بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
النبأ
سورۃ النبأ — 40 آیات
قرآن کریم Surah 78
عَمَّ یَتَسَآءَلُوۡنَ ۚ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یہ آپس میں کاہے کی پوچھ گچھ کررہے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
یہ لوگ کس چیز کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال و جواب کر رہے ہیں؟
عبدالسلام بن محمد
کس چیز کے بارے میں وہ آپس میں سوال کر رہے ہیں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭

جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ’ یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ ‘

پھر خود فرماتا ہے کہ ’ یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے ‘۔ مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏‏‏‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔ پھر اس آیت «‏‏‏‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [78-النبأ:3] ‏‏‏‏ ’ جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں ‘، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ’ تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے ‘، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟ زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ’ دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے ‘۔ انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ’ زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:21] ‏‏‏‏ ’ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا ‘۔
یہ لوگ کس کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں (1)
(آیت 1تا3) ➊ { عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ…:} اس سور ت میں قیامت کے حق ہونے کے دلائل اور اس کے کچھ احوال بیان کیے گئے ہیں۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید و رسالت پر ایمان لانے کی دعوت کے ساتھ ساتھ یہ بتایا کہ ایک دن تمھیں زندہ ہو کر اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے اور تمھیں تمام نیک و بد اعمال کی جزا ملنی ہے تو سننے والوں نے آپس میں سوال شروع کر دیے کہ کیا واقعی قیامت ہو گی؟ آیا یہ ممکن بھی ہے؟ پھر وہ قیامت کس طرح ہو گی؟ وغیرہ، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ ➋ { ” النَّبَاِ الْعَظِيْمِ “} سے مراد قیامت ہے۔ اس میں اختلاف یہ ہے کہ کوئی تو مانتا ہی نہیں کہ قیامت ہو گی، کوئی مانتا ہے مگر اسے یقین نہیں، کوئی کہتا ہے مٹی ہو جانے کے بعد دوبارہ کیسے زندہ ہو سکتے ہیں؟ یہ تو عقل ہی کے خلاف ہے اور کوئی کہتا ہے کہ جسم زندہ نہیں ہوں گے بلکہ سب خوشی اور غم روح ہی پر گزرے گا، وغیرہ وغیرہ۔
عَنِ النَّبَاِ الۡعَظِیۡمِ ۙ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا اُس بڑی خبر کے بارے میں
مولانا محمد جوناگڑھی
اس بڑی خبر کے متعلق
احمد رضا خان بریلوی
بڑی خبر کی
علامہ محمد حسین نجفی
کیا اس بڑی خبر کے بارے میں۔
عبدالسلام بن محمد
(کیا) اس بڑی خبر کے بارے میں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭

جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ’ یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ ‘

پھر خود فرماتا ہے کہ ’ یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے ‘۔ مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏‏‏‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔ پھر اس آیت «‏‏‏‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [78-النبأ:3] ‏‏‏‏ ’ جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں ‘، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ’ تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے ‘، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟ زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ’ دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے ‘۔ انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ’ زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:21] ‏‏‏‏ ’ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
الَّذِیۡ ہُمۡ فِیۡہِ مُخۡتَلِفُوۡنَ ؕ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس کے متعلق یہ مختلف چہ میگوئیاں کرنے میں لگے ہوئے ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
جس کے بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
جس میں وہ کئی راہ ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
جس کے متعلق وہ باہم اختلاف کر رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ کہ جس میں وہ اختلاف کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭

جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ’ یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ ‘

پھر خود فرماتا ہے کہ ’ یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے ‘۔ مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏‏‏‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔ پھر اس آیت «‏‏‏‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [78-النبأ:3] ‏‏‏‏ ’ جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں ‘، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ’ تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے ‘، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟ زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ’ دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے ‘۔ انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ’ زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:21] ‏‏‏‏ ’ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا ‘۔
3۔ 1 یعنی جس بڑی خبر کی بابت ان کے درمیان اختلاف ہے اس کے متعلق استفسار ہے۔ اس بڑی خبر سے بعض نے قرآن مجید مراد لیا ہے کافر اس کے بارے میں مختلف باتیں کرتے تھے، کوئی اسے جادو، کوئی کہانت، کوئی شعرا اور کوئی پہلوں کی کہانیاں بتلاتا تھا۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد قیامت کا برپا ہونا اور دوبارہ زندہ ہونا ہے۔ اسکا ان کے درمیان کچھ اختلاف تھا کوئی بالکل انکار کرتا تھا کوئی صرف شک کا اظہار بعض کہتے تھے کہ سوال کرنے والے مومن و کافر دونوں ہی تھے، مومنین کا سوال تو اضافہ یقین یا بصیرت کے لئے تھا اور کافروں کا جھٹلانا اور مذاق کے طور پر۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
کَلَّا سَیَعۡلَمُوۡنَ ۙ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہرگز نہیں، عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائیگا
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً یہ ابھی جان لیں گے
احمد رضا خان بریلوی
ہاں ہاں اب جائیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
ہرگز نہیں! عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
ہرگز نہیں، عنقریب وہ جان لیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭

جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ’ یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ ‘

پھر خود فرماتا ہے کہ ’ یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے ‘۔ مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏‏‏‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔ پھر اس آیت «‏‏‏‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [78-النبأ:3] ‏‏‏‏ ’ جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں ‘، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ’ تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے ‘، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟ زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ’ دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے ‘۔ انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ’ زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:21] ‏‏‏‏ ’ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 5،4) ➊ { كَلَّا سَيَعْلَمُوْنَ …: ” كَلَّا “} کا لفظ عربی میں عموماً اپنے سے پہلے والے کلام کو غلط اور بعد والے کلام کو صحیح قرار دینے کے لیے آتا ہے۔ مطلب یہ کہ قیامت کے متعلق اختلاف ڈالنا، انکار کرنا یا شک کرنا بالکل غلط ہے اور اس کا آنا بالکل یقینی ہے۔ ➋ {سَيَعْلَمُوْنَ:} ”عنقریب وہ جان لیں گے“ یعنی اگر ان کی عقل قیامت کو نہیں مانتی اور اس میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں تو مرنے سے تو نہ یہ انکار کر سکتے ہیں، نہ شک کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس میں کسی کا اختلاف ہے، تو بس مرنے کی دیر ہے، اس کے ساتھ ہی قیامت اور دوسری تمام حقیقتیں جنھیں یہ لوگ خلاف عقل قرار دے رہے ہیں، سب ان کی آنکھوں کے سامنے آجائیں گی۔ تاکید کے لیے دوبارہ {” ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُوْنَ “} فرمایا ہے۔
ثُمَّ کَلَّا سَیَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہاں، ہرگز نہیں، عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر بالیقین انہیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
پھر ہاں ہاں جان جائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہرگز نہیں! عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ہرگز نہیں، عنقریب وہ جان لیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭

جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ’ یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ ‘

پھر خود فرماتا ہے کہ ’ یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے ‘۔ مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏‏‏‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔ پھر اس آیت «‏‏‏‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [78-النبأ:3] ‏‏‏‏ ’ جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں ‘، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ’ تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے ‘، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟ زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ’ دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے ‘۔ انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ’ زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:21] ‏‏‏‏ ’ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا ‘۔
۔ 1 اللہ تعالیٰ اپنی کاریگری اور عظیم قدرت کا تذکرہ فرما رہا ہے تاکہ توحید کی حقیقت ان کے سامنے واضح ہو اور اللہ کا رسول انہیں جس چیز کی دعوت دے رہا تھا، اس پر ایمان لانا ان کے لئے آسان ہوجائے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَلَمۡ نَجۡعَلِ الۡاَرۡضَ مِہٰدًا ۙ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا؟
احمد رضا خان بریلوی
کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہ کیا
علامہ محمد حسین نجفی
کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا؟
عبدالسلام بن محمد
کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭

جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ’ یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ ‘

پھر خود فرماتا ہے کہ ’ یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے ‘۔ مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏‏‏‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔ پھر اس آیت «‏‏‏‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [78-النبأ:3] ‏‏‏‏ ’ جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں ‘، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ’ تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے ‘، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟ زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ’ دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے ‘۔ انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ’ زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:21] ‏‏‏‏ ’ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 6) ➊ { اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًا:} اللہ تعالیٰ نے قیامت کا یقین دلانے کے لیے اور ان کی عقلوں کو جھنجھوڑنے کے لیے اپنی قدرت کے چند عجائب پیش فرمائے ہیں کہ عقل سے پوچھو کہ اتنے بڑے بڑے کام کرنے والے کے لیے تمھیں دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے؟ اور وہ عجائب بھی خود تمھارے گردو پیش اور تمھاری ذات میں موجود ہیں۔ ➋ فرمایا جہاں رہتے ہو اسی کو دیکھ لو، کیا عقل میں آسکتا ہے کہ اتنی بڑی زمین کو ہم نے کس طرح پیدا کیا اور کس طرح بچھونے کی طرح بچھا دیا ہے؟
وَّ الۡجِبَالَ اَوۡتَادًا ﴿۪ۙ۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور پہاڑوں کو میخیں (نہیں بنایا؟)
احمد رضا خان بریلوی
اور پہاڑوں کو میخیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور پہاڑوں کو میخیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور پہاڑوں کو میخیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭

جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ’ یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ ‘

پھر خود فرماتا ہے کہ ’ یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے ‘۔ مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏‏‏‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔ پھر اس آیت «‏‏‏‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [78-النبأ:3] ‏‏‏‏ ’ جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں ‘، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ’ تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے ‘، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟ زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ’ دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے ‘۔ انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ’ زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:21] ‏‏‏‏ ’ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا ‘۔
7۔ 1 یعنی پہاڑوں کو زمین کے لئے میخیں بنایا تاکہ ساکن رہے، حرکت نہ کرے۔
(آیت 7) {وَ الْجِبَالَ اَوْتَادًا:} اور زمین کا توازن قائم رکھنے اور اسے مسلسل زلزلے کی کیفیت سے بچانے کے لیے اس میں پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ {” اَوْتَادًا”وَتَدٌ“} کی جمع ہے، میخیں۔
وَّ خَلَقۡنٰکُمۡ اَزۡوَاجًا ۙ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور تمہیں (مَردوں اور عورتوں کے) جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا
احمد رضا خان بریلوی
اور تمہیں جوڑے بنایا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے تمھیں جوڑا جوڑا پیدا کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭

جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ’ یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ ‘

پھر خود فرماتا ہے کہ ’ یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے ‘۔ مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏‏‏‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔ پھر اس آیت «‏‏‏‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [78-النبأ:3] ‏‏‏‏ ’ جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں ‘، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ’ تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے ‘، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟ زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ’ دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے ‘۔ انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ’ زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:21] ‏‏‏‏ ’ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 8){ وَ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًا:} خود اپنے آپ کو دیکھ لو، ہم نے تمھیں نر اور مادہ پیدا کیا، مختلف رنگوں، بے شمار شکلوں اور صورتوں میں پیدا کیا۔ پہلی دفعہ پیدا کرنے پر تمھاری عقل کو تعجب نہیں ہوا تو دوبارہ پیدا کرنے پر کیوں ہوتا ہے؟ {” اَزْوَاجًا”زَوْجٌ“} کی جمع ہے۔
وَّ جَعَلۡنَا نَوۡمَکُمۡ سُبَاتًا ۙ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور تمہاری نیند کو باعث سکون بنایا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے تمہاری نیند کو آرام کا سبب بنایا
احمد رضا خان بریلوی
اور تمہاری نیند کو آرام کیا
علامہ محمد حسین نجفی
اور تمہاری نیند کو راحت و آرام کا ذریعہ۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے تمھاری نیند کو ( باعث) آرام بنایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ’ ہم نے تمہاری نیند کو حرکت کے ساکن ہونے کا سبب بنایا تاکہ آرام اور اطمینان حاصل کر لو، اور دن بھر کی تھکان کسل اور ماندگی دور ہو جائے ‘، اسی معنی کی اور آیت سورۃ الفرقان میں بھی گزر چکی ہے، ’ رات کو ہم نے لباس بنایا کہ اس کا اندھیرا اور سیاہی سب لوگوں پر چھا جاتی ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:4] ‏‏‏‏ ’ قسم ہے رات کی جبکہ وہ ڈھانپ لے ‘۔ عرب شاعر بھی اپنے شعروں میں رات کو لباس کہتے ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”رات سکون کا باعث بن جاتی ہے“ اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے، تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو، ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں، تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں۔

پھر فرمایا ’ ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے“ اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔ «الْمُعْصِرَاتِ» سے مراد بعض نے تو ہوا مراد لی ہے اور بعض نے بادل جو ایک ایک قطرہ پانی برساتے رہتے ہیں۔ «امْرَأَةٌ مُعْصِرٌ» ‏‏‏‏عرب میں اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہو، لیکن اب تک حیض جاری نہ ہوا ہو۔ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا «مُعْصِرَاتِ» سے مراد آسمان ہے، لیکن یہ قول غریب ہے سب سے زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ مراد اس سے بادل ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا» ۱؎ [30-الروم:48] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں اور انہیں پروردگار کی منشاء کے مطابق آسمان میں پھیلا دیتی ہیں اور انہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے پانی نکلتا ہے ‘۔ «ثَجَّاجًا» ‏‏‏‏کے معنی خوب لگاتار بہنے کے ہیں جو بکثرت بہہ رہا ہو اور خوب برس رہا ہو، ۱؎ ‏‏‏‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:400/12] ‏‏‏‏ «ثَجّاجًا» کی تشریح: ایک حدیث میں ہے { «أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ» افضل حج وہ ہے جس میں «لبیک» خوب پکاری جائے اور خون بکثرت بہایا جائے یعنی قربانیاں زیادہ کی جائیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:827،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اس حدیث میں بھی لفظ «ثَّجُّ» ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ { استحاضہ کا مسئلہ پوچھنے والی ایک صحابیہ عورت رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { تم روئی کا پھایا رکھ لو }، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ! وہ تو بہت زیادہ ہے میں تو ہر وقت خون بکثرت بہاتی رہتی ہوں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:287،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ اس روایت میں بھی لفظ «‏‏‏‏أَثُجّ ثَجًّا» ‏‏‏‏ہے یعنی بےروک برابر خون آتا رہتا ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی مراد یہی ہے کہ پانی ابر سے بکثرت برستا رہتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

’ پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تروتازہ کھائی جاتی ہیں اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں، خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں ‘۔ «أَلْفَافًا» ‏‏‏‏کے معنی جمع کے ہیں اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» ۱؎ [13-الرعد:4] ‏‏‏‏ ’ زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، اور وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک کو بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں یقیناً عقلمندوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 9تا11){ وَ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا …: ” سُبَاتًا “} اور{”سَبْتٌ“} باب {”نَصَرَ“} اور {”ضَرَبَ“} سے مصدر ہیں، راحت، سکون، قطع کرنا۔ اپنی نیند کو دیکھ لو جو موت کی طرح تمھاری تمام حرکات قطع کرکے تمھیں مکمل سکون کی وادی میں لے جاتی ہے۔ ہر روز مرنے اور جی اٹھنے کا یہ منظر دیکھ کر بھی تمھیں دوبارہ زندہ ہونے میں شک ہے؟ علاوہ ازیں تمھارے جسم کی ٹوٹ پھوٹ اور تھکن دور کرنے کے لیے نیند کو راحت و سکون کا ذریعہ بنا دیا۔ روشنی راحت میں خلل انداز ہو سکتی تھی، اس لیے ہم نے رات کو تاریک بنا دیا جو لباس کی طرح ہر چیز کو چھپا لیتی ہے۔ پھر ہماری مہربانی دیکھو کہ مسلسل رات نہیں رکھی، بلکہ روزی کی تلاش کے لیے دن بنا دیا۔ اگر رات ہی رہتی تو تم روزی کس طرح تلاش کرتے؟
وَّ جَعَلۡنَا الَّیۡلَ لِبَاسًا ﴿ۙ۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور رات کو پردہ پوش
مولانا محمد جوناگڑھی
اور رات کو ہم نے پرده بنایا
احمد رضا خان بریلوی
اور رات کو پردہ پوش کیا
علامہ محمد حسین نجفی
اور رات کو پردہ پوش۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے رات کو لباس بنایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ’ ہم نے تمہاری نیند کو حرکت کے ساکن ہونے کا سبب بنایا تاکہ آرام اور اطمینان حاصل کر لو، اور دن بھر کی تھکان کسل اور ماندگی دور ہو جائے ‘، اسی معنی کی اور آیت سورۃ الفرقان میں بھی گزر چکی ہے، ’ رات کو ہم نے لباس بنایا کہ اس کا اندھیرا اور سیاہی سب لوگوں پر چھا جاتی ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:4] ‏‏‏‏ ’ قسم ہے رات کی جبکہ وہ ڈھانپ لے ‘۔ عرب شاعر بھی اپنے شعروں میں رات کو لباس کہتے ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”رات سکون کا باعث بن جاتی ہے“ اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے، تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو، ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں، تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں۔

