بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النور — Surah Nur
آیت نمبر 4
کل آیات: 64
قرآن کریم النور آیت 4
آیت نمبر: 4 — سورۃ النور islamicurdubooks.com ↗
وَ الَّذِیۡنَ یَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ثُمَّ لَمۡ یَاۡتُوۡا بِاَرۡبَعَۃِ شُہَدَآءَ فَاجۡلِدُوۡہُمۡ ثَمٰنِیۡنَ جَلۡدَۃً وَّ لَا تَقۡبَلُوۡا لَہُمۡ شَہَادَۃً اَبَدًا ۚ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ۙ﴿۴﴾
اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں، ان کو اسی کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو، اور وہ خود ہی فاسق ہیں
جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر چار گواه نہ پیش کرسکیں تو انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ یہ فاسق لوگ ہیں
اور جو پارسا عورتوں کو عیب لگائیں پھر چار گواہ معائنہ کے نہ لائیں تو انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور ان کی گواہی کبھی نہ مانو اور وہی فاسق ہیں،
اور جو لوگ پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں اور پھر چار گواہ پیش نہ کریں تو انہیں اسّی (۰۸) کوڑے لگاؤ اور کبھی ان کی کوئی گواہی قبول نہ کرو اور یہ لوگ فاسق ہیں۔
اور وہ لوگ جو پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ نہ لائیں تو انھیں اسی (۸۰) کوڑے مارو اور ان کی کوئی گواہی کبھی قبول نہ کرو اور وہی نافرمان لوگ ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

تہمت لگانے والے مجرم ٭٭

جو لوگ کسی عورت پر یا کسی مرد پر زناکاری کی تہمت لگائیں اور ثبوت نہ دے سکیں، تو انہیں اسی کوڑے لگائے جائیں گے، ہاں اگر شہادت پیش کر دیں تو حد سے بچ جائیں گے اور جن پر جرم ثابت ہوا ہے ان پر حد جاری کی جائے گی۔ اگر شہادت نہ پیش کر سکے تو اسی کوڑے بھی لگیں گے اور آئندہ کیلئے ہمیشہ ان کی شہادت غیر مقبول رہے گی اور وہ عادل نہیں بلکہ فاسق سمجھے جائیں گے۔ اس آیت میں جن لوگوں کو مخصوص اور مستثنیٰ کر دیا ہے تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ استثنا صرف فاسق ہونے سے ہے یعنی بعد از توبہ وہ فاسق نہیں رہیں گے، بعض کہتے ہیں نہ فاسق رہیں گے نہ مردود الشہادۃ بلکہ پھر ان کی شہادت بھی لی جائے گی۔ ہاں حد جو ہے وہ توبہ سے کسی طرح ہٹ نہیں سکتی۔ امام مالک، احمد اور شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب تو یہ ہے کہ توبہ سے شہادت کا مردود ہونا اور فسق ہٹ جائے گا۔ سید التابعین سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ اور سلف کی ایک جماعت کا یہی مذہب ہے، لیکن امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں صرف فسق دور ہو جائے گا لیکن شہادت قبول نہیں ہوسکتی۔ بعض اور لوگ بھی یہی کہتے ہیں۔ شعبی اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہ اگر اس نے اس بات کا اقرار کر لیا کہ اسے بہتان باندھا تھا اور پھر توبہ بھی پوری کی تو اس کی شہادت اس کے بعد مقبول ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

