ساتھ بیان کیا ہے، لطف یہ ہے کہ {” اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا “} کی تفسیر جو چہرے کے پردے کے منکر ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نا مکمل بیان کرتے ہیں، وہ بھی اسی سند کے ساتھ مروی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «{ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ۠ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا }» [ الأحزاب: ۵۹ ] (اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے آپ پر لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انھیں تکلیف نہ پہنچائی جائے اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: [ أَمَرَ اللّٰهُ نِسَاءَ الْمُؤْمِنِيْنَ إِذَا خَرَجْنَ مِنْ بُيُوْتِهِنَّ فِيْ حَاجَةٍ أَنْ يُّغَطِّيْنَ وُجُوْهَهُنَّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِنَّ بِالْجَلَابِيْبِ وَ يُبْدِيْنَ عَيْنًا وَاحِدَةً ] [ طبري:۲۸۸۸۰] ”اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی کام کے لیے گھروں سے باہر نکلیں تو اپنے چہروں کو اپنے سروں کے اوپر سے بڑی چادروں کے ساتھ ڈھانپ لیں اور ایک آنکھ کھلی رکھیں۔“ ایسا شخص جو گھر سے باہر نکلتے ہوئے مومن عورتوں کے لیے صرف ایک آنکھ کھلی رکھنے کو اللہ کا حکم قرار دیتا ہے وہ عورتوں کے لیے چہرے اور ہاتھوں کو اپنوں اور بیگانوں کے سامنے کھلا رکھنے کی اجازت کیسے دے سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنھم کے موقف میں کوئی اختلاف نہیں۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے {” اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا “} کی تفسیر اجنبیوں کے اعتبار سے فرمائی ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنھما نے{ ” اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا “ } کی تفسیر اپنے لوگوں کے اعتبار سے فرمائی ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ ہے کہ اجنبیوں کے سامنے ظاہری کپڑوں کے سوا کوئی زینت ظاہر نہ کریں اور ابن عباس رضی اللہ عنھما کا مطلب یہ ہے کہ ”زینت ظاہرہ“ (چہرہ اور ہاتھ) خاوند کے علاوہ اپنے محرموں کے سامنے بھی ظاہر کر سکتی ہیں، جس میں سرمہ، منہدی، بالیاں، کنگن، ہار سب کچھ شامل ہے۔ ان محرموں کا بیان آگے فرما دیا: «{ وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىِٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىِٕهِنَّ۠ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِيْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِيْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآىِٕهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ }» [ النور: ۳۱ ] البتہ زینت باطنہ (پیٹ، سینہ، ران اور مخفی حصے) صرف خاوند کے سامنے ظاہر کر سکتی ہیں۔ اب آپ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی ” اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا “ کی مکمل تفسیر پڑھیں، جس کا صرف شروع کا حصہ بیان کیا جاتا ہے۔ طبری نے (علی بن ابی طلحہ عن ابن عباس سے) حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ آیت: «{ وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا }» کے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [ وَالزِّيْنَةُ الظَّاهِرَةُ: الْوَجْهُ وَ كُحْلُ الْعَيْنِ وَ خِضَابُ الْكَفِّ وَ الْخَاتَمُ، فَهٰذِهِ تَظْهَرُ فِيْ بَيْتِهَا لِمَنْ دَخَلَ مِنَ النَّاسِ عَلَيْهَا ] [ طبري: ۲۶۱۷۰ ] ”زینت ظاہرہ سے مراد چہرہ، آنکھ کا سرمہ، ہتھیلی کی منہدی اور انگوٹھی ہے، چنانچہ وہ یہ چیزیں اپنے گھر میں ان لوگوں کے سامنے ظاہر کر سکتی ہے جو اس کے پاس اندر آتے ہیں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنھما پر اس سے بڑا ظلم کیا ہو گا کہ وہ یہ زینت گھر کے اندر اپنے لوگوں کے سامنے ظاہر کرنے کی بات کر رہے ہیں اور یہ حضرات سرمہ و منہدی، گلے کے ہار اور کنگن اور انگوٹھی سمیت چہرے اور ہتھیلیوں کو اپنوں اور بیگانوں سب کے سامنے کھلا رکھنے کو ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول قرار دے رہے ہیں۔ [ فَیَا لِلْعَجَبِ وَلِضَیْعَۃِ الْأَدَبِ ] ➍ اب قرآن مجید اور احادیث و آثار سے چہرے کے پردے کے چند دلائل بیان کیے جاتے ہیں: (1) سب سے پہلے زیر تفسیر آیت ہی کو دیکھیں، اس میں {” وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا “} کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «{ وَ لْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ }» ”اور اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں“ گریبان پر پہلے ہی قمیص کا کپڑا موجود ہوتا ہے، اس کے باوجود اس پر اوڑھنی کا حکم دیا ہے، اب چہرے کے پردے کے منکر خود ہی غور فرمائیں کہ عورت کے حسن و جمال کے اصل مرکز چہرے کو مع سرمہ و زیور تو کھلا رکھنے کی اجازت دے دی گئی جو مرد کے لیے سراسر فتنہ ہے اور سینہ جس پر قمیص بھی تھی اسے مزید اوڑھنی کے ساتھ ڈھانکنے کا حکم دیا گیا۔ (2) طبری نے اپنی حسن سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ کے طریق سے ابن عباس رضی اللہ عنھما کا ایک قول نقل کیا ہے جو اللہ کے فرمان {” اَوِ التّٰبِعِيْنَ غَيْرِ اُولِي الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ “} کے متعلق ہے، ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں: [ فَهٰذَا الرَّجُلُ يَتْبَعُ الْقَوْمَ وَهُوَ مُغَفَّلٌ فِيْ عَقْلِهِ لَا يَكْتَرِثُ لِلنِّسَاءِ وَلَا يَشْتَهِيْهِنَّ فَالزِّيْنَةُ الَّتِيْ تُبْدِيْهَا لِهٰؤُلَاءِ قُرْطَاهَا وَ قِلَادَتُهَا وَ سِوَارُهَا وَ أَمَّا خَلْخَالُهَا وَ مِعْضَدَاهَا وَ نَحْرُهَا وَ شَعْرُهَا فَإِنَّهَا لَا تُبْدِيْهِ إِلَّا لِزَوْجِهَا ] [ طبري: ۲۶۱۹۴ ] ”تو یہ وہ آدمی ہے جو کچھ لوگوں کے ساتھ رہتا ہے اور وہ عقل کا بدھو ہے، نہ اسے عورتوں کی پروا ہے نہ ان سے کوئی جنسی حاجت، تو وہ زینت جو ان لوگوں کے سامنے کھول سکتی ہے وہ اس کی بالیاں، ہار اور کنگن ہیں، رہی اس کی پازیب، بازو، سینہ اور بال تو وہ صرف خاوند کے سامنے کھول سکتی ہے۔“ (3) {” وَ لَا يَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِيْنَ مِنْ زِيْنَتِهِنَّ “} میں پاؤں کو زور سے زمین پر مارنے سے منع کیا کہ مردوں کو ان کے زیور کی آواز سے شہوانی خیال پیدا نہ ہو۔ اب ایک عورت جو معلوم نہیں جوان ہے یا بوڑھی، خوبصورت ہے یا بدصورت، اس کی پازیب کی آواز دلوں میں خرابی پیدا کرتی ہے اور اسے چھپائے رکھنے کا حکم ہے، تو چہرہ جس پر کسی عورت کے خوبصورت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ ہوتا ہے، وہ کھلا رکھنا کیسے جائز ہو گیا؟ (4) «{ ٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا }» [ الأحزاب: ۵۹ ] ”اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے آپ پر لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انھیں تکلیف نہ پہنچائی جائے۔“ اس آیت کی تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنھما سے اوپر گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب کسی کام کے لیے گھروں سے باہر نکلیں تو اپنے چہروں کو اپنے سروں کے اوپر سے بڑی چادروں کے ساتھ ڈھانپ لیں اور ایک آنکھ کھلی رکھیں (اگر راستہ وغیرہ دیکھنے کی ضرورت ہو، ورنہ وہ بھی نہیں)۔ اس آیت سے استدلال کی مزید تفصیل کے لیے سورۂ احزاب ملاحظہ فرمائیں۔ (5) «{ وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِيْ لَا يَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ يَّضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِيْنَةٍ وَ اَنْ يَّسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَّهُنَّ وَ اللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ }» ‏‏‏‏ [ النور: ۶۰ ] ”اور عورتوں میں سے بیٹھ رہنے والیاں، جو نکاح کی امید نہیں رکھتیں، سو ان پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے کپڑے اتار دیں، جب کہ وہ کسی قسم کی زینت ظاہر کرنے والی نہ ہوں اور یہ بات کہ (اس سے بھی) بچیں ان کے لیے زیادہ اچھی ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔“ استدلال کی تفصیل کے لیے اس آیت کی تفسیر دیکھیے۔ (6) «{ لَا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ فِيْۤ اٰبَآىِٕهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآىِٕهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآىِٕهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ وَ اتَّقِيْنَ اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدًا }» [ الأحزاب:۵۵ ] ”ان (عورتوں) پر کوئی گناہ نہیں اپنے باپوں (کے سامنے آنے) میں اور نہ اپنے بیٹوں کے اور نہ اپنے بھائیوں کے اور نہ اپنے بھتیجوں کے اور نہ اپنے بھانجوں کے اور نہ اپنی عورتوں کے اور نہ ان (کے سامنے آنے) میں جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ ہیں اور (اے عورتو!) اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح شاہد ہے۔“ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو اجنبیوں سے حجاب کا حکم دیا تو وضاحت فرما دی کہ ان اقارب سے حجاب نہیں، جیسا کہ سورۂ نور کی آیت (۳۱): «‏‏‏‏وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىِٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىِٕهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِيْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِيْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآىِٕهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِيْنَ غَيْرِ اُولِي الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِيْنَ لَمْ يَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ» ‏‏‏‏ میں وضاحت فرمائی ہے، جب ان اقارب سے پردہ نہ کرنے میں گناہ نہیں تو معلوم ہوا کہ اجنبیوں سے پردہ نہ کرنے میں گناہ ہے۔“ (7) احادیث سے بھی عورتوں کے لیے پردے کا حکم ثابت ہے، یہاں چند احادیث درج کی جاتی ہیں، اس سے پہلے صحیح بخاری میں سے عائشہ رضی اللہ عنھا کی لمبی حدیث بیان ہو چکی ہے، جس میں وہ فرماتی ہیں کہ صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ لشکر کے پیچھے تھے، وہ صبح کے وقت جب اس جگہ پہنچے جہاں میں لیٹی ہوئی تھی، تو اس نے ایک سویا ہوا انسان دیکھا، پھر جب وہ میرے پاس آئے، تو اس نے مجھے پہچان لیا، کیونکہ وہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے مجھے دیکھ چکے تھے، تو میں نے اپنی بڑی چادر کے ساتھ اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔ [ بخاري: ۲۶۶۱ ] یہ حدیث صاف دلیل ہے کہ اگر حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے انھوں نے ام المومنین کو نہ دیکھا ہوتا تو وہ کبھی نہ پہچان سکتے، کیونکہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد انھیں دیکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ (8) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عورتوں کو عید کے لیے نکلنے کا حکم دیا تو انھوں نے کہا: [ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِحْدَانَا لَيْسَ لَهَا جِلْبَابٌ، قَالَ لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا ] [ بخاري، الصلاۃ، باب وجوب الصلاۃ في الثیاب: ۳۵۱ ] ”یا رسول اللہ! ہم میں سے کسی کے پاس بڑی چادر نہیں ہوتی؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی بہن اسے پہننے کے لیے کوئی اپنی بڑی چادر دے دے۔“ اگر پردہ فرض نہ ہوتا تو ان کے سوال کا جواب تھا کہ دوپٹا ہی کافی ہے، بڑی چادر کی ضرورت نہیں۔ (9) عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: ”اونٹوں کے سوار ہمارے پاس سے گزرتے، جب کہ ہم احرام کی حالت میں ہوتیں، تو جب وہ ہمارے برابر آتے تو ہم میں سے ہر ایک اپنی بڑی چادر سر سے چہرے پر لٹکا لیتی، جب گزر جاتے تو ہم اسے ہٹا دیتیں۔“ [ أبوداوٗد، المناسک، باب في المحرمۃ تغطي وجھھا: ۱۸۳۳ ] عبد المحسن العباد نے ابوداؤد کی شرح میں فرمایا: ”اس حدیث میں ایک راوی پر کلام کیا گیا ہے، اسی لیے البانی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف ابی داؤد میں ذکر کیا ہے، لیکن انھوں نے ”مشکوٰۃ“ میں اسے ”حسن“ کہا ہے اور ”حجاب المرأۃ المسلمۃ“ میں بھی حسن کہا ہے اور اسماء رضی اللہ عنھا سے ایک صحیح سند کے ساتھ اس کا شاہد بھی ہے، چنانچہ یہ حدیث اپنے شواہد کی وجہ سے صحیح ہے۔“ تو احرام کی حالت میں، جب نقاب پہننا منع ہے، اگر پردہ واجب نہ ہوتا تو وہ چہرے پر چادریں کیوں لٹکاتیں؟ ➎ اب ان لوگوں کے دلائل ملاحظہ فرمائیں جو چہرے اور ہتھیلیوں کے پردے کو واجب نہیں مانتے، ان کی سب سے بڑی دلیل قرآن مجید کے الفاظ {” اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا “} کی ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی تفسیر ہے کہ اس سے مراد چہرہ اور ہتھیلیاں ہیں اور صحابی کی تفسیر حجت ہے۔ابن عباس رضی اللہ عنھما کا پورا قول اور اس کی وضاحت اوپر گزر چکی ہے، ابن عباس رضی اللہ عنھما نے محرم رشتہ داروں کے سامنے چہرہ اور ہاتھ کھولنے کی بات فرمائی ہے نہ کہ اجنبیوں کے سامنے اور اگر کسی کو اصرار ہو کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سب لوگوں کے سامنے عورت کا چہرہ اور ہتھیلیاں کھلی رکھنے کے قائل ہیں، تو یاد رہے کہ کسی صحابی کی تفسیر اسی وقت حجت ہوگی جب دوسرے کسی صحابی نے اس کے خلاف تفسیر نہ کی ہو۔ یہاں ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اجنبیوں کے سامنے صرف کپڑوں کا ظاہر ہو جانا جائز رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کا حکم ہے: «‏‏‏‏فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ» [ النساء: ۵۹ ] ”پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ۔“ یعنی تنازع کے وقت کسی کی بات بھی حجت نہیں رہتی، اس وقت صرف اللہ اور اس کے رسول کی بات حجت ہوتی ہے اور قرآن و سنت کی رو سے غیر محرم مردوں سے چہرے اور ہاتھوں کا پردہ واجب ہے، جیسا کہ آپ اس سے پہلے پڑھ چکے ہیں۔ ان حضرات کی دوسری دلیل عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی سنن ابی داؤد کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سالی اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنھما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور انھوں نے باریک کپڑے پہنے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے رخ پھیر لیا اور فرمایا: [ يَا أَسْمَاءُ! إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِيْضَ لَمْ يَصْلُحْ لَهَا أَنْ يُّرَی مِنْهَا إِلَّا هٰذَا وَ هٰذَا ] [ أبوداوٗد، اللباس، باب فیما تبدی المرأۃ من زینتھا: ۴۱۰۴ ] ”اسماء! عورت جب بلوغت کو پہنچ جائے تو (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ) اس کے سوا اور اس کے سوا اس کی کوئی چیز نظر آنا درست نہیں۔“ اس حدیث سے عورت کا غیر محرم کے سامنے چہرہ اور ہتھیلیاں ظاہر کرنا جائز ثابت ہوا۔ اس دلیل کے متعلق عبد المحسن العباد نے ابوداؤد کی شرح میں فرمایا ہے: ”یہ حدیث صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس میں انقطاع ہے (خود امام ابوداؤد نے فرمایا ہے کہ خالد بن دریک نے عائشہ رضی اللہ عنھا سے نہیں سنا) اور اس میں سعید بن بشیر ضعیف ہے، پھر اس میں ولید کی تدلیس ہے اور اس کے متن میں بھی نکارت ہے، کیونکہ یہ بات بہت بعید ہے کہ اسماء بڑی عمر میں باریک کپڑوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئیں، کیونکہ ہجرت کے وقت ان کی عمر ستائیس برس تھی۔“ محمد بن صالح بن عثیمین نے بھی ”رسالۃ ا
← پچھلی آیت (30) پوری سورۃ اگلی آیت (32) →