پھر فرمایا ’ ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے“ اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔ «الْمُعْصِرَاتِ» سے مراد بعض نے تو ہوا مراد لی ہے اور بعض نے بادل جو ایک ایک قطرہ پانی برساتے رہتے ہیں۔ «امْرَأَةٌ مُعْصِرٌ» ‏‏‏‏عرب میں اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہو، لیکن اب تک حیض جاری نہ ہوا ہو۔ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا «مُعْصِرَاتِ» سے مراد آسمان ہے، لیکن یہ قول غریب ہے سب سے زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ مراد اس سے بادل ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا» ۱؎ [30-الروم:48] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں اور انہیں پروردگار کی منشاء کے مطابق آسمان میں پھیلا دیتی ہیں اور انہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے پانی نکلتا ہے ‘۔ «ثَجَّاجًا» ‏‏‏‏کے معنی خوب لگاتار بہنے کے ہیں جو بکثرت بہہ رہا ہو اور خوب برس رہا ہو، ۱؎ ‏‏‏‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:400/12] ‏‏‏‏ «ثَجّاجًا» کی تشریح: ایک حدیث میں ہے { «أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ» افضل حج وہ ہے جس میں «لبیک» خوب پکاری جائے اور خون بکثرت بہایا جائے یعنی قربانیاں زیادہ کی جائیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:827،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اس حدیث میں بھی لفظ «ثَّجُّ» ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ { استحاضہ کا مسئلہ پوچھنے والی ایک صحابیہ عورت رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { تم روئی کا پھایا رکھ لو }، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ! وہ تو بہت زیادہ ہے میں تو ہر وقت خون بکثرت بہاتی رہتی ہوں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:287،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ اس روایت میں بھی لفظ «‏‏‏‏أَثُجّ ثَجًّا» ‏‏‏‏ہے یعنی بےروک برابر خون آتا رہتا ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی مراد یہی ہے کہ پانی ابر سے بکثرت برستا رہتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

’ پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تروتازہ کھائی جاتی ہیں اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں، خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں ‘۔ «أَلْفَافًا» ‏‏‏‏کے معنی جمع کے ہیں اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» ۱؎ [13-الرعد:4] ‏‏‏‏ ’ زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، اور وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک کو بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں یقیناً عقلمندوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں ‘۔
10۔ 1 یعنی رات کا اندھیرا اور سیاہی ہر چیز کو اپنے دامن میں چھپا لیتی ہے، جس طرح لباس انسان کے جسم کو چھپا لیتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَّ جَعَلۡنَا النَّہَارَ مَعَاشًا ﴿۪۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور دن کو معاش کا وقت بنایا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور دن کو ہم نے وقت روزگار بنایا
احمد رضا خان بریلوی
اور دن کو روزگار کے لیے بنایا
علامہ محمد حسین نجفی
اور دن کو تحصیلِ معاش کا وقت بنایا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے دن کو روزی کمانے کے لیے بنایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ’ ہم نے تمہاری نیند کو حرکت کے ساکن ہونے کا سبب بنایا تاکہ آرام اور اطمینان حاصل کر لو، اور دن بھر کی تھکان کسل اور ماندگی دور ہو جائے ‘، اسی معنی کی اور آیت سورۃ الفرقان میں بھی گزر چکی ہے، ’ رات کو ہم نے لباس بنایا کہ اس کا اندھیرا اور سیاہی سب لوگوں پر چھا جاتی ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:4] ‏‏‏‏ ’ قسم ہے رات کی جبکہ وہ ڈھانپ لے ‘۔ عرب شاعر بھی اپنے شعروں میں رات کو لباس کہتے ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”رات سکون کا باعث بن جاتی ہے“ اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے، تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو، ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں، تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں۔

پھر فرمایا ’ ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے“ اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔ «الْمُعْصِرَاتِ» سے مراد بعض نے تو ہوا مراد لی ہے اور بعض نے بادل جو ایک ایک قطرہ پانی برساتے رہتے ہیں۔ «امْرَأَةٌ مُعْصِرٌ» ‏‏‏‏عرب میں اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہو، لیکن اب تک حیض جاری نہ ہوا ہو۔ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا «مُعْصِرَاتِ» سے مراد آسمان ہے، لیکن یہ قول غریب ہے سب سے زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ مراد اس سے بادل ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا» ۱؎ [30-الروم:48] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں اور انہیں پروردگار کی منشاء کے مطابق آسمان میں پھیلا دیتی ہیں اور انہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے پانی نکلتا ہے ‘۔ «ثَجَّاجًا» ‏‏‏‏کے معنی خوب لگاتار بہنے کے ہیں جو بکثرت بہہ رہا ہو اور خوب برس رہا ہو، ۱؎ ‏‏‏‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:400/12] ‏‏‏‏ «ثَجّاجًا» کی تشریح: ایک حدیث میں ہے { «أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ» افضل حج وہ ہے جس میں «لبیک» خوب پکاری جائے اور خون بکثرت بہایا جائے یعنی قربانیاں زیادہ کی جائیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:827،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اس حدیث میں بھی لفظ «ثَّجُّ» ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ { استحاضہ کا مسئلہ پوچھنے والی ایک صحابیہ عورت رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { تم روئی کا پھایا رکھ لو }، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ! وہ تو بہت زیادہ ہے میں تو ہر وقت خون بکثرت بہاتی رہتی ہوں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:287،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ اس روایت میں بھی لفظ «‏‏‏‏أَثُجّ ثَجًّا» ‏‏‏‏ہے یعنی بےروک برابر خون آتا رہتا ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی مراد یہی ہے کہ پانی ابر سے بکثرت برستا رہتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

’ پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تروتازہ کھائی جاتی ہیں اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں، خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں ‘۔ «أَلْفَافًا» ‏‏‏‏کے معنی جمع کے ہیں اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» ۱؎ [13-الرعد:4] ‏‏‏‏ ’ زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، اور وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک کو بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں یقیناً عقلمندوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں ‘۔
11۔ 1 مطلب ہے کہ دن روشن بنایا تاکہ لوگ کسب معاش کے لئے جدو جہد کرسکیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَّ بَنَیۡنَا فَوۡقَکُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا ﴿ۙ۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان قائم کیے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تمہارے اوپر ہم نے سات مضبوط آسمان بنائے
احمد رضا خان بریلوی
اور تمہارے اوپر سات مضبوط چنائیاں چنیں (تعمیر کیں)
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے تم پر سات مضبوط (آسمان) بنائے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط (آسمان) بنائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ’ ہم نے تمہاری نیند کو حرکت کے ساکن ہونے کا سبب بنایا تاکہ آرام اور اطمینان حاصل کر لو، اور دن بھر کی تھکان کسل اور ماندگی دور ہو جائے ‘، اسی معنی کی اور آیت سورۃ الفرقان میں بھی گزر چکی ہے، ’ رات کو ہم نے لباس بنایا کہ اس کا اندھیرا اور سیاہی سب لوگوں پر چھا جاتی ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:4] ‏‏‏‏ ’ قسم ہے رات کی جبکہ وہ ڈھانپ لے ‘۔ عرب شاعر بھی اپنے شعروں میں رات کو لباس کہتے ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”رات سکون کا باعث بن جاتی ہے“ اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے، تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو، ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں، تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں۔

پھر فرمایا ’ ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے“ اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔ «الْمُعْصِرَاتِ» سے مراد بعض نے تو ہوا مراد لی ہے اور بعض نے بادل جو ایک ایک قطرہ پانی برساتے رہتے ہیں۔ «امْرَأَةٌ مُعْصِرٌ» ‏‏‏‏عرب میں اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہو، لیکن اب تک حیض جاری نہ ہوا ہو۔ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا «مُعْصِرَاتِ» سے مراد آسمان ہے، لیکن یہ قول غریب ہے سب سے زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ مراد اس سے بادل ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا» ۱؎ [30-الروم:48] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں اور انہیں پروردگار کی منشاء کے مطابق آسمان میں پھیلا دیتی ہیں اور انہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے پانی نکلتا ہے ‘۔ «ثَجَّاجًا» ‏‏‏‏کے معنی خوب لگاتار بہنے کے ہیں جو بکثرت بہہ رہا ہو اور خوب برس رہا ہو، ۱؎ ‏‏‏‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:400/12] ‏‏‏‏ «ثَجّاجًا» کی تشریح: ایک حدیث میں ہے { «أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ» افضل حج وہ ہے جس میں «لبیک» خوب پکاری جائے اور خون بکثرت بہایا جائے یعنی قربانیاں زیادہ کی جائیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:827،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اس حدیث میں بھی لفظ «ثَّجُّ» ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ { استحاضہ کا مسئلہ پوچھنے والی ایک صحابیہ عورت رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { تم روئی کا پھایا رکھ لو }، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ! وہ تو بہت زیادہ ہے میں تو ہر وقت خون بکثرت بہاتی رہتی ہوں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:287،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ اس روایت میں بھی لفظ «‏‏‏‏أَثُجّ ثَجًّا» ‏‏‏‏ہے یعنی بےروک برابر خون آتا رہتا ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی مراد یہی ہے کہ پانی ابر سے بکثرت برستا رہتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

’ پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تروتازہ کھائی جاتی ہیں اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں، خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں ‘۔ «أَلْفَافًا» ‏‏‏‏کے معنی جمع کے ہیں اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» ۱؎ [13-الرعد:4] ‏‏‏‏ ’ زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، اور وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک کو بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں یقیناً عقلمندوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 12) {وَ بَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا …:} آدمی کے نیچے اور گردو پیش کے عجائب کے بعد اوپر کے عجائب کی طرف توجہ دلائی۔ فرمایا ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے جن میں نہ شگاف ہے نہ کوئی کمزوری، نہ گرتے ہیں نہ وہاں کسی شیطان کا دخل ہے۔{ ” شِدَادًا”شَدِيْدَةٌ“} کی جمع ہے، محکم، مضبوط۔
وَّ جَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّہَّاجًا ﴿۪ۙ۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ پیدا کیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ایک چمکتا ہوا روشن چراغ (سورج) پیدا کیا
احمد رضا خان بریلوی
اور ان میں ایک نہایت چمکتا چراغ رکھا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم ہی نے (دن میں) ایک نہایت روشن چراغ (سورج) بنایا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے ایک بہت روشن گرم چراغ بنایا ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ’ ہم نے تمہاری نیند کو حرکت کے ساکن ہونے کا سبب بنایا تاکہ آرام اور اطمینان حاصل کر لو، اور دن بھر کی تھکان کسل اور ماندگی دور ہو جائے ‘، اسی معنی کی اور آیت سورۃ الفرقان میں بھی گزر چکی ہے، ’ رات کو ہم نے لباس بنایا کہ اس کا اندھیرا اور سیاہی سب لوگوں پر چھا جاتی ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:4] ‏‏‏‏ ’ قسم ہے رات کی جبکہ وہ ڈھانپ لے ‘۔ عرب شاعر بھی اپنے شعروں میں رات کو لباس کہتے ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”رات سکون کا باعث بن جاتی ہے“ اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے، تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو، ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں، تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں۔

پھر فرمایا ’ ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے“ اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔ «الْمُعْصِرَاتِ» سے مراد بعض نے تو ہوا مراد لی ہے اور بعض نے بادل جو ایک ایک قطرہ پانی برساتے رہتے ہیں۔ «امْرَأَةٌ مُعْصِرٌ» ‏‏‏‏عرب میں اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہو، لیکن اب تک حیض جاری نہ ہوا ہو۔ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا «مُعْصِرَاتِ» سے مراد آسمان ہے، لیکن یہ قول غریب ہے سب سے زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ مراد اس سے بادل ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا» ۱؎ [30-الروم:48] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں اور انہیں پروردگار کی منشاء کے مطابق آسمان میں پھیلا دیتی ہیں اور انہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے پانی نکلتا ہے ‘۔ «ثَجَّاجًا» ‏‏‏‏کے معنی خوب لگاتار بہنے کے ہیں جو بکثرت بہہ رہا ہو اور خوب برس رہا ہو، ۱؎ ‏‏‏‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:400/12] ‏‏‏‏ «ثَجّاجًا» کی تشریح: ایک حدیث میں ہے { «أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ» افضل حج وہ ہے جس میں «لبیک» خوب پکاری جائے اور خون بکثرت بہایا جائے یعنی قربانیاں زیادہ کی جائیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:827،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اس حدیث میں بھی لفظ «ثَّجُّ» ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ { استحاضہ کا مسئلہ پوچھنے والی ایک صحابیہ عورت رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { تم روئی کا پھایا رکھ لو }، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ! وہ تو بہت زیادہ ہے میں تو ہر وقت خون بکثرت بہاتی رہتی ہوں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:287،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ اس روایت میں بھی لفظ «‏‏‏‏أَثُجّ ثَجًّا» ‏‏‏‏ہے یعنی بےروک برابر خون آتا رہتا ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی مراد یہی ہے کہ پانی ابر سے بکثرت برستا رہتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

’ پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تروتازہ کھائی جاتی ہیں اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں، خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں ‘۔ «أَلْفَافًا» ‏‏‏‏کے معنی جمع کے ہیں اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» ۱؎ [13-الرعد:4] ‏‏‏‏ ’ زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، اور وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک کو بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں یقیناً عقلمندوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 13){ وَ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا:وَهَّاجًا”وَهْجٌ“} سے مبالغہ ہے جس میں حرارت اور روشنی دونوں جمع ہوتی ہیں، بہت روشن اور گرم چراغ۔ مراد سورج ہے۔ ایسا دہکتا ہوا چراغ کہ کروڑوں میل دور ہونے کے باوجود اگر کوئی شخص اسے تھوڑی دیر مسلسل دیکھنے کی حماقت کر بیٹھے تو نظر ہی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
وَّ اَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًا ﴿ۙ۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور بادلوں سے لگاتار بارش برسائی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بدلیوں سے ہم نے بکثرت بہتا ہوا پانی برسایا
احمد رضا خان بریلوی
اور پھر بدلیوں سے زور کا پانی اتارا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے پانی سے لبریز بادلوں سے موسلادھار پانی برسایا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے بدلیوں سے کثرت سے برسنے والا پانی اتارا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ’ ہم نے تمہاری نیند کو حرکت کے ساکن ہونے کا سبب بنایا تاکہ آرام اور اطمینان حاصل کر لو، اور دن بھر کی تھکان کسل اور ماندگی دور ہو جائے ‘، اسی معنی کی اور آیت سورۃ الفرقان میں بھی گزر چکی ہے، ’ رات کو ہم نے لباس بنایا کہ اس کا اندھیرا اور سیاہی سب لوگوں پر چھا جاتی ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:4] ‏‏‏‏ ’ قسم ہے رات کی جبکہ وہ ڈھانپ لے ‘۔ عرب شاعر بھی اپنے شعروں میں رات کو لباس کہتے ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”رات سکون کا باعث بن جاتی ہے“ اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے، تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو، ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں، تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں۔

پھر فرمایا ’ ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے“ اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔ «الْمُعْصِرَاتِ» سے مراد بعض نے تو ہوا مراد لی ہے اور بعض نے بادل جو ایک ایک قطرہ پانی برساتے رہتے ہیں۔ «امْرَأَةٌ مُعْصِرٌ» ‏‏‏‏عرب میں اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہو، لیکن اب تک حیض جاری نہ ہوا ہو۔ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا «مُعْصِرَاتِ» سے مراد آسمان ہے، لیکن یہ قول غریب ہے سب سے زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ مراد اس سے بادل ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا» ۱؎ [30-الروم:48] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں اور انہیں پروردگار کی منشاء کے مطابق آسمان میں پھیلا دیتی ہیں اور انہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے پانی نکلتا ہے ‘۔ «ثَجَّاجًا» ‏‏‏‏کے معنی خوب لگاتار بہنے کے ہیں جو بکثرت بہہ رہا ہو اور خوب برس رہا ہو، ۱؎ ‏‏‏‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:400/12] ‏‏‏‏ «ثَجّاجًا» کی تشریح: ایک حدیث میں ہے { «أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ» افضل حج وہ ہے جس میں «لبیک» خوب پکاری جائے اور خون بکثرت بہایا جائے یعنی قربانیاں زیادہ کی جائیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:827،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اس حدیث میں بھی لفظ «ثَّجُّ» ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ { استحاضہ کا مسئلہ پوچھنے والی ایک صحابیہ عورت رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { تم روئی کا پھایا رکھ لو }، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ! وہ تو بہت زیادہ ہے میں تو ہر وقت خون بکثرت بہاتی رہتی ہوں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:287،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ اس روایت میں بھی لفظ «‏‏‏‏أَثُجّ ثَجًّا» ‏‏‏‏ہے یعنی بےروک برابر خون آتا رہتا ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی مراد یہی ہے کہ پانی ابر سے بکثرت برستا رہتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

’ پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تروتازہ کھائی جاتی ہیں اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں، خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں ‘۔ «أَلْفَافًا» ‏‏‏‏کے معنی جمع کے ہیں اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» ۱؎ [13-الرعد:4] ‏‏‏‏ ’ زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، اور وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک کو بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں یقیناً عقلمندوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں ‘۔
14۔ 1 مُعْصِرَات، ُ وہ بدلیاں جو پانی سے بھری ہوئی ہوں لیکن ابھی برسی نہ ہوں جیسے اَلْمَرْاَۃُ الْمُعْتَصِرَۃُ اس عورت کو کہتے ہیں جس کی ماہواری قریب ہو ثَجَّاجًا کثرت سے بہنے والا پانی۔
(آیت 14تا16) {وَ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًا …: ” الْمُعْصِرٰتِ “} وہ بادل جو پانی سے بھرے ہوئے ہوں۔ {”ثَجٌّ“} شدت اور کثرت سے بہنا یا بہانا۔ یہ لازم و متعدی دونوں معنوں میں آتا ہے۔ {” ثَجَّاجًا “} کثرت سے برسنے والا۔ {” اَلْفَافًا “} ابوعبیدہ نے فرمایا: ”یہ {” لَفِيْفٌ “ } کی جمع ہے، جیسا کہ {”شَرِيْفٌ“} کی جمع {”أَشرَافٌ“} ہے۔“ (المراغی) اس کا معنی ہے گھنے، ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے، جن میں کوئی فاصلہ نہیں۔
لِّنُخۡرِجَ بِہٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًا ﴿ۙ۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تاکہ اس کے ذریعہ سے غلہ اور سبزی
مولانا محمد جوناگڑھی
تاکہ اس سے اناج اور سبزه اگائیں
احمد رضا خان بریلوی
کہ اس سے پیدا فرمائیں اناج اور سبزہ،
علامہ محمد حسین نجفی
تاکہ ہم اس کے ذریعہ سے غلہ اور سبزی اگائیں۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ ہم اس کے ساتھ غلہ اور پودے اگائیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ’ ہم نے تمہاری نیند کو حرکت کے ساکن ہونے کا سبب بنایا تاکہ آرام اور اطمینان حاصل کر لو، اور دن بھر کی تھکان کسل اور ماندگی دور ہو جائے ‘، اسی معنی کی اور آیت سورۃ الفرقان میں بھی گزر چکی ہے، ’ رات کو ہم نے لباس بنایا کہ اس کا اندھیرا اور سیاہی سب لوگوں پر چھا جاتی ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:4] ‏‏‏‏ ’ قسم ہے رات کی جبکہ وہ ڈھانپ لے ‘۔ عرب شاعر بھی اپنے شعروں میں رات کو لباس کہتے ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”رات سکون کا باعث بن جاتی ہے“ اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے، تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو، ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں، تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں۔

پھر فرمایا ’ ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے“ اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔ «الْمُعْصِرَاتِ» سے مراد بعض نے تو ہوا مراد لی ہے اور بعض نے بادل جو ایک ایک قطرہ پانی برساتے رہتے ہیں۔ «امْرَأَةٌ مُعْصِرٌ» ‏‏‏‏عرب میں اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہو، لیکن اب تک حیض جاری نہ ہوا ہو۔ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا «مُعْصِرَاتِ» سے مراد آسمان ہے، لیکن یہ قول غریب ہے سب سے زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ مراد اس سے بادل ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا» ۱؎ [30-الروم:48] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں اور انہیں پروردگار کی منشاء کے مطابق آسمان میں پھیلا دیتی ہیں اور انہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے پانی نکلتا ہے ‘۔ «ثَجَّاجًا» ‏‏‏‏کے معنی خوب لگاتار بہنے کے ہیں جو بکثرت بہہ رہا ہو اور خوب برس رہا ہو، ۱؎ ‏‏‏‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:400/12] ‏‏‏‏ «ثَجّاجًا» کی تشریح: ایک حدیث میں ہے { «أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ» افضل حج وہ ہے جس میں «لبیک» خوب پکاری جائے اور خون بکثرت بہایا جائے یعنی قربانیاں زیادہ کی جائیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:827،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اس حدیث میں بھی لفظ «ثَّجُّ» ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ { استحاضہ کا مسئلہ پوچھنے والی ایک صحابیہ عورت رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { تم روئی کا پھایا رکھ لو }، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ! وہ تو بہت زیادہ ہے میں تو ہر وقت خون بکثرت بہاتی رہتی ہوں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:287،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ اس روایت میں بھی لفظ «‏‏‏‏أَثُجّ ثَجًّا» ‏‏‏‏ہے یعنی بےروک برابر خون آتا رہتا ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی مراد یہی ہے کہ پانی ابر سے بکثرت برستا رہتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

’ پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تروتازہ کھائی جاتی ہیں اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں، خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں ‘۔ «أَلْفَافًا» ‏‏‏‏کے معنی جمع کے ہیں اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» ۱؎ [13-الرعد:4] ‏‏‏‏ ’ زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، اور وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک کو بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں یقیناً عقلمندوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَّ جَنّٰتٍ اَلۡفَافًا ﴿ؕ۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور گھنے باغ اگائیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور گھنے باغ (بھی اگائیں)
احمد رضا خان بریلوی
اور گھنے باغ
علامہ محمد حسین نجفی
اور گھنے باغات۔
عبدالسلام بن محمد
اور گھنے باغات۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ’ ہم نے تمہاری نیند کو حرکت کے ساکن ہونے کا سبب بنایا تاکہ آرام اور اطمینان حاصل کر لو، اور دن بھر کی تھکان کسل اور ماندگی دور ہو جائے ‘، اسی معنی کی اور آیت سورۃ الفرقان میں بھی گزر چکی ہے، ’ رات کو ہم نے لباس بنایا کہ اس کا اندھیرا اور سیاہی سب لوگوں پر چھا جاتی ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:4] ‏‏‏‏ ’ قسم ہے رات کی جبکہ وہ ڈھانپ لے ‘۔ عرب شاعر بھی اپنے شعروں میں رات کو لباس کہتے ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”رات سکون کا باعث بن جاتی ہے“ اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے، تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو، ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں، تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں۔

پھر فرمایا ’ ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے“ اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔ «الْمُعْصِرَاتِ» سے مراد بعض نے تو ہوا مراد لی ہے اور بعض نے بادل جو ایک ایک قطرہ پانی برساتے رہتے ہیں۔ «امْرَأَةٌ مُعْصِرٌ» ‏‏‏‏عرب میں اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہو، لیکن اب تک حیض جاری نہ ہوا ہو۔ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا «مُعْصِرَاتِ» سے مراد آسمان ہے، لیکن یہ قول غریب ہے سب سے زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ مراد اس سے بادل ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا» ۱؎ [30-الروم:48] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں اور انہیں پروردگار کی منشاء کے مطابق آسمان میں پھیلا دیتی ہیں اور انہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے پانی نکلتا ہے ‘۔ «ثَجَّاجًا» ‏‏‏‏کے معنی خوب لگاتار بہنے کے ہیں جو بکثرت بہہ رہا ہو اور خوب برس رہا ہو، ۱؎ ‏‏‏‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:400/12] ‏‏‏‏ «ثَجّاجًا» کی تشریح: ایک حدیث میں ہے { «أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ» افضل حج وہ ہے جس میں «لبیک» خوب پکاری جائے اور خون بکثرت بہایا جائے یعنی قربانیاں زیادہ کی جائیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:827،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اس حدیث میں بھی لفظ «ثَّجُّ» ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ { استحاضہ کا مسئلہ پوچھنے والی ایک صحابیہ عورت رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { تم روئی کا پھایا رکھ لو }، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ! وہ تو بہت زیادہ ہے میں تو ہر وقت خون بکثرت بہاتی رہتی ہوں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:287،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ اس روایت میں بھی لفظ «‏‏‏‏أَثُجّ ثَجًّا» ‏‏‏‏ہے یعنی بےروک برابر خون آتا رہتا ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی مراد یہی ہے کہ پانی ابر سے بکثرت برستا رہتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

’ پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تروتازہ کھائی جاتی ہیں اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں، خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں ‘۔ «أَلْفَافًا» ‏‏‏‏کے معنی جمع کے ہیں اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» ۱؎ [13-الرعد:4] ‏‏‏‏ ’ زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، اور وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک کو بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں یقیناً عقلمندوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں ‘۔
16۔ 1 شاخوں کی کثرت کی وجہ سے ایک دوسرے سے ملے ہوئے درخت یعنی گھنے باغ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِنَّ یَوۡمَ الۡفَصۡلِ کَانَ مِیۡقَاتًا ﴿ۙ۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بے شک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک فیصلہ کے دن کا وقت مقرر ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک فیصلہ کا دن ٹھہرا ہوا وقت ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک فیصلے کے دن (قیامت) کا ایک معیّن وقت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جماعت در جماعت حاضری ٭٭

یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آ جائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ ‏‏‏‏ «‏‏‏‏وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ» ۱؎ [11-ھود:104] ‏‏‏‏ ’ نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لیے ‘۔ اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہو گی۔ جیسے فرمایا «‏‏‏‏يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِهِمْ» ۱؎ [17-الإسراء:71] ‏‏‏‏ ’ جس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے اماموں سمیت بلائیں گے ‘۔

صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دونوں صور کے درمیان چالیس ہوں گے“، لوگوں نے پوچھا چالیس دن؟ کہا ”میں نہیں کہہ سکتا“، پوچھا: چالیس مہینے؟ کہا ”مجھے خبر نہیں۔‏‏‏‏“ پوچھا: چالیس سال؟ کہا ”میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا، پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا اور جس طرح درخت اگتے ہیں لوگ زمین سے اگیں گے، انسان کا تمام بدن گل سڑ جاتا ہے لیکن ایک ہڈی اور وہ کمر کی ریڑھ کی ہڈی ہے اسی سے قیامت کے دن مخلوق مرکب کی جائے گی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ آسمان کھول دیئے جائیں گے اور اس میں فرشتوں کے اترنے کے راستے اور دورازے بن جائیں گے، پہاڑ چلائے جائیں گے اور بالکل ریت کے ذرے بن جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِىَ تَمُــرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْٓ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ اِنَّهٗ خَبِيْرٌ بِمَا تَفْعَلُوْنَ» ۱؎ [27-النمل:88] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم پہاڑوں کو دیکھ رہے ہو، جان رہے ہو وہ پختہ مضبوط اور جامد ہیں لیکن یہ بادلوں کی طرح چلنے پھرنے لگیں گے ‘۔ اور جگہ ہے‏‏‏‏ «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» ۱؎ [101-القارعة:5] ‏‏‏‏ ’ پہاڑ مثل دھنی ہوئی اون کے ہو جائیں گے ‘۔ یہاں فرمایا ’ پہاڑ سراب ہو جائیں گے ‘ یعنی دیکھنے والا کہتا ہے کہ وہ کچھ ہے حالانکہ دراصل کچھ نہیں۔ آخر میں بالکل برباد ہو جائیں گے، نام و نشان تک نہ رہے گا۔

جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» ۱؎ ‏‏‏‏ [20-طه:107-105] ‏‏‏‏ ’ لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو کہہ انہیں میرا رب پراگندہ کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان میں رہ جائے گی جس میں نہ کوئی موڑ ہو گا نہ ٹیلا ‘۔ اور جگہ ہے ‏‏‏‏ «‏‏‏‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:47] ‏‏‏‏ ’ جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو دیکھے گا کہ زمین بالکل کھل گئی ہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 17){ اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيْقَاتًا: } یعنی ہم نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا بنانے سے لے کر آخر آیات تک مذکور جو کچھ بنایا ہے، اگر دنیا کی پیدائش سے لے کر اس کے ختم ہونے تک اس میں جو نیکی یا بدی کی گئی ہے اس کی جزا و سزا کسی وقت بھی نہ ہو، نہ ظالم سے باز پرس ہو اور نہ مظلوم کی داد رسی ہو تو یہ سب کچھ توبے نتیجہ رہا۔ اس لیے یقین رکھو کہ دنیا میں کیے گئے تمام اعمال کے فیصلے کے لیے ایک دن مقرر ہے۔ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے: «وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الجاثیۃ: ۲۲ ] ”اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا اور تاکہ ہر جان کو اس کی کمائی کا بدلا دیا جائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔“
یَّوۡمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا ﴿ۙ۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس روز صور میں پھونک مار دی جائے گی، تم فوج در فوج نکل آؤ گے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن کہ صور میں پھونکا جائے گا۔ پھر تم فوج در فوج چلے آؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم چلے آؤ گے فوجوں کی فوجیں،
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم لوگ فوج در فوج آؤ گے۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن صور میں پھونکا جائے گا، تو تم فوج در فوج چلے آؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جماعت در جماعت حاضری ٭٭

یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آ جائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ ‏‏‏‏ «‏‏‏‏وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ» ۱؎ [11-ھود:104] ‏‏‏‏ ’ نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لیے ‘۔ اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہو گی۔ جیسے فرمایا «‏‏‏‏يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِهِمْ» ۱؎ [17-الإسراء:71] ‏‏‏‏ ’ جس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے اماموں سمیت بلائیں گے ‘۔

صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دونوں صور کے درمیان چالیس ہوں گے“، لوگوں نے پوچھا چالیس دن؟ کہا ”میں نہیں کہہ سکتا“، پوچھا: چالیس مہینے؟ کہا ”مجھے خبر نہیں۔‏‏‏‏“ پوچھا: چالیس سال؟ کہا ”میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا، پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا اور جس طرح درخت اگتے ہیں لوگ زمین سے اگیں گے، انسان کا تمام بدن گل سڑ جاتا ہے لیکن ایک ہڈی اور وہ کمر کی ریڑھ کی ہڈی ہے اسی سے قیامت کے دن مخلوق مرکب کی جائے گی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ آسمان کھول دیئے جائیں گے اور اس میں فرشتوں کے اترنے کے راستے اور دورازے بن جائیں گے، پہاڑ چلائے جائیں گے اور بالکل ریت کے ذرے بن جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِىَ تَمُــرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْٓ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ اِنَّهٗ خَبِيْرٌ بِمَا تَفْعَلُوْنَ» ۱؎ [27-النمل:88] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم پہاڑوں کو دیکھ رہے ہو، جان رہے ہو وہ پختہ مضبوط اور جامد ہیں لیکن یہ بادلوں کی طرح چلنے پھرنے لگیں گے ‘۔ اور جگہ ہے‏‏‏‏ «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» ۱؎ [101-القارعة:5] ‏‏‏‏ ’ پہاڑ مثل دھنی ہوئی اون کے ہو جائیں گے ‘۔ یہاں فرمایا ’ پہاڑ سراب ہو جائیں گے ‘ یعنی دیکھنے والا کہتا ہے کہ وہ کچھ ہے حالانکہ دراصل کچھ نہیں۔ آخر میں بالکل برباد ہو جائیں گے، نام و نشان تک نہ رہے گا۔

جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» ۱؎ ‏‏‏‏ [20-طه:107-105] ‏‏‏‏ ’ لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو کہہ انہیں میرا رب پراگندہ کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان میں رہ جائے گی جس میں نہ کوئی موڑ ہو گا نہ ٹیلا ‘۔ اور جگہ ہے ‏‏‏‏ «‏‏‏‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:47] ‏‏‏‏ ’ جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو دیکھے گا کہ زمین بالکل کھل گئی ہے ‘۔
18۔ 1 بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ ہر امت اپنے رسول کے ساتھ میدان حشر میں آئے گی۔ یہ دوسرا نفخہ ہوگا، جس میں سب لوگ قبروں سے زندہ اٹھ کر نکل آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل فرمائیے گا، جس سے انسان کھیتی کی طرح اگ آئے گا۔ انسان کی ہر چیز بوسیدہ ہوجائے گی، سوائے ریڑھ کی ہڈی کے آخری سرے کے، اس سے قیامت والے دن تمام مخلوقات کی دوبارہ ترکیب ہوگی۔ (صحیح بخاری)
(آیت 18){ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا:} یہاں صور میں دوسری دفعہ پھونکے جانے کا ذکر ہے، جس سے تمام لوگ قبروں سے نکل کر گروہ در گروہ میدانِ محشر میں آجائیں گے۔
وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَکَانَتۡ اَبۡوَابًا ﴿ۙ۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور آسمان کھول دیا جائے گا حتیٰ کہ وہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور آسمان کھول دیا جائے گا تو اس میں دروازے دروازے ہو جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور آسمان کھولا جائے گا کہ دروازے ہوجائے گا
علامہ محمد حسین نجفی
اور آسمان کھول دیا جائے گا اور وہ دروازے ہی دروازے ہو جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور آسمان کھولا جائے گا تو وہ دروازے دروازے ہو جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جماعت در جماعت حاضری ٭٭

یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آ جائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ ‏‏‏‏ «‏‏‏‏وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ» ۱؎ [11-ھود:104] ‏‏‏‏ ’ نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لیے ‘۔ اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہو گی۔ جیسے فرمایا «‏‏‏‏يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِهِمْ» ۱؎ [17-الإسراء:71] ‏‏‏‏ ’ جس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے اماموں سمیت بلائیں گے ‘۔

صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دونوں صور کے درمیان چالیس ہوں گے“، لوگوں نے پوچھا چالیس دن؟ کہا ”میں نہیں کہہ سکتا“، پوچھا: چالیس مہینے؟ کہا ”مجھے خبر نہیں۔‏‏‏‏“ پوچھا: چالیس سال؟ کہا ”میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا، پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا اور جس طرح درخت اگتے ہیں لوگ زمین سے اگیں گے، انسان کا تمام بدن گل سڑ جاتا ہے لیکن ایک ہڈی اور وہ کمر کی ریڑھ کی ہڈی ہے اسی سے قیامت کے دن مخلوق مرکب کی جائے گی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ آسمان کھول دیئے جائیں گے اور اس میں فرشتوں کے اترنے کے راستے اور دورازے بن جائیں گے، پہاڑ چلائے جائیں گے اور بالکل ریت کے ذرے بن جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِىَ تَمُــرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْٓ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ اِنَّهٗ خَبِيْرٌ بِمَا تَفْعَلُوْنَ» ۱؎ [27-النمل:88] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم پہاڑوں کو دیکھ رہے ہو، جان رہے ہو وہ پختہ مضبوط اور جامد ہیں لیکن یہ بادلوں کی طرح چلنے پھرنے لگیں گے ‘۔ اور جگہ ہے‏‏‏‏ «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» ۱؎ [101-القارعة:5] ‏‏‏‏ ’ پہاڑ مثل دھنی ہوئی اون کے ہو جائیں گے ‘۔ یہاں فرمایا ’ پہاڑ سراب ہو جائیں گے ‘ یعنی دیکھنے والا کہتا ہے کہ وہ کچھ ہے حالانکہ دراصل کچھ نہیں۔ آخر میں بالکل برباد ہو جائیں گے، نام و نشان تک نہ رہے گا۔

جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» ۱؎ ‏‏‏‏ [20-طه:107-105] ‏‏‏‏ ’ لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو کہہ انہیں میرا رب پراگندہ کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان میں رہ جائے گی جس میں نہ کوئی موڑ ہو گا نہ ٹیلا ‘۔ اور جگہ ہے ‏‏‏‏ «‏‏‏‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:47] ‏‏‏‏ ’ جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو دیکھے گا کہ زمین بالکل کھل گئی ہے ‘۔
19۔ 1 یعنی فرشتوں کے نزول کے لئے راستے بن جائیں گے اور وہ زمین پر اتر آئیں گے۔
(آیت 19) {وَ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًا:} آسمان میں اب بھی دروازے موجود ہیں، جیسا کہ سورئہ اعراف (۴۰) میں ہے اور حدیث معراج میں بھی اس کا ذکر ہے، مگر اس وقت آسمان اس طرح پھٹے گا جیسے وہ سارے کا سارا دروازوں کی شکل اختیار کر گیا ہے اور یہ پھٹنا فرشتوں کے اتارے جانے کے لیے ہو گا،جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ يَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ تَنْزِيْلًا» [ الفرقان: ۲۵ ] ”جس دن آسمان بادل کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے لگاتار اتارے جائیں گے۔“
وَّ سُیِّرَتِ الۡجِبَالُ فَکَانَتۡ سَرَابًا ﴿ؕ۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہو جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور پہاڑ چلائے جائیں گے پس وه سراب ہو جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور پہاڑ چلائے جائیں گے کہ ہوجائیں گے جیسے چمکتا ریتا دور سے پانی کا دھوکا دیتا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور پہاڑ چلائے جائیں گے اور وہ بالکل سراب ہو جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ سراب بن جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جماعت در جماعت حاضری ٭٭

یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آ جائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ ‏‏‏‏ «‏‏‏‏وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ» ۱؎ [11-ھود:104] ‏‏‏‏ ’ نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لیے ‘۔ اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہو گی۔ جیسے فرمایا «‏‏‏‏يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِهِمْ» ۱؎ [17-الإسراء:71] ‏‏‏‏ ’ جس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے اماموں سمیت بلائیں گے ‘۔

صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دونوں صور کے درمیان چالیس ہوں گے“، لوگوں نے پوچھا چالیس دن؟ کہا ”میں نہیں کہہ سکتا“، پوچھا: چالیس مہینے؟ کہا ”مجھے خبر نہیں۔‏‏‏‏“ پوچھا: چالیس سال؟ کہا ”میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا، پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا اور جس طرح درخت اگتے ہیں لوگ زمین سے اگیں گے، انسان کا تمام بدن گل سڑ جاتا ہے لیکن ایک ہڈی اور وہ کمر کی ریڑھ کی ہڈی ہے اسی سے قیامت کے دن مخلوق مرکب کی جائے گی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ آسمان کھول دیئے جائیں گے اور اس میں فرشتوں کے اترنے کے راستے اور دورازے بن جائیں گے، پہاڑ چلائے جائیں گے اور بالکل ریت کے ذرے بن جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِىَ تَمُــرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْٓ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ اِنَّهٗ خَبِيْرٌ بِمَا تَفْعَلُوْنَ» ۱؎ [27-النمل:88] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم پہاڑوں کو دیکھ رہے ہو، جان رہے ہو وہ پختہ مضبوط اور جامد ہیں لیکن یہ بادلوں کی طرح چلنے پھرنے لگیں گے ‘۔ اور جگہ ہے‏‏‏‏ «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» ۱؎ [101-القارعة:5] ‏‏‏‏ ’ پہاڑ مثل دھنی ہوئی اون کے ہو جائیں گے ‘۔ یہاں فرمایا ’ پہاڑ سراب ہو جائیں گے ‘ یعنی دیکھنے والا کہتا ہے کہ وہ کچھ ہے حالانکہ دراصل کچھ نہیں۔ آخر میں بالکل برباد ہو جائیں گے، نام و نشان تک نہ رہے گا۔

جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» ۱؎ ‏‏‏‏ [20-طه:107-105] ‏‏‏‏ ’ لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو کہہ انہیں میرا رب پراگندہ کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان میں رہ جائے گی جس میں نہ کوئی موڑ ہو گا نہ ٹیلا ‘۔ اور جگہ ہے ‏‏‏‏ «‏‏‏‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:47] ‏‏‏‏ ’ جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو دیکھے گا کہ زمین بالکل کھل گئی ہے ‘۔
20۔ 1 وہ ریت جو دور سے پانی محسوس ہوتی ہو، پہاڑ بھی دور سے نظر آنے والی چیز بن کر رہ جائیں گے۔
(آیت 20) ➊ {وَ سُيِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا:سَرَابًا “} جو دوپہر کے وقت دور سے دیکھنے والے کو پانی کی طرح نظر آتا ہے مگر حقیقت میں کچھ نہیں ہوتا، اسی طرح پہاڑ ریت بن جائیں گے جو دور سے پانی کی طرح نظر آتی ہے مگر حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہو تا۔ ➋ قرآن میں قیامت کے دن پہاڑوں پر گزرنے والے مختلف احوال بیان ہوئے ہیں، سب سے پہلے صور کی آواز کے ساتھ زمین اور پہاڑ ایک چوٹ سے توڑ دیے جائیں گے، فرمایا: «‏‏‏‏وَ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً» ‏‏‏‏ [ الحاقۃ: ۱۴ ] ”اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھایا جائے گا اور دونوں ایک ہی بار ٹکرا دیے جائیں گے۔“ پھر بھربھری ریت ہو جائیں گے جو خود بخود گرتی جا رہی ہو، فرمایا: «‏‏‏‏وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» ‏‏‏‏ [ المزمل: ۱۴ ] ”اور پہاڑ گرائی ہوئی ریت کے ٹیلے ہو جائیں گے۔“ پھر دھنی ہوئی اون کی طرح ہو جائیں گے، فرمایا: «وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ» ‏‏‏‏ [ القارعۃ: ۵ ] ”اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے۔“ پھر بکھرا ہوا غبار بن جائیں گے، فرمایا: «‏‏‏‏فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّا» ‏‏‏‏ [ الواقعۃ: ۶ ] ”پس وہ پھیلا ہوا غبار بن جائیں گے۔“ پھر بادلوں کی طرح چلیں گے، جیساکہ فرمایا: «وَ هِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ» ‏‏‏‏ [ النمل: ۸۸ ] ”حالانکہ وہ بادلوں کے چلنے کی طرح چل رہے ہوں گے۔“ پھر سراب بن جائیں گے، جیسے یہاں فرمایا ہے، پھر ان میں سے کچھ بھی نہیں رہے گا، فقط چٹیل زمین رہ جائے گی جس میں کوئی بلندی یا پستی نہیں ہوگی، جیساکہ فرمایا: «‏‏‏‏فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا (106) لَّا تَرٰى فِيْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًا» ‏‏‏‏ [ طٰہٰ: 107،106 ] ”پھر وہ اسے ایک چٹیل میدان بنا کر چھوڑے گا، جس میں تونہ کوئی کجی دیکھے گا اور نہ کوئی ابھری ہوئی جگہ۔“
اِنَّ جَہَنَّمَ کَانَتۡ مِرۡصَادًا ﴿۪ۙ۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
درحقیقت جہنم ایک گھات ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک دوزخ گھات میں ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک جہنم تاک میں ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک جہنم گھات میں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا جہنم ہمیشہ سے ایک گھات کی جگہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ’ سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے ‘۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏‏‏‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ’ وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے ‘۔ «أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔ بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے { «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ } پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ ۱؎ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏‏‏‏

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏‏‏‏“ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» ۱؎ [78-النبأ:30] ‏‏‏‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏‏‏‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏‏‏‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» ۱؎ [11-ھود:107] ‏‏‏‏ یعنی ’ جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے ‘، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» ۱؎ [78-النبإ:25] ‏‏‏‏ کے ساتھ یعنی ’ وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا ‘، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔ حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔ «حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔

سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔ بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔ پھر فرمایا ’ یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے ‘، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔ «كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ’ ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے ‘۔ ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ’ اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے ‘۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» ۱؎ [78-النبأ:30] ‏‏‏‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏‏‏‏
21۔ 1 گھات ایسی جگہ کو کہتے ہیں، جہاں چھپ کر دشمن کا انتظار کیا جاتا ہے تاکہ وہاں سے گزرے تو فوراً حملہ کردیا جائے، جہنم کے دروغے بھی جہنمیوں کے انتظار میں اسی طرح بیٹھے ہیں یا خود جہنم اللہ کے حکم سے کفار کے لئے گھات لگائے بیٹھی ہے۔
(آیت 22،21){ اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا …:} یہاں سے جہنم اور اہل جہنم کا کچھ حال بیان ہوتا ہے۔ {” مِرْصَادًا “} (گھات) اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کسی دشمن یا شکار پر قابو پانے کے لیے تاک لگائی جاتی ہے، تاکہ وہ بے خبری میں آ کر پھنس جائے۔ یعنی سرکش لوگ اللہ سے بے خوف ہو کر دنیا میں فساد مچا رہے ہیں، مگر انھیں یاد نہیں کہ جہنم ان کے لیے ایک ایسی چھپی ہوئی گھات ہے جس میں وہ اچانک پھنسیں گے اور پھر وہی ان کے لیے ہمیشہ کا ٹھکانا ہوگی۔
لِّلطَّاغِیۡنَ مَاٰبًا ﴿ۙ۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
سرکشوں کا ٹھکانا
مولانا محمد جوناگڑھی
سرکشوں کا ٹھکانہ وہی ہے
احمد رضا خان بریلوی
سرکشوں کا ٹھکانا،
علامہ محمد حسین نجفی
جو سرکشوں کا ٹھکانہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
سرکشوں کے لیے ٹھکانا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ’ سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے ‘۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏‏‏‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ’ وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے ‘۔ «أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔ بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے { «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ } پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ ۱؎ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏‏‏‏

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏‏‏‏“ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» ۱؎ [78-النبأ:30] ‏‏‏‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏‏‏‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏‏‏‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» ۱؎ [11-ھود:107] ‏‏‏‏ یعنی ’ جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے ‘، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» ۱؎ [78-النبإ:25] ‏‏‏‏ کے ساتھ یعنی ’ وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا ‘، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔ حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔ «حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔

سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔ بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔ پھر فرمایا ’ یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے ‘، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔ «كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ’ ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے ‘۔ ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ’ اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے ‘۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» ۱؎ [78-النبأ:30] ‏‏‏‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
لّٰبِثِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَحۡقَابًا ﴿ۚ۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس میں وه مدتوں تک پڑے رہیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اس میں قرنوں (مدتوں) رہیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ اس میں مدتہائے دراز تک پڑے رہیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ مدتوں اسی میں رہنے والے ہیں ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ’ سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے ‘۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏‏‏‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ’ وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے ‘۔ «أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔ بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے { «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ } پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ ۱؎ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏‏‏‏

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏‏‏‏“ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» ۱؎ [78-النبأ:30] ‏‏‏‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏‏‏‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏‏‏‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» ۱؎ [11-ھود:107] ‏‏‏‏ یعنی ’ جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے ‘، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» ۱؎ [78-النبإ:25] ‏‏‏‏ کے ساتھ یعنی ’ وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا ‘، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔ حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔ «حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔

سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔ بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔ پھر فرمایا ’ یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے ‘، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔ «كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ’ ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے ‘۔ ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ’ اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے ‘۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» ۱؎ [78-النبأ:30] ‏‏‏‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 23) {لٰبِثِيْنَ فِيْهَاۤ اَحْقَابًا:اَحْقَابًا”حُقْبٌ“} (حاء کے ضمہ اور قاف کے سکون کے ساتھ) کی جمع ہے، اسّی (۸۰) سال یا اس سے زیادہ مدت، زمانہ، سال۔ (قاموس) یعنی مدتوں، کئی زمانے، سالہا سال اس میں پڑے رہیں گے، ایک مدت ختم ہونے پر دوسری مدت شروع ہو جائے گی، ایسی مدتیں جن کی کوئی انتہا نہیں ہوگی۔ یہ مطلب نہیں کہ کچھ مدتوں کے بعد عذاب کم یا ختم ہو جائے گا، کیونکہ اسی سلسلہ کلام میں آگے چل کر فرمایا: «‏‏‏‏فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِيْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا» ‏‏‏‏ [ النبا: ۳۰ ] ”پس چکھو کہ ہم تمھیں عذاب کے سوا ہرگز کسی چیز میں زیادہ نہیں کریں گے۔ “
لَا یَذُوۡقُوۡنَ فِیۡہَا بَرۡدًا وَّ لَا شَرَابًا ﴿ۙ۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس کے اندر کسی ٹھنڈک اور پینے کے قابل کسی چیز کا مزہ وہ نہ چکھیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
نہ کبھی اس میں خنکی کا مزه چکھیں گے، نہ پانی کا
احمد رضا خان بریلوی
اس میں کسی طرح کی ٹھنڈک کا مزہ نہ پائیں گے اور نہ کچھ پینے کو،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ اس میں نہ ٹھنڈک کامزہ چکھیں گے اور نہ کوئی پینے کی چیز۔
عبدالسلام بن محمد
نہ اس میں کوئی ٹھنڈ چکھیں گے اور نہ کوئی پینے کی چیز۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ’ سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے ‘۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏‏‏‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ’ وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے ‘۔ «أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔ بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے { «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ } پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ ۱؎ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏‏‏‏

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏‏‏‏“ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» ۱؎ [78-النبأ:30] ‏‏‏‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏‏‏‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏‏‏‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» ۱؎ [11-ھود:107] ‏‏‏‏ یعنی ’ جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے ‘، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» ۱؎ [78-النبإ:25] ‏‏‏‏ کے ساتھ یعنی ’ وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا ‘، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔ حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔ «حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔

سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔ بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔ پھر فرمایا ’ یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے ‘، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔ «كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ’ ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے ‘۔ ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ’ اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے ‘۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» ۱؎ [78-النبأ:30] ‏‏‏‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 24تا26){ لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا بَرْدًا …: ” حَمِيْمًا “} اور{” غَسَّاقًا “} کی تشریح کے لیے دیکھیے سورۂ ص (۵۷) کی تفسیر۔ {” بَرْدًا “} سے مراد خوش گوار ٹھنڈک ہے۔ جہنم میں ایک طبقہ زمہریر بھی ہے جہاں بے انتہا سردی ہے، اسے مزے کی ٹھنڈک نہیں کہہ سکتے۔ (وحیدی)
اِلَّا حَمِیۡمًا وَّ غَسَّاقًا ﴿ۙ۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کچھ ملے گا تو بس گرم پانی اور زخموں کا دھوون
مولانا محمد جوناگڑھی
سوائے گرم پانی اور (بہتی) پیﭗ کے
احمد رضا خان بریلوی
مگر کھولتا پانی اور دوزخیوں کا جلتا پیپ،
علامہ محمد حسین نجفی
سوائے گرم پانی اور پیپ کے۔
عبدالسلام بن محمد
مگر گرم پانی اور بہتی پیپ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ’ سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے ‘۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏‏‏‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ’ وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے ‘۔ «أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔ بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے { «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ } پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ ۱؎ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏‏‏‏

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏‏‏‏“ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» ۱؎ [78-النبأ:30] ‏‏‏‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏‏‏‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏‏‏‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» ۱؎ [11-ھود:107] ‏‏‏‏ یعنی ’ جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے ‘، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» ۱؎ [78-النبإ:25] ‏‏‏‏ کے ساتھ یعنی ’ وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا ‘، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔ حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔ «حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔

سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔ بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔ پھر فرمایا ’ یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے ‘، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔ «كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ’ ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے ‘۔ ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ’ اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے ‘۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» ۱؎ [78-النبأ:30] ‏‏‏‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏‏‏‏
جو جہنمیوں کے جسموں سے نکلے گی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
جَزَآءً وِّفَاقًا ﴿ؕ۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اُن کے کرتوتوں) کا بھرپور بدلہ
مولانا محمد جوناگڑھی
(ان کو) پورا پورا بدلہ ملے گا
احمد رضا خان بریلوی
جیسے کو تیسا بدلہ
علامہ محمد حسین نجفی
یہ (ان کے اعمال) کے مطابق بدلہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پورا پورا بدلہ دینے کے لیے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ’ سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے ‘۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏‏‏‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ’ وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے ‘۔ «أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔ بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے { «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ } پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ ۱؎ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏‏‏‏

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏‏‏‏“ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» ۱؎ [78-النبأ:30] ‏‏‏‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏‏‏‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏‏‏‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» ۱؎ [11-ھود:107] ‏‏‏‏ یعنی ’ جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے ‘، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» ۱؎ [78-النبإ:25] ‏‏‏‏ کے ساتھ یعنی ’ وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا ‘، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔ حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔ «حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔

سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔ بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔ پھر فرمایا ’ یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے ‘، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔ «كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ’ ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے ‘۔ ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ’ اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے ‘۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» ۱؎ [78-النبأ:30] ‏‏‏‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏‏‏‏
26۔ 1 یعنی یہ سزا ان کے اعمال کے مطابق ہے جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِنَّہُمۡ کَانُوۡا لَا یَرۡجُوۡنَ حِسَابًا ﴿ۙ۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
انہیں تو حساب کی توقع ہی نہ تھی
احمد رضا خان بریلوی
بیشک انہیں حساب کا خوف نہ تھا
علامہ محمد حسین نجفی
یہ لوگ (روزِ) حساب (قیامت) کی توقع ہی نہیں رکھتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ وہ کسی حساب کی امید نہیں رکھتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ’ سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے ‘۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏‏‏‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ’ وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے ‘۔ «أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔ بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے { «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ } پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ ۱؎ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏‏‏‏

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏‏‏‏“ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» ۱؎ [78-النبأ:30] ‏‏‏‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏‏‏‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏‏‏‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» ۱؎ [11-ھود:107] ‏‏‏‏ یعنی ’ جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے ‘، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» ۱؎ [78-النبإ:25] ‏‏‏‏ کے ساتھ یعنی ’ وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا ‘، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔ حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔ «حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔

سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔ بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔ پھر فرمایا ’ یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے ‘، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔ «كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ’ ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے ‘۔ ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ’ اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے ‘۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» ۱؎ [78-النبأ:30] ‏‏‏‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 28،27){ اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا يَرْجُوْنَ …:} ان کے جہنم میں جانے کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ انھیں اعمال کے حساب کی امید نہ تھی، ورنہ وہ اپنے اعمال کو درست کر لیتے اور دوسری یہ کہ انھوں نے ہماری آیات کو بری طرح جھٹلادیا۔ {” كِذَّابًا “} مصدر ہے {” كَذَّبُوْا “} کا، اس کے ساتھ {” كَذَّبُوْا “} کی تاکید فرمائی ہے۔ ترجمے میں اس تاکید کو ”بری طرح“ کے لفظ سے ادا کیا گیا ہے۔
وَّ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا کِذَّابًا ﴿ؕ۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ہماری آیات کو انہوں نے بالکل جھٹلا دیا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بے باکی سے ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور انہوں نے ہماری آیتیں حد بھر جھٹلائیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور یہ ہماری آیتوں کو بےدریغ جھٹلاتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا، بری طرح جھٹلانا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ’ سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے ‘۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏‏‏‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ’ وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے ‘۔ «أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔ بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے { «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ } پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ ۱؎ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏‏‏‏

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏‏‏‏“ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» ۱؎ [78-النبأ:30] ‏‏‏‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏‏‏‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏‏‏‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» ۱؎ [11-ھود:107] ‏‏‏‏ یعنی ’ جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے ‘، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» ۱؎ [78-النبإ:25] ‏‏‏‏ کے ساتھ یعنی ’ وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا ‘، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔ حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔ «حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔

سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔ بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔ پھر فرمایا ’ یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے ‘، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔ «كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ’ ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے ‘۔ ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ’ اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے ‘۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» ۱؎ [78-النبأ:30] ‏‏‏‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ کُلَّ شَیۡءٍ اَحۡصَیۡنٰہُ کِتٰبًا ﴿ۙ۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور حال یہ تھا کہ ہم نے ہر چیز گن گن کر لکھ رکھی تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے ہر ایک چیز کو لکھ کر شمار کر رکھا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے ہر چیز لکھ کر شمار کر رکھی ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ہر چیز کو ایک نوشتہ میں شمار کر رکھا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہر چیز، ہم نے اسے لکھ کر محفوظ کر رکھا ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ’ سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے ‘۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏‏‏‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ’ وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے ‘۔ «أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔ بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے { «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ } پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ ۱؎ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏‏‏‏

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏‏‏‏“ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» ۱؎ [78-النبأ:30] ‏‏‏‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏‏‏‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏‏‏‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» ۱؎ [11-ھود:107] ‏‏‏‏ یعنی ’ جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے ‘، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» ۱؎ [78-النبإ:25] ‏‏‏‏ کے ساتھ یعنی ’ وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا ‘، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔ حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔ «حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔

سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔ بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔ پھر فرمایا ’ یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے ‘، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔ «كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ’ ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے ‘۔ ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ’ اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے ‘۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» ۱؎ [78-النبأ:30] ‏‏‏‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏‏‏‏
29۔ 1 یعنی لوح محفوظ میں۔ یا وہ ریکارڈ مراد ہے جو فرشتے لکھتے رہے۔ پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَذُوۡقُوۡا فَلَنۡ نَّزِیۡدَکُمۡ اِلَّا عَذَابًا ﴿٪۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اب چکھو مزہ، ہم تمہارے لیے عذاب کے سوا کسی چیز میں ہرگز اضافہ نہ کریں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اب تم (اپنے کیے کا) مزه چکھو ہم تمہارا عذاب ہی بڑھاتے رہیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اب چکھو کہ ہم تمہیں نہ بڑھائیں گے مگر عذاب،
علامہ محمد حسین نجفی
چکھو اس کامزہ ہم تمہارے عذاب میں اضافہ ہی کریں گے۔
عبدالسلام بن محمد
پس چکھو کہ ہم تمھیں عذاب کے سوا ہرگز کسی چیز میں زیادہ نہیں کریں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ’ سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے ‘۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏‏‏‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ’ وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے ‘۔ «أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔ بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے { «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ } پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ ۱؎ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏‏‏‏

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏‏‏‏“ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» ۱؎ [78-النبأ:30] ‏‏‏‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏‏‏‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏‏‏‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» ۱؎ [11-ھود:107] ‏‏‏‏ یعنی ’ جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے ‘، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» ۱؎ [78-النبإ:25] ‏‏‏‏ کے ساتھ یعنی ’ وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا ‘، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔ حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔ «حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔

سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔ بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔ پھر فرمایا ’ یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے ‘، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔ «كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ’ ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے ‘۔ ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ’ اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے ‘۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» ۱؎ [78-النبأ:30] ‏‏‏‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 30) {فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِيْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا:} یعنی جس طرح تم کفر و تکذیب میں برابر بڑھتے چلے گئے اسی طرح ہم بھی تمھارا عذاب برابر بڑھاتے رہیں گے اور کسی لمحہ اس میں تخفیف نہیں کریں گے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۵۶) اور سورۂ بنی اسرائیل (۹۷)۔
اِنَّ لِلۡمُتَّقِیۡنَ مَفَازًا ﴿ۙ۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یقیناً متقیوں کے لیے کامرانی کا ایک مقام ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً پرہیزگار لوگوں کے لئے کامیابی ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ڈر والوں کو کامیابی کی جگہ ہے
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک پرہیزگاروں کیلئے کامیابی و کامرانی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا پرہیزگاروں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فضول اور گناہوں سے پاک دنیا ٭٭

نیک لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں جو نعمتیں و رحمتیں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ کامیاب مقصد کو پانے والے اور نصیب دار ہیں کہ جہنم سے نجات پائی اور جنت میں پہنچ گئے۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں کھجور وغیرہ کے باغات کو، انہیں نوجوان کنواری حوریں بھی ملیں گی جو ابھرے ہوئے سینے والیاں اور ہم عمر ہوں گی، جیسے کہ سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں اس کا پورا بیان گزر چکا۔ ایک حدیث میں ہے کہ { جنتیوں کے لباس ہی اللہ کی رضا مندی کے ہوں گے، بادل ان پر آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ بتاؤ ہم تم پر کیا برسائیں؟ پھر جو وہ فرمائیں گے، بادل ان پر برسائیں گے یہاں تک کہ نوجوان کنواری لڑکیاں بھی ان پر برسیں گی }۔ ۱؎ [بیھقی البعث و النشور:ص318:ضعیف] ‏‏‏‏ انہیں شراب طہور کے چھلکتے ہوئے، پاک صاف، بھرپور جام پر جام ملیں گے جس میں نشہ نہ ہو گا کہ بے ہودہ گوئی اور لغو باتیں منہ سے نکلیں اور کان میں پڑیں، جیسے اور جگہ ہے «لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَلَا تَاْثِيْمٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [52-الطور:23] ‏‏‏‏ ’ اس میں نہ لغو ہو گا نہ فضول گوئی اور نہ گناہ کی باتیں ‘، کوئی بات جھوٹ اور فضول نہ ہو گی، وہ دارالسلام ہے جس میں کوئی عیب کی اور برائی کی بات ہی نہیں، یہ ان پارسا بزرگوں کو جو کچھ بدلے ملے ہیں یہ ان کے نیک اعمال کا نتیجہ ہے جو اللہ کے فضل و کرم احسان و انعام کی بناء پر ملے ہیں، جو بے حد کافی، بکثرت اور بھرپور ہیں۔ عرب کہتے ہیں «‏‏‏‏أَعْطَانِي فَأَحْسَبنِي» ‏‏‏‏انعام دیا اور بھرپور دیا اسی طرح کہتے ہیں «حَسْبِي اللَّه» ‏‏‏‏یعنی اللہ مجھے ہر طرح کافی وافی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 31){ اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ مَفَازًا:} جہنم اور جہنمیوں کے بعد جنت اور جنتیوں کا ذکر ہے۔ یہاں متقین کا ذکر ان لوگوں کے مقابلے میں آیا ہے جنھیں کسی حساب کی توقع نہ تھی اور جنھوں نے اللہ کی آیات کو بالکل جھٹلادیا تھا، یعنی اعمال کے حساب سے ڈرنے والوں اور کفر وتکذیب سے ڈرنے والوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔{” مَفَازًا “} مصدر ہو تومعنی ہے ”کامیابی“ اور ظرف ہو تو معنی ہے ”کامیابی کا مقام۔“ {” مَفَازًا “} میں تنوین ”ایک بڑی“ کا مفہوم ادا کر رہی ہے۔
حَدَآئِقَ وَ اَعۡنَابًا ﴿ۙ۳۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
باغ اور انگور
مولانا محمد جوناگڑھی
باغات ہیں اور انگور ہیں
احمد رضا خان بریلوی
باغ ہیں اور انگور،
علامہ محمد حسین نجفی
یعنی باغ اور انگور ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
باغات اور انگور۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فضول اور گناہوں سے پاک دنیا ٭٭

نیک لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں جو نعمتیں و رحمتیں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ کامیاب مقصد کو پانے والے اور نصیب دار ہیں کہ جہنم سے نجات پائی اور جنت میں پہنچ گئے۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں کھجور وغیرہ کے باغات کو، انہیں نوجوان کنواری حوریں بھی ملیں گی جو ابھرے ہوئے سینے والیاں اور ہم عمر ہوں گی، جیسے کہ سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں اس کا پورا بیان گزر چکا۔ ایک حدیث میں ہے کہ { جنتیوں کے لباس ہی اللہ کی رضا مندی کے ہوں گے، بادل ان پر آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ بتاؤ ہم تم پر کیا برسائیں؟ پھر جو وہ فرمائیں گے، بادل ان پر برسائیں گے یہاں تک کہ نوجوان کنواری لڑکیاں بھی ان پر برسیں گی }۔ ۱؎ [بیھقی البعث و النشور:ص318:ضعیف] ‏‏‏‏ انہیں شراب طہور کے چھلکتے ہوئے، پاک صاف، بھرپور جام پر جام ملیں گے جس میں نشہ نہ ہو گا کہ بے ہودہ گوئی اور لغو باتیں منہ سے نکلیں اور کان میں پڑیں، جیسے اور جگہ ہے «لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَلَا تَاْثِيْمٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [52-الطور:23] ‏‏‏‏ ’ اس میں نہ لغو ہو گا نہ فضول گوئی اور نہ گناہ کی باتیں ‘، کوئی بات جھوٹ اور فضول نہ ہو گی، وہ دارالسلام ہے جس میں کوئی عیب کی اور برائی کی بات ہی نہیں، یہ ان پارسا بزرگوں کو جو کچھ بدلے ملے ہیں یہ ان کے نیک اعمال کا نتیجہ ہے جو اللہ کے فضل و کرم احسان و انعام کی بناء پر ملے ہیں، جو بے حد کافی، بکثرت اور بھرپور ہیں۔ عرب کہتے ہیں «‏‏‏‏أَعْطَانِي فَأَحْسَبنِي» ‏‏‏‏انعام دیا اور بھرپور دیا اسی طرح کہتے ہیں «حَسْبِي اللَّه» ‏‏‏‏یعنی اللہ مجھے ہر طرح کافی وافی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 32تا34) {حَدَآىِٕقَ وَ اَعْنَابًا …: ” حَدَآىِٕقَ”حَدِيْقَةٌ“} کی جمع ہے، وہ باغ جس کے گرد چار دیواری ہو۔ {” اَعْنَابًا”عِنَبٌ“} کی جمع ہے۔ انگور کو پھلوں میں ایک خصوصیت حاصل ہے، اس لیے اس کا ذکر خاص طور پر فرمایا۔ {” اَعْنَابًا “} جمع لانے کا مطلب ہے کہ انگور کی بہت سی اقسام ہوں گی۔ {” كَوَاعِبَ”كَاعِبٌ“} کی جمع ہے، وہ نوجوان لڑکی جس کا سینہ ایسے ابھرا ہوا ہو جیسے کعب یعنی ٹخنہ۔ {” اَتْرَابًا”تِرْبٌ“} (تاء کے کسرہ کے ساتھ) کی جمع ہے، مٹی میں ساتھ کھیلنے والے ہم عمر۔ آپس میں ہم عمر ہوں گی یا اپنے خاوندوں کی ہم عمر ہوں گی۔
وَّکَوَاعِبَ اَتۡرَابًا ﴿ۙ۳۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور نوخیر ہم سن لڑکیاں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور نوجوان کنواری ہم عمر عورتیں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اٹھتے جوبن والیاں ایک عمر کی،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اٹھتی جوانیوں والی ہم عمر لڑکیاں (حوریں)۔
عبدالسلام بن محمد
اور ابھری چھاتیوں والی ہم عمر لڑکیاں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فضول اور گناہوں سے پاک دنیا ٭٭