📖 احسن البیان

4-1اس میں (بہتان تراشی) کی سزا بیان کی گئی ہے کہ جو شخص کسی پاک دامن عورت یا مرد پر زنا کی تہمت لگائے اس طرح جو عورت کسی پاک دامن مرد یا عورت پر زنا کی تہمت لگائے اور بطور ثبوت چار گواہ پیش نہ کرسکے تو اس کے لئے تین حکم بیان کئے گئے ہیں -1 انھیں اسی کوڑے لگائے جائیں -2 ان کی شہادت قبول نہ کی جائے -3 وہ عند اللہ و عندالناس فاسق ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 4) ➊ { وَ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ:الْمُحْصَنٰتِ “} سے مراد پاک دامن عورتیں ہیں، کنواری ہوں یا شادی شدہ۔ ان پر تہمت لگانے سے مراد زنا کی تہمت ہے، کیونکہ ”پاک دامن عورتوں“ کا لفظ قرینہ ہے کہ ان پر تہمت پاک دامن نہ ہونے ہی کی ہے۔اس کے علاوہ چار گواہوں کی شہادت بھی دلیل ہے کہ مراد زنا کی تہمت ہے، اگر کوئی شخص کسی پر چوری یا شراب نوشی یا کفر وغیرہ کی تہمت لگائے تو اس پر حد قذف نافذ نہیں کی جائے گی، بلکہ حاکم کی صواب دید کے مطابق تعزیر ہو گی۔ اگرچہ یہاں ذکر پاک دامن عورتوں کا ہے مگر اس میں پاک دامن مرد بھی شامل ہیں، ان پر بہتان لگانے والوں پر بھی یہی حد لاگو ہو گی، کیونکہ جس علت کی بنا پر پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی حد مقرر کی گئی ہے وہی علت پاک دامن مردوں پر تہمت لگانے میں بھی موجود ہے۔ اس لیے پوری امت کا اجماع ہے کہ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی حد پاک دامن مرد پر تہمت لگانے والے پر بھی نافذ کی جائے گی۔ یہاں عورتوں کا ذکر اس لیے ہے کہ ان پر تہمت زیادہ تکلیف دہ اور باعث عار ہوتی ہے اور اس لیے بھی کہ آگے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا پر تہمت کا ذکر آ رہا ہے۔ ➋ جو شخص کسی پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت لگائے اس سے مطالبہ کیا جائے گا کہ اپنے دعوے کے ثبوت کے لیے چار مسلمان عادل مرد گواہ پیش کرے۔ (دیکھیے نساء: ۱۵) دوسرے کسی جرم کے ثبوت کے لیے چار گواہ مقرر نہیں کیے گئے۔ اگر کسی شخص نے کسی کو زنا کرتے ہوئے اپنی آنکھوں سے بھی دیکھا ہے تو اگر اس کے پاس مزید تین گواہ نہیں تو اسے اجازت نہیں کہ اس کا ذکر کرے، بلکہ اسے خاموش رہنے کا حکم ہے، تاکہ وہ گندگی جہاں ہے وہیں تک محدود رہے، معاشرے میں لوگوں کے ناجائز تعلقات کے چرچے نہ ہوں، کیونکہ اس سے بے شمار برائیاں پھیلتی ہیں، ماحول میں زنا کا تذکرہ اسے پھیلانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ کوئی شخص اگر چھپ کر زنا کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا اتنا نقصان نہیں جتنا زنا کی اشاعت (بے حیائی کی بات پھیلانے) سے معاشرے کا نقصان ہوتا ہے۔ ہاں، اگر کوئی شخص اتنی دیدہ دلیری سے زنا کرتا ہے کہ چار مرد اسے عین حالت زنا میں دیکھتے ہیں تو انھیں اجازت ہے کہ اسے حاکم کے پاس لے جائیں، تاکہ وہ اس پر حد نافذ کرکے اس خبیث فعل کی روک تھام کرے۔ ایک طرف زنا کی سخت ترین حد مقرر فرمائی، دوسری طرف لوگوں کی عزتوں کی حفاظت اور ان کی کمزوریوں پر پردے کے لیے حکم دیا کہ جو شخص کسی پاک دامن پر زنا کا الزام لگائے، پھر چار گواہ پیش نہ کرے تو اسے بہتان کی حد لگاؤ۔ بہتان لگانے والا مرد ہو یا عورت، جیسا کہ حسان بن ثابت اور مسطح بن اثاثہ(رضی اللہ عنھما) کے ساتھ حمنہ بنت جحش(رضی اللہ عنھا) پر بھی حد قذف لگائی گئی تھی۔ ➌ جو شخص کسی پاک دامن مسلم مرد یا عورت پر زنا کا الزام لگائے، پھر چار گواہ نہ لا سکے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق تین حکم دیے ہیں، پہلا یہ کہ اسے اسّی (۸۰) کوڑے مارو، دوسرا یہ کہ اس کی کوئی شہادت کبھی قبول نہ کرو اور تیسرا یہ کہ یہی لوگ فاسق (نافرمان) ہیں ({اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ} میں قصرِ قلب ہے)، نہ کہ وہ لوگ جنھیں یہ فاسق ثابت کرنا چاہتے تھے۔
← پچھلی آیت (3) پوری سورۃ اگلی آیت (5) →