نیک لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں جو نعمتیں و رحمتیں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ کامیاب مقصد کو پانے والے اور نصیب دار ہیں کہ جہنم سے نجات پائی اور جنت میں پہنچ گئے۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں کھجور وغیرہ کے باغات کو، انہیں نوجوان کنواری حوریں بھی ملیں گی جو ابھرے ہوئے سینے والیاں اور ہم عمر ہوں گی، جیسے کہ سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں اس کا پورا بیان گزر چکا۔ ایک حدیث میں ہے کہ { جنتیوں کے لباس ہی اللہ کی رضا مندی کے ہوں گے، بادل ان پر آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ بتاؤ ہم تم پر کیا برسائیں؟ پھر جو وہ فرمائیں گے، بادل ان پر برسائیں گے یہاں تک کہ نوجوان کنواری لڑکیاں بھی ان پر برسیں گی }۔ ۱؎ [بیھقی البعث و النشور:ص318:ضعیف] ‏‏‏‏ انہیں شراب طہور کے چھلکتے ہوئے، پاک صاف، بھرپور جام پر جام ملیں گے جس میں نشہ نہ ہو گا کہ بے ہودہ گوئی اور لغو باتیں منہ سے نکلیں اور کان میں پڑیں، جیسے اور جگہ ہے «لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَلَا تَاْثِيْمٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [52-الطور:23] ‏‏‏‏ ’ اس میں نہ لغو ہو گا نہ فضول گوئی اور نہ گناہ کی باتیں ‘، کوئی بات جھوٹ اور فضول نہ ہو گی، وہ دارالسلام ہے جس میں کوئی عیب کی اور برائی کی بات ہی نہیں، یہ ان پارسا بزرگوں کو جو کچھ بدلے ملے ہیں یہ ان کے نیک اعمال کا نتیجہ ہے جو اللہ کے فضل و کرم احسان و انعام کی بناء پر ملے ہیں، جو بے حد کافی، بکثرت اور بھرپور ہیں۔ عرب کہتے ہیں «‏‏‏‏أَعْطَانِي فَأَحْسَبنِي» ‏‏‏‏انعام دیا اور بھرپور دیا اسی طرح کہتے ہیں «حَسْبِي اللَّه» ‏‏‏‏یعنی اللہ مجھے ہر طرح کافی وافی ہے۔
33۔ 1 کَوَاعِبَ کَاعِبَۃً کی جمع ہے، یہ کَعْبً (ٹخنہ) سے ہے، ابھرا ہوا ہوتا ہے، ان کی چھاتیوں میں بھی ایسا ہی ابھار ہوگا، جو ان کے حسن و جمال کا ایک مظہر ہے۔ اَتْرَاب، ُ ہم عمر۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَّ کَاۡسًا دِہَاقًا ﴿ؕ۳۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور چھلکتے ہوئے جام
مولانا محمد جوناگڑھی
اور چھلکتے ہوئے جام شراب ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور چھلکتا جام
علامہ محمد حسین نجفی
اور چھلکتے ہوئے (شرابِ طہور کے) جام۔
عبدالسلام بن محمد
اور چھلکتے ہوئے پیالے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فضول اور گناہوں سے پاک دنیا ٭٭

نیک لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں جو نعمتیں و رحمتیں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ کامیاب مقصد کو پانے والے اور نصیب دار ہیں کہ جہنم سے نجات پائی اور جنت میں پہنچ گئے۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں کھجور وغیرہ کے باغات کو، انہیں نوجوان کنواری حوریں بھی ملیں گی جو ابھرے ہوئے سینے والیاں اور ہم عمر ہوں گی، جیسے کہ سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں اس کا پورا بیان گزر چکا۔ ایک حدیث میں ہے کہ { جنتیوں کے لباس ہی اللہ کی رضا مندی کے ہوں گے، بادل ان پر آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ بتاؤ ہم تم پر کیا برسائیں؟ پھر جو وہ فرمائیں گے، بادل ان پر برسائیں گے یہاں تک کہ نوجوان کنواری لڑکیاں بھی ان پر برسیں گی }۔ ۱؎ [بیھقی البعث و النشور:ص318:ضعیف] ‏‏‏‏ انہیں شراب طہور کے چھلکتے ہوئے، پاک صاف، بھرپور جام پر جام ملیں گے جس میں نشہ نہ ہو گا کہ بے ہودہ گوئی اور لغو باتیں منہ سے نکلیں اور کان میں پڑیں، جیسے اور جگہ ہے «لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَلَا تَاْثِيْمٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [52-الطور:23] ‏‏‏‏ ’ اس میں نہ لغو ہو گا نہ فضول گوئی اور نہ گناہ کی باتیں ‘، کوئی بات جھوٹ اور فضول نہ ہو گی، وہ دارالسلام ہے جس میں کوئی عیب کی اور برائی کی بات ہی نہیں، یہ ان پارسا بزرگوں کو جو کچھ بدلے ملے ہیں یہ ان کے نیک اعمال کا نتیجہ ہے جو اللہ کے فضل و کرم احسان و انعام کی بناء پر ملے ہیں، جو بے حد کافی، بکثرت اور بھرپور ہیں۔ عرب کہتے ہیں «‏‏‏‏أَعْطَانِي فَأَحْسَبنِي» ‏‏‏‏انعام دیا اور بھرپور دیا اسی طرح کہتے ہیں «حَسْبِي اللَّه» ‏‏‏‏یعنی اللہ مجھے ہر طرح کافی وافی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
لَا یَسۡمَعُوۡنَ فِیۡہَا لَغۡوًا وَّ لَا کِذّٰبًا ﴿ۚ۳۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہاں کوئی لغو اور جھوٹی بات وہ نہ سنیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
وہاں نہ تو وه بیہوده باتیں سنیں گے اور نہ جھوٹی باتیں سنیں گے
احمد رضا خان بریلوی
جس میں نہ کوئی بیہودہ بات سنیں نہ جھٹلانا
علامہ محمد حسین نجفی
وہ لوگ وہاں نہ کوئی بےہودہ بات سنیں گے اور نہ کوئی جھوٹ۔
عبدالسلام بن محمد
وہ اس میں نہ کوئی بے ہودہ بات سنیں گے اور نہ ( ایک دوسرے کو) جھٹلانا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فضول اور گناہوں سے پاک دنیا ٭٭

نیک لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں جو نعمتیں و رحمتیں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ کامیاب مقصد کو پانے والے اور نصیب دار ہیں کہ جہنم سے نجات پائی اور جنت میں پہنچ گئے۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں کھجور وغیرہ کے باغات کو، انہیں نوجوان کنواری حوریں بھی ملیں گی جو ابھرے ہوئے سینے والیاں اور ہم عمر ہوں گی، جیسے کہ سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں اس کا پورا بیان گزر چکا۔ ایک حدیث میں ہے کہ { جنتیوں کے لباس ہی اللہ کی رضا مندی کے ہوں گے، بادل ان پر آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ بتاؤ ہم تم پر کیا برسائیں؟ پھر جو وہ فرمائیں گے، بادل ان پر برسائیں گے یہاں تک کہ نوجوان کنواری لڑکیاں بھی ان پر برسیں گی }۔ ۱؎ [بیھقی البعث و النشور:ص318:ضعیف] ‏‏‏‏ انہیں شراب طہور کے چھلکتے ہوئے، پاک صاف، بھرپور جام پر جام ملیں گے جس میں نشہ نہ ہو گا کہ بے ہودہ گوئی اور لغو باتیں منہ سے نکلیں اور کان میں پڑیں، جیسے اور جگہ ہے «لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَلَا تَاْثِيْمٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [52-الطور:23] ‏‏‏‏ ’ اس میں نہ لغو ہو گا نہ فضول گوئی اور نہ گناہ کی باتیں ‘، کوئی بات جھوٹ اور فضول نہ ہو گی، وہ دارالسلام ہے جس میں کوئی عیب کی اور برائی کی بات ہی نہیں، یہ ان پارسا بزرگوں کو جو کچھ بدلے ملے ہیں یہ ان کے نیک اعمال کا نتیجہ ہے جو اللہ کے فضل و کرم احسان و انعام کی بناء پر ملے ہیں، جو بے حد کافی، بکثرت اور بھرپور ہیں۔ عرب کہتے ہیں «‏‏‏‏أَعْطَانِي فَأَحْسَبنِي» ‏‏‏‏انعام دیا اور بھرپور دیا اسی طرح کہتے ہیں «حَسْبِي اللَّه» ‏‏‏‏یعنی اللہ مجھے ہر طرح کافی وافی ہے۔
35۔ 1 یعنی کوئی بےفائدہ اور بےہودہ بات وہاں نہیں ہوگی، نہ ایک دوسرے سے جھوٹ بولیں گے۔
(آیت 35){ لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًا:} جنت کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت یہ ہے کہ آدمی کے کان وہاں نہ کوئی بے ہودہ بات سنیں گے اور نہ یہ سنیں گے کہ کوئی کسی کو جھوٹا کہہ رہا ہے۔ کوئی کسی سے جھگڑے گا ہی نہیں کہ اس کی بات کو جھٹلائے۔ گالی گلوچ اور دنگا فساد کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس نعمت کی قدر وہی جانتا ہے جسے ان کاموں سے نفرت ہو، پھر اسے بے ہودہ بکنے والوں اور ایک دوسرے کو جھٹلانے والے بدتمیزوں سے واسطہ رہتا ہو۔
جَزَآءً مِّنۡ رَّبِّکَ عَطَآءً حِسَابًا ﴿ۙ۳۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جزا اور کافی انعام تمہارے رب کی طرف سے
مولانا محمد جوناگڑھی
(ان کو) تیرے رب کی طرف سے (ان کے نیک اعمال کا) بدلہ ملے گا جو کافی انعام ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
صلہ تمہارے رب کی طرف سے نہایت کافی عطا،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے بطور عطیہ صلہ ہے جو کافی و وافی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تیرے رب کی طرف سے بدلے میں ایسا عطیہ ہے جو کافی ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فضول اور گناہوں سے پاک دنیا ٭٭

نیک لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں جو نعمتیں و رحمتیں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ کامیاب مقصد کو پانے والے اور نصیب دار ہیں کہ جہنم سے نجات پائی اور جنت میں پہنچ گئے۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں کھجور وغیرہ کے باغات کو، انہیں نوجوان کنواری حوریں بھی ملیں گی جو ابھرے ہوئے سینے والیاں اور ہم عمر ہوں گی، جیسے کہ سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں اس کا پورا بیان گزر چکا۔ ایک حدیث میں ہے کہ { جنتیوں کے لباس ہی اللہ کی رضا مندی کے ہوں گے، بادل ان پر آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ بتاؤ ہم تم پر کیا برسائیں؟ پھر جو وہ فرمائیں گے، بادل ان پر برسائیں گے یہاں تک کہ نوجوان کنواری لڑکیاں بھی ان پر برسیں گی }۔ ۱؎ [بیھقی البعث و النشور:ص318:ضعیف] ‏‏‏‏ انہیں شراب طہور کے چھلکتے ہوئے، پاک صاف، بھرپور جام پر جام ملیں گے جس میں نشہ نہ ہو گا کہ بے ہودہ گوئی اور لغو باتیں منہ سے نکلیں اور کان میں پڑیں، جیسے اور جگہ ہے «لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَلَا تَاْثِيْمٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [52-الطور:23] ‏‏‏‏ ’ اس میں نہ لغو ہو گا نہ فضول گوئی اور نہ گناہ کی باتیں ‘، کوئی بات جھوٹ اور فضول نہ ہو گی، وہ دارالسلام ہے جس میں کوئی عیب کی اور برائی کی بات ہی نہیں، یہ ان پارسا بزرگوں کو جو کچھ بدلے ملے ہیں یہ ان کے نیک اعمال کا نتیجہ ہے جو اللہ کے فضل و کرم احسان و انعام کی بناء پر ملے ہیں، جو بے حد کافی، بکثرت اور بھرپور ہیں۔ عرب کہتے ہیں «‏‏‏‏أَعْطَانِي فَأَحْسَبنِي» ‏‏‏‏انعام دیا اور بھرپور دیا اسی طرح کہتے ہیں «حَسْبِي اللَّه» ‏‏‏‏یعنی اللہ مجھے ہر طرح کافی وافی ہے۔
36۔ 1 یعنی اللہ کی دادو دہشت کی وہاں فروانی ہوگی۔
(آیت 37،36) ➊ { جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًا …:} یہ سب کچھ ان کے رب کی طرف سے ان کے اعمال کا بدلا ہے۔ بدلا دینے والا رب تعالیٰ ہو تو بدلا کتنا عظیم ہوگا، پھر برابر بدلا ہی نہیں، دس گنا سے لے کر سات سو گنا بلکہ اس سے بھی بڑھا کر لامحدود گنا عطیہ ملے گا۔ البتہ گناہ کا بدلا اتنا ہی ہوگا جتنا گناہ ہے۔ ➋ { عَطَآءً حِسَابًا:} اس کے دو معنی ہیں، پہلا یہ کہ وہ عطیہ حساب سے ہوگا، یعنی ان کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی ایسا نہ ہوگا جو حساب میں نہ آئے۔ دوسرا معنی ہے ”کافی عطیہ۔“ جیسے {”حَسْبِيَ اللّٰهُ “} کا معنی ہے مجھے اللہ کافی ہے، یعنی اتنا بدلا ہوگا جس سے زیادہ کی خواہش نہیں ہو گی۔ ➌ {لَا يَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًا:} یعنی انتہائی لطف و رحمت کے باوجود قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا جلال اس قدر ہوگا کہ کوئی اس کے سامنے لب کشائی نہیں کر سکے گا۔ (اشرف الحواشی)
رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا الرَّحۡمٰنِ لَا یَمۡلِکُوۡنَ مِنۡہُ خِطَابًا ﴿ۚ۳۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس نہایت مہربان خدا کی طرف سے جو زمین اور آسمانوں کا اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے جس کے سامنے کسی کو بولنے کا یارا نہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
(اس رب کی طرف سے ملے گا جو کہ) آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا پروردگار ہے اور بڑی بخشش کرنے واﻻ ہے۔ کسی کو اس سے بات چیت کرنے کا اختیار نہیں ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے رحمن کہ اس سے بات کرنے کا اختیار نہ رکھیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
یعنی وہ ربِ رحمان کی طرف سے جو آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی سب چیزوں کا پروردگار (اور مالک) ہے (جس کی ہیبت سے) لوگوں کو اس سے بات کرنے کایارا نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
(اس رب کی طرف سے) جو آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا رب ہے، بے حد رحم والا، وہ اس سے کوئی بات کرنے کی قدرت نہیں رکھیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
روح الامین علیہ السلام ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی عظمت و جلال کی خبر دے رہا ہے کہ ’ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی تمام مخلوق کا پالنے پوسنے والا ہے، وہ رحمان ہے، جس کے رحم نے تمام چیزوں کو گھیر لیا ہے، جب تک اس کی اجازت نہ ہو کوئی اس کے سامنے لب نہیں ہلا سکتا ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» ۱؎ [2-البقرة:255] ‏‏‏‏ یعنی ’ کون ہے جو اس کی اجازت بغیر اس کے سامنے سفارش لے جا سکے ‘۔ اور جگہ ہے «‏‏‏‏يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ» ۱؎ [11-ھود:105] ‏‏‏‏ ’ جس دن وه آ جائے گا کوئی بھی بلا اجازت اس سے بات نہ کر سکے گا ‘۔ روح سے مراد یا تو کل انسانوں کی روحیں ہیں یا کل انسان ہیں یا ایک قسم کی خاص مخلوق ہے جو انسانوں کی سی صورتوں والے ہیں کھاتے پیتے ہیں نہ وہ فرشتے ہیں نہ انسان، یا مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، جبرائیل علیہ السلام کو اور جگہ بھی «روح» کہا گیا ہے، ارشاد ہے «‏‏‏‏نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» [‏‏‏‏26-الشعراء:194،193] ‏‏‏‏ ’ اسے امانت دار «روح» نے تیرے دل پر اتارا ہے تاکہ تو ڈرانے والا بن جائے ‘، یہاں مراد «روح» سے یقیناً جبرائیل علیہ السلام ہیں۔

مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”تمام فرشتوں سے بزرگ، اللہ کے مقرب اور وحی لے کر آنے والے بھی ہیں، یا مراد «روح» سے قرآن ہے، اس کی دلیل میں یہ آیت پیش کی جاسکتی ہے «‏‏‏‏وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا» ‏‏‏‏ ۱؎ [42-الشورى:52] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اپنے حکم سے تیری طرف روح اتاری ‘، یہاں «روح» سے مراد قرآن ہے۔ چھٹا قول یہ ہے کہ یہ ایک فرشتہ ہے جو تمام مخلوق کے برابر ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”یہ فرشتہ تمام فرشتوں سے بہت بڑا ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”یہ روح نامی فرشتہ چوتھے آسمان میں ہے، تمام آسمانوں، کل پہاڑوں اور سب فرشتوں سے بڑا ہے، ہر دن بارہ ہزار تسبیحات پڑھتا ہے ہر ایک تسبیح سے ایک ایک فرشتہ پیدا ہوتا ہے، قیامت کے دن وہ اکیلا ایک صف بن کر آئے گا۔‏‏‏‏“ لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22/30:ضعیف] ‏‏‏‏ طبرانی میں حدیث ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”فرشتوں میں ایک فرشتہ وہ بھی ہے کہ اگر اسے حکم ہو کہ تمام آسمانوں اور زمینوں کو لقمہ بنا لے تو وہ ایک لقمہ میں سب کو لے لے اس کی تسبیح یہ ہے «سُبْحَانك حَيْثُ كُنْتَ» اللہ تو جہاں کہیں بھی ہے پاک ہے“ } ۱؎ [طبرانی کبیر:11476،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی بہت غریب ہے بلکہ اس کے فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے میں بھی کلام ہے، ممکن ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہو، اور وہ بھی بنی اسرائیل سے لیا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہ سب اقوال وارد کئے ہیں لیکن کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ میرے نزدیک ان تمام اقوال میں سے بہتر قول یہ ہے کہ یہاں «روح» سے مراد کل انسان ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرمایا ’ صرف وہی اس دن بات کر سکے گا جسے وہ رحمن اجازت دے ‘۔ جیسے فرمایا «يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» ۱؎ [11-ھود:105] ‏‏‏‏ یعنی ’ جس دن وہ وقت آئے گا کوئی نفس بغیر اس کی اجازت کے کلام بھی نہیں کر سکے گا ‘۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ { اس دن سوائے رسولوں کے کوئی بات نہ کر سکے گا}۔ ۱؎ [صحیح بخاری:806] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ اس کی بات بھی ٹھیک ٹھاک ہو ‘، سب سے زیادہ حق بات «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» ہے۔ پھر فرمایا کہ ’ یہ دن حق ہے یقیناً آنے والا ہے، جو چاہے اپنے رب کے پاس اپنے لوٹنے کی جگہ اور وہ راستہ بنا لے جس پر چل کر وہ اس کے پاس سیدھا جا پہنچے، ہم نے تمہیں بالکل قریب آئی ہوئی آفت سے آگاہ کر دیا ہے، آنے والی چیز تو آ گئی ہوئی سمجھنی چاہیئے، اس دن نئے پرانے چھوٹے بڑے اچھے برے کل اعمال انسان کے سامنے ہوں گے ‘۔ جیسے فرمایا «وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا» ۱؎ [18-الکھف:49] ‏‏‏‏ ’ جو کیا اسے سامنے پا لیں گے ‘ اور جگہ ہے، «‏‏‏‏يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ» ‏‏‏‏۱؎ [75-القيامة:13] ‏‏‏‏ ’ ہر انسان کو اس کے اگلے پچھلے اعمال سے متنبہ کیا جائے گا ‘۔ اس دن کافر آرزو کرے گا کاش کہ وہ مٹی ہوتا پیدا ہی نہ کیا جاتا وجود میں ہی نہ آتا، اللہ کے عذاب کو آنکھ سے دیکھ لے گا اپنی بدکاریاں سامنے ہوں گی جو پاک فرشتوں کے منصف ہاتھوں کی لکھی ہوئی ہیں، پس ایک معنی تو یہ ہوئے کہ دنیا میں ہی مٹی ہونے کی یعنی پیدا نہ ہونے کی آرزو کرے گا۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ جب جانوروں کا فیصلہ ہو گا اور ان کے قصاص دلوائے جائیں گے یہاں تک کہ بے سینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہو گا تو اس سے بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جاؤ وہ مٹی ہو جائیں گے، اس وقت یہ کافر انسان بھی کہے گا کہ ہائے کاش میں بھی حیوان ہوتا اور اب مٹی بن جاتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لمبی حدیث میں بھی یہ مضمون وارد ہوا ہے اور سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ النباء کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـهِ وَالْمِنَّة وَبِهِ التَّوْفِيْقُ وَالْعِصْمَة»
37۔ 1 یعنی اس کی عظمت، ہیبت اور جلالت اتنی ہوگی کہ ابتداء اس سے کسی کو بات کرنے کی ہمت نہ ہوگی، اسی لئے اس کی اجازت کے بغیر کوئی شفاعت کے لئے لب کشائی نہیں کرسکے گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
یَوۡمَ یَقُوۡمُ الرُّوۡحُ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ صَفًّا ؕ٭ۙ لَّا یَتَکَلَّمُوۡنَ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَہُ الرَّحۡمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا ﴿۳۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس روز روح اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہونگے، کوئی نہ بولے گا سوائے اُس کے جسے رحمٰن اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن روح اور فرشتے صفیں باندھ کر کھڑے ہوں گے تو کوئی کلام نہ کر سکے گا مگر جسے رحمٰن اجازت دے دے اور وه ٹھیک بات زبان سے نکالے
احمد رضا خان بریلوی
جس دن جبریل کھڑا ہوگا اور سب فرشتے پرا باندھے (صفیں بنائے) کوئی نہ بول سکے گا مگر جسے رحمن نے اذن دیا اور اس نے ٹھیک بات کہی
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن روح اور فرشتے صف باندھے کھڑے ہوں گے کوئی بات نہیں کرے گا مگر جسے خدائے رحمان اجازت دے گا اور وہ ٹھیک بات کہے گا۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن روح اور فرشتے صف بنا کر کھڑے ہوں گے، وہ کلام نہیں کریں گے، مگر وہی جسے رحمان اجازت دے گا اور وہ درست بات کہے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
روح الامین علیہ السلام ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی عظمت و جلال کی خبر دے رہا ہے کہ ’ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی تمام مخلوق کا پالنے پوسنے والا ہے، وہ رحمان ہے، جس کے رحم نے تمام چیزوں کو گھیر لیا ہے، جب تک اس کی اجازت نہ ہو کوئی اس کے سامنے لب نہیں ہلا سکتا ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» ۱؎ [2-البقرة:255] ‏‏‏‏ یعنی ’ کون ہے جو اس کی اجازت بغیر اس کے سامنے سفارش لے جا سکے ‘۔ اور جگہ ہے «‏‏‏‏يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ» ۱؎ [11-ھود:105] ‏‏‏‏ ’ جس دن وه آ جائے گا کوئی بھی بلا اجازت اس سے بات نہ کر سکے گا ‘۔ روح سے مراد یا تو کل انسانوں کی روحیں ہیں یا کل انسان ہیں یا ایک قسم کی خاص مخلوق ہے جو انسانوں کی سی صورتوں والے ہیں کھاتے پیتے ہیں نہ وہ فرشتے ہیں نہ انسان، یا مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، جبرائیل علیہ السلام کو اور جگہ بھی «روح» کہا گیا ہے، ارشاد ہے «‏‏‏‏نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» [‏‏‏‏26-الشعراء:194،193] ‏‏‏‏ ’ اسے امانت دار «روح» نے تیرے دل پر اتارا ہے تاکہ تو ڈرانے والا بن جائے ‘، یہاں مراد «روح» سے یقیناً جبرائیل علیہ السلام ہیں۔

مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”تمام فرشتوں سے بزرگ، اللہ کے مقرب اور وحی لے کر آنے والے بھی ہیں، یا مراد «روح» سے قرآن ہے، اس کی دلیل میں یہ آیت پیش کی جاسکتی ہے «‏‏‏‏وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا» ‏‏‏‏ ۱؎ [42-الشورى:52] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اپنے حکم سے تیری طرف روح اتاری ‘، یہاں «روح» سے مراد قرآن ہے۔ چھٹا قول یہ ہے کہ یہ ایک فرشتہ ہے جو تمام مخلوق کے برابر ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”یہ فرشتہ تمام فرشتوں سے بہت بڑا ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”یہ روح نامی فرشتہ چوتھے آسمان میں ہے، تمام آسمانوں، کل پہاڑوں اور سب فرشتوں سے بڑا ہے، ہر دن بارہ ہزار تسبیحات پڑھتا ہے ہر ایک تسبیح سے ایک ایک فرشتہ پیدا ہوتا ہے، قیامت کے دن وہ اکیلا ایک صف بن کر آئے گا۔‏‏‏‏“ لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22/30:ضعیف] ‏‏‏‏ طبرانی میں حدیث ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”فرشتوں میں ایک فرشتہ وہ بھی ہے کہ اگر اسے حکم ہو کہ تمام آسمانوں اور زمینوں کو لقمہ بنا لے تو وہ ایک لقمہ میں سب کو لے لے اس کی تسبیح یہ ہے «سُبْحَانك حَيْثُ كُنْتَ» اللہ تو جہاں کہیں بھی ہے پاک ہے“ } ۱؎ [طبرانی کبیر:11476،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی بہت غریب ہے بلکہ اس کے فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے میں بھی کلام ہے، ممکن ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہو، اور وہ بھی بنی اسرائیل سے لیا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہ سب اقوال وارد کئے ہیں لیکن کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ میرے نزدیک ان تمام اقوال میں سے بہتر قول یہ ہے کہ یہاں «روح» سے مراد کل انسان ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرمایا ’ صرف وہی اس دن بات کر سکے گا جسے وہ رحمن اجازت دے ‘۔ جیسے فرمایا «يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» ۱؎ [11-ھود:105] ‏‏‏‏ یعنی ’ جس دن وہ وقت آئے گا کوئی نفس بغیر اس کی اجازت کے کلام بھی نہیں کر سکے گا ‘۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ { اس دن سوائے رسولوں کے کوئی بات نہ کر سکے گا}۔ ۱؎ [صحیح بخاری:806] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ اس کی بات بھی ٹھیک ٹھاک ہو ‘، سب سے زیادہ حق بات «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» ہے۔ پھر فرمایا کہ ’ یہ دن حق ہے یقیناً آنے والا ہے، جو چاہے اپنے رب کے پاس اپنے لوٹنے کی جگہ اور وہ راستہ بنا لے جس پر چل کر وہ اس کے پاس سیدھا جا پہنچے، ہم نے تمہیں بالکل قریب آئی ہوئی آفت سے آگاہ کر دیا ہے، آنے والی چیز تو آ گئی ہوئی سمجھنی چاہیئے، اس دن نئے پرانے چھوٹے بڑے اچھے برے کل اعمال انسان کے سامنے ہوں گے ‘۔ جیسے فرمایا «وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا» ۱؎ [18-الکھف:49] ‏‏‏‏ ’ جو کیا اسے سامنے پا لیں گے ‘ اور جگہ ہے، «‏‏‏‏يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ» ‏‏‏‏۱؎ [75-القيامة:13] ‏‏‏‏ ’ ہر انسان کو اس کے اگلے پچھلے اعمال سے متنبہ کیا جائے گا ‘۔ اس دن کافر آرزو کرے گا کاش کہ وہ مٹی ہوتا پیدا ہی نہ کیا جاتا وجود میں ہی نہ آتا، اللہ کے عذاب کو آنکھ سے دیکھ لے گا اپنی بدکاریاں سامنے ہوں گی جو پاک فرشتوں کے منصف ہاتھوں کی لکھی ہوئی ہیں، پس ایک معنی تو یہ ہوئے کہ دنیا میں ہی مٹی ہونے کی یعنی پیدا نہ ہونے کی آرزو کرے گا۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ جب جانوروں کا فیصلہ ہو گا اور ان کے قصاص دلوائے جائیں گے یہاں تک کہ بے سینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہو گا تو اس سے بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جاؤ وہ مٹی ہو جائیں گے، اس وقت یہ کافر انسان بھی کہے گا کہ ہائے کاش میں بھی حیوان ہوتا اور اب مٹی بن جاتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لمبی حدیث میں بھی یہ مضمون وارد ہوا ہے اور سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ النباء کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـهِ وَالْمِنَّة وَبِهِ التَّوْفِيْقُ وَالْعِصْمَة»
38۔ 1 یہ اجازت اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کو اور اپنے پیغمبروں کو عطا فرمائے گا اور وہ جو بات کریں گے حق و صواب ہی ہوگی، یا یہ مفہوم ہے کہ اجازت صرف اس کے بارے میں دی جائے گی جس نے درست بات کہی ہو، یعنی کلمہ توحید کا اقراری رہا ہو۔
(آیت 38) ➊ {يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ صَفًّا …:” الرُّوْحُ “} سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں، جیساکہ فرمایا: «‏‏‏‏نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ» ‏‏‏‏ [ الشعراء: ۱۹۳ ] ”اس (قرآن)کو امانت دار روح لے کر اترا ہے۔“ ان کا الگ ذکر ان کی شان کی عظمت کے اظہار کے لیے کیا گیا ہے، جیساکہ سورۂ بقرہ میں ہے: «‏‏‏‏مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِيْلَ وَ مِيْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِيْنَ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۹۸ ] ”جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکال کا دشمن ہو تو بے شک اللہ سب کافروں کا دشمن ہے۔“ دوسرا معنی جو لفظ سے ظاہر ہے بنو آدم کی ارواح ہیں۔ ➋ صحیح احادیث کے مطابق یہ اس وقت کا ذکر ہے جب اللہ تعالیٰ نیک و بد کے فیصلے کے لیے آسمان سے زمین پر میدانِ محشر میں نزول فرمائے گا اور لوگ سورج کی گرمی اور پسینے سے گھبرا جائیں گے اور وہ آدم علیہ السلام سے لے کر عیسیٰ علیہ السلام تک سب انبیاء کے پاس جائیں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے سفارش کریں کہ حساب کتاب شروع ہو، لیکن کسی نبی کی جرأت اور طاقت اللہ تعالیٰ سے بات کرنے کی نہ ہوگی۔ آخر کار خاتم النّبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بات کرنے کا حکم ہو گا اور آپ کی شفاعت سے سب لوگوں کا حساب شروع ہوگا۔ (احسن التفاسیر) دیکھیے صحیح بخاری (۷۴۴۰، ۷۵۱۰)۔ ➌ { لَا يَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ …:} قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے بات (سفارش) کرنے والے کے لیے دو شرطیں ہیں، پہلی یہ کہ رحمان اسے بات(سفارش) کرنے کی اجازت دے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۲۵۵ ] ”کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے؟“ دوسری یہ کہ وہ درست بات کرے، سفارش کرنے میں غلطی نہ کرے۔ مثلاً غیر مستحق کی سفارش نہ کر بیٹھے، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام اپنے والد آزر کے لیے سفارش نہیں کر سکیں گے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ جس کے حق میں اللہ تعالیٰ سے بات کی جائے اس کے لیے دو شرطیں ہیں، پہلی یہ کہ رحمان اس کے حق میں سفارش کرنے کی اجازت دے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏لَا يَشْفَعُوْنَ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى» ‏‏‏‏ [ الأنبیاء: ۲۸ ] ”وہ فرشتے صرف اسی کے لیے سفارش کرتے ہیں جسے رحمان پسند کرے۔“ دوسری یہ کہ{” قَالَ صَوَابًا “} یعنی دنیا میں اس نے درست بات کہی ہو، یعنی کلمۂ توحید کہا ہو، مسلمان ہو۔ کافر و مشرک نے دنیا میں درست بات نہیں کہی ہوتی، اس لیے اس کے حق میں سفارش کی اجازت نہیں ملے گی۔ (جامع البیان)
ذٰلِکَ الۡیَوۡمُ الۡحَقُّ ۚ فَمَنۡ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ مَاٰبًا ﴿۳۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ دن برحق ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کر لے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ دن حق ہے اب جو چاہے اپنے رب کے پاس (نیک اعمال کر کے) ٹھکانا بنالے
احمد رضا خان بریلوی
وہ سچا دن ہے اب جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ بنالے
علامہ محمد حسین نجفی
یہ دن برحق ہے پس جو چاہے اپنے پروردگار کی طرف اپنا ٹھکانہ بنائے۔
عبدالسلام بن محمد
یہی دن ہے جو حق ہے، پس جو چاہے اپنے رب کی طرف لوٹنے کی جگہ بنا لے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
روح الامین علیہ السلام ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی عظمت و جلال کی خبر دے رہا ہے کہ ’ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی تمام مخلوق کا پالنے پوسنے والا ہے، وہ رحمان ہے، جس کے رحم نے تمام چیزوں کو گھیر لیا ہے، جب تک اس کی اجازت نہ ہو کوئی اس کے سامنے لب نہیں ہلا سکتا ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» ۱؎ [2-البقرة:255] ‏‏‏‏ یعنی ’ کون ہے جو اس کی اجازت بغیر اس کے سامنے سفارش لے جا سکے ‘۔ اور جگہ ہے «‏‏‏‏يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ» ۱؎ [11-ھود:105] ‏‏‏‏ ’ جس دن وه آ جائے گا کوئی بھی بلا اجازت اس سے بات نہ کر سکے گا ‘۔ روح سے مراد یا تو کل انسانوں کی روحیں ہیں یا کل انسان ہیں یا ایک قسم کی خاص مخلوق ہے جو انسانوں کی سی صورتوں والے ہیں کھاتے پیتے ہیں نہ وہ فرشتے ہیں نہ انسان، یا مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، جبرائیل علیہ السلام کو اور جگہ بھی «روح» کہا گیا ہے، ارشاد ہے «‏‏‏‏نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» [‏‏‏‏26-الشعراء:194،193] ‏‏‏‏ ’ اسے امانت دار «روح» نے تیرے دل پر اتارا ہے تاکہ تو ڈرانے والا بن جائے ‘، یہاں مراد «روح» سے یقیناً جبرائیل علیہ السلام ہیں۔

مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”تمام فرشتوں سے بزرگ، اللہ کے مقرب اور وحی لے کر آنے والے بھی ہیں، یا مراد «روح» سے قرآن ہے، اس کی دلیل میں یہ آیت پیش کی جاسکتی ہے «‏‏‏‏وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا» ‏‏‏‏ ۱؎ [42-الشورى:52] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اپنے حکم سے تیری طرف روح اتاری ‘، یہاں «روح» سے مراد قرآن ہے۔ چھٹا قول یہ ہے کہ یہ ایک فرشتہ ہے جو تمام مخلوق کے برابر ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”یہ فرشتہ تمام فرشتوں سے بہت بڑا ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”یہ روح نامی فرشتہ چوتھے آسمان میں ہے، تمام آسمانوں، کل پہاڑوں اور سب فرشتوں سے بڑا ہے، ہر دن بارہ ہزار تسبیحات پڑھتا ہے ہر ایک تسبیح سے ایک ایک فرشتہ پیدا ہوتا ہے، قیامت کے دن وہ اکیلا ایک صف بن کر آئے گا۔‏‏‏‏“ لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22/30:ضعیف] ‏‏‏‏ طبرانی میں حدیث ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”فرشتوں میں ایک فرشتہ وہ بھی ہے کہ اگر اسے حکم ہو کہ تمام آسمانوں اور زمینوں کو لقمہ بنا لے تو وہ ایک لقمہ میں سب کو لے لے اس کی تسبیح یہ ہے «سُبْحَانك حَيْثُ كُنْتَ» اللہ تو جہاں کہیں بھی ہے پاک ہے“ } ۱؎ [طبرانی کبیر:11476،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی بہت غریب ہے بلکہ اس کے فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے میں بھی کلام ہے، ممکن ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہو، اور وہ بھی بنی اسرائیل سے لیا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہ سب اقوال وارد کئے ہیں لیکن کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ میرے نزدیک ان تمام اقوال میں سے بہتر قول یہ ہے کہ یہاں «روح» سے مراد کل انسان ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرمایا ’ صرف وہی اس دن بات کر سکے گا جسے وہ رحمن اجازت دے ‘۔ جیسے فرمایا «يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» ۱؎ [11-ھود:105] ‏‏‏‏ یعنی ’ جس دن وہ وقت آئے گا کوئی نفس بغیر اس کی اجازت کے کلام بھی نہیں کر سکے گا ‘۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ { اس دن سوائے رسولوں کے کوئی بات نہ کر سکے گا}۔ ۱؎ [صحیح بخاری:806] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ اس کی بات بھی ٹھیک ٹھاک ہو ‘، سب سے زیادہ حق بات «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» ہے۔ پھر فرمایا کہ ’ یہ دن حق ہے یقیناً آنے والا ہے، جو چاہے اپنے رب کے پاس اپنے لوٹنے کی جگہ اور وہ راستہ بنا لے جس پر چل کر وہ اس کے پاس سیدھا جا پہنچے، ہم نے تمہیں بالکل قریب آئی ہوئی آفت سے آگاہ کر دیا ہے، آنے والی چیز تو آ گئی ہوئی سمجھنی چاہیئے، اس دن نئے پرانے چھوٹے بڑے اچھے برے کل اعمال انسان کے سامنے ہوں گے ‘۔ جیسے فرمایا «وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا» ۱؎ [18-الکھف:49] ‏‏‏‏ ’ جو کیا اسے سامنے پا لیں گے ‘ اور جگہ ہے، «‏‏‏‏يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ» ‏‏‏‏۱؎ [75-القيامة:13] ‏‏‏‏ ’ ہر انسان کو اس کے اگلے پچھلے اعمال سے متنبہ کیا جائے گا ‘۔ اس دن کافر آرزو کرے گا کاش کہ وہ مٹی ہوتا پیدا ہی نہ کیا جاتا وجود میں ہی نہ آتا، اللہ کے عذاب کو آنکھ سے دیکھ لے گا اپنی بدکاریاں سامنے ہوں گی جو پاک فرشتوں کے منصف ہاتھوں کی لکھی ہوئی ہیں، پس ایک معنی تو یہ ہوئے کہ دنیا میں ہی مٹی ہونے کی یعنی پیدا نہ ہونے کی آرزو کرے گا۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ جب جانوروں کا فیصلہ ہو گا اور ان کے قصاص دلوائے جائیں گے یہاں تک کہ بے سینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہو گا تو اس سے بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جاؤ وہ مٹی ہو جائیں گے، اس وقت یہ کافر انسان بھی کہے گا کہ ہائے کاش میں بھی حیوان ہوتا اور اب مٹی بن جاتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لمبی حدیث میں بھی یہ مضمون وارد ہوا ہے اور سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ النباء کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـهِ وَالْمِنَّة وَبِهِ التَّوْفِيْقُ وَالْعِصْمَة»
39۔ 1 اس آنے والے دن کو سامنے رکھتے ہوئے ایمان وتقویٰ کی زندگی اختیار کرے تاکہ اس روز وہاں اس کو اچھا ٹھکانا مل جائے۔
(آیت 39){ ذٰلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ …:} یہ وہ دن ہے جو حق ہے، یعنی آ کر رہے گا۔ تو جب اس دن کا آنا یقینی ہے تو آدمی کو چاہیے کہ اپنے مولا کو منہ دکھانے کے قابل بننے اور اس کے پاس ٹھکانا بنانے کے لیے ابھی تیاری کر لے، مرنے کے بعد اس کا موقع نہیں ملے گا۔
اِنَّاۤ اَنۡذَرۡنٰکُمۡ عَذَابًا قَرِیۡبًا ۬ۚۖ یَّوۡمَ یَنۡظُرُ الۡمَرۡءُ مَا قَدَّمَتۡ یَدٰہُ وَ یَقُوۡلُ الۡکٰفِرُ یٰلَیۡتَنِیۡ کُنۡتُ تُرٰبًا ﴿٪۴۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے تم لوگوں کو اُس عذاب سے ڈرا دیا ہے جو قریب آ لگا ہے جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے، اور کافر پکار اٹھے گا کہ کاش میں خاک ہوتا
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے تمہیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرا دیا (اور چوکنا کر دیا) ہے۔ جس دن انسان اپنے ہاتھوں کی کمائی کو دیکھ لے گا اور کافر کہے گا کہ کاش! میں مٹی ہو جاتا
احمد رضا خان بریلوی
ہم تمہیں ایک عذاب سے ڈراتے ہیں کہ نزدیک آگیا جس دن آدمی دیکھے گا جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور کافر کہے گا ہائے میں کسی طرح خاک ہوجاتا
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک ہم نے تمہیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرا دیا ہے جس دن آدمی وہ (کمائی) دیکھے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجی ہوگی اور کافر کہے گا کہ کاش میں مٹی ہوتا۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ ہم نے تمھیں ایک ایسے عذاب سے ڈرا دیا ہے جو قریب ہے، جس دن آدمی دیکھ لے گا جو اس کے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا اور کافر کہے گا اے کاش کہ میں مٹی ہوتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
روح الامین علیہ السلام ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی عظمت و جلال کی خبر دے رہا ہے کہ ’ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی تمام مخلوق کا پالنے پوسنے والا ہے، وہ رحمان ہے، جس کے رحم نے تمام چیزوں کو گھیر لیا ہے، جب تک اس کی اجازت نہ ہو کوئی اس کے سامنے لب نہیں ہلا سکتا ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» ۱؎ [2-البقرة:255] ‏‏‏‏ یعنی ’ کون ہے جو اس کی اجازت بغیر اس کے سامنے سفارش لے جا سکے ‘۔ اور جگہ ہے «‏‏‏‏يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ» ۱؎ [11-ھود:105] ‏‏‏‏ ’ جس دن وه آ جائے گا کوئی بھی بلا اجازت اس سے بات نہ کر سکے گا ‘۔ روح سے مراد یا تو کل انسانوں کی روحیں ہیں یا کل انسان ہیں یا ایک قسم کی خاص مخلوق ہے جو انسانوں کی سی صورتوں والے ہیں کھاتے پیتے ہیں نہ وہ فرشتے ہیں نہ انسان، یا مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، جبرائیل علیہ السلام کو اور جگہ بھی «روح» کہا گیا ہے، ارشاد ہے «‏‏‏‏نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» [‏‏‏‏26-الشعراء:194،193] ‏‏‏‏ ’ اسے امانت دار «روح» نے تیرے دل پر اتارا ہے تاکہ تو ڈرانے والا بن جائے ‘، یہاں مراد «روح» سے یقیناً جبرائیل علیہ السلام ہیں۔

مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”تمام فرشتوں سے بزرگ، اللہ کے مقرب اور وحی لے کر آنے والے بھی ہیں، یا مراد «روح» سے قرآن ہے، اس کی دلیل میں یہ آیت پیش کی جاسکتی ہے «‏‏‏‏وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا» ‏‏‏‏ ۱؎ [42-الشورى:52] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اپنے حکم سے تیری طرف روح اتاری ‘، یہاں «روح» سے مراد قرآن ہے۔ چھٹا قول یہ ہے کہ یہ ایک فرشتہ ہے جو تمام مخلوق کے برابر ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”یہ فرشتہ تمام فرشتوں سے بہت بڑا ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”یہ روح نامی فرشتہ چوتھے آسمان میں ہے، تمام آسمانوں، کل پہاڑوں اور سب فرشتوں سے بڑا ہے، ہر دن بارہ ہزار تسبیحات پڑھتا ہے ہر ایک تسبیح سے ایک ایک فرشتہ پیدا ہوتا ہے، قیامت کے دن وہ اکیلا ایک صف بن کر آئے گا۔‏‏‏‏“ لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22/30:ضعیف] ‏‏‏‏ طبرانی میں حدیث ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”فرشتوں میں ایک فرشتہ وہ بھی ہے کہ اگر اسے حکم ہو کہ تمام آسمانوں اور زمینوں کو لقمہ بنا لے تو وہ ایک لقمہ میں سب کو لے لے اس کی تسبیح یہ ہے «سُبْحَانك حَيْثُ كُنْتَ» اللہ تو جہاں کہیں بھی ہے پاک ہے“ } ۱؎ [طبرانی کبیر:11476،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی بہت غریب ہے بلکہ اس کے فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے میں بھی کلام ہے، ممکن ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہو، اور وہ بھی بنی اسرائیل سے لیا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہ سب اقوال وارد کئے ہیں لیکن کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ میرے نزدیک ان تمام اقوال میں سے بہتر قول یہ ہے کہ یہاں «روح» سے مراد کل انسان ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرمایا ’ صرف وہی اس دن بات کر سکے گا جسے وہ رحمن اجازت دے ‘۔ جیسے فرمایا «يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» ۱؎ [11-ھود:105] ‏‏‏‏ یعنی ’ جس دن وہ وقت آئے گا کوئی نفس بغیر اس کی اجازت کے کلام بھی نہیں کر سکے گا ‘۔ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ { اس دن سوائے رسولوں کے کوئی بات نہ کر سکے گا}۔ ۱؎ [صحیح بخاری:806] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ اس کی بات بھی ٹھیک ٹھاک ہو ‘، سب سے زیادہ حق بات «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» ہے۔ پھر فرمایا کہ ’ یہ دن حق ہے یقیناً آنے والا ہے، جو چاہے اپنے رب کے پاس اپنے لوٹنے کی جگہ اور وہ راستہ بنا لے جس پر چل کر وہ اس کے پاس سیدھا جا پہنچے، ہم نے تمہیں بالکل قریب آئی ہوئی آفت سے آگاہ کر دیا ہے، آنے والی چیز تو آ گئی ہوئی سمجھنی چاہیئے، اس دن نئے پرانے چھوٹے بڑے اچھے برے کل اعمال انسان کے سامنے ہوں گے ‘۔ جیسے فرمایا «وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا» ۱؎ [18-الکھف:49] ‏‏‏‏ ’ جو کیا اسے سامنے پا لیں گے ‘ اور جگہ ہے، «‏‏‏‏يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ» ‏‏‏‏۱؎ [75-القيامة:13] ‏‏‏‏ ’ ہر انسان کو اس کے اگلے پچھلے اعمال سے متنبہ کیا جائے گا ‘۔ اس دن کافر آرزو کرے گا کاش کہ وہ مٹی ہوتا پیدا ہی نہ کیا جاتا وجود میں ہی نہ آتا، اللہ کے عذاب کو آنکھ سے دیکھ لے گا اپنی بدکاریاں سامنے ہوں گی جو پاک فرشتوں کے منصف ہاتھوں کی لکھی ہوئی ہیں، پس ایک معنی تو یہ ہوئے کہ دنیا میں ہی مٹی ہونے کی یعنی پیدا نہ ہونے کی آرزو کرے گا۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ جب جانوروں کا فیصلہ ہو گا اور ان کے قصاص دلوائے جائیں گے یہاں تک کہ بے سینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہو گا تو اس سے بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جاؤ وہ مٹی ہو جائیں گے، اس وقت یہ کافر انسان بھی کہے گا کہ ہائے کاش میں بھی حیوان ہوتا اور اب مٹی بن جاتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لمبی حدیث میں بھی یہ مضمون وارد ہوا ہے اور سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ النباء کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـهِ وَالْمِنَّة وَبِهِ التَّوْفِيْقُ وَالْعِصْمَة»
40۔ 1 یعنی جب وہ اپنے لئے ہولناک عذاب دیکھے گا تو یہ آرزو کرے گا۔ بعض کہتے ہیں کہ اللہ حیوانات کے درمیان بھی عدل و انصاف کے مطابق فیصلہ فرمائے گا، حتیٰ کہ ایک سینگ والی بکری نے بےسینگ والی پر کوئی زیادتی کی ہوگی، تو اس کا بھی بدلہ دلائے گا اس سے فراغت کے بعد اللہ تعالیٰ جانوروں کو حکم دے گا کہ مٹی ہوجاؤ۔ چناچہ وہ مٹی ہوجائیں گے۔ اسوقت کافر بھی آرزو کریں گے کہ کاش وہ بھی حیوان ہوتے اور آج مٹی بن جاتے (تفسیر ابن کثیر)
(آیت 40) ➊ {اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِيْبًا …:} آخرت کے عذاب کو قریب فرمایا، کیونکہ عمر خواہ کتنی بھی ہو ختم ہونے والی ہے اور ہر آنے والا وقت قریب ہی ہوتا ہے۔ قیامت کو جب اٹھیں گے تو انھیں دنیا میں قیام کا وقت ایسے معلوم ہوگا جیسے دن کا ایک پہر گزرا ہو۔ (دیکھیے نازعات: ۴۶) بلکہ قیامت کے دن مجرم قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے۔ دیکھیے سورۂ روم (۵۵)۔ ➋ { يٰلَيْتَنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا:} اے کاش کہ میں مٹی ہوتا، یعنی پیدا ہی نہ ہوا ہوتا، نہ حساب ہوتا نہ کتاب۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ کاش! میں مر کر مٹی ہو جاتا تو نہ حساب ہوتا نہ عذاب۔ بعض مفسرین نے ایک عجیب معنی کیا ہے کہ{” الْكٰفِرُ “} سے مراد یہاں ابلیس ہے۔ جب آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو ان کے اعمال کا ثواب ملے گا تو ابلیس کہے گا کاش! میں مٹی ہوتا، آگ سے بنا ہوا نہ ہوتا، کیونکہ اس نے آگ سے بنا ہوا ہونے کی وجہ سے آدم کو سجدہ کرنے کا حکم ٹھکرا دیا تھا۔ (زاد المسیرلابن جوزی) پہلے معنوں کے ساتھ یہ بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